Categories
Uncategorized

صلوٰۃ ۔۔ مومن کی شان

صلوٰۃ دین کا رکن ہے۔ صلوٰۃ کی بے انتہا فضیلت ہے۔ یہ بہت مہتم بالشان فریضہ ہے۔ اس کی خصوصیت اس سے ظاہر ہے کہ تمام احکامات دین اللّہ تعالیٰ نے بذریعہ وحی زمین پر بھیجے لیکن صلوٰۃ معراج کے موقع پر فرض ہوئی جب نبی ﷺ  کو اللہ نے آسمانوں پر بلایا (بخاری: کتاب الصلوٰۃ، باب کیف فرضت الصلوۃ فی الاسراء)۔
گویا کہ یہ معراج کی سوغات ہے۔ بلکہ یہ مومن کی اپنی معراج ہے کیونکہ صلوٰۃ کے ذریعے وہ اپنے مالک سے ہمکلامی کا شرف حاصل کرتا ہے، حالتِ سجدہ میں وہ اپنے رب سے انتہائی نزدیک ہو جاتا ہے ( بخاری: کتاب الصلوٰۃ، باب دفن النخامہ فی المسجد/ مسلم: کتاب ا لصلوٰۃ، باب مایقال فی الرکوع والسجود، عن ابی ھریرہ ؓ)۔
جہنم کی آگ پر اللہ نے حرام کر دیا کہ وہ سجدے کے نشان کو کھائے (بخاری: کتاب الاذان، باب فضل السجود)۔کثرت سجدہ اللہ کو سب کاموں سے زیادہ پسند ہے، ہر سجدے سے ایک درجہ بلند ہوتا ہے اور ایک گناہ معاف ہوتا ہے (مسلم: کتاب الصلوٰۃ، باب فضل السجود،عن ثوبان ؓ)۔
صلوٰۃ کو نور بھی کہا گیا ہے (مسلم، کتاب الطہارۃ، باب فضل الوضو، عن ابی مالک اشعری   ؓ)۔
قرآن میں ایمان کے بعد اللہ نے سب سے زیادہ تاکید صلوٰۃ قائم کرنے کی کی ہے۔ قرآن سے جن لوگوں کو ہدایت ملتی ہے ان کی ایک صفت یہ بھی ہے کہ وہ صلوٰۃ قائم کرتے ہیں (سورۃ البقرۃ: آیت3)۔
معززومکرم جنتیوں کی صفات میں صلوٰۃ کو ہمیشہ ادا کرتے رہنا اور اس کی  حفاظت کرنا بھی شامل ہے (سورۃ المعارج: آیات22،23،34،35) ۔
صلوٰۃ بے حیائی اور بری باتوں سے روکتی ہے (سورۃ العنکبوت: 45)۔
 گناہوں کو مٹا دیتی ہے (سورۃ ھود: 114/ بخاری: کتاب مواقیت الصلوٰۃ،باب الصلوٰۃ کفارہ) ۔
 اس سلسلے میں نبی ﷺ نے ایک مثال دی کہ جس طرح اس شخص کے بدن پر میل کچیل باقی نہیں رہتا جو اپنے گھر کے دروازے پر بہتی نہر میں روزانہ پانچ غسل کرے،اسی طرح صلوٰۃ خمسہ کی ادائیگی سے گناہ دور ہو جاتے ہیں (بخاری: کتاب مواقیت الصلوٰۃ، باب الصلوت الخمس کفارۃ للخطایا)۔
اللہ نے یہ عہد کر رکھا ہے کہ جو مومن صلوٰۃ خمسہ کا اہتمام کرے گا تو وہ اسے جنت میں داخل کر دے گا(نسانی: کتاب الصلوٰۃ،باب المحافظﮫ علی الصلوت الخمس)۔
صلوٰۃ خمسہ اور ایک جمعہ سے دوسرا جمعہ اپنے درمیان ہونے والے گناہوں کا کفارہ ہیں، جب تک کبائر کا ارتکاب نہ کیا جائے(ترمذی: کتاب الصلوٰۃ،باب فضل الصلوٰۃ الخمس، عن ابی ھریرۃ ؓ)۔
 نبیﷺنے بعض صلوٰت کی مخصوص فضیلت بھی بیان فرمائی ہے چنانچہ فرمایا کہ وہ شخص جہنم میں نہیں جائے گا جو صلوٰۃ ادا کرے سورج نکلنے سے پہلے اور ڈوبنے سے پہلے (یعنی فجروعصر) (مسلم: کتاب المساجد،باب صلوٰۃ الصبح و العصر، عن عمارۃ بن رویبﺔؓ)۔
 ایک جگہ فرمایا کہ جو یہ دو ٹھنڈی صلوٰت ادا کرے وہ جنت میں جائے گا(بخاری: کتاب امواقیت  الصلوٰۃ،باب فضل صلوٰۃ الفجر، عن ابی موسی اشعری ؓ) ۔
 فرمایا کہ جس نے صبح کی صلوٰۃ ادا کی وہ اللہ کی پناہ میں آئے ہوئے کو ستائے گا تو اللہ اسے جہنم میں ڈال دے گا(مسلم: کتاب المساجد،باب فضل صلوٰۃ الجماﻋﺔ،عن جندب ؓ) ۔
 فرمایا کہ عشاء اور فجر کی صلوٰۃ کا جو ثواب ہے اگر معلوم ہو جائے تو لوگ اس کے لیے ضرور آئیں اگرچہ گھسٹ کر ہی کیوں نہ آنا پڑے(بخاری: کتاب الاذان، باب الاستفہام فی الاذان)۔
 ایک دوسری جگہ فرمایا کہ جس   شخص کی صلوٰۃ العصر فوت ہو جائے تو ایسا ہے کہ جیسے  اس کے گھر والے اور مال سب لوٹ لیا گیا (بخاری: کتاب مواقیت صلوٰۃ، باب اثم من فاتۃ العصر)۔
 فرمایا جس  نے عصر کی صلوٰۃ چھوڑ دی تو اس کے اعمال اکارت ہو گئے(بخاری: کتاب مواقیت صلوٰۃ،باب اثم من ترک العصر)۔
 فرمایا کہ بندے اور شرک وکفر کے درمیان ترک صلوٰۃ کے سوا اور کوئی چیز نہیں ، جس نے صلوٰۃ ترک کی اس نے کفر کیا(مسلم : کتاب الایمان،باب اطلاق اسم الکفر علی من ترک الصلوٰۃ) ۔
 عمرؓنے فرمایا کہ اس کا اسلام میں کوئی حصہ نہیں جو صلوٰۃ کو ترک کر دے(مؤطا امام مالک: کتاب الطہارۃ، باب العمل فیمن غلبہ الدم من جرح او رعاف)۔
 قرآن میں اللہ نے فرمایا کہ تباہی ہے ان صلوٰۃ ادا کرے والوں کے لیے جو صلوٰۃ  سے غافل ہیں اور ریا کاری کرتے ہیں(سورۃ الماعون آیات 4/5)۔
 صلوٰۃ کی اہمیت کے پیشِ نظر نبی ﷺنے فرمایا کہ اپنی اولاد کو صلوٰۃ کا حکم دو جب وہ سات سال کے ہوں اور جب دس سال کے ہوں اور صلوٰۃ ادا نہ کریں تو انہیں مارو(ابو داؤد : کتاب الصلوٰۃ،باب متی یؤمر الغلام بالصلوٰۃ )۔
 صلوٰۃ کو ہرگز گراں نہیں سمجھنا چاہئے اور نہ ہی اس کو بوجھ اور حرج سمجھ کر ادا کیا جائے بلکہ اپنے رب سے ملاقات اور گفتگو کرنے کے لیے انتہائی شوق و لگن کے ساتھ ادا کرنا چاہئے(بخاری: کتاب مواقیت الصلوٰۃ،باب المصلی یناجی رﺒﮫ)۔(سورۃ البقرۃ: آیت 46)۔
 اللہ سے ڈرنے والے اور آخرت میں اپنے رب سے ملاقات پر یقین رکھنے والے مومنوں پر کسی بھی حالت میں صلوٰۃ کی ادائیگی بھاری نہیں(سورۃ البقرۃ: آیت 46)۔

شرائطِ صلوٰۃ

شرائط صلوٰۃ سے مراد وہ ضروری امور ہیں جو ادائیگی صلوٰۃ کے لیے لازمی ہیں۔ ان میں سب سے اولین شرط ایمانِ خالص ہے اور وہ ایسا ایمان ہے جس میں اللہ کے سوا کسی اور کو داتا، دستگیر،غوث اور مشکل کشا نہ سمجھا جائے، کسی اور کو مدد کے لیے نہ پکارا جائے، کسی اور کے نام نذر نیازنہ کی جائے، قبر میں دفن مردوں کو زندہ، سننے والا، مدد کرنے والانہ مانا جائے،قرآن و حدیث کے خلاف عقائد و اعمال اختیار کرنے والے کسی بھی مسلک، فرقےو مکتبہ فکر کی پیروی نہ کی جائے،اللہ کے رکھے ہوئے نام ”مسلم“ کے سوا اپنی اور کوئی پہچان نہ بنائی جائے۔۔۔ ایمان کے بغیر کوئی بھی عمل خیرِ قبول نہیں کیا جاتا۔ ایمانِ خالص کے علاوہ درجِ ذیل باتیں بھی صلوٰۃ قائم کرنے کے لیے ضروری ہیں:

طہارت

طہارت کا مطلب ہے پاکیزگی۔ ایمان کو شرک کی نجاست سے پاک کرنے کے بعد مومنین کو اپنے لباس اور جسم کو بھی ظاہری نجاست سے بچانا اور پاک رکھنا ہے۔ صلوٰۃ کے لیے وضو کرنا چاہیے۔(سورۃ المآئدہ)وضو کے بغیر صلوٰۃ نہیں ہوتی (بخاری: کتاب الصلوٰۃ، باب لایقبل صلوٰۃ بغیر طھور، عن ابی ھریرہ ؓ)
نبی ﷺ ہر کام بسم اللہ سے شروع کرتے تھے(بخاری: کتاب الوضو، عن انس بن مالک ؓ)
اور وضو شروع کرنے سے پہلے بھی بسم اللہ پڑھتے تھے(نسانی: کتاب الطھارۃ ، التسمیہ عند الوضو، عن انس بن مالک ؓ)
وضو سیدھی طرف سے شروع کریں کیونکہ دوسرے کاموں کی طرح وضو بھی نبی ﷺ سیدھی طرف سے شروع کرتے تھے(بخاری: کتاب الوضو ، باب التیمن فی الوضوٓء)
پہلے دونوں ہاتھ گٹوں تک دھوئیں، پھر کلی کریں، ناک میں پانی چڑھائیں، (کلی کرنے اور ناک میں پانی چڑھانے کے دو طریقے ہیں یا تو ان دونوں کے لیے الگ الگ چلو میں پانی میں لیں یا ایک ہی چلو سے کلی بھی کریں اور اس میں سے کچھ پانی بچا کر ناک میں چڑھا لیں(بخاری: کتاب الوضوٓء، باب من مضمض و استنشق من غرﻔﺔ واحدۃ عن عبداللہ بن زید﷜ترمذی: کتاب الطھارۃ، باب ماجآء فی وضو،النبی ﷺ کیف کان، عن علی ﷜ بن ابی طالب))
منہ دھوئیں، دونوں ہاتھ کہنیوں تک دھوئیں، سر کا مسح کریں، دونوں پیر ٹخنوں سمیت دھوئیں(بخاری: کتاب الوضوء، باب الوضوٓء، ثلثا ثلثا)۔
یہ اعضاء ایک ایک، دو دو اور تین تین دفعہ بھی دھوئے جا سکتے ہیں، تینوں عمل سنت ہیں(ایضاً: باب الوضوٓء مرۃ مرۃ/الوضوٓء مرتین مرتین/ الوضوٓء ثلثا ثلثا)
البتہ تین دفعہ سے زیادہ دھونا نبی ﷺ سے ثابت نہیں۔ وضو میں داڑھی میں خلال سنت ہے۔ نبی ﷺ چلو میں پانی لے کر اس کو ٹھوڑی کے نیچے لے جاتے اور داڑھی کا خلال کرتے(ابو داؤد: کتاب الطھارۃ،باب تخلیل اللحیۃ، عن انس بن مالک ؓ)
مسح سارے سر کا کرنا چاہئے جس کی ترکیب یہ ہے کہ نیا پانی لے کر دونوں ہاتھ تر کریں، پھر سر کے سامنے کے حصے پر رکھ کر دونوں ہاتھوں کو پیچھے گدی تک لے جائیں، پھر جہاں سے شروع کیا تھا وہیں لے آئیں(بخاری: کتاب الوضوٓء، باب مسح الراس کلہ)۔
گردن یا گدی کا علیحدہ سے مسح کرنا صحیح احادیث سے ثابت نہیں۔ کان بھی سر کا حصہ ہیں اس لیے سر کے ساتھ کانوں پر بھی مسح کریں جس کے لیے شہادت کی تر انگلیاں کانوں کے اندر گھمائیں اور انگوٹھے کانوں کی پشت پر(ترمذی: کتاب الطھارۃ، باب مسح الاذنین ظاھر ھما و باطنھما و باب ماجاء ان الاذنین من الراس/ ابن ماجہ: کتاب الطھارۃ و سننھا، باب ماجاء فی  مسح الاذنین / نسائی: کتاب الطھارۃ، باب مسح الاذنین)۔
وضو میں مسواک بھی کرنا چاہیے کہ نبی ﷺ نے اس کی بہت تاکید فرمائی ہے(بخاری: کتاب الصلوٰۃ باب السواک یوم الجمعۃ/ مسلم: کتاب الطھارۃ، باب السواک)۔
رسول اللہﷺ کو مسواک کرنا بھی اس قدر محبوب تھا کہ اپنی زندگی کا آخری کام یہی کیا(بخاری:کتاب المغاری، باب مرض النبی ﷺ و وفاتہ)۔
اس بات کا خیال رہے کہ وضو میں کوئی جگہ سوکھی نہ رہے ورنہ وضو نہ ہو گا اور صلوٰۃ بھی نہ ہو گی اور ساری محنت ضائع جائے گی (مسلم: کتاب الطھارۃ، باب وجوب استیعاب جمیع اجزاء محل الطھارۃ، عن جابر بن عبداللہ ؓ)۔
حدیث میں آیا ہے کہ جو اچھی طرح وضو کرے اور پھر کہے: اَشْھَدُاَنْ لَّا اِﻠٰﮫَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَهُ وَ اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْ لُهٗ‎‏ (میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہی، اور گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں) تو اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیے جائیں گے (مسلم:کتاب الطھارۃ، باب الذکر المستحب عقب الوضو، عن عقبہ بن عامر ؓ)۔
صحیح حدیث میں ایسا کوئی ذکر نہیں کہ یہ کلمہ کھڑے ہو کر، آسمان کی طرف دیکھ کر اور شہادت کی انگلی اٹھا کر پڑھا جائے یا دورانِ وضو سر کا مسح کرتے ہوئے اور انگوٹھے چوم کر آنکھوں سے لگا کر پڑھا جائے۔ پیشاپ یا پاخانہ کرنے، ہوا خارج ہونے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے (بخاری: کتاب الوضوٓء، باب من لم یرالوضوء الامن المخر جین القبل والدبر/ ترمذی: کتاب الطھارۃ، باب ماجآءفی الوضوء من الریح)
اگر ہوا خارج ہونے کا محض شک ہو تو نیا وضو نہ کریں جب تک کہ آواز نہ سنے یا بو نہ محسوس ہو (بخاری: کتاب الوضوٓء، باب لا یتوضاء من الشک حتیٰ یستقین)
لیٹ کر سونے سے بھی وضو ٹوٹ جاتا ہے (ترمذی: کتاب الطھارۃ، باب الوضوء من النوم)
وضو میں اگر بیٹھے بیٹھے نیند آ جائے تو وضو نہیں ٹوٹتا (ترمذی: کتاب الطھارۃ، باب الوضوء من النوم)
یہ بیٹھنا اگر ٹیک لگا کر ہوا تو اس سے بھی ٹوٹنے کا اندیشہ ہے کہ اس میں بھی لیٹ کر سونے کی طرح جوڑ ڈھیلے پڑ جاتے ہیں۔
جسم اور لباس کی پاکیزگی کے ساتھ صلوٰۃ کی جگہ بھی پاک ہونا چاہیےاور وہاں کوئی ظاہری نجاست نہیں ہونی چاہیے۔ اگر ہو تو پانی سے دھو لینا چاہیے (بخاری: کتاب الوضوٓء، باب صب المآءعلی البول فی المسجد)
بچہ اگر کپڑوں (یا زمین) پر پیشاپ کر دے تو اتنے ہی حصے پر پانی بہا کر دھو  لینا چاہیے (ایضاً: باب بول الصبیان)
اس کے علاوہ بھی اگر کوئی دوسری نجاست مثلاً خون وغیرہ لگا ہو تو اسے دھو کر صاف کر لینا چاہیے(ایضاً، باب غسل الدم/ غسل المني وفرکه و غسل ما یصیب من المر أۃ)۔
قبرستان، جانوروں کے اصطبل جہاں گوبر و پیشاپ ہوتا ہے، جانوروں کے ذبح کرنے، کوڑا پھینکنے غسل کرنے، پیشاپ پاخانہ کرنے کی جگہوں اور راستوں پر صلوٰۃ نہیں ہوتی، ان کے علاوہ ہر پاک جگہ پر صلوٰۃ ادا کی جا سکتی(بخاری: کتاب الصلوٰۃ، باب قول النبی ﷺ جعلت لی الارض مسجداو طھورا/کراھیه الصلوٰۃفی المقابر/ ترمذی: کتابالصلوٰۃ، باب ماجآء ان الارض کلھا مسجد الاالمقبرۃ والحمام/ ابوداؤد: کتاب الصلوٰۃ، باب النھی عن الصلوٰۃ فی مبارک الابل/ ابن ماجه: کتاب المساجد والجماعات، باب المواضع التی تکرہ فیھا الصلاۃ)۔

ستر چھپانا

جسم کے وہ حصے جن کا چھپانا لازم ہے، ستر کہلاتے ہیں۔ صلوٰۃ میں ستر کا چھپانا فرض ہے۔ اللہ کا حکم ہے کہ ہر صلوٰۃ کے وقت اپنی زینت کو اختیار کرو (الاعراف: آیت 31)۔
زینت سے مراد لباس ہے۔ مرد کے لباس میں قمیص وغیرہ کے علاوہ ازار (یعنی وہ لباس جو جسم کے نچلے حصے پر پہنا جاتا ہے مثلاً شلوار، لنگی، پاجامہ، پتلون، وغیرہ)ہوتا ہے، اس کو صلوٰۃ اور دیگر اوقات میں بھی  ٹخنوں سے اوپر رکھنا چاہیے کیونکہ اس کو ٹخنوں کے نیچے لٹکانے پر نبی ﷺ نے صلوٰۃ قبول نہ ہونے، جنت حرام ہونے، جہنم حلال ہونے اور اللہ کے رحمت کی نظر نہ فرمانے کی وعید سنائی ہے (بخاری: کتاب اللباس، باب ما اسفل من الکعین فھو فی النار/ باب من جر ثوبه من الخیلاء)۔
عورتوں کے لیے یہ حکم ہے کہ وہ اپنے ٹخنے ڈھانکے  رکھیں (نسائی: کتاب الزیینۃ، باب ذیول النساء، عن ام سلمۃؓ)۔
عورتیں لباس کے معاملے میں زیادہ احتیاط کریں کیونکہ  نبی ﷺ فرمایا کہ عورت چھپانے کی چیز ہے(ترمذی: کتاب الرضاع ، عن عبداللہ بن مسعود ؓ)۔
مردوں کو سر پر ٹوپی بھی رکھنی چاہیے کہ یہ اس کی زینت ہے اور اوپر مذکور آیت میں اللہ نے صلوٰۃ کے وقت زینت کو اختیار کرنے کا حکم دیا ہے۔ اللہ کے نبی ﷺ کی سنت بھی یہی ہے۔ جو لوگ جان بوجھ کر بغیر سر ڈھانپے صلوٰۃ ادا کرنے کے قائل ہیں ان کے پاس اس کی کوئی دلیل نہیں۔ اللہ کے رسول ﷺ سے بغیر سر ڈھانپے صلوٰۃ ادا کرنا ثابت نہیں ہے۔

وقت

اللہ نے مومنین پر صلوٰۃ وقت کی پابندی کے ساتھ فرض کی ہے (سورۃ النسآء: آیت 103)۔
ہر صلوٰۃ اپنے وقت پر پڑھنا سب سے افضل عمل ہے (بخاری: کتاب مواقیت الصلوٰۃ ، باب فضل الصلوٰۃ لو قتھا، عن عبداللہ بن مسعود ؓ)۔
اس لیے صلوٰۃ کو اس کے وقت پر ہی ادا کرنا چاہیے۔ دن رات میں پانچ وقت کی صلوٰۃ فرض ہے: فجر،ظہر، عصر، مغرب اور عشاء (بخاری و مسلم : کتاب الصلوٰۃ )۔
ظہر کا وقت سورج ڈھلتے ہی شروع ہو جاتا ہے اور اس وقت تک رہتا ہے جب تک آدمی کا سایہ اس کے قد کے برابر ہو جائے (یعنی ایک مثل)، اور اس وقت عصر کی صلوٰۃ کا وقت شروع ہو جاتا ہے جو اس وقت تک رہتا ہے جب تک سورج زرد نہ ہو جائے، اور مغرب کا وقت سورج ڈوبتے ہی شروع ہو جاتا ہے اور اس وقت تک رہتا ہے جب تک آسمان سے شفق کی سرخی غائب نہ ہو، اور شفق غائب ہونے کے بعد عشاء کا وقت شروع ہو جاتا ہے جو آدھی رات تک رہتا ہے،اور صبح  صادق کے ساتھ ہی فجر کا وقت شروع ہو جاتا ہے جو سورج نکلنے تک رہتا ہے (مسلم: کتاب المساجد ، باب اوقات الصلوٰۃ  الخمس عن عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ)۔
صلوٰۃ العصر کے ابتدائی وقت کا تعین کرتے ہوئے اس بات کا خیال رکھا جائے کہ  ایک مثل سائے میں وہ سایہ بھی شامل کیا جائے جو نصف النہار کے وقت ہوتا ہے (نسائی: کتاب المواقیت،باب آخر وقت المغرب)۔
تین وقتوں میں صلوٰۃ ادا کرنا منع ہے: جب سورج طلوع ہو رہا ہو، جب عین سر پر آجائے اور جب غروب ہو رہا ہو(مسلم: کتاب فضائل القرآن، باب الاوقات التی نھی عن الصلوٰۃ فیھا، عن عقبہ بن عامر الجھنی ؓ)۔
اسی طرح صلوٰۃ الفجر ادا کرنے کے بعد سورج بلند ہونے تک اور صلوٰۃ العصر ادا کرنے کے بعد سورج ڈوب جانے تک نبی ﷺ نے صلوٰۃ ادا کرنے سے منع فرمایا ہے (بخاری: کتاب مواقیت الصلوٰۃ ، باب لاتتحری الصلوٰۃ قبل غروب الشمس)۔

قضاء صلوٰۃ

صلوٰۃ کو اس وقت پر ہی ادا کرنا چاہیے جس طرح اللہ نے فرض کیا ہے۔ اور اس کا وقت پر ادا کیا جانا ہی اللہ کے نزدیک افضل ہے۔لیکن اگر بھول ،نیند یا کسی  مجبوری کی وجہ سے صلوٰۃ کو اس کے وقت پر ادا نہ کیا جا سکے تو بعد میں اس کی قضاء ادا کر لیں اور یہ نہ سوچیں کہ اب تو وقت نکل گیا ہے اب کیا پڑھیں۔ غزوہ خندق و خیبر کے موقع پر نبی ﷺ کی عصر و فجر کی صلوٰت قضاء ہو گئیں تو ان کو وقت گزارنے کے بعد ادا کیا (بخاری: کتاب الاذان، باب قول الرجل ما صلینا/ کتاب المواقیت باب الاذان بعد ذھاب الوقت)۔
نبی ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص کوئی صلوٰۃ بھول جائے تو یاد آتے ہی اس کو ادا کرے، بس یہی اس کا کفارہ ہے اور کچھ نہیں، اللہ نے حکم دیا کہ  اقیم الصلوٰۃ لذکری ( ترجمہ: صلوٰۃ قائم کرو میرے ذکر کے لیے) (سورہ طہٰ: آیت 14/ بخاری: کتاب مواقیت الصلوٰۃ،باب من نسی صلوٰۃ فلیصل اذا ذکر)۔
اکثر لوگ صبح کے وقت سوتے رہتے ہیں اور فجر کی صلوٰۃ قضاء کر دیتے ہیں اور پھر سستی کرتے ہیں اور ظہر کے ساتھ ادا کرتے ہیں۔ انہیں چاہیے کہ مندرجہ بالا فرمانِ رسول ﷺ کی تعمیل میں جاگنے کے فوراً بعد قضاء ادا کر لیں۔ لیکن اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ روزانہ پڑے سوتے رہیں اور فجر وغیرہ کی صلوٰۃ قضاء کرتے رہیں۔ نبی ﷺ نے فرمایا کہ منافقوں پر فجر اور عشاء سے زیادہ کوئی صلوٰۃ بھاری نہیں (بخاری: کتاب الاذان، باب فضل صلوٰۃ العشاء فی الجماعۃ
            ایک سفر میں نبی ﷺ اور صحابہ ؓ سوتے رہے  اور سورک نکل آیا ۔ دھوپ کی تمازت سے آنکھ کھلی  ۔ صحابہ کرام ؓ کہنے لگےقصور ہم نے صلوٰۃ میں کیا ہے اس کا کفارہ ہو گا۔ نبی ﷺ نے فرمایا کہ کیا میں تم لوگوں کے لیے اسوہ نہیں ہوں، قصور تواس  میں ہے کہ آدمی صلوٰۃ ادا نہ کرےیہاں تک کہ دوسرا وقت آ جائے، اس لیے جب ہوشیار ہو تو اس کو ادا کر لے اور دوسرے دن اس کو مقررہ وقت پر ادا کرے۔ پھر اذان و اقامت کے بعد نبی ﷺنے  با جماعت صلوٰۃ ادا کی۔ اس سے معلوم ہوتا ہےکہ قضاء  صلوٰۃ کو با جماعت بھی ادا کیا جا سکتا ہے (مسلم: کتاب المساجد، باب قضاء الصلوٰۃ ، عن ابی قتادہ ؓ/ بخاری: کتاب مواقیت الصلوٰۃ، باب الاذان بعد ذھاب الوقت وباب من صلی بالناس بعد ذھاب الوقت)
قضاء صلوٰۃ میں بھی ترتیب کا خیال رکھیں یعنی جو صلوٰۃ قضاء ہو چکی ہو اسے پہلے ادا کریں  بعد میں دوسری صلوٰۃ ادا کریں (بخاری: کتاب مواقیت الصلوٰۃ باب قضاء الصلوٰۃ الاولی فالا ولی)۔
لیکن اگر جماعت ہو رہی ہو تو پھر قضاء صلوٰۃ ادا کیے بغیر جماعت میں شامل ہو جائیں (بخاری:  کتاب الاذاان،باب اذا اقیمت الصلوٰۃ فلا صلوٰۃ الا المکتوبۃ)۔
فجر کی قضاء صلوٰۃ ادا کرتے وقت فرضوں سے پہلے کی دو رکعتیں بھی پڑھ لیں کیونکہ نبی ﷺ نے بھی ان کی قضاٰ ادا فرمائی (مسلم: کتاب المساجد، باب قضاء الصلوٰۃ، عن ابی قتادہ ؓ)۔
فجر میں وقت تنگ ہونے کی وجہ سے فرضوں سے پہلے کی دو سنتیں نہ پڑھی جا سکیں اور فرض ادا کر لیے تو یہ سنتیں سورج نکلنے کے بعد پڑھیں (ترمذی: کتاب الصلوٰۃ ، باب ماجآء فی اعادتھا بعد طلوع الشمس)۔
جس روایت میں فرضوں کے بعد پڑھنے کا ذکر ہے وہ متصل نہیں (ترمذی: کتاب الصلوٰۃ، باب ماجآ ء فیمن تفوتہ الرکعتان قبل الفجر یصلیھا بعد صلوٰۃ الصبح)۔
اگر کوئی ظہر کی شروع کی چار نفل ( سنتیں) نہ پڑھ سکے تو وہ  ظہر کی دو رکعت نفل کے بعد پڑھ لے (ابن ماجہ: کتاب اقامۃالصلوٰۃ: باب من فاتۃ الاربع قبل الظہر)۔
اس طرح ظہر کے بعد کی دو رکعتیں کسی وجہ سے نہ پڑھ سکیں تو بعد میں ان کی قضاء پڑھ لی جائے۔ نبی ﷺ نے اگرچہ عصر اور مغرب کے درمیان صلوٰۃ ادا کرنے سے منع فرمایا ہے (بخاری: کتاب مواقیت الصلوٰۃ، باب لا تتحری الصلوٰۃ قبل غروب الشمس)۔
لیکن ظہر کی ان دو رکعتوں کی عصر کے بعد قضاء ادا فرمائی (بخاری: کتاب السھو باب اذا کلم اھو یصلی فاشارہ بیدہ واستمع)۔

تعداد رکعات

صلوٰۃ خمسہ میں فرائض کی سترہ رکعات ہیں۔ اورنوافل کی بارہ (مسلم:کتاب صلوٰۃ المسافرین، باب فضل سنن الراتبہ…. عن ام حبیبہ ؓ)
اور ایک روایت میں  ظہر کی شروع کی دو رکعت سنت کے لحاظ سے کل دس رکعات ہیں (بخاری: کتاب تفصیر الصلوٰۃ، باب الرکعتین قبل الظہر)
ان کی تقسیم اس طرح ہے کہ فجر کی صلوٰۃ میں پہلے دو سنت ہیں پھر دو فرض، ظہر کی صلوٰۃ میں پہلے دو یا چار سنتیں (یہ چار رکعتیں دو سلام سے دو دو کر کے یا ایک سلام سے ایک ساتھ اکٹھی بھی پڑھی جا سکتی ہیں) (نسائی: کتاب الامامۃ، باب 532 الصلوٰۃ قبل العصر عن علی ؓ)
پھر چار فرض پھر دو سنتیں، عصر کی صلوٰۃ میں پہلے یا بعد میں کوئی سنت نہیں، صرف چار فرض ہیں، مغرب کی صلوٰۃ میں پہلے تین فرض پھر دو سنت، عشاء کی صلوٰۃ میں پہلے چار فرض پھر دو سنت اور اس کے بعد وتر جو ایک، تین، پانچ، سات یا نو جتنے چاہیں پڑھیں۔

مساجد

صلوٰۃ مسجد میں مومن ساتھیوں کے ساتھ با جماعت ادا کرنی چاہیے۔ مسجد مسلمین  کی عبادت گاہ کو کہتے ہیں جہاں وہ اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت نہیں کرتے کیونکہ اللہ کا حکم ہے:

وَاَنَّ الْمَسٰجِدَلِلّٰهِ فَلَا تَدْعُوْا مَعَ اللّٰهِ اَحَدًا

(الجن: 18)

“اور یہ کہ مسجدیں تو اللہ ہی کے لیے ہیں پس وہاں اللہ کے ساتھ کسی اور کو نہ پکارو۔”

یعنی ایسا ہرگز نہ ہو کہ ان مساجد میں غیر اللہ کی دہائیاں دی جائیں ، ان کے نعرے بلند ہوں، ان سے مدد مانگی جائے یا ان کے ناموں کو وسیلہ بنایا جائے۔ جس جگہ ایسا کیا جائے یا ایسی تحریریں، تصویریں اور کتبات وغیرہ ہوں تو یہ وہ مقام ہر گز نہیں ہو سکتا جو اللہ کو ساری زمین پر سب سے زیادہ اچھا لگتا ہے، جسے ایمان خالص کے حامل، صلوٰۃ و زکوٰۃ کے عامل اور صرف اللہ سے ڈرنے والے مومن لوگ آباد کرتے ہیں نہ کہ وہ لوگ جو شرک کی نجاست سے آلودہ ہوں اگرچہ ایمان کے اقراری ہوں لیکن دلوں میں کفر باقی ہو (التوبۃ: 17،18)۔ نبی ﷺ نے فرمایا کہ جس شخص کو دیکھو کہ مسجد کی خبر گیری کرتا ہے (اس کو آباد رکھتا ہے) تو اس کے ایمان کی گواہی دو؛ پھر آپ نے یہی آیت پڑھی (ترمذی: کتاب الایمان، باب ماجآء فی حرمۃ الصلوٰۃ، عن ابی سعید الخدریؓ)۔
حدیث میں آتا ہے کہ جو شخص اچھی طرح وضو کرے اور صلوٰۃ کے لیے مسجد کی طرف جائے تو ہر قدم پر ایک گناہ معاف ہوتا ہے اور ایک درجہ بڑھتا ہے اور جب تک صلوٰۃ کے انتظار میں رہتا ہے تو اسے صلوٰۃ ادا کرنے کا ہی ثواب ملتا ہے اور فرشتے اس کے لیے دعائے خیر کرتے ہیں۔ صلوٰۃ کے بعد جب تک وہ اپنی جگہ پر رہتا ہے اور وضو نہیں ٹوٹتا تو فرشتے اس کے لیے رحمت، مغفرت و توبہ کی قبولیت کی دعا کرتے رہتے ہیں۔ (مسلم: کتاب الطھارۃ، باب فضل الوضوٓءو الصلوٰۃ عقبہ/ کتاب المساجد، باب فضل الصلوٰۃ الجماعۃ… و باب فضل الصلوٰۃ المکتوبۃ فی جماعۃ و فضل انتظار الصلاۃ/ بخاری کتاب الوضوٓء ، باب من لم یر الوضوء…. / کتاب الاذان، باب من جلس فی المسجد ینظر الصلوٰۃ و فضل المساجد)۔
مسجد میں داخل ہوتے وقت پہلے سیدھا پیر اندر رکھیں (رواہ البخاری تعلیقاً، کتاب الصلوٰۃ ، باب التیمن فی دخول المسجد)
اور یہ دعا پڑھیں :

اَلّٰھُمَّ افْتَحْ لِیْ اَبْوَابِ رَحْمَتِکَ

(مسلم: کتاب صلوٰۃ المسافرین، باب ما یقول اذا دخل المسجد)

” اے اللہ مجھ پر اپنی رحمت کے دروازے کھول دے”

اور باہر آتے ہوئے پہلے الٹا پیر نکالیں اور یہ دعا پڑھیں:

اَلّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئلُکَ مِنْ فَضْلِکَ

” اے اللہ میں تجھ سے تیرے فضل کا سوال کرتا ہوں “

مسجد میں داخل ہوں تو بیٹھنے سے پہلے دو رکعت تحیۃ المسجد کے نوافل پڑھنے چاہئیں (بخاری: کتاب الصلوٰۃ، با اذا دخل احد کم المسجد فلیر کع رکعتین قبل ان یجلس/ مسلم: کتاب صلوٰۃ المسافرین، باب استحباب تحیۃ المسجد)۔

اذان

اصطلاحاً صلوٰۃ کے لیے پکار کر بلانے کو اذان کہتے ہیں اور اذان دینے والا مُؤذِّن کہلاتا ہے۔ یہ بڑی مبارک پکار ہے اور اس کا پکارنے والا بہترین شخص ہے۔ احادیث میں اذان اور مؤذن کی بہت فضیلت بیان ہوئی ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے دن مؤذن کی گردن سب سے زیادہ اونچی ہو گی (مسلم: کتاب الصلوٰۃ، باب فضل الاذان)۔
نیز فرمایا کہ اذان دینے کا اتنا ثواب ہے کہ اگر لوگوں کو معلوم ہو جائےتو وہ اس کے لیے قرعہ اندازی کریں (بخاری: کتاب الاذان، باب الاستھمامفی الاذان)۔
 اذان کے کلمات دو مرتبہ ہیں اور اقامت کے ایک ایک مرتبہ(بخاری: کتاب الاذان، باب مثنیٰ مثنیٰ)۔
حدیث میں اذان کے کلمات یہ بیان کیے  گئے ہیں: (مسلم: کتاب الصلٰوۃ، باب استحباب القول مثل قول المؤذن لمن سمعہ ، عن عمر)

اَللَّہُ اَکْبَرُ اَللَّہُ اَکْبَر (اللہ بہت بڑا ہے، اللہ بہت بڑا ہے)

اَللَّہُ اَکْبَرُ اَللَّہُ اَکْبَر (اللہ بہت بڑا ہے،اللہ بہت بڑا ہے)

اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ الَّا اِللَّہُ  (میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں)

اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ الَّا اِللَّہُ  (میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں)

اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللَّہُ  (میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں)

اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللَّہُ  (میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں)

حَیَّ عَلیَ الصَّلٰوﺓِ (آؤ صلوٰۃ کی طرف)

حَیَّ عَلیَ الصَّلٰوﺓِ  (آؤ صلوٰۃ کی طرف)

حَیَّ عَلیَ الْفَلاَحِ (آؤ کامیابی کی طرف)

حَیَّ عَلیَ الْفَلاَحِ (آؤ کامیابی کی طرف)

اَللَّہُ اَکْبَرُ اَللَّہُ اَکْبَر (اللہ بہت بڑا ہے،اللہ بہت بڑا ہے)

لَّا اِلٰہَ الَّا اِللَّہُ  (اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں)

مؤذن کو اذان میں حَیَّ عَلیَ الصَّلٰوۃِ کے کلمات کہتے ہوئے دائیں طرف اور حَیَّ عَلیَ الْفَلاَحِ کہتے ہوئے بائیں طرف گردن گھمانی چاہیے (مسلم: کتاب الصلٰوۃ ، باب سترۃ المصلی)۔
اذان کہتے وقت دونوں کانوں میں انگشت  شہادت دینی چاہئے (بخاری تعلیقًا: کتاب الاذان،  باب ھل یتبع المؤذن فاہ ھٰھنا / ترمزی: کتاب الصلٰوۃ، باب ما جآء فی ادخال الصبع فی الا ذن عند الاذان )۔
فجر کی اذان حَیَّ عَلیَ الْفَلاَحِ کے بعد دو مرتبہ اَلصَّلٰوﺓ خیرٌمِّنَ النَّومِ (صلٰوۃ نیند سے بہتر ہے) کہنا بھی اللہ کے رسول ﷺ ہی نے سکھایا (ابو داؤد: کتاب الصلٰوۃ، باب کیف الاذان)۔
جماعت کھڑی ہوتے ہوئے بھی یہی اذان کے کلمات کہے جاتے ہیں جنہیں اقامت کہتے ہیں مگر فرق یہ ہےاذان کے کلمات دو دو دفعہ ہیں اور اقامت کے کلمات حَیَّ عَلیَ الْفَلاَحِ ایک ایک دفعہ ہیں پھر دو دفعہ قَدْ قَامَتِ الصَّلٰوۃِ (بیشک صلوٰۃ کھڑی ہو گئی) کا اضافہ کیا جاتا ہے اور پھر باقی کلمات اذان ہی کی طرح کہے جاتے ہیں (بخاری: کتاب الاذان، باب الاذان مثنیٰ مثنیٰ/ابو داؤد: کتاب الصلوٰۃ، باب کیف الاذان و باب فی الاقامۃ)۔
اذان کا جواب دینا بھی بہت ثواب کا کام ہے۔ اس کے جواب میں وہی  کلمات دہرائے جائیں جو مؤذن کہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا کہ اذان سننے والا اگر پورے خلوص اور دلی یقین کے ساتھ جواب  دے تو وہ جنت میں داخل میں ہو گا (مسلم : کتاب الصلٰوۃ، باب استحباب القول مثل قول المؤذن لمن سمعہ)۔
فرمایا تم بھی ایسا  ہی کہو جیسا مؤذن کہتا ہے (بخاری: کتاب الاذان، باب ما یقول اذا سمع المنادی)۔
حَیَّ عَلیَ الصَّلٰوﺓِ اور حَیَّ عَلیَ الْفَلاَحِ کے جواب میں لَا حَوْلَ وَ لَا قُوَّۃ اِلَّا بِا للَّہِ (اللہ کے سوا کوئی طاقت ہے نہ قوت)کہا جائے (بخاری: کتاب الاذان، باب ما یقول اذا سمع المنادی)۔
فجر کے اذان کے کلمات اَلصَّلٰوﺓ خیرٌ مِّنَ النَّومِ کے جواب میں صَدَقْتَ وَبَرَرْتَ بِلحَقِّ نَطَقْتَ  صحیح احادیث سے ثابت نہیں۔ اذان کے جواب کے بعد نبی ﷺ پر صلوٰۃ پڑھنا چاہیے۔ نبی ﷺ فرمایا کہ جب مؤذن کی اذان سنو تو تم بھی وہی کہو جو مؤذن کہتا ہے پھر مجھ پر صلوٰۃ پڑھو کیونکہ جو کوئی مجھ پر ایک مرتبہ صلوٰۃ پڑھتا ہے تو اللہ اس پر دس مرتبہ رحمت بھیجتا ہے، اسکے بعد اللہ تعالیٰ سے میرے لیے وسیلہ مانگو؛ وسیلہ دراصل جنت میں ایک مقام ہے جو اللہ کے بندوں میں سے ایک بندے کو دیا جائے گا اور مجھے امید ہے کہ وہ بندہ میں ہی ہوں گا اور جو میرے لیے وسیلہ طلب کرے گا تو اس کے لیے میری شفاعت واجب ہو گئی (مسلم : کتاب الصلٰوۃ، باب استحباب القول مثل قول المؤذن لمن سمعہ)۔
نبی ﷺ نے دعائے وسیلہ ان الفاظ میں سکھائی: (بخاری: کتاب الاذان، باب الدعاء عند النداء)

اللّٰھُمَّ رَبَّ ھٰذہِ الدَّعْوَۃِ التَّآ مَّۃِ وَالصَّلٰوۃِ الْقَآئِمَۃِ اٰتِ مُحَمَّدَ نِ الْوَسِیْلَۃَ وَالْفَضِیْلَۃَ وَابْعَثْہُ مَقَاماً مَّحْمُوْدَ نِ الَّذِیْ وَعَدْتَّہ̒

“اے اللہ، اس مکمل پکار اور قائم ہونے والی صلوٰۃ کے رب! محمد ﷺ کو وسیلہ اور فضیلت عطا فرما اور انہیں مقام محمود پر پہنچا جس کا تو نے ان سے وعدہ فرمایا ہے۔”

احادیث میں اذان کے بعد کی دعا کے یہی الفاظ آئے ہیں، ان میں کوئی اضافہ نہیں کرنا چاہیے۔ اور نہ ہی ان کلمات کو بلند آواز سے اور ہاتھ اٹھا کر پڑھنے کا حدیث میں کوئی ذکر ہے۔ صحیح احادیث میں اس بات کا بھی ذکر نہیں کہ ابو بکر ؓ نے اذان میں نبی ﷺ کا نام سن کر اپنے ہاتھوں کے دونوں انگوٹھے چوم کر آنکھوں سے لگا لیے۔

قبلہ رخ ہونا

صلوٰۃ قبلہ رخ یعنی خانہ کعبہ کی طرف منہ کر کے ادا کرنی چاہیے کہ یہ اللہ کا حکم ہے؛

وَمِنْ حَیْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْھَکَ شَطْرَالْمَسْجِدِالْحَرَامِ

(البقرۃ:150 )

” اور تم جہاں سے بھی نکلو مسجد حرام (خانہ کعبہ ہی) کی طرف منہ(کر کے صلوٰۃ ادا ) کرو اور تم جہاں بھی ہوا کرو تو اسی طرف رخ کیا کرو۔”

صلوٰۃ ایسی جگہ ادا کرنی چاہیے کہ راستہ نہ رکے اور لوگ سامنے سے نہ گزریں کیونکہ صلوٰۃ ادا کرنے والے کے سامنے سے گزرنے پر بہت وعید آئی ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا کہ نمازی کے سامنے سے گزرنے والا اگر یہ جانتا ہو کہ اس کا کتنا وبال ہے تو اسے چالیس تک کھڑا رہنا سامنے سے نکل جانے سے بہتر معلوم ہو۔ راوی کو یہ یاد نہیں رہا کہ چالیس دن ، مہینے یا سال (بخاری: کتاب الاذان ، باب اثم الماربین یدی المصلی / مسلم : کتاب الصلوٰۃ،باب السترۃ)۔

نبیﷺ ستون وغیرہ کی آڑ میں صلوٰۃ ادا فرماتے (بخاری: کتاب الاذان، باب الصلوٰۃ الی الاسطوانۃ)۔

اگر کوئی ستون نہ ہو تو کوئی اور چیز مثلاً کوئی ذرا اونچی لکڑی سامنے رکھ لینی چاہیے (بخاری: کتاب الصلوٰۃ، باب الصلوٰۃ الی الحربۃ / باب الصلوٰۃ الی العنزۃ)۔
اس طرح جو رکاوٹ رکھی جاتی ہے اسے سُتْرَۃ کہتے ہیں۔

قیام

صلوٰۃ کے لیے قبلہ رخ ہو کر با ادب کھڑے ہوں۔ اللہ کا حکم ہے:

وَقُوْمُوْالِلّٰہِ قٰنِتِیْنِ

(البقرۃ:  238)

‘‘اللہ کے آگے با ادب کھڑے رہو۔‘‘

اگر کھڑے ہونے کی قدرت نہیں  تو بیٹھ کر صلوٰۃ ادا کریں، بیٹھ کر بھی نہ پڑھ سکیں تو لیٹ کر ہی سہی بہر حال ادا ضرور کریں (بخاری: کتاب الاذان ، باب اذا لم یطق قاعدا  صلی علی جنب)۔
یا اگر عذر کے سبب بہتر سمجھے تو کچھ صلوٰۃ بیٹھ کر اور کچھ کھڑے ہو کر پڑھ  لے (بخاری: کتاب الصلوٰۃ، باب اذا صلی قاعدا ثم صح او وجد خفۃ تمم ما بقی)۔
قیام اور اس کے بعد بھی صلوٰۃ کے ہر رکن میں نظروں کو نیچا رکھنا ہے۔ صلوٰۃ میں ادھر اُدھر دیکھنے کے متعلق نبی ﷺ نے فرمایا کہ شیطان کا اچک لینا ہے (بخاری: کتاب الاذان، باب الالتفات فی الصلوٰۃ)۔
صلوٰۃ میں اوپر دیکھنے والوں کے بارے میں تو سخت وعید بتائی۔ فرمایا کہ اس فعل سے بعض آجائیں ورنہ ان کی بینائی چھین لی جائے گی (بخاری: کتاب الاذان، باب الالتفات فی الصلوٰۃ/ باب رفع البصرالی السماء فی الصلوٰۃ)۔

تسویۃ الصفوف

تسویۃ الصفوف سے مراد صفوں کو درست کرنا ہے۔ با جماعت صلوٰۃ کے لیے  اس وقت تک کھڑے نہ ہوں جب تک امام کو آتا نہ دیکھ لیں (بخاری: کتاب الاذان، باب الالتفات فی الصلوٰۃ/ باب رفع البصرالی السماء فی الصلوٰۃ، باب متیٰ یقوم الناس اذا راوا الامام عند الاقامۃ / مسلم: کتاب المساجد، باب متیٰ یقوم الناس للصلوٰۃ)۔
احادیث میں اس بات کا ذکر نہیں کہ سب لوگ بیٹھے رہیں اور مؤذن جب حَیَّ عَلیَ الصَّلٰوﺓِ   کہے تو اس وقت کھڑے ہوں۔ صف میں کھڑا ہونے کے لیے با وقار انداز اختیار کریں۔ پیروں کو بہت پھیلا کر کھڑے نہ ہوں بلکہ اعتدال کے ساتھ کھڑے ہوں ، قدموں کو سیدھا اور اور برابر رکھیں  (نسا ئی: کتاب الصلوٰۃ ، باب الصف بین القدمین فی الصلوٰۃ/ ابوداؤد : کتاب الصلوٰۃ ، باب وضع الیمنی علی الیسریٰ فی الصلوٰۃ)۔
جماعت سے صلوٰۃ پڑھتے ہوئے ہر آدمی اپنے برابر کھڑے ہوئے آدمی کے کندھے سے کندھا اور ٹخنے سے ٹخنہ ملا کر رکھے (بخاری : کتاب الاذان ،  باب الزاق المنکب بالمنکب والقدم  بالقدم فی الصف )۔
کہ اس طرح صف سیدھی رہتی ہے جس کی نبی ﷺ نے بہت تاکید فرمائی ہے (مسلم: کتاب الصلوٰۃ، باب تسویۃ الصفوف)۔
اور یہاں تک فرمایا کہ صفوں کو سیدھا رکھنا صلوٰۃ کا حسن اور اس کی تکمیل ہے (مسلم: کتاب الصلوٰۃ، باب تسویۃ الصفوف)۔
اس لیے اس کے بغیر صلوٰۃ ناقص رہتی ہے۔ جسم کی مخصوص ساخت کی بناء پر کاندھے اور قدم دونوں ایک ساتھ نہ مل پائیں تو بھی کوئی حرج نہیں، البتہ اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ صف بالکل سیدھی ہو اور شانوں کے درمیان  خلاء نہ ہو۔ بچے بڑوں کے پیچھے صف بنائیں (مسلم: کتاب الصلوٰۃ ، باب تسویۃ الصنوف)۔
اور عورتیں بچوں کے پیچھے صف بنائیں (بخاری: کتاب الاذان، باب المرأ ۃ وحدھا  تکون صفا / مسلم: کتاب  الصلوٰۃ، باب امر النساء المصلیات  ورآء الرجال‎)۔
اگر صرف دو ہی آدمی صلوٰۃ ادا کریں (خواہ بچہ یا بڑا) تو دوسرا شخص امام کے دائیں طرف اس کے برابر کھڑا ہو (بخاری: کتاب الاذان ، باب میمنۃ المسجد والامام)۔
اور اگر کوئی  تیسرا آ جائے تو امام مقتدی کو پیچھے کر دے اور وہ دونوں امام کے پیچھے صف بنائیں (مسلم: کتاب الزھد، باب حدیث  جابر الطویل)۔
لیکن اگر وہ تیسرافرد عورت ہو تو وہ اکیلی پیچھے کھڑی رہے اور بچہ یا بڑا مام کے دائیں طرف (مسلم: کتاب المساجد، باب جوازالنافلۃ قاعداًوقائما)۔
لیکن کوئی آدمی پوری صف چھوڑ کر اکیلا نہ کھڑا ہو کیونکہ ایسے شخص کو نبی ﷺ نے صلوٰۃ دہرانے کا حکم دیا تھا (ابوداؤد:کتاب الصلوٰۃ، باب الرجل یصلی وحدہ خلف الصف/ ترمذی: کتاب الصلوٰۃ، باب الصلوٰۃ خلف بعدہ)۔
جب اقامت ہو جائے تو صلوٰۃ کے لیے دوڑ کر نہ آئیں بلکہ وقار اور سکون سے چل کر آئیں ، جس قدر صلوٰۃ مل جائے وہ پڑھ لیں اور جو رہ جائے اسے بعد میں پورا کر لیں (بخاری: کتاب الاذان، باب مادرکتم فصلوا)۔

نیت کرنا

نیت دل کے ارادے کو رہتے ہیں۔ جب صلوٰۃ ادا کرنے کھڑے ہوئے تو یہی اس کی نیت ہے۔اس کے لیے زبان سے الفاظ ادا کرنا کہ ” میں نیت کرتا ہوں دورکعت نماز فجر واسطے اللہ تعالیٰ کے، منہ طرف کعبہ شریف کے پیچھے اس امام کے۔۔۔۔” صریح بدعت ہے۔ احادیث میں اس کاکوئی ذکر نہیں۔ اور یہ کہنا تو صریح شرک ہے کہ ” نیت کرتا ہوں دو رکعت سنت واسطے رسول اللہ کے۔۔۔” کیونکہ عبادت کی ہر قسم صرف اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے جس کا اقرار التحیات میں کیا جاتا ہے۔

تکبیرات

اللہُ اکبر کہنا تکبیر کہلاتا ہے۔ صلوٰۃ کے شروع میں اور ہر دفعہ رکوع و سجود میں جاتے ہوئے اور سجدوں اور قعدے سے اٹھتے ہوئے اللہُ اکبر کہیں (بخاری: کتاب الاذان، باب مادرکتم فصلوا، باب التکبیر اذا قام من السجود)۔
یہ تکبیریں اما م کے کہنے کے بعد مقتدی بھی کہیں کہ نبی ﷺ نے اس کا حکم دیا ہے (بخاری: کتاب الاذان، باب ایجاب التکبیر)۔
صلوٰۃ کے شروع میں کہی جانے والی تکبیر کو اصطلاح میں تکبیرِ تحریمۃ کہتے ہیں کہ اس سے بہت سی باتیں  صلوٰۃ میں حرام ہو جاتی ہیں۔ تکبیر تحریمہ کو تکبیرِ اولیٰ یعنی پہلی تکبیر بھی کہا جاتا ہے۔ یہ تکبیر دونوں ہاتھوں کو کاندھوں تک اٹھا کر کہی جائے (بخاری: کتاب الاذان، باب الی این یرفع یدیہ)۔
ایک روایت میں کانوں تک ہاتھ اٹھانے کا ذکر ہے (مسلم: کتاب الصلوٰۃ، باب استحباب رفع الیدین حذو المنکبین)۔
ان روایات سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ ہاتھ کم سے کم کاندھوں  تک اور زیادہ سے زیادہ کانوں تک اٹھائے جائیں۔ تا ہم انگوٹھوں کے سروں سے کانوں کو چھونے کا ذکر صحیح احادیث میں نہیں۔ ہاتھ اٹھا کر نیچے نہ گرائیں بلکہ انہیں ایک دوسرے پر رکھ کر باندھ لیا جائے (مسلم: کتاب الصلوٰۃ، باب استحباب رفع الیدین حذو المنکبین، وضع یدہ الیمنیٰ علی الیسریٰ، عن وائل بن حُجْر)۔
ہاتھ باندھنے کے مقام سے متعلق روایات ضعیف ہیں ۔ صحیح حدیث میں اسی قدر بتایا گیا ہے  کہ دایاں ہاتھ بائیں کلائی پر رکھ لیا جائے (بخاری: کتاب الاذان، باب ما یقرء بعد التکبیر/ مسلم: کتاب المساجد، باب ما یقال بین تکبیرۃالاحرام والقرأۃ)  

نبی ﷺ تکبیر تحریمہ اور قرأت کے درمیان یہ دعا پڑھتے تھے:

اللَّهُمَّ بَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ کَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ اللَّهُمَّ نَقِّنِي مِنْ الْخَطَايَا کَمَا يُنَقَّی الثَّوْبُ الْأَبْيَضُ مِنْ الدَّنَسِ اللَّهُمَّ اغْسِلْ خَطَايَايَ بِالْمَائِ وَالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ

(بخاری: کتاب الاذان، باب ما یقراء بعد التکبیر/ مسلم: کتاب المساجد، باب ما یقال بین تکبیرۃ الاحرام والقرأۃ)”

” اے اللہ مجھ میں اور میری خطاؤں میں اتنی دوری کر دے جتنی دوری تو نے مشرق اور مغرب کے درمیان کی ہے۔ اے اللہ مجھے خطاؤں سے ایسا پاک کر دے جیسے سفید کپڑا میل  سے پاک ہو جاتا ہے ۔ اے اللہ میری خطائیں  دھو ڈال پانی سے اور برف سے اور اولوں سے

قرأت

دعا  پڑھنے کے بعد قرأت کریں۔ قرأت سے پہلے تَعَوُذ یعنی
اَعُوْذُ بِا للّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّ جِیْمِ 
“میں اللہ کی شیطان مردود سے پناہ چاہتا ہوں”
پڑھنا ضروری ہے کیونکہ یہ اللہ کا حکم ہے:

فَاِذَ قَرَاْتَ الْقُرْاٰنَ فَاسْتَعِذْ بَاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّ جِیْمِ

(النحل: 98)

” اور جب تم قرآن پڑھنے لگو تو شیطان مردود سے اللہ کی پناہ پکڑ لیا کرو۔”

انفرادی صلوٰۃ میں سب کچھ آہستہ پڑھیں، نہ بالکل زیرِ لب پڑھیں نہ بہت زور سے کہ دور دور تک آواز جائے بلکہ متوسط انداز ہونا چاہیے جیسا کہ اللہ کا حکم ہے:

وَلَا تَجْھَرْ بَصَلَا تِکَ وَلَا تُخَافِتْ بِھَا وَابْتَغِ بَیْنَ ذٰلِکَ سَبِیْلَا

(بنی اسرائیل: 110)

” اپنی صلوٰۃ میں آواز کو بلند نہ کرو اور نہ ہی بالکل کم کرو بلکہ دونوں کے درمیان کی راہ اختیار کرو۔”

اس کے بعد تسمیہ یعنی
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
” اللہ کے نام کے ساتھ جو بہت مہربان اور رحم کرنے والا ہے۔”
(جو سورۃ التوبہ کے سوا قرآن کی ہر سورت سے پہلے ہے) آہستہ سے پڑھنی چاہیے (مسلم مو قو فاً: کتاب الصلوٰۃ باب حجۃ من قال لا یجھر با لبسملۃ/ نسا ئی: کتاب الصلوٰۃ ، باب ترک الجھر)۔
قرأت کا آغاز سورۃ الفاتحہ سے کرنا چاہیے (بخاری: کتاب الاذان، باب ما یقراء بعد التکبیر/ ترمذی : کتاب الصلوٰۃ، باب فی افتتاح القرأۃ بالحمد للّٰہ رب العٰلمین)۔
سورۃ الفاتحہ ہر رکعت میں پڑھنی ضروری ہے جس کے بغیر صلوٰۃ نہیں ہوتی (بخاری: کتاب الاذان، باب وجوب القرأء ۃ للامام و الماموم فی صلٰوت/ مسلم: کتاب الصلوٰۃ، باب وجوب قرآئۃ الفاتحہ فی کل رکعۃ )۔
لیکن اگر اما م کے پیچھے پڑھ رہے ہوں اور امام جہر یعنی بلند آواز سے قرأت کرے (جو فجر، مغرب، عشاء ، جمعہ، عیدین ، تراویح، وتر وغیرہ میں ہوتی ہے) تو مقتدیوں کو خاموش رہنا چاہیے کیونکہ اللہ کا حکم ہے:

وَاِذَ قُرِئَ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوْاٰ لَہ̒ وَاَنْصِتُوْ لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُوْنَ

(الاعراف: 204)

” اور جب قرآن پڑھا جائے تو اسے توجہ سے سنو اور خاموش رہو تا کہ تم پر رحم کیا جائے۔”

حدیث میں نبی ﷺ نے بھی اس کی ممانعت فرمائی ہے اور حکم دیا ہے کہ جب امام قرأت کرے تو  تم خاموش رہو (مسلم: کتاب الصلوٰۃ، باب التشھد فی الصلوٰۃ)۔
اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے فرمان کی تعمیل  میں جہری رکعتوں میں خاموش رہ کر قرآن سننا چاہیے ۔ البتہ ظہر و عصر اور اسی طرح مغرب و عشاء کی ان رکعتوں میں جب امام سِرّی یعنی آہستہ آواز میں قر أت کرتا ہے تو مقتدی سورۃ الفاتحہ پڑھ سکتے ہیں۔ ایک دفعہ نبی ﷺ نے صلوٰۃ کے بعد پیچھے مڑ کر پوچھا  کہ کیا تم میں سے کسی نے میرے ساتھ قرأت کی تھی۔ ایک صحابی ؓ نے کہا کہ میں نے کی تھی۔ نبی ﷺ نے فرمایا کہ جبھی تو میں کہوں کہ مجھے  کیا ہو رہا تھا جو ایسا لگتا تھا جیسے کوئی مجھ سے قرآن چھین رہا ہو۔ اس کے بعد پھر لوگوں نے اس صلوٰۃ میں قرأت کرنا چھوڑ دی، جس میں نبی ﷺ زور سے قرأت فرماتے تھے (مؤطا امام مالک: کتاب الصلوٰۃ، باب ترک القراۃ خلف الامام فیما جھربہ)۔
ابو ہریرہ ؓ نے جب فرمان رسول ﷺ بیان کیا کہ جس نے صلوٰۃ میں سورۃ الفاتحہ نہیں پڑھی تو اس کی صلوٰۃ مکمل  ہوئے بغیر ناقص رہی؛ ایک صاحب نے پوچھا کہ امام کے پیچھے ہوں تو پھر کیا کریں؟ آپ ﷺ نے فرمایا‎‎‎  : اِقْرَٲبِھَا فِیْ نَفْسِکَ ”اس کو اپنے دل میں پڑھ لو“ (مسلم: کتاب الصلوٰۃ، باب وجوب قرآئۃ الفاتحہ فی کل رکعۃ)۔
زید بن ثابت ؓ سے امام کے پیچھے قرأت کرنے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ امام کے ساتھ کوئی قرأت نہیں  (مسلم: کتاب المساجد، باب سجود القلاوۃ)۔
عبداللہ بن عمر ؓ جب یہ سوال کیا جاتا تو آپؓ  فرماتے تھے کہ تم میں سے جو کوئی امام کے پیچھے صلوٰۃ ادا کرے تو امام کی قرأت اس کے لیے کافی ہے، اور اگر اکیلے پڑھے تو پھر قرأت ضرور کرے۔ اور  خود عبداللہ بن عمر ؓامام کے پیچھے قرأت نہ کرتے تھے (مؤطا امام مالک: کتاب الصلوٰۃ، باب ترک القراۃ خلف الامام فیما جھر فیہ)۔
جابر بن عبداللہؓ  نے فرمایا کہ جس نے کوئی  رکعت بھی پڑھی اور اس میں سورۃ الفاتحہ نہیں پڑھی تو اس کی صلوٰۃ ادا نہ ہو گی، سوائے اس کے کہ وہ امام کے پیچھے ہو (مؤطا امام مالک: کتاب الصلوٰۃ، باب ترک القراۃ خلف الامام فیما جھر فیہ/ باب ماجاء فی ام القرآن)۔
فجر، مغرب اور عشاء کی صلوٰۃ میں امام کو قرأت بالجہر یعنی زور سے کرنی چاہیے (بخاری : کتاب الاذان، باب الجھر بقرأۃ  صلوٰۃ الفجر، باب الجھر فی المغرب، باب الجھر فی العشاء)۔
اور ظہر اور عصر میں بالسِّر یعنی آہستہ سے کرنی چاہیے(بخاری : کتاب الاذان، باب الجھر بقرأۃ  صلوٰۃ الفجر، باب الجھر فی المغرب، باب الجھر فی العشاء، باب من خافت القرأۃ فی الظھر والعصر)۔
اسی مناسبت سے یہ صلوٰت جہری اور سری کہلاتی ہیں۔ سورۃ الفاتحہ کے اختتام پر آمین کہنا چاہیے (بخاری : کتاب الاذان، باب الجھر بقرأۃ  صلوٰۃ الفجر، باب الجھر فی المغرب، باب الجھر فی العشاء، باب من خافت القرأۃ فی الظھر والعصر، باب جھر الماموم بالتامین)۔
جہری صلوٰۃ میں نبی ﷺ بلند آواز سے لمبا کر کے آمین کہتے تھے (ابوداؤد: کتاب الصلوٰۃ، باب التامین ورآء الامام/ ترمذی: کتاب الصلوٰۃ، باب ماجاء فی التامین)۔
آمین کہنے کا نبی ﷺ نے حکم دیا۔ فرمایا کہ جب امام  غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَ لَا الضَّآلِّیْنَ کہے تو تم آمین کہو (بخاری : کتاب الاذان، باب جھر الماموم بالتامین)۔
آمین کہنے کی بہت فضیلت ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی آمین کہتا ہے تو فرشتے آسمان میں آمین کہتے ہیں، جس کی آمین فرشتوں کی آمین سے  مل جائے گی تو اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جائیں گے (بخاری : کتاب الاذان، باب جھر الماموم بالتامین، با فضل التامین)۔
پہلی دو رکعتوں میں فاتحہ کے بعد دوسری کوئی سورہ بھی پڑھی جائے گی اور باقی رکعتوں میں صرف سورۃ الفاتحہ (بخاری : کتاب الاذان، باب جھر الماموم بالتامین، با فضل التامین، باب یقراء فی الاخریین بفاتحۃ الکتاب)۔
اگر اکیلے صلوٰۃ ادا کر رہے ہوں تو یہ دوسری سورۃ جتنی چاہیں لمبی پڑھیں (بخاری : کتاب الاذان، باب جھر الماموم بالتامین، با فضل التامین، باب یقراء فی الاخریین بفاتحۃ الکتاب، باب اذا صلی لنفسہ فلیطول ما شآء)۔
کیونکہ اللہ کو طویل قیام والی صلوٰۃ پسند ہے (مسلم: کتاب صلوٰۃ المسافرین، باب صلوٰۃ اللیل و عدد رکعات النبی ﷺ فی اللیل)۔
لیکن جماعت کراتے ہوئے امام کمزوروں ، بوڑھوں ،  بیماروں اور کام کاج والوں کا خیال کرتے ہوئے چھوٹی سورتیں پڑھیں (بخاری: کتاب الاذان ، باب من شکا امامہ اذا طول)۔
بہتر تو یہ ہے کہ قرآن جس ترتیب سے مدون ہے اسی طرح پڑھا جائے کیونکہ مختلف اوقات کی صلوٰۃ میں نبی ﷺ سے جن سورتوں کی قرأت کرنا منقول ہے وہ ترتیب وار ہیں مثلاً عیدین میں  سورۃ ق اور القمر، جمعہ کی صبح السجدۃ اور الدھر، صلوٰۃ الجمعہ و عیدین میں الاعلیٰ اور الغاشیہ، صلوٰۃ الجمعہ میں الجمعہ اور المنافقون، عشاء میں الشّمس اور اللیل، التین اور العلق، وغیرہ (صحیحین کی کتاب الصلوٰۃ کے متعلقہ ابواب کی مختلف روایات)۔
البتہ یہ لازم بھی نہیں کیونکہ آپ ﷺ نے اس کے خلاف بھی کیا ہے۔ ایک مرتبہ تہجد میں آپ نے سورۃ البقرۃ کے بعد سورۃ النسآء اور پھر اس کے بعد سورۃ آل عمران تلاوت کی (مسلم: کتاب صلوٰۃ المسافرین، باب استحباب تطویل القرأت فی صلوٰۃ اللیل)۔
حالانکہ ترتیب مین سورۃ البقرۃ کے بعد سورۃ آل عمران آتی ہے۔ اس لحاظ سے ترتیب کے بغیر بھی پڑھ سکتے ہیں۔ نبی ﷺ کا اکثر معمول یہ تھا کہ آپ پہلی رکعت کو دوسری رکعت سے ذرا لمبی پڑھتے تھے (بخاری: کتاب الاذان ، باب یطول فی الرکعۃ الاولیٰ)۔
اسی طرح آپ کی چار رکعت والی صلوٰۃ میں پہلی دو رکعتیں بعد والی رکعتوں سے طویل ہوتی تھیں (بخاری: کتاب الاذان ، باب وجوب القرأۃ للامام والما مؤم)۔
اگر کوئی سجدہ والی آیت تلاوت کریں تو صلوٰۃ کے دوران ہی سجدۂ تلاوت کریں  (بخاری: کتاب سجود القرآن، باب من قرآء السجدۃ فی الصلوٰۃ فسجد بھا):

جس میں یہ دعا پڑھیں:

سَجَدَ  وَجْھِیَ لِلَّذِیْ خَلَقَہُ وَ صَوَّ رَ ہ̒ وَ شَقَّ سَمْعَہ̒ وَبَصَرَہ̒ بِحَوْلِہࢭ و قُوَّتِہ

(ابوداؤد: کتاب السجود، باب ما یقول اذا سجد)

”میرے چہرے نے اس (پروردگار) کے لیے سجدہ کیا جس نے اس کو پیدا کیا اور اس کی (بہترین انسانی) صورت بنائی اور محض اپنی طاقت و قوت سے اس کے کان اور آنکھیں کھولیں“۔

قرآن و حدیث کا حکم یہ ہے کہ قرآن سے جتنا بھی سہولت سے پڑھ سکو پڑھ لو (سورۃ: المزمل: 20/ بخاری: کتاب الاذان ، باب وجوب القرأۃ للامام والما مؤم)۔
چاہیں تو ایک ہی سورۃ ہر رکعت میں پڑھ لیں یا ایک رکعت میں کئی سورتیں ملا کر پڑھ لیں (بخاری: کتاب الاذان، باب الجمع بین السورتین فی رکعۃ/ مسلم: کتاب فضائل القران، باب ترتیل القرأۃ واجتناب الھذو اباحۃ سورتین فا کثر فی رکعۃ)۔

رکوع

قرأت سے فارغ ہونے کے بعد رکوع کریں۔ جیسا کہ پہلے لکھا گیا، رکوع میں جانے سے پہلے بھی امام و مقتدی دونوں اَللہُ اَکْبَر کہیں گے۔ رکوع میں کھڑے کھڑے کمر کو جھکا کر دونوں ہاتھوں سے گھٹنوں کو پکڑا جاتا ہے۔ رکوع میں جانے سے پہلے اور رکوع کے  بعد رفع یدین یعنی دونوں ہاتھوں کو کاندھوں تک اٹھانا (بخاری: کتاب الاذان، باب رفع الیدین اذاکبر و اذارکع واذا رفع/ مسلم : کتاب الصلوٰۃ، باب استحبابرفع الیدین حذو المنکبین مع تکبیرۃ الاحرام والرکوع و فی الرفع من الرکوع)
 اور نہ اٹھانا (بخاری: کتاب الاذان، باب سنۃ الجلوس فی التشھد/ ترمذی: کتاب الصلوٰۃ باب رفع الیدین عندالرکوع/ ابوداؤد: کتاب الصلوٰۃ، باب من لم یذکر الرفع عندالرکوع/ نسائی: کتاب الافتتاح، باب ترک ذلک)
دونوں طریقے نبی ﷺ کی سنت ہیں۔ رکوع میں ہاتھوں سے گھٹنے پکڑے رکھیں (بخاری: کتاب الاذان ، باب سنۃ الجلوس فی التشھد)۔
دونوں بازو سیدھے تنے ہوئے ہوں، ان میں جھول نہ ہو اور پسلیوں سے دور ہوں (ترمذی: کتاب الصلوٰۃ، باب ماجآء انه یجا فی یدیه عن جنبیه فی الرکوع)۔
رکوع میں سر کو کمر سے اونچا یا نیچا نہ رکھا جائے بلکہ دونوں برابر ہوں (مسلم: کتاب الصلوٰۃ، م یجمع فی صفۃ الصلوٰۃ۔۔۔ عن عائشہ ؓ)۔
رکوع  کو اچھی طرح کرنا چاہیے اور اس میں ہرگز کوتاہی نہیں کرنی چاہیے کیونکہ ایسا کرنے والے شخص کو نبی ﷺ نے کہہ کر دوبارہ صلوٰۃ ادا کرنے کا حکم دیا تھا کہ تم نے صلوٰۃ ادا نہیں کی (بخاری: کتاب الاذان، باب امر النبی ﷺ الذی لا یتم رکوعه بالاعادۃ)۔
رکوع میں قرآن پڑھنا منع ہے (مسلم: کتاب الصلوٰۃ، باب النھی عن قرأۃ القرآن فی الرکوع و السجود)۔
رکوع میں ان الفاظ میں تسبیح کی جائے :  سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْمِ ”میرا عظمت والا رب پاک ہے “ (مسلم: کتاب المسافرین، باب استحباب تطویل القرأۃ فی صلوٰۃ اللیل)
اس تسبیح کی کم از کم تعداد تین مرتبہ ہے (ابوداؤد: کتاب الصلوٰۃ، باب ما یقول الرجل فی رکوعه و سجوده)۔

ان کے علاوہ دوسرے الفاظ بھی منقول ہیں مثلاً

سُبُّوْحٌ قُدُّوْسٌ رَبُّ الْمَلٰٓئِکۃِ وَالرُّوْحِ

”بہت پاک اور برگزیدہ ہے فرشتوں اور جبرئیل کا رب

“ (مسلم: کتاب الصلوٰۃ ، باب ما یقال فی الرکوع و السجود)

سُبْحٰنَکَ وَ بِحَمْدِکَ لَا اِلٰهَ اِلَّا اَنْتَ

”اے اللہ تو پاک ہے اور تیری ہی سب تعریف ہے، تیرے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ “

(مسلم: کتاب الصلوٰۃ ، باب ما یقال فی الرکوع و السجود)

نبی ﷺ رکوع میں یہ دعا بھی کیا کرتے تھے:

سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِکَ اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ

”اے اللہ تو پاک ہے، اے ہمارے رب تیرے لیے تعریف ہے، اے اللہ مجھے بخش دے

“(بخاری: کتاب الاذان، باب الدعا فی الرکوع)

رکوع سے سر اٹھاتے ہوئے کہا جائے

سَمِعَ اللہُ لِمَنْ حَمِدَہ‎‎‏‏‍ُُ

” اللہ  نے اس کی سن لی  جس نے اس کی تعریف کی۔ “

اور جب سیدھے کھڑے ہو جائیں تو کہیں:

رَبَّنَا لَکَ الحَمْدُ

” اے ہمارے رب سب تعریف تیرے ہی لیے ہے “  کہیں

(بخاری: کتاب الاذان، باب التکبیر اذا قام من السجود)۔

اور دوسری روایت میں

اَللّٰھُمَّ رَ بَّنَا وَ لَکَ الحَمْدُ

بھی آئے ہیں بھی آئے ہیں

(بخاری: کتاب الاذان، باب التکبیر اذا قام من السجود، باب فضل اللھم ربنا و لک الحمد)۔

مقتدی صرف

رَبَّنَا لَکَ الحَمْدُ

کہہ کر رکوع سے کھڑے ہوں۔ نبی ﷺ نے فرمایا کہ جس کا یہ کہنا فرشتوں کے کہنے سے مل جائے گا تو اس کے پچھلے گناہ معاف ہو جائیں گے

(بخاری: کتاب الاذان، باب التکبیر اذا قام من السجود، باب فضل اللھم ربنا و لک الحمد، باب ما یقول الامام و من خلفه اذا رفع راسه من الرکوع)۔

مسلم نے نبی ﷺ کا رکوع سے کھڑے ہو کر یہ کلمات پڑھنا بھی روایات کیا ہے:

سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَہُ اَللّھُمَّ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ مِلَاءَ السَّمٰوٰتِ وَ مِلَاءَ الْاَرْضِ وَمِلَاءَ مَاشِئْتَ مِنْ شَیْءٍ ۢ بَعْدُ

” اللہ نے اس کی سن لی جس نے اس کی تعریف کی۔ اے ہمارے رب تیرے ہی لیے ساری تعریف ہے جو بھر دے آسمانوں کو اور زمین کو اور اس کے بعد ہر شے کو جس کو تو چاہے “

(مسلم: کتاب الصلوٰۃ، باب ما یقول اذا رفع راسه من الرکوع)

امام سے پہلے ہر گز سر نہ اٹھائیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ

کہ کوئی امام سے پہلے سر نہ اٹھائے، کہیں ایسا نہ ہو کہ اس کا سر گدھے کا ہو جائے

(بخاری: کتاب الاذان، باب الطمانیۃ حین یرفع راسه من الرکوع)۔

رکوع سے سر اٹھانے کے بعد بالکل سیدھا کھڑا ہو جائیں اور سجدے میں جانے سے پہلے اتنی دیر کھڑے رہیں کہ ہر جوڑ اپنی جگہ پر آجائے (بخاری: کتاب الاذان، باب الطمانیۃ حین یرفع راسه من الرکوع، باب سنۃ الجلوس فی التشھد)۔
(اس طرح کھڑے ہونے کو قومہ کہتے ہیں) ایسا ہرگز نہ کریں کہ رکوع سے سیدھے کھڑے بھی نہ ہوئےکہ سجدے میں چلے گئے کیونکہ ایسا کرنے والے کو نبی ﷺ نے صلوٰۃ دہرانے کا حکم دیا تھا اور کہا تھا کہ تو نے تو صلوٰۃ ادا ہی نہیں کی، جس کا ذکر پہلے کیا جا چکا ہے۔ نبی ﷺ رکوع سے سر اٹھا کر اتنی دیر تک کھڑے رہتے کہ صحابہ ﷜ سمجھتے کہ نبی ﷺ سجدہ کرنا بھول گئے (باب سنۃ الجلوس فی التشھد ،باب الطمانیۃ حین یرفع راسه من الرکوع)۔
نیز آپ ﷺ کا رکوع و سجدہ اور رکوع سے سر اٹھا کر کھڑا رہنا اور دونوں سجدوں کے درمیان میں بیٹھا رہنا قریب قریب برابر ہوتا تھا (باب سنۃ الجلوس فی التشھد ،باب الطمانیۃ حین یرفع راسه من الرکوع)۔
 صحابہ ؓ اس وقت تک سجدے کے لیے اپنی کمر نہ  جھکاتے تھے۔ جب  تک نبی ﷺ کو سجدے میں نہ دیکھ لیتے (بخاری: کتاب الاذان، با متی یسجد من خلف الامام/ مسلم: کتاب الصلوٰۃ، باب متابعت الامام ولاعمل بعدہ)۔
اور ایسا صرف احتیاط کے پیش نظر تھا کہ نبی ﷺ نے امام سے پہلے کوئی عمل کرنے کی ممانعت فرمائی ہے (مسلم: کتاب الصلوٰۃ المسافرین، باب ائتمام الماموم بالامام)۔
جب بیٹھ کر صلوٰۃ ادا کر رہے ہوں تو رکوع کے لیے بیٹھے ہی بیٹھے کمر کو آگے جھکا کر بھی رکوع کیا جا سکتا ہے (مسلم: کتاب الصلوٰۃ المسافرین، باب ائتمام الماموم بالامام، با ب جواز النافلۃ قاعداوقائما)۔

سجدہ

رکوع  کے بعد سجدہ کریں۔  سجدوں میں جاتے ہوئے اور اٹھتے ہوئے بھی  اَللہُ اَکْبَر کہیں (بخاری: کتاب الاذان، باب یھو با لتکبیر حین یسجد)۔
سجدے میں سات اعضاء زمین پر لگنے چاہییں : پیشانی(اس میں ناک بھی شامل ہے)، دونوں ہاتھ، دونوں گھٹنے اور دونوں پیر (بخاری: کتاب الاذان، باب یھو با لتکبیر حین یسجد، باب السجود علی سبعۃ اعظم/ باب السجود علی الانف)۔
ان میں سے جو چیز بھی زمین پر نہ لگے گی تو سجدہ مکمل نہ ہو گا۔ سجدہ پورا نہ ہو گا تو صلوٰۃ بھی مکمل نہ ہو گی (بخاری: کتاب الاذان، باب یھو با لتکبیر حین یسجد، باب السجود علی سبعۃ اعظم/ باب السجود علی الانف، باب اذلم یتم سجودہ)۔
سجدے میں جاتے ہوئے زمین پر پہلے گٹھنے رکھیں یا دونوں ہاتھ، اس سلسلے میں جتنی روایتیں آئی ہیں ان سب میں ضعف پایا جاتا ہے لہٰذا کسی ایک مخصوص طریقے پر اصرار نہ کیا جائے۔ سجدوں میں کہنیاں اور بانہیں زمین سے اٹھی ہوئی ہوں، کتے کی طرح زمین پر انہیں بچھائیں نہیں(مسلم: کتاب المساجد، باب الاعتدال فی السجود)۔
اور دونوں ہتھیلیوں کے درمیان پیشانی رکھیں (مسلم: کتاب الصلوٰۃ، باب وضع یده الیمنی علی الیسریٰ، عن وائل بن حجر ؓ)
جو شخص رکوع سجود میں کمر سیدھی نہ کرے تو اس کی صلوٰۃ درست نہیں (ترمذی: کتاب الصلوٰۃ، باب ماجآء فی من لا یقیم صلبه فی الرکوع و السجود/ ابوداؤد: کتاب الصلوٰۃ، باب صلوۃ من لا یقیم صلبه فی الرکوع و السجود )۔
اگر کسی عذر کی بناء پر سجدہ نہ کیا جا سکے تو صرف سر کا اشارہ ہی کر لیا جائے اور کوئی اونچی چیز سامنے رکھ کر اس پر سجدہ نہ کیا جائے (موطا امام مالک: کتاب الصلوٰۃ، باب العمل فی جامع الصلوٰۃ)

سجدے میں یہ تسبیح پڑھی جائے:

سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاعْلٰی

”میرا اعلیٰ رب پاک ہے“

(ابوداؤد: باب ماجآءفی التسبیح فی الرکوع و السجود)

اس تسبیح کی بھی کم سے کم تعداد تین ہے (ابوداؤد: باب ماجآءفی التسبیح فی الرکوع و السجود)

سجدے کی دوسری تسبیح یہ ہے:

سُبُّوْحٌ قُدُّوْسٌ رَبُّ الْمَلٰٓئِکۃِ وَالرُّوْحِ

”بہت پاک اور برگزیدہ ہے فرشتوں اور جبرئیل کا رب“

(مسلم:کتاب الصلوٰۃ، باب مایقال فی الرکوع و السجود)

نبی ﷺ نے فرمایا کہ بندہ سجدے میں اپنے رب سے بہت ہی قریب ہوتا ہے، پس تم سجدوں میں کثرت سے دعا کیا کرو (مسلم:کتاب الصلوٰۃ، باب مایقال فی الرکوع و السجود)۔
نبی ﷺ رکوع اور سجدوں میں اکثر یہ دعا کیا کرتے تھے : (بخاری: کتاب الاذان، باب التسبیح والدعا فی السجود)

سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِکَ اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ

”تو پاک ہے اے اللہ! اے ہمارے رب، تیری تعریف کے ساتھ ! اے اللہ مجھے معاف کر دے۔“

مسلم نے سجدے کی یہ دعا بھی روایت کی ہے:

اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ ذَنْبِیْ کُلَّهُ دِقَّهُ وَجِلَّهُ وَ اَوَّلَهُ وَ اٰ خِرَہُ وَعَلَا نِیَّتَهُ وَسِرَّہُ

” اے اللہ میرے سارے گناہوں کو معاف کر دے، تھوڑے ہوں یا بہت، اگلے ہوں یا پچھلے، ظاہر ہوں یا پوشیدہ ۔

(مسلم: کتاب الصلوٰۃ، باب ما یقال فی الرکوع و السجود)

سجدے سے  اَللہُ اَکْبَر کہتے ہوئے سر اٹھائیں  (بخاری: کتاب الاذان، با یھوی بالتکبیر حین یسجد)
اور اطمینان سے بیٹھ جائیں۔ دونوں سجدوں کے درمیان میں قعدہ کی طرح دوزانو بیٹھیں یعنی الٹا پیر بچھا کر بائیں ران پر بیٹھیں اور سیدھا پیر کھڑا رکھیں جس کی انگلیاں قبلہ کی طرف مڑی ہوئی ہوں (بخاری: کتاب الاذان، باب سنۃ الجلوس فی التشھد/ مسلم: کتاب الصلوٰۃ، باب ما یجمع صفۃ  الصلوٰۃ/ نسائی: کتاب الافتتاح، باب الامنقبال بطراف اصابع القدم القبلۃ عند اقعود للتشھد)۔
ایسا نہ کریں کہ ٹھیک سے بیٹھ بھی نہ پائیں  کہ دوسرا سجدہ کوّے کی ٹھونگ کی طرح کر دیں۔ بلکہ سکوں اور اطمینان سے بیٹھیں کہ ہر جوڑ اپنی جگہ پر آجائے (نسائی: کتاب الافتتاح، باب امرالنبی ﷺ الذی لا یتم رکوعه بالاعادۃ)۔
نبی ﷺ نے اس طرح ٹھونگیں ما ر کر سجدہ کرنے سے منع فرمایا ہے (نسائی: کتاب الافتتاح، باب امرالنبی ﷺ الذی لا یتم رکوعه بالاعادۃ، باب النھی عن تفرۃالغراب)۔

دونوں سجدوں کے درمیان میں بیٹھنے کواصطلاح میں جلسۃ کہتے ہیں۔

جلسے میں یہ دعا کرنا مسنون ہے:

رَبِّ اغْفِرْلِیْ رَبِّ اغْفِرْلِیْ

”اے رب مجھے معاف کر دے، اے رب مجھے معاف کر دے“

(نسائی: کتاب الافتتاح، باب الدعابین السجدتین)

اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ وَارْحَمْنِیْ وَ عَا فِنِیْ وَ اھْدِنِیْ وَارْزُقْنِیْ

”اے اللہ! مجھے معاف کر دے ، مجھ پر رحم فرما، مجھے عافیت دے، مجھے ہدایت دے، مجھے رزق“

(ابوداؤد: کتاب الصلوٰۃ، باب الدعا بین السجدتین)

ترمذی نے  عَا فِنِیْ کی جگہ وَاجْبُرْنِیْ (اور میرے نقصان کو پورا کر دے) روایت کیا ہے (ترمذی: کتاب الصلوٰۃ، با ب ما یقول بین السجدتین)۔
پہلے سجدے کی طرح دوسرا سجدہ بھی اطمینان سے کریں ۔ سجدے میں جاتے اور اٹھتے ہوئے تکبیر کہیں (بخاری: کتاب الاذان، باب التکبیر اذاقام من السجود)۔
اس طرح ایک رکعت پوری ہو گئی۔ اب دوسری رکعت کے لیے کھڑے ہوں۔ سجدوں کے بعد براہ راست کھڑے ہو جائیں (بخاری: کتاب الایمان و النذر، باب اذاحنث ناسیافی الایمان، عن ابی ھریرۃ ﷜)
یا تھوڑی دیر بیٹھ  کر زمین پر ہاتھ ٹیک کر  کھڑے ہوں (بخاری: کتاب الاذان، باب کیف یعتمد علی الارض اذا قام من الرکعۃ)۔

تیسری رکعت پڑھ کر چوتھی کے لیے کھڑے ہونے کا بھی یہی طریقہ ہے۔

قعدہ

پہلی رکعت کی طرح دوسری رکعت بھی ادا کریں اور دوسرے سجدے کے بعد قعدہ کریں یعنی بیٹھ جائیں۔ بیٹھنے کا وہی طریقہ ہے جو جلسے یعنی دو سجدوں کے درمیان بیٹھنے کا بتایا گیا یعنی دوزانو ہو کر بایاں پیر بچھائیںاور سیدھا پیر کھڑا رکھیں جس کی انگلیاں قبلہ رخ مڑی ہوئی ہوں، دونوں ہاتھ رانوں پر ہوں (مسلم: کتاب المساجد، باب صفۃ الجلوس فی الصلوٰۃ )۔
نبی ﷺ جب  قعدے میں بیٹھتے تو بایاں ہاتھ بائیں ران پر رکھتے اور داہنے ہاتھ کو دائیں ران  پر رکھ کر درمیانی انگلی   اور انگوٹھے کو ملا کر حلقہ بنا لیتے اور شہادت کی انگلی کو قدرے جھکا کر اٹھائے رکھتے اور اس سے اشارہ کرتے (مسلم: کتاب المساجد، باب صفۃ الجلوس فی الصلوٰۃ/ نسائی: کتاب الافتتاح، باب موضع الیدین عند الجلوس/ باب الاشارۃ بالاصبح/ ترمذی: کتاب الصلوٰۃ، باب کیف الجلوس فی التشھد، باب ماجآء فی الاشارۃ)اٹھی ہوئی  شہادت کی انگلی کو مسلسل ہلاتے رہنا کسی صحیح حدیث سے ثابت نہین۔
اور نظر اس اٹھی ہوئی انگلی سے آگے نہ بڑھتی (نسائی: کتاب الافتتاح، باب موضع البصر فی التشھد)
اگر کوئی عذر ہو تو چار زانو ہو کر آلتی پالتی مار کر بھی بیٹھ سکتے ہیں  (بخاری: کتاب الاذان، باب سنۃ الجلوس فی التشھد)۔

آخری  قعدے میں بیٹھنے کا ایک اور انداز بتایا گیا ہے:

بائیں پیر پر بیٹھنے کے بجائے اسے آگے بڑھا کر کولھے پر بیٹھ جائیں یا دونوں پیروں کو داہنی طرف نکال کر بائیں سرین پر بیٹھ جائیں (بخاری: کتاب ا لاذان، باب سنۃ الجلوس فی التشھد)۔

اس طرح بیٹھنے کو  تَوَ رُّک کہتے ہیں۔ قعدہ میں تشہد کے لیے نبی ﷺ نے یہ کلمات سکھائے:

التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ

”ہر قسم کی زبانی، جسمانی اور مالی عبادت اللہ ہی کے لیے ہے۔ اے نبی آپ پر سلامتی ہو اور اللہ کی رحمت و برکت۔ اور سلامتی ہو ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اس کے بندے اور رسول ہیں

(بخاری: کتاب الاذان، با ب التشھد فی الاخرۃ)۔

اب اگر تیسری رکعت پڑھنی ہو تو اَللہُ اَکْبَر کہہ کر کھڑے ہو جائیں (بخاری: کتاب الاذان، باب یکبروھو ینھض من السجدتین)۔ 
کھڑے ہوتے وقت زمین پر ہاتھ لگا کر سہارا لیا جا سکتا ہے (بخاری: کتاب الاذان، باب کیف یعتمد علی الارض اذا قام من الرکعۃ)۔
اگر صلوٰۃ  رفع یدین کے ساتھ یعنی رکوع سے پہلے اور بعد  ہاتھ اٹھا کر ادا کر رہے ہوں تو تیسری رکعت کے لیے کھڑے ہو کر بھی رفع یدین کیا جائے (بخاری: کتاب الاذان، رفع الیدین اذا قام من الرکعتین)۔
تیسری یا چوتھی رکعت اگر فرض صلوٰۃ کی ہیں تو ان میں قیام میں صرف سورہ فاتحہ پڑھیں (بخاری: کتاب الاذان، باب یقراء فی الاخریین بفاتحۃ الکتاب)۔
اور آخری قعدہ کریں۔ آخری قعدہ میں تشہد کے کلمات  کہنے کے بعد اختیار ہے کہ جو بھی دعا بھی چاہیں کریں (بخاری: کتاب الاذان، باب ما یتخیر من الدعا بعد التشھد ولیس بواجب)۔
نبی ﷺ نے دعا کے آداب یہ بتائے ہیں کہ پہلے اللہ کی حمدوثناء کریں  پھر نبی ﷺ پر صلوٰۃ و سلام بھیجے پھر دعا کریں اپنے لیے اور دوسروں کے لیے (نسائی: کتاب الافتتاح، باب التمجید و الصلوٰۃ علی النبی ﷺ/ ترمذی: کتاب الدعوات، باب ماجآء فی جامع الدعوات عن رسول اللہ ﷺ)۔

صلوٰۃ اللہ کی حمدو ثناء کا مجموعہ ہے۔ تشہد میں بھی اللہ کی تعریف ہے۔ اس لیے اب فرمانِ رسول ﷺ کی تعمیل میں ان کے لئے صلوٰۃ و سلام یعنی رحمت  و سلامتی کی دعا کریں۔ یہ اللہ کا بھی حکم ہے:

اِنَّ اللّٰهَ وَمَلٰۤٮِٕكَتَهٗ يُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِىِّ ۗ يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوْا تَسْلِيْمًا

’’ اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے نبی پر رحمت کرتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم (بھی) ان کے لئے رحمت کی دعا کرو اور خوب سلام‘‘۔

سورہ الاحزاب آية 56

یہ حکم سن کر صحابہ ﷜ نے نبی ﷺ سے پوچھا کہ ہمیں یہ تو معلوم ہو چکا ہے کہ آپ پر سلام کیسے پڑھیں ( نبی ﷺ نے انہیں تشہد میں سلام کرنا سکھایا تھا(بخاری: کتاب الاذان، باب التشھد فی الاخرۃ/ مسلم، کتاب الصلوٰۃ، باب التشھد)

، مگر یہ بتا دیجیے کہ ہم آپ پر صلوٰۃ کس طرح پڑھیں؟ تو فرمایا کہ اس طرح کہو:

اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍكَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ.إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌاللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍكَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَإِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ

”اے اللہ تو محمد اور آل محمد پر رحمت فرما جیسے تو نے ابراہیم اور آل ابراہیم پر رحمت فرمائی، بیشک تو تعریف والا اور بزرگی والا ہے۔ اے اللہ تو برکت فرما محمد اور آل محمد پر جیسے تو نے برکت فرمائی ابراہیم   اور آل ابراہیم پر، بیشک تو تعریف والا اور بزرگی والا ہے۔“

(بخاری: کتاب الانبیا، باب 313 یزفون النسلان فی المشی)۔

نبی ﷺ کے لیے رحمت کی دعا کرنا یعنی صلوٰۃ پڑھنا خود اپنے لیے موجب رحمت ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ صلوٰۃکرے گا تو اللہ اس پر دس مرتبہ صلوٰۃکرے گا (مسلم: کتاب الصلوٰۃ، باب استحباب القول مثل قول المؤذن لمن سمعه)۔
اس کے بعد اپنے لیے اور دوسروں کے لیے خوب دعائیں مانگیں۔ احادیث میں بہت سی دعائیں مروی ہیں۔ قرآن میں بھی کافی دعائیں ہیں مثلاًسورۃ البقرۃ آیات ۱۲۷،۱۲۸،۲۰۱،۲۰۵،۲۸۵،۲۸۶/ آل عمران ۱۹۴،۱۹۳،۱۴۷،۱۵،۱۶:۸/ الاعراف: ۱۵۵،۱۲۶،۸۹،۳۳/یونس: ۸۶،۸۵/یوسف:۱۰۱/ابراہیم:۴۱،۴۰/بنی اسرائیل: ۸۰،۲۴/الکہف: ۱۰/طٰہٰ: ۲۵تا۲۸، ۱۱۴/ الانبیاء: ۸۳/ المومنون: ۱۱۸،۱۰۹،۹۸،۹۷/ الفرقان:۷۴،۶۶،۶۵/النمل:۱۹/القصص:۲۱/العنکبوت:۳۰/الاحقاف: ۱۵/ الحشر: ۱۰/ الممتحنہ: ۵،۴/ التحریم : ۸، وغیرہ۔ جو یاد ہوں پڑھ لیں البتہ ان کے شروع میں اَللّٰھُمَّ لگا لیں جیسا کہ رسول اللہ ﷺ خود   رَبَّنَآ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً سے پہلے لگایا کرتے تھے (بخاری: کتاب التفسیر، تفسیر سورۃالبقرۃ، باب وَمِنْھُمْ مَّنْ یَّقُوْلُ رَبَّنَآ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً )۔

کیونکہ  قرآن کی تلاوت صرف قیام میں کی جاتی ہے۔ عائشہ ﷜ فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ صلوٰۃ میں یہ دعا کیا کرتے تھے:

اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْمَأْثَمِ وَالْمَغْرَمِ “

”اے اللہ میں تجھ سے عذاب قبر سے پناہ مانگتا ہوں اور مسیح دجال کے فتنے سے اور زندگی اور موت کے فتنے سے اور گناہ اور قرضداری سے“

مسلم نے شروع میں

اللَّهُمَّ إِنِّى أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ

کے الفاظ کا اضافہ روایت کیا ہے

(مسلم: کتاب المساجد، باب استحباب التعوذ من عذاب القبر)۔

ابوبکر ؓ کو نبی ﷺ نے صلوٰۃ میں پڑھنے کے لیے یہ دعا سکھائی:

اللهم إني ظلمت نفسي ظلما كثيرا ولا يغفر الذنوب إلا أنت،‏‏‏‏ فاغفر لي مغفرة من عندك،‏‏‏‏ وارحمني إنك أنت الغفور الرحيم»

”اے اللہ میں نے گناہ کر کے خود پر بہت ظلم کیا ہے اور گناہوں کا بخشنے والا تیرے سوا کوئی نہیں۔ پس تو اپنی بخشش سے مجھے معاف کر دے اور مجھ پر رحم فرما۔ بیشک تو بہت معاف کرنے والا رحم کرنے والا ہے۔“

(بخاری: کتاب الاذان، باب الدعا قبل السلام)

امامت کرنے والے شخص کو صرف اپنے لیے ہی دعا نہیں کرنی چاہیے بلکہ سب کے لیے دعا کرے کیونکہ نبی ﷺ نے ایسا کرنے والے کے متعلق فرمایا کہ اس نے خیانت کی (ترمذی: کتاب الصلوٰۃ، باب ماجآء فی کراھیۃ ان یخص الامام نفسه بالدعا)۔

سلام

صلوٰۃ کا اختتام سلام کے ذریعے کیا جائے۔ اس کے لیے پہلے دائیں پھر بائیں طرف چہرہ گھما کر سلام پھیرے۔ رسول اللہ ﷺ اپنے چہرے کو دائیں بائیں اتنا گھما کر سلام پھیرتے تھے کہ اگلی صف والوں کو آپ ﷺ کے رخسار نظر آجاتے تھے(مسلم: کتاب المساجد، باب السلام للتحلیل من الصلوٰۃ عند فراغھا و کیفیته)۔

ہر دفعہ سلام پھیرتے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم  فرماتے تھے

اسلام علیکم ورحمتہ اللہ

(ابوداؤد: کتاب الصلوٰۃ، باب فی السلام/ ترمذی: کتاب الصلوٰۃ، باب ماجآء فی التسلیم فی الصلوٰۃ)۔

ذکر بعد الصلوٰۃ

نبی ﷺ سلام پھیرنے سے پہلے کثرت کے ساتھ دعائیں کیا کرتے تھے۔ سلام کے بعد نبی ﷺ  اور صحابہ کرام ؓسے ہاتھ اٹھا کر اجتماعی یا انفرادی دعا کرنے کا احادیث میں کوئی ثبوت نہیں ملتا۔ آپ ﷺ سلام پھیر کر بلند آواز سے تکبیر کہتے تھے۔ عبداللہ بن عباس ؓ  روایت کرتے ہیں کہ میں تو اختتام صلوٰۃ اسی تکبیر کی آواز سے پہچانتا تھا (بخاری: کتاب الاذان، باب الذکر بعد الصلوۃ)۔
اس کے بعد تین بار  اَسْتَغْفِرُاللہَ کہتے تھے (مسلم: کتاب المساجد، باب استحباب الذکر بعد الصلوٰۃ)۔

عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ جب سلام پھیرتے تو اپنی جگہ پر اتنی دیر سے زیادہ نہ بیٹھتے کہ یہ الفاظ کہہ لیتے:

اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْکَ السَّلَامُ تَبَارَکْتُ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِکْرَامِ

”اے اللہ تو سلام ہے، اور سلامتی تجھ ہی سے ہے۔ اے بزرگی اور عزت والے ! تو بڑی برکت والا ہے۔“

(مسلم: کتاب المساجد، باب استحباب الذکر بعد الصلوٰۃ)

نبی ﷺ ہر فرض کے بعد یہ ذکر بھی کرتے تھے:

لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيکَ لَهُ لَهُ الْمُلْکُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَی کُلِّ شَيْئٍ قَدِيرٌ اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْکَ الْجَدُّ

”اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں، وہ ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہت ہے، اور سب تعریف اسی کے لیے ہے، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اے اللہ جسے تو عطا کرے تو اسے کوئی مانع  نہیں ہو سکتا  اور جسے تو نہ دے اسے کوئی نہیں دے سکتا اور کسی بزرگ کی بزرگی اسے تیرے آگے فائدہ نہیں پہنچا سکتی “

(بخاری: کتاب الاذان، باب الذکر بعد الصلوٰۃ/ مسلم کتاب المساجد، باب استحباب الذکر بعد الصلوٰۃ)

آپ ﷺ نے ہر صلوٰۃ کے بعد تینتیس مرتبہ  سُبْحَانَ اللہِ ، تینتیس مرتبہ   اَلْحَمْدُلِلّٰہِ اور تینتیس مرتبہ   اَللہُ اَکْبَرُ پڑھنا بھی بتایا (بخاری: کتاب الاذان، باب الذکر بعد الصلوٰۃ/ مسلم کتاب المساجد، باب استحباب الذکر بعد الصلوٰۃ)۔

اور بتایا کہ جو یہ (مذکورہ بالا) ننانوے کلمات پڑھے اور (اس کے بعد)

لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيکَ لَهُ لَهُ الْمُلْکُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَی کُلِّ شَيْئٍ قَدِيرٌ

کہہ کر سینکڑہ پورا کرے تو اس کے گناہ بخشے جاتے ہیں اگرچہ سمندر کے جھاگ کے برابر ہوں

(مسلم: کتاب الصلوٰۃ، استحباب الذکر بعد الصلوٰۃ)۔

(ایک دوسری روایت میں اَللہُ اَکْبَرُ کہنے کی تعداد چونتیس مرتبہ آئی ہے) یہ تسبیحات شمار کرنے کے لیے نبی ﷺ سیدھے ہاتھ کی انگلیوں کے پورے استعمال فرماتے تھے (ابوداؤد: کتاب الصلوٰۃ، باب التسبیح بالحصی)
اور ایسا ہی کرنے کا حکم دیتے تھے کہ انگلیاں گواہی دیں گی (ابوداؤد: کتاب الصلوٰۃ، باب التسبیح بالحصی)۔
ایک دھاگے میں پروئے ہوئے دانوں والی مروجہ تسبیح پڑھنا نبی ﷺ کی سنت نہیں۔

سجدہ سہو

اگر صلوٰۃ میں کوئی غلطی ہو جائے تو سَہَو کے دو سجدے کرنے چاہییں۔ اگر اکیلے صلوٰۃ ادا کریں تو اکیلے سجدۂ سہو کریں، اگر جماعت سے پڑھیں تو اگر امام سے غلطی ہو تو امام و مقتدی دونوں سجدۂ کریں، لیکن اگر مقتدی سے غلطی ہو تو دونوں میں سے کوئی بھی نہ کرے۔ سجدۂسہو فرض ونفل دونوں میں کیا جاتا ہے (مسلم: کتاب المساجد، باب السھو فی الصلوٰۃ و السجود له، عن عبداللہ بن مسعود ﷜)۔
سجدۂ سہو کے دو طریقے ہیں : سلام پھیرنے سے پہلے دو سجدے یا سلام پھیرنے کے بعد دو سجدے ۔ سلام پھیرنے کے بعد اگر سجدۂ سہو کیا جائے تو اس کے بعد بھی سلام پھیرا جا سکتا ہے (مسلم: کتاب المساجد، باب السھو فی الصلوٰۃ و السجود له، عن عبداللہ بن مسعود ﷜)۔)۔
نبی ﷺ نے چار رکعت والی صلوٰۃ میں دوسری رکعت کے بعد بھولے سے قعدہ اولیٰ نہیں کیا اور سجدے سے سیدھے کھڑے ہو گئے۔ صلوٰۃ کے آخر میں صحابہ ﷜ سلام پھیرنے کے منتظر تھے کہ آپ ﷺ نے اللہ اکبر کہا اور سلام سے پہلے بیٹھے بیٹھے دو سجدے کیے۔ پھر سلام پھیرا (بخاری: کتاب التھجد، باب ماجآء فی السھو اذا قام من رکعتی الفریضۃ)۔
آپ ﷺ نے بھولے سے ظہر کی کی چار کے بجائے پانچ رکعتیں پڑھا دیں اور سلام پھیر دیا؛ بات چیت بھی فرما لی؛ لوگوں نے یاد دلایا  تو آپﷺ نے وہیں بیٹھے بیٹھے دو سجدے کیے، پھر سلام پھیرا (مسلم: کتاب المساجد، باب السھو فی الصلوٰۃ و السجود له)۔
آپ ﷺ نے بھولے سے عصر کی چار کی بجائے تین اور ایک روایت میں کے مطابق دو رکعت پڑھا کر سلام پھیر دیا اور اٹھ کر اپنے حجرے میں بھی چلے گئے۔ جب لوگوں نے یاد دلایا تو آپ نے صلوٰۃ لوٹائی نہیں بلکہ چھوٹ جانے والی دو یا ایک رکعت پڑھ کر سلام پھیرا اور پھر تکبیر کہہ کر سہو کے دو سجدے کیے اور پھر دوبارہ سلام پھیرا (مسلم: کتاب المساجد، باب السھو فی الصلوٰۃ و السجود له)۔
شیطان کے وسوسے سے اگر یہ یاد نی رہے کہ تین رکعتیں پڑھیں یا چار، تو پہلے اچھی طرح سوچ کر شک کو دور کریں اور جس قدر یقین ہو اس کو قائم کریں، پھر سلام سے پہلے دو سجدے کریں (مسلم: کتاب المساجد، باب السھو فی الصلوٰۃ و السجود له)۔

صلوٰۃ الوتر

ایک آدمی نے عبداللہ بن عمر ﷜ سے پوچھا کہ کیا وتر واجب ہے؟ آپ ﷜ نے کہا کہ بیشک نبی ﷺ نے وتر ادا کیا اور مسلمین نے بھی وتر ادا کیا (مؤطا امام مالک، کتاب صلوٰۃ االلیل باب الامر بالوتر)۔
ایک حدیث میں نبی ﷺ نے فرمایا کہ اللہ وتر ہے اور وتر کو پسند کرتا ہے، تو اے اہل قرآن تم وتر پڑھا کرو (نسائی: کتاب قیام اللیل باب الامر بالوتر/ ترمذی: کتاب الوتر، باب ماجآء ان الوتر لیس بحتم)۔
فرمایا کہ وتر ہر مسلم پر حق ہے؛ جس کا جی چاہے پانچ رکعت سے وتر پڑھے، جس کا جی چاہے تو تین رکعت سے وتر پڑھے اور جس کا جی چاہے تو ایک رکعت سے ہی پڑھے (ابوداؤد: کتاب الصلوٰۃ، باب کم الوتر)۔
فرمایا کہ وتر ایک رکعت ہے آخر شب میں (مسلم: کتاب صلوٰۃ المسافرین، باب صلوٰۃ اللیل وعدد رکعات النبی ﷺ)۔
آخر شب میں وتر پڑھنا عزیمت کی راہ ہے جس میں قوت درکار ہے جبکہ شب میں ادا کرنا احتیاط ہے جیسا کہ نبی ﷺ نے ابوبکر ؓ کے اوّل شب اور عمر ؓ کے آخر شب میں وتر پڑھنے کے بارے میں بیان فرمایا (ابوداؤد: کتاب الصلوٰۃ، باب فی الوتر قبل النوم)۔
ابوہریرہ ؓکو نبی ﷺ نے رات کو سونے سے پہلے وتر ادا کرنے کی وصیت فرمائی تھی (بخاری: ابواب تقصیر فی الصلوٰۃ، باب صلوٰۃ الضحیٰ فی الحضر)۔
فرمایا کہ جس کو خوف ہو کہ وہ آخر شب میں نہ اٹھ سگے گا تو وہ اوّل شب مین ہی وتر پڑھ لے ورنہ آخر شب میں پڑھے، اس لیے شب کی صلوٰۃ ایسی ہے کہ اس میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور وہ  افضل ہے  (مسلم: کتاب صلوٰۃ المسافرین، باب صلوٰۃ اللیل وعدد رکعات النبی ﷺ)۔
عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ نے رات کے سب حصوں میں وتر پڑھا ہے : آخر میں آپ ﷺ سحر کے وقت (فجر سے پہلے ) وتر پڑھنے لگے (بخاری: کتاب الوتر، باب ساعات الوتر)۔
دوسری روایت میں اس طرح ہے کہ آپ ﷺ نے وتر اوّل شب میں ، وسطِ شب میں ، اور آخر شب میں بھی ادا کیا ہے، آخری زمانے میں یہ سحر تک پہنچ گیا (مسلم: کتاب صلوٰۃ المسافرین، باب صلوٰۃ اللیل وعدد رکعات النبی ﷺ)۔
نبی ﷺ نے فرمایا کہ رات کی صلوٰۃ دودو رکعتیں ہیں اور اس کے آخر میں ایک وتر ہے جو ساری صلوٰۃ کو وتر کر دے گا (بخاری: کتاب الوتر، باب ماجآء فی الوتر)۔
چنانچہ نبی ﷺ رات کو دو دو کر کے بارہ رکعات پڑھتے یعنی ہر دو رکعت کے بعد سلام پھیر دیتے اور آخر میں ایک رکعت وتر پڑھتے(بخاری: کتاب الوتر، باب ماجآء فی الوتر)۔
نبی ﷺ وتروں  کو نوافل کے ساتھ ملا کر بھی پڑھتے تھے، چنانچہ (ایک ہی سلام سے) پانچ رکعت وتر پڑھتے تھے اور ان میں سوائے آخری رکعت کے کسی میں نہ بیٹھتے؛ (مسلم: کتاب صلوٰۃ المسافرین، باب صلوٰۃ اللیل وعدد رکعات النبی ﷺ)
نو رکعتیں پڑھتے تو سات رکعتوں میں مسلسل کھڑے ہوتے رہتے اور آٹھویں میں پہلا قعدہ کرتے اور پھر کھڑے ہو کر نویں رکعت پڑھ کر آخری قعدہ کرکے سلام پھیر دیتے (مسلم: کتاب صلوٰۃ المسافرین، باب صلوٰۃ اللیل وعدد رکعات النبی ﷺ)۔
جب بدن بھارے ہو گیا تو سات رکعتیں پڑھنے لگے جن میں چھٹی اور ساتویں رکعت میں قعدہ کرتے (نسائی: کتاب قیام اللیل، باب کیف الوتر بسبع)۔
جیسا کہ اوپر فرمان رسول ﷺ نقل کیا گیا کہ جو چاہے پانچ رکعت سے وتر کرے، تین سے کرے یا ایک رکعت سے (ابوداؤد: کتاب الصلوٰۃ، باب کم الوتر)
اس لیے تین وتر بھی پڑھے جا سکتے ہیں۔ لیکن صرف تین رکعتوں پر ہی اصرار نہیں کرنا چاہیے بلکہ نبی ﷺ کے مذکورہ بالا تمام طریقوں پر عمل کرنا چاہیے۔ تین رکعت وتر اکٹھے ایک سلام سے پڑھے جا سکتے ہیں (نسائی: کتاب قیام اللیل باب کیف الوتر بثلاث)۔
ایک سلام سے پڑھتے وقت دوسری رکعت کے بعد تشہد میں نہ بیٹھیں بلکہ تیسری رکعت کے لیے کھڑے ہو جائیں (نسائی: کتاب قیام اللیل، باب کیف الوتر بثلاث/ مسند احمد، جلد۶ صفحه  ۱۵۶)۔
عبداللہ بن عمر ؓ  وتر کی تین رکعتوں  کے بعد سلام پھیر دیتے، اگر کوئی حاجت ہوتی تو بیان بھی کر دیا کرتے اور پھر تیسری رکعت پڑھتے (بخاری: ابواب الوتر، ماجآء فی الوتر/مؤطا امام مالک: کتاب صلوٰۃ اللیل، باب الامر بالوتر)۔
وتر کی رکعت میں قنوت پڑھنے کے لیے  تکبیر کہنا یا کانوں تک دونوں ہاتھوں کا اٹھانا احادیث میں مروی نہیں۔ قنوت رکوع جانے سے پہلے پڑھنی چاہیے۔ نبی ﷺ نے رکوع کے بعد تو صرف ایک مہینے تک قنوت پڑھی جس میں آپ قبائل رعل وذکوان پر بدعا فرماتےتھے جنہوں نے دھوکے سے ستر قراء صحابہ ﷜ کو شہید کر دیا تھا (بخاری: کتاب الوتر، باب القنوت قبل الرکوع و بعدہ)۔
دعائے قنوت ہاتھ اٹھا کر پڑھنا صحیح احادیث سے ثابت نہیں۔ نبی ﷺ نے حسن ؓ کو وتر میں پڑھنے کے لیے یہ قنوت سکھائی:

اللَّهُمَّ اهْدِنِي فِيمَنْ هَدَيْتَ وَعَافِنِي فِيمَنْ عَافَيْتَ وَتَوَلَّنِي فِيمَنْ تَوَلَّيْتَ وَبَارِکْ لِي فِيمَا أَعْطَيْتَ وَقِنِي شَرَّ مَا قَضَيْتَ إِنَّکَ تَقْضِي وَلَا يُقْضَی عَلَيْکَ وَإِنَّهُ لَا يَذِلُّ مَنْ وَالَيْتَ وَلَا يَعِزُّ مَنْ عَادَيْتَ تَبَارَکْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَيْتَ

”اے اللہ! مجھے  ہدایت دے ان میں جنہیں تو نے ہدایت دی، اور عافیت دے ان میں جنہیں تو نے عافیت دی، اور میرا ضامن ہو جا ان میں جنہیں تو نے ضمانت دی، اور برکت دے مجھے اس میں جو تو نے مجھے عطا کیا، اور بچا اس شر سے جو تو نے تقدیر میں لکھا ہے، اس لیے کہ تو حکم کرتا ہے اور تجھ پر کوئی حکم نہیں کر سکتا، اور وہ ذلیل نہیں ہوتا جسکا تو دوست ہو جائے، اور وہ عزت نہیں پا سکتا جس کا تو دشمن ہو جائے۔ اے ہمارے رب تو بڑی برکت اور بلندی والا ہے“

(ابوداؤد: کتاب الصلوٰۃ، باب القنوت فی الوتر)

نبی ﷺ وتر کے آخر میں یہ دعا پڑھتے تھے:

اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِرِضَاکَ مِنْ سَخَطِکَ وَأَعُوذُ بِمُعَافَاتِکَ مِنْ عُقُوبَتِکَ وَأَعُوذُ بِکَ مِنْکَ لَا أُحْصِي ثَنَائً عَلَيْکَ أَنْتَ کَمَا أَثْنَيْتَ عَلَی نَفْسِکَ

”اے اللہ! میں پناہ مانگتا ہوں تیری رضا کی تیرے غصے سے، اور تیرے بچا‍‍ؤ کی تیرے عذاب سے، اور پناہ مانگتا ہوں تیری تجھ سے۔ میں تعریف کا حق ادا نہیں کر سکتا۔ تو ایسا ہے جیسا تو نے اپنے آپ کی تعریف کی“۔

(ابوداؤد: کتاب الصلوٰۃ، باب القنوت فی الوتر/ نسائی: کتاب قیام اللیل، باب ادعاء فی الوتر)

جب وتر پڑھ کر سلام پھیرتے تو پڑھتے   : سُبْحَانَ الْمَلِکِ الْقُدُّوْسِ (تعریف ہے پاک مالک کی) (ابوداؤد: کتاب الصلوٰۃ، باب فی الدعاء بعد الوتر)۔

صلوٰۃ الجمعہ

جمعہ کے مبارک دن کے متعلق نبی ﷺ نے بتایا کہ اس دن میں ایک گھڑی ایسی بھی ہے کہ جب کوئی مسلم بندہ اس میں کھڑا ہو کر صلوٰۃ ادا کرے اور اللہ سے کچھ مانگے تو اللہ اس کو عطا کرے گا (بخاری: کتاب الجمعۃ، باب الساعۃ التی فی یوم الجمعۃ)
اور بتایا کہ وہ گھڑی امام کے خطبے کے لیے منبر پر بیٹھنے سے صلوٰۃ ختم ہونے تک ہے (مسلم: کتاب الجمعۃ)۔
نبی ﷺ نے فرمایا کہ جو آدمی جمعہ کے دن غسل کرے ، تیل لگائے، خوشبو لگائے پھر صلوٰۃ کے لیے نکلے، پھر (مسجد میں ) دو آدمیوں کے درمیان نہ گھسے (بلکہ جہاں جگہ ملے بیٹھ جائے)، پھر جتنی صلوٰۃ اس کی تقدیر میں ہے پڑھے اور جب امام خطبہ دے تو اس وقت خاموش رہے تو اس کے اس جمعہ سے دوسرے جمعہ تک کے گناہ بخش دیے جاتے ہیں (بخاری: کتاب الجمعۃ، باب الدھن للجمعۃ)۔
جمعہ کی صلوٰۃ شہروگاؤں دونوں جگہوں کے مومنین کے لیے ضروری ہے (بخاری: کتاب الجمعۃ، باب الدھن للجمعۃ/ باب الجمعۃ فی القریٰ ایلمدن/ ابوداؤد: کتاب الصلوٰۃ ، باب الجمعۃ فی القریٰ)۔
جمعے کی صلوٰۃ جو جتنی جلدی مسجد میں آئے گا وہ اتنا ہی زیادہ ثواب پائے گا (بخاری: کتاب الجمعۃ، باب فضل یوم الجمعۃ/ باب الاستماع الی الخطبۃ)۔
جب مسجد میں آئے تو پہلے دو رکعت تحیۃ المسجد پڑھے خواہ امام منبر پر کھڑا خطبہ ہی کیوں نہ دے رہا ہو اور اس سے منع نہ کیا جائے کیوں کہ نبی ﷺ نے خود اپنا خطبہ روک کر سُلَیْک غِطفانی ﷜ کو دو رکعتیں پڑھنے کا حکم دیا (بخاری: کتاب الجمعۃ، باب اذا رای الامام رجلا جآء وھو یخطب امره ان یصلی رکعتین/ باب من جآء و الامام یخطب صلی رکعتین خفیفتین)۔
بعض لوگ کہہ دیتے ہیں سلیک ؓمفلوک الحال آدمی تھے اور لوگوں کو ان کی مدد پر آمادہ کرنے کے لیے نبی ﷺ نے انہیں کھڑے ہو کر دو رکعتیں پڑھنے کا حکم دیا تا کہ لوگ ان کی حالت کا مشاہدہ کر لیں۔ اور اس طرح وہ اس حکم کو سلیک ؓ کے لیے خاص کر کے عام لوگوں کے لیے اس کی نفی کرتے ہیں۔ یہ غلط استدلال ہے کیونکہ مسلم کی روایت میں نبی ﷺ نے عام حکم دیا ہے کہ تم میں سے جو کوئی جمعے کے لیے آئے اور امام خطبہ دے رہا ہو تو بھی دو رکعتیں مختصر سی پڑھ لے (مسلم: کتاب الجمعۃ، عن جابر بن عبداللہ ؓ)۔
جمعے کے دن ایک ہی اذان دی جائے وہ بھی جب کہ امام خطبہ کے لیے منبر پر بیٹھ جائے (بخاری: کتاب الجمعۃ، باب الاذان یوم الجمعۃ)۔
یہ اذان کہاں دی جائےَ اس بارے میں صحیح احادیث میں کوئی تخصیص نہیں۔ ابودا ؤد کی وہ روایت ضعیف ہے جس میں اس اذان کا مسجد کے دروازے پر دینا بیان ہوا ہے (ابوداؤد: کتاب الصلوٰۃ، باب الندآء یوم الجمعۃ)۔
 (لوگوں کے ساتھ ساتھ ) اما م کو بھی منبر پر بیٹھے بیٹھے اس اذان کا جواب دینا چاہیے (بخاری: کتاب الجمعۃ، باب یحب الامام علی المنبر اذا سمع الندآء)۔
اس کے بعد امام کھڑے ہو کر عصا لے کر خطبہ دے جسے بیٹھنے کی کوئی مخصوص صورت بنائے بغیر بغور سننا چاہیے (بخاری: کتاب الجمعۃ، باب الخطبۃ قائما/ مسلم: کتاب الجمعۃ، عن ابی ھریرہ ؓ)۔
نبی ﷺ خطبے میں سورۃ  ق اور دیگر آیات قرآنی کے ذریعے وعظ و نصیحت فرماتے تھے (مسلم: کتاب الجمعۃ، عن ام ہشام)۔
خطبے کے بعد با جماعت دو رکعتیں فرض پڑھی جائیں جن میں نبی ﷺ سے سورۃ الجمعہ، سورۃ المنافقون اور دوسری روایت میں سورۃ الاعلیٰ اور سورۃ الغاشیہ پڑھنا بتایا گیا ہے (مسلم: کتاب الجمعۃ، عن ام ہشام)۔
ان دو فرضوں کے بعد دو یا چار رکعات نفل ادا کئےجائیں (بخاری: کتاب الجمعۃ، باب الصلوٰۃ بعد الجمعۃ وقبلھا/ مسلم : کتاب الجمعۃ)۔

صلوٰۃ المیت

صلوٰۃ المیت اللہ کی تعریف، نبی ﷺ پر درود اور میت کے لیے دعا پر مشتمل ہے۔ صلوٰۃ المیت کے لیے صفیں بناتے ہوئے بچے پڑے سب ساتھ کھڑے ہوں (بخاری: کتاب الجنائز، باب صفوف الصبیان مع الرجال)۔
نجاشی شاہ حبش کی صلوٰۃ المیت پڑھاتے ہوئے نبی ﷺ نے چار تکبیریں کہیں (بخاری: کتاب الجنائز، باب التکبیر علی الجنازۃ اربعا)۔
پہلے تکبیر صلوٰۃ شروع کرنے کی ہے (نسائی: کتاب الجنائز، باب الدعا)۔
ہاتھ اٹھا کر پہلی تکبیر کہیں اور (تعوذ و تسمیہ کے بعد) سورۃ الفاتحہ تلاوت کریں (نسائی: کتاب الجنائز، باب الدعا)۔
پھر دوسری تکبیر کہیں اور نبی ﷺ  کے لئے رحمت کی دعا (درود) پڑھیں (مصنف عبدالرزاق: کتاب الجنائز، باب القراۃ و الدعا)۔
تیسری تکبیر پڑھ کر میت کے لیے دعائے مغفرت کریں (مصنف عبدالرزاق: کتاب الجنائز، باب القراۃ و الدعا)۔
بالغ نا بالغ، مردوعورت، سب کے لیے ایک ہی دعا ہے جیسا کہ اس کے الفاظ سے ظاہر ہے:

اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِحَيِّنَا وَمَيِّتِنَا وَشَاهِدِنَا وَغَائِبِنَا وَصَغِيْرِنَا وَکَبِيْرِنَا وَذَکَرِنَا وَاُنْثَانَا اَللّٰهُمَّ مَنْ اَحْيَيْتَه مِنَّا فَاَحْيهٖ عَلَی الْاِسْلَامِ وَمَنْ تَوَفَّيْتَهُ مِنَّا فَتَوَفَّهُ عَلَی الإِيْمَانِ اَللّٰھُمَّ لَا تَحْرِمْنَا اَجْرَہُ وَلَا تُضِلَّنَا بَعْدَہُ

(ابوداؤد: کتاب الجنائز، باب الدعاءللمیت)

”اے اللہ ! ہمارے زندہ اور مردہ، غائب اور حاضر، چھوٹے اور بڑے، مردوعورت (سب کو) بخش دے۔ اے اللہ! ہم میں جس کو تو زندہ رکھے تو اسلام پر زندہ رکھ اور ہم میں سے جس کو تو وفات دے تو ایمان پر وفات دے۔ اے اللہ! ہمیں اس (کی وفات پر صبر) کے اجر سے محروم نہ  رکھنا اور اس کے (مرنےکے) بعد ہمیں گمراہ نہ کر دینا‘‘۔

عوف بن مالک رضی اللہ عنہ  نے نبی ﷺ کو ایک میت پر دعا پڑھتے سنا تو تمنا کی کاش یہ جنازہ ان کا ہوتا :

اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلَهُ وَارْحَمْهُ وَعَافِهٖ وَاعْفُ عَنْهُ وَ اَکْرِمْ نُزُلَهُ وَ وَسِّعْ مَدْخَلَهُ وَاغْسِلْهُ بِالْمَآءِ وَالثَّلْجِ وَالْبَرْدِ وَ نَقِّهٖ مِنَ الْخَطَایَا کَمَا نَقَّیْتَ الثَّوْبَ الْاَبْیَضَ مِنَ الدَّنَسِ وَاَبْدِلْهُ دَارًا خَیْرًا مِّنْ دَارِہٖ وَ اَھْلاً خَیْرًا مِّنْ اَھْلِهٖ وَ زَوْجِهٖ وَ اَدْخِلْهُ الْجَنَّۃَ وَ اَعِذْہُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَمِنْ عَذَابِ النَّارِ

”اے اللہ! اس کی مغفرت فرما دے ، اس پر رحم فرما، اس کو عافیت دے، اس کو درگزر فرما دے، اس کی کریمانہ مہمانی فرما، اس کا ٹھکانہ (قبر) کشادہ فرما دے اور اس کی خطاؤں ( اور گناہوں) سے پانی ، برف اور اولوں کے ساتھ ایسا دھو دے اور پاک و صاف کر دے جیسے تو سفید کپڑے کو میل کچیل سے پاک و صاف کر دیتا ہے، اور اس کو اس کے (دنیا کے) گھر سے بہتر گھر، اور اس کے گھر والوں سے بہتر گھر والے ، اور اس کی بیوی سے بہتر بیوی بدلہ میں دےد ے اور اس کو جنت میں داخل فرما اور قبر کے عذاب سے اور (جہنم کی) آگ کے عذاب سے پناہ دےدے ۔“

(مسلم: کتاب الجنائز)

اس کے بعد چوتھی تکبیر کہہ کر عام صلوٰۃ کی طرح سلام پھیر دیا جائے (نسائی: کتاب الجنائز، باب الدعا)۔
 جس طرح عام صلوٰۃ کے بعد ہاتھ اٹھا کر کوئی دعا نہیں ، اسی طرح جنازے کی صلوٰۃ کے بعد بھی ہاتھ اٹھا کر کوئی دعانہیں۔ جنازہ قبرستان لے جاتے ہوئے بلند آواز سے کلمہ شہادت پڑھتے ہوئے جانا، میت دفن کرنے کے بعد قبر میں سرہانے کی طرف انگشت شہادت گاڑ کر سورۃ البقرۃ کا پہلا رکوع اور اسی طرح پائینتی کی طرف اس کا آخری رکوع پڑھنا، وہاں اذان دینا، قبر پر پھول چڑھانا وغیرہ جیسے اعمال نبی ﷺ سے ثابت نہیں۔ اور جو کام نبی ﷺ نے نہیں کیے، ان پر ثواب کے بجائے گناہ ملے گا۔

صلوٰۃ العیدین

عید خوشی کا موقع ہوتا ہےاور خوشی کے موقع پر اللہ کو یاد رکھنا، اس کا ذکروشکر کرنا، اس کے آگے سجدہ ریز ہو جانا، اس کی بندگی کا اظہار ہے۔ صلوٰۃ العید طلوع آفتاب کے بعد ادا کی جاتی ہے (ابوداؤد: کتاب العیدین، باب وقت الخروج الی العید)۔
صلوٰۃ العیدین نبی ﷺ مردوں عورتوں کے ساتھ مسجد سے باہر کھلی جگہ میں ادا فرماتے تھے (بخاری: کتاب العیدین، باب الخروج الی المصلی بغیر منبر)۔
عید الفطر میں صلؤٰۃ العید کے لیے نکلنے سے  پہلے طاق عدد میں کھجوریں کھالینا سنت ہے (بخاری: کتاب العیدین، باب الاکل یوم الفطر قبل الخروج)۔
رسول اللہ ﷺ عیدگاہ تکبیر پڑھتے ہوئے جاتے (سنن الکبریٰ: کتاب صلوٰۃ العیدین، باب التکبیر)۔
تکبیرات کے لیے صحابہ ؓ سے یہ الفاظ منقول ہیں

اَللّٰهُ اَکْبَرُ اَللّٰهُ اَکْبَرُ لَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ وَ اللّٰهُ اَکْبَرُ اَللّٰهُ اَکْبَرُ وَ لِلّٰهِ الْحَمْدُ

(مصنف ابن ابی شیبۃ: کتاب الصلوات، باب التکبیر من ای یوم ھو الی ای الساعۃ/ باب کیف یکبر یوم عرفۃ):

رسول اللہ ﷺ عیدگاہ پہنچ کر بغیر کوئی نفل ادا کیے (بخاری: کتاب العیدین، باب الصلوٰۃ قبل العدین و بعدھا)
یا اذان و اقامت کہے (بخاری: کتاب العیدین، باب الصلوٰۃ قبل العدین و بعدھا/ باب المشی والرکوب )
دو رکعتیں پڑھاتے (مسلم: کتاب صلوٰۃ العیدین، عن عبداللہ بن عباس/ بخاری : کتاب العیدین ، باب الخطبۃ بعد العید/ نسائی: کتاب صلوٰۃ اعیدین، باب عدد صلوٰۃ العیدین)۔
صلوٰۃ العیدین میں زائد تکبیرات کہی جاتی ہیں۔ روایات میں چھ اور بارہ تکبیرات کی تعداد مذکور ہے۔ دونوں پر عمل کیا جا سکتا ہے ( 12 رلعت والی صحیح سند سے جبکہ دوسری میں ضعف ہے ) چھ والی روایات کے مطابق ہر رکعت میں تین زائد تکبیرات کہی جائیں (ابوداؤد: کتاب الصلوٰۃ، باب التکبیر فی العیدین)۔
اور بارہ والی روایات کے مطابق پہلی رکعت میں سات تکبیرات قرأت سے پہلے اور دوسری رکعت میں پانچ تکبیرات قرأت سے پہلے کہی جائیں (مؤطا امام مالک: کتاب جامع الصلوٰۃ، باب ماجآء فی التکبیروالقرأۃ فی العیدین)۔
ہر تکبیر پر رفع یدین کیا جائے (ابوداؤد: کتاب الصلوٰۃ، باب رفع الیدین)۔
اس کے بعد سورۃ الفاتحہ کے ساتھ سورۃ ق یا سورۃالاعلیٰ کی جہری قرأت فرماتے اور عام صلوٰۃ کی طرح رکعت پوری کرتے۔ دوسری رکعت میں سورۃ الفاتحہ کے ساتھ سورۃ القمر یا سورۃ الغاشیہ تلاوت فرماتے (مسلم: کتاب الصلوٰۃ العیدین)۔
صلوٰۃ کے بعد بغیر کوئی دعا مانگے۔ حاضرین کی طرف منہ کر کے، بغیر کسی منبر کےخطبہ ارشاد فرماتے جس میں وعظ و نصیحت کے علاوہ اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے کی ترغیب دیتے۔ اس کی بعد سب لوگ گھروں کو واپس چلے جاتے ۔ کوئی کسی سے عید کے حوالے سے نہ گلے ملتا، نہ مصافحہ کرتا۔

صلوٰۃ المسافر

حالاتِ سفر میں چار رکعت والی صلوٰۃ کو قصر یعنی کم کر کے آدھا پڑھنا چاہیے البتہ مغرب و فجر اسی طرح تین اور دو رکعت پڑھی جائینگی (بخاری: کتاب تقدیر الصلوٰۃ، باب یصلی المغرب ثلاثا فی السفر/ مسلم: کتاب صلوۃالمسافرین)۔
صلوٰۃ میں قصر کے لیے مسافت مختلف فیہ ہے۔ روایات میں تین میل یا تین فرسخ وغیرہ پرقصر کرنے کا بیان ہے (بخاری: تعلیقاً: کتاب تقصیر الصلوٰۃ، باب فی کم تقصیر الصلوۃ/ مسلم: کتاب المسافرین)۔
نبی ﷺ نے صلوٰۃ میں قصر کے لیے مسافت کا حتمی تعین نہیں فرمایا۔ عبداللہ بن عمر اور عبداللہ بن عباس ؓ سے چار (4) بُرد (۴۸ میل) کی مسافت پر قصر کرنا ثابت ہے (مؤطا امام مالک: کتاب الصلوٰۃ، باب ما یجب فیه قصر الصلوٰۃ)۔
انیس دن سے کم ٹھیرنے کی نیت ہو تو قصر کیا جائے۔ اس سے زیادہ دن کے قیام میں پوری صلوٰۃ ادا کی جائے (بخاری: کتاب تقصیر الصلوٰۃ، باب ماجآء فی تقصیر و کم یقیم حتی یقصر)۔
اگر مسافر کسی ایسے امام کے پیچھے صلوٰۃ ادا کرے جو مقیم ہو یعنی مسافر نہ ہو تو پوری صلوٰۃ ادا کرے گا (مسلم: کتاب صلوٰۃ المسافرین)۔
نبی ﷺ سفر میں ظہرو عصر اور مغرب و عشاء کو ملا کر پڑھتے تھے اس طرح دو صلوٰۃ کو ملا کر پڑھنے کو جمع بین الصلوٰتین کہتے ہیں۔ نبی ﷺ جب سورج ڈھلنے سے پہلے کوچ فرماتے تو ظہر میں تاخیر کرتے عصر کے اوّل وقت تک اور ان دونوں صلوٰت کو ملا کر پڑھتے۔ اگر سورج ڈھلنے کے بعد کوچ فرماتے تو ظہر پڑھ کر سوار ہو جاتے (بخاری: کتاب تقصیر الصلوٰۃ، باب یؤخر الظہر الی العصر اذا ارتحل قبل ان تزیع الشمس فیه/ باب اذا ارتحل بعد ما زاعتالشمس صلی الظھر ثم رکب/ مسلم: کتاب صلوٰۃ المسافرین، باب جواز الجمع بین الصلوٰتین فی السفر)۔
اسی طرح مغرب و عشاء کو بھی ملا کر پڑھتے تھے جس میں مغرب کو مؤخر کرتے اور عشاء کو مقدم کر کے اس کے اوّل وقت میں پڑھتے تھے (بخاری: کتاب تقصیر الصلوٰۃ، باب ھل یؤذن او یقیم اذ جمع بین المغرب و العشاء/ مسلم: کتاب صلوٰۃ المسافرین، باب جواز الجمع بین الصلوتین فی السفر)۔
دو صلوٰت کو جمع کرتے وقت نبی ﷺ ہر ایک کے لیے علیحدہ علیحدہ تکبیر کہلواتے اور دونوں صلوٰۃ کے درمیان تھوڑی دیر بیٹھ کر وقفہ کرتے (بخاری: کتاب تقصیر الصلوٰۃ، باب ھل یؤذن او یقیم اذ جمع بین المغرب و العشاء/ مسلم: کتاب صلوٰۃ المسافرین، باب جواز الجمع بین الصلوتین فی السفر)۔
صلؤیہ الوتر سفر میں بھی پڑھی جاتی ہے اور اس کے لیے سواری سے اترنا ضروری نہیں۔ نبی ﷺ سواری پر بیٹھے بیٹھے وتر ادا فرما لیتے تھے؛ البتہ فرض کے لیے سواری سے نیچے اترتے (بخاری: کتاب تقصیر الصلوٰۃ، باب ینزل للمکتوبۃ)۔
حالتِ سفر میں سنت و نوافل کی رخصت ہے۔ عبداللہ بن عمرؓ فرماتے ہیں کہ میں نبی ﷺ کی صحبت میں رہا، میں نے کبھی آپ کو سفر میں سنتیں پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا (بخاری: کتاب تقصیر الصلوٰۃ، باب من لم تطوع فی السفر دبر الصلوٰۃ و قبلھا)۔
البتہ فجر کی دو سنتیں آپ ﷺ نے سفر میں بھی نہیں چھوڑیں اور انکا یہاں تک اہتمام فرمایا کہ ایک دفعہ سفر میں سورج نکلنے کے بعد آنکھ کھلی تو آپ نے فرضوں کی قضا سے پہلے سنتوں کی بھی قضا ادا کی (مسلم کتاب المساجد، باب قضاء الصلوٰۃ الفائتۃ)۔

صلوٰۃ الخسوف/ صلوٰۃ الکسوف

رسول ﷺ کے دور میں سورج کو گرہن لگا تو آپ نے الصلوٰۃ جامعہ کا اعلان کروایا (بخاری: ابواب الکسوف، باب الجہر بالقرأت فی الکسوف)۔
جو اس بات کا اشارہ تھا کہ مسجد میں جمع ہو جائے۔ آپ ﷺ مسجد تشریف لائے۔ صحابہؓ نے آپ ﷺ کےپیچھے صف بندی کی، آپ ﷺ نے تکبیر کہی اور بہت طویل قرأت کی، پھر تکبیر کہی اور بہت طویل قرأت  رکوع کیا، رکوع سے کھڑے ہوئے اور سَمِعَاللہُ لِمَنْ حَمِدَہُ رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ کہا؛ اس کے بعد آپ ﷺ نے حسب قاعدہ سجدہ کیا اور طوعل سجدہ کیا، پھر اسی طرح دوسری رکعت کی طرح ادا کی، لیکن پہلی رکعت زیادہ طویل تھی؛ دو رکعتوں میں آپ ﷺ نے چار رکوع اور چار سجدے کیے؛ آپﷺ کے اپنی جگہ سے پھرنے سے قبل سورج صاف ہو گیا؛ آپ ﷺ نے اس صلوٰۃمیں جہری قرأت فرمائی (بخاری: کتاب الکسوف، باب خطبۃ لامام فی الکسوف/ باب الجہر بالقرأت فی الکسوف)۔
صلوٰہ کے بعد آپ ﷺ نے خطبہ دیا: پہلے اللہ کی حمدوثنا بیان فرمائی جیسی اس کی شان ہے۔ پھر فرمایا کہ ”سورج اور چاند بلاشبہ اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، ان میں کسی کی موت یا زندگی سے گرہن نہیں لگتا ٭بلکہ اللہ ان کے ذریعے اپنے بندوں کو ڈراتا ہے ، جب تم یہ دیکھو تو اللہ سے دعا کرو، اس کی بڑائی بیان کرو، صلوٰۃ ادا کرو اور صدقہ کرو (بخاری: کتاب الکسوف، باب الصدقۃ فی الکسوف)۔ ٭ اس دن نبی ﷺ کے بیٹے ابراہیم ؓ کی وفات ہوئی تھی، اس پر بعض لوگوں نے یہ کہا کہ نبی ﷺ کے بیٹے کی موت کی وجہ سے سورج گرہن لگا۔ آپ ﷺ نے اس طرح اس غلط خیال کو رد کیا۔
نبی ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ اس موقع پر اللہ کو یاد کرو، اس سے استغفار کرو اور عذاب قبر سے پناہ مانگو (بخاری: کتاب الکسوف، باب الصدقۃ فی الکسوف/ باب صلوٰۃ الکسوف فی المسجد/ باب الذکر فی الکسوف)۔
نبی ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ اس موقع پر غلام آزاد کرنے کا بھی حکم ہے (بخاری: کتاب الکسوف، باب الصدقۃ فی الکسوف/ باب صلوٰۃ الکسوف فی المسجد/ باب الذکر فی الکسوف/ باب من احب العتاقۃ فی کسوف الشمس)۔
صلوٰۃ الکسوف میں نبی ﷺ نے اتنے طویل رکوع و سجدے  کیے کہ عائشہ ؓ یل رکوع و سجدے نہیں کیے (مسلم: کتاب الکسوف، عن عائشہ ؓ )۔
اس صلوٰۃ میں نبی ﷺ کا پہلا قیام اتنا طویل تھا کہ سورۃ البقرۃ کی قرأت کر لی جائے (مسلم: کتاب الکسوف، عن عائشہ ؓ/ عن ابن عباسؓ)۔
نبی ﷺ نے جو صلوٰۃ الکسوف پڑھائی اس کے طویل ہونے کے باوجود اس میں بوڑھے اور بیمار بھی شریک ہوئے (مسلم: کتاب الکسوف، عن عائشہ ؓ/ عن ابن عباسؓ/ عن اسماءؓ )۔
گرہن صاف ہونے تک صلوٰۃ اور دعا میں مشغول رہا جائے (بخاری: کتاب الکسوف، باب الصلوٰۃ فی کسوف الشمس)۔
صلوٰۃ الکسوف میں خواتین بھی شرکت کر سکتی ہیں (بخاری: کتاب الکسوف، باب الصلوٰۃ فی کسوف الشمس/ باب صلوٰۃ لانسآء مع الرجال فی الکسوف)۔

صلوٰۃ الاستسقاء

استسقاء کے معنی ہیں پانی چاہنا۔ استسقاء کی صلوٰۃ خشک سالی میں پڑھی جاتی ہے۔ صلوٰۃ استسقاء ادا کرنے کے لیے نبی ﷺ لوگوں کے ساتھ عید گاہ کی طرف نکلے اور ان کی طرف پیٹھ کر کے کھڑے کھڑے قبلہ رو ہو کر اللہ سے بارش کی دعا کی پھر اپنی چادر پلٹی اور پھر  بغیر اذان و اقامت دو رکعتیں پڑھائیں جن میں قرأت بالجہر کی (بخاری: کتاب الاستسقآء، باب الاستسقآء فی المصلی و باب کیف حول النبی ﷺ ظہرہ الی الناس)۔
عبداللہ بن یزید ؓ نے لوگوں کو (جن میں صحابہ بھی شامل تھے) استسقاء کی صلوٰۃ اذان اور اقامت کے بغیر پڑھائی،  عیدگاہ میں منبر بھی نہیں تھا (بخاری: کتاب الاستسقآء ، باب الدعآء فی الاستسقآء قائماً)۔
نبی ﷺ استسقاءکی دعا کے لیے ہاتھ اتنے اونچے اٹھاتے تھے کہ بغلوں کی سفیدی نظر آنے لگتی تھی ( بخاری: کتاب الاستسقآء ، باب الدعآء فی الاستسقآء قائماً/باب ررفع الامام یدہ فی الاستسقآء)۔
اس دعا میں مقتدی بھی امام کے ساتھ ہاتھ اٹھا کر دعا کریں (باب ررفع الامام یدہ فی الاستسقآء/ باب رفع الناس ایدیھم مع الامام فی الاستسقآء)۔
ہاتھ اٹھا کر اجتماعی دعا کا یہ واحد موقع ہے، اس کے علاوہ کسی اور موقع پر ہاتھ اٹھا کر اجتماعی دعا کرنا صحیح احادیث سے ثابت نہیں۔  اور بارش کی دعا بھی صلوٰۃ سے پہلے ہے ورنہ کسی صلوٰۃ کے بعد کوئی دعا نہیں۔ بارش کے لیے دعا کرتے وقت ہتھیلیوں کی پشت آسمان کی طرف ہو (مسلم: کتاب الاستسقآء، عن انس ؓ) ۔

استسقاءکے لیے کئی دعائیں آتی ہیں، مثلاً

اَلّٰھُمَّ اَسْقِنَا اَلّٰھُمَّ اَسْقِنَا

]اے اللہ ہمیں پانی پلا، اے اللہ ہمیں پانی پلا[

(بخاری: کتاب الاستسقآء، باب الدعاءاذاکثر المطر حوالینا ولا علینا)

اَلّٰھُمَّ اَغِثْنَا اَلّٰھُمَّ اَغِثْنَا اَلّٰھُمَّ اَغِثْنَاْ

]اے اللہ ہم پر پانی برسا۔۔۔۔[

(بخاری: کتاب الاستسقآء، باب الدعاءاذاکثر المطر حوالینا ولا علینا/ باب الاستسقآء فی خطبۃ الجمعۃ غیر مستقبل القبلۃ)

اَلّٰھُمَّ اَسْقِنَا غَیْثًا مُّغِیْثًا مُّرِیًا مُّرِیْعًا نَّا فِعًا غَیْرَ ضَآرٍّعَاجِلاً غَیْرَاٰجِلٍ

] اے اللہ ہم کو ایسا مینہ پلا جو ہماری فریاد پوری کرے، ہلکا پھلکا، خوش انجام۔ جس سے ارزانی ہو ،غلہ اگے، فائدہ ہو، نقصان نہ ہو، فوراً آئے دیر نہ لگائے [

(ابوداؤد: کتاب الصؒؤٰۃ، باب رفع الیدین فی الاستسقآء، عن جابر ﷜)۔

بارش ہوتی دیکھیں تو پڑھیں :

اَلّٰھُمَّ صَیِّبًا نَّا فِعًا

]اے اللہ فائدہ دینے والا مینہ برسا [

(بخاری: کتاب الاستسقآء، باب مایقال اذا مطرت)۔

اگر بارش بہت زیادہ ہو جائے اور اس سے نقصان ہونے لگے تو اسکے تھم جانے کی دعا کریں

اَللّٰھُمَّ حَوْالَیْنَا وَلَا عَلَیْنَا اَللّٰھُمَّ عَلَی الْاٰکَامِ وَالظَّرَابِ وَبُطُوْنِ الْاوْدِﻴﺔِ وَمَنَبَتِ الشَّجَرِ

”اے اللہ ہمارے ارد گرد برسا اور ہم پر نہ برسا، اے اللہ ٹیلوں اور چڑھائیوں پر نالوں کے نشیب میں اور درختوں کے اگنے کی جگہوں میں برسا“

(بخاری: کتاب الاستسقآء، باب مایقال اذا مطرت/ باب الاستسقآء فی المسجد الجامع، عن انس ؓ)۔

استسقاءکے لیے بغیر آرائش وزینت کے عاجزی کرتے ہوئے انکسار سے نکلیں (ترمذی: کتاب الاستسقآء، عن ابن عباس ؓ / اباداؤد: جماع ابواب صلوٰۃ الاستسقآء و تفریعھا)۔
اگر جمعہ کے دن بارش کے لیے دعا کریں تو خطبہ جمعہ میں امام ہاتھ اٹھا کر مقتدیوں کے ساتھ دعائے باراں کرے اور صلوٰۃ الاستسقاء نہ پڑھے، نہ ہی چادر الٹے (بخاری: کتاب الاستسقاء، باب الاستسقاء فی المسجد الجامع، عن جابر ؓ)۔
چادر الٹنے کی یہ سکل ہوتی ہے کہ اس کا دایاں حصہ بائیں جانب اور بایاں دائیں جانب کر لیا جائے (ابن ماجه: کتاب اقامۃ الصلوٰۃ، باب ماجآء فی الاستسقاء، عن ابی ھریرۃ ؓ/ ابودا‍ؤد: جماع ابواب صلوٰۃ الاستسقاء و تفریعھا)۔

صلوٰۃ الاستخارہ

استخارہ کے معنی ہیں خیر طلب کرنا۔ جابر بن عبداللہ ؓروایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہم کو تمام امور میں استخارہ کرنا سکھلاتے تھے جیسے ہمیں قرآن کی کوئی سورہ سکھلاتے؛ آپ ﷺ فرماتے کہ جب تم میں سے کوئی کسی کام کا ارادہ کرے تو دو رکعتیں پڑھے، پھر یہ دعا پڑھ کر اپنی ضرورت کا نام لے :

اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْتَخِیْرُکَ بِعِلْمِکَ وَاَسْتَقْدِرُکَ بِقُدْرَتِکَ وَاَسْئَلُکَ مِنْ فَضْلِکَ الْعَظِیْمُ فَاِنَّکَ تَقْدِرُ وَلَا اَقْدِرُ وَتَعْلَمُ وَلَا اَعْلَمُ وَاَنْتَ عَلَّامُ الْغُیُوْبِ اَللّٰھُمَّ اِنْ کُنْتَ تَعْلَمْ اَنَّ ھٰذَا الْاَمْرَ خَیْرٌ لِّی فِیْ دِیْنِیْ وَ مَعَاشِی وَ عَاقِبَۃِ اَمْرِیْ فَاقْدِرْہُ لِیْ وَیَسِّرْہُ لِیْ ثُمَّ بَارِکْ لِیْ فِیْهِ وَاِنْ کُنْتَ تَعْلَمْ اَنَّ ھٰذَا الْاَمْرَ شَرٌّ لِّی فِیْ دِیْنِیْ وَمَعَاشِیْ وَ عَاقِبَۃِ اَمْرِیْ فَاصْرِفْهُ عَنِّیْ واصْرِفْنِی عَنْهُ وَاقْدُرْ لِیَ الْخَیْرَ حَیْثُ کَانَ ثُمَّ ارْضِنِیْ بِهٖ

”اے اللہ میں تیرے علم کے ذریعے تجھ سے خیر کا سوال کرتا ہوں اور تیری قدرت کے ذریعے قدرت طلب کرتا ہوں، اور تجھ سے تیرے عظیم فضل کا سوال کرتا ہوں، اس لیے کہ تو قدرت رکھتا ہےاور میں قدرت نہیں رکھتا اور تو جانتا ہے اور میں نہیں جانتا، اور تو تمام پوشیدہ باتوں کو خوب اچھی طرح جاننے والا ہے، اے اللہ تیرے علم کے مطابق اگر یہ کام میرے حق میں میرے دین، معاش اور انجام کار کے لحاظ سے بہتر ہے تو اس کو میرے لیے مقدر فرما دے اور اسے میرے لیے آسان کر دے اور پھر اس میں میرے لیے برکت ڈال دے۔ اور تیرے علم کے مطابق اگر یہ کام میرے حق میں میرے دین، معاش اور انجام کار کے لحاظ سے باعث شر ہے تو اس کو مجھ سے دور کر دے اور مجھے اس سے دور کر دے۔ اور جہاں بھی (جس کام میں بھی) میرے لیے بہتری ہو اس کو مجھے نصیب فرما دے اور پھر مجھے اس سے راضی کر دے “۔

(بخاری: کتاب التہجد، باب ماجآء فی التطوع مثنیٰ مثنیٰ)

احادیث میں استخارہ کرنے کا صرف اتنا ہی طریقہ آیا ہے۔ صلوٰۃ و دعا کے بعد سونے اور خواب میں بشارت ہونے کا کوئی ذکر نہیں۔ نہ ہی بیان ہے کہ کوئی دوسرا کسی کی طرف سے استخارہ کرے، بلکہ جس کی حاجت ہے وہی کرے جیسا کہ دعا کے الفاظ سے  ثابت ہوتا ہے کہ وہ خود اپنے لیے خیر مانگتا اور شر سےپناہ چاہتا ہے۔ لیکن ستم ظریفی دیکھیے کہ دیگر عبادات کی طرح آج اس کو بھی دکانداری کا ذریعہ بنا لیا گیا ہے اور عاشق رسول ہونے کے دعویدار یہ پیشہ ور مولوی دفتر کھول کر ذرئع ابلاغ سے اس کی تشہیر کرتے نظر آتے ہیں کہ استخارے سے پتہ چلا ہے کہ آپ کی شادی فلاں سال و مہینے میں ہو گی، فلاں کام فلاں وقت ہو گا، وغیرہ۔ یہ لوگ دعویٰ کرتے نظر آتے ہیں کہ ”استخارہ- ہر مشکل سے چھٹکارہ “ حلانکہ استخارہ تو صرف ایک دعا ہے۔ اسطرح سے غیب دانی اور مشکل کشائی کے دعوے کر کے ضعیف العقیدہ لوگوں سے مال بٹور کر یہ لوگ قرآن کی اس آیت کی تفسیر بنے نظر آتے ہیں کہ:

يَآ اَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوٓا اِنَّ كَثِيْـرًا مِّنَ الْاَحْبَارِ وَالرُّهْبَانِ لَيَاْكُلُوْنَ اَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ وَيَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِيْلِ اللّـٰهِ

” اے ایمان والو! ان مولویوں اور پیروں (سے بچنا کہ ان) کی اکثریت لوگوں کا مال باطل طریقوں سے کھا جاتی ہے اور انہیں اللہ کے راستے سے بھی روک دیتی ہے ۔“

(التوبہ: 34)

خطبہ جمعہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *