Categories
Uncategorized

اعادہ روح والی روایت کی حیثیت محدثین کی نگاہ میں

عود روح کا نظریہ جس طویل روایت پر قائم کیا گیا ہے وہ حسب ذیل ہے:

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ مِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ زَاذَانَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي جِنَازَةِ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَانْتَهَيْنَا إِلَى الْقَبْرِ، وَلَمَّا يُلْحَدْ، فَجَلَسَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَجَلَسْنَا حَوْلَهُ، كَأَنَّ عَلَى رُءُوسِنَا الطَّيْرَ، وَفِي يَدِهِ عُودٌ يَنْكُتُ فِي الْأَرْضِ، فَرَفَعَ رَأْسَهُ، فَقَالَ: ” اسْتَعِيذُوا بِاللهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ مَرَّتَيْنِ، أَوْ ثَلَاثًا، “، ثُمَّ قَالَ: ” إِنَّ الْعَبْدَ الْمُؤْمِنَ إِذَا كَانَ فِي انْقِطَاعٍ مِنَ الدُّنْيَا وَإِقْبَالٍ مِنَ الْآخِرَةِ، نَزَلَ إِلَيْهِ مَلَائِكَةٌ مِنَ السَّمَاءِ بِيضُ الْوُجُوهِ، كَأَنَّ وُجُوهَهُمُ الشَّمْسُ، مَعَهُمْ كَفَنٌ مِنْ أَكْفَانِ الْجَنَّةِ، وَحَنُوطٌ مِنْ حَنُوطِ الْجَنَّةِ، حَتَّى يَجْلِسُوا مِنْهُ مَدَّ الْبَصَرِ، ثُمَّ يَجِيءُ مَلَكُ الْمَوْتِ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، حَتَّى يَجْلِسَ  عِنْدَ رَأْسِهِ، فَيَقُولُ: أَيَّتُهَا النَّفْسُ الطَّيِّبَةُ، اخْرُجِي إِلَى مَغْفِرَةٍ مِنَ اللهِ وَرِضْوَانٍ “. قَالَ: ” فَتَخْرُجُ تَسِيلُ كَمَا تَسِيلُ الْقَطْرَةُ مِنْ فِي السِّقَاءِ، فَيَأْخُذُهَا، فَإِذَا أَخَذَهَا لَمْ يَدَعُوهَا فِي يَدِهِ طَرْفَةَ عَيْنٍ حَتَّى يَأْخُذُوهَا، فَيَجْعَلُوهَا فِي ذَلِكَ الْكَفَنِ، وَفِي ذَلِكَ الْحَنُوطِ، وَيَخْرُجُ مِنْهَا كَأَطْيَبِ نَفْحَةِ مِسْكٍ وُجِدَتْ عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ ” قَالَ: ” فَيَصْعَدُونَ بِهَا، فَلَا يَمُرُّونَ، يَعْنِي بِهَا، عَلَى مَلَإٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ، إِلَّا قَالُوا: مَا هَذَا الرُّوحُ الطَّيِّبُ؟ فَيَقُولُونَ: فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ، بِأَحْسَنِ أَسْمَائِهِ الَّتِي كَانُوا يُسَمُّونَهُ بِهَا فِي الدُّنْيَا، حَتَّى يَنْتَهُوا بِهَا إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا، فَيَسْتَفْتِحُونَ لَهُ، فَيُفْتَحُ لَهُمْ فَيُشَيِّعُهُ مِنْ كُلِّ سَمَاءٍ مُقَرَّبُوهَا إِلَى السَّمَاءِ الَّتِي تَلِيهَا، حَتَّى يُنْتَهَى بِهِ إِلَى السَّمَاءِ السَّابِعَةِ، فَيَقُولُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: اكْتُبُوا كِتَابَ عَبْدِي فِي عِلِّيِّينَ، وَأَعِيدُوهُ إِلَى الْأَرْضِ، فَإِنِّي مِنْهَا خَلَقْتُهُمْ، وَفِيهَا أُعِيدُهُمْ، وَمِنْهَا أُخْرِجُهُمْ تَارَةً أُخْرَى “. قَالَ: ” فَتُعَادُ رُوحُهُ فِي جَسَدِهِ، فَيَأْتِيهِ مَلَكَانِ، فَيُجْلِسَانِهِ، فَيَقُولَانِ لَهُ: مَنْ رَبُّكَ؟ فَيَقُولُ: رَبِّيَ اللهُ، فَيَقُولَانِ لَهُ: مَا دِينُكَ؟ فَيَقُولُ: دِينِيَ الْإِسْلَامُ، فَيَقُولَانِ لَهُ: مَا هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي بُعِثَ فِيكُمْ؟ فَيَقُولُ: هُوَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَقُولَانِ لَهُ: وَمَا عِلْمُكَ؟ فَيَقُولُ: قَرَأْتُ كِتَابَ اللهِ، فَآمَنْتُ بِهِ وَصَدَّقْتُ، فَيُنَادِي مُنَادٍ فِي  السَّمَاءِ: أَنْ صَدَقَ عَبْدِي، فَأَفْرِشُوهُ مِنَ الْجَنَّةِ، وَأَلْبِسُوهُ مِنَ الْجَنَّةِ، وَافْتَحُوا لَهُ بَابًا إِلَى الْجَنَّةِ “. قَالَ: ” فَيَأْتِيهِ مِنْ رَوْحِهَا، وَطِيبِهَا، وَيُفْسَحُ لَهُ فِي قَبْرِهِ مَدَّ بَصَرِهِ “. قَالَ: ” وَيَأْتِيهِ رَجُلٌ حَسَنُ الْوَجْهِ، حَسَنُ الثِّيَابِ، طَيِّبُ الرِّيحِ، فَيَقُولُ: أَبْشِرْ بِالَّذِي يَسُرُّكَ، هَذَا يَوْمُكَ الَّذِي كُنْتَ تُوعَدُ، فَيَقُولُ لَهُ: مَنْ أَنْتَ؟ فَوَجْهُكَ الْوَجْهُ يَجِيءُ  بِالْخَيْرِ، فَيَقُولُ: أَنَا عَمَلُكَ الصَّالِحُ، فَيَقُولُ: رَبِّ أَقِمِ السَّاعَةَ  حَتَّى أَرْجِعَ إِلَى أَهْلِي، وَمَالِي “. قَالَ: ” وَإِنَّ الْعَبْدَ الْكَافِرَ إِذَا كَانَ فِي انْقِطَاعٍ مِنَ الدُّنْيَا وَإِقْبَالٍ مِنَ الْآخِرَةِ، نَزَلَ إِلَيْهِ مِنَ السَّمَاءِ مَلَائِكَةٌ سُودُ الْوُجُوهِ، مَعَهُمُ الْمُسُوحُ، فَيَجْلِسُونَ مِنْهُ مَدَّ الْبَصَرِ، ثُمَّ يَجِيءُ مَلَكُ الْمَوْتِ، حَتَّى يَجْلِسَ عِنْدَ رَأْسِهِ، فَيَقُولُ: أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْخَبِيثَةُ، اخْرُجِي إِلَى سَخَطٍ مِنَ اللهِ وَغَضَبٍ “. قَالَ: ” فَتُفَرَّقُ فِي جَسَدِهِ، فَيَنْتَزِعُهَا كَمَا يُنْتَزَعُ السَّفُّودُ مِنَ الصُّوفِ الْمَبْلُولِ، فَيَأْخُذُهَا، فَإِذَا أَخَذَهَا لَمْ يَدَعُوهَا فِي يَدِهِ طَرْفَةَ عَيْنٍ حَتَّى يَجْعَلُوهَا فِي تِلْكَ الْمُسُوحِ، وَيَخْرُجُ مِنْهَا كَأَنْتَنِ رِيحِ جِيفَةٍ وُجِدَتْ عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ، فَيَصْعَدُونَ بِهَا، فَلَا يَمُرُّونَ بِهَا عَلَى مَلَأٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ، إِلَّا قَالُوا: مَا هَذَا الرُّوحُ الْخَبِيثُ؟ فَيَقُولُونَ: فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ بِأَقْبَحِ أَسْمَائِهِ الَّتِي كَانَ يُسَمَّى بِهَا فِي الدُّنْيَا، حَتَّى يُنْتَهَى بِهِ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا، فَيُسْتَفْتَحُ لَهُ، فَلَا يُفْتَحُ لَهُ “، ثُمَّ قَرَأَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: {لَا تُفَتَّحُ لَهُمْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ وَلَا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ حَتَّى يَلِجَ الْجَمَلُ فِي سَمِّ الْخِيَاطِ} [الأعراف: 40] فَيَقُولُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: ” اكْتُبُوا كِتَابَهُ فِي سِجِّينٍ فِي الْأَرْضِ السُّفْلَى، فَتُطْرَحُ رُوحُهُ طَرْحًا “. ثُمَّ قَرَأَ: {وَمَنْ يُشْرِكْ بِاللهِ، فَكَأَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَاءِ فَتَخْطَفُهُ الطَّيْرُ أَوْ تَهْوِي بِهِ الرِّيحُ فِي مَكَانٍ سَحِيقٍ} [الحج: 31] ” فَتُعَادُ رُوحُهُ فِي جَسَدِهِ، وَيَأْتِيهِ مَلَكَانِ، فَيُجْلِسَانِهِ، فَيَقُولَانِ لَهُ: مَنْ رَبُّكَ؟ فَيَقُولُ: هَاهْ هَاهْ لَا أَدْرِي، فَيَقُولَانِ لَهُ: مَا دِينُكَ؟ فَيَقُولُ: هَاهْ هَاهْ لَا أَدْرِي، فَيَقُولَانِ لَهُ: مَا هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي بُعِثَ فِيكُمْ؟ فَيَقُولُ: هَاهْ هَاهْ لَا أَدْرِي، فَيُنَادِي مُنَادٍ مِنَ السَّمَاءِ أَنْ كَذَبَ، فَافْرِشُوا  لَهُ مِنَ النَّارِ، وَافْتَحُوا لَهُ بَابًا إِلَى النَّارِ، فَيَأْتِيهِ مِنْ حَرِّهَا، وَسَمُومِهَا، وَيُضَيَّقُ عَلَيْهِ قَبْرُهُ حَتَّى تَخْتَلِفَ فِيهِ أَضْلَاعُهُ، وَيَأْتِيهِ رَجُلٌ قَبِيحُ الْوَجْهِ، قَبِيحُ الثِّيَابِ، مُنْتِنُ الرِّيحِ، فَيَقُولُ: أَبْشِرْ بِالَّذِي يَسُوءُكَ، هَذَا يَوْمُكَ الَّذِي كُنْتَ تُوعَدُ، فَيَقُولُ: مَنْ أَنْتَ؟ فَوَجْهُكَ الْوَجْهُ يَجِيءُ بِالشَّرِّ، فَيَقُولُ: أَنَا عَمَلُكَ الْخَبِيثُ، فَيَقُولُ: رَبِّ لَا تُقِمِ السَّاعَةَ “

(مسند احمد 18534 ، السنۃ لعبد اللہ بن احمد 2/603، تفسیر ابن ابی حاتم 5/1477، مسند ابی داؤد الطیالسی 2/114، الزھد والرقاق لابن المبارک 1/439، ابن ابی شیبہ 3/54، الزھد لھناد السری 1/205، ابی داؤد 4753، الرد علی الجھیمۃ 110، مسند الرویانی 1/263، الشریعۃ للآجری 3/1294، الایمان لابن المندہ 1064، مستدرک حاکم 1/93، اثبات عذاب قبر 20،21)

براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) کے ساتھ انصاری کے جنازے میں نکلے ہم قبر کے قریب پہنچے تو ابھی لحد تیار نہیں ہوئی تھی اس لئے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) بیٹھ گئے ہم بھی آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے ارد گرد بیٹھ گئے ایسا محسوس ہوتا تھا کہ ہمارے سروں پر پرندے بیٹھے ہوئے ہوں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) کے دست مبارک میں ایک لکڑی تھی جس سے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) زمین کو کرید رہے تھے پھر سر اٹھا کر فرمایا اللہ سے عذاب قبر سے بچنے کے لئے پناہ مانگو، دو تین مرتبہ فرمایا۔ پھر فرمایا کہ بندہ مؤمن جب دنیا سے رخصتی اور سفر آخرت پر جانے کے قریب ہوتا ہے تو اس کےپاس آسمان  سے روشن چہروں والے فرشتے آتے ہیں جن کے چہرے سورج کی طرح روشن ہوتے ہیں ان کے پاس جنت کا کفن اور جنت کی حنوط ہوتی ہے تاحد نگاہ وہ بیٹھ جاتے ہیں پھر ملک الموت آکر اس کے سرہانے بیٹھ جاتے ہیں اور کہتے ہیں اے نفس مطمئنہ ! اللہ کی مغفرت اور خوشنودی کی طرف نکل چل چنانچہ اس کی روح اس طرح بہہ کر نکل جاتی ہے جیسے مشکیزے کے منہ سے پانی کا قطرہ بہہ جاتا ہے ملک الموت اسے پکڑ لیتے ہیں اور دوسرے فرشتے پلک جھپکنے کی مقدار بھی اس کی روح کو ملک الموت کے ہاتھ میں نہیں رہنے دیتے بلکہ ان سے لے کر اسے اس کفن لپیٹ کر اس پر اپنی لائی ہوئی حنوط مل دیتے ہیں اور اس کے جسم سے ایسی خوشبو آتی ہے جیسے مشک کا ایک خوشگوار جھونکا جو زمین پر محسوس ہوسکے ۔

پھر فرشتے اس روح کو لے کر اوپر چڑھ جاتے ہیں اور فرشتوں کے جس گروہ پر بھی ان کا گذر ہوتا ہے وہ گروہ پوچھتا ہے کہ یہ پاکیزہ روح کون ہے؟ وہ جواب میں اس کا وہ بہترین نام بتاتے ہیں جس سے دنیا میں لوگ اسے پکارتے تھے حتی کہ وہ اسے لے کر آسمان دنیا تک پہنچ جاتے ہیں اور دروازے کھلواتے ہیں جب دروازہ کھلتا ہے تو ہر آسمان کے فرشتے اس کی مشایعت کرتے ہیں اگلے آسمان تک اسے چھوڑ کر آتے ہیں اور اس طرح وہ ساتویں آسمان تک پہنچ جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے بندے کانامہ اعمال ” علیین ” میں لکھ دو اور اسے واپس زمین کی طرف لے جاؤ کیونکہ میں نے اپنے بندوں کو زمین کی مٹی ہی سے پیدا کیا ہے اسی میں لوٹاؤں گا اور اسی سے دوبارہ نکالوں گا۔

چنانچہ اس کی روح جسم میں واپس لوٹادی جاتی ہے پھر اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں وہ اسے بٹھاکر پوچھتے ہیں کہ تیرا رب کون ہے؟ وہ جواب دیتا ہے میرا رب اللہ ہے وہ اس سے پوچھتے ہیں کہ تیرادین کیا ہے ؟ وہ جواب دیتا ہے کہ میرادین اسلام ہے وہ پوچھتے ہیں کہ یہ کون شخص ہے جو تمہاری طرف بھیجا گیا تھا؟ وہ جواب دیتا ہے کہ وہ اللہ کے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وسلم) ہیں وہ اس سے پوچھتے ہیں کہ تیرا علم کیا ہے ؟ وہ جواب دیتا ہے کہ میں نے اللہ کی کتاب پڑھی اس پر ایمان لایا اور اس کی تصدیق کی ، اس پر آسمان سے ایک منادی پکارتا ہے کہ میرے بندے نے سچ کہا اس کے لئے جنت کا بستر بچھادو اسے جنت کا لباس پہنادو اور اس کے لئے جنت کا ایک دروازہ کھول دو چنانچہ اسے جنت کی ہوائیں اور خوشبوئیں آتی رہتیں ہیں اور تاحد نگاہ اس کی قبر وسیع کردی جاتی ہے اور اس کے پاس ایک خوبصورت لباس اور انتہائی عمدہ خوشبو والا ایک آدمی آتا ہے اور اس سے کہتا ہے کہ تمہیں خوشخبری مبارک ہو یہ وہی دن ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا وہ اس سے پوچھتاے کہ تم کون ہو؟ کہ تمہاراچہرہ ہی خیر کا پتہ دیتا ہے وہ جواب دیتا ہے کہ میں تمہارا نیک عمل ہوں اس پر وہ کہتا ہے کہ پروردگار! قیامت ابھی قائم کردے تاکہ میں اپنے اہل خانہ اور مال میں واپس لوٹ جاؤں ۔ اور جب کوئی کافر شخص دنیا سے رخصتی اور سفر آخرت پر جانے کے قریب ہوتا ہے تو اس کے پاس آسمان سے سیاہ چہروں والے فرشتے اتر کر آتے ہیں جن کے پاس ٹاٹ ہوتے ہیں وہ تاحد نگاہ بیٹھ جاتے ہیں پھر ملک الموت آکر اس کے سرہانے بیٹھ جاتے ہیں اور اس سے کہتے ہیں کہ اے نفس خبیثہ ! اللہ کی ناراضگی اور غصے کی طرف چل یہ سن کر اس کی روح جسم میں دوڑنے لگتی ہے اور ملک الموت اسے جسم سے اس طرح کھینچتے ہیں جیسے گیلی اون سے سیخ کھینچی جاتی ہے اور اسے پکڑ لیتے ہیں فرشتے ایک پلک جھپکنے کی مقدار بھی اسے ان کے ہاتھ میں نہیں چھوڑتے اور اس ٹاٹ میں لپیٹ لیتے ہیں اور اس سے مردار کی بدبوجیسا ایک ناخوشگوار اور بدبودار جھونکا آتا ہے۔ پھر وہ اسے لے کر اوپر چڑھتے ہیں فرشتوں کے جس گروہ کے پاس سے ان کا گذر ہوتا ہے وہی گروہ کہتا ہے کہ یہ کیسی خبیث روح ہے؟ وہ اس کا دنیا میں لیا جانے والا بدترین نام بتاتے ہیں یہاں تک کہ اسے لے کر آسمان دنیا میں پہنچ جاتے ہیں ۔ در وازہ کھلواتے ہیں لیکن دروازہ نہیں کھولاجاتا پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) نے یہ آیت تلاوت فرمائی:” ان کے لئے آسمان کے دروازے کھولے جائیں گے اور نہ ہی وہ جنت میں داخل ہوں گے تاوقتیکہ اونٹ سوئی کے ناکے میں داخل ہوجائے ”

اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اس کا نامہ اعمال ” سجین ” میں سے نچلی زمین میں لکھ دو چنانچہ اس کی روح کو پھینک دیا جاتا ہے پھر یہ آیت تلاوت فرمائی: “جو اللہ کے ساتھ شرک کرتا ہے وہ ایسے ہے جیسے آسمان سے گرپڑا پھر اسے پرندے اچک لیں یا ہوا اسے دور دراز کی جگہ میں لے جا ڈالے ۔ “پھر اس کی روح جسم میں لوٹا دی جاتی ہے اور اس کے پاس دو فرشتے آکر اسے بٹھاتے ہیں اور اس سے پوچھتے ہیں کہ تیرا رب کون ہے ؟ وہ جواب دیتا ہے ہائے افسوس ! مجھے کچھ پتہ نہیں ، وہ اس سے پوچھتے ہیں کہ تیرا دین کیا ہے ؟ وہ پھر وہی جواب دیتا ہے وہ پوچھتے ہیں کہ وہ کون شخص تھا جو تمہاری طرف بھیجا گیا تھا؟ وہ پھر وہی جواب دیتا ہے اور آسمان سے ایک منادی پکارتا ہے کہ یہ جھوٹ بولتا ہے ، اس کے لئے آگ کا بستر بچھادو اور جہنم کا ایک دروازہ اس کے لئے کھول دو چنانچہ وہاں کی گرمی اور لو اسے پہنچنے لگتی ہے اور اس پر قبر تنگ ہوجاتی ہے حتیٰ کہ اس کی پسلیاں ایک دوسرے میں گھس جاتی ہیں پھر اس کے پاس ایک بدصورت آدمی گندے کپڑے پہن کر آتا ہے جس سے بدبو آرہی ہوتی ہے اور اس سے کہتا ہے کہ تجھے خوشخبری مبارک ہو یہ وہی دن ہے جس کا تجھ سے وعدہ کیا جاتا ہے وہ پوچھتا ہے کہ تو کون ہے ؟ کہ تیرے چہرے ہی سے شر کی خبر معلوم ہوتی ہے وہ جواب دیتا ہے کہ میں تیرا گندہ عمل ہوں وہ کہتا ہے کہ اے میرے رب ! قیامت قائم نہ کرنا۔

اس  روایت کے متن میں شدید نکارت پائی جاتی ہے۔ مرنے کے بعد قیامت سے پہلے روح کا اس دنیاوی جسد میں لوٹنا نصوص قرآنی کے خلاف ہے (المومنون : 99-100، الزمر : 42)۔

اس روایت کو اعادہ روح کے ثبوت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ اور محدثین کی طرف سے اس روایت کی تصیح اور اس کے رواۃ کی توثیق کو پیش کیا جاتا ہے۔ اس کے مرکزی راویوں “منھال” اور “زاذان” پر اگرچہ جرح کی گئی ہے لیکن چونکہ منھال بخاری کا راوی ہے اور زاذان مسلم کا راوی ہے،  انکی توثیق راجع ہے۔

لیکن یہ ضروری نہیں کہ ثقہ راوی کی ہر روایت صحیح بھی ہو ۔ کتنے ہی ثقہ رواۃ ایسے ہوتے ہیں جن کی روایت اپنے سے اوثق راوی کی مخالفت کے باعث شاذ ہوتی ہے اور  ایسی بھی روایات ہوتی ہیں کہ باوجود رجال کے ثقہ وصدوق ہونے کے انکو شذوذ یا کسی علت کے باعث قبول نہیں کیا جاتا۔

ذہبی ایک راوی  ” أبو همام الوليد بن أبي بدر السكوني ” کے ترجمہ میں لکھتے ہیں:

قد احتج به مسلم، وهو على سعة علمه قل أن تجد له حديثا منكرا. وهذه صفة من هو ثقة. (سیر اعلام النبلاء 12/24)

“امام مسلم نے ان سے احتجاج کیا ہے اور انکی وسعت علمی کے باوجود انکی منکر روایات کم تعداد میں پائی جاتی ہیں اور یہ ثقہ راوی کی صفت ہے”۔ذہبی  “نعیم بن  حماد بن معاویۃ” کے ترجمہ میں اس کی بیان کردہ ایک روایت کے ذیل میں  لکھتے ہیں:

وقال محمد بن علي بن حمزة: سألت يحيى بن معين عن هذا، فقال: ليس له أصل، ونعيم ثقة. قلت: كيف يحدث ثقة بباطل؟قال: شبه له (سیر اعلام النبلاء 10/600)

“محمد بن علی بن حمزہ کہتے ہیں کہ میں نے اس روایت کے بارے میں ابن معین سے پوچھا تو انھوں نے کہا: اس کی کوئی اصل نہیں اور نعیم ثقہ ہے میں نے کہا ثقہ راوی باطل روایت کیسے بیان کر سکتا ہے ؟ انھوں نے جواب دیا کہ اس کو شبہ ہوا ہے”۔

معلوم ہوا کہ ثقہ راوی کی ہر روایت  کا  صحیح  ہونا لازم نہیں ۔ بلکہ ثقہ راوی کی روایت میں نکارت بھی ہو سکتی ہے۔

زیر بحث روایت کے مرکزی راوی ” زاذان أبو عمر الكندي ” اگرچہ ثقہ ہیں لیکن  انکی ثقاہت کے باوجود ان پر وارد اعتراض  درج ذیل ہیں:

1۔ قال شعبة: قلت للحكم لم لم تحمل عن زاذان؟ قال: كان كثير الكلام (میزان الاعتدال 2/63)

“شعبہ کہتے ہیں کہ میں نے الحکم سے پوچھا کہ آپ زاذان سے روایت کیوں نہیں لیتے ؟ انھوں نے کہا کہ وہ باتیں بہت زیادہ کرتا ہے اس لئے”۔

2۔  قال ابن حبان : يخطىء كثيرا  (الثقات 4/265)  “ابن حبان نے کہا کہ غلطیان بہت کرتا ہے”۔

3۔ زاذان سے متعلق ابن حجر لکھتے ہیں: فيه شيعية (تقریب التہذیب 1976) ” اس میں  شیعیت ہے”۔

لہٰذا  ہمارا ماننا یہی ہے کہ  :

یہ روایت  زاذان کی ثقاہت کے باوجود اس کی “خطاء” اور “کثیر الکلام” کے باعث حجت نہیں کیونکہ “براء بن عازب رضی اللہ عنہ” کے دیگر شاگرد یہ روایت ان الفاظ سے بیان نہیں کرتے بلکہ ان میں سے بعض تو یہ کہتے ہیں کہ ہم الفاظ کو یاد نہیں رکھ پائے (جیسا کہ آگے آ رہا ہے)۔ لیکن زاذان ایک ایسے راوی ہیں کہ جو براء سے یہ روایت اتنی طویل بیان کرتے ہیں ۔

براء بن عازب رضی اللہ عنہ کے دیگر شاگردوں نے یہ روایت مختصراً اور زاذان و منہال کی بیان کردہ اس منکر  متن سے پاک بیان کی ہے۔

مثال کے طور پر ان کے تین ثقہ شاگردوں کی روایتیں ملاحظہ ہوں:

سعد بن عبیدۃ  :

عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنِ البَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ” إِذَا أُقْعِدَ المُؤْمِنُ فِي قَبْرِهِ أُتِيَ، ثُمَّ شَهِدَ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، فَذَلِكَ قَوْلُهُ: {يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالقَوْلِ الثَّابِتِ} [إبراهيم: 27] ” حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا – وَزَادَ – {يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا} [إبراهيم: 27] نَزَلَتْ فِي عَذَابِ القَبْرِ

سعد بن عبادہ، براء بن عازب سے ،  وہ نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) سے روایت کرتے ہیں۔ آپ ﷺنے فرمایا کہ جب مومن اپنی قبر میں بٹھلایا جاتا ہے تو اس کے پاس فرشتہ بھیجا جاتا ہے پھر وہ گواہی دیتا ہے لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ پس یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کہنا يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ ۔

محمد بن بشار، غندر، شعبہ نے اس حدیث کو روایت کیا ہے اور اس زیادتی کے ساتھ کہ يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا عذاب قبر کے متعلق نازل ہوئی ہے۔

عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: ” {يُثَبِّتُ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ} [إبراهيم: 27] ” قَالَ: ” نَزَلَتْ فِي عَذَابِ الْقَبْرِ، فَيُقَالُ لَهُ: مَنْ رَبُّكَ؟ فَيَقُولُ: رَبِّيَ اللهُ، وَنَبِيِّي مُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَلِكَ قَوْلُهُ عَزَّ وَجَلَّ: {يُثَبِّتُ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا، وَفِي الْآخِرَةِ} [إبراهيم: 27] “

سعد بن عبیدہ براء بن عازب  سے ، وہ نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا یہ آیت کریمہ (يُثَبِّتُ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَفِي الْاٰخِرَةِ) 14۔ ابراہیم : 27) قبر کے عذاب کے بارے میں نازل ہوئی ہے مردے سے کہا جاتا ہے کہ تیرا رب کون ہے وہ کہتا ہے میرا رب اللہ ہے اور میرے نبی محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) ہیں تو اللہ عزوجل کے فرمان یثبت کا یہ معنی ہے اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو دنیا وآخرت کی زندگی میں ثابت قدم رکھتا ہے کہ جو قول ثابت کے ساتھ ایمان لائے۔

(بخاری کتاب الجنائز بَابُ مَا جَاءَ فِي عَذَابِ القَبْرِ، بخاری کتاب التفسیر بَابُ {يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالقَوْلِ الثَّابِتِ} [إبراهيم: 27]، مسلم كتاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا بَابُ عَرْضِ مَقْعَدِ الْمَيِّتِ مِنَ الْجَنَّةِ أَوِ النَّارِ عَلَيْهِ، وَإِثْبَاتِ عَذَابِ الْقَبْرِ وَالتَّعَوُّذِ مِنْهُ، ترمذی 3120، ابوداؤد 4750، نسائی 2057، ابن ماجہ 4269، مسند احمد و 18575 ، ابن حبان 206-6324، سنن الکبریٰ للنسائی 2195-11200، مسند ابی داؤد الطیالسی 781، مسند الرویانی 394، السنۃ لعبد اللہ بن احمد 2/602 ، الایمان لابن المندہ 166 ، اثبات عذاب القبر 1/27)

 

حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: عَلْقَمَةُ بْنُ مَرْثَدٍ، أَخْبَرَنِي عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ فِي الْقَبْرِ: «إِذَا سُئِلَ فَعَرَفَ رَبَّهُ» ، قَالَ: وَقَالَ شَيْئًا لَا أَحْفَظُهُ، فَذَلِكَ قَوْلُهُ عَزَّ وَجَلَّ: {يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ} [إبراهيم: 27] (مسند احمد 18482 ، السنۃ لعبد اللہ بن احمد 2/611)

براء رضی اللہ عنہ سے مروی کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) نے قبر کے متعلق  ارشاد فرمایا  کہ : جب  (بندے سے)سوال  و جواب کیے جاتے ہیں  تو وہ اپنے رب کو پہچان لیتا ہے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبیﷺ نے کچھ (مزید) کہا تھا جسے میں یاد نہیں رکھتا ، پس یہی  مطلب ہے اس آیت کا کہ اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں اہل ایمان کو”ثابت شدہ قول “ پر ثابت قدم رکھتا ہے۔

خیثمہ بن عبد الرحمٰن :

عَنْ خَيْثَمَةَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، ” {يُثَبِّتُ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ} [إبراهيم: 27] قَالَ: نَزَلَتْ فِي عَذَابِ الْقَبْرِ “

(مسلم كتاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا بَابُ عَرْضِ مَقْعَدِ الْمَيِّتِ مِنَ الْجَنَّةِ أَوِ النَّارِ عَلَيْهِ، وَإِثْبَاتِ عَذَابِ الْقَبْرِ وَالتَّعَوُّذِ مِنْهُ ، سنن نسائی 2056، سنن الکبریٰ للنسائی 2194-11202،  السنۃ لعبد اللہ بن احمد 2/600، الشریعۃ للآجری 839، الایمان لابن المندہ 1063 )

خیثمہ براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ فرماتے ہیں کہ یثبت اللہ الذین قبر کے عذاب کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔

ابی اسحاق::

عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: ذَكَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم الْمُؤْمِنَ وَالْكَافِرَ، ثُمَّ ذَكَرَ أَشْيَاءَ لَمْ أَحْفَظْهَا، فَقَالَ: ” إِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا سُئِلَ فِي قَبْرِهِ قَالَ رَبِّيَ اللَّهُ فَذَلِكَ قَوْلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ {يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ} [إبراهيم: 27] الآَيَة ” (اثبات عذاب القبر 1/29)

ابو اسحاق نے براء رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ نبیﷺ نے مومن و کافر کا ذکر کیا پھر کچھ باتوں کا جنھیں میں یاد نہیں رکھتا پس فرمایا بے شک مومن سے جب اپنی قبر میں پوچھا جائے گا تو جواب دے گا کہ میرا رب اللہ ہے اور یہی مطلب ہے اللہ کے اس قول کا: “ثابت قدم رکھتا ہے اللہ ایمان والوں کو پکی بات کے ساتھ دنیا کی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی”۔

اندازہ کریں کہ براء رضی اللہ عنہ کے دیگر شاگرد اتنی مختصراً روایت کو بیان کریں اورکچھ الفاظ  یاد نہ رکھ پائیں لیکن جب وہی روایت منھال و زاذان بیان کریں تو اتنی طویل کے سرمایہ حدیث کی طویل ترین روایات میں سے ایک قرار پائے؟ معلوم ہوتا ہے کہ الحکم کا قول کہ “کان کثیر الکلام” اس جگہ اپنا بھرپور اثر دکھا رہا ہے۔

زاذان کی شیعیت کے باعث بھی یہ روایت حجت نہیں کیونکہ اصول حدیث  میں ہے  ایسے راوی کی فاسد عقیدے والی روایت رد کر دی جاتی ہے اور صحیح مذھب کو اختیار کیا جاتا ہے۔

أنْ يَروي ما يُقَوِّي بدعته فَيُرَدُّ، على المذهب المختار (نزھۃ النظر 1/128)

اس اصول پر اعتراض کہ یہ إبراهيم بن يعقوب الجُوزَجاني ناصبی کا ہے ۔۔  یہ اعتراض درست نہیں کیونکہ اس اصول کو نووی ، سیوطی  وغیرہ نے درست قرار دیا ہے چند حوالے پیش خدمت ہیں جنکا خلاصہ یہی ہے کہ  بدعی عقیدے کے فروغ کے لئے بیان کی جانے والے داعی بدعی کی روایت رد کر دی جاتی ہے:

من كفر ببدعة لم يحتج به بالاتفاق ومن لم يكفر قيل لا يحتج به مطلقاً، وقيل يحتج به إن لم يكن ممن يستحل الكذب في نصرة مذهبه أو لأهل مذهبه، وحكي عن الشافعي وقيل يحتج به إن لم يكن داعية إلى بدعته، ولا يحتج به إن كان داعية، وهذا هو الأظهر الأعدل (التقریب للنووی 1/51)

قوم تقبل روايته إذا لم يكن داعية ولا تقبل إذا كان داعية إلى بدعته وهذا مذهب الكثير أو الأكثر من العلماء. (الشذا الفياح من علوم ابن الصلاح 1/253)

يُحْتَجُّ بِهِ إِنْ لَمْ يَكُنْ دَاعِيةً إِلَى بِدْعَتِهِ، وَلَا يُحْتَجُّ بِهِ إِنْ كَانَ دَاعِيَةً، وَهَذَا هُوَ الْأَظْهَرُ الْأَعْدَلُ، وَقَوْلُ الْكَثِيرِ الْأَكْثَر (تدریب الراوی 1/383)

وَالْمُخْتَار إِنَّه إِن كَانَ دَاعيا إِلَى بدعته مروجا لَهُ رد وَإِن لم يكن كَذَلِك قبل إِلَّا أَن يروي شَيْئا يُقَوي بِهِ بدعته فَهُوَ مَرْدُود قطعا

(مقدمة في أصول الحديث 1/67)۔

ذہبی کا اس روایت کو منکر کہنا:

حاکم مستدرک میں لکھتے ہیں:

هذا حديث صحيح على شرط الشيخين فقد احتجا جميعا بالمنهال بن عمرو و زاذان أبي عمر الكندي  (مستدرک 1/93)

“یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، بے شک انہوں نے منہال بن عمرو اور زاذان ابو عمر الکندی سے احتجاج کیا ہے”۔

لیکن حاکم کی یہ بات درست نہیں.  کیونکہ امام مسلم نے منہال بن عمرو سے کوئی روایت نہیں لی۔ اس غلطی کو ذھبی نے بھی تلخیص مستدرک میں دہرایا اور کہا:

“تعليق الذهبي قي التلخيص : على شرطهما فقد احتجا بالمنهال “

“ان دونوں کی شرط پر بے شک انہوں نے منہال سے احتجاج کیا ہے”۔

یہ بات ذھبی نے اس وقت لکھی تھی جب انہوں نے اپنی کتاب سیر الاعلام النبلاء اور تاریخ الاسلام نہیں لکھیں تھیں۔

ذھبی تاریخ الاسلام میں کہتے ہیں:

 وفي بعض ذلك موضوعات قد أعلمت بها لما اختصرت هذا ” المستدرك ” ونبهت على ذلك (تاریخ الاسلام 28/132 ت تدمیری)

“اس (مستدرک حاکم) میں کچھ موضوعات بھی ہیں مجھے اس کا علم اوقت ہوا جب میں نے مستدرک کا اختصار کیا ہے اور ان کی طرف میں نے اشارہ کیا ہے “۔

سیر الاعلام النبلاء میں لکھتے ہیں:

 وبكل حال فهو كتاب مفيد قد اختصرته  (سیر اعلام النبلاء 17/176)

“اور یہ مفید کتاب ہے میں نے اس کو مختصر کیا ہے”۔

معلوم ہوا کہ مستدرک پر تلخیص سیر اور تاریخ جیسے ضخیم کام سے پہلے ہوئی. ذھبی نے اپنے اس تحقیقی کام میں اپنی ہی تصحیح کا رد کر دیا۔

الذهبی کتاب تاریخ الاسلام میں منہال کے لئے لکھتے ہیں:

قلت : تفرد بحديث منكر ونكير عن زاذان عن البراء (تاریخ الاسلام ت تدمیری 7/483)

“میں کہتا ہوں: منکر نکیر والی حدیث جو زاذان عن البراء  سے ہے اس میں اس کا تفرد ہے”۔

ذھبی کتاب سیر لاعلم النبلاء میں منہال کے لئے لکھتے ہیں:

حَدِيْثُهُ فِي شَأْنِ القَبْرِ بِطُوْلِهِ فِيْهِ نَكَارَةٌ وَغَرَابَةٌ (سیر اعلام النبلاء 5/184)

“المنھال بن عمرو کی قبر کے بارے میں طویل روایت میں نکارت اور غرابت ہے”۔

 

لہذا  قائلین عود روح کا  ذھبی کی تلخیص مستدرک میں اس روایت کی تصحیح پیش کرنا اصولا درست نہیں۔

ابن حزم کا اس روایت کو رد کرنا  :

ابن حزم لکھتے ہیں کہ یعنی منھال کے سوا کسی نے یہ روایت نہیں کیا کہ عذاب قبر کے لئے روح جسد میں لوٹائی جاتی ہے اور منھال قوی نہیں :

ولم يرو أحد أن في عذاب القبر رد الروح إلى الجسد الا المنهال بن عمرو وليس بالقوى  (المحلیٰ 1/22)

ابن حبان :

ابن حبان  اس روایت کے متعلق لکھتے ہیں کہ اعمش نے منھال سے نہیں سنا بلکہ اصل میں اعمش عن الحسن بن عمارۃ (متروک) عن منھال ہے اور:

وزاذان لم يسمعه من البراء فلذلك لم أخرجه. (صحیح ابن حبان 7/387)

” زاذان نے براء رضی اللہ عنہ سے نہیں سنا اس لئے میں نے اس روایت کو  نہیں لیا “۔

حاکم مستدرک میں اس اعتراض پر کہتے ہیں:

لإجماع الأئمة الثقات على روايته عن يونس بن خباب عن المنهال بن عمرو عن زاذان أنه سمع البراء (مستدرک 1/93)

“ائمہ ثقات کا اجماع ہے کہ زاذان نےالبراء سے سنا ہے یونس بن خباب عن المنھال بن عمرو کی سند سے”۔

لیکن  “يونس بن خباب “ خود ہی شدید مجروح  رافضی راوی ہے یہ کہتا تھا کہ عثمان رضی الله تعالی عنہ نے نبی صلی الله علیہ وسلم کی بیٹی کا قتل کیا.

ابن حبان لکھتے ہیں:

وَكَانَ رجل سوء غاليا فِي الرَّفْض كَانَ يزْعم أَن عُثْمَان بن عَفَّان قتل ابْنَتي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يحل الرِّوَايَة عَنهُ لِأَنَّهُ كَانَ دَاعِيَة إِلَى مذْهبه  (المجروحین 3/140)

“برا آدمی ہے غالی رافضی ، اس کا زعم ہےکہ عثمان نے آپﷺ کی بیٹی کو قتل کیا اس سے روایت کرنا جائز نہیں کیونکہ یہ اپنے مذھب کی طرف دعوت دیتا ہے”۔

ذہبی اسکو رافضی، ابن معین و نسائی ضعیف ، دارقطنی براآدمی اور غالی شیعہ اور بخاری منکر الحدیث کہتے ہیں۔

يونس بن خباب الاسيدى

وكان رافضيا  وقال ابن معين: رجل سوء ضعيف.  وقال النسائي: ضعيف. وقال الدارقطني: رجل سوء فيه شيعية مفرطة.  وقال البخاري: منكر الحديث. (میزان الاعتدال 4/479)

لہٰذا ایسے راوی کی سند سے سماع کی تصریح کیسے ثابت ہو سکتی ہے؟

ابن قیم بھی ابن حبان کے اس اعتراض کا رد کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

أَنَّ زَاذَان لَمْ يَسْمَعهُ مِنْ الْبَرَاء , فَجَوَابهَا : مِنْ وَجْهَيْنِ . أَحَدهمَا : أَنَّ أَبَا عَوَانَة الْإِسْفَرَايِينِي رَوَاهُ فِي صَحِيحه , وَصَرَّحَ فِيهِ بِسَمَاعِ زَاذَان لَهُ مِنْ الْبَرَاء فَقَالَ ” سَمِعْت الْبَرَاء بْن عَازِب ” فَذَكَرَهُ . وَالثَّانِي : أَنَّ اِبْن مَنْدَهْ رَوَاهُ عَنْ الْأَصَمّ حَدَّثَنَا الصَّنْعَانِيُّ أَخْبَرَنَا أَبُو النَّضْر عِيسَى بْن الْمُسَيِّب عَنْ عَدِيّ بْن ثَابِت عَنْ الْبَرَاء (تھذیب سنن ابی داؤد 2/429)

“یعنی یہ کہنا کہ زاذان نے البراء سے نہیں سنا اسکا جواب دو طرح سے ہے:

1۔ ابی عوانۃ نے اپنی صحیح میں زاذان کے البراء سے سماع کی تصریح کی ہے۔

2۔ زاذان کے علاوہ ابن مندہ کی سند میں” عیسی بن المسیب عن عدی بن ثابت عن البراء ” سے یہ روایت موجود ہے۔ (یعنی زاذان کی متابعت موجود ہے)”۔

 

اس کا جواب یہ ہے کہ:

1۔ ابو عوانہ  ، صَاحِبُ “المُسْنَدِ الصَّحِيْحِ ہیں جس میں انہوں نے صحیح مسلم کی روایات کی تخریج کی ہے اور کچھ احادیث کا اضافہ کیا ہے آخری ابواب میں. یہ کتاب مستخرج أبي عوانة کے نام سے دار المعرفة – بيروت سے چھپی ہے لیکن اس میں زاذان کی البراء سے کوئی روایت نقل نہیں ہوئی لہذا اس سماع کی تصدیق نہیں ھو سکی۔

2۔ متابعت والی روایت میں” عیسیٰ بن المسیب ” ضعیف ہے لہٰذا یہ متابعت کے طور پر پیش نہیں کی جا سکتی۔

 

اس کو یحییٰ ، نسائی ، دارقطنی ، ابوداؤد نے “ضعیف”  ، ابوحاتم و ابوزرعہ نے “قوی نہیں ” ہے ۔ اور ابن حبان نے کہا ہے کہ اس پر کلام ہے۔

قال يحيى والنسائي والدارقطني و أبو داود: ضعيف،

وقال أبو حاتم وأبو زرعة: ليس بالقوى. وتكلم فيه ابن حبان  (میزان الاعتدال 3/323)

اس کے علاوہ دیگر کتب میں زاذان نے سمعت بولا ہے لیکن وہ اسناد ضعیف  ہیں جن میں يونس بن خباب ہے. جن پر شدید جرح کتابوں میں موجود ہے. اس کے علاوہ جن اسناد میں سماع کا اشارہ ہے  ان میں عَنِ الأَعْمَشِ، عَنِ الْمِنْهَالِ سے روایت بیان ہوئی ہے۔

ابن حبان اس کو بھی رد کرتے ہیں کہتے ہیں:

خبر الأعمش عن المنهال بن عمرو عن زاذان عن البراء سمعه الأعمش عن الحسن بن عمارة عن المنهال بن عمرو (صحیح ابن حبان 7/387) 

“الأعمش کی خبر ، المنهال بن عمرو عن زاذان عن البراء سے اصل میں الأعمش عن الحسن بن عمارة عن المنهال بن عمرو سے ہے”۔

الاعمش کی تدلیس کو رد کرنے کے لئے ابو داوود کی سند پیش کی جاتی ہے:

حدَّثنا هنَّادُ بنُ السَّرىّ، حدَّثنا عبدُ الله بنُ نُمير، حدَّثنا الأعمشُ، حدَّثنا المِنهالُ، عن أبي عُمَرَ زاذان، سمعتُ البراء، عن النبي-صلى الله عليه وسلم قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَنَازَةِ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَانْتَهَيْنَا إِلَى الْقَبْرِ وَلَمَّا يُلْحَدْ، فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَلَسْنَا حَوْلَهُ كَأَنَّمَا عَلَى رُءُوسِنَا الطَّيْرُ، وَفِي يَدِهِ عُودٌ يَنْكُتُ بِهِ فِي الْأَرْضِ، فَرَفَعَ رَأْسَهُ، فَقَالَ: «اسْتَعِيذُوا بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ» مَرَّتَيْنِ، أَوْ ثَلَاثًا، زَادَ فِي حَدِيثِ جَرِيرٍ «هَاهُنَا» وَقَالَ: ” وَإِنَّهُ لَيَسْمَعُ خَفْقَ نِعَالِهِمْ إِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِينَ حِينَ يُقَالُ لَهُ: يَا هَذَا، مَنْ رَبُّكَ وَمَا دِينُكَ وَمَنْ نَبِيُّكَ؟ ” قَالَ هَنَّادٌ: قَالَ: ” وَيَأْتِيهِ مَلَكَانِ فَيُجْلِسَانِهِ فَيَقُولَانِ لَهُ: مَنْ رَبُّكَ؟ فَيَقُولُ: رَبِّيَ اللَّهُ، فَيَقُولَانِ لَهُ: مَا دِينُكَ؟ فَيَقُولُ: دِينِيَ الْإِسْلَامُ، فَيَقُولَانِ لَهُ: مَا هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي بُعِثَ فِيكُمْ؟ ” قَالَ: ” فَيَقُولُ: هُوَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَيَقُولَانِ: وَمَا يُدْرِيكَ؟ فَيَقُولُ: قَرَأْتُ كِتَابَ اللَّهِ فَآمَنْتُ بِهِ وَصَدَّقْتُ «زَادَ فِي حَدِيثِ جَرِيرٍ» فَذَلِكَ قَوْلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ {يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا} [إبراهيم: 27] ” الْآيَةُ – ثُمَّ اتَّفَقَا – قَالَ: ” فَيُنَادِي مُنَادٍ مِنَ السَّمَاءِ: أَنْ قَدْ صَدَقَ عَبْدِي، فَأَفْرِشُوهُ مِنَ الْجَنَّةِ، وَافْتَحُوا لَهُ بَابًا إِلَى الْجَنَّةِ، وَأَلْبِسُوهُ مِنَ الْجَنَّةِ ” قَالَ: «فَيَأْتِيهِ مِنْ رَوْحِهَا وَطِيبِهَا» قَالَ: «وَيُفْتَحُ لَهُ فِيهَا مَدَّ بَصَرِهِ» قَالَ: «وَإِنَّ الْكَافِرَ» فَذَكَرَ مَوْتَهُ قَالَ: ” وَتُعَادُ رُوحُهُ فِي جَسَدِهِ، وَيَأْتِيهِ مَلَكَانِ فَيُجْلِسَانِهِ فَيَقُولَانِ: لَهُ مَنْ رَبُّكَ؟ فَيَقُولُ: هَاهْ هَاهْ هَاهْ، لَا أَدْرِي، فَيَقُولَانِ لَهُ: مَا دِينُكَ؟ فَيَقُولُ: هَاهْ هَاهْ، لَا أَدْرِي، فَيَقُولَانِ: مَا هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي بُعِثَ فِيكُمْ؟ فَيَقُولُ: هَاهْ هَاهْ، لَا أَدْرِي، فَيُنَادِي مُنَادٍ مِنَ السَّمَاءِ: أَنْ كَذَبَ، فَأَفْرِشُوهُ مِنَ النَّارِ، وَأَلْبِسُوهُ مِنَ النَّارِ، وَافْتَحُوا لَهُ بَابًا إِلَى النَّارِ ” قَالَ: «فَيَأْتِيهِ مِنْ حَرِّهَا وَسَمُومِهَا» قَالَ: «وَيُضَيَّقُ عَلَيْهِ قَبْرُهُ حَتَّى تَخْتَلِفَ فِيهِ أَضْلَاعُهُ» زَادَ فِي حَدِيثِ جَرِيرٍ قَالَ: «ثُمَّ يُقَيَّضُ لَهُ أَعْمَى أَبْكَمُ مَعَهُ مِرْزَبَّةٌ مِنْ حَدِيدٍ لَوْ ضُرِبَ بِهَا جَبَلٌ لَصَارَ تُرَابًا» قَالَ: «فَيَضْرِبُهُ بِهَا ضَرْبَةً يَسْمَعُهَا مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ إِلَّا الثَّقَلَيْنِ فَيَصِيرُ تُرَابًا» قَالَ: «ثُمَّ تُعَادُ فِيهِ الرُّوحُ» (ابوداؤد  4754 و مسند احمد)

اعمش، منہال، زاذان، براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے ساتھ کسی انصاری آدمی کے جنازہ میں نکلے پس ہم ایک قبر پر جا پہنچے جو ابھی لحد نہیں بنائی گئی تھی۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) وہاں بیٹھ گئے اور آپ کے اردگرد ہم بھی بیٹھ گئے گویا کہ ہمارے سروں پر پرندے بیٹھے ہیں آپ کے ہاتھ میں ایک لکڑی تھی جس سے آپ زمین پر کرید رہے تھے پس آپ نے اپنا سر مبارک اٹھایا اور دو یا تین مرتبہ فرمایا کہ اللہ کی پناہ مانگو عذاب قبر سے جریر کی روایت میں یہ بھی اضافہ ہے کہ آپ نے فرمایا کہ جب دفن کرنے والے منہ پھیر کر چلے جاتے ہیں تو مردہ ان کے جوتوں کی دھمک سنتا ہے اس وقت اس سے کہا جاتا ہے کہ اے شخص تیرا رب کون ہے اور تیرا مذہب کیا ہے؟ اور تیرے نبی کون ہیں؟ ہناد نے اپنی روایت میں فرمایا کہ اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں اسے بٹھاتے ہیں اور اس سے کہتے ہیں کہ تیرا رب کون ہے وہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ تیرا دین کیا ہے وہ کہتا ہے کہ میرا دین اسلام ہے وہ دونوں کہتے ہیں کہ یہ کون صاحب ہیں جو تمہارے درمیان بھیجے گئے تھے؟ وہ کہتا ہے کہ یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) ہیں وہ دونوں کہتے ہیں کہ تمہیں کیسے معلوم ہوا؟ وہ کہتا ہے کہ میں نے اللہ کی کتاب میں پڑھا ہے اس پر ایمان لایا اور اس کی تصدیق کی۔ جریر کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ یہی مراد ہے اللہ کے قول”يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ الخ سے۔ پھر ایک آواز لگانے والا آواز لگاتا ہے کہ میرے بندہ نے سچ کہا پس اس کے لئے جنت کا بستر بچھا دیا جاتا ہے اور اسے جنت کے کپڑے پہنا دو اور اس کے لئے جنت میں ایک دروازہ کھول دو فرمایا کہ جنت کی ہوا اور خوشبو اس کے پاس آتی ہیں اور اس کی قبر حد نگاہ تک کشادہ کردی جاتی ہے اور فرمایا کہ کافر جب مرتا ہے اس کی روح کو جسم میں لوٹایا جاتا ہے اور دو فرشتے اس کے پاس آتے ہیں اسے بٹھلاتے ہیں اور اس سے کہتے ہیں کہ تیرا رب کون ہے؟ وہ کہتا ہے کہ ہائے ہائے میں نہیں جانتا وہ کہتے ہیں کہ یہ آدمی کون ہیں جو تم میں بھیجے گئے وہ کہتا ہے ہائے ہائے میں نہیں جانتا پس آسمان سے ایک منادی آواز لگاتا ہے کہ اس نے جھوٹ بولا اس کے لئے آگ کا بستر بچھا دو اور آگ کا لباس پہنادو اور جہنم کا ایک دروازہ اس کی قبر میں کھول دو فرمایا کہ جہنم کی گرمی اور گرم ہوا اس کے پاس آتی ہے اور اس کی قبر اس قدر تنگ کردی جاتی ہے کہ اس کی پسلیاں ایک دوسرے میں پیوست ہوجاتی ہیں جریر کی حدیث میں یہ اضافہ ہے کہ پھر اس پر ایک اندھا بہرا فرشتہ مقرر کردیا جاتا ہے اس کے پاس ایک لوہے کا ایک ایسا گرز ہوتا ہے کہ جو اگر پہاڑ پر دے مارا جائے تو پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائے فرمایا کہ وہ گرز سے اس مردے کو مارتا ہے اس کی مار کی آواز سے مشرق ومغرب کے درمیان ہر چیز سنتی ہے سوائے جن وانس کے اور وہ مردہ بھی مٹی ہو جاتا ہے پھر اس میں روح دوبارہ ڈال دی جاتی ہے۔

اس میں دو بار اعادہ روح کا ذکر ہے۔  اب یا دوبار اعادہ ماننا ہو گا اور اگر اسکو زائد قرار دیا گیا تو سماع کی تصریح بھی لائق استدلال نہیں رہے گی۔ اب الأعمشُ کا سماع ثابت نہ رہا؟  دراصل قائلین عودہ روح کا عقیدہ ہے کہ عود روح ایک دفعہ ہوتا ہے لیکن روایت میں دو دفعہ بیان ہوا ہے۔اب یہ ایک نئی مشکل ہے لہٰذا ان الفاظ کو زائد قرار دے کر جان چھڑا لی جاتی ہے۔

یہ تو تھی اس روایت کی اسنادی بحث  اب مندرجہ ذیل چند امور درایتا ً قابل غور ہیں:
  • اس روایت میں زاذان و منہال نے ایک قول نقل کیا:

إِنَّ الْعَبْدَ الْمُؤْمِنَ إِذَا كَانَ فِي انْقِطَاعٍ مِنَ الدُّنْيَا وَإِقْبَالٍ مِنَ الْآخِرَةِ، “

بندہ مؤمن جب دنیا سے رخصتی اور سفر آخرت پر جانے کے قریب ہوتا ہے”۔

اب سمجھ نہیں آتا کہ دنیا سے رابطہ منقطع ہونے کے بعد دنیا ہی کے کسی گڑھے میں روح کا لوٹایا جانا اور مردہ کا زندہ ہو جانا کیا یہ باہم متضاد باتیں نہیں؟

  • پھر اس روایت میں قبر میں روح کا لوٹنا تو ثابت ہے اب حدیث نبویﷺ کے مطابق یہ جسد مٹی میں ملکر مٹی بن جاتا ہے سوائے عجب الذنب کے ، تو جب یہ جسد مٹی ہو جاتا ہے تو اب روح کہاں گئی؟ یاد رہے اب یہ موقف اختیار نہیں کیا جا سکتا کہ ہے روح جہنم میں چلی گئی کیونکہ اس روایت میں  صرف روح کا جسم میں لوٹنا ثابت ہے اور اس کے لئے آسمان کے دروازے نہ کھولنے کا بیان آیا ہے۔

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «كُلُّ ابْنِ آدَمَ يَأْكُلُهُ التُّرَابُ، إِلَّا عَجْبَ الذَّنَبِ مِنْهُ، خُلِقَ وَفِيهِ يُرَكَّبُ» (مسلم  كتاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ  بَابُ مَا بَيْنَ النَّفْخَتَيْنِ)

“ہر ابن آدم کو مٹی کھا لیتی ہے سوائے عجب الذنب کے اس سے آدمی پیدا کیا گیا تھا اور اسی سے پھر جوڑا جائے گا”۔

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا بَيْنَ النَّفْخَتَيْنِ أَرْبَعُونَ» قَالَ: أَرْبَعُونَ يَوْمًا؟ قَالَ: أَبَيْتُ، قَالَ: أَرْبَعُونَ شَهْرًا؟ قَالَ: أَبَيْتُ، قَالَ: أَرْبَعُونَ سَنَةً؟ قَالَ: أَبَيْتُ، قَالَ: «ثُمَّ يُنْزِلُ اللَّهُ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَيَنْبُتُونَ كَمَا يَنْبُتُ البَقْلُ، لَيْسَ مِنَ الإِنْسَانِ شَيْءٌ إِلَّا يَبْلَى، إِلَّا عَظْمًا وَاحِدًا وَهُوَ عَجْبُ الذَّنَبِ، وَمِنْهُ يُرَكَّبُ الخَلْقُ يَوْمَ القِيَامَةِ»

(بخاری كِتَابُ تَفْسِيرِ القُرْآنِ بَابُ {يَوْمَ يُنْفَخُ فِي الصُّورِ فَتَأْتُونَ أَفْوَاجًا} [النبأ: 18]: زُمَرًا)

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا کہ دو صور پھونکے جانے کے درمیان چالیس ہے۔ پوچھنے والے  نے پوچھا کیا اس سے چالیس دن مراد ہیں؟ ابوہریرہ (رض) نے کہا میں نہیں کہہ سکتا  پھر کہنے والے نے کہا چالیس مہینے مراد ہے؟ انہوں نے کہامیں نہیں کہہ سکتا پھر پوچھا کیا چالیس سال؟ انہوں نے کہامیں نہیں کہہ سکتا ، پھر کہا کہ اللہ آسمان سے مینہ برسائے گا تو اس سے مردے جی اٹھیں گے جس طرح سبزہ (مینہ) سے اگتا ہے انسانی جسم میں کوئی ایسی چیز نہیں جو برباد نہ ہو جائے سوائے ایک ہڈی ‘عجب الذنب’ کے، اور اسی سے قیامت کے دن اس کی ترکیب ہوگی (یعنی انسانی جسم پھر بنایا جائے گا)۔

 

  • مزید یہ کہ اگر روح پہلے سے ہی جسم میں موجود ہے تو پھر اللہ قیامت کے دن کس کو زندہ کرے گا؟ یہاں تو مردہ میں پہلے سے ہی روح موجود ہے، اور اگر اس میں سے روح نکالنے کی بات کی جائے تو  پھر یہ تین زندگیاں اور تین موتیں  ثابت ہوجائیں گی جو کہ قرآن کا انکار ہے۔
  • اس روایت میں ہے کہ مومن کی قبر وسیع کر دی جاتی ہے: وَيُفْسَحُ لَهُ فِي قَبْرِهِ مَدَّ بَصَرِهِ “اور تاحد نگاہ اس کی قبر وسیع کردی جاتی ہے”۔ اور کافر کی قبر تنگ،  وَيُضَيَّقُ عَلَيْهِ قَبْرُهُ  “نگاہ اس کی قبر وسیع کردی جاتی ہے”۔

اب جو اس دنیاوی قبر کو حقیقی قبر قرار دے کر اسی میں عذاب القبر کو مانتے ہیں تو ان کے پاس اس بات کاکیا جواب ہے کہ جن کو یہ دنیاوی قبر میسر نہیں آتی ان پر قبر کی یہ تنگی و فراخی کیسے ہوتی ہے ؟ جبکہ وہ دفن ہی نہیں ہوئے ہوتے۔

کیا وہ عذاب سے بچ جاتے ہیں ؟ اگر نہیں تو ان کو عذاب القبر کہاں ہوتا ہے؟ اگر یہ کہا جائے کہ وہ جہاں کہیں ہے اللہ اس کے ذرات کو اکٹھا کر کے عذاب دینے پر قادر ہے تو بھی بات نہیں بنتی کیونکہ قبر کی تنگی و وسعت کے لئے ان کا کسی مقام میں ہونا ضروری ہے۔

  • نیک روح کے لئے اس روایت میں آیا ہے کہ اللہ حکم دیتا ہے کہ ” اور اس کے لئے جنت کا ایک دروازہ کھول دو چنانچہ اسے جنت کی ہوائیں اور خوشبوئیں آتی رہتیں ہیں “۔

کیا جنت اس کی قبر کے ساتھ ہی ہوتی ہے؟

اسی طرح کافر کے لئے آیا ہے کہ اللہ حکم دیتا ہے کہ  ” جہنم کا ایک دروازہ اس کے لئے کھول دو چنانچہ وہاں کی گرمی اور لو اسے پہنچنے لگتی ہے “۔

کیا جہنم اس کی قبر سے کے ساتھ ہوتی ہے؟

  • چونکہ جسد بغیر روح کے نہ بول سکتا ہے نہ سن سکتا اور اس روایت میں آتا ہے کہ قبر میں دفن ہونے کے بعد روح کو لوٹایا جاتا ، جبکہ بخاری کی ایک روایت “کلام المیت علی الجنازۃ (مردی کا کلام کھاٹ پر)” سے ظاہر ی طور پر معلوم ہوتا ہے کہ مردہ دفن سے پہلے ہی بولنا شروع کر دیتا ہے (حالانکہ یہ درست نہیں کیونکہ یہ بھی متشبہ امور میں سے ہے جنکو دوسری محکم آیات و احادیث کی روشنی میں سجمھا جائے گا)۔

اب ان دونوں نظریات میں سے کو ن سا نظریہ درست ہے ؟ کیونکہ کسی ایک کے درست ہونے سے دوسرے کا انکار لازم آئے گا اور دونوں بیک وقت درست نہیں ہو سکتے۔

  • مالک کائنات نے دنیا میں دوبارہ لوٹنے کی درخواست کرنے والے کو سختی سے منع کر دیا:

حَتّٰٓي اِذَا جَاۗءَ اَحَدَہُمُ الْمَوْتُ قَالَ رَبِّ ارْجِعُوْنِ۝۹۹ۙ لَعَلِّيْٓ اَعْمَلُ صَالِحًا فِيْمَا تَرَكْتُ كَلَّا۝۰ۭ اِنَّہَا كَلِمَۃٌ ہُوَقَاۗىِٕلُہَا۝۰ۭ وَمِنْ وَّرَاۗىِٕہِمْ بَرْزَخٌ اِلٰى يَوْمِ يُبْعَثُوْنَ۝۱۰۰

یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کو آپہنچتی ہے موت تو وہ کہنے لگتا ہے کہ اے میرے رب مجھے وا پس لوٹا دے تاکہ میں نیک عمل کر سکوں جسے میں چھوڑ آیا ہوں ایسا ہرگز نہیں یہ تو ایک قول ہے جس کا یہ قائل ہے اور ان کے پس پشت تو برزخ ہے، دوبارہ زندہ کئے جانے کے دن تک۔

مگر آج اللہ کے اس انکار کو اقرار میں بدل کر لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لئے اسی دنیاوی قبر کو برزخ بنا دیا۔

  • اس روایت سے ہر مرنے والے کی روح کا دنیا میں لوٹنا ثابت ہوتا ہے جبکہ اللہ کے نبیﷺ نے فرمایا:

مَا مِنْ عَبْدٍ يَمُوتُ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ خَيْرٌ يَسُرُّهُ أَنْ يَرْجِعَ إِلَی الدُّنْيَا وَأَنَّ لَهُ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا إِلَّا الشَّهِيدَ لِمَا يَرَی مِنْ فَضْلِ الشَّهَادَةِ فَإِنَّهُ يَسُرُّهُ أَنْ يَرْجِعَ إِلَی الدُّنْيَا فَيُقْتَلَ مَرَّةً أُخْرَ

(بخاری کتاب الجہاد باب الحور العین وصفتھن)

“کوئی بھی اللہ کا بندہ جو مر جائے اور اللہ کے پاس اس کے لئے کچھ نیکی جمع ہو وہ یہ نہیں چاہتا کہ دنیا کی طرف لوٹ آئے چاہے اسے دنیا کی ہر چیز دے دی جائے۔ مگر شہید بوجہ اس کے کہ وہ شہادت کی فضیلت دیکھتا ہے لہٰذا وہ اس بات کو دوست رکھتا ہے کہ دنیا کی طرف لوٹ کر آئے اور دوبارہ پھر قتل کیا جائے” ۔

یہ روایت تو ثابت کرتی ہے کہ مومن کسی صورت میں دنیا میں آنا پسند نہیں کرتا بلکہ اللہ کے پاس اپنی بھلائی میں رہتا ہے صرف شہید دنیا میں شہادت کی فضیلت کے باعث آنا پسند کرتا ہے۔ اب یہ اور بات ہے کہ اپنی دوکانداری کے لئے قبر کو برزخ بنا دیا اور ان روایات کو اپنے مؤقف کی سان پر چڑھا کر یہ بتایا گیا کہ یہاں اس دنیاوی قبر سے دنیا میں آنے کی بات ہے ۔۔ فیاللعجب

غرض روایتاً اور درایتاً  مندرجہ بالا بحث سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ اعادہ روح کی یہ روایت اورا عادہ روح کا نظریہ درست نہیں  اور نہ ہی اس دنیاوی قبر میں عذاب کا عقیدہ صحیح ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *