Categories
Uncategorized

سجدہ یوسف علیہ السلام

اگر لوگوں کے درمیان کوئی تنازعہ ہو تو حکم ہے کہ اسے اللہ اور رسول اللہ ﷺ ، یعنی قرآن و حدیث  سے رجوع کیا جائے ۔

يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِيْعُوا اللّٰهَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَاُولِي الْاَمْرِ مِنْكُمْ ۚ فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِيْ شَيْءٍ فَرُدُّوْهُ اِلَى اللّٰهِ وَالرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ ۭ ذٰلِكَ خَيْرٌ وَّاَحْسَنُ تَاْوِيْلًا

( سورہ نساء : 59 )

’’ اے ایمان والو ! اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول کی اور جو تم صاحب امر ہوں، پھر اگر تمہارے درمیان کسی بات پر اختلاف ہو تو پلٹا دو اسے اللہ اور رسول ؐ کی طرف، اگر تم حقیقت میں اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہو۔ یہ  بہترین طریقہ کار ہے اور اس کا  انجام بھی بہترین ہے‘‘

لہذا اس بہترین طریقے پر ہی اس مسئلہ کو حل کیا جائے، چناچہ ہم سورہ یوسف کی طرف آ تے ہیں:

یہ سجدہ اللہ  تعالیٰ کو ہوا یا یوسف علیہ السلام کو

اِذْ قَالَ يُوْسُفُ لِاَبِيْهِ يٰٓاَبَتِ اِنِّىْ رَاَيْتُ اَحَدَ عَشَرَ كَوْكَبًا وَّالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ رَاَيْتُهُمْ لِيْ سٰجِدِيْنَ 

آیت نمبر : 4

[اِذْ : جب ] [قَالَ : کہا ] [يُوْسُفُ : یوسف ] [لِاَبِيْهِ : اپنے باپ سے ] [يٰٓاَبَتِ : اے میرے باپ ] [اِنِّىْ : بیشک میں ] [رَاَيْتُ : میں نے دیکھا ] [اَحَدَ عَشَرَ : گیا رہ ] [كَوْكَبًا : ستارے ] [وَّالشَّمْسَ : اور سورج ] [وَالْقَمَرَ : اور چاند ] [رَاَيْتُهُمْ : میں نے انہیں دیکھا ] [لِيْ : اپنے لیے ] [سٰجِدِيْنَ : سجدہ کرتے ]

[اِذْ : جب ] [قَالَ : کہا ] [يُوْسُفُ : یوسف ] [لِاَبِيْهِ : اپنے باپ سے ] [يٰٓاَبَتِ : اے میرے باپ ] [اِنِّىْ : بیشک میں ] [رَاَيْتُ : میں نے دیکھا ] [اَحَدَ عَشَرَ : گیا رہ ] [كَوْكَبًا : ستارے ] [وَّالشَّمْسَ : اور سورج ] [وَالْقَمَرَ : اور چاند ] [رَاَيْتُهُمْ : میں نے انہیں دیکھا ] [لِيْ : اپنے لیے ] [سٰجِدِيْنَ : سجدہ کرتے ]

’’جب یوسف ؑنے اپنے والد سے کہا کہ ابا میں نے (خواب میں) گیارہ ستاروں اور سورج اور چاند کو دیکھا۔ دیکھاکہ وہ مجھے سجدہ کر رہے ہیں‘‘۔

قَالَ يٰبُنَيَّ لَا تَقْصُصْ رُءْيَاكَ عَلٰٓي اِخْوَتِكَ فَيَكِيْدُوْا لَكَ كَيْدًا  ۭ اِنَّ الشَّيْطٰنَ لِلْاِنْسَانِ عَدُوٌّ مُّبِيْنٌ

آیت نمبر : 5

[قَالَ : اس نے کہا ] [يٰبُنَيَّ : اے میرے بیٹے ] [لَا تَقْصُصْ : نہ بیان کرنا ] [رُءْيَاكَ : اپنا خواب ] [عَلٰٓي : پر (سے)] [اِخْوَتِكَ : اپنے بھائی ] [فَيَكِيْدُوْا : وہ چال چلیں گے ] [لَكَ : تیرے لیے ] [كَيْدًا : کوئی چال ] [اِنَّ : بیشک ] [الشَّيْطٰنَ : شیطان ] [لِلْاِنْسَانِ : انسان کے لیے (کا)] [عَدُوٌّ: دشمن ] [مُّبِيْنٌ: کھلا ]

’’انہوں ( یعقوب ؑ ) نے کہا کہ بیٹا اپنے خواب کا ذکر اپنے بھائیوں سے نہ کرنا نہیں تو وہ تمہارے لئے کوئی فریب کی چال چلیں گے۔بے شک شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے‘‘۔

وَكَذٰلِكَ يَجْتَبِيْكَ رَبُّكَ وَيُعَلِّمُكَ مِنْ تَاْوِيْلِ الْاَحَادِيْثِ وَيُـــتِمُّ نِعْمَتَهٗ عَلَيْكَ وَعَلٰٓي اٰلِ يَعْقُوْبَ كَمَآ اَتَمَّــهَا عَلٰٓي اَبَوَيْكَ مِنْ قَبْلُ اِبْرٰهِيْمَ وَاِسْحٰقَ  ۭ اِنَّ رَبَّكَ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ

آیت نمر : 6

[وَكَذٰلِكَ : اور اسی طرح ] [يَجْتَبِيْكَ : چن لے گا تجھے ] [رَبُّكَ : تیرا رب ] [وَيُعَلِّمُكَ : اور سکھائے گا تجھے ] [مِنْ : سے ] [تَاْوِيْلِ : انجام نکالنا ] [الْاَحَادِيْثِ : باتیں ] [وَيُـــتِمُّ : اور مکمل کرے گا ] [نِعْمَتَهٗ : اپنی نعمت ] [عَلَيْكَ : تجھ پر ] [وَ : اور ] [عَلٰٓي : پر ] [اٰلِ يَعْقُوْبَ : یعقوب کے گھر والے ] [كَمَآ : جیسے ] [اَتَمَّــهَا : اس نے اسے پورا کیا ] [عَلٰٓي : پر ] [اَبَوَيْكَ : تیرے باپ دادا ] [مِنْ قَبْلُ : اس سے پہلے ] [اِبْرٰهِيْمَ : ابراہیم ] [وَاِسْحٰقَ : اور اسحق ] [اِنَّ : بیشک ] [رَبَّكَ : تیرا رب ] [عَلِيْمٌ: علم والا ] [حَكِيْمٌ: حکمت والا ]

’’اور اسی طرح تمہارا رب تمہیں برگزیدہ (ممتاز) کرے گا اور (خواب کی) تعبیر کا علم سکھائے گا۔ اور جس طرح اس نے اپنی نعمت پہلے تمہارے دادا ابراہیم اور اسحاق پر پوری کی تھی اسی طرح تم پر اور اولاد یعقوب پر پوری کرے گا۔ بیشک تمہارا پروردگار (سب کچھ) جاننے والا (اور) حکمت والا ہے‘‘۔

سورہ یوسف کی ان ابتدائی آیات میں اس بات کا ذکر ہے کہ یوسف علیہ السلام  نے ایک خواب دیکھا اور اس کا ذکر اپنے والد سے کیا کہ سورج، چاند اور گیارہ ستارے مجھے سجدہ کر رہے ہیں۔والد جو کہ خود ایک نبی تھے اور اللہ کی طرف سے دئیے گئے  علم سے مالا مال تھے ، پہچان گئے کہ مالک نے یوسف علیہ السلام کوبھی چن لیا ہے اور انہیں بھی عظیم مقام عطا فرمائے گا۔ انہوں نے بیٹے سے یہی کہا کہ بیٹے اپنا یہ خواب اپنے بھائیوں کو نہ بتانا۔ اس سورہ میں جابجا اس بات کا ذکر ہے کہ یوسف علیہ السلام کے بھائی ان سے سخت جلتے تھے اور انہیں نقصان پہچانے کی کوشش کرتے تھے۔لہذا منع کیا کہ کہ انہیں نے بتانا ۔ یہ منع اسی لئے تھا کہ ان کی جلن و حسد میں اضافہ ہو جائے گا اور وہ جل کر انہیں نقصان پہنچانے کی کوشش کریں گے۔

(یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ منکریں سجدہ یوسف علیہ السلام  ، یوسف علیہ السلام کو ہونے والے سجدے کو ’’ غیر اللہ کو سجدہ ‘‘ قرار دیتے ہوئے اسے شرکیہ عمل قرار دیتے ہیں۔ اب کیا یہ خواب ان کے نزدیک شرکیہ بات نہیں کہ ’’ غیر اللہ کو سجدہ ‘‘ ہو رہا ہے۔ سجدہ جب صرف اللہ ہی کو ہے تو یہ لوگ اسے شرک قرار کیوں نہیں دیتے !)

یعقوب علیہ السلام نے ان سے کہا کہ  جس طرح مالک نے ابراہیم علیہ السلام اور اسحق علیہ السلام پر  اپنی  عظیم نعمتیں برسائیں تھیں اسی طرح اب تم اور آل یعقوب  علیہ السلام کو بھی اپنی نعمتوں سے نوازے گا اور تمہیں تعبیر کا علم عطا فرمائے گا۔ گویا  وہ یہ سمجھ گئے تھے کہ یوسف علیہ السلام کو بھی نبی بنایا جائے گا اور یہ اشارہ نبوت  ہی کی طرف ہے۔

یعقوب علیہ السلام نے یوسف علیہ السلام خواب کو  اللہ کی طرف سے وحی سمجھا کہ انہیں نبوت کا اشارہ دے دیا گیا ہے۔ کچھ افراد کو یہ بھی اعتراض ہوا کہ کسی بچے پر تو وحی نازل ہی نہیں ہوتی، اسے محض ایک خواب سمجھا جائے۔ اس بارے میں دلائل تو اور بھی ہیں لیکن اسی سورہ میں یوسف علیہ السلام پر بچپن میں وحی کا ذکر ہے، ملاحطہ فرمائیں :

فَلَمَّا ذَهَبُوْا بِهٖ وَاَجْمَعُوْٓا اَنْ يَّجْعَلُوْهُ فِيْ غَيٰبَتِ الْجُبِّ  ۚ وَاَوْحَيْنَآ اِلَيْهِ لَتُنَبِّئَنَّهُمْ بِاَمْرِهِمْ ھٰذَا وَهُمْ لَا يَشْعُرُوْنَ

آیت نمبر : 15

[فَلَمَّا : پھر جب ] [ذَهَبُوْا : وہ لے گئے ] [بِهٖ : اس کو ] [وَاَجْمَعُوْٓا : اور انہوں نے اتفاق کرلیا ] [اَنْ : کہ ] [يَّجْعَلُوْهُ : اسے ڈال دیں ] [فِيْ : میں ] [غَيٰبَتِ : اندھا ] [الْجُبِّ : کنواں ] [وَاَوْحَيْنَآ : اور ہم نے وحی بھیجی ] [اِلَيْهِ : اس کی طرف ] [لَتُنَبِّئَنَّهُمْ : کہ تو انہیں ضرور جتائے گا ] [بِاَمْرِهِمْ : ان کا کام ] [ھٰذَا : اس ] [وَهُمْ : اور وہ ] [لَا يَشْعُرُوْنَ : نہ جانتے ہوں گے ]

: ’’ پھر جب وہ لے کر چلے اس ( یوسف علیہ السلام ) کو تو انہوں نے اتفاق کرلیا کہ اسے ( یوسف علیہ السلام ) کو ڈالدیں  کسی گمنام گہرے کنوئیں میں، اور ہم ( اللہ تعالیٰ ) نے بھیجی وحی اس ( یوف علیہ السلام ) کی طرف تم ضرور ( کبھی ) انہیں بتاو گے  ان کا اس کام کے بارے میں اور وہ نہیں جانتے ( کہ کیا ہونے والا ہے)۔

واضح ہوا کہ اسی چھوٹی عمر میں یوسف علیہ السلام پر مزید بھی وحی کی گئی، یاد رکھیں کہ انبیاء علیہ السلام کے خواب وحی ہوتی ہیں۔ عائشہ ؓ فرماتی ہیں :

اَوَّلُ مَا بُدِیءَ رَسُوْلُ اﷲِ مِنَ الْوَحِیِ الرُّؤْیَا الصَّالِحَۃُ فِی النَّوْمِ فَکَانَ لاَ یَرٰی رُؤْیَآ اِلاَّ جَآءَ تْ مِثْلَ فَلَقِ الصُّبْحِ

(بخاری:کتاب الوحی، باب کیف کان … من بعدہ)

’’ پہلے پہلے وحی جو رسول اﷲﷺ پر اترنی شروع ہوئی، وہ اچھے اچھے خواب تھے جو بحالت نیند آپ دیکھتے تھے۔ چناچہ جب بھی آپ خواب دیکھتے تو وہ صبح کی روشنی کی طرح ظاہر ہوجاتا‘‘۔

سورہ یوسف میں ایک طویل بیان ہے کہ کس کس طرح یوسف علیہ السلام آزمائشوں سے گزرے اور آخر کار انہیں اللہ تعالیٰ نے حکمران بنا دیا۔ پھر ان کے بھائی یوسف علیہ السلام کے پاس پہنچے ہیں اور یوسف علیہ السلام نے اپنی قمیص انہیں دی ہے کہ وہ یعقوب علیہ السلام کے منہ پر ڈالدیں تو ان کی بینائی واپس ہو جائے گی۔ملاحظہ فرمائیں اس بارے میں قرآن کا بیان :

فَلَمَّآ اَنْ جَاۗءَ الْبَشِيْرُ اَلْقٰىهُ عَلٰي وَجْهِهٖ فَارْتَدَّ بَصِيْرًا  ۚ قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّكُمْ ڌ اِنِّىْٓ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ

یت نمبر : 96

[فَلَمَّآ : پھر جب ] [اَنْ : کہ ] [جَاۗءَ : آیا ] [الْبَشِيْرُ : خوشخبری دینے والا ] [اَلْقٰىهُ : اس نے وہ (کرتہ) ڈالا ] [عَلٰي : پر ] [وَجْهِهٖ : اس کا منہ ] [فَارْتَدَّ : تو لوٹ کر ہوگیا ] [بَصِيْرًا : دیکھنے والا ] [قَالَ : بولا ] [اَلَمْ اَقُلْ : کیا میں نے تمہیں کہا تھا ] [لَّكُمْ : تم سے ] [اِنِّىْٓ اَعْلَمُ : بیشک میں جانتا ہوں ] [مِنَ : (طرف) سے ] [اللّٰهِ : اللہ ] [مَا : جو ] [لَا تَعْلَمُوْنَ : تم نہیں جانتے ]

’’پھر جب خوشخبری سنانے والا  پہنچا اور ان ( یوسف علیہ السلام ) کی قمیص اس( یعقوب علیہ السلام ) کے چہرے پر ڈالی، تو  ان کی آنکھیں پھر سے دیکھنے والی ہو گئیں۔ انہوں نے کہا کہ میں سے نہیں کہتا تھا کہ میں بے شک میں اللہ کی طرف سے وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔‘‘

ظاہر ہے کہ انبیاء پر وحی ہوتی ہے عام انسان کا علم تو ان کی طرح ہو ہی نہیں سکتا۔  اللہ تعالیٰ نے انہیں یوسف علیہ السلام کے بارے میں یقینا ایسا علم دیا تھا کہ وہ یوسف علیہ السلام کے خواب سے ہی پہچان گئے تھے کہ اللہ تعالیٰ انہیں نبی بنائے گا اور یہ بھی اللہ کی طرف سے انہیں بتا دیا گیا تھا  کہ کھوئے ہوئے یوسف علیہ السلام انہیں واپس مل جائیں گے۔ مزید دیکھیں :

قَالُوْا يٰٓاَبَانَا اسْـتَغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَآ اِنَّا كُنَّا خٰطِـــِٕـيْنَ

آیت نمبر: 97

[قَالُوْا : وہ بولے ] [يٰٓاَبَانَا : اے ہمارے باپ ] [اسْـتَغْفِرْ لَنَا : ہمارے لیے بخشش مانگ ] [ذُنُوْبَنَآ : ہمارے گناہ ] [اِنَّا : بیشک ہم ] [كُنَّا : تھے ] [خٰطِـــِٕـيْنَ : خطا کار (جمع)]

’’ ( وہ بیٹے ) کہنے لگے : اے  ہمارے والد ہمارے گناہوں کے بارے میں ( اللہ سے ) استغفار کریں ، بے شک ہم قصور وار تھے‘‘

قَالَ سَوْفَ اَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّيْ  ۭ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ

آیت نمبر : 98

[قَالَ : اس نے کہا ] [سَوْفَ : جلد ] [اَسْتَغْفِرُ : میں بخشش مانگوں گا ] [لَكُمْ : تمہارے لیے ] [رَبِّيْ : میرا رب ] [اِنَّهٗ : بشیک وہ ] [هُوَ : وہ ] [الْغَفُوْرُ : بخشنے والا ] [الرَّحِيْمُ : نہایت مہربان ]

’’ ( یعقوب ؑ ٰ نے کہا میں جلد تمہارے لئے بخشش مانگوں گا، میرا رب بڑا بخشنےوالا اور مہربان ہے‘‘۔

اب وہ یوسف علیہ السلام سے ملنے کے لئے گئے ہیں۔

فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلٰي يُوْسُفَ اٰوٰٓى اِلَيْهِ اَبَوَيْهِ وَقَالَ ادْخُلُوْا مِصْرَ اِنْ شَاۗءَ اللّٰهُ اٰمِنِيْنَ

آیت نمبر : 99

[فَلَمَّا : پھر جب ] [دَخَلُوْا : وہ داخل ہوئے ] [عَلٰي يُوْسُفَ : یوسف پر (پاس)] [اٰوٰٓى: اس نے ٹھکانہ دیا ] [اِلَيْهِ : اپنے پاس ] [اَبَوَيْهِ : اپنے ماں باپ ] [وَقَالَ : اور کہا ] [ادْخُلُوْا : تم داخل ہو ] [مِصْرَ : مصر ] [اِنْ : اگر ] [شَاۗءَ اللّٰهُ : اللہ نے چاہا ] [اٰمِنِيْنَ : امن (دلجمعی) کے ساتھ ]

’’ پھر جب  یہ سب یوسف ؑ کے پاس  پہنچے تو  اس ( یوسف علیہ السلام ) نے اپنے والدین کو  اپنے پاس جگہ دی اور کہا  مصر میں چلیں اللہ نے چاہا تو  امن سے رہیں گے ‘‘۔

وَرَفَعَ اَبَوَيْهِ عَلَي الْعَرْشِ وَخَرُّوْا  لَهٗ سُجَّدًا  ۚ وَقَالَ يٰٓاَبَتِ هٰذَا تَاْوِيْلُ رُءْيَايَ مِنْ قَبْلُ ۡ قَدْ جَعَلَهَا رَبِّيْ حَقًّا  ۭ وَقَدْ اَحْسَنَ بِيْٓ اِذْ اَخْرَجَنِيْ مِنَ السِّجْنِ وَجَاۗءَ بِكُمْ مِّنَ الْبَدْوِ مِنْۢ بَعْدِ اَنْ نَّزَغَ الشَّيْطٰنُ بَيْنِيْ وَبَيْنَ اِخْوَتِيْ  ۭ اِنَّ رَبِّيْ لَطِيْفٌ لِّمَا يَشَاۗءُ  ۭ اِنَّهٗ هُوَ الْعَلِيْمُ الْحَكِيْمُ

آیت نمبر : 100

[وَرَفَعَ : اور اونچا بٹھایا ] [اَبَوَيْهِ : اپنے ماں باپ ] [عَلَي : پر ] [الْعَرْشِ : تخت ] [وَخَرُّوْا : اور وہ گرگئے ] [لَهٗ : اس کے لیے ( آگے)] [سُجَّدًا : سجدہ میں ] [وَقَالَ : اور اس نے کہا ] [يٰٓاَبَتِ : اے میرے ابا ] [هٰذَا : یہ ] [تَاْوِيْلُ : تعبیر ] [رُءْيَايَ : میرا خواب ] [مِنْ قَبْلُ : اس سے پہلے ] [قَدْ جَعَلَهَا : اس کو کردیا ] [رَبِّيْ : میرا رب ] [حَقًّا : سچا ] [وَ : اور ] [قَدْ اَحْسَنَ : بیشک اس نے احسان کیا ] [بِيْٓ: مجھ پر ] [اِذْ : جب ] [اَخْرَجَنِيْ : مجھے نکالا ] [مِنَ : سے ] [السِّجْنِ : قید خانہ ] [وَجَاۗءَ : اور لے آیا ] [بِكُمْ : تم سب کو ] [مِّنَ : سے ] [الْبَدْوِ : گاؤں ] [مِنْۢ بَعْدِ : اس کے بعد ] [اَنْ : کہ ] [نَّزَغَ : جھگڑا ڈالدیا ] [الشَّيْطٰنُ : شیطان ] [بَيْنِيْ : میرے درمیان ] [وَبَيْنَ اِخْوَتِيْ : اور میرے بھائیوں کے درمیان ] [اِنَّ : بیشک ] [رَبِّيْ : میرا رب ] [لَطِيْفٌ: عمدہ تدبیر کرنیوالا ] [لِّمَا يَشَاۗءُ : جس کے لیے چاہے ] [اِنَّهٗ : بیشک وہ ] [هُوَ : وہ ] [الْعَلِيْمُ : جانے والا ] [الْحَكِيْمُ : حکمت والا ]

’’  اور بٹھایا  اپنے والدین کو تحت کے اوپر اور  وہ سب اس ( یوسف علیہ السلام ) کے لئے سجدے میں گر گئے۔، اور کہا ( یوسف علیہ السلام ) نے :  اے میرے والد یہ ہے اس خواب کی تعبیر جو پہلے دیکھا تھا اور  میرے رب نے اسے ( خواب کو )  سچا کر دکھایا، اور اللہ نے میرے ساتھ احسان کیا کہ مجھے قید خانے سے نکالا اور  لے آیا تم سب کو گاؤں سے ، اس کے بعد کہ  شیطان نے میرے اور میرے بھائیوں کے درمیان اختلاف ڈال دیا تھا۔ بے شک میرا جو چاہتا ہے تدبیر کرتا ہے، بے شک وہ جاننے والا اور حکمت والا ہے ‘‘۔

یہ اور اس سے قبل کی آیات دیکھتے جائیں کہیں بھی اللہ تعالیٰ کا ذکر نہیں بلکہ ہر جگہ یوسف علیہ السلام کا ذکر بیان کیا جا رہا ہے کہ اس کے والدین اس کے پاس آئے وہ انہیں شہر ( مصر ) لیکر گیا، اس نے اپنے والدیں کو اپنے پاس تخت کے اوپر بٹھایا اور سب اس کے لئے سجدے میں گر گئے۔

اب یہاں یہ کہہ دینا کہ’’ لَهٗ ‘‘  کی ضمیر اللہ تعالیٰ کی طرف ہے  اور یہ سجدہ اللہ تعالیٰ کو ہوا ہے تو اس کا سیاق و سباق سے کوئی تعلق ثابت ہی نہیں ہوتا۔  یہ ساری ضمائرصرف ایک انسان کے طرف اشارہ کر رہی ہیں، اور وہ ہیں یوسف علیہ السلام، سوچیں کس نے والدین کو تخت پر بٹھایا تھا ؟ اور تخت پر بٹھاتے ہیں اس کے سامنے سجدہ کا ذکر ہے تو معاملہ بالکل صاف ہے کہ ’ لَهٗ ‘‘ کی یہ ضمیر اللہ تعالیٰ نہیں یوسف علیہ السلام کے لئے ہے اور اس سجدے کے فورا بعد یوسف علیہ السلام کہہ بھی رہے ہیں کہ اے میرے والد یہ ہے اس خواب کی تعبیر جو پہلے دیکھا تھا اور اللہ تعالیٰ نے اسے سچا کر دکھایا۔ سوچیں !  وہ خواب کس نے دیکھا تھا ؟ کون کہہ رہا ہے کہ یہ ہے اس خواب کی تعبیر؟

قرآن کی اس واضح بات کو جھٹلایا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ اگر یہ سجدہ یوسف علیہ السلام کو مانا جائے تو قرآن کا انکار ہو جاتا ہے کیونکہ غیر اللہ کو سجدہ حرام اور یہ عقیدہ مشرکانہ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *