Categories
Uncategorized

زکواۃ

زکواۃ کے لغوی معنی :

  • بڑھنا ، پھلنا ، پھولنا ، زکوۃ کےمعنی نمو (بڑھنے اور افزونی) کے ہیں۔
  • لغت میں زکوۃ کے معنی طہارت اور پاکیزگی بھی ہیں۔

جَنّٰتُ عَدْنٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا  ۭ وَذٰلِكَ جَزٰۗؤُا مَنْ تَزَكّٰى

(طٰہ: 76)

’’ سدابہار باغ ہیں جن کے نیچے نہریں رواں ہوں گی، ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے، یہ جزاء ہے اس شخص کی جو پاکیزگی اختیار کرے‘‘۔

زکواۃ کے اصطلاحی معنی :

چونکہ فریضہ زکوٰۃ  کے ذریعے نفسیاتی و مالی پاکیزگی حاصل ہوتی ہے، اس لیے اسے زکوٰۃ  کہا جاتا ہے۔ جبکہ اصطلاح میں اس سے مراد ’’مخصوص مال میں سے، مخصوص لوگوں پر،  مخصوص وقت میں جو واجب الادا حق ہوتا ہے اسے زکوٰۃ  کہتے ہیں۔‘‘ زراعت، صنعت اور تجارت سے حاصل ہونے والی دولت ، مویشی (بھیڑ، بکری گائے وغیرہ) ، نقد روپیہ ، سونا چاندی، معدنیات اور دفن شدہ خزانوں کا  ایک حصہ بطور زکوٰۃ  ادا کرنا فرض ہے ۔

زکواۃ کی اہمت و فرضیت:

قرآن مجید میں کئی ایک مقامات پر زکوٰۃ  ادا کرنے کے لیے حکم دیا گیا ہے۔ اور اکثر  مقامات پر اسے صلوٰۃ کے ساتھ ہی بیان کیا گیا ہے۔

وَأَقِيمُوْا الصَّلٰوةَ وَآتُوْا الزَّكٰوةَ

(البقرۃ :43)

’’صلوٰۃ قائم کرواور زکوٰۃ دو۔‘‘

پچھلی  امتوں پر بھی زکوٰۃ فرض تھی۔

عیسیٰ علیہ السلام

۔۔۔ وَأَوْصَانِي بِالصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ مَا دُمْتُ حَيًّا

(مریم: 31)

’’ ۔۔۔اور مجھے تاکید فرمائی صلوٰۃ اور زکوٰة کی جب تک میں زندہ رہوں‘‘۔

اہل کتاب کے نیک لوگوں کا شیوہ زکوٰۃ ادا کرنا تھا۔

لَكِنِ الرَّاسِخُونَ فِي الْعِلْمِ مِنْهُمْ وَالْمُؤْمِنُونَ يُؤْمِنُونَ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ وَالْمُقِيمِينَ الصَّلَاةَ وَالْمُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَالْمُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أُولَئِكَ سَنُؤْتِيهِمْ أَجْرًا عَظِيمًا

(النساء: 162)

’’ مگر ان میں جو لوگ پختہ علم رکھنے والے ہیں اور ایماندار ہیں وہ سب اس تعلیم پر ایمان لاتے ہیں جو تمہاری طرف نازل کی گئی ہے اور جو تم سے پہلے نازل کی گئی تھی۔  اس طرح کے ایمان لانے والے اور صلوٰۃ و زکوٰة کی پابندی کرنے والے اور اللہ اور روز آخرت پر سچّا عقیدہ رکھنے والے لوگوں کو ہم ضرور اجر عظیم عطا کریں گے‘‘۔

کفار و مشرکین کا شیوہ زکوٰۃ ادا نہ کرنا ہے

۔۔۔ وَوَيْلٌ لِلْمُشْرِكِينَ الَّذِينَ لَا يُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَهُمْ بِالْآخِرَةِ هُمْ كَافِرُونَ

(فصلت:6-7)

’’ ۔۔۔تباہی ہے ان مشرکوں کے لیے۔  جو زکوٰۃ نہیں دیتے، اور آخرت کے منکر ہیں‘‘۔

زکوٰۃ صرف ایک عمل نہیں ، بلکہ ایمان کی شرط ہے

فَاِذَا انْسَلَخَ الْاَشْهُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِيْنَ حَيْثُ وَجَدْتُّمُــوْهُمْ وَخُذُوْهُمْ وَاحْصُرُوْهُمْ وَاقْعُدُوْا لَهُمْ كُلَّ مَرْصَدٍ ۚ فَاِنْ تَابُوْا وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتَوُا الزَّكٰوةَ فَخَــلُّوْا سَـبِيْلَهُمْ ۭاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ

(التوبۃ:5)

’’پس جب حرام مہینے گزر جائیں تو مشرکین کو قتل کرو جہاں پاؤ اور انہیں پکڑو اور گھیرو اور ہر گھات میں ان کی خبر لینے کے لیے بیٹھو۔ پھر اگر وہ توبہ کرلیں اور صلوٰۃ قائم کریں اور زکوٰة دیں تو انہیں چھوڑ دو ۔ اللہ درگزر کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے‘‘۔

زکوٰۃ ایمان کی دلیل ہے

۔۔۔وَالزَّکَاةُ بُرْهَانٌ۔۔۔

(سنن ابن ماجہ:كتاب الطهارة وسننها، باب الوضوء شطر الإيمان)

۔۔۔ اور زکوٰۃ (ایمان کی) دلیل ہے ۔۔۔

اہل ایمان کے دوست کون ہیں؟

إِنَّمَا وَلِيُّكُمُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَالَّذِينَ آمَنُوا الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَهُمْ رَاكِعُونَ

(المائدۃ:55)

’’ تمہارا دوست تو اصل میں صرف اللہ، اس کا رسول اور وہ مومن ہیں جو صلوٰۃ قائم کرتے ہیں زکوٰۃ دیتے ہیں اور اللہ کے آگے جھکنے والے ہیں‘‘۔

زکوٰۃ کی ادائیگی اسلام میں داخلہ اور انکار درحقیقت اسلام کا انکار ہے

رسول اللہ ﷺنے فرمایا: ’’مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک جنگ کروں جب تک کہ وہ اس بات کی گواہی نہ دینے لگیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد اللہ کے رسول ہیں اور صلوٰۃ پڑھنے لگیں اور زکوٰۃ دیں، پس جب یہ کام کرنے لگیں تو مجھ سے ان کے جان ومال محفوظ ہوجائیں گے، علاوہ اس سزا کے جو اسلام نے کسی جرم میں ان پر مقرر کردی ہے اور ان کا حساب (و کتاب) اللہ کے ذمے ہے۔‘‘(صحیح بخاری: کتاب الایمان، بَابٌ: فَإِنْ تَابُوا وَأَقَامُوا الصَّلاَةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ ۔۔۔)

منکر زکوٰۃ اسلام سے خارج ہوجاتا ہے

اہل اسلام کا اس بات پر اتفاق ہے کہ زکوٰۃ  کا انکار کرنے والا دائرہ اسلام سے خارج ہوجاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے منکرین زکوٰۃ  کے خلاف صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے قتال پر بیعت لی۔

زکوٰۃ کے اہم اور بنیادی مسائل سمجھنے کے لیے چار چیزوں کو سمجھنا ضروری ہے
اشیاء زکوٰۃ
نصاب زکوٰۃ
شرائط زکوٰۃ
مصارف زکوٰۃ

اشیاء زکواۃ

نقدی ، نباتات، حیوانات ، اموال تجارت، سونا، چاندی

سونا :

چاہیے ڈلی ہو یا اینٹ، زیور ہو یا برتن

استعمال میں ہو یا نہ ہو

خالص ہو یاملاوٹ شدہ

یہ بہرحال مال زکوٰۃ ہے

چاندی :

چاہیے ڈلی ہو یا اینٹ، زیور ہو یا برتن

استعمال میں ہو یا نہ ہو

خالص ہو یاملاوٹ شدہ

یہ بہرحال مال زکوٰۃ ہے

نقدی:

چاہے ملکی ہو یا غیر ملکی، بینک میں ہویا اپنے پاس

کسی کو امانت یا قرض دی ہوئی ہو (اور ملنے کی امید ہو) یا سرمایہ کاری کر رکھی ہو۔

کرنسی کا شکل میں یا کرنسی کی سندات کی شکل میں

اموال تجارت:

بیچنےکی نیت سےخریدی تھی

اب تک بیچنے کی نیت باقی ہے

یہ ان دوشرطوں سے مال زکوٰۃ ہے ورنہ نہیں

حیوانات :

تین قسم کے جانوروں کی زکوٰۃ فرض ہے جبکہ سائمہ ہوں۔ ۱۔ اونٹ    ۲۔ گائے ۳۔ بکری
سائمہ وہ جانور ہے جو سال کے اکثر حصہ میں چر کر گزرکرتا ہو اور اس سے مقصود صرف دودھ لینا یا نسل بڑھانا یا شوقیہ پرورش و فربہ کرنا ہو اور اگر گھر میں گھاس لا کر کھلاتے ہوں یا مقصود بوجھ لادنا یا ہل وغیر کسی کام میں لانا یا سواری لینا ہے تو اگرچہ چر کر گزر کرتا ہو وہ سائمہ نہیں اور اس کی زکوٰۃ واجب نہیں۔

بھیڑ دنبہ، بکری کے حکم میں داخل ہے۔

بھینس بیل گائے کے حکم میں ہے۔

ایک سے نصاب پورا نہ ہوتا ہو تو دوسرے کو ملاکر پورا کریں گے۔

گھوڑے گدھے خچر اگرچہ چرائی پر ہوں ان کی زکوٰۃ نہیں ہاں اگر تجارت کے لیے ہوں توان پر زکوٰۃ ہوگی۔

اگر گھوڑے آلاتِ تجارت کے طور پراستعمال ہوں مثلاً ٹانگوں وغیرہ میں جوتے جائیں یا اُجرت پر بار برداری کے لئے استعمال ہوں تو ان گھوڑوں کی اصل مالیت پر زکوٰۃ نہیںہوگی بلکہ ان کی آمدن پر زکوٰۃ ہوگی اور اگر گھوڑے بذاتِ خود خرید و فروخت کے لئے رکھے ہوں تو ان کی کل مالیت پر زکوٰۃ ہوگی۔

اسی طرح دیگر جانوروں مثلاً پولٹری فارم کی مرغیوں، مچھلی فارم کی مچھلیوں اور ڈیری فارم کی بھینسوں کو بھی گھوڑوں پر قیاس کیا جائے گا یعنی اگر یہ جانور تجارت کے لئے ہیں تو ان کی کل مالیت پر سال گزرنے کے بعد زکوٰۃ دی جائے گی۔

نباتات

ہر قسم کی کھیتی پر زکوٰۃ(عُشْر)ہے۔

بارانی اور نہری زمین پر زکوٰۃ کی ادائیگی کے پیمانے مختلف ہیں۔

نباتات  پر زکوٰۃ سال بعد نہیں، بلکہ اُس کی کٹائی کے وقت ہے۔

کھیتی پر عشر کا حکم

’’وہ اللہ ہی ہے جس نے بیلوں اور درختوں والے باغ اور کھجور کے درخت پیدا کیے، کھیتیاں اگائیں جن سے قسم قسم کی اشیائے خور و نوش حاصل ہوتی ہیں، زیتون اور انار کے درخت پیدا کیے جن کے پھل صورت میں مشابہ اور مزے میں مختلف ہوتے ہیں۔ کھائیے ان کی پیداوار جب کہ یہ پھلیں۔ اور اللہ کا حق ادا کیجیے  جب آپ اس کی فصل کاٹیں۔  اور حد سے نہ گزریے کہ اللہ حد سے گزرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ ‘‘ (الانعام:141)

نصاب زکوٰۃ:

نصابِ زکوٰۃ  سے مراد یہ کہ مال کی وہ  کم از کم مقدار (Quantity) جس میں مخصوص مقدار میں مستحق کو دینا ضروری ہے۔ شریعت اسلامیہ نے سب اشیاء کا نصابِ زکوٰۃ  ایک سا نہیں رکھا۔ اس لیے اس میں ذرا تفصیل ہے۔

زکوٰۃ  دینا کن پر لازم اور ضروری ہے؟

تمام اشیاء ہر زکوٰۃ کی فرضیت اُس وقت ہوتی ہے جب اُن کو آپ کی ملکیت میں ایک سال ہو جائے۔ جیسا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نےعلی رضی اللہ عنہ سے  فرمایا:

’’جب تمہارے پاس دو سو درہم ہوں اور ان پر ایک سال بھی گزر جائے تو ان پر پانچ درہم زکوٰۃ  ہے۔۔۔‘‘

(سنن ابو داؤد: کتاب الزکاۃ، باب في زكاة السائمة)

سونا:

سونے کا نصاب بیس دینار ہے۔ اور اس کا بھی چالیسواں حصہ نکالنا ضروری ہے۔ رائج الوقت پیمانے کے مطابق 87.48گرام سونا نصاب ہو گا۔ اس میں ایک سال گزرنے پر 2.125گرام سونا یا اس کی قیمت بطور زکوٰۃ  ادا کرنا ضروری ہے۔

چاندی:

چاندی کا نصاب دو سو درہم ہے۔ اور اس کا چالیسواں حصہ نکالنا ضروری ہے۔ رائج الوقت پیمانے کے مطابق اس کی مقدار 612گرام ہے۔ جب کسی کے پاس 612گرام چاندی ہو اور اس پر سال گزر جائے تو اس میں سے 15.3گرام چاندی بطور زکوٰۃ  ادا کرنا واجب ہے۔

وجودہ دور میں سونے اور چاندی کے سکوں کو کرنسی نوٹوں سے بدل دیا گیا ہے۔ اس لیے یہ حکم بھی ان پر منتقل ہو جائے گا۔ مستحقین کے فائدے کے پیش نظر چاندی کے نصاب کو معیار بنانا چاہیے۔

نقدی اور متفرق اشیاء کی زکوٰۃ چاندی کے نصاب کے مطابق نکالی جائے گی۔

غذائی اجناس:

کھیتوں کی پیداوار کم از کم پانچ وسق  (652.8کلو گرام) ہو تو اس کا دسواں حصہ(عشر) واجب الادا ہوتا ہے۔اور یہ ادائیگی فصل کی کٹائی کے وقت کی جاتی ہے۔

مگر عشر یا دسواں (1/10)حصہ صرف ان  کھیتوں سےہوتا ہے جن کی پیداوار پر کاشتکار کے اخراجات نہ ہونے کے برابر ہوں۔

وہ زمینیں جہاں پر کاشتکار کو پانی یا دیگر اشیاء خریدنا پڑتی ہوں، ان میں نصف عشر یعنی بیسواں حصہ (1/20) بطور زکوٰۃ  ادا کیا جائے گا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’چاندی پانچ اوقیہ سے کم ہو تو اس  پر زکوٰۃ  نہیں اور اسی طرح پانچ وسق سے کم غلے پر زکوٰۃ  نہیں ہے۔‘‘

(صحیح بخاری: کتاب الزکاۃ، باب: ما أدي زكاته فليس بكنز)

اس حساب سے اگر بغیر اخراجات والی زراعت سے پیداوار حاصل کی گئی ہوتو کم از کم 652.8 کلو گرام غلے پر65.28کلو گرام واجب الادا ہے۔ اور اگر پانی خریدنا پڑے مثلا ٹیوب ویل وغیرہ ہو تو 652.8 کلوگرام سے 32.64کلوگرام واجب الادا  ہوگی۔

اموال تجارت

اموال تجارت کے لیے کوئی نصاب مقرر نہیں کیا گیا۔ کاروباری شخص نے جو تاریخ زکوٰۃ  کے تعین کے لیے متعین کر رکھی ہے، اس پر اس کے ہاں جتنا بھی مال Inventory) )ہو، اس کا 2.5 فیصد وہ بطور زکوٰۃ  ادا کرے گا۔ مثلاً اس کے پاس اگر دس لاکھ روپے کا مال پڑا ہو تو اس کی زکوٰۃ  25,000 روپے ہو گی۔
اس معاملے میں  دور فقہاء کے دو نقطہ ہائے نظر ہیں۔ ایک گروہ نے اموال صنعت کو تجارت پر قیاس کرتے ہوئے  یہ تجویز دی ہے کہ زکوٰۃ  کے تعین کی تاریخ پر تیار شدہ  مال Finished Goods))، زیر تیاری مال (Work in Process)اور خام مال (Raw Materials)کی  مجموعی قیمت کا 2.5% بطور زکوٰۃ  ادا کیا جائے۔
دوسرے گروہ کا نقطہ نظر یہ ہے کہ صنعتی پیداوار، زرعی پیداوار کی طرح ہے۔ اس لیے صنعت کار کو بھی وہی زکوٰۃ  ادا کرنی چاہیے ، جو کاشتکار کے لیے ضروری ہے یعنی پورے سال کی کل پیداوار کا نصف عشر یعنی 1/20 حصہ۔
اس نقطہ نظر کے مطابق جو کمپنیاں خدمات فراہم کرتی ہیں، انہیں بھی اپنی سالانہ آمدنیTurnover) )کا نصف عشر بطور زکوٰۃ  ادا کرنا چاہیے۔

دیگرمسائل

اگر کسی کا کاروبار جائیداد کی خریدوفروخت ہے یا پھر اس نے پلاٹ بیچنے کی نیت سے خریدا تو اس پر  زکوٰۃ ادا کرنا لازمی ہے اسی طرح ذاتی گاڑی کے علاوہ خرید و فروخت کے لئے رکھی ہوئی گاڑیوں کی مالیت پر زکوٰۃ ادا کرنی ہوگی۔

مصارف زکوٰۃ

اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَاء وَالْمَسٰكِينِ وَالْعٰمِلِينَ عَلَيْها وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللّٰهِ وَابْنِ السَّبِيلِ فَرِيضَةً مِّنَ اللّهِ وَاللّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ

(التوبۃ : 60)

’’صدقات تو دراصل فقیروں اور مسکینوں کے لیے ہیں اور زکوٰۃ   کلکٹرز کے لیے، اور اُن کے لیے جن کی تالیف قلب مطلوب ہو نیز یہ گردنوں کے چھڑانے اور قرض داروں کی مدد کرنے میں اور اللہ کی راہ میں اور مسافر نوازی میں استعمال کرنے کے لیے ہیں۔ایک فريضہ ہے اللہ کی طرف سے اور اللہ سب کچھ جاننے والا اور دانا و بینا ہے۔‘‘

فقیر :

وہ شخص جس کے پاس کچھ تھوڑا مال و اسباب ہے لیکن نصاب کے برابر نہیں۔

مسکین :

وہ شخص جس کے پاس کچھ بھی نہ ہو۔

عاملین زکوٰۃ :

جو کارکن زکوٰۃ کی وصولیابی پر متعین ہوں۔

تالیف قلب  :

جن لوگوں کی دلجوئی کرنا مقصود ہو۔

گردنیں چھڑانا :

غلاموں کی آزادی ۔

قرضدار :

وہ شخص جس کے ذمے لوگوں کا قرض ہو اور اُس کے پاس قرض سے بچا ہوا بقدر نصاب کوئی مال نہ ہو۔

فی سبیل اللہ :

اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والا۔

ابن السبیل :

مسافر جو حالتِ سفر میں تنگ دست ہوگیا ہے۔

ادائیگی  زکوٰۃ:

کس قسم کا مال زکوٰۃ میں دیا جائے؟

’’رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا تین باتیں ہیں جو شخص ان کو کرے گا وہ ایمان کا مزہ پائے گا ایک اللہ کی عبادت کرے اور دوسرے لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ کا اقرار کرے اور تیسرے ہر سال اپنے مال کی زکوٰۃ خوشی خوشی ادا کرے اور بوڑھا خارشی، بیمار اور گھٹیا جانور نہ دے بلکہ درمیانہ درجہ کا دے کیونکہ اللہ تعالیٰ تم سے نہ محض عمدہ مال چاہتا ہے اور نہ ہی گھٹیا مال کو پسند کرتا ہے‘‘۔

(سنن ابوداؤد:کتاب الزکاۃ، باب في زكاة السائمة)

زکوٰۃ کیوں دی جاتی ہے؟

جیسا کہ زکوٰۃ  کے لفظ سے ہی واضح ہے، کہ اس کا معنی پا ک کرنے اور بڑھانے کا ہے۔
زکوٰۃ  سے انسانی کو نفسیاتی پاکیزگی حاصل ہوتی ہے۔
 زکوٰۃ کی ادائیگی سے بھی ہمدردی و خیر خواہی والا معاشرہ پروان چڑھتا ہے۔ اور اسی طرح اس سے اپنے نفس کو ان آلائشوں سے پاک کیا جائے جو مال کی محبت ، بخل اور دولت مندی کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں ۔
دولت کی محبت دنیا کی زندگی پر اکتفا کرنے کی تعلیم دیتی اور آخرت سے روگردانی پر اکساتی ہے۔
گویا زکوٰۃ  آخرت کی یاد دلانے کے ساتھ خالق کی محبت دینے اور وصول کرنے کاذریعہ بنتی ہے۔
 یہ دولت کی گردش کا ذریعہ بھی ہے۔ اور معاشرے میں دولت کا نکاس رہتا ہے۔۔۔ امیر ، امیر تر، اور غریب تر نہیں بنتا، اور اَس سے ظلم کا بھی خاتمہ ہوتا ہے۔

ادائیگی زکوٰۃکی کی راہ میں حائل عذر و بہانے:

انسان مال کی  محبت میں  زکوٰۃ نہیں دیتا
حالانکہ زکوٰۃ مال کو بڑھاتی ہے

۔۔۔وَمَا آتَيْتُمْ مِنْ زَكَاةٍ تُرِيدُونَ وَجْهَ اللَّهِ فَأُولَئِكَ  الْمُضْعِفُونَ

(الروم:39)

’’۔۔۔اور جو زکوٰۃ  آپ اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے ارادے سے دیتے ہیں، تو یہی وہ لوگ ہیں جو در حقیقت اپنے مال بڑھاتے ہیں۔‘‘

ادائیگی زکوٰۃ میں غفلت کا انجام:

زکوٰۃ کے معاملے میں ذرا سی بھی غفلت نہ کی جائے

ابوہریرہ ؓ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہﷺنے فرمایا کہ جس کو اللہ تعالیٰ نے مال دیا اور اس نے زکوٰۃ نہ اداء کی تو اس کا مال گنجے سانپ کی شکل میں اس کے پاس لایا جائے گا جس کے سر کے پاس دو چنیاں ہوں گی قیامت کے دن اس کا طوق بنایا جائے گا، پھر اس کے دونوں جبڑوں کو ڈسے گا اور کہے گا میں تیرا مال ہوں، میں تیرا خزانہ ہوں، پھر قرآن کی آیت پڑھی اور وہ لوگ جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے مال عطا کیا اور وہ اس میں بخل کرتے ہیں وہ اسے اپنے حق میں بہتر نہ سمجھیں بلکہ یہ برا ہے اور قیامت کے دن یہی مال ان کے گلے کا طوق ہوگا۔

(صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1343 )

ابن عمرو ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ  کی خدمت میں ایک مرتبہ دو عورتیں آئیں جن کے ہاتھوں میں سونے کے کنگن تھے نبی کریمﷺ نے فرمایا کیا تم دونوں اس بات کو پسند کرتی ہو کہ اللہ تعالیٰ تمہیں آگ کے کنگن پہنائے ؟ وہ کہنے لگیں نہیں ۔نبی کریمﷺنے فرمایا تو پھر تمہارے ہاتھوں میں جو کنگن ہیں ان کا حق ادا کرو۔(مسند احمد:جلد سوم:حدیث نمبر 2165 )

مومن زکوٰۃ سے غافل نہیں ہوتا

رِجَالٌ لَا تُلْهِيهِمْ تِجَارَةٌ وَلَا بَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ وَإِقَامِ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ يَخَافُونَ يَوْمًا تَتَقَلَّبُ فِيهِ الْقُلُوبُ وَالْأَبْصَارُ

(النور:37)

’’ ایسے لوگ جن کو کاروبار اور خریدوفروخت اللہ کی یاد سے غافل نہیں کرتے اور صلوٰۃ قائم کرنے اور زکوٰۃ دینے سے بھی (غافل نہیں کرتے) وہ ڈرتے رہتے ہیں اس دن سے جس میں الٹ جائیں گے دل اور آنکھیں‘‘۔

زکوٰۃ ادا نہ کرنے والے کا مال

ایسے شخص کا مال قیامت والے دن ایسے زہریلے ناگ کی شکل میں آئے گا ،جس کے سر کے بال جھڑ چکے ہوں گے ، اور اس کی آنکھوں کے اوپر دو سفید نقطے ہوں گے،پھر وہ سانپ اُس کے گلے کا طوق بنا دیا جائے گا، پھر وہ اس کی دونوں باچھیں پکڑے گا(اور کاٹے گا) اور کہے گا کہ میں تیرا وہ ما ل ہوں ، میں تیرا جمع کیاہوا خزانہ ہوں۔

(صحیح البخاری: کتاب الزکاۃ)

وصولی  زکوٰۃ

اگر اجتماعی طور پر زکوٰۃ کا نظام قائم ہو تو جبراً بھی لی جا سکتی ہے

’’معاویہ ؓسے مروی ہے کہ میں نے نبیﷺکو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے سائمہ اونٹوں کی ہر چالیس تعداد پر ایک بنت لبون واجب ہوگی اور زکوٰۃ کے اس حساب سے کسی اونٹ کو الگ نہیں کیا جائے گا، جو شخص ثواب کی نیت سے خود ہی زکوٰۃ ادا کر دے تو اسے اس کا ثواب مل جائے گا اور جو شخص زکوٰۃ ادا نہیں کرے گا تو ہم اس سے جبراً بھی وصول کرسکتے ہیں، اس کے اونٹ کا حصہ ہمارے رب  کا فیصلہ ہے اور اس میں سے آل محمدﷺ ( نبی ﷺ کے گھر والے )کے لئے کچھ بھی حلال نہیں ہے۔

(مسند احمد:جلد نہم:حدیث نمبر 257)

احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ زکوٰۃ کو پوری دیانت داری کے ساتھ اجتماعی طور پر وصول کرکے بیت المال میں جمع کروایا جائے گا۔

اور اگر کوئی ایمان کا دعویدار ذاتی طور پر اپنی مرضی سے زکوٰۃ تقسیم کرتا ہے   اور اپنی پسند ناپسند کے مطابق زکوٰۃ کو استعمال کرتا ہے تو یہ زکوٰۃ نہیں ہے بلکہ نفس پرستی اور ریاکاری ہے اس لیے انفرادی تقسیم  زکوٰۃ پر پابندی ہے۔

اہل ایمان کو چاہیے کہ وہ غریبوں اور محتاجوں کا حق اپنے خواہشات کے حصول کے لیے استعمال نہ کریں بلکہ جماعت کے بیت المال میں زکوٰۃ کو جمع کروائیں اور اگر آپ کے دوستوں ، رشتے داروں اور واقف کاروں میں کوئی مستحقِ زکوٰۃ ہے تو جماعت کو اس سے مطلع کیا جائے ۔جماعت اس کی تحقیق کر کے مدد کرے گی۔

زکوٰۃکے مستحقین کون؟

زکوٰۃ کو اپنا حق سمجھ کر  وصول کرنے اور اس کے لینے کے لئے اپنے آپ کو  پیش کرنے سے پہلے رسول اللہ  ﷺ کی احادیث کا مطالعہ کرلیا جائے  تو بات واضح ہوجائیگی۔

ابو سعید خدریؓ  کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :

” جو شخص سوال سے بچے اللہ بھی اسے بچائے گا اور جو کوئی (دنیا سے) بےپروائی کرے گا۔ اللہ اسے بےپروا کر دے گا اور جو کوئی کوشش سے صبر کرے گا اللہ اسے صبر دے گا اور صبر سے بہتر اور کشادہ تر کسی کو کوئی نعمت نہیں ملی۔ ” (بخاری کتاب الزکوٰۃ)

ابوہریرہ  کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا :

اس ذات کی قسم ! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ اگر کوئی شخص اپنی رسی اٹھائے اور لکڑی کا گٹھا اپنی پیٹھ پر لاد کر لائے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ جا کر کسی سے سوال کرے اور وہ اسے دے یا نہ دے۔ ” (بخاری۔ حوالہ ایضاً)

عبداللہ بن عمر  کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا :

سوالی جو ہمیشہ لوگوں سے مانگتا رہتا ہے قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کے منہ پر گوشت کی ایک بوٹی بھی نہ ہوگی۔

(بخاری، کتاب الزکوٰۃ )

اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہمیں اس فریضے سے کما حقہ عہدہ برآں ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *