Categories
Uncategorized

کیا کوئی چیز قرآن کے حکم کو رد کرسکتی ہے

آجکل منکریں حدیث کے کافی گروپس ہیں جو حدیث کے انکاری بنے ہوئے ہیں۔ کوئی مکمل انکار کرتا ہے تو کوئی گروپ کچھ احادیث کو خلاف قرآن کہہ کر رد کردیتا ہے۔ اس کے مقابلے میں ایک فرقہ در فرقہ یعنی اہلحدیث کے نام سے موجود کئی فرقے بھی ہیں کہ جو احادیث نبی ﷺ کو قرآن مجید تک پر فوقیت دے دیتے ہیں، یہی نہیں بلکہ ضعیف روایات کو صحیح حدیث کا درجہ دے کر انہیں قرآن مجید پر فوقیت دی جاتی ہے۔

ٍرسول اللہ ﷺ تو قرآن کی تشریح کے لئے بھیجے گئے تھے اس لئے یہ تصور بھی نہیں کیا جا سکتا کہ نبیﷺ قرآن کی کسی آیت کے خلاف کوئی عقیدہ سے سکتے ہیں۔ قرآن مجید کا تو ایک ایک حرف لاریب ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

﴿ذَٰلِكَ ٱلۡكِتَٰبُ لَا رَيۡبَۛ فِيهِۛ ۔ ۔ ۔ ﴾

[البقرة: 2]

’’ یہ وہ کتاب ہے جس میں کوئی شک نہیں ‘‘

﴿تَنزِيلُ ٱلۡكِتَٰبِ لَا رَيۡبَ فِيهِ مِن رَّبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ﴾

[السجدة: 2]

’’ ( اس ) کتاب کا نازل کرنا جس میں کوئی شک نہیں اللہ رب العالمین کی طرف سے ہے ‘‘۔

قرآن مجید میں شک نہیں کیا جا سکتا کا مطلب یہی ہوا کہ کہ اس کی ہر ہر بات کو من و عن قبول کیا جائے گا، پھر یہ شک نہ ہوگا کہ اس میں بیان کئے گئے قوانین و احکام تبدیل بھی ہوسکتے ہیں یا اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی ہستی ایسی بھی ہے کہ جو اس کی باتوں کو اپنی باتوں سے رد کردے۔ اللہ تعالیٰ مزید فرماتا ہے :

﴿وَإِنَّهُۥ لَذِكۡرٞ لَّكَ وَلِقَوۡمِكَۖ وَسَوۡفَ تُسۡ‍َٔلُونَ﴾

[الزخرف: 44]

’’بلاشبہ یہ قرآن تم اور تمہاری قوم کے لئے ہے اور عنقریب ( اسی سے ) تم سے سوال کیا جائے گا‘‘

یعنی قیامت کے دن انسانوں سے جو حساب لیا جائے گا وہ عین اس اس قرآن سے ہوگا۔ سورہ بقرہ میں فرمایا گیا:

﴿قُلۡنَا ٱهۡبِطُواْ مِنۡهَا جَمِيعٗاۖ فَإِمَّا يَأۡتِيَنَّكُم مِّنِّي هُدٗى فَمَن تَبِعَ هُدَايَ فَلَا خَوۡفٌ عَلَيۡهِمۡ وَلَا هُمۡ يَحۡزَنُونَ ؀ وَٱلَّذِينَ كَفَرُواْ وَكَذَّبُواْ بِ‍َٔايَٰتِنَآ أُوْلَٰٓئِكَ أَصۡحَٰبُ ٱلنَّارِۖ هُمۡ فِيهَا خَٰلِدُونَ﴾

[البقرة: 38-39]

’ہم ( اللہ ) نے کہا تم سب یہاں سے اتر جاؤ ، پھر جب کبھی تمہارے پاس میری طرف سے کوئی ہدایت آئے تو جنہوں نے میری ہدایت کی پیروی کی انہیں نہ کوئی خوف ہوگا نہ غم۔ اور جنہوں نے کفر کیا (اور) میری آیات کو جھٹلایا وہ سب جہنمی ہوں گے اور ہمیشہ اسی میں رہیں گے۔‘‘

اس آیت نے مزید واضح کردیا کہ اللہ کی آیات کوماننے اور اس پر عمل کرنے والے کے لئے جنت ہے اور ان آیات کا انکار کرنے والے کے لئے جہنم ۔ اب یہ دیکھنا یہ کہ اس قرآن کیساتھ نبی ﷺ کی کیا ذمہ داری لگائی گئی تھی، مالک کائنات نے فرمایا:

﴿بِٱلۡبَيِّنَٰتِ وَٱلزُّبُرِۗ وَأَنزَلۡنَآ إِلَيۡكَ ٱلذِّكۡرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَيۡهِمۡ وَلَعَلَّهُمۡ يَتَفَكَّرُونَ﴾

[النحل: 44]

’’ روشن دلائل اور الہامی کتابوں کے ساتھ اور ہم نے نازل کیا تمہاری طرف اس قرآن کو تاکہ تم کھول کر بیان کردو انسانوں کے لئے جو انکی طرف نازل کیا گیا ہے تاکہ وہ غور و فکر کریں ‘‘۔

یعنی جو بات قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائی ہے نبیﷺ کی یہ ذمہ داری تھی کہ وہ لوگوں کے سامنے اس کی تشریح بیان کردیں تاکہ لوگ اسے سمجھ جائیں اور اس پر حور و فکر کریں۔ اب اس بات کا تو کوئی تصور ہی ممکن نہیں کہ نبی ﷺ قرآن میں نازل کردہ کسی بات سے ہٹ کر کوئی دوسری بات کریں گے۔ نبیﷺ جو تشریح کیا کرتے تھے وہ بھی ان پر نازل ہوا کرتی تھی ، نبی ﷺ اپنی طرف سے کچھ نہیں کہتے تھے جیسا کہ سورہ النجم میں بیان فرما دیا گیا۔ مزید اللہ تعالیٰ کا یہ حکم بھی پڑھ لیں :

﴿وَٱتۡلُ مَآ أُوحِيَ إِلَيۡكَ مِن كِتَابِ رَبِّكَۖ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمَٰتِهِۦ وَلَن تَجِدَ مِن دُونِهِۦ مُلۡتَحَدٗا﴾

[الكهف: 27]

’’ (اے نبی)اور پڑھتے (اور سناتے) جاؤ اس وحی کو جو بھیجی گئی ہےتمہاری طرف،تمہارےکے رب کی طرف سے، اس کی باتوں کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا، (اگر آپ نے کسی کی خاطر اس میں کوئی کمی و بیشی کر دی تو) آپ اس کے سوا ہرگز کوئی پناہ گاہ نہیں پاسکو گے‘‘۔

یہ ہے اللہ کا قانون کہ جو کچھ اس نے نازل کردیا ہے اس میں اب زبر زیر کی بھی تبدیلی نہیں ہو سکتی۔ نہ کوئی غکم تبدیل ہو سکتا ہے اور نہ ہی کوئی قانون، اللہ کی بات کو کوئی بھی تبدیل کرنے والا نہیں۔

فرقہ کہتے ہی اس کو ہیں کہ جو قرآن سے اختلاف کرے اور مسلمین کی جماعت سے علیحدہ ہو جائے۔ قرآن سے اختلاف کی صورت میں اپنے فرقے کے عقیدے کو ثابت کرنے کے لئے یا تو صحیح احادیث کی غلط تشریحات کی جاتی ہیں یا جھوٹی من گھڑت روایات کو حدیث کا نام دے کر انہیں سامنے لے آیا جاتا ہے ۔ حقیقت یہی ہے کہ قرآن کا ایک حرف لاریب ہے نہ کسی کی کوئی بات اسے رد کر سکتی ہے اور نہ ہی اس کے خلاف عقیدہ بنایا جا سکتا ہے۔ بات صرف اور صرف وہی مانی جائے گی جو قرآن کی ہوگی کیونکہ احادیث کے الفاظ میں تو فرق پایا جاتا ہے لیکن قرآن کے بیانات میں نہیں۔

الحمد للہ عذاب قبر پر قرآن و حدیث سے دلائل سامنے آ چکے ہیں لیکن کثرت سے فرقوں کے عقائد قرآن و حدیث کا انکار کرتے ہیں۔ پھر اس کے لئے وہی کھیل کھیلا جاتا ہے کہ ضعیف روایات کو پیش کردیا جاتا ہے یا پھر صحیح حدیث کی تفسیر بدل دی جاتی ہے لیکن فرقہ والے ایک

کام اور بھی کرتے ہیں اور وہ ’’ دھوکے بازی ‘‘۔ ملاحظہ فرمائیں فرقہ اہلحدیث کے مفتی عبد اللہ جابر دامانوی اپنی کتاب میں کیسا دھوکہ دیتے ہیں :

’’قرا ٓن کریم کی اس آیت سے واضح ہوا کہ مردہ (یعنی جو حلال جانور اپنی طبعی موت مر جائے) حرام ہے۔ اور اب کسی بھی مردہ کو کھانے کی اجازت نہیں ہے کیونکہ وہ حرام ہے۔لیکن حدیث میں ہے:…’’سمندر کا پانی پاک ہے اور اس کا ’’مردہ‘‘ (مچھلی) حلال ہے۔‘‘ اس حدیث سے ثابت ہوا کہ مچھلی مردہ ہے لیکن اس کا کھانا حلال ہے۔ اگرچہ بظاہر یہ حدیث قرآن کریم کے خلاف ہے لیکن جب قرآن و حدیث میں بظاہر تضاد ہوگا تو ان میں تطبیق کی جائے گی۔ اگرچہ مردہ حرام ہے لیکن مچھلی مردہ ہونے کے بادجود بھی حلال ہے کیونکہ یہ ایک استثنائی صورت ہے۔‘‘ (عقیدہ عذاب قبر، صفحہ ۱۵۔۱۶، از ابو جابر عبد اﷲ دامانوی)

شاید کثرت سے لوگوں کو یہ بات معلوم نہیں ہوگی کہ ان مولوی حضرات کو منطق پڑھائی جاتی ہے جس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ جب اپنی کوئی بات قرآن و حدیث سے ثابت نہ ہو رہی ہو تو اس کو اس طرح الجھا کر پیش کیا جائے کہ دوسرے لوگ جن کے پاس قرآن و حدیث کا اتنا علم نہ ہو ان مولویوں کی باتوں میں الجھ کر رہ جائیں۔ یہی انداز یہاں بھی اپنایا گیا ہے۔ جو آیت انہوں نے پیش کی ہے اس میں خشکی یعنی زمین کے جانوروں کا ذکر ہے کہ اگر ان میں سے کوئی اپنی طبعی موت مر جائے یعنی تم نے اسے شکار کرکے ذبح نہ کیا ہو تو یہ حرام ہے تم اسے نہ کھانا۔ لیکن مولوی صاحب کا کارنامہ دیکھیں خشکی کے جانوروں کے لئے بیان کردہ قانون کو پانی کی مخلوق سے ٹکرا دیا۔ پانی کے جانوروں کے لئےاللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿أُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُهُ ﴾

[المائدة: 96]

’’ حلال کردیا ہے تمہارے لیے سمندر کا شکار اور اس کا کھانا۔‘‘

یعنی اس آیت میں سمندر سے شکار کئے جانے والے اور اس سے حاصل ہونے والے کھانے کے رزق کے حلال ہونے کا ذکر ہے ۔ شکار تو وہ ہے جو انسان کسی نا کسی انداز میں خود پکڑتا ہے لیکن طعامہ سے کیا مراد ہے۔طعامہ سے مراد وہ رزق ہے جو سمندر خود باہر پھینک دیتا ہے یعنی مردہ۔ حدیث میں ہے کہ ایک سفر میں صحابہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہم نے مردہ حالت میں پائی جانے والی ایک بڑی مچھلی کھائی اور اس کا گوشت نبی ﷺ کیلئے بھی لیکر آئے۔ اسی طرح اگر مچھلی کے شکار کیلئے جال یا کانٹا و غیرہ لگایا جاتا ہے تو اس سے شکار ہونے والی کافی مچھلیاں بھی مردہ حالت میں پانی سے نکالی جاتی ہیں۔ خشکی کے شکار کیلئے اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے :

﴿يَسْأَلُونَكَ مَاذَا أُحِلَّ لَهُمْ قُلْ أُحِلَّ لَكُمُ الطَّيِّبَاتُ وَمَا عَلَّمْتُمْ مِنَ الْجَوَارِحِ مُكَلِّبِينَ تُعَلِّمُونَهُنَّ مِمَّا عَلَّمَكُمُ اللَّهُ فَكُلُوا مِمَّا أَمْسَكْنَ عَلَيْكُمْ وَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ سَرِيعُ الْحِسَابِ﴾

[المائدة: 4]

’’ کہو کہ تم پر حلال کردی گئی ہیں پاک چیزیں اور جو سدھا رکھے ہیں تم نے شکاری جانور، شکار پر دوڑانے کیلئے کہ سکھاتے ہو ان کو وہ طریقہ جو سکھایا ہے تم کو اﷲ نے۔ سو کھاؤ اس میں سے جو پکڑ کر لائیں تمہارے لیے اور اس پر اﷲ کا نام لو اور اﷲ سے ڈرتے رہو۔‘‘

قرآن مجید نے خشکی کے شکار پرا ﷲ کا نام لینے کا حکم فرمایا اور احادیث نبوی ﷺ سے اس کی مکمل تشریح ملتی ہے کہ یہ شکار اسی وقت حلال ہوگا کہ جب ان کوا ﷲ کا نام لے کر ذبح

کیا جائے۔اس کے برعکس سمندری شکار کیلئے قرآن میں اس قسم کا کوئی حکم نہیں دیا گیا بلکہ اسے حلال بیان کیا ،اور حدیث سے اس کی تشریح مل گئی کہ اس کا مردار بھی حلال ہے۔

حدیث تو قرآن مجید کے احکامات کی تشریح و توضیح کرتی ہے نہ کہ اس کا انکار۔ یہ عقیدہ رکھنا کہ احادیث قرآن کے احکامات کے انکار میں کوئی عقیدہ دے سکتی ہیں اور وہ استثنائی معاملہ ہے من گھڑت اور اپنے باطل عقیدے کا دفاع ہے ۔ ان کا جھوٹ سامنے آ چکا ہے قرآن اور حدیث دونوں ہی پانی کے مردار کو جائز قرار دیتے ہیں لیکن اپنے باطل عقیدے ’’ روح لوٹا دی جاتی ہے ‘‘ کو ثابت کرنے کے لئے لوگوں کو دھوکہ دیا کہ حدیث قرآن کےانکار میں بھی بیان کرسکتی ہے چنانچہ قرآن روح لوٹانے کے عقیدے سے منع کرتا ہے لیکن حدیث اسے ثابت کرتی ہے۔استغفر اللہ من ذالک

ان کی تحریر کےاس جملے پر بھی غور فرمائیں ، کہتے ہیں : ’’ ۔ اگرچہ بظاہر یہ حدیث قرآن کریم کے خلاف ہے لیکن جب قرآن و حدیث میں بظاہر تضاد ہوگا تو ان میں تطبیق کی جائے گی۔ ‘‘ قارئین ! قرآن کا ایک ایک حرف لاریب ہے۔ اگر کہیں قرآن و حدیث میں تطبیق کرنی پڑے گی تو کیا لاریب قرآن کا دیا ہوا عقیدہ بدل دیا جائے گا ؟ نعوذبااللہ وہ قرآن جس کے ایک ایک حرف کی حفاظت کی گارنٹی دی گئی ہے اس کی بات بدل دی جائے گی !

ملاحظہ فرمایا کہ مفتی صاحب نے خشکی کے جانوروں والی قرآنی آیت پیش کی اور پانی والے جانوروں والی بات پیش ہی نہیں کی بلکہ اسے چھپایا دیا۔ پھر خشکی والے جانوروں کی آیت سے اسے ’’ حرام ‘‘ قرار دے دیا ۔ یعنی اول تو دھوکہ دیا اور علماء یہود کی مانند اللہ کی بات کو چھپا لیا اور پھر جس چیز کو اللہ نے حلال بیان کیا لوگوں میں اسے حرام بنا کر پیش کردیا۔ اور پھر یہ ثابت کردیا کہ جسے اللہ تعالیٰ حرام فرمائے نعوذوباللہ من ذالک نبی ﷺ اسے حلال قرار دے سکتے ہیں۔

یہ سب محض اس لئے کہ ان فرقوں کے کثرت سے عقائد قرآن کے خلاف ہیں ، وہ جھوٹی روایات کو حدیث کہہ کر پیش کرتے ہیں اور اس طرح قرآن کی بات کو رد کردیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ایسے افعال سے بچا کر رکھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *