Categories
Uncategorized

لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ

نبی ﷺ نے فرمایا:

بُنِيَ الْإِسْلَامُ عَلَی خَمْسٍ شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ وَإِقَامِ الصَّلَاةِ وَإِيتَائِ الزَّکَاةِ وَالْحَجِّ وَصَوْمِ رَمَضَانَ

( بخاری، کتاب الایمان، بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بُنِيَ الإِسْلاَمُ عَلَى خَمْسٍ» )

’’ اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے۔اس بات کی گواہی کہ کوئی نہیں ہے معبود سوائے اللہ کے اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، اور صلاۃ قائم کرنا،اور زکواۃ دینا ، اور حج اور ماہ رمضان کے صوم‘‘۔

یہ وہ کلمہ ہے جسے پڑھ کر ایک انسان دائرہ اسلام میں داخل ہوتا ہے یعنی دین کی سب سے اول بنیاد طاغوت کا انکار، اللہ کی توحید کا اقرار اور محمد ﷺ کی رسالت کا اقرار ہے۔جب نبیﷺ نے یہ دعوت اپنی قوم کو دی تو اس وقت کے لوگ اللہ کو مانتے تھے، لیکن اس کیساتھ شرک کرتے تھے۔ ہم زیل میں اس وقت کے لوگوں کے عقائد پیش کر رہے تاکہ یہ اندازہ ہو سکے کہ ان کے عقائد کیا تھے۔

اس وقت کی قوموں کے عقائد

وہ اللہ تعالیٰ کو کائنات کا اکیلا خالق مانتے تھے:

﴿وَلَىِٕنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ لَيَقُوْلُنَّ اللّٰهُ ۭ قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ ۭ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ﴾

[لقمان: 25]

’’اور اگر تم پوچھو ان سے کہ کس نے پیدا کیا ہے آسمانوں کو اور زمین کو تو وہ ضرور کہیں گے کہ اللہ نے۔ کہو ! ” الحمد للہ “۔ اصل بات یہ ہے کہ ان کی اکثریت بےسمجھ ہے۔‘‘

﴿وَلَىِٕنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ لَيَقُوْلُنَّ خَلَقَهُنَّ الْعَزِيْزُ الْعَلِيْمُ﴾

[الزخرف: 9]

اور اگر پوچھو تم ان سے کہ کس نے پیدا کیا ہے آسمانوں کو اور زمین کو تو یہ ضرور جواب دیں گے کہ پیدا کیا ہے انہیں اس نے جو زبردست ہے اور سب کچھ جاننے والا ہے۔

اللہ تعالیٰ کو ’’ داتا ‘‘ (دینے والا ) مانتے اور اسی طرح مختار کل بھی مانتے تھے:

﴿قُلْ مَنْ يَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمَاۗءِ وَالْاَرْضِ اَمَّنْ يَّمْلِكُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَمَنْ يُّخْرِجُ الْـحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَيُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ وَمَنْ يُّدَبِّرُ الْاَمْرَ ۭ فَسَيَقُوْلُوْنَ اللّٰهُ ۚ فَقُلْ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ﴾

[يونس: 31]

’’(ان سے) پوچھو کون رزق دیتا ہے تم کو آسمان سے اور زمین سے یا کون مالک ہے تمہارے سننے اور دیکھنے (کی قوتوں) کا اور کون نکالتا ہے جاندار کو بےجان سے اور (کون) نکالتا ہے بےجان کو جاندار سے اور کون انتظام کرتا ہے تمام امور کا ؟ تو وہ ضرور کہیں گے۔ اللہ۔ سو کہو ! پھر تم کیوں نہیں ڈرتے ؟۔‘‘

سورہ المومنون میں فرمایا:

﴿قُلْ لِّمَنِ الْاَرْضُ وَمَنْ فِيْهَآ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ ؀ سَيَقُوْلُوْنَ لِلّٰهِ ۭ قُلْ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ ؀قُلْ مَنْ رَّبُّ السَّمٰوٰتِ السَّبْعِ وَرَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيْمِ ؀ سَيَقُوْلُوْنَ لِلّٰهِ ۭ قُلْ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ ؀ قُلْ مَنْۢ بِيَدِهٖ مَلَكُوْتُ كُلِّ شَيْءٍ وَّهُوَ يُجِيْرُ وَلَا يُجَارُ عَلَيْهِ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ ؀ سَيَقُوْلُوْنَ لِلّٰهِ ۭ قُلْ فَاَنّٰى تُسْحَرُوْنَ﴾

[المؤمنون: 84-89]

’’ ان سے پوچھو کس کی ہے یہ زمین اور جو بستے ہیں اس میں اگر تم جانتے ہو ؟تو وہ ضرور کہیں گے اللہ کی۔ کہو پھر تم سوچتے کیوں نہیں ؟ان سے پوچھو کون ہے مالک سات آسمانوں کا اور مالک ہے عرش عظیم کا ؟وہ ضرور کہیں گے، اللہ۔ کہو پھر، تم کیوں نہیں ڈرتے ؟ ان سے پوچھو کون ہے وہ جس کے ہاتھ میں ہے اقتدار ہر چیز کا اور وہ پناہ دیتا ہے اور کوئی پناہ نہیں دے سکتا اس کے مقابلے میں اگر تم جانتے ہو ؟ وہ ضرور کہیں گے کہ اللہ۔ کہو پھر کہاں سے دھوکہ کھا رہے ہو تم ؟

اتنی زبردست توحید کے اقرار کے بعد دیکھیں ان کا یہ عقیدہ بھی تھا:

﴿ وَلَىِٕنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَسَخَّــرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَيَقُوْلُنَّ اللّٰهُ فَاَنّٰى يُؤْفَكُوْنَ اَللّٰهُ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَّشَاۗءُ مِنْ عِبَادِهٖ وَيَقْدِرُ لَهٗ ۭ اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ ؀ وَلَىِٕنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ نَّزَّلَ مِنَ السَّمَاۗءِ مَاۗءً فَاَحْيَا بِهِ الْاَرْضَ مِنْۢ بَعْدِ مَوْتِهَا لَيَقُوْلُنَّ اللّٰهُ ۭ قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ ۭ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا يَعْقِلُوْنَ ﴾ [العنكبوت: 61-63]

’’ اور اگر پوچھو تم ان سے کہ کس نے پیدا کیا ہے آسمانوں کو اور زمین کو اور مسخّر کر رکھا ہے سورج کو اور چاند کو، تو ضرور کہیں گے وہ، اللہ نے۔ پھر یہ کہاں بہکے جا رہے ہیں ؟ اللہ ہی کشادہ کرتا ہے رزق جس کے لیے چاہے اپنے بندوں میں سے اور تنگ کرتا ہے جس کے لیے (چاہے) یقیناً اللہ ہر بات سے پوری طرح باخبر ہے۔ اور اگر پوچھو تم ان سے کہ کون برساتا ہے آسمان سے پانی پھر زندہ کرتا ہے اس کے ذریعہ سے زمین کو اس کے مردہ ہوجانے کے بعد، تو ضرور کہیں گے کہ اللہ۔ کہہ دیجیے ” الحمد للہ ” مگر اکثر ان میں سے سمجھتے نہیں ہیں۔‘‘

﴿وَاِذْ قَالُوا اللّٰهُمَّ اِنْ كَانَ هٰذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ فَاَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَاۗءِ اَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ اَلِيْمٍ﴾ [الأنفال: 32]

’’اور جب انہوں نے کہا اے اللہ ! اگر ہے یہ قرآن ہی حق تیری طر ف سےتو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا یا لے آ ہم پر کوئی درناک عذاب‘‘۔

پیش کردہ آیات سے واضح اس دور کے لوگ اللہ تعالیٰ کو خالق، رب یعنی پالنہار، ہر چیز پر قادر ، زمین و آسمان اور جو کچھ اس میں ہے اس کا مالک، سننے اور دیکھنے کی قوت عطا کرنے والا، انسانوں کو رزق دینے والے، اس میں کمی اور زیادتی کرنے والا، الغرض وہ اللہ تعالیٰ پر اس کےسارے اختیارات و صفات کیساتھ ایمان رکھتے تھے۔

دعا بھی وہ اللہ ہی سے کیا کرتے تھے، لیکن اس کے بعد وہ شرک کرنے لگتے تھے۔

﴿قُلۡ أَرَءَيۡتَكُمۡ إِنۡ أَتَىٰكُمۡ عَذَابُ ٱللَّهِ أَوۡ أَتَتۡكُمُ ٱلسَّاعَةُ أَغَيۡرَ ٱللَّهِ تَدۡعُونَ إِن كُنتُمۡ صَٰدِقِينَ ؀ بَلۡ إِيَّاهُ تَدۡعُونَ فَيَكۡشِفُ مَا تَدۡعُونَ إِلَيۡهِ إِن شَآءَ وَتَنسَوۡنَ مَا تُشۡرِكُونَ﴾

[الأنعام: 40-41]

’’کہو (اُن سے) ذرا غور کر کے بتاؤ : اگر آجائے تم پر عذاب اللہ کا یا آئے تم پر قیامت تو کیا اللہ کے سوا (کسی اور کو) پکارو گے تم ؟ اگر تم سچے ہو ، بلکہ (ایسے مواقع پر) تم اسی کو پکارتے ہو پھر دور کردیتا ہے وہ اس مصیبت کو جس کے لیے پکارتے ہو تم اسے اور اگر وہ چاہتا ہے۔ اور بھول جاتے ہو تم انہیں جن کو شریک ٹھہراتے ہو (اس کا) ۔

﴿قُلۡ مَن يُنَجِّيكُم مِّن ظُلُمَٰتِ ٱلۡبَرِّ وَٱلۡبَحۡرِ تَدۡعُونَهُۥ تَضَرُّعٗا وَخُفۡيَةٗ لَّئِنۡ أَنجَىٰنَا مِنۡ هَٰذِهِۦ لَنَكُونَنَّ مِنَ ٱلشَّٰكِرِينَ٦٣ قُلِ ٱللَّهُ يُنَجِّيكُم مِّنۡهَا وَمِن كُلِّ كَرۡبٖ ثُمَّ أَنتُمۡ تُشۡرِكُونَ﴾

[انعام: 63-64]

’’پوچھو (ان سے) ! کون بچاتا ہے تم کو صحرا اور سمندر کی تاریکیوں سے جب تم پکارتے ہو اس کو گڑ گڑا کر اور چپکے چپکے کہ اگر بچالے وہ ہم کو، اس بلا سے تو ہم ضرور ہوں گے شکر گزار۔ کہہ دو ! اللہ ہی نجات دیتا ہے تم کو اس سے اور ہر تکلیف سے پھر بھی تم شرک کرتے ہو‘‘۔

﴿هُوَ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ وَّجَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا لِيَسْكُنَ اِلَيْهَا ۚ فَلَمَّا تَغَشّٰىهَا حَمَلَتْ حَمْلًا خَفِيْفًا فَمَرَّتْ بِهٖ ۚ فَلَمَّآ اَثْقَلَتْ دَّعَوَا اللّٰهَ رَبَّهُمَا لَىِٕنْ اٰتَيْتَنَا صَالِحًا لَّنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِيْنَ ؀ فَلَمَّآ اٰتٰىهُمَا صَالِحًا جَعَلَا لَهٗ شُرَكَاۗءَ فِيْمَآ اٰتٰىهُمَا ۚ فَتَعٰلَى اللّٰهُ عَمَّا يُشْرِكُوْنَ﴾

[الأعراف: 189-190]

’’وہی تو ہے جس نے پیدا کیا تم کو ایک جان سے اور بنایا اسی میں سے اس کا جوڑا تاکہ سکون حاصل کرے وہ اس کے پاس۔ پھر جب ڈھانک لیا مرد نے عورت کو تو اٹھا لیا اس نے ہلکا سا بوجھ پھر وہ لیے پھری اسے پھر جب وہ بوجھل ہوگئی تو دونوں نے دعا کی اللہ سے جو ان کا رب ہے کہ اگر عطا فرمائے تو ہمیں اچھّا اور سالم بچّہ تو ضرور ہوں گے ہم تیرے شکر گزار۔ پھر جب دیا اللہ نے ان دونوں کو صحیح وسالم بچّہ تو ٹھہرانے لگے وہ اللہ کے شریک (دوسروں کو) اس نعمت میں جو عطا کی تھی ان کو اللہ نے پس بلندو برتر ہے اللہ کی ذات ان سے جن کو یہ اس کا شریک ٹھہراتے ہیں‘‘۔

[النحل: 53-54]

’’اور جو تمہیں حاصل ہےہر کسی قسم کی نعمت سو وہ اللہ ہی کی عطا کردہ ہے پھر جب پہنچتی ہے تمہیں تکلیف تو اسی کے آگے فریاد کرتے ہو۔ پھر جب دور کرتا ہے وہ تکلیف تم سے تو یکایک ایک گروہ تم میں سے اپنے رب کے ساتھ شرک کرنے لگتا ہے‘‘۔

ان آیات میں ذکر ہے کہ وہ اللہ سے دعا بھی کیا کرتے تھے ، اور جب اللہ ان کا کام کر دیتا تھا، ان کی پریشانی دور کردیتا تھا تو اس کے بعد شکرگزاری دوسروں کی کرکے اللہ کیساتھ شرک کیا کرتے تھے، جیسا کہ آج ہوتا ہے کہ ہندو ان شخصیات کی شکر گزاری کرتا ہے جن کے نام کے انہوں نے بت بنا کر رکھے ہوئے ہیں۔ اسی طرح کلمہ گو بیٹا مل جانے کے بعد قبر پر جاکر چادر چڑھاتے ہیں، کھانا تقسیم کرتے ہیں کہ یہ کام اس مردہ بابا نے کیا ہے۔کوئی پیراں دتہ نام رکھتا ہے تو کوئی رسول دتہ۔

اُس دور کے لوگوں کے اعمال

قَالَ أَبُو ذَرٍّ: يَا ابْنَ أَخِي صَلَّيْتُ سَنَتَيْنِ قَبْلَ مَبْعَثِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قُلْتُ: فَأَيْنَ كُنْتَ تَوَجَّهُ؟ قَالَ: حَيْثُ وَجَّهَنِيَ اللهُ

( مسلم، کتاب فضائل الصحابہ ؓ ، بَابُ مِنْ فَضَائِلِ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ)

’’ابوذر ؓ نے فرمایا اے بھیجتے میں نبیﷺکی بعثت سے دو سال پہلےصلاۃ ( نماز ) ادا کیا کرتا تھا میں نے کہا تو اپنا رخ کس طرف کرتا تھا انہوں نے کہا جہاں اللہ تعالیٰ میرا رخ فرما دیا کرتے‘‘۔

قَالَتْ: كَانَتْ قُرَيْشٌ تَصُومُ عَاشُورَاءَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُهُ، فَلَمَّا هَاجَرَ إِلَى الْمَدِينَةِ، صَامَهُ وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ، فَلَمَّا فُرِضَ شَهْرُ رَمَضَانَ قَالَ: «مَنْ شَاءَ صَامَهُ وَمَنْ شَاءَ تَرَكَهُ»

( مسلم، کتاب الصیام، بَابُ صَوْمِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ )

’’عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ جاہلیت کے زمانہ میں قریشی لوگ عاشورہ کے دن صوم رکھنے کا حکم فرمایا کرتے تھے تو جب رمضان کےصوم فرض ہوگئے تو (نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا) جو چاہے عاشورہ کے دن صوم رکھے اور جو چاہے چھوڑ دے۔‘‘

أَنَّ حَكِيمَ بْنَ حِزَامٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ أُمُورًا كُنْتُ أَتَحَنَّثُ أَوْ أَتَحَنَّتُ بِهَا فِي الجَاهِلِيَّةِ مِنْ صِلَةٍ وَعَتَاقَةٍ وَصَدَقَةٍ، هَلْ لِي فِيهَا أَجْرٌ؟ قَالَ حَكِيمٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَسْلَمْتَ عَلَى مَا سَلَفَ لَكَ مِنْ خَيْرٍ»

( بخاری، کتاب البیوع ، بَابُ شِرَاءِ المَمْلُوكِ مِنَ الحَرْبِيِّ وَهِبَتِهِ وَعِتْقِهِ )

’’ حکیم بن حزام ؓ کہتے ہیں کہ میں نے اللہ کے رسول ﷺ سے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول آپ ان کاموں کے بارے میں کیا فرماتے ہیں کہ جو میں نے جاہلیت کے زمانے میں ( یعنی اسلام لانے سے پہلے) مثلا صدقہ و خیرات یا غلام آزاد کرنا یا رشتہ داروں سے اچھا سلوک کرنے کےتھے ان کاموں میں مجھے اجر ملے گا ؟ رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ تم اسی نیکی پر اسلام لائے جو تم پہلے کرچکے ہو۔

عَائِشَةَ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، ابْنُ جُدْعَانَ كَانَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ يَصِلُ الرَّحِمَ، وَيُطْعِمُ الْمِسْكِينَ، فَهَلْ ذَاكَ نَافِعُهُ؟ قَالَ: ” لَا يَنْفَعُهُ، إِنَّهُ لَمْ يَقُلْ يَوْمًا: رَبِّ اغْفِرْ لِي خَطِيئَتِي يَوْمَ الدِّينِ “

( مسلم، کتاب الایمان، بَابُ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ مِنْ مَاتَ عَلَى الْكُفْرِ لَا يَنْفَعُهُ عَمَلٌ )

’’عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ ابن جدعان زمانہ جاہلیت میں اسلام سے قبل حالت کفر میں صلہ رحمی کرتا تھا مسکینوں کو کھانا کھلاتا تھا تو کیا اس سے اس کو فائدہ ہوگا ؟نبی ﷺنے فرمایا یہ کام اسے کوئی فائدہ نہ دیں گے کیونکہ اس نے کبھی یہ نہیں کہا رَبِّ اغْفِرْ لِي خَطِيئَتِي يَوْمَ الدِّينِ یعنی اے میرے پروردگار قیامت کے دن میرے گناہوں کو معاف فرما دینا۔

عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ عُمَرَ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: كُنْتُ نَذَرْتُ فِي الجَاهِلِيَّةِ أَنْ أَعْتَكِفَ لَيْلَةً فِي المَسْجِدِ الحَرَامِ، قَالَ: «فَأَوْفِ بِنَذْرِكَ»

( بخاری، کتاب العتکاف، بَابُ الِاعْتِكَافِ لَيْلًا )

’’عمرؓ نے پوچھا کہ میں نے جاہلیت کے زمانہ میں نذر مانی تھی کہ ایک رات مسجد حرام میں اعتکاف کروں گا، نبی ﷺ نے فرمایا کہ اپنی نذر کو پورا کرو‘‘۔

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: كَانُوا يَرَوْنَ أَنَّ العُمْرَةَ فِي أَشْهُرِ الحَجِّ مِنَ الفُجُورِ فِي الأَرْضِ، وَكَانُوا يُسَمُّونَ المُحَرَّمَ صَفَرًا، وَيَقُولُونَ: إِذَا بَرَا الدَّبَرْ، وَعَفَا الأَثَرْ، حَلَّتِ العُمْرَةُ لِمَنِ اعْتَمَرْ

( بخاری ، کتاب المناقب الانصار ، بَابُ أَيَّامِ الجَاهِلِيَّةِ )

’’ابن عباس ؓ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ زمانہ جاہلیت میں لوگوں کا عقیدہ یہ تھا کہ اشہر حج میں عمرہ کرنا دنیا میں بڑا گناہ ہے، نیز وہ ماہ محرم کو صفر کہتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ جب اونٹ کا زخم اچھا ہوجائے اور نشان مٹ جائے تو عمرہ کرنے والے کے لئے عمرہ درست ہوجاتا ہے‘‘۔

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فِي قَوْلِهِ: {اللَّاتَ وَالعُزَّى} «كَانَ اللَّاتُ رَجُلًا يَلُتُّ سَوِيقَ الحَاجِّ»

( بخاری، کتاب التفسیر القرآن، بَابُ {أَفَرَأَيْتُمُ اللَّاتَ وَالعُزَّى} [النجم: 19] )

’’ابن عباس ؓ سے روایت ہے  کہ لات اس شخص ِکا نام ہے جو حاجیوں کے لئے ستو گھولتا تھا‘‘۔

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: كَانَ الْمُشْرِكُونَ يَقُولُونَ: لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ، قَالَ: فَيَقُولُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَيْلَكُمْ، قَدْ قَدْ» فَيَقُولُونَ: إِلَّا شَرِيكًا هُوَ لَكَ، تَمْلِكُهُ وَمَا مَلَكَ، يَقُولُونَ هَذَا وَهُمْ يَطُوفُونَ بِالْبَيْتِ

( مسلم ، کتاب الحج ، بَابُ التَّلْبِيَةِ وَصِفَتِهَا وَوَقْتِهَا )

’’ابن عباس ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ مشرکین کہتے تھےلبیک لا شریک لک ( اے اللہ میں حاضر ہوں تیرا کوئی شریک نہیں۔ تو رسول ﷺ ارشاد فرماتے ہلاکت ہو تمہارے لئے اس سے آگے نہ کہو مگر مشرکین کہتے: مگر وہ شریک ہیں جس کا مالک تو ہی ہے وہ مالک نہیں، یہ کہتے اور بیت اللہ کا طواف کرتے۔

اوپر بیان کردہ احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ صلاۃ بھی ادا کرتے تھے، صوم بھی رکھتے تھے، صدقہ بھی کیا کرتے تھے، صلہ رحمی کیا کرتے تھے، حرم میں اعتکاف بھی کیا کرتے تھے، حاجیوں کی خدمت کیا کرتے تھے، خود بھی حج و عمرہ کیا کرتے تھے اور تلبیہ بھی پڑھا کرتے تھے ۔

سوچنے کی بات یہ کہ اسقدر مضبوط ایمان کے بعد آخر کیوں اللہ تعالیٰ نے انہیں مشرک قرار دیا۔ مشرکین عرب بیت اللہ کا طواف کرتے ہوئے جو تلبیہ  پڑھا کرتے تھے اسی میں ان کا شرک بھی واضح ہے۔

ایک طرف اللہ کے لئے وحدہ لاشریک کا عقیدہ رکھتے تھے اور دوسری طرف اللہ ہی کے بندوں کے متعلق ان کا عقیدہ تھا کہ وہ اللہ کے شریک ہیں، مالک اللہ ہی ہے وہ کسی چیز کے مالک نہیں۔

اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ان کی شرک کی مزید وجوہات بیان فرماتا ہے :

﴿وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ مَا لَا يَضُرُّهُمْ وَلَا يَنْفَعُهُمْ وَيَقُولُونَ هَؤُلَاءِ شُفَعَاؤُنَا عِنْدَ اللَّهِ قُلْ أَتُنَبِّئُونَ اللَّهَ بِمَا لَا يَعْلَمُ فِي السَّمَاوَاتِ وَلَا فِي الْأَرْضِ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى عَمَّا يُشْرِكُونَ﴾

[يونس: 18]

’’ اور اللہ کے علاوہ ان کی بندگی کرتے ہیں جو نہ انہیں کوئی نقصان دے سکتے ہیں نہ ہی کوئی فائدہ، اور کہتے ہیں کہ یہ ہمارے سفارشی ہیں اللہ کے پاس، (ان سے ) کہدو کہ کیا تم اللہ کو ایسی خبر دیتے ہو جو وہ نہیں جانتا آسمانوں اور نہ ہی زمین میں، پاک ہے وہ اور بلند ہے ان کے اس شرک سے جو یہ کرتے ہیں ‘‘۔

﴿اَلَا لِلّٰهِ الدِّيْنُ الْخَالِصُ ۭ وَالَّذِيْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖٓ اَوْلِيَاۗءَ ۘ مَا نَعْبُدُهُمْ اِلَّا لِيُقَرِّبُوْنَآ اِلَى اللّٰهِ زُلْفٰى ۔ ۔ ﴾ [الزمر: 3]

’’ خبردار اللہ ہی کے لئے ہے خالص دین ، اور جن لوگوں نے اللہ کے سوا دوسرے اولیاء بنا رکھے ہیں ( کہتے ہیں ): ہم ان کی عبادت نہیں کرتے مگر اس لئے کہ یہ ہمیں اللہ کے قریب کردیں ۔ ۔ ۔ ‘‘

یعنی انکا شرک یہ تھا کہ وہ اللہ کے بندوں کی عبادت ( ان سے دعا کرنا، ان کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے ان کی نام کی نذر و نیاز کرنا، ان کی تعریفیں کرنا ) اس لئے کیا کرتے تھے کہ وہ انہیں اللہ تک پہنچا دیں یعنی ان وفات شدہ انسانوں کو اللہ کی طرف وسیلہ بنایا کرتے تھے، اور ان سے مانگا بھی کرتے تھے لیکن مالک سمجھ کر نہیں ’’ عطائی ‘‘ سمجھ کر۔آج کل کے مولوی صاحبان کہتے ہیں کہ وہ کسی انسان کی عبادت نہیں کرتے تھے بلکہ وہ محض بتوں کی پوچا کرتے تھے۔ اس بارے میں قرآن و حدیث سے معلوم ہوتا ہے :

﴿وَقَالُوا لَا تَذَرُنَّ آلِهَتَكُمْ وَلَا تَذَرُنَّ وَدًّا وَلَا سُوَاعًا وَلَا يَغُوثَ وَيَعُوقَ وَنَسْرًا﴾

[نوح: 23]

’’ اور کہنے لگے ، مت چھوڑنا اپنے معبودوں کو ، اور مت چھوڑنا ود،سواع، یغوث، یعوق اور نسر کو ‘‘

حدیث میں بیان کیا گیا :

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، «صَارَتِ الأَوْثَانُ الَّتِي كَانَتْ فِي قَوْمِ نُوحٍ فِي العَرَبِ بَعْدُ أَمَّا وَدٌّ كَانَتْ لِكَلْبٍ بِدَوْمَةِ الجَنْدَلِ، وَأَمَّا سُوَاعٌ كَانَتْ لِهُذَيْلٍ، وَأَمَّا يَغُوثُ فَكَانَتْ لِمُرَادٍ، ثُمَّ لِبَنِي غُطَيْفٍ بِالْجَوْفِ، عِنْدَ سَبَإٍ، وَأَمَّا يَعُوقُ فَكَانَتْ لِهَمْدَانَ، وَأَمَّا نَسْرٌ فَكَانَتْ لِحِمْيَرَ لِآلِ ذِي الكَلاَعِ، أَسْمَاءُ رِجَالٍ صَالِحِينَ مِنْ قَوْمِ نُوحٍ، فَلَمَّا هَلَكُوا أَوْحَى الشَّيْطَانُ إِلَى قَوْمِهِمْ، أَنِ انْصِبُوا إِلَى مَجَالِسِهِمُ الَّتِي كَانُوا يَجْلِسُونَ أَنْصَابًا وَسَمُّوهَا بِأَسْمَائِهِمْ، فَفَعَلُوا، فَلَمْ تُعْبَدْ، حَتَّى إِذَا هَلَكَ أُولَئِكَ وَتَنَسَّخَ العِلْمُ عُبِدَتْ»

( بخاری، کتاب تفسیر القرآن، بَابُ {وَدًّا وَلاَ سُواعًا، وَلاَ يَغُوثَ وَيَعُوقَ} )

’’ابن عباس ؓ سے روایت ہے  کہ وہ بت جو قوم نوح میں تھے وہی عرب میں اس کے بعد پوجے جانے لگے ” ود ” قوم کلب کا بت تھا جو دومتہ الجندل میں تھا اور ” سواع ” ہذیل کا اور ” یغوث ” مراد کا پھر بنی عطیف کا سبا کے پاس جوف میں تھا اور ” یعوق ‘‘ ہمدان کا اور ” نسر‘‘ حمیر کا ” جوذی‘‘  الکلاع کے خاندان سے تھا ۔یہ قوم نوح (علیہ السلام) کے نیک لوگوں کے نام تھے جب ان نیک لوگوں نے وفات پائی تو شیطان نے ان کی قوم کے دل میں یہ بات ڈال دی کہ ان کے بیٹھنے کی جگہ میں جہاں وہ بیٹھا کرتے تھے بت نصب کردیں اور اس کا نام ان (بزرگوں) کے نام پر رکھ دیں چناچہ ان لوگوں نے ایسا ہی کیا لیکن اس کی عبادت نہیں کی تھی یہاں تک کہ جب وہ ( باقی) لوگ بھی مرگئے اور اس کا علم جاتا رہا تو اس کی عبادت کی جانے لگی‘‘۔

مشرکین نے ابراہیم و اسماعیل علیہما السلام کے بت بنائے ہوئے تھے، ابن عباس ؓ سے روایت ہے :

إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا قَدِمَ أَبَى أَنْ يَدْخُلَ البَيْتَ وَفِيهِ الآلِهَةُ، فَأَمَرَ بِهَا فَأُخْرِجَتْ، فَأَخْرَجُوا صُورَةَ إِبْرَاهِيمَ، وَإِسْمَاعِيلَ فِي أَيْدِيهِمَا الأَزْلاَمُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قَاتَلَهُمُ اللَّهُ، أَمَا وَاللَّهِ لَقَدْ عَلِمُوا أَنَّهُمَا لَمْ يَسْتَقْسِمَا بِهَا قَطُّ». فَدَخَلَ البَيْتَ، فَكَبَّرَ فِي نَوَاحِيهِ، وَلَمْ يُصَلِّ فِيهِ

’’ کہ جب نبیﷺ جب کعبہ کے پاس آئے تو اندر جانے سے انکار کردیا اور اس میں بت رکھے ہوئے تھے۔ ان کے نکالنے کا حکم دیا، چناچہ وہ نکال دئیے گئے۔ لوگوں نے ابراہیم (علیہ السلام) اور اسماعیل (علیہ السلام) کے بت بھی نکال دئیے کہ ان دونوں کے ہاتھ میں پانسے تھے۔ رسول اللہ ﷺنے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ ان مشرکوں کو برباد کرے، واللہ وہ لوگ جانتے ہیں ان دونوں نے کبھی پانسے نہیں پھینکے، پھر خانہ کعبہ میں داخل ہوئے اور اس کے اطراف (کونوں) میں تکبیر کہی اورصلاۃ نہیں ادا کی‘‘۔

مشرکین نے مریم صدیقہ کی بھی تصویر بنائی ہوئی تھی :

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ البَيْتَ، فَوَجَدَ فِيهِ صُورَةَ إِبْرَاهِيمَ، وَصُورَةَ مَرْيَمَ، فَقَالَ «أَمَا لَهُمْ، فَقَدْ سَمِعُوا أَنَّ المَلاَئِكَةَ لاَ تَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ، هَذَا إِبْرَاهِيمُ مُصَوَّرٌ، فَمَا لَهُ يَسْتَقْسِمُ»

( بخاری، کتاب احادیث الانبیاء، بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَاتَّخَذَ اللَّهُ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلًا} )

’’ابن عباس ؓسے روایت ہے  کہ نبی ﷺ کعبہ میں داخل ہوئے تو وہاں ابراہیم اور مریم صدیقہ کی تصویریں دیکھیں تو نبی ﷺ نے فرمایا کہ قریش کو کیا ہوگیا حالانکہ وہ سن چکے تھے کہ فرشتے ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جہاں کوئی تصویر ہو یہ ابراہیم کی تصویر بنائی گئی پھر وہ بھی پانسہ پھینکتے ہوئے‘‘۔

اپنی قوم کے جس فرد کو وہ نیک سمجھتے تھے اس کے نام کے بھی بت بناتے تھے:

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فِي قَوْلِهِ: {اللَّاتَ وَالعُزَّى} [النجم: 19] «كَانَ اللَّاتُ رَجُلًا يَلُتُّ سَوِيقَ الحَاجِّ»

( بخاری، کتاب التفسیر القرآن، بَابُ {أَفَرَأَيْتُمُ اللَّاتَ وَالعُزَّى}

’’ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ لات اس شخص ِکا نام ہے جو حاجیوں کے لئے ستو گھولتا تھا‘‘۔

نبی ﷺ نے یہود و نصاریٰ پر اللہ کی لعنت فرمائی:

«لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى اليَهُودِ وَالنَّصَارَى، اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ» يُحَذِّرُ مَا صَنَعُوا

( بخاری، کتاب الصلاۃ، بَابُ الصَّلاَةِ فِي البِيعَةِ )

’’اللہ کی لعنت ہو یہود و نصاریٰ پر کہ انہوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو عبادت گاہ بنالیا ،اور ان لوگوں نے جو کیا اس سے (اپنی امت) کو ڈراتے تھے‘‘۔

نبی ﷺ نے سابقہ اقوام کا ذکر فرمایا اور اپنی قوم کو اس بدترین عمل سے منع کیا :

أَلَا وَإِنَّ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ كَانُوا يَتَّخِذُونَ قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ وَصَالِحِيهِمْ مَسَاجِدَ، أَلَا فَلَا تَتَّخِذُوا الْقُبُورَ مَسَاجِدَ، إِنِّي أَنْهَاكُمْ عَنْ ذَلِكَ»

( مسلم، کتاب المساجد و ۔ ۔، بَابُ النَّهْيِ عَنْ بِنَاءِ الْمَسَاجِدِ، عَلَى الْقُبُورِ وَاتِّخَاذِ الصُّوَرِ فِيهَا وَالنَّهْيِ عَنِ اتِّخَاذِ الْقُبُورِ مَسَاجِدَ)

’’خبردار، کہ تم سے پہلے لوگوں نے اپنے نبیوں اور نیک لوگوں کی قبروں کوعبادت گاہ بنا لیا تھا تم قبروں کو عبادت گاہ نہ بنانا میں تمہیں اس سے روکتا ہوں‘‘۔

واضح ہوا کہ انسانی شخصیات کے بت بنا کر ان کی عبادت کی جاتی تھی یا ان کی قبریں بنا کر انہیں عبادت گاہ بنا دیا جاتا تھا، اللہ تعالیٰ ان کے اس عمل کی تصدیق بھی کرتا ہے :

﴿إِنَّ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ عِبَادٌ أَمْثَالُكُمْ فَادْعُوهُمْ فَلْيَسْتَجِيبُوا لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ﴾

[الأعراف: 194]

’’ بے شک جو لوگ پکارتے ہیں اللہ کے علاوہ بندے ہیں تمہارے ہی جیسے ، پکارو انہیں یہ ضرور جواب دیں گے اگر تم سچے ہو‘‘۔

قرآن و حدیث نے اس بات کی تصدیق کردی کہ ہر دور میں انسانی شخصیات ہی کی بندگی کی گئی ہے خواہ بت کی شکل میں ہو یا قبر پرستی کی شکل میں۔

یہی بات اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے:

﴿وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ﴾

[يوسف: 106]

’’اور نہیں ایمان لاتے ان میں اکثر اللہ پر مگر اس طرح کہ وہ (اس کے ساتھ دوسروں کو) شریک ٹھہراتے ہیں‘‘۔

یعنی ایک طرف اللہ کی وحدانیت کا اعلان اور دوسری طرف اللہ کے بندوں کی بھی عبادت کی جائے، انہیں مدد کے لئے پکارا جائے، انہیں اللہ تک وسیلہ سمجھا جائے،انہیں مشکل کشا و دوسری صفت الٰہیہ سے منسوب کیا جائے، ایسا ایمان اللہ کے یہاں قابل قبول نہیں۔

﴿الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ أُولَئِكَ لَهُمُ الْأَمْنُ وَهُمْ مُهْتَدُونَ﴾

[الأنعام: 82]

’’ وہ لوگ جو ایمان لائے پھر اپنے ایمان کو ظلم (شرک) سے آلودہ نہیں کیا۔ انہی کے لیے امن و سلامتی ہے اور یہی لوگ راہ راست پر ہیں‘‘۔

ایمان خالص تو وہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اپنی ذات، صفات، حقوق اور اختیارات میں تنہا مانا جائے اس کیساتھ پھر کائنات کی کوئی چیز منسوب نہ کی جائے۔

مشرکین عرب کا یہ بھی جرم تھا کہ اللہ پر ایمان رکھنے کے باوجود دوسروں کو مدد گار سمجھتے تھے۔

۔ ۔ ۔ فَقَالَ أَبُو سُفْيَانَ: أَفِي القَوْمِ مُحَمَّدٌ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ، فَنَهَاهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُجِيبُوهُ، ثُمَّ قَالَ: أَفِي القَوْمِ ابْنُ أَبِي قُحَافَةَ؟ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ قَالَ: أَفِي القَوْمِ ابْنُ الخَطَّابِ؟ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى أَصْحَابِهِ فَقَالَ: أَمَّا هَؤُلاَءِ، فَقَدْ قُتِلُوا، فَمَا مَلَكَ عُمَرُ نَفْسَهُ، فَقَالَ: كَذَبْتَ وَاللَّهِ يَا عَدُوَّ اللَّهِ، إِنَّ الَّذِينَ عَدَدْتَ لَأَحْيَاءٌ كُلُّهُمْ، وَقَدْ بَقِيَ لَكَ مَا يَسُوءُكَ، قَالَ: يَوْمٌ بِيَوْمِ بَدْرٍ، وَالحَرْبُ سِجَالٌ، إِنَّكُمْ سَتَجِدُونَ فِي القَوْمِ مُثْلَةً، لَمْ آمُرْ بِهَا وَلَمْ تَسُؤْنِي، ثُمَّ أَخَذَ يَرْتَجِزُ: أُعْلُ هُبَلْ، أُعْلُ هُبَلْ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلاَ تُجِيبُوا لَهُ»، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا نَقُولُ؟ قَالَ: ” قُولُوا: اللَّهُ أَعْلَى وَأَجَلُّ “، قَالَ: إِنَّ لَنَا العُزَّى وَلاَ عُزَّى لَكُمْ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلاَ تُجِيبُوا لَهُ؟»، قَالَ: قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا نَقُولُ؟ قَالَ: «قُولُوا اللَّهُ مَوْلاَنَا، وَلاَ مَوْلَى لَكُمْ»

’’ ۔ ۔ ۔ابوسفیان نے تین مرتبہ کہا کہ کیا تم میں ابن ابی قحافہ ہیں ؟ (یعنی ابو بکر صدیق ؓ اور پھر تین مرتبہ کہا کہ تم میں عمر بن الخطاب ہیں ؟ اور پھر اس کے بعد اپنے ساتھیوں سے مخاطب ہو کر کہنے لگا کہ یہ تو سب مارے گئے جس پرعمر ؓاپنے آپ کو نہ روک سکے اور کہا کہ’’ اے اللہ کے دشمن اللہ کی قسم جن لوگوں کا تو نے نام لیا ہے وہ سب زندہ ہیں اور جس بات سے تم رنجیدہ ہو وہ برقرار ہے‘‘، ابوسفیان نے کہا آج بدر کے دن کا بدلہ نکل گیا اور لڑائی تو ڈول کی طرح ہے تم اپنے لوگوں میں سے بعض کے ناک کان کٹے پاؤ گے جس کا میں نے کوئی حکم نہیں دیا اور یہ بات مجھے ناگوار بھی معلوم نہیں ہوئی اس کے بعد ابوسفیان رجز پڑھنے لگا کہ’’ اے ہبل بلند ہوجا اے ہبل اونچا ہوجا ‘‘جس پرنبی ﷺ نے فرمایا کہ تم لوگ جواب کیوں نہیں دیتے صحابہ ؓ نے پوچھا یا رسول اللہ ہم کیا کہیں؟ فرمایا : ’’کہو اللہ ہی سب سے زیادہ بلند اور بزرگ موجود ہے ‘‘،جس پر ابوسفیان نے کہا’’ ہمارے پاس عزیٰ ہے اور تمہارے لئے عزیٰ نہیں ہے‘‘ تو پھر رسول اللہ ﷺ نے اصحاب سے کہا تم اس کا جواب کیوں نہیں دیتے ؟انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ہم کیا کہیں آپ نے فرمایا کہ کہو اللَّهُ مَوْلاَنَا، وَلاَ مَوْلَى لَكُمْ ’’اللہ ہمارا مددگار ہے اور تمہارا مددگار و معاون نہیں ہے‘‘۔

لہذا اللہ رب العزت یہی فرماتا ہے کہ اللہ ’’ الٰہ واحد ‘‘ ہے :

﴿قُلْ أَيُّ شَيْءٍ أَكْبَرُ شَهَادَةً قُلِ اللَّهُ شَهِيدٌ بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ وَأُوحِيَ إِلَيَّ هَذَا الْقُرْآنُ لِأُنْذِرَكُمْ بِهِ وَمَنْ بَلَغَ أَئِنَّكُمْ لَتَشْهَدُونَ أَنَّ مَعَ اللَّهِ آلِهَةً أُخْرَى قُلْ لَا أَشْهَدُ قُلْ إِنَّمَا هُوَ إِلَهٌ وَاحِدٌ وَإِنَّنِي بَرِيءٌ مِمَّا تُشْرِكُونَ﴾

[الأنعام: 19]

’’ پوچھو کس کی گواہی سب سے بڑھ کر ہے ؟ کہو ! اللہ گواہ ہے میرے اور تمہارے درمیان اور وحی کیا گیا ہے میری طرف یہ قرآن تاکہ متنبہ کروں تمہیں اس سے اور ہر اس شخص کو جس تک یہ پہنچے، کیا تم گواہی دیتے ہو کہ اللہ کے ساتھ ہیں معبود اور بھی ؟ کہہ دو ! کہ نہیں دیتا میں ایسی گواہی، کہدو کہ صحیح بات یہی ہے کہ وہی ہے معبود یکتا اور بیشک میں بیزار ہوں اس شرک سے جس میں تم مبتلا ہو‘‘۔

وہ ایک الٰہ کے قائل نہیں تھے بلکہ جیسا کہ اوپر حدیث بیان کی گئی ہے کہ ان کا عقیدہ تھا کہ وہ بھی اللہ کے شریک ہیں جن کا مالک بھی اللہ اور وہ کسی چیز کے مالک نہیں یعنی یہ ذاتی نہیں ہیں بلکہ عطائی ہیں۔ وہ عربی دان تھے اس لئے ’’ الٰہ ‘‘ کے معنی جانتے تھے اور اسی وجہ سے انہوں نے ایک الٰہ کے اس کلمے کو قبول نہیں کیا۔ اب ہم آپ کے سامنے الٰہ کے معانی و مطالب پیش کرتے ہیں۔

الٰہ کون: ہر چیز کا خالق

﴿ذَلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمْ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ فَأَنَّى تُؤْفَكُونَ﴾

[غافر: 62]

’’یہی اللہ تمہارارب ہے جو ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے، اس کے سوا کوئی الہ نہیں پھر تم کہاں بھٹک رہے ہو‘‘۔

الہ کون: آسمانوں اور زمین کا بادشاہ ، زندگی اور موت دینے والا۔

﴿قُلْ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا الَّذِي لَهُ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ يُحْيِي وَيُمِيتُ فَآمِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ الَّذِي يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَكَلِمَاتِهِ وَاتَّبِعُوهُ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ﴾

[الأعراف: 158]

’’(اے محمد) کہہ دو : اے انسانو ! بیشک میں رسول ہوں اللہ کا، بھیجا گیا تم سب کی طرف (اللہ وہ ہے) جسے زیب دیتی ہے بادشاہی آسمانوں کی اور زمین کی۔ نہیں ہے کوئی معبود ( الٰہ ) سوائے اس کے، وہ زندگی بخشتا ہے اور موت دیتا ہے۔ پس ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسول نبی اُمّی پر وہ جو خود بھی ایمان رکھتا ہے اللہ پر اور اس کے کلام پر اور پیروی کرو اس کی، تاکہ تم ہدایت پاؤ۔‘‘

الہ کون: زندگی اور موت دینے والا ،پالنے والا

﴿لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ يُحْيِي وَيُمِيتُ رَبُّكُمْ وَرَبُّ آبَائِكُمُ الْأَوَّلِينَ٨﴾

[الدخان: 8]

’’  اس کےسواکوئی الہ نہیں (وہی)زندہ کرتا ہےاور(وہی)موت دیتاہے۔وہی تمہارااورتمہارےباپ داداکا رب ہے۔

الٰہ کون: ہمیشہ زندہ رہنے والا، عبادت کے لائق، جس کو پکارا جائے۔

﴿هُوَ الْحَيُّ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ فَادْعُوهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾

[غافر: 65]

’’وہ زندہ و جاوید ہے (جسے موت نہیں) اس  اس  کو پکارو  دین کو خالص کرکے ۔تمام تعریفیں اور شکر اللہ رب العالمین کے لیے ہے ‘‘۔

الٰہ کون: عبادت کے لائق، جس کا ذکر کیا جائے

﴿إِنَّنِي أَنَا اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدْنِي وَأَقِمِ الصَّلَاةَ لِذِكْرِي﴾

[طه: 14]

’’بےشک میں ہی اللہ ہوں، میرے علاوہ کوئی الہ نہیں، تو میری عبادت کرو اور میری یاد کے لئے صلاۃ قائم کیا کرو‘‘۔

الٰہ کون: مشرق و مغرب کا رب، کارساز

﴿رَبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ فَاتَّخِذْهُ وَكِيلًا﴾

[المزمل: 9]

’’مشرق اور مغرب کا مالک (ہے اور) اس کے سوا کوئی الہ نہیں تو اسی کو اپنا کارساز بناؤ‘‘۔

الٰہ کون: رزق دینے والا۔ ( رزق کے معنی ضرورت کی ہر چیز جو عطا کی جائے)

﴿يَا أَيُّهَا النَّاسُ اذْكُرُوا نِعْمَتَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ هَلْ مِنْ خَالِقٍ غَيْرُ اللَّهِ يَرْزُقُكُمْ مِنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ فَأَنَّى تُؤْفَكُونَ﴾

[فاطر: 3]

’’ اے انسانو ! یاد کرو اللہ کی نعمتوں کو جو تم پر کیں، کیا اس کے علاوہ کوئی ایسا خالق ہے جو تمہیں رزق دے آسمانوں اور زمین سے، کوئی نہیں ہے الٰہ سوائے اس کے، پھر تم کہاں سے دھوکہ کھا رہے ہو ‘‘۔

الٰہ کون: جس پر توکل کیا جائے، توبہ قبول کرنے والا۔

﴿كَذَلِكَ أَرْسَلْنَاكَ فِي أُمَّةٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهَا أُمَمٌ لِتَتْلُوَ عَلَيْهِمُ الَّذِي أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ وَهُمْ يَكْفُرُونَ بِالرَّحْمَنِ قُلْ هُوَ رَبِّي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْهِ مَتَابِ﴾

[الرعد: 30]

’’اسی طرح رسول بنا کر بھیجا ہے ہم نے تم کو ایک ایسی قوم میں کہ گزر چکی ہیں اس سے پہلے بہت سی قومیں، تاکہ پڑھ کر سُناؤ تم انہیں وہ (پیغام) جو وحی کیا ہے ہم نے تمہاری طرف حالانکہ وہ انکار کرتے ہیں رحمٰن کا۔ کہہ دو ! وہی میرا رب ہے، نہیں ہے کوئی معبود ( الٰہ ) اس کے سِوا، اسی پر میرا بھروسہ ہے اور وہی میرا ملجا و ماویٰ ہے۔

الٰہ کون: علم والا۔

﴿إِنَّمَا إِلَهُكُمُ اللَّهُ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ وَسِعَ كُلَّ شَيْءٍ عِلْمًا﴾

[طه: 98]

’’تمہارالٰہ  وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی الہ نہیں، اس کا علم ہر چیز پر محیط ہے‘‘۔

الٰہ کون: عالم الغیب و الشھادۃ

﴿هُوَ اللَّهُ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ هُوَ الرَّحْمَنُ الرَّحِيمُ﴾

[الحشر: 22]

’’وہی اللہ ہےجسکےسواکوئی الہ نہیں پوشیدہ اورظاہرکاجاننےوالاہے۔وہی بڑا مہربان اور رحم کرنے والا ہے‘‘۔

الٰہ کے اوصاف :

﴿أَمَّنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَأَنْزَلَ لَكُمْ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَنْبَتْنَا بِهِ حَدَائِقَ ذَاتَ بَهْجَةٍ مَا كَانَ لَكُمْ أَنْ تُنْبِتُوا شَجَرَهَا أَإِلَهٌ مَعَ اللَّهِ بَلْ هُمْ قَوْمٌ يَعْدِلُونَ﴾

[النمل: 60]

’’بھلا کس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور (کس نے) تمہارے لئے آسمان سے پانی برسایا۔ (ہم نے) پھر ہم ہی نے اس سے سرسبز باغ اگائے۔ تمہارا کام تو نہ تھا کہ تم ان کے درختوں کو اگاتے۔ تو کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور بھی الٰہ ہے، بلکہ قوم ہی نا انصافی کرنے والی ہے‘‘۔

﴿أَمَّنْ جَعَلَ الْأَرْضَ قَرَارًا وَجَعَلَ خِلَالَهَا أَنْهَارًا وَجَعَلَ لَهَا رَوَاسِيَ وَجَعَلَ بَيْنَ الْبَحْرَيْنِ حَاجِزًا أَإِلَهٌ مَعَ اللَّهِ بَلْ أَكْثَرُهُمْ لَا يَعْلَمُونَ﴾

[النمل: 61]

’’بھلا کس نے زمین کو قرار گاہ بنایا اور اس کے بیچ نہریں بنائیں اور اس کے لئے پہاڑ بنائے اور (کس نے) دو دریاؤں کے بیچ اوٹ بنائی (یہ سب کچھ اللہ نے بنایا) تو کیا اللہ کے ساتھ کوئی اورالٰہ بھی ہے؟ (ہرگز نہیں) بلکہ ان میں اکثرلوگ جانتے ہی نہیں‘‘۔

﴿أَمَّنْ يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ السُّوءَ وَيَجْعَلُكُمْ خُلَفَاءَ الْأَرْضِ أَإِلَهٌ مَعَ اللَّهِ قَلِيلًا مَا تَذَكَّرُونَ﴾

[النمل: 62]

’’بھلا کون بے قرار کی التجا قبول کرتا ہے۔ جب وہ اس سے دعا کرتا ہے اور (کون اس کی) تکلیف کو دور کرتا ہے اور (کون) تم کو زمین میں (اگلوں کا) جانشین بناتا ہے (یہ سب کچھ اللہ کرتا ہے) تو کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود بھی ہے؟ (ہرگز نہیں مگر) تم بہت کم غور کرتے ہو‘‘۔

﴿أَمَّنْ يَهْدِيكُمْ فِي ظُلُمَاتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَمَنْ يُرْسِلُ الرِّيَاحَ بُشْرًا بَيْنَ يَدَيْ رَحْمَتِهِ أَإِلَهٌ مَعَ اللَّهِ تَعَالَى اللَّهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ﴾

[النمل: 63]

’’بھلا کون تم کو جنگل اور دریا کے اندھیروں میں راستہ بتاتا ہے اور (کون) ہواؤں کو اپنی رحمت کے آگے خوشخبری بناکر بھیجتا ہے (یہ سب کچھ اللہ کرتا ہے) تو کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود بھی ہے؟ (ہرگز نہیں)۔ (یہ لوگ) جو شرک کرتے ہیں اللہ (کی شان) اس سے بلند ہے’’۔

﴿أَمَّنْ يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ وَمَنْ يَرْزُقُكُمْ مِنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ أَإِلَهٌ مَعَ اللَّهِ قُلْ هَاتُوا بُرْهَانَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ﴾

[النمل: 64]

’’بھلا کون خلقت کو پہلی بار پیدا کرتا۔ پھر اس کو بار بار پیدا کرتا رہتا ہے اور (کون) تم کو آسمان اور زمین سے رزق دیتا ہے (یہ سب کچھ اللہ کرتا ہے) تو کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود بھی ہے؟ (ہرگز نہیں) کہہ دو کہ (مشرکوں) اگر تم سچے ہو تو دلیل پیش کرو‘‘۔

پیش کردہ قرآنی آیات سے واضح ہوا کہ ’’ الٰہ ‘‘ کسے کہتے ہیں۔

· ’’ الٰہ ‘‘ کے معنی کہ وہ جو اس کائنات کا خالق اور رب ( پالنہار، یعنی زندگی سے لیکر موت تک کی اور اس کے بعد کی ہر ہر چیز دینے والا ہو)،۔
· جو ایک مخلوق کو پیدا کرکے بار بار اس مخلوق کو پیدا کر رہا ہو۔ ( جیسے نسل انسان ایک تسلسل سے چل رہی ہے )۔
· جو مخلوق کی زندگی اور موت پر قادر ہو۔
· جو زندہ و جاوید ہو۔ ( یعنی جسے کبھی موت نہ آنی ہو )۔
· جو مشرق سے لیکر مغرب تک ہر چیز کا مالک ہو۔
· رزاق ( یعنی ہر چیز دینے والا، اس میں صرف کھانے پینے کی چیز نہیں ہوتی بلکہ ہر وہ چیز جو اللہ کی طرف عطا کی جائے وہ رزق کہلاتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ اللہ سے دعا کرتے تھے :” اللهم ارزقني شهادة في سبيلك‘‘ (صحیح بخاری: کتاب فضائل المدینۃباب كراهية النبي ﷺ أن تعرى المدينة) ’’اے اللہ! مجھے اپنے راستے میں شہادت عطا فرما ‘‘.
· مشکل کشا، یعنی تمام مخلوق کی مشکلات کو دور کرنے والا۔
· غوث الاعظم ، کائنات کا سب سے بڑا مخلوق کی پکاریں سننے والا ان کی مدد کرنے والا۔
· جو کہ غیب اور دکھائی دینے والی ہر چیز کا علم رکھتا ہو۔
· جس کو پکارا جائے، جس سے غائبانہ مدد مانگی جائے۔
· جو اس پورے سسٹم پر قدرت رکھتا ہو، سورج، چاند، ہر چیز اس کے کنٹرول میں ہو۔
· جو اولاد دینے پر تنہا قادر ہو۔
· جو خشکی و تری میں انسانوں کو راستہ دکھانے والا ہو۔
· جس کی عبادت کی جائے۔
· جس پر توکل کیا جائے۔

واضح ہوا کہ الٰہ یعنی معبود وہ تن تنہا اللہ کی ذات ہے ، اس کائنات میں اور کوئی الٰہ نہیں۔ اب ہم آپ کے سامنے اللہ تعالیٰ کی مزید صفات کا بیان کرتے ہیں جو آج اس کلمہ گو نے اللہ کی مخلوق کو دے رکھی ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے کلمہ کی ابتدا کسی اور کے الٰہ ہونے کےانکا رسے رکھی ہے یہی بات قرآن مجید میں اس طرح فرمائی گئی۔

﴿لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ قَدْ تَبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ فَمَنْ يَكْفُرْ بِالطَّاغُوتِ وَيُؤْمِنْ بِاللَّهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَى لَا انْفِصَامَ لَهَا وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ﴾

[البقرة: 256]

’’ دین میں کوئی زبردستی نہیں ہے، ہدایت گمراہی سے علیحدہ اور خوب واضح ہوگئی، اب جو طاغوت کا کفر کرے اور اللہ پر ایمان لائے اس نے وہ مضبوط حلقہ تھا م لیا جو کبھی نہ ٹوٹے گا، اللہ سننے اور جاننے والا ہے۔‘‘

یہی اس کلمے کا انداز ہے۔ لا ( نہیں ہے کوئی )، الٰہ ( الٰہ ، معبود )، الا ( مگر سوائے )، اللہ ( اللہ )۔ یعنی اللہ نے پہلے سارے معبودوں کا انکار کرایا ہے کہ جسے لوگ پوجتے یا اس کی عبادت کرتے یا اس کا حکم مانتے ہوں ، ان سب کا انکار کرنا ہوگا ۔اس کے بعد کہلوایا الا اللہ، مگر اللہ ہے، یعنی ان ساری صفات کا حامل اکیلا اللہ تعالیٰ ہے۔ اب جو کوئی کلمہ پڑھے گا تو اس کے معنی ہوں گے، کوئی نہیں ہے، خالق، کوئی نہیں ہے دینے والا ( رب )، کوئی نہیں ہے جو کائنات کا نظام چلا رہا ہو، کوئی نہیں ہے جو مخلوق کو رزق دیتا ہو، کوئی نہیں ہے جو مخلوق کو ان کی ضرورت کی چیزیں دیتا ہو، بیماری میں شفا دیتا ہو،پریشانی میں مشکلات دور کرتا ہو، کوئی نہیں کہ جو زمینوں میں ہریالی لاتا ہو، نفع و نقصان پر قادر ہو۔ کوئی نہیں ہے جو کاروبار میں اضافہ کرتا ہو، کوئی نہیں ہے جو مخلوق کی پکار کو سنتا ہو، کوئی نہیں جو انہیں اولاد دیتا ہو۔ کوئی نہیں جس کا حکم مانا جائے، کوئی نہیں کہ جس کی عبادت کی جائے، کوئی نہیں کہ جس کے نام کی نذر و نیاز کی جائےکوئی نہیں، کوئی نہیں جو مخلوق کی مدد کرتا ہو، ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سوائے اللہ تعالیٰ کے۔

اللہ اکیلا ان صفات کا حامل ہے، وہ خالق ہے باقی سب مخلوق، وہ رازق ہے باقی سب مرزوق، وہ حکم چلانے والا ہے باقی سب حکم ماننے والے ہیں۔ جب ان ساروں کا انکار کردیا جائے گاجنہیں آج یہ امت ’’ داتا ‘‘ (دینے والا) ، ’’ گنج بخش ‘‘ (خزانے بخشنے والا) ، ’’ غریب نواز ‘‘( غریبوں کو نوازنے والا) ، ’’ غوث الاعظم‘‘ ( کائنات کا سب سے بڑا مخلوق کی سننے والا ، ان کی مدد کرنے والا ) سمجھتی ہے، کہیں کسی کو ’’ مشکل کشا ‘‘ ( مشکلات دور کرنے والا ) کہہ کر پکارتی اور کہیں کسی کو قسمتیں بدل دینے کا مختار سمجھا جاتا ہے۔ اسے ہی تو انہیں الٰہ بنانا کہتے ہیں۔

اسوقت کے وہ لوگ عربی دان تھے، انہوں نے اسی لئے یہ کلمہ قبول نہیں کیا کہ ، اکیلا االٰہ صرف اللہ، اور کوئی نہیں؟ یہ وہ شخصیات جن کے نام کے یہ بت ہیں، یہ انبیاء یہ نیک و صالح لوگ یہ کچھ نہیں کرسکتے؟

لیکن اس قوم کو عربی نہیں آتی اس لئے یہ الٰہ کے معنی نہ سمجھ سکے اور پانچ وقت اشھد ان لا الٰہ الا اللہ کہنے کے باوجود انہوں نے دوسروں کو اپنا الٰہ بنالیا اس لئے ان کے ایمان میں شرک کی ملاوٹ ہوگئی۔

﴿وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ﴾

[يوسف: 106]

’’اور نہیں ایمان لاتے ان میں اکثر اللہ پر مگر اس طرح کہ وہ (اس کے ساتھ دوسروں کو) شریک ٹھہراتے ہیں‘‘۔

اب ہم آتے ہیں کلمہ کے دوسرے حصے کی طرف۔

محمد رسول اللہ

اس کلمے کا دوسرا حصہ یعنی محمد ﷺ کی رسالت کا اقرار۔اس بارے میں سب سے پہلے یہ سمجھیں کہ رسول کون ہوتے ہیں؛

تمام رسول علیہ السلام اللہ کے بندے تھے۔

﴿وَإِنْ كُنْتُمْ فِي رَيْبٍ مِمَّا نَزَّلْنَا عَلَى عَبْدِنَا فَأْتُوا بِسُورَةٍ مِنْ مِثْلِهِ ۔ ۔ ۔ ﴾

[البقرة: 23]

’’ اور اگر تمہیں شک ہے اس چیز پر جو ہم نے نازل کی ہے اپنے بندے پر تو ( تم )لے آو اس جیسی کوئی سورہ ۔ ۔ ۔ ‘‘

﴿سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَى بِعَبْدِهِ لَيْلًا مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ ٱلۡأَقۡصَا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ﴾

[الإسراء: 1]

’’پاک ہے وہ ذات جو لے گئی اپنے بندے کو راتوں رات مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک۔ ۔ ۔ ‘‘

﴿الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَنْزَلَ عَلَى عَبْدِهِ الْكِتَابَ وَلَمْ يَجْعَلْ لَهُ عِوَجًا ﴾

[الكهف: 1]

’’سب تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جس نے نازل فرمائی اپنے بندے پر یہ کتاب اور نہیں رکھی اس میں کوئی کجی‘‘۔

﴿قَالَ إِنِّي عَبْدُ اللَّهِ آتَانِيَ الْكِتَابَ وَجَعَلَنِي نَبِيًّا﴾

[مريم: 30]

’’(اس وقت وہ بچّہ ) بول اٹھا : بیشک میں بندہ ہوں اللہ کا۔ عطا کی ہے اس نے مجھے کتاب اور بنایا ہے مجھے نبی‘‘۔

﴿إِنْ هُوَ إِلَّا عَبْدٌ أَنْعَمْنَا عَلَيْهِ وَجَعَلْنَاهُ مَثَلًا لِبَنِي إِسْرَائِيلَ﴾

[الزخرف: 59]

’’وہ (عیسی بن مریم) محض ایک بندہ تھا جس پر ہم نے انعام کیا اور بنی اسرائیل کے لیے اس کو ایک نمونہ قدرت بنایا تھا‘‘۔

ان آیات میں واضح طور انبیاء علیہم السلام کو اللہ تعالیٰ نے اپنا بندہ قرار دیا۔ اب ہم دوسرے اہم پوائنٹ کی طرف آتے ہیں۔

تمام انبیاء علیہم السلام بشر یعنی انسان تھے۔

﴿مَا كَانَ لِبَشَرٍ أَنْ يُؤْتِيَهُ اللَّهُ الْكِتَابَ وَالْحُكْمَ وَالنُّبُوَّةَ ثُمَّ يَقُولَ لِلنَّاسِ كُونُوا عِبَادًا لِي مِنْ دُونِ اللَّهِ وَلَكِنْ كُونُوا رَبَّانِيِّينَ بِمَا كُنْتُمْ تُعَلِّمُونَ الْكِتَابَ وَبِمَا كُنْتُمْ تَدْرُسُونَ﴾

[آل عمران: 79]

’’نہیں زیب دیتا کسی انسان کو، جسے دی ہو اللہ نے کتاب و حکمت اور نبوّت، پھر وہ کہے لوگوں سے کہ بن جاؤ تم میرے بندے اللہ کو چھوڑ کر بلکہ (وہ تو یہی کہے گا) کہ بن جاؤ تم اللہ والے کیونکہ تم تعلیم دیتے ہو کتاب الہٰی کی اور اس بنا پر بھی کہ تم پڑھتے ہو خود بھی (اللہ کی کتاب) ‘‘۔

﴿أَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا أَنْ أَوْحَيْنَا إِلَى رَجُلٍ مِنْهُمْ أَنْ أَنْذِرِ النَّاسَ وَبَشِّرِ الَّذِينَ آمَنُوا أَنَّ لَهُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّهِمْ قَالَ الْكَافِرُونَ إِنَّ هَذَا لَسَاحِرٌ مُبِينٌ﴾

[يونس: 2]

’’کیا ہے، لوگوں کے لیے باعث تعجب ؟ یہ (بات) کہ وحی بھیجی ہم نے ایک آدمی کی طرف انہی میں سے کہ خبردار کرو لوگوں کو اور خوشخبری دو ان لوگوں کو جو ایمان لائے ہیں، کہ ہے ان کے لیے عزّت و سرفرازی سچی، پاس ان کے رب کے۔ کہا کافروں نے کہ بیشک یہ کھلا جادو گر ہے‘‘۔

﴿وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلًا مِنْ قَبْلِكَ وَجَعَلْنَا لَهُمْ أَزْوَاجًا وَذُرِّيَّةً وَمَا كَانَ لِرَسُولٍ أَنْ يَأْتِيَ بِآيَةٍ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ لِكُلِّ أَجَلٍ كِتَابٌ﴾ [الرعد: 38]

’’اور بیشک بھیجے ہیں ہم نے بہت سے رسول تم سے پہلے اور بنایا تھا ہم نے انہیں بیوی بچّوں (والا) اور نہیں ہے طاقت کسی رسول کی کہ لا دکھائے کوئی نشانی (از خود) بغیر اللہ کے اذن کے۔ ہر دور کے لیے ہے ایک کتاب‘‘۔

﴿قَالَتْ لَهُمْ رُسُلُهُمْ إِنْ نَحْنُ إِلَّا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ وَلَكِنَّ اللَّهَ يَمُنُّ عَلَى مَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ وَمَا كَانَ لَنَا أَنْ نَأْتِيَكُمْ بِسُلْطَانٍ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ﴾

[إبراهيم: 11]

’’ کہا ! ان سے ان کے رسولوں نے کہ واقعی نہیں ہیں ہم مگر آدمی تمہاری طرح کے، لیکن اللہ نوازتا ہے جس کو چاہے اپنے بندوں میں سے اور نہیں ہے اختیار میں ہمارے کہ لا دیں تمہیں کوئی سند مگر اللہ کے اذن سے۔ اور اللہ ہی پر چاہیے کہ بھروسہ کریں اہل ایمان‘‘۔

﴿وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَائِكَةِ إِنِّي خَالِقٌ بَشَرًا مِنْ صَلْصَالٍ مِنْ حَمَإٍ مَسْنُونٍ﴾

[الحجر: 28]

’’اور (یاد کرو وہ وقت) جب کہا تھا تیرے رب نے فرشتوں سے بیشک میں بنانے والا ہوں آدمی، کھنکھناتے، سڑے ہُوئے گارے سے‘‘۔

﴿أَوْ يَكُونَ لَكَ بَيْتٌ مِنْ زُخْرُفٍ أَوْ تَرْقَى فِي السَّمَاءِ وَلَنْ نُؤْمِنَ لِرُقِيِّكَ حَتَّى تُنَزِّلَ عَلَيْنَا كِتَابًا نَقْرَؤُهُ قُلْ سُبْحَانَ رَبِّي هَلْ كُنْتُ إِلَّا بَشَرًا رَسُولًا﴾

[الإسراء: 93]

’’یا (جب تک نہ) ہو تمہارے لیے گھر سونے کا یا (نہ) چڑھ جاؤ تم آسمان پر۔ اور ہرگز نہیں یقین کریں گے ہم تمہارے چڑھنے کا بھی جب تک کہ (نہ) اتارو تم ہم پر ایک تحریر جسے ہم پڑھیں خود۔ کہہ دیجیے پاک ہے میرا رب نہیں ہوں میں مگر ایک بشر (اللہ کا) پیغام پہنچانے والا۔

﴿قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ يُوحَى إِلَيَّ أَنَّمَا إِلَهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ فَمَنْ كَانَ يَرْجُو لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهِ أَحَدًا﴾

[الكهف: 110]

’’ کہہ دیجیے (اے نبی) کہ درحقیقت میں بھی ایک بشر ہوں تم ہی جیسا، وحی کی جاتی ہے میری طرف یہ حقیقت کہ بس تمہارا معبود تو الٰہِ واحد ہے سو جو شخص ہے امیدوار اپنے رب سے ملاقات کا اسے چاہیے کہ کرے کام اچھے اور نہ شریک بنائے اپنے رب کی عبادت میں کسی کو‘‘۔

﴿وَمَا جَعَلْنَاهُمْ جَسَدًا لَا يَأْكُلُونَ الطَّعَامَ وَمَا كَانُوا خَالِدِينَ﴾

[الأنبياء: 8]

’’اورنہیں بنائے تھے ہم نے ان کے ( ایسے ) جسم کہ کھانا نہ کھاتے ہوں اور نہ تھے وہ ہمیشہ رہنے والے‘‘۔

﴿وَمَا أَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنَ الْمُرْسَلِينَ إِلَّا إِنَّهُمْ لَيَأْكُلُونَ الطَّعَامَ وَيَمْشُونَ فِي الْأَسْوَاقِ وَجَعَلْنَا بَعْضَكُمْ لِبَعْضٍ فِتْنَةً أَتَصْبِرُونَ وَكَانَ رَبُّكَ بَصِيرًا﴾

[الفرقان: 20]

’’اور نہیں بھیجا ہم نے تم سے پہلے کوئی رسول مگر وہ سب کھاتے تھے کھانا اور چلتے پھرتے تھے بازاروں میں۔ اور بنایا ہے ہم نے تم کو ایک دوسرے کے لیے آزمائش کہ کیا تم ثابت قدم رہتے ہو ؟ اور تیرا رب سب کچھ دیکھ رہا ہے۔

﴿قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ يُوحَى إِلَيَّ أَنَّمَا إِلَهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ فَاسْتَقِيمُوا إِلَيْهِ وَاسْتَغْفِرُوهُ وَوَيْلٌ لِلْمُشْرِكِينَ﴾

[فصلت: 6]

’’اے نبی (ﷺ) ان سے کہیے کہ بس میں تو ایک بشر ہوں تم جیسا بتایا جاتا ہے بذریعہ وحی مجھے کہ بس تمہارا معبود ایسا معبود ہے جو ایک ہی ہے۔ سو سیدھے رکھو اپنے رخ، اسی کی طرف اور معافی چاہو اس سے۔ سو ہلاکت ہے مشرکوں کے لیے‘‘۔

﴿وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَنْ يُكَلِّمَهُ اللَّهُ إِلَّا وَحْيًا أَوْ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ أَوْ يُرْسِلَ رَسُولًا فَيُوحِيَ بِإِذْنِهِ مَا يَشَاءُ إِنَّهُ عَلِيٌّ حَكِيمٌ﴾

[الشورى: 51]

’’اور نہیں ہے یہ مقام کسی بشر کا کہ بات کرے اس سے اللہ مگر وحی کے ذریعہ سے یا پردے کے پیچھے سے یا وہ بھیجتا ہے پیامبر (فرشتہ) پس وہ وحی کرتا ہے اللہ کے اذن سے جو کچھ اللہ چاہتا ہے۔ بلاشبہ وہ ہے برتر اور بڑی حکمت والا‘‘۔

﴿هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّيِّينَ رَسُولًا مِنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَإِنْ كَانُوا مِنْ قَبْلُ لَفِي ضَلَالٍ مُبِينٍ﴾

[الجمعة: 2]

’’وہ وہی ہے جس نے اِن بے پڑھے لکھوں میں ان ہی میں سے ایک ایسا رسول بھیجا جو کہ پڑھ پڑھ کر سناتا (سمجھاتا) ہے ان کو اس کی آیتیں اور وہ سنوارتا (نکھارتا) ہے ان کو اور سکھاتا (پڑھاتا) ہے ان کو کتاب و حکمت، جب کہ یہ لوگ اس سے قبل یقینا کھلی گمراہی میں تھے ‘‘۔

قرآن مجید کے ان دلائل سے یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچی کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مبعوث فرمائے گئے تمام انبیاء علیہم السلام انسان ہی تھے، ان کی ساخت دیگر انسانوں ہی کی طرح تھی

اسی طرح پیدا ہوئے، کھانے پینے والے، انہوں نے شادیاں بھی کیں۔ یہاں بات ساخت کے حوالے سی کی گئی ہے ورنہ انبیاء علیہم السلام کا مقام تو انسانیت میں سب سے افضل ہوتا ہے۔

انبیاء علیہم السلام کے لئے وفات اور بعد از وفات کا حکم :

﴿أَمْ كُنْتُمْ شُهَدَاءَ إِذْ حَضَرَ يَعْقُوبَ الْمَوْتُ ﴾

[البقرة: 133]

“کیا تم اسوقت حاضر تھے جب یعقوب کو موت آئی “۔

﴿فَلَمَّا قَضَيْنَا عَلَيْهِ الْمَوْتَ مَا دَلَّهُمْ عَلَى مَوْتِهِ إِلَّا دَابَّةُ الْأَرْضِ تَأْكُلُ مِنْسَأَتَهُ فَلَمَّا خَرَّ تَبَيَّنَتِ الْجِنُّ أَنْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ الْغَيْبَ مَا لَبِثُوا فِي الْعَذَابِ الْمُهِينِ﴾

[سبأ: 14]

“پھر جب سلیمان ؑ پر ہم نے موت کا فیصلہ نافذ کیا تو جنوں کو اسکی موت کا پتہ دینے والی کوئی چیز اس گھن کے سوا نہ تھی جو ان کے عصاکو کھاتا رہا۔ آخر جب وہ گر پڑے تو جنوں پر یہ بات کھلی کہ اگر وہ غیب جاننے والے ہوتے تو اتنا عرصہ ذلت کے عذاب میں مبتلا نہ رہتے”۔

یوسف علیہ السلام نے دعا کی :

﴿ ۔ ۔ أَنْتَ وَلِيِّي فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ تَوَفَّنِي مُسْلِمًا وَأَلْحِقْنِي بِالصَّالِحِينَ﴾

[يوسف: 101]

“(اے رب ) تو ہی میرا کارساز ہے دنیا و آخرت میں ،مجھے اسلام کی حالت میں وفات دےاور داخل کردے صالحین میں”۔

یوسف علیہ السلام کی موت کی تصدیق قرآن میں اس طرح فرمائی گئی:

﴿وَلَقَدْ جَاءَكُمْ يُوسُفُ مِنْ قَبْلُ بِالْبَيِّنَاتِ فَمَا زِلْتُمْ فِي شَكٍّ مِمَّا جَاءَكُمْ بِهِ حَتَّى إِذَا هَلَكَ . . . .﴾

[غافر: 34]

” اور یقیناً تمہارے پاس اس سے قبل یوسف نشانیاں لیکر آئے تھے، مگر تم اس بارے میں شک ہی میں رہے جو تمہارے پاس آیا یہاں تک کہ وہ وفات پاگئے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “۔

قرآن کی آیات سے واضح ہوا کہ انبیاء علیہم السلام کے لئے بھی موت کا وہی حکم ہے جو دوسرے انسانوں کے لئے ہے ۔مزید آیات پڑھیں کہ موت کے بعد انبیاء کیساتھ کیا معاملہ ہوتا ہے:

ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا:

﴿وَالَّذِي يُمِيتُنِي ثُمَّ يُحْيِينِ﴾

[الشعراء: 81]

“اور جو مجھے موت دے گا(اور )پھر ( قیامت کے دن ) زندہ کرے گا “۔

یحییٰ علیہ السلام کے لیے فرمایا :

﴿وَسَلَامٌ عَلَيْهِ يَوْمَ وُلِدَ وَيَوْمَ يَمُوتُ وَيَوْمَ يُبْعَثُ حَيًّا﴾

[مريم: 15]

“اور سلامتی ہو ان پر جس دن وہ پیدا ہوئے اور جس دن ان کی وفات ہوئی اور جس دن وہ زندہ کرکے اٹھائے جائیں گے”

عیسیٰ علیہ السلام کے لیے فرمایا:

﴿وَالسَّلَامُ عَلَيَّ يَوْمَ وُلِدْتُ وَيَوْمَ أَمُوتُ وَيَوْمَ أُبْعَثُ حَيًّا﴾

[مريم: 33]

“اور سلامتی ہو مجھ پر جس دن میں پیدا ہو اجس دن میں وفات پاؤں گا اور جس دن میں زندہ کرکے اٹھایا جاؤں گا”۔

نبی ﷺ کے لئے فرمایا گیا:

﴿وَمَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِنْ قَبْلِكَ الْخُلْدَ أَفَإِنْ مِتَّ فَهُمُ الْخَالِدُونَ﴾

[الأنبياء: 34]

(اے محمد ؑ ) ہم نے تم سے پہلے بھی کسی انسان کے لیے ہمیشگی نہیں رکھی ، اگر تم فوت ہو گئے تو کیا یہ لوگ ہمیشہ زندہ رہیں گے”۔

﴿إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُمْ مَيِّتُونَ﴾

[الزمر: 30]

(اے محمد ؑ) تم کو بھی مرنا ہے اور ان کو مرنا ہے”۔

﴿وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ أَفَإِنْ مَاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ وَمَنْ يَنْقَلِبْ عَلَى عَقِبَيْهِ فَلَنْ يَضُرَّ اللَّهَ شَيْئًا وَسَيَجْزِي اللَّهُ الشَّاكِرِينَ﴾

[آل عمران: 144]

محمد ؑ محض ایک رسول ہیں ، ان سے پہلے بھی بہت سے رسول گزرے ہیں، اگر یہ فوت ہو جائیں یا شہید کر دیئے جائیں تو کیا تم الٹے پھرجاؤ گے ، اور جو بھی الٹے پاؤں پھر گیا تو وہ اللہ کوکچھ نقصا ن نہیں پہنچا سکتا اور اللہ اپنے شکر گزار بندوں کو ضرور اجر دے گا”۔

واضح ہوا کہ انبیاء علیہم السلام قبروں میں زندہ نہیں بلکہ قیامت کے دن ہی زندہ کرکے اٹھائے جائیں گے۔

انبیاء علیہ السلام کی بعثت کا مقصد:

﴿وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَسُولًا أَنِ اعْبُدُوا اللَّهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ فَمِنْهُمْ مَنْ هَدَى اللَّهُ وَمِنْهُمْ مَنْ حَقَّتْ عَلَيْهِ الضَّلَالَةُ فَسِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَانْظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِينَ﴾

[النحل: 36]

’’اور یقیناً ہم نے بھیجا ہر اُمّت میں ایک رسول کہ عبادت کرو اللہ کی اور اجتناب کرو طاغوت (کی بندگی) سے۔ پس ان میں سے کچھ ایسے تھے جن کو ہدایت دی اللہ نے اور انہی میں سے کچھ ایسے تھے جن پر مسلّط ہوگئی گمراہی۔ سو چلو پھرو زمین میں پھر دیکھو کیا ہوا انجام جھٹلانے والوں کا‘‘۔

﴿لَقَدْ أَرْسَلْنَا نُوحًا إِلَى قَوْمِهِ فَقَالَ يَا قَوْمِ اعْبُدُوا اللَّهَ مَا لَكُمْ مِنْ إِلَهٍ غَيْرُهُ إِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ﴾

[الأعراف: 59]

’’بلاشبہ ہم نے بھیجا نوح کو اس کی قوم کی طرف تو اس نے کہا اے میری قوم عبادت کرو اللہ کی نہیں ہے تمہارے لیے کوئی اور معبود ( الٰہ ) اس کے سوا ،بیشک میں ڈرتا ہوں تم پر بڑے دن کے عذاب سے‘‘۔

﴿وَإِلَى عَادٍ أَخَاهُمْ هُودًا قَالَ يَا قَوْمِ اعْبُدُوا اللَّهَ مَا لَكُمْ مِنْ إِلَهٍ غَيْرُهُ أَفَلَا تَتَّقُونَ﴾

[الأعراف: 65]

’’اور قوم عاد کی طرف ان کے بھائی ہود کو (بھیجا) اس نے کہا اے میری قوم ! صرف اللہ کی عبادت کرو نہیں ہے تمہارے لیے کوئی معبود اس کے علاوہ تو کیا تم ڈرتے نہیں‘‘۔

﴿وَإِلَى ثَمُودَ أَخَاهُمْ صَالِحًا قَالَ يَا قَوْمِ اعْبُدُوا اللَّهَ مَا لَكُمْ مِنْ إِلَهٍ غَيْرُهُ ۔ ۔ ۔ ۔ ﴾

[الأعراف: 73]

’’اور قوم ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو اس نے کہا اے میری قوم ! عبادت کرو اللہ کی نہیں تمہارے لیے کوئی معبود اس کے سوا ۔ ۔ ‘‘۔

﴿وَإِلَى مَدْيَنَ أَخَاهُمْ شُعَيْبًا قَالَ يَا قَوْمِ اعْبُدُوا اللَّهَ مَا لَكُمْ مِنْ إِلَهٍ غَيْرُهُ ۔ ۔ ۔ ۔﴾

[الأعراف: 85]

’’اور مدین کی طرف ان کے بھائی شعیب کو بھیجا اس نے کہا اے میری قوم ! عبادت کرو اللہ کی نہیں ہے تمہارے لیے کوئی معبود اس کے علاوہ ۔ ‘‘

﴿وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَسُولٍ إِلَّا نُوحِي إِلَيْهِ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدُونِ﴾

[الأنبياء: 25]

’’اور ( اے محمد ؐ ) نہیں ہم نے بھیجا آپ سے پہلے کوئی رسول مگر ہم وحی کرتے تھے اس کی طرف کہ بیشک یہ حقیقت ہے کہ نہیں کوئی معبود مگر میں ہی ، سو تم میری عبادت کرو ‘‘۔

﴿وَإِبْرَاهِيمَ إِذْ قَالَ لِقَوْمِهِ اعْبُدُوا اللَّهَ وَاتَّقُوهُ ذَلِكُمْ خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ﴾

[العنكبوت: 16]

’’اور (ہم نے بھیجا) ابراہیم (علیہ السلام) کو جب اس نے کہا اپنی قوم سے تم عبادت کرو اللہ کی اور اس سے ڈرو، یہی بہتر ہے تمہارے لیے اگر ہو تم جانتے‘‘۔

﴿قُلْ إِنِّي نُهِيتُ أَنْ أَعْبُدَ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ لَمَّا جَاءَنِيَ الْبَيِّنَاتُ مِنْ رَبِّي وَأُمِرْتُ أَنْ أُسْلِمَ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ﴾ [غافر: 66]

’’آپ کہہ دیجیے بیشک میں روک دیا گیا ہوں کہ میں عبادت کروں (ان کی ) جنہیں تم پکارتے ہو اللہ کےعلاوہ جب کہ آگئیں میرے پاس واضح دلیلیں میرے رب کی طرف سے اور میں حکم دیا گیا ہوں کہ میں فرمانبردار ہوجاؤں تمام جہانوں کے رب کا‘‘۔

نبی ﷺ کی بعثت کا مقصد:

﴿هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّيِّينَ رَسُولًا مِنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَإِنْ كَانُوا مِنْ قَبْلُ لَفِي ضَلَالٍ مُبِينٍ﴾

[الجمعة: 2]

’’وہ وہی ہے جس نے اِن امیوں میں ان ہی میں سے ایک ایسا رسول بھیجا جو کہ انہیں اللہ کی آیات پڑھ پڑھ کر سناتا (سمجھاتا) ہے ،اور وہ سنوارتا (نکھارتا) ہے ان کو اور سکھاتا (پڑھاتا) ہے ان کو کتاب و حکمت، جب کہ یہ لوگ اس سے قبل یقینا کھلی گمراہی میں تھے ‘‘۔

﴿وَاتْلُ مَا أُوحِيَ إِلَيْكَ مِنْ كِتَابِ رَبِّكَ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمَاتِهِ وَلَنْ تَجِدَ مِنْ دُونِهِ مُلْتَحَدًا﴾

[الكهف: 27]

’’ (اے نبی)اور پڑھتے (اور سناتے) جاؤ اس وحی کو جو بھیجی گئی ہےتمہاری طرف تمہارے رب کی طرف سے، اس کی باتوں کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا، (اگر آپ نے کسی کی خاطر اس میں کوئی کمی و بیشی کر دی تو) آپ اس کے سوا ہرگز کوئی پناہ گاہ نہیں پاسکو گے‘‘۔

﴿بِالْبَيِّنَاتِ وَالزُّبُرِ وَأَنْزَلْنَا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَيْهِمْ وَلَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ﴾

[النحل: 44]

’’ روشن دلائل اور الہامی کتابوں کے ساتھ اور ہم نے نازل کیا تمہاری طرف اس قرآن کو تاکہ تم کھول کر بیان کردو انسانوں کے لئے جو انکی طرف نازل کیا گیا ہے تاکہ وہ غور و فکر کریں ‘‘۔

قرآن مجید کی ان آیات نے وضاحت کردی کہ انبیاء علیہ السلام کا کام طاغوت کی نشاندہی کرتے ہوئے ان کا انکار کرانا، ایک الٰہ کی بندگی کی دعوت دینا ہوتا ہے۔ نبی ﷺ کی بعثت کا مقصد بھی یہی تھا ۔ اس مقصد کے لئے انہیں ذمہ داری سونپی گئی تھی کہ وہ انسانوں کو اللہ کی آیات پڑھ کر سنائیں ، ان کے لئے آیات کی وضاحت کریں، انہیں حکمت کی تعلیم دیں اور ان کا تزکیہ کریں۔

اس سے قبل ہم نے اس بات کو قرآن سے واضح کیا تھا کہ تمام انبیاء علیہ السلام اللہ کے بندے، بشر اور بیوی بچوں والے تھے، ان کی بعثت کا مقصد طاغوت کا انکار اور اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا اقرار کرانا تھا۔ نبیﷺ قیامت تک کے لئے نبی ہیں، ان کی بعثت کا بھی یہی مقصد تھا، اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ جو کہ بشر تھے۔ انہیں انسانوں ہی کو سمجھانے، اللہ تعالیٰ کی آیات پڑھ کر سنانے ، اپنے قول و فعل سے اس کی تشریح و تفسیر کرنے کے لئے بھیجا تھا۔ سابقہ پوسٹ میں قرآنی آیات سے یہ بھی معلوم ہوا کہ انبیاء کو بھی موت آتی ہے اور قرآن مجید میں ان کی وفات کی نشاندہی کردی گئی تھی۔ اب ہم اس پوسٹ میں اللہ کی آیات پیش کرکے اس بات کی وضاحت کرنا چاہتے ہیں کہ کیااللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء کو علم الغیب عطا فرمایا تھا اور کیا وہ حاضر و ناظر تھے۔

کیا انبیاء علیہم السلام حاضر و ناظر ہوتے ہیں اور انہیں علم الغیب ہوتا ہے ؟

﴿وَعِنْدَهُ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهَا إِلَّا هُوَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَمَا تَسْقُطُ مِنْ وَرَقَةٍ إِلَّا يَعْلَمُهَا وَلَا حَبَّةٍ فِي ظُلُمَاتِ الْأَرْضِ وَلَا رَطْبٍ وَلَا يَابِسٍ إِلَّا فِي كِتَابٍ مُبِينٍ﴾

[الأنعام: 59]

’’اور غیب کی کنجیاں اُس کے پاس ہیں،اُن کو اُس کے سوا کوئی نہیں جانتا اور بر و بحر میں جو کچھ بھی ہے وہ اُسے جانتا ہے۔ اور کوئی پتا نہیں گرتا مگر اُسے اُس کا علم ہوتا ہے، اور زمین کے اندھیروں میں کوئی دانہ ہو یا کوئی تر یا خشک چیز سب ایک کھلی کتاب میں موجود ہے‘‘۔

﴿مَا كَانَ اللَّهُ لِيَذَرَ الْمُؤْمِنِينَ عَلَى مَا أَنْتُمْ عَلَيْهِ حَتَّى يَمِيزَ الْخَبِيثَ مِنَ الطَّيِّبِ وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُطْلِعَكُمْ عَلَى الْغَيْبِ وَلَكِنَّ اللَّهَ يَجْتَبِي مِنْ رُسُلِهِ مَنْ يَشَاءُ ۔ ۔﴾

[آل عمران: 179]

’’ ( یاد رکھو ) اللہ مومنوں کو اس حالت میں نہیں چھوڑنے والا جس کہ تم اس وقت ہو جب تک کہ وہ ناپاک ( عناصر )کو پاک لوگوں سے الگ نہ کردے ،اور اللہ تمہیں غیب کی باتوں سے بھی مطلع نہیں کیا کرتا، البتہ وہ اپنے رسولوں میں جسے چاہتا ہے ( اس مقصد کے لئے ) منتخب کرلیتا ہے۔ ‘‘۔

﴿ذَلِكَ مِنْ أَنْبَاءِ الْغَيْبِ نُوحِيهِ إِلَيْكَ وَمَا كُنْتَ لَدَيْهِمْ إِذْ يُلْقُونَ أَقْلَامَهُمْ أَيُّهُمْ يَكْفُلُ مَرْيَمَ وَمَا كُنْتَ لَدَيْهِمْ إِذْ يَخْتَصِمُونَ﴾

[آل عمران: 44]

’’یہ غیب کی خبریں ہیں جو ہم وحی کے ذریعے تمہارے پاس بھیج رہے ہیں۔ اور تم ان کے پاس نہیں تھے جب وہ ( بطور قرعہ اندازی) اپنے قلم ڈال رہے تھے ( یہ طے کرنے کے لئے) کہ مریم کا کفیل کون ہو اور تم ان کے پاس نہ تھے جب وہ جھگڑ رہے تھے‘‘۔

﴿يَوْمَ يَجْمَعُ اللَّهُ الرُّسُلَ فَيَقُولُ مَاذَا أُجِبْتُمْ قَالُوا لَا عِلْمَ لَنَا إِنَّكَ أَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ﴾

[المائدة: 109]

’’ اس دن (کا تصور کرو) جب کہ اللہ رسولوں کو جمع کرے گا، پھر ان سے کہے گا کہ تمہیں کیا جواب ملا تھا، وہ کہیں گے ہمیں کچھ علم نہیں، پوشیدہ باتوں کا تو ہی خوب جاننے والا ہے۔ ‘‘۔

﴿قُلْ لَا أَقُولُ لَكُمْ عِنْدِي خَزَائِنُ اللَّهِ وَلَا أَعْلَمُ الْغَيْبَ وَلَا أَقُولُ لَكُمْ إِنِّي مَلَكٌ إِنْ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَى إِلَيَّ قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الْأَعْمَى وَالْبَصِيرُ أَفَلَا تَتَفَكَّرُونَ﴾

[الأنعام: 50]

’’ (ان سے) کہو”میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں، اور نہ میں غیب جانتا ہوں اور نہ میں تم سے یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں۔ میں تو صرف اس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو میری طرف آتی ہے۔ کہو کہ کیا نابینا اور بینا برابر ہوتے ہیں! کیا تم فکر نہیں کرتے‘‘۔

﴿يَسْأَلُونَكَ عَنِ السَّاعَةِ أَيَّانَ مُرْسَاهَا قُلْ إِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّي لَا يُجَلِّيهَا لِوَقْتِهَا إِلَّا ۔ ۔ ﴾

[الأعراف: 187]

’’پوچھتے ہیں آپ سے قیامت کے بارے میں کہ کب ہے اس کا واقع ہونا ، کہہ دیجیے درحقیقت اس کا علم تو میرے رب کے پاس ہے نہیں ظاہر کرتا اسے اس کے وقت پر مگر ۔ ۔‘‘۔

﴿قُلْ لَا أَمْلِكُ لِنَفْسِي نَفْعًا وَلَا ضَرًّا إِلَّا مَا شَاءَ اللَّهُ وَلَوْ كُنْتُ أَعْلَمُ الْغَيْبَ لَاسْتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَيْرِ وَمَا مَسَّنِيَ السُّوءُ إِنْ أَنَا إِلَّا نَذِيرٌ وَبَشِيرٌ لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ﴾

[الأعراف: 188]

’’کہہ دیجیے نہیں میں اختیار رکھتا اپنی جان کے لیے کسی نفع کا اور نہ کسی نقصان کا مگر جو اللہ چاہے اور اگر میں جانتا ہوتا غیب کو یقینا میں حاصل کرلیتا بہت بھلائی سے اور نہ پہنچتی مجھے کبھی کوئی تکلیف نہیں ہوں میں مگر ایک ڈرانے والا اور خوشخبری دینے والا اس قوم کے لیے جو ایمان رکھتے ہیں‘‘۔

﴿وَمِمَّنْ حَوْلَكُمْ مِنَ الْأَعْرَابِ مُنَافِقُونَ وَمِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ مَرَدُوا عَلَى النِّفَاقِ لَا تَعْلَمُهُمْ نَحْنُ نَعْلَمُهُمْ سَنُعَذِّبُهُمْ مَرَّتَيْنِ ثُمَّ يُرَدُّونَ إِلَى عَذَابٍ عَظِيمٍ﴾

[التوبة: 101]

’’اور بعض ان میں سے جو تمہارے اردگرد دیہاتیوں میں سے منافق ہیں بعض اہل مدینہ میں سے بھی جو اڑے ہوئے ہیں نفاق پر، آپ نہیں جانتے انہیں ، ہم جانتے ہیں انہیں عنقریب ہم عذاب دیں گے انہیں دو مرتبہ پھر وہ لوٹائے جائیں گے بہت بڑے عذاب کی طرف‘‘۔

﴿تِلْكَ مِنْ أَنْبَاءِ الْغَيْبِ نُوحِيهَا إِلَيْكَ مَا كُنْتَ تَعْلَمُهَا أَنْتَ وَلَا قَوْمُكَ مِنْ قَبْلِ هَذَا فَاصْبِرْ إِنَّ الْعَاقِبَةَ لِلْمُتَّقِينَ﴾

[هود: 49]

’’یہ غیب کی خبروں میں سے ہے جو ہم وحی کرتے ہیں انہیں آپ کی طرف، نہیں تھے آپ جانتے انہیں نہ آپ اور نہ آپ کی قوم اس سے قبل، تو آپ صبر کریں بیشک اچھا انجام متقین کے لیے ہے‘‘۔

﴿نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ أَحْسَنَ الْقَصَصِ بِمَا أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ هَذَا الْقُرْآنَ وَإِنْ كُنْتَ مِنْ قَبْلِهِ لَمِنَ الْغَافِلِينَ﴾

[يوسف: 3]

’’ہم بیان کر رہے ہیں تمہارے سامنے (اے نبی ﷺ) بہترین قصّہ، اسی ذریعہ سے جس سے ہم نے وحی کیا ہے تم پر یہ قرآن اور اگرچہ تھے تم اس سے پہلے بالکل بے خبر‘‘ ۔

الم تركيف ایک ادبی فقرہ ہے جس سے مراد ہے ’’کیا تم نہیں جانتے‘‘۔جیسے کوئی کسی نوجوان سے کہے کہ کیا تم نے نہیں دیکھا کہ پاکستان بننے پر کتنی قتل وغارت ہوئی تو اس سے مراد یہ ہو گی کہ کیا تم نہیں جانتے کہ پاکستان بننے پر کتنی قتل و غارت ہوئی تھی ۔جیسے سورہ يسين آیت نمبر 31 میں الله کافروں مشرکوں سے فرما رہا ہے کہ

﴿أَلَمۡ يَرَوۡاْ كَمۡ أَهۡلَكۡنَا قَبۡلَهُم مِّنَ ٱلۡقُرُونِ أَنَّهُمۡ إِلَيۡهِمۡ لَا يَرۡجِعُونَ﴾

[يس: 31]

’کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ان سے پہلے بہت سی قوموں کو ہم نے غارت کر دیا کہ وہ اب ان کی طرف لوٹ کر نہیں آئیں گی‘‘۔

یہاں بھی کفار کے دیکھنے سے مراد دراصل ان کا جاننا ہی ہے کہ “کیا وہ کفار نہیں جانتے کہ ان سے پہلے بہت سی قوموں کو ہم نے غارت کر دیا کہ وہ اب ان کی طرف لوٹ کر نہیں آئیں گی۔”یہاں کسی طرح ان کو حاظر ناظر نہیں سمجھا جا سکتا ۔

﴿أَوَلَمْ يَرَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنَاهُمَا وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ أَفَلَا يُؤْمِنُونَ﴾ [الأنبياء: 30]

’’اور کیا نہیں دیکھا ان لوگوں نے جنہوں نے کفر کیا کہ بیشک آسمان اور زمین دونوں تھے (آپس میں) ملے ہوئے تو ہم نے الگ کردیا ان دونوں کو اور ہم نے بنائی پانی سے ہر زندہ چیز تو کیا وہ ایمان نہیں لاتے ‘‘۔

﴿أَوَلَمْ يَرَ الْإِنْسَانُ أَنَّا خَلَقْنَاهُ مِنْ نُطْفَةٍ فَإِذَا هُوَ خَصِيمٌ مُبِينٌ﴾

[يس: 77]

’’اور (بھلا ) کیا انسان نے نہیں دیکھا (غور کیا ) کہ بیشک ہم نے اسے پیدا کیا ہے ایک قطرے سے تو اچانک وہ صریح جھگڑالو (بن بیٹھا ) ہے۔

﴿فَأَمَّا عَادٌ فَاسْتَكْبَرُوا فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَقَالُوا مَنْ أَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّ اللَّهَ الَّذِي خَلَقَهُمْ هُوَ أَشَدُّ مِنْهُمْ قُوَّةً وَكَانُوا بِآيَاتِنَا يَجْحَدُونَ﴾

[فصلت: 15]

’’اور رہے عاد تو انہوں نے تکبر کیا زمین میں ناحق اور انہوں نے کہا کون زیادہ سخت ہے ہم سے قوت میں اور(بھلا) کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ بیشک اللہ جس نے پیدا کیا انہیں وہ زیادہ سخت ہے ان سے قوت میں اور ہماری آیات کا وہ انکار کرتے تھے‘‘َ

قرآن مجید کی ان آیات نے کھول کھول کر واضح کردیا کہ ’’ الم تر کیف ‘‘ سے مراد یہ نہیں کہ نبیﷺ اس وقت وہاں موجود تھے، بلکہ قرآن تو بتا رہا ہے کہ اے نبی ﷺ ہم نے تمہیں وہ خبریں دے رہے ہیں جو نہ تمہارے علم تھیں ہیں نہیں اور نہ ہی تم وہاں موجود تھے۔ الم تر سے مراد وہاں حاضر و ناظر کے لئے جاتے ہیں ۔ جبکہ اس سے مراد دو باتیں ہوتی ہیں ایک تو اپنی آنکھوں سے دیکھنا یعنی بصری انداز، جبکہ دوسرا انداز قلبی ہوتا ہے کہ تم یقینا ً اس پر ایمان لاتے ہو کہ ایسا ہی جیسا کہ تمہیں بتایا گیا۔ یہاں مراد موجود ہونا نہیں بلکہ اس کی اطلاع دینا ہے، جیسا کہ سورہ آل عمران کی آیت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ غیب کی خبروں کی اطلاع دینے کے لئے اپنے رسولوں میں سے جس کو چاہے چن لیتا ہے۔ اب ہم آتے ہیں انبیاء علیہم السلام کو دئیے گئے اختیارات کی طرف۔

انبیاء علیہم السلام کے اختیارات:

﴿وَأَقْسَمُوا بِاللَّهِ جَهْدَ أَيْمَانِهِمْ لَئِنْ جَاءَتْهُمْ آيَةٌ لَيُؤْمِنُنَّ بِهَا قُلْ إِنَّمَا الْآيَاتُ عِنْدَ اللَّهِ وَمَا يُشْعِرُكُمْ أَنَّهَا إِذَا جَاءَتْ لَا يُؤْمِنُونَ﴾

[الأنعام: 109]

’’ اور یہ کفار پُرزور انداز میں اللہ کی قسمیں کھا کر کہتے ہیں کہ اگر ان کے پاس کوئی نشانی آجائے تو وہ ضروراس پر ایمان لے آئیں گے۔ کہہ دو کہ نشانیاں تو اللہ ہی کے پاس ہیں،اور (اے ایمان والو! )تمہیں کیسے سمجھایا جائے کہ اگر نشانیاں آ بھی جائیں تو بھی یہ ایمان نہیں لائیں گے ‘‘۔

﴿وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلًا مِنْ قَبْلِكَ وَجَعَلْنَا لَهُمْ أَزْوَاجًا وَذُرِّيَّةً وَمَا كَانَ لِرَسُولٍ أَنْ يَأْتِيَ بِآيَةٍ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ لِكُلِّ أَجَلٍ كِتَابٌ﴾ [الرعد: 38]

’’اور بلاشبہ یقینا ہم نے بھیجے کئی رسول آپ سے پہلے اور ہم نے بنائیں ان کے لیے بیویاں اور اولاد اور نہیں ہے کسی رسول کے لیے ممکن کہ وہ لے آئے کوئی نشانی مگر اللہ کے حکم سے ہر چیز کے مقرر وقت کو لکھا ہوا ہے‘‘۔

﴿قَالَتْ لَهُمْ رُسُلُهُمْ إِنْ نَحْنُ إِلَّا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ وَلَكِنَّ اللَّهَ يَمُنُّ عَلَى مَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ وَمَا كَانَ لَنَا أَنْ نَأْتِيَكُمْ بِسُلْطَانٍ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ﴾

[إبراهيم: 11]

’’ کہا ! ان سے ان کے رسولوں نے کہ واقعی نہیں ہیں ہم مگر آدمی تمہاری طرح کے، لیکن اللہ نوازتا ہے جس کو چاہے اپنے بندوں میں سے اور نہیں ہے اختیار میں ہمارے لئے کہ لا دیں تمہیں کوئی سند مگر اللہ کے اذن سے۔ اور اللہ ہی پر چاہیے کہ بھروسہ کریں اہل ایمان‘‘۔

﴿وَقَالُوا لَوْلَا أُنْزِلَ عَلَيْهِ آيَاتٌ مِنْ رَبِّهِ قُلْ إِنَّمَا الْآيَاتُ عِنْدَ اللَّهِ وَإِنَّمَا أَنَا نَذِيرٌ مُبِينٌ﴾

[العنكبوت: 50]

’’اوراُنہوں نے کہا کیوں نہیں اُتاری گئیں اس پر نشانیاں (یعنی معجزات) اُسکے رب کی طرف سے، کہہ دیجیے نشانیاں تو بیشک صرف اللّٰہ کے پاس ہیں اور بیشک میں (تو) صرف ایک واضح ڈرانے والا ہوں ‘‘۔

﴿وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلًا مِنْ قَبْلِكَ مِنْهُمْ مَنْ قَصَصْنَا عَلَيْكَ وَمِنْهُمْ مَنْ لَمْ نَقْصُصْ عَلَيْكَ وَمَا كَانَ لِرَسُولٍ أَنْ يَأْتِيَ بِآيَةٍ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ فَإِذَا جَاءَ أَمْرُ اللَّهِ قُضِيَ بِالْحَقِّ وَخَسِرَ هُنَالِكَ الْمُبْطِلُونَ﴾

[غافر: 78]

’’اور بلاشبہ بھیجے ہم نے رسول تم سے پہلے، کچھ ان میں سے ایسے ہیں جن کے حالات بیان کیے ہیں ہم نے تم سے اور بعض ان میں سے ایسے ہیں جن کے حالات نہیں بتائے ہم نے تم کو۔ اور نہیں ہے کسی رسول کے اختیار میں کہ لائے کوئی معجزہ بغیر اللہ کے اذن کے۔ پھر جب آجاتا ہے اللہ کا حکم تو فیصلہ کردیا جاتا ہے حق کے مطابق اور خسارے میں پڑجاتے ہیں اس وقت غلط کار لوگ‘‘۔

﴿هُنَالِكَ دَعَا زَكَرِيَّا رَبَّهُ قَالَ رَبِّ هَبْ لِي مِنْ لَدُنْكَ ذُرِّيَّةً طَيِّبَةً إِنَّكَ سَمِيعُ الدُّعَاءِ﴾

[آل عمران: 38]

’’اس موقعہ پر زکریا نے اپنے رب سےدعا کی :اے میرے مالک ! عطا کر مجھے اپنی قدرت خاص سے اولاد پاکیزہ ،بے شک تو ہے ہر ایک کی دعا سننے والا ‘‘۔

﴿قَالَ رَبِّ إِنِّي لَا أَمْلِكُ إِلَّا نَفْسِي وَأَخِي فَافْرُقْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْقَوْمِ الْفَاسِقِينَ﴾

[المائدة: 25]

’’ کہا (موسی نے) اے میرے رب ! بیشک میں نہیں اختیار رکھتا مگر اپنے نفس کا اور اپنے بھائی کا پس جدائی ڈال دے ہمارے درمیان اور فاسق قوم کے درمیان‘‘۔

﴿إِذْ نَادَى رَبَّهُ نِدَاءً خَفِيًّا ؀ قَالَ رَبِّ إِنِّي وَهَنَ الْعَظْمُ مِنِّي وَاشْتَعَلَ الرَّأْسُ شَيْبًا وَلَمْ أَكُنْ بِدُعَائِكَ رَبِّ شَقِيًّا ؀ وَإِنِّي خِفْتُ الْمَوَالِيَ مِنْ وَرَائِي وَكَانَتِ امْرَأَتِي عَاقِرًا فَهَبْ لِي مِنْ لَدُنْكَ وَلِيًّا ؀ يَرِثُنِي وَيَرِثُ مِنْ آلِ يَعْقُوبَ وَاجْعَلْهُ رَبِّ رَضِيًّا﴾ [مريم: 3-6]

’’(زکریا ؑ) جب اس نے پکارا تھا اپنے رب کو چپکے چپکے۔ اس نے عرض کیا تھا : اے میرے مالک ! بیشک گھل گئی ہیں ہڈیاں میری اور بھڑک اٹھا ہے میرا سر بڑھاپے کی سفیدی سے اور نہیں رہا میں تجھ سے دعا مانگ کر اے میرے مالک کبھی نامراد۔ اور بیشک مجھے سخت ڈر ہے اپنے بھائی بندوں سے اپنے پیچھے اور ہے میری بیوی بانجھ سو عطا کر دے تو مجھے اپنے فضلِ خاص سے ایک بیٹا۔ جو وارث بنے میرا اور میراث پائے آل یعقوب سے اور بنا تو اسے اے میرے مالک ! پسندیدہ (انسان) ‘‘۔

﴿قَالَ رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي﴾

[طه: 25]

’’کہا (موسیٰ (علیہ السلام) نے ) اے میرے رب کھول دے میرے لیے میرا سینہ‘‘۔

﴿وَأَيُّوبَ إِذْ نَادَى رَبَّهُ أَنِّي مَسَّنِيَ الضُّرُّ وَأَنْتَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ﴾

[الأنبياء: 83]

’’اور (یاد کرو قصّہ) ایوب کا جب پکارا تھا اس نے اپنے رب کو، بیشک مجھے لگ گئی ہے بیماری حالانکہ تو سب رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے‘‘۔

﴿وَذَا النُّونِ إِذْ ذَهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ أَنْ لَنْ نَقْدِرَ عَلَيْهِ فَنَادَى فِي الظُّلُمَاتِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ﴾

[الأنبياء: 87]

’’اور (یاد کرو قصّہ) مچھلی والے کا جب چلے گئے تھے وہ ناراض ہو کر اور انہیں خیال ہوا تھا کہ نہ گرفت کریں گے ہم اس پر آخر کار پکارا وہ اندھیروں میں کہ نہیں ہے کوئی معبود سوائے تیرے، پاک ہے تیری ذات، بیشک میں ہی تھا قصور وار‘‘۔

﴿فَدَعَا رَبَّهُ أَنِّي مَغْلُوبٌ فَانْتَصِرْ﴾

[القمر: 10]

’’پس ( نوح ) نے دعا کی اپنے رب سے ، بیشک میں مغلوب ہو گیا ہوں ، میری مدد فرما‘‘۔

﴿قُلْ إِنَّمَا أَدْعُو رَبِّي وَلَا أُشْرِكُ بِهِ أَحَدًا﴾

[الجن: 20]

’’( اے نبی )ان سے کہیے کہ میں تو بس پکارتا ہوں اپنے رب کو اور نہیں شریک بناتا میں اس کے ساتھ کسی کو‘‘۔

قرآن مجید کی ان آیات سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ مختار کل صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے اس نے اپنے اختیارات اپنے انبیاء کو بھی نہیں دئیے، ہر ہر کام میں تمام انبیاء اللہ کے محتاج تھے ۔ وہ نہ کوئی معجزہ دکھا سکتے تھے، نہ مخالفین پر کوئی قوت رکھتے تھے۔ نہ وہ اپنی بیماری دور کرسکتے تھے اور نہ ہی اپنے لئے اولاد پیدا کرنے پر قادر تھے۔ ہر ہر معاملے میں وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے تھے اور وہ ہی ان کی مدد کرتا، ان کو غلبہ عطا فرماتا تھا۔

انبیاء علیہم السلام کے ذمہ صرف پہنچادینے کی ذمہ داری تھی، ہدایت صرف اللہ دیتا ہے۔

﴿كَانَ النَّاسُ أُمَّةً وَاحِدَةً فَبَعَثَ اللَّهُ النَّبِيِّينَ مُبَشِّرِينَ وَمُنْذِرِينَ وَأَنْزَلَ مَعَهُمُ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ لِيَحْكُمَ بَيْنَ النَّاسِ فِيمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ ۔ ۔ ۔ ۔ ﴾

[البقرة: 213]

’’لوگ ایک ہی امت تھے ، پھر اللہ تعالٰی نے انبیاء کو خوشخبری سنانے اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا اور ان کے ساتھ کتاب برحق نازل فرمائی تاکہ وہ لوگوں کے درمیان ان امور کا فیصلہ کریں جن میں انہوں نے باہم اختلاف کیا-۔ ۔ ‘‘

﴿لَيْسَ عَلَيْكَ ھُدٰىھُمْ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَهْدِيْ مَنْ يَّشَاۗء۔ ۔ ۔ ۔﴾

[البقرة: 272]

’’(اے نبی!) ان کی ہدایت تمہارے ذمہ نہیں ، بلکہ ہدایت تو اللہ جسے چاہتا ہے دیتا ہے ۔ ۔ ‘‘۔

﴿فَإِنْ حَاجُّوكَ فَقُلْ أَسْلَمْتُ وَجْهِيَ لِلَّهِ وَمَنِ اتَّبَعَنِ وَقُلْ لِلَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ وَالْأُمِّيِّينَ أَأَسْلَمْتُمْ فَإِنْ أَسْلَمُوا فَقَدِ اهْتَدَوْا وَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلَاغُ وَاللَّهُ بَصِيرٌ بِالْعِبَادِ﴾

[آل عمران: 20]

’’ (اے نبی !) اگر یہ لوگ تم سے جھگڑا کریں تو ان سے کہہ دو کہ میں نے اور میری پیروی کرنے والوں نے تو اللہ کے آگے سر اطاعت جھکا دیا ہے۔ ان اہل کتاب اور ان پڑھ لوگوں سے کہو کہ کیا تم بھی اس کے مطیع فرمان (مسلم) بنتے ہو ؟ اگر یہ مسلم ہو گئے تو یقیناً ہدایت پا گئے اور اگر روگردانی کریں تو تم پر تو محض (پیغام) پہنچانے کی ذمہ داری ہے، اور اللہ بندوں کو خوب دیکھ رہا ہے‘‘۔

﴿رُسُلًا مُبَشِّرِينَ وَمُنْذِرِينَ لِئَلَّا يَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَى اللَّهِ حُجَّةٌ بَعْدَ الرُّسُلِ وَكَانَ اللَّهُ عَزِيزًا حَكِيمًا﴾

[النساء: 165]

’’ ( تمام) رسولوں کو ( اللہ نے ) خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا ( بنا کر بھیجا تھا ) ،تاکہ رسولوں کے آنے کے بعد لوگوں کے لئے اللہ حجت نہ رہے اور اللہ غالب حکمت والا ہے‘‘۔

﴿مَا عَلَى الرَّسُولِ إِلَّا الْبَلَاغُ وَاللَّهُ يَعْلَمُ مَا تُبْدُونَ وَمَا تَكْتُمُونَ﴾

[المائدة: 99]

’’رسول پر (پیغام) پہنچا دینے ہی کی ذمہ داری ہے اور اللہ جانتا ہے جو کچھ تم ظاہر کرتے اور جو کچھ چھپاتے ہو‘‘۔

﴿وَلَا يَنْفَعُكُمْ نُصْحِي إِنْ أَرَدْتُ أَنْ أَنْصَحَ لَكُمْ إِنْ كَانَ اللَّهُ يُرِيدُ أَنْ يُغْوِيَكُمْ هُوَ رَبُّكُمْ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ﴾

[هود: 34]

’’اور اگر اللہ کی مشیت یہی ہے کہ تمہیں ہلاک کرے تو میں کتنا ہی نصیحت کرنا چاہوں میری نصیحت کچھ سود مند نہ ہوگی وہی تمہارا پروردگار ہے، اسی کی طرف تمہیں لوٹنا ہے‘‘۔

﴿إِنْ تَحْرِصْ عَلَى هُدَاهُمْ فَإِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي مَنْ يُضِلُّ وَمَا لَهُمْ مِنْ نَاصِرِينَ﴾

[النحل: 37]

’’اگر تم حریص ہو ان کی ہدایت کے لیے تو بھی بیشک اللہ نہیں ہدایت دیا کرتا اس شخص کو جسے اس نے گمراہ کردیا اور نہ ہوگا ان کا کوئی مددگار بھی‘‘۔

﴿إِنَّكَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَكِنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ﴾

[القصص: 56]

’’بلا شبہ تم (اے نبی) نہیں ہدایت دے سکتے جسے چاہو لیکن اللہ ہدایت دیتا ہے جس کو چاہتا ہے اور وہ خوب جانتا ہے ہدایت پانے والوں کو‘‘۔

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَمِّهِ عِنْدَ الْمَوْتِ: ” قُلْ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، أَشْهَدُ لَكَ بِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَأَبَى “، فَأَنْزَلَ اللهُ: {إِنَّكَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ} [القصص: 56] الْآيَةَ

( مسلم، کتاب الایمان، بَابُ أَوَّلُ الْإِيمَانِ قَوْلُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ )

’’ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے چچا ( ابو طالب ) سے ان کی موت کے وقت فرمایا لَا اِلٰہ اِلَّا اللہ کہہ دو میں قیامت کے دن اس کی گواہی دے دوں گا ابوطالب نے انکار کردیا اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت نازل فرمائی: (اِنَّكَ لَا تَهْدِيْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَهْدِيْ مَنْ يَّشَا ءُ وَهُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِيْنَ ) ۔ القصص : 56‘‘۔

معلوم ہوا کہ انبیاء علیہ السلام کے ذمے صرف اللہ کا پیغام انسانوں تک پہنچا دینے کی ذمہ داری تھی کہ وہ لوگوں کےسامنے اس دعوت کو رکھ کر بتا دیں کہ اگر تم نے اسے نہ مانا تو تمہارا انجام جہنم کی کھولتی آگ ہے۔ وہ لوگ جو اس حق کو قبول کرلیں انہیں لازوال نعمتوں کی خوشخبری سنا دیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہدایت دینے کا اختیار بھی صرف اپنے پاس رکھا اور انبیاء علیہم السلام اپنی مرضی سے کسی کو ہدایت نہیں دے سکتے تھےعائشہ ؓ بیان کرتی ہیں:

عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: لَمَّا نَزَلَتْ {وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ} [الشعراء: 214] قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الصَّفَا، فَقَالَ: «يَا فَاطِمَةُ بِنْتَ مُحَمَّدٍ، يَا صَفِيَّةُ بِنْتَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، لَا أَمْلِكُ لَكُمْ مِنَ اللهِ شَيْئًا، سَلُونِي مِنْ مَالِي مَا شِئْتُمْ»

( مسلم کتاب الایمان ، بَابٌ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ}

’’عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ جب آیت نازل ہوئی اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈارئیے، تو رسول اللہ ﷺکوہ صفا پر کھڑے ہوئے اور فرمایا اے فاطمہ محمد کی بیٹی ،اے صفیہ عبدالمطلب کی بیٹی، اے میری پھوپھی اے عبدالمطلب کی اولاد میں اللہ کے سامنے تمہارے بارے میں کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتا البتہ یہاں میرے مال میں سے جو چاہو لے لو۔‘‘

یعنی قیامت کے دن بھی اختیار اللہ کے ہاتھ میں ہوگااگرنبی ﷺ کی امت میں سے کسی نے بھی شرک کیا تو وہ ہر گز اس کی سفاش نہیں کریں گے۔

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ مُسْتَجَابَةٌ، فَتَعَجَّلَ كُلُّ نَبِيٍّ دَعْوَتَهُ، وَإِنِّي اخْتَبَأْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَهِيَ نَائِلَةٌ إِنْ شَاءَ اللهُ مَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِي لَا يُشْرِكُ بِاللهِ شَيْئًا»

( مسلم ،کتاب الایمان ، بَابُ اخْتِبَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعْوَةَ الشَّفَاعَةِ لِأُمَّتِهِ)

’’ نبی ﷺ نے فرمایا: ہر نبی کر لئے ایک دعا ہوتی ہے جو ضرور قبول کی جاتی ہے تو ہر نبی نے جلدی کی کہ اپنی اس دعا کو مانگ لیا ہے اور میں نے اپنی دعا کو قیامت کے دن اپنی امت کی شفاعت کے لئے سنبھال رکھا ہے اور اگر اللہ نے چاہا تو میری شفاعت میری امت کے ہر اس آدمی کے لئے ہوگی جو اس حال میں مرگیا کہ اس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرایا ہو۔

﴿۔ ۔ ۔ إِنَّهُ مَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ وَمَأْوَاهُ النَّارُ وَمَا لِلظَّالِمِينَ مِنْ أَنْصَارٍ﴾ [المائدة: 72]

’’ ۔ ۔ حقیقت یہ ہے کہ جس کسی نے اللہ کے ساتھ شرک کیا تو اللہ نے اس پر جنت حرام کر دی ہے اور اس کا ٹھکانہ جہنم ہو گا اور ظالموں کا کوئی مددگار نہ ہو گا ‘‘۔

اللہ تعالیٰ نے سورہ بقرہ میں فرمایا کہ ہم نے اپنے انبیاء میں بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے، اور اپنی کتاب میں انسانوں کو واضح احکامات دئیے کہ:

رسولوں میں تفریق نہیں کرنی۔

﴿إِنَّ الَّذِينَ يَكْفُرُونَ بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ وَيُرِيدُونَ أَنْ يُفَرِّقُوا بَيْنَ اللَّهِ وَرُسُلِهِ وَيَقُولُونَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَنَكْفُرُ بِبَعْضٍ وَيُرِيدُونَ أَنْ يَتَّخِذُوا بَيْنَ ذَلِكَ سَبِيلًا﴾

[النساء: 150]

’’ جو لوگ اللہ اور اس کے رسولوں کا کفر کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسولوں میں تفریق کرنا چاہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم بعض پر ایمان لاتے ہیں اور بعض کا انکار کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اس کے درمیان کی راہ نکالیں‘‘۔

رسولوں پر ایمان لانا لازم ہے۔

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا آمِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَالْكِتَابِ الَّذِي نَزَّلَ عَلَى رَسُولِهِ وَالْكِتَابِ الَّذِي أَنْزَلَ مِنْ قَبْلُ وَمَنْ يَكْفُرْ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالًا بَعِيدًا﴾

[النساء: 136]

’’اے ایمان والو ! ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسول پر اور اس کتاب پر جو اس نے اپنے رسول پر نازل کی ہے اور اس کتاب پر جو اس نے پہلے نازل کی تھی۔ اور جس نے اللہ ، اس کے فرشتوں ، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں اور روز قیامت کا انکار کیا تو وہ گمراہی میں دور جا پڑا‘‘۔

رسولوں کی اطاعت اللہ تعالیٰ کا حکم ہے ۔

﴿وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ رَسُولٍ إِلَّا لِيُطَاعَ بِإِذْنِ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔﴾

[النساء: 64]

’’ اور ہم نےجو بھی رسول بھیجا ہے تو اسی لئے کہ اللہ کے حکم کے مطابق اس کی اطاعت کی جائے ۔ ۔ ۔ ‘‘۔

جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت نہ کرے تو وہ کافر ہے۔

﴿قُلْ أَطِيعُوا اللَّهَ وَالرَّسُولَ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْكَافِرِينَ﴾

[آل عمران: 32]

’’ تم کہہ دو کہ اطاعت کرو اللہ اور رسول کی، پھر اگر وہ روگردانی کریں تو اللہ کافروں سے محبت نہیں کرتا۔‘‘

﴿وَمَنْ يَعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَتَعَدَّ حُدُودَهُ يُدْخِلْهُ نَارًا خَالِدًا فِيهَا وَلَهُ عَذَابٌ مُهِينٌ﴾

[النساء: 14]

’’اور جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گااور اللہ کی حدود سے آگے نکل جائے گا ، اللہ اسے آگ میں ڈال دے گا ، اس میں وہ ہمیشہ رہے گا اور اس کے لئے رسو کن عذاب ہے ‘‘۔

﴿وَمَنْ يُشَاقِقِ الرَّسُولَ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدَى وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ نُوَلِّهِ مَا تَوَلَّى وَنُصْلِهِ جَهَنَّمَ وَسَاءَتْ مَصِيرًا﴾

[النساء: 115]

’’اور جو کوئی ( راہ ) ہدایت واضح ہو جانے کے بعد بھی رسول کی مخالفت کرے گا اور مومنوں کے راستے کو چھوڑ کر دوسرے راستے کی پیروی کرے گا تو ہم اسے اسی طرف پھر دیں گے

جس طرف اس نے رخ کرلیا ہے اور ( بلآخر ) واصل جہنم کردیں گے اور وہ بہت ہی برا ٹھکانہ ہے ‘‘۔

﴿فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِي أَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا﴾

[النساء: 65]

’’پس ( اے نبی ) تیرے رب کی قسم !یہ مومن ہو ہی نہیں ہوسکتےجب تک کہ اپنے باہمی تنازعات میں تمہیں حکم ( منصف)نہ بنائیں ، پھر تمہارے کئے ہوئے فیصلے پر اپنے دلوں میں کوئی تنگی نہ محسوس کریں اور اس فیصلے کو تسلیم و رضا سے قبول کرلیں ‘‘۔

رسول کی اطاعت در حقیقت اللہ ہی کی اطاعت ہے۔

﴿مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ وَمَنْ تَوَلَّى فَمَا أَرْسَلْنَاكَ عَلَيْهِمْ حَفِيظًا﴾

[النساء: 80]

’’ جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی ، اور جس نے رو گردانی کی تو ہم نے تمہیں ان پر نگراں بناکر تو نہیں بھیجا ‘‘۔

اللہ کی اور رسول کی اطاعت کا انعام ۔

﴿وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَالرَّسُولَ فَأُولَئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ وَحَسُنَ أُولَئِكَ رَفِيقًا﴾

[النساء: 69]

’’ اور جو بھی اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا، تو ایسے ہی لوگ اُن کیساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے انعام کیا ہے ( یعنی ) انبیاء ، صدقین ، شہداء اور صالحین اور یہ نہایت عمدہ ساتھی ہیں‘‘۔

﴿وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ أُولَئِكَ هُمُ الصِّدِّيقُونَ وَالشُّهَدَاءُ عِنْدَ رَبِّهِمْ لَهُمْ أَجْرُهُمْ وَنُورُهُمْ وَالَّذِينَ كَفَرُوا وَكَذَّبُوا بِآيَاتِنَا أُولَئِكَ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ﴾

[الحديد: 19]

’’اور جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لے آئے وہی لوگ اپنے رب کے نزدیک سچے اور گواہی دینے والے ہیں ان کے لیے ان کا اجر اور ان کا نور ہوگا اور جن لوگوں نے کفر کیا اور ہماری آیات کو جھٹلایا ہے وہ لوگ جہنمی ہیں ‘‘۔

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «كُلُّ أُمَّتِي يَدْخُلُونَ الجَنَّةَ إِلَّا مَنْ أَبَى»، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَنْ يَأْبَى؟ قَالَ: «مَنْ أَطَاعَنِي دَخَلَ الجَنَّةَ وَمَنْ عَصَانِي فَقَدْ أَبَى»

( بخاری ، کتاب العتصام ۔ ۔ بَابُ الِاقْتِدَاءِ بِسُنَنِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ)

“ابوہریرہ ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میری تمام امت جنت میں داخل ہو گی۔ سوا ئے اس کے جو انکار کرے، لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم اور کون انکار کرے گا، کہ جس نے میرے اطاعت کی وہ جنت میں داخل ہوگا اور جس نے میری نافرمانی کی تو اس نے انکار کیا‘‘۔

دین میں کسی بھی نئی چیز کا اضافہ بدعت ہے۔

عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا هَذَا مَا لَيْسَ فِيهِ، فَهُوَ رَدٌّ»

( بخاری ، کتاب البوع ، بَابُ إِذَا اصْطَلَحُوا عَلَى صُلْحِ جَوْرٍ فَالصُّلْحُ مَرْدُودٌ )

’’عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے ہمارے دین میں کوئی ایسی نئی بات نکالی جو دین میں سے نہیں ہے تو وہ مردود ہے(یعنی اس کا عمل نامقبول ہے ).”

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ خَيْرَ الْحَدِيثِ کِتَابُ اللَّهِ وَخَيْرُ الْهُدَی هُدَی مُحَمَّدٍ وَشَرُّ الْأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا وَکُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ

(مسلم: کتاب الجمعہ ، باب: خطبہ جمعہ و صلوٰۃ الجمعہ ۔ ۔ ۔ )

“جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حمد و ثناءکے بعد فرمایا کہ بہترین کہی ہوہی بات اللہ کی بات ہے اور بہترین راہ رسول اللہﷺ کی ہے اور بدترین چیز بدعت ہے۔ ہر بدعت گمراہی ہے .(نسائی میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ ہر گمراہی کا انجام جہنم ہے ).”

نبی ﷺ کی اتباع میں بھی بہترین اجر ہے ۔

﴿قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ﴾

[آل عمران: 31]

’’ (اے نبی) ان سے کہو کہ اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو ، اللہ تم سے محبت کرے گا، اور تمہارے گناہ معاف کر دے گا اور اللہ بہت مغفرت کرنے والا، رحم کرنے والا ہے‘‘۔

نبی ﷺ اپنی طرف سے کچھ نہیں بولتے۔

﴿وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى ؀ إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَى﴾

[النجم: 3-4]

’’اور نہیں بولتا ہے وہ اپنی خواہش نفس سے۔ یہ تو وہ ہے جو ان پر وحی کی جاتی ہے‘‘۔

ان تمام آیات و احادیث سے معلوم ہوا کہ کہ نبی ﷺ کی اطاعت لازمی ہے، یہ اللہ کا حکم ہے۔ نبی ﷺ کی مخالفت ان کی راہ سے ہٹ کر کام کرنے والا مومن نہیں ہوسکتا۔نبیﷺ اپنی طرف سے کچھ نہیں کہتے بلکہ یہ ان پر اللہ کی طرف سے وحی کیا جاتا ہے۔ انہوں نے جس بارے میں جو بات اپنے قول و عمل سے بیان کردی ہے اب وہی اسلام ہے،اس سے بڑھ کر کسی بھی قسم کا نیا اضافہ ’’ بدعت ‘‘ ہے ، ہر بدعت گمراہی ہے جس کا انجام جہنم کی آگ ہے۔ لہذا اپنی طرف سے اچھے اور برے کے معیار نہیں بنائے جائیں گے بلکہ ہر حالت میں نبیﷺ کا طریقہ اختیار کیا جائے گا اور یہی مومنین کی راہ ہے۔ ہم ذیل میں کچھ احکامات بیان کر رہے ہیں جو اس امت نے اپنائے ہوئے ہیں جبکہ نبیﷺ نے کسی کو کفر و شرک بیان کیا ہے، کسی عمل کو یہودی ونصاریٰ سے منسوب کیا ہے اور اس امت کو منع فرمایا ہے ایسے افعال کرنے سے ۔

تعویذ کے بارے میں نبی ﷺ کا فرمان۔

عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ النَّبِيِّ عَلَيْهِ السَّلَامُ قَالَ: «مَنْ عَلَّقَ التَّمَائِمَ وَعَقَدَ الرُّقَى فَهُوَ عَلَى شُعْبَةٍ مِنَ الشِّرْكِ»

( مصنف ابن ابی شیبہ ، کتاب الطب، في تعليق التمائم والرقى، جزء 5، صفحہ 336 )

’’عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : ” جس نے تعویذلٹکایا اور ڈوراباندھا تو یہ شرک کے ایک عمل پر ہے۔‘‘

عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْبَلَ إِلَيْهِ رَهْطٌ فَبَايَعَ تِسْعَةً وَأَمْسَكَ عَنْ وَاحِدٍ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ بَايَعْتَ تِسْعَةً وَتَرَكْتَ هَذَا قَالَ إِنَّ عَلَيْهِ تَمِيمَةً فَأَدْخَلَ يَدَهُ فَقَطَعَهَا فَبَايَعَهُ وَقَالَ مَنْ عَلَّقَ تَمِيمَةً فَقَدْ أَشْرَكَ

( مسند احمد ، مسند الشاميين ، حديث عقبة بن عامر الجهني )

’’عقبہ بن عامر ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبیﷺکی خدمت میں (دس آدمیوں کا) ایک وفد حاضر ہوا، نبیﷺنے ان میں سے نو آدمیوں کو بیعت کرلیا اور ایک سے ہاتھ روک لیا، انہوں نے پوچھا یا رسول اللہ ! (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ نے نو کو بیعت کرلیا اور اس شخص کو چھوڑ دیا ؟ نبی ﷺ نے فرمایا اس نے تعویذ پہن رکھا ہے، یہ سن کر اس نے گریبان میں ہاتھ ڈال کر اس تعویذ کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا اور نبی ﷺنے اس سے بھی بیعت لے لی اور فرمایا جس نے تعویذ لٹکایا اس نے شرک کیا۔‘‘

عَنْ قَيْسِ بْنِ السَّكَنِ الْأَسَدِيِّ، قَالَ: دَخَلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى امْرَأَةٍ فَرَأَى عَلَيْهَا حِرْزًا مِنَ الْحُمْرَةِ فَقَطَعَهُ قَطْعًا عَنِيفًا ثُمَّ قَالَ: إِنَّ آلَ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ الشِّرْكِ أَغْنِيَاءُ وَقَالَ: كَانَ مِمَّا حَفِظْنَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «أَنَّ الرُّقَى وَالتَّمَائِمَ وَالتَّوْلِيَةَ مِنَ الشِّرْكِ»

(مستدرک حاکم 4/241 كِتَابُ الطِّبِّ وَأَمَّا حَدِيثُ مَيْسَرَةَ بْنِ حَبِيبٍ)

’’ عبد اللہ بن مسعود ؓ نے اپنی زوجہ کے گلے میں ایک دھاگہ دیکھا سرخ باوا کے لئے، تو انہوں نے وہ توڑ ڈالا، پھر فرمایا: عبد اللہ کےگھر والے شرک سے بے خبر ہیں، اور فرمایا جو ہم نے

سنا نبی ﷺ سے کہ دم ، تعویذ اور تولہ ( محبت کا تعویذ ) سب شرک ہیں ‘‘۔ ( بعد میں غیر مشرکانہ الفاظ والے دم کی اجازت دے گئی )

ان حادیث کی رو سے ہر قسم کا تعویذ شرک ہے لیکن اپنے آپ کو امت محمدیہ کہلوانے والوں نے نبیﷺ کے حکم کے باوجود اس شرک کو گلے سے لگایا ہوا، سوچیں یہ اطاعت رسول ﷺ ہے یا انکار رسول اللہ ﷺْ۔

نبی ﷺ نے قرآن مجید پر اجرت لینے کے بارے میں فرمایا :

عن عبد الرحمن بن شبل الأنصاري، قال: اقْرَءُوا الْقُرْآنَ , وَلَا تَغْلُوا فِيهِ ، وَلَا تَجْفُوا عَنْهُ وَلَا تَأكُلُوا بِهِ , وَلَا تَسْتَكْثِرُوا بِهِ “

( مسند احمد، مسند المكيين ، حدیث عبد الرحمن بن شبل ؓ)

’’عبد الرحمن بن شبلؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا قرآن پڑھو اور اس میں غلو نہ کرو اور اس سے اعراض نہ کرو اس کو ذریعہ معاش نہ بناؤ اور نہ ہی اس سے بہت سے دنیاوی فائدے حاصل کرو۔‘‘

عن سهل بن سعد الساعدي، قال: خرج علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم يوما ونحن نقترئ، فقال: «الحمد لله كتاب الله واحد، وفيكم الأحمر وفيكم الأبيض وفيكما لأسود، اقرءوه قبل أن يقرأه أقوام يقيمونه كما يقوم السهم يتعجل أجره ولا يتأجله»

( ابو داؤد، أبواب تفريع استفتاح الصلاة، باب ما يجزئ الأمي والأعجمي من القراءة )

’ سہل بن سعد بن ساعدی ؓ سے روایت ہے کہ ایک دن رسول اﷲﷺہمارے پاس تشریف لاۓ اس حال میں کہ ہم قرآن کی تلاوت کر رہے تھے یہ دیکھ کر آپؐ نے فرمایا الحمدﷲ کتاب اﷲ پڑھنے والے سرخ بھی ہیں‛ سفید بھی ہیں‛ کالے بھی ہیں قرآن پڑھو عنقریب ایسی قومیں آئیں گی جو قرآن کے زیرزبر کو ایسے سیدھا کریں گی جیسے تیر کو سیدھا کیا جاتا ہے لیکن قرآن کے اجر میں جلدی کریں گی اور اس کو آخرت پر نہ رکھیں گی ۔‘‘

عن عثمان بن أبي العاص قال: قلت: يا رسول الله، اجعلني إمام قومي. فقال: «أنت إمامهم، واقتد بأضعفهم، واتخذ مؤذنا لا يأخذ على أذانه أجرا»

( سنن النسائی، کتاب الاذان ، اتخاذ المؤذن الذي لا يأخذ على أذانه أجرا )

’’ عثمان بن ابی العاصؓ سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ مجھے اپنی قوم کا امام بنا دیجئے آپ ؐ نے فرمایا (ٹھیک ہے) تم ان کے امام ہو لیکن کمزور مقتدیوں کا خیال رکھنا۔ اور مؤذن ایسا شخص مقرر کرنا جو اذان پر اجرت نہ لے۔‘‘

عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ: عَلَّمْتُ نَاسًا مِنْ أَهْلِ الصُّفَّةِ الْكِتَابَ، وَالْقُرْآنَ فَأَهْدَى إِلَيَّ رَجُلٌ مِنْهُمْ قَوْسًا فَقُلْتُ: لَيْسَتْ بِمَالٍ وَأَرْمِي عَنْهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، لَآتِيَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَأَسْأَلَنَّهُ فَأَتَيْتُهُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، رَجُلٌ أَهْدَى إِلَيَّ قَوْسًا مِمَّنْ كُنْتُ أُعَلِّمُهُ الْكِتَابَ [ص:265] وَالْقُرْآنَ، وَلَيْسَتْ بِمَالٍ وَأَرْمِي عَنْهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، قَالَ: «إِنْ كُنْتَ تُحِبُّ أَنْ تُطَوَّقَ طَوْقًا مِنْ نَارٍ فَاقْبَلْهَا»

(المستدرک علی الصحیحین للحاکم ، کتاب البیوع، وَأَمَّا حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ )

’’ عبادہ بن صامت سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ میں نے اہل صفہ کے کچھ لوگوں کو قرآن مجید اور کتاب اللہ کی تعلیم دی ان میں سے ایک شخص نے مجھے ایک کمان ہدیہ دی۔ میں نے کہا کہ اس کی مالیت تو کچھ نہیں اور میں اس سے اللہ کی راہ میں تیر اندازی کروں گا (مقصد یہ کہ اس ہدیہ کے قبول کرنے کا خیال تھا اس واسطے کہ اس کی مالیت تو کچھ خاص نہیں تھی کہ اس کو تعلیم کا معاوضہ خیال کرتا اور نیت یہ تھی کہ اس کے ذریعہ اللہ کے راستہ میں تیر اندازی کروں گا) میں اس کے بارے میں رسول اللہﷺ کے پاس جاؤں گا اور سوال کروں گا، چنانچہ میں نبی ﷺ کے پاس گیا اور کہا کہ یا رسول ﷺایک آدمی نے مجھے کمان ہدیہ کی ہے ان میں سے کہ جنہیں کتاب اللہ اور قرآن کی تعلیم دیتا ہوں اور اس کمان کی کچھ مالیت بھی نہیں ہے اور اس کے ذریعہ میں اللہ کے راستہ میں تیر اندازی کروں گا، نبیﷺ نے فرمایا کہ اگر تجھے یہ بات پسند ہے کہ تیرے گلے میں آگ کا طوق ڈالا جائے تو اسے قبول کر لے۔‘‘

عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من تعلم علما مما يبتغى به وجه الله، لا يتعلمه إلا ليصيب به عرضا من الدنيا، لم يجد عرف الجنة يوم القيامة»

( صحیح ابن حبان ، کتاب العلم ، ذكر وصف العلم الذي يتوقع دخول النار في القيامة لمن طلبه )

’’سعید بن یسار سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا کہ جس شخص نے وہ علم کہ جس سے اللہ تبارک تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کی جاتی ہے اس لئے سیکھا کہ اس کے ذریعہ اسے دنیا کا کچھ مال و متاع مل جائے تو ایسا شخص جنت کی خوشبو کو بھی نہیں پا سکے گا قیامت کے دن۔ ‘‘

اوپر بیان کردہ احادیث میں اللہ کے نبی ﷺ کا حکم ہے کہ قرآن کو ذریعی معاش نہ بناو، اس سے فائدہ حاصل نہ کرو، اس پر ہدیہ لینا بھی جہنم کی آگ لینا ہے اور موذٔن ایسا مقرر کیا جائے جو اجرت لینے والا نہ ہو۔ بتائیں جو آج منبر و محراب پر دن کے علمبردار بنے بیٹھے ہیں یہ لوگ نبی ﷺ کے فرمان کی اطاعت کر رہے ہیں یا اس کا انکار ؟

قبر کے بارے میں بھی نبی ﷺ کے فرامین سمجھیں اور دیکھیں کہ ہم کس انداز میں نبی ﷺ کے احکام کا کفر کر رہے ہیں۔

قبر کے بارے میں نبی ﷺ کے فرامین ؛

عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ المُؤْمِنِينَ، أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ، وَأُمَّ سَلَمَةَ ذَكَرَتَا كَنِيسَةً رَأَيْنَهَا بِالحَبَشَةِ فِيهَا تَصَاوِيرُ، فَذَكَرَتَا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «إِنَّ أُولَئِكَ إِذَا كَانَ فِيهِمُ الرَّجُلُ الصَّالِحُ فَمَاتَ، بَنَوْا عَلَى قَبْرِهِ مَسْجِدًا، وَصَوَّرُوا فِيهِ تِلْكَ الصُّوَرَ، فَأُولَئِكَ شِرَارُ الخَلْقِ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ القِيَامَةِ»

( بخاری، کتاب الصلاۃ، هَلْ تُنْبَشُ قُبُورُ مُشْرِكِي الجَاهِلِيَّةِ، وَيُتَّخَذُ مَكَانُهَا مَسَاجِدَ )

’’عائشہ ؓ روایت کرتی ہیں کہ ام حبیبہ ؓ اور ام سلمہ ؓنے ایک گرجا، حبش دیکھا تھا، اس میں تصویریں تھیں، انہوں نے نبیﷺ سے اس کا ذکر کیا آپ نے فرمایا کہ ان لوگوں میں جب کوئی نیک مرد ہوتا اور وہ مرجاتا تو اس کی قبر پر عبادت گاہ بنا لیتے اور اس میں یہ تصویریں بنا دیتے، یہ لوگ اللہ کے نزدیک قیامت کے دن بدترین خلق ہوں گے‘‘۔

عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ: «لَعَنَ اللَّهُ اليَهُودَ وَالنَّصَارَى، اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسْجِدًا»، قَالَتْ: وَلَوْلاَ ذَلِكَ لَأَبْرَزُوا قَبْرَهُ غَيْرَ أَنِّي أَخْشَى أَنْ يُتَّخَذَ مَسْجِدًا

( بخاری، کتاب الجنائز، بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنَ اتِّخَاذِ المَسَاجِدِ عَلَى القُبُورِ )

’’عائشہ ؓ سے روایت کرتی ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جس مرض میں وفات پائی، اس میں فرمایا کہ اللہ یہود و نصاری پر لعنت کرے انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کوعبادت گاہ بنالیا۔ عائشہ ؓنے بیان کیا کہ اگر ایسا نہ ہوتا تو آپ کی قبر ظاہر کردی جاتی، مگر مجھے ڈر ہے کہ کہیں عبادت گاہ نہ بنالی جائے‘‘۔

حَدَّثَنِي جُنْدَبٌ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ أَنْ يَمُوتَ بِخَمْسٍ، وَهُوَ يَقُولُ: «إِنِّي أَبْرَأُ إِلَى اللهِ أَنْ يَكُونَ لِي مِنْكُمْ خَلِيلٌ، فَإِنَّ اللهِ تَعَالَى قَدِ اتَّخَذَنِي خَلِيلًا، كَمَا اتَّخَذَ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلًا، وَلَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا مِنْ أُمَّتِي خَلِيلًا لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ خَلِيلًا، أَلَا وَإِنَّ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ كَانُوا يَتَّخِذُونَ قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ وَصَالِحِيهِمْ مَسَاجِدَ، أَلَا فَلَا تَتَّخِذُوا الْقُبُورَ مَسَاجِدَ، إِنِّي أَنْهَاكُمْ عَنْ ذَلِكَ»

( مسلم ، کتاب المساجد و مواضع الصلاۃ ، بَابُ النَّهْيِ عَنْ بِنَاءِ الْمَسَاجِدِ، عَلَى الْقُبُورِ وَاتِّخَاذِ الصُّوَرِ فِيهَا وَالنَّهْيِ عَنِ اتِّخَاذِ الْقُبُورِ مَسَاجِدَ )

’’جندب ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے آپ کے وصال سے پانچ دن پہلے سنا۔ آپ فرما رہے تھے کہ میں اللہ تعالیٰ کے سامنے اس چیز سے بری ہوں کہ تم میں سے کسی کو اپنا دوست بناؤں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنا خلیل بنایا ہے جیسا کہ ابراہیم (علیہ السلام) کو خلیل بنایا تھا اور اگر میں اپنی امت سے کسی کو اپنا خلیل بناتا تو ابوبکرؓ کو بناتا آگاہ ہوجاؤ کہ تم سے پہلے لوگوں نے اپنے نبیوں اور نیک لوگوں کی قبروں کو عبادت گاہ بنا لیا تھا تم قبروں کو عبادت گاہ نہ بنانا میں تمہیں اس سے روکتا ہوں‘‘۔

أَنَّ عَائِشَةَ، وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ، قَالاَ: لَمَّا نَزَلَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَفِقَ يَطْرَحُ خَمِيصَةً لَهُ عَلَى وَجْهِهِ، فَإِذَا اغْتَمَّ بِهَا كَشَفَهَا عَنْ وَجْهِهِ، فَقَالَ وَهُوَ كَذَلِكَ: «لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى اليَهُودِ وَالنَّصَارَى، اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ» يُحَذِّرُ مَا صَنَعُوا

( بخاری، کتاب الصلاۃ ، بَابُ الصَّلاَةِ فِي البِيعَةِ )

’’عائشہ ؓ اور عبداللہ بن عباس ؓ دونوں روایت کرتے ہیں کہ جب رسول اللہﷺ کو (وفات کی) بیماری لاحق ہوئی، تو آپ اپنی چادر بار بار اپنے منہ پر ڈالتے تھے، جب اس سے آپ کو گرمی معلوم ہوتی، تو اس کو اپنے چہرے سے ہٹا دیتے، اسی حالت میں آپ نے فرمایا کہ یہود و نصاری پر اللہ کی لعنت ہو، انہوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا، آپ ان کےاس فعل سے منع فرماتے تھے‘‘۔

عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُجَصَّصَ الْقَبْرُ، وَأَنْ يُقْعَدَ عَلَيْهِ، وَأَنْ يُبْنَى عَلَيْهِ»

( مسلم، کتاب الجنائز ، بَابُ النَّهْيِ عَنْ تَجْصِيصِ الْقَبْرِ وَالْبِنَاءِ عَلَيْهِ )

’’جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے منع فرمایا ہے کہ قبر کو پکا کیا جائے، اس پر ( مجاور بنکر ) بیٹھا جائے، اور اس پر کوئی عمارت بنائی جائے‘‘۔

عَنْ أَبِي الْهَيَّاجِ الْأَسَدِيِّ، قَالَ: قَالَ لِي عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ: أَلَا أَبْعَثُكَ عَلَى مَا بَعَثَنِي عَلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ «أَنْ لَا تَدَعَ تِمْثَالًا إِلَّا طَمَسْتَهُ وَلَا قَبْرًا مُشْرِفًا إِلَّا سَوَّيْتَهُ»

( مسلم ، کتاب الجنائز۔ بَابُ الْأَمْرِ بِتَسْوِيَةِ الْقَبْرِ )

’’ ابو لھیاج اسدی کہتے ہیں کہ مجھ سے علیؓ بن ابی طالب نے کہا کہ کیا میں تمہیں اس کام کے لئے نہیں بھیجوں جس کے لئے مجھے نبی ﷺ نے بھیجا تھا کہ کوئی تماثیل نہ چھوڑی جائے کہ اسے ختم کردیا جائے، اور قبر نہ چھوڑی جائے کہ اسے زمین کے برابر کردیا جائے‘‘۔

أَنَّ ثُمَامَةَ بْنَ شُفَيٍّ، حَدَّثَهُ قَالَ: كُنَّا مَعَ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ بِأَرْضِ الرُّومِ بِرُودِسَ، فَتُوُفِّيَ صَاحِبٌ لَنَا، فَأَمَرَ فَضَالَةُ بْنُ عُبَيْدٍ بِقَبْرِهِ فَسُوِّيَ، ثُمَّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَأْمُرُ بِتَسْوِيَتِهَا»

( مسلم ، کتاب الجنائز۔ بَابُ الْأَمْرِ بِتَسْوِيَةِ الْقَبْرِ )

’’ ثمامہ بن شقی کہتے ہیں کہ ہم روم میں فضالۃ بن عبید ؓ کیساتھ تھے، ہمارے ایک ساتھی کی وفات ہو گئی، تو فضالہؓ نے ہمیں حکم دیا کہ قبر برابر کردی جائے اور فرمایا کہ میں نے سنا رسول اللہ ﷺ کو حکم دیتے ہوئے قبر کو برابر کردینے کا ‘‘۔

نبی ﷺ کے ان واضح فرامین کو پس پشت ڈال کر قبروں کو ہی آج عبادت گاہ بنا لیا گیا ہے، وہ کام جس پر نبی ﷺ نے اللہ کی لعنت کا ذکر فرمایا تھا اس قوم نے اسی کام کو اپنا لیا۔ اب دیکھتے ہیں تصاویر کے بارے میں نبی ﷺ کی احادیث:

تصویر اور مصور کے بارے میں نبی ﷺ نے فرمایا :

عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ المُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا اشْتَرَتْ نُمْرُقَةً فِيهَا تَصَاوِيرُ، فَلَمَّا رَآهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ عَلَى البَابِ، فَلَمْ يَدْخُلْهُ، فَعَرَفْتُ فِي وَجْهِهِ الكَرَاهِيَةَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتُوبُ إِلَى اللَّهِ، وَإِلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَاذَا أَذْنَبْتُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا بَالُ هَذِهِ النُّمْرُقَةِ؟» قُلْتُ: اشْتَرَيْتُهَا لَكَ لِتَقْعُدَ عَلَيْهَا وَتَوَسَّدَهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ أَصْحَابَ هَذِهِ الصُّوَرِ يَوْمَ القِيَامَةِ يُعَذَّبُونَ، فَيُقَالُ لَهُمْ أَحْيُوا مَا خَلَقْتُمْ» وَقَالَ: «إِنَّ البَيْتَ الَّذِي فِيهِ الصُّوَرُ لاَ تَدْخُلُهُ المَلاَئِكَةُ»

( بخاری، کتاب البیوع، بَابُ التِّجَارَةِ فِيمَا يُكْرَهُ لُبْسُهُ لِلرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ )

’’عائشہ ؓ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ انہوں نے ایک تکیہ خریدا جس پر تصویریں تھیں جب رسول اللہ ﷺ نے اس کو دیکھا تو دروازے پر کھڑے ہوگئے اندر نہیں گئے میں نےرسول اللہ ﷺ کے چہرے پر ناگواری کے اثرات پائے میں نے عرض کیا یا رسول اللہﷺ ! میں اللہ اور اس کے رسول کی خدمت میں توبہ کرتی ہوں میں نے کون سا قصور کیا ہے ؟ رسول اللہ ﷺنے فرمایا یہ تکیہ کیسا ہے میں نے عرض کیا کہ میں نے اس کو خریدا ہے تاکہ آپ اس پر بیٹھیں اور تکیہ لگائیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ان تصویروں کے بنانے والے قیامت کے دن عذاب میں مبتلا کئے جائیں گے اور ان سے کہا جائے گا کہ جو تم نے بنایا ہے اس میں جان ڈالو اور فرمایا کہ جس گھر میں تصویریں ہوتی ہیں وہاں فرشتے داخل نہیں ہوتے‘‘۔

عَنْ مُسْلِمٍ، قَالَ: كُنَّا مَعَ مَسْرُوقٍ، فِي دَارِ يَسَارِ بْنِ نُمَيْرٍ، فَرَأَى فِي صُفَّتِهِ تَمَاثِيلَ، فَقَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَذَابًا عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ القِيَامَةِ المُصَوِّرُونَ»

( بخاری، کتاب الباس، بَابُ عَذَابِ المُصَوِّرِينَ يَوْمَ القِيَامَةِ )

’’مسلم کہتے ہیں کہ ہم مسروق کے ساتھ یسار بن نمیر کے گھر میں تھے، تو مسروق نے ان کے گھر میں مجسمے دیکھے تو انہوں نے کہا کہ میں نے عبداللہ کو بیان کرتے ہوئے سنا کہ نبی ﷺ فرماتے تھے کہ قیامت کے دن اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ عذاب تصویریں بنانے والوں کو ہوگا‘‘۔

أَنَّ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا حَدَّثَتْهُ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «لَمْ يَكُنْ يَتْرُكُ فِي بَيْتِهِ شَيْئًا فِيهِ تَصَالِيبُ إِلَّا نَقَضَهُ»

( بخاری، کتاب الباس، بَابُ نَقْضِ الصُّوَرِ )

’’ عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اپنے گھر میں کوئی ایسی چیز نہیں چھوڑتے تھے جس میں تصویریں ہوتی تھیں، بلکہ ایسی چیزوں کو چکنا چور کردیتے تھے‘‘۔

عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الحَسَنِ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، إِذْ أَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا أَبَا عَبَّاسٍ، إِنِّي إِنْسَانٌ إِنَّمَا مَعِيشَتِي مِنْ صَنْعَةِ يَدِي، وَإِنِّي أَصْنَعُ هَذِهِ التَّصَاوِيرَ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: لاَ أُحَدِّثُكَ إِلَّا مَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ: «مَنْ صَوَّرَ صُورَةً، فَإِنَّ اللَّهَ مُعَذِّبُهُ حَتَّى يَنْفُخَ فِيهَا الرُّوحَ، وَلَيْسَ بِنَافِخٍ فِيهَا أَبَدًا» فَرَبَا الرَّجُلُ رَبْوَةً شَدِيدَةً، وَاصْفَرَّ وَجْهُهُ، فَقَالَ: وَيْحَكَ، إِنْ أَبَيْتَ إِلَّا أَنْ تَصْنَعَ، فَعَلَيْكَ بِهَذَا الشَّجَرِ، كُلِّ شَيْءٍ لَيْسَ فِيهِ رُوحٌ،

( بخاری، کتاب البیوع ، بَابُ بَيْعِ التَّصَاوِيرِ الَّتِي لَيْسَ فِيهَا رُوحٌ، وَمَا يُكْرَهُ مِنْ ذَلِكَ )

’’سعید بن ابی الحسن سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ میں ابن عباس ؓ کے پاس تھا ان کے پاس ایک شخص آیا اور کہا کہ میں ایسا ہوں کہ میرا ذریعہ معاش میرے ہاتھ کی صنعت ہے اور میں یہ تصویریں بناتا ہوں تو ابن عباس نے اس سے کہا میں تجھ سے وہی چیز بیان کروں گا جو میں نے رسول اللہ ﷺسے سنی ہے میں نے آپ کو فرماتے ہوئے سنا کہ جس نے کسی چیز کی تصویر بنائی تو اللہ تعالیٰ اس کو عذاب دیتا رہے گا یہاں تک کہ وہ اس میں جان نہ ڈال سکے گا اس شخص نے بہت ٹھنڈی سانس لی اور اس کا چہرہ زرد ہوگیا تو ابن عباس ؓنے کہا کہ تیرا برا ہو اگر تو تصویریں ہی بنانا چاہتا ہے تو ان درختوں کی جن میں جان نہیں ہوتی تصویریں بنایا کر ‘‘۔

کس قدر بدترین معاملہ ہے تصویر اور مصور کا، لیکن خود علماء فرقہ اپنی اپنی تصاویر بنواکر نبی ﷺ کے فرمان کے عملا ً انکاری بنے ہوئے ہیں، اور کہتے ہیں کہ حکم ہاتھ سے بنائی جانے والی تصاویر پر ہے، کیمرے سے کھینچی گئی تصویر پر نہیں۔ یہ وہی بات ہے کہ بنی اسرائیل پر چربی حرام کی گئی تو انہوں نے اسے پگھلا کر استعمال کرنا شروع کردیا۔ یہی معاملہ ہے کہ ان احادیث میں کہیں بھی یہ نہیں کہا گیا کہ ہاتھ سے بنی ہوئی ہو، بلکہ لفظ ’’ تصویر ‘‘ بیان کیا گیا ہے، اب چاہے تصویر کسی بھی طریقے سے بنائی گئی ہو۔ آج لوگ بے حساب سیلفیاں بنا رہے ہوتے ہیں، کاش کہ وہ سمجھ لیں کہ اس کا کس قدر بدترین عذاب ہے۔

سود کے بارے میں نبی ﷺ کا فرمان :

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «اجْتَنِبُوا السَّبْعَ المُوبِقَاتِ»، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا هُنَّ؟ قَالَ: «الشِّرْكُ بِاللَّهِ، وَالسِّحْرُ، وَقَتْلُ النَّفْسِ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالحَقِّ، وَأَكْلُ الرِّبَا، وَأَكْلُ مَالِ اليَتِيمِ، وَالتَّوَلِّي يَوْمَ الزَّحْفِ، وَقَذْفُ المُحْصَنَاتِ المُؤْمِنَاتِ الغَافِلاَتِ»

( بخاری ، کتاب الوصایا ، بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {إِنَّ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ أَمْوَالَ اليَتَامَى ظُلْمًا ۔ ۔ ۔ )

’’ ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ سات ہلاکت میں ڈال دینے والی چیزوں سے بچو، عرض کیا گیا اے اللہ کے رسول ﷺ وہ سات ہلاک کرنے والی چیزیں کونسی ہیں ؟ آپ

نے فرمایا : اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا اور جادو کرنا اور کسی نفس کا قتل کرنا جسے اللہ نے حرام کیا سوائے حق کے اور یتیم کا مال کھانا، سود کھانا، جہادمیں دشمن کے مقابلہ سے بھاگنا اور پاکدامن عورتوں پر بدکاری کی تہمت لگانا‘‘۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالُوا: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: «لَعَنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آكِلَ الرِّبَا، وَمُؤْكِلَهُ، وَكَاتِبَهُ، وَشَاهِدَيْهِ»، وَقَالَ: «هُمْ سَوَاءٌ»

( مسلم ، کتاب المساقات، بَابُ لَعْنِ آكِلِ الرِّبَا وَمُؤْكِلِهِ)

’’جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سود کھانے والے اور کھلانے والے، سود لکھنے والے اور اس کی گواہی دینے والوں پر لعنت فرمائی اور ارشاد فرمایا یہ سب گناہ میں برابر شریک ہیں‘‘۔

اللہ تعالیٰ نے بھی سود کے بارے میں بہت سخت بیان فرمایا ہے اور اسے اللہ اور اس کے رسول سے جنگ قرار دیا ہے، نبی ﷺ نے اسے گناہ کبیرا میں بیان فرمایا اور سودی معاملات میں ملوث افراد کے لئے اللہ کی لعنت کا ذکر فرمایا ہے۔ لیکن یہ امت جو نبی ﷺ کو نبی ماننے کا دعویٰ تو کرتی ہے لیکن کیا یہ واقعی انہیں نبی مان کر اطاعت کرتی ہے صاف واضح ہے۔

یہاں کچھ موضوعات پر نبی ﷺ کے فرامین جمع کئے گئے ہیں لیکن اس کے علاوہ بے شمار مسائل ہیں جن پر نبی ﷺ کے فرامین موجود ہیں لیکن اس امت کی ایک بڑی اکثریت ان پر عمل نہیں کرتی، تو سوچیں کہ کیا یہ وہی ’’ رسولوں پر ایمان ‘‘ ہے جو اللہ تعالیٰ کو اپنے بندوں سے مطلوب ہے۔ نبی ﷺ پر ایمان کے معنی تو یہ ہیں کہ وہ کام جو نبی ﷺ نے اپنے قول و عمل سے اس امت کے لئے چھوڑ دیا اس پر اسی طرح عمل کیا جائے۔ لیکن آج اس کے برعکس دین کے نام پر نت نئی چیزوں کو پھیلایا گیا اور انہیں اجر کا کام سمجھا جاتا ہے حالانکہ وہ بدعات ہیں۔ یہ وہ کام ہیں جن پر نبی ﷺ نے خود عمل کیا اور نہ ہی ان کا حکم دیا اور نہ صحابہ کرامؓ نے ان پر عمل کیا۔ ذیل میں ہم چند بدعات کا ذکر کرتے ہیں۔

کسی انسان کی وفات پر پھیلی ہوئی بدعات جیسے کسی کی وفات پر جنازہ لیجاتے ہوئے ’’ کلمہ شہادت ‘‘ پڑھنا، اسے دفن کرتے ہوئے قبر میں عہد نامہ رکھنا، قبر میں پھول رکھنا، عطر یا کوئی خوشبو چھڑکنا، قبر زمین سے بلند بنانا، قبر پر پھول ڈالنا، دفنانےکے بعد وہاں کھڑے ہو کر ہاتھ اٹھا کر اجتماعی یا انفرادی ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا۔ تدفین کے بعد کھانے ( کڑوی روٹی ) کا انتظام کرنا۔

ایصال ثواب کے نام پر پھیلی ہوئی بدعات جیسے قرآن خوانی ،قل ،جمعراتیں، دسواں، چالیسواں اور برسی منانا۔ ہر ہر نئے مہمان کے آنے پر ہاتھ اٹھا کر دعائیں کرنا۔ بیٹی و بہن کی شادی پر میلاد کرانا، قرآن کے نیچے سے گزارنا، اس کے بازو پر ’’ امام ضامن ‘‘ باندھنا۔ (یاد رہے کہ یہ مشرکانہ عمل بھی ہے )۔ کسی بھی نئے بزنس کے ابتداء پر بھی اسی طرح قرآن خوانی کرانا، اجتماعی دعا کرانا ، شیرینی تقسیم کرنا وغیرہ۔

جب کوئی درس وغیرہ کرایا جاتا ہے تو وہاں ہاتھ اٹھا اٹھا کر یا جنازہ کی صلاۃ ادا کرنے کے بعد ہاتھ اٹھا اٹھا کر اجتماعی دعا کی جاتی ہے، یہ سب نبی ﷺ کا بتایا ہوا طریقہ کار نہیں اور نہ ہی صحابہ ؓ سے یہ عمل ثابت ہے۔ اسی طرح عید میلاد النبی ﷺ منانا ، اس دن کھانے بنا کر ان

پر نیاز دلا کر تقسیم کرنا ( اسے قرآن نے حرام قرار دیا ہے )، جشن منانا، چراغاں کرنا ، جلوس نکالنا یہ سب بدعات ہیں۔

شب معراج والے دن کو منانا اور خاص اس رات کو عبادت کرنا، صوم رکھنا، اسی طرح شب برأت منانا، اس دن قبرستان جانا، چراغان کرنا، رات بھرعبادت کرنا اور دوسرے دن صوم رکھنا اسلام کا حصہ نہیں۔

یہ امت بدعات ہی نہیں بلکہ نبی ﷺ کے فرامین کا انکار بھی کر رہی ہے :

إذا سألت فاسأل الله، وإذا استعنت فاستعن بالله

( ترمذی ، أبواب صفة القيامة والرقائق والورع عن رسول الله صلى الله عليه وسلم )

’’ جب بھی تم سوال کرو تو اللہ سے کرو اور جب بھی مدد مانگو تو اللہ سے مانگو ‘‘۔

رسول اللہ ﷺ کے حکم کے خلاف یہ امت بہت بری طرح اس کا انکارکر رہی ہے:

؎ بھر دے جھولی میری یا محمد ؐ ۔ ۔ ۔ لوٹ کر میں نہ جاؤں گا خالی

وہ نبی ﷺجو خود فرماگئے ہیں کہ اللہ سے سوال کرو آج خود انہی سے اولاد کا سوال کیا جا رہا ہے۔یہ رسول اللہ ﷺ پر ایمان ہے یا ان کا انکار ؟

نبی ﷺ نے فرمایا کہ جب بھی مدد مانگو تو اللہ سے مانگو، لیکن ان کی رسالت پر ایمان کا دعویدار ’’ یا رسول مدد ‘‘، ’’ یا علی مدد ‘‘، ’’ یا غوث مدد ‘‘ کا نعرہ لگاتا ہے۔ سوچیں کیاہم نبی ﷺ کو رسول مان رہے ہیں ؟؟

یہ محض ایک مثال پیش کی گئی ہے ورنہ نبی ﷺ کے کتنے ہی فرامین ہیں جن کا انکار کیا جا رہا ہے۔ امت جان لے کہ جس نے نبی ﷺ کی سنت سے انحراف کیااس کی وابستگی نبی ﷺ کیساتھ نہیں:

فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّي

( بخاری، کتاب النکاح، بَابُ التَّرْغِيبِ فِي النِّكَاحِ )

’’ جس نے میری سنت سے منہ موڑا وہ مجھ سے نہیں ‘‘

یعنی وہ نبی ﷺ کی سنت جان لینے کے بعد بھی اپنے آبائی دین پر چلتا رہا اور سنت رسول ﷺ سے انحراف کیا تو گویا اس کا نبی ﷺ سے کوئی تعلق نہیں۔

لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ پر مضمون اسی لئے لکھا گیا ہے کہ کلمہ گو جان لے کہ اس کلمے کو پڑھنے اور قبول کرنے کے بعد وہ کن کن باتوں کا اعتراف کر لیتا ہے۔ اب جو کلمہ پڑھ کر بھی اس پر عمل نہ کرے تو یہ دل سے کلمہ پڑھنا نہیں ہوا جیسا کہ عبد اللہ بن ابی نے بھی یہ کلمہ پڑھا لیکن اس کا انجام کفر و منافقت کی موت کی صورت میں آیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *