Categories
Uncategorized

شب برأت کی شرعی حیثیت

آج بہت سےمسالک و مکاتب فکر ماہ شعبان کی درمیانی رات کو ایک مذہبی تہوار کے طور پر بڑے زور و شور سے مناتے ہیں اور اسے ’’شب براءت ‘ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ لیکن انتہائی حیرت کی بات یہ ہے کہ دین اسلام کے ایک مقدس تہوار کے نام سے کیا جانے والا یہ کام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہی نہیں ہے۔

جب اِس تہوار کا ثبوت طلب کیا جائے تو دیگر کئی بدعات کی طرح یہاں بھی قرآن و احادیث صحیحہ کے مستند دلائل کے بجائے احبار و رہبان کی کتب کی جانب مراجعت کا حکم دیا جاتا ہے۔حالانکہ دین اسلام تو آج سے تقریباً ساڑھے چودہ سو سال قبل ہی مکمل ہوچکا تھا، اور ساتھ ہی دین میں نت نئی باتیں ایجاد کرنے کے حوالے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کو متنبہ بھی کردیا تھا، جیسا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی روایت میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا هَذَا مَا لَيْسَ فِيهِ فَهُوَ رَدٌّ

’’جس نے ہمارے دین میں کوئی ایسی نئی بات نکالی جو دین میں سے نہیں ہے تو وہ مردود ہے(یعنی یہ عمل نامقبول ہے )۔‘‘

(بخاری، کتاب الصلح، بَابُ إِذَا اصْطَلَحُوا عَلَى صُلْحِ جَوْرٍ فَالصُّلْحُ مَرْدُودٌ)

اسی طرح جابر بن عبداللہ رضی اللہ اللہ عنہ سے مروی ایک اور روایت کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

فَإِنَّ خَيْرَ الْحَدِيثِ کِتَابُ اللَّهِ وَخَيْرُ الْهُدَی هُدَی مُحَمَّدٍ وَشَرُّ الْأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا وَکُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ

’’پس بہترین کہی ہوہی بات اللہ کی بات ہے اور بہرین راہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے اور بدترین چیز بدعت ہے ہر بدعت گمراہی ہے ۔‘‘

(مسلم: کتاب الجمعہ ، باب: خطبہ جمعہ و صلوٰۃ الجمعہ ۔ ۔ ۔ )

لہٰذا دین اسلام میں کوئی بھی نئی نیا کام ایجاد کرنا نہ صرف مردود (قابل رد)ہےبلکہ گمراہی اور ایک اور روایت کے مطابق جہنم میں لے جانے والا بھی ہے۔لیکن آج امت نے قرآن و سنت سے دور ہوجانے اور علماء کی اندھی تقلید کے نتیجے میں بے شمار بدعات اپنا لی ہیں اور ان ہی میں سے ایک ’’ شب براءت‘‘ بھی ہے۔صحیح احادیث میں اس رات کا کوئی ذکر نہیں ملتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یا نیکیوں کے حریص اُن کے جاں نثار صحابہ اکرام علیہم الرضوان نے یہ رات خصوصی طور پر جاگ کر اِس انداز میں گزاری ہو جیسا کہ آج گزاری جارہی ہے۔

جب دلائل طلب کیے جائیں تو بطور ثبوت سورۃ الدخان کی آیت:3 پیش کی جاتی ہے جوکہ واضح طور پر لیلة القدر کے بارے میں نازل ہوئی(اِس کی تفصیل آگے بیان کی جائے گی ان شاء اللہ)۔

ماہ شعبان کیے آغاز میں ہی اس ضمن میں مختلف مضامین و کتب اور اخبارات و جرائد میں خصوصی تحاریر شائع کی جاتی ہیں، البتہ اُن میں کسی ایک صحیح حدیث کا وجود ڈھونڈنے سے

بھی نہیں مل پاتا۔البتہ غیر مستند اور بے اصل روایات کا ایک انبار ہوتا ہے، جن کی بنیاد پر اپنے تئیں شب براءت کو دین اسلام کا ایک تہوار ثابت کردیا جاتا ہے۔

صحیح احادیث میں تو نہیں، البتہ چند مولوی حضرات کی تقاریر و تحاریر سے معلوم ہوا کہ اس رات کو لیلة الردة،لیلةالبارکة،لیلة الرحمةاور لیلة العککہا جاتا ہے۔

اب کوئی ہوشمند یہ سوال کرے کہ جناب قرآن کی کسی آیت یا صحیح حدیث میں تو ایسی کسی رات کا ذکرہی نہیں جس کے یہ مذکورہ نام ہوں ، تو آپ تک یہ ربّانی خبریں کن ذرائع سے آں پہنچیں؟ لیکن حقیقت تو یہ ہے اگر اِس طرح تحقیق اور سوال کرنے کی عادت عوام الناس میں آج باقی ہوتی تو احبار و رہبان کے ہاتھوں یہ دین جو انسانوں کو ایک امت بنانے کے لیے نازل کیا گیا تھا، وہ اس انداز سے تفرقہ اندازی کا شکارنہ ہوتا اور نہ ہی توحید کے نام پر کفر و شرک اور سنت کے نام پر طرح طرح کی بدعات اسلام میں لاداخل کی جاتیں۔

تایخ کے اوراق میں تلاش کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ اس رات کی جنم بھومی مجوسیوں کا ملک فارس تھا اور انہوں نے بنو عباس کے دور میں اقتدار پر تسلط حاصل کرنے کے بعد اپنے قدیم آتش پرستانہ عقائد و رسوم کوجب اسلامی بنانے کی کوششیں کیں تو انہی میں ایک کام یہ بھی کیا کہ اس رات آتش بازی کر کےاپنی دیرینہ خواہش کو پورا کیا گیا، حالانکہ آتش بازی ایک ایسا شیطانی فعل ہے جس کی تمام سلیم الفطرت افرادمذمت ہی کرتےنظر آئیں گے،لیکن یہ افسوس کہ ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ مجوسیوں سے متاثر کچھ لوگ اس فعل میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں اور اس دن اپنے خود ساختہ امام کی پیدائش کا جشن بھی مناتے ہیں ۔ شہر کراچی میں تو نیٹی جیٹی کے پل پر اس رات ایک خاص مکتبہ فکر کے افراد کا اژدھام ہوتا ہے ؛وہ کاغذ کی پرچیوں پر اپنی عرضیاں لکھ کر آٹے میں لپیٹ کر سمندر میں ڈال دیتے ہیں جوان کے عقائد کے مطابق ان کے ’روپوش امام ‘تک پہنچ جاتی ہیں اور وہ ان کی مرادوں کو پورا کر دیتے ہیں۔ یہ دین کے نام پر توہم پرستی کی بدترین شکل ہے۔

کچھ مسلکی اکابرین اس رات میں جاگنے اور عبادت کرنے کو سنت قرار دیتے اوربطور ثبوت فرمان رسول ﷺ نقل کرتے ہیں کہ’’ اس رات جس نے اللہ کی عبادت کی دربار الہی میں اس کی ہر دعا قبول ہوتی ہے خواہ وہ اپنی بلندی اور وسعتوں کے اعتبار سے پہاڑوں کے برابر کیوں نہ ہوں‘‘۔حالانکہ کسی ایک صحیح روایت میں بھی ی ذکر نہیں ملتا کہ صحابہ اکرام رضی اللہ عنہ میں سے کسی نے اس رات خصوصی طور پر شب بیداری کی ہو اور رات بھر عبادت کرتے رہے ہوں ۔اب غور طلب بات تو یہ ہے کہ صحابہ کرام علیہم الرضوان جو نیکیوں کے حریص تھے ، وہ ایسا قیمتی موقعہ کیسے ضائع کر سکتے تھے؟

اس سے بھی زیادہ اہم نکتہ یہ ہے کہ ’’ شب ‘‘ ( رات ) عربی کا نہیں بلکہ فارسی کا لفظ ہے ۔ یعنی’’ شب براءت ‘‘ کا تعلق اُس اسلام سے نہیں جو اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی جانب سے عربی زبان میں نازل کیا گیابلکہ یہ تو اہل فارس یعنی ایرانی مجوسیوں کی ایجاد ہے۔

مزید ستم ظریفی یہ کہ مذہبی اکابرین اس کے اثبات و جواز کے لیے آیات قرآنی آیات و احادیث میں تحریف تک کر بیٹھتے ہیں اور وہ آیت جو صریحاً لیلۃ القدر کے بارے میں ہے ، اسے شب براءت کے بارے میں بتایا جاتا ہے۔ حالانکہ یہ تو وہ کام ہے جس کو یہودیوں کی غلط عادات میں شمار کروایا گیا کہ:

یُحَرِّفُوْنَ الْکَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِہ

’’کلمات کو ان کی جگہ سے بدل دیتے ہیں‘‘

( النساء:46)

لیکن کتاب اللہ کا یہ اعجاز ہے کہ کوئی ناعاقبت اندیش اِس کے معنیٰ میں تحریف کر کے اپنی مزعومہ نظریے کو ثابت بھی کرنا چاہے تو اِسی کتاب کی دیگر آیات میں الجھ کر اوندھے منہ گر پڑتا ہےاور کتاب اُس کا پردہ فاش کردیتی ہے۔آپ کے سامنے ذیل میں وہی آیت بیان کی جا رہی ہے جس کے معنی اور تشریح کو بدل کرمذہبی اکابرین اسے ’’ شب براءت ‘‘ کے اثبات میں بیان کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

اِنَّآ اَنْزَلْنٰهُ فِيْ لَيْلَةٍ مُّبٰرَكَةٍ اِنَّا كُنَّا مُنْذِرِيْنَ

’’ ہم نے اس کو مبارک رات میں نازل فرمایا بیشک ہم تو ڈرانے والے ہیں ۔‘‘

(الدخان: 3)

اس آیت کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ دراصل یہی ’شب براءت‘ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا۔اب اگر تحقیق کی جائے تو معلوم ہوگا کہ قرآن میں ایک اور جگہ بھی اِسی رات کا ذکر ایک مختلف نام کے ساتھ بھی کیا گیا ہے۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّآ اَنْزَلْنٰهُ فِيْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ؁ وَمَآ اَدْرٰىكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ؁ لَيْلَةُ الْقَدْرِ ڏ خَيْرٌ مِّنْ اَلْفِ شَهْرٍ؁ تَنَزَّلُ الْمَلٰۗىِٕكَةُ وَالرُّوْحُ فِيْهَا بِاِذْنِ رَبِّهِمْ ۚ مِنْ كُلِّ اَمْرٍ؁ سَلٰمٌ هِيَ حَتّٰى مَطْلَعِ الْفَجْرِ؁ (سورۃ القدر)

’’ ہم نے اسے شب قدر میں نازل کیا ہے ۔ اور تمہیں کیا معلوم کہ شب قدر کیا ہے؟ شبِ قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے ۔ اس میں فرشتے اور روح القدس اترتے ہیں اپنے رب کے حکم سے، ہر امر کے لیے۔ سراسر سلامتی ہے یہ (رات طلوع) فجر تک ۔‘‘

سو معلوم ہوا کہ لیلۃ المبارکۃ(الدخان:3) اور لیلۃ القدر (القدر:1) دونوں ایک ہی رات کے دو نام ہیں، اور اس ہی رات میں قرآن کا نزول ہوا۔ اب آتے ہیں ایک اور آیت کی جانب جس میں اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے نزول قرآن کا مہینہ بھی بیان فرمایا ہے:

شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِيْٓ اُنْزِلَ فِيْهِ الْقُرْاٰنُ (البقرہ :185 )

’’رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا۔ ‘‘

لہٰذا یہ مسئلہ روز روشن کی طرح عیاں ہوگیا کہ لیلۃ المبارکۃ اور لیلۃ القدر ماہ رمضان ہی کی ایک رات کے نام ہیں، اور احادیث صحیحہ میں اِس کی مزید تفصیلات بھی موجود ہیں کہ یہ ماہ رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں سے ایک رات ہے۔ یہ بات بھی احادیث صحیحہ سے ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام علیہم الرضوان ماہ رمضان کی آخری پانچ طاق راتوں میں اللہ تعالیٰ کی کثرت سے عبادت کیا کرتے تھے، لیکن افسوس اُن علماء پر جو یہ تمام آیات اور احادیث جاننے کے باوجود بھی اِس رات کو ماہ شعبان کی درمیانی رات ثابت کرنے کی سعی و جہد میں مبتلا ہیں۔

سابقہ قسط میں ہم یہ بات زیر بحث لائے تھے کہ کس طرح قائلین شب برآءت سورۃ الدخان کی آیات 3اور 4 کو بنیاد بنا کر خود ساختہ شب برآءت قرآن سے ثابت کرنے کی جسارت کرتے ہیں، حالانکہ ان کا ایسا کرنا قرآن کی معنوی تحریف کے زمرے میں شمار ہوتا ہے، کیونکہ بالاصل وہ آیات لیلۃ القدر کے بارے میں ہی نازل ہوئی ہیں، اور لیلۃ القدر ماہ رمضان المبارک کی ایک رات ہے۔

بہت سے مذہبی حلقوں میں شب برآءت کے بارے میں ایک اور غلط نظریہ یہ بھی بیان کیا جاتا ہے کہ اس رات مرنے والوں کی روحیں اس دنیا اور اپنے گھروں کی طرف آتی ہیں، جبکہ یہ عقیدہ اولاً نہ تو قرآن یا احادیث صحیحہ سے ثابت ہے بلکہ قرآن و احادیث صحیحہ میں بیان کردہ اِس عقیدے کے خلاف بھی ہے، جس کہ مطابق فوت شدہ لوگوں کی ارواح واپس دنیا میں نہیں آتیں۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

حَتَّىٰٓ إِذَا جَآءَ أَحَدَهُمُ ٱلۡمَوۡتُ قَالَ رَبِّ ٱرۡجِعُونِ؁ لَعَلِّيٓ أَعۡمَلُ صَٰلِحٗا فِيمَا تَرَكۡتُۚ كَلَّآۚ إِنَّهَا كَلِمَةٌ هُوَ قَآئِلُهَاۖ وَمِن وَرَآئِهِم بَرۡزَخٌ إِلَىٰ يَوۡمِ يُبۡعَثُونَ

’’ یہاں تک کہ ان میں سے کسی ایک کوموت آتی ہے ( تو) کہتا ہے اے میرے رب مجھے واپس لوٹا دے، تاکہ میں نیک عمل کروں جسے میں چھوڑ آیا ہوں،( اللہ تعالی فرماتا ہے ) ہرگز نہیں، یہ تو محض ایک بات ہے جو یہ کہہ رہا ہے ، اور ان سب کے پیچھے ایک آڑ ہے اٹھائے جانے والے دن تک۔ ‘‘

(المومنون: 99-100)

اور ایک دوسری آیت میں موت سے ہمکنار ہوجانے والے کے لیے فرمایا:

۔ ۔ ۔ فَيُمۡسِكُ ٱلَّتِي قَضَىٰ عَلَيۡهَا ٱلۡمَوۡتَ۔۔۔

”اور روک لیتا ہے اس کی روح جس پر موت کا فیصلہ ہو جائے ۔‘‘

(الزمر: 42)

نیز سورہ یٰس میں فوت شدہ لوگوں کے لیے فرمایا :

أَلَمۡ يَرَوۡاْ كَمۡ أَهۡلَكۡنَا قَبۡلَهُم مِّنَ ٱلۡقُرُونِ أَنَّهُمۡ إِلَيۡهِمۡ لَا يَرۡجِعُونَ

’’ کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے ان سے پہلے بہت سے لوگوں کو ہلاک کردیا تھا اب وہ ان کی طرف لوٹ کر نہیں آئیں گے۔‘‘

(یٰسٓ: 31)

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :

۔ ۔ ۔ إِنَّمَا نَسَمَةُ الْمُؤْمِنِ طَيْرٌ يَعْلَقُ فِي شَجَرِ الْجَنَّةِ حَتَّی يَرْجِعَهُ اللَّهُ إِلَی جَسَدِهِ يَوْمَ يَبْعَثُهُ

’’ بے شک مومن کی روح ایک اڑنے والے جسم میں جنت کے درخت سےوابستہ رہتی ہے یہاں تک کہ اللہ جل جلالہ پھر اس کو لوٹا دے گا اس کے بدن کی طرف جس دن لوگوں کو دوبارہ اٹھایا جائے گا (یعنی قیامت)۔‘‘

( موطا امام مالک ، کتاب الجنائز، باب: جامع الجنائز)

سو معلوم ہوا کہ شب برآءت کے حوالے سے پیش کردہ مذکورہ نظریہ بھی ازروئے شریعت باطل ہے۔

شعبان اور نصف شعبان کی رات سے متعلق ضعیف اور موضوع روایات

اس کے علاوہ قائلین شب برآءت کی جانب سے اِس رات کو ثابت کرنے کے لیے چند روایات کا سہارہ بھی لیا جاتا جن کی اگر تحقیق کی جائے تو معلوم ہوگا کہ وہ تمام ہی روایات ضعیف یا موضوع(منگھڑت) ہیں۔ذیل میں ہم چند روایات اور ان کی مختصر تحقیق(ان شاء اللہ) عوام الناس کے گوش گزار کرنا چاہیں گے، تاکہ حقیقت واضح ہوسکے۔

پیش کردہ روایت

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’شعبان میرا اور رمضان اللہ کا مہینہ ہے۔‘‘

وضاحت

یہ روایت موضوع ہے ، حافظ سخاوی نے اسے مسند الفردوس کی طرف منسوب کیا، اس کی سند حسن بن یحیی الخشنی کی وجہ سے سخت ضعیف ہے. الشیخ البانی نے اس کو السلسلہ الضعیفہ جلد 8 صفحہ 222 حدیث 3746 میں درج کیا، مزید تفصیل کے لیے السلسلہ الضعیفہ دیکھیں۔

پیش کردہ روایت

عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ فَقَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَيْلَةً فَخَرَجْتُ فَإِذَا هُوَ بِالْبَقِيعِ فَقَالَ ” أَكُنْتِ تَخَافِينَ أَنْ يَحِيفَ اللَّهُ عَلَيْكِ وَرَسُولُهُ ” . قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي ظَنَنْتُ أَنَّكَ أَتَيْتَ بَعْضَ نِسَائِكَ . فَقَالَ ” إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَنْزِلُ لَيْلَةَ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا فَيَغْفِرُ لأَكْثَرَ مِنْ عَدَدِ شَعْرِ غَنَمِ كَلْب ”

’’عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بستر پر موجود نہ پایا……. (اللہ) اتنے لوگوں کی مغفرت کرتا ھے جتنے بنو کلب کی بکریوں کے بال ہیں۔‘‘

(جامع ترمذی، الصوم، حدیث 739)

وضاحت

امام ترمذی نے اس کو ضعیف قرار دیا اور امام بخاری رحمہ اللہ سے بھی ضعیف قرار دینے کو نقل کیا. اس روایت کو حجاج بن ارطاۃ نے یحیی بن ابی کثیر سے نقل کیا مگر ان کا سماع ثابت نہیں، یہ روایت دو جگہ سے منقطع ہے ، شیخ البانی نے بھی اس کو ضعیف کہا۔

پیش کردہ روایت

عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ “ إِنَّ اللَّهَ لَيَطَّلِعُ فِي لَيْلَةِ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ فَيَغْفِرُ لِجَمِيعِ خَلْقِهِ إِلاَّ لِمُشْرِكٍ أَوْ مُشَاحِنٍ

اللہ تعالیٰ نصف شعبان کی رات ( اپنے بندوں پر ) نظر فرماتا ہے، پھر مشرک اور (مسلم بھائی سے ) دشمنی رکھنے والے کے سوا ساری مخلوق کی مغفرت فرما دیتا ہے ۔

( ابن ماجہ حدیث نمبر: 1390)

وضاحت

یہ روایت سخت ضعیف ہے اس میں ولید بن مسلم مدلس راوی، ابن لہیعہ ضعیف جبکہ ضحاک بن ایمن مجہول ہے. دوسری سند میں ابن لہیعہ ضعیف کے علاوہ زبیر بن سلیم اور عبدالرحمن بن عزرب دونوں مجہول ہیں۔

پیش کردہ روایت

اسی طرح ایک روایت ہے:

”جب شعبان کی پندرھویں رات آتی ہے تو اللہ تعالی اپنی مخلوق پر نظر ڈال کر مومنوں کو بخش دیتا ہے. کافروں کو مہلت دیتا ہے اور کینہ پروروں کو ان کے کینہ کی وجہ سے (ان کے حال پر) چھوڑ دیتا ہے… الخ

( فضائل الاوقات رقم: 23)

وضاحت

یہ روایت ضعیف ہے کیونکہ اس کا بنیادی راوی احوص بن حکیم جمہور محدثین کے نزدیک ضعیف ہے، ابن حجر عسقلانی نے التقریب التہذیب 290 میں کہا “ضعیف الحفظ” اس لیے اس روایت سے استدلال جائز نہیں.

پیش کردہ روایت

عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم “ إِذَا كَانَتْ لَيْلَةُ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ فَقُومُوا لَيْلَهَا وَصُومُوا يَوْمَهَا . فَإِنَّ اللَّهَ يَنْزِلُ فِيهَا لِغُرُوبِ الشَّمْسِ إِلَى سَمَاءِ الدُّنْيَا فَيَقُولُ أَلاَ مِنْ مُسْتَغْفِرٍ فَأَغْفِرَ لَهُ أَلاَ مُسْتَرْزِقٌ فَأَرْزُقَهُ أَلاَ مُبْتَلًى فَأُعَافِيَهُ أَلاَ كَذَا أَلاَ كَذَا حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ ”

”جب شعبان کی پندرھویں رات آۓ تو اس میں قیام کرو اور دن کوصوم رکھو. اس رات اللہ سورج غروب ہوتے ہی پہلے آسمان پر نزول فرماتا ہے … ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کیا کوئی مصیبت میں پھنسا ہوا ھے کہ اسے عافیت عطاکروں؟

( ابن ماجہ رقم الحدیث 1388)

وضاحت :

اس روایت میں ابوبکر ابن ابی سبرۃ کذاب راوی ہے، دیکھیں تقریب التہذیب 7973 اور ابراہیم بن محمد سخت ضعیف ہے. گویا یہ روایت موضوع (جھوٹ) درجہ کی ہے اور بالکل استدلال کے قابل نہیں۔

پیش کردہ روایت

”نصف شعبان کی رات سال بھر میں پیدا ہونے والے اور مرنے والوں کے نام نوٹ کئے جاتے ہیں اور لوگوں کے اعمال اللہ کے حضور پیش کئے جاتے ہیں اور اسی رات ان کا رزق بھی اترتا ھے۔‘‘

( فضائل الاوقات رقم: 26)

وضاحت

یہ روایت سخت ضعیف ہے کیونکہ اس میں نضر بن کثیر سخت ضعیف راوی ہے، اور اس روایت سے استدلال جائز نہیں ہے-

سو معلوم ہوا کہ شب برآء ت کے نام سے جس رات کو آج دین اسلام کی ایک مقدس رات قرار دیا جاتا ہے، وہ درحقیقت قرآن و احادیث صحیحہ سے ثابت ہی نہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو تمام بدعات سے دور رہنے کی ہمت و توفیق عطا فرمائے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *