Categories
Uncategorized

شرک

شرک کی تعریف اور آج کے دور میں مشرکانہ عقائد و اعمال

شرک کے معنی ٰ :

لغوی طور پر شرک کے معنی ’’ ساجھی ‘‘ یا ’’ برابری ‘‘ کے ہوتے ہیں لیکن اصطلاحا ً اللہ تعالیٰ کی ذات، صفات، حقوق و اختیارات میں کسی کوبھی کو شریک کردینے کے ہوتے ہیں۔ مثلا ً کوئی یہ کہے کہ جو کام اللہ تعالیٰ کرتا ہے وہ دوسرا بھی کرلیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس بات کا اختیار رکھتا ہے اور کوئی دوسرا بھی اس کا اختیار رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی یہ صفت ہے کہ وہ چھپی چیز کا علم رکھتا ہے اور دوسرا بھی عالم الغیب ہے۔ اس قسم کے عقائد اور ان کے تحت اعمال کو شرک کہا جاتا ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

﴿إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَغۡفِرُ أَن يُشۡرَكَ بِهِۦ وَيَغۡفِرُ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَن يَشَآءُۚ وَمَن يُشۡرِكۡ بِٱللَّهِ فَقَدِ ٱفۡتَرَىٰٓ إِثۡمًا عَظِيمًا﴾

[النساء: 48]

’’ بے شک اللہ اس ( گناہ ) کو تو معاف نہیں کرتا کہ اس کا شریک ٹہرایا جائے، اس کے سوا جس کے جس گناہ کو چاہے معاف کردے گا، اور جس نے اللہ کیساتھ شرک کیا اس نے بہت ہی بڑا بہتان باندھا ‘‘۔

اللہ تعالیٰ کی ذات، صفات، علم و تصرفات اور اختیارات میں شریک ٹہرا کر کسی نبی یا ولی کو اس کا ہمسر و ہم پلہ قرار دینا انتہائی بدترین عمل اور ظلم عظیم ہے ۔ بڑے سے بڑا گناہ بھی اگر اللہ چاہے تو بغیر توبہ کے بھی معاف کردے یا کچھ عرصہ عذاب دینے کے بعد پھرجنت میں داخل کردے ، لیکن شرک بغیر توبہ اور اصلاح کے ہر گز معاف نہیں ہو سکتا، شرک پر مرنے والے پر جنت حرام کردی گئی ہے، اور جہنم اس کا ہمیشہ کا ٹھکانہ ہے۔

﴿لَقَدۡ كَفَرَ ٱلَّذِينَ قَالُوٓاْ إِنَّ ٱللَّهَ هُوَ ٱلۡمَسِيحُ ٱبۡنُ مَرۡيَمَۖ وَقَالَ ٱلۡمَسِيحُ يَٰبَنِيٓ إِسۡرَٰٓءِيلَ ٱعۡبُدُواْ ٱللَّهَ رَبِّي وَرَبَّكُمۡۖ إِنَّهُۥ مَن يُشۡرِكۡ بِٱللَّهِ فَقَدۡ حَرَّمَ ٱللَّهُ عَلَيۡهِ ٱلۡجَنَّةَ وَمَأۡوَىٰهُ ٱلنَّارُۖ وَمَا لِلظَّٰلِمِينَ مِنۡ أَنصَارٖ﴾

[المائدة: 72]

’’ ان لوگوں نے یقینا ً کفر کیا جنہوں نے کہا کہ مسیح ابن مریم ہی اللہ ہیں، حالانکہ مسیح ؑنے کہا تھا اے بنی اسرائیل اللہ کی عبادت کرو جو میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب، حقیقت یہ ہے کہ جس کسی نے اللہ کیساتھ شرک کیا تو اللہ نے اس پر جنت حرام کردی ہے اور اس کا ٹھکانہ جہنم ہوگا، اور ظالموں کا کوئی مددگار نہ ہوگا‘‘۔

بات بالکل واضح ہے کہ شرک کرنے والے پر جنت ابدی طور پر حرام اور اس کا ہمیشہ کا ٹھکانہ جہنم ہے۔ یعنی آخرت کی اس زندگی میں جہاں موت نام کی کوئی چیز نہ ہوگی شرک کرنے

والا ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جہنم میں ہی جلتا رہے گا۔ ذرا تصور کریں وہ زندگی کہ جس میں ہزاروں سال گز رجائیں لاکھوں اور کروڑوں سال ہی نہیں اربہا سال گزر جائیں گے لیکن موت نہ آئے گی تو اس مشرک کا کیا حال ہوگا، ایک کھال جلے گی تو دوسری بنا دی جائے گی دوسری جلے گی تو تیسری اس طرح کروڑوں مرتبہ جسم دوبارہ بنا دیا جائے گا لیکن جہنم سے خلاصی نہیں ہوگی۔

اب ہم دوبارہ سورہ نساء کی طرف آتے ہیں :

﴿إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَغۡفِرُ أَن يُشۡرَكَ بِهِۦ وَيَغۡفِرُ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَن يَشَآءُۚ وَمَن يُشۡرِكۡ بِٱللَّهِ فَقَدِ ٱفۡتَرَىٰٓ إِثۡمًا عَظِيمًا﴾

[النساء: 48]

’’ بے شک اللہ اس ( گناہ ) کو تو معاف نہیں کرتا کہ اس کا شریک ٹہرایا جائے، اس کے سوا جس کے جس گناہ کو چاہے معاف کردے گا، اور جس نے اللہ کیساتھ شرک کیا اس نے بہت ہی بڑا بہتان باندھا ‘‘۔

معلوم ہوا کہ شرک کسی صورت میں معاف نہیں لیکن دوسرے گناہ اللہ تعالیٰ جس کے لئے چاہے اور جس قدر چاہے معاف کرسکتا ہے، یہاں تک کہ ایک حدیث قدسی میں نبی ﷺنے فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :

وَمَنْ لَقِيَنِي بِقُرَابِ الْأَرْضِ خَطِيئَةً لَا يُشْرِکُ بِي شَيْئًا لَقِيتُهُ بِمِثْلِهَا مَغْفِرَةً

( مسلم ، كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَارِ ، بَابُ فَضْلِ الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّقَرُّبِ إِلَى اللهِ تَعَالَى )

’’ اور جس نے تمام زمین کے برابر گناہ لے کر مجھ سے ملاقات کی بشرطیکہ میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرتا ہو تو میں اس سے اسی کی مثل مغفرت کے ساتھ ملاقات کروں گا‘‘۔

سوچیں آخر کیا وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ شرک کے معاملے میں اس قدر سخت ہے اور دوسرے گناہوں کے بارے معافی کی گنجائش رکھی ہوئی ہے، معاذ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ان سے فرمایا:

يَا مُعَاذُ هَلْ تَدْرِي حَقَّ اللَّهِ عَلَى عِبَادِهِ وَمَا حَقُّ الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ قُلْتُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ فَإِنَّ حَقَّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ أَنْ يَعْبُدُوهُ وَلَا يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا وَحَقَّ الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ أَنْ لَا يُعَذِّبَ مَنْ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَلَا أُبَشِّرُ بِهِ النَّاسَ قَالَ لَا تُبَشِّرْهُمْ فَيَتَّكِلُوا.

( بخاری ، کتاب الجہاد و السیر، بَابُ اسْمِ الفَرَسِ وَالحِمَارِ )

’’ اے معاذ ! کیا تم جانتے ہو کہ اللہ تعالیٰ کا حق اس کے بندوں پر کیا ہے اور بندوں پر اللہ کا کیا حق ہے۔ میں نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کا رسول ہی خوب جانتا ہے، فرمایا اللہ کا حق بندوں پر یہ ہے، کہ اس کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں اور بندوں کا حق اللہ پر یہ ہے کہ جو شخص اس کے ساتھ شرک نہ کرتا ہو اس کو عذاب نہ دے، میں نے عرض کیا میں اس بات کی لوگوں کو بشارت دے دیتا ، فرمایا نہیں ورنہ وہ اسی پر بھروسہ کرلیں گے ‘‘۔

کیا اللہ تعالیٰ اپنا حق معاف فرما دے گا ؟

نہیں ہر گز نہیں ۔اللہ کا حق یہی ہے کہ اس کیساتھ کسی کو شریک نہ کیا جائے، یہی وجہ ہے کہ مالک شرک کو معاف نہیں کرے گا اور دوسرے گناہ جس کے لئے جتنا چاہے معاف کردے گا۔

اس بات کو آپ اس طرح سمجھیں کہ ہر وہ بات جو اللہ تعالیٰ کی ذات ، صفات حقوق و اختیارات میں کسی کو اس کا ساجھی یا اس جیسا بیان کرتی ہو وہ ناقابل معافی ہے اور دوسرے وہ گناہ جس میں اللہ کی ذات ، صفات، حقوق و اختیارات متا ئثر نہیں ہوتے قابل معافی ہیں۔ مثلا ً ایک شخص چوری کرتا، سود کھاتا، زنا کرتا ہے تو یہ سارے کام خود اس کے لئے نقصان دے ہیں لیکن اس سے شرک نہیں ہوتا لہذا یہ گناہ جس قدر اللہ چاہے تو معاف ہو سکتے ہیں ۔اس کے برعکس ایک شخص اللہ کے علاوہ اس کے کسی بندے کو ’’ غوث الاعظم ‘‘ ( کائنات کا سب سے بڑا پکاریںسننے والا ) کہتا ہے تو یہ صرف اللہ کی صفت ہے اس نے اللہ کی اس صفت میں اس کے بندے ہی کو شریک کرڈالا طرح یہ شرکیہ کام ہوگیا۔ اللہ تعالیٰ ہی اپنی تمام مخلوق کو ہر قسم کی ضرورت کی چیزیں مہیا کرتا ہے جسے عربی میں الوہاب ( دینے والا) کہتے ہیں۔ اب کوئی بندہ کسی فوت شدہ انسان کو ’’ داتا ‘‘ ( دینے والا ) کہے اور سمجھے اور اس عقیدے کے تحت اس کے مزار پر حاضری دے، اس سے دعا کرے تو یہ اللہ کی صفت جیسا بنا دینا ہوگیا۔ایسے عمل کے بعد اگر وہ بغیر توبہ مر گیا تو اس پر جنت ہمیشہ کے لئے حرام ہے۔

موجودہ دور میں یہ امت شرک کی مختلف اقسام میں ملوث ہے۔ یہاں ہم شرک کی چند صورتوں کو بیان کر رہے ہیں تاکہ ہرکلمہ گو شرک جیسی گمراہی سے اپنے آپ کو محفوظ رکھ سکے، ان شاء اللہ جلد اس کی تفصیل بھی بیان کردی جائے گی۔مثلاًاللہ تعالیٰ کے علاوہ دوسرے فوت شدہ افراد سے سے دعائیں مانگنا ‘ قبروں پر جا کر نذر و نیاز تقسیم کرنا اور وہاں منّتیں ماننا ‘ مزاروں پر شرینی تقسیم کرنا یا چڑھاوے چڑھانا ‘ قبروں یا آستانوں کے پاس جانور ذبح کرنا ‘ قبروں کا طواف کرنا یاپیشانیاں ٹیکنا اور رکوع کی حالت میں جھکنا ‘ قبروں کی طرف منہ کر کے صلاۃ ادا کرنا یا سجدہ کرنا ‘ قبروں کی طرف ثواب اور تبرّک کی نیت سے سفر کرنا ۔ اللہ سے مدد مانگنا جیسے یا رسول ﷺ مدد،یا علی مدد ، یا غوث المدد وغیرہ کے نعرے۔ بیماری یا مصیبت سے بچنے کے لئے کڑا پہننا ‘دھاگہ و تعویذ لٹکانا، امام ضامن باندھنا ۔ مخصوص پتھروں کی انگوٹھی پہننا ‘ گاڑی کی حفاظت کے لئے بچے کی پرانی جوتی لٹکا لینا ‘ گھر کی حفاظت کے لئے گائے کے سینگ لگا لینا ۔ پرندوں یا آدمیوں سے فال لینا ‘جادو کے ذریعہ دوسروں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرنا ‘ نجومیوں کے پاس جا کر اپنی قسمت معلوم کروانا اور ان کی تصدیق کرنا ‘ علم نجوم سے زمینی حوادثات کی خبریں دینا ‘ ستاروں کے ذریعہ بارش طلب کرنا ‘ جانوروں کو غیر اللہ کے نام پر چھوڑ دینا ‘ قرآن وسنّت کے مخالف امور میں اپنے فرقے کے مولوی و مفتیوں کی اطاعت اس نیت سے کرنا کہ یہ جائز ہے، اللہ کے دین، دین اسلام کو چھوڑ کر لوگوں کے بنائے ہوئے نظام و مذاہب اختیار کرنا۔ اللہ کے دین، دین اسلام کے نام پر بنے ہوئے فرقوں اور گروہوں سے تعلق رکھنا ،وغیرہ وغیرہ۔یہ سارے معاملات مشرکانہ ہیں، وہ لوگ جو اپنی آخرت کے لئے فکر مند ہیں اور وہ عین اسی لمحے اللہ سے تو بہ کریں اور اپنی اصلاح کرلیں کیونکہ نجانے کس لمحے ہمیں موت آجائے۔

شرک کی شناعت

۔ ۔ ۔ وَلُوطٗاۚ وَكُلّٗا فَضَّلۡنَا عَلَى ٱلۡعَٰلَمِينَ ؀ وَمِنۡ ءَابَآئِهِمۡ وَذُرِّيَّٰتِهِمۡ وَإِخۡوَٰنِهِمۡۖ وَٱجۡتَبَيۡنَٰهُمۡ وَهَدَيۡنَٰهُمۡ إِلَىٰ صِرَٰطٖ مُّسۡتَقِيمٖ ؀ ذَٰلِكَ هُدَى ٱللَّهِ يَهۡدِي بِهِۦ مَن يَشَآءُ مِنۡ عِبَادِهِۦۚ وَلَوۡ أَشۡرَكُواْ لَحَبِطَ عَنۡهُم مَّا كَانُواْ يَعۡمَلُونَ﴾

[الأنعام: 68-88]

’’ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور لوط کو بھی ، ہم نے ہر ایک کو دنیا والوں پر فضیلت عطا کی ۔ اور ان کے آباؤ اجداد اور اولاد اور بھائیوں میں سے بھی، اور ہم نے ان کو منتخب کرلیا اور راہ راست کی طرف ان کی رہنمائی کی اور یہ اللہ کی ہدایت ہے اس سے وہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے نوازتا ہے، اور اگر ( با لفرض محال ) وہ شرک کرلیتے تو ان کا کیا ہوا سب ضائع ہو جاتا ‘‘۔

سورہ الزمر میں مزید فرمایا :

﴿وَلَقَدۡ أُوحِيَ إِلَيۡكَ وَإِلَى ٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِكَ لَئِنۡ أَشۡرَكۡتَ لَيَحۡبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُونَنَّ مِنَ ٱلۡخَٰسِرِينَ﴾

[الزمر: 65]

’’اوریقینا ً ( اے نبی ﷺ ) آپ کی طرف اور ان سب( پیغمبروں) کی طرف جو آپ سے پہلے ہوگزرے ہیں یہ وحی بھیجی جاچکی ہے کہ: اگر تم نے شرک کیا تو تمہارے اعمال ضبط کرلئے جائیں گے اور تم یقینا خسارے پانے والوں میں ہو جاؤ گے‘‘۔

انبیاء علیہم السلام کبھی بھی شرک کرنے والے نہیں ہوتے بلکہ وہ تو شرک کو ختم کرنے آتے ہیں، یہاں شرک کی شناعت بیان کرنے کے لئے ان اٹھارہ ( 18 ) کا نام لیکر اور پھر سورہ زمرمیں نبی ﷺ کو مخاطب کرکے فرمایا گیا کہ کہیں اگر ہمارے یہ نبی بھی ( استغفر اللہ ) شرک کرتے تو ان کے سارے کے سارے اعمال، انکی صلاۃ، ان کے تہجد گزاریاں، ان کے صوم ، ان کا اللہ کی راہ میں نکلنا یہ سب برباد ہوجاتا اور وہ اللہ کے یہاں نقصان اٹھانے والوں میں ہوتے۔

مشرک قومیں تباہ کردی جاتی ہیں :

﴿قُلۡ سِيرُواْ فِي ٱلۡأَرۡضِ فَٱنظُرُواْ كَيۡفَ كَانَ عَٰقِبَةُ ٱلَّذِينَ مِن قَبۡلُۚ كَانَ أَكۡثَرُهُم مُّشۡرِكِينَ﴾

[الروم: 42]

’’ کہدو کہ زمین پر چلو پھر ، پس دیکھو کیا انجام ہوا اس سے پہلی قوموں کا، ان کی اکثریت مشرک بن گئی تھی‘‘۔

اس آیت میں بتایا گیا کہ جن قوموں میں لوگ کثرت سے شرک کرنے لگتے ہیں ان پر اللہ کا عذاب آ جاتا ہے، قرآن و حدیث میں کئی اقوام کا ذکر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان عذاب سے ہلاک کردیا۔ سورہ انعام کی آیت میں بتا گیا کہ امن و ہدایت کن کے لئے ہے:

﴿ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَلَمۡ يَلۡبِسُوٓاْ إِيمَٰنَهُم بِظُلۡمٍ أُوْلَٰٓئِكَ لَهُمُ ٱلۡأَمۡنُ وَهُم مُّهۡتَدُونَ﴾

[الأنعام: 82]

’’ جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اپنے ایمان میں ظلم کی آزمائش نہیں کی ان ہی کے لئے امن ہے اور وہی ہدایت پر ہیں ‘‘۔

جب یہ آیت نازل ہوئی تو صحابہ کرام ؓ نے نبی ﷺ سے عرض کی کہ ہم میں سے کون ہے جس نے ظلم نہیں کیا تو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا:

﴿ إِنَّ ٱلشِّرۡكَ لَظُلۡمٌ عَظِيم﴾ [لقمان: 13]

’’ بے شک شرک سب سے بڑا ظلم ہے ‘‘

( بخاری، کتاب الایمان ، بَابٌ: ظُلْمٌ دُونَ ظُلْمٍ )

یعنی ایمان وہی معتبر ہے جس میں شرک کا شائبہ بھی نہ ہو۔ دعویٰ ایمان بھی ہو اور کفر و شرک بھی ہورہا ہو تو ایسا ایمان اللہ تعالیٰ کے یہاں قابل قبول نہیں۔ سورہ یوسف میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا :

﴿وَمَا يُؤۡمِنُ أَكۡثَرُهُم بِٱللَّهِ إِلَّا وَهُم مُّشۡرِكُونَ﴾

[يوسف: 106]

’’ اور ایمان نہیں لاتی لوگوں کی اکثریت اللہ پر مگر وہ شرک کرتے ہیں ‘‘۔

قرآن کی اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے واضح کیا کہ اللہ پر ایمان لانے کے باوجود لوگوں کی اکثریت شرک میں ملوث ہوتی ہے۔ یعنی دعویٰ کہ ہمارا توکل اللہ تعالیٰ پر ہے لیکن بیماری دور کرنے، روزگار میں اضافے کے لئے تعویذ لٹکاتے ہیں، حفاظت کے لئے امام ضامن باندھتے ہیں تو بتائیں یہ کیسا ایمان ہے۔ جب توکل اللہ سے ہٹ گیا اور دوسری چیز پر ہوگیا تو یقینا ً یہ شرک ہو گیا۔ تو ایسی اقوام پر جن میں شرک سما جاتا ہے اللہ تعالیٰ عذاب بھیجا کرتا ہے۔

مشرک کے لئے دعائے مغفرت کرنا بھی منع ہے:

سورہ التوبۃ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

﴿مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ أَن يَسۡتَغۡفِرُواْ لِلۡمُشۡرِكِينَ وَلَوۡ كَانُوٓاْ أُوْلِي قُرۡبَىٰ مِنۢ بَعۡدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمۡ أَنَّهُمۡ أَصۡحَٰبُ ٱلۡجَحِيمِ﴾ [التوبة: 113]

’’نبی ( ﷺ ) اور ایمان والوں کے لئے یہ مناسب نہیں کہ وہ مشرکوں کے لئے مغفرت کی دعا کریں خواہ وہ ان کے قریبی رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں جبکہ ان پر یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ وہ جہنمی ہیں ‘‘۔

سورہ حشر میں ایک طرف خود اللہ تعالیٰ نے مومنین کو اپنے سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں کے لئے دعا کرنا سکھایا ،لیکن کس قدر بدنصیب ہوتا ہے یہ مشرک کہ اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ اور ایمان والوں کو منع کردیا کہ وہ کسی مشرک کے لئےمغفرت کی دعا نہ کریں۔صلاۃ المیت بھی دعائے مغفرت ہی ہوتی ہے لہذا جان لیں کہ ایسا شخص جو شرک پر مرے اس کی نہ ہی صلاۃ المیت ادا کریں اور نہ ہی کسی اور وقت اس کے لئے مغفرت کی دعا کریں۔

مشرکین سے نکاح بھی منع ہے :

سورہ البقرہ میں اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا :

﴿وَلَا تَنكِحُواْ ٱلۡمُشۡرِكَٰتِ حَتَّىٰ يُؤۡمِنَّۚ وَلَأَمَةٞ مُّؤۡمِنَةٌ خَيۡرٞ مِّن مُّشۡرِكَةٖ وَلَوۡ أَعۡجَبَتۡكُمۡۗ وَلَا تُنكِحُواْ ٱلۡمُشۡرِكِينَ حَتَّىٰ يُؤۡمِنُواْۚ وَلَعَبۡدٞ مُّؤۡمِنٌ خَيۡرٞ مِّن مُّشۡرِكٖ وَلَوۡ أَعۡجَبَكُمۡۗ أُوْلَٰٓئِكَ يَدۡعُونَ إِلَى ٱلنَّارِۖ وَٱللَّهُ يَدۡعُوٓاْ إِلَى ٱلۡجَنَّةِ وَٱلۡمَغۡفِرَةِ بِإِذۡنِهِۦۖ وَيُبَيِّنُ ءَايَٰتِهِۦ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّرُونَ١﴾

[البقرة: 221]

’’ تم مشرکہ عورتوں سے نکاح نہ کرو جب تک کہ وہ ایمان نہ لے آئیں ، ایک مومنہ باندی مشرکہ خاتون سے بہتر ہے خواہ وہ تمہیں بہت ہی پسند کیوں نہ ہو۔ اور مومنہ خواتین کو مشرک مردوں کے نکاح میں نہ دو ، جب تک کہ وہ ایمان نہ لے آئیں، مومن غلام بھی مشرک سے بہتر ہے خواہ وہ تمہیں بہت ہی پسند کیوں نہ ہو۔یہ تو تمہیں جہنم کی طرف بلاتے ہیں ، اور اللہ تمہیں اپنے حکم سے جنت و مغفرت کی طرف بلاتا ہے۔ اور لوگوں کے لئے اپنی آیات واضح طور پر بیان فرماتا ہے تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں ‘‘۔

اللہ تعالیٰ مشرک سے کس قدر نفرت کرتا ہے کہ اپنے مومن بندوں کو حکم دے رہا ہے کہ مومن مرد کسی بھی مشرکہ سے ہر گز نکاح نہ کرے اور فرمایا کہ اس مشرکہ کے مقابلے میں ایک مومنہ باندی بہت بہتر ہے خواہ وہ مشرکہ تمہیں کتنی ہی پسند کیوں نہ ہو۔ اسی طرح ایک مومنہ کا نکاح کسی مشرک مرد سے ہرگز نہ کیا جائے ، اس کے مقابلے میں ایک مومن غلام بہت زیادہ بہتر ہے۔ یہ حکم اس لئے دیا گیا کہ مشرک سے نکاح کے بعد پھر مشرکوں کو رسم و رواج کو اپنا لیا جاتا ہے اور بالآٰخر اس کا انجام ہمیشہ کی جہنم ہی ہوتا ہے۔ البتہ سورہ المائدہ میں مومن مردوں کو اس بات کی رخصت دی گئی کہ اہل کتاب کی پاک دامن خواتین سے نکاح کر سکتے ہیں۔یاد رہے کہ یہ صرف ایک رخصت ہے ورنہ حکم وہی ہے کہ مشرکہ سے نکاح نہ کیا جائے۔

اس پوسٹ کے آخر میں ہم سورہ الحج کی ایک آیت بیان کر رہے ہیں جس سے آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ مشرک کا کیا انجام ہے:

﴿حُنَفَآءَ لِلَّهِ غَيۡرَ مُشۡرِكِينَ بِهِۦۚ وَمَن يُشۡرِكۡ بِٱللَّهِ فَكَأَنَّمَا خَرَّ مِنَ ٱلسَّمَآءِ فَتَخۡطَفُهُ ٱلطَّيۡرُ أَوۡ تَهۡوِي بِهِ ٱلرِّيحُ فِي مَكَانٖ سَحِيقٖ﴾

[الحج: 31]

’’ اللہ کے لئے یکسو ہوجاؤ اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ اور جس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کیا تو وہ ایسا ہے جیسے وہ آسمان سے گرے پھر اسے پرندے اچک لے جائیں یا ہوا اسے کسی دور دراز مقام میں لے جا کے پھینک دے‘‘۔

ذات کا شرک:

شرک کی اقسام میں ذات کا شرک سب سے بدترین قسم ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے شرک کی اس قسم پر سخت وعید سنائی ہے ۔فرمایا :

﴿ تَكَادُ السَّمٰوٰتُ يَــتَفَطَّرْنَ مِنْهُ وَتَنْشَقُّ الْاَرْضُ وَتَخِرُّ الْجِبَالُ هَدًّا ﴾

[مريم: 90]

’قریب ہے کہ اس قول کی وجہ سے آسمان پھٹ جائیں اور زمین شق ہوجائے اور پہاڑ ریزے ریزے ہو جائیں‘۔

نبی ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالی فرماتا ہے :

يَشْتِمُنِي ابْنُ آدَمَ وَمَا يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَشْتِمَنِي وَيُکَذِّبُنِي وَمَا يَنْبَغِي لَهُ أَمَّا شَتْمُهُ فَقَوْلُهُ إِنَّ لِي وَلَدًا وَأَمَّا تَکْذِيبُهُ فَقَوْلُهُ لَيْسَ يُعِيدُنِي کَمَا بَدَأَنِي

( بخاری ، کتاب بداء الخلق، بَابُ مَا جَاءَ فِي قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَهُوَ الَّذِي يَبْدَأُ الخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ وَهُوَ أَهْوَنُ عَلَيْهِ} )

’’ ابن آدم مجھے گالی دیتا ہے حالانکہ اس کے لئے مناسب نہیں کہ مجھ کو گالی دے اور مجھے جھوٹا سمجھتا ہے حالانکہ یہ اس کے لئے مناسب نہیں گالی دینا تو یہ ہے کہ وہ کہتا ہے کہ میرے اولاد ہے (یعنی شرک کرتا ہے) اور جھوٹا سمجھنا یہ ہے کہ وہ کہتا ہے کہ اللہ مجھے دوبارہ زندہ نہ کرے گا جیسے پہلے اس نے پیدا کیا۔ ‘‘

ذات کا شرک یہ ہے کہ کسی بھی مخلوق کواللہ کی ذات میں شریک ٹھہرانا ،اس کا ٹکڑا یا جزؤ قرار دینا اللہ کی بیٹیاں ، بیٹے بنانا اس کی بیوی بنانا اس کا کفو خاندان کنبہ قبیلہ بنانا یا کسی اور مخلوق کو اس کی ذات کا جزؤقرار دینا ذات کا شرک ہے۔

﴿ قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ اَللّٰهُ الصَّمَدُ ؀ لَمْ يَلِدْ ڏ وَلَمْ يُوْلَد ؀ وَلَمْ يَكُنْ لَّهٗ كُفُوًا اَحَدٌ﴾

[الإخلاص: 1-4]

’’ کہدو کہ اللہ یکتا ہے، وہ بے نیاز ہے، نہ اس نے کسی کو جنا ہے اور نہ اسے کسی نے جنا ہے اور نہ ہی کوئی ایک اس کا ہمسر ہے ‘‘۔

توحید باری تعالیٰ کا لازمی تقاضہ یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اس کی ذات کے اعتبار سے بھی یکتا ،ایک ، اکیلا، واحد ، احد ، لاثانی و لامثالی مانا جائے ۔

لہذا سورۃ الشوریٰ میں فرما یا : لَيْسَ كَمِثْلِهٖ شَيْءٌ ’’ اس کی مثال جیسی (کائنات) میں کوئی چیز نہیں ‘‘یعنی اس کی نہ کوئی مثل ہے اور نہ اسے کسے نے جنا ہے اور نہ اس نے کوئی جنا ہے اور اس کا کوئی ہمسر نہیں کوئی کنبہ کوئی خاندان کوئی قبیلہ نہیں، نہ اس کی اولاد ہے اور نہ ہی اس نے کسی کو اپنی بیوی بنایا ہے۔ اس بات کو سمجھ لیں کہ اللہ تعالیٰ کی ذات میں شرک اللہ تعالیٰ کو گالی دینا ہے۔

اللہ تعالیٰ کی ذات میں کسی کو شریک ٹھہراناصریحاً کفر ہے

اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو اس کی ذات کا جزؤ بنانے پر انسان کے اس کفر کا ذکر کیا ہے۔فرمایا

﴿ وَجَعَلُوْا لَهٗ مِنْ عِبَادِهٖ جُزْءًا ۭاِنَّ الْاِنْسَانَ لَكَفُوْرٌ مُّبِيْنٌ﴾

[الزخرف: 15]

’اور انہوں نے اللہ کے بعض بندوں کو اس کا جز ؤ ٹھہرا دیا یقیناً انسان کھلم کھلا کفر کرنے والا ہے‘‘۔

تقابل ادیان

مشرکین مکہ کا عقیدہ

﴿ وَيَجْعَلُوْنَ لِلّٰهِ الْبَنٰتِ سُبْحٰنَهٗ ۙ وَلَهُمْ مَّا يَشْتَهُوْنَ ﴾

[النحل: 57]

’’اور وه اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے لیے لڑکیاں مقرر کرتے ہیں اور اپنے لیے وه جو اپنی خواہش کے مطابق ہو‘‘ ۔

﴿ فَاسْتَفْتِهِمْ اَلِرَبِّكَ الْبَنَاتُ وَلَهُمُ الْبَنُوْنَ﴾

[الصافات: 149]

’’ ان سے پوچھیں کہ ان کے رب کے لئے بیٹیاں ہوں اور ان کے لئے بیٹے ‘‘۔

اہل کتاب( یہود و نصاریٰ) کے عقائد

﴿ وَقَالَتِ الْيَهُوْدُ عُزَيْرُۨ ابْنُ اللّٰهِ وَقَالَتِ النَّصٰرَى الْمَسِيْحُ ابْنُ اللّٰهِ ۭ ذٰلِكَ قَوْلُهُمْ بِاَفْوَاهِهِمْ ۚ يُضَاهِــــُٔـوْنَ قَوْلَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَبْلُ ۭ قٰتَلَهُمُ اللّٰهُ ffاَنّٰى يُؤْفَكُوْنَ﴾

[التوبة: 30]

’’یہود کہتے ہیں عزیر اللہ کا بیٹا ہے اور نصرانی کہتے ہیں مسیح اللہ کا بیٹا ہے یہ قول صرف ان کے منھ کی بات ہے۔ اگلے منکروں کی بات کی یہ بھی نقل کرنے لگے اللہ انہیں غارت کرے وه کیسے پلٹائے جاتے ہیں‘‘۔

عیسائیوں کا عقیدہ تثلیث- اللہ تین میں سے ایک ہے (نعوذوا باللہ)

﴿ لَقَدْ كَفَرَ الَّذِيْنَ قَالُوْٓا اِنَّ اللّٰهَ ثَالِثُ ثَلٰثَةٍ ۘوَمَا مِنْ اِلٰهٍ اِلَّآ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ ۭوَاِنْ لَّمْ يَنْتَھُوْا عَمَّا يَقُوْلُوْنَ لَيَمَسَّنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ ﴾

[المائدة: 73]

’’وه لوگ بھی قطعاً کافر ہوگئے جنہوں نے کہا، اللہ تین میں کا تیسرا ہے، دراصل سوائے اللہ تعالیٰ کے کوئی معبود نہیں۔ اگر یہ لوگ اپنے اس قول سے باز نہ رہے تو ان میں سے جو کفر پر رہیں گے، انہیں المناک عذاب ضرور پہنچے گا‘‘۔

عیسائیوں کا عقیدہ-عیسیٰ ابن مریم ؑ اللہ کے نور میں سے جدا ہوا نور تھے

انسائیکلوپیڈیا بریٹانیکا (Encyclopedia Britanica, 1997) ، انسائیکلوپیڈیا امریکانا (Encyclopedia Americana,1998) ، انسائیکلوپیڈیا انکارٹا (Encyclopedia Encarta, 1998) اور انسائیکلوپیڈیا گرولیئر(Encyclopedia Grolier, 1998) کے مطابق نصاریٰ کے اپنے پیغمبر عیسی علیہ السلام سے متعلق …جو عقائد ہیں انہیں نائسین کریڈ (Nicene Creed) کا نام دیا گیا ہے جو اٹلی کے شہرنائسیا (Nicea) میں اُس وقت کے تمام عیسائی فرقوں کے رہنماؤں کی مجلس منعقدہ ۳۲۵ء میں متفقہ طور پر طے پائے –

اس نائسین کریڈ میں ان کا عقیدہ اس طرح بیان کیا گیا ہے:

We believe in one God, the Father almighty, maker of all things visible and invisible; and in one Lord Jesus Christ, the Son of God, begotten from the Father, only-begotten, that is, from the substance of the Father, God from God, Light from Light, true God from true God, begotten not made, of one substance with the Father, through whom all things came into being, things in heaven and things on earth, Who because of us men and because of our salvation came down and became incarnate, becoming man, suffered and rose again on the third day, ascended to the heavens, and will come to judge the living and the dead; and in the Holy Spirit

ترجمہ : ہم ایک خدا پر ایمان لاتے ہیں جو باپ ہے اور قادر مطلق ہے ، تمام دیدہ و نادیدہ چیزوں کا خالق ہے ؛ اور ایک خداوند یسوع مسیح پر ایمان لاتے ہیں ، جو خدا کا بیٹا ہے ، خدا کا (جنا ہوا) اکلوتا یعنی باپ ہی کے جوہر سے ، خدا سے خدا ، نور سے نور ، عین خدا سے عین خدا ، جنا ہوا ، بنایا ہوا نہیں ، باپ ہی کے جوہر سے جس کے ذریعے سے آسمانوں اور زمین میں تمام چیزوں کو وجود ملا ، جو ہم انسانوں کے لیے اور ہماری نجات کے لیے بطور اوتار مجسم بشکل انسانی اترا ، اس نے تکلیف اٹھائی اور تیسرے دن جی اٹھا اور آسمان پر چڑھ گیا ، مُردوں اور زندوں کے فیصلے کے لیے پھر آئے گا ؛ اور ہم روح القدس پر بھی ایمان لاتے ہیں –

ہندوؤں اور بدھ مت کے عقائد

ہندومت کے عقیدہ اوتار (Avtar) کے معنی خدا کی جانب سے اتارا ہوا ہے، مگر ہندو مت میں عموماً اوتاروں کو خدا (بھگوان) سے الگ بشر نہیں بلکہ خود خدا ہی کا روپ قرار دیا جاتاہے، یعنی بھگوان خود کسی شکل میں وارد ہوتا ہے۔

بدھ مت اور جین مت کا ایک اہم تصور ہےـ روح کی سمسار یعنی جنموں کے سلسلہ سے آزادی حاصل کرنے کو نروان حاصل کرنا کہتے ہیں ـکیونکہ بدھ مت میں ذات کا وجود ہی نہیں ہے ۔ اس لیے جو عبادت اور ریاضت کے ذریعے دنیا سے چھٹکارہ حاصل کر لے وہ نروان ہو گیا اب وہ جینے مرنے سے آزاد ہو چکا اور خدا بن گیا۔ بدھ مت کے عقیدہ نروان اور جین مت کے ہاں بت پرستی کی بنیاد یہی فلسفہ وحدت الوجود اور حلول ہے۔

مسالک و مکاتبِ فکر کا تقابل

اہل تصوف و طریقت-اتحاد ثلاثہ

اتحاد ثلاثہ اصل میں وہ تین من گھڑت نظریات ہیں جن کے ذریعے سے مخلوق کو اللہ کی ذات کا حصہ قرار دیا جاتا ہے۔

1۔ حلول

حلول سے مراد کوئی انسان عبادت اور ریاضت کرکے نفس کی صفائی اور روح کی بالیدگی پیدا کر لے تو اللہ کی ذات اس کے اندر حلول کر جاتی ہے ۔ ہرنی لاہوت نا سؤت میں اور موجد موجود میں اتر آتا ہے۔

2۔ وحدۃالوجود

وحدت الوجود کے فلسفے کا سادہ الفاظ میں مطلب یہ ہے کہ صرف اور صرف ایک ہی وجود ہے اور وہ ہے اللہ تعالی۔ اس کی ذات کے علاوہ کوئی اور وجود نہیں پایا جاتا ہے۔ اگر اس بات کو مان لیا جائے تو پھر خالق و مخلوق میں کوئی فرق باقی نہیں رہتا بلکہ انسان، حیوانات،نباتات، بے جان اشیاء، حتی کہ غلاظت اور شیطان بھی نعوذ باللہ، اللہ تعالی ہی کے وجود کا حصہ قرار پاتے ہیں۔ بعض مولفین کے نزدیک عقیدۃ وحدۃ الوجود کوئی نیا عقیدہ نہیں بلکہ نصاریٰ کے عقیدہ تثلیث کی ہی ایک شکل ہے۔

3۔ وحدۃالشہود

وحدۃالشہود سے مراد “ایک دیکھنا ہے”یعنی چاروں طرف” تو ہی تو “ہے والا معاملہ ہو جاتا ہے- یعنی مشاہدے میں جتنی بھی چیزیں ہیں سب نعوذ باللہ اللہ کی ذات ہے۔ اور اسی کو فنا فی اللہ کہا جاتا ہے یعنی اللہ کی ذات میں فنا ہوجانا۔

یہ تینوں عقائد گو کہ الگ الگ بیان کیے جاتے ہیں اور ان کی الگ تعریف کی جاتی ہے مگر تھوڑے بہت اختلاف کے باوجود اور نتیجے کے اعتبار سے ایک ہی ہیں۔

اب ہم ان تما عقائد کو تفصیلی طور پر پڑھتے ہیں۔

عقیدہ نور ٌ من نور اللہ

سابقہ پوسٹ میں ہم نے مختلف اقوام کے اللہ کی ذات میں شرکیہ عقائد بیان کئے تھے۔ان میں یہ بات واضح تھی کہ یہود و نصاری کے علاوہ مشرکین عرب نے اللہ کابیٹا اور بیٹیوں کا عقیدہ گھڑ کر اس کی ذات کیساتھ شرک کیا۔

’’یہود کہتے ہیں عزیر اللہ کا بیٹا ہے اور نصرانی کہتے ہیں مسیح اللہ کا بیٹا ہے یہ قول صرف ان کے منھ کی بات ہے۔ اگلے منکروں کی بات کی یہ بھی نقل کرنے لگے اللہ انہیں غارت کرے وه کیسے پلٹائے جاتے ہیں‘‘۔

[التوبة: 30]

’’ ان سے پوچھیں کہ ان کے رب کے لئے بیٹیاں ہوں اور ان کے لئے بیٹے ‘‘۔

[الصافات: 149]

گویا ان کا یہ شرک ذات کے ٹکڑےکا نہیں بلکہ اللہ کی اولاد کے حوالے سے تھا، یعنی جو ذات اللہ تعالیٰ کی ہے وہی ان انبیاء اور فرشتوں کی بھی ہے۔ اسی طرح عیسائیوں میں ایک عقیدہ یہ بھی تھا کہ عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے نور کا ایک ٹکڑا یعنی اللہ کی ذات کا ٹکڑا ہیں:

ہم ایک خدا پر ایمان لاتے ہیں جو باپ ہے اور قادر مطلق ہے ، تمام دیدہ و نادیدہ چیزوں کا خالق ہے ؛ اور ایک خداوند یسوع مسیح پر ایمان لاتے ہیں ، جو خدا کا بیٹا ہے ، خدا کا (جنا ہوا) اکلوتا یعنی باپ ہی کے جوہر سے ، خدا سے خدا ، نور سے نور ، عین خدا سے عین خدا ، جنا ہوا ، بنایا ہوا نہیں ، باپ ہی کے جوہر سے جس کے ذریعے سے آسمانوں اور زمین میں تمام چیزوں کو وجود ملا ، جو ہم انسانوں کے لیے اور ہماری نجات کے لیے بطور اوتار مجسم بشکل انسانی اترا ، اس نے تکلیف اٹھائی اور تیسرے دن جی اٹھا اور آسمان پر چڑھ گیا ، مُردوں اور زندوں کے فیصلے کے لیے پھر آئے گا ؛ اور ہم روح القدس پر بھی ایمان لاتے ہیں –

افسوس کہ وہی مشرکانہ عقیدہ اس امت میں بھی رائج ہو گیا کہ محمد ﷺ اللہ کے نور کا جدا کیا ہوا ایک حصہ ہیں، یعنی اللہ تعالیٰ کی ذات اور نبی ﷺ کی ذات ایک ہی ہے۔سورہ انعام میں اللہ تعالیٰ نے فرما دیا کہ نور اس کی مخلوق ہے :

﴿اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَجَعَلَ الظُّلُمٰتِ وَالنُّوْرَ ڛ ثُمَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ يَعْدِلُوْنَ﴾

[الأنعام: 1]

’’ تمام تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں جس نے آسمانوں اور زمین کو بنایا، اور بنایا تاریکی اور نور کو، پھر بھی کافر اپنے رب کیساتھ دوسروں کو ہمسر بناتے ہیں ‘‘۔

واضح ہوا کہ اللہ تعالیٰ نور کا بنا ہوا نہیں بلکہ نور اس کی مخلوق ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ قرآن میں جابجا اس بات کو بیان کیا گیا ہے کہ اللہ جیسا اس کائنات میں اور کوئی ہے ہی نہیں، کوئی چیز اس کی مثال ہو ہی نہیں سکتی:

﴿ لَيۡسَ كَمِثۡلِهِۦ شَيۡء ﴾

[الشورى: 11]

’’ اس کی مثال جیسی (کائنات) میں کوئی چیز نہیں ‘‘

اللہ تعالیٰ کے ان فرمودات کے بعد کسی بھی طور یہ عقیدہ رکھا ہی نہیں جا سکتا کہ اللہ نور سے بنا ہے اور نبی ﷺ اللہ کی ذات کا حصہ ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا نبی ﷺ نور ہیں ۔

انسان کھنکھناتی مٹی سے پیدا کئے گئے ہیں

﴿خَلَقَ ٱلۡإِنسَٰنَ مِن صَلۡصَٰلٖ كَٱلۡفَخَّارِ﴾

[الرحمن: 14]

’’ ( اللہ تعالیٰ نے ) انسان کو بنایا بجنے والے ٹھیکرے کی مٹی سے ‘‘

نبی ﷺ نے فرمایا :

خُلِقَتِ الْمَلَائِكَةُ مِنْ نُورٍ، وَخُلِقَ الْجَانُّ مِنْ مَارِجٍ مِنْ نَارٍ، وَخُلِقَ آدَمُ مِمَّا وُصِفَ لَكُمْ

( مسلم کتاب الزھد و الرقاق ، بَابٌ فِي أَحَادِيثَ مُتَفَرِّقَةٍ )

’’ فرشتے نور سے بنائے گئے اور جن شعلہ زن آگ سے اورآدم ؑ کو اس چیز سے بنایا گیا جو تمہیں بتا دی گئی ہے ‘‘۔

واضح ہوا کہ نور سے تو فرشتوں کو بنایا گیا ہے اور بشر مٹی سے بنائے گئے ہیں گویا انسان نوری مخلوق نہیں۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے انبیاء علیہم السلام کے لئے فرمایا :

﴿وَمَآ أَرۡسَلۡنَا قَبۡلَكَ إِلَّا رِجَالٗا نُّوحِيٓ إِلَيۡهِمۡۖ فَسۡ‍َٔلُوٓاْ أَهۡلَ ٱلذِّكۡرِ إِن كُنتُمۡ لَا تَعۡلَمُونَ ؀ وَمَا جَعَلۡنَٰهُمۡ جَسَدٗا لَّا يَأۡكُلُونَ ٱلطَّعَامَ وَمَا كَانُواْ خَٰلِدِينَ﴾

[الأنبياء: 7-8]

’’اور نہیں ہم نے بھیجا آپ سے پہلے مگر مَردوں کو ہی ،ہم وحی کرتے تھے ان کی طرف پس تم پوچھو اہل ذکر سے اگر تم نہیں جانتے ، اور ہم نے ان کے جسم ایسے نہیں بنائے تھے کہ وہ کھانا نہ کھاتے ہوں اور نہ تھے وہ ہمیشہ رہنے والے ‘‘۔

﴿قَالَتْ لَهُمْ رُسُلُهُمْ اِنْ نَّحْنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَمُنُّ عَلٰي مَنْ يَّشَاۗءُ مِنْ عِبَادِهٖ ۭ وَمَا كَانَ لَنَآ اَنْ نَّاْتِيَكُمْ بِسُلْطٰنٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ ۭ وَعَلَي اللّٰهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ ﴾

[إبراهيم: 11]

‘‘ان کے رسولوں نے ان سے کہا کہ ہاں ہم تمہارے ہی جیسےبشر ہیں لیکن اللہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے (نبوت کا) احسان کرتا ہے۔ اور ہمارے اختیار کی بات نہیں کہ ہم اللہ کے حکم کے بغیر تم کو (تمہاری فرمائش کے مطابق) معجزہ دکھائیں۔ اور اللہ ہی پر مومنوں کو بھروسہ رکھنا چاہئے‘‘۔

اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں واضح کردیا کہ ہر دور میں مَرد انسانوں کو ہی رسول بنا کر بھیجا گیا۔ سورہ الکہف میں نبی ﷺ سے بھی کہلوادیا :

﴿قُلْ اِنَّمَآ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ يُوْحٰٓى اِلَيَّ اَنَّمَآ اِلٰـــهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ ۚ فَمَنْ كَانَ يَرْجُوْا لِقَاۗءَ رَبِّهٖ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَّلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهٖٓ اَحَدًا ﴾

[الكهف: 110]

’’کہہ دیجئے یقیناًصرف میں بشر ہوں تمہاری ہی طرح وحی کی جاتی ہے میری طرف کہ بلا شبہ صرف تمہارا معبودایک معبود ہے پس جو (شخص ) اُمید رکھتا ہو اپنے رب سے ملاقات کی تو چاہیے کہ وہ عمل کرے نیک عمل اور نہ وہ شریک بنائے اپنے رب کی عبادت میں کسی ایک کو بھی ‘‘۔

جب کفار و مشرکین نے نبی ﷺ کی نبوت ماننے سے انکار کردیا اور کہا :

﴿اَوْ يَكُوْنَ لَكَ بَيْتٌ مِّنْ زُخْرُفٍ اَوْ تَرْقٰى فِي السَّمَاۗءِ ۭ وَلَنْ نُّؤْمِنَ لِرُقِيِّكَ حَتّٰى تُنَزِّلَ عَلَيْنَا كِتٰبًا نَّقْرَؤُهٗ ۭ قُلْ سُبْحَانَ رَبِّيْ هَلْ كُنْتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوْلًا ﴾

[الإسراء: 93]

’’یا ہو تیرے لیے ایک گھر سونے کا یا تو چڑھ جائے آسمان میں اور ہرگز نہیں ہم مانیں گے تیرے چڑھ جانے کو یہاں تک کہ تو اتار لائے ہم پر کوئی کتاب (کہ) ہم اسے پڑھیں، کہہ دیجیے پاک ہے میرا رب نہیں ہوں میں مگر ایک بشر (اور) رسول‘‘۔

لاریب قرآن میں کتنے واضح انداز میں بیان کردیا گیا کہ محمد ﷺ کوئی نوری مخلوق نہیں بلکہ ایک بشر ہیں۔ سورہ جمعہ میں فرمایا :

﴿هُوَ ٱلَّذِي بَعَثَ فِي ٱلۡأُمِّيِّ‍ۧنَ رَسُولٗا مِّنۡهُمۡ يَتۡلُواْ عَلَيۡهِمۡ ءَايَٰتِهِۦ وَيُزَكِّيهِمۡ وَيُعَلِّمُهُمُ ٱلۡكِتَٰبَ وَٱلۡحِكۡمَةَ وَإِن كَانُواْ مِن قَبۡلُ لَفِي ضَلَٰلٖ مُّبِينٖ﴾

[الجمعة: 2]

’’وہ جس نے بھیجا اَن پڑھوں میں ایک رسول انہی میں سے وہ تلاوت کرتا ہے اُن پر اس کی آیتیں اور وہ پاک کرتا ہے انہیں اور وہ تعلیم دیتا ہے انہیں کتاب و حکمت کی اور بلاشبہ وہ تھے اس سے قبل یقیناً واضح گمراہی میں‘‘۔

انہی میں سے کا مطلب انسانوں ہی میں سے، یاد رہے کہ ساری بات ساخت کے حوالے سے ہے ورنہ جو نبی ﷺ کا مقام ہے وہ کسی اور کا ہر گز نہیں۔ احادیث میں خود نبی ﷺ نے اپنے آپ کو بشر بیان کیا۔ ام سلمہ ؓ فرماتی ہیں :

رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ سَمِعَ خُصُومَةً بِبَابِ حُجْرَتِهِ فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ فَقَالَ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ وَإِنَّهُ يَأْتِينِي الْخَصْمُ فَلَعَلَّ بَعْضَکُمْ أَنْ يَکُونَ أَبْلَغَ مِنْ بَعْضٍ فَأَحْسِبُ أَنَّهُ صَدَقَ فَأَقْضِيَ لَهُ بِذَلِکَ فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ بِحَقِّ مُسْلِمٍ فَإِنَّمَا هِيَ قِطْعَةٌ مِنْ النَّارِ فَلْيَأْخُذْهَا أَوْ فَلْيَتْرُکْهَا

( بخاری،كِتَاب المَظَالِمِ وَالغَصْبِ، بَابُ إِثْمِ مَنْ خَاصَمَ فِي بَاطِلٍ، وَهُوَ يَعْلَمُهُ )

’’رسول اللہﷺ نے اپنے حجرے کے دروازے کے سامنے جھگڑے کی آواز سنی اور جھگڑا کرنے والوں کے پاس تشریف لائے۔ آپ نے ان سے فرمایا کہ میں بھی ایک بشر ہوں۔ اس لیے جب میرے یہاں کوئی جھگڑا لے کر آتا ہے تو ہو سکتا ہے کہ ( فریقین میں سے ) ایک فریق کی بحث دوسرے فریق سے عمدہ ہو، میں سمجھتا ہوں کہ وہ سچا ہے۔ اور اس طرح میں اس کے حق میں فیصلہ کر دیتا ہوں، لیکن اگر میں اس کو ( اس کے ظاہری بیان پر بھروسہ کر کے ) کسی مسلم کا حق دلا دوں تو آگ کا ایک ٹکڑا اس کو دلا رہا ہوں،اب وہ اس کو لے لے یا اس کو چھوڑ دے‘‘۔

قَالَ عَبْدُ اللَّهِ صَلَّی النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِبْرَاهِيمُ لَا أَدْرِي زَادَ أَوْ نَقَصَ فَلَمَّا سَلَّمَ قِيلَ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَحَدَثَ فِي الصَّلَاةِ شَيْئٌ قَالَ وَمَا ذَاکَ قَالُوا صَلَّيْتَ کَذَا وَکَذَا فَثَنَی رِجْلَيْهِ وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ وَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ فَلَمَّا أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ قَالَ إِنَّهُ لَوْ حَدَثَ فِي الصَّلَاةِ شَيْئٌ لَنَبَّأْتُکُمْ بِهِ وَلَکِنْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُکُمْ أَنْسَی کَمَا تَنْسَوْنَ فَإِذَا نَسِيتُ فَذَکِّرُونِي وَإِذَا شَکَّ أَحَدُکُمْ فِي صَلَاتِهِ فَلْيَتَحَرَّ الصَّوَابَ فَلْيُتِمَّ عَلَيْهِ ثُمَّ لِيُسَلِّمْ ثُمَّ يَسْجُدُ سَجْدَتَيْنِ

( بخاری، کتاب الصلاۃ ، بَابُ التَّوَجُّهِ نَحْوَ القِبْلَةِ حَيْثُ كَانَ )

’’ عبداللہ بن مسعود ؓ روایت کرتے ہیں کہ نبیﷺ نے صلاۃ ادا کی، ابراہیم کہتے ہیں یہ مجھے یاد نہیں کہ آپ نے (صلاۃ میں کچھ) زیادہ کردیا تھا، یا کم کردیا تھا، الغرض ! جب آپ سلام پھیر

چکے، تو آپ سے عرض کیا گیا کہ یا رسول اللہ ﷺکیا کوئی بات صلاۃ میں نئی ہوگئی ؟ آپ نے فرمایا وہ کیا ؟ لوگوں نے کہا کہ آپ نے اس قدرصلاۃ ادا کی، پس آپ نے اپنے دونوں پیروں کو سمیٹ لیا اور قبلہ کی طرف منہ کرکے دو سجدے کئے، اس کے بعد سلام پھیرا پھر جب ہماری طرف اپنا منہ کیا تو فرمایا کہ اگرصلاۃ میں کوئی نیا حکم ہوجاتا، تو میں تمہیں پہلے سے مطلع کرتا، لیکن میں تمہاری ہی طرح ایک بشر ہوں، جس طرح تم بھولتے ہو، میں بھی بھول جاتا ہوں، لہذا جب میں بھول جاؤں تو مجھے یاد دلاؤ اور جب تم میں سے کوئی شخص کو اپنی صلاۃ میں شک ہوجائے تو اسے چاہئے کہ صحیح حالت کے معلوم کرنے کی کوشش کرے اور اسی پر صلاۃ تمام کردے، پھر سلام پھیر کردو سجدے کرے‘‘۔

رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ قَالَ قَدِمَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَهُمْ يَأْبُرُونَ النَّخْلَ يَقُولُونَ يُلَقِّحُونَ النَّخْلَ فَقَالَ مَا تَصْنَعُونَ قَالُوا کُنَّا نَصْنَعُهُ قَالَ لَعَلَّکُمْ لَوْ لَمْ تَفْعَلُوا کَانَ خَيْرًا فَتَرَکُوهُ فَنَفَضَتْ أَوْ فَنَقَصَتْ قَالَ فَذَکَرُوا ذَلِکَ لَهُ فَقَالَ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ إِذَا أَمَرْتُکُمْ بِشَيْئٍ مِنْ دِينِکُمْ فَخُذُوا بِهِ وَإِذَا أَمَرْتُکُمْ بِشَيْئٍ مِنْ رَأْيٍ فَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ قَالَ عِکْرِمَةُ أَوْ نَحْوَ هَذَا قَالَ الْمَعْقِرِيُّ فَنَفَضَتْ وَلَمْ يَشُکَّ

( مسلم ، کتاب ا؛فضائ؛، بَابُ وُجُوبِ امْتِثَالِ مَا قَالَهُ شَرْعًا، دُونَ مَا ذَكَرَهُ ﷺ ۔ ۔ ۔ ۔ )

’’ رافع بن خدیج ؓ فرماتے ہیں کہ کہ اللہ کے نبیﷺ جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو وہ لوگ کھجوروں میں پیوند کاری کر رہے تھے تو آپ نے فرمایا تم لوگ کیا کر رہے ہو انہوں نے کہا ہم لوگ اسی طرح کرتے چلے آئے ہیں۔ آپ نے فرمایا اگر تم اس طرح نہ کرو تو شاید تمہارے لئے یہ بہتر ہو انہوں نے اس طرح کرنا چھوڑ دیا تو کھجوریں کم ہوگئیں صحابہ کرام ؓنے اس بارے میں نبی ﷺ سے ذکر کیا تو آپ نے فرمایا میں ایک بشرہوں جب میں تمہیں دین کی کسی بات کا حکم دوں تو تم اس کو اپنا لو اور جب میں اپنی رائے سے کسی چیز کے بارے میں بتاؤں تو میں بھی ایک بشر ہی ہوں عکرمہ ؓ کہتے ہیں کہ یا اسی طرح کچھ اور آپﷺ نے فرمایا۔

جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ وَإِنِّي اشْتَرَطْتُ عَلَی رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ أَيُّ عَبْدٍ مِنْ الْمُسْلِمِينَ سَبَبْتُهُ أَوْ شَتَمْتُهُ أَنْ يَکُونَ ذَلِکَ لَهُ زَکَاةً وَأَجْرًا

( مسلم ، كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ ، بَابُ مَنْ لَعَنَهُ النَّبِيُّ ﷺ، أَوْ سَبَّهُ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ )

’’ جابر بن عبداللہؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺسے سنا آپ نے فرمایا کہ میں تو صرف ایک بشر ہوں اور میں نے اپنے رب تعالیٰ سے یہ وعدہ کیا ہے کہ مسلمین میں سے جس بندے کو میں سب و شتم کروں تو تو اسے اس کے لئے پاکیزگی اور اجر کا ذریعہ بنا دے‘‘۔

قر آن و حدیث کے مندرجہ بالا دلائل سے واضح ہو گیا کہ نبی ﷺ بشر ہی تھے۔ لیکن قرآن و حدیث کے بر خلاف عقیدہ رکھنے والے ان واضح اور صاف دلائل کے باوجود اپنا عقیدہ باطل طریقے سے ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ لوگوں کو گمراہ کرنے کے لئے کچھ آیات کے من چاہے معنیٰ اخذ کرتے ہیں اور اس طرح نبی ﷺ کو نور ثابت کرتے ہیں۔ ملاحظہ فرمائیں وہ آیات:

﴿ قَدْ جَاۗءَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ نُوْرٌ وَّكِتٰبٌ مُّبِيْنٌ ﴾

[المائدة: 15]

’’ بے شک آیا ہے تمہارے پاس اللہ کی طرف سے ایک نور اور ایک کھلی کتاب ‘‘

﴿يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّبِيُّ إِنَّآ أَرۡسَلۡنَٰكَ شَٰهِدٗا وَمُبَشِّرٗا وَنَذِيرٗا ؀ وَدَاعِيًا إِلَى ٱللَّهِ بِإِذۡنِهِۦ وَسِرَاجٗا مُّنِيرٗا﴾

[الأحزاب: 45-46]

’’ اے نبی ( ﷺ ) ہم نے آپ کو گواہ ، خوشخبری سنانے والا ، اللہ کے عذاب سے ڈرانے والا اور اللہ کی اجازت سے اس کی طرف بلانے والا اور روشن چراغ بنا کر بھیجا ہے ‘‘

یاد رکھیں کہ قرآن مجید میں تضاد کسی صورت نہیں ہو سکتا، یہ نہیں ہو سکتا کہ قرآن میں اللہ تعالیٰ اپنا تمام انبیاء علیہم السلام کو بشر بیان کرے اور پھر نبی ﷺ کو نور بھی کہے۔قرآن مجید میں دوسری جگہ اس کی وضاحت بھی ملتی ہے کہ اس نازل کردہ ’’ نور ‘‘ سے کیا مراد ہے:

﴿فَ‍َٔامِنُواْ بِٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦ وَٱلنُّورِ ٱلَّذِيٓ أَنزَلۡنَاۚ وَٱللَّهُ بِمَا تَعۡمَلُونَ خَبِيرٞ٨﴾ [التغابن: 8]

’’ پس تم ایمان لاؤ اللہ پر، اس کے رسول پر اور اس نور پر جو ہم نازل کیا ہے ‘‘۔

دیکھیں ! قرآن نے کھول کر رکھ دیا کہ رسول محمد ﷺ علیحدہ ہیں اور نور علیحدہ۔ نور کیا ہے جو ان کے ساتھ نازل ہوا تو وہ ’’ قرآن مجید ‘‘ ہے۔ سورہ المائدہ کی جس آیت کو یہ دلیل بنا کر کتاب مبین ( کھلی کتاب یعنی قرآن مجید ) اور نور کو علیحدہ کر رہے ہیں تو اس کا معاملہ تو اس سے اگلی ہی آیت میں واضح ہو جاتا ہے :

﴿يَهۡدِي بِهِ ٱللَّهُ مَنِ ٱتَّبَعَ رِضۡوَٰنَهُۥ سُبُلَ ٱلسَّلَٰمِ وَيُخۡرِجُهُم مِّنَ ٱلظُّلُمَٰتِ إِلَى ٱلنُّورِ بِإِذۡنِهِۦ وَيَهۡدِيهِمۡ إِلَىٰ صِرَٰطٖ مُّسۡتَقِيمٖ﴾

[المائدة: 16]

’’ اس کے ذریعے اللہ اپنی رضا پر چلنے والوں کو سلامتی کے راستے دکھاتا ہے اور اپنے حکم سے انہیں ظلمات ( گمراہیوں ) سے نکال کر نور ( ہدایت ) کی طرف لاتا اور راہ راست دکھاتا ہے‘‘۔

’’ بِهِ‘‘ ( اس کے ذریعے ) یعنی یہاں واحد کا صیغہ ہے کہ اس سے قبل آیات میں کسی دو چیزوں کے نزول کا ذکر نہیں بلکہ ایک ہی چیز نازل کرنے کا بیان ہے، ورنہ یہاں بیان کیا جاتا ’’ بھیما ‘‘ ( ان دونوں کے ذریعے ) کا ذکر ہوتا۔ سورہ المائدہ کی آیت بھی ملاحظہ فرمائیں :

﴿ٱلَّذِينَ يَتَّبِعُونَ ٱلرَّسُولَ ٱلنَّبِيَّ ٱلۡأُمِّيَّ ٱلَّذِي يَجِدُونَهُۥ مَكۡتُوبًا عِندَهُمۡ فِي ٱلتَّوۡرَىٰةِ وَٱلۡإِنجِيلِ يَأۡمُرُهُم بِٱلۡمَعۡرُوفِ وَيَنۡهَىٰهُمۡ عَنِ ٱلۡمُنكَرِ وَيُحِلُّ لَهُمُ ٱلطَّيِّبَٰتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيۡهِمُ ٱلۡخَبَٰٓئِثَ وَيَضَعُ عَنۡهُمۡ إِصۡرَهُمۡ وَٱلۡأَغۡلَٰلَ ٱلَّتِي كَانَتۡ عَلَيۡهِمۡۚ فَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ بِهِۦ وَعَزَّرُوهُ وَنَصَرُوهُ وَٱتَّبَعُواْ ٱلنُّورَ ٱلَّذِيٓ أُنزِلَ مَعَهُۥٓ أُوْلَٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡمُفۡلِحُونَ١٥٧﴾

[الأعراف: 157]

’’ جو لوگ اس رسول کی پیروی کرتے ہیں جو نبی امی ہے، جس کا ذکر وہ اپنے ہاں تورات اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں۔ وہ رسول انہیں نیکی کا حکم دیتا اور برائی سے روکتا ہے، ان کے لئے پاکیزہ چیزوں کو حلال اور گندی چیزوں کو حرام کرتا ہے، ان کے بوجھ ان پر سے اتارتا ہے اور وہ بندشیں کھولتا ہے جن میں وہ جکڑے ہوئے تھے۔ لہذا جو لوگ اس پر ایمان لائے اور اس کی حمایت اور مدد کی اور اس نور کی پیروی کی جو اس کے ساتھ نازل کیا گیا ہے تو یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں ‘‘۔

اللہ تعالیٰ نے بیان کردیا کہ نبی ﷺ کیساتھ ایک ’’ نور ‘‘ نازل کیا گیا ہے اور وہ ہے قرآن مجید۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی نازل کردہ دوسری کتب کو بھی ’’ نور ‘‘ کہا ہے۔

﴿ اِنَّآ اَنْزَلْنَا التَّوْرٰىةَ فِيْهَا هُدًى وَّنُوْرٌ﴾

[المائدة: 44]

’’ بے شک ہم نے توراۃ کو نازل کیا جس میں ہدایت اور نور ہے‘‘۔

﴿ وَاٰتَيْنٰهُ الْاِنْجِيْلَ فِيْهِ هُدًى وَّنُوْرٌ ﴾

[المائدة: 46]

’’ اور ہم نے ان ( عیسیٰ ؑ ) کو انجیل عطا کی جس میں ہدایت ہے اور نور ہے ‘‘۔

گویا نور کے معنیٰ ہدایت ہیں۔ سورہ نور میں جو اللہ تعالیٰ نے فرمایا :

﴿۞ٱللَّهُ نُورُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ﴾

[النور: 35]

’’ اللہ آسمانوں اور زمیں کا نور ہے ‘‘

یعنی اس پوری کائنات میں جو نور ہدایت پھیلی ہوئی ہے وہ اسی اللہ کی وجہ سے ہےگویا اللہ تعالیٰ ہدایت کا منبہ ہے۔

مزید دیکھیں :

﴿ وَمَن لَّمۡ يَجۡعَلِ ٱللَّهُ لَهُۥ نُورٗا فَمَا لَهُۥ مِن نُّورٍ﴾

[النور: 40]

’’ جسے اللہ تعالیٰ ہی نور نہ دے اس کے لئے کہیں نور نہیں ‘‘۔

یعنی جسے اللہ تعالیٰ ہدایت نہ دے اسے کہیں سے بھی ہدایت نہیں مل سکتی۔ موضوع مکمل ہوا کہ نور کے معنی ہدایت ہیں، اللہ تعالیٰ نور کا خالق ہے جیسا کہ سور انعام کی پہلی آیت میں فرما گیا ہے، نبی ﷺ اللہ کی ذات کا حصہ نہیں بلکہ بشر ہیں۔

تصوف

اہل تصوف و طریقت-اتحاد ثلاثہ

یاد رکھیں کہ ’’ تصوف اور طریقت ‘‘ کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، قرآن و احادیث سے ان ناموں اور ان کے خود ساختہ عقائد کی کوئی دلیل نہیں ملتی بلکہ یہ عقائد اللہ کی توحید کا مکمل انکار کرتے ہوئے شرک کی راہ کھولتے ہیں۔ صوفی،تصوف اور طریقت کیا ہے ان شاء اللہ کسی اور وقت اس پر تفصیل بیان کی جائے گی فی الوقت ان کے ان عقائد کا ذکر کیا جا رہا ہے جو کھلم کھلا شرک پر مبنی ہیں۔ اتحاد ثلاثہ اصل میں وہ تین طریقہ کار ہیں جن کے ذریعے سے مخلوق کو اللہ کا حصہ قرار دیا جاتا ہے۔

1۔ حلول

حلول سے مراد کسی انسان کوئی عبادت اور ریاضت کرکے نفس کی صفائی اور روح کی بالیدگی پیدا کر لے تو اللہ کی ذات اس کے اندر حلول کر جاتی ہے ۔

2۔ وحدۃالوجود

وحدت الوجود کے فلسفے کا سادہ الفاظ میں مطلب یہ ہے کہ صرف اور صرف ایک ہی وجود ہے اور وہ ہے اللہ تعالی۔ اس کی ذات کے علاوہ کوئی اور وجود نہیں پایا جاتا ہے۔ اگر اس بات کو مان لیا جائے تو پھر خالق و مخلوق میں کوئی فرق باقی نہیں رہتا بلکہ انسان، حیوانات،نباتات، بے جان اشیاء، حتی کہ غلاظت اور شیطان بھی نعوذ باللہ، اللہ تعالی ہی کے وجود کا حصہ قرار پاتے ہیں۔ بعض مولفین کے نزدیک عقیدۃ وحدۃ الوجود کوئی نیا عقیدہ نہیں بلکہ نصاریٰ کے عقیدہ تثلیث کی ہی ایک شکل ہے۔ عیسائیوں کا یہ عقیدہ ہم نے قسط 1 میں پیش کیا تھا کہ

ہم ایک خدا پر ایمان لاتے ہیں جو باپ ہے اور قادر مطلق ہے ، تمام دیدہ و نادیدہ چیزوں کا خالق ہے ؛ اور ایک خداوند یسوع مسیح پر ایمان لاتے ہیں ، جو خدا کا بیٹا ہے ، خدا کا (جنا ہوا) اکلوتا یعنی باپ ہی کے جوہر سے ، خدا سے خدا ، نور سے نور ، عین خدا سے عین خدا ، جنا ہوا ، بنایا ہوا نہیں ، باپ ہی کے جوہر سے جس کے ذریعے سے آسمانوں اور زمین میں تمام چیزوں کو وجود ملا ، جو ہم انسانوں کے لیے اور ہماری نجات کے لیے بطور اوتار مجسم بشکل انسانی اترا ، اس نے تکلیف اٹھائی اور تیسرے دن جی اٹھا اور آسمان پر چڑھ گیا ، مُردوں اور زندوں کے فیصلے کے لیے پھر آئے گا ؛ اور ہم روح القدس پر بھی ایمان لاتے ہیں –

ان کے عقیدے کے مطابق عیسیٰ علیہ السلام بھی اللہ کی ذات کا حصہ ہیں ، اس طرح نہیں کہ وہ اللہ کے بیٹے تھے بلکہ اس طرح کہ وہ عین اللہ کی ذات کا حصہ تھے۔ کہتے ہیں کہ خدا سے خدا، نور سے نور۔ یہی وہ عقیدہ ہے جو اس امت میں بھی رائج ہوا جس کی تفصیل ہم اس سے قبل بیان کرچکے ہیں۔ سوچیں اللہ خالق باقی سب مخلوق، اللہ رازق باقی سب مرزوق، اللہ دینے والا باقی سب لینے والے، لیکن وحدت الوجود کے اس عقیدے نے سب کو ایک ذات قرار دے دیا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

﴿ قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ ﴾[الإخلاص] ’’ کہدو کہ اللہ یکتا ہے‘‘

﴿ وَلَمْ يَكُنْ لَّهٗ كُفُوًا اَحَدٌ﴾[الإخلاص:] ’’اور نہ ہی کوئی ایک اس کا ہمسر ہے ‘‘

﴿ لَيۡسَ كَمِثۡلِهِۦ شَيۡء ﴾ [الشورى: 11] ’’ اس کی مثال جیسی (کائنات) میں کوئی چیز نہیں ‘‘

واضح ہوا کہ یہ عقیدہ رکھنا کہ کائنات کی ہر چیز اللہ کی ذات کاحصہ ہے، قرآن کا کھلا انکار ہے۔

3۔ وحدۃالشہود

وحدۃالشہود سے مراد “ایک دیکھنا ہے”یعنی چاروں طرف” تو ہی تو “ہے والا معاملہ ہو جاتا ہے- یعنی مشاہدے میں جتنی بھی چیزیں ہیں سب نعوذ باللہ اللہ کی ذات ہے۔ اور اسی کو فنا فی اللہ کہا جاتا ہے یعنی اللہ کی ذات میں فنا ہوجانا۔

استغفر اللہ من ذالک کہ اب یہ انسان اللہ کی ذات میں فنا ہوگیا۔ یہ تینوں عقائد گو کہ الگ الگ بیان کیے جاتے ہیں اور ان کی الگ تعریف کی جاتی ہے مگر تھوڑے بہت اختلاف کے باوجود اور نتیجے کے اعتبار سے ایک ہی ہیں۔ جو لوگ تصوف کو نہیں جانتے تو وہ جان لیں کہ یہ اللہ کی توحید کا کھلا انکار ہے۔اب ہم کچھ شخصیات کے حوالے دے رہے ہیں جو تصوف اور ان عقائد کے حامل ہیں۔

حسین بن منصور حلاج

ان کا پورا نام ابو المغیث الحسین ابن منصور الحلاج تھا۔منصور حلاج کا واقعہ بہت مشہور ہے اور بیشتر کتب تصوف میں بیان ہوا ہے کہ انہوں نے خدائی کا دعوی کرتے ہوئے ’’انا الحق‘‘ یعنی’’میں حق ہوں‘‘ کہا تھا۔ مزید یہ کہ وہ پورے ہوش و حواس کے ساتھ اس دعوے کی باقاعدہ تبلیغ بھی کرتے رہے۔ بادشاہ کے حکم سے انہیں گرفتار کر کے علماء کے سامنے پیش کیا گیا مگر وہ اپنے دعوی پر قائم رہے۔ اس جرم کی پاداش میں انہیں موت کی سزا دی گئ، اور انہوں نے بخوشی اُسے قبول کیا مگر اپنے دعوے سے رجوع نہ کیا۔ اہل تصوف کے ایک طبقے کے ہاں انہیں ایک مقام دیا جاتا ہے، البتہ کچھ کے ہاں انہیں ناپسند بھی کیا جاتا ہے ۔انہی کے دعوے کی نسبت سے پنجابی کی ایک مشہور قوالی کا شعر ہے

؎ جیہڑے نشہ عشق وچ رہندے او انا الحق ہی کہندے

ان کے اس طرز عمل کی توجیہ کرتے ہوئے، تذکرۃ الاولیاء کے مولف فرید الدین عطار کے مطابق:

’’آپ کی زبان سے انا الحق کا غیر شرعی جملہ نکل گیا، لیکن آپ کو کافر کہنے میں اس لیے تردد ہے کہ آپ کا قول حقیقت میں خدا کا قول تھا۔‘‘

(تذکرۃ الاولیاء از فرید الدین عطّار: ص 278)

شیخ ابن عربی

ابن عربی کو وحدۃالوجود کے نظریے کا بانی کہا جاتا ہے۔ مگر شواھد سے یہ ثابت ہے کہ یہ نظریہ ہندوؤں اور بدھ مت میں بھی پایا جاتا ہے، اور حسین بن منصورحلاج ان سےتین صدیاں پہلے ایسے نعرے لگا چکے ہیں ، اور منصور بن حلاج جنید ببغدادی کے شاگردوں میں سے ہیں ۔ لیکن اس نظریے کو پھیلانے اور تقویت پہنچانے میں ان کا بہت بڑا کردار ہے اسی لئے اہل تصعف کی جانب سے انہیں شیخ اکبر کا لقب ملا ۔ ابن عربی نے کئی کتابیں لکھی ہیں، ان کی مشہور کتاب فصوص الحکم ہے جس میں اس نظریے کو جگہ جگہ بیان کیا گیا ہے۔ اپنی کتاب میں وہ لکھتے ہیں:

فأنت عبد وأنت رب

’’یعنی تو بندہ ہے اور تو رب ہے۔‘‘

(فصوص الحکم)

جنید بغدادی:

’’۔۔۔مخلوق اس بات سے بے خبر ہے کہ بیس سال سے اللہ میری زبان سے کلام کرتا ہے اور میرا وجود درمیان سے ختم ہوچکا ہے‘‘

(تذکرۃ الاولیاء از فرید الدین عطّار: ص 212)

بایزید بسطامی

سبحانی ما اعظم شانی

’’میں پاک ہوں، میری شان کا کیا کہنا۔‘‘

علی ہجویری

’’میں اور منصور حلاج ایک ہی طریق پر ہیں-‘‘

(کشف المحجوب بحوالہ وحدت الوجود ایک غیر اسلامی نظریہ)

اور اسی نعرے کی تصدیق میں علی ہجویری اپنی کتاب کشف المحجوب میں لکھتے ہیں کہ :

’’حضرت نےبلکل صحیح فرمایا کیونکہ “بندہ ہی مظہر خدا ہے‘‘

(کشف المحجوب)

شیخ عبدالقادر جیلانی

’اے ضیف الیقین نی تیرے پاس دنیا نہ آخرت اور یہ تیری حق تعالیٰ کی جناب میں بے ادبی اور اس کےا ن اولیا ء و ابدال پع الزام رکھنے کی وجہ سے ہے جن کو حق تعالیٰ نے انبیاء کے قائم مقام بنایا ہے کہ نبیوں اور صدیقوں پر جو بوجھ رکھا تھا وہی ان پر رکھ دیا ہے انبیاء کے اعمال اور ان کے علوم ان کے حوالہ کئے ۔ انکے نفوس و خواہشات سے ان کو فنا دکر دیا اور اپنے ساتھ بقا عطا ء فرما کر اپنے سامنے کھڑا کر لیا۔ اپنے ما سویٰ سے ان کے دلوں کو پاک کیا اور دنیا اور آخرت اور ساری مخلوق ان کے ہاتھ میں دے دی۔‘‘

(مجلس 51فیوض یزدانی ترجمہ الفتحالربانی 365 )

امام غزالی

’لا الٰہ الا اللہ عوام کی توحید ہے اور لا ھو الا ھوخواص کی توحید ہے کیونکہ وہ عام ہے اور یہ خاص ہے۔‘‘

(مشکوٰۃالانوار 31)

شاہ ولی اللہ دہلوی

’’ والد گرامی فرماتے تھے کہ اوقات عزیز میں ایک وقت فنائے کلی اور غیبت تامہ میسر ہوئی تو دیکھا کہ حق سبحانہ و تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا کہ میرے فلاں بندے کو ڈھونڈ لاؤ۔ زمین میں تلاش کیا نہ پایا آسمان چھان مارے نہ ملا بہشت میں تلاش کیا نہ ملا اس پر حق سبحانہ تعالیٰ نے فرشتوں سے خطاب کیا کہ جو مجھ میں فنا ہوا وہ نہ آسماں میں ملے گا نہ زمینوں میں پایا جاسکے گا اور نہ بہشت میں ۔‘‘

(انفاس العارفین:96)

احمد سرہندی المعروف مجدد الف ثانی

’’ ایک توحید شہودی اور دوسری توحید وجود دی ۔ توحید شہودی ، ایک دیکھنا ، ہے یعنی ایک کے سوا سا لک کو کچھ مشہود نہیں ہوتا ۔ اور توحید وجودی ایک کو موجود جاننا اور اسی کے غیر کو نابود سمجھنا اور غیر کو معلوم جاننے کے باوجود اسے ایک مظہر اور جلوہ خیال کرنا ہے ۔ پس توحیدوجودی علم الیقین کی قسم ہے اورتوحید شہودی عین ایقین کی قسم سے ہے ۔ ‘‘

(مکتوبات امام ربانی جلد اول مکتوب 43)

اہل سنت- مسلک حفی (بریلوی مکتبہ فکر)

عقیدہ نورمن نور اللہ

نورمن نور اللہ کا معنی ہیں ’ اللہ کے نور میں سے ایک نور‘، یہ عقیدہ نصاریٰ میں پایا جاتا ہے اوران میں سے بعض کے نزدیک اسی عقیدے کی بنیاد پر عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا کہا جاتا ہے۔ یہ عقیدہ بظاہر نصاریٰ کے عقیدے ’عیسیٰ ابن مریم اللہ کے نور میں سے نور تھے‘ کا ہر چربہ معلوم ہوتا ہے، جسے نائسین کریڈ میں کچھ اس طرح بیان کیا گیا ہے:

ترجمہ : ہم ایک خدا پر ایمان لاتے ہیں جو باپ ہے اور قادر مطلق ہے ، تمام دیدہ و نادیدہ چیزوں کا خالق ہے ؛ اور ایک خداوند یسوع مسیح پر ایمان لاتے ہیں ، جو خدا کا بیٹا ہے ، خدا کا (جنا ہوا) اکلوتا یعنی باپ ہی کے جوہر سے ، خدا سے خدا ، نور سے نور ، عین خدا سے عین خدا ، جنا ہوا ، بنایا ہوا نہیں ، باپ ہی کے جوہر سے جس کے ذریعے سے آسمانوں اور زمین میں تمام چیزوں کو وجود ملا ، جو ہم انسانوں کے لیے اور ہماری نجات کے لیے بطور اوتار مجسم بشکل انسانی اترا ، اس نے تکلیف اٹھائی اور تیسرے دن جی اٹھا اور آسمان پر چڑھ گیا ، مُردوں اور زندوں کے فیصلے کے لیے پھر آئے گا ؛ اور ہم روح القدس پر بھی ایمان لاتے ہیں –

اور یہ عقیدہ بلکل اسی طرح اس امت میں بھی پایا جاتا ہے۔ایک مخصوص مسلک کے ہاں اذان سے پہلے ادا کیے جانے والےیہ الفاظ” اَلصَّلوٰۃُ وَالسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ — وَعَلیَ آلِکَ وَاَصْحَابِکَ یَانُوْراً مِّنْ نُّوْرِاللّٰہِ” دراصل اسی بات کی غمازی کرتے ہیں کہ سیدنا محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی ذات (نور) میں سے جدا ہوا ایک نور ہیں۔ درحقیقت یہ عقیدہ بھی واحدۃالوجود ہی کے نظریے کا ایک جز ہے ،جیسا کہ نصاریٰ کا عقیدہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام عین نور خدا ہیں اور اسی کا وجود اور مظہر ہیں ایسے ہی نور من نور اللہ کے عقیدے میں بھی اللہ کی ذات کو نور قرار دینے کے بعد نبیﷺ کو بھی نوری قراد دیا اور اللہ کی ذات کا جز قرار دی گیا اور بعض کے نزدیک جو نور نبی ﷺ کے وجود بخشنے کا بعد بچا ہے اس سےکائنات کو تخلیق کیا گیا ۔یعنی بلآخر یہی ثابت کیا گیا کہ کائنات کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کے وجود ہی کا حصہ ہےیا اللہ ہی کی ذات سے بنائی گئی ہے۔(نعوذواباللہ علیٰ ذالک)

اہل سنت -مسلک حنفی (دیوبند مکتبہ فکر)

حاجی امداد اللہ مہاجر مکی(متوفی 1317ھ)

’’وحدت الوجود کا عقیدہ رکھنا ہی حق اور سچ ہے۔‘‘(شمائم امدادیہ:ص 32)

’’نکتہ شناسا مسئلہ وحدۃ الوجود حق و صحیح ہے اس مسئلہ میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے ۔فقیر و مشائخ فقیر اور جن لوگوں نے فقیر سے بیعت کی ہے سب کا اعتقاد یہی ہے ۔‘‘(ایضاً)

“عابد اور معبود کے درمیان فرق کرنا ہی صریح شرک ہے ” (شمائم امدادیہ: ص37)

’’بندہ اپنے وجود سے پہلے مخفی طور پر رب تھا اور رب ہی ظاہر میں بندہ ہے‘‘(شمائم امدادیۃ: ص38)

اشرف علی تھانوی

’’ ایک موحد سے لوگوں نے کہا کہ اگر حلوہ و غلیظ ایک ہیں تو دونوں کھا ؤ انہوں نے بشکل خنزیر ہوکر گوہ کو کھایا اور بشکل آدمی ہو کر حلوہ کھا لیا اس کو حفظ مراتب کہتے ہیں جو واجب ہے۔ ‘‘(امدادالمشتاق: 110)

زکریا کاندھلوی

فضائل صدقات میں امدا اللہ ماجر مکی کا یہ قول نقل کرتے ہیں کہ وہ فرماتے تھے:

’’ جھوٹا ہوں کچھ نہیں ہوں تیرا ہی ظل ہے تیراہی وجود ہے میں کیا ہوں کچھ نہیں ہوں اور وہ جومیں ہوں ،وہ تو ہے اورمیں اور تو خود شرک در شرک ہے۔ ‘‘(فضائل صدقات کتب خانہ فیضی 558 )

محمد انور شاہ کشمیری

’’۔۔۔حدیث میں وحدت الوجود کی طرف اشارہ ملتا ہے، ہمارے مشائخ شاہ عبد العزیز کے زمانے تک اس مسئلہ کے بڑے گرویدہ تھے، لیکن میں اس مسئلہ میں متشدد نہیں ہوں ۔‘‘(فیض الباری شرح صحیح البخاری: 4/428)

یہ کچھ شخصیات کے حوالے سے پیش کئے اقتسابات ہیں تاکہ عوام الناس کو معلوم ہو سکے کہ ’’’ ذات کا شرک ‘‘ کس طرح اس معاشرے میں پھیلا ہوا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *