Categories
Uncategorized

فَمَآ أَصۡبَرَهُمۡ عَلَى ٱلنَّارِ

اہلحدیث مفتی عبد اللہ جابر دامانوی کی کتاب ’’ دینی امور پر اجرت کا جواز‘‘  کا جواب

ابتدائیہ :

﴿إِنَّ ٱلَّذِينَ يَكۡتُمُونَ مَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ مِنَ ٱلۡكِتَٰبِ وَيَشۡتَرُونَ بِهِۦ ثَمَنٗا قَلِيلًا أُوْلَٰٓئِكَ مَا يَأۡكُلُونَ فِي بُطُونِهِمۡ إِلَّا ٱلنَّارَ وَلَا يُكَلِّمُهُمُ ٱللَّهُ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ وَلَا يُزَكِّيهِمۡ وَلَهُمۡ عَذَابٌ أَلِيمٌ١٧٤ أُوْلَٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ ٱشۡتَرَوُاْ ٱلضَّلَٰلَةَ بِٱلۡهُدَىٰ وَٱلۡعَذَابَ بِٱلۡمَغۡفِرَةِۚ فَمَآ أَصۡبَرَهُمۡ عَلَى ٱلنَّارِ﴾

( البقرۃ:174/175 )

جو لوگ اللہ کی نازل کی ہوئی کتاب کی ہدایات کو چھپاتے اور اس پر حقیر معاوضہ حاصل کرتے ہیں، وہ یقیناً اپنے پیٹ آگ سے بھر رہے ہیں، اور قیامت کے دن اللہ ان سے نہ تو کلام کرے گا اور نہ ہی انہیں پاک کرے گا، اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے، یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی خریدی اور مغفرت کے بدلے عذاب، تو یہ آگ کے عذاب پر کیسے صابر ہو گئے ہیں!

يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِنَّ كَثِيْرًا مِّنَ الْاَحْبَارِ وَالرُّهْبَانِ لَيَاْكُلُوْنَ اَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ وَيَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ

( التوبۃ:34 )

’’اے ایمان لانے والو! ان مولویوں اور پیروں کی اکثریت کا حال یہ ہے کہ وہ لوگوں کا مال باطل طریقوں سے کھاتے ہیں اور اسی پر بس نہیں کرتے بلکہ ان کو اللہ کے راستے سے بھی روک دیتے ہیں‘‘۔

مسدس حالی میں بھی ان پیشہ وروں کے اندازوفکر کی ترجمانی کی گئی ہے:

نہ سرکارمیں کام پانے کے قابل

نہ دربارمیں لب ہلانے کے قابل

نہ جنگل میں ریوڑچلانے کے قابل

نہ بازار میں بوجھ اٹھانے کے قابل

نہ پڑھتے تو سو طرح کھاتے کماکر

وہ کھوئے گئے اور تعلیم پاکر

مالک کائنات کابے پایاں احسان کہ اس نے رہتی دنیا تک کے انسانوں کی ہدایت کابندوبست فرمایا اور انہیں گمراہی کی ایک ایک روش اور سمت سے آگاہ فرمایا۔ لیکن انسان اگر رب کائنات کے اس عظیم احسان سے بے پرواہ ہوجائے اور اپنی لگام انہی کے ہاتھ میں دے ڈالے جن سے بچے رہنے کی تلقین کی گئی تھی تو پھر یہ انسان کا اپنا ہی قصور ہے۔ قرآن و حدیث پر ایمان رکھنے کا یہ دعویدار دنیا کی زندگی میں مست ہو گیا، اس کے پاس اتنا وقت ہی نہیں کہ اُس ہدایت نامہ کو کھول کر پڑھ سکے جو اس کے مالک نے اس کی ہدایت ورہنمائی کے لیے بھیجا ہے۔ مالک نے اسی قرآن میں بتا دیا تھا :

و لقد یسرنا القرآن لذکر فھل من مدکر

( القمر:22 )

ہم نے قرآن سمجھنے کے لیے آسان کردیا ہے ،ہے کوئی جوسوچے سمجھے‘‘

قرآن پر ایمان کا یہ دعویدار اﷲ کے اس حکم سے بے خبر رہا،کیونکہ مولوی نے اسے بتایا کہ اس قرآن کو سمجھنے کے لیے اٹھارہ( ۱۸)علوم چاہئیں،یہ تمہارے بس کا روگ نہیں ۔۔۔ یہ قرآن کی اس آیت کا کھلا انکارہے ،لیکن اس کلمہ گو نے بڑی آسانی سے مولوی کی اس بات پر یقین کرلیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نام کے ان مسلمین نے قرآن مجید کو ہدایت حاصل کرنے کے لیے نہیں بلکہ خیر و برکت کے لیے اپنے گھر وں میں رکھا ہے۔لہٰذا وہ مولویوں کی بات پر یقین کرکے اس ہدایت نامے سے دور ہوگئے۔دراصل کتاب ہدایت سے دور ہونے کے سبب سے پیشہ ور مولوی جو چاہتا ہے اِن کے قلب و ذہن کی خالی تختی پر رقم کردیتا ہے، اسی پر یہ بلاپس و پیش ایمان لے آتے ہیں! چنانچہ مولویوں کو بھی خوب کھل کھیلنے اور کھانے کا موقع ملا۔ چنانچہ قرآن کا انکار کرتے ہوئے فرقے اور گروہ بنائے اور پھر ہر گروہ کے مولوی نے اپنے مسلک والوں کو خوب ہی لوٹا! ماضی قریب میں ،اﷲ تعالیٰ نے کفر و شرک سے لبریز اس ماحول میں اپنے ایک بندے ڈاکٹر عثمانی رحمہ کو اس بات کی توفیق عطا فرمائی کہ اس نے ان مسلک پرستوں کے عقائد کو قرآن و حدیث کی کسوٹی پر پرکھتے ہوئے ان کا کفر و شرک واضح کیا۔ڈاکٹر صاحب رحمہنے جہاں کتاب اﷲ کے حوالے سے ان کے باطل عقائد کا پوسٹ مارٹم کیا وہاں ان کی اس کمائی کی حیثیت بھی واضح فرمائی جو یہ دینی سوداگر ’’ حلال‘‘ ثابت کر کے کھا رہے تھے۔ ڈاکٹر صاحبرحمہ کی وفات کے بعد بھی اس موضوع پر قرآن و حدیث کے دلائل پر مبنی ایک کتاب تالیف کر کے فی سبیل ﷲ تقسیم کی گئی۔ لوگوں کو جب اس کمائی کے حرام ہونے کا علم ہوا تو انہوں نے اس قسم کے لوگوں اور فرقوں سے علیحدگی اختیار کرنی شروع کردی۔ مولویوں کے لیے یہ زندگی و موت والا معاملہ بن گیا۔ جب مقتدی ہی نہیں رہیں گے تو پیسہ کہاں سے آئیگا!چنانچہ کسی مولوی نے کسی انداز میں اور کسی مولوی نے کسی انداز میں اپنے اپنے مقلدین کو اس بارے میں بہکانے کی کوشش کی۔ خاکی جان دامانوی نامی ایک مفتی نے اس سلسلے میں ایک کتابچہ’’ دینی امور پر اجرت کا جواز‘‘ لکھ ڈالا کیونکہ یہ مولوی اب اہلحدیثوں کا ہی نمک خوارہوگیا ہے اور اس نے اسی مسلک کو اپنالیاہے جس نے صحیح احادیث کے انکار کا بیڑا اٹھایا ہوا ہے اور ضعیف و منکر روایتوں پر اپنے ایمان اور مسلک کی بنیاد رکھی ہے۔ اور ستم بالائے ستم یہ کہ اپنی اس روش کو ماانا علیہ واصحابیبھی قرار دیا ہے یعنی معاذ اﷲ ان کے جیسے خلاف قرآن و حدیث عقائد و اعمال بعینہ نبی ﷺااور صحابہ ث کے بھی تھے! موصوف کی علمی قابلیت اور خیانتوں سے تو آپ بخوبی واقف ہوں گے۔حبل اللہ کے مجلہ نمبر ۲۲اور۲۳ میں عذاب قبر کے سلسلے میں ان کے عقائد کا پوسٹ مارٹم کیا جا چکا ہے اور اس سے قبل بھی حبل اللہ کے شمارے میں ’’ذوالوجہین‘‘ میں ان کا اصل چہرہ دکھایا گیا ہے۔یہ کتابچہ لکھ کر ایک مرتبہ پھر انہوں نے باطل کو حق بنا کر پیش کرنے کی کوشش کی ہے، لہٰذا ضروری ہے کہ لوگو ں کے سامنے اسکی حقیقت واضح کی جائے۔

موتوا بغیظیکم

کتاب کاابتدائی حصہ پڑھ کر ایسا لگتا ہے کہ موصوف نے دہکتے انگاروں پر بیٹھ کر لکھا ہے، اور ہونا بھی ایساہی چاہیے۔ جب کوئی کسی کی ’’عزت کی کمائی‘‘ پر قرآن و حدیث سے ثبوت پیش کردے کہ’’ حضرت‘‘ کی یہ کمائی ’’ حرام‘‘ ہے ،تووہ جس قدر بھی سیخ پا ہو کم ہے۔ مشہورقول ہے کہ غصہ جہالت سے شروع ہوکر ندامت پر ختم ہوتا ہے۔ یہ بھی سنتے چلے آئے ہیں کہ غصے میں عقل آدھی رہ جاتی ہے۔چنانچہ اسی غیظ و غضب میں موصوف تحریر فرماتے ہیں:

’’یہود و نصاریٰ اور انکے ایجنٹوں نے ایک جدید منصوبہ بنایا کہ قرآن و حدیث کے تمام اداروں کو بند کردیا جائے اور وہ اس طرح کہ یہ پروپیگنڈہ کیا جائے کہ دینی امور پر اجرت حرام ہے کیوں کہ اگر براہ راست یہ بات کہہ دی جائے کہ دینی اداروں کو بند کردیا جائے تو اس بات کے خلاف دنیا کے تمام مسلمان اٹھ کھڑے ہوں گے لہٰذا سلسلہ وار اس منصوبہ کو عملی جامہ پہنایا جائے اس فتوٰی کے ذریعے جب عوام الناس کے ذہنوں کو واش کردیا جائے گا تو پھر دینی اداروں پر پابندی لگانا ان کے خیال کے مطابق آسان ہو جائے گا اور یہ فتوٰی جب ہر طرف سے اور ہر سطح سے اٹھے گا اور علماء کرام کو مجبور کیا جائے گا کہ وہ معاش کے لئے دنیا کی طرف رجوع کریں اس طرح ان کے خیال کے مطابق یہ دینی ادارے علماء کرام کی سرپرستی سے محروم ہوتے چلے جائیں گے‘‘(صفحہ 7)

اس اقتباس سے غصے کی پہلی صفت تو واضح ہو گئی لیکن دوسری صفت ہنوزسربستہ ہے، نہ معلوم اس کا جواب پڑھ کرانہیں ندامت بھی ہوگی یا نہیں۔موصوف نے قرآن و حدیث پر اجرت نہ لینے والوں اور اسے حرام سمجھنے والوں کو یہودکا ایجنٹ قرار دیا۔کاش کہ موصوف غصے میں یہ تحریر لکھنے سے پہلے تسلی سے قرآنی آیات پرغورکر لیتے کہ اﷲ کی کتاب پر اجرت لینے کی صفت کس امت کے مولویوں کی تھی؟قرآن میں اﷲ تعالیٰ نے یہودی علماء کی ہی تویہ صفت بیان فرمائی ہے کہ وہ قرآنی آیات کے عوض دنیاوی منفعت حاصل کیا کرتے تھے، لہٰذا ان کو منع کیا گیا : ولا تشتروا بایتی ثمنا قلیلا (البقرۃ:۴۱)’’ میری آیات کو (دنیا کی ) قلیل قیمت پرنہ بیچو‘‘۔ اب موصوف ذرا سوچیں کہ یہودی ایجنٹ کون کہلائے گا: وہ جو قرآن و حدیث کے بیان کے مطابق ان کی کما ئی کو حرام سمجھتا ہو یا وہ جو اﷲ کے بیان کردہ اس حکم کے خلاف اﷲ کی آیات پر اجرت کو جائز قرار دیتا ہو!اور یاد رکھیے کہ عذرگناہ بدتراز گناہ۔ ایک یہودی ایجنٹ میں تو وہی صفات ہوں گی جو اس کی قوم کا خاصہ تھیں۔کیا ان کا ایجنٹ خود انہی کی کمائی کو حرام قراردینے کی جرأت کرے گا!

حالت کا بھی اپنی کچھ احساس نہیں مجھے

اوروں سے سنا ہے پریشان ہوں میں

 

لاکھ اختلاف سہی لیکن اس ایک ’’مسئلے‘‘ پرسب کا اتفاق

موصوف نے بڑے زور و شور سے تمام مدرسوں کی بقا کا نعرہ بلند کیا ہے لیکن یہ سب محض ایک فریب ہے ورنہ اگر موصوف اور ان کے ہمنوا دیگر اہلحدیث، ان تمام مدرسوں میں دی جانی والی تعلیم کو عین اسلامی سمجھتے ہیں تو موصوف اپنی مسجد میں فوری طور پر ایک بریلوی مؤذن اور ایک اہل تشیع امام رکھیں تاکہ سب افراد کی تسلی ہو سکے کہ واقعی موصوف جن مدرسوں کی بقا کے لیے لڑ رہے ہیں ،وہ ان کی نظر میں عین اسلامی ہیں! یاد رہے کہ یہ وہی مدرسے ہیں جہاں بغیر رفع یدین کے صلوٰۃ کی تعلیم دی جاتی ہے، اٰمین بالجھر کو یہ نہیں مانتے،انبیاء و اولیاء کے وسیلے سے دعا کرنا ان کے نزدیک جائز ہے،اذان سے پہلے پر خود ساختہ درود پڑھنا ان کے ایمان کا حصہ ہے،کو حاضر و ناظریہ مانتے ہیں۔۔۔۔۔۔کیا موصوف ان امور کو عین اسلامی سمجھتے ہیں کہ ان کی بقا کے لیے آوازبلند کررہے ہیں؟ اور دوسرے مدرسوں میں سینہ کوبی کو باعث ثواب سمجھا جاتا ہے اورعزاداری ان کے دین کا جزولازم ہے، ان کی اذان مختلف، نماز مختلف حتیٰ کہ کلمہ توحید تک مختلف؛ جن صحابہ کرام پر اللہ کی رضوان ہے، ان کے لیے ان کی زبانوں پرکثرت سے تبرا بازی ہے؛جس ام المؤمنین کی برأت میں قرآن نازل ہوکر قیامت تک اس کی پاکبازی کی گواہی دے، اس کی شان میں یہ مدرسے ناقابل بیان الفاظ ادا کرنے کی جسارت کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔ کیا موصوف ان باتوں کو بھی قرآن و حدیث کے عین مطابق اور دین کی خدمت سمجھتے ہیں کہ ان کی اشاعت کرنے والے مدرسوں کی بقا کی فکرانہیں لاحق ہے! حالانکہ موصوف اور ان کے ہم مسلکوں کی تحریریں ان سب باتوں کا انکار کرتی ہیں ؛ انہوں نے تو ان کے خلاف ضخیم کتابیں لکھ ماری ہیں۔ موصوف ذرا وضاحت تو فرمائیں کہ جن مدرسوں کی بقا کی فکرمیں گھلے جارہے ہیں،ان اداروں سے تربیت حاصل کرنے والوں پر موصوف اور ان کے اہل فرقہ نے فتوے کیوں لگائے ہیں؟ اگر یہ مدرسے عین اسلام کی تعلیم دے رہے ہیں تو یہ اہلحدیث کیوں ان کے خلاف زہر اگلتے رہتے ہیں؟کیوں ان مسائل پر اشتہار بازی کرتے رہتے ہیں جن کی تعلیم انہی مدرسوں میں دی جاتی ہے؟ان سے ہٹ کراپنا ایک الگ فرقہ کیوں بنایا ہوا ہے؟اگریہ سب واقعی عین اسلام کی خدمت کررہے ہیں کہ اگر یہ باقی نہ رہے تو اسلام کی بقا خطرے میں پڑجائے گی توپھرکیوں اسلام کے نام پرتفرقہ ڈالا ہواہے؟انہی کے ساتھ کیوں نہیں مل جاتے!

دراصل بات یہ نہیں ہے کہ موصوف ان مدرسوں کے لیے اس وجہ سے لڑ رہے ہیں کہ وہاں اسلام کی تعلیم دی جارہی ہے اور ان کے بند ہونے سے اسلام کوکوئی نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے، بلکہ ان مدرسوں کے لیے یہ صرف اس لیے لڑ رہے ہیں کہ ان مدرسوں سے انہی کے ہم ذوق و ہم پیشہ’’ مستفید‘‘ ہو رہے ہیں!مدرسہ کسی بھی مسلک کا ہو، کیسی ہی تعلیم دی جارہی ہو،آپس میں بظاہرکتنا ہی اختلاف کیوں نہ ہو، لیکن ان سب میں ایک چیز بہرحال مشترک ہے اور وہ ہے دین کے ذریعے کمائی۔ جو یہاں پڑھا رہا ہے وہ ’’ثمن قلیل‘‘ کے لیے پڑھا رہا ہے اور جو پڑھ رہا ہے وہ بھی اسی امیدپر پڑھ رہا ہے کہ فارغ ہوکر اس منافع بخش کاروبار کے ذریعے مال سمیٹ کر وارے نیارے کرے گا! یہ مولوی ایک طرف تو اذان دینے، امامت کرانے اور قرآن کی تعلیم کی ’’لگی بندھی‘‘ تنخواہ وصول کرتے ہیں تو دوسری طرف انہوں نے تعویذ گنڈہ، جھاڑپھونک، دم درود ،نذرونیاز، قرآن خوانی ، ’’ختم شریف‘‘ اور اسی قسم کے دوسرے افعال کے ذریعے ’’اوپر ‘‘کی کمائی کا بھی بندوبست کررکھا ہوتاہے۔ یہی حال ان موصوف کابھی ہے کہ اس ’’لگی بندھی‘‘ کے علاوہ ’’ اوپر‘‘ کی بھی انہیں بڑی طلب ہے۔ چنانچہ حسرت و یاس کی تصویر بنے اپنے اس کتابچے میں تحریر فرماتے ہیں:

’’یہاں یہ بات بھی واضح رہے کہ عذاب قبر جیسے اہم موضوع پر میں نے کئی کتابیں شائع کی ہیں، کیوں کہ ان کی اس وقت شدید ضرورت ہے اور لوگ ان کتابوں کا خطوط کے ذریعے مطالبہ کر رہے ہیں لیکن وسائل نہ ہونے کی بناء پر میں انہیں دوبارہ شائع کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوں اور اس سلسلے میں کسی پبلشرز نے مجھ سے رابطہ بھی نہیں کیا۔حالانکہ ان کتابوں کی اس وقت شدید ضرورت ہے کیوں کہ اعمال سے پہلے عقیدے کی اصلاح کی ضرورت ہے لیکن اعمال کی اہمیت پر بہت کتب شائع ہو رہی ہیں اور اس اہم مسئلہ سے چشم پوشی کی جارہی ہے۔لہٰذا ضرورت ہے کہ اہل خیر حضرات اس طرف توجہ فرمائیں اور اس عظیم فتنہ سے مقابلہ کرنے میں میرے ممدو و معاون بنیں‘‘ ( صفحہ 8/9)

یہ موصوف بھی انہی مدرسوں کی خاک چھان کر خاکی جان سے’’فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر مفتی ابو عبد اﷲ جابردامانوی‘‘ بنے ہیں لہٰذا حق نمک ادا کرتے ہوئے ان مدرسوں کے لیے تو انہیں لڑنا ہی ہے۔ البتہ ان ’’فضیلۃ الشیخ‘‘ نے مدرسے میں پڑھ کر کیا سیکھا ہے، اس کی ایک جھلک توآپ کو ہمارے سابقہ مضامین میں نظر آ ہی گئی ہوگی اور بقایا اس مضمون میں بھی آپ انہیں اچھی طرح پہچان لیں گے۔عقیدہ عذاب قبر کی بابت موصوف نے جوچند ورقی رسالے اور کتابچے لکھے ہیں ، جن کے یہ گن گا گا کر نہیں تھکتے ، ان میں ایک ہی راگنی گائی گئی ہے۔ایک ہی جیسے مضمون پر مشتمل ہونے کے باوجود ’’تصانیف‘‘ کی تعداد کوبڑھا چڑھاکر پیش کرنے اور حصول زر کے لیے نام اور ٹائٹل بدل بدل کر انہیں بیچا گیا ہے ۔کسی کو ’’خلاصہ‘‘ کا نام دیا اور کسی کو ’’ عقیدہ‘‘ کے نام سے بیچا ۔ اب ایک بار پھر اوپر کی کمائی بند ہونے پر موصوف پبلشرز اور ’’اہل خیر حضرات‘‘کے آگے دست طلب دراز کیے نظر آ رہے ہیں۔ان کے الفاظ دوبارہ پڑھ کر دیکھیں، کیسی حسرت ٹپک رہی موصوف کی اس فریاد میں!

یہ ’’اہل خیر‘‘ کون ہیں؟

جن ’’ اہل خیر‘‘ میں مولویوں کی اور اس ’’خاکی جان‘‘ کی جان اٹکی ہوئی ہے، دراصل ان سے ’’ اہل کیش‘‘ مرادہیں۔ مولوی کے نزدیک ان سے زیادہ کوئی حامل ایمان نہیں ہوتا۔ جمعہ والے دن جب ان’’ اہل خیر‘‘ میں سے کوئی امام صاحب کی جیب میں کچھ ڈالتا ہے تو مولوی صاحب کے منہ سے اس کے لیے بے ساختہ بے حساب دعائیں نکل جاتی ہیں: اﷲ آپ کے کاروبار میں اور ترقی عطا فرمائے،آپ تو دین کے سچے خیر خواہ ہیں، آپ جیسے افراد ہی نے تو اسلام کو قائم رکھا ہوا ہے۔۔۔ حالانکہ مولوی صاحب کو پتہ ہے کہ اسلام میں سود، رشوت، جھوٹ ،فریب،موسیقی وغیرہ کے ذریعے کی گئی کمائی حرام ہے مگراس فکرمیں پڑنے سے ہاتھ آنے والی موٹی رقم کے ڈوبنے کا خطرہ ہے اور ویسے بھی اس سے فرق بھی کیا پڑتا ہے کیونکہ جب قرآن ہی کو کھانے کمانے کا ذریعہ بنالیا تو اب مزیدحجاب کیسا!! مفتی جابر صاحب بھی اہل خیر سے فریاد کرتے نظر آتے ہیں کہ کیاآپ لوگ مجھے بھول گئے؟ میری کتابوں کو بھول گئے؟ میری کمائی۔۔۔؟ ایسی ہی ایک اور درخواست موصوف نے اپنے کتابچے ’’قرآن و حدیث میں تحریف‘‘ کے آخری صفحے پر بھی کی ہے۔دراصل یہ رسالے لکھنے کا مقصد ’’کمائی‘‘ ہی ہے،ورنہ اگر یہ اسلام کی تبلیغ کے لیے لکھی جاتیں تو مکمل طور پر ’’فی سبیل اﷲ‘‘ ہوتیں جس طرح ڈاکٹر عثمانی نے حصول علم سے فارغ ہونے کے باوجود دین کو پیشہ نہیں بنایااور اپنے عالم دین ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے اپنی محنت کی کمائی سے ان موصوف اور ان کے قبیل کے دوسرےافراد کی اصلاح کے لیے کتاب و سنت کے بھر پور دلائل پر مبنی لٹریچر فی سبیل ﷲ چھپواکرتقسیم کیا۔رحمۃ اللّٰہ علیہ رحمۃ واسعۃ

حق کو مشتبہ بنانا

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ مذکورہ احکام الٰہی کی اطاعت میں اﷲ سے ڈرتے اور کتاب اﷲ کے انکار پر مبنی اس ’’تجارت‘‘ سے توبہ کرتے،لیکن ہوا یہ کہ اﷲ کے اس حکم کو باطل کے ساتھ ملا کر اسے مشتبہ بنانے کی کوشش کی تاکہ انتہائی منافع بخش کمائی پر آنچ نہ آئے اور یہ سلسلہ روزافزوں جاری رہے۔چنانچہ اس سلسلے میں موصوف لکھتے ہیں:

’’ آج کل عذاب قبر کے منکریں نے عذاب قبر کے علاوہ دینی امور پر اجرت کے مسئلے کو بھی اپنا ایشو بنا رکھا ہے اور اس بات کی وہ رات دن تبلیغ کر رہے ہیں کہ دینی امور پر اجرت ناجائز ہے اور اس سلسلہ میں انہوں نے لٹریچر بھی شائع کیا ہے جس میں کچھ روایات سے انہوں نے اجرت کے عدم جواز پر استدلال کیا ہے یہ عجیب طرفہ تماشہ ہے کہ عذاب قبر کی صحیح اور متواتر احادیث کو تو یہ فرقہ تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔لیکن دینی امور پر اجرت کے مسئلہ کے لئے ضعیف روایات کو دلیل کے طور پر پیش کیا گیا ہے اور اس سلسلہ میں جو روایات اجرت کے جواز کا ثبوت فراہم کرتی ہیں ان کی دور ازکار قسم کی تاویلات پیش کی گئی ہیں‘‘ ( صفحہ ۱۰)

مفتی موصوف کا یہ کہنا کہ ہماری جماعت عذاب قبر کی صحیح اور متواتر احادیث تسلیم نہیں کرتی، سراسرجھوٹ اور بہتان طرازی ہے۔ الحمدﷲ موصوف کے اس جھوٹ کی مکمل قلعی اتار دی گئی ہے اور اگر موصوف میں آخرت کا ذرا بھی خوف ہوگا تو آئندہ اس جھوٹ کی ہمت نہ کریں گے۔موصوف کا یہ کہنا بھی بالکل جھوٹ ہے کہ دینی امور پر اجرت کے سلسلے میں ضعیف روایات بیان کی گئی ہیں( اس کی تفصیل آگے آ رہی ہے)۔ ہم نے اپنی کتاب میں سب سے پہلے قرآنی آیات پیش کی ہیں لیکن موصوف نے ان آیات کے بجائے بات احادیث کے حوالے سے شروع کی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قرآن کی آیت کو مفتی صاحب نہ ضعیف قرار دے سکتے تھے اور نہ ہی موضوع، لہٰذا ا نداز یہ اپنایا ہے کہ ان سے صرف نظر کیا جائے اور ابتداء احادیث کے حوالے سے شروع کی جائے اور پھر ضعیف و موضوع کا فریب دے کر اپنے پیش رو علماء اہل کتاب کی طرح حق کو باطل اور باطل کو حق ثابت کردیا جائے۔

ولا تشتروا بایٰتی کی تاویلیں

سورہ بقرہ میں اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے:

ولا تشتروا بایٰتی ثمناً قلیلا

( البقرۃ:41)

اور میری آیات کو (دنیا کی) قلیل قیمت پرنہ بیچو ‘‘

اس آیت کے حوالے سے موصوف نے اپنے کتابچے کے صفحہ نمبر ۷۵ پر یہ الزام لگایا ہے کہ ہم نے اس آیت میں تحریف کی ہے ۔اسے کہتے ہیں ’’ الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے‘‘! موصوف نے اپنے طرز عمل کو ہمارے اوپر منڈھ دیا ہے۔عذاب قبر کے بارے میں ہمارے مضمون میں موصوف کی ان خیانتوں کا ذکر کیا جاچکا ہے جو انہوں نے اپنے باطل عقیدے کو ثابت کرنے کے لیے قرآنی آیات کے ساتھ کی ہیں۔ وہی انداز مولوی صاحب نے یہاں بھی اپنایا ہے کہ قرآنی آیت کا مدعا ہی بدل ڈالا(جس کی تفصیل ان شاء اﷲ آگے آرہی ہے)۔ اس آیت کی صاف اورسادہ سی تفسیر یہ ہے کہ قرآن کی آیات کو ذریعۂ معاش نہ بنایا جائے۔ اﷲ کے اس حکم کی تشریح نبیﷺنے اس طرح فرمائی کہ ’’قرآن پڑھو۔۔۔ اس کو ذریعہ معاش نہ بناؤ،نہ اس کے ذریعے دنیاوی فائدے حاصل کرو‘‘ ( مسند احمد: جلد 5،صفحہ444)

عبادہ بن الصامت ؓ کو تعلیم قرآن پر ہدیہ لینے سے بھی منع کردیا اور اسے آگ کا طوق قرار دیا

( ترمذی:کتاب الفضائل)

لیکن وہ لوگ جنہوں نے اس ہدایت نامہ کو اپنی معاش کا ذریعہ بنایا ہوا ہے، وہ یہ بات ٹھنڈے پیٹوں کیسے قبول کرلیں! چنانچہ موصوف نے اس آیت کی تشریح میں سورہ بقرہ آیت 79۔174 اور سورہ آل عمران آی187 کوبھی شامل کردیا اور اس کا رخ اس طرف موڑ دیا کہ اس آیت میں جو قرآن کو ذریعہ معاش نہ بنانے کا ذکر ہے تویہ ان لوگوں کو منع کیا گیا ہے جو اﷲ کی نازل کردہ باتوں کو چھپاتے اور اس کے عوض معاوضہ لے لیتے ہیں، یا پھر ان لوگوں کی طرف اشارہ ہے جو اپنے ہاتھوں سے لکھتے اور لوگوں میں اس طرح پیش کرتے ہیں کہ گویا یہ اﷲ کا حکم ہے۔ موصوف نے اپنی کمائی کو حق ثابت کرنے کے لیے اس آیت کی تفسیر میں دوسری آیات کی تفسیر شامل کرنے کی جو کوشش کی ہے وہ قرآن کی تفسیری تحریف ہے۔ ان مذکورہ دوسری آیات میں بے شک اس بات کو بیان کیا گیا ہے لیکن ولا تشتروا والی آیت میں بہرحال قرآنی آیات پر اجرت لینے سے ہی منع کیا گیا ہے۔نبیﷺکی حدیث اوپر بیان کی جاچکی ہے، اس میں نے یہ نہیں فرمایا کہ ’’ قرآن پڑھ کر ، اسے چھپا کر، اسے ذریعہ معاش نہ بناؤ‘‘ بلکہ فرمایا :

اقرؤا القرآن ولا تغلوا فیہ ولا تجفوا عنہ ولا تأکلو بہ ولا تستکثروا بہ

(مسند احمد: جلد 5،صفحہ444)

قرآن پڑھو اور اس میں غلو نہ کرو اور اس سے اعراض نہ کرو، اس کو ذریعہ معاش نہ بناؤ اور نہ ہی اس سے بہت سے دنیاوی فوائد حاصل کرو‘‘

دوسری روایت میں ہے:

تُعَلَّمُوْا الْقُرانَ فَاِذَا عَلِمْتُمُوْہُ ۔۔۔۔۔۔وَلَا تَاکُلُوْ بِہٖ

( مسند احمد:مسند المکیین،حدیث عبد الرحمن بن شبل )

’’ قرآن سیکھو اور جب سیکھ جاؤ تو۔۔۔ اسے کمائی کا ذریعہ نہ بنالینا۔

کیا یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ سورۂ بقرہ کی مذکورہ آیت کی جو تشریح موصوف بیان کر رہے ہیں، وہ نبیﷺ کو (معاذاﷲ)معلوم نہیں تھی تب ہی تو انہوں نے عبادہ بن الصامت ؓ کو تعلیم قرآن پر ھدیہ (تحفہ) تک لینے سے روک دیا تھا! کیا عبادہ بن الصامت ؓ قرآن کی آیات یا اس کے حکم کوچھپا رہے تھے جو انہیں تحفہ تک لینے سے منع کردیا گیا؟ موصوف اور ان کی قبیل کے وہ تمام لوگ جو قرآن و حدیث کے اس واضح حکم کے برخلاف آج کتاب اللہ کو ذریعہ معاش بنائے ہوئے ہیں، بڑے زور و شور سے ابو سعید الخدری ؓ اور ابن عباس ؓ والی روایات جو ایک ہی مخصوص واقعہ کے بارے میں ہیں پیش کرتے ہیں۔ان روایات کے مطابق جب قبیلے والوں نے طے شدہ معاہدے کے مطابق انہیں وہ بکریاں دینی چاہیں تو صحابہ ؓ نے کہا:

لا ناخذہ حتی نسئال النبیا

ہم اسے اس وقت تک نہ لیں گے جب تک اس کے متعلق نبیﷺ سے دریافت نہ کرلیں‘‘

فکر ھوا ذالک

انہوں نے اس کو لینے میں کراہیت محسوس کی‘‘

آخر کیا وجہ تھی کی صحابہؓ نے اسے لینے میں کراہیت محسوس کی؟ اگر موصوف کی تشریح کے مطابق آیتِ مذکورہ میں صرف اس کمائی کو حرام قرار دیا گیا ہے جو اﷲ کے نازل کردہ حکم کوچھپا کر یعنی حق فروشی کے سبب حاصل کی جاتی ہے تو پھر صحابہث کو بکریوں کی اس ٹکڑی کو لینے میں ذرا بھی شک نہ ہونا چاہیے تھا ،کیونکہ وہ اسے قرآن کے کسی حکم کو چھپا کرتو حاصل نہیں کر رہے تھے۔

ع خود بدلتے نہیں قرآن کو بدل دیتے ہیں

نبیﷺ کی تعلیم اور صحابہ کرام ؓکے عمل سے اس بات کی مکمل وضاحت ہوگئی کہ اس آیت کے بارے میں کی گئی موصوف کی تشریح محض دھوکہ و فریب اور اپنی حرام کمائی کو حلال ثابت کرنے کی ناکام کوشش کے سوا کچھ نہیں۔ موصوف خود اﷲ کی آیات کی معنوی و تفسیری تحریف کرتے ہیں اور الزام دوسروں پر لگاتے ہیں!

موصوف نے اس آیت کے بارے میں دیگر کئی مفسرین کے بھی حوالے دےئے ہیں۔ ایک دو چھوڑ کر سب ہی فرقہ اہلحدیث سے وابستہ یعنی ’’ گھر کے بندے‘‘ ہیں۔ قارئین جن کے تفسیری حوالے موصوف نے دئیے ہیں یہ وہی لوگ ہیں جنہوں یہ نے تفاسیر لکھ لکھ کربیچی ہیں۔ اب جو خود اس ’’تجارت‘‘ میں ملوث ہوں وہ اپنی کمائی کو حرام قرار دیں گے؟ لیکن ہم پھر بھی ان تفسیری حوالہ جات کو آپ کے سامنے پیش کررہے ہیں تاکہ اس بات کی وضاحت ہو جائے کہ ان تفاسیر میں قرآن و حدیث کی اصل تعلیم بیان کی گئی ہے یا ان سے رو گردانی کرتے ہوئے صرف اپنے پیشے کا دفاع کیا گیا ہے۔ملاحظہ کریں ابن کثیر کی تفسیر:

’’ میری آیتوں کے بدلے تھوڑا مول نہ لو یعنی دنیا کے بدلے جو قلیل اور فانی ہے، میری آیات پر ایمان لانا اور میرے رسول کی تصدیق کر نا نہ چھوڑو اگرچہ دنیا ساری کی ساری بھی مل جائے جب بھی وہ آخرت کے مقابلے میں تھوڑی،بہت تھوڑی ہے، اور یہ خود ان کی کتابوں میں بھی موجود ہے۔ سنن ابو داؤد میں ہے رسول اﷲ ا فرماتے ہیں، جو شخص اس علم کو جس سے اﷲ کی رضامندی حاصل ہوتی ہے اس لئے سیکھے کہ اس سے دنیا کمائے وہ قیامت کے روز جنت کی خوشبو نہ پائے گا۔علم سکھانے کی اجرت بغیر مقرر کئے ہوئے لینا جائز ہے، اسی طرح علم سکھانے والے علماء کو بیت المال سے لینا بھی جائز ہے تاکہ وہ خوش حال رہ سکیں اور اپنی ضروریات پوری کرسکیں۔۔۔‘‘(صفحہ ۱،۷۲)

اس کی دلیل میں حافظ ابن کثیر نے سانپ کے ڈسے ہوئے پر دم والی اور اپنے آپ کو ھبہ کردینے والی ایک صحابیہ رضی اﷲ عنہا کے قرآن کے عوض نکاح والی روایت پیش کی(جس کی تفصیل آگے آرہی ہے)۔

مفتی جابرنے اس آیت کی یہ تشریح بیان کی تھی کہ یہ آیت ان لوگوں کے لیے ہے جو اﷲ کے نازل کردہ احکام کوچھپا کر دنیاوی منفعت حاصل کرتے ہیں لیکن اس کی تائید میں پیش کردہ ابن کثیر کی مذکورہ بالاتفسیر میں ایسی کوئی بات بیان ہی نہیں کی گئی۔گویا مفتی صاحب نے اپنے حق میں جو تشریح پیش کی تھی، اس کی رو سے بھی خودوہی جھوٹے ٹھہرے! اب کوئی بتائے کہ موصوف کی بیان کردہ تشریح کو صحیح سمجھیں یاان کی طرف سے پیش کردہ ابن کثیر کی تشریح ؟بہتر ہے کہ اس کا فیصلہ خودموصوف ہی فرمادیں ۔

ابن کثیر کی مذکورہ تفسیر میں ابوداؤد کی ایک حدیث کا حوالہ دیا گیا ہے کہ

’’ جو شخص اس علم کو جس سے اﷲ کی رضامندی حاصل ہوتی ہے، اس لئے سیکھے کہ اس سے دنیا کمائے وہ قیامت کے روز جنت کی خوشبو تک نہ پا سکے گا‘‘

یہ قرآن و حدیث کا ہی علم ہے جس سے اﷲ کی رضا حاصل ہوتی ہے۔اسی لیے نبیﷺ نے فرمایا :

اقرء وا القرآن ولا تغلوا فیہ ولا تجفوا عنہ ولا تأکلو بہ ولا تستکثروا بہ

(مسند احمد: جلد 5،صفحہ 444)

’’ قرآن پڑھو اور اس میں غلو نہ کرو اور اس سے اعراض نہ کرو، اس کو ذریعہ معاش نہ بناؤ اور نہ ہی اس سے بہت سے دنیاوی فوائد حاصل کرو‘

جس کسی نے یہ علم اس لیے حاصل کیا کہ اسے سمجھے، اس کے مطابق عمل کرے، اپنے گھر والوں، خاندان والوں اور دوسرے لوگوں کو اس کی فی سبیل اﷲ تعلیم دے، توبے شک وہ اﷲ کی رضاحاصل کرلے گا(ان شاء اللہ)اور اسی بنیاد پرمالک کائنات اس کی مغفرت فرماتے ہوئے اسے جنت میں داخل فرمائے گا۔ اس کے برعکس جو شخص اﷲ کی رضا حاصل کرنے والا یہ ذریعہ ایک پیشے میں بدل دے تو ایسے شخص کی اﷲ کے یہاں مغفرت کا کوئی سوال ہی نہیں پیدا ہوتا، ایسا شخص جنت کی خوشبو بھی نہ پا سکے گا (اس کی تفصیل آگے آرہی ہے)۔

کذب بیانیاں

حافظ ابن کثیر نے اپنی محولہ بالا تفسیر میں ’’میری آیات کو نہ بیچو ‘‘ کو ’’میری آیات پر ایمان لانا اور میرے رسول کی تصدیق کرنا نہ چھوڑو‘‘ میں تبدیل کردیا۔لیکن ساتھ ہی ابوداؤد کی حدیث بھی بیان کر گئے کیونکہ فی الحقیقت ان سب کے تحت الشعور میں یہ بسا ہوا ہے کہ دینی امور پر اجرت لینا حرام ہے لیکن ان لوگوں کی جرأت ملاحظہ فرمائیں کہ اس واضح حدیث کو بیان کرنے کے بعد لکھا پھر بھی وہی جو اجرت کو ثابت کرنے کے لیے لکھنا بہرحال ان کی مجبوری تھا :

’’ علم سکھانے کی اجرت بغیر مقرر کئے ہوئے لینا جائز ہے، اسی طرح علم سکھانے والے علماء کو بیت المال سے لینا بھی جائز ہے تاکہ وہ خوش حال رہ سکیں اور اپنی ضروریات پوری کرسکیں۔۔۔

‘‘ قرآن و حدیث کے دوٹوک بیان کے بعد ان کا یہ کہنا کیا اس بات کو واضح نہیں کرتا کہ یہ لوگ کس قدر قرآن و حدیث پر ایمان رکھنے والے ہیں؟

قرآن و حدیث کے دوٹوک بیان کے بعد ان کا یہ کہنا کیا اس بات کو واضح نہیں کرتا کہ یہ لوگ کس قدر قرآن و حدیث پر ایمان رکھنے والے ہیں؟

یہاں ایک اور بات بھی قابل توجہ ہے کہ اگر بقول مفتی موصوف حق کو چھپانا اور اپنے ہاتھ سے لکھ کراللہ سے منسوب کردینااور اس کے عوض اجرت وصول کرناہی زیربحث آیت کا موضوع ہے تو پھرابن کثیرکو گھماپھراکر یہ کیوں کہنا پڑا کہ علم سکھانے کی اجرت بغیرمقرر کیے لینا جائز ہے۔۔۔انہیں تو سیدھا سیدھا یہی کہنا چاہیے تھا کہ ہرطرح سے اجرت جائز ہے سوائے ان دوباتوں کے جو مفتی موصوف نے بیان کی ہیں یعنی حق کو چھپانا اور اپنے ہاتھ سے لکھ کر اللہ سے منسوب کردینا۔ دینی امور پر اجرت کے جواز میں مذکورہ صدرتفسیر ابن کثیرمیں سانپ کے ڈسے ہوئے پر دم کرنے اور ایک صحابیہ رضی اﷲ عنہا کے قرآن کے عوض نکاح کرنے سے متعلق روایات سے استدلال کیا گیاتھا۔ قرآن و حدیث کے واضح حکم کے برخلاف، بخاری کی ان دو احادیث سے انہوں نے جوازِ اجرت کے اپنے باطل عقیدے کا استخراج کیا ہے(جس کی حقیقت ہم نے اپنی کتاب میں وضاحت کے ساتھ پیش کردی ہے)۔ افسوس کہ شیطان نے انہیں گمراہی کی راہ پر بہت دور لا کر پھینک دیا ہے۔ عبادہ بن صامت ؓ والی روایت پر بحث کرتے ہوئے ابن کثیرلکھتے ہیں:

’’ ان دونوں احادیث کا مطلب یہ ہے کہ جب اس نے خالص اﷲ کے واسطے کی نیت سے سکھایا پھر اس پر تحفہ اور ہدیہ لے کر اپنے ثواب کو کھونے کی کیا ضرورت ہے؟ اور جبکہ شروع ہی سے اجرت پر تعلیم دی ہے تو پھر بلاشک و شبہ جائز ہے جیسے اوپر کی دونوں حدیثوں میں بیان ہو چکا ہے۔واﷲ اعلم ( صفحہ ۷۱،۷۲)

ملاحظہ فرمایا کہ حافظ صاحب نے کیسی ظریفانہ تشریح فرمائی ہے۔ان کی اس تشریح کے مطابق تعلیم القرآن دو صورتوں پر دی جا سکتی ہے: نمبر( ۱) فی سبیل ﷲ،یعنی صرف حصول ثواب کے لیے؛ اور نمبر(۲)فی سبیل المال، یعنی حصول معاش کے لیے۔ پہلی صورت میں کوئی دنیاوی معاوضہ یا ھدیہ لینا چاہے تو یہ جائز نہیں ہوگا البتہ دوسری صورت میں اگرکوئی دنیا کمانے کے لیے تعلیم القرآن دے تو اس پر معاوضہ لینابالکل جائز ہے۔ (فکلوہ ھنیئا مریئا)مفتی موصوف جواب دیں کہ کیا یہی قرآن و حدیث کی تعلیم ہے؟ حافظ صاحب نے خودہی تویہ حدیث بیان کی ہے کہ وہ علم جو اﷲ کی رضا کا سبب بنتا ہے، کوئی دنیا کمانے کے لیے سیکھے گا تو جنت کی خوشبو بھی نہ پا سکے گا۔ گویا کہ ایسا علم اجرت لے کرسکھانا تو دور کی بات، اس بنیاد پر اس کا سیکھنا ہی جنت حرام کردیتا ہے۔ قارئین ! آپ کو یقیناًاندازہ ہو گیا ہوگا کہ یہ مفسر ،قرآن و حدیث بیان کررہے ہیں یا اپنی روزی کو جائز قرار دینے کا جواز کشید کررہے ہیں؟کیا یہ چند ٹکوں کے لیے حق کو چھپانے والا اندازنہیں؟(ان کی اس تحریر پر ان شاء اﷲ آگے مزیدبحث کی جائے گی)۔

نبی صلی اللہ علیہ و سلم پر بدترین بہتان

مولوی موصوف نے محمود آلوسی کی بھی ایک تحریر کا حوالہ دیا ہے :

’’ اور ( تعلیم القرآن پر اجرت کے عدم جواز پر) جو احادیث روایت کی گئی ہیں وہ صحیح نہیں ہیں اور صحیح حدیث میں آتا ہے کہ صحابہ کرام رضوان اﷲ علیہم اجمعین نے عرض کیا کہ اے اﷲ کے رسول، ہم تعلیم القرآن پر اجرت لے سکتے ہیں؟ پس آپ نے فرمایا کہ بہترین اجرت وہ ہے جو کتاب اﷲ پر حاصل کی جائے‘‘ ( صفحہ ۷۲،۷۳)

جب کتاب اﷲ سے تمسک ختم ہوجائے اور ایمان کی بنیاد محض اپنے اسلاف ہی کی تحریریں بن جائیں تو پھر انسان اسی طرح بھٹکتا ہے جیسا کہ یہ مولوی موصوف۔جناب نے ایسی ہی تحریروں پر ایمان لا کر قرآن و حدیث کے حکم کا انکار کیا ہے۔ جو کچھ اس محولہ تحریر میں بیان کیا گیا ہے، وہ سراسر جھوٹ اور رسول اﷲا پرافتراء وبہتان ہے۔ مفتی موصوف ذرا حوالہ تو دیں کہ یہ کس حدیث کے الفاظ ہیں کہ’’صحابہ کرام رضوان اﷲ علیہم اجمعین نے عرض کیا کہ اے اﷲ کے رسول، ہم تعلیم القرآن پر اجرت لے سکتے ہیں؟ پس آپ نے فرمایا کہ بہترین اجرت وہ ہے جو کتاب اﷲ پر حاصل کی جائے‘‘۔اﷲ کے عذاب سے کیسی بے خوفی ہے کہ اپنی طرف سے الفاظ گھڑ لیے جائیں اور اسے حدیث کہہ کر پیش کیا جائے! ایسے ہی طرز عمل کے لیے اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے :

فویل للذین یکتبون الکتب بایدھم ثم یقولون ھذا من عند اﷲ لیشرو بہ ثمنا قلیلا فویل لھم مما کتبت ایدیھم وویل لھم مما یکسبون

( البقرۃ: 76)

’’پس بربادی ہے ان لوگوں کے لیے جو کتاب اپنے ہاتھوں سے لکھتے ہیں پھر کہتے ہیں یہ اﷲ کی طرف سے ہے تاکہ اس ذریعے کچھ تھوڑا سا معاوضہ حاصل کرلیں۔ پس باعث تباہی ہے ان کے لیے جو ان کے ہاتھوں نے لکھا ہے اور موجب ہلاکت ہے یہ کمائی جو انہوں نے کی ہے‘‘

آیت مذکورہ ان موصوف پر پوری طرح صادق آتی ہے کہ انہوں نے بھی یہود کی طرح جھوٹ گھڑا تو محض اس لیے تاکہ دین کے ذریعے دنیاوی منفعت کو حلال ثابت کیا جائے۔ الفاظ خود گھڑے اور اسے رسول ا سے اس طرح منسوب کردیا کہ گویا یہی اﷲ کا حکم ہے اور پھر تعلیم القرآن پر اجرت ’’حلال‘‘ ہو گئی اور اس سلسلے میں بیان کردہ تمام احادیث کو ضعیف قرار دے دیا! اگر واقعی کوئی ایسی روایت موجود ہے تو مفتی صاحب اسے ضرور پیش کریں ورنہ اپنے کتابچے میں پیش کردہ اس بدترین جھوٹ پر اﷲ سے معافی مانگیں اور اپنے مقلدوں پر بھی واضح کریں کہ انہوں نے جو کچھ پیش کیا تھا وہ محض جھوٹ اور فریب تھا۔ اور اگر اتنی جرأت نہیں کہ ان بھولے لوگوں پر اپنے مفتی ہونے کا بھرم بھی تو قائم رکھنا ہے تو پھراس فرمانِ رسول ا کا مصداق بننے کے لیے تیار ہوجائیں کہ

مَنْ یَّقُلْ عَلَیَّ مَالَمْ اَقُلْ فَلْیَتَبَوَّأ مَقْعَدَہُ مِنَ النَّار لَاتَکْذِبُوْا عَلَیَّ فَاِنَّہٗ مَنْ کَذَبَ عَلَیَّ فَلْیَلْجِ النَّارَ مَنْ کَذَبَ عَلَیَّ فَلْیَتَبَوَّأ مَقْعَدَہٗ مِنَ النَّارِ

(صحیح بخاری: کتاب العلم، باب اثم من کذب ۔۔۔ )

یعنی سے جھوٹ منسوب کرنے والا جہنم میں جائے گا اور جو نبیﷺ سے وہ بات منسوب کرے جو کہ نے نہیں کہی تو وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنائے۔

کذب درکذب

مفتی صاحب نے دیو بندیوں کے خلاف حال ہی میں ایک کتابچہ لکھا ہے جس میں سورہ نحل کی یہ آیت بھی پیش کی ہے کہ

انما یفتری الکذب الذین لا یومنون بایت اﷲ ج و اولئک ھم الکذبون

( النحل: 105 )

’’ صرف وہی لوگ جھوٹ گھڑتے ہیں جو اﷲ کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے اور یہی لوگ جھوٹے ہیں‘‘

پھر مسلم کی ایک حدیث بھی نقل کی ہے کہ:

وَاِیَّاکُمْ وَ الْکَذِب

’’ اور تم سب جھوٹ سے بچو

اور اس کے بعد لکھا ہے :

’’ ان واضح دلائل کے باوجود بہت سے لوگ دن رات مسلسل جھوٹ بولتے،اکاذیب و افترأت گھڑتے،سیاہ کو سفید اور سفید کو سیاہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں، حالانکہ عام انسانوں کے نزدیک جھوٹ بولنا انتہائی برا کام اور مذموم حرکت ہے‘‘۔(قرآن و حدیث میں تحریف:صفحہ 10)

مفتی موصوف کے نزدیک یہ تمام تر گناہ دیو بندیوں کے لیے ہے، اہلحدیثوں کے لیے ہر گز نہیں!خواہ یہ حدیث کے نام پر پر جھوٹ گھڑیں اور اسے پھیلائیں،اس سے ان کے ایمان پر کوئی آنچ نہیں آتی! ؂ نہ توحیدمیں فرق کچھ اس سے آئے ۔۔۔نہ اسلام بگڑے نہ ایمان جائے اس موقعہ پر ہمیں کا یہ فرمان یاد آرہا ہے کہ: اَمَااِنَّہٗ صَدَقَکَ وَھُوَکَذُوْب(یعنی حقیقتاًاس [شیطان]نے تم کو سچی بات بتلائی ہر چند کہ وہ ہے بہت بڑا جھوٹا)۔

موصوف فرماتے ہیں کہ

’’ صرف وہی لوگ جھوٹ گھڑتے ہیں جو اﷲ کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے اور یہی لوگ جھوٹے ہیں‘‘

ہم موصوف کی اس بات سے سو فیصد متفق ہیں ۔ اگر قرآن کی زیربحث آیت پر ان کا ایمان ہوتا تو اس کے ردّکے لیے موصوف جھوٹ پر مبنی یہ دلائل پیش نہ کرتے! ایک جھوٹ گھڑتا ہے اور دوسرا اسے پھیلاتا ہے ! خود اپنی تحریر میں لکھتے ہیں کہ نے فرمایا کہ آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے اتنا کافی ہے کہ وہ بغیر تحقیق کے بات آگے بڑھا دے۔ اب موصوف سے پوچھا جائے کہ’’

حضرت، آپ نے اس جھوٹ کو پھیلانے سے پہلے اس کی تحقیق کر لی تھی! ورنہ لوگ ایسے موقعہ پر یہی کہتے ہیں کہ ’’ جھوٹے لوگ ، جھوٹی باتیں‘‘۔فاعتبروا یا اولی الابصار

لاجواب تشریح

موصوف نے اپنے باطل دلائل کے سلسلے میں ثناء اﷲ پانی پتی صاحب کی تحریر کا بھی حوالہ دیا ہے۔ذرااسے بھی پڑھیں اور مفسر کی عقل پر ماتم کریں: ’’ولا تشترو بایٰتی ( اور نہ لو میری آیتوں کے عوض) یعنی میری آیتوں پر ایمان لانے کے بدلے میں دنیا کا سامان نہ لو یا یہ معنی کہ تورات کی ان آیات کے بدلہ میں جن میں محمد ﷺ کی نعت (تعریف) مذکور ہے دنیا کا سامان نہ لو۔۔۔۔۔۔ شان نزول اس آیت کا یہ ہے کہ یہود کے علماء اور رؤسا کو جہلا اور عوام سے آمدنی بہت ہوتی تھی ان بیچاروں سے سالانہ وظیفہ مقرر کر رکھا تھا اور ہر قسم کے مال کھیت، مویشی اور نقد سب چیزوں سے حصہ لیتے تھے اب اسلام پھیلاتو ڈرے کہ اگر ہم نے محمدا کی نعت ظاہر کی اور ان کا اتباع اختیار کر لیا تو یہ سب آمدنی ہمارے ہاتھ سے جاتی رہے گی اس لئے انہوں نے دنیا کو دین پر ترجیح دی اور دین چھوڑبیٹھے اور توراۃ میں آپ کی نعت کو بدل دیا اور آپ کے اسم مبارک کو محو کر دیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی‘‘ (صفحہ 73 )

قارئین!مذکورہ صدرتفسیرمیں ابن کثیر نے’’ میری آیات کو نہ بیچو ‘‘ کو ’’میری آیات پر ایمان لانا اور میرے رسول کی تصدیق کرنا نہ چھوڑو‘‘ میں تبدیل کردیا تھا اوران پانی پتی صاحب نے اسے ’’ میری آیتوں پر ایمان لانے کے بدلے میں دنیا کا سامان نہ لو‘‘ اور ’’تورات کی ان آیات کے بدلہ میں جن میں محمدﷺکی نعت (تعریف) مذکور ہے دنیا کا سامان نہ لو‘‘ میں تبدیل کردیا۔گویا مفتی جابر کی پیش کردہ تشریح خود ان کے اکابرین کی پیش کردہ تشریحات سے بالکل مختلف ہے۔ اسے کہتے ہیں ’’ جتنے منہ اتنی باتیں‘‘۔ یہ مسلکی مفسرین چونکہ مفسر قرآن محمدﷺ کی تفسیر پر ایمان نہیں لائے تولہٰذااب ان میں سے ہر ایک کی ایک نئی تفسیرہی ہوگی!

ثناء اﷲ صاحب نے اس کی پہلی تفسیر جو بیان کی ہے وہ یہ ہے کہ اﷲ کی آیات پر ایمان لانے کے بدلے میں معاوضہ لیاجاتھا۔بات واضح نہیں ہوتی کہ یہ مفسر صاحب آخر کہناکیا چاہ رہے ہیں؟کیا یہ کہ جب ان لوگوں کو اﷲ کی آیات پر ایمان لانے کی دعوت دی جاتی تھی تووہ پہلے اس کا معاوضہ طلب کرتے تھے؟ بات کچھ بن نہیں پا رہی ! دریں صورت سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ زیربحث ’’علماء‘‘ انسانوں کو اجرتاًاﷲ کی کتاب کی تعلیم دیتے ہیں یا ’’ لوگ‘‘ ان علماء کو پیسہ دیتے ہیں کہ تم اﷲ کی فلاں آیت پر ایمان لے آو؟ مثل مشہور ہے ’’ جیسے تھے گھرکے ویسے آئے ڈولی چڑھ کے‘‘(یعنی جیسے گھروالے تھے ویسی ہی بہوآئی)؛ جیسے موصوف خود ہیں، تشریحات بھی انہوں نے اسی طرح کی پیش کی ہیں۔یہ سارا ایک ہی کنبہ ہے ،سب میں ایک ہی بات مشترک ہے : ’’ کمائی ، کمائی اور بس کمائی‘‘۔

خودیہ مفسر بھی اپنی اس نرالی تفسیر سے مطمئن نہیں تھے اسی لیے فرمایاکہ ’’ یا یہ معنی کہ تورات کی ان آیات کے بدلہ میں جن میں محمد ﷺکی نعت (تعریف) مذکور ہے دنیا کا سامان نہ لو‘‘ ’’یا‘‘ کا استعمال بتاتا ہے کہ مفسر خود شک میں پڑ ا ہوا ہے کہ اس آیت کا کیا کروں؟ کہاں لے جاؤں ایسی آیت جو قرآن پر اجرت کو حرام قرار دیتی ہو؟ چناچہ اب مفسر صاحب نے یہودی علماء کا ذکر کیا کہ وہ اپنے پیروکاروں کو لوٹتے تھے ( جس طرح یہ مسلک پرست مولوی اور پیرلوٹتے ہیں)؛ جب اسلام پھیلا تو انہیں ڈر ہوا کہ یہ سب کچھ ہمارے ہاتھ سے نکل جائے گا چنانچہ انہوں نے دین پر دنیا کو ترجیح دی اور نبی ا کی ’’ نعت‘‘ کو چھپا دیا، اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔

مفتی جابر صاحب جب تک اپنے اکابرین کی تحریروں کو مثل وحی و قرآن سمجھتے رہیں گے، گمراہی اسی طرح ان کا مقدربنی رہے گی۔موصوف کے پاس اپنے اکابر کی اس تفسیر کو قرآن کی کسی آیت یا حدیث سے ثابت کرنے کی کوئی دلیل نہیں کہ یہودی علماء نے نبی ا کی نعت کو چھپا کر جو معاوضہ لیا تھا ،اس آیت میں اس کی طرف اشارہ ہے اور یہی اس آیت کا شان نزول ہے؟ مزیددیکھیے کہ اہلحدیث عالم حافظ صلاح الدین صاحب اس بابت کیا فرماتے ہیں جس کو مفتی موصوف نے اپنے کتابچے میں نقل کیا ہے:

’’ تھوڑی قیمت پر فروخت نہ کرو کا مطلب یہ نہیں کہ زیادہ معاوضہ مل جائے تو احکام الہی کا سودا کرلو بلکہ مطلب یہ ہے کہ احکام الہی کے مقابلے میں دنیاوی مفادات کو اہمیت نہ دو۔ احکام الٰہی تو اتنے قیمتی ہیں کہ ساری دنیا کا مال و متاع بھی ان کے مقابلے میں ہیچ اور ثمن قلیل ہے۔ آیت میں اصل مخاطب اگرچہ بنی اسرائیل ہیں لیکن یہ حکم قیامت تک آنے والوں کے لئے ہے جو بھی ابطال حق یا اثبات باطل یاکتمان علم کا ارتکاب اور احقاق حق سے محض طلب دنیا کے لئے گریز کرے گا وہ اس وعید میں شامل ہوگا‘‘۔(صفحہ 74)

موصوف نے حافظ صلاح الدین کاایک اور تفسیری حوالہ سورہ بقرہ آیت نمبر 79 سے بھی دیا ہے حالانکہ وہ بھی ایک بالکل مختلف آیت ہے اور اس میں اﷲ تعالیٰ نے ان لوگوں کاذکرکیا ہے جو اپنی طرف سے عقائد گھڑتے اور اسے اﷲ کی ذات سے موسوم کرکے اسے اپنی کمائی کا ذریعہ بناتے ہیں۔اس آیت کازیربحث آیت سے قطعاًکوئی تعلق نہیں۔حافظ موصوف نے ’’بایٰتی‘‘ کو ’’ احکام الہٰی‘‘ میں تبدیل کردیا،’’ اجرت ‘‘ کو ’’احکام الٰہی کا سودا ‘‘قرار دے دیااور پھر مزید تفسیر میں اسے’’ احکام الٰہی کا چھپانا‘‘ بنا ڈالا۔الغرض ان پیشہ ور مفسرین نے اس آیت کے اصل مدعا کو اِدھرُ ادھر کی ہانک کر بدلنے کی کوشش کی ہے۔ دراصل سور ہ بقرہ کی اس آیت سیقبل و بعدکی آیات اس سے ملتی جلتی ہیں لہٰذا ان مفسرین نے اس اکیلی آیت کی تفسیر بیان کرنے کے بجائے ان آیات کی ایک مشترکہ تفسیر بیان کرنے کی کوشش کی ہے تاکہ حق واضح نہ ہو سکے ۔لیکن سورہ مائدہ میں جہاں یہ حکم تنہا نازل ہواہے،ان مفسرین میں سے کسی نے بھی اس کی کوئی تفسیر بیان نہیں، کیونکہ یہاں دھوکہ دینے کے لیے کچھ نہیں مل رہا !ملاحظہ فرمائیے :

فلا تخشوا الناس واخشونی ولا تشتروا بایتی ثمنا قلیلا ط ومن لم یحکم بما انزل اﷲ فاولئک ھم الکٰفرون

( المائدۃ:44 )

’’ اب تمہیں چاہیے کہ لوگوں سے نہ ڈرو اور صرف میرا ڈر رکھو،میری آیات کو تھوڑے مول پر نہ بیچو، جو لوگ اﷲ کی اتاری ہوئی وحی کے ساتھ فیصلے نہ کریں وہ ( پورے اور پختہ) کافر ہیں‘‘ ( ترجمہ: محمد جونا گڑھی،صفحہ 305 )

اس آیت میں اللہ کی کتاب پر اجرت لینے سے منع کرنے کے ساتھ ساتھ ا ﷲ تعالیٰ نے اس قانون کو بھی بیان فرما دیا کہ ہر معاملے میں تمہیں صرف اس چیز کے مطابق فیصلہ کرنا ہے جو اﷲ کی طرف سے نازل کیا گیا ہے، اگر تم ایسے نہیں کرتے تو جان لو کہ ایسے لوگ کافر ہیں ۔

انبیاء علیہم السلام پر ’’حرام‘‘اور انبیاء کے وارثوں پر ’’ حلال‘‘!

انسانیت کی ہدایت کے لیے قرآن مجید میں انبیاء ں کے واقعات بیان کیے گئے ہیں۔ انبیاء ں نے اپنی قوم کے سامنے اس بات کو رکھا کہ ہم جو تمہارے سامنے اﷲ کا کلام پیش کررہے ہیں تو ہم اس پر تم سے کسی اجر کے طالب نہیں بلکہ اس کا اجر تو ہمارے رب کے ذمے ہے۔نبیﷺ کو بھی اسی بات کا حکم دیا گیا

قل لااسلکم علیہ اجر ان ہو الا ذکری للعالمین

( الانعام:90 )

’’ کہدو کہ میں تم سے اس (قرآن) پر اجرت نہیں مانگتا ،یہ تو تمام عالم کے لیے نصیحت ہے‘‘

قرآن کی یہ آیات بھی ولا تشتروا بایٰتی ثمنا قلیلا ہی کی تشریح کر رہی ہیں کہ اﷲ کے کلام کے عوض کسی بھی قسم کا اجر لینا بالکل جائز نہیں۔مگرمفتی موصوف نے اپنی ہٹ دھرمی کی روش کو قائم رکھا اور فتویٰ صادر فر مایاکہ: ’’دراصل کفار و مشرکین کو دین کی دعوت دینا انبیاء علیہم السلام پر فرض عین تھا۔ اس لئے وہ اس دعوت و تبلیغ پر اجرت نہیں لیتے تھے‘‘(صفحہ 76 )

ان کی یہ تحریر غور سے پڑھیں کہ یہ کام انبیاءں پر ’’فرض‘‘ تھا اس لیے وہ اس پر اجرت نہیں لیتے تھے۔یعنی موصوف کم ازکم اس بات کے تو قائل ہیں کہ فرض عبادت پر اجرت نہیں لی جاسکتی،گویاکہ یہ امام کی تنخواہ کو حرام سمجھتے ہیں کیونکہ امامت اسی صلوٰۃ کی ہوتی ہے جسے اﷲ نے فرض کیا ہے!

ہمارا اس بات پر مکمل ایمان ہے کہ فرائض کے علاوہ قرآن و حدیث کا پڑھنا، اس پر عمل کرنا، دعوت الی اﷲ ، جہاد فی سبیل ا ﷲ و دیگر امور جو ہم اس امید پر کر رہے ہیں کہ آخرت میں ہمیں ان کا ثواب ملے گا،ان سب پر دنیا میں کسی بھی قسم کا معاوضہ لینا حرام ہے۔اﷲ تعالیٰ نے ا س دینی خدمت کو آخرت کے لیے ایسی تجارت قرار دیا ہے جس میں خسارہ کا کوئی اندیشہ نہیں۔ اﷲ ان کے اجر پورے کے پورے عطا فرمائیگااور اپنی طرف سے بڑھا چڑھا کر مزید نوازے گا ۔(فاطر:29/30) انبیاءں کا ہر عمل صرف اور صرف اﷲ کی رضا کے لیے ہوتا ہے۔ ان کے ساتھ جوا صحاب ہوتے ہیں وہ بھی اسی انداز کو اپناتے ہیں۔ بعد میں ان کی قوم میں ایسے ناخلف پیدا ہوتے ہیں جو دین میں بگاڑ پیدا کردیتے ہیں۔ یہی سب کچھ بنی اسرائیل میں بھی ہوا،اور ان کے علماء نے دین کو تجارت بنالیا،چنانچہ اﷲ نے انہیں خبردار کیاکہ اللہ سے ڈرواور ولا تشتروا بایٰتی ثمنا قلیلا ۔ اگر دعوت الی اﷲ صرف انبیاء ں پر فرض ہوتی اور دیگر کے لیے اس کی کمائی ’’ حلال‘‘ ہوتی توان علماء کوبھی اس پر اجرت لینے سے منع نہیں کیا جاتا۔ علماء کو مخاطب کر کے اﷲ کی آیات پر اجرت نہ لینے کا حکم ،موصوف کی اس تمام عیاری کی قلعی اتار دیتا ہے جو وہ اس سلسلے میں فرما رہے ہیں۔جس چیز سے انبیاء ں ساری زندگی بچتے رہے، وہ چیزآج ان پیشہ ور مولویوں کا لقمہ ترہے، شیرمادرہے، گھٹی میں ملا ہوا ہے، پھر کس منہ سے یہ خود کو انبیاء کا وارث کہلواتے ہیں!

سورہ انعام کی محولہ بالاآیت میں اﷲ تعالیٰ نے نبی ا سے بھی اسی بات کوکہلوا یا کہ میں اس قرآن پر تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا ۔نبی ا کی اس سنت کو صحابہ کرام ث نے بھی اختیار کیا۔ایسا نہیں ہوا کہ صرف نبی انے قرآن کی تبلیغ فی سبیل ا ﷲ فرمائی ہو اور صحابہ کرام کو اجرت دے کر اس تبلیغ کے لیے بھیجا ہو! موصوف احادیث کے پورے ذخیرے سے کوئی ایسی حدیث دکھادیں کہ نبی ا صحابہ کو اجرت پر تبلیغ کے لیے بھیجتے تھے۔ حدیث میں آتا ہے کہ نے تعلیم القرآن کے لیے معاذ اور ابو موسیٰ الاشعری رضی اﷲ عنہما کویمن بھیجا (مسند احمد:اول مسند الکوفین)۔ موصوف بتائیں کہ ان صحابہ کو اس دینی خدمت کا کتنا معاوضہ دیا گیا تھا؟ کیا موصوف کے سامنے بئرمعونہ کے ستر قراء کی شہادت کا واقعہ نہیں! یہ صحابہ کرام ث (معاذاللہ)ان مولویوں کی طرح کمائی پر نکلے تھے یا اپنے رب کے اجر کی تلاش میں؟ کی وفات کے بعد بھی صحابہ کرام ث نے تو اسی بات کو اپنایا ہوا تھا جس کی نے تعلیم دی تھی ۔ خیرالقرون کے بعد آنے والوں نے دین میں بگاڑ پیدا کرنا شروع کیا جیسا کہ نبی اﷺنے پیشین گوئی فرمادی تھی

مَا مِنْ نَبِیٍّ بَعَثَہُ اﷲُ فِیْ اُمَّۃٍ قَبْلِیْ اِلَّا کَانَ لَہٗ مِنْ اُمَّتِہٖ حَوَارِیُّوْنَ وَ اَصْحَابٌ یَأخُذُوْنَ بِسُنَّتِہٖ وَ یَقْتَدُوْنَ بِاَمْرِہٖ ثُمَّ اِنَّھَا تَخْلُفُ مِنْ بَعْدِھِمْ خُلُوْفٌ یَّقُوْلُوْنَ مَا لَا یَفْعَلُوْنَ وَ یَفْعَلُوْنَ مَا لَا یُؤْ مَرُوْنَ فَمَنْ جَا ھَدَھُمْ بِیَدِہٖ فَھُوَ مُؤْمِنٌ وَّمَنْ جَا ھَدَھُمْ بِلِسَانِہٖ فَھُوَ مُؤْمِنٌ وََّمَنْ جَاھَدَھُمْ بِقَلْبِہٖ فَھُوَ مُؤْمِنٌ وَّلَیْسَ وَرَآءَ ذَالِکَ مِنَ الْاِیْمَانِ حَبَّۃُخَرْدَلٍ

(مسلم:کتاب الایمان،باب کون النھی۔۔۔و ینقص)

’’اﷲ تعالی نے مجھ سے پہلے کوئی نبی ایسا مبعوث نہیں فرمایا کہ جس کی امت میں اس کے حواری اور اصحاب نہ ہوں، جو اس کی سنت پر چلتے اور اس کے حکم کی پیروی کرتے ہوں۔ پھر ان کے بعد ان کے ایسے جا نشین پیدا ہوتے ہیں جو ایسی باتیں کہتے ہیں جو کرتے نہیں، اور وہ کام کرتے ہیں جس کا انہیں حکم نہیں دیا گیاہوتا۔ پھر جو کوئی ان سے اپنے ہاتھ سے لڑے تو وہ مومن ہے، اور جوکوئی اپنی زبان سے ان سے لڑے تو وہ بھی مومن ہے، اور جوان سے اپنے دل سے لڑے (یعنی دل میں برا جانے) تو وہ بھی مومن ہے ،اس کے بعد رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان نہیں‘‘

ان مسلک پرستوں نے کی اس حدیث کے خط کشیدہ الفاظ کاپوری طرح سے عملی نمونہ پیش کردیا ہے۔احادیث و تاریخ شاہد ہیں کہ صحابہ کرام ؓ میں سے کسی ایک نے بھی دین کو ذریعۂ معاش نہیں بنایا۔ تابعین اور تبع تابعین نے بھی اسے اﷲہی سے اجر کے حصول کا ذریعہ سمجھا۔ اس کے بعد جو لوگ پیدا ہوئے ،انہوں نے دین میں تبدیلیاں پیدا کرنا شروع کردیں۔ رفتہ رفتہ دین کو تجارت بنا لیا گیا۔اس امت کے مسلکی علماء نے اسی روش کو اپنا لیا جو علماء یہود کی سنت تھی۔خود مفتی جابر اپنی مولوی برادری کی اس لوٹ مار کی ایک جھلک دکھاتے ہیں:

’’جو مولوی حضرات اﷲ کا خوف دل سے نکال کرناجائز طریقہ سے مال و دولت اکٹھی کر رہے ہیں اور لوگوں کو دین کے نام پر بے وقوف بنا کر لوٹ رہے ہیں مثلاً میت کی مختلف رسومات، تیجا، دسواں، چا لیسواں،برسی،قرآن خوانی، گیارہویں۔ کونڈے، قبروں کے چڑھاوے ، غیر اﷲ کے نام کی نذر و نیاز وغیرہ کے نام سے انہیں لوٹ رہے ہیں، اسی طرح قرآن خوانی کی بھی مختلف صورتیں ہیں اور ہر ایک کی الگ الگ فیس مقرر ہے۔بعض حضرات پیر گدی نشین، عامل،اور مجاہدین بن کر لوگوں کو دین کے نام سے دھوکا دیتے ہیں اور اس طرح ان کے مال لوٹنے کے علاوہ ان کی خواتین کی عزتوں سے بھی کھیلتے ہیں۔ ایسے ہی مولوی اور پیروں کے متعلق اﷲ تعالیٰ کا ارشاد ہے

یاایہاالذین امنوا ان کثیرا من الاحبار و الرہبان لیا کلون اموال الناس بالباطل و یصدون عن سبیل اﷲ ( التوبۃ:34 )

’’ اے ایمان والو: ( یہودیوں کے) اکثر عالم اور درویش لوگوں کے مال ناجائز طریقوں سے کھاتے اور اﷲ کے راستے سے روکتے ہیں۔‘

یہودیوں کے علماء اور درویشوں ( پیروں) کی طرح آج اس امت مسلمہ کے مولوی اور پیر بھی لوگوں کے مال ناجائز طریقوں سے کھاتے ہیں اور ان کے دین و ایمان کو بھی تباہ و برباد کررہے ہیں۔ عوام الناس کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے مولویوں اور پیروں کو پہچانیں اور ان سے دور رہیں ورنہ یہ لوگ مال و دولت بھی ان سے بٹوریں گے اور ان کی آخرت بھی تباہ و برباد کر ڈالیں گے‘‘۔ (صفحہ 80 )

اپنی اس تحریر میں مفتی موصوف نے مولویوں کے کئی ناجائز طریقوں کا ذکر کیا ہے جو انہوں نے لوگوں کا مال لوٹنے کے لیے اپنائے ہوئے ہیں لیکن امامت، اذان،تعلیم القرآن، تبلیغ دین وغیرہ کا کوئی ذکر اس لیے نہیں کیا موصوف خودبھی اس میں ملوث ہیں۔ مزید یہ کہ موصوف نے تعویذ پر اجرت کا بھی ذکر نہیں کیا اگرچہ یہ خود بھی اس کو شرک کہتے ہیں ،لیکن اس لسٹ میں تعویذفروشی کا ذکر اس لیے نہیں فرمایاکہ خود ان کے اپنے فرقہ اہلحدیث کے ایک گروہ کا وقاربھی مجروح ہوتا ہے جو تعویذ کے ذریعے اس ’’اوپر‘‘ کی آمدنی کے کاروبار میں ملوث ہے۔گویا قرآن و حدیث کے نام پر لوٹ مار کا یہ فتویٰ انہوں نے دیگر فرقوں پر تو نافذ کردیا لیکن ’’ گھر کے لوگوں‘‘ کو اس سے بچائے رکھاکہ کچھ ’’حق نمک‘‘ بھی توآخر ادا کرنا تھا! قرآن و حدیث کی وضاحت سے موصوف کی اس مغالطہ آرائی کا خاتمہ ہوگیا کہ قرآن کے ذریعے کی جانے والی تبلیغ صرف انبیاء ں پر فرض تھی اور اس وجہ سے وہ اس پر اجرت نہیں لے سکتے تھے لیکن اپنے آپ کووارث الانبیاء کہلوانے والے اسے شیر مادر سمجھ کر کھاپی سکتے ہیں!کیا خوب وارث ہیں کہ جس کے وارث ہونے کے دعویدار ہیں اس کے حرام کو اپنے لیے حلال بنائے بیٹھے ہیں!یہ فی الحقیقت انبیاء علیہ السلام کے تو نہیں ، کسی اور ہی کے وارث ہیں، شاید اپنے اسی ’’جد امجد‘‘ کے جس کا مشن بھی وہی لاضلنھم ولامنینھم ہے جو مولوی کا ہے کہ لیاکلون اموال الناس بالباطل و یصدون عن سبیل اللہ۔خودسوچ لو کہ تمہاری مماثلت کس سے ہے؟

ایک نرالا اصول

دینی امور پر اجرت کو جائز ٹھہرانے کی کوشش میں موصوف نے ایک ڈرامہ اور رچایاہے۔ ملاحظہ فرمائیے:

’’ آج بھی اگر کوئی شخص کفار و مشرکین کو اسلام کی طرف دعوت دے تو اس کے لیے اس کام پر کفار سے اجرت طلب کرنا جائز نہیں‘‘ ( صفحہ 77 )

ایک طرف لکھتے ہیں کہ انبیاءں پر تبلیغ فرض تھی اس لیے اس پر اجرت نہیں لیتے تھے، دوسری طرف ڈاکٹر لقمان سلفی کی تحریر پیش کرتے ہیں کہ’’

۔۔۔تعلیم القرآن اور تبلیغ احکام پر اجرت لینی جائز ہے۔۔۔‘‘ (صفحہ 76 )

اور اب کہتے ہیں کہ کافر کو تبلیغ پر اجرت طلب نہیں کرنی چاہیے!جب خود ہی حکم صادر کرتے ہیں کہ تعلیم القرآن پر اجرت جائز ہے، تو اب کافر کو تبلیغ کرنے پر یہ اجرت کیوں حرام ہوگئی؟ قرآن سے تعلیم دی جائے یا تبلیغ کی جائے یا احکامات بیان کیے جائیں،یہ علیحدہ علیحدہ باتیں نہیں ، ان سب کی بنیاد قرآن ہے۔مگر یہ موصوف منطقی توجیہات پیش کرکے اپنے مقلدین کو اس طرح الجھا دینا چاہتے ہیں کہ وہ اسی میں پھنسے رہیں اور مفتی صاحب ’’ مفت کی ‘‘ کھاتے رہیں۔

ذرا غورفرمائیے کہ اجرت کے جواز اور عدم جوازکے لیے پہلے معاملہ فرض اور غیر فرض کا بیان کیا گیااور اب معاملہ کافر اور مسلم کا ہوگیا! ان کی اس الجھی ہوئی تحریر نے ایک الجھن اور پیدا کردی کہ منافق کو تبلیغ کرنے پر اجرت کا کیا حکم ہوگا؟

اس لیے کہ وہ بظاہر تو مسلم بنا ہوتا ہے،لیکن ہوتا تواصل میں کافر ہی ہے۔

’’حالت سُکر‘‘کے اقوال

مفتی موصوف نے علامہ آلوسی کی ایک اور تحریرسورہ انعام کی زیرنظر آیت کے حوالے سے بھی پیش کی ہے ۔ ملاحظہ فرمائیے: ’’ اور اس آیت سے تعلیم اور تبلیغ احکام پر اجرت لینے کا جواز ثابت ہوتا ہے اور اس مسئلہ میں فقہاء کا طویل کلام مشہور ہے جسے بیان کرنے کی ضرورت نہیں‘‘(صفحہ 76 )

علامہ صاحب کی یہ تحریر پڑھ کر ایسا لگتا ہے کہ شایدحالت سکرمیں انہوں نے یہ لکھا ہے ورنہ کوئی انسان اپنی صحیح حالت میں تو یہ بات کہہ ہی نہیں سکتا۔ آیت مذکورہ میں اﷲ تعالیٰ اپنے نبیﷺ کو یہ حکم دے رہا ہے کہ کہدو کہ میں تم سے اس (تعلیم اور تبلیغ احکام کے) کام پر کوئی اجر نہیں مانگتا اورآلوسی صاحب کہتے ہیں کہ اس سے اجرت کاجواز ثابت ہوتا ہے ! واعجبا!مفتی موصوف نے اپنی حرام کمائی کو جائز ٹھہرانے کے لیے ’’ علماء کرام‘‘ کے اسطرح کے جو حوالے دئیے ہیں ، وہ واقعی بے مثل ہیں!

کم علمی یا دھوکہ دہی

قرآن پر اجرت کے جواز میں مفتی موصوف نے اسی طرح کی ایک اورانوکھی دلیل دی ہے۔ سورہ توبہ کی آیت نمبر 60پیش کی ہے کہ: ’’ صدقات تو دراصل فقیروں، مسکینوں اور ان کارندوں کے لیے ہیں جو ان (کی وصولی) پر مقرر ہیں‘‘ اور اس کے بعد تحریر فرمایا:

’’اﷲ تعالیٰ نے زکواۃ کی آٹھ مدیں بیان فرمائی ہیں جن میں تیسری مد ان لوگوں کے لئے ہے کہ جو اس کی وصولی پر مقرر کئے جاتے ہیں اور عامل بنائے جاتے ہیں زکوٰۃ وصول کرنے والوں کو ان کے اس کام کی باقاعدہ تنخواہ اور اجرت دی جاتی ہے زکوٰۃ ایک فرضی عبادت ہے جو لوگ اس کی وصولی کے لئے عامل مقرر ہوتے ہیں ان کی اجرت کا حکم بھی اس آیت میں بیان فرمایا گیا ہے اس سے ثابت ہوا کہ کسی فرضی عبادت پر بھی اجرت لی جاسکتی ہے‘‘ (صفحہ 45 )

ملاحظہ فرمائی ان مفتی صاحب کی ذو الوجہیت! قرآن کی ایک آیت (الانعام:90) پیش کی جاتی ہے تویہ فرماتے ہیں:

’’دراصل کفار و مشرکین کو دین کی دعوت دینا انبیاء علیہم السلام پر فرض عین تھا، اس لئے وہ اس دعوت و تبلیغ پر اجرت نہیں لیتے تھے‘‘

دوسری طرف خود ایک آیت پیش کر کے فرماتے ہیں: ’’اس سے ثابت ہوا کہ کسی فرضی عبادت پر بھی اجرت لی جاسکتی ہے‘‘

کیسے دورخے ہیں!اپنا مطلب ہو تو فرض پر اجرت لینا حلال ،ورنہ فرض پر اجرت لینا حرام !کاش مولوی صاحب اس بات کی وضاحت فرما دیتے کہ ان کی کونسی بات سچی ہے اور کون سی جھوٹی؟ ورنہ ان کے مقلدین بیچارے مخمصے ہی کا شکار رہیں گے کہ ان کی کس بات پر ایمان لائیں اور کسے ردّ کریں!اندھے مقلدین کی بات اور ہے ورنہ ہوشمند لوگ پہلے ہی ان مولویوں کی اس طرح کی حرکتوں سے واقف ہوتے ہیں کہ

ع ’’ جِدھر دیکھی تری اُدھر بچھا دی دری‘‘ مفتی موصوف کو بھی جہاں سے اپنا مطلب نکلتا دکھائی دیاتو و ہیں ڈیرہ ڈالدیا! قارئین !آپ کو یاد ہوگا کہ موصوف اپنی تحریر کی ابتدا میں خوب بھڑکے تھے کہ علم کے ان اداروں کو بند کرنے کی سازشیں کی جارہی ہیں، یہ ہو رہا ہے اور وہ ہو رہا ہے۔ اسی بیان میں انہوں نے یہ بھی فرمایاتھا:

’’۔۔۔ پھر جب علماء دنیا کے کام دھندوں میں الجھ جائیں گے تو دینی ادارے ویران ہوجائیں گے اور جب یہ سب ہو جائے گا تو پھر آخر کار قرآن و حدیث کا علم اٹھ جائے گا اور اس طرح سازشیں ان کے خیال میں کامیابی سے ہمکنار ہو جائیں گی۔۔۔‘‘ (صفحہ 7/8 )

موصوف بھی ایسے ہی ’’دینی ادارے‘‘ میں سالہا سال مفت کی کھاکر’’ مفتی‘‘بنے ہیں۔ خود سوچیں کہ اگر یہ ادارہ بند ہو جاتا تو کیا ایسا ’’عالم‘‘ ہمیں کہیں سے مل سکتا تھا کہ جو ’’ادائیگی زکوٰۃ ‘‘ کے بجائے ’’ وصولی زکوٰۃ‘‘ کو فرض بتاتا ہو؟ آپ کو بخوبی اندازہ ہوگیا ہوگا کہ ان ’’دینی اداروں‘‘ میں سالہا سال لگا کر انسان کیابنتا ہے؟ مدرسے ،مسجد اور دار الافتاء میں ایک طویل عرصہ گزارنے کے باوجود انہیں یہ بھی معلوم نہ ہوسکا کہ زکوٰۃ دینا فرض ہے یا وصول کرنا فرض ہے! یا تو موصوف کا علم ہی اتنا ہے ،یا پھر وہی دیرینہ خصلت عود کر آئی ہے جو عذاب قبر کی بابت تحریر کردہ کتابچوں میں دکھائی دیتی ہے یعنی کچھ کا کچھ بنا دینا۔ موصوف نے وہاں بھی قرآنی آیات اور احادیث صحیحہ کی معنوی اور تفسیری تحریف کر کے لوگوں کو دھوکہ دینے کی کوشش کی تھی اور یہاں بھی شاید وہی طریقہ کار اپنانا چاہتے ہیں،یعنی محض لوگوں کودھوکہ دینا؛ بالکل وہی کام جو ان کا ’’سرپرست اعلیٰ ‘‘کیا کرتا ہے کہ یوحی بعضھم الی بعض زخرف القول غرورا

زکوٰۃ کی ادائیگی ایک فرض عبادت ہے اس پر اجرت کیسی؟ اس میں تو کچھ دیا جاتا ہے لیا نہیں جاتا۔ موصوف ایسی ایسی باتیں لکھ رہے ہیں کہ گویا ہوش میں ہیں ہی نہیں۔ بے پرکی ادھراُدھرکی ہانکے چلے جارہے ہیں۔ وصولی زکوٰۃ پر مامور شخص نہ تو قرآن سکھا تاہے، نہ امامت کراتا ہے اور نہ اذان دینااس کے فرائض میں شامل ہوتا ہے کہ اس کو دی جانے والی اجرت کوتعلیم قرآن، امامت و اذان کے لیے جواز بنایا جائے۔ موصوف شاید اپنی کم علمی کی وجہ سے دینی امور اور ریاستی امور میں فرق نہیں کر پاتے یا پھر وہی اپنے ’’سرپرست اعلیٰ ‘‘کی خدمت انجام دیتے ہیں۔

دوستو!معاف کرنا یہ عادت ہے میری

موصوف نے اسی آیت کے ضمن میں عمر ص والی روایت بھی پیش کی ہے کہ ان کے مقرر کردہ عاملین اس کی اجرت لینے میں کراہیت کرتے تھے ۔ عمرؓنے ان سے کہا کہ نبیﷺ نے بھی مجھے مال عطا کرنا چاہا تھا تو میں نے ان سے عرض کیا تھا کہ مجھے اس کی ضرورت نہیں ،کسی دوسرے کو دے دیں؛نے فرمایا کہ اسے لے لو اور پھر اسے اﷲ کی راہ میں صدقہ کردو۔ اس کے بعد موصوف فرماتے ہیں:

’’۔۔۔ آج کل دینی خدمات کرنے والوں کے لئے بھی یہی بہتر ہے کہ تنخواہ بقدر کفالت لیں،غنی ہوں تو نہ لیں یا لے کر خیرات کردیں‘‘۔( صحیح بخاری ۸ ۳۹۰ طبع مکتبہ قدوسیہ لاہور) اس حدیث سے واضح ہوا کہ دینی امور پر جو وظیفہ ملے اس پر راضی رہنا چاہیے اور زیادہ کی فرمائش کرنا یا زیادہ کا لالچ کرنا درست نہیں۔۔۔‘‘ ( صفحہ 46 )

موصوف نے جملہ لکھا:

’’۔۔۔ آج کل دینی خدمات کرنے والوں کے لئے بھی یہی بہتر ہے کہ تنخواہ بقدر کفالت لیں،غنی ہوں تو نہ لیں یا لے کر خیرات کردیں‘‘

اور اس کے بعد صحیح بخاری کا حوالہ( صحیح بخاری ۸/ ۳۹۰ طبع مکتبہ قدوسیہ لاہور) دے دیا۔ یعنی پھر وہی اپنے ’’سرپرست اعلیٰ‘‘ کی خدمت انجام دی کہ عام لوگ دھوکہ کھا جائیں کہ یہ بخاری کی حدیث کے الفاظ ہیں ؛گویا حدیث کی رو سے سے دینی امور پر وظیفہ لینا جائز ہے۔ مزید اسی پر بس نہیں کیا بلکہ اس کے بعدیہ بھی لکھا

’’اس حدیث سے واضح ہوا کہ دینی امور پر جو وظیفہ ملے اس پر راضی رہنا چاہیے اور زیادہ کی فرمائش کرنا یا زیادہ کا لالچ کرنا درست نہیں۔۔۔ ‘‘ دیکھا آپ نے! کیسا کھلا دھوکہ دیا گیا ہے!

عمرؓ کو جو کچھ عطا فرما رہے تھے ،کیا وہ کسی دینی خدمت کی اجرت تھی؟ کیا عمرؓ اس وقت امامت کیا کرتے تھے؟ یا انہیں اذان کی تنخواہ دی جا رہی تھی؟ موصوف ریاستی امور کو دینی امور کا رنگ دے کر اپنی اجرت کو جائز قرار دینا چاہتے ہیں۔ عاملین کی اجرت اور قرآن و حدیث پر اجرت میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ ہر اس امر کے لیے تنخواہ دی جا سکتی ہے جس پر قرآن و حدیث کی کوئی قدغن نہ ہو،لیکن تعلیم القران، فرض عبادات،اذان، اور وہ تمام علوم جن سے اﷲ کی رضا حاصل ہوتی ہو، ان میں سے کسی پربھی اجرت،وظیفہ اور تحفہ کسی صورت جائز نہیں کیونکہ قرآن و حدیث اس سے منع کرتے ہیں۔

فی سبیل اﷲ کا مطلب:مولوی کو کھلاؤ!

مفتی موصوف نے اسی آیت کے حوالے سے یہ بھی فرمایا ہے کہ صدقات میں سے خرچ کرنے کے مدات میں ایک مد’’ فی سبیل اﷲ‘‘ بھی ہے۔ اس ضمن میں انہوں نے اہلحدیث مفسر صلاح الدین صاحب کی تفسیر کا حوالہ دیا ہے جن کا پہلے بھی ایک حوالہ گزرچکا ہے:

’’فی سبیل اﷲسے مراد جہاد ہے۔ یعنی جنگی سامان و ضروریات اور مجاہد (چاہے وہ مال دار ہی ہو) پر زکوٰۃ کی رقم خرچ کرنی جائز ہے اور احادیث میں آتا ہے کہ حج اور عمرہ بھی فی سبیل اﷲ میں داخل ہے اسی طرح بعض علماء کے نزدیک دعوت و تبلیغ بھی فی سبیل اﷲ میں داخل ہے کیوں کہ اس سے بھی مقصد جہادکی طرح اعلائے کلمۃ اﷲ ہے‘‘۔( صفحہ 47 )

ٍاسی صفحہ پر مفتی موصوف رقم طراز ہیں: ’’ مساجد اور مدارس کی تعمیر اور ان کا انتظام مدارس دینیہ میں اساتذہ کرام کی تنخواہیں، طلباء کے لئے وظائف یہ سب فی سبیل اﷲ کی مد میں داخل ہیں۔اسکے علاوہ دینی لٹریچر کی اشاعت و تقسیم جس میں دین کے بنیادی عقائد و اعمال اور سنت نبوی ا کے مطابق معلومات کو پیش کیا گیا ہو۔ جن لوگوں نے اپنے آپ کو دینی خدمات کے لئے وقف کر رکھا ہو یا جو لوگ جہاد وغیرہ میں مصروف ہوں تو ان کے بال بچوں کی نگہداشت پر صدقات خرچ کئے جائیں‘‘۔

’’فی سبیل اﷲ‘‘ سے مراد اﷲ کی راہ میں خرچ کرنا ہے۔ہر وہ کام جو اسلام کی سربلندی کے لیے کیا جائے ’’فی سبیل اﷲ‘‘کے ذیل میں آئے گا۔قرآن کی اس زیرتوجہ آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ صدقات کی یہ رقوم کس کس مد میں خرچ کی جاسکتی ہیں، لیکن موصوف نے ان میں سے ’’فی سبیل اﷲ ‘‘کی مدکواپنی کمائی کی بنیاد بنا لیا۔بہت خوب! دوسرے لوگ تواﷲ کی راہ میں خرچ کرتے چلے جائیں اور مولوی صاحب ا سے کھائے چلے جائیں! مدرسے بنوانا اور ان کا نظام چلانا بھی ’’فی سبیل اﷲ‘‘ میں آتا ہے کہ صاحب استطاعت افراد اس راہ میں اپنا مال لگائیں اورقرآن و حدیث کا علم رکھنے والے ’’ فی سبیل اﷲ ‘‘ اس کی تعلیم دیں ۔’’ فی سبیل اﷲ‘‘ سے مراد یہ نہیں ہے کہ فقط صاحب استطاعت تومال لگاتے رہیں اور مولوی صاحب محض کھاتے ہی رہیں۔ اگرقرآنی آیت: ولا تشتروا بایٰتی ثمنا قلیلامیں مولوی صاحب کو قرآن پر اجرت لینے سے منع کیا ہے تواسی میں عام مومنوں کے لیے بھی اس بات کا حکم دیا گیا ہے کہ وہ اس پر کسی قسم کا کوئی معاوضہ نہ دیں کیونکہ یہ لفظ ا شتریٰ ’’ خریدنے‘ اور’’بیچنے‘‘ دونوں کے لیے استعمال ہوتا ہے جیسا کہ سورہ توبہ میں فرمایا گیا:

انّ اﷲ اشترٰی من المومنین انفسھم و اموالھم بانّ لھم الجنۃ

(التوبہ: 112 )

’’ بے شک اﷲ نے مومنوں سے ان کی جانوں اور ان کے مالوں کو جنت کے بدلے خریدلیا ہے‘‘

ولا تشتروا بایٰتی ثمنا قلیلا والی آیت کا مطلب یہی ہے کہ اﷲ کی آیات کو خرید و فروخت کا ذریعہ نہ بنالو۔ جس طرح قرآن کی آیات پر اجرت لینا منع ہے، اسی طرح اس پر اجرت دینا بھی منع ہے۔بالکل اسی طرح جیسے شراب حرام ہے، اس کا خریدنا اور بیچنا بھی حرام ہے؛ قرآن کی اجرت حرام ہے، اس کا لینا بھی حرام ہے، دینا بھی حرام ۔ صلاح الدین صاحب کی بیان کردہ تفسیر میں قوسین میں’’(چاہے وہ مال دار ہی ہو)‘‘ کے الفاظ بھی لکھے ہوئے ہیں۔ اس سے مراد صرف مجاہدین ہیں جو اسلام کے لیے اپنی جان و مال سے لڑتے ہیں،جیسا کہ مندرجہ ذیل حدیث سے ثابت ہے:

لاَ تَحِلُّ الصَّدَقَۃُ لِغَنیٍ اِلَّا لِخَمْسَۃٍ لِغَازٍ فِیْ سَبِیْلِ اﷲِ اَوْ لِعَامِلٍ عَلَیْھَا اَوْ لِغَارِمٍ اَوْ لِرَجُلٍ اَشْتَرَاھَابِمَالِہٖ اَوْ لِرَجُلٍ لَّہٗ جَارٌمِّسْکِیْنٌ فَتُصُدِّقَ عَلَی الْمِسْکِیْنِ فَاَھْدَی الْمَسْکِیْنُ لِلْغَنِیِ

(مؤطا امام مالک:کتاب الزکوٰۃ،باب اخذ الصّدقۃ ۔۔۔)

’’زکوٰۃ(لینا) درست نہیں ہے کسی غنی کے لیے مگرپانچ (قسم کے غنیوں) کے لیے: غازی کے لیے فی سبیل اﷲ، یا وہ جو زکوٰہ پر عامل بنایا جائے،یاوہ جو قرض دار ہو، یا وہ شخص جو زکوٰۃ کا مال خرید لے،یا وہ شخص جس کے مسکین ہمسائے کے پاس سے وہ بصورت ھدیہ آئے(یعنی زکوٰۃ اس کے مسکین پڑوسی کو ملے اور وہ پڑوسی اسے بطور ھدیہ دیدے) ‘‘۔

الغرض کہ قرآن اور حدیث کسی میں بھی زکوٰۃکی رقم سے مولوی کے لیے بہرحال کوئی حصہ نہیں۔مگرمفتی موصوف زبردستی خود کوان میں شامل کرنے کی کوشش میں ہیں چنانچہ عبد الرحمن کیلانی کے حوالے سے اس بات کو پیش کرتے ہیں کہ ’’ علاوہ ازین ہر وہ ادارہ بھی اس مصرف میں شامل ہے جو زبانی یا تحریری طور پر دینی خدمات سر انجام دے رہا ہے یا اسلام کا دفاع کر رہا ہے‘‘(صفحہ 47 )

گویا ان کے ادارے اﷲ کی راہ میں جہاد کر رہے ہیں!لیجیے صاحب!اب جہاد کے نام پر مولویوں کے لیے مزید’’ تر مال‘‘ کا انتظام کیا جائے۔ حدیث کے الفاظ ہیں کہ

’’زکوٰۃ(لینا) درست نہیں ہے کسی مالدار کے لیے مگر غازی کے لیے فی سبیل اﷲ۔۔۔‘‘ حدیث میں ’’غازی‘‘ کا لفظ آیا ہے (یعنی اﷲ کی راہ میں قتال کرنے والا)کسی ’’ مولوی‘‘ یا ’’مفتی‘‘ کا نہیں،لہٰذا یہ استدلال تو یہیں ختم کر دیا جائے۔ رہی یہ بات کہ ان کے ادارے اسلام کے دفاع میں جہاد کر رہے ہیں ،تو یہ بالکل غلط ہے۔یہ تو دینی کاروبارمیں مصروف ہیں، بغیرکسبِ ید مال بٹوررہے ہیں اور ان کی ساری کوشش صرف اپنے فرقے کے لیے ہے۔یہ لوگ اسلام نہیں ، بلکہ مذہب اہلحدیث کے فروغ کے لیے کوشاں ہیں۔انہوں نے اپنے اکابر کے فتوے پر ایمان بنایا،روح کے اس مردہ جسم میں لوٹنے کا عقیدہ دیا اور پھریہ مردہ زندہ بن گیا۔قبر پر جانے والوں، ان سے مانگنے والوں پر یہ فرقہ کفر و شرک کے فتوے داغتا ہے لیکن خود ان کی کتابیں قبر کی اس مزعومہ زندگی سے پُر ہیں۔

سے زیادہ سمجھ رکھنے والے!

موصوف نے سورہ بقرہ آیت نمبر 273کے حوالے سے اس بات کو پیش کیا ہے کہ

’’ اس آیت میں ان لوگوں کو بھی فقراء کہا گیا ہے جو دین کے کاموں میں شب و روز مصروف رہتے ہیں اور اس مصروفیت کی وجہ سے وہ دوسرے تمام دنیاوی کام اور کاروبار نہیں کر سکتے۔ وہ چاہے مجاہدین فی سبیل اﷲ ہوں ، یا دین کی تعلیم سیکھنے یا سکھانے والے ہوں‘‘۔ (صفحہ 49 )

چہ خوب!جس طرح بلی کو خواب میں چھیچھڑے نظر آتے ہیں اسی طرح مولویوں کو بھی ہر چیزسے اجرت کی خوشبو آجاتی ہے۔ نبیﷺ،جن کے قلب پر یہ آیت نازل ہوئی اورجن سے زیادہ قرآن کو سمجھنے والا کوئی ہو ہی نہیں سکتا،نے یہ بات بیان نہیں کی جو موصوف بیان کر رہے ہیں۔ موصوف اوران کے فرقے کا دعویٰ توحدیث سے تعلق کا ہے توذراکسی حدیث کے حوالے سے وضاحت فرمائیں کہ اس آیت کے نزول کے بعد کتنے صحابہ کرامث،جو کہ سارے کے سارے مجاہدین تھے، دین کی تعلیم سیکھنے سکھانے والے تھے،کی تنخواہ مقررکردی گئی تھیں؟ کتنوں کے وظیفے جاری ہو گئے تھے؟ آج کے یہ فرقہ پرست مولوی اسلام کے سچے شیدائی ہونے اورشب و روز دین کی ’’سربلندی‘‘ میں مصروف رہنے کے دعویدار ہیں جس پربقولہ انہیں وظیفہ دیا جائے۔لیکن حیرت ہے کہ صحابہ کرام ثمیں سے کوئی بھی اتنا مخلص، اتنا وقت لگانے والا نہ تھاکہ اس وجہ سے نبی ﷺاس کا وظیفہ ہی مقررفرما دیتے!

ہماری کتاب ’’ دینداری یا دکانداری‘‘ میں احادیث کے حوالوں سے ثابت کیا گیا ہے کہ صحابہ کرام ؓ میں سے کسی نے قرآن و حدیث کو اپنا پیشہ نہیں بنایا تھا بلکہ وہ تجارت ،محنت و مزدوری کرنے والے تھے۔رات کو دین کا علم سیکھتے سکھاتے اور دن میں محنت مزدوری کیا کرتے۔ اصحاب صفہ کے فقر و فاقہ کا معاملہ کسی سے چھپا ہوانہیں۔ان کے ساتھ کیا معاملہ کیا جاتا تھا ،یہ بھی احادیث سے واضح ہے۔ ان میں سے نہ کسی کی تنخواہ مقرر تھی اور نہ ہی کوئی وظیفہ۔جب بھی کہیں سے کچھ آیا ،اس میں سے ان کے لیے انتظام کردیا جاتا تھا۔ حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ ان صحابہ ث میں سے کچھ لوگ لکڑیاں فروخت کر کے اصحاب صفہ کے کھانے کا بندوبست کیا کرتے تھے۔ موصوف سے کوئی پوچھے کہ ان اصحاب کے ساتھ اعانت کا یہ معاملہ ان کے فقر و فاقہ کی وجہ سے تھا یامحض اس لیے کہ وہ کہیں امام و مؤذن لگے ہوئے تھے؟ غربت کی بناء پرایسے شخص کی بھی مدد کی جاسکتی ہے ،لیکن امامت یا تعلیم قرآن کی بنیاد پر اس کو تنخواہ یا وظیفہ دینا اور اس کا لیناتو کتاب اﷲ کا انکار ہے ۔ موصوف کا یہ کہنا آخرکس بنیاد پر ہے کہ

’’ اس مصروفیت کی وجہ سے وہ دوسرے تمام دنیاوی کام اور کاروبار نہیں کرسکتے‘‘ اسلام نے کس کو پابند کیا ہے کہ صبح سے لے کر رات تک مسجد میں بیٹھا رہے؟کیا ان کے سامنے صحابہ کرام ث کا کردار نہیں ہے کہ وہ دن میں اپنی معاش کے لیے جستجو کرتے تھے اور رات کو قرآن سیکھنے اور سکھانے میں مصروف رہتے تھے؟

مولوی صاحبان آخریہ راستہ کیوں نہیں اپناتے! رہی بات پنج وقتہ صلوٰۃ کی تو وہ ہر مومن نے ادا کرنی ہے، اس میں مولوی کاتو کوئی تفردو تخصص نہیں۔مومنوں میں سے جو بھی ذمہ دار ہوگا وہ امامت کرلے گا، ورنہ حاضر لوگوں میں جو قرآن کا زیادہ جاننے والا ہو وہ امامت کرے گا۔ یہ فرض عبادت ہے اور خود موصوف نے اپنے اسی زیرنظرکتابچے میں اعتراف کیا ہے کہ فرض عبادت پر اجرت نہیں لی جاسکتی۔

بایں ہمہ مفتی موصوف نے سورہ حشر کی آیات ۶ تا ۱۰ کا حوالہ دیا ہے کہ مال فے سے ان ان لوگوں کی اعانت کی جاسکتی ہے۔ لیکن ہمیں اس لسٹ میں بھی کسی مولوی یا مفتی کا کوئی ذکر نہیں ملا۔ دراصل یہ مولویانہ حربہ ہے کہ اپنے فرقے کے لوگوں پر یہ رعب ڈالا جائے کہ جی میری کمائی تو بالکل حلال ہے ،قرآن کی فلاں فلاں آیت میں اس کا ذکر ہے، یہ تو چند افراد ہیں کہ جو خو اہ مخواہ میرے پیچھے پڑ گئے ہیں۔۔۔

جھوٹ پر جھوٹ

قرآنی آیات کے حوا لے سے بحث کے بعد اب ہم آتے ہیں اس سلسلے میں پیش کردہ احادیث کی طرف۔ہم نے اپنی کتاب (صفحہ ۷،۸)میں قرآن مجید کی آیات کے ساتھ ساتھ کچھ احادیث بھی پیش کی تھیں جن کے متعلق موصوف نے اپنے زیرنظرکتابچے میں ہانک لگادی کہ :

’’دینی امور پر اجرت کے مسئلہ کے لئے ضعیف روایات کو دلیل کے طور پر پیش کیا گیا ہے ‘‘(صفحہ۱۰) ’’ ۔۔۔ نیز یہ احادیث اس قابل نہیں ہیں کہ ان (ضعیف روایات) کے ذریعے کوئی حجت قائم ہو سکے پس وہ روایات احادیث صحیحہ کے معارض نہیں ہیں۔۔۔‘‘ ( صفحہ 16 ) مذکورہ مقام پرہم نے سب سے پہلے عبد الرحمن بن شبل الانصاریؓ کی روایت پیش کی تھی کہ نبی ﷺ نے فرمایا:

اقرؤا القرآن ولا تغلوا فیہ ولا تجفوا عنہ ولا تأکلو بہ ولا تستکثروا بہ

( مسند احمد: جلد5، صفحہ 444 )

’’قرآن پڑھو اور اس میں غلو نہ کرو اور اس سے اعراض نہ کرو، اس کو ذریعۂ معاش نہ بناؤ اور نہ ہی اس سے بہت سے دنیاوی فائدے حاصل کرو‘‘۔

ایک محدث کے حوالے سے ہم نے یہ بھی بتادیا تھا کہ ’’ الہیثمی کہتے ہیں کہ اس حدیث کے راوی ثقہ ہیں اور حافظ کہتے ہیں کہ اس کی سند قوی ہے‘‘ (صفحہ 9)لیکن مفتی موصوف نے اس روایت کو ضعیف قراردے دیا۔تین صفحات کالے کر کے اسے ضعیف ثابت کرنے کی کوشش کی لیکن بلآ خر یہ بھی کہہ گئے:

’’حدیث عبد الرحمن بن شبل کا صحیح مفہوم اس حدیث کے صحیح ہونے کے باوجود بھی اس حدیث کا وہ مطلب اور مفہوم نہیں ہے کہ جو عموماً بیان کیا جاتا ہے بلکہ حدیث کے الفاظ اقرء وا القرآن ولا تاکلوابہ یعنی قرآن پڑھو اور اس کے ذریعے نہ کھاؤ کا مطلب دوسری حدیث کی روشنی میں یہ ہے کہ قرآن پڑھ کر لوگوں سے سوال نہ کرو۔ جیسا کہ ایک حدیث میں ہے جناب عمران بن حصین ص ایک قاری پر سے گزرے جو قرآن پڑھ کر لوگوں سے سوال کرتا تھا پس انہوں نے انا ﷲ و انا الیہ راجعون پڑھا اور فرمایا کہ میں نے رسول اﷲ ا کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ:

من قرأالقرن فلیسال اﷲ بہ فانہ سیجیء اقوام یقرء ون القرآن یسألون بہ الناس ( سنن الترمذی ص ۶۵۲ ح ۲۹۱۷) مسند احمد ( ۴/ ۳۲۴، ۴۳۳، ۴۳۹) الصحیحہ ( ا/ ۴۶۱ ح ۲۵۷)

’’ جو قرآن پڑھے پس وہ اﷲ سے سوال کرے کیوں کہ عنقریب ایک قوم ایسی آئے گی جو قرآن پڑھ کر لوگوں سے سوال کرے گی۔‘

اس حدیث سے ثابت ہوا کہ قرآن پڑھ کر لوگوں سے سوال کرنا بھیک مانگنا درست نہیں ہے اور اس بات کی وضاحت اس حدیث میں قول و فعل دونوں کے ذریعے کردی گئی ہے۔ اس حدیث کا یہ مطلب نہیں ہے کہ دم اور تعلیم القرآن وغیرہ پر اجرت نہ لی جائے‘‘۔( صفحہ۵۷،۵۸)

مالک الملک کا بڑا احسان کہ وہ جھوٹ کا اعتراف خود ان کی ہی تحریرسے کروا رہا ہے ورنہ ان کے اندھے مقلد توان مولوی صاحب کی ہر ہر بات کو لا ریب سمجھ کر اس پر ایمان لے آتے ہیں۔ موصوف کے کتابچے سے چند اقباسات اوپر نقل کیے گئے ہیں جن میں موصوف نے اپنے فرقہ والوں کو یہ سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ اجرت کو حرام قرار دینے والی ساری روایات ضعیف ہیں ، اوراب لکھتے ہیں:’’۔۔۔اس حدیث کے صحیح ہونے کے باوجود بھی اس حدیث کا وہ مطلب اور مفہوم نہیں ہے۔۔۔‘‘دیکھا آپ نے! موصوف نے ان روایات کے متعلق جو جھوٹ بولا تھا، اﷲ نے اس کا پردہ کیسے چاک کردیا ! کیسے دورخے ہیں کہ پہلے تواس روایت کو ضعیف کہہ دیا،اور جب اس میں کامیا بی نہ ہوئی تو فرمادیا کہ ۔۔۔جی ہے تو صحیح مگر اس کا مفہوم وہ نہیں ہے بلکہ ۔۔۔ دروغ گو را حافظہ نباشد۔اس حدیث کا مفہوم تو انہوں نے بدلنا ہی ہے ورنہ کون انہیں تنخواہ اور وظیفوں سے نوازے گا؟پیش کردہ روایت کے الفاظ پر غور فرمائیے : ’’قرآن پڑھو اور اس میں غلو نہ کرو‘‘ یعنی اس قرآن میں جو احکامات بیان کیے گئے ہیں ان میں اعتدال کی روش اختیار کرو، ان میں انتہا پسندی نہ اختیار کرو۔ پھر فرمایا: ’’ اور اس سے اعراض نہ کرو‘‘یعنی اس میں جو احکامات بیان کیے گئے ہیں ان سے منہ نہ موڑو بلکہ سمعنا و اطعنا کی روش اختیار کرو۔

پھر فرمایا:’’اس کو ذریعہ معاش نہ بناؤ‘‘ یعنی جس طرح تم تجارت ،محنت مزدوری کر کے اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ پالتے ہو ، اس طرح قرآن کو اپنی معاش کا ذریعہ نہ بنا لینا، نہ اس کی تلاوت پر تمہیں اجرت لینی ہے ،نہ اس کی تعلیم و تبلیغ پر۔پھر فرمایا: ’’

اور نہ ہی اس سے بہت سے دنیاوی فائدے حاصل کرو‘‘ پہلے تو اس بات سے منع کیا گیا کہ اسے تم کمائی کا ذریعہ نہ بنانا ،اب بتایا کہ اس بنیاد پر اگر تمہیں کوئی فائدہ پہنچ رہا ہو کہ تم قرآن کی تعلیم دیتے ہو، یا مسجد میں امامت کرکے قرآن سناتے ہو ،تو ایسے فائدے سے دور رہنا۔ یعنی اس پر تحفہ بھی نہیں لینا، اس کے عوض تمہیں کھانے پینے کی کوئی چیز دی جائے تو وہ بھی نہیں لینا، اس کی وجہ سے تمہارے ساتھ خصوصی عزت و احترام کا معاملہ کیا جائے تو اسے قبول نہ کرنا۔۔۔اس حدیث میں جہاں لینے والے کے لیے حکم ہے ،وہیں دینے والے کے لیے بھی اشارۃً حکم ہے کہ اس قسم کے سارے کام ممنوع ہیں ، ایمان والے اس میں ملوث نہ ہوں۔

اس حدیث نے قرآن کے حکم: ولا تشروا بایٰتی ثمنا قلیلا کی مکمل تشریح فرمادی۔ قرآن و حدیث کا مضمون موصوف کی ’’ کمائی‘‘ کی حیثیت کو مکمل طور پر واضح کر رہا ہے۔لہٰذا موصوف نے اس آیت کی مختلف تشریحات پیش کرکے اسے کچھ کا کچھ بنانے کی کوشش کی جو، الحمد ﷲ، انہی کے اوپر پلٹ گئی ۔قرآنی آیت کی طرح اب حدیث کے بیان کو بھی بدلنے کی کوشش کی ہے ۔ فرماتے ہیں کہ اس کا مفہوم ’’ وہ‘‘ نہیں جو بظاہر ثابت ہو رہا ہے بلکہ اس کا مفہوم تو ’’یہ ‘‘ ہے کہ’’اس حدیث سے ثابت ہوا کہ قرآن پڑھ کر لوگوں سے سوال کرنا بھیک مانگنا درست نہیں ہے ‘‘۔

قارئین! ذرا توجہ فرمائیں کہ مفتی موصوف نے کیا کھیل کھیلا ہے! نبی ﷺ کے ’’حکم‘‘ (اسے ذریعہ معاش نہ بناؤ اور اس سے دنیاوی فائدے حاصل نہ کرو ) کو ایک ’’خبر‘‘ (عنقریب ایک قوم ایسی آئیگی جو قرآن پڑھ کر لوگوں سے سوال کریگی)سے بدل دیا۔ اگر موصوف میں صداقت و دیانت نام کی کوئی چیز ہو تی تو کبھی بھی ایسا نہ کرتے۔یہ تو آپ کو پہلے ہی معلوم ہے کہ سالہا سال ان مسلکی مدرسوں میں پڑھنے کے بعد انسان کیا بنتا ہے؟مدرسے کی تعلیم کا مقصدمحض ’’اپنے فرقے کا دفاع‘‘ اور ’’ثمن قلیل‘‘ ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اہلحدیث مدرسے میں پڑھنے والا قرآن و حدیث کے حکم کے مقابلے میں تین طلاقوں کو ایک طلاق مانتاہے، دیوبندی مدرسے میں پڑھنے والا رفع یدین کے ساتھ پڑھی جانے والی صلوٰۃ کو صلوٰۃ نہیں مانتا، غیراللہ سے مدد مانگنا بریلوی کوایاک و نعبدوایاک نستعین کے خلاف نظرنہیں آتا، صحابہ پر تبرابھیجتے اور ام المومنین پر تہمت لگاتے وقت شیعوں سے مناقب صحابہ کی آیات اورقرآنی برأت چھپ جاتی ہیں ۔۔۔۔۔۔ اب اگرمفتی موصوف بھی اس صحیح روایت کے اصل متن و مفہوم پر ایمان لے آئیں تو ان کے پاس کیا رہ جائے گا؟ کیا ان میں اتنی جرأت ہے کہ سر عام اس بات کا اقرار کرلیں کہ یہ کتاب اﷲ کا کفر کر رہے ہیں؟ لہٰذا ھیرا پھیری کرنا توضروری ہوگیا، ور نہ نہ تنخواہ ملے گی، نہ ہی وظیفہ اور نہ ہی ’’اوپر ‘‘والی کمائی کاہی کوئی بندوبست ہوگا۔

مفتی صاحب نے حدیث کو ضعیف توقرار دیا لیکن۔۔۔

مفتی موصوف کے دوسرے جھوٹ کا پول بھی مالک نے خود انہی کے ہاتھوں اسی تحریر میں کھول دیا۔ موصوف نے عبد الرحمن بن شبل ؓ والی روایت کا بزعمہ صحیح مفہوم بتانے کے لیے عمران بن حصین ؓ والی روایت پیش کی ہے۔ یہ وہی روایت ہے جو ہم نے اپنی کتاب کے صفحہ نمبر8 پر پیش کی ہے لیکن موصوف نے بیک جنبش قلم ان سب روایتوں کو ضعیف قرار د ے ڈالا تھا۔ اب جب عبد الرحمن بن شبل ؓ والی روایت سے مفتی صاحب کی کمائی ’’حرام‘‘ ثابت ہونے لگی تو موصوف نے اس کا مفہوم بدلنے کے لیے اس دوسری روایت کا سہارا لیا جسے موصوف بمعہ دیگرے پہلے ہی ضعیف قرار دے چکے تھے! اب کوئی موصوف سے پوچھے کہ’’ حضرت‘‘ یہ کیسامعیار اور کونسا پیمانہ ہے کہ کوئی دوسرا اگرایک روایت آپ کے خلاف پیش کرے تو وہ ’’ضعیف‘‘ ٹھہرے لیکن جب خودآپ کو اسے کہیں پیش کرنے کی ضرورت پڑ جائے تو وہ ’’ صحیح ‘‘ بن جاتی ہے! قارئین! یقیناآپ کو اچھی طرح پہچان ہو گئی ہوگی ان اہلحدیث مفتی کی۔ ’’دروغ گو را حافظہ نباشد‘‘ شاید ایسے ہی موقعہ پر کہا جاتا ہے۔

موصوف صفحہ ۵۸ پر اس روایت کے لیے لکھتے ہیں کہ ’’ اس روایت پر ہمارے نزدیک اگرچہ کلام کی گنجائش موجود ہے، لیکن چونکہ یہ روایت کسی اصول کے خلاف نہیں ہے،لہٰذا شواہد میں اسے حسن قرار دینے میں کوئی حرج نہیں پھر فریق مخالف کے نزدیک بھی یہ روایت صحیح ہے‘‘۔

 

تو پھراس قدرتعدیل کے بعد ایک صحیح اورغیرمتکلم فیہ روایت کے مفہوم کو اس قابل کلام روایت کے متن سے کیوں بدل دیا؟آخر عبد الرحمن بن شبل ؓ والی روایت کے متن پر ایمان کیوں نہیں لاتے کہ قرآن کو ذریعہ معاش بنانا منع ہے؟ مگراس واضح روایت کے دوٹوک حکم کے خلاف دین کو پیشہ بنانے والے ایسا کیسے کر سکتے ہیں؟ موصوف اتنی آسانی سے قرآن وحدیث کا بیان قبول کرلیں تو پھرانہیں اہلحدیث کون کہے گا؟ مزید یہ کہ اصول حدیث میں ایک اور ’’اصول‘‘ کا اضافہ ہوگیا! کیا احادیث اسی اصول پر قبول کی جاتی ہیں کہ فریق مخالف کے نزدیک وہ صحیح ہیں؟

موصوف نے عمران بن حصین ؓ والی روایت کے حوالے سے کہا ہے کہ قرآن پڑھ کر سوال کرناجائز نہیں۔مفتی صاحب نے یہ کوئی نئی بات نہیں بیان کی ہے۔ سارے ہی مولوی اس بات کو ’’جانتے ‘‘ہیں، اسی لیے قرآن پڑھ کر سوال نہیں کرتے بلکہ تنخواہ پہلے ہی طے کرلیتے ہیں؛ گناہ تو تب ہے جب پڑھ کر سوال کیا جائے!

ایمان کی بنیاد: حدیث یا اقوا ل الرجال

ہماری کتاب میں عثمان بن ابی العاص ؓ والی روایت بھی پیش کی گئی ہے جس میں نبیﷺ نے اذان پر اجرت سے منع فرمایا ہے۔موصوف نے اگرچہ تمام روایتوں کو ضعیف قرار دے دیا لیکن اپنی پوری تحریرمیں اس روایت کی صحت کے بارے میں ذرا بھی بحث نہیں کی۔مگربایں ہمہ اس روایت کے حکم کوماننے کے لیے پھربھی تیار نہیں۔ چنانچہ اس کا کفر کرنے کے لیے موصوف ایک بارپھر نام نہاد ائمہ کرام کاسہارا لیتے ہیں۔ لگتا ہے موصوف کے کسی بھی حکم کو اس وقت تک نہیں مانتے جب تک کہ تمام مسالک کے علماء کی تائید اسے حاصل نہ ہوجائے جیسا کہ اپنے اس کتابچے میں موصوف نے اپنی مطلب براری کے لیے ہر ہر آیت اورروایت پر مختلف فرقوں کے اکابرین کی آراء تائیداً بیان کی ہیں حالانکہ دعویٰ توان کا یہ ہے کہ وہ کسی کےقول کو نہیں مانتے؛ البتہ مسلکی اختلاف رفع یدین، فاتحہ خلف امام،طلاق ثلاثہ اور اہلحدیثوں کے دیگرمخصوص مسائل میں انہوں نے حنفیوں، مالکیوں و دیگر مسالک کی رائے کوکوئی اہمیت کیوں نہیں دی!اذان پراجرت کی ممانعت سے متعلق مذکورہ بالا روایت کے بارے میں فرماتے ہیں کہ:

’’ اس حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ اذان پر اجرت مکروہ ہے۔ اور امام الخطابی فرماتے ہیں اکثر مذاہب کے علماء کے نزدیک اذان پر اجرت لینا مکروہ ہے اور امام مالک فرماتے ہیں کہ اس میں کوئی حرج نہیں اور انہوں نے اس مسئلہ میں رخصت دی ہے اور بعض علماء نے اس حدیث کی بناء پر اجرت کوحرام قرار دیا ہے اور یہ بات مخفی نہیں ہے کہ یہ حدیث تحریم پر دلالت نہیں کرتی۔ اور کہا گیا کہ یہ مخصوص جگہ کی وجہ سے اذان پر اجرت درست ہے کیوں کہ یہ اذان پر اجرت نہیں بلکہ یہ جگہ کی ملازمت ہے جیسے کمین گاہ میں بیٹھنے والا گروہ ہوتا ہے اور ہمارے نزدیک قول راجح وہ ہے کہ جس کی طرف اکثر علماء گئے ہیں‘‘۔(مرعاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ۷/ ۱۰۷)اسلامی حکومت بیت المال سے مؤذنین کے لئے وظائف مقرر کرسکتی ہے یا مسجد کی صفائی کی خدمت کے عوض ایسے لوگوں کے وظائف مقرر کئے جاسکتے ہیں اور ساتھ ساتھ وہ رضاکارانہ طور پر اور ثواب کی نیت سے اذان دیتے رہیں‘‘ (صفحہ ۶۷،۶۸)

ملاحظہ فرمایا کہ کے فرمان پرکس طرح ان ’’ائمہ کرام‘‘ کے بیانات کو فوقیت دی گئی ہے! تقلید شخصی کو شرک بتانے والے اب کس طرح شخصی اقوال کو حجت بنارہے ہیں؟ یہی فعل دوسرے کریں تو شرک، شرک۔۔۔اور اگرآپ کریں تو۔۔۔؟کیا یہ تطفیف نہیں جس کے لیے اللہ کی کتاب اعلان کرتی ہے کہ:

ویل المطففین الذین اذا اکتالوا علی الناس یستوفون و اذا کالوھم او وزنوھم یخسرون

ایک بات اور بھی قابل ذکر ہے کہ ان کی طرف سے دئیے گئے مذکورہ صدر حوالے میں دونوں طرح کے بیانات پائے جاتے ہیں،یعنی کسی نے اسے جائز قرار دیا اور کسی نے ناجائز لیکن موصوف نے بات وہی قبول کی جس سے اپنی کمائی ’’ جائز‘‘ ثابت ہوتی تھی! اس قسم کی صورتحال قدرے’’غیرت‘‘کی متقاضی ہوتی ہے لیکن بہرحال آدمی کو کرنا وہی چاہیے جس سے پیٹ پر ضرب نہ پڑے! مندرجہ بالاروایت میں نے اذان پر اجرت سے منع فرمایا ہے، جس پر یقین و عمل ایمان کا تقاضا ہے کہ اللہ کا حکم ہے:

وما اتکم الرسول فخذوہ وما نھکم عنہ فانتھوا واتقوااللہ ان اللہ شدید العقاب

(الحشر:7)

’’اورجو رسول تم کو دے دیں اسے لے لو اور جس چیز سے منع کردیں اس سے بچو اور اللہ سے ڈرتے رہو، بے شک وہ بہت شدید پکڑکرنے والا ہے‘‘

اورمومنوں کی تو شان ہی یہ ہے کہ:

وماکان لمومن و لامومنۃ اذا قضی اللہ ورسولہ امرا ان یکون لھم الخیرۃ من امرھم و من یعص اللہ و رسولہ فقد ضل ضلالا مبینا

(احزاب:36 )

’’اور کسی مومن اور مومنہ کو حق نہیں کہ جب اللہ اور اس کا رسول کسی بات کا فیصلہ کردیں تو پھر ان کا اپنا کوئی اختیار باقی رہے۔ اور جو (اس کے بعد) اللہ اور رسول کی نافرمانی کرے گا تو پھر وہ کھلی گمراہی میں جا پڑے گا۔‘‘

اور یہ کہ

فلا و ربک لایومنون حتی یحکموک فیما شجر بینھم ثم لایجدفی انفسھم حرجا مما قضیت و یسلموا تسلیما

(النسآء:65 )

’’تمہارے رب کی قسم! یہ لوگ مومن نہیں ہوسکتے جب تک اپنے تنازعات میں تمہیں منصف نہ بنائیں اور جو فیصلہ تم کردو اس سے اپنے دل میں تنگی محسوس نہ کریں بلکہ اس کو خوشی سے مان لیں‘‘

لیکن اگریہ اہلحدیث اسی طرح کی احادیث کو سیدھی طرح من و عن ماننے لگیں تو پھریہ اہلحدیث کہاں رہیں گے، یہ تو مسلم ہوجائیں گے،پھر ان کا فرقہ چلے گاکتنے دن! یہ صرف اجرت کاہی معاملہ نہیں بلکہ فرقہ پرستی کا ہر پہلو،فاتحہ خلف امام، طلاق ثلاثہ، اعادہ روح، عذاب قبر ،درود کا پہنچنا اور کتنے ہی عقائد و اعمال میں فرقہ اہلحدیث کتاب اﷲ کا انکار کرتا ہے اور محکم اور واضح دلائل کو چھوڑ کرضعیف و موضوع روایات کو بنیاد بناتا ہے۔چنانچہ اُسی طریقہ کار کو اپناتے ہوئے موصوف نے اس قول کو قبول فرمالیا جس کی طرف( دین کو پیشہ بنانے والے) اکثر’’ علماء‘‘ گئے ہیں۔اس اجرت کو جائز کرنے کے لیے جو دلیل دی گئی ہے وہ یہ ہے کہ یہ اجرت اذان دینے کی نہیں بلکہ ملازمت کی ہے، جیسے کمین گاہ میں بیٹھنے والا۔۔۔سوال یہ ہے کہ کس نے کہا کہ مؤذن مسجد میں بیٹھا رہے؟ جس طرح پنج وقتہ صلوٰۃ میں مقتدی حاضر ہوتے ہیں، مؤذ ن کو بھی اسی طرح پانچ وقت آنا ہے۔ جس طرح صلوٰۃ ادا کرنے کے بعد لوگ چلے جاتے ہیں، مؤذن کو بھی اسی طرح چلے جانا چاہیے۔کمین گاہ میں بیٹھنے والا توریاستی ذمہ داری ادا کر رہا ہے،مؤذن کے لیے قرآن و حدیث میں کہاں ایسی ڈیوٹی بیان کی گئی ہے؟ذرا بتائیں کہ بلال ؓ کو یہ خدمت انجام دینے کے کتنے درہم ادا کیے جاتے تھے؟اسی طرح عبداللہ بن ام مکتوم ، عبداللہ بن زید، ابومحذورہ ث اوردوسرے مؤذنین کا ماہانہ کتنا وظیفہ مقرر تھا؟

قارئین!آپ دیکھیں کہ اﷲ کی کتاب کے ساتھ یہ لوگ کس طرح مذاق کرتے ہیں ! اللہ اور رسول کے صریح احکامات کو اپنے مفاد کی خاطر متنازعہ قرار دے کر تاویلات کی بھینٹ چڑھادیا ہے! کہتے ہیں کہ یہ اذان کی تنخواہ نہیں بلکہ ملازمت کی ہے!سوال یہ

پیدا ہوتا ہے کہ وہ’’کام‘‘ کیا ہے ’’ جس‘‘ کے لیے اسے ’’ ملازم‘‘ رکھا گیا ہے؟ اگر وہ کام اذان د ینا ہے تو نبیﷺ کا حکم بالکل واضح ہے جس میں کسی دوسری بات کی قطعاً کوئی گنجائش نہیں ۔اسے ایک دوسرے انداز سے بدل دیناایسا ہی ہے کہ جب یہودیوں پر چربی حرام کی گئی تو انہوں نے اسے پگھلا کر بیچ دیا۔سبت کے حکم کی نافرمانی کرنے والوں نے بھی اسی طرح چوردروازہ نکال کر اپنے آپ کو مطمئن کرلیا تھا! نبی انے جس بات سے منع فرمایا تھا اسے ’’وقت‘‘ کی تنخواہ کا نام دے کر’’جائز‘‘ قرار دے دیا گیا ہے۔یہ مسلک پرست شاید اسے ہی ’’ایمان بالرسول‘‘ کہتے ہیں! پھر موصوف رقم طراز ہیں کہ ’’اسلامی حکومت بیت المال سے مؤذنین کے لئے وظائف مقرر کرسکتی ہے یا مسجد کی صفائی کی خدمت کے عوض ایسے لوگوں کے وظائف مقرر کئے جاسکتے ہیں اور ساتھ ساتھ وہ رضاکارانہ طور پر اور ثواب کی نیت سے اذان دیتے رہیں‘‘

موصوف کا یہ بیان اس کسوٹی پر ہی پورا اترے گا جب اس بات کا کھل کر اعلان کردیا جائے کہ اب قرآن وسنت کے مطابق کوئی کام نہیں کرنا،اس وقت بیت المال سے سب کچھ کیا جائے گا،لیکن اگر بنیاد قال اﷲ و قال رسول ا ہے تو پھر یہ کسی صورت جائز نہیں۔نیز یہ چیز بھی سمجھ سے بالاتر ہے کہ موصوف نے یہ کیوں لکھا ہے کہ ’’ وہ رضاکارانہ طور پر ثواب کی نیت سے اذان دیتے رہیں‘‘

گویا موصوف بھی جانتے ہیں کہ تنخواہ لے کر اذان دینے والے کے لیے کوئی ثواب نہیں ہے! رہا سوال مسجد کی صفائی پر کسی کو رکھنے کا تو اس پر قرآن و حدیث کی کوئی قد غن نہیں۔ اجرت پر مسجد کی صفائی کرنے والا اگر واقعی صرف حصول ثواب کے لیے اذان دیتا ہے تو پھر کوئی حرج نہیں۔ لیکن اگر معاملہ یہ ہو کہ مسجد کی صفائی کے نام پرملازم رکھا جائے اور ڈیوٹی اذان دینا بھی ہو توپھر یہ ہرگز جائز نہیں۔

جہالت سے بھر پور تشریح

چوتھی روایت جس میں نے تعلیم القرآن پر ھدیہ لینے کو آگ کا طوق بیان فرمایا تھا ،موصوف نے اسے بھی ضعیف ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ہم نے اپنی کتاب میں اس بات کو واضح کردیا تھا کہ ناصر الدین البانی نے اس روایت کے دونوں طرق کو صحیح قرار دیا ہے ،لیکن موصوف اس روایت کی سند پر بحث کرتے ہوئے ایسے گزرگئے کہ جیسے ناصر الدین البانی کو جانتے ہی نہیں( حالانکہ وہ ان کے اپنے فرقے کے معتمد علیہ آدمی تھے) اوربس’ ’میں نہ مانوں‘‘ کے انداز میں موصوف نے اسے ضعیف قرار دے دیا۔ ایسی روایت جس میں تعلیم القرآن پر تحفہ تک لینا جائز نہ ہو، اسے تو یقیناًضعیف ہی قرار دینا پڑے گا ورنہ تونوبت فاقوں تک پہنچ جائے گی!صحابہ کرام ؓ  ’’تحفہ‘‘اس لیے نہیں لیا کرتے تھے کہ وہ محنت و مشقت کرکے، لکڑیاں کاٹ کاٹ کر اپنا پیٹ پالتے ، قرآن کا علم سیکھتے اور سکھاتے تھے۔اب مولوی صاحب ان صحابہ کرام ث کی طرح تو ہیں نہیں کہ محنت و مشقت اورمزدوری کر کے اپنا ’’ اسٹیٹس‘‘status) (خراب کرلیں۔گویا ان کی زبانیں زیرلب کہہ رہی ہیں کہ واذا قیل لھم امنوا کما امن الناس قالو انومن کما امن السفھاء

موصوف نے اس روایت کے حوالے سے ابن کثیر کی یہ تشریح پیش کی ہے: ’’ ۔۔۔ مطلب یہ ہے کہ جب اس نے خالص اﷲ کے واسطے کی نیت سے سکھایا پھر اس پر تحفہ اور ہدیہ لے کر اپنے ثواب کو کھونے کی کیا ضرورت ہے؟ اور جبکہ شروع ہی سے اجرت پر تعلیم دی ہے تو پھر بلاشک و شبہ جائز ہے جیسے اوپر کی دونوں حدیثوں میں بیان ہو چکا ہے۔واﷲ اعلم ( صفحہ 71/72 )

دوسری جگہ موصوف لکھتے ہیں

’’ اور علماء نے حدیث عبادہ کی یہ تشریح کی ہے ( جب کہ یہ حدیث صحیح ہو) کہ یہ ایک ایسا کام تھا جس کو انہوں نے بنظر ثواب خوشی سے کیا تھا اور اس کے کرنے میں ان کی نیت ثواب کی تھی اور تعلیم کے دوران انہوں نے بدل(اجرت) اور نفع کمانے کی نہیں تھی۔ اس لئے نبی انے ان کو ڈرایا اور انہیں خوف دلایا اور عبادہ کا معاملہ اس شخص کی طرح تھا جو کسی کا گم شدہ جانور ڈھونڈ کر واپس کردے یا اس کے غرق شدہ سامان کو جو دریا میں غرق ہوگیا تھا دریا سے نکال کر بنظر ثواب خوشی سے اسے واپس کردے،ایسے شخص کے لئے جائز نہیں کہ وہ اس کام پر اجرت حاصل کرے اور اگر وہ اس کام کے کرنے سے پہلے ثواب کی نیت کے بغیر اس شخص (جانوروں کے یا سامان والے) سے اجرت طلب کرے تو یہ جائز ہے۔اور اصحاب صفہ فقراء تھے، ان کی معیشت کا دارمدار لوگوں کے صدقے پر تھا۔آدمی کا ان میں سے مال لینا مکروہ تھا اور انہیں مال لوٹانا مستحب تھا۔‘‘ (صفحہ 62/63 )

موصوف کی پیش کردہ اس نادر و نایاب تحریر سے یہ قانون سامنے آیا کہ اگر کسی نے صرف ثواب آخرت کی نیت سے قرآن کی تعلیم دی ہوتو تحفہ لینا ناجائز ہوگا۔لیکن اگر دنیا کمانے کے لیے وہ قرآن کی تعلیم دے رہا ہے تو پھر جائز ہے۔سمجھ میں نہیں آتا کہ موصوف اور ان کے ہم مشربوں پر یہ ساری باتیں کون وحی کر دیتا ہے جو نہ کتاب اللہ میں موجود ہوں اور نہ حدیث میں انہیں بیان کیا گیا ہو؟وان الشیطٰن لیوحون الی اولءھم

قارئین!ہم سوچتے ہی رہے کہ آخر یہ کیوں بیان کیا گیا کہ اگر ثوابِ آخرت کے لیے پڑھائے تو تحفہ لینا حرام اور جو دنیا کمانے کے لیے پڑھائے تو اس کے لیے سب کچھ جائز؟ بلآخر عقدہ یہ کھلا کہ واقعی ان کا بیان تو’’ حقیقت ‘‘پرہی مبنی ہے۔ان کا یہ کہنا کہ اگر کوئی آخرت کے اجر کے لیے یہ تعلیم دے رہا ہے تو اسے ایک تنکا بھی نہیں لینا چاہیے ،سو فیصد صحیح ہے کیونکہ قرآن کی تعلیم پر ہر قسم کی اجرت و تحفہ حرام ہے، اگر وہ تحفہ لے لے گا تو آخرت میں اسے ثواب کے بجائے آگ کا طوق پہنایا جائے گا۔ ان کا دوسرابیان بھی سو فیصدصحیح ہے کہ اگر کوئی دنیا کمانے کے لیے ہی قرآن کی تعلیم دے رہاہے تو وہ جو چاہے لے سکتا ہے۔وہ آخرت سے بے نیاز ہے تو ’’آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہ ہوگا‘‘(البقرۃ:200)کیونکہ جب اس کی نیت ہی اﷲ کے حکم کے انکار کی ہے تو پھر اس کی جزا جہنم کی آگ کے علاوہ کچھ بھی نہیں؟ اب وہ تھوڑا کھائے یا زیادہ کھائے ،اس پر کوئی پابندی نہیں۔ فما اصبر ھم علی النار

ایک نیا ڈرامہ

انہی تحریروں میں مفتی موصوف نے یہ بھی فرمایا کہ

’’۔۔۔اور اصحاب صفہ فقراء تھے، ان کی معیشت کا دارمدار لوگوں کے صدقے پر تھا۔آدمی کا ان میں سے مال لینا مکروہ تھا اور انہیں مال لوٹانا مستحب تھا۔‘‘

یعنی نے عبادہؓ کو یہ تحفہ لینے سے اس لیے بھی منع کیا تھا کہ اصحاب صفہ فقراء میں سے تھے ، ان سے لینا ٹھیک نہیں! یہ لوگ اپنا گناہ چھپانے کے لیے نئی نئی تاویلات بیان کرتے رہیں گے مگر یاد رکھیں کہ عذرگناہ بدتراز گناہ۔ چونکہ ’’ حقیقت چھپ نہیں سکتی بناوٹ کے اصولوں سے‘‘چنانچہ ان کے اس دجل کا پول بھی اﷲ نے پہلے ہی کھول دیا کہ فقراء کے ھدایا، اگرچہ مال زکوٰۃ و صدقات سے ہی ہوں، اغنیاء کے لیے حلال کرکے کسی مولوی کی مذکورہ قسم کی حیلہ سازی کی گنجائش نہیں رکھی۔ اوپر بیان کردہ ایک حدیث میں بتایا گیا تھا کہ کوئی غنی شخص زکوٰۃ کی رقم نہیں لے سکتا مگر سوائے ان پانچ افراد کے۔۔۔ پانچواں شخص جو اس رقم کو لے سکتا ہے اس کے متعلق نبیﷺنے فرمایا

’’۔۔۔یا وہ شخص جس کے مسکین ہمسائے کے پاس سے وہ بصورت ھدیہ آئے (یعنی زکوٰۃ اس کے مسکین پڑوسی کو ملے اور وہ پڑوسی اسے بطور ھدیہ دے‘‘ )

حدیث نے وضاحت کردی کہ اگرکسی مالدار کے مسکین پڑوسی کو زکوٰۃ ملے اور وہ اس سے اپنے مالدار پڑوسی کو تحفہ بھیجے ،تو یہ اس مالدار شخص کے لیے جائز ہے جیسے بریرہ لونڈی کو صدقے میں ملنے والے گوشت کو نے اپنے لیے ھدیہ قرار دیا ۔ (بخاری: کتاب الزکوٰۃ باب اذا تحولت الصدقۃ)اب یہ موصوف مزید کون سا ڈرامہ رچائیں گے؟ کتاب اﷲ نے ان کے سارے مکرو فریب کا پردہ چودہ سو سال پہلے ہی چاک کردیا ہے۔ یہ ہیں حدیث پر ایمان کے دعویدار کہ جس چیز کو نبی اجائز قرار دیں یہ اسے مکروہ قرار دے دیں، اور جس بات سے نبی ﷺمنع فرمائیں وہ ان کے نزدیک مکمل طور پر حلال ہے! حیرت ہے کہ نبی ا نے اپنے قولی حکم سے مالدار انسان کے لیے اس کے غریب پڑوسی کا ھدیہ حلال کردیا، لیکن عبادہ بن صامتؓ کو اس سے روک دیا!

’’دم‘‘ والی روایت

اب ہم آتے ہیں بخاری کی ان احادیث کی طرف جنہیں ان پیشہ وروں نے اپنے باطل استدلال کی بھینٹ چڑھایا ہوا ہے۔ڈاکٹر صاحب رحمہ نے اپنی کتاب ’’تعویذات اور شرک ‘‘ میں اس روایت کو پیش کیا ہے:

عن ابی سعید الخدری انّ ناساً من اصحاب النبیا اتوا علی الحیّ من احیاء العرب فلم یقروھم فبینماھم کذالک اذلدغ سید اولئک فقالوا ھل معکم دواءٌ اوراقٍ فقالوا نعم انَّکم لم تقرونا ولا نفعل حتیٰ تجعلوالنا جُعلاً فجعلوا لھم قطیعًا من الشاءِ فجعل یقرأ باُمّ القرآن و یجمع بزاقہ و یتفلُ فبرأ فاتوا با لشّاء فقالوا لا ناخذھا حتیٰ نسئل النبیا فساَلُوہ فضحک و قال ما ادراک انّھا رُقیۃٌ خذوھا واضربوا لی بسھم و فی روایۃٍ اقسموا واضربوالی معکم سھمًا

(بخاری: کتاب الطب، و فی روایۃ سلیمان بن قتۃ فبعث الینا بالشاۃ والنزول فاکلنا الطعام)

(بخاری: کتاب الطب، و فی روایۃ سلیمان بن قتۃ فبعث الینا بالشاۃ والنزول فاکلنا الطعام) ’’ابو سعید خدری ؓ روایت کرتے ہیں کہ صحابہ کرام ؓکی ایک جماعت ایک عرب قبیلہ کے پاس پہنچی۔ قبیلہ والوں نے اُن کی مہمان نوازی کرنے سے انکار کردیا۔ اسی درمیان اس قبیلہ کے سردار کو ایک زہریلے جانور نے ڈس لیا۔ قبیلہ والوں نے صحابہ ؓ سے دریافت کیا کہ کیا تمہارے پاس کاٹے کی دوا ہے یا تمہارے اندر کوئی ایسا ہے جو کاٹے کے منتر سے واقف ہو اور دم کر سکتا ہو۔ صحابہ ؓ نے جواب دیا کہ’’ ہاں‘‘۔ مگر تم لوگ وہ ہو جنہوں نے ہماری میزبانی کرنے سے انکار کردیا ہے اس لیے ہم اس وقت تک تمہارے سردار پر ’’دم‘‘ نہ کریں گے جب تک تم ہمیں اُس کی اجرت دینے کا وعدہ نہ کرو۔ آخر کار بھیڑوں کی ایک ٹکڑی پر معاملہ طے ہوا۔ ایک صحابی ؓ نے سورۃ فاتحہ پڑھ کر اپنا تھوک جمع کیا اور سردار پر تُھتکاردیا۔ قبیلہ کا سردار بالکل اچھا ہو گیا۔ حسب وعدہ قبیلہ والے بھیڑیں لے آئے۔ صحابہ کرامث کو تردد ہوا۔ اور انہوں نے کہا کہ اس وقت تک ہم ان بھیڑوں کو نہ لیں گے جب تک نبی ﷺسے دریافت نہ کرلیں۔ پھر جب نبیﷺ سے انہوں نے پوچھا تو نبیﷺ ہنسے اور فرمایا کہ تم کو کیسے معلوم ہوا کہ سورۃ فاتحہ ایک ’’دم‘‘ ہے؟ بھیڑوں کو لے لو، اور میرا بھی حصّہ لگاؤ۔ ایک دوسری روایت میں ہے کہ آپس میں تقسیم کرلو اور میرا بھی حصہ لگاؤ۔ سلیمان بن قتہ کی روایت میں اتنا اضافہ ہے کہ پھر قبیلہ والوں نے ہمارے لیے بھیڑیں بھیجیں اور ضیافت کے لیے کھانا بھی جس کو ہم نے کھایا۔( تعویذات اور شرک : صفحہ ۱۳)

ڈاکٹر عثمانی رحمہ پر جھوٹاالزام

اس روایت کے حوالے سے موصوف نے ڈاکٹر عثمانی رحمہ پر جھوٹا الزام لگایا ہے : ’’ ۔۔۔ لیکن ستم ظریفی ملاحظہ فرمائیے کہ ڈاکٹر موصوف نے صحیح بخاری کی اس واضح حدیث کو ابوسعید خدریؓ کی حدیث کے الفاظ قد اصبتم کو نقل تک نہیں کیا کیوں کہ اس طرح ان کے قائم کردہ فلسفہ کا پول کھل جاتا۔ڈاکٹر موصوف کی ہمیشہ سے یہ عادت رہی ہے کہ وہ احادیث نقل کرنے میں خیانت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔‘‘ ( صفحہ 31 )

قارئین!ان مفتی موصوف کی خیانتوں کی ایک طویل فہرست آپ کے سامنے ہے، لیکن یہ اس قدر گر جائیں گے کہ اپنی اصلاح کرانے والوں پر اس طرح کے جھوٹے الزامات لگائیں گے ، اس کا ہمیں قطعاً اندازہ نہ تھا۔ایک دین فروش سے ہمیں ہرقسم کی توقع رکھنی چاہیے۔دراصل ڈاکٹر عثمانی رحمہ کو جھوٹا قرار دینا ان کی مجبوری بھی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ڈاکٹر رحمہ نے قرآن و حدیث کی صحیح دعوت پیش کرکے ان تمام فرقہ پرستوں کی حقیقت کھول کر رکھ دی ہے۔ ان فرقوں سے وابستہ لوگوں میں سے بعض نے اسے قبول کرکے صحیح اسلام قبول کرلیااورکافی تعداد اب بھی شک میں پڑی ہوئی ہے،جس کاموصوف نے اپنی کتاب میں اعتراف بھی کیا ہے۔لہٰذااپنے لوگوں کو مطمئن کرنے کے لیے موصوف نے یہ اوراق سیاہ کیے ہیں۔ قارئین!مذکورہ کتابچے میں کس قدر جھوٹ لکھا گیا ہے، اس کا کچھ اندازہ تو آپ کو ہو ہی گیا ہوگا ،آگے ان کے مزیدجھوٹ کی ایک اور لسٹ آنے والی ہے۔ ڈاکٹرعثمانی رحمہ کے بارے میں انہوں نے جس دریدہ دہنی کا مظاہر کیا ہے، ہم اس پر صرف یہ آیت ہی پڑھیں گے کہ

لعنت اﷲ علی الکاذبین ’’ جھوٹوں پراﷲ کی لعنت‘‘۔

 

ڈاکٹر صاحب نے مذکورہ حدیث’’بخاری:کتاب الطب، باب الرقی بفاتحۃ الکتاب و یذکر عن ابن عباس عن النبی ﷺ ‘‘کے حوالے سے پیش کی ہے۔مگر اس روایت میں قد اصبتم( تم نے صحیح کام کیا)کے الفاظ ہر گز نہیں۔موصوف اس روایت کے پورے متن میں یہ الفاظ نہیں دکھا سکتے ،لہٰذا اپنے جھوٹ کا اقرار کرتے ہوئے اﷲ سے معافی مانگیں ۔ان کے مقلدین ،اب بھی انہیں پہچان لیں کہ موصوف مذکورہ آیت کے کتنے بڑے مصداق ہیں ۔

صرف اسی روایت میں نہیں بلکہ خود موصوف نے اپنے کتابچے میں صفحہ 13 پر بخاری کے حوالے سے ابن عباس ؓ والی جو روایت پیش کی ہے اس میں بھی یہ الفاظ نہیں ملتے۔نیز صفحہ12 پر بخاری:فضائل القرآن،باب فضل فاتحۃ الکتاب کا حوالہ دیا ہے، لیکن اس روایت میں بھی ان الفاظ کا کوئی وجود نہیں۔ انہوں نے بخاری: کتاب الطب، باب النفث فی الرقیۃ کا حوالہ بھی دیا ہے لیکن شاید امام بخاری قد اصبتم کے الفاظ یہاں بھی نقل کرنا ’’بھول‘‘ گئے۔مسلم:کتاب السلام، باب جواز اخذ الاجر عن الرقیۃ و الاذکارکا بھی موصوف نے حوالہ دیا ہے لیکن پرنٹرکی ’’ غلطی‘‘ کی وجہ سے شاید یہ الفاظ یہاں بھی نہیں چھپ سکے!علامہ صاحب نے ترمذی: کتاب الطب،باب ماجاء فی اخذ الاجر علی التعویذکا بھی حوالہ دیا تھا لیکن نہ جانے کیوں امام ترمذی نے یہ الفاظ ’’غائب‘‘ کردئیے۔ موصوف نے اسی طرح ابن ماجۃ،کتاب التجارت،باب اجر الرقی کا حوالہ دیتے ہوئے بھی نہ دیکھا کہ اس میں یہ الفاظ موجود ہیں یا نہیں۔اپنے ممدوح امام احمد بن حنبل کی مسند کابھی حوالہ دیا لیکن باقی مسند المکثرین، مسند ابی سعید الخدریصمیں احمد بن حنبل نے شاید ان الفاظ کو نقل کرتے ہوئے ’’خیانت‘‘ کردی۔ موصوف اب ڈاکٹر صاحب کے ساتھ ساتھ بخاری، مسلم، ترمذی،ابن ماجہ اور احمد بن حنبل پر بھی یہ الزام لگائیں کہ’’ ۔۔۔وہ احادیث نقل کرنے میں خیانت کا مظاہرہ کرتے ہیں‘‘۔ قارئین!یہ ہیں اہلحدیث! نام اہلحدیث مگرعلم حدیث کے شاید قریب سے بھی نہیں گزرے، بس صرف مکھی پرمکھی مارتے ہیں۔اوریہ مفتی موصوف تو جھوٹ اور دجل میں سب سے آگے لگتے ہیں۔تحقیق کے نام پرایسی ’’نادرونایاب‘‘ بلکہ ’’نرالی نویلی‘‘ خامہ فرسائیاں فرمانے سے پہلے چھان پھٹک تو کرلیتے کہ ڈاکٹر صاحب نے حدیث کا جوحوالہ دیا تھا، اس روایت میں جناب موصوف کے مزعومہ الفاظ ہیں بھی یا نہیں؟اسی طرح جن روایات کا خود حوالہ دیا تھا انہیں بھی چیک کر لیتے کہ ان میں بھی یہ الفاظ موجودہیں یا نہیں تاکہ ان کے نام کے ساتھ زبردستی کے لگے ہوئے سابقے’’مفتی‘‘ کا بھرم تورہ جاتا! موصوف نے چن کر بخاری :کتاب الاجارۃکے حوالے سے جو روایت پیش کی ہے اس میں البتہ یہ الفاظ مل جاتے ہیں جبکہ ابوداؤد کی روایت میں یہ الفاظ احسنتم میں تبدیل ہوگئے۔

موصوف نے اس روایت کی بنیاد پر لکھا ہے کہ

’’ اس حدیث سے واضح ہوگیا کہ صحابہ کرام رضوان اﷲ علیہم اجمعین نے دم پر جو اجرت لی تھی اسے نبی ﷺ نے نہ صرف جائز قرار دیا بلکہ اس میں آپ ا نے اپنا حصہ بھی مقرر کرنے کا حکم دیا۔تاکہ صحابہ کرام کو اس مال کے حلال و طیب ہونے میں کوئی شک و شبہ باقی نہ رہے علاوہ ازیں آپ ا نے اس واقعہ پر ہنس کر خوشی کا اظہار بھی فرمایا۔‘‘(صفحہ12 ) ڈاکٹر صاحب نے قرآن و حدیث کے مطابق اس کی یہی تشریح فرمائی تھی کہ

’’یہ حدیث صاف بتا رہی ہے کہ یہ ایک غیر معمولی واقعہ تھا۔ اور اس خاص موقع پر صحابہ کرام ؓنے ان قبیلہ والوں سے اجرت کا معاملہ صرف ان کی بے مروتی سے ناراض ہونے کی وجہ سے کیا تھا۔ دوسری بات یہ ہے کہ یہ ٹھیٹھ اُجرت کا معاملہ ہے بھی نہیں، کیونکہ اگر یہ بھیڑیں اُجرت میں دی گئی تھیں تو یہ صرف ’’دم‘‘ کرنے والے کی اُجرت تھیں۔ ان کا تقسیم کیا جانا اور نبیﷺ کا اپنا حصہ نکالنے کے لیے کہنا اُجرت کے معاملے میں تو بہر حال نہیں ہو سکتا۔ اس لیے اس روایت سے اُجرت کا جواز نکالنا صحیح نہیں ہے۔ دراصل نبی ﷺکا ارشاد صحابہؓ کی تالیف قلب کے لیے تھا۔ کیونکہ ایسی جگہ پر جہاں کھانے پینے کی چیزیں دستیاب نہ ہو رہی ہوں ایک قبیلہ کا مہمان نوازی سے انکار کردینا سخت خطرناک نتائج کا حامل ہو سکتا ہے۔ ایسے غیر معمولی حالات کی وجہ سے نبیﷺ نے یہ بات کہی تاکہ قبیلہ والوں نے جو انہیں کھلایا پلایا تھا اس پر ان کا دل نہ کڑھے ورنہ عام حالات میں قرآن پر اجرت لینے سے نبیﷺنے شدت کے ساتھ منع فرمایا ہے۔ متعدد احادیث نبیﷺ اس پر شاہد ہیں۔‘‘(تعویذات اور شرک ،صفحہ14 )

ڈاکٹر صاحب نے اس روایت کی جو تشریح بیان کی تھی وہ قرآن و احادیث کے مطابق ہی تھی۔کسی بھی موضوع پر قرآن و حدیث کا پورامواددیکھنا ہوتا ہے، یہ نہیں کہ کسی روایت کے کچھ الفاظ پکڑ کر اس پرفیصلہ کردیا جائے جو کتاب اﷲ کے متفقہ فیصلے کے خلاف ہو۔دینی امور پر اجرت کے بارے میں قرآن و حدیث کا متفقہ بیان آپ کے سامنے آچکا ہے۔ اس حدیث کی تاویل کتاب اﷲ کے بیان کردہ موقف کے مطابق کی جائے گی نہ کہ اس کے خلاف !

ڈاکٹر عثمانی کی’’ تعویذات اور شرک‘‘اوراس کے بعد لکھی گئی کتاب ’’دینداری یا دکانداری‘‘ میں اس بات کی تشریح کردی گئی تھی کہ یہ خصوصی معاملہ اس وقت پیش آیا تھا جب صحابہ کرام ؓ کی جماعت کا گزر ایک قبیلے والوں پر ہوا جنہوں نے اس جماعت کی میزبانی کرنے سے انکار کردیا۔ایسی صورتحال کے لیے نبیﷺ نے صحابہ کرام ثکو اس بات کی تعلیم دی ہوئی تھی کہ اگر کوئی قبیلہ ان کی ضیافت نہ کرے تووہ کسی طور سے حق ضیافت وصول کرلیں کیونکہ اس دور میں آج کل کی طرح ہوٹلوں وغیرہ کا رواج نہیں تھا۔ اس قبیلے نے اس جماعت کی ضیافت سے انکار کیاتواﷲ تعالیٰ نے اس قبیلے کے سردار کو کسی زہریلی چیز سے ڈسوا دیا۔جب وہ قبیلے والے صحابہ کرام ؓ کے پاس آئے تو اُن کے طرز عمل کی نشاندہی کی گئی جیسا کہ روایت میں ہے۔ اس سے اس بات کی مکمل وضاحت ہوگئی کہ صحابہ ثنے یہ معاملہ محض اس بنیاد پر کیا تھا کہ قبیلے والوں نے حق ضیافت ادا نہیں کیا تھا ۔چنانچہ سور ہ فاتحہ کا دم کیا گیا اور اﷲ تعالیٰ نے ان کے سردار کو شفا عطا فرمادی ،قبیلے والے حسب وعدہ بکریاں لے آئے۔اب صحابہ کرام ثکو تردد ہو ا ۔ یہ تردد اسی وجہ سے ہوا کہ اللہ اوراس کے رسول ا قرآن پر اجرت کو حرام ٹہراتے تھے ۔ چنانچہ انہوں نے اس سلسلے میں یہ طے کیا کہ یہ معاملہ پہلے نبی ا کے سامنے پیش کیا جائے۔نبی انے اس کو اس خاص موقعے پر جائز قرار دیدیا۔ ہماری کتب میں اس بات کی تشریح کی گئی تھی کہ اگر نبی ا اسے ’’اجرت‘‘ یا ’’کمائی‘‘ سمجھتے تو کسی طور پر بھی اس کی تقسیم اور اس میں اپنے حصہ نکالنے کا حکم نہ دیتے کیونکہ ’’اجرت‘‘ یا’’ کمائی ‘‘ توعمل کرنے والے کی ہوتی ہے، وہ کسی میں تقسیم نہیں ہوتی۔مگر موصوف کے پاس ان دلائل کا کوئی جواب نہ تھا لہٰذاحسب معمول اپنی جہالت کا مظاہر ہ اس طرح کیا:

علامہ صاحب!ہم نے اس بات کو اعتراض کے طور پر نہیں پیش کیا تھا بلکہ یہ تو استدلال تھا کہ نبیﷺنے اسے اجرت کے زمرے میں لیا ہی نہیں بلکہ یہ دراصل حق ضیافت کی وصولی تھی جس میں سارا قافلہ حصہ دار تھا۔ یہ تصور کہ صحابہ ث کمائیں اور نبی ا اس میں اپنا حصہ لگوائیں، شاید اہلحدیثوں کے ایمان کاحصہ ہو،لیکن ہمارے لیے تو یہ ناقابل تصور ہے۔ اسی طرح موصوف کا یہ کہنا کہ’’ نبیﷺ نے اس واقعہ پر ہنس کر خوشی کا اظہار فرمایا‘‘ جھوٹ اور بلا دلیل ہے۔اﷲ کے رسول ا اﷲ کا حکم پہنچائیں کہ اﷲ کی آیات کو نہ بیچو، اسے معاش کا ذریعہ نہ بناؤ، اس کے ذریعے دنیاوی منفعت حاصل نہ کرو،اوراس کے علی الرغم، بقول مفتی موصوف، جب صحابہ کرام ث نے (نعوذباﷲ) اس پر اجرت وصول کی توآپ نے ہنس کر اس پر خوشی کا اظہار فرمایا!ڈاکٹر عثمانی پر لگائے جانے والے الزامات کی کیا حیثیت ،موصوف نے تو اﷲ کے رسول اللہ ﷺ کو بھی نہ چھوڑا، ان پر بھی تہمت لگادی کہ آپ نے خلاف قرآن کام پر(معاذاللہ)ہنس کر خوشی کا اظہار فرمایا۔کیا علامہ صاحب اتنی سادہ بات نہیں سمجھ پائے کہ نبیﷺ کا ہنسنا (نعوذباﷲ) قرآن کے خلاف کسی عمل پر نہیں تھا بلکہ وہ اس بات پر ہنسے تھے کہ صحابہ نے کیسے معلوم کیا کہ سورۃ فاتحہ ایک دم ہے۔نبی ﷺ کا ہنسناصحابہ ؓکے اس خوداختیاری عمل کی تصویب تھا۔قداصبتم کا یہی مطلب ہے۔

موصوف کادوغلا پن

موصوف نے اس بات پر بھی بڑا زور لگایا ہے کہ صحابہ کرام ؓ نے یہ اجرت ’’قرآن‘‘ کے عوض لی تھی حالانکہ حدیث کے الفاظ میں واضح طور پر اس کا اظہار ملتا ہے کہ انہوں نے یہ معاوضہ بطور ضیافت قبول کیا تھا۔ موصوف فرماتے ہیں: ’’ رہا یہ دعویٰ کہ صحابہ کرام نے دراصل قبیلہ والوں سے حق ضیافت وصول کیا تھا تو یہ نرا دعویٰ ہی ہے اور اس کی کوئی دلیل ان روایات میں موجود نہیں‘‘۔( صفحہ ۳۲)

درحقیقت جھوٹ موصوف کی گھٹی میں پڑا ہوا ہے اسی لیے اپنی بات ثابت کرنے کے لیے موصوف ہر طریقہ اپناتے ہیں چاہے جھوٹ ہی کیوں نہ لکھنا پڑے۔اب ان کی قسمت کہ ان کو اپنے مطلب کی ایک ہی روایت ملی اور اس میں بھی ایسے الفاظ ہیں جو ان کے موقف کا ساتھ نہیں دیتے! ان کا بس اگر چلتاتو یہ اس حدیث سے یہ الفاظ ہی نکال دیتے : ’’قبیلہ والوں نے صحابہ سے دریافت کیا کہ کیا تمہارے پاس کاٹے کی دوا ہے یا تمہارے اندر کوئی ایسا ہے جو کاٹے کے منتر سے واقف ہو اور دم کر سکتا ہو۔ صحابہ نے جواب دیا کہ ’’ ہاں‘‘۔ مگر تم لوگ وہ ہو جنہوں نے ہماری میزبانی کرنے سے انکار کردیا ہے اس لیے ہم اس وقت تک تمہارے سردار پر ’’دم‘‘ نہ کریں گے جب تک تم ہمیں اُس کی اجرت دینے کا وعدہ نہ کرو۔‘‘ موصوف نے اپنی حرام کمائی کو حق ثابت کرنے کے لیے جو تانے بانے ملانے کی کوشش کی تھی،اس حدیث کے واضح الفاظ نے سر راہ اس کا شیرازہ بکھیر دیا۔ قارئین!آپ شاید کہتے ہوں گے کہ ہم خواہ مخواہ موصوف کو جھوٹا ثابت کرنا چاہ رہے ہیں حالانکہ یہ کوئی چھوٹے موٹے آدمی نہیں بلکہ اپنے نام کے ساتھ بڑے طمطراق سے ’’ مفتی‘‘لکھتے ہیں گواہلیت کے فقدان کے سبب اس منصب کی لاج نہ رکھ سکتے ہوں۔ بات یہ ہے کہ جھوٹ اسے کہتے ہیں کہ جب ایک آدمی کسی حقیقت سے واقف ہو لیکن اپنے کسی عیب پر پردہ ڈالنے کے لیے اسے چھپائے۔ملاحظہ فرمائیے کہ موصوف اس حقیقت سے کس قدر باخبرہیں: ’’ یہ بات اس حد تک درست ہے کہ صحابہ کرام نے قبیلہ والوں کی بے مروتی کی وجہ سے ان سے دم پر اجرت لی تھی۔۔۔‘‘(صفحہ ۳۰)

ملاحظہ فرمایا آپ نے!صفحہ ۳۰ پر لکھتے ہیں کہ یہ بات اس حد تک درست ہے اور صفحہ ۳۲ پر فرماتے ہیں کہ یہ نرا دعویٰ ہی دعویٰ ہے ورنہ اس کی کوئی دلیل موجود نہیں!زبان کی ایک کروٹ سے کچھ اور دوسری کروٹ سے کچھ! قارئین! کچھ آپ کو بھی پہچان ہوئی ان اہلحدیث مفتیان کی؟

جھوٹ کی انتہاء

اس جھوٹ کے بعد پھر ایک اور جھوٹ لکھا(بیچارے کیا کریں کہ عادت جو بن گئی ہے) ’’۔۔۔ اسی طرح یہ بھی ممکن ہے کہ ابو سعید خدری رضی اﷲ عنہ کی روایت کی وجہ سے عقبہ بن عامر رضی اﷲ عنہ کی روایت والا حکم منسوخ ہوگیا ہو کیوں کہ صحابہ کرام کی جب انہوں نے ضیافت نہ کی تو وہ وہاں سے روانہ ہونے لگے اور پھر دم والا واقعہ پیش آیا ۔‘‘(صفحہ ۳۸)

موصوف ثابت یہ کرنا چاہ رہے ہیں کہ ڈاکٹر عثمانی صاحب نے جھوٹ بولا ہے ورنہ صحابہ حق ضیافت تو وصول کرنا چاہتے ہی نہیں تھے بلکہ وہ تو وہاں سے روانہ ہو رہے تھے ۔۔۔ ۔۔۔ موصوف اپنی عادت کی وجہ سے جھوٹ پر جھوٹ بولے جارہے ہیں ورنہ حدیث کے الفاظ تو اس طرح ہیں:

۔۔۔فلم یقروھم فبینماھم کذالک اذلدغ سید اولئک فقالوا ھل معکم دواء۔۔۔

(بخاری:کتاب الطب، باب: الرقی بفاتحۃ الکتاب و یذکر عن ابن عباس عن النبیا )

۔۔۔قبیلہ والوں نے اُن کی مہمان نوازی کرنے سے انکار کردیا۔ اسی درمیان اس قبیلہ کے سردار کو ایک زہریلے جانور نے ڈس لیا۔ قبیلہ والوں نے صحابہ سے دریافت کیا کہ کیا تمہارے پاس کاٹے کی دوا ہے یا۔۔۔

موصوف نے اس حوالے سے بخاری کتاب الاجارہ کی روایت پیش کی ہے، ذرا اس کے الفاظ پر بھی ایک نگاہ ڈال لیں:

’’۔۔۔ صحابہ نے چاہا کہ قبیلہ والے انہیں اپنا مہمان بنالیں۔ لیکن انہوں نے مہمانی نہیں کی بلکہ صاف انکار کردیا۔ اتفاق سے اسی قبیلہ کے سردار کو سانپ نے ڈس لیا۔قبیلہ والوں نے نے ہر طرح کوشش کر ڈالی، لیکن سردار اچھا نہ ہوا۔ ان کے کسی آدمی نے کہا چلو ان لوگوں سے پوچھیں جو یہاں اترے ہیں،ممکن ہے کہ ان کے پاس کوئی چیز موجود ہو۔چنانچہ قبیلہ والے ان کے پاس آئے اور کہا کہ بھائیو! ہمارے سردار کو سانپ نے ڈس لیا ہے اس کے لئے ہم نے ہر قسم کی کوشش کرڈالی ہے کچھ فائدہ نہ ہوا۔ کیا تمہارے پاس کوئی چیز موجود ہے؟ ایک صحابی نے کہا کہ قسم اﷲ کی میں اسے جھاڑدوں گا۔ لیکن ہم نے تم سے میزبانی کے لیے کہا تھا اور تم نے اس سے انکار کردیا۔اس لئے اب میں بھی اجرت کے بغیر نہیں جھاڑ سکتا۔۔۔‘‘(صفحہ ۱۱،۱۲)

حدیث کے الفاظ نے مفتی موصوف کا جھوٹ ثابت کردیا۔صحابہ کرام ؓ وہاں سے گئے نہیں تھے بلکہ وہیں موجود تھے کہ قبیلہ کے سردار کو اﷲ تعالیٰ نے سانپ سے ڈسوا دیا۔خود ہی حدیث پیش کرتے ہیں لیکن انہیں حقیقت دکھائی نہیں دیتی ۔ یہ جھوٹ بول بول کر شایداپنے مقلدین کو ضرور گمراہ کردیں گے لیکن اﷲ کے یہاں ان سب کارگزاریوں کا کیا جواب دیں گے؟ سمجھ میں نہیں آتا کہ موصوف جھوٹ گھڑ گھڑ کراسلام کی کونسی خدمت کر رہے ہیں؟ موصوف گمراہ کرنے کی اپنی اسی کوشش میں مزید لکھتے ہیں

’’ صحیح مسلم کی روایت میں یہ بھی ہے ان قبیلہ والوں نے صحابہ کرام کی دودھ سے تواضع فرمائی جس سے یہ ثابت ہوگیا کہ قبیلہ والوں کوجب بعد میں اپنی غلطی کا احساس ہوا تو انہوں نے دودھ سے صحابہ کرام کی خاطر مدارت کی اور حق ضیافت ادا کیا۔ اس وضاحت سے وہ تمام مفروضے غلط ثابت ہو جاتے ہیں کہ جنہیں موصوف نے فلسفیانہ انداز میں خوب بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔‘‘ (صفحہ ۳۲،۳۳)

سب کچھ جانتے ہوئے بھی کس قدر ڈھٹائی کے ساتھ اپنی بات پر اڑے ہوئے ہیں۔ فرماتے ہیں کہ اس وضاحت سے وہ تمام مفروضے باطل ثابت ہوتے ہیں جو ڈاکٹر صاحب نے بڑھا چڑھا کر پیش کیے ہیں ۔حالانکہ ڈاکٹر صاحب نے خود اپنی کتاب میں سلیمان بن قتہ والی روایت کے حوالے سے بیان کیا تھا کہ پھر قبیلہ والوں نے ہمارے لیے بھیڑیں بھیجیں اور ضیافت کے لیے کھانا بھی جس کو ہم نے کھایا۔ فانھا لا تعمی الابصار ولٰکن تعم القلوب التی فی الصدور

موصوف کی دراصل اندر والی آنکھ اندھی ہے اس لیے صرف اپنے کام کی چیز ہی دکھائی دیتی ہے۔ ڈاکٹر صاحب کسی بات کے چھپانے والے نہیں تھے ،انہوں نے اس مسئلہ پر آنے والی ساری باتیں کھول کر رکھ دی ہیں۔بات دراصل یہ ہے کہ قبیلہ والوں نے بعد میں اس ضیافت کا انتظام اپنی شرمندگی کو مٹانے کے لیے ضرور کیا، لیکن دم پر لی گئی اجرت کی بنیاد ان کا پہلا طرز عمل ہی تھا جیسا کہ حدیث کے مذکورہ الفاظ سے ثابت ہوتا ہے:

’’ ہاں‘‘۔ مگر تم لوگ وہ ہو جنہوں نے ہماری میزبانی کرنے سے انکار کردیا ہے اس لیے ہم اس وقت تک تمہارے سردار پر ’’دم‘‘ نہ کریں گے جب تک تم ہمیں اُس کی اجرت دینے کا وعدہ نہ کرو۔‘‘

بات یہ ہے کہ یہی وہ دو روایات ہیں جن سے باطل کشید کرکے ان لوگوں نے حرام کو حلال کیا ہوا ہے۔ان روایات کو پیش کیے بغیر ان کا کام بھی نہیں چلتا، لیکن مصیبت یہ ہے کہ انہی روایات کے الفاظ ان کے جھوٹ کا بھانڈا بھی پھوڑ رہے ہیں۔ یعنی ’’نہ اگلے چین ہے نہ نگلے چین‘‘،بالکل سانپ کے منہ میں چھچھوندر والا معاملہ ہے۔ ایسی حالت میں آدمی اندھا بن کر اِدھر اُدھر ہاتھ مارتا ہے کہ کسی طرح میری بات صحیح ثابت ہو جائے۔لیکن صحیح بات تو وہی ہے جو کتاب اﷲ کی ہو،اور وہ موصوف کو قبول نہیں۔

اِنَّ اَحَقَّ مَا اَخَذْتُمْ عَلَیْہِ اَجْراً کِتَابُ اللّٰہِ

اسی واقعہ کی ایک اور روایت ابن عباس رضی اﷲ عنہما سے بھی آتی ہے۔ما قبل بیان کردہ روایت ابو سعید خدری ص سے مروی ہے جو کہ خود اس قافلے میں شامل تھے،اور ترمذی کی بیان کردہ روایت کے مطابق دم کرنے والے بھی وہ خود ہی تھے، مگر یہ حدیث جس کو روایت کرنے والاصحابی وہ ہے جو خود اس میں سفر میں شامل تھا اور جو اس پورے واقعے کا عینی شاہد اور مرکزی کردار رہا،ان فرقہ پرستوں کے نزدیک اُس روایت سے کم تر ہے جو دوسرے ایسے صحابی سے مروی ہے جو اس واقعے کے گواہ نہیں کہ اس مہم میں شریک سفر نہ تھے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اُس روایت میں ایک ایسا جملہ ہے جس کے ذریعے ان پیشہ وروں نے اپنی ’’حرام‘‘ کمائی کو جائز ٹھہرایا ہوا ہے۔ ابن عباس رضی اﷲ عنہما کی محولہ روایت میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ جب قبیلے کا سردارٹھیک ہوگیا اور صحابہ کو حسب وعدہ بکریاں دے دی گئیں تو

فَکَرِھُوْاذٰلِکَ وَقَالُوْا اَخَذْتَ عَلٰی کِتَابَ اﷲِ اَجْراً

انہوں نے اس لینے میں کراہیت کی اور کہا تم نے کتاب اﷲ پر اجرت لی ہے‘‘

حَتّٰی قَدِمُوْا الْمَدِیِنَۃِ فَقَالُوْا یَا رَسُوْلَ اﷲِ اَخَذَ عَلٰی کِتَابِ اﷲِ اَجْراً

یہاں تک وہ مدینہ پہنچے ،تو انہوں نے کہا اے اﷲ کے رسول ا انہوں نے کتاب اﷲ پر اجرلیا ہے‘‘

رسول اﷲ اﷺنے فرمایا:

اِنَّ اَحَقَّ مَا اَخَذَتُمْ عَلَیہِ اَجْراً کِتَابُ اﷲِ

جن چیزوں پر تم اجر لیتے ہو ان میں سب سے بہتر کتاب اﷲ ہے‘‘

(بخاری:کتاب الطب،باب الشرط فی الرقیۃ۔۔۔)

اس واقعے کے بارے میں تمام کتب حدیث بشمول صحیح بخاری میں جتنی بھی روایات بیان کی گئی ہیں ،سوائے اس منفرد روایت کے کسی میں بھی یہ الفاظ نہیں ملتے۔ یہی وہ جملہ ہے جس پر موصوف کے ہم قبیل اسلاف نے ایک جھوٹی عمارت کھڑی کرنے کی کوشش کی ہے۔ ہر معاملے میں قرآن و حدیث ایک متفقہ عقیدہ دیتا ہے۔ اگر کبھی کسی آیت یا حدیث کے الفاظ سے بظاہر کسی اور آیت یا حدیث کا انکار ہو رہا ہو تواس کی تاویل کتاب اﷲکے دئیے ہوئے متفقہ موقف کے مطابق کی جاتی ہے۔اس بارے میں قرآن و حدیث کا یہی بیان ہے کہ اﷲ کی آیات کو بیچا نہ جائے، اس کوکسی انداز میں بھی کمائی کا ذریعہ نہ بنایا جائے، اس کے عوض کسی قسم کا کوئی تحفہ نہ لیا جائے اور نہ کوئی دوسرا دنیاوی فائدہ اٹھایا جائے، اذان فی سبیل اﷲ دی جائے، اس پر کوئی معاوضہ نہ دیا لیا جائے،اس دینی علم کو صرف اﷲ کی رضا کے لیے سیکھا جائے،جس کسی نے اسے دنیا کمانے کے لیے سیکھا تواس پر جنت کی خوشبو بھی حرام ہے۔۔۔۔۔۔ یہ سار ی باتیں ہمیں رسول اﷲ ا کے ذریعے ہی پہنچی ہیں۔ اب کیا اس بات کا تصور کیا جا سکتا ہے کہ اﷲ کے رسول ا اس کے خلاف بھی کوئی بات فرما دیں گے! رسول اﷲا کے اس فرمان کو اسی انداز میں قبول کیا جائے گا کہ جس انداز میں خود انہوں نے اس پر عمل کیا ہوگا۔سور ہ احزاب میں اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے:

لقد کان لکم فی رسول اﷲ اسوۃ حسنۃ لمن کان یرجو اﷲ و یوم الاخر و ذکر اﷲ کثیرا

(الاحزاب: 21 )

’’ اور تمہارے لیے رسول کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے، ہر اس شخص کے لیے جو اﷲ(کے سامنے)اور روز آخرت (سرخروئی)کی توقع رکھتا اور کثرت سے اﷲ کا ذکر کرنے والا ہو‘‘

موصوف اب فیصلہ کرلیں کہ وہ کن لوگوں میں ہیں؟اگر مفتی صاحب اﷲ کے ملنے اور قیامت کے آنے پر ایمان رکھتے ہیں تو نبیﷺ کا طریقہ اپنا ئیں۔رسول اﷲﷺ نے یہ جملہ فرمایا کہ کتاب اﷲ پر اجر لینا سب سے زیادہ بہتر ہے لیکن فقر و فاقہ، مصیبت و افلاس میں گھرے ہوئے کسی صحابی کو امامت،اذان یا تعلیم القرآن پر اجرت نہیں دی! کیا رسول اﷲ ا کا یہ اسوہ قابل اتباع نہیں ؟ صحابہ کرام ؓ بھی اس جملے کے معنی نہیں سمجھ پائے اور دین سے دنیا کمانے کے بجائے آخرت خریدنے میں ہی مصروف رہے! لیکن سمجھے توبس علم کے یہ ’’سمندروپہاڑ‘‘ ہی سمجھے کہ اس جملے میں کیا بات پنہاں ہے!

قرآن و حدیث کی رو سے جو بات اس جملے سے واضح ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ اجر کمانے کے لائق بہترین چیز اﷲ کی کتاب ہے۔اس سلسلے میں قرآن کی آیات اور احادیث پیش کرنے کی چنداں ضرورت نہیں کہ قرآن پڑھنے ،اس کے مطابق اپنے عقائد بنانے اوراس پر عمل کرنے والوں کے لیے اﷲ نے کتنا بہترین اجر تیارکر رکھا ہے جو آخرت میں ملے گا۔دنیا میں اس کتاب سے جو اجر ملتا ہے وہ یہی ہے کہ اﷲ اس کتاب پر عمل کرنے والوں کو ’’سربلند‘‘کر دیتا ہے۔جیسا کہ نبیﷺ نے فرمایا:

اِنَّ اﷲَ یَرْفَعُ بِھٰذَا الْکِتَابِ اَقْوَامًا وَّ یَضَعُ بِہٖ اٰ خَرِیْنَ

( مسلم: کتاب صلوٰۃ،باب فضل من یقوم بالقرآن۔۔۔)

’’ ۔۔۔ اﷲ تعالیٰ اس کتاب کے ذریعے قوموں کو سربلندی عطا فرماتا ہے اور دوسروں کو اس کے ذریعے پستی میں ڈالدیتا ہے‘‘۔

دنیا میں قرآن پر جو صلہ ملتا ہے وہ یہی ہے کہ اس کو پڑھنے اور اس پر عمل کرنے والی قوموں کو اﷲ تعالیٰ اس دنیا میں سربلندی عطا فرماتا ہے اور اس کے مقابلے میں جو قومیں اس کے مطابق عمل نہیں کرتیں ،انہیں اس دنیا میں ذلیل و پست کردیا جاتا ہے، جیسا کہ آج یہ کلمہ گو امت اس دنیا میں پست کردی گئی ہے۔لہٰذا دینی امور پر اجرت کو جائز قرار دینا محض جہالت اور افترا ء پردازی ہے،خود نبی ا کا اسوہ اور صحابہ کرام ثکا طرز عمل اس کی نفی کرتا ہے۔نبی ا پر افتراء باندھنے سے پہلے ان احادیث پر تو ایک نظر ڈال لیتے جن میں ایسا کام کرنے والے کو نبی ﷺ نے جہنم میں اپنا ٹھکانہ ڈھونڈنے کی وعید سنائی ہے۔

حفظ قرآن کی بنیاد پر نکاح

اس سلسلے میں دوسری روایت جو موصوف اور ان کے ہمنوابڑے زور و شور سے پیش کرتے ہیں وہ ایک صحابیہ رضی اﷲ عنہا کے اپنے آپ کو ھبہ کردینے والی ہے۔ اس حدیث میں مکمل وضاحت ہے کہ ایک صحابیہ رضی اﷲ عنہانے اپنے آپ کو نبی ﷺکے لیے ھبہ کیاتھا جس پر نبیﷺ نے ان کی طرف دیکھا پھر نگاہیں نیچے کرلیں۔ اس سے صحابیہ رضی اﷲ عنہا اور وہاں موجودصحابہؓ نے یہی گمان کیا کہ آپ کو ان کی ضرورت نہیں۔ ایک صحابی نے نبی ﷺ سے اس بات کی درخواست کی کہ اگر نبیﷺ کو ان کی ضرورت نہیں ہے توان کا نکاح اس خاتون سے کردیں۔ نبیﷺ نے ان کی اس درخواست پر ان سے پوچھا:

ھَلْ عِنْدَکَ مِنْ شَیْءٍ؟

تمہارے پاس کوئی چیز ہے؟

ا نہوں نے عرض کیا:

لَا ، وَ اﷲِ یَارَسُوْلَ اﷲِ

’’نہیں،اﷲ کی قسم یارسول اﷲ‘‘

نبیﷺ نے فرمایا: ا

ِذْھَبْ اِلٰی اَھْلِکَ فَا نْظُرْ ھَلْ تَجِدُ شَیْئاً؟

’’گھر جاؤ اور دیکھو ممکن ہے تمہیں کوئی چیز مل جائے

َ فذَھَبَ ثُمَّ رَجَعَ فَقَالَ لَا ، وَاﷲِ مَا وَجَدْتُ شَیْئاً

’’ وہ گئے اور واپس آئے اور عرض کیا کہ اﷲ کی قسم میں نے کچھ نہیں پایا‘‘

پھر نبیﷺ نے ان سے فرمایا:

اُنْظُرْ وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِیْدٍ

’’دیکھ لو اگر لوہے کی ایک انگوٹھی ہی مل جائے‘‘

وہ گئے اور واپس آئے اور عرض کیا:

لَا ، وَاﷲِ یَارَسُوْلَ اﷲِ وَ لَا خَاتَمًا مِنْ حَدِیْدٍ ،وَلٰکِنْ ھٰذَا اِزَارِی

’’اﷲ کی قسم یارسول اﷲ ! میرے پاس لوہے کی ایک انگوٹھی بھی نہیں ہے البتہ میرے پاس یہ ایک تہبند ہے‘‘

حدیث کے راوی سہل ؓفرماتے ہیں کہ ان صحابی کے پاس ایک چادر بھی نہیں تھی جس کی آدھی ان خاتون کو ( بطور مہر) دیدی جاتی۔نبیﷺ نے انہیں سمجھایا کہ اس سے کام نہ چل سکے گا کیونکہ اگر تم اسے استعمال کروگے تو وہ کیا کرے گی اور اگر وہ استعمال کرے گی تو تم کیا پہنو گے۔چنانچہ وہ صحابی خامو ش ہو کر بیٹھ گئے۔ کچھ دیر بعد وہ اٹھ کر جانے لگے تو بنیﷺ نے ان سے پوچھا

مَاذَا مَعَکَ مِنْ الْقُرآنِ

’’ تمہیں قرآن مجید کتنا یاد ہے؟ ‘‘

قَالَ مَعِیَ سُوْرَۃُ کَذَا وَ سُوْرَۃُ کَذَا عَدَّدَھَا

’’انہوں نے عرض کیا فلاں فلاں سورتیں یاد ہیں،انہوں نے گن کر بتائیں‘‘

فَقاَلَ تَقْرَؤُ ھُنَّ عَنْ ظَھْرِ قَلْبِک

’’رسول اﷲ ﷺ نے پوچھا کیا تم انہیں حافظے سے پڑھ سکتے ہو؟

قَالَ نَعَمْ

’’انہوں نے عرض کیاجی ہاں‘‘

قَالَ اِذْھَبْ فَقَدْ مَلَّکْتُکَھَا بِمَا مَعَکَ مِنْ القُرَان

’’ نبیﷺنے فرمایا جاؤ میں نے انہیں تمہاری ملکیت میں دیااس قرآن کی وجہ سے جو تمہیں یاد ہے‘‘۔

مولوی صاحب نے اپنے مقلدین کے سامنے اس حدیث کی مکمل تفصیل پیش ہی نہیں کی، کیونکہ اس طرح ان کے مقلدین بھی پہچان جاتے کہ اس حدیث میں تعلیم القرآن و تبلیغ پر اجرت کا کوئی جواز ہی نہیں۔اس حدیث میں تو یہ بات بیان کی گئی ہے کہ نبی ﷺنے ہر ممکن کوشش کی کہ کسی طرح اس ھبہ کی ہوئی خاتون اور اس مفلس صحابی کا نکاح کرادوں۔لیکن جب لوہے کی انگوٹھی بھی نہ مل سکی تو نبیﷺ نے خاموشی اختیار کر لی۔انتظار کے بعد وہ صحابی بھی اٹھ کر جانے لگے تو نبیﷺ نے انہیں بلایا اور ان سے پوچھا کہ کیا انہیں کچھ قرآن یاد ہے۔ان کے جواب دینے پر نبیﷺنے یہ بھی پوچھا کہ یہ سب انہیں زبانی یاد ہے۔اس کا بھی مثبت جواب ملا تو نبیﷺنے فرمایا:

اِذْھَبْ فَقَدْ مَلَّکْتُکَھَا بِمَا مَعَکَ مِنْ القُرَان

’’ جاؤ میں نے انہیں تمہاری ملکیت میں دیا اس قرآن کی وجہ سے جو تمہیں یاد ہے‘‘

گویا اس خاتون کو مہر میں کوئی مادی چیز نہیں دی گئی بلکہ ان صحابی کو جو قرآن یاد تھا اسے بنیاد بنا کر ان کا نکاح ان خاتون سے کر دیا گیا۔ یہ خصوصی حالات میں اپنی نوعیت کا ایک خصوصی واقعہ تھا۔ اس سے قرآن پر اُجرت کا جواز اخذ کرنا بڑی ہی جہالت اور ہٹ دھرمی ہے۔ ام سلیم ص نے بھی ابو طلحہ ؓ سے بغیر کوئی مادی چیز لیے صرف اس بنیاد پر ان سے نکاح کیا کہ وہ کفر چھوڑ کر ایمان لے آئیں۔ ان دونوں واقعات میں مہر کی بابت کوئی بھی مادی چیزنہیں دی گئی بلکہ آدمی کا صالح عمل نکاح کی بنیاد ٹھہرا۔یاد رہے کہ یہ معاملہ خصوصی حالات ہی میں ہوا ہے جیسا کہ خصوصی حالات کی بناء پرنبیﷺ نے اس طرح کا بھی ایک فیصلہ فرمایاجو درج ذیل حدیث میں مروی ہے:

عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ص قَالَ بَیْنَمَا نَحْنُ جُلُوسٌ عِنْدَ الْنَبِیْ ا اِذْ جَاءَ ہُ رَجُلٌ فَقَالَ یَا رَسُوْلَ اﷲِ ھَلَکْتُ قَالَ مَا لَکَ قَالَ وَقَعْتُ عَلَی امْرَاتِیْ وَاَنَا صَاءِمٌ فَقَالَ رَسُوْلُ اﷲِ ا ھَلْ تَجِدُ رَقْبَۃً تُعْتِقُھَا قَالَ لَا قَالَ فَھَلْ تَسْتَطِعُ اَنْ تَصُوْمَ شَھْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ قَالَ لَا فَقَالَ فَھَلْ تَجِدُ اِطْعَامَ سِتِّیْنَ مِسْکِیْنًا قَالَ لَا قَالَ فَمَکَثَ النَّبِیُّا فَبَیْنَا نَحْنُ عَلٰی ذٰالِکَ اُتِیَ الْنَّبِیُّا بِعِرْقٍ فِیْھَا تَمْرٌ وَالْعِرَقُ الْمِکْتَلُ قَالَ اَیْنَ السَّاءِلُ فَقَالَ اَنَا قَالَ خُذْھَا فَتَصَدِّقْ بِہٖ فَقَالَ الرَّجَلُ أَ عَلَی اَفْقَرَ مِنِّی یَا رَسُوْلَ اﷲِ فَوَاﷲِ مَابَیْنَ لَابَتَیْھَا یُرِیْدُ الْحرَّتَیْنِ اَھْلُ بَیْتٍ اَفْقَرُ مِنْ اَھْلِ بَیْتِیْ فَضَحِکَ النَّبِیُّ ا حَتّٰی بَدَتْ اَنْیَابُہُ ثُمَّ قَالَ اَطْعِمْہُ اَھْلَکَ

(بخاری: کتاب الصوم،باب اذا جامع فی رمضان۔۔۔)

ابو ہریرہ ؓ نے بیان کیا کہ ہم نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر تھے کہ ایک شخص نے حاضر ہو کر عرض کیا: یا رسول اﷲ میں ہلاک ہوگیا! نبی ا نے پوچھا کہ کیا بات ہوئی۔ انہوں نے کہا میں نے حالت صوم میں بیوی سے جماع کرلیا۔نبیﷺ نے فرمایا: تمہارے پاس کوئی غلام ہے جسے آزاد کردو؟ اس نے کہا: نہیں۔پھرآپ نے پوچھا کہ کیا دو ماہ کے پے درپے صوم رکھ سکتے ہو؟ اس نے کہا: نہیں۔پھر نبیﷺ نے پوچھا کیا تمہارے اندر ساٹھ (60) مسکینوں کو کھانا کھلانے کی استطاعت ہے؟ اس نے کہا نہیں۔ نبیﷺ تھوڑی دیر کے لیے ٹہر گئے۔ابھی ہم وہیں بیٹھے تھے آپ کی خدمت میں ایک ٹوکرا لایا گیا جس میں کھجوریں تھیں۔نبی ﷺنے فرمایا وہ سائل کہاں ہے۔اس نے کہا میں حاضر ہوں۔ نبی ﷺ نے فرمایا: اسے لو اور صدقہ کردو۔اس نے کہا: یا رسول اﷲ ا کیا میں اپنے سے زیادہ کسی محتاج کو دوں؟ اﷲ گواہ ہے کہ ان دوپتھریلے میدانوں میں کوئی گھرا نہ میرے گھر سے زیاد ہ محتاج نہیں۔ اس پر نبیﷺ ہنس پڑے کہ آپ کے آگے کے دانت دیکھے جا سکتے تھے،پھر آپ نے فرمایااپنے گھر والوں ہی کو کھلا دو‘‘۔

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ صوم کے توڑنے کا کفارہ ایک غلام آزاد کرنایا دو ماہ کے مسلسل صوم رکھنا ورنہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا تھا۔لیکن وہ صحابی ان تینوں چیزوں میں سے کسی بھی چیز کی استطاعت نہیں رکھتے تھے، اس لیے نبیﷺ ٹہر گئے۔ ا ﷲتعالیٰ نے ان کے لیے سبیل نکالی کہ کھجوروں کا ایک ٹوکرا نبی ا کے پاس آیا تو وہ انہوں نے ان صحابی کو دیا کہ اسے صدقہ کردیں ۔لیکن ان کے یہ بتانے پر کہ ان سے زیادہ اس کا کوئی مستحق نہیں، نبی ﷺ نے ہنس کر وہ ٹوکرا انہی کو دے دیا۔ آج اگر کوئی اسی قسم کے عمل میں ملوث ہوتو مفتی صاحب اس کا کیا فیصلہ فرمائیں گے؟ اسے گھر لے جانے کے لیے کھجوروں کاٹوکرا دیں گے یا ا س کا کفارہ غلام آزاد کرنا یا دو ماہ کے صوم یا پھر ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا ہوگا؟

اس فرقے کے مفتی ہی نہیں ’’عالم‘‘ بھی جھوٹ بولتے ہیں!

ٍ ایک اہلحدیث عالم ابو الحسن مبشر احمد ربانی سے اسی طرح کا سوال کیا گیاتو موصوف نے یہی حدیث پیش کی اور فرمایا: ’’ اس حدیث میں روزہ کی حالت میں جماع کرنے کا کفارہ بیان کیا گیا ہے کہ ایک گردن آزاد کرے۔ یہ طاقت نہ ہو تو پے در پے دو ماہ کے روزے رکھے۔ یہ بھی طاقت نہ ہو تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے۔‘‘(آپ کے مسائل اور انکا حل۔ مکتبہ قدوسیہ،جلد نمبر ۱،صفحہ 293 )

یعنی عالم صاحب نے اس سوال کا بالکل صحیح جواب دیا اورمذکورہ صدر اضطراری کیفیت میں ہونے والے اُس مخصوص واقعے کو دلیل نہیں بنایا۔ لیکن جب انہی موصوف سے تعلیم القرآن پر معاوضہ جائز ہونے کا سوال کیا گیا تو موصوف نے نکاح والی روایت کے آخری یعنی اضطراری کیفیت والے حصے کو بنیاد بنا کر فرمایا:

’’ دوسری دلیل نکاح میں خاوند پر بیوی کے لیے حق مہر دینا ضروری ہے، جبکہ رسول اﷲ ا نے ایک شخص کا نکاح قرآن مجید کی تعلیم کو حق مہر ٹھہرا کر کر دیا تھا۔رسول اﷲ ا نے فرمایا:((اِذْھَبْ فَقَدْ اَنْکَحْتُھَا بِمَا مَعَکَ مِنْ القُرَان))(بخاری کتاب النکاح باب التزویج علی القرآن)

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اﷲ کے رسول ﷺنے خود قرآن کی تعلیم کی اجرت دلوائی ہے۔اگر اجرت درست نہ ہوتی تو رسول ا کبھی بھی قرآن کی تعلیم کو حق مہر مقرر نہ کرتے‘‘۔ ( صفحہ ۴۱۴،۴۱۵)

قارئین! اگران سے ایک عام سوال کیا جائے تو پوری حدیث پیش کرکے اس کا اصل مدعا بیان کرتے اور اس کا صحیح جواب دیتے ہیں اور خصوصیت والے انفرادی واقعے کو قابل استدلال نہیں مانتے لیکن جب اپنے مفاد زد میں آئیں تو مفتی دامانوی کی طرح موصوف بھی پوری حدیث پیش نہیں کرتے بلکہ صرف اس کا آخری ٹکڑا جو خصوصیت والے انفرادی واقعے ہی سے متعلق ہے، انکے استدلال کی بنیاد بن جاتا ہے اور پھر ۔۔۔ ’’حرام‘‘، ’’حلال‘‘ میں بدل جاتا ہے!یہ کونسا معیار ہے ؟ پیمانے کیوں مختلف ہوگئے ؟ صوم والی روایت میں اصل حکم پر جواب دیا گیا اور استثنائی واقعہ کو چھوڑ دیا جبکہ’’کمائی‘‘ والے سوال میں اصل کو چھپا کر اضطراری کیفیت والی بات کو بنیاد بنا کر مفادات پر آنچ نہیں آنے دی۔یہ ہے ’’پیشہ ورانہ‘‘ مہارت!دین کی ’’دکانداری‘‘ ایسے ہی گُروں سے چلا کرتی ہے ۔ ہم نے اپنے عذاب قبر والے مضمون میں بھی اس طرف اشارہ کیا تھا کہ ان کے لینے کے پیمانے اور

ہیں اور دینے کے اور۔

ویل المطففین الذین اذا اکتالوا علی الناس یستوفون و اذا کالوھم او وزنوھم یخسرون

مبشر ربانی صاحب کے اس جملے کو بغور پڑھیے:

’’اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اﷲ کے رسول ﷺ نے خود قرآن کی تعلیم کی اجرت دلوائی ہے۔۔۔‘‘ موصوف نے حدیث کے عربی الفاظ بھی پیش کیے ہیں کہ اِذْھَبْ فَقَدْ اَنْکَحْتُھَا بِمَا مَعَکَ مِنْ القُرَان ’’ جا ؤمیں نے انہیں تمہارے نکاح میں دیا اس قرآن کی وجہ سے جو تمہارے پاس ہے‘‘

مگردیکھیں کہ کس چابکدستی اور ’’پیشہ ورانہ مہارت‘‘سے اس کے الفاظ ’’اس قرآن کی وجہ سے جو تمہارے پاس ہے‘‘ کو ’’ تعلیم القرآن‘‘ میں بدل دیا! اس حدیث میں کہاں لکھا ہے کہ

’’ تعلیم القرآن کی وجہ سے میں نے اس عورت کو تمہارے نکاح میں دیا‘‘

آخریہ لوگ غور کیوں نہیں کرتے کہ اس واقعے میں کس کو قرآن کی تعلیم دی جارہی تھی؟ کون اجرت دے یا لے رہا تھا؟ جب یہ اجرت کا معاملہ ہی نہیں تھا تو پھر اس سے اجرت کا جواز کشیدکرناکس ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے؟ قارئین!اہلحدیث مولوی ربانی کی طرح اہلحدیث مفتی دامانوی نے بھی حدیث کے ساتھ یہی کھیل کھیلا ہے؛ صفحہ ۲۶ پر لکھتے ہیں :

’’ اس طرح تعلیم القرآن کو بھی مہر کا بدل قرار دیا گیا،معلوم ہوا کہ تعلیم القرآن پر اجرت جائز ہے‘

لگتا ہے کہ ان پیشہ وروں کے دلوں میں اﷲ کے خوف نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہی۔ رسول اللہ ا کی حدیث پرعمل کے جھوٹے دعویداراتنے نڈرو بے باک ہوگئے کہ رسول اﷲ ﷺپر ہی تہمت لگا دی کہ خود نبی ﷺنے (معاذ اللہ) اﷲ کے حکم کے خلاف تعلیم القرآن پر اجرت دلوائی ہے!ہم ان اہلحدیث ’’علماء کرام‘‘ سے درخواست کریں گے کہ برائے مہربانی وہ حدیث پیش کردیں جس میں یہ الفاظ ہیں کہ’’میں نے انہیں تمہارے نکاح میں دے دیا اس تعلیم القرآن کی وجہ سے جو تم انہیں دوگے‘‘

وان لم تفعلوا ولن تفعلوا فاتقواالنار التی وقودھا الناس والحجارۃ اعدت للکافرین

قارئین! اس بارے میں بیان کی گئی احادیث میں سے کسی ایک میں بھی اس قسم کے الفاظ نہیں ملتے،لیکن مولوی دامانوی نے اس بات کو بھی حسب معمول خود ساختہ ’’ائمہ کرام‘‘ کے حوالوں سے ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ موصوف نے اپنے کتابچے کے شروع میں لکھا تھا:

’’میں نے اپنے اس مضمون میں محدثین کرام،مفسرین اور علماء سلف صالحین کے اقوال بھی نقل کئے ہیں جبکہ عثمانی فرقہ نے جو کچھ پیش کیا ہے سلف صالحین میں سے کوئی محدث و مفسر اور عالم دین ان کے اس دعویٰ کی تائید نہیں کرتا‘‘۔(صفحہ ۸) موصوف نے ہماری جماعت کو ’’عثمانی فرقہ‘‘ کہا ہے۔اس ہرزہ سرائی کا کافی و شافی جواب موجود ہے مگر ہم مضمون کی طوالت کی وجہ سے صرف اتنا کہنے پر ہی قناعت کریں گے کہ موصوف نے محض اپنے کماؤ فرقے کی حمایت میں اس اللہ کے سچے دین پر قائم ملک گیر جماعت کی مخالفت کی روش اپنالی ہے۔

مفتی موصوف کو اپنے ان اکابرین کے حوالہ جات کی ضرورت کیوں پڑی، یہ تو آپ سمجھ ہی چکے ہوں گے۔ مذکورہ صدرقرآنی آیات و احادیث کی اگر یہ موصوف خود اپنے نام سے یہ تشریح بیان کرتے تو خود انہی کے فرقے والے ان کی گردن پکڑ لیتے کہ ثواب کے لیے تعلیم القرآن پر تحفہ تک نا جائز ہے تو اس پر کمائی کیسے جائز ہوگئی؟ اگر موصوف خود یہ بیان کرتے کہ ولا تشتروا والی آیت کی تشریح یہ ہے کہ یہودیوں نے نبی ﷺکی نعت چھپا کر جو کچھ لیا تھا، اس آیت میں اس سے منع کیا گیا ہے، تو خود ان کے مقلدہی ان سے جواب طلب کرلیتے لہٰذا اسصورتحال سے بچنے کے لئےان مضحکہ خیز باتوں کو بیان کرنے کے لیے موصوف نے فوت شدہ افرادکا سہارا ڈھونڈاجن سے اب کون جواب طلبی کرسکتا ہے کہ ’’مردہ ہیں، جان کی رمق تک باقی نہیں۔۔۔! یہی معاملہ موصوف نے محولہ بالااس نکاح والی روایت کے ساتھ بھی کیا ہے اور اس کے الفاظاِذْھَبْ فَقَدْ مَلَّکْتُکَھَا بِمَا مَعَکَ مِنْ القُرَان’’ جاؤ میں نے انہیں تمہار ی ملکیت میں دیا اس قرآن کی وجہ سے جو تمہیں یاد ہے‘‘ کو علامہ سندھی کے حوالے سے

علی مامعک ای علی تعلیمہا ’’

جو قرآن آپ کے پاس ہے اور جس کی آپ اسے تعلیم دیں گے‘‘

میں بدل دیا (صفحہ ۲۴)۔

قارئین! سمجھ میں نہیں آتا کہ ان کی کون کون سی بات آپ کے سامنے لائی جائے۔ظلمت بعضھا فوق بعض! ایک جھوٹ کو چھپانے کے لیے جھوٹ پر جھوٹ بولتے چلے جاتے ہیں! اگرصرف ایک ’’سچ‘‘ کو تسلیم کر لیا جائے کہ دینی امور پر اجرت حرام ہے، تو ان سارے جھوٹوں سے ان کی جان چھوٹ جائے گی ورنہ شاید ان جھوٹوں کو بچانے کے لیے انہیں مزید نئے جھوٹ بولنے پڑیں گے اور شیطانی آنت کی طرح یہ شیطانی سلسلہ دراز سے درازتر ہوتا چلا جائے گا جس کی کوئی انتہا نہ ہوگی۔چونکہ صرف اللہ اوراس کے آخری رسول ا کے بیان کردہ الفاظ سے ان کا مسئلہ حل نہیں ہو رہا تھا اس لیے ’’ ائمہ و علماء کرام‘‘کی تشریحات و اقوال کاسہارا لے کر قرآن وحدیث کے مقابلے میں اقوال الرجال کوڈھال بنا لیا گیا۔ذرا ایک نظر ان مفتی موصوف کے اس ’’قول زرّیں‘‘ پربھی ڈالتے چلیں جوانہوں نے دیوبندیوں کے خلاف کتابچہ لکھتے ہوئے تحریر فرمایا ہے:

’’ الحمد ﷲ ! اہل حدیث وہ جماعت ہے جو کسی شخصیت کی پرستار نہیں اور نہ ہی یہ اپنا ناطہ رسول اﷲ ا کے علاوہ کسی اور شخصیت سے جوڑتے ہیں بلکہ ہر معاملے میں قرآن و حدیث پر عمل پیرا رہتے ہیں۔‘‘( قرآن و حدیث میں تحریف،صفحہ ۸۳)

موصوف اور ان کے ہمنوا ’’علماء کرام‘‘ نے ایسے ہی ملفوف و ملمع شدہ بیانات سے اپنے مقلدین کو بیوقوف بنا یا ہوا ہے ورنہ ان کے اس دعوے کی حقیقت کیا ہے اورنبیﷺ سے ان کا کس قدر تعلق ہے، یہ بات اب ڈھکی چھپی نہیں رہی۔ا گر ان لوگوں کا نبیﷺ سے حقیقی تعلق ہوتا تو آپ کے فرامین کو اسی انداز میں قبول کرتے جیسا کہ صحابہ کرام ؓ نے اسے قبول کیا تھا لیکن انہیں تو نبیﷺ کے بیان کردہ الفاظ سے ایک گونہ ’’الرجی‘‘ ہے، اسے اگر من و عن قبول کر لیں تو پھر دین کی خدمت روپے ریال کے بجائے فی سبیل اﷲ کرنی پڑے، اور پیٹ پرشدید ضرب آئے جو مولوی مفتی کو کہاں قبول! جس طرح زرعی ٹیکس کے نفاذ کے خلاف پورے ملک کے زمیندار متحد ہوجاتے ہیں حالانکہ علاقائی اور لسانی عصبیت میں ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی سے بھی باز نہیں آتے، اسی طرح تمام مسالک کے پیشہ وروں کا اجرت کے جائز ہونے پراتفاق ہوجاتا ہے اگرچہ ایک دوسرے سے کتنا ہی مسلکی اختلاف رکھتے ہوں اور لاؤڈ اسپیکر پر فریق مخالف کے خلاف دل کی بھڑاس نکالتے رہتے ہوں! موصوف نے اس عنوان سے کھیل دراصل یہ کھیلا ہے کہ مختلف افراد کی آراء لا کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ یہ نکاح اس بنیاد پر ہوا تھا کہ وہ صحابی اس خاتون کو وہ آیات سکھا دیں گے،گویا یہ نکاح تعلیم القرآن کی بنیاد پر ہوا تھا۔ حالانکہ یہ بات سراسر من گھڑت ہے؛ حدیث کے الفاظ ان کے اس ڈرامے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔

موصوف نے ام سلیم ؓکے ابو طلحہ انصاری ؓسے اور نبی ﷺکے صفیہ ؓ سے نکاح کے معاملات سے بھی استدلال کرتے ہوئے اجرت مذکورہ کو جائز ٹھہرانے کی کوشش کی ہے۔ اس باطل استدلال کی حقیقت ہماری کتاب میں وضاحت کے ساتھ موجود ہے۔اس سلسلے میں بحث کی گنجائش تو اس وقت تھی جب کہ زیر نظر روایت میں تعلیم القرآن کو اس خاتون مذکورہ کا مہر ٹھہرایا گیا ہوتا۔ حدیث سے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ نبی ﷺنے بار بار ان صحابی کو اسی لیے بھیجا کہ کسی طور بھی مہر کا کچھ انتظام ہو جائے لیکن جب کوئی انتظام نہ ہو سکا تو نبیﷺنے خاموشی اختیار کر لی۔گویا کہ کسی طور پر بھی یہ نکاح ممکن نہیں۔لیکن جب وہ صحابی اٹھ کرجانے لگے تو خصوصی حالات کے تحت نبیﷺ نے ان کے حفظ قرآن کو بنیاد بناتے ہوئے ان کا نکاح کردیا۔ یہ مکمل طور پر ایک خصوصی معاملہ تھاورنہ احادیث گواہ ہیں کہ اس طرح کا واقعہ پھر کبھی پیش نہیں آیا اور اس کے بعد نبیﷺنے کوئی اور نکاح محض اس بنیاد پر نہیں پڑھایااور نہ ہی کسی اور صحابی نے اسے بطورسنت اپنایااور نہ ہی ان دین فروش مولویوں سے پہلے کبھی کسی نے اس سے استدلال کیا۔

اسی زیرنظر حدیث کے حوالے سے ہماری کتاب میں جو بحث پیش کی گئی ہے اس میں ام سلیم رضی اﷲ عنہا کے نکاح والے واقعہ کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔موصوف اس کا کوئی جواب نہ دے سکے اور یہ کہہ کر اپنی جان چھڑالی کہ پتہ نہیں ام سلیم رضی اﷲ عنہا نے کیوں مہر معاف کردیا اور ابوطلحہ کے اسلام لانے پر کیوں راضی ہو گئیں۔البتہ ا س کے ساتھ ہی موصوف نے پینترابدلتے ہوئے والمؤلفۃ قلوبہم کے حوالے سے بحث چھیڑ دی اور فرمایا:

’’والمؤلفۃ قلوبہم اس کا موصوف کیا مطلب لیں گے۔اسلام کی طرف راغب کافر و مشرک یا نیا نیا اسلام قبول کرنے والوں کی اگر مالی اعانت کی جائے تو اس کا مطلب ہوا کہ ان لوگوں نے مال و دولت کے لئے اسلام قبول کیا تھا؟ معترض جیسے لوگوں کو اپنی نیتوں کا علاج کرنا چاہیے۔ معلوم ہوتا ہے کہ خود ان کی اپنی نیتوں میں فتور ہے اور اس کا الزام دوسروں پر لگا رہے ہیں ۔ایک وہ دور تھا کہ اسلام کے چاہنے والوں نے پیٹ پر پتھر باندھ کر اسلام کو سینہ سے لگائے رکھا اور پھر ایک ایسا دور بھی آیا کہ انہی صحابہ کرام نے اسلامی برکت سے قیصر و کسریٰ کے خزانوں کو حاصل کیا۔قیصر و کسریٰ کے خزانے لوٹنے والوں کے متعلق معترض کیا فتویٰ لگائیں گے؟ دین کی برکت سے اﷲ تعالیٰ اگر اہل ایمان کو مالا مال کردے تو اس پر آپ کو کیا اعتراض؟کیا جہاد کے ذریعے جو مال غنیمت حاصل ہوتا ہے معترض اس کے بھی منکر ہیں؟ ‘‘ (صفحہ ۲۷)

مولوی صاحب نے اپنی حرام کمائی کو جائز ٹھہرانے کی باطل کوشش میں اب سیاسی تقریر شروع کردی۔ ہماری دونوں کتابیں اٹھا کر دیکھ لیں، ہمارا اعتراض صرف اس کمائی پر ہے جو دین کے ذریعے کمائی جاتی ہے یعنی اسے ذریعۂ معاش بنانے پر۔ موصوف نے اس کا رخ سیاسی انداز میں بدلنے کی کوشش کی اور اس کا موازنہ مال غنیمت سے کرنا شروع کردیا۔مال غنیمت کا اس سے کیسے موازنہ کیا جا سکتا ہے کہ ازروئے قرآن و حدیث اوّل الذکر بالکل حلال اور طیب ہے جبکہ آخرالذکر حرام اور ناپاک ہے؟ایک حلال چیز کا، حرام چیز سے کیسے موازنہ کیا جاسکتا ہے؟ واقعی ایک دور وہ تھا کہ عسرت میں پیٹ پر پتھر باندھے گئے اور پھر وہ دور آیا کہ مدینہ کی مسجد میں مال و دولت کا ڈھیر لگ گیا۔لیکن تنگی اورتونگری،افلاس وفراخی کے اس دور میں بھی کتاب اﷲ کو معاش کا ذریعہ بناناحرام ہی رہا۔اگرکسی ایک صحابی کو بھی محض اس بنیاد پر نبیﷺ نے کسی قسم کا کوئی وظیفہ دیا ہو تو موصوف پیش کریں۔وان لم تفعلوا ولن تفعلوا فاتقواالنار۔۔۔۔۔۔

صحابہ کرام ؓ کے متعلق ہمارا یہ گمان کبھی نہیں ہو سکتا کہ وہ قیصر و کسریٰ کے خزانے لوٹنے گئے تھے! ان کے لیے’’ لوٹنے‘‘ کا لفظ استعمال کرنے والے دراصل وہی لوگ ہیں جن کی ذہنیت ہی لوٹ مار والی ہے، جن کے تصور میں لوگوں کی جیبیں ہوتی ہیں اور جو بہانے بہانے سے ’’لوگوں کامال باطل طریقوں سے’’ لوٹتے‘‘ رہتے ہیں‘‘۔صحابہ کرام ث تواﷲ کے کلمے کو بلند کرنے اور اس کے دین کو قائم کرنے کے لیے ان قوتوں سے ٹکرا رہے تھے اور انہوں نے تو اپنامال اور جان دونوں اس راہ میں وقف کیے ہوئے تھے۔کیا ان لوگوں کا ایمان یہ گوارا کرتا ہے کہ صحابہ کرام ث کے لیے ایسے الفاظ استعمال کریں؟ یہ تو یہودونصاریٰ کا انداز ہے۔ موصوف فرماتے ہیں کہ

صحابہ کرام ؓکو مالک نے واقعی دین کی برکت سے نوازا تھا اور ہمیں اس پر قطعی کوئی اعتراض نہیں بلکہ ہم بھی دنیا اور آخرت میں بہتری کی دعا کرتے رہتے ہیں کہ نبیﷺ کی بھی اکثریہی دعا ہوتی تھی(بخاری:کتاب الدعوات)؛ لیکن اگر اس سے مراد

مولوی کا اس دین کی بنیاد پر کھانا ہے، تو براہ کرم اسے ’’دین کی برکت‘‘ کا نام نہ دیں کہ یہ دین فروشی تو ازروئے قرآن و حدیث ،جہنم کی آگ ہے۔

رہا مؤلفۃ القلوب کا معاملہ تویہ ایمان قبول کرنے کے بعد کا ہے نہ کہ ایمان قبول کرنے کے عوض جبکہ ابو طلحہ انصاری کومہر کی معافی بطور مؤلفۃ القلوب نہیں بلکہ اسلام لانے کی شرط تھی۔ہم نے اپنی کتاب میں بھی یہ واضح کیا تھا کہ ایمان قبول کرنے کابھی اگر معاوضہ دیا جائے تو ایسااسلام دہاڑی کا اسلام ٹھہرے گا۔ یہاں ہم مفتی موصوف کے الفاظ جو ان پرپوری طرح صادق آتے ہیں، انہی پر لوٹاتے ہیں کہ اس حرام کمائی کو مؤلفۃ القلوب کے کھاتے میں ڈال کر حلال کرنے والےلوگوں کو اپنی نیتوں کا علاج کرنا چاہیے۔ معلوم ہوتا ہے کہ خود ان کی اپنی نیتوں میں فتور ہے اور اس کا الزام دوسروں پر لگا رہے ہیں۔

یہ بات درست ہے کہ نبی ﷺایسے افراد کو جو نئے نئے اسلام میں داخل ہوتے تھے، ان کی تالیف قلب کااہتمام کیاکرتے تھے۔آج بھی اگر کوئی اس سنت کو اپنائے توکسی کو کوئی اعتراض نہ ہوگا، لیکن یہ بات مولوی کی کمائی پر دلالت نہیں کرتی۔ البتہ ایک دو واقعات ایسے سامنے آئے ہیں کہ جن کی بنیاد پر ان فرقہ والوں کو ’’ مؤلفۃ المولوی‘‘ اپنا نا پڑے گی ورنہ پھر یوں ہوگا ۔۔۔۔۔۔ہمارے ایک ساتھی نے بتایا کہ ایمان خالص قبول کرنے سے پہلے اس کا تعلق دیوبندی مسلک کی حامل نام نہاد اشاعت التوحید و السنہ سے تھا۔ منڈی بہاء الدین کے ایک گاؤں میں ان کا گھر ہے۔ اس گاؤں میں دو مساجد تھیں۔ ایک ان کی اور دوسری بریلوی مسلک کی۔ دونوں مسجد کے اماموں میں ضد بحث لگی ہوئی تھی۔ دیوبندی اِدھر سے تقریر کرتا تھا تو بریلوی اُ دھر سے جواب دیتا تھا۔ اسی اثناء میں دونوں مولویوں کی اپنی اپنی مسجد کی انتظامیہ سے تنخواہ پر ’’ چل‘‘ گئی۔اشاعتی مولوی نے تنخواہ میں اضافے کا مطالبہ کیا۔اسی دوران بریلویوں کی مسجد کا مولوی تنخواہ نہ بڑھانے پر جھگڑا کرکے چلا گیا۔ اشاعتی مولوی نے اندر خانہ بات چیت کے ذریعے بریلویوں کی مسجد میں نوکری کرلی۔اشاعتیوں نے ایک دوسرا مولوی رکھ لیا۔چنانچہ اب اِدھر سے نیا اشاعتی مولوی اپنی تقریر میں دیو بندیوں کے دلائل دیتا تھا اور اُدھر سے پرانا اشاعتی مولوی،جو کہ اب بریلویوں کاملازم تھا، جواب میں اب بریلوی دلائل دیتا تھا! اسی طرح سرگودھا کے ایک علاقے چک ۴۰ شمالی میں قائم بریلوی مسجد میں ملازم ایک دوسرا اشاعتی مولوی آج بھی بریلویوں کا مروجہ درود و سلام پڑھ کر ’’حق نمک‘‘ ادا کرتا ہے۔ فاعتبروا یا اولی الابصاران دو واقعات سے ’’سبق‘‘ حاصل کرکے ہر فرقہ پر لازم ہے کہ اپنے اپنے مولوی کو’’ سنبھالیں‘‘ اور ان کے لیے ’’مؤلفۃالقلوب‘‘ کا ہر وقت انتظام رکھیں کیونکہ پیسے میں بڑا زور ہوتا ہے؛یہ’’ وائرس‘‘ بہت خطرناک ہوتا ہے ،سارا مسلک دھرا رہ جاتا ہے اور یہ اِدھر سے اُدھر ٹرانسفر ہو جاتا ہے!

یہ ہیں ’’مسلمان‘‘ جنہیں دیکھ کر شرمائیں یہود

قارئین !یہ تھیں وہ دو احادیث جنہیں ان پیشہ وروں نے اپنے باطل استدلال کی خراد پرچڑھاکر دین فروشی کی بنیاد بنایا ہوا ہے۔ ان سے جو کچھ ثابت ہوتا ہے ،وہ آپ کے سامنے آچکا ہے۔اس بارے میں نبی ﷺکا اسوہ اور صحابہ کرام ؓکا عمل ان کے سارے ڈرامے کی حقیقت واضح کردیتا ہے۔ لیکن موصوف پوری ڈھٹائی کے ساتھ فرماتے ہیں:

’’ عبد اﷲ ابن عباس رضی اﷲ عنہما اور ابو سعید الخدری رضی اﷲ عنہ جو اس واقعہ کو بیان کرتے ہیں صحابہ کرام رضوان اﷲ علیہم اجمعین میں سے کم سن ہیں اور وہ جواز کی روایات نقل کرتے ہیں اس تفصیل سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ ممانعت کی روایت منسوخ ہے کیونکہ عبد اﷲ بن عباس اور ابو سعید الخدری رضی اﷲ عنہم کی روایات ان کی ناسخ ہیں۔ملاحظہ فرمائیں نصب الرایہ (۴/۱۳۷)‘‘۔ (صفحہ ۵۹)

موصوف ساتھ ہی یہ بھی لکھ دیتے کہ پھر اس بارے میں قرآن کی آیات بھی منسوخ ہو گئیں(شاید ایسا لکھنا بھول گئے ورنہ اپنے اہلحدیث کا ثبوت یہ کہہ کر ضرور دیتے کہ حدیث قرآن کی آیت کو منسوخ کرسکتی ہے جو ان لوگوں کا متفق علیہ عقیدہ ہے)بلکہ نبی انے عبادہ بن صامت صکو بلا کراپنے سابقہ فرمان سے رجوع کرلیا اور اب اجازت دے دی کہ آئندہ تحفہ ہی نہیں بلکہ تعلیم قرآن کے بدلے کوئی چیز بھی نہ چھوڑنا؛ اور یہ کہ پھر دوسری مساجد میں نبی ا نے امامت کرنے والوں ،اذان دینے والوں کی تنخواہیں مقرر فرمادیں اور اذان کی اجرت کی ممانعت کا حکم واپس لے لیا۔۔۔ اور صحابہ کرام ؓکو جب کبھی تبلیغ کے لیے کہیں باہر بھیجا جاتا تو ان کو اس کی باقاعدہ اجرت دی جاتی تھی؛ پھر وہ نادار صحابہ ؓ جن کے پاس مہر میں دینے کے لیے مال نہ تھا، انہوں نے زیادہ سے زیادہ قرآن کی سورتیں یاد کرنی شروع کردیں تاکہ جلد از جلد نکاح کرسکیں،پھر بڑی تعداد میں نکاح صرف قرآن سکھانے کی بنیاد پر ہوئے اور آج تک ہو رہے ہیں۔۔۔۔۔۔ اور اہلحدیث چونکہ ’’ہرمعاملے میں قرآن و حدیث پر عمل پیرا رہتے ہیں‘‘،اس لیے ان کے سارے نکاح محض اسی بنیاد پر ہوتے ہیں کیونکہ صحیح حدیث سے یہی ثابت ہے ۔۔۔۔۔۔

مفتی موصوف نے کتاب و سنت کے ساتھ جو کھیل کھیلا ہے ،وہ بڑا عجیب ہے۔ عبد الرحمن بن شبل ؓ کی روایت کے بارے میں انہوں نے لکھا تھا کہ اس کا مفہوم یہ نہیں ہے بلکہ یہ قرآن پڑھ کر بھیک مانگنے والوں کے لیے ہے، اور اب فرماتے ہیں کہ یہ روایت منسوخ ہے عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہما اور ابو سعید الخدری ؓ کی روایت سے ! ’’حضرت‘‘ سے یہ پوچھا جائے کہ آخرماجرا کیا ہے؟ آپ نے اس سلسلے میں پیش کی جانے والی تمام روایات کوسب سے پہلے تو ضعیف بیان کیا،پھر ایک ایک کرکے وہ صحیح ہوتی چلی گئیں، اور آپ نے بھی اپنے موقف میں انہیں بطور دلیل بیان کیا؛ان میں سے کسی ایک کے لیے آپ نے یہ بھی فرمایا کہ اس کا مفہوم یہ نہیں بلکہ وہ ہے۔۔۔۔۔۔، اور اب آپ کہتے ہیں کہ یہ حدیث منسوخ ہے! مفتی صاحب کچھ تو بتادیں کہ آپ سچ کب بولتے ہیں؟ کیا مسلمان ایسے ہی ہوتے ہیں؟افمن کان مومنا کمن فاسقا لایستون

عمر ؓ پر تہمت

موصوف نے اِدھر اُدھر سے پکڑ کر چند روایات جمع کیں اور عمرؓ پر الزام لگا دیا کہ وہ معلمین القرآن کو اجرت دیا کرتے تھے حالانکہ یہ عمرؓ پر بدترین الزام ہے۔ وہ کام جو اﷲ تعالیٰ اپنی کتاب میں حرام قرار دے، نبی ﷺجس سے منع فرما ئیں اور جس کی کوئی مثال ابو بکر صدیق ص کے دور میں نہ مل سکے ،کیا عمرؓ وہ کام کرسکتے تھے؟ جس کے لیے زبان نبوت دو مرتبہ گواہی

دے کہ عمر ؓ صحابہ میں سب سے زیادہ علم رکھنے والے تھے اور یہ کہ اس امت میں اگرکوئی محدث ہوتا جس سے فرشتے کلام کرتے، تو وہ عمرؓ ہوتے،تو کیاان مناقب کا حامل شخص اجرت کو حلال کرنے کاقرآن وحدیث کے خلاف فیصلہ کرسکتا تھا؟ وہ شخصیت جس کے متعلق نبیﷺ فرمائیں کہ جس راہ پر عمر ؓچلتے ہیں شیطان اسے چھوڑ کردوسری راہ اپنا لیتا ہے، کے متعلق یہ گمان کیا جا سکتا ہے کہ وہ حرام کو حلال کرنے کے لیے شیطان کی راہ اپنا لیں گے (الم عھدالیکم یبنی ادم ان لا تعبد الشیطان انہ لکم عدو مبین)! ہماری کتاب میں اس بات کی وضاحت کردی گئی تھی کہ عمرؓ نے جب وفات پائی تو وہ لوگوں کے مقروض تھے۔اگر ان کے نزدیک کتاب اﷲ پر اجرت جائز ہوتی تو پھر کس بات کی کمی تھی؟ وہ توخود امامت فرماتے تھے (دوران امامت ہی ان پرایرانی مجوسی فیروز نے قاتلانہ حملہ کیا تھا)، اس پر جتنا چاہتے وظیفہ لے لیتے! لیکن انہوں نے ریاستی امور کی ذمہ داریوں پر بھی بیت المال سے کس قدر لیا اس کی وضاحت اس تحریر سے ہوتی ہے:

’’ انی انزلت مال اﷲ منی بمنزلہ مال الیتیم فان استغینت عففت عنہ وان افتقرت اکلت بالمعروف

( طبقات لابن سعد: جز ۱۰،صفحہ ۲۷۶)

’’ میں نے اﷲ کے مال (بیت المال) میں اپنا حق ویسا ہی رکھا ہے جیسا کہ یتیم کے ولی کو یتیم کے مال میں ہوتا ہے۔ اگر میں غنی ہوں گا تو اس میں سے کچھ نہ لوں گا اور ضرورت مندی کی حالت میں معروف کے مطابق ہی لوں گا

قارئین! ذرا غورفرمائیے کہ جو شخص دم آخر بھی اس قلیل رقم کو اپنے اوپر قرض سمجھے،اور اپنے بیٹے کو اس کی ادائیگی کی وصیت کرجائے، کیا وہ خلاف قرآن وحدیث کوئی کام کرسکتا ہے؟اس کی وضاحت بھی ہماری کتابوں میں موجود ہے کہ ان کے دور میں فتوحات کا سلسلہ کافی بڑھ گیا تھا،جس کے نتیجے میں کافی مال و اسباب بھی بیت المال میں آیا۔ عمرص نے مومنوں کے لیے وظائف مقرر کیے ۔ صحیح روایات سے پتہ چلتا ہے کہ ان وظائف کی بنیاد تعلیم القرآن، امامت یا اذان دینا نہیں بلکہ اسلام کے لیے ہجرت، غزوہ بدر میں شرکت کرنے والوں کی فضیلت اور رسول اﷲا سے قرابت تھی۔ اسی طرح کسی گھر میں کوئی بچہ پیدا ہوتا تھا تو اس گھر کے وظیفے میں حسب نفراضافہ ہو جاتا تھا۔ لیکن یہ نام نہاد اہلحدیث کتب حدیث چھوڑ کرالفاروق، سیرت عمر، العمرین اور اسی طرح کی دوسری کتب کی باتیں اس طرح بیان کرتے ہیں کہ گویا یہ کتب حدیث ہیں!یہ بات ثابت شدہ ہے کسی بھی صحیح حدیث سے عمر ص کے بارے میں اس قسم کی کوئی بات ثابت نہیں، اور بمناقبہ ہو بھی نہیں سکتی۔

مفتی کی تنخواہ

خیر سے خاکی جان اب’’حضرت علامہ ڈاکٹر‘‘ کے علاوہ ’’ مفتی‘‘ بھی بن گئے ہیں؛ دوسروں کی امامت و دیگرامور کی تنخواہ، وظیفے ہدیئے تو مفتی موصوف نے اپنے خیال میں کسی طرح ثابت ہی کردئیے لیکن ان کی’’اپنی‘‘ کا مسئلہ الجھ گیا۔ ظاہر ی بات ہے کہ جب قرآن و حدیث میں ’’ مفتی‘‘ کا کوئی تصور ہی نہیں ،تو اس کی تنخواہ کیسی؟ لیکن مدرسوں میں منطق بھی تو پڑھائی جاتی ہے۔ اب یہ منطق اور کس وقت کام آتی؟مولوی صاحب نے’’لائق فائق شاگرد‘‘ ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے اس کے لیے بھی راہ نکال لی! اس کا جواز یہ پیش کیا کہ جس طرح قاضی کی تنخواہ جائز ہے اسی طرح مفتی کی بھی جائز ہے۔’’قاضی‘‘ریاستی امور پر فائز شخص ہوتا ہے جس کی ذمہ داری ہمہ وقتی ہوتی ہے ۔مگراس کے برعکس اسلام میں مفتی یا مولوی کا کوئی تصور ہی نہیں ، نہ جزوقتی نہ کل وقتی۔ مفتی صاحب نے منطق توپڑھ لی، مگراصول فقہ بھی تو پڑھے ہوں گے جن کے مطابق قیاس کے لیے مقیس، مقیس علیہ، اشتراک علت اور حکم، یہ چار اجزاء درکار ہوتے ہیں۔ اجرتِ مفتی کو قاضی کی تنخواہ پر قیاس کرتے ہوئے( یہ بھی ایک لطیفہ ہے کہ یہ اہلحدیث مفتی صاحب قیاس سے ایک نتیجہ اخذ کررہے ہیں جبکہ اہلحدیثوں کے نزدیک تو قیاس ایک ’’شجرممنوعہ‘‘ ہے) علت تو دیکھ لیتے تاکہ اشتراک کے سبب مساوی حکم لگایا جاسکتا۔ شاید یہ سب باتیں ان کی فہم سے بالا ہوں۔

ان مفتیان سے سوال پوچھا جائے کہ نبی ﷺکے دور میں کتنے مفتی تھے ؟ کتنوں کو مولوی کی سند ملی تھی؟ ابو بکر ؓصدیق ، عمرؓفاروق،عثمانؓ غنی، علی مرتضیٰ ؓ کے دور میں کتنے افراداس ’’سندالفراغ‘‘ سے نوازے گئے تھے؟ انس بن مالک ؓ، عبد اﷲ بن مسعودؓ ، عبد اﷲ بن عبا س ؓ کے شاگردوں کی بڑی تعداد تھی،موصوف ذرا کوئی ایک نام تو بتائیں کہ فلاں کو مولوی کی سند دی گئی تھی اور فلاں مفتی تھے؟ہر وہ چیز جس کا اسلام میں کوئی وجود نہ ہو، ان فرقہ پرستوں کے یہاں اسلام کا ستون سمجھا جاتا ہے! ان لوگوں نے اس’’ سند‘‘ کو ایک ایسی چیز کی صورت میں پیش کیا ہے جس کے بغیر اسلام کا کام گویا چل ہی نہیں سکتا۔ آپ کسی سے کہیں کہ دینی امور پر اجرت جائز نہیں ، وہ جواب میں کہتا ہے: آپ کے پاس سند ہے؟ ’’ سند ‘‘ کے معنی دلیل ہوتے ہیں۔دین کے حوالے سے کوئی بات کی جائے اور اس پر سند مانگی جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اس بیان پر قرآن و حدیث کی کوئی دلیل ہے؟ اس کے برعکس ان فرقہ پرستوں کے ہاں’’اس کا یہ مفہوم نہیں‘‘ بلکہ انہوں نے ایک ’’ ورک پرمٹ‘‘(work permit) ایجاد کرلیا اور اس کا نام ’’ سند‘‘ رکھ دیا۔ دراصل یہ سند اس بات کا سرٹیفکٹ ہے کہ یہ بندہ اب مسجد میں تنخواہ لے کر ’’امامت‘‘ کرنے کے قابل ہے۔ چنانچہ اب یہ ’’سند ‘‘ رکھنے والا جو بھی کہے وہ قرآن وحدیث سے بڑھ کر سمجھا جاتا ہے اور جس کے پاس یہ ’’سند‘‘ نہیں، وہ لاکھ قرآن و حدیث کا صحیح مفہوم بیان کرے، اسے درخوراعتنا نہیں سمجھا جاتا۔ مزید یہ کہ ’’سند‘‘ بھی وہی قابل قبول ہے جو صرف اپنے فرقے کی ہو۔مدرسے میں سالہا سال لگا کر ایک بریلوی مسلک والا یہ سند حاصل کرلیتا ہے اورجب یہی سند یافتہ اذان سے پہلے اور بعد میں ’’یانبی سلام علیک‘‘ پڑھنے کو جائز قرار دیتا ہے تو باقی فرقے والے اس کی بات نہیں مانتے اور اسے بدعتی کہتے ہیں۔اپنی ’’جامعۃ العلوم‘‘ سے تخصص کی سند رکھنے والے فاضل کی اس بات کوبریلوی گستاخی رسول اور کفر سمجھتے ہیں کہ رسول اللہﷺ بھی ایک بشرتھے؛ اورجب یہی فاضل کہتا ہے کہ تقلید شخصی فرض ہے تو حدیث پر عمل کرنے کے دعویدار اس بات کو فضول قراردیتے ہیں۔ اسی طرح ایک سند یافتہ ’’مجتہد‘‘(جسے آیت اللہ، حجت اللہ وغیرہ جیسے نام بھی دئیے جاتے ہیں) کہتا ہے کہ عزاداری، سینہ کوبی باعث ثواب بلکہ شعار اسلام ہے،تو باقی سب اس کی سند کو پوچھتے

بھی نہیں۔ گویا ’’ سند‘‘ بھی وہی تسلیم شدہ جو اپنے فرقے کی ہو۔معلوم ہوا کہ اس’’ سند ‘‘ کا تعلق اسلام سے نہیں ،فرقہ پرستی سے ہے۔ مولوی کی سند حاصل کرنے کے بعد speclization (جسے یہ لوگ درجہ تخصص کہتے ہیں) کا کورس کرنے پر ’’ مفتی‘‘ کی سند بطور green card حاصل ہوتی ہے۔اوراس طرح کمائی کی ایک اور راہ کھل جاتی ہے: فتوے دو، مال بناؤ۔مفتی کا مقصد اپنے مسلک و فرقے کا دفاع کرناہوتا ہے۔مگر مولوی کی طرح مفتی بھی صرف اپنے فرقے کا مانا جاتا ہے، دوسرے فرقے کے مفتی کی نہ جیب گرم کی جاتی ہے اور نہ ہی اسے عالم تسلیم کیا جاتا ہے جس کا ثبوت یہ ہے کہ یہ فرقہ پرست اپنے مولوی کے نام کے ساتھ ’’مولانا‘‘ کا مشرکانہ لاحقہ لگاتے ہیں(تفصیل ہماری کتاب ’’اسلام یا مسلک پرستی‘‘ میں دیکھیے) لیکن اپنے حریف مسلک کے علماء کے شروع میں بطورتحقیر نہیں لگاتے۔اب چونکہ اسلام میں اس’’مفتی گری‘‘کا کوئی تصور تھاہی نہیں، لہٰذا دامانوی مفتی کے لیے تویہ بات ایک چیلنج بن گئی کہ کس طرح اسے ثابت کریں کیونکہ یجحدون بایات اللہ تو ان کا محبوب مشغلہ ہے۔ لہٰذا موصوف نے جس طرح اس سے قبل نئے نئے ڈرامے رچائے تھے، ایک ڈرامہ اور رچایا اور مفتی کو قاضی کے منصب پر فائز کرڈالا اور لکھا:

’’۔۔۔ اسلامی حکومتوں میں قاضی کو تنخواہ ملتی رہی ہے اور اب تک اس کا دستور ہے اور یہی صورت حال مفتی کی ہے۔لہٰذا مفتی کے لیے بھی تنخواہ کا جواز موجود ہے‘‘۔(صفحہ ۵۳)

دیکھیں کتنی سادگی مگرپُرکاری ہے اس تحریر میں کہ جسطرح وہ تھا تو اسی طرح یہ بھی ہے! اب کوئی ان ’’عالم دین‘‘ سے پوچھے کہ ’’حضرت!‘‘قاضی کی ذمہ داری توریاستی ہے ، اس پر قرآن و حدیث نے کوئی قدغن نہیں لگائی، لیکن آپ تو قرآن کی تعلیم اوراس کی تبلیغ پر اجرت لے رہے ہیں، آپ کے اور قاضی کے عمل کا کیا موازنہ ! قارئین! آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ موصوف نے اپنی کمائی کو جائز قرار دینے کے لیے کس طرح قرآنی آیت کا مطلب بدل ڈالا؛ احادیث کے اصل بیان سے صرف نظر کرتے ہوئے انہیں ایک نئے مفہوم سے بدلااور’’ ائمہ و علماء کرام‘‘ کے نام سے ایک نیا دین تخلیق کرکے کھڑا کردیا؛ اس نئے دین میں نبیﷺ کے بیان کردہ الفاظ’’ علماء کرام‘‘ کے کہے ہوئے الفاظ سے تبدیل کردئیے

۔۔۔۔۔۔!مفتی جابر صاحب لکھتے ہیں:

’’ یہود و نصارٰی جن بیماریوں میں مبتلا ہوئے تھے اور نفس پرستی اور اﷲ کی نافرمانی کی وباء جس طرح ان کے رگ و ریشہ میں پیوست ہوگئی تھی آج امت مسلمہ بھی ان ہی بیماریوں سے دو چار ہے بلکہ بعض معاملات میں انہوں نے یہود و نصارٰی کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے اور آج یہ بھی مغضوب علیہم اور ضال و گمراہ لوگوں کے نقش قدم پر چل پڑی ہے۔ رسول اﷲ نے خبر دی تھی کہ ایسا دور بھی آجائے گا کہ جب امت مسلمہ بھی یہود و نصارٰی کی سنت کو اختیار کر لے گی اور ان کے نقش قدم پر رواں دواں ہو جائے گی۔ ‘‘(قرآن و حدیث میں تحریف،صفحہ ۵۸)

ہم موصوف کی اس بات سے متفق ہیں۔ ان کی پوری تحریر میں یہ ایک بات درست لکھی گئی ہے۔اس امت نے وہی طریقہ کار اختیار کرلیا ہے جو یہود و نصارٰی کا تھا:جس طرح اُنہوں نے کتاب اﷲ کو کمائی کا ذریعہ بنا لیا تھا،بالکل اسی طرح اِس امت کے احبار و رہبان بھی دین فروش بن گئے؛ اُنہوں نے اﷲ کے احکام میں تحریف کی تھی، وہی انداز اِس امت کے مولویوں کابھی ہے؛ یہود و نصارٰی حق چھپاتے تھے،یہ بھی حق کو چھپاکرباطل کو مسلط کیے ہوئے ہیں۔ افسوس کہ یہ مفتی موصوف بھی اس کام میں پیش پیش ہیں!انہوں نے سورہ بقرہ کی آیت کی چار چار تشریحات اسی کتابچے میں بیان کر ڈالی ہیں،نبی ﷺکے فرامین کونام نہاد ائمہ کے بیانات سے بدل ڈالا؛اﷲ کے وہ باغی جھوٹ گھڑ گھڑ کر پھیلاتے تھے، مفتی موصوف کا تحریر کردہ یہ کتابچہ بھی اس کا عملی ثبوت ہے۔ کتاب کی ابتداء سے جھوٹ،دجل وفریب کا جو سلسلہ شروع ہوا، وہ کتاب کے آخر تک جاری ہے۔دینی امور پر اجرت کی ممانعت میں پیش کردہ ساری احادیث کو ضعیف قرار دیدیا گیا لیکن پھر کسی کو صحیح کہہ کر اس کا مفہوم بدل ڈالا، کسی کی کوئی توجیہ پیش کی اور کسی کی کچھ، اورپھر انہیں بھی منسوخ قرار دے ڈالا۔۔۔۔۔۔گویا اصول حدیث موصوف کا پیرہن بن گئے کہ جیسے چاہیں استعمال کریں اور جب چاہیں اتار پھینکیں!آج تو یہ جھوٹ بول کر اپنی اس کمائی کو ’’جاری‘‘ رکھ لیں گے اور ان کے اندھے مقلدین بھی ان کی جیبیں گرم کرتے رہیں گے جن کو یہ مذکورہ صدرقسم کے باطل اور بودے دلائل دے کر مطمئن کرتے رہیں گے ،لیکن کل جب اﷲ کے سامنے پیش ہوں گے تووہاں ان کا کیا حال ہوگا؟ وہاںیہ کوئی جھوٹ نہیں گھڑ سکیں گے کہ ان کی یہ بہت چلنے والی زبانیں گنگ ہوجائیں گی اور ان کے اعضاء ان کے خلاف گواہی دینگے:

الیوم نختم علی افواھھم و تکلمنا ایدیھم و تشھد ارجلھم بما کان یکسبون

( یٰس: 65)

’’ آج کے دن ہم ان کے منہ پر مہرلگا د یں گے اور ان کے ہاتھ ہمیں بتادیں گے اور پیراس کی گواہی دیں گے جو کچھ یہ کماتے رہے ہوں گے‘‘

اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے:

ولیحملنّ اثقالھم و اثقالاً مّع اثقالھم ز ولیسئلنّ یوم القیامۃ عمّا کانو یفترون

( العنکبوت: 13)

’’ اور وہ ضرور اٹھائیں گے اپنے بوجھ ،اور مزید بوجھ بھی اپنے بوجھوں کے ساتھ اور ضرور باز پرس ہوگی ان سے قیامت کے دن اس جھوٹ کے بارے میں جو انہوں نے گھڑے تھے

شھد علیہم سمعھم و ابصارھم و جلودھم بما کانوا یعملون

( حم السجدۃ:20 )

’’ ان کے اعمال کے خلاف ان کے کان اور ان کی آنکھیں اور ان کی کھالیں گواہی دیں گی‘‘

ان معروضات کے بعدآخرمیں ان اجرتی مولویوں کے بارے میں یہی کہا جاسکتا ہے کہ کیسے صابرہیں یہ لوگ جہنم کی آگ پر! فما اصبرھم علی النار

مولوی نور محمد تونسوی کی ہفوات

اس سے پہلے دیوبندی فرقے کی طرف سے ہی اشاعتیوں کے مولوی نیلوی صاحب نے سرگودھا سے اور ایک دوسرے پنج پیری مولوی نے دیرؔ کے علاقے کتیاڑی سے ہماری کتاب ’’دینداری یا دکانداری‘‘ کا اپنے زعم میں جواب دیا تھا جن میں مفتی دامانوی ہی کے طرح کے دلائل دے کر قرآن و حدیث کی حرام ٹھہرائی ہوئی دینی امور پر اجرت کو حلال قراردینے کی سعی نامراد کی گئی تھی۔ابھی حال ہی میں ترنڈہ کے مولوی تونسوی نے ایک کتاب ’’ اسلام کے نام پر ھویٰ پرستی‘‘ لکھ ڈالی ہے۔اتنے صفحے کالے کرکے مولوی موصوف غالباً یہ خیال کرتے ہوں گے کہ انہوں نے ریت پر تعمیر کیا ہوا دفاعی حصار مضبوط کرلیا اوراسے لکھ دینے کے بعد اب کوئی بھی شخص ہماری جماعت کی قرآن وحدیث پر مبنی دعوت کو ہر گز نہ قبول کرے گا گویا:

یر یدون لیطفؤا نوراﷲ بافواھھم واﷲمتم نورہ ولوکرہ الکافرون ھوالذی ارسل رسولہ بالھدی و دین الحق لیظھرہ علی الدین کلہ ولو کرہ المشرکون ۔۔۔۔۔۔

لیکن یہ جان لیں کہ ان کی پھونکوں سے یہ چراغ نہ بجھ سکے گا ۔قرآن و حدیث کی کھلی، کھری اوراس دوٹوک دعوت کو باطل قرار دینے کی کوشش کرنے والے (ان شاء اﷲ) اﷲ کے یہاں نہ صرف اپنے انجام سے دوچار ہی ہوں گے بلکہ اپنے پیٹھوں پر ان سب کا بوجھ بھی اٹھائے ہوں گے جو دنیا میں ان کے بہکائے میں آکر کتاب اﷲ کی اصل دعوت سے دور ہو گئے ہوں گے:و لیحملون اثقالھم و اثقالا مع اثقالھم موصوف نے اپنی اس کتاب میں جو کچھ گندبازاری زبان میں اگلا ہے، ان شاء اللہ وقتاً فوقتاً کتاب اﷲ کے حوالے سے اس کاشائستہ ومسکت جواب دیا جائے گا۔سردست دینی امور پر اجرت کے حوالے سے ان کے باطل دلائل کا محاکمہ کیا جاتا ہے۔

ہم نے اس مضمون کے شروع ہی میں یہ بات بیان کردی تھی کہ فرقہ کوئی بھی ہو،عقائد خواہ کچھ بھی ہوں، لیکن ان سب میں ایک بات مشترک ہے کہ سب کے سب ثمن قلیل کے معاملے میں متفق اور متحد ہیں۔اہلحدیث مفتی دامانوی کے کتابچے کا ایک اقتباس پیش کیا گیا تھا کہ لوگ اس لیے اس ’’اجرت‘‘ کو ناجائز قرار دے رہے ہیں تا کہ لوگ مدرسوں میں پڑھنا چھوڑ دیں اور پھر دین کا کام رک جائے۔ وہی انداز تونسوی صاحب نے بھی اپنایا ہے،ملاحظہ فرمائیے

’’ ۔۔۔۔۔۔ دلائل آپ کی خدمت میں پیش کئے جاتے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ دین کے خدمت گاروں کی تنخواہیں جائز ہیں ان کو ناجائز کہنا درحقیقت نظام دین کو ناکام کرنے کی ایک سازش ہے کیونکہ جب دین پڑھانے والوں کی تنخواہوں کو ناجائز کہہ کر روک دیا جائے گاتو جن لوگوں کا کوئی ذریعہ معاش نہیں ہے وہ مجبوراً یہ کام چھوڑ کر اپنا کوئی دوسرا ذریعہ معاش اپنائیں گے اور نتیجہ یہ نکلے گا کہ دینی تعلیم کم بلکہ بند ہو جائے گی تو معلوم ہوا کہ ھویٰ پرستوں کا یہ منصوبہ ہے کہ اسی طریقہ سے دینی تعلیم کو بند کیا جائے تاکہ لوگ دین سے دور رہ کر ہمارے پیروکار بن جائیں۔۔۔‘‘ ( صفحہ ۵۱۰،۵۱)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *