Categories
Uncategorized

صلواۃ کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا

اتباع سنت رسول ﷺ ہی اصل دین ہے

ابتدائیہ

قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِيْ يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ ۭوَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ  O قُلْ اَطِيْعُوا اللّٰهَ وَالرَّسُوْلَ ۚ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الْكٰفِرِيْنَ O

(آل عمران 31/32:)

کہو (ان سے کہ اے لوگو!) اگر تم محبت رکھتے ہو اللہ سے تو تم میری پیروی کرو، اس پر اللہ تم سے محبت بھی فرمائے گا، اور تمہارے گناہوں کی بخشش بھی فرما دے گا، اور اللہ بڑا ہی بخشنے والا، نہایت مہربان ہے، کہو، تم لوگ سچے دل سے فرمانبرداری کرو اللہ کی، اور اس کے رسول کی، پھر اگر یہ لوگ منہ موڑیں (حق و ہدایت کی اس راہ سے) تو یقینا یہ اپنا ہی نقصان کریں گے کہ) بیشک اللہ پسند نہیں فرماتا ایسے کافروں کو۔‘‘

قا رئین گرامی !

اس آیات میں اللہ نے تمام مسلمین کو اللہ سے محبت کرنے کا طریق بتایا ہے اور وہ صحیح معنوںمیں  نبی صلی اللہ علیہ و سلم  کی اطاعت ہے چنانچہ فرمایا گیا کہ لوگو !تم اپنے نبی کے مطیع بن جاہو .یعنی جس کام کے کرنے کا نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا دیا صرف اور صرف وہی طریقہ اختیار  کرو.اگر تم لوگوں نے اپنے دماغ سے نئے طریقہ اختراع کیے اور سوچا یہ طریقےبڑھے با برکت اور با فضیلت ہیں تو تم اللہ کے قہر و غضب کا شکار ہو گے کیونکہ اللہ ہرگز ایسے لوگوں سے محبت نہیں کرتا جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم  کے بتاہے ہوہے طریقہ سے ہٹ کر نئی راہ اختیار  کریں . خلاصہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی اطاعت میں اللہ کی محبت ہے اور اللہ کی محبت ہی جنت میں داخلے کا ذریعہ .اور جس نے اللہ سے محبت نہ کی اور ساری دنیا اسکی ہو گہی پھر بھی اس شخص کو جہنم کی آگ سے نہ بچا سکے گا .یہ حدیث یہی بیان کرتی ہے .

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ کُلُّ أُمَّتِي يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ إِلَّا مَنْ أَبَی قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَنْ يَأْبَی قَالَ مَنْ أَطَاعَنِي دَخَلَ الْجَنَّةَ وَمَنْ عَصَانِي فَقَدْ أَبَی

(بخاری، كِتَابُ الِاعْتِصَامِ بِالكِتَابِ وَالسُّنَّةِ ، بَابُ الِاقْتِدَاءِ بِسُنَنِ رَسُولِﷺ)

“ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ میری تمام امت جنت میں داخل ہو گی۔ سوا ئے اس کے جو انکار کرے، لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم اور کون انکار کرے گا، آپ نے فرمایا کہ جس نے میری نافرمانی کی تو اس نے انکار کیا”۔

لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِيْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَة

(الاحزاب:21)

“در حقیقت تم لوگوں کے لئے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم بہترین نمونہ ہے . “

گویااللہ تعالیٰ نے اس بات کی تصدیق کر دی جو لوگ الله کی رضا کے لئے بہترین عمل کی تلاش میں ہیں ان کےلیےنبی صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل ہی بہترین نمونہ ہے ،اس سے بہتر عمل ممکن ہی نہیں ہے . گویا ایمان والوں کو یہ سبق دیا جا رہا ہے کہ اپنی آنکھوں سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک ایک عمل کا مشاہدہ کریں اور اسے اپنائیں اور بعد میں آنے والوں کے لئے گویا یہ حکم ہے کے اگر تم اللہ کی نعمتوں سے مستفیض ہونا چاہتے ہو اور یہ چاہتے ہو کہ آخرت کی زندگی میں سرفرازی تمہارا مقدار بنے تو پھر لیےنبی صلی اللہ علیہ وسلم ہر عمل کو صیح حدیث میں تلاش کرو اور اس کی پیروی کرو .نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے عمل سے تم پر زندگی کے ہر پہلو کو واضح کر دیا .یعنی تم کو اللہ کے سامنے کیسے جھکنا ہے اس سے دعا کیسے کرنی ہے ،کھانا کیسے کھانا ہے پانی کیسے پینا ہے ،مان باپ کا حق کیا ہے ،بیوی کے ساتھ کیسے رہنا ہے ،اولاد کی پرورش کیسے کرنی ہے ،رزق حاصل کرنے کے کون کون سے ذرائع ہیں . کوئی مر جاہے تو اس کے لئے کیسے دعا کرنی ہے ،اس کو کیسے دفنانا ہے اور ہم پر یہ بھی واضح کر دیا گیا ہے کے جس شخص کے عمال نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق ہوں گے وہ جنت میں ان کا ساتھی بنے گا اور اگر کوئی اپنی طرف سے کسی عمل کو اختیار کرتا ہے گویا وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اطا عت سے باہر ہوا ،اور جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت سے باہر ہوااس کا ٹھکانہ جہنم کی دہکتی ہوہی آگ ہے .

اوپر تحریر کی گئ قرآن کی آیات و حدیث سے مندرجہ ذیل نکات واضح ہوتے ہیں :

v اگرکوئی شخص اپنے عقائد کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائےہوہے طریقے سے آراستہ کر لیتا ہے اور پر اپنے عمل کو بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بتاہے ہوئے طریقے کے مطابق ڈھالنے کی ہر ممکن کوشش کرے تو وہ شخص مومن کہلاتا ہے اور جنت کا حق دار سمجا جاتا ہے .

v کوئی کلمہ گو کیسا ہی محبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دعویدار سہی لیکن اگر وہ کسی ایسے عمل میں ملوث ہے جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے یا جس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل نہ ملتا ہو وہ مومن نہیں ہو سکتا بلکہ وہ عملاسنت کا انکاری ہے .اب اگر وہ زبان سے بھی کسی سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار کرے وہ کفر کا مرتکب ہو گا ۔

معلوم ہونا چاہیے کہ اگر کوئی شخص عبادت کے طور پر کوئی ایسا عمل کرے جس کا ثبوت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ سے نہ ملتا ہو وہ بدعت ہے .بدعت کا مطلب ہوتا ہے دین میں کسی نئی چیز کا ایجاد کرنا .اس عمل کو کرنے والا بدعتی کہلاتا ہے . آئیے ذیل میں درج احادیث کا مطالعہ کرتے ہیں کہ بدعت اور بدعتی کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا ہے:

عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا هَذَا مَا لَيْسَ فِيهِ فَهُوَ رَدٌّ

(بخاری، کتاب الصلح، بَابُ إِذَا اصْطَلَحُوا عَلَى صُلْحِ جَوْرٍ فَالصُّلْحُ مَرْدُودٌ)

“عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے ہمارے دین میں کوئی ایسی نئی بات نکالی جو دین میں سے نہیں ہے تو وہ مردود ہے(یعنی اس کا عمل نامقبول ہے ).”

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ خَيْرَ الْحَدِيثِ کِتَابُ اللَّهِ وَخَيْرُ الْهُدَی هُدَی مُحَمَّدٍ وَشَرُّ الْأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا وَکُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ

(مسلم: کتاب الجمعہ ، باب: خطبہ جمعہ و صلوٰۃ الجمعہ ۔ ۔ ۔ )

“جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حمد و ثناءکے بعد فرمایا کا بہترین کہی ہوہی بات اللہ کی بات ہے اور بہرین راہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے اور بدترین چیز بدعت ہے ہر بدعت گمراہی ہے .(نسائی میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ ہر گمراہی کا انجام جہنم ہے ).”

اب جو لوگ کسی بھی بدعت کو کوئی برا کام نہیں سمجتے وہ جان لیں کہ بدعت کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنے نفرت بھرے خیالات کا اظہار فرمایا ہے .

خلاصہ یہ ہے کہ اگر کوئی شخص کسی بھی بدعتی کام میں ملوث ہوا اور اس کو بار بار یہ بتایا جاہے کہ یہ عمل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے ثابت نہیں مگر وہ پھر بھی اسی پر عمل کرتا ہے تو گویا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی اہمیت کا احساس نہیں رکھتا .ایسا شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت سے باہر ہی سمجھاجائیگا .البتہ وہ لوگ جن کو احساس ہو جاہے اور وہ توبہ کر کے اپنے عمل کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق کے لیں تو یقینا وہ فلاح پا جانے والوں میں سے ہیں .

آج ہمارے معاشرے میں کتنے ہی ایسے کام ہیں جنکو ہم بااعث ثواب سمجتے ہیں مگر درحقیقت وہ بدعت ہیں .فی الوقت ہم جو مسئلہ زیربحث لا رہے ہیں وہ ہے “فرض صلٰوۃ کے بعد ہاتھ اٹھا کر انفرادی یا اجتماہی دعا کرنا “.

یہ عمل ہمارے معاشرےمیں بہت زیادہ عام ہے ہر فرض صلٰوۃ کے بعد لوگ یہ عمل کرتے ہیں اور اس کو بہت زیادہ باعث ثواب سمجتے ہیں اور ایسا نہ کرنے والے کو ثواب سے دعا سے محروم سمجتے ہیں .

آئیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث میں تلاش کرتے ہیں کے رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم فرض صلٰوۃ کے بعد کیا کرتے تھے .

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم فرض صلٰوۃ کے بعد کیا کرتے تھے

عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَلَّمَ قَامَ النِّسَائُ حِينَ يَقْضِي تَسْلِيمَهُ وَيَمْکُثُ هُوَ فِي مَقَامِهِ يَسِيرًا قَبْلَ أَنْ يَقُومَ قَالَ نَرَی وَاللَّهُ أَعْلَمُ أَنَّ ذَلِکَ کَانَ لِکَيْ يَنْصَرِفَ النِّسَائُ قَبْلَ أَنْ يُدْرِکَهُنَّ أَحَدٌ مِنْ الرِّجَالِ

(صحیح بخاری:کتاب الاذان ، بَابُ صَلاَةِ النِّسَاءِ خَلْفَ الرِّجَالِ)

“ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم جب سلام پھیرتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے سلام پھیرتے ہی عورتیں اٹھ کھڑی ہوتی تھیں اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم اٹھنے سے پہلے اپنی جگہ میں تھوڑی دیر ٹھہر جاتے تھے، (زہری کہتے ہیں کہ) ہم یہ جانتے ہیں واللہ اعلم کہ یہ (ٹھہرنا آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا) اس لئے تھا کہ جس میں عورتیں قبل اس کے کہ مرد انہیں ملیں، لوٹ جائیں”۔

عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ کُنْتُ أَعْرِفُ انْقِضَائَ صَلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالتَّکْبِيرِ

(بخاری، کتاب الاذان، بَابُ الذِّكْرِ بَعْدَ الصَّلاَةِ)

“ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی صلٰوۃ کا اختتام تکبیر سے معلوم کرلیا کرتا تھا.”

عَنْ عَائِشَةَ رضی اللہ تعالیٰ عنہا قَالَتْ کَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَلَّمَ لَمْ يَقْعُدْ إِلَّا مِقْدَارَ مَا يَقُولُ اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْکَ السَّلَامُ تَبَارَکْتَ ذَا الْجَلَالِ وَالْإِکْرَامِ

(مسلم، کتاب المساجد، باب: ذکر بعد الصلوٰہ)

“عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سلام پھیرنے کے بعد نہیں بیٹھتے تھے مگر اتنی مقدار میں کہ جس میں درج ذیل تسبیح کہتے تھے (اَللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْکَ السَّلَامُ تَبَارَکْتَ ذَا الْجَلَالِ وَالْإِکْرَامِ)”

عَنْ ثَوْبَانَ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا انْصَرَفَ مِنْ صَلَاتِهِ اسْتَغْفَرَ ثَلَاثًا وَقَالَ اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْکَ السَّلَامُ تَبَارَکْتَ ذَا الْجَلَالِ وَالْإِکْرَامِ

(مسلم، کتاب المساجد، باب: ذکر بعد الصلوٰہ)

“ثوبان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم جب اپنی صلٰوۃسے فارغ ہوتے تھے تو تین مرتبہ استغفار فرماتے اور یہ دعا مانگتے (اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْکَ السَّلَامُ تَبَارَکْتَ ذَا الْجَلَالِ وَالْإِکْرَامِ)”

عَنْ مُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يَقُولُ فِي دُبُرِ کُلِّ صَلَاةٍ مَکْتُوبَةٍ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيکَ لَهُ لَهُ الْمُلْکُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَی کُلِّ شَيْئٍ قَدِيرٌ اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ

(مسلم، کتاب المساجد، باب: ذکر بعد الصلوٰہ)

“مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم ہر فرض صلٰوۃ کے بعد یہ پڑھا کرتے تھے۔ یعنی کوئی معبود نہیں سوائے اللہ تعالیٰ کے، ایک ہے کوئی اس کا شریک نہیں، اسی کی ہے بادشاہت اور اسی کیلئے ہے تعریف اور وہ ہربات پر قادر ہے، اے اللہ جو کچھ تو دے، اس کو کئی روکنے والا نہیں اور جو چیز تو روک لے اس کا کوئی دینے والا نہیں اور کوشش والے کی کوشش تیرے سامنے کچھ فائدہ نہیں دیتی”۔

اسکے علاوہ مختلف احادیث سے فرض صلٰوۃکے بعد سبخان اللہ ،الحمداللہ ،اللہ اکبر کے ازکار بھی ثابت ہیں .مندرجہ زیل حدیث بھی اس بات کو واضح کردیتی ہے کہ نبیﷺ صلوٰہ ادا کرکے بغیر ہاتھ اٹھا کر دعا مانگے کھڑے ہو جاتے تھے۔

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْصَرَفَ مِنْ اثْنَتَيْنِ فَقَالَ لَهُ ذُو الْيَدَيْنِ أَقَصُرَتْ الصَّلَاةُ أَمْ نَسِيتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصَدَقَ ذُو الْيَدَيْنِ فَقَالَ النَّاسُ نَعَمْ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّی اثْنَتَيْنِ أُخْرَيَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ کَبَّرَ فَسَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ

(بخاری، کتاب الاذان، بَابٌ: هَلْ يَأْخُذُ الإِمَامُ إِذَا شَكَّ بِقَوْلِ النَّاسِ؟ )

’’ابوہرہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ چار رکعت والی صلوٰۃ کی دو رکعتیں پڑھ کر رسول اللہ علیحدہ ہو گئے تو آپ سے ذوالیدین نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا صلوٰۃ میں کمی کردی گئی یا آپ بھول گئے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرے لوگوں سے فرمایا کیا ذوالیدین سچ کہتے ہیں لوگوں نے کہا ہاں پس رسول اللہ کھڑے ہو گئے اور دو دکعتیں اور پڑھ لیں پھر سلام پھیر کر اپنے معمولی سجدوں کی طرح سجدے کئے یا اس سے کچھ تھوڑے سے طویل ہوں گے۔‘‘

اوپر بیان کی گئی احادیث اور اسکے علاوہ دیگر کسی بھی حدیث سے صلٰوۃ کے بعد ہاتھ اٹھا کر انفرادی اور اجتماہی دعا مانگنا ثابت نہیں ہوتا بلکہ سلام پھر نے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ و سلم امامت کی جگہ سے ہٹ جایا کرتے تھے .

ائیےاب جمعہ کی صلٰوۃ کی بابت احادیث کا مطالعہ کرتے ہیں .

جمعہ کی صلٰوۃکی بابت احادیث

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَکَرَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَقَالَ فِيهِ سَاعَةٌ لَا يُوَافِقُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ وَهُوَ قَائِمٌ يُصَلِّي يَسْأَلُ اللَّهَ تَعَالَی شَيْئًا إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ وَأَشَارَ بِيَدِهِ يُقَلِّلُهَا

“ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کے دن کا تذکرہ کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ اس دن میں ایک ساعت ایسی ہے کہ کوئی مسلمان

بندہ کھڑا ہو کر صلٰوۃ پڑھے اور اس ساعت میں جو چیز بھی اللہ سے مانگتا ہے اللہ تعالیٰ اسے عطا کرتا ہے اور اپنے ہاتھوں سے اس ساعت کی کمی کی طرف اشارہ کیا”۔

ایک روایت میں ہے کہ جمعہ کے دن میں ایک گھڑی ہے کہ جب ایک مسلم کھڑا صلٰوۃ قائم کر رہا ہوتا اور اللہ تعالیٰ سے خیر کا سوال کرتا ہے تو اسکو عطا فرمادیتا ہے .

عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَی الْأَشْعَرِيِّ قَالَ قَالَ لِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ أَسَمِعْتَ أَبَاکَ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شَأْنِ سَاعَةِ الْجُمُعَةِ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ سَمِعْتُهُ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ هِيَ مَا بَيْنَ أَنْ يَجْلِسَ الْإِمَامُ إِلَی أَنْ تُقْضَی الصَّلَاةُ

(مسلم، کتاب الجمعہ، بَابٌ فِي السَّاعَةِ الَّتِي فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ)

“ابوبردہ بن ابوموسی اشعری فرماتے ہیں کہ مجھ سے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ کیا تو نے اپنے باپ سے جمعہ کی گھڑی کی شان کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے کوئی حدیث سنی ہے انہوں نے فرمایا کہ میں نے کہا ہاں وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ وہ گھڑی امام کے بیٹھنے سے لے کر صلٰوۃ پوری ہونے تک ہے”۔

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ اغْتَسَلَ ثُمَّ أَتَی الْجُمُعَةَ فَصَلَّی مَا قُدِّرَ لَهُ ثُمَّ أَنْصَتَ حَتَّی يَفْرُغَ مِنْ خُطْبَتِهِ ثُمَّ يُصَلِّي مَعَهُ غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجُمُعَةِ الْأُخْرَی وَفَضْلُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ

(مسلم:کتاب الجمعہ ، بَابُ فَضْلِ مَنِ اسْتَمَعَ وَأَنْصَتَ فِي الْخُطْبَةِ )

“ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ جو آدمی غسل کرے پھر جمعہ پڑھنے کے لئے آئے تو جتنی صلٰوۃاس کے لئے مقدر تھی اس نے پڑھی پھر وہ خاموش رہا یہاں تک کہ امام اپنے خطبہ سے فارغ ہوگیا پھر امام کے ساتھ صلوٰۃ پڑھی تو اس کے ایک جمعہ سے دوسرے جمعہ کے درمیان کے سارے گناہ معاف کر دیئے گئے اور مزید تین دنوں کے گناہ بھی معاف کر دیئے گئے”۔

ان حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جمعہ کے دن مقبولیت کی ایک سا عت ہوتی ہے جس میں دعا کرنے والے کی دعا قبول ہوتی ہے .اس سے ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنے کا جواز نہیں ملتا ،یہ محض مغا لطہ آراہی ہے . نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہی فرما رہے ہیں کہ اس شخص کے گنا ہ اس وقت بخشے جائیں گے جب وہ امام کیساتھ صلٰوۃ ادا کرے ،یہ نہیں فرمایا گیا ہاتھ کہ اٹھا کر دعا مانگنے کے بعد وہ گناہ بخشے جاہیں گے .

ایئےعیدین کے موقع کی احادیث کا مطالعہ کریں .

عیدین کے موقع کی احادیث

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجُ يَوْمَ الْفِطْرِ وَالْأَضْحَی إِلَی الْمُصَلَّی فَأَوَّلُ شَيْئٍ يَبْدَأُ بِهِ الصَّلَاةُ ثُمَّ يَنْصَرِفُ فَيَقُومُ مُقَابِلَ النَّاسِ وَالنَّاسُ جُلُوسٌ عَلَی صُفُوفِهِمْ فَيَعِظُهُمْ وَيُوصِيهِمْ وَيَأْمُرُهُمْ فَإِنْ کَانَ يُرِيدُ أَنْ يَقْطَعَ بَعْثًا قَطَعَهُ أَوْ يَأْمُرَ بِشَيْئٍ أَمَرَ بِهِ ثُمَّ يَنْصَرِف

(بخاری، اقامت صلوٰہ ۔ ۔ ۔ ۔ ، باب: صلوٰہ العیدین)

“ابوسعید خدری روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم عید الفطر اور بقر عید کے دن عیدگاہ کو جاتے اور اس دن سب سے پہلے جو کام کرتے وہ یہ کہ صلٰوۃ پڑھتے، پھرصلوٰۃ سے فارغ ہو کر لوگوں کے سامنے کھڑے ہوتے اس حال میں کہ لوگ اپنی صفوں پر بیٹھے ہوتے آپ صلی اللہ علیہ و سلم انہیں نصیحت کرتے تھے اور وصیت کرتے تھے اور انہیں حکم دیتے تھے اور اگر کوئی لشکر بھیجنے کا ارادہ کرتے تو اس کو جدا کرتے اور جس چیز کا حکم دینا ہوتا، دیتے، پھر واپس ہو جاتے”.

قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَابِسٍ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ قِيلَ لَهُ أَشَهِدْتَ الْعِيدَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ وَلَوْلَا مَکَانِي مِنْ الصِّغَرِ مَا شَهِدْتُهُ حَتَّی أَتَی الْعَلَمَ الَّذِي عِنْدَ دَارِ کَثِيرِ بْنِ الصَّلْتِ فَصَلَّی ثُمَّ خَطَبَ ثُمَّ أَتَی النِّسَائَ وَمَعَهُ بِلَالٌ فَوَعَظَهُنَّ وَذَکَّرَهُنَّ وَأَمَرَهُنَّ بِالصَّدَقَةِ فَرَأَيْتُهُنَّ يَهْوِينَ بِأَيْدِيهِنَّ يَقْذِفْنَهُ فِي ثَوْبِ بِلَالٍ ثُمَّ انْطَلَقَ هُوَ وَبِلَالٌ إِلَی بَيْتِهِ

(بخاری، اقامت صلوٰہ ۔ ۔ ۔ ، باب: صلوٰہ العیدین)

“عبدالرحمن بن عابس روایت کرتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے سنا، ان سے پوچھا گیا کہ کیا آپ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ عید کی صلٰوۃ میں شریک ہوئے ہیں، تو فرمایا ہاں اگر بچپن کی وجہ سے مجھ سے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو شفقت نہ ہوتی میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو نہ دیکھ سکتا، اس نشان کے پاس آپ صلی اللہ علیہ و سلم آئے جو کثیر بن صلت کے گھر کے پاس تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صلوٰۃ پڑھی پھر خطبہ دیا۔ پھر عورتوں کے پاس آئے اس حال میں کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ بلال تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ان عورتوں کو نصیحت کی اور صدقہ کا حکم دیا میں نے ان عورتوں کو دیکھا کہ اپنے ہاتھ جھکاتیں اور بلال کے کپڑے میں ڈالتی جاتیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ و سلم اور بلال اپنے گھر کی طرف روانہ ہوگئے”۔

بتا ئیے کہ پورے سال میں صرف دو ہی مرتبہ یہ مبارک واقع آتے ہیں مگر نبی صلی اللہ علیہ و سلم اور صحابہ رضی اللہ تعالیٰ اجمعہین میں سے کسی نے بھی ہاتھ اٹھا کر اجتما عی دعا نہیں فرمائی .حالانکہ یہ کام اتنا ہی فضیلت والا ہوتا تو کم سے کم سال کے ان دو اہم مواقع پر تو ضرور کیا جاتا .

آپ نے ملا خطہ فرمایا کہ فرض صلٰوۃ ، جمعہ کی صلٰوۃ، اور عیدین کی صلٰوۃ کے بارے جو احادیث پیش کی گئی ہیں کسی ایک سے بھی ہاتھ اٹھا کر انفرادی یا اجتماعی دعا کا کوئی تصور نہیں ملتا .

حقیقت یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی تئیس سالہ نبوت کی زندگی کی کسی بھی حدیث سے یہ بات ثابت نہیں ہوتی کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کبھی بھی فرض صلٰوۃ بعد ،جمعہ یا عیدین کی صلٰوۃ کے بعد ، صلٰوۃ المیت کے بعد ،کسی کو دفنانے کے بعد قبرستان میں ، درس و نصیحت یا قرآن پڑھنے کے بعد ہاتھ اٹھا کر انفرادی یا اجتماعی دعا کی ہو، اور نہ ہی اس طرح کے عمل کا صحابہ رضیا للہ تعالیٰ اجمعہین.تابعین یا تبعتابعین کا کوئی ثبوت ملتا ہے .البتہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے اسوۃ سے یہ بات ضرور ثابت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے استسقا ء (بارش کے لئے دعا )،صفہ و مروہ پر خانہ کعبہ کی طرف منہ کر کے ،غزوہ بدر کے موقع پر اور کسی صحابی کے پیغام بھجوانے پر انکے لئے ہاتھ اٹھا کر دعا فرمائی ہے ،لیکن یہ بھی صرف انفرادی دعا تھی اجتماہی نہیں جیسا کے غزوہ بدر کے مو قع کی حدیث سے واضح ہے :

غزوہ بدر کے مو قع دعا

عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ بَدْرٍ اللَّهُمَّ إِنِّي أَنْشُدُکَ عَهْدَکَ وَوَعْدَکَ اللَّهُمَّ إِنْ شِئْتَ لَمْ تُعْبَدْ فَأَخَذَ أَبُو بَکْرٍ بِيَدِهِ فَقَالَ حَسْبُکَ فَخَرَجَ وَهُوَ يَقُولُ سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ

(بخاری ،کتاب تفسیر القرآن ، بَابُ قَوْلِهِ: {سَيُهْزَمُ الجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ)

’’عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے دن فرمایا یا اللہ میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ تو اپنا وعدہ اور اقرار پورا فرمایا اللہ اگر تو چاہتا ہے کہ ہم پر کافر غالب ہو جائیں تو پھر زمین میں تیری عبادت نہیں ہوگی ابھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اتنا ہی فرمایا تھا ابوبکر نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ پکڑ لیا اور عرض کیا یا رسول اللہ! بس کیجئے اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ کہتے ہوئے تشریف لائے عنقریب کافر شکست کھائیں گے اور پیٹھ پھیر کر بھاگیں گے۔‘‘

اب ذرا غور فرمائیے کے مسلمین پر کس قدر شدید وقت آیا ہے مگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اکیلے اللہ سے دعا گو ہیں اور صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہاتھ اٹھا کر آمین نہیں کہ رہے بلکہ ابو بکر رضی اللہ تعالی ٰعنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے شدت جذبات کے دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ پکڑ لیتے ہیں تا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دعا ختم کریں .

اسی طرح ایک صحابی ؓ کی وفات پر ان کی وصیت کے مطابق دعا کی اور اس موقع پر بھی انفرادی ہاتھ اٹھا ئے :

عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَی قَالَ دَعَا النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَائٍ فَتَوَضَّأَ بِهِ ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ فَقَالَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِعُبَيْدٍ أَبِي عَامِرٍ وَرَأَيْتُ بَيَاضَ إِبْطَيْهِ فَقَالَ اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَوْقَ کَثِيرٍ مِنْ خَلْقِکَ مِنْ النَّاسِ

( بخاری، کتاب الجہاد و السیر، بَابُ نَزْعِ السَّهْمِ مِنَ البَدَنِ)

’’ابوموسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں، کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پانی مانگا اور وضو کیا، پھر دونوں ہاتھ اٹھائے اور دعا کی کہ اے اللہ! عبید ابی عامر کو بخش دے اور میں نے آپ کی

بغل کی سفیدی دیکھی، پھر فرمایا کہ اے اللہ قیامت کے دن اپنی مخلوق میں اکثر آدمیوں سے اس کا مرتبہ بلند کر۔‘‘

یہاں بھی معاملہ انفرادی تھا۔مندرجہ ذیل حدیث اس معاملہ کی مزیدوضاحت کر دیتی ہے .

استسقا ءکے لیے ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ کَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي شَيْئٍ مِنْ دُعَائِهِ إِلَّا فِي الِاسْتِسْقَائِ وَإِنَّهُ يَرْفَعُ حَتَّی يُرَی بَيَاضُ إِبْطَيْهِ

(بخاری، کتاب الاستسقاء ، بَابُ رَفْعِ الإِمَامِ يَدَهُ فِي الِاسْتِسْقَاءِ)

“انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سوائے استسقاء کے کسی اور دعا میں اپنے ہاتھ نہیں اٹھاتے تھے اور استسقاء میں اتنے ہاتھ اٹھاتے تھے کہ آپ کی بغلوں کی سفیدی نظر جاتی”۔

انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ جنہوں نے دس سال نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت کی ہے ،ان کی بیان کردہ یہ حدیث ان سب کے لئے تا ز یا نہ ہے جو آج ہر ہر موقع پر ہاتھ اٹھا کر دعا کرنے کو عین اسلام کا حصہ سمجتے ہیں .

وہ لوگ جن کے لئے اپنے فرقوں ہی کی بات اول و آخر ہے ،یعنی جو ان احادیث کے مقابلے میں اپنے اکابرین کے فتووں اور طریقوں کو ہی ترجیح دیتے ہیں اب یہاں منطق بیان کرنا شروع کر دیتے ہیں کہ “ہر عمل کا ایک طریقہ ہوتا ہے اور دعا کا طریقہ ہاتھ اٹھانا ہی ہے”.

حیرت کی بات ہے کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم جن پر اللہ تعالٰی نے ساری شریعت کو نازل فرمایا اس بات سے بے خبر تھے (نعوذوباللہ).ایک مسلم ذرا اپنی شب و روز کی دعاؤںکا بغور جا ئزہ لے تو اسکے سامنے مسئلہ کی حقیقت واضح ہو جاتی ہے .

روزمرہ کی دعائوں کا طریقہ

صبح سو کر اٹھنے ،دعا پڑھی : الحمدللہ الّذی احیانا بعد ما اما تنا و إليه النشور ہاتھ کہاں اٹھاہے ؟

بیت الخلا ء گئے ،دعا پڑھی : أللھم انی اعوزبک من الخبث و الخبا ئث ہاتھ کہاںاٹھاہے؟

بیتالخلاء سے نکلے ،دعاپڑھی : غفرانک اب بتائیے ہاتھ کہاںاٹھاہے؟

کھا نا شروع کرتے اور پانی پینے کے وقت دعا کی :بِسْمِ اللّٰهِ

کھا نا کھا کے دعا کی :الحمد للہ الذی اطعمنا و سقا نا و جعلنا من المسلمین بتائیے کتنی مرتبہ ہاتھ اٹھا ئے ؟

سواری پر سوار ہونے کی دعا کی: اللہ اکبر ،اللہ اکبر،اللہ اکبرسبحانہ الذی سخرلنا هذا و ما کنا لہ مقرنیں و آنا الی ربنا لمقلبوں بتائیےکون یہ دعا ہاتھ اٹھا کر پڑتا ہے ؟

اسی طرح سارے دن کے معمولات پر نگا ہ ڈالیے دن بھر میں اٹھتے بیھٹتےنہ جانے ہم اللہ تعالٰی سے کتنی ہی دعائیں کرتے ہیں لیکن ان دعاو ںمیں کیا کوئی ہاتھ اٹھا تا ہے ؟بلکے یہ دعائیں لیٹے اور بیٹھےہمارے منہ سے خود نکلتی ہیں . بستر پر پڑا مریض کراہ کراہ کر اللہ تعالٰی سے دعائیں کر رہا ہوتا ہے اور وہاں اس کے نزدیک ہاتھ اٹھا نے کا کوئی تصور نہیں ہوتا لیکن یہی شخص جب مسجد جا کر دعا کرتا ہے تو اس کے نزدیک بغیرہاتھ اٹھا ہے دعاکرنے کا کوئی فائدہ نہیں.

اب ہم ان احادیث کا مطا لعہ کرتے ہیں جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صلٰوۃ میں دعا کرنے کا وقت اور طریقہ بیان کیا گیا ہے .

صلٰوۃ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا دعا کا طریقہ و مقام

حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْکُتُ بَيْنَ التَّکْبِيرِ وَبَيْنَ الْقِرَائَةِ إِسْکَاتَةً قَالَ أَحْسِبُهُ قَالَ هُنَيَّةً فَقُلْتُ بِأَبِي وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ إِسْکَاتُکَ بَيْنَ التَّکْبِيرِ وَالْقِرَائَةِ مَا تَقُولُ قَالَ أَقُولُ اللَّهُمَّ بَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ کَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ اللَّهُمَّ نَقِّنِي مِنْ الْخَطَايَا کَمَا يُنَقَّی الثَّوْبُ الْأَبْيَضُ مِنْ الدَّنَسِ اللَّهُمَّ اغْسِلْ خَطَايَايَ بِالْمَائِ وَالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ

(بخاری ، کتاب الاذان، بَابُ مَا يَقُولُ بَعْدَ التَّكْبِيرِ)

“ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تکبیر اور قرأت کے درمیان میں کچھ سکوت فرماتے تھے (ابوزرعہ کہتے ہیں) مجھے خیال ہوتا ہے کہ ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا تھوڑی دیر، تو میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، تکبیر اور قرأت کے مابین سکوت کرنے میں آپ کیا پڑھتے ہیں؟ آپ نے فرمایا میں پڑھتا ہوں:

(اللَّهُمَّبَاعِدْبَيْنِيوَبَيْنَخَطَايَايَکَمَابَاعَدْتَبَيْنَالْمَشْرِقِوَالْمَغْرِبِاللَّهُمَّنَقِّنِيمِنْالْخَطَايَاکَمَايُنَقَّیالثَّوْبُالْأَبْيَضُمِنْالدَّنَسِاللَّهُمَّاغْسِلْخَطَايَايَبِالْمَائِوَالثَّلْجِوَالْبَرَدِ)اے اللہ! میرے اور میرے گناہوں کے درمیان میں ایسا فصل کردے جیسا تو نے مشرق اور مغرب کے درمیان میں کر دیا ہے، اے اللہ! مجھے گناہوں سے پاک کردے، جیسے صاف کپڑا میل سے پاک صاف کیا جاتا ہے، اے اللہ! میرے گناہوں کو پانی اور برف اور اولہ سے دھو ڈال۔”

یعنی صلٰوۃمیں داخل ہوتے ہی اللہ تعالٰی سے دعا کی جاتی ہے اور پھر سورفاتحہ بھی دعا ہے ملا خطہ فرمائیے :

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ قَالَ اللَّهُ تَعَالَی قَسَمْتُ الصَّلَاةَ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي نِصْفَيْنِ وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ فَإِذَا قَالَ الْعَبْدُ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ قَالَ اللَّهُ تَعَالَی حَمِدَنِي عَبْدِي وَإِذَا قَالَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ قَالَ اللَّهُ تَعَالَی أَثْنَی عَلَيَّ عَبْدِي وَإِذَا قَالَ مَالِکِ يَوْمِ الدِّينِ قَالَ مَجَّدَنِي عَبْدِي فَإِذَا قَالَ إِيَّاکَ نَعْبُدُ وَإِيَّاکَ نَسْتَعِينُ قَالَ هَذَا بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ فَإِذَا قَالَ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ قَالَ هَذَا لِعَبْدِي وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ

مسلم، کتاب الصلوٰہ، بَابُ وُجُوبِ قِرَاءَةِ الْفَاتِحَةِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ، وَإِنَّهُ إِذَا لَمْ يُحْسِنِ الْفَاتِحَةَ، وَلَا أَمْكَنَهُ تَعَلُّمُهَا قَرَأَ مَا تَيَسَّرَ لَهُ مِنْ غَيْرِهَا)

“ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو یہ فرماتے ہوہے سنا آپ صلی اللہ علیہ و سلم فرماتے تھے کہ اللہ عز وجل فرماتے ہیں کہ صلٰوۃیعنی سورۃ فاتحہ میرے اور میرے بندے کے درمیان دو حصوں میں تقسیم کر دی گئی ہے اور میرے بندے کے لئے وہ ہے جو وہ مانگے جب بندہ اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میرے بندے نے میری حمد بیان کی اور جب وہ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ کہتا ہے تو اللہ فرماتا ہے میرے بندے نے میری تعریف بیان کی اور جب وہ مَالِکِ يَوْمِ الدِّينِ کہتا ہے تو اللہ فرماتا ہے میرے بندے نے میری بزرگی بیان کی اور ایک بار فرماتا ہے میرے بندے نے اپنے سب کام میرے سپرد کر دئیے اور جب وہ إِيَّاکَ نَعْبُدُ وَإِيَّاکَ نَسْتَعِينُ کہتا ہے تو اللہ فرماتا ہے کہ یہ میرے اور میرے بندے کے درمیان ہے اور بندے کے لئے وہ ہے جو اس نے مانگا ہے جب وہ (اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ) کہتا ہے تو اللہ عزوجل فرماتا ہے یہ میرے بندے کے لئے ہے اور میرے بندے کے لئے وہ ہے جو اس نے مانگا۔”

عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ کَشَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَا وَإِنِّي نُهِيتُ أَنْ أَقْرَأَ الْقُرْآنَ رَاکِعًا أَوْ سَاجِدًا فَأَمَّا الرُّکُوعُ فَعَظِّمُوا فِيهِ الرَّبَّ عَزَّ وَجَلَّ وَأَمَّا السُّجُودُ فَاجْتَهِدُوا فِي الدُّعَائِ فَقَمِنٌ أَنْ يُسْتَجَابَ لَکُمْ

(مسلم، کتاب الصلوٰۃ، بَابُ النَّهْيِ عَنْ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ )

“ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ خبردار میں منع کیا گیا ہوں کہ رکوع اور سجدہ کی حالت میں قرآن پڑھوں ،رکوع میں تو اپنے رب کی عظمت بیان کرو اور سجود میں دعا کرنے کی کوشش کرو کہ تمہارے لئے قبول کی جائے۔”

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يَقُولُ فِي سُجُودِهِ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي کُلَّهُ دِقَّهُ وَجِلَّهُ وَأَوَّلَهُ وَآخِرَهُ وَعَلَانِيَتَهُ وَسِرَّهُ

مسلم، کتاب صلاۃ ، بَابُ مَا يُقَالُ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ)

“ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم اپنے سجدوں میں (اللَّهُمَّ اغْفِرْلِي ذَنْبِي کُلَّهُ دِقَّهُ وَجِلَّهُ) پڑھتے تھے اے اللہ میرے تمام گناہ معاف فرما دے چھوٹے بڑے اول وآخر ظاہری وپوشیدہ۔”

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ کُنَّا إِذَا کُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ قُلْنَا السَّلَامُ عَلَی اللَّهِ مِنْ عِبَادِهِ السَّلَامُ عَلَی فُلَانٍ وَفُلَانٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَقُولُوا السَّلَامُ عَلَی اللَّهِ فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ السَّلَامُ وَلَکِنْ قُولُوا التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلَامُ عَلَيْکَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَکَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَی عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ فَإِنَّکُمْ إِذَا قُلْتُمْ أَصَابَ کُلَّ عَبْدٍ فِي السَّمَائِ أَوْ بَيْنَ السَّمَائِ وَالْأَرْضِ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ثُمَّ يَتَخَيَّرُ مِنْ الدُّعَائِ أَعْجَبَهُ إِلَيْهِ فَيَدْعُو

بخاری، کتاب الاذان، با بَابُ مَا يُتَخَيَّرُ مِنَ الدُّعَاءِ بَعْدَ التَّشَهُّدِ وَلَيْسَ بِوَاجِبٍ)

’’عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے ہمراہ صلٰوۃ کے (قعدہ میں) کہا کرتے تھے کہ السلام علی اللہ من عبادہ السلام علی فلاں و فلاں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ السلام علی اللہ نہ کہو کیونکہ اللہ تو خود ہی سلام ہے بلکہ کہو التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلَامُ عَلَيْکَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَکَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَی عِبَادِ

اللَّهِ الصَّالِحِينَ کیونکہ جس وقت تم یہ کہو گے تو یہ دعا اللہ کے ہر نیک بندے کو پہنچ جائے گی خواہ وہ آسمان میں ہو یا زمین میں۔ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ۔ اس کے بعد جو دعا اسے اچھی معلوم ہو اختیار کرے اور مانگے۔‘‘

عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يَدْعُو فِي الصَّلَاةِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِکَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَأَعُوذُ بِکَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ وَأَعُوذُ بِکَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَفِتْنَةِ الْمَمَاتِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِکَ مِنْ الْمَأْثَمِ وَالْمَغْرَمِ فَقَالَ لَهُ قَائِلٌ مَا أَکْثَرَ مَا تَسْتَعِيذُ مِنْ الْمَغْرَمِ فَقَالَ إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا غَرِمَ حَدَّثَ فَکَذَبَ وَوَعَدَ فَأَخْلَفَ

(بخاری، کتاب الاذان ، بَابُ الدُّعَاءِ قَبْلَ السَّلاَمِ)

عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی زوجہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صلوٰۃ میں یہ دعا کیا کرتے تھے۔ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِکَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَأَعُوذُ بِکَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ وَأَعُوذُ بِکَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَفِتنةِ الْمَمَاتِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِکَ مِنْ الْمَأْثَمِ وَالْمَغْرَمِ تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم سے کسی نے عرض کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم قرض سے بہت پناہ مانگتے ہیں (اس کی کیا وجہ ہے؟) آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ جب آدمی قرض دار ہوجاتا ہے تو جب وہ بات کہتا ہے، جھوٹ بولتا ہے اور جب وعدہ کرتا ہے، تو وعدہ خلافی کرتا ہے

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَوَعَنْ يَحْيَی بْنِ أَبِي کَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا تَشَهَّدَ أَحَدُکُمْ فَلْيَسْتَعِذْ بِاللَّهِ مِنْ أَرْبَعٍ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِکَ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ وَمِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَمِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ وَمِنْ شَرِّ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ

(مسلم، کتاب المساجد، باب: ذکر بعد الصلوٰہ)

“ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی تشہد پڑھے تو اللہ تعالیٰ سے چار چیزوں کی پناہ مانگے ( اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِکَ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ وَمِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَمِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ وَمِنْ شَرِّ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ) اے اللہ میں تجھ سے جہنم کے عذاب اور قبر کے عذاب اور زندگی اور موت کے فتنے اور مسیح دجال کے فتنہ سے پناہ مانگتا ہوں۔”

عَنْ أَبِي بَکْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِّمْنِي دُعَائً أَدْعُو بِهِ فِي صَلَاتِي قَالَ قُلْ اللَّهُمَّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي ظُلْمًا کَثِيرًا وَلَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ فَاغْفِرْ لِي مَغْفِرَةً مِنْ عِنْدِکَ وَارْحَمْنِي إِنَّک أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ

“ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے متعلق روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے عرض کیا کہ مجھے کوئی ایسی دعا تعلیم فرمائیے جو میں نے اپنی صلٰوۃ میں پڑھ لیا کروں آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ یہ پڑھا کرو۔ اللَّهُمَّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي ظُلْمًا کَثِيرًا وَلَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ فَاغْفِرْ لِي مَغْفِرَةً مِنْ عِنْدِکَ وَارْحَمْنِي إِنَّک أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ ۔”

مندرجہ بالا احادیث میں ہمیں نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے صلٰوۃ میں دعا کرنے کا طریقہ اور دعاہیں بتا دیں .اب اگر اس کے بعد بھی کوئی شخص فرض صلٰوۃ کے بعد ہاتھ بلند کر کے دعا مانگنا

شروع کر دے یا جیسا کہ بعض لوگ سر پر ہاتھ رکھ کر دعا مانگتے ہیں اور کچھ لوگ فرض صلٰوۃپڑھنے کے بعد علیحدہ سجدہ کر کے دعا مانگتے ہیں تو یہ تمام طریقے بدعت ہیں .کیوں کہ کسی بھی حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے یہ عمل ثابت نہیں ہے .سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر آج فرض صلٰوۃ کے بعد ،مختلف اجتماعا ت کے موقع پر اور کسی میت کے تدفین کے موقع پر قبرستان میں ہاتھ اٹھا اٹھا کر جو اجتماعی دعاہیں کی جاتی ہیں جب نبی صلی اللہ علیہ و سلم اور صحابہ رضی اللہ سے ثابت نہیں تو یہ دین کا حصہ کیسے بن گہیں ؟

سنت رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے مقابلے میں بڑوں کی اندھی تقلید

دراصل اسکی پہلی وجہ تو لوگوں کی دین سے بے خبری اور بڑوں کی اندھی تقلید ہے اور دوسرا یہ کہ ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنے میں دکھاوے اور ریا کاری کا عنصر نمایاں رہتا ہے اور شیطان اس عمل کو مزین اور پرکشش بنا کر پیش کرتا ہے چنانچہ لوگوں کو یہ انداز بہت پسند اتا ہے جبکہ اللہ تعالی حکم دیتا ہے کہ :

وَاذْكُرْ رَّبَّكَ فِيْ نَفْسِكَ تَضَرُّعًا وَّخِيْفَةً وَّدُوْنَ الْجَــهْرِ مِنَ الْقَوْلِ بِالْغُدُوِّ وَالْاٰصَالِ

(الاعراف 205)

“اپنے رب کو دل ہی دل میں عاجزی اور خوف سے اور پست آواز سے صبح و شام یاد کرتے رہو .”

پھر آج کے یہ علما ء غالبا اپنے آپکو نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے دور کے لوگوں کے مقابلے میں زیادہ دین کا سمجنے والا خیال کرتے ہیں اور اس وجہ سے اپنے خود ساختہ طریقے ان کو زیادہ باعث ثواب و فضیلت محسوس ہوتے ہیں .پھر انکو چند ضعیف روایات بھی مل جاتی ہیں جن کے زریعے یہ لوگ بدعت پر مبنی اپنے ان اعمال کو عین سنت رسول صلی اللہ علیہ و سلم ثابت کرنے کی کشش کرتے ہیں ،حالانکہ کسی ضعیف حدیث سے بھی یہ بات ثابت نہیں ہوتی کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی پوری زندگی میں کبھی بھی کسی بھی فرض صلٰوۃ کے بعد ،تدفین کے موقع پر ،قرآن مجید پڑھ کر یا عظ و نصیحت کرنے کے موقع پر ہاتھ اٹھا کر انفرادی یا اجتماعی دعا کی ہو .

آئیے ان روایات کا جائزہ لیں جن کو یہ لوگ انحراف سنت کے لئے جواز بناتے ہیں :

اس سنت رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے انحراف کے لئے پیش کی جانے والی روایات

ایک حدیث بیان کی جاتی ہے کہ :

“انس رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم دعا میں اپنے ہاتھ اٹھاتے تھے کے اپ صلی اللہ علیہ و سلم کی بغلوں کی سفیدی نظر اتی تھی .”(بخاری)

وضاحت :

اس بارے میں انس رضی اللہ تعالی عنہ کی مکمل حدیث اس سے قبل بیان کی جا چکی ہے کہ “انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم اپنی کسی بھی دعا میں ہاتھ نہیں اٹھاتے تھے مگر استسقا ءمیں . یہاںتک اٹھاتے تھے کہ اپ صلی اللہ علیہ و سلم کی بغلوں کی سیفدی

دکھائی دیتی تھی . ” یہ ایک ہی حدیث کے الفاظ ہیں ایک جگہ مکمل حدیث بیان ہوئی ہے اور دوسری جگہ اسکا کچھ حصہ اور یہ دعائےاستسقا ء کا ہی ذکر ہے .

اپنے مسلک کے باطل طریقے کے دفاع میں اس حدیث کا بھی حوالہ دیا جاتا ہے کہ :

“حفضہ رضی اللہ تعالی عنہا نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : پردے والی جوان عورتین (عید کے دن )باہر نکلیں یا یہ فرمایا کہ پردے والی اور جوان عورتین باہر نکلیں (راوی ایوب کو شک ہوا کے حائضہ عورتین بھی نکلیں لیکن وہ صلٰوۃ کی جگہ سے دور رہیں ) اور نیک کام اور مومنین کی دعا میں شریک ہوں .”(بخاری)

وضاحت :

اس سے قبل صلٰوۃ العیدین کی بابت نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا طریقہ بیان کر چکے ہیں جس میں واضح ہے کہ ہاتھ اٹھا کر نہ انفرادی دعا کی گئی نہ اجتماعی . دعا تو صلٰوۃ میں اور خطبہ میں ہی کی گئی ہو گی ،جیسا کہ بیان کردہ احادیث سے ثابت ہوتا ہے .حائضہ خواتین صلٰوۃ میں شامل نہیں ہو سکتیں لیکن انھیں وہاں بیٹھےرہنے کا ثواب ملتا ہے جیسا کہ مندرجہ ذیل حدیث وضاحت کرتی ہے

“ابو ھریر ہرضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ اللہ کے فرشتے راستے میں گھومتے پھرتے اور ذکر کرنے والوں کو ڈھونڈتے ہیں ، اور جب وہ کسی ذکر کرنے والے گروہ کو پا لیتے ہیں تو ایک دوسرے کو بلاتے ہیں کہ اپنی ضرورت کی طرف آؤ۔اپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ وہ ان کو اپنے پروں سے ڈھا ک لیتے ہیں اور آسمان دنیا تک پہنچ جاتے ہیں .فرمایا :انکا رب ان سے پوچھتا ہے کہ میرے بندے کیا کر رہے ہیں حالانکہ وہ ان کو فرشتوں سے زیادہ جانتا ہے .فرشتے جواب دیتے ہیں کہ وہ تیری تسبیح و تکبیر اور حمد اور بڑا ئی بیان کر رہے ہیں . اپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : اللہ تعالی فرماتا ہے کہ کیا انھوں مجھے دیکھا ہے ؟ فرشتے کہتے ہیں اللہ کی قسم انھوں آپکو نہیں دیکھا .اپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : اللہ تعالی فرماتا ہے اگر وہ مجھے دیکھ لیتے تو کیا کرتے ؟ فرشتے کہتے ہیں کہ اگر وہ اپ کو دیکھ لیتے تو آپکی بہت زیادہ عبادت کرتے اور بہت زیادہ بڑا ئی اور پاکی بیان کرتے .اپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : اللہ تعالی فرماتا ہے کہ وہ مجھ سے کیا مانگتے ہیں ؟ فرشتے کہتے ہیں کہ وہ جنت کا سوال کر رہے تھے . اپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : اللہ تعالی فرماتا ہے کہ کیا انھوں نے جنت کو دیکھا ہے ؟ فرشتے کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم انھوں نے جنت کو نہیں دیکھا . الله تعالی نے فرمایا کہ اگر وہ جنت کو دیکھ لیتے تو کیا کرتے ؟ فرشتے کہتے ہیں کہ اگر وہ اسے دیکھ لیتے تو وہ اسکے بہت زیادہ حریص ،بہت زیادہ طلب کرنے والے اور بہت زیادہ اسکی رغبت کرنے والے ہوتے .الله تعالی فرماتا ہے وہ کس چیز سے پناہ مانگ رہے تھے ؟ فرشتے کہتے ہیں جہنم سے .اپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : اللہ تعالی فرماتا ہے کیا انھوں نے اسکو دیکھا ہے ؟ فرشتے جواب دیتے ہیں اللہ کی قسم انھوں نے اسکو دیکھا ہے ؟ فرشتے جواب دیتے ہیں اللہ کی قسم انھوں نے اسکو نہیں دیکھا . اللہ تعالی فرماتا کے اگر وہ اسکو دیکھ لیتے تو کیا کرتے ؟ فرشتے کہتے ہیں کہ وہ اس سے بہت بھاگتے اور بہت زیادہ ڈرتے .اپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا :اللہ تعالی فرماتا ہے کہ میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے ان کو بخش دیا . اپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : ان فرشتوں میں سے ایک فرشتہ کہتا ہے کہ ان میں فلاں شخص (ذکر کرنے والوں ) میں نہیں تھا بلکہ وہ کسی

ضرورت سے آیا تھا .اللہ تعالی فرماتا ہے کہ وہ ایسے لوگ ہیں جن کے ساتھ بیٹھنےوالا محروم نہیں رہتا .

(بخاری –کتاب الدعوات)

دعا تو صلٰوۃ میں ہی کی جاتی ہے اور صلٰوۃ کے بعد ذکر .لیکن وہ خواتین جو عذ ر کی وجہ سے صلٰوۃ نہیں ادا کر سکتیں ان کو وہاں حاضر ہونے کی وجہ سے دعا اور ذکر دونوں کا ثواب مل جاتا ہے .

یہ روایت بھی پیش کی جاتی ہے :

رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ اللہ تعالی حیا دار ہے وہ حیا کرتا ہے کہ جس وقت اسکا بندہ ہاتھ اٹھاتا ہے کہ وہ انکو خالی ہاتھ واپس کردے .

(ترمذی)

اس روایت کو امام ترمذی نے حسن غریب کہا ہے ، لیکن اگر اس روایت کو صحیح بھی مان لیا جاہے تو اس میں فرض صلٰوۃ کے بعد ہاتھ اٹھانے کا کونسا بیان ہے ؟خود نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے کئی مواقع پر ہاتھ اٹھا کر دعا فرمائی ہے تو یہ معاملہ ان مواقع کے لیے بھی بیان کیا جا سکتا ہے .

یہ روایت بھی اپنے اس باطل عمل کی دلیل کے طور پر پیش کی جاتی ہے کہ :

“عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ :نبی صلی اللہ علیہ و سلم جب دعا کے لیے ہاتھ اٹھاتے تھے تو واپس نہ کرتے جب تک کہ ان کو اپنے چہرے پر نہ پھیر لیتے .”

(ترمذی)

وضاحت :

اس کے ایک راوی حماد بن عیسی الجھنی پر محدثین نے جرح بیان کی ہے اور ضعیف و قلیل الحدیث کہا ہے ،اور خود امام ترمذی نے اس حدیث کو غریب کہا ہے .

(تحفہ الاحوذی:جلد نمبر 9صفحہ 30)

مزید حدیث کا حوالہ دیا جاتا ہے کہ :

“ابو امامہ رضی اللہ تعالی عنہ نے رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے دریافت کیا کہ کون سی دعا زیادہ مقبول ہوتی ہے ، فرمایا آخری رات کی دعا اور فرض صلٰوۃ کے بعد کی .”

(ترمذی)

وضاحت :

اس روایت کی عربی کے الفاظ “دبرالصلٰوۃ” ہیں ،یہ لوگ اس کا ترجمہ “صلٰوۃکے بعد ” کرتے ہیں حالانکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کا طریقہ تو واضح ہے کہ” عائشه رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم دعا مانگتے تھے صلٰوۃمیں “.”ابو ھریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا جس وقت فارغ ہو تم میں سے کوئی آخری تشھد سے تو چاہیے کہ پنا ہ مانگے اللہ سے چار چیزوں کی ،جہنم کے عذاب سے ،قبر کے عذاب سے ،زندگی اور موت کے عذاب سے اور مسیح الدجال کے فتنے سے .”پس بے شک جب کوئی صلٰوۃ میں یہ کہتا ہے تو پہنچ جاتا ہے یہ ہر نیک بندے کو جو آسمانوں میں ہو یا آسمان اور

زمین کے مابین ہو “.”ابو بکر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں :کہ یا رسول صلی اللہ علیہ و سلم مجے کوئی ایسی دعا سکھائیں کہ میں اسکو اپنی صلٰوۃ میں کروں .”

واضح ہوا کہ “دبرالصلٰوۃ” کا مطلب “صلٰوۃ کے بعد نہیں “بلکہ “صلٰوۃکے آخر میں “ہے .کیا اس واضح تعلیم اور عمل کے بعد بھی شک کی کوئی گنجائش رہتی ہے ؟.محدثین نے اس بارے میں جو باب باندھے وہ بھی اسی بات کو ثابت کرتے ہیں ،ملاخطہ فرمائیے :

“باب التسبیح والدعا فی السجود”(سجدہ میں تسبیح و دعا کرنے کا باب ).”الدعا قبل السلام “(سلام سےپہلے دعا)،”الذکر بعد الصلٰوۃ”(صلٰوۃکے بعد ذکر ).

(بخاری –کتاب الصلٰوۃ)

اسی طرح دیگر محدثین نے بھی باب باندھے ہیں ،صاحب مشکوٰۃ نے ہر موضوع کا علیحدہ باب باندھا ہے تو انہوں نے بھی اس بارے میں اس طرح باب باندھے ہیں :”باب الدعافی التشھد”(تشھدمیں دعا کرنے کا باب )،”باب الذکر بعد الصلٰوۃ”(صلٰوۃ کے بعد اللہ تعالٰی کا ذکر کرنے کا باب ).

تو یہی نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا سکھایا ہو طریقہ ہے کا دعا ئیں صلٰوۃمیں کی جائیں اور ذکر صلٰوۃ کے بعد کیا کیا جائے جیسا کا شروع میں بیان کردہ احادیث میں اذکار کے وہ الفاظ بیان کیےگئے ہیں جو نبی صلی اللہ علیہ و سلم ادا فرمایا کرتے تھے .”دعا” اللہ تعالٰی سے مانگنے کو کہتے ہیں اور “ذکر “اللہ تعالٰی کی کبریا ئی بیان کرنے کو کہتے ہیں .

الغرض کہ اسی طرح دیگر موضوع وضعیف روایت اس باطل طریقے کو ثابت کرنے کی کو شش کی جاتی ہے لیکن کسی حدیث سے بھی فرض صلٰوۃکے بعد ہاتھ اٹھا کر انفرادی یا اجتماعی دعا کا کوئی ثبوت نہیں ملتا.

یہ بھی کہا جاتا ہے کا جب احادیث سے ثابت ہو گیا کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھاۓ ہیں تو اب ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا بدعت کیسے ہو گیا ؟

وضاحت :

نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے وتر صلٰوۃ عشاء میں ادا فرما ئے ہیں ، اب کوئی صلٰوۃ ظہر میں یہ کہہ کروتر پڑھنا شروع کر دے کا اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑھتا کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے وتر کب ادا فرمائےہیں ،کیا اس شخص کے اس عمل کونبی صلی اللہ علیہ و سلم کی سنت کہا جائیگا ؟جب نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے استسقا ء،صفہ و مروہ کی سعی ،کسی کی درخواست پر دعا ئے مغفرت کرنے یا غزوہ بدر کے موقع پر ہاتھ اٹھا کر انفرادی دعافرماہی ہو (اس موقع پر بھی صحابہ کرام رضی اللہ تعالی اجمعین کا نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ ہاتھ اٹھانا یاآمین کہنا احادیث سے ثابت نہیں )تو یہ عام معلمات کے لیے کیسے دلیل بن سکتا ہے ؟نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا ان موقع پر ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا یقنا اللہ تعالی کے حکم کے بمو جب ہی ہو گا ،اور جب نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ان مواقع کے علاوہ کسی اور مواقع پر اس انداز کو نہیں اپنایا تو اسکا مطلب ہے کہ یہاں ہاتھوں کا نہ اٹھانا ہی اللہ کا حکم اور اس کا سکھایاہوا طریقہ ہے .

اب جبکہ یہ عمل واضح طور پر بدعت ثابت ہوتا ہے اور اس کا کرنے والا بدعتی قرار پا تا یہ تو بدعت اور بدعتی کے بارے میں شروع میں مذکور احادیث کی روشنی میں اس عمل میں حصہ لینے والے کو اپنا مقام متعین کر لینا چائیے . حدیث میں بیان کیا گیا ہے کہ بدعتی کو ٹھاکانہ دینے دینے والے پر اللہ اور فرشتوں کی لعنت ہوتی ہے۔( بخاری و مسلم )

کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں دین مکمل نہیں ہواتھا ؟

یہ تمام باتیں سامنے اجانے کے بعد بھی ان فرقوں سے چمٹے رہنے والے اپنے لئے اس عمل کو متبرک اور حصول ثواب کا ذریعہ سمجتے ہیں اور انکے نزدیک انکا یہ باطل طریقہ بہت فضیلت والا ہے ،اور جب انکی توجہ شریعت کی طرف دلائی جاتی ہے تو کہتے ہیں کہ “ہم کوئی غلط کام تو نہیں کر رہے ہیں اللہ سے دعا کر رہے ہیں “. اور کوئی اس طرح بھی کہتا ہے کہ “اپ کو نہیں معلوم کہ جب سب ملکر دعامانگتے ہیں تو یہ گھڑ ی کس قدر باعث فضیلت ہوتی ہے اور اللہ کس قدر برکت فرماتا ہے .”

سمجھ میں نہیں اتا کہ یہ بات لوگوں کو کس طرح معلوم ہو جاتی ہے کہ ہمارا اپنا بنا یا ہوا طریقہ کس قدر با برکت ہے .کیا الله تعالٰی نے اس بارے میں براہ راست ان کے علما یا ان پر کوئی وحی نازل فرمائی ہے (نعوذباللہ )کیونکہ قرآن و حدیث تو انکے اس قسم کی دعئوں سے یکسر پاک ہے .نبی صلی اللہ علیہ وسلم تو ہر عمل اللہ تعالٰی کے بتائےہوہے طریقے کے مطابق کرتے تھے ،نیز اللہ تعالٰی اپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس عمل کی فضیلت سے بھی اگا ہ فرما دیتا تھا جس کو قولی یا فعلی حدیث کی صورت میں ہمارے لیے مشعل راہ بنا دیا گیا .مگر آج اپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے چودہ سو سال بعد اس بدعت پر اصرار کرنے والے کیا اس بات کا دعویٰ کر رہے ہیں کہ (نعوذباللہ )نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرض صلٰوۃ اور اوپربیان کردہ دیگر مواقع پر ہاتھ اٹھا کر انفرادی یا اجتماعی دعا کرنے کی فضیلت کے بارے میں علم نہ تھا ورنہ وہ بھی (نعوزوباللہ)یہی عمل کرتے جو آج یہ فرقہ پرست کر رہے ہیں .اللہ تعالی فرماتا ہے

اَلْيَوْمَ اَ كْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِيْ وَرَضِيْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِيْنًا

(المائدہ (3

“آج میں نے تمہارا دین مکمل کر دیا اور اپنی نعمت تم پر پوری کر دی اور تمہارے لیے اسلام کو بطور دین پسند کر لیا .”

یعنی تم لوگوں کو زندگی گزرنے کا مکمل طریقہ بتا دیا گیا ہے اور اللہ تعالی نے تم کو ہر ہر عمل کی بابت متنبہ کر دیا ہے اور تمہیں زندگی کس طرح گزارنی ہے اس بارے میں شریعت اتار دی گئی ہے ،اب کسی کو اس میں کسی بھی کمی و بیشی کا اختیار نہیں .مزید فرمایا گیا :

يٰٓاَيُّھَا الرَّسُوْلُ بَلِّــغْ مَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ ۭوَاِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهٗ

(المائدہ67)

“اے پیغمبر! (پورے کا پورا) پہنچا دو اس پیغام کو جو کہ اتارا گیا آپ کی طرف آپ کے رب کی جانب سے، اور اگر (بالفرض) آپ نے ایسا نہ کیا تو آپ نے اس کی رسالت کا حق ادا نہیں کیا”

تو گویا یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ ذمہ داری تھی کہ جو کچھ اللہ تعالی نے اپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی فرمایا تھا اسکی تبلیغ کریں ،یعنی اللہ تعالی کی طرف سے نازل کردہ ہر ہر عقیدہ اور عمل کی لوگوں کے سامنے وضاحت کر دی جاہے .مزید فرمایا گیا کہ اگر اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا نہ کیا تو گویا حق رسالت ادا نہ کیا . نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حجتہ الوداع کے موقع پر لوگوں کو گواہ کر کے یہی بات فرمائی تھی کہ انھوں نے ہر بات لوگوں تک پہنچا دی جو آج کتاب اللہ

کے زریعے ہم تک بھی پہنچ چکی ہے ، دین کا کوئی معاملہ ایسا نہیں ہے جو ہم سے چھپا لیا گیا ہو .آج اس بدعتی کے متبرک و فضیلت والا قرار دینے والے کیا (نعوذوباللہ)اس بات کے دعویدار ہیں کہ اللہ تعالی نے اس قدر ثواب والا عمل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں بتایا ؟اور اگر اپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس عمل کی بابت علم تھا تو کیا انھوں نے اس حکم و طریقے کو ہم سے چھپا کر (نعوزوباللہ )حق رسالت ادا نہ فرمایا ؟استغفراللہ .

فرقہ پرستوں کے اس خود ساختہ عمل کا کتاب اللہ سے کوئی ثبوت نہیں ملتا پھر کیسے ممکن ہے کہ اس عمل کے کرنے والے اللہ تعالی سے ثواب کی امید رکھیں بلکہ قرآن مجید تو اس بارے میں اس طرح فرماتا ہے :

يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِيْعُوا اللّٰهَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَلَا تُبْطِلُوْٓا اَعْمَالَكُمْ

(محمّد 33)

“اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول اللہ کی اور اپنے اعمال کو برباد نہ کر و .”

یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے سے ہٹا ہوا ہر عمل برباد ہو جانے والا ہے .اس بارے میں مزید فرمایا :

يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِيْعُوا اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ وَلَا تَوَلَّوْا عَنْهُ وَاَنْتُمْ تَسْمَعُوْنَ

(الانفال 20 )

“اے ایمان والو!اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرواور اس سے منہ نہ موڑو جبکہ تم اسکا حکم سن رہے ہو .”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *