Categories
Uncategorized

وفات النبی ﷺ

ابتدائیہ

ساری تعریف اس مالک حقیقی کے لئے ہے کہ جس نے ساری کائنات کو پیدا فرمایا ، ان کے رزق کا بندوبست فرمایا، وہی انکی دعاوں کا سننے والا ، مشکالات کا دور کرنے والا ، انکو بیماری سے شفا عطا فرمانے والا، انکو اولاد سے نوازنے والا، انکی زندگی اور موت پر قادر ہے۔ وہ الحی ہے اس کائنات میں اسکے علاوہ کوئی الحی نہیں، اسکے علاوہ سب فنا ہو جانے والے ہیں۔ یہی ایک مسلم کا بنیادی عقیدہ ہے۔

لیکن جب امتوں میں گمراہی پھیلتی ہےتو پھر اس ایک الٰہ کے مقابلے میں دوسروں کو بھی الٰہ سمجھا جانے لگتا ہے،انبیاء علیہم السلام کو قبروں میں زندہ کر دیا جاتا ہےانکے نام کے بت بنا لیے جاتے ہیں،پھر دعائیں انکے توسط سے کی جاتی ہیں ، وہ انکی کھیتیاں ہری کرنے ، انکو اولادیں دینے والے سمجھے جاتے ہیں۔قرآن و حدیث میں پچھلی قوموں کی گمراہی کا یہی انداز بیان کیا گیا ہے ۔ ان قوموں نے اپنے انبیاء علیہم السلام کی وفات کے بعد ان کی تعلیمات کو پس پشت ڈالنے کے بعد انکو اللہ تعالیٰ کی الہوہیت میں شریک کر دیا تھا۔قوم نوح نے اپنے پانچ نیک افرادکی وفات کے بعد انکی قبریں بنائیں اور انکی بندگی شروع کر دی پھر ان کے نام کے بت بنائے گئےاور وہاں ہی سے یہ بت عرب پہنچے۔ عرب میں بھی یہی شرک پروان چڑھا اور ابراہیم و اسماعیل علیہم السلام اور مریم علیہم السلام کے نام کے بت بنا ڈالے گئے۔ پھر لات ، منات و دیگر افراد جو انکی قوم کے معزز افراد سمجھے جاتے تھے اس منصب پر فائز کر دیے گئے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے اس شجر خبیثہ کی بیخ کنی فرمائی۔لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات اور صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم و تابعین و تبع تابعین کے دور کے بعد اس شجر خبیثہ نے پھر ایک نئے دین کی حیثیت اختیار کر لی۔

احمد بن حنبل نے قرآن و حدیث کے بر خلاف روح واپس اسی جسم میں لوٹائے جانے کا عقیدہ دیا اور پھر ہر مردہ اسی قبر میں زندہ کر دیا گیا۔ بات سوال و جواب کے لیے اس جسم میں روح لوٹائے جانے سے شروع ہوئی اور پھر ابن قیم و ابن تیمیہ نے اضافہ کر ڈالا کہ یہ مردہ اپنی قبر پر آنے والے کے حالات سے بھی آگاہ ہوتا، حتیٰ کہ پرندے کے نر و مادہ کی تمیز بھی رکھتا ہےاور یو ں یہ قبر پرستی کا دین اسلام کا حصہ بن جاتا ہے۔دین تصوف و طریقت کے متوالے ضعیف و موضوع روایات کے ذریعے قبر میں زندگی کو ثابت کرتے ہیں اور پھر یہ مردے الٰہ بن جاتے ہیں۔ اب یہ سنتے بھی ہیں، دیکھتے اور لوگوں کی مشکلات بھی حل کرتے ہیں۔ یہی مشرکانہ عقیدہ آج اس امت کا بنیادی عقیدہ بن گیا ہے، وہ صفات جو صرف اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہیں

ان سے وابستہ کردی گئی ہیں۔انسانیت ہے کہ ان کے مزاروں جھکی پڑی ہے،ان ڈرتی ہے، ان سے خوف کھاتی اور انہی سے ان کی امیدیں وابستہ ہیں۔ اسی لئے انکے دن منائے جاتے ہیں، ان کے عرس ہوتے ہیں، انکے نام کی نذرونیازیں ہیں۔ قرآن تو قبر میں مدفون ان لوگوں کو “مردہ ہیں ان میں زندگی رمق نہیں”(النحل 22)قرار دیتا ہے۔ پھر قرآن و حدیث کا مطالعہ فرمایئے اتنی آیات اس بارے میں ہیں کہ ” یہ سن نہیں سکتے”،”انہیں تو یہ بھی معلوم نہیں کہ کب زندہ کر کے اٹھائے جایئں گے”،” یہ کھجور کی گٹھلی پر چڑھے ہوئے غلاف کے بھی مالک نہیں”،” اس بڑھ کر گمراہ کون ہو گا جو ایسوں کو پکارے جو قیامت تک اسکی بات کا جواب نہیں دے سکتے”………..۔ لیکن آج کا یہ کلمہ گو قرآن و حدیث کے فرامین سے نہ آشنا ہے، اسکے ایمان کی بنیاد اس کے علماء کی لکھی ہوئی کتب جن میں قرآنی آیات اور صحیح احادیث کی غلط تشریحات اور ضعیف و موضوع روایات کے ذریعے اس مشرکانہ عقیدے کو صحیح ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

ان مرنے والوں کو قبر میں زندہ ثابت کرنے کے لئے اس بات کی اشد ضرورت تھی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور دیگر انبیاء علیہم السلام کو بھی قبروں میں زندہ ثابت کیا جائے۔کیونکہ یہ کیسے ممکن ہے کہ غریبوں کو نوازنے والا خواجہ معین الدین چشتی ، لوگوں کو ہر ہر چیز دینے والا علی ہجویری، انسانوں کی دعایئں سننے والا عبد القادر جیلانی تو قبر میں زندہ ہو ، سنتا اور دیکھتا اور لوگوں کی مشکلات کو حل کرتاہو اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا چکے ہوں، اس دنیا سے اب ان کا کوئی تعلق نہ ہو!چنانچہ انبیاء علیہم السلام اور خاص طور پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی مدینہ والی قبر میں زندہ ہیں، درود ان پر پیش ہوتے ہیں، کوئی بزرگ ان سے ملنے انکی قبر پر جاتے ہیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم قبر سے ہاتھ باہر نکال کر ان سےمصافحہ بھی فرماتے ہیں، مر جانے والی عورت کے پیٹ پر ہاتھ پھیر کر اسے عذاب سے نجات بھی دلا دیتے ہیں(فضائل اعمال تبلیغی جماعت)۔

امت میں پھیلے ہوئے اس عقیدے کی حقیقت واضح کرنے کے لئے ہم نے اس بارے میں قرآن و صحیح احادیث پر مشتمل مضمون مرتب کیا ہے، اللہ تعالیٰ حق سمجھنے اور اسے قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

آیئے مطالعہ کرتے ہیں کہ انبیاء علیہم السلام کے لئے موت کا کیا حکم ہے۔

تمام انسانوں کی طرح انبیاء علیہم السلام کے لیے بھی موت کا حکم ہے۔

یعقوب علیہ السلام کے لئے فرمایا گیا :

اَمْ كُنْتُمْ شُهَدَاۗءَ اِذْ حَضَرَ يَعْقُوْبَ الْمَوْتُ

(البقرہ :133)

“کیا تم اسوقت حاضر تھے جب یعقوب کو موت آئی “۔

سلیمان علیہ السلام کے لئے فرمایا گیا :

فَلَمَّا قَضَيْنَا عَلَيْهِ الْمَوْتَ مَا دَلَّهُمْ عَلٰي مَوْتِهٖٓ اِلَّا دَاۗبَّةُ الْاَرْضِ تَاْكُلُ مِنْسَاَتَهٗ ۚ فَلَمَّا خَرَّ تَبَيَّنَتِ الْجِنُّ اَنْ لَّوْ كَانُوْا يَعْلَمُوْنَ الْغَيْبَ مَا لَبِثُوْا فِي الْعَذَابِ الْمُهِيْنِ

(سبا:14)

“پھر جب سلیمان پر ہم نے موت کا فیصلہ نافذ کیا تو جنوں کو اسکی موت کا پتہ دینے والی کوئی چیز اس گھن کے سوا نہ تھی جو ان کے عصاکو کھاتا رہا۔ آخر جب وہ گر پڑے تو جنوں پر یہ بات کھلی کہ اگر وہ غیب جاننے والے ہوتے تو اتنا عرصہ ذلت کے عذاب میں مبتلا نہ رہتے”۔

یوسف علیہ السلام نے فرمایا :

تَوَفَّنِيْ مُسْلِمًا وَّاَلْحِقْنِيْ بِالصّٰلِحِيْنَ

(یوسف : 101)

“اے رب مجھے اسلام کی حالت میں وفات دےاور داخل کردے صالحین میں”۔

 

یوسف علیہ السلام کی موت کی تصدیق قرآن میں اس طرح فرمائی گئی:

وَلَقَدْ جَاۗءَكُمْ يُوْسُفُ مِنْ قَبْلُ بِالْبَيِّنٰتِ فَمَا زِلْتُمْ فِيْ شَكٍّ مِّمَّا جَاۗءَكُمْ بِهٖ ۭ حَتّىٰٓ اِذَا هَلَكَ ۔ ۔ ۔

(المومن : 34)

” اور یقیناً تمہارے پاس اس سے قبل یوسف ؑ نشانیاں لیکر آئے تھے یہاں تک کہ وہ وفات پاگئے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “۔

قرآن کی آیات سے واضح ہوا کہ انبیاء علیہم السلام کے لئے بھی موت کا وہی حکم ہے۔ مزید ٰہ آیات پڑھیں کہ موت کے بعد انبیاء کیساتھ کیا معاملہ ہوتا ہے:

ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا:

وَالَّذِيْ يُمِيْـتُـنِيْ ثُمَّ يُحْيِيْنِ

(الشعرا: 81)

“اور جو مجھے موت دے گا(اور )پھر ( قیامت کے دن ) زندہ کرے گا “۔

یحییٰ علیہ السلام کے لیے فرمایا :

وَسَلٰمٌ عَلَيْهِ يَوْمَ وُلِدَ وَيَوْمَ يَمُوْتُ وَيَوْمَ يُـبْعَثُ حَيًّا

(مریم:15)

“اور سلامتی ہو ان پر جس دن وہ پیدا ہوئے اور جس دن وہ مرےاور جس دن وہ زندہ کرکے اٹھائے جائیں گے”

عیسیٰ علیہ السلام کے لیے فرمایا:

وَالسَّلٰمُ عَلَيَّ يَوْمَ وُلِدْتُّ وَيَوْمَ اَمُوْتُ وَيَوْمَ اُبْعَثُ حَيًّا

(مریم: 33)

“اور سلامتی ہو مجھ پر جس دن میں پیدا ہو اجس دن میں مروں گا اور جس دن میں زندہ کرکے اٹھایا جاؤں گا”۔

ثُمَّ اِنَّكُمْ بَعْدَ ذٰلِكَ لَمَيِّتُوْنَ 15؀ۙ ثُمَّ اِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ تُبْعَثُوْنَ 16؀

( سورہ المومنون : 15-16 )

’’ پھر اس کے بعد تمہیں موت آجا تی ہے ، پھر تم قیامت کے دن ( زندہ کرکے ) اٹھائے جاوگے‘‘۔

کتاب اللہ سے ثابت ہوتا ہے کہ تما م انسانوں کی طرح انبیاء علیہم السلام کے لیے بھی موت کا حکم ہےاور یہ کہ وہ قبروں میں زندہ نہیں بلکہ قیامت کے دن ہی زندہ کرکے اٹھائے جائیں گے۔

آخری نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کتاب اللہ میں فرمایا گیا

قُلْ اِنَّمَآ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ يُوْحٰٓى اِلَيَّ

(الکہف :110)

’’کہدو کہ میں تمہاری ہی طرح کا ایک انسان ہوں‘‘۔

وَقَالُوْا مَالِ ھٰذَا الرَّسُوْلِ يَاْكُلُ الطَّعَامَ وَيَمْشِيْ فِي الْاَسْوَاقِ ۭ لَوْلَآ اُنْزِلَ اِلَيْهِ مَلَكٌ فَيَكُوْنَ مَعَهٗ نَذِيْرً

(الفرقان:7)

“اور کہتے ہیں کہ یہ کیسا رسول ہے جو کھاتا پیتا اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے ۔اس پر کوئی فرشتہ کیوں نہیں نازل کیا گیا جو اس کے ساتھ ہو کر ڈراتا ، یا اسکے لیے کوئی خزانہ اتارا جاتا، یا اسکا کوئی باغ ہوتا کہ یہ اس میں سے کھاتا پیتا “۔

وَمَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِّنْ قَبْلِكَ الْخُلْدَ ۭ اَفَا۟ىِٕنْ مِّتَّ فَهُمُ الْخٰلِدُوْنَ

(الانبیاء : 34،35)

(اے محمد ؑ ) ہم نے تم سے پہلے بھی کسی انسان کے لیے ہمیشگی نہیں رکھی ، اگر تم فوت ہو گئے تو کیا یہ لوگ ہمیشہ زندہ رہیں گے”۔

اِنَّكَ مَيِّتٌ وَّاِنَّهُمْ مَّيِّتُوْنَ

(الزمر :30)

(اے محمد ؑ) تم کو بھی مرنا ہے اور ان کو مرنا ہے”۔

وَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ ۚ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ ۭ اَفَا۟ىِٕنْ مَّاتَ اَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلٰٓى اَعْقَابِكُمْ ۭ وَمَنْ يَّنْقَلِبْ عَلٰي عَقِبَيْهِ فَلَنْ يَّضُرَّ اللّٰهَ شَـيْـــًٔـا ۭ وَسَيَجْزِي اللّٰهُ الشّٰكِرِيْنَ

(آل عمران :144)

محمد ؑ محض ایک رسول ہیں ، ان سے پہلے بھی بہت سے رسول گزرے ہیں، اگر یہ فوت ہو جائیں یا شہید کر دیئے جائیں تو کیا تم الٹے پھر جاؤ گے ، اور جو بھی الٹے پاؤں پھر گیا تو وہ اللہ کا کچھ نقصا ن نہیں پہنچا سکتا اور اللہ اپنے شکر گزار بندوں کو ضرور اجر دے گا”۔

مندرجہ بالا آیات میں دیگر انبیا علیہم السلام کی طرح محمدﷺکی بشریت کی وضاحت فرمائی گئی ہے کہ بشری تقاضوں اور ضروریا ت کے اعتبار سے نبی ﷺ دیگر انسانوں سے مختلف نہیں اور جس طرح ہر انسان کے لیے موت کا حکم ہے ان کے لیے بھی وہی حکم ہے۔(یہاں معاملہ صرف انسان ہونے کے لحاظ سے ہےورنہ انسانوں میں جو ان کا مقام ہے وہ ہر گز کسی کا نہیں۔)

وفات النبی صلی اللہ علیہ وسلم

حدیث نمبر 1

حَدَّثَنَا أَبُو اليَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، إِنَّ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ صَحِيحٌ يَقُولُ: ” إِنَّهُ لَمْ يُقْبَضْ نَبِيٌّ قَطُّ حَتَّى يَرَى مَقْعَدَهُ مِنَ الجَنَّةِ، ثُمَّ يُحَيَّا أَوْ يُخَيَّرَ، فَلَمَّا اشْتَكَى وَحَضَرَهُ القَبْضُ وَرَأْسُهُ عَلَى فَخِذِ عَائِشَةَ غُشِيَ عَلَيْهِ، فَلَمَّا أَفَاقَ شَخَصَ بَصَرُهُ نَحْوَ سَقْفِ البَيْتِ، ثُمَّ قَالَ: «اللَّهُمَّ فِي الرَّفِيقِ الأَعْلَى» فَقُلْتُ: إِذًا لاَ يُجَاوِرُنَا، فَعَرَفْتُ أَنَّهُ حَدِيثُهُ الَّذِي كَانَ يُحَدِّثُنَا وَهُوَ صَحِيحٌ

( بخاری، کتاب المغازی، بَابُ آخِرِ مَا تَكَلَّمَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ )

’’سعید بن مسیب وعروہ بن زبیر سے روایت کرتے ہیں کہ ان دونوں نے چند اہل علم کی موجود گی میں بیان کیا کہ عائشہ ؓ زوجہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺاپنی تندرستی کی حالت میں فرماتے تھے کہ کسی نبی کی اس وقت تک وفات نہیں ہوئی جب تک کہ اس کو جنت میں اس کی جگہ نہ دکھا دی گئی، پھر (زندگی اور موت میں) اختیار دیا گیا جب آپ کی وفات کا وقت قریب آیا تو آپ کا سر میری ران پر تھا، آپ پر تھوڑی دیر غشی طاری رہی، پھر افاقہ ہوا تو آپ نے چھت کی طرف نگاہ اٹھائی، پھر فرمایا اللَّهُمَّ الرَّفِيقَ الْأَعْلَی میں نے کہا، کہ آپ اب ہمیں اختیار نہ کریں گے اور میں نے سمجھ لیا کہ وہی بات ہے جو آپ ہم سے فرمایا کرتے تھے، عائشہ ؓ کا بیان ہے کہ آخری کلمہ جونبی ﷺ نے فرمایا وہ یہی کلمہ تھا کہ اللَّهُمَّ الرَّفِيقَ الْأَعْلَی۔ ‘‘

اس حدیث سے واضح ہوا کہ ہر نبی کو موت سے پہلے اس اس کی موت کے بعد ملنے والا مقام دکھا دیا جاتا ہے ۔ کیا نبی ﷺ کو ان کو ان کی وفات کے بعد ملنے والا مقام دکھا دیا گیا تھا؟ ملاحظہ فرمائیں یہ حدیث:

حدیث نمبر 2

عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ قَالَ کَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّی صَلَاةً أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ فَقَالَ مَنْ رَأَی مِنْکُمْ اللَّيْلَةَ رُؤْيَا قَالَ فَإِنْ رَأَی أَحَدٌ قَصَّهَا فَيَقُولُ مَا شَائَ اللَّهُ فَسَأَلَنَا يَوْمًا فَقَالَ هَلْ رَأَی أَحَدٌ مِنْکُمْ رُؤْيَا قُلْنَا لَا قَالَ لَکِنِّي رَأَيْتُ اللَّيْلَةَ رَجُلَيْنِ أَتَيَانِي فَأَخَذَا بِيَدِي فَأَخْرَجَانِي إِلَی الْأَرْضِ الْمُقَدَّسَةِ فَإِذَا رَجُلٌ جَالِسٌ وَرَجُلٌ قَائِمٌ بِيَدِهِ کَلُّوبٌ مِنْ حَدِيدٍ قَالَ بَعْضُ أَصْحَابِنَا عَنْ مُوسَی إِنَّهُ يُدْخِلُ ذَلِکَ الْکَلُّوبَ فِي شِدْقِهِ حَتَّی يَبْلُغَ قَفَاهُ ثُمَّ يَفْعَلُ بِشِدْقِهِ الْآخَرِ مِثْلَ ذَلِکَ وَيَلْتَئِمُ شِدْقُهُ هَذَا فَيَعُودُ فَيَصْنَعُ مِثْلَهُ قُلْتُ مَا هَذَا قَالَا انْطَلِقْ فَانْطَلَقْنَا حَتَّی أَتَيْنَا عَلَی رَجُلٍ مُضْطَجِعٍ عَلَی قَفَاهُ وَرَجُلٌ قَائِمٌ عَلَی رَأْسِهِ بِفِهْرٍ أَوْ صَخْرَةٍ فَيَشْدَخُ بِهِ رَأْسَهُ فَإِذَا ضَرَبَهُ تَدَهْدَهَ الْحَجَرُ فَانْطَلَقَ إِلَيْهِ لِيَأْخُذَهُ فَلَا يَرْجِعُ إِلَی هَذَا حَتَّی يَلْتَئِمَ رَأْسُهُ وَعَادَ رَأْسُهُ کَمَا هُوَ فَعَادَ إِلَيْهِ فَضَرَبَهُ قُلْتُ مَنْ هَذَا قَالَا انْطَلِقْ فَانْطَلَقْنَا إِلَی ثَقْبٍ مِثْلِ التَّنُّورِ أَعْلَاهُ ضَيِّقٌ وَأَسْفَلُهُ وَاسِعٌ يَتَوَقَّدُ تَحْتَهُ نَارًا فَإِذَا اقْتَرَبَ ارْتَفَعُوا حَتَّی کَادَ أَنْ يَخْرُجُوا فَإِذَا خَمَدَتْ رَجَعُوا فِيهَا وَفِيهَا رِجَالٌ وَنِسَائٌ عُرَاةٌ فَقُلْتُ مَنْ هَذَا قَالَا انْطَلِقْ فَانْطَلَقْنَا حَتَّی أَتَيْنَا عَلَی نَهَرٍ مِنْ دَمٍ فِيهِ رَجُلٌ قَائِمٌ عَلَی وَسَطِ النَّهَرِ قَالَ يَزِيدُ وَوَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ عَنْ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ وَعَلَی شَطِّ النَّهَرِ رَجُلٌ بَيْنَ يَدَيْهِ حِجَارَةٌ فَأَقْبَلَ الرَّجُلُ الَّذِي فِي النَّهَرِ فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَخْرُجَ رَمَی الرَّجُلُ بِحَجَرٍ فِي فِيهِ فَرَدَّهُ حَيْثُ کَانَ فَجَعَلَ کُلَّمَا جَائَ لِيَخْرُجَ رَمَی فِي فِيهِ بِحَجَرٍ فَيَرْجِعُ کَمَا کَانَ فَقُلْتُ مَا هَذَا قَالَا انْطَلِقْ فَانْطَلَقْنَا حَتَّی انْتَهَيْنَا إِلَی رَوْضَةٍ خَضْرَائَ فِيهَا شَجَرَةٌ عَظِيمَةٌ وَفِي أَصْلِهَا شَيْخٌ وَصِبْيَانٌ وَإِذَا رَجُلٌ قَرِيبٌ مِنْ الشَّجَرَةِ بَيْنَ يَدَيْهِ نَارٌ يُوقِدُهَا فَصَعِدَا بِي فِي الشَّجَرَةِ وَأَدْخَلَانِي دَارًا لَمْ أَرَ قَطُّ أَحْسَنَ مِنْهَا فِيهَا رِجَالٌ شُيُوخٌ وَشَبَابٌ وَنِسَائٌ وَصِبْيَانٌ ثُمَّ أَخْرَجَانِي مِنْهَا فَصَعِدَا بِي الشَّجَرَةَ فَأَدْخَلَانِي دَارًا هِيَ أَحْسَنُ وَأَفْضَلُ فِيهَا شُيُوخٌ وَشَبَابٌ قُلْتُ طَوَّفْتُمَانِي اللَّيْلَةَ فَأَخْبِرَانِي عَمَّا رَأَيْتُ قَالَا نَعَمْ أَمَّا الَّذِي رَأَيْتَهُ يُشَقُّ شِدْقُهُ فَکَذَّابٌ يُحَدِّثُ بِالْکَذْبَةِ فَتُحْمَلُ عَنْهُ حَتَّی تَبْلُغَ الْآفَاقَ فَيُصْنَعُ بِهِ إِلَی يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَالَّذِي رَأَيْتَهُ يُشْدَخُ رَأْسُهُ فَرَجُلٌ عَلَّمَهُ اللَّهُ الْقُرْآنَ فَنَامَ عَنْهُ بِاللَّيْلِ وَلَمْ يَعْمَلْ فِيهِ بِالنَّهَارِ يُفْعَلُ بِهِ إِلَی يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَالَّذِي رَأَيْتَهُ فِي الثَّقْبِ فَهُمْ الزُّنَاةُ وَالَّذِي رَأَيْتَهُ فِي النَّهَرِ آکِلُوا الرِّبَا وَالشَّيْخُ فِي أَصْلِ الشَّجَرَةِ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَام وَالصِّبْيَانُ حَوْلَهُ فَأَوْلَادُ النَّاسِ وَالَّذِي يُوقِدُ النَّارَ مَالِکٌ خَازِنُ النَّارِ وَالدَّارُ الْأُولَی الَّتِي دَخَلْتَ دَارُ عَامَّةِ الْمُؤْمِنِينَ وَأَمَّا هَذِهِ الدَّارُ فَدَارُ الشُّهَدَائِ وَأَنَا جِبْرِيلُ وَهَذَا مِيکَائِيلُ فَارْفَعْ رَأْسَکَ فَرَفَعْتُ رَأْسِي فَإِذَا فَوْقِي مِثْلُ السَّحَابِ قَالَا ذَاکَ مَنْزِلُکَ قُلْتُ دَعَانِي أَدْخُلْ مَنْزِلِي قَالَا إِنَّهُ بَقِيَ لَکَ عُمُرٌ لَمْ تَسْتَکْمِلْهُ فَلَوْ اسْتَکْمَلْتَ أَتَيْتَ مَنْزِلَکَ

( عن سمرۃ بن جندب ؓ، بخاری، کتاب الجنائز ، بَابُ مَا قِيلَ فِي أَوْلاَدِ المُشْرِكِينَ )

”سمرۃ بن جندب رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ جب صلوٰۃ (فجر) ادا کرلیتے تھے تو ہماری طرف رخ کرکے پوچھتے کہ کسی نے را ت کو خواب دیکھا ہے پس اگر کسی نے خواب دیکھا ہوتا تو بیان کردیتا اور آپ ؐ جواللہ چاہتا کہہ دیتے تھے۔ایک دن آپ ؐ نے ہم سے سوال کیا کہ کسی نے خواب دیکھا ہے؟ ہم نے جواب دیاکہ جی نہیں۔آپ ؐ نے ارشاد فرمایا لیکن میں نے رات کو دیکھا کہ دو شخص میرے پاس آئے اور انھوں نے میرے دونوں ہاتھ پکڑے اور مجھے باہر نکال کر ارض مقدس لے گئے۔ پس ہم چلے یہاں کہ میں نے دیکھا ایک شخص بیٹھا ہوا ہے اور ایک شخص کھڑا ہے اور اسکے ہاتھ میں لوہے کا آنکڑا ہے وہ اسکو بیٹھے ہوئے شخص کے گلپھڑے میں داخل کرکے گلپھڑ ے کو گردن تک پھاڑ ڈالتا ہے پھر اسکے دوسرے گلپھڑے کیساتھ یہی عمل کرتا ہے پھر گلپھڑے جڑ جاتے ہیں اور پھر وہ (کھڑا ہوا) شخص (بیٹھے ہوئے) کیساتھ دوبارہ یہی معاملہ کرتا ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا میں نے ان سے پوچھا یہ کیا ہے؟ ان دونوں نے کہا کہ آگے چلئے، ہم چلے اور ایسے شخص کے پاس پہنچے جو اپنی گدی کے بل لیٹا ہوا تھا اور اسکے سر پر ایک دوسرا شخص پتھر لئے کھڑا ہوا تھا میں دیکھتا کیا ہوں دوسرے شخص کو پتھر مار کر اسکا سر پھاڑ رہا تھا۔ پتھرسر پر پڑنے کے بعد ایک طرف لڑھک جاتا تھا اور پتھر مارنے والا اسکو اٹھانے کیلئے جاتا اور اس درمیان میں کہ وہ پھر واپس آئے سر پھر جڑ جاتا اور ویسے ہی ہوجاتا کہ جیسا پہلے تھا۔ اب پھر وہ پہلے کی طرح پتھر کو سر پر مارتا۔(یہ دیکھ کر) نبی ﷺ نے فرمایا کہ میں نے ان سے پوچھا کہ یہ کون ہے؟ ان دونوں نے کہا کہ آگے چلئے۔ ہم چلے اور تنورکی شکل کے نقب کے پاس آئے اس نقب کے اوپر کا حصہ تنگ اور نیچے کا وسیع تھا اور اس میں آگ جل رہی تھی اس نقب کے اندر برہنہ مرد اور عورتیں تھیں۔ جب آگ تیز ہوتی تو وہ اوپر اٹھتے اور باہر نکلنے کے قریب ہو جاتے اور جب ہلکی ہوتی تو نیچے واپس چلے جاتے۔ نبیﷺفرماتے ہیں کہ میں نے کہا یہ کیا ہورہا ہے؟ ان دونوں نے کہا آگے چلئے۔ ہم چلے یہاں تک کہ ایک نہر پر آئے جو خون سے بھری ہوئی تھی اور اس میں ایک شخص کھڑا تھااور نہر کے کنارے ایک اور شخص کھڑا ہوا تھا جس کے سامنے پتھرپڑے ہوئے تھے۔ جب نہر والا شخص آگے بڑھتااور باہر نکلنا چاہتا تو باہر والا اسکے منہ پر پتھر مارتا اور اسے واپس اسکی جگہ لوٹا دیتا۔ نبی ﷺ نے فرمایا کہ میں نے کہا یہ سب کیا ہے؟ ان دونوں نے کہا کہ آگے چلئے ہم چلے یہاں تک کہ ایک سبزوشاداب باغ میں پہنچے اس میں ایک بہت بڑا درخت تھا اس در خت کی جڑ کے پاس ایک بزرگ اور بچے تھے اور درخت کے پاس ایک صاحب تھے جنکے سامنے آگ جل رہی تھے اور وہ اسے بھڑکا رہے تھے پھر وہ دونوں مجھے چڑھا کے ایسے گھر میں لے گئے جس سے زیادہ حسین گھر میں نے کبھی نہیں دیکھا تھا اس گھر میں بوڑھے، جوان مرد، خواتین اور بچے تھے۔ پھر وہ مجھے اس گھر سے نکال کر ایک درخت پر چڑھا کر ایک ایسے گھر میں لے گئے جو پہلے گھر سے زیادہ حسین و جمیل تھا اس میں بوڑھے اور جوان تھے۔ نبیﷺ نے فرمایا میں نے ان سے کہا تم دونوں مجھے رات بھر گھماتے رہے ہو اب بتاؤ کہ میں نے جو کچھ دیکھا وہ سب کیا ہے؟ دونوں نے کہا بہتر وہ جس کو آپؐ نے دیکھا کہ اسکے گلپھڑے پھاڑے جارہے تھے وہ کذاب تھا جھوٹی باتیں بیان کرتا تھا اور لوگ اس بات کو لے اڑتے تھے یہاں تک کہ ہر طرف اسکا چرچا ہوتا تھا تو اسکے ساتھ جو آپ ؐ نے ہوتے دیکھا وہ قیامت تک ہوتا رہیگا اور جسکو آ پؐ نے دیکھا کہ اسکا سر کچلا جارہا تھا یہ وہ شخص تھا کہ جسکو اللہ تعالی نے قرآن کا علم دیا تھا لیکن وہ رات کو قرآن سے غافل سوتا رہا اور دن میں اسکے مطابق عمل نہ کیا یہ عمل اسکے ساتھ قیامت تک ہوتا رہیگا۔ اور جنکو آپؐ نے نقب میں دیکھا وہ زناکار تھے اور جسکو آپؐ نے نہر میں دیکھا وہ سود خور تھا اور وہ شیخ جو درخت کی جڑ کے پاس تھے ابراہیم علیہ السلام تھے اور بچے جو انکے اردگرد تھے انسانوں کی اولاد تھے اور جو آگ بھڑکا رہے تھے وہ مالک داروغہ جہنم تھے اور وہ پہلا گھر جس میں آپ ؐداخل ہوے تھے عام مومنین کا گھر تھا اور یہ شھداء کے گھر ہیں اور میں جبرائیل ہوں اور یہ میرے ساتھی میکائیل ہیں آپؐ ذرا اپنا سر اوپر اٹھائیں۔۔ میں نے اپنا سر اٹھایا تو میں نے اپنے سر کے اوپر ایک بادل سا دیکھا ان دونوں نے کہا یہ آپ ؐ کا گھر ہے۔ میں نے کہا کہ مجھے چھوڑدوکہ میں اپنے گھر میں داخل ہوجاؤں ان دونوں نے کہا کہ ابھی آپ ؐ کی عمر کا کچھ حصہ باقی ہے جس کو آپؐ نے پورا نہیں کیاجب آپ اسکو پورا کرلیں گے تو اپنے اس گھر میں آجائیں گے۔

اس حدیث میں نبیﷺ کو انسانوں کی وفات کے بعد کی سزا و جزا دکھائی گئی، مومنین او شہدا کے گھر دکھائے گئے اور پھر آخر میں نبی ﷺ کو ان کا اپنا مقام دکھایا گیا، جب نبیﷺ نے اس میں داخلے کی خواہش کی تو فرشتوں نے کہا : قَالَا إِنَّهُ بَقِيَ لَکَ عُمُرٌ لَمْ تَسْتَکْمِلْهُ فَلَوْ اسْتَکْمَلْتَ أَتَيْتَ مَنْزِلَکَ ’’ ابھی آپ ؐ کی عمر کا کچھ حصہ باقی ہے جس کو آپؐ نے پورا نہیں کیاجب آپ اسکو پورا کرلیں گے تو اپنے اس گھر میں آجائیں گے‘‘۔ یعنی جب تک نبیﷺ کی عمر باقی ہے وہ اس مقام میں داخل نہیں ہوسکتے، یہ مقام وفات کے بعد کا مقام ہے، جب عمر پوری ہو جائے گی تو اپنے اس مقام پر چلے گئے جیسا کہ مندجہ زیل حدیث میں ہے :

حدیث نمبر 3

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ لَمَّا ثَقُلَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَعَلَ يَتَغَشَّاهُ فَقَالَتْ فَاطِمَةُ عَلَيْهَا السَّلَام وَا کَرْبَ أَبَاهُ فَقَالَ لَهَا لَيْسَ عَلَی أَبِيکِ کَرْبٌ بَعْدَ الْيَوْمِ فَلَمَّا مَاتَ قَالَتْ يَا أَبَتَاهُ أَجَابَ رَبًّا دَعَاهُ يَا أَبَتَاهْ مَنْ جَنَّةُ الْفِرْدَوْسِ مَأْوَاهْ يَا أَبَتَاهْ إِلَی جِبْرِيلَ نَنْعَاهْ فَلَمَّا دُفِنَ قَالَتْ فَاطِمَةُ عَلَيْهَا السَّلَام يَا أَنَسُ أَطَابَتْ أَنْفُسُکُمْ أَنْ تَحْثُوا عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التُّرَابَ

( بخاری ، کتاب المغازی ، بَابُ مَرَضِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَوَفَاتِهِ )

’’انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روائت ہے کہ نبی ﷺ مرض کی شدت کی وجہ سے بیہوش ہو گئے ۔ فاطمہؓ کہنے لگیں ، افسوس میرے والد کو کتنی تکلیف ہے۔ نبی ﷺنے فرمایا کہ آج کے بعد نہیں ہو گی۔ پھر جب نبیﷺکی وفات ہو گئی تو فاطمہ ؓ نے کہا اے ابا جان آپ اپنے رب کے پاس اس کے بلاوے پر چلے گئے ۔ اے ابا جان آپ جنت الفردوس میں اپنے مقام پر چلے گئےہم جبریل کو آپ کی وفات کی خبر سناتے ہیں۔ اور جب تدفین ہو گئی تو انہوں نے کہا اے انس تم نے کیسے گوارہ کر لیا کہ نبی ﷺکو مٹی میں چھپا دو۔”

خلاصہ احادیث :

1) حدیث نمبر1 سے واضح ہوا کہ ہر نبی کو موت سے پہلے اسے اس کی وفات کے بعد ملنے والا مقام دکھا دیا جاتا ہے، اور اسے اختیار دیا جاتا ہے کہ وہ چاہے تو ابھی اس دنیا میں اور رہے جیسا کہ بخاری کی حدیث سے ثابت ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کو بھی ایسا ہی اختیار دیا گیا تھا۔

2) حدیث نمبر 2 میں انسانوں کی وفات کے بعد کے مقامات بھی دکھائے گئے اور ساتھ ہی نبیﷺ کو بھی ان کا مقام دکھا دیا گیا جو کہ شہداء کے گھروں سے بھی اوپر تھا لیکن نبیﷺ کو اس میں داخلے کی اجازت نہیں دی گئی کیونکہ وہ مقام انہیں ان کی وفات کے بعد ملنے تھا۔

3) حدیث نمبر 1 ، نبی ﷺ نے دنیا والوں کی رفاقت کو اختیار نہ کیا بلکہ اللہ تعالیٰ کی رفاقت کو اختیار کیا۔ حدیث نمبر 3 جیسے ہی نبیﷺ کی وفات ہوئی تو فاطمہ ؓ روئیں اور فرمایا ’’ کہا اے ابا جان آپ اپنے رب کے پاس اس کے بلاوے پر چلے گئے ۔ اے ابا جان آپ جنت الفردوس میں اپنے مقام پر چلے گئے‘‘، اور ساتھی ہی کہا کہ ہم جبریل کو آپ کی وفات کی خبر سناتے ہیں یعنی ان کا گمان تھا کہ جبریل کو بھی آپ ؐ کی وفات کی خبر نہ ہوئی ہوگی لیکن نبیﷺ جنت الفردوس میں اپنے مقام پر چلے گئے۔ یہی وہ معاملہ ہے جو سورہ نحل میں فرما دیا گیا ہے کہ ادھر ایمان دار کی وفات ہوئی ادھر دوسرا لمحہ جنت میں ہوتا ہے۔

کتنا واضح ہے کہ نبیﷺ مدینہ والی قبر میں نہیں بلکہ جنت الفردوس میں زندہ ہیں اور یہ زندگی عالم برزخ کی زندگی ہے۔

کیا نبیﷺ کو وفات کے بعد دوبارہ زندگی مل گئی ؟

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَاتَ وَأَبُو بَکْرٍ بِالسُّنْحِ قَالَ إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي بِالْعَالِيَةِ فَقَامَ عُمَرُ يَقُولُ وَاللَّهِ مَا مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ وَقَالَ عُمَرُ وَاللَّهِ مَا کَانَ يَقَعُ فِي نَفْسِي إِلَّا ذَاکَ وَلَيَبْعَثَنَّهُ اللَّهُ فَلَيَقْطَعَنَّ أَيْدِيَ رِجَالٍ وَأَرْجُلَهُمْ فَجَائَ أَبُو بَکْرٍ فَکَشَفَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَبَّلَهُ قَالَ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي طِبْتَ حَيًّا وَمَيِّتًا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا يُذِيقُکَ اللَّهُ الْمَوْتَتَيْنِ أَبَدًا ثُمَّ خَرَجَ فَقَالَ أَيُّهَا الْحَالِفُ عَلَی رِسْلِکَ فَلَمَّا تَکَلَّمَ أَبُو بَکْرٍ جَلَسَ عُمَرُ فَحَمِدَ اللَّهَ أَبُو بَکْرٍ وَأَثْنَی عَلَيْهِ وَقَالَ أَلَا مَنْ کَانَ يَعْبُدُ مُحَمَّدًا صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ مَاتَ وَمَنْ کَانَ يَعْبُدُ اللَّهَ فَإِنَّ اللَّهَ حَيٌّ لَا يَمُوتُ وَقَالَ إِنَّکَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُمْ مَيِّتُونَ وَقَالَ وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ أَفَإِنْ مَاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَی أَعْقَابِکُمْ وَمَنْ يَنْقَلِبْ عَلَی عَقِبَيْهِ فَلَنْ يَضُرَّ اللَّهَ شَيْئًا وَسَيَجْزِي اللَّهُ الشَّاکِرِينَ قَالَ فَنَشَجَ النَّاسُ يَبْکُونَ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

( بخاری، کتاب اصحاب النبی ﷺ بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلًا»)

’’عائشہؓ سے روائت ہے کہ نبی ﷺکی وفات ہوئی تو ابوبکرؓ مقام سخ میں تھے۔ عمر ؓنے کہا کہ اللہ کی قسم نبیﷺ کی وفات نہیں ہوئی۔ عائشہؓ فرماتی ہیں کی عمر ؓ نے کہا میرے دل میں خیال تھا کہ اللہ تعالیٰ نبی ﷺکو اٹھائے گا اور نبیﷺ چند افراد (یعنی منافقین)کے ہاتھ پاؤں کاٹ ڈالیں گے، اتنے میں ابوبکر ؓ آ گئے۔ انہوں نے نبی ﷺکا چہرہ کھولا اور بوسہ دیا اور فرمایا کہ میرے ماں باپ آپ ؑپر قربان ، آپ ؑ اپنی زندگی میں بہت پاکیزہ تھے اور موت کے بعد بھی۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ، اللہ تعالیٰ آپ ؑ کو دو موتوں کا مزہ نہیں چکھائے گا (بخاری کی ایک روایت میں ان الفاظ کا اضافہ بھی ہے کہ ایک ہی موت جو آپ ؐکے لیے لکھی تھی اور وہ آ گئی) اسکے بعد ابو بکر ﷺ باہر آئے اور عمرﷺ سے کہ اے قسم کھانے والے جلدی نہ کر۔ ابوبکرؓ کچھ کہنے لگےتو عمر ؓبیٹھ گئے ، ابو بکر ؓ نے حمد وثناءبیان کی پھر فرمایا:

“سن لو تم میں جو کوئی ﷺکی بندگی کرتا تھا تو محمدﷺکی وفات ہو گئی۔ اورجو اللہ کی بندگی کرتا ہے تو بے شک اللہ تعالی ٰ حئی (زندہ جاوید) ہےجس کو کبھی موت نہیں آنی ، اور اللہ کا ارشاد ہے کہ ” محمد محض ایک رسول ہیں، ان سے پہلے بھی بہت سے رسول گزر ے ہیں، اگر یہ فوت ہو جائیں یا شہید کر دئے جائیں تو کیا تم الٹے پھر جائو گے، اور جو کوئی الٹےپائوں پھر گیا تو وہ اللہ کو کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتا اور اللہ اپنے شکر گزار بندوں کو ضرور اجر دے گا”۔یہ سن کر لوگ بے اختیا ر رونے لگے

ایک اور روایت میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی ٰ عنہ فرماتے ہیں:

۔ ۔ ۔ ۔وَقَالَ وَاللَّهِ لَکَأَنَّ النَّاسَ لَمْ يَعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ أَنْزَلَ هَذِهِ الْآيَةَ حَتَّی تَلَاهَا أَبُو بَکْرٍ فَتَلَقَّاهَا مِنْهُ النَّاسُ کُلُّهُمْ فَمَا أَسْمَعُ بَشَرًا مِنْ النَّاسِ إِلَّا يَتْلُوهَا فَأَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ أَنَّ عُمَرَ قَالَ وَاللَّهِ مَا هُوَ إِلَّا أَنْ سَمِعْتُ أَبَا بَکْرٍ تَلَاهَا فَعَقِرْتُ حَتَّی مَا تُقِلُّنِي رِجْلَايَ وَحَتَّی أَهْوَيْتُ إِلَی الْأَرْضِ حِينَ سَمِعْتُهُ تَلَاهَا عَلِمْتُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ مَاتَ

( بخاری کتاب المغازی ، باب :مرض النبی ﷺ و وفاتہ )

” ۔ ۔ ۔ ۔جب ابو بکر ؓ نے یہ آیت تلاوت فرمائی تو ایسا معلوم ہوتا تھا کہ کسی کو اس آیت کی خبر ہی نہیں تھی پھر جسے دیکھو یہی آیت پڑھ رہا تھا” (زہری کہتے ہیں سعید بن مسیب)نے کہا کہ میرے پاؤ عمر ؓ نے کہا کہ واللہ جس دم میں نے ابو بکرؓ کو یہ آیت تلاوت کرتے ہوئے سنا میں گھٹنوں کے بل گر پڑا، اور ایسا بے دم ہوا کہ ںمجھے سہارا نہ دے سکےیہاں تک کہ میں زمین کی طرف جھک پڑا جس وقت مجھے یہ یقین ہو گیا کہ اللہ کے نبی ﷺ وفات پاگئے”۔

ان احادیث سے معلوم ہوا کہ صحابہ ؓ کا ہر گز یہ عقیدہ نہ تھا کہ نبیﷺ کو آن واحد کے لئے موت آئی ہے، بلکہ ابو بکر ؓ کا یہ فرمایا کہ ’’ اللہ تعالیٰ آپ ؑ کو دو موتوں کا مزہ نہیں چکھائے گا یعنی ایسا نہ ہوگا کہ اب نبیﷺ کی روح دوبارہ لوٹا دی جائے گی اور وہ دوبارہ زندہ کردئیے جائیں گے اور پھر دوبارہ انہیں موت دی جائے گی ، بلکہ جیسا کہ ہر انسان کے لئے موت لازمی اور پھر آخرت میں دوبارہ زندہ کئے جانا ہے اسی طرح کیا جائے گا۔(بخاری کی ایک روایت میں ان الفاظ کا اضافہ بھی ہے کہ ایک ہی موت جو آپ کے لیے لکھی تھی اور وہ آ گئی) ۔

فرقہ اہلحدیث کے بانی میاں نذیر اور اس فرقے کے دوسرے عالم کہتے ہیں کہ روایت میں آتا ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جب کوئی مجھے سلام کہتا ہے تو اللہ میری روح لوٹا دیتا ہے اور میں اس کا جواب دیتا ہوں۔عرض ہے کہ صحابہ ؓ کا ایسا عقیدہ نہیں تھا بلکہ وہ نبیﷺ کی وفات کو یہی سمجھتے تھے کہ اب اس دنیا میں انہیں دوبارہ زندگی نہیں ملے گی۔

ابو بکر ؓ کا قرآن کی آیت پڑھنا اور عمر ؓ کا اپنے قدموں پر گر جانا، صحابہ ؓ کا رونا اسی بات کی دلیل ہے کہ ان سب کا عقیدہ تھا کہ نبیﷺ کو کلی وفات ہو گئی ہے اب وہ ہم سے بچھڑ کے جا چکے ہیں ‘‘۔

بیان کی گئی احادیث کا خلاصہ یہ ہے کہ کسی بھی نبی کو اس وقت تک وفات نہیں دی جاتی جب تک کہ اسے اس کی وفات کے بعد جنت میں عطا کیا جانے والا مقام نہ دکھا دیا جائے۔ نبی ﷺ کو بھی ان کا وہ مقام دکھا دیا گیا جو ان کو دنیاوی عمر پورا کرنے کے بعد ملنا تھا، اور ﷺ نے دنیا والوں کی رفاقت کی بجائے اللہ تعالی ٰ کی رفاقت کو اختیار فرمایا، پھر تمام انسانوں کی طرح رسول اللہ ﷺپر بھی موت کا حکم نافذ ہوا۔ صحابہ کرام رضی اللہ تعالی ٰ عنہم اجمعین نے ابو بکر رضی اللہ تعالی ٰ کا خطبہ سنا، قرآن کی آیات دلیل بنیں اور سب نے اس حقیقت کو قبول کر لیا کہ نبیﷺ کی وفات ہو گئی۔صحابہ کرام رضی اللہ تعالی ٰ عنہم اجمعین کا یہ اجماع رہتی دنیا کے لیے دلیل بن گیا، ورنہ کیا ممکن تھا کہ کوئی صحابی نبیﷺکو زندہ سمجھتے ہوئے مٹی کے اندر دفن کر دیتا، انکا عقیدہ تو یہ تھا کہ نبیﷺاپنے رب کے پا س جنت الفردوس میں اپنے مقام پر چلے گئےہیں۔

قرآن و حدیث کا واضح ارشاد آپ کے سامنے ہے ، لیکن یہ تمام فرقے نبی ﷺ کو مدینہ والی قبر میں زندہ مانتے ہیں، ملاحظہ ہو:

وفات النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں فرقہ پرستوں کے عقائد

فرقہ دیوبند کا عقیدہ:

“ہمارے نزدیک اور ہمارے مشائخ کے نزدیک حضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قبر مبارک میں زندہ ہیں اور آپ کی حیات دنیا کی سے ہے بلا مکلف ہونے کے اور یہ حیات مخصوص ہے آنحضرت اور تمام انبیا ء علیہم السلام اور شہداء کے ساتھ یہ حیات برزخی نہیں ہے”(عقائد علمائے دیوبند اور حسام الحرمین، دارالاشاعت ۔ صفحہ نمبر 221)

کتنے کھلے الفاظ میں دیوبندی حضرات نے اس بات کا اعلان کردیا ہے کہ نبیﷺ بالکل عام زندگی کے انداز میں مدینہ والی قبر میں زندہ ہیں ، اس کتاب پر 50 علماء دیوبند نے دستخط کئے ہیں کہ یہ ہمارے عقائد ہیں، جن میں سے صرف ایک عقیدہ آپ کے سامنے بیان کیا گیا ہے ۔

فرقہ اہلحدیث کے بانی و عالم کا عقیدہ :

“سوال: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قبر مبارک میں زندہ ہیں یا نہیں؟

جواب: ایک روایت میں آتا ہے “نبی اللہ حئی ” مگر اس حیات کی حقیقت ہم نہیں جانتےیہ دنیاوی حیات نہیں”۔

(فتاویٰ ثنائیہ۔ حصہ اول صفحہ نمبر 186)

وضاحت : اگر کسی روایت میں ’’ نبی اللہ حئی ‘‘ کے الفاظ انہیں ملے ہیں تو یہ حیات قرآن و حدیث کے بیانات کے مطابق جنت الفردوس میں ہوگی، لیکن ان سے سوال اس زمینی قبر کے متعلق ہوا اور انہیں فرمایا : مگر اس حیات کی حقیقت ہم نہیں جانتے یہ دنیاوی حیات نہیں ،یعنی قبر میں زندہ ہیں لیکن ہم ان کی اس حیات کے بارے میں نہیں جانتے۔ حالانکہ کتاب اللہ کا بیان واضح ہے کہ ان کی موجودہ برزخی حیات کا اس دنیاوی قبر سے کوئی تعلق نہیں۔

اہلحدیث مزید فرماتے ہیں :

“اور یہ قول بھی غلط ہے کہ روح مبارک صلی اللہ علیہ وسلم کی سب گھروں میں اور مقاموں میں گشت کرتی اور دورہ کرتی ہے۔ اس لئے کہ مشکوٰۃ باب الصلوٰۃ علی النبی صلی اللہ علیہ وسلم میں حضرت ابن مسعود سے مرفوعا ًروایت ہے ان للہ ملائکہ سیاحین فی الارض یبلغونی من امتی السلام رواہ نسائی و الدارمی یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کچھ فرشتوں کو اللہ تعالی ٰ نے اس کام پر تعینات کر دیا ہے کہ وہ دنیا میں پھرتے رہتے ہیں جوکوئی شخص میری امت میں سے میرے اوپر درود پڑھتا ہے وہ فرشتے اس درود و سلام کو میرے پاس پہنچا دیتے ہیں اور حضرت ابوہریرہ سے مرفوعا ًیہ الفاظ آتے ہیں من صلی عند قبری سمعۃو من صلی علی نائیاابلغہ رواہ البھیقی فی شعب الایمان یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو کوئی شخص میری قبر کے پاس درود و سلام پڑھتا ہے اسکو میں خود سن لیتا ہوں اور جو کوئی شخص دور کا رہنے والا میرے اوپر سلام پڑھتا ہے میرے پاس پہنچایا جاتا ہے یعنی فرشتے لاتے ہیں۔ پس اگر روح مبارک صلی اللہ علیہ وسلم کی سب گھروں اور سب مقاموں میں گشت کرتی ہوتی تو حدیثوں میں یوں آتا کہ جہاں کہیں میرا ذکر ہوتا ہے یا درود وسلام پڑھاجاتا ہے میں سن لیتا ہوں یا موجود ہو جاتا ہوں اور فرشتوں کے پہنچانے کی حاجت نہ ہوتی “۔(فتاوی ٰ نذیریہ ۔ حصہ اول صفحہ نمبر 706)

یعنی بقول میاں نذیر دہلوی نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہر جگہ تو حاضر ناظر نہیں البتہ ان کی روح مدینہ والی قبر میں رہتی ہے ، یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ والی قبر میں زندہ ہیں۔ اس ضعیف روایت پر تفصیل ہمارے دوسرے مضمون ’’ الصلاۃ و السلام علی النبی ﷺ ‘‘ میں موجود ہےجسے بنیاد بنا کر فرقہ اہلحدیث کے بانی نبیﷺکی روح اس مدینہ والی قبر میں ثابت کرکے انہیں یہاں زندہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

یاد رکھیں قرآن و حدیث کا ایک ہی بیان ہے کہ وفات پا جانے والے کی روح اب اس دنیا میں قیامت سے پہلے واپس نہیں آئے گی۔ اب اگر نبیﷺ کی روح اسی مدینہ والی قبر میں موجود ہے تو گویا وہ یہاں زندہ ہیں اور لوگوں کا سلام بھی سن رہے ہیں اور جواب بھی دے رہے ہیں۔

بریلوٰی فرقہ کا عقیدہ :

“عرض : انبیا ء علیہم الصلوٰۃ السلام اور اولیائے کرام کی حیات برزخیہ میں کیا فرق ہے؟

ارشاد : انبیاء علیہم الصلو ٰۃ السلام کی حیات حقیقی حسی دنیا وی ہے ان پر تصد یق وعدہ الٰہیہ کے لیے محض ایک آن کو موت طاری ہوتی ہے پھر فوراً ان کو ویسے ہی حیات عطا فرما دی جاتی ہے ، اس حیات پر وہی احکام دنیویہ ہیں۔ ان کا ترکہ بانٹا نہ جائے گا انکی ازواج سے نکاح حرام نیز ازواج مطہرات پر عدت نہیں، وہ اپنی قبور میں کھاتے پیتے اور نماز پڑھتے ہیں بلکہ سیدی محمد بن عبدالباقی زرقانی فرماتے ہیں کہ انبیاء علیہم الصلو ٰۃ و السلام کی قبور مطہرہ میں ازواج مطہرات پیش کی جاتی ہیں وہ ان کے ساتھ شب باشی فرماتے ہیں۔”

ہم اس کسی بھی قسم کے تبصرے سے معذور ہیں۔

جماعت اسلامی کے بانی مودودی صاحب کا عقیدہ:

” اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا دنیا میں ہوتا قیامت تک باقی رہے گا کیونکہ آپکی رسالت قیامت تک کے لئے ہےنیز آنحضر ت صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت بھی زندہ ہیں گو اس زندگی کی صورت سابق زندگی سے مختلف ہے اور یہ بحث لغو اور فضول ہے کہ ان دونوں زندگیوں میں کیا فرق ہےکیونکہ اس پر امت کا کوئی دینی یا دنیاوی کام موقوف ہے نہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ نے ایسی فضول اور بے ضرورت بحثوں کو پسند فرمایا ہے ، بلکہ منع فرمایا ہے۔

خلاصہ یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنے روضہ مبارک میں زندہ ہونا اور آپ کی رسالت کا قیامت تک قائم رہنا اس کی دلیل ہے کہ آپ قیامت تک دنیا میں ہیں اس لیے یہ امت قیامت تک عذاب عام سے مامون رہے گی۔”

(توبہ و استغفار کی حقیقت قرآن و حدیث کی روشنی میں ۔ از سید ابو اعلیٰ مودودی، صفحہ 38)

ملاحظہ فرمایا مودودی صاحب کا عقیدہ، کس طرح لفاظیوں سے قرآن اور احادیث صحیح کا انکار کردیا گیا ہے اور ان کے اس عقیدے کی بنیاد وہی روح لوٹائے جانے کا عقیدہ ہے جو ہم ’’ عذاب قبر ‘‘ کے مضمون میں پیش کرچکے ہیں۔ دراصل روح لوٹائے جانے کے جھوٹے عقیدے نے ہی اس دنیاوی قبر میں زندگی کو ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ فرحت ہاشمی صاحبہ نے اپنی کتاب ’’ میرا جینا میرا مرنا ‘‘ کے صفحہ 63 سے صفحہ 78 تک اس بارے میں تحریر کیا ہے اور قرآن اور احادیث صحیحہ کو بالکل بھی بیان نہیں کیا بلکہ اس کے انکار میں پیش کی جانے والی جھوٹی روایات کو بنیاد بنا کر یہی عقیدہ پیس کیا ہے کہ مرنے والے کی روح واپس اس قبر میں لوٹا دی جاتی ہے گویا وہ اب دوبارہ زندہ ہو جاتا ہے۔

ایک طرف کتاب اللہ ہے اور دوسری طرف یہ کتب علماء، ایک طرف دین اسلام ہے تو دوسری طرف یہ فرقہ پرستی کا دین۔ قبر میں زندگی ہی دراصل آج شرک کی بنیاد بنی ہوئی ہے، ان باطل فرقوں کے علماء نے اس بنیاد کو فراہم کیا ہے ، ضعیف ، موضوع اور من گھڑت روایات کو بنیاد بناتے ہوئے پہلے انبیاء علیہم السلام اور نبی ﷺ کو جنت کے بجائے ان ارضی قبروں میں زندہ کیا گیا، پھر ہر مردہ زندہ ہو گیا۔ پھر ایک اللہ کی وحدانیت کے مقابلے میں کسی کو مشکل کشا(مشکلیں حل کرنے والا)مانا گیا اور کوئی غوث الاعظم (دنیا کا سب سے بڑا پکاریں سننے والا) کے منصب پر فائز ہوا، آج کوئی داتا(دینے والا) اور کوئی غریب نواز۔ آج یہ بد نصیب امت زندہ جاوید رب کو چھوڑ کر ان فوت شدہ افراد کی خوشنودی حاصل کرنے میں کیوں لگی ہوئی ہے، اس لئے کہ انکو زندہ سمجھا گیا ہے۔ اللہ تعالی ٰ فرماتا ہے ” اور جن کو یہ لوگ اللہ کے علاوہ پکارتے ہیں وہ کسی چیز کے خالق نہیں بلکہ خود پیدا کئے گئے ہیں، مردہ ہیں ، ان میں زندگی کی رمق بھی نہیں ہے، انہیں تو اس کا بھی شعور نہیں کہ (زندہ کرکے )دوبارہ کب اٹھائے جائیں گے”(النحل :20،21)۔ کیا ممکن ہے کہ کوئی انکو مردہ بھی جانے اور پھر ان مٹی میں ملکر مٹی بن جانے والی لاشوں کو اپنا حاجت روا اور بگڑی بنانے والا سمجھ کر ان کی قبروں پر سلام کرنے کے لیے بھی جائے ، ان کے نام کے دن منائے اور ان کو مدد کے لیے بھی پکارے؟

قرآن و حدیث سے دوری ہی کا یہ نتیجہ ہے کہ آج کلمہ پڑھنے والا ہنود و یہود کے عقائد و اعمال کو دین کا ستون سمجھ کر ان پر گامزن ہے ۔ یہ مضمون  اسی جذبے کےتحت لکھا گیا ہے کہ حقیقت واضح ہو جائے۔ اللہ تعالی ٰ حق کو سمجھنے اور قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج اور انکا چھوڑا ہوا ترکہ

یہاں پر اس مسئلے کی بھی وضاحت ضروری ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج سے نکاح کیوں حرام ہے ؟ کیا اس وجہ سے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم زندہ ہیں یا کوئی اور وجہ ہے؟ اسی طرح یہ بھی جاننا ہو گا کہ نبی ؓ کا ترکہ کیوں نہیں بانٹا گیا اس لیےکہ یہ باتیں نبی ؓ کو زندہ ماننے کی دلیل بنائی جارہی ہیں۔سورہ احزاب میں اللہ تعالی ٰ فرماتا ہے :

النبی اولی بالمومنین من انفسھم و ازواجھ امھتھم (احزاب :6)

“بلاشبہ نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) تو مومنوں کے لیئے انکی ذات سے بھی مقدم ہیں اور انکی بیویاں انکی مائیں “۔

تو کیا ازواج مطہرات سے کوئی نکاح کرنے کا تصور بھی کر سکتا ہے؟

اسی طرح نبی ﷺ نے ترکہ کیلئے بیان فرمایا:

لانورث ماترکنا صدقہ ’’ ہم ( انبیاء ؑ ) جو چھوڑتے ہیں وہ صدقہ ہے‘‘۔(بخاری کتاب المغازی ، باب غزوۃ خیبر)

کتاب اللہ سے واضح ہوا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج سے نکاح کیوں حرام ہے اورانکا ترکہ کیوں نہیں تقسیم کیاگیا ، رہ گیا یہ سوال کہ استغفر اللہ ازواج وہاں پیش کی جاتی ہیں تو ہماری زبان اس پر کسی بھی قسم کے تبصرے سے قاصر ہے۔

کسی صحابی کا یہ عقیدہ نہیں تھا کہ نبی ﷺ مدینی والی قبر میں زندہ ہیں :

حدثنا يسرة بن صفوان بن جميل اللخمي حدثنا إبراهيم بن سعد عن أبيه عن عروة عن عائشة رضي الله عنها قالت دعا النبي صلی الله عليه وسلم فاطمة عليها السلام في شکواه الذي قبض فيه فسارها بشيئ فبکت ثم دعاها فسارها بشيئ فضحکت فسألنا عن ذلک فقالت سارني النبي صلی الله عليه وسلم أنه يقبض في وجعه الذي توفي فيه فبکيت ثم سارني فأخبرني أني أول أهله يتبعه فضحکت

( بخاری، کتاب المغازی، باب: مرض النبی ﷺ و وفاتہ )

’’ عائشہ ؓ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ نبیﷺ نے قریب وفات فاطمہ ؓ کو بلایا اور آہستہ آہستہ کچھ باتیں کیں جن کو سن کر وہ رونے لگیں اور پھر کچھ اور فرمایا تو وہ ہنسنے لگیں میں نے ان سے اس کی وجہ پوچھی (یعنی بعد وفات) تو انہوں نے فرمایا کہ نبیﷺنے پہلے تو یہ کہا تھا کہ میں اس بیماری میں ہی وفات پا جاؤں گا تو میں رونے لگی پھر فرمایا کہ میرے اہل بیت سے سب سے پہلے تم ہی مجھے ملو گی تو پھر میں خوش ہو گئی۔‘‘

حدثنا محمود بن غيلان أبو أحمد حدثنا الفضل بن موسی السيناني أخبرنا طلحة بن يحيی بن طلحة عن عاشة بنت طلحة عن عاشة أم المؤمنين قالت قال رسول الله صلی الله عليه وسلم أسرعکن لحاقا بي أطولکن يدا قالت فکن يتطاولن أيتهن أطول يدا قالت فکانت أطولنا يدا زينب لأنها کانت تعمل بيدها وتصدق

( مسلم ،فضائل کا بیان، فضائل زینب ؓ )

’’ ام المومنین عائشہؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہﷺنے فرمایا کہ تم میں سے سب سے پہلے مجھ سے وہ ملے گی کہ جس کے ہاتھ سب سے زیادہ لمبے ہوں گے تو ساری ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن اپنے اپنے ہاتھ ناپنے لگیں تاکہ پتہ چلے کہ کس کے ہاتھ لمبے ہیں عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ ہم سب میں سے زیادہ لمبے ہاتھ زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے تھے کیونکہ وہ اپنے ہاتھ سے محنت کرتی اور صدقہ خیرات دیتی تھیں۔‘‘

نبی ﷺ نے فاطمہ ؓ اور زینب ؓ کے لئے فرمایا کہ یہ دونوں سب سے پہلے مجھے ملیں گی۔ صحابہ ؓ کو نبی ﷺ کے اس بیان کا لازمی معلوم تھا، اور ان کا عقیدہ یہی تھا کہ نبی ﷺ مدینہ والی قبر میں نہیں جنت الفردوس میں سب سے اعلی مقام پر زندہ ہیں۔ اگر ان کا عقیدہ یہ ہوتا کہ کہ نبیﷺ اس حجرہ عائشہ ؓ میں زندہ ہیں تو وہ انہیں انہی کیساتھ دفن کرتے۔ یہ اس بات کا مکمل ثبوت ہے کہ ان سب کا عقیدہ ہرگز یہ نہیں تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *