Categories
Uncategorized

اپنی وفات کے بعد شھداء کہاں زندہ ہیں

فرقہ پرستوں نے امت کو بہکایا کہ یہ قبر ولا زندہ ہے، سنتا اور دیکھتا ہے۔ اپنے اس جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کے لئے جہاں انہوں نے انبیاء علیہ السلام اور نبی ﷺ کو اپنی اپنی قبروں میں زندہ دکھانے کی کوشش کی وہاں شہداءکے لئے بھی یہی کہا کہ انہیں مردہ کہنے سے منع کیا گیا ہے ، یہ زندہ ہیں اور جب شہداء زندہ ہیں تو انبیاء کا مقام تو ان سے بہت اعلیٰ ہے وہ کیسے اپنے قبروں میں مردہ ہو سکتے ہیں۔ لہذا ہم قرآن و حدیث سے اس موضوع پر ہدایت حاصل کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

وَلَا تَـقُوْلُوْا لِمَنْ يُّقْتَلُ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتٌ ۭ بَلْ اَحْيَاۗءٌ وَّلٰكِنْ لَّا تَشْعُرُوْنَ

( سورہ بقرہ :154)

’’ اور مت کہو انہیں مردہ جو اللہ کی راہ میں مارے جائیں، بلکہ وہ زندہ ہیں مگر تمہیں اس کاشعور نہیں ‘‘

غزوہ بدر کے بعد نازل ہونے والی اس آیت میں اللہ تعالی نے فرمایا کہ وہ جو اللہ کی راہ میں قتل کردئے جائیں انہیں مردہ نہ کہو، ایک طرف تو اللہ تعالی خود فرما رہا ہے کہ ’’ جو اللہ کی راہ میں قتل کردئے جائیں ‘‘ یعنی جو قتل کردیا گیا وہ مر گیا، لیکن تم انہیں مردہ نہ کہو بلکہ وہ زندہ ہیں، ساتھ اس بات کو بھی بیان کردہ گیا کہ انسانوں کو اس زندگی کا شعور نہیں، گویا یہ زندگی اس طرح کی زندگی نہیں جیسا کہ اس دنیا میں ہوتی ہے اورجس کا انسانوں کو شعور ہوتا ہے۔غزوہ بدر کے موقع پر حارثہ ؓشہید ہو گئے ، انکی والدہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس آئیں، ملاحظہ فرمائے یہ حدیث :

عن حميد قال سمعت أنسا يقول أصيب حارثة يوم بدر وهو غلام فجائت أمه إلی النبي صلی الله عليه وسلم فقالت يا رسول الله قد عرفت منزلة حارثة مني فإن يک في الجنة أصبر وأحتسب وإن تکن الأخری تری ما أصنع فقال ويحک أوهبلت أوجنة واحدة هي إنها جنان کثيرة وإنه لفي جنة الفردوس

( عن انس ؓ ، بخاری، کتاب المغازی، باب فضل من شھداء بدر )

’’ انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ حارثہ بدر کے دن شہید ہوئے تو وہ کمسن تھے ان کی والدہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا یا رسول اللہ آپ جانتے ہیں کہ حارثہ کا مرتبہ میرے دل میں کیا ہے، اگر وہ جنت میں ہوا تو میں صبر کروں گی اور اگر دوسری جگہ ہوا تو آپ دیکھیں گے کہ میں کیا کرتی ہوں آپ نے یحک ھبلت فرمایا کیا جنت ایک ہی ہے، جنتیں تو بہت سی ہیں اور وہ جنت الفردوس میں ہے۔ ‘‘

معلوم ہوا کہ شہید جنت الفردوس میں زندہ ہیں۔ پھر غزوہ احد کے موقع پر کافی تعداد میں صحابہ شہید ہوئے۔ جب نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے اس بارے میں سوال کیا گیا تو یہ آیات نازل ہوئیں:

وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ قُتِلُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتًا ۭ بَلْ اَحْيَاۗءٌ عِنْدَ رَبِّھِمْ يُرْزَقُوْنَ ؁ۙ فَرِحِيْنَ بِمَآ اٰتٰىھُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِھٖ ۙ وَيَسْـتَبْشِرُوْنَ بِالَّذِيْنَ لَمْ يَلْحَقُوْا بِھِمْ مِّنْ خَلْفِھِمْ ۙ اَلَّا خَوْفٌ عَلَيْھِمْ وَلَا ھُمْ يَحْزَنُوْنَ ؁ۘ يَسْتَبْشِرُوْنَ بِنِعْمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ وَفَضْلٍ ۙ وَّاَنَّ اللّٰهَ لَا يُضِيْعُ اَجْرَ الْمُؤْمِنِيْنَ

(سورہ آل عمران : آیت 169 تا 171)

’’ اور انہیں مردہ گمان نہ کرو جو اللہ کی راہ میں مارے جائیں ، بلکہ وہ تو زندہ ہیں اپنے رب کے پاس، رزق پاتے ہیں ۔ جو کچھ اللہ کا ان پر فضل ہو رہا ہے اس سے وہ بہت خوش ہیں اور ان لوگوں کےلئے بھی خوش ہوتے ہیں جو ان کے پیچھے ہیں اور ابھی تک (شہید ہوکر) ان سے ملے نہیں، انہیں نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ ہی وہ غمزدہ ہوں گے۔اللہ تعالیٰ کا ان پر جو فضل اور انعام ہو رہا ہے اس سے وہ خوش ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ یقینا مومنوں کا اجر ضائع نہیں کرتا‘‘۔

اسی سورہ میں ان آیات سے قبل یہ بھی نازل ہوا ہے :

اَلَّذِيْنَ قَالُوْا لِاِخْوَانِھِمْ وَقَعَدُوْا لَوْ اَطَاعُوْنَا مَا قُتِلُوْا ۭ قُلْ فَادْرَءُوْا عَنْ اَنْفُسِكُمُ الْمَوْتَ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ

( آل عمران : 168)

یہ وہ لوگ ہیں جو خود تو پیچھے بیٹھ رہے’’اور اپنے بھائی بندوں سے کہنے لگے: اگر تم ہمارا کہا مانتے تو (آج) مارے نہ جاتے” آپ ان سے کہئے کہ : اگر تم اپنی اس بات میں سچے ہو تو اپنے آپ سے ہی موت کو ٹال کر دکھلا دو ‘‘۔

یعنی ان کے کافر و مشرک رشتہ دار جو یہ سمجھ رہے تھے کہ اگر یہ لوگ ہماری بات مان لیتے تو آج مارے نہ جاتے اور اس طرح خومخواہ میں اپنی زندگی سے ہاتھ نہ دھو بیٹھے،تو ان کو کہا گیا کہ اگر واقعی تم سچے ہیں تو اپنی موت کو ٹال کر دکھاو، گویا یہ ثابت ہوا کہ ان شہدا کو موت آ گئی تھی، انہیں مردہ ہی سمجھا گیا اور اسی بنائ پر انہیں دفنایا گیا۔ غزوہ بدر کی طرح اب پھر اللہ تعالیٰ کا فرمان آیا کہ وہ جو اللہ کی راہ میں مار دئے گئے ہیں ان کے متعلق یہ گمان نہ کرو کہ وہ مردہ ہیں بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں اور انہیں رزق بھی دیا جا رہا ہے، مزید یہ کہ اس شہادت پر انہیں ان کے رب کی طرف سے جوعظیم اجر ملا ہے اس پر وہ بہت خوش ہیں اور انہیں معلوم ہو گیا ہے کہ اللہ مومنوں کے اجر کو ضائع نہیں کرتا۔ واضح ہوا کہ انہیں مردہ سمجھ کر افسردہ ہونے والوں کو بتایا گیا ہے کہ جو اس غزوہ میں شہادت کے بعد موت سے ہمکنار ہوگئے وہ اللہ کے پاس زندہ ہیں، جہاں انہیں اجر عظیم سےنوازا گیا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ یہ شہدا کہاں زندہ ہیں:

حدثنا يحيی بن حبيب بن عربي حدثنا موسی بن إبراهيم بن کثير الأنصاري قال سمعت طلحة بن خراش قال سمعت جابر بن عبد الله يقول لقيني رسول الله صلی الله عليه وسلم فقال فقال يا عبدي تمن علي أعطک قال يا رب تحييني فأقتل فيک ثانية قال الرب عز وجل إنه قد سبق مني أنهم إليها لا يرجعون قال وأنزلت هذه الآية ولا تحسبن الذين قتلوا في سبيل الله أمواتا الآية

( عن جابر ؓ ، ترمذی، ابواب تفسیر القرآن ، باب: ومن سورۃ آل عمران )

’’جابربن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کی میری نبیﷺ سے ملاقات ہوئی تو آپ نے فرمایا جابر کیا بات ہے؟۔ میں تمہیں شکستہ حال کیوں دیکھ رہا ہوں۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے والد شہید ہوگئے اور قرض و عیال چھوڑ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں اس چیز کی خوشخبری نہ سناؤں جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ تمہارے والد سے ملاقات کی عرض کیا کیوں نہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے تمہارے والد کے علاوہ ہر شخص سے پردے کے پیچھے سے گفتگو کی لیکن تمہارے والد کو زندہ کر کے ان سے بالمشافہ گفتگو کی اور فرمایا اے میرے بندے تمنا کر۔ تو جس چیز کی تمنا کرے گا میں تجھے عطا کروں گا۔ انہوں نے عرض کیا اے اللہ مجھے دوبارہ زندہ کر دے تاکہ میں دوبارہ تیری راہ میں قتل ہو جاؤں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا میری طرف سےفیصلہ ہو چکا کہ یہ سب دنیا میں واپس نہیں بھیجےجائیں گے۔‘‘

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ کِلَاهُمَا عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ وَعِيسَی بْنُ يُونُسَ جَمِيعًا عَنْ الْأَعْمَشِ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ وَأَبُو مُعَاوِيَةَ قَالَا حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ سَأَلْنَا عَبْدَ اللَّهِ عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَائٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ قَالَ أَمَا إِنَّا قَدْ سَأَلْنَا عَنْ ذَلِکَ فَقَالَ أَرْوَاحُهُمْ فِي جَوْفِ طَيْرٍ خُضْرٍ لَهَا قَنَادِيلُ مُعَلَّقَةٌ بِالْعَرْشِ تَسْرَحُ مِنْ الْجَنَّةِ حَيْثُ شَائَتْ ثُمَّ تَأْوِي إِلَی تِلْکَ الْقَنَادِيلِ فَاطَّلَعَ إِلَيْهِمْ رَبُّهُمْ اطِّلَاعَةً فَقَالَ هَلْ تَشْتَهُونَ شَيْئًا قَالُوا أَيَّ شَيْئٍ نَشْتَهِي وَنَحْنُ نَسْرَحُ مِنْ الْجَنَّةِ حَيْثُ شِئْنَا فَفَعَلَ ذَلِکَ بِهِمْ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَلَمَّا رَأَوْا أَنَّهُمْ لَنْ يُتْرَکُوا مِنْ أَنْ يُسْأَلُوا قَالُوا يَا رَبِّ نُرِيدُ أَنْ تَرُدَّ أَرْوَاحَنَا فِي أَجْسَادِنَا حَتَّی نُقْتَلَ فِي سَبِيلِکَ مَرَّةً أُخْرَی فَلَمَّا رَأَی أَنْ لَيْسَ لَهُمْ حَاجَةٌ تُرِکُوا

( عن عبد اللہ بن مسعود ؓ ، مسلم ، کتاب الامارۃ ، باب بيان أن أرواح الشهداء في الجنة، وأنهم أحياء عند ربهم يرزقون)

’’ہم نے عبداللہ رضی اللہ عنہ سے اس آیت کے بارے میں سوال کیا جنہیں اللہ کے راستہ میں قتل کیا جائے انہیں مردہ گمان نہ کرو بلکہ وہ زندہ ہیں اپنے رب کے پاس سے رزق دیئے جاتے ہیں تو انہوں نے کہا ہم نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں سوال کیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان کی روحیں سر سبزاڑنے والے جسموں میں ہیں ،ان کے لئے ایسی قندیلیں ہیں جو عرش کے ساتھ لٹکی ہوئی ہیں اور وہ جنت میں جہاں چاہیں پھرتی رہتی ہیں پھر انہی قندیلوں میں واپس آ جاتی ہیں۔ ان کا رب ان کی طرف متوجہ ہوا اور ان سے پوچھا کہ کیا تمہیں کسی چیز کی خواہش ہے ، انہوں نےعرض کیا ہم کس چیز کی خواہش کریں حالانکہ ہم جہاں چاہتے ہیں جنت میں پھرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان سے اس طرح تین مرتبہ فرماتا ہے جب انہوں نے دیکھا کہ انہیں کوئی چیز مانگے بغیر نہیں چھوڑا جائے گا، تو انہوں نے عرض کیا : اے رب ،ہم چاہتے ہیں کہ ہماری روحوں کو ہمارے جسموں میں لوٹا دیں یہاں تک کہ ہم تیرے راستہ میں دوسری مرتبہ قتل کئے جائیں جب اللہ نے دیکھا کہ انہیں اب کسی چیز کی ضرورت نہیں تو انہیں چھوڑ دیا ۔‘‘

واضح ہوا کہ شہدا کی وفات کے بعد ان کی روحین ان کے دنیاوی جسموں میں نہیں بلکہ اڑنے والی سبزرنگ کے جسموں میں ہیں۔ شہید سے اللہ تعالی کلام بھی کرتا ہے لیکن جب وہ اس بات کی خواہش کرتا ہے کہ اس کی روح کو واپس اس کے جسم میں ڈالدیا جائے اور دوبارہ اس دنیا میں بھیج دیا جائے تو اللہ تعالی ان سے مزید بات نہیں کرتا کیونکہ جو ایک مرتبہ اللہ تعالیٰ کے پاس چلا جائے وہ دنیا واپس نہیں بھیجا جاتا۔مزید اس حدیث کا مطالعہ کریں کہ مرنے کے بعد سب کیا اسی زمین میں ہوتی ہیں یا کسی اور عالم میں۔

مَا مِنْ عَبْدٍ یَمُوْتُ لَہٗ عِنْدَاﷲِ خَیْرٌ یَّسُرُّہٗ اَنْ یَرْجِعَ اِلَی الدُّنْیَا وَمَا فِیْھَا اِلَّا الشَّھِیْدَ لِمَا یَرٰی مِنْ فَضْلِ الشَّھَادَۃِ فَاِنَّہٗ یَسُرُّہٗ اَنْ یَّرْجِعُ اِلَی الدُّنْیَا فَیُقْتَلُ مَرَّۃً اُخْرٰی…

( عن انس بن مالک ، بخاری، کتاب الجھاد و السیر ، بَابُ الحُورِ العِينِ، وَصِفَتِهِنَّ يُحَارُ فِيهَا الطَّرْفُ، شَدِيدَةُ سَوَادِ العَيْنِ، شَدِيدَةُ بَيَاضِ العَيْنِ)

”بندوں میں سے جو کوئی مرتا ہے اور اس کے لئے اللہ کے پاس کچھ خیر ہے تو نہیں چاہتا کہ دنیا کی طرف لوٹ آئے اگرچہ اسکو دنیا کی ہر چیز دے دی جائے، مگر سوائے شہید کہ اس نے شہادت کی فضیلت دیکھ لی ہوتی ہے لہذا وہ چاہتا ہے کہ دنیا کی طرف لوٹ آئے اور دوبارہ اللہ کی راہ میں قتل کیا جائے۔“

 

واضح ہوا کہ کوئی مرنے والا اس دنیا میں نہیں ہوتا،یہ عقیدہ رکھنا کہ شہدا ان دنیاوی قبروں میں زندہ ہیں قرآن اور حدیث کا انکار ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *