Categories
Uncategorized

عقیدہ عذاب قبر

ابتدائیہ

آج امت مسلمہ میں شرک کی ایک بڑی  وجہ  اِسی دنیاوی قبر میں زندگی کی بنیاد ہے۔ قرآن و حدیث  دنیاوی قبر میں اعادہ روح، زندگی یا عذاب القبر کا مکمل  طور پر انکار کرتےہیں  اور نصوص کی روشنی میں  بات بہت واضح ہے کہ اپنی دنیاوی زندگی گذار کر مر جانے والا  اب  تا قیامت مردہ ہے، اور ایک انسان کی موت آتے ہی یہ جسم (جس کو لاش کہا جاتا ہے ) یہ  بے حس و بے شعور ہو جاتا ہے اور رفتہ رفتہ گل سڑ  کر  ایک نہ ایک دن مٹی میں ملکر مٹی ہو  جاتا ہے۔

لیکن حقیقت حال کے برعکس !عقائد و نظریات میں بگاڑ کا شکار ہوجانے والی اِس  امت میں آج بکثرت یہ عقیدہ پایا جاتا ہے کہ قبر میں مدفون یہ لاش  زندہ ہے، اور نہ صرف زندہ۔۔۔ بلکہ اب یہ سنتا اور دیکھتا بھی ہے ، پھر اسی عقیدے نے مزید ترقی کرکے اِس مردہ جسم کو داتا ، دستگیر، مشکل کشاو حاجت روا  اور نہ جانے اللہ رب العزت کی  کن کن صفات کا حامل بنادیا۔یہی وجہ ہے کہ آج اللہ کو چھوڑ کر انہیں پکارا بھی جارہا ہے ، اور ان کی خوشنودی کے حصول کے لیے ان کی نذر و نیاز بھی کی جارہی ہے۔

اِن تمام باطل نظریات کا موجب یہی دنیاوی قبر میں اعادہ روح (یعنی روح لوٹائے  جانے) اور زندگی کا عقیدہ ہے۔سب سے پہلے عذاب القبر  اور قبر کے سوال و جواب کے نام پر اس مردہ جسم میں روح لوٹائے جانے  کا عقیدہ پیش کیا  گیا۔۔ ۔ اب  جب کہ  روح  اس مردہ جسم میں واپس  آگئی تو یہ زندہ ہوگیا ۔۔۔ اور پھر بابا بنا کر داتائی، دستگیری، مشکل کشائی اور حاجت روائی کے منصب پر فائز قرار دے دیا  گیا۔

ہم اِس سیریز میں  ان شاء اللہ العزیز  قرآن واحادیث صحیحہ میں دی گئی معلومات کی روشنی میں اِس بات کو واضح کرنے کی کوشش کریں گے کہ ’ عذاب القبر کیا ہے،اور یہ  کہاں اور کیسے ہوتا ہے‘۔  ظاہری بات ہے کہ روح اور عذاب القبر غیبی امور میں سے ہیں، جن کی ہوبہو ہیّت و کیفیت اور معاملات  کے بارے میں تو نہیں بتایا جاسکتا، البتہ قرآن و حدیث نے اتنی تفصیلات ضرور فراہم کردی ہیں کہ ایک بندۂ مومن جو قرآن و احادیث صحیحہ سے اس سلسلے میں رہنمائی حاصل کرنا چاہے، وہ ہرگز احبار و رہبان کے خود ساختہ  عقائد یعنی اعادہ روح ، سماع موتیٰ اور اِسی دنیاوی گڑھے میں عذاب و راحت  قبر کے حامل نہیں رہ سکتا۔

امید ہے کہ آپ اسے  دلجمعی کے ساتھ ملاحظہ فرمائیں گے ۔ آپ سے یہ بھی گذارش ہے کہ  جہاں بھی  کہیں کوئی غلطی پائیں تو قرآن و حدیث کے دلائل  پیش کرکے ہماری اصلاح  کا حق بھی ضرور ادا کریں۔

نبیﷺ کی حدیث کے مطابق  عذاب القبر کی ہولناکی

عَنْ أَسْمَائَ بِنْتَ أَبِي بَکْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا تَقُولُ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطِيبًا فَذَکَرَ فِتْنَةَ الْقَبْرِ الَّتِي يَفْتَتِنُ فِيهَا الْمَرْئُ فَلَمَّا ذَکَرَ ذَلِکَ ضَجَّ الْمُسْلِمُونَ ضَجَّةً

(بخاری، کتاب الجانئز ، بَابُ مَا جَاءَ فِي عَذَابِ القَبْرِ )

’’اسماء بنت ابی بکر ؓ سے روایت کرتے ہیں وہ کہتی تھیں رسول اللہﷺ خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے تو عذاب القبر کا ذکر کیا جس میں آدمی کو (مرنے کے بعد) مبتلا کیا جاتا ہے۔ تو جب آپ ؐنے اس کا ذکر کیا تو مسلمین چیخنے لگے۔ ‘‘

عذاب القبر  کیا ہے ؟

اللہ تعالی ٰفرماتاہے:

﴿يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ  ۔۔۔

[إبراهيم: 27]

اللہ تعالی ایمان والوں کو اس قول ِثابت پر دنیا اور آخرت میں ثابت قدم رکھتا ہے۔۔۔

اس آیت کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:

يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا۔۔۔ نَزَلَتْ فِي عَذَابِ الْقَبْرِ

( عن براء بن عازب ، بخاری، کتاب الجنائز ، بَابُ مَا جَاءَ فِي عَذَابِ القَبْرِ )

”یہ آیت عذاب القبر کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔“

اَلْمُسْلِمُ إِذَا سُئِلَ فِي الْقَبْرِ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ فَذَلِکَ قَوْلُهُ يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ

( عن براء بن عازب ؛ بخاری، کتاب تفسیر القرآن ، باب: يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالقَوْلِ الثَّابِتِ )

”قبر میں مسلم سے جب سوال کیا جاتا ہے تو وہ گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے علاوہ کوئی الٰہ نہیں اورمحمد صلی اللہ علیہ و سلم اللہ کے رسول ہیں“۔لہذا اس قول ثابت سے مراد یہی ہے کہ اللہ تعالی ایمان والوں کو دنیا و آخرت میں ثابت قدم رکھے گا۔“

مندرجہ بالا احادیث سے یہ بات واضح ہوگئی کہ عذاب و راحت قبر کا تعلق آخرت کی زندگی سے ہے۔

انسان کی آخرت کہاں سے شروع ہوتی ہے۔

عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: تُوُفِّيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِي، وَفِي يَوْمِي، وَبَيْنَ سَحْرِي وَنَحْرِي، وَكَانَتْ إِحْدَانَا تُعَوِّذُهُ بِدُعَاءٍ إِذَا مَرِضَ، فَذَهَبْتُ أُعَوِّذُهُ، فَرَفَعَ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ، وَقَالَ: «فِي الرَّفِيقِ الأَعْلَى، فِي الرَّفِيقِ الأَعْلَى»، وَمَرَّ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ وَفِي يَدِهِ جَرِيدَةٌ رَطْبَةٌ، فَنَظَرَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَظَنَنْتُ أَنَّ لَهُ بِهَا حَاجَةً، فَأَخَذْتُهَا، فَمَضَغْتُ رَأْسَهَا، وَنَفَضْتُهَا، فَدَفَعْتُهَا إِلَيْهِ، فَاسْتَنَّ بِهَا كَأَحْسَنِ مَا كَانَ مُسْتَنًّا، ثُمَّ نَاوَلَنِيهَا، فَسَقَطَتْ يَدُهُ، أَوْ: سَقَطَتْ مِنْ يَدِهِ، فَجَمَعَ اللَّهُ بَيْنَ رِيقِي وَرِيقِهِ فِي آخِرِ يَوْمٍ مِنَ الدُّنْيَا، وَأَوَّلِ يَوْمٍ مِنَ الآخِرَةِ

( بخاری، کتاب  المغازی  ، باب: مَرَضِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَوَفَاتِهِ)

” عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں کہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جب نبی صلی اللہ علیہ و سلم مرض الموت میں مبتلا تھے تو میرے بھائی عبدالرحمن بن ابی بکررضی اللہ تعالی عنہما تشریف لائے۔ انکے ہاتھ میں مسواک تھی۔ جب نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے مسواک کی طرف دیکھا تو میں جان گئی(کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم اسکی خواہش رکھتے ہیں) میں نے مسواک انکے ہاتھ سے لی اور نرم کردی۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم مسواک کرکے واپس کرنے لگے تو وہ انکے ہاتھ سے گر گئی۔(عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں کہ) پس اللہ نے  نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے دنیا میں آخری دن اور آخرت کے پہلے دن میرا لعاب آپ کے لعاب کے ساتھ ملادیا۔     ‘‘

اوپر بیان کردہ  حدیث  سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ جیسے ہی انسان کی روح قبض ہوتی ہے زندگی کا یہ دور ختم اور آخرت کا دور  شروع ہوجاتا ہے۔

آخرت شروع ہوتے ہی انسان کیساتھ کیا معاملہ ہوتا ہے۔

الَّذِيْنَ تَتَوَفّٰىهُمُ الْمَلٰىِٕكَةُ ظَالِمِيْٓ اَنْفُسِهِمْ  ۠فَاَلْقَوُا السَّلَمَ مَا كُنَّا نَعْمَلُ مِنْ سُوْۗءٍ  ۭ بَلٰٓى اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌۢ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ؀ فَادْخُلُوْٓا اَبْوَابَ جَهَنَّمَ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا  ۭ فَلَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِيْنَ

( النحل :28- 29 )

’’ ان نفس پر ظلم کرنے والوں کی جب فرشتے روح قبض کرتے ہیں تو اس موقع پر لوگ بڑی فرمانبرداری کے بول بولتے ہیں کہ ہم تو کوئی برا کام نہیں کرتے تھے۔، ( فرشتے  جواب دیتے ہیں ) ، یقینا اللہ  جانتا ہے جو کچھ تم کیا کرتے تھے۔پس داخل ہو جاو جہنم کے دروازوں میں جہاں تمہیں ہمیشہ رہنا ہے، پس برا ہی ٹھکانہ ہے  متکبرین  کے لئے۔‘‘

وَلَوْ تَرٰٓي اِذِ الظّٰلِمُوْنَ فِيْ غَمَرٰتِ الْمَوْتِ وَالْمَلٰۗىِٕكَةُ بَاسِطُوْٓا اَيْدِيْهِمْ ۚ اَخْرِجُوْٓا اَنْفُسَكُمْ ۭ اَلْيَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُوْنِ بِمَا كُنْتُمْ تَقُوْلُوْنَ عَلَي اللّٰهِ غَيْرَ الْحَقِّ وَكُنْتُمْ عَنْ اٰيٰتِهٖ تَسْتَكْبِرُوْنَ

(الانعام: 94)

”کاش تم ظالموں کو اس حالت میں دیکھ سکو جبکہ وہ سکرات موت میں ہوتے ہیں اور فرشتے ہاتھ بڑھا بڑھا کر کہہ رہے ہوتے ہیں لاؤ نکالو اپنی  روحوں کو آج تمھیں ان باتوں کی پاداش میں ذلت کا عذاب دیا جائیگا جو تم اللہ پر تہمت رکھ کر نا حق کہا کرتے تھے اور اسکی آیات کے مقابلے میں سرکشی دکھاتے تھے۔“

الَّذِيْنَ تَتَوَفّٰىهُمُ الْمَلٰۗىِٕكَةُ طَيِّبِيْنَ  ۙ يَقُوْلُوْنَ سَلٰمٌ عَلَيْكُمُ ۙ ادْخُلُوا الْجَنَّةَ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ

(  النحل :32 )

’’ جب فرشتے پاک ( نیک ) لوگوں کی روحیں قبض کرتے ہیں تو کہتے ہیں : تم پر سلامتی ہو داخل ہو جاؤ جنت میں اپنے ان اعمال کیوجہ سے جو تم کرتے تھے۔‘‘

سو قرآن و حدیث کے بیان کردہ دلائل سے یہ بات روزِ روشن کی طرح واضح ہوجاتی ہے کہ انسان کی روح قبض ہوتے ہی اس کی دنیاوی زندگی ختم اور اس کی آخرت شروع ہو جاتی ہے۔ اور اگلے ہی لمحے جنت میں اس کی جزا ، یا جہنم میں اس کی سزا کا مرحلہ شروع ہوجاتا ہے جس میں اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو دنیاوی زندگی کی طرح ثابت قدمی عطا فرماتا ہے، اور صحیح بخاری میں مذکور براء بن عازب رضی اللہ عنہ کے اقوال کے مطابق یہی درحقیقت عذاب القبر بھی ہے۔

موت کے بعد انسان کی روح  کیساتھ ہونے والا معاملہ :

اب دوسرا  انتہائی اہم سوال یہ ہے کہ مرنے کے فوراً بعدآخرت کی زندگی شروع ہوتے ہی  انسان کی روح کے ساتھ کیا معاملہ پیش آتا ہے۔

قرآن المجید ۔۔۔سورہ  یٰس میں ایک  مرد مومن کا  ذکر کیا گیا ہے جسے صاحبِ یاسین کے نام سے موسوم  کیا جاتا ہے۔۔۔ کہ جب ایک قوم کی جانب اللہ تعالیٰ نے دو رسول بھیجیے اور پھر تیسرے کے ذریعے  انہیں تقویت بخشی گئی ، اور انہوں نے اپنی قوم کے سامنے یہ بات رکھی کہ ہم اللہ تعالیٰ کی جانب سے بھیجے گئے رسول ہیں اور ہمارا کام صرف اللہ رب العالمین کی کھلی دعوت تم تک پہنچا دینا ہے۔  مگر بدنصییب قوم نے اُن کی بشریت کو بنیاد بنا کر اُن کو جھٹلادیا ۔ بہرحال ، اِسی اثناء میں یہ صاحب یاسین شہر کی ایک دوسرے کنارے سے بھاگتا ہوا آیا ۔۔۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے سورۃ یٰسٓ میں بتایا کہ:

﴿وَجَاءَ مِنْ أَقْصَى الْمَدِينَةِ رَجُلٌ يَسْعَى قَالَ يَا قَوْمِ اتَّبِعُوا الْمُرْسَلِينَ؁ اتَّبِعُوا مَنْ لَا يَسْأَلُكُمْ أَجْرًا وَهُمْ مُهْتَدُونَ؁ وَمَا لِيَ لَا أَعْبُدُ الَّذِي فَطَرَنِي وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ؁ أَأَتَّخِذُ مِنْ دُونِهِ آلِهَةً إِنْ يُرِدْنِ الرَّحْمَنُ بِضُرٍّ لَا تُغْنِ عَنِّي شَفَاعَتُهُمْ شَيْئًا وَلَا يُنْقِذُونِ؁ إِنِّي إِذًا لَفِي ضَلَالٍ مُبِينٍ٢؁إِنِّي آمَنْتُ بِرَبِّكُمْ فَاسْمَعُونِ؁﴾

[يس: 20-25]

«اور شہر کے پرلے کنارے سے ایک آدمی دوڑتا ہوا آیا کہنے لگا کہ اے میری قوم پیغمبروں کے پیچھے چلو۔ ایسوں کے جو تم سے صلہ نہیں مانگتے اور وہ سیدھے رستے پر ہیں۔ اور مجھے کیا ہے میں اس کی پرستش نہ کروں جس نے مجھے پیدا کیا اور اسی کی طرف تم کو لوٹ کر جانا ہے۔ کیا میں ان کو چھوڑ کر اوروں کو معبود بناؤں؟ اگر اللہ میرے حق میں نقصان کرنا چاہے تو ان کی سفارش مجھے کچھ بھی فائدہ نہ دے سکے اور نہ وہ مجھ کو چھڑا ہی سکیں۔ تب تو میں صریح گمراہی میں مبتلا ہوں گا۔ میں تمہارے پروردگار پر ایمان لایا ہوں سو میری بات سن رکھو۔»

یہ بات سننے کے بعد اُس کی قوم نے اُسے شہید کردیا، تو اُس کے فوراً بعد کیا ہوا؟ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

﴿قِيلَ ادْخُلِ الْجَنَّةَ  قَالَ يَا لَيْتَ قَوْمِي يَعْلَمُونَ٢٦ بِمَا غَفَرَ لِي رَبِّي وَجَعَلَنِي مِنَ الْمُكْرَمِينَ﴾

[يس: 26-27]

اس سے کہا گیا داخل ہو جا جنت میں، کہنے لگا کاش میری قوم کو معلوم ہو جائے کہ اللہ نے مجھے بخش دیا اور عزت داروں میں شامل کردیا

یعنی  مرنے کے فوراً ہی بعد جنت میں داخل کردیا گیا اور وہاں جا کر  اپنی قوم کے لئے بھی فکر مند ہے کہ کاش انہیں معلوم ہو جائے کہ میرے پروردگار نے میراکیا  انجام کیا ہے اور کس طرح میری پذیرائی کی گئی ہے۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت کیا ماجرا پیش آیا؟

عَنْ أَنَسٍ قَالَ لَمَّا ثَقُلَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَعَلَ يَتَغَشَّاهُ فَقَالَتْ فَاطِمَةُ عَلَيْهَا السَّلَام وَا کَرْبَ أَبَاهُ فَقَالَ لَهَا لَيْسَ عَلَی أَبِيکِ کَرْبٌ بَعْدَ الْيَوْمِ فَلَمَّا مَاتَ قَالَتْ يَا أَبَتَاهُ أَجَابَ رَبًّا دَعَاهُ يَا أَبَتَاهْ مَنْ جَنَّةُ الْفِرْدَوْسِ مَأْوَاهْ يَا أَبَتَاهْ إِلَی جِبْرِيلَ نَنْعَاهْ فَلَمَّا دُفِنَ قَالَتْ فَاطِمَةُ عَلَيْهَا السَّلَام يَا أَنَسُ أَطَابَتْ أَنْفُسُکُمْ أَنْ تَحْثُوا عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التُّرَابَ

(صحیح البخاری: کتاب المغازی؛ بَابُ مَرَضِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَوَفَاتِهِ )

’’انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مرض کی شدت کی وجہ سے بیہوش ہو گئے ۔ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کہنے لگیں، افسوس میرے والد کو کتنی تکلیف ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آج کے بعد نہیں ہو گی۔ پھر جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی تو فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا اے ابا جان آپ اپنے رب کے پاس اس کے بلاوے پر چلے گئے ۔ اے ابا جان آپ جنت الفردوس میں اپنے مقام پر چلے گئے۔ ہم جبریل کو آپ کی وفات کی خبر سناتے ہیں۔ اور جب تدفین ہو گئی تو انہوں نے کہا اے انس تم نے کیسے گوارا کر لیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مٹی میں چھپا دو۔‘‘

اب آپ دیکھ لیجیے کہ اس حدیث میں کس قدر وضاحت موجود ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت ابھی یہ بات اتنی تازہ ہے کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا یہ سمجھ رہی ہیں کہ ابھی تو جبریل علیہ السلام کو بھی اس بات کی خبر نہیں ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ وفات پاگئے،البتہ ان کا عقیدہ ان کے الفاظ سے بالکل واضح ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی وفات کے فوراً ہی بعد جنت الفردوس میں اپنے مقام پر چلے گئے۔

بنی اسرائیل کے دو اشخاص کا واقعہ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ بْنِ سُفْيَانَ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ ثَابِتٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي ضَمْضَمُ بْنُ جَوْسٍ، قَالَ:قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ” كَانَ رَجُلَانِ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ مُتَوَاخِيَيْنِ، فَكَانَ أَحَدُهُمَا يُذْنِبُ، وَالْآخَرُ مُجْتَهِدٌ فِي الْعِبَادَةِ، فَكَانَ لَا يَزَالُ الْمُجْتَهِدُ يَرَى الْآخَرَ عَلَى الذَّنْبِ فَيَقُولُ: أَقْصِرْ، فَوَجَدَهُ يَوْمًا عَلَى ذَنْبٍ فَقَالَ لَهُ: أَقْصِرْ، فَقَالَ: خَلِّنِي وَرَبِّي أَبُعِثْتَ عَلَيَّ رَقِيبًا؟ فَقَالَ: وَاللَّهِ لَا يَغْفِرُ اللَّهُ لَكَ، أَوْ لَا يُدْخِلُكَ اللَّهُ الْجَنَّةَ، فَقَبَضَ أَرْوَاحَهُمَا، فَاجْتَمَعَا عِنْدَ رَبِّ الْعَالَمِينَ فَقَالَ لِهَذَا الْمُجْتَهِدِ: أَكُنْتَ بِي عَالِمًا، أَوْ كُنْتَ عَلَى مَا فِي يَدِي قَادِرًا؟ وَقَالَ لِلْمُذْنِبِ: اذْهَبْ فَادْخُلِ الْجَنَّةَ بِرَحْمَتِي، وَقَالَ لِلْآخَرِ: اذْهَبُوا بِهِ إِلَى النَّارِ ” قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَتَكَلَّمَ بِكَلِمَةٍ أَوْبَقَتْ دُنْيَاهُ وَآخِرَتَهُ

( سنن ابی داؤد، کتاب الادب،بَابٌ فِي النَّهْيِ عَنِ البَغْيِ؛ حكم الألباني: صحيح)

’’ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ بنی اسرائیل میں دو آدمی ایک دوسرے کے لگے (برابر) کے تھے۔ ان دونوں میں سے ایک تو گناہ گار تھا اور دوسرا عبادت میں کوشش کرنے والا تھا۔ عبادت کی جدوجہد میں لگے رہنے والا ہمیشہ دوسرے کو گناہ کرتا ہی دیکھتا تھا اور اسے کہتا تھا کہ ان گناہوں سے رک جا۔ ایک روز اس نے اسے کوئی گناہ کرتے ہوئے پایا تو اس سے کہا کہ اس گناہ سے رک جا تو گناہ گار نے کہا کہ مجھے میرے رب کے ساتھ چھوڑ دے۔ کیا تو مجھ پر نگران بنا کر بھیجا گیا ہے ؟ اس نے کہا کہ اللہ کی قسم اللہ تعالیٰ تیری مغفرت نہیں کریں گے یا کہا کہ اللہ تجھے جنت میں داخل نہیں کرے گا پھر ان دونوں کی روحیں قبض کی گئیں تو دونوں کی روحیں رب العالمین کے سامنے جمع ہوئیں تو اللہ نے عابد سے فرمایا کہ کیا تو اس چیز پر جو میرے قبضہ قدرت میں ہے قادر ہے ؟ اور گناہ گار سے فرمایا کہ جا جنت میں داخل ہو جا میری رحمت کی بدولت اور دوسرے (عابد) کے لئے فرمایا کہ اسے جہنم کی طرف لے جاؤ، ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اس عابد نے ایسا کلمہ کہہ دیا جس نے اس کی دنیا و آخرت دونوں تباہ کردیں۔‘‘

اس حدیث مبارکہ سے بھی ہمیں یہ عقیدہ موصول ہوا کہ سب سے پہلے تو روح قبض ہوتے ہی دنیا قبر میں نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش کی گئی (اور اس بات سے تو ہم بخوبی واقف ہی ہیں کہ اللہ تعالیٰ عرش پر مستوی ہیں) دوسری بات یہ کہ دونوں سے مکالمہ کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے انہیں جزا یا سزا کے لیے جنت اور جہنم میں داخلے کا حکم صادر فرمادیا اور یہ جزا اور سزا ہرگز دنیاوی گڑھے میں نہیں ہوئی۔

قوم نوح کو ڈبونا اور پھر آگ میں داخل کردینا

﴿مِمَّا خَطِيئَاتِهِمْ أُغْرِقُوا فَأُدْخِلُوا نَارًا فَلَمْ يَجِدُوا لَهُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ أَنْصَارًا﴾

[نوح: 25]

”(نوح ؑکی قوم والے) اپنی خطاؤں کی بناء پر ڈبو دیے گے اور آگ میں داخل کردیے گےتو انھوں نے اللہ کے علاوہ کسی کو اپنا مددگار نہ پایا۔“

یہاں اِس آیت سے بھی یہی بات آشکار ہوئی کہ قوم نوح کو دنیا میں عذاب کے ذریعے ڈبو کر مارا گیا اور پھر فوراً انہیں آگ یعنی جہنم میں داخل کردیا گیا۔اُن کے مردہ جسم تو یہاں ہی موجود تھے، اور انہیں چار کاندھوں پر لے جاکر دنیاوی قبر دفنانے والابھی کوئی نہ تھا، کہ جن کے قبر میں دفنا کر واپس جانے کے بعد مردہ اُن کی قدمو ں کی چاپ سنتا اور پھر دنیاوی قبر میں بیٹھ کر فرشتوں کے سوالا ت کے جوابات دیے جاتے۔ لیکن اِس سب کے باوجود وہ بھی مرنے کے فوراً بعد ہی جہنم میں داخل کردیے گئے اور وہی ان کا عذاب القبر تھا۔

نوح اور لوط علیہما السلام کی بیویوں کو عذاب

﴿ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا لِلَّذِينَ كَفَرُوا امْرَأَتَ نُوحٍ وَامْرَأَتَ لُوطٍ كَانَتَا تَحْتَ عَبْدَيْنِ مِنْ عِبَادِنَا صَالِحَيْنِ فَخَانَتَاهُمَا فَلَمْ يُغْنِيَا عَنْهُمَا مِنَ اللَّهِ شَيْئًا وَقِيلَ ادْخُلَا النَّارَ مَعَ الدَّاخِلِينَ١٠﴾

[التحريم: 10]

” اور اللہ مثال دیتا ہے کافروں کو نوح ؑو لوط ؑکی بیویوں کی، دونوں ہمارے نیک بندوں کے گھروں میں تھیں۔ دونوں نے خیانت کی تو وہ انکے کام نہ آئے اور انھیں حکم دیا گیا کہ داخل ہوجاؤ آگ میں داخل ہونے والوں کے ساتھ۔“

سو یہاں بھی یہ بات معلوم ہوئی کہ دیگر تمام منکرین حق کی طرح نوح و لوط علیہا السلام کی ازاوج بھی مرنے کے بعد جہنم میں داخل کرد گئی تھیں۔

عمرو بن لحی الخزاعی کو عذاب القبردیا جانا

رَأَيْتُ جَهَنَّمَ يَحْطِمُ بَعْضُهَا بَعْضًا وَرَأَيْتُ عَمْرًا يَجُرُّ قُصْبَهُ وَهْوَ أَوَّلُ مَنْ سَيَّبَ السَّوَائِبَ

( بخاری، کتاب التفسیر ، بَابُ {مَا جَعَلَ اللَّهُ مِنْ بَحِيرَةٍ وَلاَ سَائِبَةٍ، وَلاَ وَصِيلَةٍ وَلاَ حَامٍ})

”میں نے جہنم کو دیکھا کہ اسکا ایک حصہ دوسرے کو برباد کر رہا تھا اور اس میں عمرو بن لحی کو دیکھا وہ اپنی آنتیں کھینچ رہا تھا، اور وہ پہلا شخص تھا جس نے عرب میں بتوں کے نام پر جانور چھوڑنے کی رسم رائج کی تھی ۔“

ابو ثمامۃ کو عذاب القبردیا جانا

وَرَأَيْتُ أَبَا ثُمَامَةَ عَمْرَو بْنَ مَالِکٍ يَجُرُّ قُصْبَهُ فِي النَّارِ

(مسلم ، کتاب الکسوف ، بَابُ مَا عُرِضَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةِ الْكُسُوفِ مِنْ أَمْرِ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ)

”اور میں نے دیکھا ابو ثمامۃ کو جہنم میں اپنی آنتیں کھینچ رہا تھا۔“

بلی کو باندھے رکھنے پر عذاب القبر

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «عُذِّبَتِ امْرَأَةٌ فِي هِرَّةٍ حَبَسَتْهَا حَتَّى مَاتَتْ جُوعًا، فَدَخَلَتْ فِيهَا النَّارَ» قَالَ: فَقَالَ: وَاللَّهُ أَعْلَمُ: «لاَ أَنْتِ أَطْعَمْتِهَا وَلاَ سَقَيْتِهَا حِينَ حَبَسْتِيهَا، وَلاَ أَنْتِ أَرْسَلْتِهَا، فَأَكَلَتْ مِنْ خَشَاشِ الأَرْضِ»

(بخاری، کتاب المساقاۃ ، بَابُ فَضْلِ سَقْيِ المَاءِ )

”ایک عورت جہنم میں داخل کردی گئی ا س وجہ سے کہ اس نے بلی کو باندھ کے رکھا ہو ا تھا نہ اسکو کھانے کیلئے کچھ دیا اور نہ ہی اسکو کھلا چھوڑا کہ وہ کیڑے وغیرہ کھا لیتی یہاں تک کہ وہ مر گئی۔“

قرآن و احادیث صحیحہ سے پیش کردہ ان دلائل وبراہین سے یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہوجاتی ہے کہ مرنے بعد جزا وسزا کا مقام جنت و جہنم میں ہے۔اس کے علاوہ بھی قرآن و حدیث میں اس بارے میں کافی دلائل موجود ہیں جو ان شاء اللہ العزیز کہ ہر آنے والی قسط میں آپ کے سامنے پیش کیے جاتے ہیں گے، المختصر یہ کہ قرآن و صحیح ا حادیث سے یہی معلوم ہوتا ہے مرنے بعد جزا وسزا کا مقام دراصل دنیاوی گڑھے میں نہیں جو بہت ہی کم انسانوں کو نصیب ہوتا ہے، بلکہ جنت و جہنم میں ہے۔

مرنے کے بعد انسانی جسم کیساتھ کیا ہوتا ہے ؟

اِس کے فوراً بعد جو سوال ہمارے ذہن میں آتا ہے وہ یہ ہے کہ اگر روح کے ساتھ جنت یا جہنم میں یہ معاملہ پیش آرہا ہے تو پھر مرنے کے بعد جسم کے ساتھ کیا معاملہ پیش آئے گا۔

سو سامعین / قارئین کرام! یہ سمجھنا ہمارے لیے ضروری ہے کہ بنیادی طور پر انسان دو چیزوں کا مرکب ہے، روح اور جسم۔ جب روح جسم میں داخل کی جاتی ہے تو زندگی وجود میں آتی ہے، اور جب یہ جسم سے نکال لی جاتی ہے تو موت واقع ہوجاتی ہے۔

وفات کے بعد انسانی جسم کی کیفیت

جب ایک انسان کا وقت اِس دنیا میں پورا ہوجاتا ہے ، تو اللہ کے حکم سے ملک الموت آکر اُس کی روح نکال لیتا ہے، اور یوں انسان کے جسم سے روح نکلتے ہی اس کی موت واقع ہو جاتی ہے اور اب قیامت تک کے لئے یہ جسم مردہ ہو جاتا ہے۔

مردے قیامت کے دن ہی اٹھائے جائیں گے

﴿ثُمَّ إِنَّكُمْ بَعْدَ ذَلِكَ لَمَيِّتُونَ؁ ثُمَّ إِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ تُبْعَثُونَ؁﴾

[المؤمنون: 15-16

’’ پھر اس ( زندگی) کے بعد تمہیں موت آجاتی ہے ، پھر تم قیامت کے دن اٹھائے جاؤگے ‘‘

یعنی اللہ تعالیٰ کا قانون یہ ہے کہ اب یہ جسم قیامت سے پہلے دوبارہ زندہ نہ کیا جائیگا ۔

مردہ جسم احساس و شعور سے عاری ہوتا ہے

﴿أَمْوَاتٌ غَيْرُ أَحْيَاءٍ وَمَا يَشْعُرُونَ أَيَّانَ يُبْعَثُونَ﴾

[النحل: 21]

’’مردہ ہیں زندگی کی رمق نہیں، اور نہیں شعور رکھتے کہ کب اٹھائے جائیں گے‘‘۔

معلوم ہوا کہ مردہ جسم شعور سے عار ی ہوتا ہے، روح نکلنے کے بعد اب اس کے سارے حواس قیامت تک کے لئے ختم ہوجاتے ہیں، نہ اسے سردی لگتی ہے نہ گرمی اور نہ ہی کسی قسم کی تکلیف۔

مردے سنتے اور سمجھتے نہیں ہیں یہ زندہ انسانوں کی صفت ہوتی ہے نیز مردوں کو روزِ محشر اٹھایا جائے گا

﴿إِنَّمَا يَسْتَجِيبُ الَّذِينَ يَسْمَعُونَ وَالْمَوْتَى يَبْعَثُهُمُ اللَّهُ ثُمَّ إِلَيْهِ يُرْجَعُونَ﴾

[الأنعام: 36]

’’بات تو وہی مانیں گے جو سنتے سمجھتے ہیں رہے یہ مردے تو اللہ ان کو اٹھائے گا پھر یہ اسی کی طرف لوٹائے جائیں گے ‘‘۔

مردے نہیں سنتے

﴿إِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتَى وَلَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَاءَ إِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِينَ﴾

[النمل: 80

’’اے نبی(ﷺ) ! آپ مردوں کو نہیں سنا سکتے اور نہ آپ اپنی پکار بہروں کو سنا سکتے ہیں جبکہ وہ پیٹھ پھیر کر بھاگے جارہےہوں ‘‘۔

﴿وَمَا يَسْتَوِي الْأَحْيَاءُ وَلَا الْأَمْوَاتُ إِنَّ اللَّهَ يُسْمِعُ مَنْ يَشَاءُ وَمَا أَنْتَ بِمُسْمِعٍ مَنْ فِي الْقُبُورِ﴾

[فاطر: 22]

’’نہ زندہ اور مردہ برابر ہوسکتے ہیں۔ اللہ جس کو چاہتا ہے سنوا دیتا ہے اور تم ان کو جو قبروں میں دفن ہیں نہیں سنا سکتے‘‘۔

مردوں کا کلام کرنا ایک محال امر ہے

﴿وَلَوْ أَنَّنَا نَزَّلْنَا إِلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةَ وَكَلَّمَهُمُ الْمَوْتَى وَحَشَرْنَا عَلَيْهِمْ كُلَّ شَيْءٍ قُبُلًا مَا كَانُوا لِيُؤْمِنُوا إِلَّا أَنْ يَشَاءَ اللَّهُ وَلَكِنَّ أَكْثَرَهُمْ يَجْهَلُونَ

[الأنعام: 111]

’’اور اگر ہم ان پر فرشتے بھی اتار دیتے اور مردے بھی ان سے بات چیت کرنے لگتے اور ہم سب چیزوں کو ان کے سامنے لاموجود بھی کرتے تو بھی یہ ایمان لانے والے نہ تھے مگر یہ کہ اللہ چاہے لیکن اکثر ان میں جاہل ہیں‘‘۔

کتاب اللہ کے دلائل سے یہ بات روزِ روشن کی طرح واضح ہوجاتی ہے کہ مردہ جسم کسی بھی قسم کااحساس و شعور نہیں رکھتا، نہ سنتا ہے اور نہ ہی بولتا ہے۔ مزید یہ بھی بتایا گیا کہ کچھ عرصہ بعد یہ جسم باقی بھی نہیں رہتا اور مٹی میں مل کر مٹی ہوجاتا ہے۔

مرنے کے بعد انسانی جسم سڑ گل جاتا ہے ـ

﴿أَوَلَمْ يَرَ الْإِنْسَانُ أَنَّا خَلَقْنَاهُ مِنْ نُطْفَةٍ فَإِذَا هُوَ خَصِيمٌ مُبِينٌ؁ وَضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَنَسِيَ خَلْقَهُ قَالَ مَنْ يُحْيِي الْعِظَامَ وَهِيَ رَمِيمٌ؁قُلْ يُحْيِيهَا الَّذِي أَنْشَأَهَا أَوَّلَ مَرَّةٍ وَهُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِيمٌ؁﴾

[يس: 77-79]

” کیا انسان نے نہیں دیکھا کہ ہم نے اسے ایک نطفے سے پیدا کیا اور صریح جھگڑالو بن گیا ،اور (انسان) ہمارے بارے میں مثالیں بیان کرنے لگا اور اپنی پیدائش کو بھول گیا اور کہنے لگا کہ (جب) ہماری ہڈیاں بوسیدہ ہوجائیں گی تو کون انہیں زندہ کریگا۔ کہہ دو کہ وہ اللہ ہی زندہ کرے گا جس نے ان کوپہلی بار پیدا کیا تھا اور وہ ہر قسم کا پیدا کرنا جانتا ہے۔“

﴿أَإِذَا مِتْنَا وَكُنَّا تُرَابًا وَعِظَامًا أَإِنَّا لَمَبْعُوثُونَ ؁أَوَآبَاؤُنَا الْأَوَّلُونَ؁ قُلْ نَعَمْ وَأَنْتُمْ دَاخِرُونَ؁﴾

[الصافات: 16-18]

”کیا جب ہم مرجائیں گے اور مٹی میں ملکر مٹی بن جائیں گے اور ہماری ہڈیاں بوسیدہ ہو جائیں گی ہم پھر زندہ کر کے اٹھائے جائیں گے،اور ہمارے باپ دادا بھی۔ کہدو کہ ہاں اور تم (اللہ کے مقابلے) میں بے بس ہو۔“

نبی ﷺ نے فرمایا:

«كُلُّ ابْنِ آدَمَ يَأْكُلُهُ التُّرَابُ، إِلَّا عَجْبَ الذَّنَبِ مِنْهُ، خُلِقَ وَفِيهِ يُرَكَّبُ»

(صحیح مسلم: کتاب الفتن و اشراط ساعۃ۔ بَابُ مَا بَيْنَ النَّفْخَتَيْنِ)

”انسان کے سارے جسم کو مٹی کھا جاتی ہے سوائے عجب الذنب کے، اسی پر اسے پہلے بنایا گیا تھا اور اسی پردوبارہ بنایا جائیگا۔“

اور قرآن میں اللہ تعالیٰ نے یہ بھی بتایا ہے مٹی کے جسموں کو کھانےکے پورے عمل سے بھی پروردگار لمحہ بلمحہ آگاہ ہوتا ہے۔

﴿قَدْ عَلِمْنَا مَا تَنْقُصُ الْأَرْضُ مِنْهُمْ وَعِنْدَنَا كِتَابٌ حَفِيظٌ﴾

[ق: 4]

”مٹی انکے جسموں سے جو کھا رہی ہے وہ ہمارے علم میں ہے۔“

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا بَيْنَ النَّفْخَتَيْنِ أَرْبَعُونَ» قَالَ: أَرْبَعُونَ يَوْمًا؟ قَالَ: أَبَيْتُ، قَالَ: أَرْبَعُونَ شَهْرًا؟ قَالَ: أَبَيْتُ، قَالَ: أَرْبَعُونَ سَنَةً؟ قَالَ: أَبَيْتُ، قَالَ: «ثُمَّ يُنْزِلُ اللَّهُ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَيَنْبُتُونَ كَمَا يَنْبُتُ البَقْلُ، لَيْسَ مِنَ الإِنْسَانِ شَيْءٌ إِلَّا يَبْلَى، إِلَّا عَظْمًا وَاحِدًا وَهُوَ عَجْبُ الذَّنَبِ، وَمِنْهُ يُرَكَّبُ الخَلْقُ يَوْمَ القِيَامَةِ»

(صحیح البخاری: کتاب تفسیر القرآن، بَابُ {يَوْمَ يُنْفَخُ فِي الصُّورِ فَتَأْتُونَ أَفْوَاجًا} [النبأ: 18]: زُمَرًا)

’’ ابو ھریرۃؓ روایت کرتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا کہ ”صورکی دو پھونکوں کے درمیان چالیس(40) کا وقفہ ہوگا۔ پوچھنے والے نے پوچھا کہ چالیس دن کا وقفہ؟ ابو ھریرۃؓ نے جواب دیا کہہ نہیں سکتا۔ پھرکہنے والے نے کہا چالیس ماہ کا وقفہ؟ کہا یہ بھی نہیں کہہ سکتا۔ پوچھنے والے نے پھر کہا کہ چالیس سال کا وقفہ؟ابوھریرۃؓ نے جواب دیا کہ یہ بھی نہیں کہہ سکتا لیکن اس بات کو (رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے میں نے سنا) کہ اس وقفہ کے بعد اللہ تعالی آسمان سے بارش برسائے گا اور لوگ اس سے ایسے اُگ پڑینگے جیسے سبزہ اُگتا ہے۔ انسان کے جسم کی کوئی چیز ایسی نہیں ہے جو برباد نہ ہو جائے سوا ئے”عجب الذنب‘‘ کے اور اسی پر انسانی جسم کو قیامت کے دن پھر بنایا جائے گا“۔

بیان کردہ قرآنی آیات و احادیث سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ موت کے بعد جہاں روح راحت یا عذاب کے لیے جنت یا جہنم میں داخل کردی جاتی ہے، وہاں یہ مردہ جسم گل سڑ جاتا ہے اور ہڈیاں بھی بوسیدہ ہوکر ایک نہ ایک دن مٹی میں مل جاتی ہیں، سوائے عجب الذنب کہ جس کے ذریعے اِسی مردہ جسم کو قیامت کے دن دوبارہ تخلیق کیا جانا۔ قیامت کے دِن جسموں کا دوبارہ تخلیق کیا جانا بھی اِس بات پر دال ہے کہ یہ جسم پہلے سے موجود نہیں ہوں گے، کیونکہ تخلیق اُسی کو کیا جاتا ہے جس کا وجود نہ ہو۔ بہرحال، مرنے کے بعد اس جسم میں زندگی کی رمق تک باقی نہیں رہتی بلکہ یہ مردہ اور بے جان ہو جاتا ہے۔

مزید سورۃ الفاطر: 19تا22 میں مختلف متضاد چیزوں کی امثال دے کر بھی سمجھایا گیا کہ مردہ جسم کسی بھی طور ایک زندہ جسم کی مانند نہیں سمجھا جاسکتا۔

﴿وَمَا يَسْتَوِي الْأَعْمَى وَالْبَصِيرُ؁ وَلَا الظُّلُمَاتُ وَلَا النُّورُ؁ وَلَا الظِّلُّ وَلَا الْحَرُورُ؁ وَمَا يَسْتَوِي الْأَحْيَاءُ وَلَا الْأَمْوَاتُ إِنَّ اللَّهَ يُسْمِعُ مَنْ يَشَاءُ وَمَا أَنْتَ بِمُسْمِعٍ مَنْ فِي الْقُبُورِ؁﴾

[فاطر: 19-22]

اندھا اور آنکھوں والا برابر نہیں۔ نہ تاریکی اور روشنی یکساں ہے۔ نہ چھاؤں اور دھوپ ایک جیسی ہے اور نہ ہی زندہ اور مردہ برابر ہیں‘‘۔

یعنی جس طرح ایک صاحب بصارت شخص اور بینائی سے محروم ایک نابینا برابر نہیں ہوسکتے، تاریکی ، روشنی کی او دھوپ ، چھاؤں کی ضد ہے؛ بالکل اسی طرح زندہ بھی مردہ کی ضد ہے اور اِن میں کوئی خصوصیت بھی مشترکہ نہیں ۔ایک زندہ انسانی جسم میں تمام حواس موجود ہوتے ہیں، وہ احساس و شعور رکھتا ہے۔ سوچنے کیلئے دماغ، دیکھنے کیلئے آنکھ، سننے کیلئے کان اور بولنے کیلئے منہ اور زبان ہوتے ہیں، لیکن مردہ جسم کے تمام احساسں قیامت تک کیلئے چھین لیے جاتے ہیں اور یہ ہر قسم کے شعور سے عاری ہوتا ہے۔ اور یہ بات تو ہمارے عام مشاہدے میں ہے کہ کتنی ہی قومیں اپنے مردوں کو آگ میں جلادیتی ہیں نہ کبھی کوئی مردہ اٹھ کر بھاگا اور نہ ہی کسی نے شور مچایا۔ اور یہ ہو بھی نہیں سکتا کیونکہ خالق کائنات سے بڑھ کر سچی اور کسی کی نہیں ہو سکتی۔ جب اللہ تعالی خود فرماتا ہے کہ یہ جسم گل سڑ جاتا ہے تو منہ، زبان، کانوں اور آنکھوں کے مردہ ہوجانے اور گل سڑ جانے کے بعد یہ کہاں سے بول سکتا ہے؟ اب یہ کیسے سن اور دیکھ سکتا ہے ؟ اور اب جبکہ یہ مردہ مٹی میں ملکر مٹی بن رہا ہے، تو اس پر نہ ہی مار کا اثر ہوتا ہے اور نہ ہی آگ سے جلائے جانے کی تکلیف ہوتی ہے۔

اسی جسم کی روزِ قیامت از سر نو تخلیق کے بارے میں کتاب اللہ میں بتایا گیاکہ:

﴿أَيَحْسَبُ الْإِنْسَانُ أَلَّنْ نَجْمَعَ عِظَامَهُ؁ بَلَى قَادِرِينَ عَلَى أَنْ نُسَوِّيَ بَنَانَهُ؁﴾

[القيامة: 3-4]

”کیا انسان یہ سمجھتا ہے کہ ہم اسکی ہڈیاں جمع نہیں کرینگے۔ نہیں بلکہ ہم اسکی پور پور تک درست کرنے پر قادر ہیں۔“

﴿أَفَعَيِينَا بِالْخَلْقِ الْأَوَّلِ بَلْ هُمْ فِي لَبْسٍ مِنْ خَلْقٍ جَدِيدٍ﴾

[ق: 15]

”کیا ہم پہلی مرتبہ پیدا کر کے تھک گئے ہیں بلکہ یہ دوبارہ پیدا کیے جانے پر شک میں پڑے ہوئے ہیں۔“

معلوم ہوا کہ یہی جسم جو مرنے کے بعد گل سڑ چکا تھا دوبارہ تخلیق کیا جائیگا اور جیسا کہ پہلے بیان کردوہ حدیث میں بھی بتایا گیا کہ یہ کام قیامت کے دن ہوگا۔یہی وہ دن ہے کہ جس کیلئے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ:

﴿ثُمَّ إِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ تُبْعَثُونَ﴾

[المؤمنون: 16]

’’پھر تم قیامت کے دن اٹھائے جاؤگے۔“

ان تمام دلائل سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مرنے کے بعد سے لے کر قیامت تک ملنے والی جزا و سزا ، اس کا مٹی سے بنے ہوئے اور موت کے بعد بے شعور ہوجانے والے جسم سے کوئی تعلق نہیں۔ کیونکہ موت کے بعد ہ ابتداء میں تو یہ بے حس وشعور ہوجاتا ہے اور بعد اذاں ایک نہ ایک دن مٹی میں مل کر مٹی ہوجاتا ہے۔

عذاب قبر حق ہے :

یعنی مرنے کے بعد کے جزا و سزا کا تعلق مٹی سے بنے اس جسم کیساتھ ہر گز نہیں۔ جیسا کہ پہلے بھی بتایا گیا تھا کہ عذاب القبر ، عذاب الآخرہ ہی کا پہلا حصہ ہے۔قرآن کی اس آیت کا مطالعہ کریں :

﴿وَمِمَّنْ حَوْلَكُمْ مِنَ الْأَعْرَابِ مُنَافِقُونَ وَمِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ مَرَدُوا عَلَى النِّفَاقِ لَا تَعْلَمُهُمْ نَحْنُ نَعْلَمُهُمْ سَنُعَذِّبُهُمْ مَرَّتَيْنِ ثُمَّ يُرَدُّونَ إِلَى عَذَابٍ عَظِيمٍ١٠١﴾

[التوبة: 101]

’’تمہارے گردوپیش بسنے والے دیہاتیوں میں سے کچھ منافق ہیں اور کچھ مدینے کے رہنے والوں میں سے جو نفاق میں طاق ہوگئے ہیں تم ان کو نہیں جانتے ہم انھیں جانتے ہیں ہم عنقریب ان کو عذاب دیں گے دو مرتبہ پھر وہ لوٹائے جائیں گے بڑے عذاب کی طرف۔ ‘‘

اس آیت میں تین عذابوں کا ذکر ہے :

1. پہلا عذاب ؛دنیا میں ملنے والا

2. دوسرا عذاب : مرتے ہی شروع

3. تیسرا عذاب جو قیامت کے دن سے شروع ہوگا۔

قرآن کی اس آیت کی تشریح ہمیں قرآن ہی کی دوسری آیت سے ملتی ہے یعنی آل فرعون پر عذاب سے۔

﴿وَجَاوَزْنَا بِبَنِي إِسْرَائِيلَ الْبَحْرَ فَأَتْبَعَهُمْ فِرْعَوْنُ وَجُنُودُهُ بَغْيًا وَعَدْوًا حَتَّى إِذَا أَدْرَكَهُ الْغَرَقُ قَالَ آمَنْتُ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا الَّذِي آمَنَتْ بِهِ بَنُو إِسْرَائِيلَ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ٩٠﴾

[يونس: 90]

’’اور ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر پار کرا دیاتو ان کا پیچھا کیا فرعون اور اس کے فوجیوں نے سرکشی اور زیادتی سے یہاں تک کہ جب وہ ڈوبنےلگا تو بولا میں ایمان لایا کہ کوئی معبود نہیں ہے مگر وہی جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے اور میں مسلمین میں سے ہوں‘‘۔

’’پس اللہ نے اس ( موسیٰ ؑ )کو ان کی چالوں سے محفوظ رکھا، اور آل فرعون کو بدترین عذاب نے گھیر لیا ،جہنم کی آگ ہے جس پر وہ صبح و شام پیش کیے جاتے ہیں، اور جس دن قیامت قائم ہوگی تو حکم ہوگا کہ آل فرعون کو شدید تر عذاب میں داخل کردو ‘‘۔

آل فرعون کے لئے مزید بتایا گیا :

﴿فَوَقَاهُ اللَّهُ سَيِّئَاتِ مَا مَكَرُوا وَحَاقَ بِآلِ فِرْعَوْنَ سُوءُ الْعَذَابِ٤٥ النَّارُ يُعْرَضُونَ عَلَيْهَا غُدُوًّا وَعَشِيًّا وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ أَدْخِلُوا آلَ فِرْعَوْنَ أَشَدَّ الْعَذَابِ﴾

[غافر: 45-46]

’’پس اللہ نے اس ( موسیٰ ؑ )کو ان کی چالوں سے محفوظ رکھا، اور آل فرعون کو بدترین عذاب نے گھیر لیا ،جہنم کی آگ ہے جس پر وہ صبح و شام پیش کیے جاتے ہیں، اور جس دن قیامت قائم ہوگی تو حکم ہوگا کہ آل فرعون کو شدید تر عذاب میں داخل کردو ‘‘۔

پہلا عذاب جو آل فرعون پر آیا:

﴿فَوَقَاهُ اللَّهُ سَيِّئَاتِ مَا مَكَرُوا وَحَاقَ بِآلِ فِرْعَوْنَ سُوءُ الْعَذَابِ﴾

[غافر: 45]

’پس اللہ نے اس ( موسیٰ ؑ )کو ان کی چالوں سے محفوظ رکھا، اور آل فرعون کو بدترین عذاب نے گھیر لیا ۔‘‘

﴿۔۔۔ حَتَّى إِذَا أَدْرَكَهُ الْغَرَقُ۔۔۔ ﴾

[يونس: 90]

’’جب وہ ڈوبنےلگا‘‘

عذاب نمبر 2:

﴿النَّارُ يُعْرَضُونَ عَلَيْهَا غُدُوًّا وَعَشِيًّا ۔۔۔﴾

[غافر: 46]

’’جہنم کی آگ ہے جس پر وہ صبح و شام پیش کیے جاتے ہیں‘‘۔

عذاب نمبر 3

﴿۔۔۔ وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ أَدْخِلُوا آلَ فِرْعَوْنَ أَشَدَّ الْعَذَابِ﴾

[ایضاً]

’’اور جس دن قیامت قائم ہوگی تو حکم ہوگا کہ آل فرعون کو شدید تر عذاب میں داخل کردو۔‘‘

واضح ہوا کہ مرنے کے بعد کے دونوں عذاب یعنی ’’ عذاب قبر ‘‘ اور ’’ قیامت کے بعد کا عذاب ‘‘ دونوں کا تعلق جہنم سے ہے۔

اللہ کا وعدہ:

﴿قُلْنَا اهْبِطُوا مِنْهَا جَمِيعًا فَإِمَّا يَأْتِيَنَّكُمْ مِنِّي هُدًى فَمَنْ تَبِعَ هُدَايَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ٣٨ وَالَّذِينَ كَفَرُوا وَكَذَّبُوا بِآيَاتِنَا أُولَئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ٣٩﴾

[البقرة: 38-39]

’’ تم سب یہاں سے اتر جاوٌ پھر جو ہدایت میری طرف سے تمہیں پہنچے تو جو اس کی پیروی کریں گے ان کے لئے کوئی خوف و غم نہیں، اور جو کفر کریں اور ہماری آیات کو جھٹلائیں تو یہی جہنمی ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔‘‘

﴿وَعَدَ اللَّهُ الْمُنَافِقِينَ وَالْمُنَافِقَاتِ وَالْكُفَّارَ نَارَ جَهَنَّمَ خَالِدِينَ فِيهَا هِيَ حَسْبُهُمْ وَلَعَنَهُمُ اللَّهُ وَلَهُمْ عَذَابٌ مُقِيمٌ﴾

[التوبة: 68]

’’اللہ نے منافق مردوں اور منافق عورتوں اور کافروں سے جہنم کی آگ کا وعدہ کیا ہے جس میں وہ ہمیشہ جلتے رہیں گے وہی ان کے لائق ہے اور اللہ نے ان پر لعنت کردی ہے اور ان کے لیے ہمیشہ کا عذاب تیار ہے‘‘۔

﴿وَعَدَ اللَّهُ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا وَمَسَاكِنَ طَيِّبَةً فِي جَنَّاتِ عَدْنٍ وَرِضْوَانٌ مِنَ اللَّهِ أَكْبَرُ ذَلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ﴾

[التوبة: 72]

’’اللہ نے ایمان والے مردوں اور ایمان والی عورتوں کو جنت (باغات) کا وعدہ دیا ہے کہ ان کے نیچے نہریں بہتی ہیں۔ ان میں وہ ہمیشہ رہنے والے ہیں اور بہترین باغات میں نفیس مکانات کا وعدہ کیا ہے اور اللہ کی رضامندی تو سب سے بڑھ کر نعمت ہے یہی بڑی کامیابی ہے۔ ‘‘

یہ وعدہ کہاں پورا ہوگا؟

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

﴿وَفِي السَّمَاءِ رِزْقُكُمْ وَمَا تُوعَدُونَ٢٢﴾

[الذاريات: 22]

’’تمہارا رزق اور جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے آسمان میں ہے‘‘۔

یہی وجہ ہے کہ قرآن و حدیث میں جہاں کہیں بھی مرتے ہی راحت یا عذاب کا ذکر ہوتا ہے تو وہاں جنت اور جہنم ہی بیان کیا جاتا ہے اور دوسری طرف یہ مٹی کا بنا جسم تو سڑ گل جاتا ہے اس پر عذاب کا کوئی ذکر نہیں، جن احادیث سے مسلک پرست اس جسم یا اس زمینی قبر میں عذاب کا عقیدہ بیان کرتے ہیں اس کی حقیقت بھی ان شاء اللہ قرآن و حدیث کے متفقہ عقیدے کے تحت بیان کردی جائے گی۔

مندرجہ ذیل حدیث اس معاملے کی اچھی وضاحت کردیتی ہے :

غزوہ بدر پر مشرکین قتل کردئیے گئے تو نبیﷺ نے ان کی لاشیں ایک کنوئیں میں پھکوا دیں اور پھر تیسرے دن ان سے کہا :

۔ ۔ ۔ يَا فُلاَنُ بْنَ فُلاَنٍ، وَيَا فُلاَنُ بْنَ فُلاَنٍ، أَيَسُرُّكُمْ أَنَّكُمْ أَطَعْتُمُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، فَإِنَّا قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا، فَهَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا؟

( بخاری ، کتاب المغازی ، بَابُ قَتْلِ أَبِي جَهْلٍ )

’’ اے فلاں بن فلاں اور اے فلاں بن فلاں اب تم کو یہ اچھا معلوم ہوتا ہے کہ تم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کا حکم مان لیتے ہم سے تو ہمارے رب نے جو وعدہ کیا تھا وہ ہم نے پا لیا کیا تم نے اس وعدے کو پورا پا لیا جو تم سے تمہارے رب نے کیا تھا ؟

جب یہی معاملہ عائشہ ؓ کے سامنے پیش ہوا کہ

ذُكِرَ عِنْدَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَفَعَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ المَيِّتَ يُعَذَّبُ فِي قَبْرِهِ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ» فَقَالَتْ: وَهَلَ؟ إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّهُ لَيُعَذَّبُ بِخَطِيئَتِهِ وَذَنْبِهِ، وَإِنَّ أَهْلَهُ لَيَبْكُونَ عَلَيْهِ الآنَ»، قَالَتْ: وَذَاكَ مِثْلُ قَوْلِهِ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ عَلَى القَلِيبِ وَفِيهِ قَتْلَى بَدْرٍ مِنَ المُشْرِكِينَ، فَقَالَ لَهُمْ مَا قَالَ: «إِنَّهُمْ لَيَسْمَعُونَ مَا أَقُولُ» إِنَّمَا قَالَ: «إِنَّهُمُ الآنَ لَيَعْلَمُونَ أَنَّ مَا كُنْتُ أَقُولُ لَهُمْ حَقٌّ»، ثُمَّ قَرَأَتْ {إِنَّكَ لاَ تُسْمِعُ المَوْتَى} ، {وَمَا أَنْتَ بِمُسْمِعٍ مَنْ فِي القُبُورِ} يَقُولُ حِينَ تَبَوَّءُوا مَقَاعِدَهُمْ مِنَ النَّارِ

( بخاری ، کتاب المغازی ، بَابُ قَتْلِ أَبِي جَهْلٍ )

’’عائشہ ؓ کے سامنےنبیﷺکے اس ارشاد کا ذکر آیا کہ مردے پر اس کے عزیزوں کے رونے سے عذاب ہوتا ہے اور ابن عمرؓ اس حدیث کو رسول اللہ ﷺ تک پہنچی ہوئی بتاتے ہیں۔ عائشہ ؓ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے تو یہ فرمایا ہے کہ مردے پر اپنی خطاؤں اور گناہوں کی وجہ سے عذاب ہوتا ہے اور اس کے عزیز روتے ہی رہتے ہیں یہ بالکل ایسا ہی مضمون ہے جیسے ابن عمرؓیہ کہتے ہیں کہ نبی ﷺمشرکین بدر کے لاشوں کے گڑھے پر کھڑے ہوئے اور آپ نے فرمایا کہ وہ میرا کہنا سن رہے ہیں حالانکہ نبی ﷺ نے فرمایا تھا کہ ان کو اب معلوم ہوگیا کہ میں جو کچھ ان سے کہتا تھا وہ سچ اور حق تھا اس کے بعد عائشہؓ نے سورہ نمل کی یه آیت تلاوت فرمائی ترجمه (اے نبی، تم مردوں کو اپنی بات نہیں سنا سکتے اور اے نبی، تم قبروں کو اپنی بات نہیں سنا سکتے) عروه کهتے ہیں که عائشه کی مراد اس آیت کے پڑھنے سے یه تھی که جب ان کو جہنم میں اپنا ٹھکانه مل گیا ہوگا‘‘۔

یعنی نبیﷺ کا یہ فرمانا کہ ’’ کیا تم نے اس وعدے کو پورا پا لیا جو تم سے تمہارے رب نے کیا تھا ؟‘‘ سے مراد یہ تھی کہ جب انہیں جہنم میں اپنا مقام مل گیا ہوگا تو انہوں نے جان لیا ہوگا کہ واقعی اللہ کا وعدہ سچا تھا۔واضح ہوا کہ جسے قبر میں دفنایا جائے یا نہ جائے ہر ایک نفس کے لئے مرنے کے بعد جزا یا سزا لازمی ہے اور وہ اس دنیا میں نہیں بلکہ آسمانوں میں ہے۔

جب قرآن کی یہ آیات و احادیث پیش کی جاتی ہیں تو فرقوں سے وابستہ افراد لوگوں کو گمراہ کرنے کے لئے کہتے ہیں کہ روح کو ہونے والے وہ عذاب دوسرا ہے عذاب قبر کا تعلق تو اس زمین و جسم سے ہے۔ ان سے پوچھیں مرنے کے بعد کتنے عذاب ہوتے ہیں اور ان کا قرآن و حدیث میں کہاں ذکر ہے ؟ قرآن و حدیث تو بتاتے ہیں کہ مرنے کے بعد سے قیامت کے دن تک لئے ایک ہی عذاب ہے جسے ’’ عذاب قبر ‘‘ کے نام سے موسوم کیا گیا ہے، جبکہ کتاب اللہ کی رو سے تو جسم مرتے ہی مردہ یعنی لاشعور ، بے حس ہوجاتا اور رفتہ رفتہ سڑ گل جاتا ہے پھر اس پر عذاب کیسا؟

یہ لوگ اپنے عقیدے کے دفاع میں ایک حدیث پیش کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں۔

نبیﷺ نے فرمایا:

’’ ایک شخص بہت گناہ کیا کرتا تھا جب اس کے مرنے کا وقت آیا تو اس نے اپنے بیٹوں سے کہا کہ جب میں مرجاؤں تو مجھے جلا کر پیس ڈالنا اس کے بعد مجھے (یعنی میری راکھ) ہوا میں اڑا دینا کیوں کہ اللہ کی قسم ! اگر اللہ تعالیٰ مجھ پر قابو پالے گا تو مجھے ایسا عذاب دے گا جو اس نے کسی کو نہ دیا ہوگا چناچہ وہ جب وہ مرگیا تو اس کے ساتھ (اس کی وصیت کے موافق) ایسا ہی کیا گیا پس اللہ تعالیٰ نے زمین کو حکم دیا کہ اس شخص کے جس قدر ذرات تجھ میں ہیں جمع کر زمین نے جمع کردیئے یکدم وہ شخص صحیح سالم کھڑا ہوگیا اللہ تعالیٰ نے فرمایا تجھے اس (حرکت) پر جو تو نے کی کس چیز نے برانگیختہ کیا ؟ اس نے عرض کیا پروردگار تیرے خوف نے پس اللہ تعالیٰ نے اس کو بخش دیا‘‘۔ ( بخاری )

اللہ کا قانون(سنت) اور اللہ کی قدرت (معجزہ)

اس سے قبل قرآن و حدیث کا بیان پیش کیا جا چکا ہے کہ یہ جسم سڑگل جاتا ہے اور اسے قیامت کے دن دوبارہ بنایا جائے گا۔ اس کے مقابلے میں یہ حدیث ایک استثنائی مسئلہ ہے۔ دیکھیں ایک اللہ کا قانون ہوتا اور دوسرا استثناء اور اگر نبی کی موجودگی میں ہو تو معجزہ کہلاتا ہے۔

اللہ کا قانون ہے کہ بچہ ماں اور باپ کے ملاپ سے ہوتا لیکن عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش اس قانون سے ہٹ کر ہوئی، اس لئے یہ استثناء کہلائے گا۔ اللہ کا قانون واضح ہے کہ سڑے گلے جسم صرف قیامت کے دن بنائے جائیں گے ، یہ فرقہ پرست اللہ کی اس بات کو پیش ہی نہیں کرتے بلکہ ایک استثنائی معاملہ پیش کردیتے ہیں، درحقیقت اس میں تو بتایا گیا ہے کہ اس شخص نے اللہ کے

ڈر سے ایسا کرنے کا کہا تھا اللہ نے اس کےجسم کووبارہ بنا کر اسے بتا دیا کہ اللہ کی پکڑ سے کوئی نہیں بچ سکتا چاہے وہ کسی حالت میں ہو۔

یا رکھیں مرنے کے بعد کی جزا یا عذاب ہر نفس کیساتھ ہے خواہ وہ اس زمینی قبر میں دفن ہو یا نہیں۔ ان کا یہ کہنا کہ وہ روح کو جزا یا سزا روح کو ملتی ہے اور جسم کو علیحدہ، بالکل جھوٹ ہے، ہم نے قرآن و حدیث کے بے حساب دلائل دے دئیے جس میں مرنے کے بعد کا مقام جنت یا جہنم بتایا گیا ہے کہ جہاں وہ سزا یا جزا پا رہا ہے لیکن کوئی ایک آیت یا حدیث ایسی نہیں ملتی کہ جس میں نبیﷺ نے یہ فرمایا ہو کہ اس قبر میں جزا یا سزا مل رہی تھی۔

نوٹ :معراج کے موقع پر نبیﷺ کا فرمان کہ انہوں نے موسیٰ علیہ السلام کو اپنی قبر میں دیکھا کسی صور ت دلیل نہیں بن سکتا کیونکہ وہ معجزےکی رات تھی جو عام قانون سے ہٹ کر ہوتا ہے۔ پھر اسی رات میں موسیٰ علیہ السلام کو قبر میں ہی نہیں دیکھا بلکہ آسمانوں میں بھی دیکھا اور بیت المقدس میں انبیاء کی امات بھی کرائی تو پھر موسیٰ علیہ السلام کو قبر میں ہی کیسے زندہ مان لیا جائے۔

مرنے کے بعد مقام جزا و سزا

عذاب القبر کے حوالے سے مختلف مذہبی حلقوں کی جانب سے عوام کو یہ عقیدہ دیا جاتا ہے کہ مرنے کے بعد دو عذابات ہوتے ہیں، ایک روح کو دوسرا جسم کو۔ حالانکہ گزشتہ اقساط میں قرآن و احادیث صحیحہ کے مطالعے سے یہ حقیقت سامنے آئی تھی کہ مرنے کے بعد یہ مٹی کا جسم تو سماعت، بصارت، الغرض ہر قسم کے شعور و احساسات سے عاری ہوتا ہے، اور سڑ نے گلنے کے عمل سے گذرنے کے بعد ایک نہ ایک دن مٹی میں مل کر مٹی ہوجاتا ہے ، اور یہی عام مشاہدے سے بھی ثابت ہے۔ سو اِس بے شعور مردہ نعش کے لیے تو یہ عقیدہ رکھا ہی نہیں جا سکتا کہ اسے بھی عذاب ہوتا ہوگا۔ موجودہ قسط میں ہم ان شاء اللہ العزیز آپ کے سامنے قرآن و احادیث صحیحہ سے مزید کچھ دلائل پیش کریں گے جس سے آپ کے سامنے یہ حقیقت آشکار ہوگی کہ جو جسم اِس زمینی قبر میں دفن کیے جاتے ہیں، اِن کے لیے بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عذاب و راحت قبر کا مقام اِس دنیا کو نہیں بلکہ جنت یا جہنم ہی کو بتایا ہے، ا ور یہ عذاب و راحتِ قبر ا ِن بے شعور مردہ جسموں کو نہیں بلکہ روحوں ہی کو دیا جا رہا تھا۔

مشرکیں عرب بھی اپنے مردےزمینی قبور ہی میں دفن کیا کرتے تھے، لیکن نبی ﷺ نے ان کے بارے میں بتایا:

رَأَيْتُ جَهَنَّمَ يَحْطِمُ بَعْضُهَا بَعْضًا وَرَأَيْتُ عَمْرًا يَجُرُّ قُصْبَهُ وَهْوَ أَوَّلُ مَنْ سَيَّبَ السَّوَائِبَ

( عن عائشہ ، بخاری: کتاب العمل فی الصلاۃ ، بَابُ إِذَا انْفَلَتَتْ الدَّابَّةُ فِي الصَّلاَةِ)

”میں نے جہنم کو دیکھا کہ اسکا ایک حصہ دوسرے کو برباد کر رہا تھا اور اس میں عمرو بن لحی کو دیکھا وہ اپنی آنتیں کھینچ رہا تھا۔“

اُسی دور کے ایک اور شخص’ابو ثمُامۃ عمرو بن دینار‘ کے لئے فرمایا :

وَرَأَيْتُ أَبَا ثُمَامَةَ عَمْرَو بْنَ مَالِکٍ يَجُرُّ قُصْبَهُ فِي النَّارِ

( عن جابر بن عبد اللہ ، مسلم : کتاب الکسوف ، باب ما عرض على النبي صلى الله عليه وسلم في صلاة الكسوف من أمر الجنة والنار)

”اور میں نے دیکھا ابو ثمامۃ کو جہنم میں اپنی آنتیں کھینچ رہا تھا۔“

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «عُذِّبَتِ امْرَأَةٌ فِي هِرَّةٍ حَبَسَتْهَا حَتَّى مَاتَتْ جُوعًا، فَدَخَلَتْ فِيهَا النَّارَ» قَالَ: فَقَالَ: وَاللَّهُ أَعْلَمُ: «لاَ أَنْتِ أَطْعَمْتِهَا وَلاَ سَقَيْتِهَا حِينَ حَبَسْتِيهَا، وَلاَ أَنْتِ أَرْسَلْتِهَا، فَأَكَلَتْ مِنْ خَشَاشِ الأَرْضِ»

( عن عبد اللہ بن عمر ؓ ، بخاری، کتاب المساقاۃ ، بَابُ فَضْلِ سَقْيِ المَاءِ )

”ایک عورت جہنم میں داخل کردی گئی ا س وجہ سے کہ اس نے بلی کو باندھ کے رکھا ہو ا تھا نہ اسکو کھانے کیلئے کچھ دیا اور نہ ہی اسکو کھلا چھوڑا کہ وہ کیڑے وغیرہ کھا لیتی یہاں تک کہ وہ مر گئی۔“

شہداء کے لیے راحت القبر

اسی طرح نبی ﷺ نے اسی زمینی قبر میں دفن کیے جانے والے شہدا ءکے بارے میں بتایا کہ وہ جنت میں جزا پا رہے ہیں ۔

غزوہ بدر میں شہیدہونے والے حارثہ بن سراقہ رضی اللہ عنہ کی والدہ سے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:

يَا أُمَّ حَارِثَةَ إِنَّهَا جِنَانٌ فِي الجَنَّةِ، وَإِنَّ ابْنَكِ أَصَابَ الفِرْدَوْسَ الأَعْلَى

( عن انس بن مالک ، بخاری : کتاب الکتاب و السیر ، بَابُ مَنْ أَتَاهُ سَهْمٌ غَرْبٌ فَقَتَلَهُ)

”اے حارثہ کی والدہ ، اللہ کی جنتوں کی تعداد تو بہت ہے تیرا بیٹا تو جنت الفردوس میں ہے۔“

غزؤہ احد کے شہداء:

أَرْوَاحُهُمْ فِي جَوْفِ طَيْرٍ خُضْرٍ لَهَا قَنَادِيلُ مُعَلَّقَةٌ بِالْعَرْشِ تَسْرَحُ مِنْ الْجَنَّةِ حَيْثُ شَائَتْ

شہداء کی روحیں سبز اڑنے والے پرندوں کےجسموں میں ہیں اور انکے لئے قندیلیں عرشِ الہی سے لٹکی ہوئی ہیں وہ جنت میں جہاں چاہے گھومتے پھرتے ہیں اور پھر ان قندیلوں میں آکر بسیرا کرتے ہیں۔

ثُمَّ تَأْوِي إِلَی تِلْکَ الْقَنَادِيلِ فَاطَّلَعَ إِلَيْهِمْ رَبُّهُمْ اطِّلَاعَةً فَقَالَ هَلْ تَشْتَهُونَ شَيْئًا قَالُوا أَيَّ شَيْئٍ نَشْتَهِي وَنَحْنُ نَسْرَحُ مِنْ الْجَنَّةِ حَيْثُ شِئْنَا فَفَعَلَ ذَلِکَ بِهِمْ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ

انکی طرف انکے رب نے جھانکا اور ارشاد فرمایا کہ تمھیں کسی اور چیز کی خواہش ہے۔ شہداء نے جواب دیا کہ اب ہم کس چیز کی خواہش کرسکتے ہیں، جبکہ ہمارا حال یہ ہے کہ ہم جنت میں جہاں چاہیں مزے کریں۔ اللہ تعالی نے اس طرح تین بار ان سے یہی دریافت کیا

فَلَمَّا رَأَی أَنْ لَيْسَ لَهُمْ حَاجَةٌ تُرِکُوا

اب کہ مالک نے دیکھ لیا کہ انہیں کسی اور چیز کی خواہش نہیں ہے تو پھر ان سے پوچھنا چھوڑ دیا

( مسلم ، کتاب الامارۃ ، باب بيان أن أرواح الشهداء في الجنة، وأنهم أحياء عند ربهم يرزقون)

عبد اللہ بن عمرو بن حرام رضی اللہ تعالی عنہ جو احد میں شہید ہوئے تھے، نبی ﷺ نے انکے بیٹے جابر رضی اللہ تعالی عنہ سے فرمایا:

مَا کَلَّمَ اللَّهُ أَحَدًا قَطُّ إِلَّا مِنْ وَرَائِ حِجَابٍ وَأَحْيَا أَبَاکَ فَکَلَّمَهُ کِفَاحًا فَقَالَ يَا عَبْدِي تَمَنَّ عَلَيَّ أُعْطِکَ قَالَ يَا رَبِّ تُحْيِينِي فَأُقْتَلَ فِيکَ ثَانِيَةً قَالَ الرَّبُّ عَزَّ وَجَلَّ إِنَّهُ قَدْ سَبَقَ مِنِّي أَنَّهُمْ إِلَيْهَا لَا يُرْجَعُونَ

( عن جابر ؓ، ترمذی، ابواب تفسیر القرآن ، باب : ومن سورۃ آل عمران ، روایت حسن )

”اللہ تعالی نے کسی سے بھی روبرو کلام نہیں کیا لیکن تمھارے والد کو زندہ کیا اور آمنے سامنے کلام کیا اور فرمایا میرے بندے مانگ تجھے دونگا تو انھوں نے عرض کیا کہ اے رب مجھے دوبارہ زندہ فرما اور میں تیری راہ میں قتل کیا جاؤں۔ اللہ تعالی نے فرمایا یہ بات میری طرف سے طے ہوچکی ہے کہ یہ پلٹائے نہیں جائنگے۔“

( نوٹ : ایک حدیث میں آتا ہے کہ عبد اللہ بن عمر بن حرام رضی اللہ عنہ کا جسم چھ ماہ بعد بھی سالم تھا، لیکن اس میں زندگی پائے جانے کا کوئی ذکر نہیں ملتا بلکہ حدیث بتا رہی ہے کہ غزوہ احد شہداء جنت میں ہیں ، اللہ تعالیٰ سے کلام بھی کر رہے ہیں، دنیا میں واپس بھیجے جانے کی درخواست بھی کر رہے ہیں )

جعفر بن ابی طالب رضی اللہ تعالی عنہ کی شہادت کے بعد ابن عمر رضی اللہ تعالی انکے بیٹے کو سلام کرتے ہوئے کہتے تھے :

” اَلسَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا ابْنَ ذِي الجَنَاحَيْنِ

( عن عامر، بخاری ، کتاب المغازی ، بَابُ غَزْوَةِ مُؤْتَةَ مِنْ أَرْضِ الشَّأْمِ )

”ا ے دو بازؤں والے کے بیٹے تم پر سلامتی ہو“ کہتے تھے۔

اسکی وجہ یہ تھی کہ انکی شہادت سے قبل کافروں نے انکے دونوں ہاتھ کاٹ ڈالے تھے اور ترمذی کی روایت میں بیان کیا گیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا :

رَأَيْتُ جَعْفَرًا يَطِيرُ فِي الْجَنَّةِ مَعَ الْمَلَائِکَةِ

( عن ابی ہریرۃ ، ترمذی، ابواب المناقب ، بَابُ مَنَاقِبِ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَخِي عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ)

”میں نے جعفر کو دیکھا وہ جنت میں فرشتوں کے ساتھ اڑ رہے تھے۔“

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے فرزند ابراہیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بھی یقینا ً اسی زمین قبر مین دفن کیا ہوگا لیکن اس قبر کی میں ان کے لئے کوئی جزا نہیں بیان کی بلکہ ان کی جزا ء بھی جنت میں ہی بتلائی۔

إِنَّ إِبْرَاهِيمَ ابْنِي وَإِنَّهُ مَاتَ فِي الثَّدْيِ وَإِنَّ لَهُ لَظِئْرَيْنِ تُکَمِّلَانِ رَضَاعَهُ فِي الْجَنَّةِ

( عن انس بن مالک ، مسلم ،کتاب الفضائل ، باب رحمته صلى الله عليه وسلم الصبيان والعيال وتواضعه وفضل ذلك )

’’نبی ﷺنے فرمایا ابراہیم (رضی اللہ عنہ) میرا بیٹا ہے اور وہ رضاعت کی حالت میں ہی وفات پا گیا ہے اب اس کے لئے دو انائیں ہیں جو اسے جنت میں رضاعت کی مدت پوری ہونے تک دودھ پلائیں گی۔ ‘‘

صحابہ ؓ اسی زمینی قبر مین دفنائے جاتے تھے ،لیکن اس حدیث کا مطالعہ فرمائیے:

عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ” نِمْتُ، فَرَأَيْتُنِي فِي الْجَنَّةِ، فَسَمِعْتُ صَوْتَ قَارِئٍ يَقْرَأُ، فَقُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ فَقَالُوا: هَذَا حَارِثَةُ بْنُ النُّعْمَانِ ” فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ” كَذَلِكَ الْبِرُّ، كَذَلِكَ الْبِرُّ ” وَكَانَ أَبَرَّ النَّاسِ بِأُمِّهِ

( مسند احمد: مسند النساء ، مُسْنَدُ الصِّدِّيقَةِ عَائِشَةَ بِنْتِ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللهُ عَنْهَ)

’’عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا میں جنت میں داخل ہوا تو وہاں قرآن کریم کی تلاوت کی آواز سنائی دی، میں نے پوچھا یہ کون ہے؟ مجھے بتایا گیا کہ یہ حارثہ بن نعمان ہیں، نبیﷺ نے فرمایا : تمہارے نیک لوگ اسی طرح کے ہوتے ہیں اور وہ اپنی والدہ کے ساتھ حسن سلوک کرنے والے تھے‘‘۔

قارئین کرام! آپ نے اِن تمام احادیث میں یہ دیکھا ہوگا کہ کتنا واضح طور پر وہ لوگ جو اِس زمینی قبر میں بھی دفن کیے گئے، لیکن اُن کی جزا اور سزا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت یا جہنم میں ہی بیان فرمائی اور اِس دنیاوی زمینی قبر اور اُن میں مدفون ان کے اجسام کے بارے میں ذکر تک نہ کیا۔

اب ہم آپ کے سامنے ایک طویل حدیث پیش کرتے ہیں جس میں نبیﷺ کو بذریعہ خواب وہ لوگ جو اِس دنیا میں وفات پاچکے تھے ، اُن کو عالم برزخ میں ملنے والے عذاب اور راحت دکھائی گئی۔

عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ قَالَ کَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّی صَلَاةً أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ ۔ ۔ ۔ قَالَا ذَاکَ مَنْزِلُکَ قُلْتُ دَعَانِي أَدْخُلْ مَنْزِلِي قَالَا إِنَّهُ بَقِيَ لَکَ عُمُرٌ لَمْ تَسْتَکْمِلْهُ فَلَوْ اسْتَکْمَلْتَ أَتَيْتَ مَنْزِلَکَ

”سمرۃ بن جندب ؓ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ جب صلوٰۃ (فجر) ادا کر لیتے تھے تو ہماری طرف رخ کرکے پوچھتے کہ کسی نے را ت کو خواب دیکھا ہے پس اگر کسی نے خواب دیکھا ہوتا تو بیان کردیتا اور آپ ﷺ جواللہ چاہتا کہہ دیتے تھے۔ایک دن آپ ﷺ نے ہم سے سوال کیا کہ کسی نے خواب دیکھا ہے؟ ہم نے جواب دیاکہ جی نہیں۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا لیکن میں نے رات کو دیکھا کہ دو شخص میرے پاس آئے اور انھوں نے میرے دونوں ہاتھ پکڑے اور مجھے باہر نکال کر ارض مقدس لے گئے۔ پس ہم چلے یہاں تک کہ ایسے شخص کے پاس پہنچے جو اپنی گدی کے بل لیٹا ہوا تھا اور اسکے سر پر ایک دوسرا شخص پتھر لئے کھڑا ہوا تھا میں دیکھتا کیا ہوں کہ ایک شخص بیٹھا ہوا ہے اور ایک شخص کھڑا ہے اور اسکے ہاتھ میں لوہے کا آنکڑا ہے وہ اسکو بیٹھے ہوئے شخص کے گلپھڑے میں داخل کرکے گلپھڑ ے کو گردن تک پھاڑ ڈالتا ہے پھر اسکے دوسرے گلپھڑے کیساتھ یہی عمل کرتا ہے پھر گلپھڑے جڑ جاتے ہیں اور پھر وہ (کھڑا ہوا) شخص (بیٹھے ہوئے) کیساتھ دوبارہ یہی معاملہ کرتا ہے۔

نبی ﷺ نے فرمایا میں نے ان سے پوچھا یہ کیا ہے؟ ان دونوں نے کہا کہ آگے چلئے، آگے ایک شخص دوسرے شخص کو پتھر مار کر اسکا سر پھاڑ رہا تھا۔ پتھرسر پر پڑنے کے بعد ایک طرف لڑھک جاتا تھا اور پتھر مارنے والا اسکو اٹھانے کیلئے جاتا اور اس درمیان میں کہ وہ پھر واپس آئے سر پھر جڑ جاتا اور ویسے ہی ہوجاتا کہ جیسا پہلے تھا۔ اب پھر وہ پہلے کی طرح پتھر کو سر پر مارتا۔(یہ دیکھ کر) نبی ﷺ نے فرمایا کہ میں نے ان سے پوچھا کہ یہ کون ہے؟ ان دونوں نے کہا کہ آگے چلئے۔ ہم چلے اور تنورکی شکل کے نقب کے پاس آئے اس نقب کے اوپر کا حصہ تنگ اور نیچے کا وسیع تھا اور اس میں آگ جل رہی تھی اس نقب کے اندر برہنہ مرد اور عورتیں تھیں۔ جب آگ تیز ہوتی تو وہ اوپر اٹھتے اور باہر نکلنے کے قریب ہو جاتے اور جب ہلکی ہوتی تو نیچے واپس چلے جاتے۔ نبی ﷺ فرماتے ہیں کہ میں نے کہا یہ کیا ہورہا ہے؟ ان دونوں نے کہا آگے چلئے۔

ہم چلے یہاں تک کہ ایک نہر پر آئے جو خون سے بھری ہوئی تھی اور اس میں ایک شخص کھڑا تھااور نہر کے کنارے ایک اور شخص کھڑا ہوا تھا جس کے سامنے پتھرپڑے ہوئے تھے۔ جب نہر والا شخص آگے بڑھتااور باہر نکلنا چاہتا تو باہر والا اسکے منہ پر پتھر مارتا اور اسے واپس اسکی جگہ لوٹا دیتا۔ نبی ﷺ نے فرمایا کہ میں نے کہا یہ سب کیا ہے؟ ان دونوں نے کہا کہ آگے چلئے۔ ہم چلے یہاں تک کہ ایک سبزوشاداب باغ میں پہنچے اس میں ایک بہت بڑا درخت تھا اس در خت کی جڑ کے پاس ایک بزرگ اور بچے تھے اور درخت کے پاس ایک صاحب تھے جنکے سامنے آگ جل رہی تھے اور وہ اسے بھڑکا رہے تھے پھر وہ دونوں مجھے چڑھا کے ایسے گھر میں لے گئے جس سے زیادہ حسین گھر میں نے کبھی نہیں دیکھا تھا اس گھر میں بوڑھے، جوان مرد، خواتین اور بچے تھے۔ پھر وہ مجھے اس گھر سے نکال کر ایک درخت پر چڑھا کر ایک ایسے گھر میں لے گئے جو پہلے گھر سے زیادہ حسین و جمیل تھا اس میں بوڑھے اور جوان تھے۔

نبی ﷺ نے فرمایا میں نے ان سے کہا تم دونوں مجھے رات بھر گھماتے رہے ہو اب بتاؤ کہ میں نے جو کچھ دیکھا وہ سب کیا ہے؟ دونوں نے کہا بہتر

أَمَّا الَّذِي رَأَيْتَهُ يُشَقُّ شِدْقُهُ فَکَذَّابٌ يُحَدِّثُ بِالْکَذْبَةِ فَتُحْمَلُ عَنْهُ حَتَّی تَبْلُغَ الْآفَاقَ فَيُصْنَعُ بِهِ إِلَی يَوْمِ الْقِيَامَةِ

وہ جس کو آپؐ نے دیکھا کہ اسکے گلپھڑے پھاڑے جارہے تھے وہ کذاب تھا جھوٹی باتیں بیان کرتا تھا اور لوگ اس بات کو لے اڑتے تھے یہاں تک کہ ہر طرف اسکا چرچا ہوتا تھا تو اسکے ساتھ جو آپ ؐ نے ہوتے دیکھا وہ قیامت تک ہوتا رہیگا

وَالَّذِي رَأَيْتَهُ يُشْدَخُ رَأْسُهُ فَرَجُلٌ عَلَّمَهُ اللَّهُ الْقُرْآنَ فَنَامَ عَنْهُ بِاللَّيْلِ وَلَمْ يَعْمَلْ فِيهِ بِالنَّهَارِ يُفْعَلُ بِهِ إِلَی يَوْمِ الْقِيَامَةِ

اور جسکو آ پؐ نے دیکھا کہ اسکا سر کچلا جارہا تھا یہ وہ شخص تھا کہ جسکو اللہ تعالی نے قرآن کا علم دیا تھا لیکن وہ رات کو قرآن سے غافل سوتا رہا اور دن میں اسکے مطابق عمل نہ کیا یہ عمل اسکے ساتھ قیامت تک ہوتا رہیگا۔

وَالَّذِي رَأَيْتَهُ فِي الثَّقْبِ فَهُمُ الزُّنَاةُ

اور جنکو آپؐ نے نقب میں دیکھا وہ زناکار تھے

وَالَّذِي رَأَيْتَهُ فِي النَّهَرِ آكِلُوا الرِّبَا

اور جسکو آپؐ نے نہر میں دیکھا وہ سود خور تھا ۔

وَالشَّيْخُ فِي أَصْلِ الشَّجَرَةِ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلاَمُ، وَالصِّبْيَانُ، حَوْلَهُ، فَأَوْلاَدُ النَّاسِ

اور وہ شیخ جو درخت کی جڑ کے پاس تھے ابراہیم علیہ السلام تھے اور بچے جو انکے اردگرد تھے انسانوں کی اولاد تھے

وَالَّذِي يُوقِدُ النَّارَ مَالِكٌ خَازِنُ النَّارِ

اور جو آگ بھڑکا رہے تھے وہ مالک داروغہ جہنم تھے

وَالدَّارُ الأُولَى الَّتِي دَخَلْتَ دَارُ عَامَّةِ المُؤْمِنِينَ، وَأَمَّا هَذِهِ الدَّارُ فَدَارُ الشُّهَدَاء

اور وہ پہلا گھر جس میں آپ ؐداخل ہوے تھے عام مومنین کا گھر تھا اور یہ شھداء کے گھر ہیں

وَأَنَا جِبْرِيلُ، وَهَذَا مِيكَائِيلُ، فَارْفَعْ رَأْسَكَ، فَرَفَعْتُ رَأْسِي، فَإِذَا فَوْقِي مِثْلُ السَّحَابِ

اور میں جبرائیل ہوں اور یہ میرے ساتھی میکائیل ہیں آپؐ ذرا اپنا سر اوپر اٹھائیں۔میں نے اپنا سر اٹھایا تو میں نے اپنے سر کے اوپر ایک بادل سا دیکھا

قَالاَ: ذَاكَ مَنْزِلُكَ

ان دونوں نے کہا ذَاکَ مَنْزِلُکَ یہ آپ کا مقام ہے۔

قُلْتُ: دَعَانِي أَدْخُلْ مَنْزِلِي

میں نے کہا کہ مجھے چھوڑدوکہ میں اپنے گھر میں داخل ہوجاؤں

قَالاَ: إِنَّهُ بَقِيَ لَكَ عُمُرٌ لَمْ تَسْتَكْمِلْهُ فَلَوِ اسْتَكْمَلْتَ أَتَيْتَ مَنْزِلَكَ

ان دونوں نے کہا : ’’ابھی آپ ؐ کی عمر کا کچھ حصہ باقی ہے جس کو آپؐ نے پورا نہیں کیاجب آپ اسکو پورا کرلیں گے تو اپنے اس مقام میں آجائیں گے۔‘‘

( عن سمرۃ بن جندب ، بخاری، کتاب الجنائز ، بَابُ مَا قِيلَ فِي أَوْلاَدِ المُشْرِكِينَ )

فرشتوں نے نبیﷺ نے کہا کہ ابھی آپ کی عمر کا کچھ حصہ باقی ہے، جس کو آپ نے پورا نہیں کیا۔ یعنی ابھی آپ دنیا میں اپنی زندگی کا حصہ گزار رہے ہیں، اور فرمایا : جب آپ اسے پورا کرلیں گے تو اپنے اس مقام میں آجائیں گے۔

اللہ اکبر کتنے کھلے الفاظ میں بیان کردیا گیا کہ انسان اپنی عمر اس دنیا میں پورا کر کے اس دنیا میں نہیں رہتا بلکہ آسمانوں میں اپنے مقام پر چلا جاتا ہے۔

یہی بات نبیﷺ نے فرمائی :

عن مَالِکٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا أَحَدٌ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ يُحِبُّ أَنْ يَرْجِعَ إِلَی الدُّنْيَا وَلَهُ مَا عَلَی الْأَرْضِ مِنْ شَيْئٍ إِلَّا الشَّهِيدُ يَتَمَنَّی أَنْ يَرْجِعَ إِلَی الدُّنْيَا فَيُقْتَلَ عَشْرَ مَرَّاتٍ لِمَا يَرَی مِنْ الْکَرَامَةِ

( عن انس بن مالک ، بخاری، کتاب الجھاد و السیر ،بَابُ تَمَنِّي المُجَاهِدِ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى الدُّنْيَا)

انس بن مالک ؓرسول اللہﷺ سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا جو شخص جنت میں داخل ہوتا ہے، وہ اس بات کو نہیں چاہتا، کہ دنیا کی طرف پھر لوٹ جائے، چاہے دنیا میں اسے دنیا بھر کی چیزیں مل جائیں، البتہ شہید یہ چاہتا ہے کہ وہ ہر بار دنیا کی طرف لوٹا یا جاتا رہے، تاکہ وہ دس مرتبہ قتل کیا جائے، کیونکہ وہ قتل فی سبیل اللہ کی فضیلت دیکھ چکا ہے۔‘‘

سب سے پہلے اس حدیث میں بتایا گیا مقام طے کریں۔ اس حدیث میں نبیﷺ کو شہداء دکھائے گئے، دیگر احادیث سے ثابت ہے کہ شہداء جنتوں میں ہیں۔ اس حدیث میں شہداء کے گھر دکھاتے ہوئے ہی فرشتوں نے کہا :

وَأَمَّا هَذِهِ الدَّارُ فَدَارُ الشُّهَدَائِ وَأَنَا جِبْرِيلُ وَهَذَا مِيکَائِيلُ فَارْفَعْ رَأْسَکَ فَرَفَعْتُ رَأْسِي فَإِذَا فَوْقِي مِثْلُ السَّحَابِ قَالَا ذَاکَ مَنْزِلُکَ قُلْتُ دَعَانِي أَدْخُلْ مَنْزِلِي قَالَا إِنَّهُ بَقِيَ لَکَ عُمُرٌ لَمْ تَسْتَکْمِلْهُ فَلَوْ اسْتَکْمَلْتَ أَتَيْتَ مَنْزِلَکَ

’’ ۔ ۔ ۔ اور یہ شھداء کے گھر ہیں اور میں جبرائیل ہوں اور یہ میرے ساتھی میکائیل ہیں آپؐ ذرا اپنا سر اوپر اٹھائیں۔ میں نے اپنا سر اٹھایا تو میں نے اپنے سر کے اوپر ایک بادل سا دیکھا ان دونوں نے کہا یہ آپ ؐ کا گھر ہے۔ میں نے کہا کہ مجھے چھوڑدوکہ میں اپنے گھر میں داخل ہوجاؤں ان دونوں نے کہا کہ ابھی آپ ؐ کی عمر کا کچھ حصہ باقی ہے جس کو آپؐ نے پورا نہیں کیاجب آپ اسکو پورا کرلیں گے تو اپنے اس گھر میں آجائیں گے‘‘۔

بخاری کی ایک اور حدیث میں ہے کہ عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا:

إنه لم يقبض نبي قط حتی يری مقعده من الجنة

( عن عائشہ ؓ ، بخاری، کتاب المغازی ، بَابُ مَرَضِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَوَفَاتِهِ )

’’ کس نبی کو وفات نہیں دی جاتی جب تک کہ اسے جنت میں اس کا مقام نہ دکھادیا جائے ‘‘۔

اس حدیث میں فرشتوں نے ان کا مقام دکھا دیا اور جب نبیﷺ نے وہاں جانے کا فرمایا تو فرشتوں نے کہا : ابھی آپ ؐ کی عمر کا کچھ حصہ باقی ہے جس کو آپؐ نے پورا نہیں کیاجب آپ اسکو پورا کرلیں گے تو اپنے اس گھر میں آجائیں گے‘‘۔

بخاری ہی کی حدیث جو گذشتہ اقساط میں تفصیلاً بیان کی جاچکی ہے اس میں ہے جب نبیﷺ کی وفات ہوئی تو فاطمہ ؓ نے کہا:

يا أبتاه أجاب ربا دعاه يا أبتاه من جنة الفردوس مأواه

( عن انس ؓ ، بخاری، کتاب الجنائز ، باب: مَرَضِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَوَفَاتِهِ)

’’ ۔ ۔ اے میرے والد، آپ اللہ کے بلاوے پر اس کے پاس چلے گئے، اے میرے والد آپ جنت الفردوس میں اپنے مقام میں جو آپ کا ہمیشہ کا ٹھکانہ ہے،‘‘

گویا یہ کوئی زمینی قبر نہ تھی بلکہ آسمانوں کا مقام تھا ۔

جب نبیﷺ نے دکھائے گئے عذاب کی متعلق پوچھا تو فرشتوں نے کہا :

رَأَيْتُ قَالَا نَعَمْ أَمَّا الَّذِي رَأَيْتَهُ يُشَقُّ شِدْقُهُ فَکَذَّابٌ يُحَدِّثُ بِالْکَذْبَةِ فَتُحْمَلُ عَنْهُ حَتَّی تَبْلُغَ الْآفَاقَ فَيُصْنَعُ بِهِ إِلَی يَوْمِ الْقِيَامَةِ

’’ ۔ ۔ دونوں نے کہا بہتر وہ جس کو آپؐ نے دیکھا کہ اسکے گلپھڑے پھاڑے جارہے تھے وہ کذاب تھا جھوٹی باتیں بیان کرتا تھا اور لوگ اس بات کو لے اڑتے تھے یہاں تک کہ ہر طرف اسکا چرچا ہوتا تھا تو اسکے ساتھ جو آپ ؐ نے ہوتے دیکھا وہ قیامت تک ہوتا رہیگا ۔‘‘

سوچیں وہ کونسا مقام ہے جس میں لوگ دنیا میں وفات پانے کے بعد داخل کئے جاتے ہیں اور انہیں یہاں قیامت تک عذاب ملتا رہے گا؟ مزید دیکھیں :

وَالَّذِي رَأَيْتَهُ يُشْدَخُ رَأْسُهُ فَرَجُلٌ عَلَّمَهُ اللَّهُ الْقُرْآنَ فَنَامَ عَنْهُ بِاللَّيْلِ وَلَمْ يَعْمَلْ فِيهِ بِالنَّهَارِ يُفْعَلُ بِهِ إِلَی يَوْمِ الْقِيَامَةِ

’’ ۔ ۔ ۔اور جسکو آ پؐ نے دیکھا کہ اسکا سر کچلا جارہا تھا یہ وہ شخص تھا کہ جسکو اللہ تعالی نے قرآن کا علم دیا تھا لیکن وہ رات کو قرآن سے غافل سوتا رہا اور دن میں اسکے مطابق عمل نہ کیا یہ عمل اسکے ساتھ قیامت تک ہوتا رہیگا۔‘‘

وَالَّذِي رَأَيْتَهُ فِي الثَّقْبِ فَهُمْ الزُّنَاةُ

’’ ۔ ۔ اور جنکو آپؐ نے نقب میں دیکھا وہ زناکار تھے‘‘۔

وَالَّذِي رَأَيْتَهُ فِي النَّهَرِ آکِلُوا الرِّبَا

’’ ۔ ۔اور جسکو آپؐ نے نہر میں دیکھا وہ سود خور تھا‘‘۔

دیکھیں دنیا میں زنا کاروں کی علیحدہ علیحدہ قبریں ہوتی ہیں یا انہیں جلا دیا جاتا ہے لیکن یہ وہ مقام ہے جہاں زناکار اکھٹے کر کے عذاب دئیے جا رہے ہیں، اسی طرح سود خور کو ایک خون نہر پر عذاب ہو رہا ہے۔ واضح ہوا کہ مرنے کے بعد عذاب یا راحت کا مقام یہ زمینی قبر نہیں۔اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوا کہ روحوں کو عالم برزخ میں جسم (برزخی) ملتا ہے اور روح اور اس عارضی جسم کے مجموعہ پر راحت و عذاب کا یہ دور گذرتاہے۔

صلواۃ الکسوف میں نبی ﷺ کو دکھایا جانے والا عذاب قبر :

ایک اہلحدیث مفتی اپنی کتاب میں لکھتے ہیں :

’’ان مختلف احادیث کا خلاصہ یہ ہے کہ عائشہؓ کو پہلی مرتبہ ایک یہودی عورت نے عذاب قبر کے متعلق بتایا لیکن انہوں نے اس کی تصدیق نہ کی۔ نبی صلی اﷲ علیہ و سلم نے بھی یہود کو جھوٹا قرار دیا بعد میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم پر وحی بھیجی گئی اور آپ ا کو عذاب القبر کے بارے میں بتایا گیا۔ اسی دن سورج گرہن لگ گیا اور آپ کے بیٹے جناب ابراہیم رضی اﷲ عنہ کا انتقال بھی ہوگیا چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اسی دن سورج گہن کی نماز صلوٰۃ الکسوف پڑھائی۔اور خطبہ دیا۔اور اسی خطبہ میں صحابہ کرا م ؓ کو عذاب القبر کی تفصیلات سے آگاہ کیا‘‘( مفتی جابر دامانوی ،عقیدہ عذاب قبر،صفحہ ۳۶)

لہذاہم اسی حدیث کو آپ کے سامنے پیش کر رہے ہیں تاکہ آپ سب بھی عذاب قبر کی حقیقت جان لیں۔

صلوٰۃ الکسوف کی احادیث

۔۔۔ فَقُمْتُ حَتّٰی تَجَلاَّنِی الْغَشْیُ وَجَعَلْتُ اَصُبُّ فَوْقَ رَاْسِیْ مَاءً، فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُوْلُ اﷲِ ا حَمِدَاﷲَ وَاَثْنٰی عَلَیْہِ، ثُمَّ قَالَ مَامِنْ شَیْءٍ کُنْتُ لَمْ اَرَہُ اِلاَّ قَدْ رَایْتُہُ فِیْ مَقَامِیْ ھٰذَا حَتَّی الْجَنَّۃَ وَالنَّارَ وَلَقَدْ اُوْحِیَ اِلَیَّ اَنَّکُمْ تُفْتَنُوْنَ فِی الْقُبُوْرِ مِثْلَ اَوْ قَرِیْبًامِّنْ فِتْنَۃِ الدَّجَّالِ لَآ اَدْرِیْ اَیَّ ذٰلِکَ قَالَتْ اَسْمَآءُ یُؤْتٰی اَحَدُکُمْ فَیُقَالُ لَہٗ مَاعِلْمُکَ بِھٰذَالرَّجُلِ فَاَمّا المُؤْمِنُ اَوِ الْمُوْقِنُ لَآ اَدْرِیْ اَیَّ ذٰلِکَ قَالَتْ اَسْمَآءُ فَیَقُوْلُ ھُوَ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اﷲ جَآءَ نَا بِالْبَیِّنَاتِ وَالْھُدٰی فَاَجَبْنَا وَ اٰمَنَّا وَاتَّبَعْنَا فَیُقَالُ نَمْ صَالِحًا فَقَدْ عَلِمْنَااِنْ کُنْتَ لَمُؤْمِنًا وَ اَمَّا الْمُنَافِقُ اَوِ الْمُرْتَابُ لَآاَدْرِیْ اَیَّ ذٰلِکَ قَالَتْ اَسْمَآءُ فَیَقُوْلُ لَآاَدْرِیْ سَمِعْتُ النَّاسَ یَقُوْلُوْنَ شَیْءًا فَقُلْتُہٗ

(بخاری:کتاب الوضوء۔باب من لم یتوضا الا من الغشی المثقل)

’’(اسماء رضی اﷲسورج گرہن کی صلوٰۃ ادا کرنے کا واقعہ روایت کرتی ہیں کہ) ۔۔۔میں بھی کھڑی ہوگئی یہاں تک کہ(صلوٰۃ کی طوالت سے) مجھ پر غشی طاری ہونے لگی اورمیں اپنے سر پر پانی ڈالنے لگی۔جب رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ و سلم (صلوٰۃ سے) فارغ ہوئے تو اﷲ کی حمد و ثناء فرمائی، اس کے بعد فرمایا کہ

ثُمَّ قَالَ مَامِنْ شَیْءٍ کُنْتُ لَمْ اَرَہُ اِلاَّ قَدْ رَایْتُہُ فِیْ مَقَامِیْ ھٰذَا حَتَّی الْجَنَّۃَ وَالنَّارَ

جس چیز کو میں نے کبھی نہیں دیکھا تھا اس کو آج اسی جگہ دیکھ لیا یہاں تک کہ جنت و جہنم کوبھی

وَلَقَدْ اُوْحِیَ اِلَیَّ اَنَّکُمْ تُفْتَنُوْنَ فِی الْقُبُوْرِ ۔۔۔

اور میری طرف وحی کی گئی کہ تم اپنی قبروں میں آزمائے جاؤگے دجال کے فتنے کی طرح یا اس کے قریب قریب۔۔۔

یُؤْتٰی اَحَدُکُمْ فَیُقَالُ۔۔۔

تم میں سے ہر ایک کولایا جائے گا اور اس سے کہا جائے گا کہ اس مرد کے متعلق کیا علم رکھتے ہو۔

مومن یا موقن(کہتی ہیں)مجھے یاد نہیں، کہے گا وہ اﷲ کے رسول محمداﷺہیں جو ہمارے پاس کھلی نشانیاں اور ہدایت لے کر آئے ،ہم نے ان کی بات مانی اور ایمان لائے اور پیروی کی۔ اس سے کہا جائے گا سو جا ،اس لیے کہ ہم نے جان لیا ہے کہ تو مومن ہے۔

لیکن منافق یا شک کرنے والا کہے گا کہ مجھے نہیں معلوم، میں نے تو جولوگوں کو کہتے ہوئے سنا وہی میں نے کہا‘‘۔

حدیث کے الفاظ پر غور فرمائیے کہ یہ کونسا مقام ہے جس کے متعلق بتایا گیا : یوْ تٰی اَحَدُ کُمْ ’’پھر تم میں سے ہر ایک کولایا جائے گا‘‘

قرآن و حدیث سے اس کی تشریح یہ ملتی ہے کہ ہر مرنے والے کی روح فرشتے قبض کرکے اﷲ تعالیٰ کے پاس لے جاتے ہیں:

وھوالقاہرفوق عبادہ و یرسل علیکم حفظۃحتی اذ جاء احدکم الموت توفتہ رسلنا و ھم لایفرطون ثم ردو الی اﷲ مولٰھم الحق الا لہ الحکم وھواسرع الحاسبین

(الانعام:61/62)

’’اور وہ اپنے بندوں پر غالب ہے اور تم پر نگہبان بھیجتا ہے۔ یہاں تک کہ جب تم میں سے کسی کی موت آتی ہے تو ہمارے بھیجے ہوئے (فرشتے) اسکی روح قبض کر لیتے ہیں اور وہ کوئی کوتاہی نہیں کرتے۔ پھر تم پلٹائے جاتے ہو اﷲکی طرف جو تمھارا حقیقی مالک ہے ۔سن لو کہ حکم اسی کا ہے اور وہ بہت جلد ساب لینے والاہے‘‘۔

ولوتری اذ الظلمون فی غمرات الموت والملئکۃ باسطواایدیھم اخرجو انفسکم الیوم تجزون عذاب الھون بما کنتم تقولون علی اﷲ غیرالحق و کنتم عن ایتہ تستکبرون۔ ولقدجئتمونا فرادی کما خلقنکم اول مرۃ و ترکتم ماخولنٰکم ورآء ظھورکم

(الانعام: 93/94)

’’کاش تم ظالموں کواس حالت میں دیکھ سکو جب کہ وہ سکرات موت میں ہوتے ہیں اور فرشتے ہاتھ بڑھا بڑھا کر کہہ رہے ہوتے ہیں نکالو اپنی جانوں کو،آج تمہیں ان باتوں کی پاداش میں ذلت کا عذاب دیا جائے گا جو تم اﷲپرتہمت رکھ کر ناحق کہا کرتے تھے اور اس کی آیات کے مقابلے میں سرکشی دکھاتے تھے۔اور تم تن تنہا پہنچ گئے ہمارے پاس جیسا کہ ہم نے تمہیں پہلی بار پیدا کیا تھا اور چھوڑ آئے ہو اپنی پیٹھ پیچھے جو کچھ ہم نے تم کو عطاکیا تھا‘‘۔

عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَص قَالَ اِذَا خَرَجَتْ رُوْحُ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وَّ تَقُوْلُ اَھْلُ السَّمَآءِ رُوْحٌ خَبِیْثَۃٌ جَآءَ تْ مِنْ قِبَلِ الْاَرْضِ قَالَ فَیُقَالُ انْطَلِقُوْا بِہٖ اِلٰی اٰخِرِ الْاَجَلِ

(مسلم:کتاب الجنۃ و صفۃ نعیمھا، باب عرض المقعد علی المیت و عذاب القبر)

’’جب مومن کی روح اس کے بدن سے نکلتی ہے تو اس کے آگے آگے دو فرشتے جاتے ہیں ا س کو آسمان پر چڑھاتے ہیں۔ابوہریرۃ ص نے اس کی خوشبو اور مشک کا ذکر کیا اور کہا کہ آسمان والے ( فرشتے ) کہتے ہیں کوئی پاک روح ہے جو زمین سے آئی ہے۔ اﷲ تعالی تجھ پر رحمت کرے اور تیرے جسم پرجس کو تو نے آباد رکھا۔ پھر اس کو اس کے رب کے پاس لیجاتے ہیں وہ فرماتا ہے لے جاؤ اس کو آخری وقت تک کے لیے ۔اور جب کافر کی روح نکلتی ہے تو ابوہریرۃ ص نے اس پر لعنت کا ذکر کیا اور کہا کہ آسمان والے ( فرشتے ) کہتے ہیں کہ ناپاک روح ہے جو زمین سے آئی ہے پھر حکم ہوتا ہے لے جاؤ اس کو آخری وقت تک کے لیے‘‘۔

تویہ ہے وہ مقام کہ جہاں سارے کے سارے انسان مرنے کے بعدلے جائے جاتے ہیں۔اسماء رضی اﷲ کی بیان کردہ صلوٰۃ الکسوف کی حدیث، جس کے بارے میں اہلحدیثوں نے انکشاف فرمایا ہے کہ اس میں نبی ﷺ نے پہلی دفعہ عذاب قبر کی تفصیلات سے آگاہ فرمایا،کا متن بھی اسی بات کو ثابت کرتا ہے۔

نبی ﷺ پر وحی نازل ہونے کے مختلف انداز تھے:کبھی فرشتے کے ذریعے پیغام آتا، کبھی دل میں القا کی جاتی ، کبھی خواب کے ذریعے اور کبھی وہ مناظر نبی کو دکھادیئے جاتے جن کے متعلق کچھ بتانا مقصودہوتا ۔چنانچہ اس حدیث میں وحی کایہی مؤخرالذکر انداز تھاکہ عذاب قبر کے مناظرنبی ﷺکو دکھائے گئے جس کا ثبوت قَدْ رَایْتُہُ ( میں نے اسے دیکھا) کے الفاظ ہیں ۔

عائشہ رضی اﷲ فرماتی ہیں:

۔۔۔فَقَالَ انِّیْ قَدْ رَأےْتُکُمْ تُفْتَنُوْنَ فِی اْلقُبُوْرِکَفِتْنَۃِ الدَّجَّالِ ۔۔۔ فَکُنْتُ اَسْمَعُ رَسُوْلَ اﷲِ بَعْدَ ذٰلِکَ یَتَعَوَّذُ مِنْ عَذَابِ النَّارِ وَ عَذَابِ الْقَبْرِ

(مسلم:کتاب الکسوف، باب ذکرعذاب القبر فی صلاۃ الخسوف)

۔۔۔ (نبی ﷺ نے صلوٰۃ الکسوف ادا فرمائی )پھر فرمایا:’’ میں نے یقیناًتم کو دیکھا کہ تم آزمائے جاتے ہو قبروں میں دجال کے فتنہ کی طرح‘‘ اس کے بعدمیں رسول اﷲﷺکوجہنم کے عذاب اور قبر کے عذاب سے پناہ مانگتے ہوئے سناکرتی‘‘

نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے کیا دیکھا :

اِنَّہُ عُرِضَ عَلَیَّ کُلُّ شَیْءٍ تُوْلَجُوْنَہُ، فَعُرِضَتْ عَلَیَّ الْجَنَّۃُ، حَتّٰی لَوْ تَنَاوَلْتُ مِنْھَا قِطْفًا اَخَذْتُہُ اَوْ قَالَ تَنَاوَلْتُ مِنْھَا قِطْفًا فَقَصُرَتْ یَدِیْ عَنْہُ وَعُرِضَتْ عَلَیَّ النَّارُ فَرَأیْتُ فِیْھَا امْرَأَۃً مِّنْ بَنِیْ اِسْرَاءِیْلَ تُعَذَّبُ فِیْ ھِرَّۃٍ لَّھَا، رَبَطَتْھَا فَلَمْ تُطْعِمْھَا وَلَمْ تَدَعْھَا تَأْکُلُ مِنْ خَشَشِ الْاَرْضِ وَ رَأْیْتُ اَبَا ثُمَامَۃَ عَمْرَوبْنَ مَالِکٍ یَجُرُّ قُصْبَہُ فِیْ النَّارِ ۔۔۔

(مسلم:کتاب ا لکسوف، باب ما عرض علی النبیافی صلاۃ الکسوف من امرالجنۃ والنار)

’’ ۔۔۔ پھر فرمایا کہ جتنی بھی چیزیں جن میں تم جاؤگے میرے سامنے آئیں، اور جنت تو ایسی آئی کہ اگر میں اس میں سے ایک گچھا لینا چاہتا تو ضرور ہی لے لیتا؛ یا فرمایا کہ میں نے اس میں سے ایک گچھا لینا چاہا تو میرا ہاتھ نہ پہنچا۔اور جہنم میرے آگے آئی اور میں نے بنی اسرائیل کی ایک عورت کو دیکھا کہ ایک بلی کی وجہ سے اس کو عذاب ہورہا ہے کہ اس نے بلی کو باندھا ہوا تھا ،اسے نہ تو کھانے کو دیتی اور نہ اسے کھولتی کہ وہ زمین کے کیڑے مکوڑے کھالیتی۔اور جہنم میں ابو ثمامہ عمرو بن مالک کو دیکھا کہ جہنم میں اپنی آنتیں کھینچ رہا تھا۔۔۔‘‘

۔۔۔رَاَیْتُ جَھَنَّمَ یَحْطِمُ بَعْضُھَا بَعْضًا ۔۔۔وَ رَاَیْتُ عَمْرَوبْنَ عَامِرِ الْخُزَاعِیِّ یَجُرُّ قُصْبَہٗ فِی النَّارِ کاَنَ اَوَّلُ مَنْ سَیَّبَ السَّوَآءِبَ

(بخاری:کتاب التفسیر،تفسیرسورۃ المائدۃ، باب قولہ ماجعل اﷲ من بحیرۃ ولا سائبۃ ولاوصیلۃ ولاحام،عن عائشۃ وابی ھریرۃ رضی اﷲ)

’’ میں نے جہنم کو دیکھا ،اس کا ایک حصہ دوسرے کو تباہ کر رہا تھا اور اس میں عمرو بن عامرلحی الخزاعی کو دیکھا، وہ ا پنی آنتیں کھینچ رہا تھا۔یہ وہ پہلا شخص تھا جس نے بتوں کے نام پر جانورچھوڑنے کی رسم ایجاد کی‘‘۔

بتائیے کہ یہ کونسی قبریں تھیں کہ جن میں نبی ﷺ نے عذاب ہو تے ہوئے دیکھ کر عذاب قبر سے پناہ مانگی؟ یہ زمین میں بنی ہوئی قبریں تھیں یایہ جہنم میں ملنے والے وہ مقام ہیں جن میں ایک مرنے والا قیامت تک حسب انجام عذاب پائے گا۔

نبیﷺنے جب غزوہ بدر میں مرنے والوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:

فَھل وجدتم ما وعدربکم حقا

’’ کیا تم نے پالیا اپنے رب کاوعدہ‘‘

تو عائشہ رضی اﷲ نے اس کی تشریح فرمائی کہ

حِیْنَ تَبَوّءُ وْا مَقَاعِدَھُمْ مِّنَ النَّارِ

’’ جب جہنم میں ان کو ٹھکانہ مل گیا ہوگا‘‘

(بخاری: کتاب المغازی،باب قتل ابی جہل، عن ھشام عن ابیہ)

نبی ﷺکے اس فرمان سے اس بات کی یقینی وضاحت ہوگئی کہ وہ مقام جہاں مرنے والا قیامت تک عذاب یا راحت پاتاہے، وہی وہ مقام ہے جس کے لیے اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے

ثم اماتہ فاقبرہ

جیسا کہ قرآن مجید میں مرتے ہی قومِ نوح وازواجِ نوح و لوط علیہماالسلام کے جہنم میں دا خلے، اورآل فرعون کے جہنم پر پیش کیے جانے کا ذکر فرمایا گیا ہے،تو وہی تسلسل رسول اﷲﷺکی حدیث میں بھی پایا جاتا ہے۔ جہنم (عالم برزخ) میں ہونے والے اس عذاب کو دیکھ کرنبی ﷺنے’’ عذاب قبر‘‘ سے پناہ مانگی ۔ یہی ہمارا ایمان ہے کہ عذاب قبر اس دنیاوی قبر میں نہیں بلکہ عالم برزخ میں ہوتا ہے۔

صلوٰۃ الکسوف کی یہی وہ روایات ہیں جن کے متعلق خاکی جان دامانوی نے کہا تھا کہ ان میں نبی ﷺ نے عذاب قبر کی تفصیلات بتائیں ۔

انہی روایات میں نبی ﷺ کا یہ فرمان بھی نقل کیا گیا کہ:

’’ جتنی بھی چیزیں جن میں تم جاؤے میرے سامنے آئیں، اور جنت تو ایسی آئی۔۔۔۔۔۔اور جہنم میرے آگے آئی ۔۔۔‘‘

لیکن نبی ﷺ نے کسی طور بھی اس دنیاوی زمینی قبر کا ذکر نہیں فرمایا ،بلکہ جہنم(عالم برزخ) میں ہونے والے عذاب دیکھ کر فرمایا:

’’ اور میں نے یقیناًتم کو دیکھا کہ تم آزمائے جاتے ہو قبروں میں دجال کے فتنے کی طرح‘‘

اور پھر عذاب قبر سے پناہ مانگی!

تو یہ ہے انسان کی وہ قبر جہاں وہ اس دنیا سے جانے کے بعد سے لیکر قیامت تک رہے گا، یہاں ہی اسے سزا یا جزا ملے گی۔

مرنے کے بعد سوال و جواب کہاں :

یثبت اللہ الذین اٰمنوا بالقول الثابت فی الحیٰوۃ الدنیا و فی الاخرۃ

(ابراھیم:72)

’’اللہ تعالی ایمان والوں کو اس قول ِثابت پر دنیا اور آخرت میں ثابت قدم رکھتا ہے‘‘

اس آیت کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:

يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا نَزَلَتْ فِي عَذَابِ الْقَبْرِ

’’یہ آیت عذاب قبر کے بارے میں نازل ہوئی ہے‘‘۔

( عن براء بن عازب ، بخاری، کتاب الجنائز ، بَابُ مَا جَاءَ فِي عَذَابِ القَبْرِ)

الْمُسْلِمُ إِذَا سُئِلَ فِي الْقَبْرِ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ فَذَلِکَ قَوْلُهُ يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ

(عن براء بن عازب ،بخاری، کتاب تفسیر القرآن ، باب: يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالقَوْلِ الثَّابِتِ )

’’قبر میں مسلم سے جب سوال کیا جاتا ہے تو وہ گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے علاوہ کوئی الٰہ نہیں اورمحمد صلی اللہ علیہ و سلم اللہ کے رسول ہیں،لہذا اس قول ثابت سے مراد یہی ہے کہ اللہ تعالی ایمان والوں کو دنیا و آخرت میں ثابت قدم رکھے گا‘‘۔

سوال و جواب کے بارے میں مزید حدیث :

عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ” العَبْدُ إِذَا وُضِعَ فِي قَبْرِهِ۔ ۔ ۔ حَدِيدٍ ضَرْبَةً بَيْنَ أُذُنَيْهِ، فَيَصِيحُ صَيْحَةً يَسْمَعُهَا مَنْ يَلِيهِ إِلَّا الثَّقَلَيْنِ “

( عن انس ؓ، بخاری، کتاب الجنائز ، بَابٌ: المَيِّتُ يَسْمَعُ خَفْقَ النِّعَالِ)

’’ انس ؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا: کہ بندہ جب اپنی قبر میں رکھ دیا جاتا ہے اور اس کے ساتھی رخصت ہو جاتے ہیں یہاں تک وہ سنتا ہے ان کے جوتوں کی چاپ کہ دو فرشتے اس کے پاس آتے اسے بٹھا کر کہتے ہیں: تو کیا کہتا ہے اس شخص محمد( ﷺ )کے بارے میں ، تو وہ کہتا ہے : میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ پھر وہ کہتے ہیں کہ تو اپنے جہنم کے ٹھکانے کی طرف دیکھ کہ اللہ نے تیرے لئے اسے بدل دیا ہے جنت کے ٹھکانے سے۔ پھر نبیﷺ نے فرمایا: پھر وہ ان دونوں کو دیکھے گا۔ اور کافر یا منافق کہے گا: میں نہیں جانتا میں تو وہی کہتا تھا جو لوگ کہتے تھے ، تو کہا جائے گا نہ تو جانا اور نہ ہی تو نے سمجھا، پھر لوہے کے ہتھوڑے سے اس کے کانوں کے درمیان مارا جائے گا تو وہ جیخ مارے گا اور اس کی چیخ کو جن اور انسان کے علاوہ قریب کی ساری چیزیں سنتی ہیں ‘‘۔

( نوٹ اس کے علاوہ منہال کی بیان کردہ براء بن عازب ؓ سے منسوب روایت کو ہم بنیاد نہیں بنا رہے کیونکہ وہ ضعیف اور خلاف قرآن و حدیث ہے )

پیش کردہ صحیح احادیث کا خلاصہ یہ کہ

• بندہ قبر میں رکھ دیا جاتا ہے۔

• محمد ﷺ کے بارے میں سوال کیا جاتا ہے اور دوسری حدیث میں ہے کہ ایمان کے بارے میں سوال ہوتا ہے۔

اس سے قبل اسماء ؓ والی روایت میں یہی ہے کہ یُؤْتٰی اَحَدُکُمْ فَیُقَالُ ’’ تم میں سے ہر ایک کو لایا جائے گا اور اس سے کہا جائے گا ۔ ۔ ۔ ‘‘

واضح ہوا کہ سوال و جواب ہر فوت شدہ سے ہوتا ہے، لیکن سوال و جواب کا مقام یہ زمینی قبر نہیں کیونکہ یہ تو ہر ایک کو نصیب نہیں ہوتی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

ثم اماتہ فاقبرہ

( سورہ عبس : 21)

’’ پھر اس کو موت دی اور قبر دی‘‘

یعنی جس کو موت ملی اس کو قبر ملی۔ تو یہ زمینی قبر تو پوری بدھ مت،ہندو،پارسی ،کمیونسٹ اور سوشلسٹ قوموں کو نہیں ملتی۔یہ زمینی قبر تو قوم نوح علیہ السلام و قوم لوط علیہ السلام کو نہیں ملی، موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ڈوبنے والی قوم ِ فرعون کو نہیں ملی۔مدین والوں کو اس ارضی قبر میں نہیں دفن کیا گیا ( الاعراف:۹۱، ھود۱۱) قوم ھود اس قبر میں نہیں دفن ہوئی ( احقاف:۲۵، ذاریات:۴۱۔۴۲، القمر: ۲۵، الحاقہ: ۷)قومِ ثمود کو یہ قبریں نصیب نہیں ہوئیں( الاعراف:۷۸، ھود:۶۷، العنکبوت: ۴۸)۔نہ جانے کتنی ہی قومیں مٹی کی اس قبر سے محروم رہیں تو کیا اﷲ کا حکم ثم اماتہ فاقبرہ ان قوموں پر پورا نہ ہوا؟ ان سے سوال و جواب کہاں ہوتا ہے یا عذاب قبر کہاں دئیے جاتے ہیں۔

یہی بات قرآن ب کی سورہ انعام کی آیات نمبر 61/62 ، 93/94 اور سورہ جمعہ کی آایت نمبر 8میں بیان کی گئی ہے کہ مرتے ہی انسانوں کی روح آسمانوں میں اللہ تعالیٰ کے پاس پہنچا دی جاتی ہے۔ یہی بات اس سے قبل ابوہریرۃ ؓ کی بیان کردہ حدیث میں ہے کہ ہر وفات پانے والی کے روح کو فرشتے آسمانوں میں اللہ تعالیٰ کے پاس لے جاتے ہیں۔تو یہ ہے وہ مقام جہاں مرنے کے بعدکےسارے کے سارے انسان لےجائے جاتے ہیں۔

اس حدیث کے الفاظ پر غور فرمائیے

يُؤْتَى أَحَدُكُمْ، فَيُقَالُ

’’تم میں سے ہر ایک کولایا جائے گا اور اس سے کہا جائے گا ‘‘

یعنی مرنے کے بعد سوال و جواب ہر ایک سے ہوں گے، چاہے وہ اس دنیاوی قبر میں دفنایا گیا ہو یا نہ گیا ہو، چاہے اس کا جسم جلا کر راکھ کردیا جائے یا پرندے و درندے کھا جائیں یا سمندر میں ڈوب کر سڑ گل جائے۔یہ کوئی دنیاوی مقام نہیں بلکہ جیسا کہ سور ہ انعام کی آیت میں فرمایا گیا :

وَلَقَدْ جِئْتُمُوْنَا فُرَادٰي كَمَا خَلَقْنٰكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّتَرَكْتُمْ مَّا خَوَّلْنٰكُمْ وَرَاۗءَ ظُهُوْرِكُمْ

’’ اور تم تن تنہا پہنچ گئے ہمارے پاس جیسا کہ ہم نے تمکو پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا، اور جو کچھ ہم نے تمکو عطا کیا تھا وہ سب اپنی پیٹھ پیچھے چھوڑ آئے ہو ‘‘

گویا یہ دنیا کے علاوہ کوئی اور مقام ہے۔

ابو داؤد ایک حدیث اس قبل پیش کیا جا چکی ہے کہ بنی اسرائیل کے ایک فرد نے دوسرے سے کہا کہ اللہ تجھے معاف نہیں کرے گا تو جن دونوں کی روحیں اللہ تعالیٰ کے پاس گئیں تو اللہ نے ایسا کہنے والےکو جہنم اور جسے کہا گیا تھا اس جنت میں داخل کردیا۔ گویا یہ سوال و جواب روح ہی سے ہوتے ہیں:

اِنَّ رَجُلاً کاَنَ فِیْمَنْ کاَنَ قَبْلَکُمْ اَتَاہُ الْمَلِکُ لِیَقْبِضَ رُوْحَہٗ فَقِیْلَ لَہٗ ھَلْ عَمِلْتَ مِنْ خَیْرٍ قَالَ مَا اَعْلَمُ قِیْلَ لَہٗ انْظُرْ قَالَ مَا اَعْلَمُ شَیْءًا غَیْرَ اِنِّیْ کُنْتُ اَبَایِعُ النَّاسَ فِی الدُّنْیَا وَ اُجَارِیْھِمْ فَاُنْظِرُ الْمُوْسِرَ وَ اَتَجَاوَزُ عَنِ الْمُعْسِرِ فَاَدْخَلَہُ اللّٰہُ الْجَنَّۃَ

(بخاری: کتاب الانبیاء،با ب ماذکر عن بنی اسرائیل)

’’ نبی ﷺنے فرمایا کہ) پچھلی قوموں میں ایک شخص کے پاس (موت کا)فرشتہ آیا کہ اس کی روح قبض کرے،پھر(یعنی روح قبض کرنے کے بعد) اس سے سوال کیا کہ اپنی کوئی نیکی تم کو یاد ہے؟اس نے کہا مجھے تو یاد نہیں۔ اس سے کہا گیا کہ یاد کرو، اس نے کہا مجھے اپنی کوئی نیکی یاد نہیں سوائے اس کے کہ دنیا میں لوگوں کے ساتھ خرید و فروخت کیا کرتا تھا اور لین دین کیا کرتا تھا، جو لوگ خوشحال اور مال دار نہ ہوتے انہیں میں مہلت دیا کرتا تھا اور تنگ دستوں کو معاف کردیا کرتا تھا،پس اﷲ تعالیٰ نے اس کو جنت میں داخل کردیا۔ ‘‘

واضح ہوا کہ سوال و جواب روح سے ہوتے ہیں اور روح قیامت تک کے لئے آسمانوں میں ہے۔ وہ مقام جہاں سوال و جواب ہوتے اور راحت و عذاب قبر ہوتا ہے اسی مقام کو نبیﷺ کی زبان مبارک نے ’’ قبر ‘‘ کہا۔عائشہ ؓفرماتی ہیں:

إِنَّمَا مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی يَهُودِيَّةٍ يَبْکِي عَلَيْهَا أَهْلُهَا فَقَالَ إِنَّهُمْ لَيَبْکُونَ عَلَيْهَا وَإِنَّهَا لَتُعَذَّبُ فِي قَبْرِهَا

( عن عائشہ ؓ ، کتاب الجنائز ، بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يُعَذَّبُ المَيِّتُ بِبَعْضِ بُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ» إِذَا كَانَ النَّوْحُ مِنْ سُنَّتِهِ “)

’’نبی صلی اللہ علیہ و سلم ایک (فوت شدہ)یہودی عورت کے پاس سے گذرے اسکے گھر والے اس پر رو رہے تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ”یہ لوگ اس پر رو رہے ہیں اور اسے اسکی قبر میں عذاب دیا جارہا ہے۔“

إِنَّهُمْ (یہ یہودی لوگ ) ليَبْکُونَ ( یقینا ًرو رہے ہیں ) عَلَيْهَا ( اس یہودی عورت پر )وَإِنَّهَا ( اوریہ ) لَتُعَذَّبُ ( یقینا عذاب دی جا رہی ہے ) فِي قَبْرِهَا ( اپنی قبر میں ۔

چونکہ یہ سب عالم برزخ میں ہوتا ہے اس لئے اسے اصطلاحاً برزخی قبر کہہ دیتے ہیں۔ مزید کچھ احادیث پیش کی جا رہی ہیں جن سے واضح ہوتا ہے کہ نبیﷺ کا اشارہ کس طرف تھا۔

نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے وفات سے قبل فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا سے فرمایا :

ثُمَّ سَارَّنِي فَأَخْبَرَنِي أَنِّي أَوَّلُ أَهْلِهِ يَتْبَعُهُ

( عن عائشہ ؓ ، بخاری ، کتاب المغازی ، بَابُ مَرَضِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَوَفَاتِهِ)

’’میرے گھر والوں میں سے سب سے پہلے تم مجھ سے ملوگی‘‘۔

اپنی ازواج سے فرمایا ؛

أَيُّنَا أَسْرَعُ بِکَ لُحُوقًا قَالَ أَطْوَلُکُنَّ يَدً

( عن عائشہ ؓ ، بخاری، کتاب الزکاۃ ، بَابُ فَضْلِ صَدَقَةِ الشَّحِيحِ الصَّحِيحِ )

’’تم میں سب سے پہلے مجھے وہ ملے گی جسکے ہاتھ زیادہ لمبے ہیں ( یعنی صدقہ و خیرات کرنے والی زینب ؓ)۔ ‘‘

بتائیے کہ کیا فاطمہ و زینب رضی اللہ تعالی عنہما نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی اس مدینہ والی قبر میں دفن کی گئی ہیں؟یا وہ جنت (عالم برزخ)میں نبی ﷺ سے ملی ہونگی!

حدیث میں آتا ہے کہ آدم و موسیٰ علیہما السلام میں بحث ہوئی اور اس بحث میں آدم علیہ ا لسلام غالب رہے۔

( عن ابی ہریرۃ ؓ ، بخاری، کتاب تفسیر القرآن ، بَابُ قَوْلِهِ: {فَلاَ يُخْرِجَنَّكُمَا مِنَ الجَنَّةِ فَتَشْقَى} )

بتائیے کہ آدم علیہ السلام موسیٰ علیہ السلام کی اس ارضی قبر میں آئے تھے یاپھر یہ بھی عالم برزخ کا معاملہ ہے؟

اب مزید احادیث دیکھیں ،نبیﷺ کا اپنا عمل واضح کرتا ہے کہ وہ اس زمینی قبر میں عذاب قبر ہر گز نہیں مانتے تھے۔

٭ غزوہ بدر کے موقع پر مارے گئے مشرکین کی لاشوں کو علیحدہ علیحدہ دفن کئے جانے کے بجائے ایک کنوئیں میں ڈال دیا گیا، لیکن امیہ بن خلف کا جسم ٹکڑے ٹکڑے ہو گیاتھا لہذا وہ اس میں نہیں ڈالا جاسکا۔

يَوْمَ بَدْرٍ فَأُلْقُوا فِي بِئْرٍ غَيْرَ أُمَيَّةَ بْنِ خَلَفٍ أَوْ أُبَيٍّ تَقَطَّعَتْ أَوْصَالُهُ فَلَمْ يُلْقَ فِي الْبِئْرِ۔“

( عن عبد اللہ ؓ ، بخاری ، کتاب مناقب الانصار ، بَابُ مَا لَقِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ مِنَ المُشْرِكِينَ بِمكَّةَ)

٭ ایک شخص ایمان لایا اور کاتب وحی مقرر ہوا، پھر مرتد ہو گیا اسکی موت پر لوگوں نے جب اسے دفن کیا تو زمین نے رات کو اسے باہر پھینک دیا اسی طرح تین دفعہ دفن کئے جانے کے بعد بھی جب زمین نے اسکو باہر پھینک دیا تو اس کے لوگوں نے اسے یونہی پڑا رہنے دیا۔

فَأَمَاتَهُ اللَّهُ فَدَفَنُوهُ فَأَصْبَحَ وَقَدْ لَفَظَتْهُ الْأَرْضُ فَقَالُوا هَذَا فِعْلُ مُحَمَّدٍ وَأَصْحَابِهِ لَمَّا هَرَبَ مِنْهُمْ نَبَشُوا عَنْ صَاحِبِنَا فَأَلْقَوْهُ فَحَفَرُوا لَهُ فَأَعْمَقُوا فَأَصْبَحَ وَقَدْ لَفَظَتْهُ الْأَرْضُ فَقَالُوا هَذَا فِعْلُ مُحَمَّدٍ وَأَصْحَابِهِ نَبَشُوا عَنْ صَاحِبِنَا لَمَّا هَرَبَ مِنْهُمْ فَأَلْقَوْهُ فَحَفَرُوا لَهُ وَأَعْمَقُوا لَهُ فِي الْأَرْضِ مَا اسْتَطَاعُوا فَأَصْبَحَ وَقَدْ لَفَظَتْهُ الْأَرْضُ فَعَلِمُوا أَنَّهُ لَيْسَ مِنْ النَّاسِ فَأَلْقَوْهُ

( عن انس ؓ ، بخاری ، کتاب المناقب ، بَابُ عَلاَمَاتِ النُّبُوَّةِ فِي الإِسْلاَمِ )

٭ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے مسجد نبوی کی تعمیر کیلئے جس جگہ کا انتخاب فرمایا وہاں مشرکین کی قبریں تھیں نبی ﷺ کے حکم پر وہ قبریں کھود دی گئیں،

فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقُبُورِ الْمُشْرِکِينَ فَنُبِشَتْ

( عن انس بن مالک ؓ ، بخاری، کتاب الصلاۃ ، بَابٌ: هَلْ تُنْبَشُ قُبُورُ مُشْرِكِي الجَاهِلِيَّةِ، وَيُتَّخَذُ مَكَانُهَا مَسَاجِدَ )

ذرا غور فرمائیے کہ اگر عذاب قبر اسی زمینی قبر میں ہوتا ہے تو نبی ﷺ مشرکوں کی قبروں کو کیوں کھدواتے؟ اللہ کے دشمن امیہ بن خلف کے جسم کے ٹکڑوں کو کنوئیں میں نہ ڈلواکر کیا اسے عذاب قبر سے بچا لیا؟ اور اسی طرح وہ مرتد بھی عذاب سے بچ گیا جسکے لاشے کو اسکی قبر نے باہر پھینک دیا!

نبیﷺ کے ان اعمال نے اس زمینی قبر کی حقیقت واضح کردی کہ یہ صرف جسم چھپانے کے لئے ہے ۔

قرآن و حدیث پر مبنی ان پوسٹس نے واضح کردیا کہ

· مرتے ہیں انسان کی آخرت شروع اور اس کی روح جنت یا جہنم میں داخل کردی جاتی ہے جہاں اس کی جزا و سزا اسی لمحےشروع ہو جاتی ہے۔

· جسم سے روح نکلتے ہی یہ انسانی جسم ہر قسم کے احساس سے بری ہوجاتا ہے، پھر رفتہ رفتہ سڑ گل کر مٹی بن جاتا ہے۔

· عذاب قبر عذاب الآخرۃ کا حصہ ہے اور یہ سب آسمانوں میں عالم برزخ میں ہوتا ہے۔

· قیامت کے دن یہ عذاب ختم اور پھر ان دنیاوی جسموں میں روح لوٹا کر اللہ تعالیٰ دوبارہ انہیں زندہ کرکے جنت یا جہنم میں داخل کریں گے اور پھر ان کے لئے کوئی موت نہیں۔

ان شاء اللہ اب فرقہ پرستوں کی طرف سے پھیلائی گئی مغالطہ آرائیوں کا ذکر کیا جائے گا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *