Categories
Uncategorized

ایصال ثواب قرآن و حدیث کی روشنی میں

ابتدائیہ

آج دنیا میں مختلف مذاہب و مکاتبِ فکر کے لوگ آباد ہیں ۔کوئی عیسائی ہے، کوئی یہودی اور کوئی کسی اور مذہب سے وابستہ ہے ۔اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اس نے ہمیں مسلم قوم میں پیدا فرمایا اور اپنا مسلم بنایا۔ مسلم کے معنی ہیں مطیع اور فرمانبردار ۔جب کوئی شخص اپنے آپ کو مسلم کہتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کا مطیع ہے۔یعنی وہ پابند ہے ان تمام احکامات کا جو الله تعالیٰ نے قرآن کریم میں نازل فرمائے ہیں اور جن کی واضح اور عملی تشریح نبی صلی الله عليه وسلم نے سنت کی صورت میں فرمائی ۔

اگر ہم اپنے قول وفعل کا موازنہ کریں تو ہم پر یہ بات عیاں ہو گی کہ ہمارا قول و فعل مختلف ہے ۔ہم داعی تو اس بات کے ہیں کہ ہم مطیع ہیں قرآن مجید میں نازل کیے گئے تمام احکامات کے اور پابند ہیں ان تمام باتوں کے جو احادیث کی صورت میں ہمارے پاس موجود ہیں اور اس بات پر بھی ہمارا ایمان ہے کہ نبی صلی الله عليه وسلم کی اطاعت و اتباع ہی اصل دین ہے اور اس سے انحراف یا اس میں اضافہ یا ترمیم محض الحاد و گمراہی اور شرک کی طرف لے جاتا ہے ۔ مگر افسوس کہ یہ ساری باتیں صرف بتانے کی حد تک ہی رہتی ہیں اسکے علاوہ عملی زندگی میں انکا کوئی خیال نہیں رکھا جاتا ۔ہم اگر اس نام نہاد امت مسلمہ میں پائے جانے والے مختلف فرقوں پر نگاہ ڈالیں تو ان کے عقائدونظریات ،اعمال و رسومات کفروشرک اور بدعات سے آلودہ نظر آئیں گے ۔اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کے مقابلے میں دین تصوف پھیلایا گیا، شریعت کی جگہ طریقت نے لے لی اور قرآن وحدیث کے مقابلے میں مسالک کے اکابرین کے فتوے آج دین کی بنیاد بن گئے اور اسطرح یہ نام نہاد امت مسلمہ رب ذوالجلال کے قہر و غضب کا شکار ہوئی ۔معاذ اللہ!

اسی دینی انحطاط کا نتیجہ ہے کہ انقلابی پیغام کی حامل اور منصب امامت پر فائز کی گئی یہ امت عملی اور اخلاقی اعتبار سے پستیوں میں جا گری اور اقوام عالم میں ذلت و رسوائی اسکا مقدر بن گئی ۔مقصد حیات کے شعور اور اعلیٰ نصب العین سے نابلد ہو کر لگے بندھے دین، توہم پرستی اور جاہلانہ رسومات ہی کو تقویٰ اور اللہ اور اس کے رسول اللہ صلی الله عليه وسلم کی محبت کا معیار سمجھا جانے لگا ۔ قرآن وحدیث کی تعلیمات کے برعکس نظریات وعقائد گھڑے اور پھیلائے گئے،  نئے نئے طریقے ایجاد کئے اور ان پر نمائشی اور مصنوعی حُب رسول صلی الله عليه وسلم کی ملمع سازی کی گئی اور اس کے ذریعے لوگوں کو فریب دیا گیا ۔ ان باطل نظریات اور شیطانی رسومات کی وہ دھوم ہے کہ قرآن وسنت کے دین کی دعوت دینے والا آج بالکل اجنبی اور اور فرمانِ رسول صلی الله عليه وسلم کا مصداق بن گیا ہے کہ :

بد الاسلام غریبا وسیعود کما بدء غریبا فطوبٰی للغرباء

(صحیح مسلم۔کتاب الایمان ۔باب ان الاسلام بدا غریبا)

“اسلام اجنبی حیثیت سے شروع ہوا تھا اور پھر ویسا ہی اجنبی ہو جائے گا جیسے شروع ہوا تھا، تو خوشخبری ہے ان کے لئے جو (اسکو قبول کرکے) اجنبی ہو جائیں “۔

ان ہی من گھڑت رسومات میں سے یہ “فاتحہ خوانی” اور “نذرونیاز” کی رسومات ہیں جو ایصالِ ثواب کے باطل نظریے پر مبنی ہیں ۔کون نہیں جانتا کہ نبی صلی الله عليه وسلم کے بتائے ہوئے طریقے سے ہٹ کر کوئی بھی ایسا عمل جو عبادت کے طور پر کیا جائے وہ “بدعت” ہے اور ہر بدعت گمراہی اور ہر گمراہی واصلِ جہنم ہے ۔اپنے اعمال کا جائزہ لینے پر پتا چلتا ہے کہ آج یہ امت فکروعمل کے لحاظ سے قرآن وسنت سے بہت دور ہو چکی ہے ۔ “ایصالِ ثواب” کے عقیدے کو ہی لیں قرآن وحدیث کا واضح انکار ہے ۔ آئیے سب سے پہلے اس بات کا مطالعہ کریں کہ انسان کو مرنے کے بعد کس بات کا ثواب ملتا ہے ۔

 انسان کو مرنے کے بعد کس بات کا ثواب ملتا ہے؟

اَلَّا تَزِرُ وَازِرَۃٌ  وِّزۡرَ اُخۡرٰی ﴿ۙ۳۸﴾ وَ اَنۡ  لَّیۡسَ لِلۡاِنۡسَانِ  اِلَّا مَا سَعٰی ﴿ۙ۳۹﴾ وَ اَنَّ سَعۡیَہٗ  سَوۡفَ یُرٰی ﴿۪۴۰﴾ ثُمَّ  یُجۡزٰىہُ  الۡجَزَآءَ ا لۡاَوۡفٰی ﴿ۙ۴۱﴾

(النجم:38 تا 41)

“کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گا اور یہ کہ انسان کو وہی ملتا ہے جس کی وہ کوشش کرتا ہے اور یہ کہ اسکی کوشش دیکھی جائے گی، پھر اسکو پورا پورا بدلہ دیا جائے گا ۔”

ان آیات میں سب سے پہلے اس بات کی وضاحت کر دی گئی کہ ایک انسان کے عمل کا بدلہ کسی اور کو نہیں دیا جائے گا ۔پھر یہ وضاحت کی گئی کہ انسان کو صرف وہی ملتا ہے جس کے لیے اس نے خود کوشش کی اور اس نے اپنے عمل کو جس لگن اور جستجو سے انجام دیا ہوگا اسی حساب سے اس کو جزا دی جائے گی ۔سورۃ البقرة میں مالک کائنات فرماتا ہے:

وَ بَشِّرِ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَہُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ ؕ

(البقرة :25)

“اور خوشخبری سنا دو ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے کہ ان کے لیے ایسے باغ (جنتیں) ہیں جن کے نیچے نہریں رواں ہوں گی”۔

سورۃ الاعراف میں مزید وضاحت کی گئی کہ جس وقت ایمانِ خالص کے حامل مؤمنین جنت میں داخل کیے جائیں گے تو

وَ نُوۡدُوۡۤا اَنۡ تِلۡکُمُ الۡجَنَّۃُ  اُوۡرِثۡتُمُوۡہَا بِمَا کُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ

(الاعراف:43)

“اور انھیں ندا دی جائے گی کہ یہ جنت جس کے تم وارث بنائے گئے ہو تمہیں ان اعمال کے بدلے میں ملی ہے جو تم کرتے رہے تھے “۔

ان آیات نے اسی بات کو مزید واضح کر دیا کہ ایک شخص کا جنت میں داخلہ ان اعمال کی وجہ سے ہوگا جو خود اس نے ایمان لانے کے بعد کیے ہوں گے، ان اعمال کی وجہ سے ہرگز نہیں جو کسی اور نے کیے ہوں۔ (جنت میں داخلہ الله تعالیٰ کی رحمت کی وجہ سے ہوگا، اور رحمت بھی اسی پر ہو گی جس نے ایمان لا کر نیک عمل کئے ہوں گے )

آج اگر کسی کے گھر میں کوئی وفات پا جاتا ہے تو وہاں قرآن خوانی شروع کر دی جاتی ہے، مرنے والے کے لیے ایصالِ ثواب کے لئے تسبیح دانوں پر، چنوں، بیجوں اور گٹھلیوں پر اللہ کے نام کا ورد جاری کر دیا جاتا ہے ۔پھر تیسرے دن اس کا سوئم، پھر دسویں اور چالیسویں کا اہتمام کیا جاتا ہے ۔خود کو مسلم کہلانے والو!  ذرا سوچو تو سہی کہ یہ طریقہ تمہیں کس نے بتایا ہے؟  کیا قرآن کریم کی ہزاروں آیات میں سے کسی ایک آیت میں بھی اسطرح کا حکم موجود ہے؟ کیا احادیث کے وسیع ذخیرے میں اسطرح کا کوئی عمل ملتا ہے جو تم نے اپنایا ہوا ہے؟  کیا اللہ کے نبی صلی الله عليه وسلم کی حیات میں ان کی زوجہ، بیٹوں، نواسے اور دیگر صحابہ کی وفات نہیں ہوئی تھی؟ کیا نبی صلی الله عليه وسلم کی وفات کے موقع پر کوئی قرآن مجید کا پڑھنے والا موجود نہ تھا کہ قرآن خوانی کی جاتی؟  صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کی وفات پر کس کس تابعی نے قرآن ختم کیا تھا، تابعین کی وفات پر تبع تابعین نے کتنے قرآن پڑھے تھے؟ آخر جس عمل کا قرآن وحدیث اور پھر صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کی زندگیوں اور بعد میں تابعین و تبع تابعین کے دور میں کوئی وجود نہ ملتا ہو تو وہ آج اسلام کا حصہ کیسے بن گیا؟ سوچو تو آخر یہ کس کی اتباع ہے؟ کیا اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی الله عليه وسلم کے بتائے ہوئے طریقہ کو چھوڑ کر کسی دوسرے طریقے کو گھڑنے اور اس کے مطابق عمل کرنے والے ہی کو مسلم کہتے ہیں؟

اس امت میں پھیلایا گیا “ایصالِ ثواب” کا عقیدہ تو درکنار یہ اصطلاح اور عمل بھی قرآن وحدیث میں کہیں بیان نہیں کیا گیا۔ “ایصال” کے معنی “بھیجنا” یا “ارسال” کرنا اور “ثواب” کے معنی “کسی اچھے عمل کی جزا” کے ہیں جو الله تعالیٰ کی طرف سے ملے گی ۔اوپر تحریر کی گئی قرآنی آیات میں یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ ایک عمل کرنے والے کو ہی اس کا بدلہ ملتا ہے کسی اور کو نہیں، یعنی ایک مردہ کسی بھی حالت میں کسی دوسرے کے عمل کے “بدلے” کا دعویدار نہیں ہو سکتا۔

سورۃ نجم کی آیت میں اس بات کی وضاحت کر دی گئی ہے کہ عمل کرنے والے کی نیت دیکھی جائے گی اور پھر اس کا بھرپور بدلہ دیا جائے گا ۔گویا پہلے تو یہ معلوم ہو جائے کہ محلے والے، دفتر والے، اور دیگر رشتہ دار صرف حاضری لگانے آئے تھے یا ان کی نیت کچھ اور تھی یعنی ابھی جس چیز کا ثواب طے ہی نہیں ہوا وہ منتقل کیسے کر دیا گیا؟ قرآن خوانی میں کون صرف دنیا والوں کو دکھانے کے لئے صفحے پلٹ رہا تھا، کون پڑھنے میں غلطیاں کر رہا تھا؟ یہ تو الله ہی کو معلوم ہے ۔تو کیا ان غلطیوں کا عذاب بھی منتقل ہو گیا؟ کیا قرآن وحدیث میں اس طرح کا ثواب منتقل کرنے کا عقیدہ موجود ہے؟ اگر حقیقت کی نگاہ سے ان سب باتوں کا جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ “ایصالِ ثواب” کی یہ بناوٹی اصطلاح خود اپنے لفظی معنی ہی سے رد ہو جاتی ہے ۔اس بارے میں چند احادیث ملاحظہ ہوں

انس بن مالک یقول قال رسول اللہ صلی الله عليه وسلم یتبع المیت ثلٰثة فيرجع اثنان و يبقٰي معه و احد يتبعه اهله و ماله و عمله فيرجع اهله و مالهه يبقي عمله۔

(صحیح بخاری۔کتاب الرقاق۔باب سکرات الموت)

“انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی الله عليه وسلم نے فرمایا کہ میت کے پیچھے تین چیزیں جاتی ہیں، دو واپس آ جاتی ہیں اور ایک اس کے ساتھ رہ جاتی ہے ۔اسکے پیچھے اسکے گھر والے اور مال اور اس کا عمل جاتے ہیں، پھر اس کے گھر والے اور اس کا مال تو واپس آ جاتے ہیں اور اس کا عمل باقی رہ جاتا ہے۔”

عن ابي هريرة رضي الله تعالى عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال اذا مات الانسان لنقطع عنه عمله الا من ثلاثة الا من صدقة جارية او علم ينتفع به او ولد صالح يدعو له۔

(مسلم۔ کتاب الوصیت۔باب ما یلحق الانسان من الثواب بعد وفاته)

“ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی الله عليه وسلم نے فرمایا جب انسان مر جاتا ہے تو اس کا عمل اس سے منقطع ہو جاتا ہے سوائے تین چیزوں کے : صدقہ جاریہ، یا وہ علم جس سے فائدہ اٹھایا جائے یا نیک بیٹا جو اس کے لئے دعا کرے”۔

“عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ دَعَا إِلَى هُدًى كَانَ لَهُ مِنْ الْأَجْرِ مِثْلُ أُجُورِ مَنْ تَبِعَهُ لَا يَنْقُصُ ذَلِكَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا وَمَنْ دَعَا إِلَى ضَلَالَةٍ كَانَ عَلَيْهِ مِنْ الْإِثْمِ مِثْلُ آثَامِ مَنْ تَبِعَهُ لَا يَنْقُصُ ذَلِكَ مِنْ آثَامِهِمْ شَيْئًا ۔

( صحیح مسلم۔کتاب العلم۔باب من سنه حسنه او سيئه)

“ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص ہدایت کی طرف بلائے اسکو ویسا ہی اجر ملے گا جیسا کہ اس ہدایت پر عمل کرنے والوں کو اور عمل کرنے والوں کے ثواب میں کوئی کمی نہ ہو گی ، اور جو شخص گمراہی کی طرف بلائے گا تو اس کو برائی پر عمل کرنے والوں کے برابر گناہ ہو گا اور عمل کرنےوالوں کے گناہوں میں کچھ کمی نہ ہو گی”۔

گزشتہ سطور میں بیان کردہ قرآنی آیات اور مندرجہ بالا احادیث سے یہ بات واضح ہو گئی کہ اگر مرنے والا مومن تھا تو مرنے کے بعد اسے جن چیزوں کا ثواب ملتا رہے گا وہ یہ ہیں :

(1) اس کے وہ تمام اعمال جو اس نے اپنی حیات میں کیے تھے ۔

(2) صدقہ جاریہ : یعنی جاری رہنے والی نیکی مثلا کسی مومن نے اگر اپنی زندگی میں کوئی مسجد، کوئی سبیل، کنواں، مسافر خانہ، سرائے تعمیر کرائی تھی یا اسطرح کا کوئی رفاہِ عامہ کا کام اللہ کے لئے کیا تھا تو جب تک لوگ اس کے اس فعل سے مستفیض ہوتے رہیں گے اس شخص کو اس کا ثواب برابر ملتا رہے گا حتیٰ کہ وفات کے بعد بھی (کیونکہ یہ کسی اور کے اعمال نہیں بلکہ یہ تو اس کا اپنا عمل ہے )۔

(3) علم جس سے فائدہ اٹھایا جائے : کسی مومن نے اپنی زندگی میں کوئی ایسی تحریر لکھی جس کو پڑھ کر لوگوں نے اپنا عقیدہ وعمل درست کر لیا اور ہدایت کی راہ کو پا لیا، یا اس نے لوگوں کو، اپنی اولاد کو، رشتہ و قرابت داروں کو قلم کے علاوہ اپنی زبان سے اللہ کی طرف دعوت دی ہو، ایمان خالص و عمل صالح کی طرف بلایا ہو، انہیں اسلامی تعلیمات سے روشناس کرایا ہو، اسلامی خطوط پر ان کی تربیت کی ہو، قرآن وحدیث کا انہیں علم دیا ہو تو جب تک یہ لوگ اس کی بتائی ہوئی یا لکھی ہوئی باتوں پر عمل پیرا رہیں گے تو اسے اس کا ثواب ملتا رہے گا حتیٰ کہ وفات کے بعد بھی (کیونکہ یہ ساری اسکی اپنی کوشش تھی)۔

(4) نیک بیٹا ( اولاد ) جو اس کے لئے دعا کرے : اگر اولاد کی تربیت قرآن وحدیث کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق کی ہے اور اس کی یہی کوشش ہے کہ اس کی اولاد مومن و متقی بن کر زندگی گذارے تو یہی اولاد اپنے والدین کی وفات کے بعد اگر ان کے لئے اللہ تعالیٰ سے دعا کرے تو انکو بےشک اس سے فائدہ پہنچتا ہے ۔ دیگر احادیث سے بھی یہ بات ثابت ہے کہ اولاد کو صالح عمل کا جتنا اجر ملتا ہے اتنا ہی ان کے مومن والدین کو بھی ملتا ہے کیونکہ ان کی تعلیم وتربیت وغیرہ سب امور ماں باپ کے خود اپنے عمل کا نتیجہ ہوتے ہیں ۔

یہ بات ذہن نشین رہے کہ وہ تمام اعمال خیر جو اوپر بیان کردہ طریقے کے مطابق ایک مومن کے کھاتے میں اس کی موت کے بعد جمع ہوتے رہتے ہیں، انہیں کہیں بھی اللہ تعالیٰ یا اد کے رسول صلی الله عليه وسلم نے “ایصالِ ثواب” کے نام سے بیان نہیں کیا، اور نہ ہی کہیں کوئی ایسا طریقہ بتایا گیا ہے کہ ایک نیک عمل کرکے کوئی اپنے فوت شدہ والدین کو بخش دے، بلکہ بتایا تو یہ گیا ہے کہ اولاد نے صلوۃ ادا کی تو مومن والدین کے کھاتے میں بھی اتنا ہی ثواب جمع ہو گیا، اسی طرح صدقہ جاریہ میں ایک مومن کو کنواں کھدوانے کا ثواب اس وقت تک ملتا رہے گا جب تک لوگ اس سے پانی حاصل کرتے رہیں گے، اس کے لئے یہ طریقہ نہیں بتایا گیا کہ جب کوئی اس کنوئیں سے پانی پئے اور اس کو بخشے تو اس کو اس کا ثواب ملے گا، اور اسی طرح ایک کتاب کے ذریعے لوگ جب تک رہنمائی حاصل کرتے رہیں گے تو ثواب اس کے مصنف کو ملتا رہے گا۔ شریعت صرف یہی بیان کرتی ہے کہ مرنے والے کے کام صرف اسی کے اعمال آتے ہیں، البته فوت شدہ مومن کے لئے دعائے مغفرت بھی قرآن وحدیث سے ثابت ہے۔ لیکن مشرک کے لئے دعائے مغفرت کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے سختی سے منع فرما دیا ہے ۔

مشرکین کے لئے مغفرت:

رب کائنات فرماتا ہے :

مَا کَانَ لِلنَّبِیِّ وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَنۡ یَّسۡتَغۡفِرُوۡا لِلۡمُشۡرِکِیۡنَ وَ لَوۡ کَانُوۡۤا اُولِیۡ قُرۡبٰی مِنۡۢ بَعۡدِ مَا تَبَیَّنَ لَہُمۡ اَنَّہُمۡ اَصۡحٰبُ الۡجَحِیۡمِ

(التوبة: 113)

“نہیں زیبا نبی کو اور جو لوگ ایمان لائیں کہ وہ استغفار کریں مشرکوں کے لیے خواہ وہ انکے قریبی رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں، جب کہ ان پر یہ بات واضح ہو چکی ہو کہ وہ جہنمی ہیں “۔

وَ لَا تُصَلِّ عَلٰۤی اَحَدٍ مِّنۡہُمۡ مَّاتَ اَبَدًا وَّ لَا تَقُمۡ عَلٰی قَبۡرِہٖ ؕ

( التوبة :84)

“ان میں سے کوئی مر جائے تو تم نہ انکی صلوۃ (جنازہ) ادا کرنا اور نہ انکی قبر پے کھڑے ہونا”۔

صلوۃ المیت (نماز جنازہ) بھی دعائے مغفرت ہے، اس لئے لازم ہے کہ الله تعالیٰ کے حکم کی خلاف ورزی سے بچا جائے اور اس قسم کے اعمال میں ملوث کسی بھی شخص کے لئے مغفرت نہ کریں ۔گویا یہ خصوصی انعام (یعنی دعائے مغفرت ) صرف مومنین کے لئے ہے کیونکہ انہوں نے اپنی زندگی الله تعالیٰ کی اطاعت میں اور قرآن وحدیث کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق آراستہ کی تھی ۔مرنے والے مومن کے لئے جب دعائے مغفرت کی جائے اور وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں قبول ہو جائے تو اس کو اس کا فائدہ ہوتا ہے ۔یہاں یہ بات بھی واضح کر دینی ضروری ہے کہ ہمارے یہاں دعائے مغفرت کے طور پر تین مرتبہ سورۃ فاتحہ و سورۃ اخلاص وغیرہ پڑھنے کا جو طریقہ رائج ہے وہ صریح بدعت ہے ۔اس قسم کے کسی عمل کی کوئی مثال رسول اللہ صلی الله عليه وسلم یا آثارِ صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین میں نہیں ملتی۔اب ہم اس بات کا جائزہ لیتے ہیں کہ اس قسم کے کاموں میں شرکت کس کی پیروی ہے اور اس وجہ سے ہم کس قدر جہنم کے قریب ہو جاتے ہیں ۔

ایصالِ ثواب کے نام پر کئے جانے والے اعمال کس کی پیروی ہیں؟

ہندؤں میں جب کوئی مر جاتا ہے تو پنڈت کو بلایا جاتا ہے اور وہ اشلوک پڑھتا ہے ۔یہ عمل تیسرے، دسویں، اور چالیسویں دن اور پھر سال پورا ہونے پر کیا جاتا ہے ۔شیعوں میں مرنے والے کے لئے اسی طرح مرثیہ خوانی ہوتی ہے جس کو “عزاداری” کہتے ہیں ۔ہندؤں کا عقیدہ یہ ہے کہ جب تک مرنے والے کے لئے اشلوک نہ پڑھا جائے اور دان پُن (صدقہ وخیرات ) نہ کی جائے تب تک مرنے والے کی روح کھانے کی منتظر رہتی ہے ۔بدقسمتی سے اس امت میں ایصالِ ثواب کا یہی طریقہ رائج کر دیا گیا ہے کہ کسی کے مرنے پر لوگوں کو جمع کیا جائے قرآن پڑھ کر مردے کو بخش دیا جائے، کھانا پکایا جائے اور سب کو جمع کر کے کھلا دیا جائے ۔دیکھئیے قرآن وحدیث کو چھوڑ کر کس انداز میں ہندومت کی پیروی کی جا رہی ہے ۔جبکہ مالک کائنات کا ارشاد ہے :

لَقَدۡ کَانَ لَکُمۡ فِیۡ رَسُوۡلِ اللّٰہِ اُسۡوَۃٌ حَسَنَۃٌ لِّمَنۡ کَانَ یَرۡجُوا اللّٰہَ وَ الۡیَوۡمَ الۡاٰخِرَ وَ ذَکَرَ اللّٰہَ کَثِیۡرًا

(الاحزاب:21)

“بلاشبہ تمہارے لئے رسول اللہ کا اسوہ بہترین نمونہ ہے، ہر اس شخص کے لئے جو الله اور یومِ آخرت کا امیدوار ہو اور کثرت سے اللہ کا ذکر کرتا ہو”۔

وَ مَاۤ اٰتٰىکُمُ الرَّسُوۡلُ فَخُذُوۡہُ ٭ وَ مَا نَہٰىکُمۡ عَنۡہُ فَانۡتَہُوۡا ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰہَ ؕ اِنَّ اللّٰہَ شَدِیۡدُ الۡعِقَابِ

(الحشر:7)

“اور رسول جو تم کو دے وہ لے لو اور جس چیز سے منع کرے اس سے رک جاؤ، اور اللہ سے ڈرو، اللہ بہت سخت عذاب دینے والا ہے “۔

ربِ کائنات کا حکم ہے کہ میرے رسول صلی الله عليه وسلم کی پیروی اختیار کرو ورنہ سخت عذاب تمہارا مقدر بن جائے گا ۔اب سوچئے ہم اپنے آپ کو امت محمدیہ کہلواتے ہیں ۔کیا نبی صلی الله عليه وسلم کا امتی ایسا ہی ہوتا ہے کہ نام تو نبی صلی الله عليه وسلم کا لے اور طریقہ ہندؤں کا اختیار کرے؟ کیا ہم قرآن وسنت سے ہٹ کر آج کل کے مولویوں کے بتائے ہوئے طریقہ پر چل کر اللہ کی پکڑ سے بچ جائیں گے؟ اللہ تعالیٰ سورۃ لقمان میں فرماتا ہے :

یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اتَّقُوۡا رَبَّکُمۡ وَ اخۡشَوۡا یَوۡمًا لَّا یَجۡزِیۡ وَالِدٌ عَنۡ وَّلَدِہٖ ۫ وَ لَا مَوۡلُوۡدٌ ہُوَ جَازٍ عَنۡ وَّالِدِہٖ شَیۡئًا ؕ

(لقمٰن:33)

“اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو اور اس دن کا خوف کرو جب نہ تو باپ اپنے بیٹے کے کچھ کام آئے گا اور نہ بیٹا ہی باپ کے کچھ کام آ سکے گا “۔

یعنی قیامت کے دن ایسا نہ ہوگا کہ کوئی شخص یہ کہے کہ میں نے اپنے باپ کے مرنے پر جو اتنے قرآن ختم کرائے تھے ان کا ثواب کہاں گیا؟ یا کوئی شخص یہ مطالبہ کر سکے کہ میرے مرنے پر کھانا کھلا کر جو ثواب بخشا گیا تھا وہ مجھے کیوں نہیں دیا گیا ۔ سوچیئے تو سہی کس قدر حیرت کا مقام ہے کہ اگر کسی مرنے والے کو اس بات کا عذاب دیا جاتا ہے کہ وہ قرآن کریم نہیں پڑھتا تھا تو کیا وہ عذاب صرف اس وجہ سے ختم کر دیا جائے گا کہ مرنے کے بعد اس کی برادری نے اس کی طرف سے بے شمار قرآن ختم کر دیئے تھے؟ ارشاد ربانی ہے :

الَّذِیۡ خَلَقَ الۡمَوۡتَ وَ الۡحَیٰوۃَ لِیَبۡلُوَکُمۡ اَیُّکُمۡ اَحۡسَنُ عَمَلًا ؕ

(الملک:2)

“اسی نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ تمہاری آزمائش کرے کہ تم میں سے کون اچھے کام کرتا ہے “۔

یعنی یہ زندگی آزمائش کے لئے دی گئی ہے کہ تم میں کون صالح بن کر رہتا ہے اور کون نافرمانی کی روش اختیار کرتا ہے، اور تمہارے انہی اعمال کے حساب سے تمہاری جزاوسزا ہے ۔لیکن ہم نے ایصالِ ثواب کے عقیدے کو اپنا کر اللہ تعالیٰ کے اس قانون کو رد کر دیا ہے! اور گویا یہ باور کر لیا ہے کہ مردے کو عذاب سے بچانا اور جنت میں داخل کرانا اب ہمارے اختیار میں دے دیا گیا ہے! اب ہم جس کی طرف سے چاہیں نیک عمل کریں اور اسے جنت میں داخل کرا دیں! کیا یہ اللہ کی آیات کا انکار نہیں؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

وَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا وَ کَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓئِکَ اَصۡحٰبُ النَّارِ ۚ ہُمۡ فِیۡہَا خٰلِدُوۡنَ

(البقرة :39)

“اور وہ لوگ جنہوں نے ہماری آیات سے انکار کیا اور انہیں جھٹلایا، یہی جہنمی ہیں جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے “۔

الغرض اس عقیدے کو اپنانا قرآن وسنت کا انکار کرنا ہے اور یہ کسی انداز سے بھی خیرالقرون سے ثابت نہیں ہے ۔یہ باتیں جب مولوی صاحبان کے سامنے بیان کی جاتی ہیں اور وہ اس کے حق میں قرآن کا کوئی حوالہ دے نہیں پاتے تو فوراً “بزرگانِ دین” کا حوالہ دے دیتے ہیں کہ یہ ان لوگوں سے ثابت ہے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ دین میں حجت تو قرآن وحدیث ہیں ۔ جس میں اللہ اور اس کے رسول صلی الله عليه وسلم کا فرمان ہے، پھر صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین سے بڑھ کر بھی کوئی “بزرگانِ دین” ہو سکتا ہے جن سے راضی ہونے کا اعلان خود اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب قرآن مجید میں فرما دیا ہے ۔اگر ہم صحیح معنوں ميں مسلم ہیں تو انہی کی پیروی کریں گے ۔اگر یہی اسلام ہے جو ان فرقہ پرستوں کے بقول بزرگانِ دین کا طریقہ ہے تو آج سے چودہ سو سال پہلے جو قوانین اور احکامات اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائے تھے جن کے مطابق رسول اللہ صلی الله عليه وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے عمل کرتے ہوئے کسی مرنے والے کے لئے نہ قرآن خوانی کی، نہ کھانا پکا کر اپنے قبیلے والوں کو جمع کیا، نہ ہی سوئم کی محفل منعقد کی، نہ دسواں اور چالیسواں ہوا۔ تو آخر وہ کونسا مذہب تھا؟ اگر یہ ایمان ہے کہ وہی دینِ اسلام ہے تو پھر آج “ایصالِ ثواب” کے عقیدے کے حاملین کونسے مذہب سے وابستہ ہیں؟ ہر وہ حکم وعمل جو قرآن وسنت کے منافی ہے طاغوتی حکم کہلاتا ہے اور طاغوت کی پیروی کا انجام جہنم کی دھکتی آگ ہے ۔اس آگ سے بچنے کا صرف ایک ہی طریقہ ہے یعنی اتباع سنتِ رسول صلی الله عليه وسلم ۔ ہمیں انکا یہ فرمان بھی ہرگز نہ بھولنا چاہئے کہ :

عن ابی هريرة رضي الله تعالى عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال كل امتي يدخلون الجنة الا من ابيٰ قالوا يارسول الله صلى الله عليه وسلم ومن يابی قال من اطاعنی دخل الجنة ومن عصانی فقد ابیٰ۔

( بخاری ۔کتاب الاعتصام۔ باب الاقتداء بسنن رسول صلی الله عليه وسلم )

“ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی الله عليه وسلم نے فرمایا کہ میری ساری امت جنت میں داخل ہو گی سوائے اس کے جس نے انکار کیا ۔ صحابہؓ نے پوچھا انکار کرنے والا کون ہے؟ آپ نے فرمایا جس نے میری اطاعت کی وہ جنت میں داخل ہو گا اور جس نے نافرمانی کی اسی نے انکار کیا “۔

عقیدہ ایصالِ ثواب کے بارے میں مسلک پرستوں کی مغالطہ آرائیاں

عقیدہ “ایصالِ ثواب” کے سلسلے میں کتاب الله سے دلائل پیش کردینے کے بعد اس بات کی کوئی ضرورت نہیں رہ جاتی کہ ان باتوں کو بھی زیر بحث لایا جائے جن کو بنیاد بنا کر یہ باطل عقیدہ امت میں پھیلایا گیا ہے ۔مگر اس بیان کے بعد مختلف افراد کی طرف سے کچھ سوالات اٹھائے گئے ۔چنانچہ انکی تشفی کے لیے اب ان نکات پر بھی بحث کرنا ضروری ہو گیا ہے جنہیں اس عقیدے کے موجدوں اور مبلغوں نے تحریری صورت میں پیش کیا ہے اور جس کی وجہ سے لوگ تذبذب اور ذہنی انتشار کا شکار ہونے لگے ۔یہ ضمیمہ اسی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے مرتب کیا گیا ہے تاکہ قرآن وحدیث کے ذریعے واضح کر دیا جائے کہ حقیقت کیا ہے ۔جو سوالات اٹھائے گئے ہیں ان سب میں کسی نہ کسی کتاب یا تفسیر کا حوالہ دیا گیا ہے جس میں ایصالِ ثواب کو جائز قرار دیا گیا ہے اور اپنے زعم میں احادیث سے اس کا ثبوت بھی دینے کی کوشش کی گئی ہے ۔لہذا ان نکات کی وضاحت کتاب الله سے کی جاتی ہے :

قرآن کریم کے حوالے سے پھیلائی گئی مغالطہ آرائی

احادیثِ نبی صلی الله عليه وسلم کے حوالے سے ایصالِ ثواب کو ثابت کرنا

دعائے مغفرت

دیگر دلائل

عقلی دلائل

قرآن خوانی

قرآن کریم کے حوالے سے پھیلائی گئی مغالطہ آرائیاں :

عقیدہ ایصالِ ثواب کے باطل ہونے کے ثبوت میں ہم نے سورۃ النجم کی چند آیات کے ذریعے اللہ تعالیٰ کا واضح حکم سنایا تھا :

اَلَّا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزۡرَ اُخۡرٰی ﴿ۙ﴾ وَ اَنۡ لَّیۡسَ لِلۡاِنۡسَانِ اِلَّا مَا سَعٰی ﴿ۙ﴾ وَ اَنَّ سَعۡیَہٗ سَوۡفَ یُرٰی ﴿۪﴾ ثُمَّ یُجۡزٰىہُ الۡجَزَآءَ الۡاَوۡفٰی ﴿ۙ﴾

(النجم:38 /41)

“کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گا اور یہ کہ انسان کو وہی ملتا ہے جس کی وہ کوشش کرتا ہے اور یہ کہ اسکی کوشش دیکھی جائے گی، پھر اسکو پورا پورا بدلہ دیا جائے گا ۔”

مگر اس آیت کے بارے ميں دارالعلوم دیوبند کے صدر مفتی محمود الحسن گنگوہی صاحب فتویٰ صادر فرما گئے ہیں کہ :

“آیت للانسان الا ما سعی کو حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ والذین اٰمنوا واتبعتھم ذريتهم بايمان الحقنا بهم سے منسوخ ہے ۔”(فتویٰ محمودیہ ۔جلد1۔ صفحہ 43)

اسی قسم کے مضمون پر مشتمل ایک تفسیری اقتباس کی فوٹو کاپی ایک صاحب نے بھیجی ہے جو درج ذیل ہے :

“صحیح قول یہ ہے کہ صحف ابراھیم وموسٰی میں جو لیس للانسان الا ما سعی کا حکم تھا اس سے مراد یہ ہے کہ نماز، روزہ، صدقہ، حج اور تمام نیکیوں کا ثواب صرف کرنے والے کو ملے گا اور دوسرے کو نہیں پہنچے گا ۔لیکن یہ حکم امت موسیٰ و ابراہیم کے لئے مخصوص تھا، امت اسلامیہ مرحومہ کے لئے اس حکم کو منسوخ کر دیا گیا اور آیت والذين امنوا واتبعتهم ذريتهم بايمان الحقنا بهم اسکی ناسخ ہے۔” (تفسیر مظھری اردو جلد یازدھم ۔ صفحہ 178)

محولہ بالا تفسیر قاضی ثناءاللہ پانی پتی (متوفی 1225ھ) نے تحریر فرمائی اور اپنے شیخ طریقت مرزا مظہر جانِ جاناں دہلوی کے نام کی مناسبت سے اس کا نام “تفسیر مظہری” رکھا۔ قاضی صاحب نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ ایک نیک عمل کا بدلہ صرف اس عمل کرنے والے ہی کو ملے گا دوسرے کو نہیں (یہی بات ہم نے بیان کی تھی ) مگر ان کا موقف یہ ہے کہ :

1: یہ حکم ابراہیم وموسی علیہما السلام کی امتوں کے لئے مخصوص تھا، نبی صلی الله عليه وسلم کی امت اس سے مستثنیٰ ہے ۔

2 : گو یہ آیت قرآن کریم میں موجود ہے مگر اس کا حکم منسوخ کر دیا گیا ہے ۔

3 : الحقنا بھم ذريتهم اس کی ناسخ ہے ۔

ان تینوں معاملات کے لئے ہم کتاب الله سے رجوع کرتے ہیں :

کیا اللہ تعالیٰ نے نبی صلی الله عليه وسلم کی امت اور ابراہیم وموسیٰ علیہما السلام کی امتوں کے لئے علیحدہ علیحدہ طریقے مقرر کئے ہیں؟

ارشادِ باری تعالیٰ ہے :

شَرَعَ لَکُمۡ مِّنَ الدِّیۡنِ مَا وَصّٰی بِہٖ نُوۡحًا وَّ الَّذِیۡۤ اَوۡحَیۡنَاۤ اِلَیۡکَ وَ مَا وَصَّیۡنَا بِہٖۤ اِبۡرٰہِیۡمَ وَ مُوۡسٰی وَ عِیۡسٰۤی اَنۡ اَقِیۡمُوا الدِّیۡنَ وَ لَا تَتَفَرَّقُوۡا فِیۡہِ ؕ

(الشوریٰ :13)

“تمہارے لئے دین کا وہی طریقہ مقرر کیا ہے جس کا حکم نوح کو دیا تھا اور جسے (اے محمدؐ ) ہم نے تمہاری طرف وحی کیا ہے، اور جس کا حکم ہم ابراہیم اور عیسیٰ کو دے چکے ہیں کہ اس دین کو قائم کرو اور اس میں متفرق نہ ہونا۔”

حدیث رسول صلی الله عليه وسلم :

َقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنَا أَوْلَى النَّاسِ بِعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ، فِي الْأُولَى وَالْآخِرَةِ» قَالُوا: كَيْفَ؟ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: «الْأَنْبِيَاءُ إِخْوَةٌ مِنْ عَلَّاتٍ، وَأُمَّهَاتُهُمْ شَتَّى، وَدِينُهُمْ وَاحِدٌ، فَلَيْسَ بَيْنَنَا نَبِيٌّ»

(صحیح مسلم۔ کتاب الفضائل۔ باب فضائل عیسی علیہ الصلوٰۃ والسلام )

“رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں عیسیٰ سے دنیا اور آخرت میں سب سے زیادہ نزدیک ہوں ۔لوگوں نے پوچھا کیسے اے اللہ کے رسول ﷺ ۔ فرمایا کہ سارے نبی ایک باپ کے بیٹوں کی طرح ہیں اور ماں علیحدہ علیحدہ، اور ان سب کا ایک ہی دین ہے ،بس میرے اور ان کے درمیان کوئی نبی نہیں ۔”

اوپر بیان کردہ قرآن وحدیث کے دلائل سے اس بات کی مکمل وضاحت ہو گئی کہ کلیاتِ دین تمام امتوں کے لئے ایک ہی مقرر کی گئی ہیں ۔یعنی تمام امتوں کا مقصدِ تخلیق، مطالبہ بندگی، معاملہ قبر اور پھر قیامت کے دن اکھٹا کیا جانا اور پھر ان کے اعمال کے لحاظ سے جزا اور سزا کا فیصلہ، سب یکساں ہیں ۔اور یہ کہ قرآن مجید میں جو احکامات دیئے گئے ہیں کوئی نئے احکامات نہیں بلکہ یہ باتیں پچھلی امتوں پر بھی نازل کی گئی تھیں ۔

کتاب الله کے واضح بیان کے باوجود اپنے اکابرین کی بات کو سچ ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ بنی اسرائیل پر اللہ تعالیٰ نے بہت دی چیزوں کو حرام کر دیا تھا مگر اس امت کے لئے وہ حلال ہیں ۔اس قسم کی باتیں چونکہ بعض لوگوں کے دلوں میں شکوک وشبہات پیدا کرتی ہیں لیکن قرآن مجید کی سورۃ آل عمران (آیت نمبر :93-94) ،سورۃ النساء (آیت نمبر :160) اور سورۃ الانعام ( آیت نمبر :146) میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر حرام کی جانے والی کچھ چیزوں کا ذکر فرمایا ہے اور واضح کر دیا ہے کہ یہ چیزیں بنی اسرائیل کی ظالمانہ روش اور لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکنے کے جرم کی پاداش میں ان پر بطورِ سزا حرام کر دی گئی تھیں ۔

یومِ سبت کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ ان کا اور ہمارا تو یومِ عبادت علیحدہ علیحدہ ہے ،اسی طرح ہماری شریعت بھی علیحدہ علیحدہ ۔حدیث میں آتا ہے :

عَنْ اَبِی هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: “نَحْنُ الْآخِرُونَ السَّابِقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، بَيْدَ أَنَّهُمْ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِنَا ثُمَّ هَذَا يَوْمُهُمُ الَّذِي فُرِضَ عَلَيْهِمْ، فَاخْتَلَفُوا فِيهِ، فَهَدَانَا اللَّهُ فَالنَّاسُ لَنَا فِيهِ تَبَعٌ الْيَهُودُ غَدًا وَالنَّصَارَى بَعْدَ غَدٍ”.

“ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی الله عليه وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ ہم دنیا میں آنے والوں کے اعتبار سے سب سے پیچھے ہیں لیکن قیامت کے دن آگے ہوں گے ۔صرف اتنی بات کہ ان (یہودونصاریٰ) کو ہم سے پہلے کتاب دی گئی، پھر یہی (جمعہ کا) دن ان کے لئے بھی (عبادت کے لئے ) مقرر کیا گیا تھا، لیکن انہوں نے اس میں اختلاف کیا پھر ہم کو اللہ نے اس کی طرف ہدایت دی، پس وہ لوگ ہمارے پیچھے ہیں ۔یہود دوسرے دن ہوں گے اور نصاریٰ تیسرے دن۔”

یعنی الله تعالیٰ نے تمام امتوں کے لئے جمعہ کا دن ہی مقرر کیا تھا کہ عبادت کے لئے خصوصی انتظام کیا جائے مگر یہود نے اس سے اختلاف کرتے ہوئے یومِ سبت یعنی ہفتہ کا دن چاہا تو الله تعالیٰ نے ان کے لئے اس کو مقرر کر دیا مگر بعد میں جب انہوں نے اس سے روگردانی کی تو الله تعالیٰ نے انکو اس دنیا میں ہی ذلیل ترین عذاب میں مبتلا کر دیا اور ان کو بندر بنا دیا جس کا ذکر سورۃ البقرۃ آیت نمبر 65 میں کیا گیا ہے ۔

کیا اس آیت کا حکم منسوخ ہو گیا ہے؟

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

مَا نَنۡسَخۡ مِنۡ اٰیَۃٍ اَوۡ نُنۡسِہَا نَاۡتِ بِخَیۡرٍ مِّنۡہَاۤ اَوۡ مِثۡلِہَا ؕ اَلَمۡ تَعۡلَمۡ اَنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ

(البقرۃ :106)

“ہم اپنی جس آیت کو منسوخ کر دیتے ہیں یا بھلا دیتے ہیں، اس کی جگہ اس سے بہتر یا ویسی ہی آیت لے آتے ہیں، کیا تم نہیں جانتے کہ الله ہر چیز پر قادر ہے۔”

اس بارے ميں الله تعالیٰ کا طریقہ واضح ہو گیا کہ جب کوئی آیت منسوخ کی جاتی ہے، تو اس جیسی یا اس سے بہتر کوئی آیت نازل کر دی جاتی ہے جیسا کہ صحیح بخاری، کتاب التفسیر میں سورۃ البقرۃ کی آیتِ صوم کے حوالے سے سلمٰی بن اکوع رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت سے ثابت ہوتا ہے کہ آیت نمبر 185 اپنے سے ماقبل کی آیت کی ناسخ ہے ۔

یہ لوگ کہتے ہیں کہ سورۃ النجم کی مذکورہ آیت سورۃ الطّور کی آیت سے منسوخ ہے تو اس کی ان کے پاس کیا دلیل ہے؟ ان کا یہ کہنا محض اپنے بڑوں کے وضع کئے ہوئے باطل عقائد کو سچ ثابت کرنے کے لئے ہے ورنہ یہ آیت ہرگز منسوخ نہیں، کیونکہ نبی صلی الله عليه وسلم کی وفات کے کافی عرصہ بعد عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زخمی ہونے اور صہیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ان پر رونے کے موقع پر عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اسی آیت سے استدلال کیا تھا ۔اس طویل حدیث کے آخری الفاظ یہ ہیں :

فَلَمَّا أُصِيبَ عُمَرُ دَخَلَ صُهَيْبٌ يَبْكِي، يَقُولُ: وَا أَخَاهُ وَا صَاحِبَاهُ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: يَا صُهَيْبُ أَتَبْكِي عَلَيَّ، وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الْمَيِّتَ يُعَذَّبُ بِبَعْضِ بُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ. قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: فَلَمَّا مَاتَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، فَقَالَتْ: رَحِمَ اللَّهُ عُمَرَ، وَاللَّهِ مَا حَدَّثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ لَيُعَذِّبُ الْمُؤْمِنَ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ وَلَكِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنَّ اللَّهَ لَيَزِيدُ الْكَافِرَ عَذَابًا بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ، وَقَالَتْ: حَسْبُكُمُ الْقُرْآنُ وَلا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرٰى ۔

(بخاری۔کتاب الجنائز ۔باب قول النبی صلی الله عليه وسلم یعذب المیت۔۔۔۔)

“جب عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ زخمی ہوئے تو صہیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ روتے ہوئے پہنچے اور کہنے لگے اے میرے بھائی اے میرے دوست ۔عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہنے لگے اے صہیب (رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) کیا تم مجھ پر روتے ہو حالانکہ رسول اللہ صلی الله عليه وسلم نے فرمایا کہ میت کو اسکے گھر والوں کے رونے کی وجہ سے عذاب ہوتا ہے ۔ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وفات کے بعد میں نے عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے یہ بات بیان کی تو انہوں نے جواب دیا کہ الله عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر رحم فرمائے ۔اللہ کی قسم رسول اللہ صلی الله عليه وسلم نے یہ نہیں فرمایا تھا کہ مومن کو اسکے گھر والوں کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے بلکہ رسول اللہ صلی الله عليه وسلم نے تو یہ فرمایا تھا کہ کافر کا عذاب اس کے گھر والوں کے رونے کے سبب بڑھا دیا جاتا ہے ۔اور عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ تمہارے لئے قرآن ہی کافی ہے کہ ولا تزرو وازرة وزر اخرى (کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گا)۔”

یہ واقعہ نبی صلی الله عليه وسلم کی وفات کے تقریبا 12 یا 13 سال بعد کا ہے یعنی اس وقت جبکہ قرآن کریم کا نزول مکمل ہو چکا تھا ۔جو آیت منسوخ ہونا تھی اور جو آیت نازل ہونا تھی وہ ہو چکی تھی، اور امت کی ماں، وہ عظیم ہستی جس کے حجرے میں قرآن مجید نازل ہوتا تھا، یہی آہت پڑھ کر بتا رہی ہیں کہ الله کا حکم یہ ہے، یعنی یہ آیت نافذالعمل ہے جس کے بارے ميں يہ علم کے پہاڑ دعویٰ کر رہے ہیں کہ یہ منسوخ ہے!

کیا أَلْحَقْنَا بِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ والی آیت اسکی ناسخ ہے؟

اوپر بیان کردہ وضاحت کے بعد اس مسئلے پر مزید گفتگو کی ضرورت باقی نہیں رہ جاتی تاہم اس عنوان کو اس لئے زیر بحث لایا جا رہا ہے کہ کہیں لوگوں کے دلوں میں کوئی اشکال نہ رہ جائے کہ یہ کون سی آیت تھی اور اس میں کیا بیان کیا گیا تھا، کہیں یہ ایصالِ ثواب تو اس سے ثابت نہیں ہو رہا تھا ۔۔۔۔۔اللہ تعالیٰ مذکورہ آیت میں ارشاد فرماتا ہے :

وَالَّذِينَ آمَنُوا وَاتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّيَّتُهُمْ بِإِيمَانٍ أَلْحَقْنَا بِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَمَا أَلَتْنَاهُمْ مِنْ عَمَلِهِمْ مِنْ شَيْءٍ ۚ كُلُّ امْرِئٍ بِمَا كَسَبَ رَهِينٌ۔(الطور :21)

” جو لوگ ایمان ﻻئے اور ان کی اوﻻد جس نے ایمان کے ساتھ ان کی اتباع کی ان کو بھی ہم (جنت میں )انکے ساتھ ملا دیں گے اور ان کے اعمال میں کوئی کمی نہ کریں گے، ہر شخص اپنی کمائی کے عوض رہن ہے۔”

مندرجہ بالا آیت سورۃ الطور کے جس رکوع میں ہے اس میں اللہ تعالیٰ اپنی نعمتوں کا ذکر فرما رہا ہے جو جنت میں مومنوں کو حاصل ہوں گی اور اسی پیرائے میں مالک کائنات انکی اس اولاد کا تذکرہ فرما رہا ہے کہ جو ہوگی تو ایمان دار لیکن اعمال میں کوتاہیوں کی وجہ سے وہ کم درجہ کی جنتوں میں داخل کئے جائیں گے تو الله تعالیٰ ان کو ان کے ماں باپ سے ملانے کے لئے ان اعلیٰ درجہ کی جنتوں میں داخل کر دے گا جن میں ان کے ماں باپ ہوں گے ۔یہ سب محض الله تعالیٰ کے فضل وانعام کے طور پر ہے، کسی کے ایصالِ ثواب کا نتیجہ ہرگز نہیں، جیسا کہ مندرجہ ذیل آیات وضاحت کرتی ہیں :

فَأَمَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ فَيُوَفِّيهِمْ أُجُورَهُمْ وَيَزِيدُهُمْ مِنْ فَضْلِهِ (النساء :173)

’’پس وہ لوگ جنہوں نے ایمان لا کر نیک عمل کئے ہونگے، اپنے اجر پورے پائیں گے، اور اللہ اپنے فضل سے ان کو مزید عطا فرمائے گا “۔

إِنَّ الَّذِينَ يَتْلُونَ كِتَابَ اللَّهِ وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَأَنْفَقُوا مِمَّا رَزَقْنَاهُمْ سِرًّا وَعَلَانِيَةً يَرْجُونَ تِجَارَةً لَنْ تَبُورَ ؀ لِيُوَفِّيَهُمْ أُجُورَهُمْ وَيَزِيدَهُمْ مِنْ فَضْلِهِ ۚ إِنَّهُ غَفُورٌ شَكُورٌ

(فاطر:29-30)

“جو لوگ کتاب اللہ پڑھتے ہیں اور صلوۃ قائم کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے پوشیده اور علانیہ خرچ کرتے ہیں ،وه اس تجارت (کے فائدے) کے امیدوار ہیں جو کبھی تباه

نہیں ہوگی، کیونکہ الله ان کو پورا پورا بدلہ دے گا اور اپنے فضل سے مزید بھی دے گا، وہ تو بخشنے والا اسر قدردان ہے۔”

سورہ الطّور کی جس آیت سے سورہ النجم کی آیت منسوخ ہونے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے اس کا آخری حصہ کُلُّ امْرِی ء بِمَا کَسَبَ رَھِیْنٌ (ہر شخص اپنی کمائی کے عوض رہن ہے) ان کے سارے کے سارے استدلال کو رد کر دیتا ہے، کیونکہ اس میں وہی بات تو بیان کی جا رہی ہے جس کے منسوخ ہونے کا دعویٰ یہ کر رہے ہیں ۔تو کیا ناسخ اور منسوخ دونوں آیتوں کا مضمون ایک ہی ہوتا ہے؟

ہمارے گزشتہ بیان کے جواب میں قرآن مجید کے حوالے سے صرف یہی ایک سوال اٹھایا گیا تھا جس کی حقیقت کتاب الله سے واضح کر دی گئی ہے ۔کسی آیت کو اپنے خود ساختہ باطل عقیدے کے خلاف پا کر اسے منسوخ شدہ اور انبیاء علیہم السلام کے متفقہ دین کو متفرقہ قرار دینا بہت بڑی جسارت ہے! اعاذنااللہ منه

الغرض کہ اس عقیدے کے گھڑنے اور پھیلانے والے قرآن مجید سے یہ عقیدہ ہرگز ثابت نہ کرسکے اور نہ ہی یہ ممکن ہے کیونکہ یہ عقیدہ تو ہے ہی خلافِ قرآن وحدیث ۔ایک مسلم کا عقیدہ تو ہر حالت میں کتاب الله ہی سے ثابت ہونا چاہئے کیونکہ یہی وہ قرآن عظیم ہے جس کا عملی نمونہ نبی صلی الله عليه وسلم نے ہمارے لئے احادیث کی صورت میں مشعلِ راہ بنا دیا ہے ۔اس لئے یہ بات ناممکن ہے کہ قرآن کسی بات کا رد کرے اور وہ بات حدیث سے ثابت ہو جائے ۔لیکن یہ فرقہ پرست احادیث سے یہ باطل عقیدہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں لہذا ضروری ہے کہ ان احادیث کا بھی جائزہ لیا جائے ۔

احادیث نبی صلی الله عليه وسلم کے حوالے سے ایصالِ ثواب کو ثابت کرنا

بعض کتب مثلاً فتاوٰی محمودیہ، تفسیر مظہری، تفہیم القرآن وغیرہ میں چند احادیث عقیده ايصال ثواب کے ثبوت میں دلائل کے طور پر پیش کی گئی ہیں ۔ایصالِ ثواب پر اصرار کرنے والے ان احادیث کے متعلق استفسار کرتے ہیں کہ کیا یہ تمام احادیث جھوٹی ہیں؟ اور اگر سچی ہیں تو کیا حدیث کا انکار کرنے والا مسلم ہو سکتا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی حدیث کسی بھی نص قرآنی کے خلاف ہو ہی نہیں سکتی، کیونکہ رسول اللہ صلی الله عليه وسلم قرآن کی عملی تشریح اور عملی تفسیر پیش کرنے کے لئے مبعوث فرمائے گئے تھے۔ (معاذاللہ) دوسری بات کا تو تصور بھی نہیں کیا جا سکتا ۔

وَ اَنۡزَلۡنَاۤ اِلَیۡکَ الذِّکۡرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیۡہِمۡ وَ لَعَلَّہُمۡ یَتَفَکَّرُوۡنَ

(النحل:44)

“اور ہم نے تم ہر یہ کتاب نازل کی ہے تاکہ جو (ارشادات) لوگوں پر نازل ہوئے ہیں وہ ان پر واضح کردو تاکہ وہ غور کریں”۔

رسول اللہ صلی الله عليه وسلم کا ہر عمل سرتاپا قرآن تھا۔وہ قرآن کی عملی تفسیر تھے ۔قرآن کریم نبی صلی الله عليه وسلم کے قلب پر نازل ہوا ۔ انہوں نے خود اس پر پوری طرح عمل کیا اور امت کو اسکی مکمل تبلیغ کی اور یہی حکمِ ربی تھا ۔

يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ

(المائدہ:67)

“اے رسول جو کچھ تم پر تمہارے رب کی طرف سے نازل ہوا ہے اسکی تبلیغ کرو۔”

نبی صلی الله عليه وسلم نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ ہر ہر حکم کی تبلیغ فرمائی اور اس کی تکمیل پر حجۃ الوداع کے موقع پر تمام حاضرین سے اس بات کی شہادت لی اور ان باتوں کو دوسروں تک پہچانے کی تلقین فرمائی ۔الله تعالیٰ نے نبی صلی الله عليه وسلم کی قولی، فعلی و تقریری احادیث کو ہماری ہدایت کے لئے تک پہچانے کا انتظام فرمایا ۔اس لئے ناممکن ہے کہ نبی صلی الله عليه وسلم کا کوئی عمل قرآن مجید کے کسی اصول وحکم کے خلاف ہو۔

اللہ تعالیٰ نے جو اصول قرآن میں بیان فرمایا ہے وہ یہ ہے:

اَلَّا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزۡرَ اُخۡرٰی ﴿ۙ﴾ وَ اَنۡ لَّیۡسَ لِلۡاِنۡسَانِ اِلَّا مَا سَعٰی ﴿ۙ﴾ وَ اَنَّ سَعۡیَہٗ سَوۡفَ یُرٰی ﴿۪﴾ثُمَّ یُجۡزٰہُ الۡجَزَآءَ الۡاَوۡفٰی ﴿ۙ﴾ (النجم:38 تا 41)

“کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا اور یہ کہ انسان کو وہی ملتا ہے جس کی وہ کوشش کرتا ہے اور یہ کہ اس کی کوشش دیکھی جائے گی، پھر اسکو پورا پورا بدلہ دیا جائے گا ۔”

اسی اصول کو نبی صلی الله عليه وسلم نے بھی بیان فرمایا؛

أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: “”يَتْبَعُ الْمَيِّتَ ثَلَاثَةٌ، فَيَرْجِعُ اثْنَانِ، وَيَبْقَى مَعَهُ وَاحِدٌ: يَتْبَعُهُ أَهْلُهُ، وَمَالُهُ، وَعَمَلُهُ، فَيَرْجِعُ: أَهْلُهُ وَمَالُهُ، وَيَبْقَى عَمَلُهُ

(صحیح بخاری۔ کتاب الرقاق۔ باب سکرات الموت)

“انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی الله عليه وسلم نے فرمایا کہ میت کے پیچھے تین چیزیں جاتی ہیں، دو واپس آ جاتی ہیں اور ایک اس کے ساتھ رہ جاتی ہے ۔اسکے پیچھے اس کے گھر والے اور مال اور عمل جاتے ہیں، پھر اس کے گھر والے اور اس کا مال تو واپس آ جاتے ہیں اور اس کا عمل باقی رہ جاتا ہے “۔

اس حدیث نے وضاحت کر دی کہ مرنے والے کا مال اور اس کے گھر والے اسکی اگلی زندگی میں کوئی کام نہیں آ سکتے ۔کام آنے والی چیز صرف اسکا اپنا عمل ہے۔

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:إِذَا مَاتَ الْإِنْسَانُ انْقَطَعَ عَنْهُ عَمَلُهُ إِلَّا مِنْ ثَلَاثَةٍ: إِلَّا مِنْ صَدَقَةٍ جَارِيَةٍ، أَوْ عِلْمٍ يُنْتَفَعُ بِهِ، أَوْ وَلَدٍ صَالِحٍ يَدْعُو لَهُ۔

(مسلم ۔کتاب الوصیت ۔باب ما یلحق الانسان فی الثواب بعد وفاتہ)

“ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی الله عليه وسلم نے فرمایا جب انسان مر جاتا ہے تو اس کا عمل اس سے منقطع ہو جاتا ہے سوائے تین چیزوں کے :صدقہ جاریہ یا وہ علم جس سے فائدہ اٹھایا جائے یا نیک بیٹا جو اس کے لئے دعا کرے”۔

قرآن وحدیث میں بیان کیا گیا یہ معاملہ صرف مرنے کے بعد ہی ثواب کا ذریعہ نہیں بنے گا بلکہ اس کی زندگی ہی میں اسکے ذریعے اسکے اعمالنامے میں اسکا ثواب جمع ہونا شروع ہو جاتا ہے ۔یہ حدیث اس کی مزید وضاحت کرتی ہے :

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: “”مَا مِنْ مُسْلِمٍ غَرَسَ غَرْسًا فَأَكَلَ مِنْهُ إِنْسَانٌ أَوْ دَابَّةٌ إِلَّا كَانَ لَهُ صَدَقَةٌ””.

(صحیح بخاری ۔کتاب الادب۔ باب رحمۃ الناس۔۔۔)

“انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی الله عليه وسلم نے فرمایا کہ کوئی مسلم ایسا نہیں کہ جب وہ کوئی درخت لگائے پھر اس میں سے کوئی انسان یا جانور کھائے تو اس کے لئے وہ صدقہ نہ ہو۔”

یعنی کسی مسلم نے کوئی پودا لگایا، وہ پودا ایک تناور درخت بنا، پھل پھول لایا، لوگوں نے اس کے سائے، پھل پھول سے فائدہ اٹھایا، بکری نے پتے کھائے تو اس شخص کے کھاتے میں ثواب جمع ہو گیا حالانکہ بکری تو پتے کھا کر ثواب بھی نہیں بخش سکتی۔ اوپر بیان کی گئی احادیث میں انسان کے ان نیک اعمال کا بیان کیا گیا ہے جو اس نے اپنی زندگی میں کئے تھے اور اس کے مرنے کے بعد بھی باقی ہیں ۔لیکن یاد رہے کہ یہ معاملہ صرف نیک اعمال تک محدود نہیں ہے بلکہ اگر کوئی اس حالت میں مرتا ہے کہ اس نے کسی غلط کام کی بنیاد رکھی تھی لوگوں کو کتاب الله سے ہٹا کر اپنے فرقوں کے دین پر چلایا تھا تو جب تک لوگ اس کی تعلیمات کی وجہ سے ان عقائد اور اعمال کی اتباع کرتے رہیں گے اس کے لئے عذاب لکھا جاتا رہے گا خواہ وہ زندہ ہو یا مردہ۔ یہ تمام ثواب و عذاب جو مرنے والے کو مل رہے ہیں اس کے لئے کسی “ایصالِ ثواب” کی ضرورت نہیں بلکہ یہ اللہ کے قانون کے مطابق خود بخود ہوتا رہے گا جیسا کہ اس حدیث میں بیان کیا گیا ہے :

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: “”لَا تُقْتَلُ نَفْسٌ ظُلْمًا إِلَّا كَانَ عَلَى ابْنِ آدَمَ الْأَوَّلِ كِفْلٌ مِنْ دَمِهَا لِأَنَّهُ أَوَّلُ مَنْ سَنَّ الْقَتْلَ””.

(صحیح بخاری ۔کتاب الانبیاء ۔باب قول اللہ تعالیٰ و اذ قال ربک۔۔۔)

“عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی الله عليه وسلم نے فرمایا :کوئی انسان ناحق قتل کیا جاتا لیکن اس کے گناہ کا حصہ آدم علیہ السلام کے پہلے بیٹے (قابیل) کو جاتا ہے کیونکہ اسی نے سب سے پہلے قتل کا طریقہ جاری کیا۔”

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ دَعَا إِلَى هُدًى كَانَ لَهُ مِنْ الْأَجْرِ مِثْلُ أُجُورِ مَنْ تَبِعَهُ لَا يَنْقُصُ ذَلِكَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا وَمَنْ دَعَا إِلَى ضَلَالَةٍ كَانَ عَلَيْهِ مِنْ الْإِثْمِ مِثْلُ آثَامِ مَنْ تَبِعَهُ لَا يَنْقُصُ ذَلِكَ مِنْ آثَامِهِمْ شَيْئًا۔

(صحیح مسلم ۔کتاب العلم۔ باب من سن سنة حسنة او سيئة)

“ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :کہ جو شخص ہدایت کی طرف بلائے اس کو ویسا ہی اجر ملے گا جیسا کہ اس ہدایت پر عمل کرنے والوں کو ملے گا اور عمل کرنے والوں کے ثواب میں کمی نہ ہوگی، اور جو شخص گمراہی کی طرف بلائے گا تو اس کو اس برائی پر عمل کرنے والوں کے برابر گناہ ملے گا اور عمل کرنے والوں کے گناہ میں کچھ کمی نہ ہوگی”۔

عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ جَاءَ نَاسٌ مِنْ الْأَعْرَابِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ الصُّوفُ فَرَأَى سُوءَ حَالِهِمْ قَدْ أَصَابَتْهُمْ حَاجَةٌ فَحَثَّ النَّاسَ عَلَى الصَّدَقَةِ فَأَبْطَئُوا عَنْهُ حَتَّى رُئِيَ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ قَالَ ثُمَّ إِنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ جَاءَ بِصُرَّةٍ مِنْ وَرِقٍ ثُمَّ جَاءَ آخَرُ ثُمَّ تَتَابَعُوا حَتَّى عُرِفَ السُّرُورُ فِي وَجْهِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ سَنَّ فِي الْإِسْلَامِ سُنَّةً حَسَنَةً فَعُمِلَ بِهَا بَعْدَهُ كُتِبَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِ مَنْ عَمِلَ بِهَا

وَلَا يَنْقُصُ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْءٌ وَمَنْ سَنَّ فِي الْإِسْلَامِ سُنَّةً سَيِّئَةً فَعُمِلَ بِهَا بَعْدَهُ كُتِبَ عَلَيْهِ مِثْلُ وِزْرِ مَنْ عَمِلَ بِهَا وَلَا يَنْقُصُ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَيْءٌ

(صحیح مسلم ۔کتاب العلم۔ باب من سن سنة حسنة او سيئة)

“جریر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ کچھ عرب دیہاتی رسول اللہ صلی الله عليه وسلم کے پاس آئے جو اونی لبادے اوڑھے ہوئے تھے ۔ نبی صلی الله عليه وسلم نے انکی خراب حالت دیکھی تو لوگوں کو صدقہ دینے کی رغبت دلائی ۔ لوگوں نے صدقہ دینے میں تامل کیا۔ (جب نبی صلی الله عليه وسلم کی ترغیب کے اثر میں دیر محسوس ہوئی تو ) رنج آپ صلی الله عليه وسلم کے چہرے پر دکھائی دینے لگا ۔اتنے میں انصار میں سے ایک شخص اشرفیوں کی تھیلی لے کر آیا، پھر ایک دوسرا آدمی آیا، پھر تو اس کے پیچھے لوگ آنے لگے یہاں تک کہ نبی صلی الله عليه وسلم کے چہرے پر خوشی کے آثار ظاہر ہو گئے ۔آپ صلی الله عليه وسلم نے فرمایا جو شخص اسلام میں اچھی بات کی بنیاد ڈالے تو جتنے لوگ اس پر عمل کریں گے تو اس کو اتنا ثواب ہوگا جتنا اس پر عمل کرنے والوں کو اور ان کے ثواب میں کوئی کمی نہ ہوگی ۔ اور جو اسلام میں کوئی خراب بات جاری کرے تو جتنے لوگ اس پر عمل کریں گے ان سب کا وبال اس کے کھاتے میں لکھا جائے گا اور ان کے گناہ میں کوئی کمی نہ ہوگی۔”

ان تمام احادیث کا مطالعہ فرمائیے یہ سب قرآن کریم کے اس حکم کی تشریح کر رہی ہیں کہ “کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گا اور انسان کو وہی ملتا ہے جس کی اس نے کوشش کی” ۔

یہ بات غور طلب ہے کہ آج جن لوگوں نے اجر بخشے جانے کا عقیدہ اپنایا ہوا ہے ان کے یہاں صرف ثواب ہی ایصال ہوتا ہے، عذاب نہیں ۔اس عقیدے کے مطابق جب لوگ نیک عمل کرکے اس کا ثواب کسی کو بخش کر اسے جنت میں داخل کرا سکتے ہیں یا اس کے اجر میں اضافہ کرا سکتے ہیں تو کیا وجہ ہے کہ برے اعمال کرکے اس کا گناہ اپنے دشمن کو ایصال کرکے اسے جہنم میں داخل نہ کرا سکیں؟ یا کم از کم اس کے عذاب میں تھوڑا بہت اضافہ ہی کرا دیں ۔آئیے اب ان احادیث کی طرف جو اس باطل عقیدے کو ثابت کرنے کے لئے پیش کی جاتی ہیں ۔یہ احادیث عبادات کی مختلف شکلوں سے پیش کی جاتی ہیں ۔لہذا ہر عبادت کے موضوع کے تحت ان پر بحث پیش کی جاتی ہے ۔

صلوۃ کے حوالے سے پیش کی جانے والی احادیث:

عقیدہ ایصالِ ثواب کے ثبوت میں درج ذیل روایات پیش کرکے کہا جاتا ہے کہ دیکھو صلاۃ ادا کر کے اس کا ثواب دوسرے کو بخشا جا سکتا ہے :

” ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ کون ہے جو ارادہ کرکے دو یا چار رکعتیں مسجد عشار میں پڑھے اور کہے کہ یہ ابوہریرہ کے لیے ہیں “۔

(سنن ابی داؤد، کتاب الملاحم، باب فی ذکر بصرہ)

اس حدیث کے ایک راوی ابراھیم بن صالح بن درھم کے بارے میں محدثین اس طرح بیان کرتے ہیں : بخاری کہتے ہیں کہ اسکی روایت کی کوئی متابعت نہیں کرتا۔عقیلی کہتے ہیں ابراھیم اور اسکا باپ روایتِ حدیث میں مشہور نہیں ہیں اور یہ روایت غیر محفوظ ہے ۔ابن حجر عسقلانی کہتے ہیں کہ اسے دارقطنی نے ضعیف کہا ہے ۔(تہذیب التہذیب : جلد اول صفحہ 111)

اس حدیث کی سنداً کیا حیثیت ہے وہ آپ کے سامنے آ گئی ہے ۔لیکن ذرا اس کے مضمون پر بھی غور فرمائیں کہ اپنے لیے صلوۃ کا حکم دینے والا ایک زندہ شخص ہے اور یہ لوگ اس کو مردے کے ایصالِ ثواب کے لئے دلیل بنا رہے ہیں!

دوسری بات یہ ہے کہ کیا قرآن وحدیث میں کہیں اس بات کی طرف کوئی اشارہ بھی ملتا ہے کہ لوگ ایک دوسرے کی طرف سے صلوۃ ادا کر سکتے ہیں ؟ ہرگز نہیں ۔ تو پھر کیا اتنے عظیم صحابی سے شریعت سے ہٹ کر کسی عمل کی توقع کی جا سکتی ہے؟ درج ذیل روایت اس بارے میں صحابہؓ کا عقیدہ بیان کرتی ہے :

ان عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کان یسال ھل یصوم احد عن احد او یصلی احد عن احد فیقول لا یصوم احد عن احد او یصلی احد عن احد۔

(موطا امام مالک ۔کتاب الصوم ۔باب النذر فی الصیام)

“کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا گیا کہ کیا کوئی کسی کی طرف سے صوم رکھے یا صلوۃ ادا کرے، تو انہوں نے کہا کہ نہ تم میں سے کوئی کسی کی طرف سےصوم رکھے نہ صلوۃ ادا کرے ۔”

صلوۃ کی احادیث کے حوالے سے ایصالِ ثواب کو ثابت کرنے کی کوشش سے یقیناً آپ آگاہ ہوں گے، آئیے اب صدقات کے حوالے سے پیش کی جانے والی احادیث کا مطالعہ کریں ۔

صدقات کے حوالے سے پیش کی جانے والی احادیث:

صدقات کے حوالے سے بھی ایصالِ ثواب کو ثابت کرنے کے لئے چند احادیث پیش کی جاتی ہیں:

“عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ ایک شخص نے نبی صلی الله عليه وسلم سے عرض کی کہ میری ماں کی وفات ہو گئی ہے، میرا خیال ہے کہ اگر انہیں بات کرنے کا موقع ملتا تو وہ ضرور صدقہ کرنے کے لئے کہتیں۔ اگر میں ان کی طرف سے صدقہ کروں تو کیا ان کو اجر ملے گا۔ نبی صلی الله عليه وسلم نے فرمایا: ہاں۔”

(صحیح بخاری۔ کتاب الوصایا۔ باب ما لمن یستحب یتوفی فحآء…. )

“عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی والدہ فوت ہو گئیں اور وہ وہاں موجود نہ تھے۔ جب وہ آئے تو کہا یا رسول اللہ صلی الله عليه وسلم میری والدہ فوت ہو گئیں اور میں اس وقت وہاں موجود نہ تھا، اگر میں ان کی طرف سے صدقہ کرو تو کیا ان کو نفع ہوگا۔ نبی صلی الله عليه وسلم نے فرمایا: ہاں۔ سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: میں آپکو گواہ بناتا ہوں کہ میرا باغ مخراف ان کی طرف سے صدقہ ہے۔”

(صحیح بخاری۔ کتاب الوصایا۔ باب اذ قال ارضی او بستانی… )

صحاح ستہ کی کتاب الوصایا، کتاب النذر والایمان وغیرہ میں یہ روایت مختلف انداز میں آئی ہے۔ کسی میں صدقے کا ذکر ہے تو کسی میں نذر کا، ان سب کو یکجا کیا جائے تو پتا چلتا ہے کہ یہ واقعہ ایک ہی صحابی یعنی سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے متعلق ہے۔ البتہ مختلف راویوں سے متن میں کچھ الفاظ مختلف ہو گئے ہیں۔ ظاہر ہے کہ سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی والدہ کی وفات ایک ہی مرتبہ ہوئی اور انہوں نے اسی موقع پر آکر نبی صلی الله عليه وسلم سے سوال پوچھا۔ ثقہ ترین راویوں کی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سوال والدہ کے ذمے نذر سے متعلق تھا اور نبی صلی الله عليه وسلم نے اسے پورا کرنے کا حکم دیا۔

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ اسْتَفْتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ وَعَلَيْهَا نَذْرٌ، فَقَالَ: «اقْضِهِ عَنْهَا»

( بخاری، کتاب الوصایا، بَابُ مَا يُسْتَحَبُّ لِمَنْ تُوُفِّيَ فُجَاءَةً أَنْ يَتَصَدَّقُوا عَنْهُ، وَقَضَاءِ النُّذُورِ عَنِ المَيِّتِ )

’’ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ سعد بن عبادہ ؓ نے نبی ﷺ سے سوال کیا تو کہا : میری والدہ کی وفات ہوگئی ہے اور ان پر نذر تھی، نبی ﷺ نے فرمایا: اسے پورا کر ‘‘۔

اوپر بیان کردہ تمام روایات سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ انکی والدہ کی نیت صدقہ یا نذر کی تھی ۔ نذر دل یا زبان سے کیا جانے والا ایک عمل ہے جو اللہ سے باندھا جانے والا عہد ہے کہ اگر میرا فلاں کام ہو گیا تو میں اللہ کی راہ میں فلاں عمل کروں گا۔ اور نذر کے پورا ہونے کی صورت میں اس عہد کا پورا کرنا اللہ کا بندے پر حق ہو جاتا ہے۔ یہ بھی یاد رہے کہ یہاں معاملہ ماں اور سگی اولاد کا ہے، لہذا اسے عام ایصال ثواب کے لئے دلیل نہ بنا لیا جائے۔پچھلے صفحات میں فرمانِ رسول صلی الله عليه وسلم نقل کیا جا چکا ہے کہ الله تعالیٰ اس بات کا زیادہ حقدار ہے کہ اس سے کیا جانے والا عہد پورا کیا جائے۔

ان احادیث سے رائج الوقت ایصالِ ثواب کہاں ثابت ہوتا ہے؟ بلکہ یہاں تو خصوصی معاملہ ہے کہ نبی صلی الله عليه وسلم سے والدین کی طرف سے اس عمل کی اجازت طلب کی جا رہی ہے جو ان کے اوپر واجب تھا۔ نبی صلی الله عليه وسلم نے یہ نہیں فرمایا کہ یہ صدقہ کرو اور اپنی ماں کو بخش دو بلکہ معاملہ یہ ہے کہ والدین کا ہی واجب العمل کام کیا جا رہا ہے۔ آج مسلک پرستوں نے اس حدیث کو بنیاد بنا کر ہر مرنے والے کی طرف سے ہر قسم کے صدقات کو عام کر دیا ہے حالانکہ مرنے والے کے کام اسکا وہ مال بھی نہیں آسکتا جسے الله کی راہ ميں خرچ کرنے کی اسکی کوئی نیت نہ ہو جیسا کہ قرآن سے اسکی وضاحت ملتی ہے:

وَ اَنۡفِقُوۡا مِنۡ مَّا رَزَقۡنٰکُمۡ مِّنۡ قَبۡلِ اَنۡ یَّاۡتِیَ اَحَدَکُمُ الۡمَوۡتُ فَیَقُوۡلَ رَبِّ لَوۡ لَاۤ اَخَّرۡتَنِیۡۤ اِلٰۤی اَجَلٍ قَرِیۡبٍ ۙ فَاَصَّدَّقَ وَ اَکُنۡ مِّنَ الصّٰلِحِیۡنَ

(المنٰفقون:10)

“اور جو (مال) ہم نے تمہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرلو قبل اس کے کہ تم میں سے کسی کی موت آجائے تو (اسوقت) وہ کہنے لگے کہ اے میرے پروردگار تو نے مجھے تھوڑی سی اور مہلت کیوں نہ دی تاکہ میں خیرات کر لیتا اور نیکوکاروں میں شامل ہو جاتا۔”

یعنی موت آنے کے بعد اب اسی کا مال بھی اسکی طرف سے خرچ کیا جائے تو قابل قبول نہیں بلکہ وہی قبول ہوگا جس کی اس نے اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی نیت کی تھی اور یہ بات بالکل اس آیت کے مطابق ہے کہ انسان کو وہی ملتا ہے جس کی اس نے کوشش کی۔ پہلے بیان کردہ حدیث میں بھی یہی ملتا ہے کہ میت کے ساتھ تین چیزیں جاتی ہیں، اسکے گھر والے، اسکا مال اور اسکا عمل، دو چیزیں یعنی اسکے گھر والے اور اسکا مال واپس آجاتا ہے اور اسکا عمل اسکے ساتھ رہتا ہے۔

یہ سب کچھ عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ آج ایصالِ ثواب کے خود ساختہ عقیدے کو گھڑنے اور پھیلانے والے اپنے اس عقیدے کے حق میں ان احادیث کو دلائل کے طور پر پیش کرتے ہیں اور اپنے زعم میں گویا سمجھتے ہیں کہ صرف یہی لوگ ان احادیث کو سمجھے ہیں! صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین ان احادیث میں بیان کردہ طور طریقوں کو نہیں سمجھ سکے تھے اسی لئے نہ تو انہوں نے نہ ہی قرآن خوانی کی، نہ ہی قبیلے والوں کو جمع کرکے کھانا کھلایا، نہ ہی سوئم کیا

اور نہ چالیسواں۔ لیکن ہم خوب دھوم دھام سے ان چیزوں کا اہتمام کرکے ان کا ثواب اپنے مردوں کو ایصال کرکے ان کے جنت میں داخلہ کا راستہ آسان بنا دیتے ہیں، کاش صحابہ بھی یہ آسان راستہ سمجھ لیتے تو اللہ کی راہ میں اسقدر سختیوں والا راستہ نہ اپناتے(معاذاللہ)

حج اور عمرے کے حوالے سے پیش کی جانے والی احادیث؛

صلوۃ وصوم اور زکوٰۃ کی طرح حج وعمرے کے تعلق سے بھی چند احادیث اس باطل عقیدے کے استدلال میں پیش کی جاتی ہیں:

“ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ بنوخشم کی ایک عورت نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی الله عليه وسلم : اللہ تعالیٰ کا بندوں پر فریضہ حج کے بارے ميں جو حکم ہے، اس نے میرے باپ کو ایسے وقت میں پایا ہے کہ وہ سواری پر نہیں بیٹھ سکتا۔ کیا میں اس کی طرف سے حج کروں؟ نبی صلی الله عليه وسلم نے فرمایا: ہاں۔”

(صحیح مسلم۔ کتاب الحج۔باب الحج عن العاجز)

اسی طرح ایک دوسری روایت بھی پیش کی جاتی ہے جس میں پوچھنے والا اسکا بڑا بیٹا ہے۔ نبی صلی الله عليه وسلم اس سے سوال کرتے ہیں کہ کیا تو اسکا سب سے بڑا بیٹا ہے؟ اس نے عرض کیا: ہاں تو نبی صلی الله عليه وسلم نے فرمایا: اگر تیرے باپ پر قرض ہو اور تو اس کی طرف سے ادا کرے تو وہ پورا ہو جائے گا؟ اس نے عرض کیا: ہاں۔ فرمایا: تو اس کی طرف سے حج کر۔”(سنن نسائی۔ کتاب الحج۔ باب تشیه قضاء…..)

ایک تیسری روایت میں یہی معاملہ ایک بوڑھی ضعیف والدہ اور اس کے بیٹے کا بیان ہوا ہے (ایضاً باب حج الرجال عن المراۃ)

عقیدہ ایصالِ ثواب کا فلسفہ یہ ہے کہ زندہ کوئی عمل کرے اور اپنے زعم میں اس کا ثواب مردے کو بخش دے۔ لیکن اس باطل عقیدے کے ثبوت میں اور بیان کردہ روایات جو بطورِ استدلال پیش کی جاتی ہیں، ان میں جن لوگوں کی طرف سے اجازت مانگی جا رہی ہے وہ فوت شدہ نہیں بلکہ زندہ ہیں مگر جب حج فرض ہوا ہے وہ جسمانی طور پر اس قابل نہیں کہ اس فریضے کو ادا کر سکیں۔ ان کی کوشش یہ ہے کہ کسی طرح اس ثواب سے بھی محروم نہ رہیں، اسی لئے ان کی اولاد انکی طرف سے حج کرنے کا مسئلہ پوچھ رہی ہے۔ نبی صلی الله عليه وسلم والدین کی طرف سے حج کرنے کی اجازت دے رہے ہیں مگر اس وضاحت کے بعد کہ کیا وہ اس کی حقیقی نمائندگی کرتا ہے یا نہیں؟ لیکن زندہ افراد سے متعلق ان احادیث کو مردوں کے ایصالِ ثواب کے خود ساختہ عقیدے پر چسپاں کردیا!

عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے حوالے سے ہی ایک اور روایت پیش کی جاتی ہے کہ قبیلہ جہینہ کی ایک عورت نبی صلی الله عليه وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا کہ میری ماں نے حج کی نذر مانی تھی لیکن وہ حج نہ کر سکی اور مر گئی تو کیا میں اسکی طرف سے حج کروں؟ نبی صلی الله عليه وسلم نے فرمایا: ہاں اس کی طرف سے حج کر اگر کہ تیری ماں پر قرض ہوتا تو کیا تو اس کو ادا نہ کرتی۔ اللہ تعالیٰ کا حق تو اور بھی زیادہ ادا کئیے جانے کا مستحق ہے! ایک اور حدیث میں نبی صلی الله عليه وسلم نے ایک شخص کو وہ نذر پوری کرنے کا حکم دیا جو اس کی بہن نے حج کے لیے کی تھی اور یہی فرمایا کہ اگر تو اس کی طرف سے قرض اتارنے کا

اہل ہے تو پھر الله کا حق زیادہ ہے کہ اس کا قرض ادا کیا جائے۔(صحیح بخاری۔ کتاب النذرا الایمان۔ باب من مات وعلیہ النذر)

غرض یہ کہ اس مضمون میں جتنی بھی روایات پیش کی جاتی ہیں ان میں سے کسی میں بھی ایسا کوئی بیان نہیں کہ کسی کا رشتہ دار مر گیا ہو اور نبی صلی الله عليه وسلم نے ایصالِ ثواب کے نام پر حج یا عمرہ کی اجازت دی ہو۔ حج بدل کی اجازت صرف ان کی معذوری کو مدنظر رکھتے ہوئے دی گئی اور دوسری جگہ نذر کی ادائیگی کے پیش نظر دی گئی ۔ نیز یہ یاد رکھیں کہ یہ معاملہ بھی صرف سگی اولاد تک محدود ہے۔۔ مزید ایسی کوئی صحیح حدیث نہیں ملتی کہ کسی شخص نے کسی زندہ یا مردہ کے لئے حج یا عمرہ کیا ہو اور نبی صلی الله عليه وسلم یا صحابہؓ نے اس کو درست جانا ہو۔ حج کا ثواب صرف اس کے لیے ہے جو اس کی خواہش رکھتا ہو جیسا کہ یہ حدیث وضاحت کرتی ہے:

عن ابن عباس رضي الله تعالى عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم لقي ركبا بالروحآ فقال من القوم قالوا المسلمون فقالو من انت قال رسول الله فرفعت اليه امراة صبيا لها فقلت الهذا حج قال نعم و لك اجر۔

(صحیح بخاری۔ کتاب الحج۔ باب صحة حج الصبی و اجر من حج به)

“ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی الله عليه وسلم کو روحاء کے مقام پر ایک قافلہ ملا تو نبی صلی الله عليه وسلم نے ان سے پوچھا کہ تم کون لوگ ہو؟ انہوں نے کہا: مسلم۔ قافلے والوں نے پوچھا کہ آپ کون ہیں؟ فرمایا الله کا رسول (صلی الله عليه وسلم)۔ ایک عورت نے اپنے بچے کو اوپر اٹھا کر پوچھا کہ کیا اس کا حج ہے؟ فرمایا: ہاں اور اسکا اجر تیرے لئے ہے۔”

نبی صلی الله عليه وسلم کے اس قول نے الله تعالیٰ کے اس قانون کی تصدیق فرمادی کہ “انسان کے لئے وہی ہے جس کی اس نے کوشش کی”۔ بچہ ابھی حج کے ثواب کی قدروقیمت کو نہیں جانتا مگر ماں کی یہ کوشش ہے کہ وہ اللہ کے حکم کو پورا کرے اور ثواب حاصل کرے اور ساتھ ہی بچے کو بھی لے آئی ہے کہ اس کا بھی حج ہو جائے (اسی لیے نبی صلی الله عليه وسلم سے سوال کیا) اور اس کو بھی ثواب مل جائے۔ لیکن نبی صلی الله عليه وسلم نے فیصلہ فرما دیا کہ دونوں کا اجر صرف اس عورت کے لیے ہے جس کی یہ ساری کوشش ہے۔ ایک شخص نے صاحب حیثیت ہوتے ہوئے بھی کبھی اس کے متعلق نہ سوچا، دنیا میں مگن رہا، پیسہ کمانے میں مگن رہا تو مرنے کے بعد اگر کوئی دوسرا اسکی طرف سے حج وعمرہ کرے تو وہ اس کے لئے نافع نہیں ہوسکتا۔ایک اور روایت پیش کی جاتی ہے کہ

“ایک شخص حج کرتے ہوئے کہہ رہا تھا “لبیک عن شبرمہ” “شبرمہ کی طرف دے لبیک” نبی صلی الله عليه وسلم نے پوچھا یہ شبرمہ کون ہے؟ کہنے لگا میرا رشتہ دار۔ نبی صلی الله عليه وسلم نے فرمایا: کیا تو نے حج کر لیا ہے؟ اس نے کہا نہیں۔ فرمایا: پہلے اپنا حج کر پھر شبرمہ کی طرف سے کرنا۔”

(سنن ابن ماجہ۔ کتاب المناسک۔ باب الحج عن المیت)

یہ حدیث صحیح نہیں ہے اس کے ایک راوی عزرہ پر محدثین نے بحث کی ہے۔ نسائی کہتے ہیں کہ یہ قتادہ سے روایت کرنے میں قوی نہیں اور وہ غیر متعین بھی ہیں (تھذیب التھذیب۔ جلد ٧ صفحہ ٧۴)۔ اس کے ایک اور راوی سعید بن ابی عروبہ آخر عمر میں اختلاط کا شکار ہو گئے تھے اور ان کی روایات مشتبہ ہو گئیں تھیں اس کے علاوہ وہ مدلس بھی تھے۔ (تھذیب التھذیب۔ جلد ۴۔صفحہ ۵٨)

اگر اس روایت کو صحیح مان بھی لیا جائے تو اس سے صرف اسقدر ثابت ہوتا ہے کہ اگر کوئی کسی کی طرف سے حج کرے تو پہلے خود اپنا حج کرے۔ اور پھر یہ بھی معلوم نہیں کہ یہ شخص جو دوسرے کی طرف سے حج کر رہا تھا وہ اس نے نذر مانی تھی یا وصیت کی تھی!

قربانی کے حوالے سے پیش کی جانے والی احادیث:

قربانی کی بابت کچھ احادیث پیش کرتے ہوئے ایصالِ ثواب کا جواز ڈھونڈا جاتا ہے۔

’’عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی الله عليه وسلم نے سینگوں والا دنبہ لانے کا حکم دیا جس کے پیر، پیٹ اور آنکھیں سیاہ ہوں۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا ایک دنبہ لایا گیا تاکہ نبی صلی الله عليه وسلم اسکی قربانی کریں۔ پھر نبی صلی الله عليه وسلم نے فرمایا: عائشہ چھری لاؤ، پھر اسے پتھر پر تیز کرو۔ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے اسی طرح کیا۔ پھر نبی صلی الله عليه وسلم نے چھری لے کر دنبہ پکڑا اور اسے لٹا کر فرمایا: میں اللہ کے نام سے ذبح کرتا ہوں، اے اللہ! اسے محمدؐ، آلِ محمدؐ اور محمدؐ کی امت کی طرف سے قبول فرما۔ پھر اسے ذبح کردیا۔

(صحیح بخاری۔ کتاب الاضحی۔ باب استجاب الضحيه و ذبحها)

اس واقعہ کی دوسری اسناد میں کسی میں دو دنبوں کا تذکرہ ہے، کسی میں عیدگاہ میں قربانی کرنے کا بیان ہے۔ اور کسی میں ذبح کرتے ہوئے یہ الفاظ کہنا روایت کیا گیا ہے:

“یہ میری امت کے ان لوگوں کی طرف سے ہے جو قربانی کی استطاعت نہیں رکھتے۔”

(سنن ابی داؤد۔ کتاب الضحایا۔ باب فی الذی یضحی بھا عن جماعة)

اپنی امت کی طرف سے قربانی کرنا نبی صلی الله عليه وسلم کا خاص عمل ہے۔ یہ کوئی عام معاملہ نہیں۔ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے اسے بنیاد بنا کر مردوں کی طرف سے قربانیاں نہیں کیں ہیں۔ نبی صلی الله عليه وسلم کے بعض کام ان کے لئے خاص ہیں، عام امت کے لیے نہیں۔ نبی صلی الله عليه وسلم کے اس عمل سے انکی نہایت درجے کی شفقت ومحبت کا اظہار ہوتا ہے جو انہیں اپنی امت سے تھی کیونکہ آپ صلی الله عليه وسلم مسلمانوں کے لئے باپ کی طرح تھے اور ایمان والوں پر انکی جان سے زیادہ حق رکھتے تھے جیسا کہ الله تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

النَّبِيُّ أَوْلَىٰ بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ ۖ وَأَزْوَاجُهُ أُمَّهَاتُهُمْ ۗ (الاحزاب: 6)

“بےشک نبیؐ تو مومنوں کے لیے ان کی جانوں سے زیادہ مقدم ہیں اور آپ کی بیویاں ان کی مائیں ہیں۔”

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے بیان فرما دیا کہ اے ایمان والو! محمد صلی الله عليه وسلم کی حیثیت تمہارے باپ کی ہے اور ان کی ازواج تمہاری مائیں ہیں۔ محمد صلی الله عليه وسلم تم سے زیادہ تمہاری جانوں کی فکر کرنے والے، تمہیں جہنم کی آگ سے بچانے کی فکر کرنے والے اور تم سے زیادہ تمہارے لیے دعا کرنے والے ہیں۔ اوپر بیان کردہ حدیث میں نبی علیہ السلام کے الفاظ اس بات کی شہادت دے رہے ہیں کہ وہ دعاگو ہیں کہ اے مالک ان سب کی طرف سے قربانی قبول فرما، جس میں سب سے پہلے انہوں نے اپنا نام لیا (یہ حدیث انکے خود ساختہ عقیدے کی دلیل کیسے بن سکتی ہے کیونکہ اس میں تو ایک عمل کرنے والا خود اپنی بخشش کے لئے دعا کر رہا ہے، جبکہ ایصالِ ثواب کا دیا ہوا عقیدہ یہ ہے کہ عمل کرو اور مردے کو بخش دو) پھر فرمایا آلِ محمدؐ کی طرف سے، یعنی اپنے گھر والوں کی طرف سے (یہ دعا بھی زندہ لوگوں کے لیے ہوئی) آخر میں فرمایا محمدؐ کی امت کی

طرف سے۔ نبی صلی الله عليه وسلم کی امت میں بالضرور وہ لوگ بھی شامل ہیں جو رسول اللہ صلی الله عليه وسلم کی دعوت پر لبیک کہتے ہوئے ایمان لائے تھے مگر اس دعا کے مانگے جانے کے وقت تک وہ وفات پاچکے تھے، لیکن ساتھ ہی امت کے وہ لوگ بھی شامل ہیں جو اس وقت صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کی حیثیت سے زندہ تھے۔ اور وہ تمام افراد بھی نبی صلی الله عليه وسلم کی امت میں شام ہیں جو ان چودہ صدیوں میں ایمان سے منور ہوئے اور جو آج ایمان خالص کے حامل اور نبی صلی الله عليه وسلم کی سنتوں کو دانتوں سے پکڑنے والے اور اس کے مطابق عمل کرنے والے ہیں، اور قیامت تک پیدا ہونے والے کلمۃ طیبہ کے اقراری اور اس پر عمل کرنے والے سارے ہی انسان نبی صلی الله عليه وسلم کے امتی ہیں۔ تو کیا عقیدہ ایصالِ ثواب میں یہ سب لوگ بھی شامل ہیں؟ کیا ان لوگوں کے لیے بھی ایصالِ ثواب ہے جو ابھی پیدا ہی نہیں ہوئے؟ حقیقت یہ ہے کہ اس حدیث میں بیان کردہ واقعہ نبی صلی الله عليه وسلم کی خصوصیت ہے۔

اسی طرح ایک روایت یہ بھی بیان کی جاتی ہے کہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ ہم منیٰ میں تھے اور ہمارے پاس گوشت بھیجا گیا کہ یہ نبی صلی الله عليه وسلم نے اپنی ازواج کی طرف سے قربانی کی ہے۔ اس سے ایصالِ ثواب کا عقیدہ کیسے ثابت کیا جا سکتا ہے یہ تو حج کا موقع تھا اور جو ازواج نبی صلی الله عليه وسلم کے ساتھ تھیں، انہوں نے اپنے ہاتھ سے قربانی کے جانور ذبح نہیں کیے بلکہ نبی صلی الله عليه وسلم نے ان کی طرف سے جانور ذبح کرکے گوشت بھجوا دیا جیسا کہ آج بھی خواتین حج کے موقع پر خود جانور ذبح نہیں کرتیں بلکہ ان کے محرم ان کی طرف سے قربانی کر دیتے ہیں، اور یہ معاملہ صرف حج کے لیے مخصوص نہیں بلکہ گھروں میں بھی کثرت سے ایسا ہی ہوتا ہے، لیکن ان لوگوں کو گھر والوں کی طرف سے قربانی کرنے میں بھی ایصالِ ثواب کی بو آنے لگی۔

ایک اور روایت پیش کی جاتی ہے کہ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہمیشہ دو مینڈھوں کی قربانی کرتے تھے۔ ایک نبی صلی الله عليه وسلم کی طرف سے اور ایک اپنی طرف سے۔ چند لوگوں نے اس عمل کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا: کہ نبی صلی الله عليه وسلم نے مجھے حکم دیا تھا اس لئے میں اسے کبھی نہیں چھوڑوں گا۔(جامع ترمذی۔ ابواب الاضھاحی۔ باب فی الاضحبۃ بکستین)

اس حدیث کا ایک راوی ابو الحسناء مجھول ہے (میزان الاعتدال جلد۴ صفحہ۵١۵)۔ اس کے دوسرے راوی حنش ابن المعتمر کے متعلق ابو حاتم کہتے ہیں کہ یہ صالح ہے لیکن میں نے محدثین کو اس کو دلیل بناتے ہوئے نہیں دیکھا۔ نسائی کہتے ہیں یہ مظبوط راوی نہیں۔ بخاری کہتے ہیں کہ محدثین اس کی روایتوں پر اعتراض کرتے ہیں۔ ابن حبان کہتے یہ حجت نہیں ہے کیونکہ یہ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بعض ایسی باتیں بیان کرتا ہے جو ثقہ راویوں کی روایت جیسی نہیں ہیں۔ امام بخاری نے اس کی ایک اور روایت کا ذکر کرکے اس کا ذکر کتاب الضعفاء میں کیا ہے اور اس کی یہ روایت کہ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی الله عليه وسلم نے حکم دیا تھا کہ ان کی طرف سے مینڈھوں کی قربانی کروں۔۔۔۔

اس روایت میں شریک بن عبداللہ سے راوی ابو الحسناء ہے اور وہ اس سے یہاں بیان کرنے میں مفرد ہے۔ (یعنی کوئی دوسرا ثقہ راوی ایسی کوئی بات بیان نہیں کرتا) (میزان الاعتدال: جلد ١ صفحہ ٢١٩۔٢٢۰)۔ ابن حجر کہتے ہیں یہ کثیر الوہم آدمی تھا۔ اس نے علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بعض ایسی باتیں روایت کی ہیں جو ثقہ راویوں کی روایات کے مشابہ نہیں، یہاں تک کہ اس کا شمار ایسے لوگوں میں کیا جاتا ہے جن کی روایت دلیل نہیں بنائی جا سکتی۔ ابو احمد الحاکم کہتے ہیں کہ محدثین

کے نزدیک یہ مظبوط راوی نہیں ہے۔ عقیلی، الساجی، ابن الجارود اور ابو العرب الصکلی نے اسے ضعیف راویوں میں ذکر کیا ہے۔ ابن حزم نے اسے ساقط الاعتبار اور گیا گزرا قرار دیا ہے (تہذیب التہذیب جلد٣ صفحہ ۵١ .۵٢)

مزید روایت بیان کی جاتی ہے کہ:

“عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی صلی الله عليه وسلم کی بیویوں میں سے کسی پر کبھی مجھے اتنا رشک نہ آیا کہ جتنا خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا پر، اور نہ جانے میرا کیا حال ہوتا اگر میں ان کو پاتی، اور یہ اس وجہ سے تھا کہ نبی صلی الله عليه وسلم انکو بہت یاد کرتے اور بکری ذبح کرتے اور ڈھونڈ کر خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی سہیلیوں کو تحفہ بھیجا کرتے تھے۔”

(ترمذی۔ کتاب المناقب۔ مناقب خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا)

نہ جانے ان فرقہ پرستوں کو کہاں سے اس روایت میں ایصالِ ثواب کی بو آگئ؟ اس روایت میں تو صرف اس بات کا بیان ہے کہ نبی صلی الله عليه وسلم کے دل میں خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے لئے بڑی محبت واحترام تھا، اور اس کا اظہار اس طرح ہوتا تھا کہ آپ صلی الله عليه وسلم ان کا ذکر فرماتے تھے اور جب کبھی بکری ذبح فرماتے تو اس کا گوشت ان کی سہیلیوں کو خاص طور پر بھیجتے۔ اس میں کہاں بیان کیا گیا ہے کہ ان کے ایصالِ ثواب کے لیے بکری کاٹتے تھے؟ ان فرقوں کے یہ اکابرین قرآن وحدیث کو اچھی طرح پہچانتے ہیں لیکن سارا زور اس بات پر ہے کہ کسی بھی طرح اپنے فرقے کے عقیدے کو صحیح ثابت کردیا جائے، نہ جانے کس کو دھوکا دے رہے ہیں، اللہ کو؟ اسکے بندوں کو؟ یا محض اپنے آپ کو!

دراصل جب ایک عقیدہ قرآن عظیم اور احادیثِ صحیحہ سے ثابت نہ ہوسکا تو بجائے اس کے کہ الله کی بات پر ایمان لاکر اپنی جانوں کو جہنم کی آگ سے بچانے کی کوشش کی جاتی اور ماضی میں ہونے والی کوتاہیوں کا ازالہ کیا جاتا، مگر ہوا یہ کہ اپنے فوت شدہ مسلکی اکابرین کے قرآن وحدیث کے منافی اعمال واقوال کو درست ثابت کرنے کے لئے ہر راہ اختیار کی گئی چاہے اس کے لئے بےسروپا دلائل کے عقلی گھوڑے ہی کیوں نہ دوڑانے پڑیں اور ضعیف روایات کو ہی بنیاد کیوں نہ بنانا پڑے!

دعائے مغفرت:

دعائے مغفرت کو جواز بنا کر ایصالِ ثواب کے عقیدے کو ثابت کرنے کی ناکام کوشش کی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ کیا نبی صلی الله عليه وسلم نے دعائے مغفرت نہیں کی؟ اگر کسی کا عمل کسی کے کام نہیں آتا تو پھر حدیث میں کیسے بیان کر دیا گیا کہ دعائے مغفرت کی وجہ سے میت کے عذاب میں کمی کر دی جاتی ہے یا اس کے درجات بڑھا دیے جاتے ہیں۔قرآن مجید میں جہاں اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو انکے نیک اعمال کے بدلے جزا کی خوشخبری سنائی وہاں یہ بھی بتایا گیا کہ ان سے سرزد ہونے والے گناہوں کو اللہ تعالیٰ جس حد تک چاہے گا معاف فرما دے گا۔ مالک کائنات فرماتا ہے:

وَ اِنِّیۡ لَغَفَّارٌ لِّمَنۡ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا ثُمَّ اہۡتَدٰی ﴿﴾

(طه-82)

“اور میں بہت درگذر اور مغفرت فرمانے والا ہوں ان لوگوں کے لئے جنہوں نے توبہ کی اور ایمان لائے اور نیک عمل کئے اور سیدھی راہ پر چلتے رہے۔”

فَالَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَہُمۡ مَّغۡفِرَۃٌ وَّ رِزۡقٌ کَرِیۡمٌ ﴿﴾

(الحج-50)

“جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کئے ان کے لئے بخشش اور عزت کی روزی ہے۔”

اِنَّ الَّذِیۡنَ یَخۡشَوۡنَ رَبَّہُمۡ بِالۡغَیۡبِ لَہُمۡ مَّغۡفِرَۃٌ وَّ اَجۡرٌ کَبِیۡرٌ ﴿﴾

(الملك-12)

“بےشک جو لوگ اپنے رب سے بن دیکھے ڈرتے ہیں ان کے لیے مغفرت اور اجر عظیم ہے۔”

فَاعۡلَمۡ اَنَّہٗ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَ اسۡتَغۡفِرۡ لِذَنۡۢبِکَ وَ لِلۡمُؤۡمِنِیۡنَ وَ الۡمُؤۡمِنٰتِ ؕ

(محمد-19)

“پس جان رکھو کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں، اور اپنی خطاؤں کی معافی مانگو اور مومن مردوں اور مومن عورتوں کے لئے بھی۔”

وَ الَّذِیۡنَ جَآءُوۡ مِنۡۢ بَعۡدِہِمۡ یَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَا اغۡفِرۡ لَنَا وَ لِاِخۡوَانِنَا الَّذِیۡنَ سَبَقُوۡنَا بِالۡاِیۡمَانِ وَ لَا تَجۡعَلۡ فِیۡ قُلُوۡبِنَا غِلًّا لِّلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا رَبَّنَاۤ اِنَّکَ رَءُوۡفٌ رَّحِیۡمٌ ﴿﴾

(الحشر-10)

’اور جو انکے بعد آئے وہ کہتے ہیں اے ہمارے رب ہماری مغفرت فرما اور ہمارے ان بھائیوں کی بھی جو ہم سے پہلے ایمان لائے اور ان کی طرف سے ہمارے دلوں میں کینہ اور حسد نہ پیدا ہونے دے اور تو بڑا شفقت والا اور مہربان ہے۔”

یعنی یہ اللہ کا حکم اور طریقہ عبادت ہے کہ الله تعالیٰ ہی کو مغفرت کرنے والا سمجھ کر اپنے گناہوں کی مغفرت مانگی جائے اور دیگر مومن مردوں اور عورتوں کے لیے بھی۔ حدیث میں اسی بات کو بیان کیا گیا ہے کہ جب کوئی مومن دیگر مومنین کے لیے دعا کرتا ہے تو وہ ہر صالح شخص کو پہنچ جاتی ہے خواہ وہ زمین پر ہو یا زمین اور آسمان کے درمیان ہو۔ (بخاری ومسلم)

دراصل مغفرت کہتے ہیں گناہوں کی معافی کو اور دعائے مغفرت کا مطلب ہے گناہوں کی معافی کے لئے کی جانے والی دعا .اسکی قبولیت اللہ تعالیٰ کی مرضی پر منحصر ہے اگر وہ چاہے تو مردے کو اس سے فائدہ پہنچے گا ورنہ صرف دعا کرنے والے ہی کو اس کا ثواب عطا فرمائے گا۔ اس سے مروجہ عقیدہ ایصالِ ثواب کیسے ثابت ہوتا ہے کیونکہ اس عقیدے کے مطابق تو ہمارا عمل ہماری کمائی ہے اب ہم اسے جس کو چاہیں بخشیں اس میں اللہ کی قبولیت کی کوئی قید نہیں!

یہ بھی کہا جاتا ہے کہ دعائے مغفرت بھی انسان کا ایک عمل ہے جب یہ کام آسکتا ہے تو ہمارا دوسرا عمل کیوں نہیں کام آ سکتا؟ اس سلسلے میں عرض ہے کہ ہم صرف اسی بات کے مکلف اور پابند ہیں جس کی تعلیم ہمیں شریعت دیتی ہے باقی اپنی طرف سے دماغ لڑانے، عقل کے گھوڑے دوڑانے، اگر مگر، چوں چرا کی شرع میں کوئی گنجائش نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے: “اور کسی مومن مرد اور مومنہ عورت کو حق نہیں ہے کہ جب اللہ اور اسکا رسولؐ کوئی امر مقرر کر دیں تو وہ اس کام میں اپنا بھی کچھ اختیار سمجھیں، اور جو الله اور اسکے رسولؐ کی نافرمانی کرے تو وی صریح گمراہ ہوگیا۔”

تو جب قرآن وسنت سے صرف دعائے مغفرت کا نافع ہونا ثابت ہو تو ہم کیسے کہہ سکتے ہیں کہ “یہ نافع ہے تو دوسرے اعمال بھی نافع ہیں” احادیث سے تو پتا چلتا ہے کہ اعتکاف کرنے والے کو عام دنوں کے معمولات کا بھی ثواب ملتا ہے۔ سفر پر جانے والے یا بیمار پڑ جانے والے کو عام معمولات کا ثواب ملنا بھی ثابت ہے۔ جو شخص مجاہد کا سامان سنوارتا ہے، اسکے پیچھے اسکے گھر کس خیال رکھتا ہے تو اس کے لئے بھی وہی اجر ہے۔ تو بتائیے یہاں تو عمل کیا ہی نہیں گیا پھر ثواب کیسے مل گیا؟ ثواب اس کی نیت، ارادے، خشوع وخضوع کو دیکھتے ہوئے دیا گیا۔ جبکہ مروجہ طریقہ ایصالِ ثواب میں جن لوگوں کو ثواب پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے اس میں ان افراد کی نیت، ارادے، خشوع وخضوع کا کوئی بھی دخل نہیں ہوتا۔

چونکہ کچھ افراد کا خیال تھا کہ “ایصالِ ثواب کا عقیدہ وعمل احادیث سے ثابت ہے اس لئے جو ایصالِ ثواب کا انکار کرتا ہے وہ احادیث کا انکاری ہے اور حدیث کا انکار کرنے والا مسلم رہ ہی نہیں سکتا، لہذا ایصالِ ثواب کے انکاری افراد اسلام سے خارج ہیں”۔چنانچہ ہم نے پوری کوشش کی ہے کہ اس بارے میں قرآن وحدیث کا متفقہ عقیدہ بمع حوالہ جات آپ کے سامنے رکھ دیں تاکہ “حدیث” کا نام لے کر جسطرح اس باطل عقیدے کو ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اس کی حقیقت واضح ہو جائے۔ دونوں باتیں آپکے سامنے آ گئی ہیں ایک طرف اللہ کا دین ہے اور دوسری طرف جو کچھ ہے آپکے سامنے ہے۔ قد تبین الرشد من الغی!

آئیے اب ان دلائل کا جائزہ لیں جو اس عقیدے کو ثابت کرنے کے لئے پیش کیے جاتے ہیں۔

دیگر دلائل:

ایصالِ ثواب کو ثابت کرنے کی مذموم وباطل کوشش میں آگے بڑھتے ہوئے چند اور اعمال کو اس سلسلے میں بطور دلیل پیش کیا جاتا ہے۔ بیان کیا جاتا ہے کہ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ: نبی صلی الله عليه وسلم نے فرمایا کہ جب قبرستان سے گزرو تو گیارہ مرتبہ سورۃ اخلاص پڑھ کر بخش دو تو جتنے مردے ہوں گے اتنا ہی تمہیں اجر ملے گا۔ یہ موضوع روایت ایصالِ ثواب یعنی مردے کو ثاب پہنچانے کے سلسلے میں پیش کی جاتی ہے حالانکہ اس میں ثواب مردوں کے لئے نہیں بلکہ پڑھنے والوں کے لیئے بیان کیا گیا ہے۔

“بہشتی زیور” نامی کتاب کے مصنف نے اس کتاب کے باب “ربیع الاول یا کسی اور وقت میں مولود شریف کا بیان” میں لکھا ہے:

“اور اگر حضرت پیغمبر صلی الله عليه وسلم کی روح مبارک کو کسی چیز کا ثواب بخشنا منظور ہو تو دوسرے وقت مساکین کو دے کر یا کھلا کر بخش دے”۔

ایکدوسرے باب “شب براْت کا حلوہ” میں تحریر کیا ہے:”تو اگر اس تاریخ میں مردوں کو کچھ بخش دیا کرے چاہے قرآن شریف پڑھ کر چاہے کھانا کھلا کر چاہے ویسے ہی دعائیں بخش دے تو یہ طریقہ سنت کے موافق ہے۔”

حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کی کوئی بات سنت سے ثابت نہیں، نبی صلی الله عليه وسلم نے قبرستان جانا یعنی قبروں کی زیارت کرنے کا مقصد دنیا سے بےرغبتی پیدا کرنا اور آخرت کی یاد دلانا بتایا ہے۔ (سنن ابن ماجہ۔ کتاب الجنائز۔ باب ما جاء فی زیارۃ القبور/ سنن نسائی۔ کتاب الجنائز۔ باب زیارۃ قبر

المشرک /سنن ابی داؤد۔ کتاب الجنائز۔ باب زیارۃ القبور) ایک روایت میں یہ بھی آیا ہے کہ یہ موت یاد دلاتی ہیں (نسائی ایضاً) جس کا اندازہ قبرستان میں پڑھی جانے والی دعا سے ہوتا ہے۔ نبی صلی الله عليه وسلم نے قبرستان میں پڑھنے کی یہ دعا سکھائی:

السَّلَامُ عَلٰی أَهْلَ الدِّيَارِ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُسْلِمِينَ وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِکُمْ لَلَاحِقُونَ نَسْأَلُ لَنَا وَلَكُمْ الْعَافِيَةَ۔

(صحیح مسلم۔ کتاب الجنائز )

“اے ان گھروں کے رہنے والے مومنو اور مسلمو! تم پر سلامتی ہو۔ بےشک اگر اللہ نے چاہا تو ہم تم سے مل جانے والے ہیں۔ ہم الله سے اپنے اور تمہارے لئے عافیت مانگتے ہیں۔”

نبی صلی الله عليه وسلم نے اسی بات کی تعلیم دی ہے کہ قبرستان جاؤ تو اس غرض سے جاؤ کہ تمہیں اپنا انجام یاد آئے، اس سے تمہارے اندر دنیا سے بےرغبتی پیدا ہوگی اور آخرت کی تیاری زیادہ سے زیادہ کرو گے۔ قبرستان کی جو دعا بتائی گئی اس میں مردوں کے لئے بھی دعا ہے اور اپنے لئے بھی۔ احادیث سے ثابت یہی اعمال مسنون ہیں۔ “فاتحہ” اور “ختم شریف” وغیرہ کے مروجہ طریقے لوگوں کے خودساختہ ہیں جن کا سنت نبوی صلی الله عليه وسلم اور آثارِ صحابہؓ سے کوئی ثبوت نہیں ملتا اور انکی حیثیت محض بدعت وگمراہی ہے۔ بہشتی زیور کے مصنف کا شبِ برات میں حلوا پکا کر بانٹنے، قرآن شریف پڑھ کر دعا مانگ کر مردے کو بخش دینے کو نبی صلی الله عليه وسلم کی سنت کہنا نبی صلی الله عليه وسلم پر تہمت وبہتان لگانا ہے (استغفرالله)۔ معاذاللہ نبی صلی الله عليه وسلم جن کاموں کا حکم نہ دیں اور نہ ہی انکے عمل سے ثا ت ہو اس کو سنت کہا جائے! نیز قرآن وحدیث میں “شبِ برات” نامی کسی رات کا کوئی بیان نہیں۔ یہ ایک فرقے کی خودساختہ رات ہے جس میں یہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم پر لعنت کرتے ہیں، لوگوں کو دھوکا دینے کے لئے اس کے متعلق من گھڑت روایات بیان کرکے اسکی فضیلت بیان کی جاتی ہے۔ ان لوگوں نے قرآن سے ثابت “لیلۃ القدر” کے مقابلے ميں ايک اور رات کو مبارک وافضل بنا ڈالا ہے۔

عقلی دلائل:

احادیث کو مشقِ ستم بنانے کے ساتھ ساتھ اس میدانِ ابطال میں عقل کے گھوڑے بھی دوڑائے جاتے ہیں اور کچھ عقلی دلائل کے ذریعے بھی بات بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ان مزعومہ “عقلی دلائل” کا بھی جائزہ لے لیا جائے۔

عقیدہ ایصالِ ثواب کو ثابت کرنے کے لئے کہا جاتا ہے کہ:

“اسکی دلیل یہ ہے کہ آدمی جسطرح مزدوری کرکے مالک سے یہ کہہ سکتا ہے کہ اس کی اجرت میری بجائے فلاں شخص کو دے دی جائے، تو اس طرح وہ نیک عمل کرکے اللہ تعالیٰ سے دعا کرسکتا ہے اس کا اجر میری طرف سے فلاں شخص کو عطا کردیا جائے۔”(تفہیم القرآن: جلد پنجم، صفحہ٢١۶)

دوسری کئی کتب میں اس طرح تحریر کیا گیا ہے کہ “ایصالِ ثواب” فقط اس چیز کا نام ہے کہ آدمی ایک عمل کرے اور دوسرے کو بخش دے۔

اپنی اجرت دوسرے کو دے دینا یا دلوا دینا دنیاوی معاملات میں تو ممکن ہے لیکن اپنے اعمال کا اجر کسی دوسرے کو منتقل کروا دینا اللہ کے قانون میں ممکن نہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

لَا یُکَلِّفُ اللہُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَہَا ؕ لَہَا مَا کَسَبَتْ وَعَلَیۡہَا مَا اكْتَسَبَتْ ؕ

(البقرہ: 286)

’’ اﷲ کسی کو اس کی وسعت سے زیادہ کا مکلف نہیں ٹھہراتا۔ جس نے جو کمائی کی ہے اس کا فائدہ اسی کو ملے گا اور جو برائی کرے گا تو اس کا وبال اُسی پر ہوگا ۔‘‘

ثُمَّ تُوَفّٰی کُلُّ نَفْسٍ مَّاکَسَبَتْ وَھُمْ لاَیُظْلَمُوْنَ

(البقرہ :281۱)

’’پھرہر شخص کو اس کے کیے کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا ، اور ان پرکوئی ظلم نہ ہوگا ۔‘‘

یَوْمَ تَجِدُ کُلُّ نَفْسٍ مَّاعَمِلَتْ مِّنْ خَیْرٍ مُّحْضَرًا وَّمَا عَمِلَتْ مِنْ سُوْٓءٍ (آل عمران: 30)

’’ اس دن ہر ایک اپنے کیے ہوئے اچھے اور برے اعمال اپنے سامنے پائے گا ۔‘‘

ھَلْ تُجْزَوْنَ اِلاَّ بِمَا کُنْتُمْ تَکْسِبُوْنَ

(یونس :52)

’’ تم اُن ہی اعمال کا بدلہ پاؤ گے جو تم (دنیا میں) کرتے رہے ۔‘‘

اِنْ اَحْسَنْتُمْ اَحْسَنْتُمْ لِاَنْفُسِکُمْ قف وَ اِنْ اَسَاْتُمْ فَلَھَا

(بنی: اسرائیل 7)

’’ اگر تم نے کوئی نیکی کی تو اپنے لیے ، اور اگر برائی کی تو اپنے لیے ۔‘‘

فَالْیَوْمَ لاَتُظْلَمُ نَفْسٌ شَیْئًا وَّلاَ تُجْزَوْنَ اِلاَّ مَاکُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ

(یٰسٓ :54)

’’ پس آج کسی جان پر کوئی ظلم نہ ہوگا اور تمہیں کسی عمل کی جزا نہیں ملے گی سوائے اس کے جو تم نے کیے ۔‘‘

مَنۡ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفۡسِہٖ وَ مَنۡ اَسَآءَ فَعَلَیۡہَا ؕ وَ مَا رَبُّکَ بِظَلَّامٍ لِّلۡعَبِیۡدِ

(حم السجدہ :46)

“جو نیک عمل کرے گا تو اپنے لئے کرے گا، اور جو برا کرے گا تو اس کا وبال اسی پر ہوگا۔ اور تیرا رب بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں۔”

اللہ کا قانون واضح ہے کہ عمل کا بدلہ اس کے کرنے والے ہی کو ملے گا۔ برائی کا وبال بھی اس کے کرنے والے ہی کے اوپر ہے۔ اور یہ بات اللہ تعالیٰ کے نزدیک ظلم ہے کہ عمل کوئی کرے اور جزا کسی اور کو ملے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

فَبِاَیِّ حَدِیۡثٍۭ بَعۡدَہٗ یُؤۡمِنُوۡنَ

(المرسلت:50)

’’اب اس (اللہ تعالیٰ کی بات) کے بعد کس بات پر یہ ایمان لائیں گے؟”

کیا اللہ تعالیٰ کی اس بات کے بعد بھی کوئی یہ عقیدہ رکھ سکتا ہے کہ ہمارا عمل کسی دوسرے کو بخشا جا سکتا ہے۔ ہم اپنا عمل تو دوسروں کو بخشنے کے لئے بڑے بےچین ہیں لیکن ہمارے پاس اس بات کی کوئی تصدیق ہے کہ ہمارا عمل اللہ کے یہاں قبول بھی ہو گیا ہے؟ جیسا کہ اس حدیث سے پتا چلتا ہے:

“نبی صلی الله عليه وسلم نے فرمایا: بہت سے صائم ایسے ہیں کہ انہیں اپنے صوم سے سوائے پیاس کے کچھ نہیں ملتا، اور بہت سے راتوں کو قیام کرنے والے ایسے ہیں کہ انہیں اپنے قیام سے سوائے جاگنے کے کچھ نہیں ملتا۔”

(رواہ الدارمی: مشکوۃ۔ ابواب الصوم۔ باب تنزیہ الصوم)

وہ اپنی دانست میں سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ انہیں صوم اور جاگنے کا ثواب مل رہا ہے جبکہ حقیقت میں مختلف وجوہات کی بنا پر ان کا عمل اللہ تعالیٰ کے یہاں قبول ہی نہیں ہو رہا ہوتا۔ قرآن وحدیث پر سچا ایمان رکھنے والا مومن جو دنیا کو محض امتحان گاہ سمجھ کر آخرت کا پرچہ حل کر رہا ہو، وہ کیسے اپنے نیک عمل کسی دوسرے کو بخش کر اپنے آپ کو اس ثواب سے محروم رکھے گا، جبکہ اس کا ایمان ہی یہ ہو کہ میرے یہ نیک عمل ہی میری آخرت کا سرمایہ ہیں۔ اگر کوئی پھر بھی اس طرح کے عمل کرتا ہے تو پھر اس کا عقیدہ آخرت شاید کچھ اور ہے۔

آج اس نام نہاد مسلم کی زندگی میں اللہ تعالیٰ کے احکام سے دوری کی ایک وجہ شاید یہ خودساختہ ایصالِ ثواب کا عقیدہ بھی ہے۔ اپنے مرنے کے بعد اپنے عزیزواقارب کی طرف سے کئے جانے والے ممکنہ ایصالِ ثواب کے بل بوتے پر ہی تو یہ عمل جاری ہے۔ یہ اپنی زبانِ حال سے گویا یہ کہتا ہے کہ جب میں مر جاؤں گا اور فرشتے اس بات کا عذاب دینے آئیں گے کہ نہ میں قرآن پڑھتا تھا اور نہ اس کے مطابق عمل کرتا تھا تو میں ان کو یہ کہہ کر روک دوں گا کہ کس بات کا عذاب دینے آئے ہو ذرا صبر تو کرو تمہیں نہیں معلوم کہ میں دنیا میں کسقدر کثیرالمال، کتنی بڑی برادری وکنبے والا تھا۔ تم یقیناً اس بات کا عذاب دینے آئے ہو کہ میں قرآن نہیں پڑھتا تھا، اس کے مطابق عمل نہیں کرتا تھا، صدقہ وخیرات نہیں کرتا تھا تو اے فرشتو! جلدی نہ کرو، ابھی تو میری روح قبض ہوئی ہے، ابھی تو گھر والے رو پیٹ رہے ہیں، برادری والے جمع ہو رہے ہیں، مولوی صاحب بہت سے بچے جمع کرکے لا رہے ہیں میرے لئے ایک نہیں کئ قرآن ختم ہوں گے، میرے نام سے کھانے پکیں گے صدقہ وخیرات ہوگا، پھر یہ سلسلہ دراز ہوتا چلا جائے گا، سوئم ودسواں ہوگا، جمعراتیں منائی جائیں گی، چالیسویں کا زبردست اہتمام ہوگا، میری طرف سے ہر وہ کام ہوگا جس کا میں نے تصور بھی نہیں کیا تھا، مال ودولت کے باوجود کبھی میں نے حج کا سوچا بھی نہیں تھا اب میری طرف سے حج بھی ہوگا اور پھر سال پورا ہونے پر برسی ہوگی۔ الغرض جو تم آج مجھے عذاب دینے آئے ہو تو میری طرف تو اتنا ایصالِ ثواب کردیا جائے گا کہ تم خود مجھے جنت میں داخل کرنے پر مجبور ہو جاؤ گے۔ آج میرا نام جہنمیوں کی فہرست میں ہے لیکن ایک دن آئے گا کہ میرے کھاتے میں اس قدر ثواب جمع ہو جائے گا کہ میرا نام جنت الفردوس کی لسٹ میں ہوگا، کیونکہ پہلے تو عمل کرنے والا میں اکیلا تھا مگر آج تو میری طرف سے لاتعداد عمل کرنے والے ہیں، جہنم کے حقدار تو وہ ہیں جن کے پیچھے کوئی ایصالِ ثواب کرنے والا نہ تھا، نہ اتنی دولت چھوڑ کر

مرے کہ انکی طرف سے قرآن ختم کرائے جاتے۔ انکا ثواب آج بھی وہیں اٹکا ہوا ہے مگر میرا اعمالنامہ دیکھو کیسا بھرا ہوا ہے؟ جہنمی مرا مگر ایصالِ ثواب کی کرامت دیکھو کہ میں جنت الفردوس میں بیٹھا ہوا ہوں۔

لرز جانے کا مقام ہے کہ کس عیاری سے اللہ کے قانون کو رد کرنے کی کوشش کی گئی ہے! کس مکاری سے اللہ کے نظام کو اس طاغوتی عقیدے نے جھٹلا دیا ہے! اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

الَّذِیۡ خَلَقَ الۡمَوۡتَ وَ الۡحَیٰوۃَ لِیَبۡلُوَکُمۡ اَیُّکُمۡ اَحۡسَنُ عَمَلًا ؕ

(الملک2)

“اسی نے موت اور زندگی کو تخلیق کیا تاکہ تمہاری آزمائش کرے کہ تم میں کون اچھے کام کرتا ہے۔”

وَ خَلَقَ اللّٰہُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ بِالۡحَقِّ وَ لِتُجۡزٰی کُلُّ نَفۡسٍۭ بِمَا کَسَبَتۡ وَ ہُمۡ لَا یُظۡلَمُوۡنَ ﴿﴾

(الجاثیہ: 22)

“اور اللہ نے آسمانوں اور زمین کو برحق پیدا کیا ہے تاکہ ہر متنفس کو اسکی کمائی کا بدلہ دیا جائے اور ان پر ہرگز ظلم نہ کیا جائے گا۔”

یعنی موت اور زندگی کی تخلیق، آسمانوں اور زمین کا بنایا جانا ایک منصوبے کے تحت ہے۔ یہ دنیا امتحان گاہ ہے، زندگی کا یہ دورانیہ مہلتِ عمل ہے جس میں دنیا کے بعد کی منزل کا امتحان دینا ہے۔ اسی امتحان کی کارکردگی، کامیابی وناکامی پر ہی اگلے جہاں کی سزاوجزا کا انحصار ہے۔ انسان جو کچھ کمائے گا اسی کا حقدار ٹھہرے گا، مگر اس عقیدہ ایصالِ ثواب نے اللہ کے اس نظام کو تلپٹ کردیا! ایک اپنے عمل کی وجہ سے جنت میں مقام حاصل کرے گا اور دوسرا ہمارے کئے ہوئے عمل سے؟ ایک اہم بات یہ ہے کہ قرآن کریم پڑھنے کی وجہ سے جو خشیت مومنوں پر طاری ہوتی ہے جس کی وجہ سے وہ تہجد گزار بن جاتے ہیں، ان کے رات اور دن پھر الله کے بتائے ہوئے طریقہ کے مطابق بسر ہوتے اور وہ متقی بن جاتے۔ یہ سارا تقویٰ، یہ سیرت میں نکھار کیسے بخشا جائے گا؟ پہلے مودودی صاحب نے لکھا تھا کہ ایک اپنا اجر دوسرے کو بخش سکتا ہے لیکن اپنے ہی لکھے کے خلاف اب لکھتے ہیں:

“جزا اسی کو ملے گی جو عمل کرے گا اور اسکی جزا کسی اور کو نہیں دی جاسکتی مگر اس کا انعام کسی اور کو دیا جا سکتا ہے۔”

نہ جانے کیسی تضاد بیانی ہے پہلے ایک عقیدہ دیتے ہیں پھر دوسرا عقیدہ دیتے ہیں، بحرحال اسکی مثال انہوں نے اس طرح بیان کی کہ:

“جیسے ایک شخص ورزش کرکے کشتی کے فن میں مہارت حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے، اس سے جو طاقت ومہارت پیدا ہوتی ہے وہ بحرحال اسکی ذات کے لئے مخصوص ہے، دوسرے کی طرف منتقل نہیں ہوسکتی۔ اسی طرح اگر وہ کسی دربار کا ملازم ہے اور پہلوان کی حیثیت سے اس کے لیے ایک تنخواہ مقرر ہے تو وہ بھی اس کو ملے گی، کسی اور کو نہ دی جائے گی۔ البتہ

جو انعامات اس کی کارکردگی پر خوش ہو کر اس کا سرپرست اسے دے اس کے حق میں درخواست کرسکتا ہے کہ وہ اس کے استاد، اس کے ماں باپ یا دوسرے محسنوں کو اس کی طرف سے دے دئے جائیں۔”(تفہیم القرآن، جلد ۵،صفحہ ٢١٧)

کچھ مسالک میں تو ایصالِ ثواب کی بابت وہی عقیدہ ہے جس پر صاحبِ تفہیم القرآن اس سے پہلے زور دے رہے تھے کہ مرنے والے کے لئے ہر قسم کا عمل کرکے بخشا جا سکتا ہے، لیکن کچھ مسلک پرست یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ فرض عبادات تو صرف انسان کے اپنے لئے ہیں اور ان کا ثواب کسی کو منتقل نہیں کیا جا سکتا لیکن دوسرے نیک عمل کرکے بخشے جا سکتے ہیں۔ اس کے لئے مندرجہ بالا عقلی دلیل بھی پیش کی جاتی ہے۔پہلے “جزا” اور “انعام” کے معنی سمجھ لینے چاہئے ہیں۔ “جزا” ایک اچھے عمل کے بدلے کو کہتے ہیں اور “انعام” اس عمل کو بہتر سے بہتر انداز میں کرنے پر خوشی سے مزید نوازے جانے کو۔ اس بارے میں قرآن وحدیث کا فیصلہ یہ ہے:

فَاَمَّا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَیُوَفِّیۡہِمۡ اُجُوۡرَہُمۡ وَ یَزِیۡدُہُمۡ مِّنۡ فَضۡلِہٖ ۚ

(النساء:173)

“پس وہ لوگ جنہوں نے ایمان لا کر نیک عمل کئے ہونگے، وہ اپنے اجر پورے پورے پائیں گے، اور الله اپنے فضل سے انکو مزید بھی عطا فرمائے گا۔”

اِنَّ لِلۡمُتَّقِیۡنَ مَفَازًا ﴿﴾……..جَزَآءً مِّنۡ رَّبِّکَ عَطَآءً حِسَابًا

(النبا: 31/32 )

’بےشک متقیوں کے لیے کامیابی ہے۔۔۔۔۔۔۔یہ تمہارے رب کی طرف سے جزا ہے اور بہت انعام۔”

قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ صَلَّى وَاحِدَةً صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ عَشْرَ صَلَوَاتٍ وَحُطَّتْ عَنْهُ عَشْرُ خَطِيئَاتٍ ْلَهُ عَشْرُ دَرَجَاتٍ۔

(سنن نسائی۔ کتاب الافتتاح۔ الفضل فی الصلوۃ علی النبی صلی الله عليه وسلم)

“رسول اللہ ﷺنے فرمایا جو کوئی میرے لئے ایک مرتبہ رحمت کی دعا کرے تو الله تعالیٰ اس پر دس رحمتیں بھیجے گا، اس کے دس گناہ معاف ہونگے اور دس درجے اس کے بلند ہوں گے۔”

ان آیات نے وضاحت کردی کہ جن لوگوں نے ایمان لا کر نیک عمل کئے ہوں گے، تو انکے نیک اعمال کا انکو بھرپور بدلہ ملے گا لیکن ساتھ ہی ان اعمالِ صالحہ میں خلوص وشوق وغیرہ کی وجہ سے جو انعام ملے گا (یعنی م زید عطا) تو وہ بھی اسی شخص کے لئے ہوگا کسی اور کے لئے نہیں۔ مذکورہ حدیث میں بھی اس کی مکمل وضاحت ملتی ہے کہ جس نے نبی صلی الله عليه وسلم کے لئے رحمت کی دعا کی (یعنی عمل کرنے والا) تو اس کا اجر (یعنی دس نیکیاں) اسی کو ملیں گی اور ساتھ ہی انعام (یعنی دس گناہوں کی معافی اور دس درجات کی بلندی) بھی اسی کو ملے گا۔ تو معلوم ہوا کہ “جزا” ہو یا “انعام” دونوں کے عطا کئے جانے کا سبب عمل کرنے والے کا اپنا عمل ہے۔ پس

ثابت ہوا کہ ایصالِ ثواب کے جواز میں پیش کئے جانے والے “جزاوانعام” کے فلسفے کی حیثیت محض باطل ہے۔ کیا ایک یومِ آخرت پر ایمان رکھنے والا اپنے ایک ایک عمل کی حفاظت کرتے ہوئے اپنے رب کی طرف سے زیادہ انعامات کا طلبگار رہے گا یا ناقدری وناشکری کی روش اختیار کرتے ہوئے شانِ بےنیازی سے ان انعامات کو دوسرے کو منتقل کرنے کی درخواست داغ دے گا؟ ایک عقیدہ جب قرآن کے خلاف ہے تو اپنی غلطی تسلیم کر لی جائے اور اللہ سے معافی مانگتے ہوئے اپنی اصلاح جر لی جائے لیکن ہوتا یہ ہے کہ اپنے اس غلط عقیدے کو ثابت کرنے کے لئے طرح طرح کی منطقیں گھڑی جاتی ہیں اور ہرممکن کوشش کی جاتی ہے کہ کسی بھی طور اس کو ثابت کردیا جائے۔

قرآن وحدیث کے حوالوں سے اب یہ بات مکمل طور پر واضح ہو گئی ہے کہ اس من گھڑت عقیدے کے حق میں دئیے جانے والے “عقلی دلائل” حقیقت میں “عقلی فتور” اور “عقلی فقدان” کا شاہکار ہیں۔اس سلسلے میں دوسرے دلائل جن میں منی آرڈر کی مثال کے ذریعے ایصالِ ثواب کو ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے، ان کی حیثیت محض فریب کارانہ جسارت ہے جن پر بحث کرنا وقت کا ضیاع ہے۔

قرآن خوانی:

رائج الوقت ایصالِ ثواب کے لئے اختیار کئے جانے والے طریقوں میں “قرآن خوانی” کی رسم کو سب سے زیادہ لازمی سمجھا جاتا ہے۔ جہاں کوئی میت ہوئی فورا اس کا اہتمام شروع ہو جاتا ہے۔ اس رسم کو اسقدر روسج دے دیا گیا ہے کہ گویا یہ دین کا ایک حصہ معلوم ہونے لگی ہے۔ اس کو غلط سمجھنے کا تو کسی کے ذہن میں کوئی تصور ہی نہیں، بلکہ سب اس کی فضیلت کے قائل ہیں جس کا اندازہ اس عمل پر تسلسل اور تکرار سے لگایا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے باقاعدہ پارٹیاں بنی ہوئی ہیں جن کا کام ہی قرآن خوانی کرنا ہے اور اس کی وہ باقاعدہ اجرت بھی لیتے ہیں۔ بعض جگہ مولوی صاحبان نے اس کو باقاعدہ کاروبار کی شکل دے رکھی ہے۔ ان کو آرڈر دے دیا جاتا ہے اور وہ گاڑی بھر کر مدرسے کے طلبہ کو لے کر جائے مطلوبہ پر حاضر ہو جاتے ہیں اور دیکھتے ہی دیکھتے مطلوبہ تعداد میں قرآن ختم کر دیتے ہیں اور کھا پی کر اپنی فیس وصول کرکے اگلی بکنگ کی جگہ پر چلے جاتے ہیں۔

قرآن کریم اللہ تعالیٰ نے نبی صلی الله عليه وسلم پر اسی لیئے نازل فرمایا تاکہ وہ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے احکام سے آگاہ فرمائیں۔ نبی صلی الله عليه وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کو اس کی تعلیم دی، انہیں اسکے پڑھنے کا طریقہ بتایا، اسکی مختلف سورتوں اور آیتوں کے فضائل بتائے۔ یہ ساری باتیں کتب احادیث میں موجود ہیں جو طوالت کی وجہ سے نقل نہیں کی جا رہیں۔ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین ان سب پر عمل کرنے والے تھے، وہ راتوں کو اٹھ اٹھ کر تہجد کی صلوۃ میں اور اس کے علاوہ بھی نہایت خشوع وخضوع سے اس کی تلاوت کیا کرتے تھے، لیکن ایسی کوئی حدیث نہیں ملتی کہ نبی صلی الله عليه وسلم یا صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین میں سے کسی نے بھی اس انداز کی قرآن خوانی کی ہو، لہذا اس کے بدعت ہونے میں کوئی شک نہیں۔ افسوس اس بات کا ہے کہ جب ان علم کے پہاڑوں کو اس بدعت کے بارے میں بتایا جاتا ہے تو بجائے اس کے یہ اللہ سے ڈرتے ہوئے اس بدعت سے رجوع کریں الٹا اس کا دفاع کرنے لگتے ہیں۔ اپنے فعل پر نادم ہونے کی بجائے اس کے درست ہونے پر اصرار کرتے ہیں۔ بڑے سفیہانہ انداز میں کہا جاتا ہے کہ “اسوقت تک قرآن جمع نہیں ہوا تھا”۔ افسوس کہ یہ لوگ اس بدعت کی دلدل میں اسقدر دھنسے ہوئے ہیں کہ ان کو اتنی سی بات بھی سجھائی نہیں دیتی کہ قرآن نبی صلی الله عليه

وسلم کے قلب پر ہی تو نازل ہوا تھا، نیز صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کی ایک بڑی تعداد حافظِ قرآن تھی۔ کیا قرآن خوانی کے لیے ضروری تھا کہ کاغذ کے پاروں کو دیکھ کر ہی پڑھا جائے؟ لہذا کیا وہ لوگ قرآن خوانی نہیں کر سکتے تھے؟ اگر انکی بات کو تسلیم بھی کر لیا جائے تو اس رسم کو اسوقت تو رائج ہو جانا چاہئے تھا جب ابو بکر وعثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے زمانے میں دلوں میں محفوظ اور مختلف جگہوں پر مکتوبہ قرآن یکجا کرکے کاغذی شکل میں جمع کر لیا گیا تھا۔ اس دور میں ہی نہیں بلکہ بعد کے دور میں بھی اس رسم قرآن خوانی کا کوئی وجود نہیں ملتا۔ یہ لوگ زبانِ حال سے گویا یہ کہنا چاہتے ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین اس چیز کی فضیلت کو نہ سمجھ سکے جس کو ہم سمجھے ہیں گویا ان کا علم صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کے علم سے زیادہ ہے! انہیں پتا ہے کہ قرآن کسطرح پڑھنا چاہیے۔ انہیں زیادہ معلوم ہے کہ قرآن خوانی کی کیا فضیلت ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین تو اس فضیلت سے محروم رہ گئے! معاذاللہ!

یاد رکھیں کوئی عمل خواہ وہ کتنا ہی خوشنما کیوں نہ ہو، کتنا ہی پسندیدہ کیوں نہ لگے لیکن اگر نبی صلی الله عليه وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کے قول وفعل کے مطابق نہیں تو اللہ کے عذاب کا راستہ ہے۔ جب ان مولویوں کے پاس اس کا کوئی جواب نہیں ہوتا تو کہنے لگتے ہیں “یہ لوگ قرآن پڑھنے کو بدعت کہہ رہے ہیں۔” قرآن پڑھنا تو یقیناً بہت زیادہ باعثِ ثواب ہے لیکن قرآن بھی اسی طرح پڑھنا ہے کہ جیسے ہم کو تعلیم دی گئی ہے، نبی صلی الله عليه وسلم نے فرمایا کہ “انسان سجدہ میں اپنے رب کے بہت قریب ہوتا ہے۔” دیکھی آپ نے سجدے کی فضیلت! اب بتائیے اگر ایک رکعت میں کوئی اس فضیلت والے سجدے کو تین یا چار مرتبہ کرنا شروع کردے تو آپ اس کو کیا کہیں گے؟ کیا اس شخص کی صلوۃ قبول ہو سکتی ہے؟ یہی فضیلت والا سجدہ اگر سورج نکلتے وقت، زوال کے وقت اور غروب کے وقت کیا جائے تو حرام کیوں ہو جاتا ہے؟ معلوم ہوا کہ ایک نیک کام کی قبولیت بھی اسی کام کو نبی صلی الله عليه وسلم کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق کرنے سے مشروط ہے ورنہ یہی نیک کام اللہ کے غضب کا حقدار بنا دیتا ہے۔

یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جو جس مسلک سے وابستہ ہے اسی کے حساب سے عقیدہ اور عمل اختیار کرے دوسروں پر اپنا عقیدہ زبردستی نہ ٹھونسے۔ فرقہ بندی کو تو قرآن نے کفر اور شرک قرار دیا ہے ایک مومن ومسلم تو کسی طور بھی کسی فرقے سے وابستہ ہو ہی نہیں سکتا، یہی نبی صلی الله عليه وسلم کا حکم ہے۔ پھر یہ کہ عقیدہ ایصالِ ثواب پر ہم نے کسی مسلک کتابوں سے بحث نہیں کی بلکہ صرف قرآن وحدیث جو شرع کی بنیاد ہیں (جس پر یہ سارے فرقے ایمان رکھنے کا دعویٰ کرتے ہیں) اسی سے سارے حوالے دئیے ہیں، اب جو بھی کتاب الله کا ماننے والا ہو گا وہ تو اسی پر ایمان لائے گا اور جو اکابرینِ مسلک کا مطیع ہوگا وہ اپنے مسلک کے مفتیوں کے فتوؤں سے ہی چمٹا رہے گا۔ قیامت کے دن اس ساری امت کا حساب قرآن وحدیث سے ہی ہوگا۔ سنی، شیعہ، اہل حدیث، دیوبندی وبریلوی کا حساب علیحدہ علیحدہ ان کے مسلک کی کتابوں کے مطابق نہیں ہوگا، اس لئے لوگ آج ان کتابوں سے ہدایت حاصل کرنے کی بجائے اپنے انجام سے باخبر ہو جائیں اور صرف قرآن وحدیث کا مطالعہ کریں، اسی کو سمجھیں، اس کے مطابق عقیدہ بنائیں اور اسی کے مطابق عمل کریں، کیونکہ الله تعالیٰ نے اسی کو انسانوں کے لئے ہدایت نامہ بیان فرمایا ہے۔

امت میں پھیلائے گئے اس عقیدہ ایصالِ ثواب کے بارے ميں اس بیان کا مقصد کسی کی ہتک وتحقیر یا کسی کو نیچا دکھانا نہیں بلکہ اس بات کی وضاحت کرنا ہے کہ آج کا یہ نام نہاد مسلم کسقدر اپنے رب کے احکام سے دور ہو چکا ہے۔ آج اس نے اللہ کی طرف سے نازل کردہ کتابِ ہدایت کو جزدان

میں لپیٹ کر گھر میں سب سے اونچی جگہ پر رکھ دیا ہے اور گویا یہودیوں کی طرح کتاب اللہ کو پس پشت ڈال دیا ہے۔ اسی لئے یہ آج دوسروں کے بنائے ہوئے قوانین کا غلام بن گیا ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ جس عقیدے کا قرآن وحدیث میں کوئی وجود نہ ہو لیکن ان پر ایمان رکھنے والا اس پر اصرار کرے۔ جن نئی باتوں کو آج اسلام کا اہم طریقہ سمجھ کر اپنایا گیا ہے، ان پر مُصر لوگ کس دین کے پیروکار ہیں؟ جب احادیث سے یہ چیز ثابت نہیں کہ رسول اللہ صلی الله عليه وسلم نے کسی کی وفات کے موقع پر قرآن خوانی کرنے، اگربتیاں جلانے، کھجور کی گٹھلیوں وغیرہ پر مختلف قسم کے کلمات کا ورد کرنے، جنازے کے ساتھ چلتے ہوئے بلند آواز سے کلمہ شہادت پڑھنے، اور ان سب اعمال کو مردے کو بخش دینے، دفنانے کے بعد وہاں ہاتھ اٹھا کر اجتماعی دعا کرنے، فاتحہ پڑھنے، قبرستان سے واپس آکر شرکاءِ جنازہ کے لئے کھانے کا انتظام کرنے، “قل شریف” سوئم ودسواں، چالیسواں وبرسی کی محفل منعقد کرنے، جمعراتوں کو رشتہ داروں، دوستوں اور عزیزوں کو جمع کرکے مردے کو ایصالِ ثواب کرنے کے لئے مختلف وظائف پڑھنے وغیرہ کا کوئی حکم دیا ہو یا صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے کبھی ایسا کیا، تو پھر یہ امت ان کاموں کو اختیار کرنے میں آخر کس کی پیروی کر رہی ہے؟ اللہ کے واسطے ذرا سوچئے کہ قرآن وحدیث سے انحراف کا انجام کیا ہے؟ کیا یہی وہ انجام ہے جس کی ہم تمنا رکھتے ہیں؟

آخر میں اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں قرآن پڑھنے، سمجھنے اور اس پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے، نبی صلی الله عليه وسلم کی اتباع جو اصل دین ہے اسی پر قائم رکھے۔ مالک ہم تیرے رسول اللہ صلی الله عليه وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کی ذات اور اسوہ دونوں سے محبت کرتے ہیں، صرف انہی کا اسوہ ہمارے لئے مشعلِ راہ ہے۔ مالک ہمیں انہی کی راہ پر چلا، ہمارا خاتمہ ایمان پر فرما اور پھر ہمیں انہی کے ساتھ ملا دے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *