Categories
Uncategorized

عیسیٰ علیہ السلام ، توفیٰ ، رفع اور نزول

محمدصلی اﷲ علیہ و سلم اﷲ کے آخری رسول ہیں۔ اﷲ تعالیٰ نے اپنی آخری کتاب قرآن مجید میں آپ صلی اﷲ علیہ و سلم کو خاتم النبیّن کا خطاب دیا اور آپ صلی اﷲ علیہ و سلم نے اپنے ارشاد  لَا نَبِیَّ بَعْدِی کے ذریعے اپنے بعد کسی نئے نبی کی آمد کے امکان کو یکسر مسترد فرمادیا۔البتہ آپ صلی اﷲ علیہ و سلم نے قیامت کے قریب کے زمانہ میں رونما ہونے والے بعض واقعات کی پیشنگوئی فرمائی مثلاً فتنہ دجال ، عیسیٰ علیہ السلام کانزول، لشکر اسلام کی معیت میں دجال کو قتل کرنا، یہود نصارٰی کا قلع قمع، یا جوج ما جوج کاخروج اور دنیا میں تباہی پھیلانا اور پھر اللہ کے حکم سے ان کا ہلاک ہونا وغیرہ وغیرہ۔

بحیثیت مسلم  ہمارا یمان ہے کہ اللہ کے آخری رسول صلی اﷲ علیہ و سلم نے جو بھی پیشنگوئی فرمائی ہے وہ اپنے وقت پر بالکل اسی ترتیب سے پوری ہوگی جسطرح آپ صلی اﷲ علیہ و سلم نے بتایا ہے۔ جس طرح قیامت کا آنا اٹل ہے اسی طرح قیامت سے پہلے ان ساری نشانیوں کا ظاہر ہونا بھی اٹل ہے۔

اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان سے جو وعدۂ  استخلاف فرمایا ہے اور اللہ کے رسول صلی اﷲ علیہ و سلم نے جس کی پیشنگوئی فرمائی ہے وہ انشاء اﷲ ضرور پورا ہو کر رہے گا۔ اب اس کے پورا ہونے میں کتنی مدتِ آزمائش اور دور ابتلاباقی ہے ،یہ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔ البتہ ایک حقیقت جس کا ہر صاحبِ ایمان معترف ہے ،وہ یہ ہے کہ قیامت کے قریب مسیح دجال دنیا میں جو فتنہ برپا کرنے والا ہے اسے فرو کرنے کیلئے اور یہود و نصارٰی اور اہل ایمان میں جو آخری معرکہ ہونا ہے اسے سیر کرنے کیلئے کسی ایسے مرد مومن اور ایسے سالاراعظم کی ضرورت ہے جس پر اللہ تعالیٰ کا خصوصی انعام واکرام ہو۔کتاب اﷲ کے حوالے سے ایسی شخصیت عیسیٰ علیہ السلام ہی کی ہے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

اِنْ ھُوَ اِلَّا عَبْدٌ اَنْعَمْنَا عَلَیْہِ وَجَعَلْنٰہُ مَثَلًا لِّبَنِیْٓ اِسْرٓئِیْلَ

(الزخرف:59)

’’وہ تو محض ہمارا یک بندہ ہے جس پر ہم نے انعام کیا اور اسے بنی اسرائیل کیلئے ایک مثال بنایا‘‘۔

آخری فیصلے کیلئے بطور حاکم عیسیٰ علیہ السلام کا انتخاب فرمایا گیا ہے اور چونکہ یہ آخری فیصلہ قرب قیامت میں ہونا ہے اور عیسیٰ علیہ السلام کی شمشیر سے ہونا ہے اسی لیے اللہ تعالیٰ نے پیشگی خبر دے دی۔

وَاِنَّہٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَۃِ فَلَا تَمْتَرُوْنَ بِھَا وَاتَّبِعُوْنِ

(الزخرف ـ61)

’’ اور وہ (عیسیٰ ؑ) قیامت کی نشانی ہے اور اس (کے وقوع) میں تمہیں ہر گز کوئی شک و شبہہ نہ ہونا چاہیے‘‘۔

قارئین! قرب قیامت کے پُرفتن دور کے حوالے سے قرآن و حدیث کا یہی لب لباب ہے لیکن صدافسوس کہ امت کے نام نہاد بہی خواہ بعض پیشہ ور علماء قرآن و حدیث کی واضح تعلیمات سے لوگوں کوبر گشتہ کرنے میں مصروف ہیں۔ اپنی تحریر و تقریر میں یہ لوگ برملا کہتے ہیں : ’’عیسیٰ علیہ السلام مرچکے ،وہ واپس نہیں آئیں گے اُن کا انتظار چھوڑ دو، انتظار مسیح امت کیلئے زہر قاتل ہے، ہمیشہ قوموں نے کسی نجات دہندہ کے انتظار میں زندگیاں برباد کی ہیں‘‘، وغیرہ۔ امت کے اندر ایک عرصہ سے ’’وفات مسیح  ؑ‘‘ کی دعوت چل رہی ہے۔ اس دعوت اور تحریک سے امت کے اندر نہ تو کوئی انقلاب آیا اور نہ ہی دنیا میں اس کی قوتِ کار میں کچھ اضافہ ہوا۔ البتہ یہ ضرور ہوا کہ اس دعوت سے ’’احمدیت‘‘ کو خوب تقویت ملی، کیونکہ مرزا غلام احمد قادیانی نے بھی ’’وفات عیسیٰ  ؑ‘‘ کی بنیاد پر ہی نبوت کا دعوٰی کیا تھا۔ اور اس دعوت کی بنیاد پر مرزا کو تمام سابقہ جھوٹے مدعیان نبوت سے بڑھ کر کامیابی حاصل ہوئی۔ ’’وفات و نزول عیسیٰ  ؑ‘‘ کے موضوع پرہمارے پیش نظر قادیانیوں اور منکرین حدیث کی کچھ کتب ہیں ۔ ان کتب میں جو کچھ لکھا ہوا ہے قرآن و حدیث کی تعلیمات سے موازنہ کرنے پر انکی اصل حقیقت آپ کے سامنے آجائے گی۔

منکرین حدیث کی کتب اسی قسم کی مغلظات سے بھری پڑی ہیں۔ایک طرف تو یہ لوگ حدیث نبوی صلی اﷲ علیہ و سلم،صحابہ کرام رضی اﷲ تعالیٰ عنہم،راویانِ احادیث کیلئے اس قسم کی زبان استعمال کرتے ہیں اور دوسری طرف قرآن کی آیات کی غلط تشریحات کرکے احادیث کے بارے میں شکوک و شبہات پھیلاتے ہیں۔ ’’وفات مسیح  ؑ‘‘کا یہ موضوع اس کثرت سے دہرایا جا رہا ہے کہ عام لوگ انکی گمراہ کن باتوں سے متاثر ہونے لگے ہیں، لہٰذا ضروری ہے کہ قرآن و حدیث  کے حوالے سے اس موضوع پرکچھ تفصیل پیش کی جائے تاکہ حق واضح ہوجائے۔

اسی سلسلے میں کچھ عرصہ قبل منکر ین حدیث کے ایک گروہ نے ایک کتاب ’’عقیدہ خاتم النبیّنﷺ ‘‘ کے نام سے شائع کی ہے۔جس کے مصنف محمد ھادی ہیں۔ یہ وہی گروہ ہے جو مومنوں کی جماعت سے احمد بن حنبل کے دفاع میں علیحدہ ہوا تھا۔اگرچہ انکی علیحدگی کی وجہ طاغوت کا دفاع ہی تھا لیکن اب انکار قرآن و انکار حدیث کا زہررگ وپے میں پیوست ہوگیا ہے ۔اور اب وہ بڑے گروہ طواغیت میں شامل ہو کر گمراہی کے مشن میں سرگرم عمل ہوگئے ہیں۔       مالک کائنات کی بات لاریب ہے،اس نے جو کچھ اپنی کتاب مقدس میں بیان کیا ہے وہ حرف بہ حرف سچا ہے۔فرمایاگیا:

والذین کفروا اولیٰئھم الطاغوت یخرجھم من النور الیٰ الظلمٰت لا اولٰئک اصحٰب النار فیھا خٰلدون

(البقرۃ:257)

’’اور جنہوں نے کفر کیا انکے دوست طاغوت ہیں جو انہیں روشنی سے نکال کر تاریکیوں میں لے جاتے ہیں، یہ لوگ جہنمی ہیں اور ہمیشہ اسی میں رہیں گے‘‘۔

آج یہ گروہ قرآن کی اس آیت کی زندہ تفسیر بن گیا ہے۔قرآن کا انکار کرتے ہوئے طاغوت کے دفاع میں مومنوں کی جماعت کو چھوڑا،پھر جادو کی احادیث کا انکار کرنے کیلئے قرآن کی کے مندرجات کا قرآن و حدیث  کی روشنی میں جائزہ لینے کے بعد اندازہ ہوگا کہ شیطان نے انکو کتنی پستی میں لا کر پھینک دیا ہے۔گویافی قلوبھم مرض فزادھم اﷲ مرضًا’’ انکے دلوں میں مرض تھا تو اﷲ نے اس مرض کو اور بڑھا دیا‘‘۔  جتنی تیزی سے انکا یہ مرض بڑھ رہا ہے اس سے تو یہی اندازہ ہوتا ہے کہ جلد ہی یہ گروہ انکار حدیث کے ضمن میں نت نئے گوشے تلاچ کریگا اور شاید کہ عذاب قبرکے بارے میں بیان کردہ احادیث کا بھی انکار کردے ۔ پھر یہی مرض ا ن کو پرویز ، تمنا عمادی کا حقیقی وارث بنادیگا۔العیاذ باﷲ!  فی الحقیقت یہ تو قادیانی گروہ سے بھی آگے جارہے ہیں۔

احمدی قلمکاروں نے نزول عیسیٰ  ؑکے ضمن میں آنے والی حدیثوں سے اپنے مطلب کا ایک آدھ لفظ چن کر یا ایک آدھ فقرہ سیاق وسباق سے الگ کرکے اس سے مرزا غلام احمد کو ’’ظلی نبی‘‘ اور ’’مسیح موعود‘‘ ثابت کرنے کی مذموم کوشش کی ہے جبکہ تمنا عمادی پھلواری (منکر حدیث) نے اس ضمن میں آنے والی تمام احادیث پر اپنے خاص انداز سے طبع آزمائی کرکے انہیں یکسر مسترد کردیا بلکہ اپنے زعم باطل میں ایک جست اور آگے لیکر محض تاریخی حوالہ جات سے تمام جامعین حدیث کو وضاع اور دروغ گو ثابت کر دکھایا۔ منکر حدیث محمد ہادی نے قرآن مجید کی آیات کی من مانی تشریحات کرکے قادیانیوں کے مشن کی خوب آبیاری کی۔ ان تمام کتب کا ایک ہی مضمون میں رد کرنا اور ایک ایک نکتے کا جواب لکھنا تو ممکن نہیں البتہ موضوع کی مناسبت سے آئندہ صفحات میں بعض اہم نکات کی وضاحت کی کوشش کی گئی ہے۔

قادیانی اور منکر حدیث ’’رفع ونزول عیسیٰ علیہ السلام ‘‘ کے مکمل انکاری ہیں۔مرزا غلام احمدنے کتاب اﷲ کے دیے ہوئے عقیدے کے مقابلے میں ’’ مسیح موعود‘‘ کا ایک نیا عقیدہ گھڑا اور خود کو مسیح موعود قرار دے ڈالا۔ بہرحال وفات عیسیٰ علیہ السلام کے عقیدے پر یہ دونوں گمراہ گروہ مکمل طور پرمتفق ہیں ۔اصل موضوع کی طرف آنے سے قبل یہ ضروری ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کی دعوت کی ایک جھلک قارئین کے سامنے آجائے۔

مرزا کا الہام:

پہلا الہام:۔

اللہ فرماتا ہے’’ مسیح ابن مریم فوت ہوچکا ہے اور اس کے رنگ میں ہو کر وعدہ کے موافق تو آیا ہے ۔ عَلَی  وَکَانَ وَعْدُاللہِ مَفْعُولَاَ وَاَنْتَ مَعِیَ وَاَنْتَالْحَقِ الْمبینO(بحوالہ نزول مسیح ص6ازلہ اوہام ص561/562۔تذکرہ ص191)

دوسرا الہام:۔

اللہ فرماتا ہے’’ میں تجھے زمین کے کناروں تک شہرت دوں گا۔ جَعَلْنَاکَ ابْنَ مَریمَ یعنی ہم نے تجھے ابن مریم بنایا ہے ان کو کہہ دے میں عیسیٰ کے قدم پر آیا ہوں‘‘           (بحوالہ نزول مسیح ص6ازلہ اوہام ص634۔تذکرہ ص191)

تیسرا الہام:۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے  ثُمَّ اَحْیَیْنَاکَ بَعْدَمَا اَھْلکْنَا الْقُرونَ الْاولٰی وَجَعَلَنَاکَ الْمَسیحَ ابْنَ مَریَم’’پہلی قوموں کے ہلاک کرنے کے بعد ہم نے تجھے زندگی دی ہے اور تجھے مسیح ابن مریم بنایا ہے‘‘      (تذکرہ)

ملاحظہ فرما یا آپ نے کہ اللہ کے آخری رسول صلی اﷲ علیہ و سلم پر قرآن کی صورت میں جو وحی نازل ہوئی مرزا غلام احمد نے اس کے ساتھ کیا حشر کیا؟ قرآنی آیات کو توڑ پھوڑ کرکس طرح اپنے مطلب کے الفاظ ان میں داخل کردیے؟

سب سے بڑا جھوٹ:

جب کوئی بے بنیاد بات آدمی سنتاہے تو کہتا ہے کہ یہ دنیا کا سب سے بڑا جھوٹ ہے لیکن اس سے بڑا جھوٹ اور کیا ہوگا کہ ماں تو مدتوں پہلے فلسطین کے علاقے میں فوت ہوگئی اور ماں کی وفات کے دوہزار سال بعد اس کے بیٹے نے ہندوستان میں جنم لیا۔اللہ کیا آخری رسول صلی اﷲ علیہ و سلم پر جو وحی نازل ہوئی اس میں تو یہ اصول بیان ہوا ہے:

اِنْ اُمَّھٰتُھُمْ اِلَّا الِّٰٓیئِ وَلَدْنَھُمْ ط وَاِنَّھُمْ لَیَقُوْلُوْنَ مُنْکَرًا مِّنَ الْقَوْلِ وَ زُوْرًا

(المجادلہ:2)

’’ ان کی مائیں تو وہی ہیں جنہوں نے ان کو جنا ہے۔ اور بے شک یہ لوگ نہایت ہی ناپسندیدہ اور جھوٹی بات کہتے ہیں‘‘۔

یہ آیت واضح طور پر بتا رہی ہے کہ انسان کی حقیقی ماں وہی ہوتی ہے جس کے بطن سے وہ پیدا ہوتا ہے۔ ویسے دودھ پلانے والی عورت بھی رضاعی ماں ہوتی ہے اور حقیقی ماں ہی کی طرح محترم ۔نیز قرابت کے لحاظ سے خالہ کا درجہ بھی ماں کے برابر ہی ہے لیکن کنیت کیلئے جس طرح حقیقی باپ کی نسبت ضروری ہے اسی طرح حقیقی ماں کی نسبت بھی لازمی ہے۔ہر آدمی اس اصول سے بخوبی واقف ہے اور یہ بھی ہر شخص جانتا ہے کہ ابن مریم دنیا میں صرف ایک ہی شخص ہوا ہے جو مریم صدیقہ کے بطن سے پیدا ہوا۔ قرآن و حدیث میں جہاں کہیں ابن مریم کے نام سے کسی شخصیت کا ذکر کیا گیا ہے تو اس سے مرادصرف عیسیٰ علیہ السلا م ہی ہیں۔ لہذا مرزا غلام احمد کا یہ دعوٰی کہ ’’اب وہ ابن مریم ہے‘‘ دنیا کا سب سے بڑا جھوٹ ہے۔ ’’حضرت مسیح عیسیٰ ؑکا وصال‘‘ کے احمدی مؤلف نے اس کتاب کے صفحہ۲۹پر لکھا ہے :

’’ابن مریم عیسیٰ علیہ السلام کا ایک لقب اور نام تھا او ر وہی لقب اور نام استعارۃ حضرت مسیح موعود (مرزا) کو دیا گیا ہے۔ اسلئے کہ آپ(مرزا) میں عیسیٰ علیہ السلام کی صفات پائی جاتی ہیں اور عربی زبان کا قاعدہ ہے کہ ادنیٰ مناسبت کی بنا پر بعض کو بعض کا نام دے دیا جاتا ہے۔ بخاری شریف میں ہے کہ ’’کفار مکہ حضور ؐ  کو موحد سمجھ کر ابن ابی کبشہ کا لقب دیتے تھے‘‘۔

اس سلسلے میں جواباً عرض ہے کہ ابن مریم عیسیٰ علیہ السلام کی نہ تو کنیت ہے نہ لقب بلکہ یہ آپ ؑ کا اسم گرامی یا اسکا حصہ ہے(مختصراً)۔اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے:

اذ قالت الملٰکۃ یٰمریم انّ اﷲ یبشرک بکلمۃ مّنہ اسمہ المسیح عیسیٰ ابن مریم

( آل عمران:45)

’’ اور جب فرشتوں نے مریم(صدیقہ) سے کہا کہ اے مریم اﷲ تمہیں بشارت دیتا ہے ایک کلمہ کی اپنی طرف سے جسکا نام مسیح عیسیٰ ابن مریم ہوگا‘‘۔

یہی عیسیٰ علیہ السلام ہیں کہ جن کے نزول کا مکمل بیان قرآن و حدیث میں ملتا ہے۔ نزول کی اکثر احادیث میں ’’ابن مریم‘‘ بیان کیا گیا ہے جسکی وجہ سے مرزا نے ایک ’’نئے ابن مریم‘‘ کا عقیدہ کشید کرلیا ۔حالانکہ وہ شخصیت جو نازل ہونے والی ہے اس کیلئے واضح طور پر عیسیٰ ابن مریم کا نام بھی استعمال کیا گیا ہے۔

لا تَزَالُ طَائِفَۃً مِنْ اُمْتَیِ یُقَاتِلُوْنَ عَلَی الْحَقِ ظَاھِرِیْنَ اِلَی یُوْمِ الْقِیَامَۃ ، فَیَنَزِلُ عِیْسَیٰ اِبنَ مَرْیَمَ ؑ …

(مسلم۔کتاب الایمان،باب نزول عیسیٰ ؑ)

’’میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر قتال کرتا رہے گا اور وہ قیامت تک حق پر غالب رہیں گے۔ آپؐ نے فرمایا: پھر عیسیٰ ؑ ابن مریم نازل ہوں گے…۔

واضح ہوا کہ ’’ ابن مریم‘‘ سے مراد عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام ہی ہیں انکی جگہ کوئی نیا یا جعلی ابن مریم نہیں۔ کہتے ہیں کہ مرزا میں عیسیٰ علیہ السلام کی صفات پائی جاتی ہیں اس وجہ سے مرزا کو استعارۃً ابن مریم کہا گیا ہے۔سوال یہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کی کونسی صفت مرزا میں پائی جاتی ہے، کیا وہ بغیر باپ کے پیدا ہوا،کیا اس نے گہوارے میں لوگوں سے باتیں کیں،کیا وہ کوڑھی کے مریضوں کو صحیح کردیتا تھا؟ وغیرہ وغیرہ ۔عیسیٰ علیہ السلام کی جو صفات قرآن و حدیث میں بیان کی گئی ہیں کوئی ایک صفت تو بتادو جو اس نبوت کے جھوٹے داعی میں ہو۔ ساری دنیا نے اب تک یقینی طور پر اس بات کامشاہدہ کرلیا ہے کہ اصلی ابن مریم اور جعلی ابن مریم میں ادنیٰ سی مناسبت بھی نہیں۔ اس بات کا اعتراف خود مرزا  نے اپنی کتاب میں کیا ہے:

’’ اﷲ جانتا ہے کہ مجھے ایسی چیزوں سے نفرت ہے اگر مجھے اس سے نفرت نہ ہوتی تو خدا مجھے بھی یہ سب کچھ عطا فرمادیتا‘‘۔(ازالہ اوہام )

کفار مکہ نبی صلی اﷲ علیہ و سلم کو اگر ابن ابی کبشہ کہتے تھے تو کسی صفت یا عربی قاعدہ کے لحاظ سے نہیں بلکہ تعصب کی بنا پر کہتے تھے۔ اسی طرح ہر قل کے دربار میںابوسفیان رضی اﷲ عنہ نے آپ صلی اﷲ علیہ و سلم کو ا بن ا بی کبشہ کے لقب سے یاد کیا تو اس کی وجہ بھی یہ تھی کہ اس وقت تک ابو سفیان رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول نہیں کیا تھا۔ دائرہ اسلام میں داخل ہونے کے بعد ابوسفیان رضی اﷲ عنہ نے کبھی بھی آپ صلی اﷲ علیہ و سلم کوا س کنیت سے مخاطب نہیں کیا۔ لہذا مرزا غلام احمد کو ابن مریم کی کنیت سے مخاطب کرناعین جہالت ہے۔

شیطانی وحی:۔

احمدیوں کی کتابوں میں یہی مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ مرزا غلام احمد کو یہ ساری باتیں (یعنی ابن مریم کا فوت ہونا اور ان کی جگہ مرزا صاحب کو ابن مریم کے مرتبے پر فائز کرنا) اللہ تعالیٰ نے بذریعہ الہام ووحی بتلائی ہیں۔جھوٹے الہامات کا یہ سلسلہ اسی وجہ سے شروع ہوا کہ ان کے پاس اس کی بابت قرآ ن و حدیث سے کوئی واضح دلیل  تھی ہی نہیں۔اور پھر یہ کہ ابن صیاد، اسودعنسی اور مسیلمہ کذاب سے لے کر مرزا غلام احمد قادیانی تک اور ان کے بعد ماضی قریب کے ایک مدعی نبوت یوسف کذاب تک تمام جھوٹے نبیوں نے یہی دعوٰی تو کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے انہیں وحی کے ذریعے منصب نبوت عطا کیا گیا ہے۔اب اگر ہر منچلے کی دعوت پر یقین کر لیا جائے تو نبوت کے جھوٹے دعویداروں کا سلسلہ تو کبھی ختم ہونے میں نہ آئے گا۔اللہ کے آخری رسول صلی اﷲ علیہ و سلم آچکے، آخری آسمانی کتاب نازل ہوچکی، دین مکمل ہوچکا۔ اس لئے مکرر اجرائے وحی کی نہ تو کوئی ضرورت ہے اور نہ ہی کوئی مقصد۔ اس کے باوجود مرزا صاحب نے دعوٰی کر ہی دیا ہے تو پھر کہنا پڑے گا کہ یہ رحمانی وحی ہرگز نہیں، شیطانی وحی ہے۔ کیونکہ شیطان بھی اپنے دوستوں کو وحی کرتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَ اِنَّ الشَّیٰطِیْنَ لَیُوْحُوْنَ اِلٰٓی اَوْلِیٰٓئِھِمْ

(الانعام:121)

’’اور بے شک شیاطین اپنے ساتھیوں کی طرف وحی کرتے ہیں‘‘۔

رحمانی وحی:

سورۃ الانعام کی درج بالا آیت سے ثابت ہوا کہ شیطانی وحی ہر وقت جاری و ساری ہے، اس کے برعکس رحمانی وحی موقوف ہوچکی ہے۔ مندرجہ ذیل احادیث سے اس معاملے کی مکمل وضاحت ہو جاتی ہے۔ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اﷲ علیہ و سلم نے فرمایا:

لَقَدْ کَانَ فِیْمَا قَبْلَکُمْ مِنَ الأُمَمِ مُحَدَّثُوْنَ، فَاِنْ یَکُنْ فِیْ اُمَّتِیْ اِحَدً فَاِنَّہُ عُمَرُ

(بخاری :فضائل اصحاب النبی ﷺ، باب مناقب عمر بن الخطابؓ)

’’تم سے پہلے اگلی امتوں میں محدث ہوا کرتے تھے میری امت میں کوئی ایسا ہوتا تو وہ ہو عمرؓ ہوتا‘‘۔

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی دوسری روایت میں ہے کہ نبی صلی اﷲ علیہ و سلم نے فرمایا:

لَقَدْ کَانَ فِیْ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ مِنْ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ رِجَالً یُکَلَّمُوْنَ مَنْ غَیْرِ اِنْ یَکُوْنُوْا اَنْبِیَائَ ، فَاِنْ یَکُنْ فِیْ اُمَّتِی مِنْھُمْ اَحَدً فَعُمَرُ

(بخاری :فضائل اصحاب النبی ﷺ، باب مناقب عمر بن الخطابؓ)

’’تم سے پہلے بنی اسرائیل میں سے ایسے لوگ ہوگزرے ہیں کہ ان سے کلا م کیا جاتا تھا حالانکہ وہ نبی نہ تھے۔ میری امت میں اس طرح کا کوئی آدمی ہوتا تو تو عمر رضی اللہ عنہ ہوتا۔

مسلم میں عائشہؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اﷲ علیہ و سلم نے فرمایا:

قَدْ کَانَ یَکُوْنُ فِیْ الاُمَمِ قَبْلَکُمْ مُحَدَّثُوْنَ فَاِنْ یَکُنْ فِیْ اُمَّتِیْ مِنْھُمْ اَحَدً، فَاِنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ مِنْھُمْ۔ قَالَ ابن وَھْبٍ :تَفْسِیْرُ مُحَدَّثُوْنَ مُلْھَمُوْنَ

( مسلم: کتاب الفضائل ،باب من فضائل عمر بن خطابؓ)

’’ تم سے پہلی امتوں میں محدث ہوا کرتے تھے میری امت میں اگر کوئی ایسا شخص ہوتا تو عمر بن خطاب  ؓہوتا۔ اس حدیث کے راوی ا بن وھب نے حدیث میں مذکور لفظ محدثون کی تفیسر میں کہا  ملھمون(یعنی ان کو الہام کیا جاتا تھا)‘‘۔

مذکورہ احادیث میں نبی صلی اﷲ علیہ و سلم نے واشگاف الفاظ میں بتادیا کہ اگر میری امت میں کسی فرد کویہ اعزاز حاصل ہوتا کہ فرشتے اس سے باتیں کرتے یا انہیں الہام ہوتا تو وہ صرف عمر بن خطاب رضی اﷲ تعالیٰ عنہ ہوتے ۔گویا بقیہ ساری امت میں کسی دوسرے فرد کو یہ اعزاز حاصل نہ ہوتا۔یہاں قارئین کے ذہن میں یہ سوال جنم لے سکتا ہے کہ کیا عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ پر وحی آتی تھی یا انہیں الہام ہوتا تھا، تو اس کے جواب میں بخاری کی روایت ملاحظہ فرمائیے:

قَالَ ( عَبْدُ ا بن عُتْبَۃَ) سَمِعْتُ عُمَرَ بنَ الْخَطَابِ رَضِی ا تعالیٰ عنہ یَقُوْلُ: اِنَّ اَناساً کَانُوْا یُؤخَذُوْنَ بِالوَحِیْ فِیْ عَھْدِ رَسُوْلِ اِ صلی ا علیہ و سلم واِنَّ الوْحِیْ قَدْ انْقَطَعَ ، وَاِنَّمَا نَاخُذُکُمْ الآنَ بِمَا ظَھَرَ لَنَا مِنْ اَعْمَالِکُمْ ، فَمَنْ اَظْھَرَ لَنَا خَیْراً اَمِنَّاہُ وَقَرَّبْنَاہُ، وَلَیْسَ اِلَیْنَا مِنْ سَرِیْرَتِہِ شُیئً ، اُ یُحَاسِبُ فِیْ سَرِیْرَتِہِ ، وَ مَنْ اَظْھَرَ لَنَا سُوء اً لَمْ نَامَنْہُ وَلَمْ نُصَدِّقْہُ، وَاِنْ قَالَ: اِنَّ سَرِیْرَتَہُ حَسَنَۃٔ

(بخاری: کتاب الشھادۃ،باب الشھداء العدول)

’’…عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے فرمایا نبی صلی اﷲ علیہ و سلم  کے زمانے میں وحی کی بنا پر بعض لوگوں کا مواخذہ ہوجاتا تھا لیکن اب وحی کا سلسلہ منقطع ہوچکا ہے (کیونکہ نبیؐ  کی وفات ہوچکی ہے) ۔اب ہم تم کو تمہارے ظاہری اعمال پر پکڑیں گے جو شخص ظاہر میں نیک کام کرے گا اسی پر ہم اعتماد کریں گے اور اسی کو دوست بنائیں گے اس کے باطن سے ہمیں کوئی سروکار نہیں۔ اور جو ظاہر میں برے کام کرے گا ہم نہ تو اس پر بھروسہ کریں گے اور نہ اسے سچا سمجھیں گے۔ اگرچہ وہ لاکھ دعویٰ کرے کہ میرا باطن اچھا ہے‘‘۔

اسی روایت کے متن میں عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے یہ الفاظ مسئلہ زیر بحث میں فیصلے کی حیثیت رکھتے ہیں۔ آپ  نے فرمایا اِنَّ الوْحِیْ قَدْ انْقَطَعَ  ’’وحی کا سلسلہ منقطع ہوچکا ہے‘‘ ثابت ہوا کہ عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو بھی جملہ فضائل کے باوجود وحی یا الہام کی سعادت حاصل نہیں ہوئی۔اوریاساریۃ الجبل والا واقعہ جو ان سے منسوب ہے وضعی اور جھوٹا ہے۔

مذکور ہ بالا احادیث کے الفاظ یکلمون اور  محدثون تقریباً ہم معنی ہی ہیں۔ قرآن سے بھی یہ ثابت ہے کہ مریم صدیقہ سے فرشتوں نے باتیں کیں۔ قرآن میں یہ بھی بیان ہوا ہے کہ ُام موسیٰ  ؑ کی جانب اللہ نے وحی بھیجی اور انہیں حکم دیا کہ اس بچے (موسیٰ  ؑ) کو صندوق میں ڈال دیں، اسی طرح شہد کی مکھی کی طرف وحی کیے جانے کا بیان بھی قرآن میں موجود ہے۔ایک الہام جو عام انسانوں پر اﷲ تعالیٰ کی طرف سے ہوتا ہے وہ یہ ہے:

فالھمھا فجورھا و تقوٰھا

(الشمس: 8)

’’پھر الہام کردی اس پر بدی اسکی اور اسکی پرہیزگاری‘‘

اس الہام کے علاوہ کبھی کبھار کسی معاملے میں اللہ تعالیٰ کی جانب سے انسان کے ذہن میں کوئی خیال ڈال دیا جاتا ہے، اور حسن اتفاق سے وہ خیال درست ثابت ہوجاتا ہے،لیکن اس خیال کی حیثیت اس وحی کے برابر تو نہیں ہوسکتی جو انبیاء علیہم السلام کا خاصہ ہے۔

جیسا پہلے بیان کیا جاچکا ہے کہ شیطان بھی وحی کرتا ہے، اور یہ وحی انسان کے دل میں وسوسوں کی صورت میں ہوتی ہے۔ اب اگر کسی دل میں کوئی خیال پیدا ہوتا ہے تو اس کی کیا گارنٹی ہے کہ وہ من جانب اﷲ ہے یا یہ شیطان کی طرف سے ہے! بڑے بڑے صوفیاء نے کشف والہام کے دعوے کئے ہیں ، اسی کوبنیاد بناتے ہوئے مرزا غلام احمد نے اگر یہ دعویٰ کیا ہے کہ ان پر وحی آتی ہے یا الہام ہوتا ہے، تو یہ کوئی نئی بات نہیں، یہ ان صوفیا ہی کی تعلیمات کا نتیجہ ہے۔اس بحث سے یہ بات تو بہت اچھی طرح آپ کی سمجھ میں آگئی ہوگی کہ مرزا غلام احمد قادیانی کا یہ دعویٰ کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بذریعہ وحی و الہام انہیں یہ معلوم ہوا ہے کہ ابن مریم (عیسیٰ  ؑ) فوت ہوچکا ہے، سراسر جھوٹ ہے۔

احمدیوں اور منکرین حدیث نے وفات عیسیٰ علیہ اسلام کے اثبات اور فع و نزول کی تردید کے شوق میں قرآن و حدیث کے ساتھ جو کھیل کھیلا ہے اس کے محاسبے کیلئے ضروری ہے کہ اس سلسلے میں قرآن و حدیث کا مکمل مؤقف قارئین کے سامنے لایا جائے۔ اس سلسلے میں سب سے ہم توفی کے معنی قرآن و حدیث سے بیان کریں گے اور بتائیں گے کہ کن کن حالات میں توفی کے کیا  معنیٰ ہوتے ہیں۔

قرآن سے تَوَ فَّی کے معنی:    

توفیٰ ،رفع اور نزول عیسیٰ علیہ السلام پرقرآن و حدیث سے دلائل پیش کرنے سے قبل ضروری ہے کہ یہ واضح ہو جائے کہ لفظ  تَوَ فَّی قرآن مجید میں کن کن معنی میں استعمال ہواہے کیونکہ یہی وہ لفظ ہے جس سے قادیانیوں اور منکرین حدیث نے عیسیٰ علیہ السلام کی موت کا عقیدہ کشید کیا ہے۔

تَوَ فَّی کے لغوی معنی ’’ پورا پورا لینا‘‘ ہیں۔ قرآن مجید کی سور ۃ آل عمران میں فرمایا گیا:

و انّما توفّون اجورکم یوم القیامۃ

(آل عمران:185)

’’ اور تم اپنے اجر قیامت کے دن پورے پورے پا لوگے‘‘۔

یوم تاتی کلّ نفسٍ تجادل عن نّفسھا و توفّٰی کلّ نفسٍ مّا عملّت و ھم لا یظلمون

(النحل:111)

’’جس دن ہر شخص اپنی ذات کیلئے جھگڑنے کیلئے آئے گا اور ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا‘‘۔

اپنے ان لغوی معنی کے علاوہ بھی یہ لفظ قرآنی آیات میں دوسرے معنوں میں  استعمال ہوا ہے،مثلاً:

اﷲ یتوفی الانفس حین موتھا و التی لم تموت فی منامھا

(الزمر:42)

’’اﷲ روحوں کو قبض کرلیتا ہے ان کی موت کے وقت اور جن کی موت نہیں آئی ان کی سوتے وقت‘‘۔

اس آیت میں  تَوَ فَّی بمعنی ’’ قبض روح‘‘ استعمال ہوا ہے۔ لیکن اصطلاحاً یہ لفظ موت کیلئے بھی استعمال ہوا ہے ،جیسا کہ سورۂ یونس میں فرمایا گیا:

ولٰکن اعبد اﷲ الّذی یتوفّٰکم

(یونس: 104)

’’ بلکہ میں تو اس رب کی بندگی کرتا ہوں جو تمہیں موت دیتا ہے‘‘۔

تو معلوم ہوا کہ اسکے لغوی معنی تو ’’ پورا پورا لینا‘‘ ہیں، لیکن مجازاً یہ ’’ قبض روح‘‘ اور اصطلاحاً ’’موت‘‘ کے معنی میں بھی استعمال ہوا ہے۔لیکن اسکے حقیقی معنی موت کے نہیں ،جیسا کہ قرآن کی آیت سے واضح ہے:

والّٰتی یاتین الفاحشۃ من نّسائکم فاستشھدوا علیھن اربعۃً مّنکم فان شھدوا فامسکوھنّ فی البیوت حتّٰی یتوفّٰھن الموت او یجعل اﷲ لھنّ سبیلاً

(النساء؛15)

’’ اور تمہاری عورتوں میں سے جوکوئی بدکاری کی مرتکب ہو تو ان پر اپنے میں سے چار کی گواہی لاؤ اور اگر وہ گواہی دیں تو ان عورتوں کو گھر میں قید رکھو یہاں تک کہ  موت ان کامعاملہ پورا کردے یا اﷲ ان کیلئے کوئی سبیل نکال دے‘‘۔

ثابت ہوا کہ ’’ موت‘‘ اسکے اصطلاحی معنی ہیں نہ کہ حقیقی۔ اگریتوفّٰھن کے معنی موت ہوتے تو پھر اﷲ تعالیٰ یہاں موت کا لفظ کبھی استعمال نہ فرماتا۔      سورۃالزمر کی مذکورہ آیت میں یہ لفظ ’’قبض روح برائے موت‘‘ اور ’’قبض روح برائے نیند‘‘ دونوں کیلئے استعمال ہوا ہے۔ اب یہ تمیز کیسے کی جائے گی کہ کس مقام پر  تَوَ فَّی  کے معنی برائے موت ہیں اور کس مقام پر یہ نیند کیلئے ستعمال ہوا ہے۔آئیے قرآن کی آیات سے اسے سمجھیں۔

حالت نیند اور وفات کے وقت روح قبض ہونے کا فرق:

اَللّٰهُ يَتَوَفَّى الْاَنْفُسَ حِيْنَ مَوْتِهَا وَالَّتِيْ لَمْ تَمُتْ فِيْ مَنَامِهَا ۚ فَيُمْسِكُ الَّتِيْ قَضٰى عَلَيْهَا الْمَوْتَ وَيُرْسِلُ الْاُخْرٰٓى اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى ۭ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّــقَوْمٍ يَّتَفَكَّرُوْنَ

(الزمر:42)

”اللہ روحوں کو قبض کرلیتا ہے انکی موت کے وقت اور جنکی موت نہیں آئی انکی سوتے وقت، پھر جس پر موت کافیصلہ ہوتا ہے اسکی روح روک لیتا ہے اور دوسری ارواح کو چھوڑ دیتا ہے ایک مقررہ وقت تک کیلئے۔ اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کیلئے جو غور و فکر کرتے ہیں‘‘۔

اس آیت میں دو جگہ ’’ توفیٰ ‘‘ کا لفظ آیا ہے جس کے معنی ’’ پوار پورا لے لینا ‘‘ ہیں، اور یہ قبض روح کے معنی کے طور پر بھی استعمال ہوتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ان دونوں قبض روح میں کیا فرق ہے؟

سورۂ زمر کی آیت میں  تَوَ فَّی کا ’’ فاعل‘‘ اﷲ تعالیٰ ہے۔وہی انسانوں کی روح قبض کرتا ہے،لیکن موت اور نیند کیلئے قبض کی جانے والوں روحوں میں ایک واضح فرق ہے ۔ اس فرق کو سمجھنے کیلئے ہم قرآن کی آیات کا مطالعہ کرتے ہیں۔

قبض روح برائے موت؛

حتّٰی اذا جاء احدکم الموت توفتہ رسلنا و ھم لا یفرطون {} ثمّ ردّوا الی اﷲ مولٰھم الحق

(الانعام: 60/61)

’’یہاں تک کہ جب تم میں سے کسی کی موت آتی ہے تو ہمارے بھیجے ہوئے (فرشتے) اسکی روح قبض کر لیتے ہیں اور وہ کوئی کوتاہی نہیں کرتے۔ پھر تم پلٹائے جاتے ہو اﷲکی طرف جو تمھارا حقیقی مالک ہے‘‘۔

ولو ترٰی اذا الظّلمون فی غمرٰت المت و الملٰئکۃ باسطو ایدھم اخرجوا انفسکم

(الانعام: 93)

’’ کاش تم ظالموں کو اس حالت میں دیکھ سکو جبکہ وہ سکرات موت میں ہوتے ہیں اور فرشتے ہاتھ بڑھا بڑھا کر کہہ رہے ہوتے ہیں لاؤ نکالو اپنی جانوں کو‘‘۔

فکیف اذا توفتھم الملٓئکۃ یضربون وجوھہم و ادبارھم

(محمد:27)

’’ پھر کیا ہوگا جب فرشتے ان کی روحیں قبض کریں گے ان کے منہ اور پیٹھوں پر مارتے ہوئے۔‘‘

قل انّ الموت الّذی تفرّون منہ فانّہ ملٰقیکم ثمّ تردون الیٰ عٰلم الغیب و الشّھادۃ فینبّئکم بما کنتم تعملون

( الجمعۃ: 8)

’’ (ان سے) کہو جس موت سے تم بھاگتے ہو وہ تم کو آکے رہے گی ، پھر تم اس کی طرف پلٹائے جاؤگے جو پوشیدہ و ظاہر کا جاننے والا ہے اور وہ تمہیں بتا دے گا کہ تم کیا کچھ کرتے رہے ہو‘‘۔

و النّٰزعٰت غرقاً {} وّالنّٰشطٰت نشطاً {}

(النّٰزعٰت: 1/2)

’’ اور قسم ہے ان(فرشتوں) کی جو ڈوب کر کھینچتے ہیں اور انکی جو آسانی سے کھولتے ہیں‘‘۔

قرآنی آیات سے واضح ہوا کہ  تَوَ فَّی  کا لفظ جب اس موقع پر استعمال ہو کہ  قبض روح فرشتوں کے ذریعے ہو رہی ہو تو اس کے معنی موت ہیں کیونکہ کتاب اﷲ سے یہی ثابت ہے کہ جسم اور روح کے اتصال کا نام زندگی،اور ان کی جدائی کا نام موت ہے۔موت کے وقت فرشتے جسم میں ڈوب ڈوب کر روح نکال لیتے ہیں۔مزید فرمایا گیاثمّ ردّوا الی اﷲ مولٰھم الحق  ’’پھر تم پلٹائے جاتے ہو اﷲکی طرف جو تمھارا حقیقی مالک ہے‘‘۔

روح کا پلٹانا:

جب کوئی چیز اپنے مقام پر واپس جاتی ہے تو اسے ’’پلٹنا‘‘ کہتے ہیں۔ پیدا کرتے وقت جسم میں جو روح ڈالی جاتی ہے وہ اﷲ کی طرف سے آتی ہے اور جب فرشتے اﷲ کے حکم سے اس روح کو انسان کے جسم سے نکال کر واپس اسے اﷲ تعالیٰ کے پاس لے جاتے ہیں تو اسے رَدُّوا   ’’روح کا پلٹانا‘‘ کہتے ہیں۔

سورۂ مومنون آیت نمبر 99/100 میں اﷲ تعالیٰ نے اسی بات کو بیان فرمایا ہے کہ انکے درمیان ایک آڑ حائل کردی گئی ہے اٹھائے جانے والے دن تک کیلئے۔اسی سور ہ کی آیت نمبر 15/16 میں فرمایا کہ زندگی کے اس دور کے بعد تم کو موت آکے رہے گی اور پھر تم قیامت کے دن اٹھائے جاؤگے۔

قبض روح برائے موت کا ایک جائزہ :

  • اﷲ تعالیٰ انسانوں کی موت کے وقت روح قبض کرنے کیلئے فرشتے بھیجتا ہے،وہ اس کی روح قبض کرکے اﷲ تعالیٰ کی طرف لے جاتے ہیں۔ ( الانعام : 61/62)
  • فرشتے انسان کے جسم میں تیرتے ہوئے، ڈوب کر آگے بڑھ کر اس کی روح کھینچ لیتے ہیں۔ ( نازعات: 1/4)
  • ظالم لوگوں کی روح نکالتے ہوئے فرشتے ہاتھ بڑھا بڑھا کر کہہ رہے ہوتے ہیں نکالو اپنی روحوں کو۔ مرنے والے کی روح یہ جسم و دنیا سب کچھ چھوڑ کر اﷲ تعالیٰ کے پاس چلی جاتی ہے۔ ( الانعام: 93/94)
  • جان کنی کے وقت جان گلے تک پہنچ جاتی ہے، پنڈلی سے پنڈلی مل جاتی ہے جان لیاجاتا ہے کہ اب جدائی کا وقت ہے اپنے رب کے پاس جانے کا وقت ہے۔ (القیامۃ:26/30)
  • جب روح گلے میں آپہنچتی ہے انسان اس حالت کو دیکھ رہے ہوتے ہیں لیکن بے بس ہوتے ہیں۔ ( الواقعہ: 83/87)

نبی ﷺ نے فرمایا:

إن الروح إذا قبض تبعه البصر

( ام سلمۃ ؓ، مسلم ، کتاب الجنائز ، باب في إغماض الميت والدعاء له إذا حضر )

’’جب روح قبض کی جاتی ہے تو بصارت اس کے پیچھے نکل جاتی ہے‘‘۔

المؤمن يموت بعرق الجبين

( سنن نسائی ، کتاب الجنائز ، باب : علامۃ موت المومن )

’’مومن مرتا ہے پیشانی کے پسینے سے‘‘۔

عائشہ ؓ نے موت کی تشریح اس طرح فرمائی:

ولكن إذا طمح البصر، وحشرج الصدر، واقشعر الجلد فعند ذلك من أحب لقاء الله

( عن ابی ہریرہ ؓ ، نسائی ، کتاب الجنائز، فیمن احب لقاء اللہ )

…جب بینائی مٹ جائے اور چھاتی میں دم آجائے اور بدن کے روئیں کھڑے ہوجائیں ،یہ ہے کہ جو  اﷲ سے ملنے  پسند کرے۔ ۔‘‘

کتاب اﷲ کے ان دلائل سے ثابت ہوا کہ:

  • مرتے وقت روح قبض کرنے کیلئے فرشتے بھیجے جاتے ہیں۔
  • فرشتے انسانوں کے جسم سے مختلف انداز میں روح نکالتے ہیں۔
  • فرشتے روح نکال کر اﷲ تعالیٰ کی طرف لے جاتے ہیں۔
  • موت کے وقت روح گلے تک آپہنچتی ہے۔
  • روح کے جسم سے اخراج پر پنڈلی سے پنڈلی مل جاتی ہے۔
  • جسم سے روح نکلتے ہی بصارت بھی جسم سے نکل جاتی ہے۔
  • روح سارے جسم سے نکلتی ہوئی چھاتی میں آتی ہے، رواں رواں کھڑا ہو جاتا ہے، پیشانی پر پسینہ آجاتا ہے۔
  • حالت سکرات میں واقع ہونے والے اسی قسم کے معاملات عام مشاہدہ میں آتے ہیں۔

حالت ِنیند میں روح کا قبض ہونا:

و ھو الذی یتوقکم بالیل و یعلم ما جرحتم بالنھار ثم یبعثکم فیہ لیقضی اجل مسمے ثم الیہ مرجعکم ثم مرجعکم ثم ینبئکم بما کنتم تعملون

(الانعام:60)

’’…اﷲ تعالیٰ رات کو سوتے ہوئے انسانوں کی روحیں قبض کرلیتا ہے اور پھر ان کو دوبارہ اٹھا دیتا ہے تا کہ طے شدہ وقت پورا ہو سکے‘‘۔

وَالَّتِيْ لَمْ تَمُتْ فِيْ مَنَامِهَا …

( الزمر: 42)

اﷲ تعالیٰ زندہ انسانوں کی روحیں ان کے سونے کے وقت قبض کرلیتا ہے اور پھر ان کو چھوڑ دیتا ہے

نبی صلی اﷲ علیہ و سلم نے فرمایا  :

إِنَّ اللَّهَ قَبَضَ أَرْوَاحَكُمْ حِينَ شَاءَ، وَرَدَّهَا عَلَيْكُمْ حِينَ شَاءَ

( عن ابی قتادۃ، بخاری، کتاب الصلاۃ ، بَابُ الأَذَانِ بَعْدَ ذَهَابِ الوَقْتِ)

’’ اﷲ تعالیٰ جب چاہتا ہےتمہاری روحوں کوقبض کرلیتا ہے اور جب چاہتا ہے انہیں لوٹا دیتا ہے‘‘۔

کتاب اﷲ سے نیند میں روح قبض کئے جانے کیلئے نہ تو کسی فرشتے کو بھیجے جانے کا ذکر ملتا ہے اور نا ہی جسم سے روح کے اخراج اور اسے اﷲ تعالیٰ کے پاس لے جانے کا کوئی عقیدہ ملتا ہے۔موت کے وقت جب روح اس جسم سے نکال لی جاتی ہے تو یہ جسم مردہ لاش بن جاتا ہے ، بصارت فوراً ہی جسم سے نکل جاتی اور دیگر تمام حواس بھی قیامت تک کیلئے ختم ہوجاتے ہیں، اس کے برخلاف سوتے ہوئے شخص کا جسم مردہ نہیں ہوتا سانس چل رہی ہوتی ہے ، کھانا ہضم ہوتا ہے،موسم کی گرمی و سردی کو بھی محسوس کرتا ہے، کچھ حواس معطل ،کچھ نیم معطل اور کچھ کام کررہے ہوتے ہیں اسی حوالہ سے نیندکو موت سے مشابہت دی جاتی ہے۔

موت کے وقت جسم سے روح کے اخراج کی وجہ سے تمام حواس قیامت تک کیلئے ختم ہوجاتے ہیں لیکن حالت نیند میں ایسا نہیں ہوتا اس سے قیاس کیا جاتا ہے کہ یہ توفیٰ  یعنی’’ رو ح کا قبضے میں لے لینا‘‘جسم کے اندر ہی ہوتا ہے جس کی وجہ سے کچھ حواس معطل، کچھ نیم معطل اور کچھ کام کررہے ہوتے ہیں ۔

واضح ہوا کہ توفی   کا فاعل خود اللہ تعالیٰ کی ذات ہے تو توفی  جسم کیساتھ ( روح جسم کے اندر ہی ) ہے یعنی موت نہیں بلکہ زندگی ہی کیفیت ہے۔ اور جب فرشتہ روح قبض کرنے کے لئے بھیجا جانے کا ذکر ہو تو  روح  جسم سے نکال لی جاتی ہےاور اب  قیامت تک لئے ابدی موت ہے۔

توفیٰ ورفع عیسیٰ علیہ السلام

اب ہم آتے ہیں عیسیٰ علیہ السلام کے معاملے کی طرف کہ جب یہودیوں نے ان کے قتل کیلئے خفیہ تدبیریں کرنے لگے:

﴿وَمَكَرُواْ وَمَكَرَ ٱللَّهُۖ وَٱللَّهُ خَيۡرُ ٱلۡمَٰكِرِينَ٥٤ إِذۡ قَالَ ٱللَّهُ يَٰعِيسَىٰٓ إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَيَّ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ﴾

[آل عمران: 54-55]

’’(یہویوں نے عیسیٰ ؑ کے خلاف) خفیہ تدبیریں کیں اور اﷲ نے بھی تدبیر کی،اور اﷲ تدبیر کرنے والوں میں سب سے بڑھ کر ہے۔جب اﷲ نے کہا :  اے عیسیٰ میں تجھے پورا پورا لے لوں گا اور تجھے اٹھا لوں گا اپنی طرف‘‘۔

﴿وَقَوۡلِهِمۡ إِنَّا قَتَلۡنَا ٱلۡمَسِيحَ عِيسَى ٱبۡنَ مَرۡيَمَ رَسُولَ ٱللَّهِ وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلَٰكِن شُبِّهَ لَهُمۡۚ وَإِنَّ ٱلَّذِينَ ٱخۡتَلَفُواْ فِيهِ لَفِي شَكّٖ مِّنۡهُۚ مَا لَهُم بِهِۦ مِنۡ عِلۡمٍ إِلَّا ٱتِّبَاعَ ٱلظَّنِّۚ وَمَا قَتَلُوهُ يَقِينَۢا{} بَل رَّفَعَهُ ٱللَّهُ إِلَيۡهِۚ وَكَانَ ٱللَّهُ عَزِيزًا حَكِيمٗا{} وَإِن مِّنۡ أَهۡلِ ٱلۡكِتَٰبِ إِلَّا لَيُؤۡمِنَنَّ بِهِۦ قَبۡلَ مَوۡتِهِۦۖ وَيَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ يَكُونُ عَلَيۡهِمۡ شَهِيدٗا﴾

[النساء: 157-159]

’’اور یہ کہتے ہیں کہ ہم نے اللہ کے رسول عیسیٰ ؑ ابن مریم کو قتل کردیا۔ اور نہ تو انہوں نے اس کو قتل کیا نہ صلیب پر چڑھایا بلکہ یہ معاملہ انکے لیے مشتبہ بنادیا گیا اور جو لوگ اس میں اختلاف کرتے ہیں وہ اس کی طرف سے شک میں ہیں۔انکے پاس اس کے بارے میں کوئی علم نہیں سوائے گمان کی پیروی کرنے کے۔ اور یقینا  انہوں نے اسے قتل نہیں کیا بلکہ اللہ نے اسے اپنی طرف اٹھالیا، اور اللہ غالب اور حکمت والا ہے۔ اور اہل کتاب میں سے کوئی ایسا نہیں مگر اس کی موت سے پہلے اس پر ایمان لے آئے گا۔ اورقیامت کے دن وہ اس پر گواہ ہوں گے‘‘۔

ان آیات کاخلاصہ یہ ہے کہ یہود نے عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کرنے کی خفیہ تدبیریں شروع کردیں، انکی ان تدبیروں کے خلاف اﷲ تعالیٰ نے بھی خفیہ تدبیر کی، اور اﷲ تعالیٰ کی تدبیر کے سامنے انسانوں کی تدبیروں کی کیا حیثیت وہ تو مافوق الاسباب ہے ایک سے بڑھ کر ایک تدبیر کرنے والا ہے۔چنانچہ جب اﷲ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام سے فرمایا کہ اے عیسیٰ ؑ میں تجھے پورا پورا لے لوں گا (یعنی جسم اور روح سمیت) اور تجھے اپنی طرف اٹھا لوں گا۔

پھر سورۂ نساء کی آیات میں مالک کائنات نے اس کی مزید وضاحت فرمائی کہ یہ اس بات کا دعویٰ کر رہے ہیں کہ انہوں نے اﷲ کے رسول عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کو قتل کردیا۔انکے اس دعویٰ کواﷲ تعالیٰ نے بڑے شدید انداز میں رد فرمایا :کہ نہ تو انہوں نے اسے قتل کیا اور نہ ہی اسے صلیب پر چڑھایا ہے بلکہ یہ معاملہ ان کیلئے مشتبہ بنادیاگیا۔پھر فرمایا کہ اب جو ان کے درمیان اختلاف ہے کہ عیسیٰ علیہ اسلام قتل کردیے گئے یا ان کو صلیب پر چڑھا دیا گیا تو یہ محض ظن و گمان کی باتیں ہیں۔سنو! یہ ایک یقینی بات ہے کہ انہوں نے عیسیٰ علیہ السلام کو قتل نہیں کیا بلکہ اﷲ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کو اپنی طرف اٹھا لیا۔ ساتھ ہی یہ بات بھی فرما دی کہ وہ زبردست طاقت والا حکیم رب ہے۔یہ اسکی عظیم قدرت و حکمت ہی کا کارنامہ ہے لہذا تم اس سوچ میں نہ پڑ جانا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک زندہ انسان جسے لوگ مارنے کی کوشش کر رہے ہوں اسے بچا ہی نہ لیا جائے بلکہ اسے زندہ آسمان پر بھی اٹھا لیا جائے۔اگلی آیت میں ساتھ ہی اس بات کی بھی تصدیق فرما دی کہ اسے ابھی موت نہیں آئی ہے بلکہ عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے قبل ایک وقت وہ آئے گا کہ جب ہر اہل کتاب ان پر ایمان لے آئے گا اور قیامت کے دن عیسیٰ علیہ السلام ان کے ایمان لانے کی گواہی دیں گے۔

اب ہم تَوَ فَّی کے وہ معنی کرتے ہیں جس کا اصرار قادیانی اور منکرین حدیث کرتے ہیں یعنی ’’ قبض روح‘‘۔      اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے:یٰعِیْسیٰ اِنِّی مُتَوَفِّیْکَ ’’ اے عیسیٰ ؑ میں تیری روح قبض کرلوں گا ‘‘ وَ رَافِعُکَ اِلِّی’’ اور تجھے اپنی طرف اٹھا لوں گا‘‘۔ان معنی میں بھی موت کا کوئی مفہوم نہیں نکلتا،کیونکہ یہاں فاعل خود اﷲ تعالیٰ ہی ہے،اور جیسا کہ اﷲ تعالیٰ کے وضع کردہ قانون سے ثابت ہے کہ جب اﷲ تعالیٰ ہی فاعل ہو تو وہ موت نہیں بلکہ زندگی کی ہی کیفیت ہے۔

اس قانون کے تحت یہ بات ثابت ہوگئی کہ اﷲ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ اپنی طرف اٹھا لیا۔جب فرشتے انسان کی روح قبض کرکے لے جاتے ہیں تو وہاں رد  کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے ،جسکی تفصیل پہلے بیان کردی گئی ہے۔اﷲ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کیلئے یہ الفاظ استعمال نہیں فرمائے۔ اگر روح ان کے جسم سے نکال لی جاتی اور فرشتے اسے لے کر جاتے تو اسے روح کا پلٹاناکہا جاتا یعنی ان کو موت آگئی۔ اس کے برعکس اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے وَ رَافِعُکَ اِلِّی’’ اور تجھے اپنی طرف اٹھا لوں گا‘‘۔

سورہ نساء میں فرمایا:و ما قتلوہ یقیناً {} بل رّ فعہ اﷲ الیہ’’اور یقینا  انہوں نے اسے قتل نہیں کیا بلکہ اللہ نے اسے اپنی طرف اٹھالیا‘‘۔ان الفاظ پر غور فرمائیے کہ انہوں نے اسے قتل نہیں کیا  بل ’’بلکہ‘‘  رّ فع’’اٹھالیا‘‘  ہ ’’ اسے‘‘  ’’ اﷲ نے‘‘ الیہ’’ اپنی طرف‘‘۔یہاں فاعل فرشتے نہیں بلکہ خود اﷲ تعالیٰ ہے، اور مفعول ’’ہ‘‘ ہے۔ ’’ہ‘‘کی یہ ضمیر کس کی طرف ہے، رافعک  ’’تجھے اٹھا لوں گا‘‘یعنی زندہ عیسیٰ علیہ السلام کو۔

اﷲ کے وضع کردہ قانون سے اس بات کی مکمل وضاحت ہوگئی کہ عیسیٰ علیہ السلام کو موت نہیں آئی بلکہ انکو اﷲ تعالیٰ نے زندہ (روح با لجسم )اپنی طرف اٹھا لیا ہے۔یہ استدلال محض آیات قرآنی پر مبنی ہے جو شک وشبہ سے بالاتر ہے۔ اس لیے اسکے خلاف قیاس و گمان سراسر باطل ہے۔ اس مسئلے پر قرآن سے وضاحت کے بعد اب ہم آتے ہیں ’’نزول عیسیٰ علیہ السلام کی طرف‘‘۔

نزول عیسیٰ علیہ السلام

اﷲ تعالیٰ کے وضع کردہ قانون سے یہ بات مکمل طور پر ثابت ہے کہ وہ روح جو اﷲ تعالیٰ بذات خود قبض کرتا ہے،دوبارہ چھوڑ دی جاتی ہے۔انسان دوبارہ اسی دنیا میں مکمل ہوش و حواس کے ساتھ اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔یہ سب اسی لیے ہوتا ہے کہ موت کا وہ وقت جو اس کیلئے متعین ہے وہ اسے پورا کرلے۔ عیسیٰ علیہ السلام کا رفع ہوا ہے۔ موت کا وہ حکم جو ہر انسان کیلئے ناگزیر ہے ، ان پر بھی اسکا اطلاق ہونا ہے۔سورۃ الانعام کی آیت کے مطابق ثم یبعثکم فیہ لیقضی اجل مسمے ثم الیہ مرجعکم ثم مرجعکم ’’پھر وہ تم کو اٹھا دیتا ہے اس میں تاکہ طے شدہ وقت پورا ہو۔آخرکار اسی کی طرف پلٹ کر تمہیں جانا ہے‘‘ والا معاملہ انکے ساتھ بھی ہوگا۔ یاد رہے کہ یہ صرف قیاس کی بات نہیں ہے بلکہ اﷲ تعالیٰ کے وضع کردہ قانون کی بات ہے اور سورۃ النساء میں عیسیٰ علیہ السلام کے اس واقعہ کے تسلسل میں آنی والی آیات سے بالکل واضح ہے:

ۚ وَمَا قَتَلُوهُ يَقِينَۢا{} بَل رَّفَعَهُ ٱللَّهُ إِلَيۡهِۚ وَكَانَ ٱللَّهُ عَزِيزًا حَكِيمٗا{} وَإِن مِّنۡ أَهۡلِ ٱلۡكِتَٰبِ إِلَّا لَيُؤۡمِنَنَّ بِهِۦ قَبۡلَ مَوۡتِهِۦۖ وَيَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ يَكُونُ عَلَيۡهِمۡ شَهِيدٗا

[النساء: 157-159]

’’اور یقینا انہوں نے اسے قتل نہیں کیا بلکہ اللہ نے اسے اپنی طرف اٹھالیا، اور اللہ غالب اور حکمت والا ہے۔ اور اہل کتاب میں سے کوئی ایسا نہیں مگر اس کی موت سے پہلے اس پر ایمان لے آئے گا۔ اورقیامت کے دن وہ اس پر گواہ ہوں گے‘‘۔

ایک طرف تو انکے قتل (موت)کے دعوے کو رد کیا،پھر انکے رفع کا ذکر فرمایا اور پھر بتایا گیا کہ ہر اہل کتاب عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے قبل ان پر ایمان لے آئے گا۔ یہ نہیں کہا گیا کہ اہل کتاب ان کی موت سے پہلے ایمان لے آئے تھے۔ اگر یہ بات کہی گئی ہوتی تو پھر یہ ان گمراہ لوگوں کی بات میں کچھ وزن ہوتا۔ بلکہ فرمایا کہ ’’ایمان لے آئے گا‘‘،یعنی یہ بات مستقبل کی ہے کہ مستقبل میں ایسا معاملہ ہوگا۔ سورۂ زخرف میں عیسیٰ علیہ السلام کے تذکرے کے تسلسل میں اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿إِنۡ هُوَ إِلَّا عَبۡدٌ أَنۡعَمۡنَا عَلَيۡهِ وَجَعَلۡنَٰهُ مَثَلٗا لِّبَنِيٓ إِسۡرَٰٓءِيلَ{} وَلَوۡ نَشَآءُ لَجَعَلۡنَا مِنكُم مَّلَٰٓئِكَةٗ فِي ٱلۡأَرۡضِ  وَاِنَّهٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ فَلَا تَمْتَرُنَّ بِهَا وَاتَّبِعُوْنِ ۭ ھٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِيْمٌ﴾

[الزخرف: 59-61]

’’ وہ ( عیسیٰ ) تو محض ایک بندہ تھا جس پر ہم نے انعام کیا اور اسے بنی اسرائیل  کے لئےایک نشانی بنایا ۔  اور اگر ہم چاہتے تو تم میں سے فرشتے بنا دیتے جو تمہاری جگہ زمین میں رہتے ۔  اور بے شک وہ(عیسیٰ ؑ) قیامت کی نشانی ہے اور تم اس بارے میں ہر گز شک نہ کرو۔‘‘

قرآن نے بتادیا کہ عیسیٰ علیہ السلام پور ے پورے اﷲ کے قبضے میں ہیں، انکو اٹھا لیا گیا ہے ، مستقبل میں انکی موت واقع ہوگی اور پھر اشارہ بھی دے دیا کہ یہ قرب قیامت کی بات ہے۔      عیسیٰ علیہ السلام کا نہ صرف توفی ہوا بلکہ رفع بھی ہوا تھا۔انکا توفی اسی دنیا میں ہوا تھا اور اﷲ کے بنائے ہوئے قانون کے مطابق اب انکی بعثت (اٹھایا جانا)بھی اسی دنیا میں ہونی ہے۔اسکا مطلب ہے کہ وہ دوبارہ دنیا میں بھیجے جائیں گے تب ہی تو ان کی بعثت اس دنیا میں ہو سکے گی۔سور نساء کی آیت نمبر۱۵۹ ’’ اور اہل کتاب میں سے کوئی ایسا نہیں مگر اس کی موت سے پہلے اس پر ایمان لے آئے گا، اورقیامت کے دن وہ اس پر گواہ ہوں گے‘‘خود ان کے اس دنیا میں نزول کی بہت بڑی دلیل ہے۔بخاری   میں ا س آیت کی تفسیر  ملتی ہے :

وَالَّذِی نَفْسِیْ بِیَدِہِ لَیُوْشِکَنَّ اِنْ یَنُزِلَ فِیْکُمْ ابنُ مَرْیَمَ حَکَمًا عَدْلاً ، فَیَکُسِرَ الصَّلِیْبَ وَ یَقْتُلَ الخِنْزِیْرَ ، وَ یَضَعَ الجَزْیَۃَ وَیَقْبُضَ المَالُ حَتَّی لَا یَقْبَلَہُ اَحَدً ، حَتَّی تَکُوْنَ السِّجْدَۃُ الوَاحِدَۃُ خَیْرٌ مِنَ الْدُنْیَا وَ مَا فِیْھَا ۔ ثُمَّ یَقُوْلُ ابو ھریرۃ ؓ : وَاقْرَوٌُا اِنْ شِْٔتُمْ { وان من اہل الکتاب الالیو منن بہ قبل موتہ ویوم القیمۃ یکون علیھم شھیدا}

(بخاری: کتاب الانبیاء ۔باب نزول عیسیٰ بن مریم  ؑ)

’’قسم اس (رب) کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے وہ زمانہ قریب ہے کہ ابن مریم تم لوگوں میں حاکم عادل ہوکر نازل ہوں گے۔صلیب کو توڑ ڈالیں گے۔ خنزیر کو قتل کریں گے،جزیہ موقوف کردیں گے۔ مال کی بہتات ہوگی کوئی نہ لے گا، ایک سجدہ دنیا ومافیا سے بہتر ہوگا۔ یہ حدیث بیان کرنے کے بعد ابو ہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں: اگر تم چاہو تو (اس کے ثبوت میں ) یہ آیت پڑھ لو وان من اہل الکتاب الالیو منن بہ قبل موتہ ویوم القیمۃ یکون علیھم شھیدا۔ ’’اور اہل کتاب میں سے کوئی ایسا نہیں مگر اس کی موت سے پہلے اس پر ایمان لے آئے گا۔ اورقیامت کے دن وہ اس پر گواہ ہوں گے‘‘۔

عیسیٰ علیہ السلام ان اہل کتاب کے ایمان لانے کی شھادت جب ہی دیں گے نا جب وہ انکے سامنے ایمان لائیں گے۔تو یہ اہل کتاب اسی زمین پر ایمان لائیں گے یا آسمانوں میں جاکر!اگر انہیں اسی زمین پر ایمان لانا ہے تو اسکا مطلب ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام جن کے رفع کا ذکر کیا گیا ہے واپس اس دنیا میں بھیجے جائیں گے۔ یہی بات اﷲ تعالیٰ نے اپنے نبی محمد صلی اﷲ علیہ و سلم کو وحی کے ذریعے بتائی۔ ملاحظہ فرمائیے اس بارے میں نبی صلی اﷲ علیہ و سلم کے ارشادات:

لَا تَقُوْمُ السَّا عَۃُ حَتّٰی یَنْزِلَ فِیْکُمْ اَبْنُ مَرْیَمْ

( بخاری،کتاب المظالم، باب کسر الصلیب)

’’قیامت نہ قائم ہوگی جب تک کہ تم میں ابن مریم نہ نازل ہوجائیں‘‘۔

لَا تَزَالُ طَائِفَۃً مِنْ اُمْتَیِ یُقَاتِلُوْنَ عَلَی الْحَقِ ظَاھِرِیْنَ اِلَی یُوْمِ الْقِیَامَۃ ، فَیَنَزِلُ عِیْسَیٰ اِبنَ مَرْیَمَ ؑ فَیَقُوْلُ اَمِیْرُھُمْ تَعَالَ صَلَ لَنَا فَیَقُوْلُ : لَا اِنَّ بَعْضَکُمْ عَلَی بَعْضٍ اَمْرَائُ تَکَرِمَۃَ اﷲِ الْاُمٔۃَ

(مسلم۔کتاب الایمان،باب نزول عیسیٰ ؑ)

’’میری امت کا یک گروہ ہمیشہ حق پر قتال کرتا رہے گا اور وہ قیامت تک حق پر غالب رہیں گے۔ آپؐ نے فرمایا: پھر عیسیٰ ؑ ابن مریم نازل ہوں گے۔ اس گروہ کا امیر ا ن سے درخواست کرے گا۔ آئیں صلوٰۃمیں ہماری امامت فرمائیں۔ وہ کہیں گے نہیں تمہارے امیر تمہیں میں سے ہوں گے یہ وہ عزت ہے جو اللہ تعالیٰ اس امت کو دے گا۔‘‘

اِنَّھَالَنْ تَقُوْمَ حَتّٰی تَرَوْا قَبْلَھَا عَشَرَ اٰیَاتٍ فَذَکَرَ الدُّخَان و الْدَّجَالَ وَ الدَّآبَّۃَ وَ طُلُوْعَ الشَّمَسِ مِنْ مَّغْرِبِھَا وَ نُزُوْلَ عِیْسَی ابْنِ مَرْیَمَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالْسَلَامُ وَیَاْجُوْجَ وَمَا جُوْجَ وَ ثَلٰثَۃَ خُسُوْفٍ خَسْفٌ بِالْمَشْرِقٍ وَ خَسَفٌْ بِجَزِیْرِۃِ الْعَرَبِ وَ اٰخِرُ ذٰلِکَ نَارٌ تَخْرُجُ مِنَ الْیَمَنِ تَطْرٌ دُ النَّاسَ اِلٰی مَحْشَرِھَمْ

( مسلم:کتاب الفتن و اشراط الساعۃ)

’’قیامت ہر گز اس وقت تک نہ آئے گی جب تک تم اس سے پہلے دس نشانیاں نہیں دیکھ لو گے، پس آپؐ نے ذکر کیا دُخان کا اور دجال کاا ور دآبۃ الارض کا (یعنی زمین سے ایک جانور نکلے گا جو لوگوں سے باتیں کر گا) سورج مغرب سے طلوع ہوگا۔ عیسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام نازل ہوں گے یاجوج ماجوج نکل پڑیں گے۔ تین جگہ خسف ہوں گے یعنی زمین دھنس جائے گی۔ مشرق میں زمین دھنس جائے گا۔ مغرب میں زمین دھنس جائے۔ جزیرہ العرب میں زمین دھنس جائے گی اور آخری نشانی یمن سے ایک آگ نکلے گی جو لوگوں کو ہانکتی ہوئی محشر کی جانب لے جائے گی۔‘‘

…اذْبَعَثَ اﷲُ الْمَسِیْحَ اِبْنَ مَرْیَمَ عَلَیْہِ الْسَلَامُ فَیَنَزْلُ عِنْدَالْمَنَارَۃُ الْبَیْضَائِ شَرْقِیِّ دَمَشْقَ بَیْنَ مَھْرُوْ ذَتَیْنِ وَاضِعًا کَفَّیْہِ عَلٰی اَجْنِحَۃِ مَلَکَیْنِ اِذَا طَاٌ طَاٌ رَاسَہُ قَطَرَ وَاِذَا رَفَعْہٗ تَحَدَّرَمِنْہُ جُمَانٌ کَالُلُّوئُ فَلَا یَحِلُّ لِکَفِرٍ یَجِدُ رِیْحَ نَفْسِہٖٓ الَّا مَاتَ وَنَفْسُہٗ یَنْتَھِیْ حَیْثُ یَنْتَھِی طَرْفُہٗ فَیَطْلُبُہٗ حَتّٰی یُدْرِکَہٗ بِبَابٍ لُدٍّ فَیُقْتُلُہٗ ……اِذْ بَعَثَ اﷲُ رِیْحًا طَیْبَۃً فَتَاخُذُ ھُمْ تَحْتَ اٰبَاطِیْہِمْ فَتَقْبِضَ رُوْحَ کُلِّ مُوْٗمِنٍ وَّ کُلِّ مُسْلِمْ وَّ یَبْقٰی شِرَارُ النَّاس یَتَھَارَ جُوْنَ فِیْھَا تَھاَرُجَ الْحُمُرِ فَعَلَیْھِمْ تَقُوْمُ السَّعَۃُ

( مسلم: کتاب الفتن و الشراط الساعۃ،باب ذکر الدّجال)

’’ …اسی وقت اﷲ تعالیٰ مسیح ابن مریم علیہ السلام کو نازل فرمائے گا۔وہ زرد جوڑا پہنے فرشتوں کے بازوؤں پر ہاتھ رکھے دمشق کے مشرق میں  مینارۃ البیضاء پر اتریں گے۔جب وہ سر جھکائیں گے تو پسینہ بہے گا اور جب سر اٹھائیں گے تو موتیوں کی طرح بوندیں بہیں گی۔جس کافر کے پاس عیسیٰ علیہ السلام اتریں گے اس کو ان کے َدم کی بھاپ لگے گی اور وہ مر جائے گا۔ان کے َدم کا اثر وہاں تک پہنچے گا جہاں تک ان کی نگاہ جائے گی۔پھر عیسیٰ علیہ السلام دجال کو ڈھونڈیں گے اور اسے پالیں گے اور باب لدپر اسے قتل کردیں گے……اسوقت اﷲ تعالیٰ ایک پاک ہوا بھیجے گا کہ انکی بغلوں کے نیچے لگے گی اور اثر کر جائے گی تو ہر مومن اور مسلم کی روح قبض کر لے گی اور صرف بدترین انسان ہی رہ جائیں گے، وہ آپس میں گدھوں کی طرح لڑیں گے ان پر قیامت قائم ہوگی‘‘۔

قرآن و حدیث کے ان دلائل سے ثابت ہوا کہ عیسیٰ علیہ السلام کے توفی و رفع کے بعد قرب قیامت ان کا نزول ہوگا اور اس کے بعد انہیں موت آئے گی۔

قادیانیوں اور منکریں حدیث کی شر انگزیاں

کتاب اﷲ کے انکار پر مبنی دلائل

قادیانیوں اور منکر ین حدیث نے لفط توفی کی بڑی بحثیں بیان کی ہیں اور اسی بات پر زور دیا ہے کہ یہاں توفی بمعنی ’’ موت‘‘ ہے۔اس سلسلے میں اگر یہاں انکے حوالہ جات پیش کیے جائیں تو ایک انبار لگ جائے گا۔لہٰذا ہم طوالت سے بچتے ہوئے ان سب سے صرف ایک ہی سوال کرتے ہیں کہ پورے قرآن میں کہیں بھی یہ قانون دکھا دو کہ جب ’’قبض روح‘‘ کا فاعل خوداﷲ تعالیٰ کی ذات ہو ،وہاں ’’ موت‘‘ کا کوئی تصور بھی ملتا ہو۔منکر قرآن و حدیث محمد ہادی نے خود لکھا ہے:

’’قرآن حکیم میں لفظ ’’توفی‘‘ موت کے معنی24 بار اور نیند کے معنوں میں 2 بار استعمال ہوا ہے۔اور جہاں بھی نیند کے معنوں میں استعمال ہوا ہے وہاں کوئی قرینہ ہوتا ہے‘‘۔                                               (عقیدہ خاتم النبیّن: صفحہ۹،از محمدہادی)

یہی بات ہم نے بھی اپنے اس مضمون میں خلاصے کے ساتھ بیان کی ہے کہ جب بھی نیند کیلئے قبض روح کا بیان آیا ہے وہاں خود اﷲ تعالیٰ فاعل ہے ۔ وہاں نہ روح جسم سے نکالنے کا کوئی عقیدہ ملتا ہے اور نہ ہی روح کو اﷲ تعالیٰ کے پاس لے جانے کا یعنی ’’ موت‘‘ کا کوئی قرینہ وہاں نہیں ملتا۔یہ قبض روح بالجسم ہے یعنی ’’پوراپورا قبضے میں لے لیا جاتا ہے‘‘۔ ہادی صاحب! یہی قرینہ ہے نا نیند کیلئے روح قبض کرنے کا؟پھرآگے لکھا ہے:

’’ یہاں تک کہ جب تم میں سے کسی کی موت آجائے (آیت ۶۱) یہاں دیکھئے موت کیا چیز ہے؟ مذکورہ بالاآیت ہی میں اس کی وضاحت یوں آئی ہی ہمارے بھیجے ہوئے (فرشتے) اس کی روح قبض کر لیتے ہیں اور وہ کمی نہیں کرتے۔تو بات واضح ہوگئی کہ موت میں پوری روح قبض کی جاتی ہے اور مادہ (وف ی) ہی سے اسکا تعلق برقرار رہا یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہیے کہ عربی لغت کا قاعدہ ہے کہ شاذ معنی کو چھوڑ کر مشہور معروف معنی لیا جائے تو (انی متوفّیک ) کا معروف اصطلاحی معنی(میں تجھے وفات دینے والا ہوں) بنتا ہے اب کہاں کا انصاف ہے کہ قرآن کا حقیقی معنی چھوڑ کر (انی متوفّیک ) میں تجھے وفات دینے والا ہوں) کو غیر قرآنی الفاظ(انی متوفّیک ) میں تجھے پورا لینے والا ہوں،میں بدل دیا جائے بقول کسے ’’ خود بدلتے نہیں قرآن کو بدل دیتے ہیں۔ ‘‘                                                                    ( ایضاً:صفحہ۳۱)

نیند کیلئے قبض کی جانے والی روح کے بارے میں موصوف نے کہا تھا کہ وہاں کوئی قرینہ ہوتا ہے ،اب انکا دوسرا بیان بھی آپ کے سامنے ہے کہ موت کے وقت روح فرشتے قبض کرتے ہیں۔پھر اسکی وضاحت بھی کرتا ہے: ’’تو بات واضح ہوگئی کہ موت میں پوری روح قبض کی جاتی ہے‘‘۔گویا یہ اﷲ کے مقررکردہ قانون سے پوری طرح واقف ہے ۔لیکن پھر بھی یہی کہتا ہے کہ’’(انی متوفّیک ) کا معروف اصطلاحی معنی(میں تجھے وفات دینے والا ہوں) بنتا ہے‘‘۔محمدہادی یہاں فاعل فرشتے نہیں، اﷲ تعالیٰ کی ہستی ہے۔

خودقرآن کو بدل رہے ہو اور دوسروں کو کہتے ہو کہ’’ خود بدلتے نہیں قرآن کو بدل دیتے ہیں‘‘۔

آیت قد خلت سے عیسیٰ علیہ السلام کی موت کو ثابت کرنا:

قرآن کو بدلنے کی اپنی اسی مذموم کوشش میں اور آگے بڑھتا ہے اور کہتا ہے:

’’(1) صحابہ کرام کا اجماع:جیسا کہ کہ بخاری و مسلم سے ثابت ہے کہ وفاۃالنبیﷺ پر تمام صحابہ کرام کا اجماع ہے تو قرآن کی آیت ’’وما محمد الا رسول قد خلت من قبلہ الرسل ‘‘ میں ا  ٓپ سے پہلے تمام انبیاء علیہم السلام کی وفات پر بھی اجماع ہے۔‘‘(ایضاً:صفحہ ۲۸)

صفحہ نمبر ۲۰ پر اسی سلسلے میں مزید دلائل دیتا ہے:

’’  تفسیر المنار میں اسکی وضاحت یوں آئی ہے۔ و حاصل المعنی ان محمد لیس الا بشر…… علیٰ اعقابکم،(ترجمہ) ’’ مطلب یہ ہے کہ محمد ﷺ تو ایک بشر ہیں رسول ہیں۔آپ سے پہلے رسول گزر چکے ہیں یعنی وفات پا چکے ہیں اور بعض نبی جیسے زکریا و یحییٰ علیھما السلام قتل کئے گئے ہیں۔ ان میں ہمیشگی کسی کے لئے نہ تھی۔… پس آپ وفات پا جائیں جیسے کہ موسیٰ و عیسیٰ علیھما السلام مر گئے ہیں یا قتل کئے جائیں جیسا کہ زکریا اور یحییٰ علیھما السلام قتل کئے گئے۔کیا تم دین اسلام سے ایڑیوں کے بل پھر جاؤگے۔۔۔‘‘ نیز تفسیر بیضاوی میں بھی آیا ہے(فسیخلوکما خلوا بالموت او القتل (تفسیر البیضاوی ص 91 )  پس آپ ﷺ بھی دنیا سے ایسے گزریں گے جیسا کہ آپ سے پہلے انبیاء علیہم السلام طبعی موت یا قتل کے ذریعے گزرے ہیں۔ دیکھئے انسانوں اور جنات کی لئے ’’قد خلت ‘‘ آیا ہے۔یہاں دنیا سے ہوکر گزرنا موت کے معنی میں ہے‘‘۔(ایضاً: صفحہ ۲۰۔۲۱)

کیا ہی اچھا ہوتا کہ تفسیر بیضاوی کے ساتھ ساتھ موصوف قادیانیوں کی ان کتابوں کا بھی حوالہ دے دیتا جہاں سے اس نے یہ عقیدہ چرایا ہے۔لیکن وہ ایسا نہیں کرسکتا تھا،کیونکہ اسطرح اس کے پیروکاروں پر یہ حقیقت بالکل ہی آشکار ہو جاتی کہ یہ سارے عقائد آ کہاں سے رہے ہیں اور ہمارا یہ رہبر ہمیں کس طرف لے جا رہاہے۔بہر حال قارئین!  سالہا سال سے قادیانیوں کی کتابیں اس دلیل سے بھری پڑی ہیں۔ہم ان تمام کتب کا حوالہ توسردست نہیں دے سکتے تاہم اسکے پیروکاروں کے سامنے ایک حوالہ ضرور پیش کردیتے ہیں:

احمدی خلیفہ دوم مرزا بشیر ’’دعوۃ الامیر ‘‘میں لکھتا ہے:

’’ اس روایت سے تین امور ثابت ہوتے ہیں۔اول یہ کہ رسول کریم صلی اﷲ علیہ و سلم کی وفات پر سب سے پہلے صحابہ ؓ  کا اجماع امت اس پر امر ہواتھا کہ آپ سے پہلے سب انبیاء فوت ہو چکے ہیں،کیونکہ اگر صحابہ  ؓ میں سے کسی کو بھی یہ شک ہوتا کہ بعض نبی فوت نہیں ہوئے تو کیا ان میں سے بعض اسی وقت کھڑے نہ ہو جاتے کہ آپ آیات سے جو استدلال کررہے ہیں یہ درست نہیں، کیونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلا م تو چھ سو سال سے آسمان پر زندہ بیٹھے ہیں۔پس یہ غلط ہے کہ نبی صلی اﷲ علیہ و سلم سے پہلے سب نبی فوت ہوچکے ہیں اور جب کہ ان میں سے سے بعض زندہ ہیں تو کیا وجہ ہے کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ و سلم زندہ نہ رہ سکیں۔دوم یہ کہ ……پس صدیق اکبر ؓ  کا آیت  قد خلت من قبلہ الرسل سے جمیع انبیائے سابقین کی وفات کا ثبوت نکالنا اور کُل صحابہ  ؓ کا نہ صرف اس پر خاموش رہنا بلکہ اس اسدتلال سے لذت اٹھانا اور گلیوں اور بازاوں میں اس کو پڑھتے پھرنا اس امر کا ثبوت ہے کہ وہ سب اس استدلال سے متفق تھے۔

تیسرا امر اس روایت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ خواہ کسی اور نبی کی وفات کا ان کو یقین تھا یا نہیں مگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات کا انہیں یقیناً کوئی علم نہ تھا،کیونکہ جیسا کہ تمام صحیح احادیث اور معتبر روایات سے ثابت ہوتا ہے کہ عمرؓ  سخت جوش کی حالت میں تھے اور باقی صحابہؓ سے کہہ رہے تھے کہ جو کہے گا کہ رسول کریم صلی اﷲ علیہ و سلم فوت ہو گئے ہیں میں اس کا سر اڑا دوں گا اس وقت اپنے خیال کے ثبوت میں حضرت موسیٰ  ؑ کے چالیس دن پہاڑ پر چلے جانے کا واقعہ تو وہ پیش کرتے تھے مگر حضرت عیسیٰ ؑ کے آسمان پر چلے جانے کا واقعہ انہوں نے ایک مرتبہ بھی پیش نہیں کیا…ان کاحضرت موسیٰ ؑ کےواقعے سے استدلال کرنا اور اس واقعہ سے استدلال نہ کرنا بتاتا ہے کہ ان کے ذہن میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق کوئی ایسا واقعہ تھا ہی نہیں۔‘‘( دعوۃ الامیر،صفحہ۲۱۔۲۲)

اب یقیناً آپ کے سامنے یہ بات آگئی ہوگی کہ موصوف کی ہدایت کامنبع کیا ہے۔بہرحال ان کے بیانات سے جو بات واضح ہوتی ہے وہ اسطرح ہے:

صحابہ کرام رضوان اﷲ اجمعین کا اس بات پر اجماع ہے کہ تمام انبیاء کو موت آگئی۔اس آیت میں تمام انبیاء کی موت کی طرف اشارہ ہے،اور صرف یہ بتایا گیا ہے کہ نبی صلی اﷲ علیہ و سلم بھی اسی طرح گزر جائیں گے جس طرح پچھلے انبیاء علیہم السلام اس دنیا سے چلے گئے ہیں۔صحابہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہم کے ذہن میں عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق اس قسم کا کوئی گمان ہی نہ تھا کہ وہ زندہ آسمانوں پر اٹھا لیے گئے ہیں۔ آئیے ان نکات کا جواب قرآن و حدیث میں تلاش کریں:

﴿ وَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ ۚ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ ۭ اَفَا۟ىِٕنْ مَّاتَ اَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلٰٓى اَعْقَابِكُمْ ۭ وَمَنْ يَّنْقَلِبْ عَلٰي عَقِبَيْهِ فَلَنْ يَّضُرَّ اللّٰهَ شَـيْـــًٔـا  ۭ وَسَيَجْزِي اللّٰهُ الشّٰكِرِيْنَ﴾

[آل عمران: 144]

’’ محمدؐ محض ایک رسول ہیں، ان سے پہلے بھی بہت سے رسول گذرے ہیں، اگر یہ فوت ہو جائیں یا شہید کردئیے جائیں تو کیا تم الٹے پھر جاؤگے، اور جو کوئی الٹے پاؤں پھر گیا تو وہ اﷲ کو کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتا اور اﷲ اپنے شکرگذار بندوں کو ضرور جزا دے گا‘‘۔

یہ ہے وہ آیت جس کے متعلق ان لوگوں کا گمان ہے کہ یہ آیت پچھلے انبیاء علیہم السلام کی وفات کی دلیل ہے۔اگر چہ اس آیت کے متن سے پتہ چلتا ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے نبی صلی اﷲ علیہ و سلم کی زندگی ہی میں صحابہ کرام رضوان اﷲ اجمعین کو یہ بات کھول کر بتا دی تھی کہ محمد صلی اﷲ علیہ و سلم کی حیثیت محض ایک نبی کی ہے جیسا کہ ان سے پہلے لا تعداد انبیاء علیہم السلام گزرے ہیں۔ تم نے جو اس دین کو قبول کیا ہے تو یہ اﷲ کا دین ہے جو اس نبی ؐ کے ذریعے تم تک پہنچایا گیا ہے۔ایسا نہ ہو کہ ا ن کی وفات ہو جائے یا یہ شہید کردئیے جائیں تو تم یہ گمان کرنے لگو کہ اب تو یہ دین ختم ہوگیا اور اس دین ہی سے نکل جاو۔ سنو اگر تم سے کوئی اس گمان پر دین سے نکلا تو وہ اﷲکو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا یعنی وہی ذلیل و نامراد ہو گا ۔جبکہ میرے وہ بندے جو اس دین سے وابستہ رہیں گے تو اﷲ تعالیٰ ضرور انکو بہترین جزا عطا فرمائے گا۔یہی وجہ تھی کہ جب ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے خطبہ دیا تو فرمایاـ:

فَمَنْ کَانَ مِنْکُمْ یَعْبُدُوْا مُحَمَّدًا  ’’سن لو تم میں جو کوئی محمد صلی اﷲ علیہ و سلم کی بندگی کرتا تھا‘‘ فَاِنَّ  مُحَمَّدًا قَدْ مَاتَ ’’ تو محمد صلی اﷲ علیہ و سلم کی وفات ہو گئی‘‘،وَمَنْ کَانَ مِنْکُمْ یَعْبُدُوْا اﷲَ ’’اور جو کوئی اﷲ کی بندگی کرتا ہے ‘‘فَاِنَّ اﷲاَ حَیٌ لَا یَمُوْتُ  ’’تو بے شک اﷲ تعالیٰ حئی ( زندہ جاوید) ہے جس کو کبھی موت نہیں آنی‘۔ (بخاری:کتاب الانبیاء)

اس آیت کا مدعا یہی ہے کہ تم اﷲ کی بندگی کرنے والے ہو، جو زندہ و جاوید ہے، وہ ہمیشہ رہے گا،اسی کی بندگی کرنی ہے، اسی کا یہ دین ہے۔ نبی صلی اﷲ علیہ و سلم کو تو اس رب نے بھیجا تھا،ہم نے انکی بندگی نہیں کی ہے کہ ان کی وفات پر ہم یہ سوچیں کہ اب کس کی بندگی کریں گے۔ جب ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے یہ آیت پڑھی تو وہاں موجود تمام صحابہ کرامؓ کا اس بات پر اجماع ہوگیا کہ نبی صلی اﷲ علیہ و سلم کی وفات ہوگئی ہے، تمام صحابہ ؓ رونے لگے ۔عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں:

’’ جب ابو بکر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے یہ آیت تلاوت فرمائی تو ایسا معلوم ہوتا تھا کہ کسی کو اس آیت کی خبر ہی نہیں تھی پھر جسے دیکھو یہی آیت پڑھ رہا تھا‘‘ ( زہری کہتے ہیں سعید بن مسیب ) نے کہا کہ عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ و اﷲ جس دم میں نے ابو بکر ؓ  کو یہ آیت تلاوت کرتے ہوئے سنا میں گھٹنوں کے بل گر پڑا، اور ایسا بے دم ہوا کہ میرے پاؤں مجھے سہارا نہ دے سکے یہاں تک کہ میں زمین کی طرف جھک پڑا جس وقت مجھے یہ یقین ہو گیا کہ اﷲ کے نبی صلی اﷲ علیہ و سلم و فات پاگئے‘‘۔  ( بخاری ۔ کتاب المغازی۔ باب مرض النبی ﷺ و و فاتہ)

محمدہادی ذرا بتائیں کہ یہ صحابہ کرام ؓ کیوں رو رہے تھے؟ یا انکے ہم خیال قادیانی ہی جواب دے دیں کہ اس آیت کے پڑھنے پر سارے صحابہ کیوں رونے لگے تھے، اسی لیے نا کہ ذکریا،یحییٰ،موسیٰ ،عیسیٰ اور دیگر تمام انبیاء علیہ السلام کی وفات ہوگئی۔عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ اسی لیے تو بے دم ہوکر اپنے قدموں پر گر گئے تھے کہ عیسیٰ علیہ السلام آسمانوں میں زندہ نہیں! تف ہے ان پر!  خود بدلتے نہیں قرآن و حدیث کو بدل دیتے ہیں۔

ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ اور تمام صحابہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہم کے طرز عمل  سے یہ بات چھپی نہ رہ سکی کہ ان لوگوں نے اس اجماع سے جو کچھ اخذ کیا ہے وہ محض انکا اپنا گمان ہے۔

قد خلت سے مراد سارے انبیاء کی موت ہے تو بھی یہ عیسیٰ علیہ السلام کیلئے ہز گز نہیں ہوسکتاکیونکہ قرآ ن اور حدیث ان کی موت نہیں بلکہ انکا رفع بیان کرتے ہیں۔اگر قد خلت سے مراد یہ لیا جائے کہ پچھلے تمام انبیاء علیہم السلام وفات پا کر اور عیسیٰ علیہ السلام رفع کی وجہ سے اس دنیا سے جا چکے ہیں تو یہ عین قرآن اور حدیث کے مطابق ہوگا۔اس لیے کہ ایک قانون عام ہوتا ہے اور ایک استثناء۔آئیے قرآن میں استثناء کا قاعدہ تلاش کریں۔

استثناء کا قاعدہ:

عربی میں استثناء کے لئے  اِلاَّ، غَیْرُ،  سِوٰی، خَلا  اور عدا  کے حروف استعمال ہوتے ہیں ۔ان کو’’ حروف استثناء‘‘ کہتے ہیں، یعنی ان حروف کے ذریعے کسی چیز کو ماقبل کے حکم سے مستثنیٰ کر دیا جاتا ہے۔ مثلاً  جَاء الْقَومُ اِلاَّ زیدًا  یعنی پوری قوم آئی مگر زید۔ اس جملے میں’’ زید‘‘ مستثنیٰ ہے۔ ’’قوم‘‘ مستثنیٰ منہ اور الِّا  حرفِ استثناء ہے۔

قرآن میں استثنا کے مختلف انداز:

﴿وَنُفِخَ فِي ٱلصُّورِ فَصَعِقَ مَن فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَن فِي ٱلۡأَرۡضِ إِلَّا مَن شَآءَ ٱللَّهُۖ

[الزمر: 68]

’’ اور صورمیں پھونک ماری جائیگی تو جو کوئی آسمانوں میں ہے اور جو کوئی زمیں میں ہے بیہوش ہوجائے گا مگر جو اللہ چاہے‘‘۔

اس آیت میں  ما شاء اﷲ ’’جو اللہ چاہے وہ ‘‘ مستثنیٰ ہے۔

﴿وَإِذۡ قُلۡنَا لِلۡمَلَٰٓئِكَةِ ٱسۡجُدُواْ لِأٓدَمَ فَسَجَدُوٓاْ إِلَّآ إِبۡلِيسَ

[البقرة: 34]

’’اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو تو انہوں نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے ‘‘۔

اس آیت میں’’ ملائکہ‘‘ مستثنیٰ منہ ہیں اور ’’ابلیس‘‘ مستثنیٰ ہے۔  درج بالا آیات پر غور فرمائیں کہ’’ مستثنیٰ ‘‘اور’’ مستثنیٰ منہ‘‘ ایک ہی آیت میں موجود ہیں۔لیکن ہمیشہ ایسا نہیں ہوتابلکہ بعض اوقات ’’مستثنیٰ‘‘ اور’’ مستثنیٰ منہ‘‘ الگ الگ آیات میں آتے ہیں مثلاً :

﴿وَٱلۡعَصۡرِ{}  إِنَّ ٱلۡإِنسَٰنَ لَفِي خُسۡرٍ{}   إِلَّا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّٰلِحَٰتِ وَتَوَاصَوۡاْ بِٱلۡحَقِّ وَتَوَاصَوۡاْ بِٱلصَّبۡرِ﴾

[العصر: 1-3]

’’زمانے کی قسم ، ساری کی ساری انسانیت گھاٹے میں ہے، سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور ایمان لا کر نیک عمل کیے، پھر انہوں نے دین حق کی تبلیغ کی اور اس راہ کی آئی ہوئی مصیبتوں پر خود بھی صبر کیا اور دوسروں کو بھی صبر کی تلقین کرتے رہے‘‘۔

اس سورۂ میں’’ مستثنیٰ منہ‘‘ (انسان) پہلی آیت میں ہے اور’’ مستثنیٰ ‘‘(سوائے ان لوگوں کے…)دوسری آیت میں۔ استثنا ء کا یہ انداز قرآن میں اکثر جگہ ملتاہے۔ اس کے علاوہ قرآن کا ایک خصوصی انداز اور بھی ہے کہ کسی سورۂ میں ایک حکم عام بغیر کس استثناء کے بیان کیا جاتا ہے، لیکن کسی دوسری سورۂ میں خصوصی حکم کے ذریعے اس حکم عام کا استثناء بیان کردیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پرانسان کی ازدواجی زندگی سے متعلق اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿ فَٱنكِحُواْ مَا طَابَ لَكُم مِّنَ ٱلنِّسَآءِ مَثۡنَىٰ وَثُلَٰثَ وَرُبَٰعَۖ ﴾

[النساء: 3]

’’ پس نکاح کرلو جو عورتیں تمہیں پسندہوں دو دو، تین تین اور چار چار‘‘۔

یہ ایک عام حکم ہے یہاں کوئی استثناء نہیں، لیکن سورۃ الاحزاب میں ایک خصوصی حکم کے ذریعے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حکم عام سے مستثنیٰ کر دیا گیا:

﴿يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّبِيُّ إِنَّآ أَحۡلَلۡنَا لَكَ أَزۡوَٰجَكَ ٱلَّٰتِيٓ ءَاتَيۡتَ أُجُورَهُنَّ وَمَا مَلَكَتۡ يَمِينُكَ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ فِيٓ أَزۡوَٰجِهِمۡ وَمَا مَلَكَتۡ أَيۡمَٰنُهُمۡ لِكَيۡلَا يَكُونَ عَلَيۡكَ حَرَجٞۗ وَكَانَ ٱللَّهُ غَفُورٗا رَّحِيمٗا﴾

[الأحزاب: 50]

’’اے نبی (ﷺ)  ہم نے آپؐ  کیلئے حلال کی ہیں آپؐ  کی بیویاںجن کو آپؐ نے مہر دیا ہے اور جو آپؐ  کی لونڈیاں ہیں وہ بھی آپ کیلئے حلال ہیں۔ اور آپؐ کے چچا کی بیٹیاں اور آپؐ  کی پھوپھی کی بیٹیاں اور آپ کے ماموں کی بیٹیاں اور آپ کی خالہ کی بیٹیاں اور وہ مومنہ عورت بھی (آپ کے لئے حلال ہے) جو اپنی جان نبیؐ  کو بخش دے بشرطیکہ نبیؐ  بھی اس سے نکاح کے خواستگار ہوں۔ اے نبی یہ رعایت اور مومنوں کی بجائے خالص آپؐ  کے لئے ہے۔ ہم نے ان کی بیویوں اور لونڈیوں کے بارے میں جو حکم دیا ہے وہ ہمیں معلوم ہے ۔ (اور یہ رعایت اس لئے آپؐ  کو دی گئی ہے)کہ آپؐ پر کوئی تنگی نہ رہے اور اللہ بخشنے والا رحم فرمانے والا ہے‘‘۔

سورۃالنسآء میں تمام اہل ایمان کیلئے ایک عام حکم نازل ہوا، جس کی رو سے ہر مسلم زیادہ سے زیادہ چار عورتوں سے بیک وقت نکاح کر سکتا ہے، اس سے زیادہ نہیں۔ اگر سورۃالاحزاب کی درج بالا آیت نازل نہ ہوتی تو نبی صلی اﷲ علیہ و سلم کے لئے بھی یہی قانون تھا، لیکن اللہ تعالیٰ نے اس آیت کے ذریعے نبی صلی اﷲ علیہ و سلم کو عام قانون سے مستثنیٰ قرار دے دیا۔ چنانچہ آپؐ نے باذنِ اللہ دس عورتوں سے نکاح کیا۔      سورۃ البقرہ میں بیوہ عورتوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿وَٱلَّذِينَ يُتَوَفَّوۡنَ مِنكُمۡ وَيَذَرُونَ أَزۡوَٰجٗا يَتَرَبَّصۡنَ بِأَنفُسِهِنَّ أَرۡبَعَةَ أَشۡهُرٖ وَعَشۡرٗاۖ فَإِذَا بَلَغۡنَ أَجَلَهُنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَيۡكُمۡ فِيمَا فَعَلۡنَ فِيٓ أَنفُسِهِنَّ بِٱلۡمَعۡرُوفِۗ وَٱللَّهُ بِمَا تَعۡمَلُونَ خَبِير﴾

[البقرة: 234]

’’ اور تم میں سے جن کی وفات ہو جائے اور وہ  بیویاں چھوڑ جائیں تو وہ خواتین اپنے  آپ کو چار ماہ دس دن تک روکے رکھیں۔ پھر جب وہ اپنی عدت پوری کرلیں تو تم پر کوئی کوئی گناہ نہیں اگر وہ حسب دستور اپنے لیے کچھ کر لیں اور اللہ تمہارے کاموں سے خوب باخبر ہے‘‘۔

اس آیت کی رو سے ہر مومنہ بیوہ عورت اپنی عدت پوری کرنے کے بعد ، اپنی پسند کے آدمی سے نکا ح کرسکتی ہے۔ اس کے لئے کوئی شرعی پابندی نہیں ہے۔ یہ تمام بیوہ خواتین کیلئے حکم عام ہے۔ لیکن سورۃالاحزاب کی رو سے ازاوج مطہرات اس حکم سے مستثنیٰ قرار دی گئیں:

﴿ٱلنَّبِيُّ أَوۡلَىٰ بِٱلۡمُؤۡمِنِينَ مِنۡ أَنفُسِهِمۡۖ وَأَزۡوَٰجُهُۥٓ أُمَّهَٰتُهُمۡۗ ﴾

[الأحزاب: 6]

’’ بلاشبہ نبی ( صلی اﷲ علیہ و سلم) تو مومنوں کیلئے انکی اپنی ذات سے بھی مقدم ہیں اور انکی بیویاں انکی مائیں ہیں‘‘۔

﴿ وَمَا كَانَ لَكُمۡ أَن تُؤۡذُواْ رَسُولَ ٱللَّهِ وَلَآ أَن تَنكِحُوٓاْ أَزۡوَٰجَهُۥ مِنۢ بَعۡدِهِۦٓ أَبَدًاۚ ﴾

[الأحزاب: 53]

’’ اور نہ ہی یہ جائز ہے کہ ان کے بعد کبھی بھی ان کی بیویوں سے نکاح کرو‘‘۔

معلوم ہوا کہ وہ حکم عام جو تمام مسلم خواتین کیلئے حکم عام ہے ازواج مطہرات اس حکم سے مستثنیٰ ہیں۔اس سے قبل بیان کردہ آیت میں جب حکم عام سے ہٹ کر نبی صلی اﷲ علیہ و سلم کو چار سے زائد ازواج رکھنے کی اجازت دی گئی تھی تو فرمایا تھا ’’اے نبی یہ رعایت اور مومنوں کی بجائے خالص آپؐ  کے لئے ہے۔ ہم نے ان کی بیویوں اور لونڈیوں کے بارے میں جو حکم دیا ہے وہ ہمیں معلوم ہے ‘‘۔لیکن یہاں اس حکم عام کا کوئی ذکرکیے بغیر ہی قرآن کے ایک دوسرے بیان نے ازواج مطہرات کا استثناء بیان فرما دیا۔قرآن میں اس طرح کی اور بھی مثالیں ملتی ہیں،جیسا کہ انسان کی پیدائش کے بارے میں بتایا گیا:

﴿يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ إِنَّا خَلَقۡنَٰكُم مِّن ذَكَرٖ وَأُنثَى﴾

[الحجرات: 13]

’’ا ے لوگوہم نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا‘‘۔

یہ قانون سارے انسانوں کیلئے بیان کیا گیا ہے اور کوئی استثناء نہیں لیکن سورۂ آل عمران کی آیت کے ذریعے ابو البشر آدم علیہ السلام کو اس قانون سے مستثنیٰ قرار دے دیا گیا:

﴿إِنَّ مَثَلَ عِيسَىٰ عِندَ ٱللَّهِ كَمَثَلِ ءَادَمَۖ خَلَقَهُۥ مِن تُرَابٖ ثُمَّ قَالَ لَهُۥ كُن فَيَكُونُ﴾

[آل عمران: 59]

’’  بے شک عیسیٰ کی مثال آدم کی طرح ہے ،ہم نے اسے مٹی سے بنا پھر اسے حکم دیا کہ ہوجا تو وہ ہوگیا‘‘۔

قر آن کے اس بیان نے واضح کردیا کہ آدم علیہ السلام کی پیدائش قانون عام سے ہٹ کر ہے ،یعنی یہ ایک استثنائی معاملہ ہے۔ اسی طرح عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کے ذکر کیلئے یہ نہیں فرمایا گیا کہ ہم نے اسے قانون عام سے ہٹ کر پیدا فرمایا ہے بلکہ اﷲ کا بیان ہی اس معاملے کو قانون عام سے مستثنیٰ قرار دے رہا ہے۔

﴿ اِذْ قَالَتِ الْمَلٰۗىِٕكَةُ يٰمَرْيَمُ اِنَّ اللّٰهَ يُبَشِّرُكِ بِكَلِمَةٍ مِّنْهُ   ڰ اسْمُهُ الْمَسِيْحُ عِيْسَى ابْنُ مَرْيَمَ وَجِيْهًا فِي الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ وَمِنَ الْمُقَرَّبِيْنَ {} وَيُكَلِّمُ النَّاسَ فِي الْمَهْدِ وَكَهْلًا وَّمِنَ الصّٰلِحِيْنَ {} قَالَتْ رَبِّ اَنّٰى يَكُوْنُ لِيْ وَلَدٌ وَّلَمْ يَمْسَسْنِىْ بَشَرٌ ۭقَالَ كَذٰلِكِ اللّٰهُ يَخْلُقُ مَا يَشَاۗءُ   ۭ اِذَا قَضٰٓى اَمْرًا فَاِنَّمَا يَقُوْلُ لَهٗ كُنْ ﴾

[آل عمران: 45-47]

’’ اور جب فرشتوں نے کہا: اے مریم بے شک اللہ تم کو اپنی طرف سے ایک کلمہ کی بشارت دیتا ہے اس کا نام عیسیٰ ابن مریم ہے دنیا اور آخرت میں وہ عزت دار ہے اور نیکوکاروں میں سے ہے۔ مریم نے عرض کیا: اے رب میرا بچہ کیونکر ہوگا، مجھے تو کسی بشر نے چھوا تک نہیں۔ فرمایا اس طرح اللہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔ جب وہ کسی کا م کے کرنے کا ارادہ کرلیتا ہے تو اس سے صرف اتنا کہتا ہے ہو جا پس وہ ہوجاتا ہے‘‘۔

فرشتوں کا مریم صدیقہ کو عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کی بشارت دینا اور عیسیٰ علیہ السلام کے نام کے ساتھ باپ کی بجائے ماں کی کنیت استعمال کرنا۔ مریم صدیقہ کا اپنی پاکدامنی کے اظہار کے لئے یہ کہنا کہ مجھے تو کسی نے ہاتھ بھی نہیں لگایا۔ فرشتے کا یہ کہنا کہ اسی طرح اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے جب وہ کسی کام کا ارادہ کرلیتا ہے تو اسے کہہ دیتا ہے ہو جا تو وہ کام ہوجاتا ہے۔ اس سارے بیان میں اس بات کا قرینہ پایا جاتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے انسان کی پیدائش کے عام قانون سے مستثنیٰ کردیا اور آپؑ کو محض اپنی قدرت کاملہ سے بغیر باپ کے پیدا کیا۔پھر اسی سورۂ میں واضح الفاظ میں بھی بیان کیا:

﴿إِنَّ مَثَلَ عِيسَىٰ عِندَ ٱللَّهِ كَمَثَلِ ءَادَمَۖ خَلَقَهُۥ مِن تُرَابٖ ثُمَّ قَالَ لَهُۥ كُن فَيَكُونُ٥٩ ٱلۡحَقُّ مِن رَّبِّكَ فَلَا تَكُن مِّنَ ٱلۡمُمۡتَرِينَ﴾

[آل عمران: 59-60]

’’اﷲ کے نزدیک عیسیٰ ؑ کی مثال آدم ؑ کی سی ہے ہم نے اسے مٹی سے بنا یا پھر اسے حکم دیا کہ ہوجا تو وہ ہوگیا، حق تمہارے رب کی طرف سے واضح ہوگیا پس شک کرنے والوں میں سے نہ ہو جانا‘‘۔

قارئین! استثناء کی یہ تفصیل بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اس بات کی مکمل وضاحت ہو جائے کہ اﷲ تعالیٰ نعوذوباﷲ اس بات کا پابند نہیں ہے کہ تمام امور اپنے وضع کردہ قوانین کے مطابق ہی کرے۔لیکن قرآن میں بیان کردہ قانون عام اور حکم عام سے ہٹ کر کوئی بھی عمل اسی وقت استثناء مانا جائے گاجبکہ اسکی وضاحت قرآن  میں ملے گی۔

اب ہم آتے ہیں عیسیٰ علیہ السلام کی طرف ۔ عیسیٰ علیہ السلام کی زندگی کی ابتداء ہی قانونِ عام سے ہٹ کر ایک مکمل استثنائی کیفیت میں ہوئی ۔ بغیر باپ کے وہ پیدا کیے گئے ،گہوارے میں کلام کیا، اﷲ کے حکم سے مُردوں کو زندہ، کوڑھیوں اور اندھوں کو تندرست کر دیتے تھے۔ مٹی کے پرندے بنا کر اس میں پھونکتے تھے تو اﷲ کے حکم سے وہ ایک زندہ پرندہ بن جاتا تھا۔یہ سارے معجزات تھے جو اﷲ تعالیٰ نے ان کو عطا فرمائے تھے۔ جب یہود نے ان کی موت کی سازشیں کیں تو اس مالک نے انہیں ان کی چالوں سے بچایا اور ان کو زندہ آسمانوں پر اٹھا لیا۔ان کو موت نہیں آئی ہے بلکہ قرآن نے اشارہ دے دیا کہ ان کی موت مستقبل میں واقع ہوگی۔لہٰذاجب عیسیٰ علیہ السلام کیلئے قد خلت کا لفظ استعمال ہوگا تو اس کا مطلب ہے کہ وہ رفع کے ذریعے اس دنیا سے چلے گئے۔

اس بارے میں  قادیانیوں کا بیان پڑھیں کہ صحابہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہم کے ذہن میں عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق اس قسم کا کوئی گمان ہی نہ تھا کہ وہ زندہ آسمانوں پر اٹھا لیے گئے ہیں۔ان سے کوئی پوچھے کہ قرآن کی یہ آیات اور نزول عیسیٰ علیہ السلام کی احادیث جن کو آج انہوں نے تختہ مشق بنا رکھاہے ان تک کیسے پہنچیں؟ یہی صحابہ کرام رضی اﷲ تعالیٰ عنہم تو ہیں جن کے ذریعے قرآن کی آیات اور احادیث ہم تک پہنچی ہیں۔ یہ لوگ کیا گمان کرتے ہیں صحابہ کرامؓ کے متعلق۔کیا ان کا مشن صرف اورصرف یہ تھا کہ یہ باتیں آگے بڑھا دیں ، اس کے مطابق عقیدہ نہ بنائیں، اس پر عمل نہ کریں۔ کیا انہوں نے قرآن کی آیات نہیں پڑھ رکھی تھیں کہ اﷲ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کو اٹھا لیا ہے،ہر اہل کتاب ا ن کی موت سے پہلے ان پر ایمان لے آئے گا، وہ قیامت کی نشانی ہیں۔کیا نزول عیسیٰ علیہ السلام کی روایات بیان کرنے والے ابوہریرہ، حذیفہ بن اُسد غفاری ، نواس بن سمعان ، عبداللہ بن عمروبن العاصؓ اور جابر بن عبداللہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہم اس اجماع میں موجود نہ تھے۔یہ اجماع تو خالصتاً وفات رسول صلی اﷲ علیہ و سلم پر تھا۔انکا یہ گمان اور استدلال ہے کہ قد خلت سے مراد سارے انبیاء کی موت ہے انکے اپنے ذہن کی پیداوار ہے اور یہ محض اپنے خیالی نبی کی نبوت کو ثابت کرنے کیلئے تراشا ہے۔صحابہ کرام رضی اﷲ تعالیٰ عنہم تو قرآن و حدیث کا علم، فہم رکھنے والے تھے۔ انکے درمیان وقتی طور پر جو مسئلہ اٹھا وہ اسی بنیاد پر حل ہوا اور انکا اجماع ہوگیا۔ عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں انکے درمیان اسطرح کا کوئی مسئلہ اٹھا ہی نہیں۔

فلمّا توفّیتنی والی آیت سے موت ثابت کرنا:

ان دونوں گمراہ گروہوں نے سورۂ االمائدہ کی آیت نمبر 117 کو عیسیٰ علیہ السلام کی وفات پر دلیل بنایا ہے۔آئیے دیکھیں کہ یہاں انہوں نے کیا گُل کھلایا ہے۔

﴿وَإِذۡ قَالَ ٱللَّهُ يَٰعِيسَى ٱبۡنَ مَرۡيَمَ ءَأَنتَ قُلۡتَ لِلنَّاسِ ٱتَّخِذُونِي وَأُمِّيَ إِلَٰهَيۡنِ مِن دُونِ ٱللَّهِۖ قَالَ سُبۡحَٰنَكَ مَا يَكُونُ لِيٓ أَنۡ أَقُولَ مَا لَيۡسَ لِي بِحَقٍّۚ إِن كُنتُ قُلۡتُهُۥ فَقَدۡ عَلِمۡتَهُۥۚ تَعۡلَمُ مَا فِي نَفۡسِي وَلَآ أَعۡلَمُ مَا فِي نَفۡسِكَۚ إِنَّكَ أَنتَ عَلَّٰمُ ٱلۡغُيُوبِ{} مَا قُلۡتُ لَهُمۡ إِلَّا مَآ أَمَرۡتَنِي بِهِۦٓ أَنِ ٱعۡبُدُواْ ٱللَّهَ رَبِّي وَرَبَّكُمۡۚ وَكُنتُ عَلَيۡهِمۡ شَهِيدٗا مَّا دُمۡتُ فِيهِمۡۖ فَلَمَّا تَوَفَّيۡتَنِي كُنتَ أَنتَ ٱلرَّقِيبَ عَلَيۡهِمۡۚ وَأَنتَ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ شَهِيدٌ﴾

[المائدة: 116-117]

’’ اور جب اﷲ فرمائے گا اے عیسیٰ ؑ ابن مریم کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ اﷲ کے سوا مجھے اور میری ماں کو بھی الٰہ بنا لو۔(عیسیٰ ؑ) جواب دیں گے: پاک ہے تو، میرا یہ کام نہ تھا کہ وہ بات کہوں جسکا مجھے حق نہ تھا۔اگر میں نے ان سے یہ بات کہی ہوتی تو آپ کے علم میں ضرور ہوتا۔تو جانتا ہے جو کچھ میرے دل میں ہے اورمیں نہیں جانتا جو کچھ تیرے دل میں ہے،تو تو چھپی ہوئی باتوں کا زبردست جاننے والا ہے۔ میں نے تو ان سے وہی بات کہی ہے جس کا تو نے مجھے حکم دیا تھا کہ اﷲ کی بندگی کرو جو میرا رب بھی ہے اور تمہارا رب بھی۔اور میں اسوقت تک انکا نگراں رہا جب تک کہ ان کے درمیان رہا،جب تو نے مجھے اٹھا لیا تو، توہی ان پر نگراں تھا،اور تو تو ہرچیز پر نگراں ہے‘‘۔

اس آیت میں توفیتنی کے الفاظ کا ترجمہ ان دونوں گروہوں نے ’’وفات‘‘ ہی کیا ہے اور اسکی وجہ آپ اب تک جان ہی گئے ہوں گے ۔آیت کی تشریح میں ہادی صاحب نے لکھا ہے:

’’بات یوں ہے کہ قیامت کے دن اﷲ تعالیٰ عیسیٰ علیہ السلام سے پوچھیں گے۔کیا تو نے کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو اﷲ کے علاوہ الٰہ بناؤ۔یہ اس لئے کہ عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کے بعد عیسائیوں نے یہ شرکیہ عقیدہ بنا لیا تھا جبکہ عیسیٰ علیہ السلام کی امت محمد ﷺ سے پہلے تھی تو یہ عیسیٰ علیہ السلام سے اسکی امت کے بارے میں پوچھا جارہا ہے۔عیسیٰ علیہ السلام اس بات کی نفی کریں گے کہ میں نے یہ شرکیہ بات نہیں کہی ہے۔اب حقیقت کو ان کے سامنے لائیں گے۔فرمائیں گیما قلت لھم الّا ما امرتنی بہٖ میں نے ان کو نہیں کہی مگر وہ با ت کہ جس کا آپ نے حکم دیا ہے۔اب ذرا غور کریں عیسیٰ علیہ السلام اپنے دور رسالت کی بات کر رہے ہیں کیونکہ اﷲ نے آپکو بنی اسرائیل کے لئے رسول بنا کر بھیجا تھا اور ان کو دعوت دی……(عقیدہ خاتم النبین،محمد ہادی)

پھر صفحہ 24 پر لکھا:

’’… تو قرآن و حدیث سے یہ بات ثابت ہوئی کہ آپ وفات پاگئے ہیں۔ اس لئے قیامت کے دن اپنی امت کے حالات سے لاعلمی کا اظہار کریں گے۔ اگر آپ نے دوبارہ آنا ہوتا تو قرآن کے ذریعے لوگوں کے حالات دیکھ کر آپ کو علم ہوتا کہ واقعی ان لوگوں نے مجھے ا لٰہ بنایا ہے۔پھر آپ یوں جواب دیتے کہ جب میں آسمان پر زندہ تھا تو میں بے خبر تھا۔ جب آپ نے اتارا تو مجھے پتہ چلا کہ واقعی انہوں نے مجھے تیرا بیٹا بنایا تھا لیکن پھر دوبارہ نزول کے بعد کے لوگ مجھ پر ایمان لائے ‘‘۔

احمدی قلم کار اس بارے میں یوں قلمطراز ہیں:

’’اگر بالفرض مان لیا جائے کہ مسیح  ؑاب تک آسمان پر زندہ موجود ہیں اور آخری زمانہ میں قیامت سے پہلے زمین پر نازل ہوں گے تو لا محالہ وہ سب عیسائیوں کا شرک اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے اور اپنی امت کے بگاڑ سے پورے واقف ہو جائیں گے اور انہیں معلوم ہو جائے گا کہ میری امت مجھ کو خدا بنارہی ہے ۔ تو اس وقت میں وہ کس طرح اپنی ناواقفیت کا اظہار کرسکتے ہیں۔ یقینا مسیح  ؑ کی طرف سے نعوذ باللہ یہ ایک غلط بیانی ہوگی اگر وہ باوجود علم رکھنے کے پھر لاعلمی کا اظہار کریں‘‘۔ (حضرت عیسیٰ کا وصال)

ملاحظہ فرمایا آپ نے! کس انداز سے دونوں میں یکسانیت پائی جاتی ہے۔اور کیوں نہ ہوکہ ان دونوں کا استاد ایک ہی ہے۔وہی انکے نفس میں وسوسے ڈالتا ہے، اسی کی زبان یہ بولتے اور اسی کے قلم سے یہ لکھتے ہیں۔ دونوں نے قرآن کی آیت کا مفہوم ہی بدل ڈالا۔ ویسے لگتا ہے کہ مفہوم قادیانیوں نے ہی بدلا ہے ہادی تو صرف نقل کرکے بیان کررہے ہیں۔ الغرض یہ وہ مفہوم بالکل نہیں ہے جو قرآن کی آیت میں بیان کیا گیا ہے۔

ہر نبی ؑ سے صرف اس کی امت کے بارے میں سوال ہوگا ۔عیسیٰ علیہ السلام سے بھی یہ سوال انہی کی امت کے بارے میں کیا جائے گا۔ لیکن جو کچھ یہ لوگ کہہ رہے وہ اس آیت کا مفہوم ہر گز نہیں،یہ تو ان کی مولیانہ چالاکی ہے کہ اسکا مفہوم بدل ڈالا۔ اس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ یہ سوال کرے گا کہ کیا انسانوں کو یہ عقیدہ تم نے دیا تھا کہ میرے ساتھ ساتھ تم اور تمہاری والدہ بھی الٰہ ہیں۔ عیسیٰ علیہ السلام جواب دیں گے :مالک میں وہ بات کیسے کہتا جسکا مجھے کوئی حق نہ تھا،اگر ایسی کوئی بات میں نے کہی ہوتی تو مالک تجھے ضرور معلوم ہوتا۔مالک ! کہنا تو دور کی بات اگر یہ بات میرے دل میں بھی ہوتی تو مالک تجھے ضرور علم ہوتا اس لیے کہ تو جانتا ہے جو کچھ میرے دل میں ہے لیکن میرے پاس ایسا کوئی علم نہیں کہ تیرے دل کی بات کو جانوں۔میں نے تو صرف تیری بندگی کی دعوت دی تھی، ان کو بتایا تھا کہ وہ اﷲ میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی۔میں جب تک انکے درمیان تھا تو انکی نگرانی کرتا رہاکہ ان میں کوئی غلط عقیدہ نہ آجائے اور جب تو نے مجھے اٹھا لیا تو مالک تو ہی ان پر نگران تھا تو ہی دیکھ رہا تھا کہ کیا کیا شرکیہ عقائد ان میں پیدا ہو رہے تھے، مالک تجھ سے تو کوئی بات چھپی رہ ہی نہیں سکتی ۔

اﷲ یہ نہیں پوچھ رہا کہ تمہارے علم میں ہے یا نہیں اﷲ تو صرف یہ پوچھ رہا ہے کہ کیا تم نے ان سے کہا تھا۔ لیکن کس طرح قرآن کی آیت کو اپنے مقصد کی بھینٹ چڑھایا گیا اوربڑے طنزیہ انداز میں لکھا : ’’جب میں آسمان پر زندہ تھا تو میں بے خبر تھا۔ جب آپ نے اتارا تو مجھے پتہ چلا کہ واقعی انہوں نے مجھے تیرا بیٹا بنایا تھا‘‘اور جہاں سے ہادی صاحب نے اسے چرایا تھا انہوں نے لکھا:’’یقینا مسیح  ؑ کی طرف سےنعوذ باللہ یہ ایک غلط بیانی ہوگی اگر وہ باوجود علم رکھنے کے پھر لاعلمی کا اظہار کریں‘‘۔کیا اسی کو قرآن پر ایمان کہتے ہیں!  محمدہادی نے اسی ضمن میں سورۂ یونس کی آیت کا حوالہ بھی دیا ہے:

﴿وَيَوۡمَ نَحۡشُرُهُمۡ جَمِيعٗا ثُمَّ نَقُولُ لِلَّذِينَ أَشۡرَكُواْ مَكَانَكُمۡ أَنتُمۡ وَشُرَكَآؤُكُمۡۚ فَزَيَّلۡنَا بَيۡنَهُمۡۖ وَقَالَ شُرَكَآؤُهُم مَّا كُنتُمۡ إِيَّانَا تَعۡبُدُونَ{}  فَكَفَىٰ بِٱللَّهِ شَهِيدَۢا بَيۡنَنَا وَبَيۡنَكُمۡ إِن كُنَّا عَنۡ عِبَادَتِكُمۡ لَغَٰفِلِينَ﴾

[يونس: 28-29]

’’ اور قیامت کے دن ان سب کو ایک ساتھ جمع کریں گے،پھر ہم ان لوگوں سے جنہوں نے شرک کیا تھاکہیں گے ٹھہر جاؤ تم اور تمہارے بنائے ہوئے شریک بھی، پھر ہم ان کے درمیان جدائی ڈالدیں گے۔پھران کے ٹھہرائے ہوئے شریک کہیں گے تم ہماری عبادت تو نہیں کرتے تھے۔ہمارے اور تمہارے درمیان اﷲ گواہ ہے کہ ہمیں تمھاری عبادت کا کوئی علم نہ تھا‘‘۔

موصوف نے جو اپنی اس کتاب میں اس قسم کی دلیل دی ہے تو یہ کوئی نئی بات نہیں اس قسم کی دلیلیں تو قادیانی ایک عرصہ سے دیتے چلے آ رہے ہیں۔ملاحظہ فرمائیے:

’’ لہٰذا اس آیت کی رو سے جہاں سب بزرگ جن کو خدائی کا درجہ دیا گیا وفات یافتہ ثابت ہوتے ہیں وہاں حضرت مسیح  ؑ پہلے نمبر پر وفات یافتہ ثابت ہوتے ہیں۔ کیونکہ جتنی پوجا ان کی گئی کسی دوسرے انسان کی نہیں کی گئی لہذا وہ اَموات غیر احیائٍ میں پہلے نمبر پر داخل ہیں۔‘‘

(حضرت مسیح عیسی کا وصال،صفحہ ۶)

یہ کون لوگ ہیں جنکا ذکر سورۂ یونس کی آیت میں کیا گیا ہے، وہی نا جن کے متعلق اﷲ کی کتاب اموات غیر احیائٍ وما یشعرون ایّان یبعثون کے الفاظ استعمال کرتی ہے۔لیکن قرآن بل رفعہ اﷲ الیہ کہہ کر  اموات غیر احیاء سے عیسیٰ علیہ السلام کا استثناء بیان کرتا ہے۔انکا یہ استثناء ان کی موت واقع ہو جانے پر ختم ہو جائے گا۔

سورۂ یونس کی مذکورہ بالا آیت میں اﷲ تعالیٰ نے ایک طرز عام بیان فرمایا ہے کہ قیامت کے دن جب سب کو جمع کیا جائے گا تو وہ لوگ جن کی بندگی کی گئی تھی، یعنی جن کے نام کی نذر و نیاز کی گئی تھی، جن کی قبروں پر جا کر لوگوں نے دعائیں کیں تھیں،جن کو غائبانہ مدد کیلئے پکارا تھا،الغرض کہ جن کو اﷲ تعالیٰ کا شریک بنالیا گیا تھا، ان لوگوں سے جنہوں نے یہ سب کچھ کیا تھا ،کہیں گے یہ جو کچھ تم نے کیا ہے یہ ہماری عبادت نہیں تھی،اﷲ گواہ ہے کہ ہمیں نہیں معلوم کہ تم ہمارے ساتھ یہ سب کچھ کررہے تھے۔لیکن یہ امید رکھنا کہ عیسیٰ علیہ السلام بھی اسی طرز عام کے مطابق جواب دیں گے قرآن و حدیث کے مطابق نہیں۔ عیسیٰ علیہ السلام کیا جواب دیں گے یہ اﷲ ہی جانتا ہے۔ اس بارے میں جب کتاب اﷲ میں کوئی بات بیان ہی نہیں کی گئی تو اپنی طرف سے عیسیٰ علیہ السلام کا کوئی جواب گھڑ لینا کیاشیطانیت کے زمرے میں نہیں آتا۔

الخلد والی آیت سے موت کا ثبوت دینا:

﴿وَمَا جَعَلۡنَا لِبَشَرٖ مِّن قَبۡلِكَ ٱلۡخُلۡدَۖ أَفَإِيْن مِّتَّ فَهُمُ ٱلۡخَٰلِدُونَ﴾

[الأنبياء: 34]

’’اے نبی ہمیشگی تو ہم نے تم سے پہلے بھی کسی انسان کیلئے نہیں رکھی،اگر تمہیں موت آگئی تو کیا یہ ہمیشہ زندہ رہیں گے‘‘۔

قادیانی حضرات نے اس کا ترجمہ اپنے عقیدے کو ثابت کرنے کیلئے اس طرح کیاہے۔

’’اور ہم نے تجھ سے پہلے اے محمدؐ  کسی انسان کو خلود یعنی غیر طبی زندگی نہیں دی کیا یہ ہو سکتا ہے کہ تو فوت ہوجائے اور وہ زندہ رہیں۔‘‘

ترجمے کے بعد لکھاہے:

’’ دیکھو اللہ تعالیٰ کس قدر غیرت سے فرماتا ہے کہ یہ نہیں ہوسکتا کہ تو جو انفع للناس ہے دنیا سے رحلت کر جائے اور تجھ سے پہلے کا کوئی انسان زندہ ہو پس ثابت ہوا حضرت مسیحؑ تمام انسانوں کی طرح آنحصرت ؐ سے پہلے گذرے وفات پاگئے۔‘‘(ایضا،صفحہ ۷)

اسی عقیدے کو ہادی صاحب نے چرایا اور لکھا:

’’ آپ سے پہلے ہم نے کسی بھی انسان کو ہمیشگی نہیں دی پس اگر آپ وفات پا جائیں تو کیا وہ ہمیشہ رہیں گے۔کل نفس ذائقۃ الموت ہر نفس کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔ مندجہ بالا آیت میں مشرکین مکہ کا اعتراض کا جواب دیا جاتا ہے کہ آپ  کے مرنے پر یہ کیوں خوش ہوتے ہیں آپ سے پہلے جتنے بھی انسان گزرے ہیں کیا ان میں سے کوئی ہمیشہ رہا ہے(یعنی موت سے نہیں بچا۔) پس اگر آپ وفات پا جائیں تو کیا یہ لوگ ہمیشہ رہیں گے۔(یعنی یہ موت سے بچیں گے؟ نہیں یہ بھی نہیں بچ سکتے) کیونکہ ہر ایک کو موت کا مزہ چکھنا ہے۔ مندرجہ بالا آیت سے بھی یہ بات ثابت ہوئی کہ عیسیٰ علیہ السلام بھی موت سے نہیں بچے۔‘‘ (عقیدہ خاتم النبین صفحہ ۴۲)

قادیانی حضرات نے آیت کے ترجمے اور تشریح میں ایک خاص مفہوم پیدا کرنے کیلئے کیسی کھینچ تان اور چرب زبانی سے کام لیا ہے ۔ اس آیت میں مرکزی نکتہ الخلد ہے جس کے معنی ہیں ’’ہمیشگی ، دوام‘‘، اور سارا زور اسی کی نفی پر ہے۔ آیت کا سیدھا سادھا مفہوم یہ ہے کہ کسی بھی انسان کو ہمیشگی نہیں دی گئی۔ اس آیت سے استدلال تو اس صورت میں روا تھا کہ جب کوئی عیسیٰ علیہ السلام کو الخلد قرار دیتا۔ کتاب اﷲ نے کہیں بھی انہیں الخلد قرارنہیں دیا بلکہ یہی بتایا گیاہے کہ انہیں بھی موت آئے گی۔ یہ لوگ جان بوجھ کر بے تکی بحث چھیڑتے ہیں تاکہ رفع و نزول کے معروف عقیدے کو مشکوک بنادیں اور عوام الناس میں ان کی دعوت کو کچھ پذیرائی حاصل ہوجائے۔

یٰعیسیٰ انی متوفیک والی آیت سے استدلال

﴿إِذۡ قَالَ ٱللَّهُ يَٰعِيسَىٰٓ إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَيَّ وَمُطَهِّرُكَ مِنَ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ وَجَاعِلُ ٱلَّذِينَ ٱتَّبَعُوكَ فَوۡقَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓاْ إِلَىٰ يَوۡمِ ٱلۡقِيَٰمَةِۖ ۔ ۔ ۔ ۔ ﴾

[آل عمران: 55]

’’ اور جب اﷲ نے کہا :اے عیسیٰ میں تجھے پورا پورا لے لوں گا اور تجھے اٹھا لوں گا اپنی طر ف اور ان کافروں سے تجھے پاک کردوں گا ،اور تیری پیروی کرنیوالوں کو قیامت تک ان لوگوں پر حاوی رکھوں گا جنہوں نے انکار کیا ہے، ۔ ۔ ۔   ‘‘۔

یہ ہے وہ آیت جسے ان دونوں بدترین گروہوں نے اپنے استدلال کی بھینٹ چڑھایا ہے۔

قادیانی حضرات اپنے خصوصی عقیدے کے اظہار کیلئے اس کا ترجمہ اسطرح کرتے ہیں:

’’اے عیسیٰ میں تجھے تیری طبعی موت سے وفات دوں گا اورتجھے اپنی طرف اٹھائوں گا اور تجھے پاک کروں گا ان لوگوں سے جنہوں نے کفر کیا اور تیرے متبعین کو قیامت تک تیرے منکرین پر غالب رکھوں گا۔‘‘

’’اور ابن عباس نے کہا کہ متوفیک کے معنی ممیتک ہیں یعنی میں تجھے وفات دوں گا‘‘۔[بخاری کتاب التفسیر باب ماجعل اللہ من بحیرۃ]

(حضرت مسیح عیسیٰ کا وصال،صفحہ ۷۔۸)

نبی صلی اﷲ علیہ و سلم نے فرمایا تھا:

’’ تم بنی اسرائیل کی پیروی کرو گے شِبْرًا بِشَبْرٍا وَذِرَاعًا بِذِرَاعٍ   بالشت بہ بالشت اور ہاتھ بہ ہاتھ‘‘(بخاری۔کتاب الاعتصام بالکتاب و سنۃ )لہذاوہی پیروی ہادی صاحب نے قادیانیوں کی کی ہے۔اس سے قبل بھی موصوف کے پیش کردہ دلائل آپ کے سامنے آچکے ہیں کہ کس طرح قادیانیوں کی کتب سے نقل کرکے انہیں اپنی کتاب میں پیش کیا ہے۔بالشت بہ بالشت والا کردار تو انہوں نے ادا کیا ہی تھا لیکن متفیک کی تشریح میں ہاتھ بہ ہاتھ کا کردار بھی پورا کردیا۔ قادیانیوں نے متفیک کی تشریح میں بخاری کے باب کامعلق قول دلیل بنا یا تھا اب  موصوف کیسے ان کی ہاتھ بہ ہاتھ پیروی نہ کرتا۔چنانچہ ابن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے معلق قول کوانہوں بھی دلیل بنایا۔ قادیانی حضرات نے تو صاف بتا دیا تھا کہ یہ ابن عباس ؓ  کا قول ہے لیکن ہادی نے اپنے متبعین کو پوری طرح دھوکہ دیا اور لکھا:

’’ متوفیک بمعنی ممیتک ہے جیسا کہ بخاری کی تفسیر سورۃ المائدہ میں ہے…‘‘                                                                      (عقیدہ خاتم النبین،صفحہ ۱۰)

یعنی یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ  گویا یہ کسی حدیث کا حصہ ہے۔ حالانکہ یہ حدیث کا حصہ نہیں علیحدہ سے ابن عباس  ؓ کا قول کہہ کر بیان کیا گیا ہے۔ یہ دھوکہ دیناموصوف کی مجبوری تھی ورنہ ان کے متبعین واضح طور پر پہچان لیتے کہ یہ تمام تحریریں  کسی قادیانی ایجنٹ کی ہیں۔

منکریں رفع و نزول عیسیٰ علیہ السلام خواہ وہ احمدی ہوں یا منکریں حدیث، سورۃ آل عمران کی درج بالا آیت کو وفات عیسیٰ علیہ السلام کے ثبوت میں ’’برھان قاطعہ‘‘ کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ گویا کہ ان کی بیاض میں رفع و نزول کے انکارکیلئے سب سے بڑی دلیل یہی آیت ہے۔چنانچہ جماعت احمدیہ کے ترجمان نے اس کا ترجمہ’’اے عیسیٰ ؑ میں تجھے تیری طبعی موت سے وفات دوں گا‘‘کیا ہے۔ یہ ترجمہ نہیں بلکہ ترجمہ کی آڑ میں جماعت احمدیہ کا مکمل عقیدہ اور مسلک بیان کیا گیا ہے۔ حالانکہ عقیدہ و مسلک کی بات تشریح میں ہونی چاہیے تھی۔ قرآن کے ترجمہ میں اس قسم کی آمیزش یقینا ایک بڑا جرم ہے۔ چنانچہ اپنے مقصد کے حصول کیلئے انہوں نے تمام مسلمہ اصولوں کو بالائے طاق رکھ دیا۔

آیت کی تشریح تو ہم اس سے قبل کر ہی چکے ہیں لیکن اس قول کی بات ہوجائے جو ان دونوں نے دلیل کے طور پر پیش کیا ہے۔ آپ کے سامنے ہے کہ ان دونوں گروہوں نے کھلم کھلا احادیث کا مذاق اڑایا ہے۔قادیانیوں نے حدیث کے الفاظ پکڑ کر اس کا مفہوم بدل ڈالا ،اور منکرین حدیث نے کتنی ہی احادیث صحیحہ کا کھلا انکار کردیا۔ لیکن بخاری کے ایک باب میں عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا یہ قول انہیں دکھائی دے گیا جو حدیث کا حصہ بالکل نہیں،بلکہ بخاری نے اسے بغیر سند کے درج کیا ہے۔بخاری نے جو روایات سند کے ساتھ بیان کی ہیں انہیں تو یہ جھٹلاتے ہیں اور جو انہوں نے بغیر سند کے بیان کیا ہے اس پرانکا مکمل ایمان ہے۔ اسے ہی کہتے ہیں میٹھا میٹھا ھپ ھپ کڑوا کڑوا تھو تھو۔

قادیانی حضرات اس بات کا جواب ضرور دیں کہ اگر عباس ؓ کا بے سند قول ہی انکے ایمان کی بنیاد ہے تو پھر انکے اس قول پر بھی اپنا ایمان بنائیں جو بخاری نے سند کے ساتھ درج کیا ہے:

عن ابن عباس وما جعلنا الرویا التی اریناک الا فتنۃ للناس قال ہی رویا عین اریھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لیۃ اسری بہ

(بخاری کتاب التفسیر۔ باب وما جعلنارویا…)

’’ابن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ اس آیت میں (جس کا معنی یہ ہیں کہ ہم نے جو رویا آپؐ کو دکھایا وہ لوگوں کی آزمائش کے لئے ہے) رویا سے آنکھ سے دیکھنا مراد ہے، جو شب معراج آپؐ  کو دکھایا گیا۔ یعنی حالت بیداری میں آپؐ معراج پر گئے‘‘۔

دیکھیں کیا فرمایا ابن عباس ؓ نے کہ نبی صلی اﷲ علیہ و سلم کی یہ معراج جسمانی تھی۔  احمدی حضرات، قرآن مجیدواحادیث نبوی صلی اﷲ علیہ و سلم کو اسکے غلط معنی پنہا کر رد کرتے ہی چلے آ رہے ہیں لیکن اپنے ایمان کی بنیاد عباس ؓ کے قول کو بھی رد کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’ ایک شبہہ یہ کیا جاتا ہے کہ اگر بشر آسمان پر نہیں جاسکتا تو آنحضرتؐ  کا معراج کی رات کس طرح آسمان پر پہنچ گئے تو اس کے جواب میں یاد رکھنا چاہیے کہ آنحصرت کا معراج جسد عنصر ی کے ساتھ نہیں ہوا بلکہ وہ نہایت لطیف قسم کا کشف تھا جو نبیؐ  کودکھایا گیا آپؐ  کا مادی جسم ہر گز آسمان پر نہیں لے جایا گیا‘‘۔

مزا تو جب تھا کہ یہاں بھی ابن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا قول جو کہ احادیث صحیحہ کے مطابق ہے پیش نظر رکھتے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جسمانی معراج کا انکار نہ کرتے لیکن چونکہ یہ ان کے مسلک کے خلاف جاتا ہے اس لئے اس سے آنکھیں بند     کرلیں ۔ محمدہادی نے اسی انداز کو اپناتے ہوئے تفسیر ابن کثیر کے حوالے سے ایک روایت بھی بیان کی ہے:ـ

’’لو کان موسیٰ و عیسیٰ حین ماوسعھما الااتبعانی  اگر بالفرض موسیٰ و عیسیٰ(میری دوران زندگی) زندہ ہوتے تو انہیں بھی بجز میری تابعداری کے چارہ نہ ہوتا‘‘۔                                                               (عقیدہ خاتم النبین، صفحہ ۲۷)

قارئین جیسا کہ اس سے قبل بیان کیا جاچکا ہے کہ ان لوگوں کی ہر ادا نرالی ہے،جہاں چاہتے ہیں بے سند روایات کو بنیاد بنا لیتے ہیں اور جہاں چاہتے ہیں صحیح ترین احادیث کو رد کردیتے ہیں۔اب تفسیر ابن کثیر کی اس روایت سے قرآن و احادیث صحیحہ کی بات کواسطرح رد کیا جارہا ہے گویا کہ یہی برھان قاطعہ ہے۔حالانکہ اس کا تو مضمون ہی بتا رہا ہے کہ یہ ہے ہی سراسر خلاف قرآن اور پھرمحمد ہادی ذرا اس روایت کی سند بھی توبیا ن کریں تاکہ قارئین اصل حقیقت سے واقف ہو جائیں۔اپنے استادوں کی ہر ہر بات بیان کرنا شاید انکی بڑی مجبوری ہے۔ ملاحظہ فرمائیں ان کے استاد کا بیان:

’’لو کان موسیٰ و عیسیٰ حیین لماوسعھما الااتبعانی یعنی اگر موسیٰ اور عیسیٰ زندہ ہوتے تو ان کو بھی اطاعت کے بغیر چارہ نہ ہوتا۔

(حضرت مسیح عیسیٰ کا وصال،صفحہ ۱۵)

تو قارئین آپ کے سامنے آگیا کہ موصوف نے صرف اور صرف اطاعتِ اولی الامرمیں یہ قول پیش کیا ہے ورنہ یہ تو احادیث صحیحہ ہی کے انکاری ہیں۔

فیھا تحیون و فیھا تموتون:

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:اسی میں تم کو  جینا ہے اور اسی میں تم کو مرنا ہے اور اسی میں سے تم کو نکالا جائے گا۔‘‘(الاعراف:25)

قادیانی قلم کار نے اپنی اسی کتاب کے صفحہ نمبر ۱۱ پر یہ آیت اپنے دلائل میں پیش کی ہے ۔ اور استدلال کیا ہے کہ انسانوں کیلئے یہ مقدر ہوچکا ہے کہ وہ زمین پر ہی زندگی گزاریں گے اور اس زندگی کے بعد جب ان کو موت آئے گی تو وہ بھی اس زمین پر آئے گی۔ اور اب جب یہ کہا جائے کہ عیسیٰ علیہ السلام اپنے جسم عنصری کے ساتھ آسمان پر جابیٹھے تو گویا کیا اﷲ اپنا فیصلہ بھول گیا۔

بے شک اﷲ تعالیٰ کا یہی قانون ہے اور ہر انسان پرنافذ العمل ہے۔اﷲ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کو بھی اس سے مستثنیٰ قرار نہیں دیا بلکہ یہی تو قرآن و حدیث کا بیان ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کا نزول ہوگا اور اسی زمین پر انہیں موت آئے گی۔ جو بات یہ حضرات اپنے حق میں بیان کر رہے ہیں وہی انکے کے عقیدے کو رد کر رہی ہے۔یہ کہتے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام کا نزول نہیں ہوگا اور یہ آیت بتا رہی ہے کہ جس طرح ہر ایک کو اسی زمین پر موت آنی ہے عیسیٰ علیہ السلام کو بھی نزول کے بعد اسی زمین پر موت آئیگی۔

﴿أَلَمۡ نَجۡعَلِ ٱلۡأَرۡضَ كِفَاتًا{}أَحۡيَآءٗ وَأَمۡوَٰتٗا﴾

[المرسلات: 25-26]

’’کیا ہم نے زمین کوسمیٹنے والا نہیں بنایا،زندوں کو اور مُردوں کو‘‘۔

اوپر بیان کردہ سورۃ الاعراف آیت کی تشریح میں قادیانی قلمکار نے اس آیت کا حوالہ دیتے ہوئے اس سے استدلال کیا ہے:

’’اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے زمین کے اندر یہ خاصیت رکھی ہے کہ وہ زندوں اور مُردوں کو اپنے ساتھ لگائے رکھتی ہے اور انسانی جسم کو باہر نہیں جانے دیتی یہ آیت مسیح  ؑ کے آسمان پر جانے کو غلط ثابت کررہی ہے۔‘‘ ( ایضاً صفحہ ۱۲)

درحقیقت یہ بات ان سب لوگوں کے علم میں ہے کہ توفی و رفع عیسیٰ علیہ السلام  ایک معجزاتی معاملہ ہے ،لیکن اس کا رد کرنا اس لیے ضروری ہے کہ اگر عیسیٰ علیہ السلام کا رفع ثابت ہوگیا تو ان کے خیالی نبی کی خیالی نبوت باطل ٹھہرے گی۔تمام انسانوں کیلئے وضع کردہ طریقہ کار کے برخلاف عیسیٰ علیہ السلام کی بغیر باپ کے پیدائش پرانکی زبانیں گنگ ہیں۔یہ حضرات یہ بات کیوں نہیں کہتے کہ موسیٰ علیہ السلام کا ہاتھ چمکتا ہوا نہیں نکل سکتا، ان کا عصا سانپ نہیں بن سکتا!  اس لیے کہ دنیا میں کسی اور فرد کیساتھ ایسا نہیں ہوا۔انہیں یہ بھی کہنا چاہیے کہ اﷲ تعالیٰ کسی فرد سے براہ راست کلام نہیں فرماتالہذا موسیٰ علیہ السلام کوکلیم اﷲنہیں کہا جاسکتا۔

معجزات قانون عام سے ہٹ کر ہوتے ہیں۔آگ کا کام جلانا ہوتا ہے لیکن ابراہیم علیہ السلام کوجب آگ میں ڈالا گیا تو اﷲ کے حکم سے وہ آگ ٹھنڈی ہو گئی ۔اب تمام معجزات کی طرح عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ اٹھا لیا گیا تو اس پر اسقدر واویلا کیوں؟یہ کہنا کہ زمین انسانی جسم کو باہر نہیں جانے دیتی جہالت پر مبنی ہے۔زمین زندوں اور مُردوں کو اس لیے سمیٹ کر رکھتی ہے کہ اﷲ نے اس میں خاصیت پیدا کی ہے، لیکن اﷲ تعالیٰ نے اس میں یہ خاصیت نہیں رکھی کہ اﷲ تعالیٰ کسی جسم کو اٹھانا چاہے تو وہ نعوذوباﷲ، اﷲ تعالیٰ کے اس حکم کے سامنے اکڑ جائے اور اس جسم کو زمین سے باہر نہیں جانے دے ۔

وَقَوۡلِهِمۡ إِنَّا قَتَلۡنَا ٱلۡمَسِيحَ عِيسَى والی سے استدلال ؛

اب ہم آتے ہیں اس آیت کی طرف کہ جس کی غلط تشریح کرکے قادیانی اور منکرین حدیث نے اپنے اندھے مقلدیں کو مطمئن کیا ہوا ہے۔

﴿وَقَوۡلِهِمۡ إِنَّا قَتَلۡنَا ٱلۡمَسِيحَ عِيسَى ٱبۡنَ مَرۡيَمَ رَسُولَ ٱللَّهِ وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلَٰكِن شُبِّهَ لَهُمۡۚ وَإِنَّ ٱلَّذِينَ ٱخۡتَلَفُواْ فِيهِ لَفِي شَكّٖ مِّنۡهُۚ مَا لَهُم بِهِۦ مِنۡ عِلۡمٍ إِلَّا ٱتِّبَاعَ ٱلظَّنِّۚ وَمَا قَتَلُوهُ يَقِينَۢا {} بَل رَّفَعَهُ ٱللَّهُ إِلَيۡهِۚ وَكَانَ ٱللَّهُ عَزِيزًا حَكِيمٗا﴾

[النساء: 157-158]

’’  اور ان کے یہ کہنے کے سبب بھی ( ان کو یہ سزا ملی ) کہ ہم نے مریم کے بیٹے عیسیٰ ؑ  مسیح رسول اللہ کو قتل کردیا، حالانکہ نہ تو انہوں نے انہیں قتل کیا اور نہ سولی پر چڑھایا بلکہ ان لوگوں کو شبہ میں ڈالدیا گیا۔ اور جنہوں نے اس بارے میں اختلاف کیا وہی اس معاملے میں شک میں پڑے ہوئے ہیں۔ ان کو اس بارے میں کوئی علم نہیں ہے سوائے گمان کی پیروی کےاور بالیقین انہوں نے ان کو قتل نہیں کیا تھا ۔ بلکہ اللہ نے ان کو اپنی طرف اٹھا لیا ہے اور اللہ غالب حکمت والا ہے۔‘‘

ملاحظہ فرمائیے کہ قادیانیوں کا دست راس محمد ہادی  اس آیت کی تشریح میں کیا لکھتا ہے:

’’ اور نہ انہوں نے اس (عیسیٰ علیہ السلام) کو قتل کیا ہے اور نہ اسے سولی چڑھایا ہے۔ بلکہ ان کے لئے معاملہ مشتبہ کردیا گیا۔درج بالا آیت میں اﷲ نے اس بات کی نفی کردی کہ یہود اپنے زعم میں یہ کہتے تھے کہ ہم نے عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کیا ہے۔تو اﷲ نے فرمایا کہ انہوں نے اسے قتل نہیں کیا بعد میں نصاریٰ میں شرک در آیا تو انہوں نے اپنے متبعین میں یہ بدعقیدگی پھیلائی کہ عیسیٰ کو یہودیوں نے صلیب(سولی) دی ہے۔ان دونوں فرقوں کی تردید کردی گئی۔اب بعد والوں میں یہ غلط باتیں کیوں مشہور ہوگئیں ۔تو اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں  شبّہ لھم معاملہ ان کیلئے مشتبہ کردیا گیا۔ شبہ ماضی مجہول ہے جس میں فاعل نا معلوم ہوتا ہے۔اب اسرائیلی روایات کی روشنی میں ہمارے مفسرین نے یوں لکھا ہے کہ اﷲ نے کسی دوسرے شخص کو عیسیٰ علیہ السلام کا ہم شکل کردیا۔عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر زندہ روح اور جسم سمیت اٹھا لیا اور اس ہم شکل کو لوگوں نے عیسیٰ علیہ السلام سمجھ کر سولی دی۔تو لوگوں پر حقیقت حال مشتبہ ہوگئی اﷲ کے بندو غور کرو اﷲ تعالیٰ ان باتوں سے پاک ہے کہ وہ انسانوں کو شکوک و شبہات میں ڈال دیں۔اﷲ تو اپنے بندوں کو شکوک و شبہات سے نکالنے والا ہے۔بات اصل میں یہ ہے کہ عوام کو شکوک و شبہات میں ڈالنے والے علماء سوء اور پیران ضلالت ہوتے ہیں تو اس دور کے بڑوں نے عوام کو دھوکہ میں مبتلا کیا۔عیسائی پادریوں نے عوام میں یہ غلط بات پھیلائی کہ عیسیٰ علیہ السلام ہمارے لیے مصلوب ہوئے۔یہودیوں کا عقیدہ تھا کہ جو ہمارے ہاتھوں قتل ہوجائے تو وہ لعنتی ٹھہرتا ہے۔تو عیسائیوں نے بعد میں یہ عقیدہ بنایاکہ وہ سولی چڑھ کر ہمارے گناہوں کا کفارہ بن گئے ہیں۔تو اﷲ ان غلط باتوں کی تردید فرماتے ہیں اور ان(یہودیوں)نے نہ اسے قتل کیا اور نہ انہوں نے نے اسے صلیب چڑھایا(جیسا کہ عیسائی کہتے ہیں)لیکن (حقیقت حال)ان (مقلدین) کے لیے مشتبہ کردی گئی(بڑوں نے بعد میں آنے والوں کو شک میں ڈال دیا) جیسا کہ تفسیر بیضاوی  میں ہے، ’’لم یقتل احد‘‘ ولیکن ارجف یقتلہ فشاع بین الناس (تفسیر بیضاوی صفحہ ۱۳۵)ترجمہ: کوئی بھی قتل نہیں ہوا لیکن آپ کے قتل کا جھوٹا پروپیگنڈا کیا گیا اور وہ پروپیگنڈا لوگوں میں پھیل گیا تو بات ظاہر ہوئی کہ واقعہ قتل اور واقعہ صلیب کا قصہ ہی جھوٹ ہے۔اور یہ جھوٹا قصہ عیسیٰ علیہ السلام کے کئی سال بعد پھیلایا گیا۔         (عقیدہ خاتم النبین،صفحہ ۵۔۶)

ملاحظہ فرمایا موصوف نے کتنی لاجواب تشریح کی ہے،قرآن کے مدعا ہی کو بدل ڈالا،اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے: وَقَوۡلِهِمۡ إِنَّا قَتَلۡنَا ٱلۡمَسِيحَ عِيسَى ٱبۡنَ مَرۡيَمَ رَسُولَ ٱللَّهِ ’’اور یہ کہتے ہیں کہ ہم نے اللہ کے رسول عیسیٰ ؑ ابن مریم کوقتل کردیا‘‘۔یعنی جن لوگوں نے یہ دعویٰ کیا تھا انہی کے متعلق اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے: وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلَٰكِن شُبِّهَ لَهُمۡۚ   ’’اور نہ تو انہوں نے اس کو قتل کیا نہ سولی  چڑھایا بلکہ یہ معاملہ انکے لیے مشتبہ بنادیا گیا‘‘۔ اب بتائیے کہ کس کیلئے یہ معاملہ مشتبہ بنایا گیا، جنہوں نے قتل کا دعویٰ کیا، یا جن کے متعلق موصوف نے کہا ہے کہ بعد والوں کو ان کے علماء نے شک میں ڈال دیا!

خود بدلتے نہیں قرآن کو بدل دیتے ہیں۔

اگر یہ قرآن کے اسی اندازکو مان لیں جس انداز میں اﷲ تعالیٰ نے فرمایا ہے تو پھر ان کا جھوٹا عقیدہ کیسے ثابت ہوگا۔  پھر لکھا ہے:’’شبہ ماضی مجہول ہے جس میں فاعل نا معلوم ہوتا ہے‘‘یعنی یہ نہیں معلوم کے یہ کام کس نے کیا ہے۔ ایک طرف ان کا یہ بیان ہے دوسری طرف لکھتے ہیں:

’’اﷲ تو اپنے بندوں کو شکوک و شبہات سے نکالنے والا ہے۔بات اصل میں یہ ہے کہ عوام کو شکوک و شبہات میں ڈالنے والے علماء سوء اور پیران ضلالت ہوتے ہیں تو اس دور کے بڑوں نے عوام کو دھوکہ میں مبتلا کیا‘‘۔

یعنی یہاں موصوف نے اس بات کی وضاحت بھی کردی کہ فاعل اﷲ تعالیٰ نہیں ہے، فاعل بعد کے آنے والے علماء سو ہیں۔گویا ماضی مجہول کے اس صیغے کا فاعل بھی انہیں بذریعہ الہام پتہ چل گیا۔اسکے بعد’’ مشتبہ بنادینا ‘‘کی تشریح ’’شکوک و شبہات‘‘ کی گئی۔’’مشتبہ بنادینا‘‘ کامطلب یہ ہے کہ اسکی حقیقت ان پر واضح نہیں کی گئی۔اور واضح کی بھی کیسے جا سکتی تھی یہ تو ایک معجزہ تھا کہ زندہ انسان آسمان پر اٹھا لیا جائے۔انسان کا ذہن تو نہایت ہی ناقص ہے ،اس قسم کی باتیں اس کا ذہن کہاں قبول کرسکتا ہے۔ہم کتاب اﷲ کی بنیاد پر ان معجزات پر ایمان رکھتے ہیں ،لیکن جو اپنی ناقص عقل پر پرکھتے ہیں وہ یہی کہتے رہتے ہیں کہ ایک زندہ انسان کا آسمانوں پر جانا ممکن ہی نہیں۔اب اگرموصوف اس بات کو مان لے کہ یہ معاملہ انہی لوگوں کیلئے مشتبہ بنایا گیا تھا جو ان کے قتل کا دعویٰ کر رہے تھے تو بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے اُسی وقت کوئی ایسا معاملہ کیا تھا کہ جس کیلئے اﷲ تعالیٰ فرما رہا ہے کہ یہ معاملہ ان کیلئے مشتبہ بنا دیا گیا۔

پھرموصوف نے یہ بھی لکھا :

’’ آپ کے قتل کا جھوٹا پروپیگنڈا کیا گیا اور وہ پروپیگنڈا لوگوں میں پھیل گیا تو بات ظاہر ہوئی کہ واقعہ قتل اور واقعہ صلیب کا قصہ ہی جھوٹ ہے۔اور یہ جھوٹا قصہ عیسیٰ علیہ السلام کے کئی سال بعد پھیلایا گیا‘‘۔

پہلے قرآن کے بیان کردہ  شبّہ لھم کے معنی بدل کر شکوک و شبہات کیے پھر اسے جھوٹا پروپیگنڈا بناڈالا۔ پھر کہتے ہیں کہ یہ پروپیگنڈا ان کی وفات کے بعد پھیلا۔نہ جانے یہ ساری کہانیاں انہوں نے کہاں پڑھی ہیں،کتاب اﷲ تو اس قسم کے بیانات سے خالی ہے۔

قتل کا یہ جھوٹا پروپیگنڈا انکے بقول عیسیٰ علیہ السلام کے کئی سال بعد پھیلا تو اسکی وجہ کیا تھی۔اس کی دو ہی وجوہات ہو سکتی ہیں کہ یا تو عیسیٰ علیہ السلام واقعی شہید کردئیے جاتے یا پھر وہاں حاضر نہیں ہوتے ۔ایک انسان وہاں حاضر ہو تو اس کے متعلق کوئی کہہ ہی نہیں سکتا کہ ہم نے اسے قتل کردیا ہے۔ اب ان کی غیر حاضری کی دو ہی وجوہات ہو سکتی ہیں ایک ان کی وفات یا دوسرا ان کا رفع۔جب انہوں نے عیسیٰ علیہ السلام کے قتل کا دعویٰ کیا تو اﷲ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ ’’ نہیں انہوں اسے قتل نہیں کیا بلکہ میں نے اسے طبعی موت دی ہے،بلکہ اﷲ تعالیٰ نے فرمایا بل رّ فعہ اﷲ الیہ۔

اب محمد ہادی صاحب یہ بتائیں کہ عیسیٰ علیہ السلام کے قتل کا جھوٹا پروپیگنڈا کیوں پھیلا تھا؟؟؟؟؟

یہ بات بھی ہمارے لیے باعث حیرت تھی کہ کتاب اﷲ میں تو کہیں اس بات کا کوئی ذکر نہیں کہ یہودیوں کا یہ عقیدہ تھا کہ جو ہمارے ہاتھوں قتل ہو جائے وہ ایسا ہے اور ایسا ہے،موصوف نے کہاں سے اس قسم کی باتیں ڈھونڈ لیں۔چنانچہ بڑی تحقیق کے بعدقادیانیوں کی ایک کتاب سے اسی قسم کی تشریحات ملیں،ملاحظہ فرمائیے:

’’         تفسیر آیت قرآنیہ  و ما قتلوہ یقیناً {} بل رّ فعہ اﷲ الیہ

’’اصل بات تو یہ تھی کہ توریت کی رو سے یہویوں کا یہ عقیدہ تھا کہ اگر نبوت کا دعویٰ کرنے والا مقتول ہو جائے تو وہ مفتری ہوتا ہے سچا نبی نہیں ہوتا اور اگر کوئی صلیب دیا جائے تو وہ لعنتی ہوتا ہے اور اس کا خدا تعالیٰ کی طرف رفع نہیں ہوتا اور یہودیوں کا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت یہ خیال تھا کہ وہ قتل بھی کئے گئے اور صلیب بھی دئیے گئے…یہودی لوگ حضرت عیسی علیہ السلام کے رفع روحانی کے منکر تھے… ان کے زعم میں حضرت عیسیٰ مصلوب ہو کر نعوذوباﷲ کافر اولعنتی ہوگئے اس لئے وہ خدا تعالیٰ کی طرف اٹھائے نہیں گئے یہ امر تھا جس کا قرآن شریف نے فیصلہ کرنا تھا۔پس خدا تعالیٰ نے ان آیات سے جو اوپر ذکر ہوچکی ہیں فیصلہ کردیا۔ چنانچہ آیت و ما قتلوہ یقیناً {} بل رّ فعہ اﷲ الیہ اسی فیصلہ کو ظاہر کرتی ہے کیونکہرفع الی اﷲ  یہودیوں اور اسلام کے عقیدے کے موافق اس موت کو کہتے ہیں جو ایمانداری کی حالت میں ہو اور روح خدا تعالیٰ کی طرف جاوے اور قتل اور صلیب کے اعتقاد سے یہویوں کا منشاء یہ تھا کہ مرنے کے وقت روح خداتعالیٰ کی طرف نہیں گئی …اور خدا تعالیٰ جواب میں کہتا ہے کہ بلکہ عیسیٰ کی روح کا خدا تعالیٰ کی طرف مرنے کے وقت رفع ہوگیا ہے۔…پس خلاصہ مفہوم آیت کا یہ ہے کہ اس زمانہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام مقتول اور مصلوب نہیں ہوئے بلکہ طبعی موت کے بعد ان کا رفع الیٰ اﷲ ہوا جیسا کہ قرآن شریف میں وعدہ تھا کہیا عیسی انی متوفیک   و رافعک الی اور توفی طبعی موت دینے کوکہتے ہیں جیسا کہ صاحب کشاف نے اس آیت کی تفسیر انی نتوفیک میں لکھا ہے انی ممتک حتف انفک   قرآن شریف کی یہ آیت یعنییا عیسی انی متوفیک و رافعک الیٰ  تمام جھگڑے کا فیصلہ کرتی ہے کیونکی ہمارے مخالف کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا رفع زندگی کی حالت میں ہوا اور خداتعالیٰ اس آیت میں فرماتا ہے کہ موت کے بعد رفع ہوا‘‘۔

(براہین احمدیہ حصہ پنجم روحانی خزائن جلد ۲۱صفحہ ۳۴۷۔۳۴۸ از بانی سلسلہ احمدیہ مرزا غلام احمد )

دیکھیں کس قدر کھل کر واضح ہوگیا کہ محمد ہادی  مرزاء غلام احمد قادیانی کا کتنا بڑا  مقلد ہے ۔

قارئین!  اوپر پیش کردہ تحریر مرزا غلام احمد کی ہے جس نے اﷲ کی طرف سے وحی آنے کاجھوٹا دعویٰ کیا ہے۔لیکن انکے جھوٹا ہونے کیلئے صرف ایک یہی نکتہ کافی ہے کہ انہوں نے اﷲ کے بجائے ’’خدا‘‘ کا لفظ استعمال کیا ہے۔آپ پورے قرآن کا ساری احادیث کا مطالعہ کرلیں کہیں بھی آپ کو لفظ ’’خدا‘‘ نہیں ملے گا۔مسلمین کے الٰہ  کا  نام ’’اﷲ‘‘ ہے اور دوسرے کئی صفاتی نام ہیں۔جو شخص وہ لفظ استعمال کرے جس کا کوئی وجود ’’وحی جلی‘‘ یعنی قرآن اور’’ وحی خفی‘‘ یعنی احادیث رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ و سلم میں نہ ملتا ہو تو یقینا وہ جھوٹ گھڑنے والا ہے۔ جس وحی کو اانہوں نے ’’وحی الٰہی‘‘ کہا ہے اصل میں وہ ’’وحی شیطانی‘‘ ہے۔قارئین!  یہ ہے مرزا غلام احمد کی وہ کتاب جہاں سے محمدہادی نے اس آیت کی یہ تشریح سیکھی ہے۔    اسی خیالی نبی کا ایک گمراہ پیروکار سور نساء کی اس آیت کا ترجمہ کرتا ہے:

’’یہود نے نہ تو مسیح کو قتل کیا اور نہ ہی صلیب پر لٹکا کر مارا بلکہ اصل واقعہ یہ ہوا کہ مسیح ان کی نظروں میں مشابہ المقتول و المصلوب بنادیئے گئے مگر وہ ہر گز مسیح کو مارنے پر قادر نہ ہوئے۔ بلکہ مسیح کو اللہ نے اپنی طرف اٹھالیا‘‘۔

پھر اس کی تشریح میں لکھا ہے:

’’یعنی اللہ نے ان (یہود) کے جھوٹے عقیدے کا رد کیا کہ تمہارا یہ خیال کہ مسیح  ؑ صلیب پر مرے لہذا ملعون ہوئے اور ان کا رفع الی اللہ نہیں ہوا۔ غلط ہے۔ مسیحؑ ہر گز ملعون ہو کر صلیب پر نہیں مرے بلکہ وہ طبعی موت مرے۔ اور ان کی روح خدا کے مقرب بندوں کی طرح عزت کے ساتھ اٹھائی گئی۔‘‘(حضرت مسیح عیسیٰ کا وصال، صفحہ ۲۵)

مرزا غلام احمدنے اس آیت کی تشریح  میں متوفیک کے معنی موت کے لیے اور پھر کفر در کفربیان کر ڈالاکہ رفع الی اﷲ  یہودیوں اور اسلام کے عقیدے کے موافق اس موت کو کہتے ہیں جو ایمانداری کی حالت میں ہو اور روح خدا تعالیٰ کی طرف جاوے اور قتل اور صلیب کے اعتقاد سے یہودیوں کا منشاء یہ تھا کہ مرنے کے وقت روح خداتعالیٰ کی طرف نہیں گئی‘‘۔

یہودیوں کا عقیدہ کیاتھا اس سے تو ہمیں کوئی بحث نہیں البتہ یہ کھلا جھوٹ ہے کہ اسلام میں اس قسم کا کوئی عقیدہ ہے۔غلام احمد کو نبی ماننے والے حضرات ثابت کر کے دکھائیں کہ یہ عقیدہ قرآن و حدیث میں کہاں بیان کیا گیا ہے۔دراصل موصوف نے یہ عقیدہ اس لیے گھڑا ہے کہ انہوں نے رفع الی اﷲ کی من مانی تشریح کرنا تھی اور اس نام نہاد تشریح کو اسلام کا عقیدہ قرار دے ڈالا۔

منکر قرآن و حدیث تمنا پھلواری نے اسکی کیا تشریح کی ہے ملاحظہ فرمائیں:

’’رفعہ اللہ الیہ:۔  موت کے معنوں میں ایسا مشہور معروف محاورہ ہے کہ ہر زبان میں اسی طرح استعمال ہوتاہے ۔ اردو میں بھی بولتے ہیں کہ اللہ اس کو اٹھالے یا اللہ نے فلاں کو اٹھا لیا……‘‘                          (انتظار مہدی و مسیح،صفحہ ۲۳۸۔۲۳۹)

دیکھے!  علامہ عمادی نے کتنی ہوشیاری سے قرآن کے ایک خاص حکم کو عام محاورہ میں بدل ڈالا۔ لیکن موصوف نے یہ نہیں دیکھا کہ صرف  رفعہ اللہ نہیں کہا گیا بلکہ رفعہ اللہ الیہ ہے۔ علامہ عمادی نے اسے محاورہ ثابت کرنے کیلئے الیہ  کا ترجمہ عمداً چھوڑ دیا۔ کیونکہ اس کاریگری کے بغیر وہ کسی طرح بھی اس قرآنی نص کو عام محاورہ نہیں کہہ سکتے تھے۔

قادیانی حضرات ’’رفع‘‘ کے سلسلے میں ایک عقیدہ اور بھی بیان کرتے ہیں جسے محمد ہادی نے بھی اپنایا ،چنانچہ لکھتے ہیں:

’’   اور انہوں نے اس (عیسیٰ علیہ السلام) کو یقینا قتل نہیں کیا بلکہ اسے اﷲ نے اپنے ہاں بلند کیا اور اﷲ غالب اور حکمت والا ہے۔یہاں لوگ ترجمہ’’ اٹھانے‘‘ کا کرتے ہیں اور مطلب لیتے ہیں کہ اﷲ نے اسے زندہ اٹھا لیا‘‘ حالانکہ بات یوں ہے کہ سورۃ آل عمران کی آیت ۵۵میں آیا ہے اذ قال اﷲ یٰعیسیٰ انّی متوفیک و رافعک الی  ’’جب اﷲ نے فرمایا اے عیسیٰ میں تجھے وفات دینے والا ہوں اور اپنے ہاں بلند کرنے والا ہوں‘‘ یہاں یہودیوں کے دو غلط دعؤں کی تردید ہے۔ یہودی کہتے تھے کہ ہم نے عیسیٰ (علیہ السلام)کو قتل کیا ہے تو اﷲ تعالیٰ نے فرمایا کہ نہیں یہ اپنی بات میں جھوٹے ہیں، انہوں نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو قتل نہیں کیا یہویوں کا دوسرا غلط دعویٰ یہ تھا کہ جو ہمارے ہاتھوں قتل ہو جائے وہ لعنتی اور ذلیل ہوتا ہے۔تو یہاں انکے دوسرے غلط دعوے کی تردید ہے کہ وہ عیسیٰ ( علیہ السلام) ذلیل و لعنتی نہیں بلکہ اﷲ نے اسے بلند مقام عطا کیا ہے۔جیسا کہ جبریل علیہ السلام نے آپ ( علیہ السلام) کی والدہ ( مریم صدیقہ علیھا السلام) کو بشارت دی تھی وجیھا فہ الدنیا و الاخرۃ وہ دنیا اور آخرت میں معزز ہوگا (آلعمران۴۵)تو یہ بات ظاہر ہے کہ رفع سے مراد درجات عالیہ ہیں‘‘۔                                               (عقیدہ خاتم النبین،صفحہ ۷۔۸)

ان لوگوں نے رفع کو جھٹلانے کیلئے کتنی پیچ دار باتیں کی ہیں لیکن اس بری طرح پھنس گئے ہیں ۔ نہ اگلے چین ہے اور نہ نگلے چین۔ سعی بسیار کے باوجود یہ دونوں گمراہ گروہ اس لفظ کو ہضم نہ کرپائے۔ چنانچہ ہاضمے کی خرابی نے انہیں دھوکہ اور فریب دینے پر مجبور کردیا ہے۔لیکن اب یہ جھوٹی تاویلوں اور بے سری دلیلوں کے کتنے ہی انبار کیوں نہ جمع کر لیں رفع تا قیامت انہیں ہضم نہ ہو پائے گا۔

اس موضوع پر قرآن و حدیث کے حوالے سے انکے عقائد کا محاسبہ کرنے سے پہلے بہتر ہے کہ قادیانیوں کے عقائد کا ایک خلاصہ آپ کے سامنے پیش کر دیا جائے۔’’مسیح ہندوستان‘‘ نامی کتاب میں غلام احمد قادیانی نے جو عقیدہ دیا ہے اسکا خلاصہ یہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام بے شک صلیب لٹکائے گئے لیکن اﷲ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ سے ان کو صلیب سے زندہ بچا لیا۔ یہودی سمجھے کہ عیسیٰ علیہ السلام مرگئے اور ان کی لاش شاگردوں کے حوالے کردی گئی۔ اس وقت ان کی حالت مقتول اور مصلوب کے مشابہ ہوگئی تھی۔ شاگرد ان کو لے گئے اور ان کا علاج معالجہ کیا۔ اللہ نے ان کو شفا دی۔ اور پھر آپؑ ہجرت کرکے کے براستہ افغانسان کشمیر پہنچے ۔ ایک سو بیس سال کی عمر میں اپنی طبعی موت مرے ۔ان کی قبر کشمیر سری نگر محلہ خانیار میں موجود ہے۔

قادیانیو !        یہ بھی بڑی ہی عجیب بات ہے کہ یہودی سمجھے کہ عیسیٰ علیہ السلام فوت ہوگئے اور ان کی لاش شاگردوں کے حوالہ کردی ۔انسانی معاشرے میں آئے دن لوگ مرتے ہی رہتے ہیں۔ اس لیے ہم سب کا مشاہدہ ہے کہ خواہ کوئی طبعی موت مرے یا کسی حادثہ کے نتیجے میں ہلاک ہو جیسے ہی روح بدن سے جدا ہوتی ہے دیکھنے والے ایک دم سمجھ جاتے ہیں کہ موت واقع ہوچکی ہے۔ موت کی علامات بڑی واضح ہوتی ہیں۔ مرنے والے کی آنکھیں پتھرا جاتی ہیں،نظام تنفس معطل ہوجاتا ہے، نبض رک جاتی ہے، جسم بے حس ہوجاتا ہے اور کچھ دیربعد ٹھنڈا ہوکر اکڑنا شروع ہو جاتا ہے۔چنانچہ سرسری نظر میں دیکھنے والا پہچان لیتا ہے کہ اس کے سامنے زندہ انسان نہیں بلکہ مردہ لاش ہے۔ مردے کی لاش کبھی بھی آنکھوں کو دھوکا نہیں دیتی۔ لیکن عجیب بات ہے کہ یہودی دھوکا کھاگئے! جو رات دن ان کی موت کیلئے بیتاب تھے ایسے اندھے ہوئے کہ تصدیق ہی نہ کی کہ ہمارے اوپر فتوے لگانے والا زندہ ہے یا مردہ۔

بنی اسرائیل کی تو تاریخ ہی انبیاء علیہم السلام کے خون سے رنگی ہوئی ہے۔کسی نبی کو قتل کرتے ہوئے ان کم بختوں کو یہ مغالطہ نہیں ہوا کہ مقتول مرچکا ہے یا نہیں۔ لیکن شاید واقعہ صلیب کے موقع پر یہ سارے ہی اندھے ہوگئے تھے ۔ ایک زندہ انسان کو مردہ جان کر شاگردوں کے حوالہ کردیا ۔ہے ناعجیب بات!  اور اس سے بھی عجیب بات یہ کہ مرزا جی نے عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کویروشلم سے ساتھ لیا عرب و عجم عبور کرائے، ہزاروں میلوں کا سفر طے کراکے سری نگر پہنچایا، لیکن ذرا آگے اپنے شہر قادیان لے جانا پسند نہ کیا۔ کیوں کہ ان کے پیش نظر سب سے بڑا مسئلہ قبر کا تھا۔ یعنی مرزا جی اگر قادیان میں عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کی قبربناتے تو مقامی لوگ پوچھتے کہ یہ کس کی جھوٹی قبر بنا رہے ہو؟  چنانچہ مجبوراً انہیں سری نگری کا انتخاب کرنا پڑا۔اب نہ کوئی تحقیق کرنے جائے گا اور نہ انکے جھوٹ کا بھانڈا پھوٹے گا۔قرآن و حدیث اور مستند تاریخ کی روشنی میں ایسی کسی قبر کا کوئی وجود نہیں ۔ہو سکتا ہے کہ سری نگر کے محلہ خانیار میں کسی عیسیٰ خان کی قبر ہو جسکے ساتھ ہی ان کے بھائی موسیٰ خان کا مزار ہو جسے مرزا  نے عیسیٰ علیہ السلام کی قبر قرار دے دیا۔جہاں تک عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کا سوال ہے تو عراق کے مشرق میں منارۃ البیضا  ان کا منتظر ہے۔

قارئین! عیسیٰ علیہ السلام کے توفی اور رفع کے بارے میں قرآن کا بیان ہم تفصیلاً اوپر بیان کرچکے ہیں۔لیکن جو شکوک و شبہات(بقو ل محمد ہادی کے جو علماء سو پھیلاتے ہیں)ان لوگوں نے پھیلائے ہیں اس کی وجہ سے یہ ضروری ہے کہ تھوڑی سی تفصیل دوبارہ بیان کی جائے تاکہ ان کی مغالظہ آرائیوں کا پول کھولا جائے۔

سورۂ آل عمران میں اﷲ تعالیٰ نے فرمایا ـ:و مکروا ’’(یہویوں نے عیسی ؑ کے خلاف) خفیہ تدبیریں کیں ‘‘۔یہ خفیہ چالیں کس کام کیلئے تھیں قولھم انّا قتلنا المسیح عیسیٰ ابن مریم رسول اﷲ’’اور یہ کہتے ہیں کہ ہم نے اللہ کے رسول عیسیٰ ؑ ابن مریم کو قتل کردیا‘‘۔گویا کہ یہودی اس بات کے خواہاں تھے کہ کسی طرح اِس شخص کا کام تمام کردیا جائے یعنی عیسیٰ علیہ السلام کو موت آجائے۔ و مکراﷲو اﷲ خیر المٰکرین ’’اور اﷲ نے بھی تدبیر کی،اور اﷲ تدبیرکرنے والوں میں سب سے بڑھ کر ہے‘‘۔یہودی انکی موت کیلئے چالیں چل رہے تھے اور ان کی ان چالوں کے مقابلے میں اﷲ تعالیٰ نے’’ خفیہ تدبیر‘‘ کی۔وہ خفیہ تدبیر کیا تھی: اذ قال اﷲ یٰعیسیٰ انّی متوفیک و رافعک الی ’’جب اﷲ نے کہا :اے عیسیٰ میں تجھے پورا پورا لے لوں گا اور تجھے اٹھا لوں گا اپنی طرف‘‘۔معلوم ہوا کہ اﷲ کی ’’ خفیہ تدبیر‘‘ عیسیٰ علیہ السلام کا ’’رفع‘‘ تھاجیسا کہ سورۂ مائدہ میں فرمایا:واذ کففت بنی اسرئیل عنک ’’ اور جب میں نے تمہیں بنی اسرئیل سے بچا لیا تھا‘‘(المائدہ:110)۔یعنی اﷲ نے بنی اسرائیل کی چالوں کو ناکام بنادیا اور عیسیٰ علیہ السلام کو ان سے بچا لیا۔

آپ نے دیکھا ہوگا کہ ان دونوں گمراہ گرو ہوں نے انّی متوفیک ترجمہ’’تجھے موت‘‘ دے دوں گا کیا ہے۔اگر یہاں یہی ترجمہ لیا جائے تو اﷲ تعالیٰ نے کیا خفیہ تدبیر کی؟یہودی ان کی موت کے خواہاں،ان کی چالوں کے مقابلے میں اﷲ نے بھی یہی ’’خفیہ تدبیر‘‘ کی کہ ان کو موت کا پیغام سنا دیا!

یعنی جو یہودی چاہتے تھے وہی بات اﷲ تعالیٰ نے پوری کردی کہ اے عیسیٰ  ؑیہ یہودی تمہاری موت چاہتے ہیں اور میں بھی تمہیں موت دے دوں گا۔ یہ کتاب اﷲ ہے، اﷲ کا کلام ہے اور یہ اس کے ساتھ کھیل رہے ہیں !

حقیقت یہ ہے کہ اﷲ نے یہودیوں کی خواہشات کے مطابق عیسیٰ علیہ السلام کو موت سے ہمکنار نہیں فرمایا بلکہ فرمایا:و ما قتلوہ یقیناً {} بل رّ فعہ اﷲ الیہ ط و کان اﷲ عزیزاً حکیما’’ اور یقینا  انہوں نے اسے قتل نہیں کیا بلکہ اللہ نے اسے اپنی طرف اٹھالیا، اور اللہ غالب اور حکمت والا ہے‘‘۔یہ تھی وہ خفیہ تدبیر جو اﷲ تعالیٰ نے کی۔

  روح نہیں اٹھائی گئی بلکہ انکا جسمانی رفع کیا گیا۔ اس سے قبل اس بات کی وضاحت کردی گئی ہے کہ موت کے وقت فرشتے روح لے کر جاتے ہیں،جبکہ عیسیٰ علیہ السلام کے رفع میں فاعل خالص اﷲ تعالیٰ کی ہستی ہے فرشتے نہیں۔

ا ب بات ہوتی ہے اس من گھڑت عقیدے کی جو منکر حدیث اور قادیانیوں کے درمیان مشترک ہے۔ قادیانیوں نے مقتولِ یہودکے بارے میں لعنتی اور ذلیل ہونے کی ایک خود ساختہ تفسیر بیان کی اور محمد ہادی نے اس پر ایمان بناتے ہوئے لکھا:

’’ وہ عیسیٰ ( علیہ السلام) ذلیل و لعنتی نہیں بلکہ اﷲ نے اسے بلند مقام عطا کیا ہے۔جیسا کہ جبریل علیہ السلام نے آپ ( علیہ السلام) کی والدہ ( مریم صدیقہ علیھا السلام) کو بشارت دی تھی وجیھا فی الدنیا و الاخرۃ وہ دنیا اور آخرت میں معززہوگا‘‘۔

قرآن کے بیان کردہ ’’رفع‘‘ کا ہر حالت میں انکار کرنا تھا، اب کسی ایسی ہی تاویل کی ضرورت تھی ۔لوگوں کو دھوکے میں ڈالنے کیلئے کہہ دیا جیسا کہ مریم صدیقہ کو بتا دیا گیا تھا کہ وہ دنیا اور آخرت میں معزز ہوگا۔        مریم صدیقہ نہایت ہی سخت آزمائش میں مبتلا تھیں۔اس پاک باز خاتون کو اﷲ تعالیٰ یہ بتاتاہے کہ اے مریم دیکھو کہ اﷲ تعالیٰ نے تمہیں کس عظیم مشن کیلئے منتخب کیا ہے۔جو تمہارے بطن سے پیدا ہوگا وہ کن کن صفات کا حامل ہوگا۔اﷲ نے اسے اس دنیا میں بھی معزز بنایا ہے اور آخرت میں بھی۔مریم صدیقہ کو صرف اسی شخص( عیسیٰ علیہ السلام) ہی کی بابت بتانا تھا نہ کہ تمام انبیاء علیہم السلام کی بابت۔ اسی لیے اﷲ تعالیٰ نے ان سے کہا کہ یہ دنیا میں بھی معزز ہوگا اور آخرت میں بھی۔ موصوف سے پوچھا جائے کہ کیا تمام انبیاء علیہم السلام دنیا اور آخرت میں معزز نہیں۔ ان سب کا رفع اسی طرح ہوا ہے؟

موصوف نے اپنی کتاب میں ‘‘رفع‘‘ کا ترجمہ ’’درجات کی بلندی‘‘ کیا ہے اور اس کے حوالے میں سورۂ مریم آیت نمبر ۵۷،اعراف آیت نمبر ۱۷۶ پیش کی ہیں۔ آئیے دیکھیں کہ قرآن کی آیات میں یہ لفظ کن کن معنوں میں استعمال ہوا ہے۔

﴿وَرَفَعۡنَٰهُ مَكَانًا عَلِيًّا﴾

[مريم: 57]

’’ اور ہم نے اسے اونچی جگہ بلند کیا‘‘ ۔

﴿وَلَوۡ شِئۡنَالَرَفَعۡنَٰهُ بِهَا وَلَٰكِنَّهُۥٓ أَخۡلَدَ إِلَى ٱلۡأَرۡضِ وَٱتَّبَعَ هَوَىٰهُۚ ْ ۔ ۔ ۔ ﴾

[الأعراف: 176]

’’اور اگر ہم چاہتے تو ان آیات سے اس( کے درجے) کو بلند کردیتے، مگر وہ تو پستی کی طرف مائل ہوگیااور اپنی خواہشات کے پیچھے چل پڑا‘‘۔

﴿وَإِذۡ أَخَذۡنَا مِيثَٰقَكُمۡ وَرَفَعۡنَا فَوۡقَكُمُ ٱلطُّورَ  ۔ ۔ ۔﴾

[البقرة: 63]

’’اور جب ہم نے تم سے عہد لیا اور کوہ طور کو تم پر اٹھا کھڑا کیا‘‘۔

﴿وَإِذۡ يَرۡفَعُ إِبۡرَٰهِ‍ۧمُ ٱلۡقَوَاعِدَ مِنَ ٱلۡبَيۡتِ وَإِسۡمَٰعِيلُ  ۔ ۔ ۔ ﴾

[البقرة: 127]

’’اور (یاد کرو) کرو جب ابراہیم ؑ اور اسماعیل ؑ کعبتہ اﷲ کی بنیادیں اٹھا رہے تھے‘‘۔

﴿وَرَفَعَ أَبَوَيۡهِ عَلَى ٱلۡعَرۡشِ  ۔ ۔  ۔﴾

[يوسف: 100]

’’اور اس(یوسف ؑ) نے اٹھا بٹھایا اپنے والدین کو تخت پر‘‘۔

﴿رَفَعَ سَمۡكَهَا فَسَوَّىٰهَا﴾

[النازعات: 28]

اسکی چھت کو بلند بنایا اور اسے برابر کیا‘‘۔

ٓپ نے دیکھا کہ رفع کے حقیقی معنی’’اٹھانا‘‘کے ہی ہیں اوراس بات کا موصوف کو بھی علم ہے ،اسی لیے جب انہوں نے سورۂ مریم آیت نمبر۵۷ کا ترجمہ کیا تو لکھا ’’ اور ہم نے اسے اونچی جگہ بلند کیا‘‘ پھر بریکٹ میں لکھا’’یعنی بلند درجات عطا کیے‘‘۔ گویا کہ موصوف بھی اس بات کو جانتا ہے کہ ’’درجات بلند کرنا‘‘ اس کے حقیقی نہیں ۔  پھر دوسری بات یہ کہ ان لوگوں نے ساری بحث رفع پر کی ہے جبکہ رفع عیسیٰ علیہ السلام کی آیت میں رفعہ اﷲ الیہ کے الفاظ آئے ہیں۔یعنی رفع کے اس عمل کے بارے میں یہ بھی بتا دیا گیا کہ انہیں کہاں اٹھا یا گیا۔لیکن یہ لوگ الیہ کو چھوڑ کر صرف رفع کی تشریح کرتے ہیں کیونکہ اگر رفع کے ساتھ الیہ  کی بھی تشریح کردی جائے تو انکا جھوٹ کھل کر سامنے آ جائے گا۔ دیکھیں سور ہ فاطر میں رفع کے ساتھ الیہ بھی بیان ہوا ہے:

﴿ ۔ ۔ ۔إِلَيۡهِ يَصۡعَدُ ٱلۡكَلِمُ ٱلطَّيِّبُ وَٱلۡعَمَلُ ٱلصَّٰلِحُ يَرۡفَعُهُۥۚ  ۔ ۔ ۔ ﴾

[فاطر: 10]

’’ پاک کلمات اس کی طرف چڑھتے ہیں اور عمل صالح ان کو اٹھاتا ہے‘‘۔

وَٱلۡعَمَلُ ٱلصَّٰلِحُ يَرۡفَعُهُۥ ’’اور عمل صالح ان کو اٹھاتا ہے‘‘،کس کی طرف اٹھاتا ہے ، إِلَيۡهِ ’’اس کی طرف‘‘۔إِلَيۡهِ  اس مقام کو بیان کرتا ہے جس کی طرف یہ جاتے ہیں یعنی اﷲ تعالیٰ۔ اسی تناظر میں اب سورۂ نساء کی آیت کو سمجھیں۔

وَمَا قَتَلُوهُ يَقِينَۢا     بَل رَّفَعَهُ ٱللَّهُ إِلَيۡهِۚ وَكَانَ ٱللَّهُ عَزِيزًا حَكِيمٗا

’’ اور یقینا انہوں نے اسے قتل نہیں کیا بلکہ اللہ نے اسے اپنی طرف اٹھالیا، اور اللہ غالب اور حکمت والا ہے‘‘۔

قرآن مجید کی یہ آیت مکمل طور پر انکے اس باطل عقیدے کا رد کرتی ہے۔لیکن ابھی یہاں ایک بات اور رہ گئی۔موصوف نے لکھا ہے کہ یہ رفع جسمانی نہیں بلکہ یہاں عیسی علیہ السلام کی موت کے بعد ان کے درجات بلند کرنے کا ذکر ہے۔تو اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہودی جومکر کر رہے تھے انکا کیا ہوا۔

بقول ان کے اﷲ تعالیٰ نے کہا کہ اے عیسیٰ ؑ میں تجھے موت دے دوں گا اور تیری موت کے بعد تیرے درجات بلند کردوں گا،تو یہ الفاظ یہودیوں تک بھی پہنچ گئے اور وہ مطمئن ہو گئے کہ چلو اب تو کوئی بات ہی نہیں ہے جو ہم کرنا چاہ رہے تھے وہ کام خود اﷲ تعالیٰ کر رہا ہے۔ موت کے بعد اگر عیسیٰ علیہ السلام کے درجات بلند ہوتے ہیں تو ہوتے رہیں،ہماری لڑائی تو اس دنیا تک ہے، اب مکر کی کوئی ضرورت نہیں۔

گویا کہ انہوں نے مکر کرنا چھوڑ دیا۔پھر وہ امن و آتشی کے ساتھ رہنے لگے۔

محمدہادی صاحب!آپکی خود ساختہ یہ کہانی ادھوری ہی رہ گئی، معلوم نہ ہوسکا کہ اﷲ تعالیٰ کی وہ تدبیر کیا تھی۔

اب کوئی کہے کہ موصوف کی بینائی ذرا کمزور ہے اس لیے یہ آیت انہیں دکھائی ہی نہیں دی، تو ہم نہیں مانتے۔ آپ دیکھیں کہ موصوف نے کتنی ہی تفاسیر اورقادیانیوں کی کتب پڑھ کر اسکے حوالے اپنی کتاب میں بیان کیے ہیں تو بینائی تو انکی بالکل صحیح ہے۔پھرہم نے سوچا شاید دائیں آنکھ میں کچھ نقص ہو، اس لیے کہ اپنی اس کتاب میں انہوں نے بار بار سورۂ آل عمران کی آیت نمبر ۵۵  یٰعیسیٰ انّی متوفیک کا حوالہ دیا ہے،اور آیت نمبر۵۴   و مکر واو مکراﷲ اس سے بالکل قبل ہے جو موصوف کو دکھائی نہیں دے رہی، اس کا مطلب ہے کہ نقص دائیں آنکھ میں ہے۔ اسی پریشانی کے عالم میں یکدم ہماری زبان نے ایک آیت کی تلاوت شروع کردی:

﴿ ۔ ۔ ۔ فَإِنَّهَا لَا تَعۡمَى ٱلۡأَبۡصَٰرُ وَلَٰكِن تَعۡمَى ٱلۡقُلُوبُ ٱلَّتِي فِي ٱلصُّدُورِ﴾

[الحج: 46]

’’بات یہ ہے کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں بلکہ وہ دل جو سینے میں ہیں وہ اندھے ہوتے ہیں‘‘۔

یہ پڑھ کر ہماری تسلی ہوگئی کہ اﷲ کا شکر ہے موصوف کی آنکھیں بالکل ٹھیک ہیں۔

عیسیٰ علیہ السلام کہاں گئے

سابقہ  قسط میں اس بات کا بیان تھا کہ محمد ہادی  یہ نہیں بتا سکے کہ اللہ نے کیا خفیہ تدبیر کی تھی، کیونکہ یہودی تو  عیسیٰ علیہ السلام کی موت چاہتے تھے اور قادیانی اور منکرین حدیث بھی یہی لکھ رہے ہیں کہ انہیں موت آگئی تو اللہ نے وہ کونسی خفیہ تدبیر کی تھی  ۔

اب سوال یہ ہے کہ بقول صاحب کتاب عیسیٰ علیہ السلام زندہ آسمانوں پر نہیں اٹھائے گئے تو وہ گئے کہاں؟ موصوف  محمد ہادی کو معلوم تھا کہ یہ سوال ہوگا لہٰذا انہوں نے جواب کی ’’مکمل‘‘ تیاری کر رکھی تھی، ملاحظہ فرمائیے:

’’…ان سارے دلائل کے باوجود عیسائیوں کے باطل نظریات سے متاثر ہو کر نزول مسیح علیہ السلام کے قائلین پوچھتے ہیں کہ جب نہ قتل ہوئے اور نہ سولی چڑھے اور نہ آسمانوں پر گئے تو آخر عیسیٰ علیہ السلام کہاں گئے؟ معلوم ہونا چاہیے کہ سوۃ الصف کے آخر میں آیا ہے کہ جب عیسیٰ علیہ السلام نے دعوت دی تو حواری ایمان لے آئے جو عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھی بنے اور آخر کار وہ غالب آئے۔عیسیٰ علیہ السلام مغلوب نہ تھے جیسا کہ نادانوں نے عیسائیوں کی کتابوں سے سمجھا ہے۔اﷲ تعالیٰ کا فرمان ہے۔کتب اﷲ فاغلین انا و رسلی ط ان اﷲ قوی عزیز (سورۃمجادلہ آیت 21 )ترجمہ:۔مقرر کیا ہے اﷲ نے کہ میں اور میرے رسول ضرور غالب رہیں گے۔بیشک اﷲ زورآور اور غالب ہے‘‘۔ (عقیدہ خاتم النبین۔صفحہ ۷)

قارئین ! ہم نے آپ کوپہلے ہی بتا دیا تھا کہ اس جواب کی ’’مکمل ‘‘تیاری ہے۔ظاہری بات ہے کہ ایک آدمی جب قرآن کی آیات سے جواب دے رہا ہے تو کون شک کرے گا۔لیکن نہ جانے کیوں ہمیں شک ہونے لگا کہ دال میں کچھ کالا ہے۔پوری کتاب میں انہوں نے قرآنی آیات کی تشریح چاہے شیطان کے الفاظ میں کی ہے لیکن اپنے دلائل کیلئے قرآن کی آیت بمع ترجمہ پیش  کی گئی ہے۔ لیکن یہاں انہوں نے صرف یہ کیوں لکھ دیا :’’معلوم ہونا چاہیے کہ سوۃ الصف کے آخر میں آیا ہے کہ…‘‘۔اپنے اس شک کی وجہ سے ہم نے پوری سورۃ الصف پڑھ ڈالی، لیکن پتہ نہ چل سکا کہ عیسیٰ علیہ السلام کہاں گئے۔ ہم نے سوچا شاید ہمیں دھوکہ ہو رہا ہے ہم سورۃ الممتحنہ یا سورۃ الجمعہ پڑھ گئے ہیں۔دوبارہ دیکھ دیکھ کر سورۃ الصف پڑھی کہ عیسیٰ علیہ السلام کہاں گئے لیکن ہم ڈھونڈتے ہی رہ گئے۔پھر ہم نے اس کی تحریر کو غور سے پڑھا،لکھا تھا:

’’کہ جب عیسیٰ علیہ السلام نے دعوت دی تو حواری ایمان لے آئے جو عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھی بنے اور آخر کار وہ غالب آئے‘‘۔معلوم ہوا غالب عیسیٰ علیہ السلام نہیں بلکہ جو انکے ’’حواری‘‘ تھے، وہ غالب آئے۔

خون کھول اٹھا، اتنا بڑا دھوکہ!ایک سطر میں لکھا ہے:

’’تو آخر عیسیٰ علیہ السلام کہاں گئے؟‘‘

اورایک سطر چھوڑ کرلکھاہے:

’’جو عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھی بنے اور آخر کار وہ غالب آئے‘‘۔

قارئین! آپ بھی سور ۃ الصف کی یہ آیت بغور پڑھیں:

﴿يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كُوْنُوْٓا اَنْصَارَ اللّٰهِ كَمَا قَالَ عِيْسَى ابْنُ مَرْيَمَ لِلْحَوَارِيّٖنَ مَنْ اَنْصَارِيْٓ اِلَى اللّٰهِ ۭ قَالَ الْحَــوَارِيُّوْنَ نَحْنُ اَنْصَارُ اللّٰهِ فَاٰمَنَتْ طَّاۗىِٕفَةٌ مِّنْۢ بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ وَكَفَرَتْ طَّاۗىِٕفَةٌ ۚ فَاَيَّدْنَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا عَلٰي عَدُوِّهِمْ فَاَصْبَحُوْا ظٰهِرِيْنَ  ﴾

[الصف: 14]

’’ اے ایمان والو تم اﷲ تعالیٰ کے مدد گار بن جاؤ جس طرح مریم کے بیٹے عیسیٰ نے حواریوں سے فرمایا کہ کون ہے جو اﷲ کی راہ میں میرا مدد گار بنے۔ حواریوں نے کہا ہم مدد گار ہیں۔پس بنی اسرائیل میں سے ایک گروہ تو ایمان لے آیااور ایک نے کفر کیا ۔تو ہم نے مومنوں کی ان کے دشمنوں سے مقابلے پر مدد کی پس وہ غالب آگئے‘‘۔

اﷲ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کو ان کی زندگی ہی میں یہ خوشخبری سنا دی تھی:

﴿رَبَّنَآ ءَامَنَّا بِمَآ أَنزَلۡتَ وَٱتَّبَعۡنَا ٱلرَّسُولَ فَٱكۡتُبۡنَا مَعَ ٱلشَّٰهِدِينَ٥٣ وَمَكَرُواْ وَمَكَرَ ٱللَّهُۖ وَٱللَّهُ خَيۡرُ ٱلۡمَٰكِرِينَ٥٤ إِذۡ قَالَ ٱللَّهُ يَٰعِيسَىٰٓ إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَيَّ وَمُطَهِّرُكَ مِنَ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ وَجَاعِلُ ٱلَّذِينَ ٱتَّبَعُوكَ فَوۡقَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓاْ إِلَىٰ يَوۡمِ ٱلۡقِيَٰمَةِۖ ثُمَّ إِلَيَّ مَرۡجِعُكُمۡ فَأَحۡكُمُ بَيۡنَكُمۡ فِيمَا كُنتُمۡ فِيهِ تَخۡتَلِفُونَ﴾

[آل عمران: 53-55]

’’ جب عیسیٰ ؑ ان (بنی اسرائیل) کی طرف سے محسوس کیا کہ وہ کفر پر آمادہ ہیں تو کہا ،کون اﷲ کی راہ میں میرا مدد گار۔حواریوں نے کہا ہم ہیں اﷲ کی راہ کے مدد گار،ہم اﷲ پر ایمان لاتے ہیں اور آپ گواہ رہیں کہ ہم ا ﷲکے مسلم ہیں۔ اے ہمارے رب،ہم ایمان لائے جو تو نے نازل فرمایا ہے اور رسول کی پیروی کی،پس تو ہمارا نام گواہی دینے والوں میں لکھ لے۔(یہودیوں نے عیسی ؑ کے خلاف) خفیہ تدبیریں کیں اور اﷲتدبیر کرنے والوں میں سب سے بڑھ کر ہے ۔جب اﷲ نے کہا :اے عیسیٰ میں تجھے پورا پورا لے لوں گا اور تجھے اٹھا لوں گا اپنی طر ف اور ان کافروں سے تجھے پاک کردوں گا ،اور تیری پیروی کرنیوالوں کو قیامت تک ان لوگوں پر حاوی رکھوں گا جنہوں نے انکار کیا ہے‘‘۔

قرآن مجید کی ان آیات سے واضح ہوگیا کہ عیسیٰ علیہ السلام کی دعوت پر ایک گروہ نے لبیک کہا،پھر یہودیوں کی خفیہ تدبیروں کے مقابلے میں اﷲ نے عیسیٰ علیہ السلام سے فرمایاکہ میں تمہیں اٹھا کر ان کافروں سے پاک کردوں گا، یعنی تمہیں ان کے درمیان نہیں چھوڑوں گا، اور جو تمہارے متبعین ہیں انہیں قیامت تک کیلئے ان کافروں پر غالب کردوں گا۔ یہ ہے سورۃ الصف کا وہ بیان جس کو بنیاد بنا کر لوگوں کودھوکہ دینے کی کوشش کی گئی ہے۔

اب آئیے سورۃ المجادلۃ کی آیت کی طرف جو محمدہادی نے اسی بات کی دلیل میں پیش کی ہے اور کہا ہے :

’’عیسیٰ علیہ السلام مغلوب نہ تھے جیسا کہ نادانوں نے عیسائیوں کی کتابوں سے سمجھا ہے۔اﷲ تعالیٰ کا فرمان ہے۔کتب اﷲ فاغلبین انا و رسلی ط ان اﷲ قوی عزیز (سورۃمجادلہ آیت 21 )ترجمہ:۔مقرر کیا ہے اﷲ نے کہ میں اور میرے رسول ضرور غالب رہیں گے۔بیشک اﷲ زورآور اور غالب ہے‘‘۔

اس آیت کو پیش کرنے کا انکا مقصد یہی ہے کہ یہ اﷲ کا فرمان ہے کہ میں اور میرے سارے رسول غالب رہیں گے اوراگر یہ کہا جائے کہ عیسیٰ علیہ السلام کو اﷲ نے اٹھا لیا تو اس کا مطلب ہے کہ نعوذباﷲ وہ مغلوب ہوگئے اور ایسا کہنے والے گویا اﷲ کے  فرمان کا انکار کرتے ہیں۔       کتنے ہی انبیاء علیہم السلام شہید کردئیے گئے،اسی طرح ابراہیم علیہ السلام اپنی قوم کو چھوڑ کر ہجرت کر گئے۔اب اگرموصوف عیسیٰ علیہ السلام کے رفع کومغلوب ہونا سمجھتے ہیں تو پھر ان انبیاء علیہم السلام کے متعلق انکا کیا خیال ہے وہ غالب ہوئے یا مغلوب۔ دراصل موصوف نے قرآن کو انسانوں کی لکھی ہوئی تفاسیر سے سمجھنے کی کوشش تو کی لیکن مفسر قرآن رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ و سلم کی بیان کردہ تفسیر کو جو مالک کائنات نے وحی کے ذریعے فرمائی تھی مشکوک قرار دینے کی کوشش میں اسے ترک کردیا۔ اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿أَلَمۡ تَرَ إِلَى ٱلَّذِينَ يَزۡعُمُونَ أَنَّهُمۡ ءَامَنُواْ بِمَآ أُنزِلَ إِلَيۡكَ وَمَآ أُنزِلَ مِن قَبۡلِكَ يُرِيدُونَ أَن يَتَحَاكَمُوٓاْ إِلَى ٱلطَّٰغُوتِ وَقَدۡ أُمِرُوٓاْ أَن يَكۡفُرُواْ بِهِۦۖ وَيُرِيدُ ٱلشَّيۡطَٰنُ أَن يُضِلَّهُمۡ ضَلَٰلَۢا بَعِيدٗا﴾

[النساء: 60]

’’ اے نبی ؐ، کیا تم نے نہیں دیکھا ان لوگوں کو جو دعویٰ تو اس بات کا کرتے ہیں کہ وہ ایمان لائے جو کچھ تم پر نازل ہوا ہے اور تم سے پہلے نازل ہوا ہے،مگر چاہتے یہ ہیں کہ اپنے معاملات کا فیصلہ کرانے کیلئے طاغوت کی طرف رجوع کریں۔حالانکہ انہیں طاغوت کے کفر کا حکم دیا گیا تھا۔اور شیطان تو یہ چاہتا ہے کہ کہ انہیں گمراہ کرکے بدترین ضلالت میں لے جائے‘‘۔

تو یہ بھی اپنا نام المسلمین رکھ کر اسی بات کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن انہیں قرآن سمجھنے کیلئے نبی صلی اﷲ علیہ و سلم کی تفسیر بالکل اچھی نہیں لگتی بلکہ ان کی من پسندتفاسیر تو تفسیر بیضاوی، تفسیرا لمنار،تفسیر فی ظلال القرآن ہی ہیں۔اگر ان تفاسیر میں کوئی بات قرآن و حدیث کے مطابق بیان ہوتی اور یہ اسے پیش کرتے تو خیر صحیح تھا، لیکن انہوں نے تو سارا دین انہی سے اور قادیانی و دیگر منکرین کی کتابوںسے سیکھا اورانہی کے یہ حوالے دیتے ہیں۔اگر قرآن کی تفسیر نبی صلی اﷲ علیہ و سلم کی احادیث کے مطابق کی جاتی تو پھر انکا دین ایک لمحہ بھی قائم نہ رہ سکتا تھا۔

سورۂ مجادلہ کی اس آیت میں اﷲ تعالیٰ نے اپنے ساتھ کسی ایک رسول کیلئے نہیں نہیں بلکہ تمام انبیاء علیہم السلام کے غلبے کا بیان فرمایا ہے۔وہ انبیاء علیہم السلام جو شہید کردئیے گئے یا ہجرت پر مجبور کیے گئے یا عیسیٰ علیہ السلام جن کا رفع ہوا سب کیلئے اس غلبے کا علان ہے۔انسان کا ذہن تو نہایت ہی کمزور ہے،وہ اگر اپنے دماغ سے سوچے تو لاتعداد باتوں کا انکار کردے جیسا کہ یہ منکر حدیث اﷲ کے اس معجزہ کا انکار کرتے ہیں۔لیکن یہی باتیں اگرقرآن کی دیگر آیات اور اس تفسیر سے سمجھی جائیں جو اﷲ تعالیٰ نے اپنے رسول محمد صلی اﷲ علیہ و سلم پر وحی فرمائی ہیں تو پھرکسی قسم کا کوئی شک نہیں رہتا۔اب ہم اس مسئلہ کو احادیث سے سمجھتے ہیں۔

عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَ سَلَّمْ لَا یَذْھَبْ اللَّیْلُ وَالنَّھَارُ حَتّٰی تُعْبَدَ الَّلاتُ وَ العُزیّٰ۔ فَقُلْتُ یَا رَسُوْلَ اﷲِ  اِنْ کُنْتُ لَاَظُنَّ حِیْنَ اَنْزَلَ اﷲُ ھُوَ الَّذِیٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْھُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ اِلٰی قَوْلِہٖ وَلَوْ کَرِہَ الْمُشْرِکُوْنَ اَنَّ ذٰلِکَ تَآمٌّ قَالَ اِنَّہٗ سَیَکُوْنُ مِنْ ذٰلِکَ مَا شَآئَ اﷲُ ثُمَّ یَبْعَثُ اﷲُ رِیْحًا طَیِّبَۃً فَتَوَفّٰی کُلُّ مَنْ فِیْ قَلْبِہٖ مِثْقَالُ حَبَّۃٍ مِّنْ خَرْدَلٍ مِّنْ اِیْمَانٍ فَیَبْقٰے مَنْ لاَّ خَیْرَ فِیْہِ فَیَرْجِعُوْنَ اِلٰی دِیْنِ اٰبَآئِھِمْ

(مسلم۔کتاب الفتن و اشراط الساعۃ)

’’عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے سنا نبی صلی اﷲ علیہ و سلم کو فرماتے ہوئے:رات اور دن ختم نہ ہوں گے جب تک لات اور عزیٰ دوبارہ سے نہ پوچے جائیں۔ میں نے عرض کیا یا رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم میں تو سمجھتی تھی کہ جب اﷲ تعالیٰ نے یہ نازل فرما دیا ( اﷲ وہ ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچا دین دے کر بھیجا تاکہ اس کو غالب کردے سب دینوں پر اگرچہ مشرکوں کو کتنا ہی برا لگے) یہ وعدہ پورا ہونے والا ہے۔نبی صلی اﷲ علیہ و سلم نے فرمایا: ایسا ہی ہوگا جب اﷲ تعالیٰ کو منظور ہوگا،پھر اﷲ تعالیٰ ایک پاکیزہ ہوا بھیجے گاجس کی وجہ سے ہر وہ مو من جس کے دل میں دانے برابر بھی ایمان ہوگا مر جائے گا۔پھر وہ لوگ رہیں گے جن میں بھلائی نہیں،پھر وہ باپ دادا کے دین پر لوٹ جائیں گے‘‘۔

ایک اور حدیث میں بیان کیا گیا :

……اِذْ بَعَثَ اﷲُ رِیْحًا طَیْبَۃً فَتَاخُذُ ھُمْ تَحْتَ اٰبَاطِیْہِمْ فَتَقْبِضَ رُوْحَ کُلِّ مُوْٗمِنٍ وَّ کُلِّ مُسْلِمْ وَّ یَبْقٰی شِرَارُ النَّاس یَتَھَارَ جُوْنَ فِیْھَا تَھاَرُجَ الْحُمُرِ فَعَلَیْھِمْ تَقُوْمُ السَّعَۃُ

( مسلم: کتاب الفتن و الشراط الساعۃ،باب ذکر الدّجال)

……اسوقت اﷲ تعالیٰ ایک پاک ہوا بھیجے گا کہ ان کی بغلوں کے نیچے لگے گی اور اثر کر جائے گی تو ہر مومن اور مسلم کی روح قبض کر لے گی اور صرف بدترین انسان ہی رہ جائیں گے، وہ آپس میں گدھوں کی طرح لڑیں گے ان پر قیامت قائم ہوگی‘‘۔

واضح ہوا کہ دین غالب کا وقت قرب قیامت ہے۔ اﷲ کے نزدیک دین صرف اسلام ہے، اور تمام انبیاء علیہم السلام کا دین بھی وہی ہے۔ تمام انبیاء علیہم السلام اسی ایک دین کو غالب کرنے کیلئے بھیجے گئے ہیں۔کسی کی قوم سے ایک فرد ایمان لایا اور کسی نبی  ؑ کی ساڑھے نو سو سال(۹۵۰) سال کی تبلیغ کے بعد اتنے افراد ایمان لائے کہ ایک کشتی میں سوار ہوگئے۔ لوط علیہ السلام کی قوم میں صرف ایک گھر ایمان والوں کا نکلا۔ کوئی نبی ؑ شہید کردیا گیا،یا کسی کو اپنا وطن چھوڑ کر ہجرت کرنا پڑی۔کوئی جیل میںقید کیا گیا تو کوئی حاکم بنایا گیا۔اس سب کے باوجود یہ اﷲ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ اﷲ اور اس کے تما م انبیاء علیہم السلام غالب ہو کر رہیں گے ۔

تمام انبیاء علیہم السلام نے اسی ایک دین کے غلبے کیلئے جدوجہد کی ہے،جو ڈیوٹی جس نبی ؑ کو سونپی گئی، اس نے اسے پورا کیا ہے۔قرب قیامت یہی دین غالب ہوجائے گا ۔ دنیا میں کوئی اور دین باقی نہ بچے گا ۔ یہی ہے اﷲ کا فرمان کہ’’ اﷲ نے لکھ دیا ہے کہ میں اور میرے رسول ضرور غالب ہو کر رہیں گے۔بیشک اﷲ زورآور اور غالب ہے‘‘۔

تو موصوف نے اس آیت کو پیش کرکے دھوکہ دینے کی جو کوشش کی تھی کتاب اﷲ نے اس کا پردہ چاک کردیا۔

یہاں قادیانیوں کی ایک اورمغالطہ آرائی کا بھی تذکرہ کردیا جائے بل رفعہ اللّہ الیہ کے بارے میں کہتے ہیں:

’’یعنی اﷲ تعالیٰ نے مسیح ؑ کو اپنی طرف اٹھا لیا۔اب اگرخدا کی طرف اٹھائے جانے کے معنے آسمان کی طرف اٹھائے جانے کے کئے جائیں تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا خدا تعالیٰ آسمان تک محدود ہے۔کیا اسلامی تعلیم کی رو سے خدا ہر جگہ حاضر وناظر نہیں ! کیا وہ زمین پر موجود نہیں؟‘‘

(حضرت مسیح عیسیٰ علیہ السلام کا وصال ، صفحہ ۲۳)

بے شک اﷲ تعالیٰ اپنی صفات کے حوالے سے ہر جگہ حاضر و ناظر ہے لیکن اپنی ذات کے حوالے سے وہ مستوی عرش ہے جیسا کہ مندرجہ ذ یل آیت سے واضح ہے۔

﴿ٱلرَّحۡمَٰنُ عَلَى ٱلۡعَرۡشِ ٱسۡتَوَىٰ﴾

[طه: 5]

’’رحمن عرش پر مستوی ہے‘‘۔

ثابت ہوا کہ رفعہ اﷲ الیہ سے مراد عیسیٰ علیہ السلام کا آسمانوں پر اٹھایا جانا ہے۔اسی حوالے سے یہی مصنف صفحہ نمبر ۱۵۔۱۶ پر یہ بھی لکھتا ہے کہ

معراج کی رات نبی صلی اﷲ علیہ و سلم نے عیسیٰ علیہ السلام کو یحییٰ علیہ السلام کے ساتھ دیکھا۔اور یحییٰ علیہ السلام کو سب ہی وفات شدہ مانتے ہیں،تو اس کا مطلب ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کی روح بھی موت کے بعد ان کے جسم کو چھوڑ گئی اور وہ روح فوت شدہ لوگوں کے ساتھ ہے۔

معراج ایک معجزہ ہے،اور معجزہ کبھی بھی عام قوانین پر دلیل نہیں بنتا۔نبی صلی اﷲ علیہ و سلم کا ایک رات میں اپنے جسد کیساتھ مسجد اقصیٰ جانا اور پھر تمام آسمانوں پر جانا ایک عام طریقہ نہیں بلکہ معجزہ تھا۔اگر کوئی کہے کہ صلوٰۃ بھی اسی رات فرض ہوئی ہے تو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ صلوٰۃ کی فرضیت اﷲ تعالیٰ کاایک حکم تھا۔اﷲ تعالیٰ اس بات کا پابند نہیں کہ وہ کس صورت میں اپنے احکامات بیان کرے۔ اب اگر یہ لوگ اسی حوالے سے یہ بات بیان کرتے ہیں تو اس بات کی وضاحت کریں کہ کیایہ تمام انبیاء علیہم السلام کو اسی زمین پر حاضر مانتے ہیں ۔کیونکہ نبی صلی اﷲ علیہ و سلم نے انبیاء علیہم کی امامت کرائی تھی۔ گویا نبی صلی اﷲ علیہ و سلم بھی انہی وفات شدہ روحوں کے ساتھ تھے۔ پھر آسمانوں پر وفات شدہ انبیاء علیہم السلام کے ساتھ نبی صلی اﷲ علیہ و سلم کی ملاقات ہوئی ،تو کیا مردہ اور زندہ کی ملاقات بھی ہوسکتی ہے؟ اگر ہوسکتی ہے تو پھر وفات شدہ روح کی ساتھ رفع شدہ نبی عیسیٰ علیہ السلام کیوں نہیں مل سکتے ہیں۔ حدیث میں آتا ہے کہ نبی صلی اﷲ علیہ و سلم نے عیسیٰ علیہ السلام کو کعبہ کے پاس دیکھا وہ طواف کر رہے تھے(مسلم،کتاب الایمان،باب الاسراء برسول…)،کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام اسی دنیا میں کعبہ کے پاس ہی کہیں ہیں؟

قادیانیوں کا مکر و فریب

نبوت کے جھوٹے وعویدار مرزا غلام احمد نے و مطھرک من الّذین کفروا ’’اور ان کافروں سے تجھے پاک کردوں گا‘‘۔کی کیا تشریح کی ہے ملاحظہ فرمائیں :

’’ وعدہ و مطھرک من الّذین کفرواجو وعدہ رفع کے بعد تھا آنحضرت ﷺ کے ظہور سے پورا ہوگیا کیونکہ آپ ؐ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دامن کو ان بے جا تہمتوں سے پاک کیا جو یہود اور نصاریٰ نے ان پر لگائیں تھیں‘‘۔

(براہین احمدیہ حصہ پیجم روحانی خزائن جلد۲۱صفحہ ۳۴۹)

دیکھا آپ نے مرزا نے کیا کارنامہ دکھایا ہے۔قرآن کے اس بیان کو وعدہ مطہرکہہ کر اس کے مفہوم کو بدل ڈالا۔مالک فرماتا ہے کہ اے عیسیٰ ؑ میں تجھے ان کافروں سے پاک کردوں گا،یعنی تجھے ان کے درمیان نہ چھوڑوں گا بلکہ تجھے اٹھا لوں گا،اور انہوں نے اسکا یہ مفہوم بیان کیا ہے کہ تیرے اوپر لگی ہوئی تہمتوں کو دھو ڈالوں گا۔

قادیانیوں کا مکر و فریب:

عصمت رسول کے  نام نہاد محافظ :

احمدی حضرات کو عیسیٰ علیہ السلام کا رفع کسی حالت میں قبول نہیں۔ انہوں نے تو ہر حالت میں عیسیٰ علیہ السلام کو مارنا ہے۔کیونکہ اگر وہ زندہ ہیں تو پھر انکا عقیدہِ’’مسیح موعود‘‘باطل ٹھہرتا ہے۔لہٰذا اب دوسرے انداز میں اس رفع کو جھٹلانے کیلئے مندرجہ ذیل آیت یہ لوگ اپنے استدلال کیلئے پیش کرتے ہیں۔

﴿ اَوْ يَكُوْنَ لَكَ بَيْتٌ مِّنْ زُخْرُفٍ اَوْ تَرْقٰى فِي السَّمَاۗءِ ۭ وَلَنْ نُّؤْمِنَ لِرُقِيِّكَ حَتّٰى تُنَزِّلَ عَلَيْنَا كِتٰبًا نَّقْرَؤُهٗ  ۭ قُلْ سُبْحَانَ رَبِّيْ هَلْ كُنْتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوْلًا﴾

[الإسراء: 93]

’’(کہتے تھے ہر گز تم پر ایمان نہ لائیں گے جب تک کہ)… یا تیرے لیے سونے کا ایک گھر بن جائے،یا تو آسمان پر چڑھ جائے،اور تمہارے چڑھنے کابھی ہم یقین نہ کریں گے جب تک کہ تو ہمارے لیے ایسی کوئی تحریر نہ لے آئے جسے ہم پڑھیں۔اے نبی ؐ ان سے کہدو پاک ہے میرا رب، کیا میں ایک پیغام لانے والے انسان کے علاوہ بھی کچھ ہوں‘‘۔

اس آیت کی تشریح میں احمدی قلمکار لکھتا ہے:

’’ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے صاف فرمایا کہ ایک بشر کا زندہ آسمان پر جانا خدا کی سنت اور وعدہ کے خلاف ہے اور خدا اس بات سے پاک ہے کہ خود اپنے فیصلوں کو توڑے۔ غور کا مقام ہے کہ کفار عرب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جیسے عظیم الشان انسان سے آسمان پر جانے کا معجزہ طلب کرتے ہیں اور اس قسم کا معجزہ دیکھنے پر ایمان لانے کا وعدہ کرتے ہیں لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صاف جواب دیتے ہیں کہ میں تو صرف ایک بشر ہوں اور کوئی بشر آسمان پر زندہ نہیں جاسکتا‘‘۔

پھر ایک شعر داغا جاتا ہے:

غیرت کی جائے عیسیٰ زندہ ہو آسماں پر   مدفون ہوزمین میں شاہ جہاں ہمارا

(حضرت مسیح عیسیٰ کا وصال،صفحہ ۱۲)

ایک اور احمدی نے لکھاہے:

’’ کس طرح ممکن ہے کہ وہ جسے اﷲ تعالیٰ نے ذرا سا خطرہ دیکھ کر آسمان پر اٹھالیا، ادنیٰ درجہ کا ہو اور وہ جس کا دور دور تک دشمنوں نے تعاقب کیا مگر خدا تعالیٰ نے اسے ستاروں تک بھی نہ اٹھایا، اعلیٰ ہو۔اگر فی الواقع مسیح علیہ السلام آسمان پر ہیں اور ہمارے سردار و آقا زمین میں مدفون ہیں تو ہمارے لئے اس سے بڑھ کر اور کوئی موت نہیں اور ہم مسیحوں کو منہ بھی نہیں دکھا سکتے، مگر نہیں یہ بات نہیں،خدا تعالیٰ اپنے پاک رسول ؐسے یہ سلوک نہیں کرسکتا‘‘۔                 (دعوۃ الامیر۔صفحہ ۱۵،مرزا بشیر الدین محمود احمد قادیانی)

’’… ان سے کہدے کہ میرا ربّ ہر کمزوری سے پاک ہے میں تو صرف ایک بشر رسول ہوں لیکن حضرت مسیح  ؑ کو وہ آسمان پر اٹھا کر لے جائے جب محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ و سلم کا سوال آئے تو انسانیت کو آسمان پر چڑھنے کا مخالف بتایا جائے، لیکن جب مسیح کا سوال آئے تو بلا ضرورت ان کو آسمان پر لے جائے۔کیا اس سے یہ نتیجہ نہ نکلے گا کہ مسیح علیہ السلام آدمی نہیں تھے بلکہ خدا تھے۔ نعوذوباﷲ من ذالک۔یا پھر یہ نتیجہ نکلے گا کہ آپ رسول کریم صلی اﷲ علیہ و سلم سے افضل تھے اور اﷲ کو زیادہ پیارے تھے مگر جب کہ یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ و سلم سب رسولوں اور انبیاء سے افضل ہیں تو پھر کس طرح عقل باور کرسکتی ہے کہ آپ تو آسمان پر نہ جائیں بلکہ اسی زمین پر فوت ہوں اور زمین کے نیچے دفن ہوں، لیکن مسیح علیہ السلام آسمان پر چلے جائیں اور ہزاروںسال تک زندہ رہیں‘‘۔(ایضاً:صفحہ ۱۶)

سبحان اللہ، سبحان اللہ!   مرزاء قادیانی جس نے ختم نبوت کے مرکزی عقیدے میں نقب لگائی ،اس کے پیرو کاراب عصمت رسول کے محافظ بن بیٹھے ہیں۔اور حبِ رسول کے تکلف میں اتنے آگے بڑھ گئے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی تحریروں میں کہیں آقا اور کہیں شاہ جہاں جیسے القابات کے ذریعے اللہ تعالیٰ کا ہمسر بنانے سے بھی گریز نہیں کرتے۔

شرک تو ان کو مرزا صاحب سے ورثے میں ملا ہے۔ مرزا کی تصنیفات شرکیہ عبارات سے پر ہیں۔ انہوں نے ختم نبوت کے عقیدے ہی سے انحراف نہیں کیا بلکہ اللہ کی توحید میں شرک کی آمیزش بھی کی۔ نبی صلی اﷲ علیہ و سلم کیلئے آقا (مالک)، شاہ جہاں (جہاں کا بادشاہ) کے الفاظ استعمال کیے ۔یہ الفاظ تو صرف اور صرف اﷲ تعالیٰ کی ذات کو سزاوار ہیں۔

یہ بات تو ہوئی اس ظلم عظیم کے حوالے سے جو اس شعر سے ہویدا ہے۔ اب ذرا اس عذرلنگ کا جائزہ بھی لے لیجئے جو رفع عیسیٰ علیہ السلام کے عقیدے میں مانع ہے۔ یعنی ہمارے نبی صلی اﷲ علیہ و سلم آسمان پر نہیں جاسکتے تو یہ کیونکر ممکن ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام اپنے جسم عنصری کے ساتھ آسمان پر جابیٹھے ہوں۔ کاش کہ جماعت احمدیہ کے ترجمان اس جعلی محبت کا ذرا اور مظاہرہ کرتے اور اس طرح کے دوچار اعتراجات مزید داغ دیتے مثلاً یہ بھی کہہ سکتے تھے کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے باپ بھی تھے اور ماں بھی تھیں، اب کیسے ممکن ہے کہ آدم علیہ السلام بغیر ماں باپ کے اور عیسیٰ علیہ السلام بغیر باپ کے پیدا ہوگئے۔ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تو کوئی مردہ زندہ نہیں کیا یہ کیسے ممکن ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام فقط قم باذن اللہ  کی پکار سے مردوں کو اٹھا کھڑا کرتے تھے۔

ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے تو کوڑھی کا کوئی مریض صحت یاب نہیں ہوا تھا کیسے ممکن ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کوڑھی کے مریضوں کو تندرست کردیتے ہوں۔ عیسیٰ علیہ السلام مٹی کے پرندے بناتے تھے اور اس پر پھونکتے تھے اﷲ کے حکم سے وہ ایک زندہ پرندہ بن جاتا تھا لیکن نبی صلی اﷲ علیہ و سلم کے ساتھ ایسا نہ ہوا۔ اب ہم کیا منہ دکھائیں گے عیسائیوں کو! ہمیں موت کیوں نہیں آگئی!

حقیقت کو جھٹلانے کے لئے حماقت کا راستہ ہی اپنانا تھاتو دو قدم اور آگے چلے جاتے اور کہتے اﷲ تعالیٰ نے ابرہیم علیہ السلام کو اپنا خلیل بیان کیا ہے،کیا اﷲ تعالیٰ کو وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے زیادہ پیارے تھے۔کہتے کہ موسیٰ علیہ السلام سے اﷲ تعالیٰ نے کلام فرمایا،کیا موسیٰ علیہ السلام اﷲ کو نبی صلی اﷲ علیہ و سلم سے زیادہ محبوب تھے۔پھر کہتے کہ موسیٰ علیہ السلام کا عصا توسانپ بن جاتا تھا،اب ہم یہویوں کو کیا منہ دکھائیں گے کہ ہمارے نبی صلی اﷲ علیہ و سلم کے ساتھ ایسا نہ ہوا۔ اﷲ تعالیٰ نے جنوں کوسلیمان علیہ السلام کے تابع کردیا تھا، ہوا پر ان کو قدرت دے دی تھی،جانوروں کی بولیاں انہیں سکھا دیں تھیں ،اب ہمیں موت آجائے کہ ہمارے نبی صلی اﷲ علیہ و سلم کو ایسی کوئی چیز نہ عطا کی گئی۔ صرف عیسیٰ علیہ السلام کے رفع سے نعوذوباﷲ نبی صلی اﷲ علیہ و سلم کی توہین ہوگئی!  یہ سب کیوں لکھا جا رہاہے، فقط اس لیے کہ رفع جھوٹا ثابت ہو جائے،عیسیٰ علیہ السلام کی موت ثابت ہو جائے اور پھرمرزا غلام احمد کو نبی مان لیا جائے۔

سورۂ بقرہ آیت نمبر ۲۵۳ میں اﷲ تعالیٰ انبیاء علیہم السلام کیلئے فرماتا ہے کہ’’ہم نے بعض کو بعض پر فضیلت دی‘‘۔ کس نبی ؑ کو کوئی معجزہ عطا فرمایا گیا کسی کو کوئی۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ اگر کسی نبی ؑ کو وہ معجزہ نہیں دیا گیا جو دوسرے نبی ؑ کو دیا گیا ہے تو وہ اﷲ تعالیٰ کے نزدیک کم تر ہے اور دوسرا زیادہ پیارا،یہ ساری ان کی اپنی بنائی ہوئی منطق ہے اور یہ منطق بھی صرف رفع عیسیٰ علیہ السلام تک ہے اس کے آگے نہیں۔

معلوم ہوا کہ آج جو یہ عصمت رسول صلی اﷲ علیہ و سلم کے محافظ بن رہے ہیں یہ سب ایک بہانہ ہے ۔ خاتم النبین محمد صلی اﷲ علیہ و سلم کے بعد ایک شخص کو نبی مان کر انہوں عصمت رسول صلی اﷲ علیہ و سلم کو تو تار تار کر ڈالا ہے۔ اﷲ نے عیسیٰ علیہ السلام کا رفع بیان فرمایا، یہ اس کے انکاری ہی نہیں اس کی تضحیک کرتے ہیں۔ نبی صلی اﷲ علیہ و سلم کے فرمان لا نبی بعدی کو اپنی خود ساختہ تاویلات کے بھینٹ چڑھایا ہوا ہے۔نبی صلی اﷲ علیہ و سلم نے نزول عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کے بارے میں جوکچھ بیان فرمایا تھا اسے بدل کر اپنے جھوٹے نبی پر چسپاں کردیا اور اب بنے ہیں عصمت رسول صلی اﷲ علیہ و سلم کے محافظ!

کفار نے جب دیگر انہونی باتوں کے ساتھ ساتھ اس بات کا بھی مطالبہ کیا کہ آپ ؐ آسمان پر چڑھ جائیں اور کوئی ایسی لکھی ہوئی تحریر لائیں کہ جس کو پڑھ کرہم کو یہ یقین آجائے کہ آپ ؐ واقعی آسمان پر گئے تھے۔ اس موقع پراﷲ تعالیٰ نے نبی صلی اﷲ علیہ و سلم پر وحی فرمائی:’’ اے نبی ؐ ان سے کہدو پاک ہے میرا رب، کیا میں ایک پیغام لانے والی انسان کے علاوہ بھی کچھ ہوں‘‘۔اس آیت میں کیا بتایا گیا ہے، یہی نا کہ یہ بات کسی انسان کے بس میں نہیں ہے کہ وہ خود آسمان پر چڑھ جائے ۔ ساتھ ہی فرما دیا گیا کہ پاک ہے میرا رب، یعنی میں تو انسان ہوں میرے بس میںاس قسم کی چیزیں نہیں، مجھے ایسی کوئی طاقت نہیں عطا کی گئی،میں ما تحت الاسباب ہوں،میں کمزور ہوں لیکن میرا رب ان سب کمزوریوں سے پاک ہے، وہ ہر قسم کی طاقت رکھتا ہے۔ وہ چاہے تو مجھے آسمانوں تک اٹھا لے جائے۔مکمل طور پر واضح اس آیت میں کوئی ایسی بات ہی نہیں، لیکن جنکے دلوں میں ٹیڑھ ہے انہوں نے اسکا کیا فسانہ بنا ڈالا۔

کفار مکہ اورپچھلی امتوں کے لوگ اس قسم کے مطالبات کرتے رہے ہیں،دیکھیں اﷲ تعالیٰ نے کیا جواب دیا ہے:

﴿قَالُواْ يَٰنُوحُ قَدۡ جَٰدَلۡتَنَا فَأَكۡثَرۡتَ جِدَٰلَنَا فَأۡتِنَا بِمَا تَعِدُنَآ إِن كُنتَ مِنَ ٱلصَّٰدِقِينَ٣٢ قَالَ إِنَّمَا يَأۡتِيكُم بِهِ ٱللَّهُ إِن شَآءَ وَمَآ أَنتُم بِمُعۡجِزِينَ٣٣﴾

[هود: 32-33]

’’ انہوں نےکہا اے نوح ؑ تم نے ہم سے بہت جھگڑا کرلیا اب تو بس وہ عذاب لے آ جس کی تو ہمیں دھمکی دیتا ہے،اگر تو سچا ہے۔(نوح ؑ) نے کہا وہ تو اﷲ ہی لائے گا‘‘۔

﴿ قَالَتْ لَهُمْ رُسُلُهُمْ اِنْ نَّحْنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَمُنُّ عَلٰي مَنْ يَّشَاۗءُ مِنْ عِبَادِهٖ  ۭ وَمَا كَانَ لَنَآ اَنْ نَّاْتِيَكُمْ بِسُلْطٰنٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ ۭ وَعَلَي اللّٰهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ﴾

[إبراهيم: 11]

’’ انکے رسولوں نے ان سے کہا ہم کچھ نہیں ہیں مگر انسان تم ہی جیسے،لیکن اﷲ اپنے بندوں میں سے جس کو چا ہتا ہے نوازتا ہے۔اور ہمارے اختیار میں نہیں کہ کوئی نشانی تمہارے لیے لے آئیں مگر اﷲ کے حکم سے، اور مومن تو اﷲ ہی پر بھروسہ کرتے ہیں‘‘۔

﴿۔ ۔ ۔  وَمَا كَانَ لِرَسُولٍ أَن يَأۡتِيَ بِ‍َٔايَةٍ إِلَّا بِإِذۡنِ ٱللَّهِۚ ۔ ۔ ۔ ﴾

[غافر: 78]

’’ اور کسی رسول میں یہ طاقت نہ تھی کہ وہ کوئی نشانی لے آتا مگر اﷲ کے حکم سے‘‘۔

﴿وَيَقُولُونَ لَوۡلَآ أُنزِلَ عَلَيۡهِ ءَايَةٞ مِّن رَّبِّهِۦۖ فَقُلۡ إِنَّمَا ٱلۡغَيۡبُ لِلَّهِ فَٱنتَظِرُوٓاْ إِنِّي مَعَكُم مِّنَ ٱلۡمُنتَظِرِينَ﴾

[يونس: 20]

’’ اور کہتے ہیں کیوں نہیں اتری اس (نبی ؐ) پر کوئی نشانی اس کے رب کی طرف سے، کہدو چھپی ہوئی ساری باتوں کا علم اﷲ تعالیٰ کو ہے ،اور میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں ہوں‘‘۔

﴿وَقَالُواْ لَوۡلَا نُزِّلَ عَلَيۡهِ ءَايَةٞ مِّن رَّبِّهِۦۚ قُلۡ إِنَّ ٱللَّهَ قَادِرٌ عَلَىٰٓ أَن يُنَزِّلَ ءَايَةٗ وَلَٰكِنَّ أَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُونَ﴾

[الأنعام: 37]

’’ کہتے ہیں اس نبی ؐ پر کوئی نشانی کیوں نہیں نازل کرتا، کہو اﷲ نشانی اتارنے پر پوری قدرت رکھتا ہے‘‘۔

﴿ ۔ ۔ ۔ اَنْ يَّقُوْلُوْا لَوْلَآ اُنْزِلَ عَلَيْهِ كَنْزٌ اَوْ جَاۗءَ مَعَهٗ مَلَكٌ  ۭ اِنَّمَآ اَنْتَ نَذِيْرٌ  ۭ وَاللّٰهُ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ وَّكِيْلٌ ﴾

[هود: 12]

’’وہ کہتے ہیں اس شخص (نبیؐ)پر کوئی خزانہ کیوں نہیں اتارا گیا،یا یہ کہ اس کے ساتھ کوئی فرشتہ کیوں نہیں آیا۔ (اﷲ فرماتاہے) تم تو محض خبردار کرنے والے ہو، اور تمام چیزوں کا حوالہ دار اﷲ ہے‘‘۔

تو یہ ہے تشریح اس بات کی کہ ’’اے نبی ؐ ان سے کہدو پاک ہے میرا رب، کیا میں ایک پیغام لانے والے انسان کے علاوہ بھی کچھ ہوں‘‘۔  عذاب لانا، انبیاء علیہم السلام کے معجزے، کسی انسان کو زندہ آسمان پر لے جانا کسی انسان کے بس کی بات نہیں،لیکن اﷲ کیلئے اس کی کوئی حیثیت نہیں ۔’’سبحان اﷲ‘‘ کے یہی معنی ہیں کہ’’ وہ ہر کمزوری سے پاک ہے‘‘۔

یہ کہتے ہیں :’’میں تو صرف ایک بشر ہوں اور کوئی بشر آسمان پر زندہ نہیں جاسکتا‘‘۔کہاں  لکھا ہے اس آیت میں کہ ایک زندہ انسان آسمانوں پر نہیں جاسکتا۔بات تو یہ بیان کی گئی ہے کہ مجھے اﷲ تعالیٰ نے یہ طاقت نہیں بخشی کہ میں اپنے تئیں آسمان پر چڑجاؤں۔جس سورۂ کا یہ حوالہ دے رہے ہیں اس سورۂ کی تو ابتداء ہی اس اعلان سے ہوئی ہے کہ ’’پاک ہے وہ،جو لے گیااپنے بندے کوایک رات مسجد حرام سے دور کی اس مسجد تک جس کے ماحول کو اس نے برکت دی تاکہ اسے اپنی نشانیاں دکھائے‘‘۔

دیکھیں کس انداز میں اُس آیت کی وضاحت ہوگئی۔’’پاک ہے وہ ‘‘کہہ کر بتا دیا کہ وہ کسی کا محتاج نہیں۔ قرآن کے اس بیان کی مکمل تفصیل اﷲ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اﷲ علیہ و سلم کے ذریعے بیان فرما دی کہ کس طرح سواری پر سوار ہو کر، تمام آسمانوں پر گئے اور وہاں پنج وقتہ صلوٰۃ کا حکم ملا۔

جس آیت کا انہوں نے حوالہ دیا ہے اس آیت میں صرف آسمان تک جانے کا مطالبہ نہ تھا بلکہ زمین سے چشمہ جاری کردینے کا مطالبہ تھا،کھجوروں اور انگوروں کے باغ اور اس میں بہتی نہروں کا بھی مطالبہ تھا، آسمان کے ٹکڑے کردینے اور اﷲ تعالیٰ اور فرشتوں کو بھی انکے سامنے لے آنے کا مطالبہ تھا۔گویا اب نہ تو زمین سے چشمہ جاری ہوسکتا ہے ،نہ کھجور اور انگور کے باغ اُگ سکتے ہیں،نہ ہی نعوذوباﷲ اﷲ تعالیٰ اور فرشتے ان کے سامنے آسکتے ہیں۔کافروں نے کتنے ہی انبیاء علیہم السلام سے عذاب لے آنے کا مطالبہ کیا ہے اور انبیاء علیہم السلام نے جواب دے دیا کہ یہ ہمارے بس میں نہیں،توانکے فلسفے کے مطابق اب اﷲ کا عذاب بھی نہیں آسکتا۔         وہ مالک کائنات ہے، ہر چیز پرقادر ہے ،وہ اپنے بندے محمد صلی اﷲ علیہ و سلم کو زندہ آسمانوں میں لے گیا ، اسی طرح اس نے عیسیٰ علیہ السلام کو اٹھالیا۔انہوں نے جو عقیدہ دیا ہے کہ وہ زندہ چڑھ گیا، وہ خود نہیں چڑھے بلکہ اﷲ نے اٹھایا ہے۔

پھر کہتے ہیں کہ ’’کیا اس سے یہ نتیجہ نہ نکلے گا کہ مسیح علیہ السلام آدمی نہیں تھے بلکہ خدا تھے‘‘۔ نبی صلی اﷲ علیہ و سلم معراج کے موقع پر آسمانوں پر گئے، فرشتے اﷲ کے پاس چڑھ کر اوپر جاتے ہیں، جن بھی آسمان دنیا تک پہنچ جاتے ہیں،یہ سب نعوذوباﷲ، اﷲ بن گئے؟        ایک لفظ یہ لوگ خصوصی طور پر استعمال کرتے ہیں کہ ’’زندہ بیٹھا‘‘ ہے۔ کہاں لکھی ہے یہ بات قرآن و حدیث میں،یہ تو عیسائیوں کا عقیدہ ہے کہ’’ وہ چڑھ گیا اپنے باپ کے پاس اور اسکے ساتھ بیٹھا ہے‘‘۔ہماراایمان تو صرف اتنا ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے انہیں اٹھا لیا۔

لیؤمننّ بہ قبل موتہ والی آیت سے استدلال :

﴿وَقَوۡلِهِمۡ إِنَّا قَتَلۡنَا ٱلۡمَسِيحَ عِيسَى ٱبۡنَ مَرۡيَمَ رَسُولَ ٱللَّهِ وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلَٰكِن شُبِّهَ لَهُمۡۚ وَإِنَّ ٱلَّذِينَ ٱخۡتَلَفُواْ فِيهِ لَفِي شَكّٖ مِّنۡهُۚ مَا لَهُم بِهِۦ مِنۡ عِلۡمٍ إِلَّا ٱتِّبَاعَ ٱلظَّنِّۚ وَمَا قَتَلُوهُ يَقِينَۢا١٥٧ بَل رَّفَعَهُ ٱللَّهُ إِلَيۡهِۚ وَكَانَ ٱللَّهُ عَزِيزًا حَكِيمٗا١٥٨ وَإِن مِّنۡ أَهۡلِ ٱلۡكِتَٰبِ إِلَّا لَيُؤۡمِنَنَّ بِهِۦ قَبۡلَ مَوۡتِهِۦۖ وَيَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ يَكُونُ عَلَيۡهِمۡ شَهِيدٗا١٥٩﴾

[النساء: 157-159]

’’اور یہ کہتے ہیں کہ ہم نے اللہ کے رسول عیسیٰ ؑ ابن مریم کو قتل کردیا۔ اور نہ تو انہوں نے اس کو قتل کیا نہ صلیب پر چڑھایا بلکہ یہ معاملہ انکے لیے مشتبہ بنادیا گیا اور جو لوگ اس میں اختلاف کرتے ہیں وہ اس کی طرف سے شک میں ہیں۔انکے پاس اس کے بارے میں کوئی علم نہیں سوائے گمان کی پیروی کرنے کے۔ اور یقینا  انہوں نے اسے قتل نہیں کیا بلکہ اللہ نے اسے اپنی طرف اٹھالیا، اور اللہ غالب اور حکمت والا ہے۔ اور اہل کتاب میں سے کوئی ایسا نہیں مگر اس کی موت سے پہلے اس پر ایمان لے آئے گا۔ اورقیامت کے دن وہ اس پر گواہ ہوں گے‘‘۔

جیسا کہ اس سے قبل تفصیلاً بیان کیا گیا ہے کہ اس آیت میں نزول عیسیٰ علیہ السلام کی طرف اشارہ ہے۔اب جو رفع ہی نہیں مانتے وہ نزول پر کیسے ایمان لا سکتے ہیں۔چنانچہ قادیانیوں کے ایجنٹ  محمدہادی نے لکھا ہے:

’’ اور ہر اھل کتاب اپنی موت سے پہلے اس پر یقین کرلے گا اور روز قیامت ان پر گواہ ہوں گے، اس آیت میں قبل موتہ میں ضمیر کا مرجع عیسیٰ علیہ السلام کو قرار دینا قرآن کی روشنی میں صحیح نہیں کیونکہو یوم القیمۃ یکون علیھم شھیدا  کا اگریہ معنی کیا جائے کہ عیسیٰ علیہ السلام ان اھل کتاب پر گواہی دیں گے تویہ غلط ہے۔اب جبکہ عیسیٰ علیہ السلام پر نزول کے بعد لوگ ایمان لائیں پھر تو یہ امت عیسیٰ علیہ السلام کی ہوئی اور جب آپ ان لوگوں پر شھادت بھی دیں تو ’’خاتم النبین‘‘ آپ ٹھہرے نہ کہ محمد ﷺ جو کہ قرآن کے خلاف ہے نیز گواہی مجرموں پر دی جاتی ہے نہ کہ ایمان والوں پر…… تو بات واضح ہے کہ آیت میں ضمیر کتابی کی طرف راجع ہے نہ کہ عیسیٰ علیہ السلام کی طرف،آیت میں عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کی کوئی بات ہی نہیں لیکن لوگ بغیر سوچے سمجھے اﷲ پر ظلم کرتے ہیں‘‘۔                                                         ( عقیدہ خاتم النبین،صفحہ ۱۱)

ملاحظہ فرمایا قارئین! کہ آخری محاذ تک یہ گروہ قادیانیوں کیلئے لڑ رہا ہے۔جن باتوں میں قادیانیوں نے شک میں ڈالا ہوا ہے موصوف ان شکوک کو قرآن سے ثابت کررہا ہے۔ حقیقت یہ کہ ’’ہ‘‘ کی یہ ضمیر عیسیٰ علیہ السلام ہی کیلئے ہے۔ آپ دیکھیں قرآن کی آیات میں تسلسل سے انہی کا ذکر ہو رہا ہے؛

وَقَوۡلِهِمۡ إِنَّا قَتَلۡنَا ٱلۡمَسِيحَ عِيسَى ٱبۡنَ مَرۡيَمَ رَسُولَ ٱللَّهِ’’اور یہ کہتے ہیں کہ ہم نے اللہ کے رسول عیسیٰ ؑ ابن مریم کو قتل کردیا‘‘ ، وَمَا قَتَلُوهُ’’اور انہوں نے اس کو قتل نہیں کیا‘‘،وَمَا صَلَبُوهُ’’اورنہ اسے صلیب پر چڑھایا ‘‘،وَمَا قَتَلُوهُ يَقِينَۢا   ’’اور یقینا انہوں نے اسے قتل نہیں کیا‘‘  ، بَل رَّفَعَهُ ٱللَّهُ إِلَيۡهِۚ  ’’ بلکہ اللہ نے اسے اٹھالیا  اپنی طرف‘‘ ، إلَيُؤۡمِنَنَّ بِهِۦ’’اس پر ایمان لے آئے گا‘‘، قَبۡلَ مَوۡتِهِ’’اس کی موت سے پہلے‘‘، وَيَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ يَكُونُ عَلَيۡهِمۡ شَهِيدٗا  ’’اورقیامت کے دن وہ اس پر گواہ ہوں گے‘‘۔

بتائیے اس آیت میں تسلسل سے کس کا ذکر کیا جارہا ہے۔کس کیلئے دعویٰ کیا  گیا تھا کہ اسے ہم نے قتل کردیا،کسی کیلئے اﷲ تعالیٰ نے فرمایاکہ نہ انہوں نے اسے قتل کیا ہے اور نہ ہی اسے صلیب چڑھایا ہے۔پھر شدید انداز میں ایک بار پھر کس کے قتل(موت) کی نفی کی گئی،کس کیلئے کہا گیا کہ اﷲ نے اسے اٹھا لیا ہے۔کس کیلئے فرمایا گیا کہ ہر اہل کتاب اس پر ایمان لے آئے گا؟کون ان کے ایمان لانے کی گواہی قیامت کے دن دے گا۔ ’’ ہ ‘‘ کی یہ ساری ضمیریں عیسیٰ علیہ السلام ہی کی طرف نسبت کرتی ہیں۔ واضح ہوا کہ قبل موتہ کے الفاظ عیسیٰ علیہ السلام کی موت کیلئے ہی ہیں۔ اب اگرموصوف کا یہ عقیدہ ہے کہ ’’ہ‘‘ کی یہ ضمیر اہل کتاب کیلئے ہے تو پھر اس کا ترجمہ یہ ہوگا کہ ہراہل کتاب اپنی موت سے پہلے ان (عیسی ؑ) پر ایمان لے آئے گا۔

گویا کہ عیسیٰ علیہ السلام کے زمانے سے لے کر آج تک جتنے بھی اہل کتاب مرے ہیں وہ سب ایمان دار تھے! کوئی اہل کتاب کفر و شرک کی حالت میں نہیں مرا۔پھر تویقینا موصوف نے حال میں وفات پانے والے پوپ جان پال کی صلوٰۃ المیت باجماعت ادا کی ہوگی!

حیرت ہے کہ اس بات کا نبی صلی اﷲ علیہ و سلم کو بھی پتہ نہ تھا کہ ہر اہل کتاب اپنی موت سے پہلے مومن بن جاتا ہے۔ وہ تو رحمت للعٰلمین بنا کر بھیجے گئے تھے وہ کیوں نہ دعا کرتے ان مومنوں کی مغفرت کیلئے۔احادیث سے پتہ چلتا ہے کہ نبی صلی اﷲ علیہ و سلم مومن کیلئے مستریحٌ’’یہ آرام پاگیا‘‘ اور کفار کیلئے  مستراحٌ  ’’زمین اس سے آرام پا گئی‘‘ فرمایا کرتے تھے۔اﷲ تعالیٰ اور نبی صلی اﷲ علیہ و سلم تو یہود و نصاریٰ پر لعنت بھیج رہے ہیں اور موصوف ان کو مومن بنا رہا ہے۔گویا اس بارے میں جو علم ان لوگوں کو ہے وہ نعوذوباﷲ نبی صلی اﷲ علیہ و سلم تک نہیں پہنچا تھا۔ نعوذوباﷲ من ذالک  وہ مومنوں کو کافر ہی سمجھتے رہے۔

ایک بات اور بھی قابل غور ہے ،اگر یہی عقیدہ بنایا جائے کہ ہر اہل کتاب اپنی موت سے پہلے ان پر ایمان لے آتا ہے،تو قرآن کے اس بیان کو کہاں لے جائیں گے کہ وہ قیامت کے دن ان کے اس ایمان کی گواہی دیں گے۔بقول ان کے عیسیٰ علیہ السلام وفات پا چکے۔وفات شدہ لوگوں کا اس دنیا سے کوئی تعلق رہتا ہی نہیں۔  یعنی عیسیٰ علیہ السلام کو پتہ بھی نہیں ہوگا کہ کون کون (بقول انکے ) میری موت کے بعد مجھ پر ایمان لایا تھا ۔ جب عیسیٰ علیہ السلام کو پتہ ہی نہیں تو وہ ان کے ایمان کی گواہی کیسے دیں گے ؟  کہاں لے کر جائیں گے یہ لوگ اﷲ کی باتوں کو!

اﷲ کے فرمان کو ’’باطل‘‘ ٹھہرانے کی کوشش کرتے ہو ئے انہوں نے لکھا ہے کہ اگر اہل کتاب عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان لائیں گے تو وہ پھر نبی صلی اﷲ علیہ کے بجائے عیسیٰ علیہ السلام کے امتی ہوئے اور خاتم النبین محمد صلی اﷲ علیہ و سلم نہیں عیسیٰ علیہ السلام ہوئے۔قادیانی حضرات اور منکرین حدیث سے یہ پوچھا جائے کہ اہل کتاب کا عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان لانے کا کیا مطلب ہے؟ انہیں تو غالباً اس کا کوئی علم ہی نہیں ہوگا کیونکہ یہ تو حدیث رسول صلی اﷲ علیہ و سلم کو رد کرنے کیلئے ہی قرآن کی آیات کی غلط تاویلات کرتے ہیں۔ آئیے اس بابت حدیث رسول کا مطالعہ کریں:

مَنْ قَال لَا اِلٰہَ الِّا اﷲُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ وَاَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدَہُ وَرَسُوْلُہٗ وَ اَنَّ عِیْسٰے عَبْدُ اﷲِ وَابْنُ اَمَتِہٖ وَکَلِمَتُہٗ اَلْقَاھَآ اِلٰی مَرْیَمَ وَرُوْحٌ مِّنْہُ وَاَنَّ الْجَنَّۃَ حَقٌ وَّ النِّارَ حَقٌ اَدْخَلَہُ اﷲُ مِنْ اَیِّی اَبْوَابِ الْجَنَّۃِ التَّمَانِیَۃِ شَآئَ

(مسلم: کتاب الایمان،باب الدلیل علی ان…قطعا)

’’نبی صلی اﷲ علیہ و سلم نے فرمایا جس نے کہا : ’’نہیں ہے کوئی معبود سوائے اﷲ کے جو اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں،اور محمد اﷲ کے بندے اور اس کے رسول ہیں اور یہ کہ عیسیٰ ؑ اس کے بندے،اپنی ماں کے بیٹے ہیں،اور پیدا ہوئے اس سے جو اﷲ نے مریم کی طرف ڈالی تھی اورروح اﷲ ہیں۔ اور بیشک جنت حق ہے اور جہنم حق ہے‘‘ تو اﷲ  اسے جنت کے آٹھ دروازوں میں سے جس سے  وہ چاہے داخل کرے گا‘‘۔

اس بارے میں جوگمراہی ان لوگوں نے پھیلانے کی کوشش کی تھی اﷲ تعالیٰ نے ا س کا جواب پندرہ سو سال پہلے دے دیا تھا، لیکن جن کا دل ہی اندھا ہوچکاہو وہ ہدایت کا راستہ کیسے پا سکتے ہیں۔اس حدیث کی روشنی میں ان سے پوچھا جائے کہ کون ہے خاتم النبین، یہ کس کی امت ہوئی؟ پھر انہوں نے مزید جو لکھاہے اسے پڑھ کر تو ہم لرز ہی گئے۔ لکھا ہے:نیز گواہی مجرموں پر دی جاتی ہے نہ کہ ایمان والوں پر‘‘استغفراﷲ ثم استغفراﷲ۔  کیا حوصلہ ہے انکا!  خالق کائنات،ر بُّ العالمین،جنت و جہنم کا بنانے والا فرمائے کہ عیسیٰ علیہ السلام اہل کتاب کے ایمان لانے کی گواہی دیں گے اور یہ اﷲ کی بات جھوٹاثابت کرنے کیلئے کہتے ہیں گواہی ایمان والوں پر نہیں مجرموں پر دی جاتی ہے۔انہوں نے توکفار مکہ کو بھی مات دیدی۔ہم اپنے آپ کو بے بس پاتے ہیں کہ اس پر کوئی تبصرہ کریں۔

سورۂ آل عمران کی آیت جو اس سے قبل بیان کی جاچکی ہے اس بات کو مکمل طور پر واضح کرتی ہے:

﴿۞فَلَمَّآ أَحَسَّ عِيسَىٰ مِنۡهُمُ ٱلۡكُفۡرَ قَالَ مَنۡ أَنصَارِيٓ إِلَى ٱللَّهِۖ قَالَ ٱلۡحَوَارِيُّونَ نَحۡنُ أَنصَارُ ٱللَّهِ ءَامَنَّا بِٱللَّهِ وَٱشۡهَدۡ بِأَنَّا مُسۡلِمُونَ﴾

[آل عمران: 52]

’’ جب عیسیٰ ؑ ان (بنی اسرائیل) کی طرف سے محسوس کیا کہ وہ کفر پر آمادہ ہیں تو کہا ،کون اﷲ کی راہ میں میرا مدد گار۔حواریوں نے کہا ہم ہیں اﷲ کی راہ کے مدد گار،ہم اﷲ پر ایمان لاتے ہیں اور آپ گواہ رہیں کہ ہم ﷲکے مسلم ہیں‘‘۔

دیکھیں یہاں بتایا گیا ہے کہ حواریوں نے کہا آپ ؑ ہمارے ایمان لانے پر اﷲ کے ہاں گواہی دیجئے گا کہ ہم مسلم تھے۔ قرآن کے اس واضح بیان کے بعد کیا کوئی شخص یہ عقیدہ رکھ سکتا ہے جو موصوف بیان کررہے ہیں۔ یہ ہے منکر قرآن و حدیث محمد ہادی جو کھلم کھلا قرآن کا انکار کرہا ہے۔  اسی آیت کے حوالے سے علامہ عمادی  ( منکر حدیث )بھی کچھ کہتے ہیں،ملاحظہ فرمائیں:

’’اس کے یہی معنی ہیں کہ وہ واقعی اہل کتاب ہیں یعنی اپنی کتاب کی تلاوت کا حق ادا کرتے ہیں۔ اور اپنی کتاب (انجیل) پر ایمان رکھتے ہیں ان کا ایمان ان کو مجبور کرے گا کہ وہ مرنے سے پہلے حضرت عیسیٰ ؑ کے قتل و تصلیب کے عقیدے سے توبہ کرلیں اور ان کے قتل نہ کئے جانے اور سولی نہ دیئے جانے پر ایمان لے آئیں اور اس پر ایمان رکھنے لگیں کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے اگلے انبیاء اعلیھم السلام کو اپنی طرف اٹھالیا۔ یعنی اللہ نے ان کو وفات دی اور انہوں نے وفات پائی‘‘۔

یعنی ،یعنی کی تکرار کسی الجھے ہوئے ذہن کی عکاسی کررہی ہے۔ کوئی صاف ذہن والا انسان اس آیت کا ایسا مطلب ہرگزاخذ نہیں کرسکتا۔ سمجھ نہیں آتا کہ علامہ صاحب نے کونسی کتاب کی تلاوت کا کہا ہے۔ اگر اس کتاب سے ان کا مقصد وہ اصل انجیل ہے جو عیسیٰ علیہ السلام پر نازل ہوئی تھی ۔ تو آج کے دور میں نہ تو اصل انجیل ہے اور نہ ہی کوئی سچا اہل کتاب ۔ اگر کسی سچے اہل کتاب کے پاس اصل انجیل کا نسخہ موجود بھی ہوتو چونکہ واقعہ صلیب جیسا بھی ہے، بہر طور نزول انجیل کے بعد کا ہے۔

ظاہر ہے کہ اس کی تلاوت سے کسی سچے اہل کتاب کیلئے یہ بات ممکن نہیں کہ وہ اس واقعہ کی حقیقت تک پہنچ سکے۔ جب حقیقت ہی معلوم نہ ہوگی تو سچا اہل کتاب عیسیٰ علیہ السلام کے قتل وتصلیب کے مروجہ عقیدے سے کیونکر تائب ہوگا۔اور اگر اس کتاب سے موصوف کی مراد وہ اناجیل اربعہ ہیں جو عیسیٰ علیہ السلام کے بعد لکھی گئی ہیں تو ان کی تلاوت سے عیسیٰ علیہ السلام کے قتل و تصلیب کے مروجہ عقیدے کو اور تقویت ملتی ہے کیونکہ یوحنا کی انجیل میں صاف لکھا ہے کہ یسوع نے صلیب پرجان دی اور متی کی انجیل میں تو واقعہ صلیب شروع سے آخر تک بڑے ہی درد ناک انداز میں بیان کیا گیا ہے۔بالخصوص اس کی یہ عبارت تو بہت ہی کربناک ہے، ملاحظہ فرمائیے:

’’ اور دوپہر سے تیسرے پہر تک تمام ملک میں اندھیرا چھا یا رہا۔ اور تیسرے پہر یسوع نے چلا کر کہا:ایلی، ایلی لما شقبتنی :یعنی اے خدا ۔اے خداتو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا جو لوگ وہاں کھڑے تھے ان میں سے بعض نے سن کر کہا یہ ایلیاہ کو پکارتا ہے اور فوراً ان میں سے ایک شخص دوڑا اور سپنچ لے کرسرکہ میں ڈبویا اور سرکنڈے پر رکھ کر اسے چسایا۔مگر باقیوں نے کہا ذرا ٹھہرجا۔ دیکھ تو ایلیاہ اسے بچانے آتا ہے یا نہیں۔ پھر یسوع نے بڑی آواز سے چلا کر جان دی۔او ر مقدس کا پردہ اوپر سے نیچے تک پھٹ گیا۔ اور زمین لرزی اور چٹانیں تڑک گئیں اور قبریں کھل گئیں……‘‘۔   (متی کی انجیل۔ باب27آیات45تا53کتاب مقدس۔ شائع کرہ بائیبل سوسائٹی انار کلی ۔لاہور)

بتائیے! دل دہلادینے والی یہ عبارت پڑھ کر کون اہل کتاب ہوگا جو یہ تسلیم کرے گا کہ عیسیٰ علیہ السلام نے طبعی موت سے وفات پائی۔ اس سے تو اہل کتاب کا یہ عقیدہ اور پختہ ہوتا ہے کہ عیسیٰ علیہ اسلام نے صلیب پر جان دی۔ چنانچہ عمادی کا یہ مفروضہ قطعاً غلط ہے ۔ یہ مفروضہ تو محض اٹکل پچو ہے۔ قرآن کے الفاظ اس مفروضے کے متحمل نہیں ہیں۔

قادیانی  اور منکر قرآن و حدیث  ہادی عیسیٰ علیہ السلام کے رفع کو جھوٹ ثابت کرنے کے لئے ایک اور  معاملہ اٹھاتے ہیں ۔سورہ مریم میں ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کو زندگی بھر صلواۃ  قائم کرنے اور زکواۃ کا حکم دیا گیا تھا :

﴿وَجَعَلَنِي مُبَارَكًا أَيۡنَ مَا كُنتُ وَأَوۡصَٰنِي بِٱلصَّلَوٰةِ وَٱلزَّكَوٰةِ مَا دُمۡتُ حَيّٗا﴾

[مريم: 31]

’’مجھے صلوٰہ اور زکواۃ کا حکم ہے جب تک میں زندہ رہوں‘‘

سورۂ مریم کی ایک  یہ آیت محمد ہادی نے اپنی کتاب کے صفحہ نمبر ۲۳ پر انہی دلائل کے تسلسل میں پیش کی ہے۔اس آیت کی تشریح میں محمد ہادی   کا روحانی استاد  ( قادیانی )نے لکھا ہے:

’’ استدلال: یہ آیت فیصلہ کرتی ہے کہ اپنی زندگی کے زمانے میں حضرت عیسیٰ ؑ نماز پڑھتے تھے اور زکوٰۃ بھی دیا کرتے تھے اب چونکہ وہ وفات پاچکے ہیں۔اور دارلعمل میں نہیں رہے بلکہ خداتعالیٰ کے پاس جنت میں ہیں۔لہٰذا اب ان پر نہ نماز فرض ہے نہ زکوٰۃ،جیسا کہ ہر انسان پر شریعت کی تکلیف زندگی میں ہوتی ہے نہ کہ مرنے کے بعد۔

دوسرا اگر وہ آسمان پر زندہ فرض کئے جائیں اور ان احکام کی پابندی ان پر اب بھی ضروری تجویز کی جائے تو ماننا پڑتا ہے کہ انکے پاس آسمان پر روپیہ بھی ہو اور زکوٰۃ وصول کرنے والوں کا یک گروہ بھی موجود ہو اور یہ باتیں بالبدایت محال ہیں۔اسی طرح اگر حضرت عیسیٰ ؑ اب بھی آسمان پر نماز پڑھتے ہیں تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ کونسی نماز پڑھتے ہیں۔ اسلامی نماز یا اسرائیلی نماز۔اگر کہا جائے اسرائیلی تو وہ قرآن کے بعد منسوخ ہوچکی اگر کہا جائے اسلامی نماز،تو اس کی ان کو خبر کیسے ہوئی۔بہر حال یہ آیت بھی حضرت عیسیٰ ؑ کی وفات پر دلالت کرتی ہی‘‘۔(حضرت مسیح عیسیٰ کا وصال،صفحہ ۱۴۔۱۵)

دراصل شیطان کا کام انسانوں کی دلوں میں شکوک و شبہات پیدا کرنا ہے،اور اس مشن کیلئے وہ شیاطین من الانس کو بھی استعمال کرتا ہے ۔اﷲ تعالیٰ سورۂ کہف  میں فرماتا ہے:

﴿وَلَقَدۡ صَرَّفۡنَا فِي هَٰذَا ٱلۡقُرۡءَانِ لِلنَّاسِ مِن كُلِّ مَثَلٖۚ وَكَانَ ٱلۡإِنسَٰنُ أَكۡثَرَ شَيۡءٖ جَدَلٗا٥٤ وَمَا مَنَعَ ٱلنَّاسَ أَن يُؤۡمِنُوٓاْ إِذۡ جَآءَهُمُ ٱلۡهُدَىٰ وَيَسۡتَغۡفِرُواْ رَبَّهُمۡ إِلَّآ أَن تَأۡتِيَهُمۡ سُنَّةُ ٱلۡأَوَّلِينَ أَوۡ يَأۡتِيَهُمُ ٱلۡعَذَابُ قُبُلٗا﴾

[الكهف: 54-55]

’’ ہم نے اس قرآن میں لوگوں کو طرح طرح سے سمجھایا مگر انسان بڑا ہی جھگڑالو ہے۔ان کے پاس جب بھی ہدایت آئی اسے ماننے اور اﷲ سے استغفار کر نے میں آخر کیا چیز رکاوٹ ہے،سوائے اس کے کہ وہ اب اس بات کا انتظار کر ہے ہیں کہ ان کے ساتھ بھی وہی کچھ ہو جو پچھلی قوموں کے ساتھ ہوا ہے۔یا یہ کہ وہ اﷲ کا عذاب سامنے سے آتادیکھ لیں‘‘۔

اﷲ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں انسان کو مثالیں دے دے کر سمجھایا لیکن ساتھ یہ بھی بتا دیا کہ اے نبی صلی اﷲ علیہ و سلم تم ان کو نہیں سنا سکتے جو بمانند مُردہ ہوں۔ دیکھیں قرآن سے منہ موڑنے والے کس کس انداز میں اﷲ کے بیان کردہ کو جھٹلانے میں لگے ہوئے ہیں، اﷲ نے اسی قرآن میں اصحاب کہف کا واقعہ بیان کر کے اس کیفیت کی وضاحت کردی ہے۔

سورۂ کہف میں اﷲ تعالیٰ نے ان چند نوجوانوں کا ذکر فرمایا جو اپنے ایمان کو بچانے کیلئے ایک غار میں چھپ گئے تھے۔ انہوں نے اﷲ تعالیٰ سے دعا کی کہ اے مالک ہم پر رحم فرما ، تو اﷲ تعالیٰ نے انہیں اسی غار میں سلا دیا۔نہ جانے کتنے طویل عرصے کے بعد انہیں اٹھایا ۔اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿۞وَتَرَى ٱلشَّمۡسَ إِذَا طَلَعَت تَّزَٰوَرُ عَن كَهۡفِهِمۡ ذَاتَ ٱلۡيَمِينِ وَإِذَا غَرَبَت تَّقۡرِضُهُمۡ ذَاتَ ٱلشِّمَالِ وَهُمۡ فِي فَجۡوَةٖ مِّنۡهُۚ ذَٰلِكَ مِنۡ ءَايَٰتِ ٱللَّهِۗ مَن يَهۡدِ ٱللَّهُ فَهُوَ ٱلۡمُهۡتَدِۖ وَمَن يُضۡلِلۡ فَلَن تَجِدَ لَهُۥ وَلِيّٗا مُّرۡشِدٗا١٧ وَتَحۡسَبُهُمۡ أَيۡقَاظٗا وَهُمۡ رُقُودٞۚ وَنُقَلِّبُهُمۡ ذَاتَ ٱلۡيَمِينِ وَذَاتَ ٱلشِّمَالِۖ وَكَلۡبُهُم بَٰسِطٞ ذِرَاعَيۡهِ بِٱلۡوَصِيدِۚ لَوِ ٱطَّلَعۡتَ عَلَيۡهِمۡ لَوَلَّيۡتَ مِنۡهُمۡ فِرَارٗا وَلَمُلِئۡتَ مِنۡهُمۡ رُعۡبٗا١٨ وَكَذَٰلِكَ بَعَثۡنَٰهُمۡ لِيَتَسَآءَلُواْ بَيۡنَهُمۡۚ قَالَ قَآئِلٞ مِّنۡهُمۡ كَمۡ لَبِثۡتُمۡۖ قَالُواْ لَبِثۡنَا يَوۡمًا أَوۡ بَعۡضَ يَوۡمٖۚ قَالُواْ رَبُّكُمۡ أَعۡلَمُ بِمَا لَبِثۡتُمۡ فَٱبۡعَثُوٓاْ أَحَدَكُم بِوَرِقِكُمۡ هَٰذِهِۦٓ إِلَى ٱلۡمَدِينَةِ فَلۡيَنظُرۡ أَيُّهَآ أَزۡكَىٰ طَعَامٗا فَلۡيَأۡتِكُم بِرِزۡقٖ مِّنۡهُ وَلۡيَتَلَطَّفۡ وَلَا يُشۡعِرَنَّ بِكُمۡ أَحَدًا١٩﴾

[الكهف: 17-19]

’’ تم انہیں غار میں دیکھتے تو تمہیں ایسا نظر آتا کہ سورج نکلتا ہے تو ان کے غار کو چھوڑ کر دائیں طرف چلا جاتا ہے،اور جب غروب ہوتا ہے تو انہیں چھوڑ کر بائیں جانب چلا جاتا ہے۔اور وہ غار کی اندر کھلی جگہ میں پڑے ہوئے تھے۔یہ اﷲ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے ۔اﷲ جسے ہدایت دے وہی ہدایت پانے والا ہے اور جسے اﷲ بھٹکا دے اس کا تمہیں کوئی مدد گار نہ ملے گا۔ انہیں دیکھ کر تم یہ سمجھتے کہ وہ جاگ رہے ہیں حالانکہ وہ سو رہے تھے۔ہم انہیں دائیں بائیں کروٹیں بدلواتے تھے اور ان کا کتا غار کے دہانے پر پاؤں پھیلائے بیٹھا تھا اگر کہیں تم جھانک کر دیکھ لیتے تو الٹے پاؤں بھاگ جاتے اور تم پر ان کے نظارے سے دہشت بیٹھ جاتی۔ اور اسی طرح ہم نے انہیں اٹھا دیا تاکہ وہ آپس میں ایک دوسرے سے پوچھیں کہ کتنا عرصہ رہے،کہنے لگے شاید دن بھر یا اس سے کم،پھر کہنے لگے تمہارا رب ہی بہتر جانتا ہے کہ کتنا وقت اس حالت میں گزرا ہے۔‘‘

محمد ہادی اور قادیانی صاحبان بتائیں کہ صلوٰۃ اور زکوٰۃ کا حکم صرف عیسیٰ علیہ السلام کیلئے ہے اور کسی مومن کیلئے نہیں۔یہ اصحاب کہف جو اپنے ایمان کی حفاظت کیلئے اس غارمیں آئے تھے اس حکم سے مبرا تھے؟  انہوں نے کس طرح صلوٰۃ قائم کی، کس طرح سے زکوٰۃ دی؟ وہ مالک جو اسی زمین پر ایک غیرمعینہ مدت کیلئے انہیں سلادے، انہیں کروٹیں بدلواتا رہے۔سورج کی روشنی سے بھی ان کو بچا کے رکھے اس کیلئے یہ ممکن نہیں کہ وہ عیسیٰ علیہ السلام کو اس سے بہتر حالت میں رکھے۔عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں، لیکن ہمیں ان کی اس زندگی کا کوئی شعور نہیں۔اﷲ تعالیٰ کے بیان کردہ کو جھوٹا ثابت کرنے کیلئے اس قسم کے دلائل محض بھٹکے ہوئے ذہن کے عکاسی کرتے ہیں۔

نزول عیسیٰ علیہ السلام والی احادیث  پر اعتراضات :

منکر قرآن و حدیث محمد ہادی نے احادیث کو بھی تکتہ مشق بنانے کی کوشش کی۔      حدیث میں آتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام عادل حاکم کی حیثیت سے آئیں گے، یعنی نبی کی حیثیت سے نہیں آئیں گے لیکن موصوف یہ عقیدہ بیان کرتے ہیں کہ اب نبی صلی اﷲ علیہ و سلم آخری بشیر و نذیر نہ رہے۔       یہ ساری کوشش تو  احادیث کے انکار اورقرآن کی آیات کی غلط تشریحات کے ذریعے تھیں۔اس کے بعد موصوف نے ایک اور تیر چلایا ہے۔ ا ور اپنے تئیں یہ گمان کیا ہوگا کہ یہ تیر آگ کا کام دے گا اور لوگ شاید اس کے بعد اب کسی حدیث کو ہاتھ لگانا بھی پسند نہیں کریں گے۔انہوں نے اپنی اس کتاب میں ان احادیث کی سند پر جرح کرکے یہ تاثر دیا ہے کہ یہ احادیث کسی طور پر بھی قابل قبول نہیں۔چنانچہ لکھتے ہیں:

’’ اب یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ نزول کی روایات متن کے لحاظ سے قرآن کے خلاف ہیں اب اسناد پر کلام کرنے کی کوئی خاص حاجت تو نہیں کیونکہ اصول حدیث میں ہے کہ جس حدیث کا متن قرآن کے خلاف ہو اسکی سند اگر سورج کی طرح چمک رہی ہو تب بھی حدیث قابل رد ہے(المنار المنیف لابن قیم) لیکن اگر دیکھا جائے تو راویوں پر بھی کلام ہے۔پہلی روایت کی سند: …’’ابوہریرہ فرماتے ہیں رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا: قسم اس پروردگار کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے وہ زمانہ قریب ہے کہ مریم کے بیٹے عیسیٰ علیہ السلام تم لوگوں میں عادل حاکم ہو کر اتریں گے…

(1)(اسحٰق) اب دیکھئے درج بالا سند میں اسحاق کا ذکر امام بخاری نے بغیر ولدیت کے کیا ہے امام بخاری کئی اسحاق سے روایت لیتے ہیں اور یعقوب سے کئی اسحاق روایت لیتے ہیں۔اب جبکہ بعد کے لوگوں نے اسحاق بن راھویہ قرار دیا ہے جبکہ سند کی جہالت اپنی جگہ برقرار ہے۔

(عقیدہ خاتم النبین،صفحہ ۱۷۔۱۸)

اپنے اس بیان کے بعد انہوں نے اسحاق بن راھویہ پر جرح کر کے اس روایت کو مشتبہ قرار دیا۔حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے بغیر تحقیق کے یہ بات لکھ دی اور اپنی طرف سے اسے اسحق بن راھویہ قرار دے کر حدیث کو مشتبہ بنانے کی کوشش کی۔خیر ہم بتا دیتے ہیں کہ یہ اسحق کون ہے۔ اس راوی کا پورا نام اسحق بن ابراھیم بن مخلد ہے،ابو یعقوب اس کی کنیت ہے۔موصوف کے ممدوح احمد بن حنبل نے اسے من ائمۃ المسلین’’مسلمین کا ایک امام کہا ہے‘‘۔نسائی کہتے ہیں: احد الاٰ ئمۃ’’یعنی اماموں میں سے ایک ہے‘‘۔ ابن حبان:ذکرہ فی الثقات’’ان کا تذکرہ ثقہ رایوں میں کیا ہے‘‘۔محدثین نے اسکا رتبہ ثقہ حافظ ’’ایسی راویوں کی احادیث قابل حجت ہونگی‘‘ قرار دیا ہے۔

یہ وہی راوی ہے کہ جس کی روایات موصوف نے خود  اپنی کتاب’’اصلاح ایمان‘‘ کے صفحہ ۲۵ پر بیان کی ہے، لیکن افسوس اب یہ ضعیف ہو گیا ۔

اسی روایت کے دوسرے راوی ابراہیم بن سعد پر اس انداز سے جرح کی ہے:

’’… عقیل:ابراہیم۔ابن عدی نے اس کے چند غرائب یعنی نادر روایات جو زھری سے لیں ہیں بیان کی ہیں کہ وہ اسناد میں ادل بدل کرکے ایک تابعی کی جگہ دوسرے کا نام لیتا تھا) (ایضاً:۱۹)

قارئین: آپ نے ملاحظہ فرمایا ’’عقیل:ابراہیم‘‘۔ اب بتائیں کہ یہ جرح کس پر ہے۔ اس روایت میں عقیل نام کا راوی ہے ہی نہیں۔ اگر بقول ان کے یہ جرح ابراہیم بن سعد کیلئے ہے تو پھر اس روایت میں ابراہیم بن سعد براہ راست زھری سے روایت ہی نہیں کر رہا بلکہ صالح بن کیسان کی سند سے روایت کر رہا ہے،اس طرح ان کی یہ جرح بھی روایت کی سند کو غلط ثابت نہیں کرتی۔ دوسری بات یہ ہے کہ ابراہیم بن سعدکو احمد بن حنبل نے ثقہ احادیثیۃ مستقیمہ ’’ یعنی وہ ثقہ ہیں اور انکے روایات مفید ہیں‘‘کہا ہے،جبکہ یحییٰ بن معین نے اسے ثقہ حجۃ کہا،اور ابو حاتم، ابن عدی نے اسے ثقہ کہا ہے۔

انہوں نے ابن شھاب الزہری پر بھی اسی روایت کے حوالے سے جرح بیان کی ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ یہ ساری جرح اسی مشن کے تحت ہے کہ نزول عیسیٰ علیہ السلام والی احادیث کو باطل ٹھہرایا جائے ورنہ ان راویوں پر انکا مکمل اعتماد ہے اس کا ثبوت درکار ہو تو ان کی کتاب ’’اصلاح ایمان ‘‘ صفحہ ۲۴ پربخاری کتاب الدعوات کے حوالے سے بیان کردہ نبی صلی اﷲ علیہ و سلم کی حدیث کی سند دیکھ لیں:

حدثنا سعید بن عفیر قال: حدثنا اللیث قال: حدثنی عقیل، عن ابن شھاب اخبرنی سعید بن المسیب…

اپنی اس کتاب میں انہوں نے صفحہ نمبر ۹ پر مسلم کی ایک روایت کے الفاظ ان اﷲ یرفعہ… اپنی دلیل کے طور پر پیش کیے ہیں،ذرا اس کی سند بھی ملاحظہ فرمائیں:    حدثنی زھیر بن حرب حدثنا یعقوب بن ابراہیم حدثنی ابی عن ابن شھاب عن…      

دیکھاآپ نے !  اپنی اس کتاب میں موصوف نے زھری،ابراہیم بن سعد،عقیل پر جرح کی ہے اور خود اپنی کتابوں میں ان راویوں کی بیان کردہ روایت لکھ رہا ہے۔یہ ہے انکا انداز!  لکھتے ہیں کہ جب ابراہیم ۔ عقیل زھری سے روایت کرتاہے تو اسناد میں ادل بدل کردیتا ہے، لیکن خود وہ روایت بیان کرتے ہیں جس میں یہی راوی براہ راست زھری سے روایت کرتے ہیں ۔فاعتبروا یا اولی الابصار

بخاری کی دوسر ی روایت میں انہوں نے یحییٰ بن عبد اﷲ بن بکیر اوریونس بن یزید الایلی پر جرح کی ہے۔جبکہ الساجی اور الذھبی نے یحییٰ بن عبد اﷲ بن بکیر کو صدوق ’’سچا‘‘ کہا ہے۔ الملال نے اسے ثقہ کہا ،ابن حبان نے اسکا ذکر ثقہ روایوں میں کیا اور ابن عدی نے کہا : آیت الناس اللیث اسی طرح یونس بن یزید الایلی کو یحییٰ بن معین، النسائی،العجلی نے ثقہ قرار دیا، ابو زرعۃ الرازی نے کہا: لا باس بہٖ ’’ انکی روایات لینے میں کوئی حرج نہیں‘‘ ، عبد اﷲ بن مبارک : کتابہ صحیح، اور یعقوب بن شیبہ نے کہا کہ صالح الحدیث’’ ایسے راوی کی حدیث تحریر کرنے کے ساتھ ساتھ اسکی تحقیق کی جائے گی‘‘۔

بخاری کی تیسری روایت میں انہوں نے لیث بن سعد پر جرح کی ہے۔  لیکن ’’اصلاح ایمان‘‘ کے صفحہ نمبر 24 پر جو روایت بیان کی گئی ہے اس کی سندمیں یہی راوی شامل ہے۔ زھری پر تو یہ بہت ہی ناراض ہیں ،اور لگتا ہے کہ وہ تو اس کے نزدیک واجب القتل ہے کیونکہ ان تینوں روایات کی سند میں اس کا نام آتا ہے چنانچہ لکھتا ہے:

’’ زھری: کان یدلس فی النادر ( میزان ج ۴ صفحہ ۴۰) بعض اوقات تدلیس کرتا تھا۔

محدثین کہتے ہیں کہ (تدلیس کسی راوی یا روایت میں عیب چھپانا) عیب چھپانا کپڑا بیچنے میں حرام ہے تو حدیث میں تدلیس بدرجہا حرام ہے۔یہ ہیں وہ خلاف قرآن روایات کی اسناد کا حال جس پر ناسمجھوں نے عقیدہ استوار کیا ہے۔‘‘ (ایضاً: ۲۰)

لیکن قارئین اسی راوی کی روایات’’اصلاح ایمان ‘‘ میں بے جھجھک پیش کی گئی ہیں۔ہم نے اس سے قبل بھی اس راوی کی دو روایات کا ذکر کیا ہے جو انہوں نے اپنی کتب میں بیان کی ہیں ۔اس کے علاوہ ’’اصلاح ایمان‘‘ صفحہ۳۶ پر موسیٰ علیہ السلام والی روایت کی سند میں بھی یہ راوی شامل ہے اوراس کتاب کے صفحہ ۲۸ پر عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے رجوع کے بارے میں جو انہوں نے لکھا ہے تو وہ روایت بھی اسی راوی نے بیان کی ہے۔

اب کوئی ان سے پوچھے کہ ایسے روایوں کی روایات کے ذریعے یہ لوگ ’’اصلاح ایمان‘‘ کرتے رہے ہیں یا ’’بگاڑِ ایمان‘‘ ۔ اگر عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں بیان کردہ روایات کے راوی ابن شھاب لزھری،عقیل،ابراہیم بن سعد اور لیث بن سعد مجروح ہیں تو پھر اعلان کردیں کہ یہ راوی جھوٹے ہیں۔ آج تک انہوں نے جھوٹے راویوں کی سند سے روایتیں بیان کرکے لوگوں کے ایمان کو بگاڑا ہے!

         جب انکے مطلب کی بات ہو تو یہ راوی مانند فرشتہ ہے اور جب انکے غلط عقیدے کے خلاف بیان کرے تو یہ عیب چھپانے والادھوکہ باز بنا دیا جاتا ہے۔ حیرت ہے انکے ایمان کے منافی انداز فکر پر!       موصوف نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ صحابہ کرام ؓ  کا وفات عیسیٰ ؑ پر اجماع ہے۔کیسا اتہام ہے صحابہ کرام ؓ پر؟اس کی حقیقت تو ہم پہلے ہی واضح کرچکے ہیں۔

اس کے بعد ایک بے بنیاد بے سند قول سے امام مالک کے متعلق بھی لکھا ہے کہ وہ بھی وفات عیسیٰ علیہ السلام کے قائل تھے۔ پھر چند افراد کے نام لکھے ہیں کہ کہ یہ بھی اس عقیدے کے حامل تھے۔الغرض کہ اس پندرہ سو سال کے طویل عرصہ میں یہی چند لوگ انہیں ہم عقیدہ مل سکے ہیں۔ہمارا ان سے سوال ہے کہ کیا یہی لوگ دین میں حجت ہیں؟پندرہ سو سال میں یہ چند افراد ہی دین کے سمجھنے والے تھے۔ دلیل ہی دینی تھی تو نبی صلی اﷲ علیہ و سلم کا قول پیش کرتے،صحابہ کرام رضی اﷲ تعالیٰ عنہم ،تابعین و تبع تابعین کے اقوال صحیح احادیث کے حوالے سے بیان کرتے۔ انہوں نے اپنے گمراہ پیش روؤں کی اندھی تقلید کرتے ہوئے محض چندمن گھڑت اور بے سند اقوال بیان کرکے گویا اپنا مقصد پا لیا۔ سند کے ساتھ بیان کی جانی والی احادیث رسولؐ پر ان اقوال کو فوقیت دی اوران اقوال کی بنیاد پر قرآن کے بیان کردہ عقیدے اور موقف کو جھٹلانے کی کوششیں کیں۔ اس سلسلے جو کوششیں یہود و نصاری نے کی ہیں انہوں نے تو ان کو بھی مات دیدی۔

منکر قرآن و حدیث کے سوالات کا جواب:

آخر میں ہم موصوف کے ان سوالات کا مختصراً جواب بھی دے دیں جو انہوں نے کتاب کے آخری صفحے پرلکھے ہیں۔ یہ وہی سولات ہیں جو قادیانیوں کی اکثر کتب میں مختلف انداز میں کئے گئے ہیں۔ الحمد ﷲ !تمام سوالات کا مکمل جواب اس مضمون میں موجود ہے۔ لیکن چونکہ ایک خاص اندازمیں یہ سوالات کیے گئے ہیں اس لیے ہم مختصراً ان کا جواب دے دیتے ہیں۔

سوال نمبر 1۔ عیسی علیہ السلام کا دوبارہ نزول نبی و رسول کی حیثیت سے ہوگا یا امتی کی حیثیت سے؟

سوال نمبر 2۔ اگر عیسیٰ علیہ السلام ایک امتی کی حیثیت سے تشریف لائیں گے تو کیا کسی امتی کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ سارے اہل کتاب اور غیر مسلموں سے کہے کہ مجھ پر ایمان لاؤ؟

سول نمبر 3 ۔قرآن حکیم میں جہاں ساری انسانیت اور اہل کتاب کو دعوت اسلام دی گئی ہے کیا وہاں یہ بات ان سے کہی گئی ہے کہ تم ا یک امتی ( عیسیٰ علیہ السلام) پر بھی ایمان لانا؟

سوال نمبر4۔ کیا قرآن و حدیث میں یہ لکھا ہوا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کا نزول بطور امتی ہوگا؟

سوال نمبر 5۔ عیسیٰ علیہ السلام کو دوبارہ نزول کے وقت ‘‘نبی‘‘ کے بجائے ’’امتی‘‘ ماننے سے انکی نبوت کا انکار تو لازم نہیں آئے گا؟ (کیونکہ بذبان عیسیٰ علیہ قرآن حکیم میں سورۂ مریم آیت ۳۰ میں ہے وجعلنی نبیاً اور اس(اﷲ) نے مجھے نبی بنایا ہے)

سوال نمبر 6۔اگر عیسیٰ علیہ السلام نبی اور رسول کی حیثیت سے آئیں گے تو اسوقت آخری نبی عیسیٰ علیہ السلام ہوں گے یا محمد صلی اﷲ علیہ و سلم؟ کیا محمد صلی اﷲ علیہ و سلم کی بعثت کے بعد بھی کسی نبی یا رسول کی ضرورت ہے؟

سوال نمبر7 چ۔ اگر تمام انبیاء علیہم السلام کے آخر میں آنے والی ہستی عیسیٰ علیہ السلام کو مانا جائے تو محمد صلی اﷲ علیہ و سلم کے اس فرمان کا فانی آخر الانبیاء لا نبی بعدی( میں تمام نبیوں کے آخر پر ہوں اور میرے بعد کسی قسم کا کوئی نبی نہیں ہوگا) کا کیا معنی و مفہوم ہوگا؟

ان سوالات نما اعتراضات کا ازلہ

عیسیٰ علیہ السلام کیلئے نبی و امتی کی جو یہ بحث چھیڑی گئی ہے یہ محض قادیانیوں کا پھیلایا ہوا ایک فتنہ ہے کیونکہ انکا یہ عقیدہ ہے کہ مسیح(جو نازل ہوگا) وہ نبی صلی اﷲ علیہ و سلم کا امتی ہوگا۔ چنانچہ محمدہادی نے ان کے ایجنٹ کے طور پر یہ سولات اپنی اس کتاب میں نمایاں طور پر شائع کر دیے تاکہ لوگ شکوک و شبہات کا شکار ہو کر نزول عیسیٰ علیہ السلام کا انکار کردیں اور قادیانیت کیلئے راہ مکمل طور پر ہموار ہو جائے۔

عیسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل میں بحیثیت ایک نبی و رسول مبعوث فرمائے گئے۔ان کی نبوت و رسالت صرف اسی قوم کیلئے تھی جبکہ نبی صلی اﷲ علیہ و سلم کی نبوت و رسالت قیامت تک کیلئے ہے۔اب یہ ساری امت ،امت محمدیہ صلی اﷲ علیہ و سلم ہے۔عیسیٰ علیہ السلام کا رفع ہوا ہے ۔ انہیں اس دنیا میں واپس بھیجا جائے گا جہاں وہ اپنی زندگی کی باقی مدت پورا کریں گے۔ وہ نبی تھے ،نزول کے بعد بھی نبی ہی ہوں گے ۔لیکن چونکہ ان کی نبوت ذمہ داری صرف بنی اسرئیل تک محدود تھی اس لیے اس امت میں وہ بحیثیت حاکم آئیں گے۔ یہ سارا معاملہ معجزاتی ہے،انسان کی عقل و فہم سے باہر ہے،جو کچھ قرآن و حدیث سے ملتا ہے اسی پر ایمان لانا ہے۔

ان پر ایمان لانے کے کاکیا تقاضا ہے اس مضمون میں اس کی وضاحت موجود ہے۔یہ کہنا کہ نبی صلی اﷲ علیہ و سلم کی مدد کیلئے ان کو بھیجا گیا ہے محض شیطانی شوشہ ہے۔         پھر یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ کیسے نبی ؑ ہونگے کہ انکی نبوت ہی نہیں چلے گی۔یہ بھی محض ایک گمراہ کن شوشہ ہے۔ ہر نبی کا ایک منصب اور ذمہ داری ہوتی ہے جسکو پورا کرکے وہ اﷲ کے یہاں ایک مقام پالیتا ہے۔

پچھلے انبیاء ؑ کی نبوت ان کی امتوں تک تھی اور نبی صلی اﷲ علیہ و سلم کی نبوت قیامت تک کیلئے نافذ العمل ہے۔جس طرح پچھلے انبیاء کی نبوت ختم ہو جانے کے بعد بھی وہ نبی کہلاتے ہیں اسی طرح نبی صلی اﷲ علیہ و سلم بھی قیامت کے دن اپنی نبوت ختم ہوجانے کے بعد بھی نبی ہی کہلائیں گے۔ لا نبی بعدی کا مطلب یہ ہے کہ نبی صلی اﷲ علیہ و سلم کے بعد اب کسی بھی شخص کو نبی بنا کر نہیں بھیجا جائے گا۔عیسیٰ علیہ السلام جنکا اﷲ تعالیٰ نے رفع فرمایا ہے انکے نزول کے متعلق یہ کہنا کہ کوئی پہلے کانبی بھی نہیں آسکتا،محض شیطانی شوشہ ہے کیونکہ حدیث بتاتی ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں اور حدیث ہی بیان کرتی ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کا نزول ہوگا۔

مزید سوالات :

سوال نمبر 8۔عیسیٰ علیہ السلام کا آسمانوں پر اٹھا یا جانا اور وہاں صدیوں رہنا اور پھر زمین پر نزول فرمانا اﷲ کی نعمتوں میں سے ہے یا نہیں؟

سوال نمر 9۔اگر نعمتوں میں سے ہے تو قیامت کے دن عیسیٰ علیہ السلام کو اپنی نعمتیں یاد کرائے گا ان نعمتوں میں عیسیٰ علیہ السلام کا آسمانوں پر اٹھایا جانا پھر زمین پر نزول فرمانے کا کوئی ذکر نہیں ہے اس کی کیا وجہ ہے؟

سوال نمبر 10 ۔ کیا( نعوذوباﷲ) اﷲ تعالی اتنی بڑی نعمت کا ذکر کرنا بھول گئے ہیں یا آسما نوں پر اٹھایا جانے کا واقعہ ہی رونما نہیں ہوا ہے؟

وہم کا ازالہ

سورۂ مائدہ میں اﷲ تعالیٰ نے اس کا ذکر فرمایا ہے:

﴿اِذْ قَالَ اللّٰهُ يٰعِيْسَى ابْنَ مَرْيَمَ اذْكُرْ نِعْمَتِيْ عَلَيْكَ وَعَلٰي وَالِدَتِكَ  ۘ اِذْ اَيَّدْتُّكَ بِرُوْحِ الْقُدُسِ  ۣ تُكَلِّمُ النَّاسَ فِي الْمَهْدِ وَكَهْلًا  ۚ وَاِذْ عَلَّمْتُكَ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ وَالتَّوْرٰىةَ وَالْاِنْجِيْلَ ۚ وَاِذْ تَخْلُقُ مِنَ الطِّيْنِ كَهَيْئَةِ الطَّيْرِ بِاِذْنِيْ فَتَنْفُخُ فِيْهَا فَتَكُوْنُ طَيْرًۢا بِاِذْنِيْ وَتُبْرِئُ الْاَكْـمَهَ وَالْاَبْرَصَ بِاِذْنِيْ  ۚ وَاِذْ تُخْرِجُ الْمَوْتٰى بِاِذْنِيْ   ۚ وَاِذْ كَفَفْتُ بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ عَنْكَ اِذْ جِئْتَهُمْ بِالْبَيِّنٰتِ فَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ اِنْ هٰذَآ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِيْنٌ ﴾

[المائدة: 110]

’’ جب اﷲ فرمائے گا اے عیسیٰ ابن مریم یاد کرو میری نعمتوں کو جو میں نے تم پر اور تمہاری والدہ پر کی تھیں۔جب میں نے روح پاک سے تمہاری مدد کی،تم گہوارے میں لوگوں سے کلام کرتے تھے اور بڑی عمرمیں بھی۔اور جب میں نے تمہیں کتاب و حکمت،تورات اور انجیل کی تعلیم دی، تم میرے حکم سے پرندے کی شکل کا مٹی کا پتلا بناتے تھے اور اس پر پھونکتے تھے تو میرے حکم سے وہ ایک پرندہ بن جاتا تھا۔اورتم مادرزاد اندھے اور برص کے مریض کو میرے حکم سے اچھا کردیتے تھے۔اور جب تم مُردوں کو میرے حکم سے نکال کھڑا کردیتے تھے۔پھر جب میں نے بنی اسرائیل کو تم سے باز رکھا جب تم ان کے پاس کھلی نشانیاں لے کرپہنچے تو جو ان میں منکر حق تھے انہوں نے ان نشانیوں کو صریح جادوقرار دیا تھا۔‘‘

دیکھیں اﷲ تعالیٰ قیامت کے دن ان نعمتوں کا ذکر فرما ئے گا جو اس نے عیسیٰ علیہ السلام کو عطا فرمائی تھیں۔ انہی نعمتوں میں اﷲ تعالیٰ اس بات کا بھی ذکر فرمائے گا کہ جب میں نے بنی اسرائیل کو تم سے باز رکھا تھا۔ یہ اشارہ یہودیوں کی اس سازش کی طرف ہے جو انہوں نے عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کرنے اور سولی چڑھانے کیلئے تیار کی تھی اور جس سے اﷲ تعالیٰ نے انکو بچا کر آسمان پر اٹھالیا۔ کہتے ہیں کہ ان نعمتوں میں اٹھائے جانے اور نزول کا کوئی ذکر نہیں۔ذکر تو ہے لیکن جن کے قلب اندھے ہو جاتے ہیں ان کو کچھ نہیں دکھائی دیتا۔

قارئیں! یہ بات بخوبی آپ کی سمجھ میں آگئی ہوگی کہ فتنہ قادیانیت کا اصل محرک فتنہ انکار حدیث ہی ہے۔نزول عیسیٰ علیہ السلام کا انکار اوروفات عیسیٰ علیہ السلام کا پرچار منکرین حدیث کا سب سے محبوب مشغلہ ہے۔ یہ گروہ صدیوں سے خدمت دین کے نام پر یہ کھیل کھیلتا رہا ۔ اور قادیانیت کیلئے میدان ہموارکرتا رہا ہے۔ مرزا غلام احمد نے دیکھا کہ امت میں ایک گروہ وفات عیسیٰ علیہ السلام کا قائل ہے تو اسی بنیاد پر انہوں نے میسح موعود ہونے کا دعوی کردیا۔لہذا ماننا پڑے گا کہ دین میں سب سے بڑا فتنہ انکار حدیث ہی ہے ۔اسی سے شہ پا کر آدمی قرآن کی واضح آیات کا انکار کرتا یا اس کی معنوی تحریف کا مرتکب ہوتا ہے ۔ہر صاحب ایمان جانتا ہے کہ دین اسلام کا مدار قرآن و سنت پر ہے۔ اور حدیث رسول صلی اﷲ علیہ و سلم کے بغیر نہ تو قرآن کی صحیح تشریح ممکن ہے اور نہ ہی سنت کا ادراک ۔

اس میں شک نہیں کہ کچھ کتب حدیث میں ایک گو نہ ضعیف اور موضوع روایات پائی جاتی ہیں۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ پورے کا پورا سرمایہ حدیث بے کار محض اور ناقابل اعتبار ہے ۔اﷲ تعالیٰ کے وضع کردہ نظام ِاسماء الرجال کے ذریعے ساری ملاوٹوں کی قلعی کھل جاتی ہے اور پتہ چل جاتا ہے کونسی روایت موضوع اور کون سے صحیح ہے۔ اگر یہ صحیح احادیث نہ ہوتیں اور ہر آدمی اپنی عقل و رائے سے قرآن کی تفسیر اور سنت کی تعبیر کرتا ،تو آج دنیا میں دو آدمیوں کا بھی ایک دین پر اتفاق محال تھا۔ عقیدہ کا مسئلہ ہو یا اعمال کا، صوم و صلوٰۃ کا معاملہ ہو یا حج وزکوٰۃ کا، ہر آدمی ہر کام اپنی ہی پسند کے طریقے پر کرتا اور انجام کار  اﷲ کے غضب کا حقدار ٹھہرتا۔

اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے جس نے قرآن کی حفاظت کے ساتھ ساتھ اپنے نبی صلی اﷲ علیہ و سلم کی سنت کو محفوظ رکھنے کا اہتمام بھی فرمادیا۔ چنانچہ زمانہ ہزار رنگ بدلے، بدعات کی کتنی ہی کثرت ہو، سنت رسول  اللہ صلی اللہ علیہ و سلم بہرحال پہاڑی کے چراغ کی طرح روشن ہے اور جادہ حق کے مسافر اسی کی روشنی میں اپنی منزل کا تعین کرتے ہیں۔

ٍان گمراہ لوگوں کے لئے اللہ سے یہی دعا ہے کہ وہ انہیں ہدایت دے دے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *