Categories
Uncategorized

اسفل سافلین

﴿لَقَدۡ خَلَقۡنَا ٱلۡإِنسَٰنَ فِيٓ أَحۡسَنِ تَقۡوِيمٖ     ثُمَّ رَدَدۡنَٰهُ أَسۡفَلَ سَٰفِلِينَ﴾

[التين: 4-5]

“یقیناً ہم نے انسان کو بہترین ساخت پر پیدا کیا ، پھر اس کو سب نیچوں سے نیچے درجے کی طرف پھیر دیا”۔

اللہ تعالیٰ نے انسان کو بہترین طریقے سے پیدا کیا، نہایت عمدہ شکل و صورت اور پیکر عطا فرمایا اور اعلیٰ صلاحیتوں سے نوازا۔ اس کو دیگر مخلوقات پر فضیلت دی، عقل و دانش عطا کی ، صحیح و غلط ، حق و باطل اور اچھے برے میں تمیز کرنے کی بھی صلاحیت دی۔ اولاد آدم کے لیے منصوبہ الہٰی خلافت ارضی عطا کرنے کا تھا اس لئے  اس کو امتحان سے گزارنا ضروری تھا چنانچہ اس کو فکر و عمل کی آزادی دی گئی۔ حق و باطل دونوں راستے دکھا کر اس کو اختیار دیا گیاکہ اللہ کی دی ہوئی سوجھ بوجھ استعمال کرے اور پورے شعور کے ساتھ اپنے لیے راہ عمل منتخب کر لے۔ اسی پر اس کے انجام کا دارومدار رکھا گیا۔ مقصد امتحان کے تحت شیطان کو مہلت تو دی گئی کہ وہ وسوسہ اندازی کر کے انسان کو ورغلانے کی کوشش کرے اور اللہ کی نافرمانی و سرکشی پر اکسائے، اس کے ساتھ ساتھ ہر دور میں شیطانی ترغیبات اور وسوسہ اندازی کے مقابلے میں انبیاء ؑ  کو انسانوں کی ہدایت و رہنمائی کے لیے مبعوث کیا جاتا رہا، یہاں تک  کہ آخری رسول محمد ﷺ کو مبعوث فرما کر دینِ حق کو قرآن و حدیث کی شکل میں قیامت تک کے لیے محفوظ کر دیا گیا۔

ہر نبی نے اپنی قوم کو صحیح راستہ بتایا ، الٰہ  واحد کی بندگی کی دعوت دی اعمال صالحہ کی ترغیب دی اور برائیوں سے باز رہنے کی تلقین کی۔ ان کو بد انجامی سے ڈرایا اور اللہ کے عذاب کا خوف دلایا۔ اب جن سمجھدار لوگوں نے اپنے نبی کی بات کو غور سے سنا اور اللہ کی دی ہوئی عقل کو استعمال کر کے دعوتِ حق کو قبول کیا تو وہ راہ راست پا گئے اور دین اسلام میں داخل ہو گئے۔ پھر اللہ کی توفیق سے وہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے احکام کی تعمیل کرتے ہوئے ہی زندگی گزارتے رہے اور تقویٰ کی صفات سے متصف یہ خوش نصیب لوگ احسن تقویم ہی پر زندگی گزارنے کے بعد اپنے ربّ سے ملاقی ہوتے ہوئے جنت کی لازوال نعمتوں میں ہمیشہ کے لیے داخل کر دیے جائیں گے۔ اعلیٰ اوصاف کے حامل یہ لوگ خلافت ارضی کے اہل تھے اور ان کا معاشرہ بھی امن و سکون اور عدل و انصاف کے اصولوں پر قائم تھا۔ خیرالقرون کا دور صحیح معنوں میں اس کا بہترین نمونہ تھا جب انسانی تاریخ کا ایک روشن باب رقم ہوا۔

اس کے برعکس خواہش نفس کے دنیا دار  بندے نے چند روزہ زندگی کی دلفریبی اور رنگینی میں غرق ہو کر آخرت فراموشی کی روش اختیار کی، اپنے دشمن شیطان لعین کی پیروی کرتے ہوئے دعوتِ حق کا انکار کیا اور نبی کی مخالفت کی اور کفرو شرک پر جمے رہنے کو ہی ترجیح دی۔ پھر وہ دوسروں کو بھی ورغلانے لگا اور اپنی سرکشی کی روش کو ہی درست قرار دینے لگا ]ابراہیم: 3، یونس: 7،8[۔ ایسے بدبختوں کو اسی راستے پر ڈھیل دی جاتی ہے اور گمراہی میں بھٹکنےکے لیے چھوڑ دیا جاتا ہے۔ چناچہ وہ خباثت میں گرتے چلے جاتے ہیں ، یہاں تک کہ ہر قسم کی گراوٹ، حرص و طمع ، لالچ و خودغرضی، بغض و عداوت، فتنہ و فساد میں تمام مخلوقات سے نیچے گر جاتے ہیں، اور أَسۡفَلَ سَٰفِلِينَ ہو کر رہ جاتے ہیں! اس آخری امت میں بھی ایسے قساوت قلبی کےشکار احبارورہبان اور ان طاغوتوں کے پرستاروں کی طویل فہرست ہےجن کے چشم کشا واقعات و ملفوظات پر مشتمل کتابوں سے کتب خانے بھرے ہوئے ہیں۔

انہوں نے مکشوفات و الہامات اور کرامات کی شکل میں بے شمار خلافِ قرآن عقائد امت میں پھیلا دیے۔ ان کے بزرگ ،علم غیب رکھنے، متصرف فی الامور ہونے اور موت حیات پر قادر ہونے کے دعوے دار تھے، نعوذوباللہ من ذالک  ایسے ہی ایک صوفی منش ، مرزا غلام احمد قادیانی نے بھی ” مکشوفات الہامات” کی سیڑھی  پر چڑھ کر جاہل انسانوں کے ایک گروہ ” جماعت احمدیہ” کے بانی و امام  ہونے کا اعزاز حاصل کر لیا۔ مرزا غلام احمد قادیانی کو اکثر لوگ عقیدۂ ختم نبوت کے منکر کے طور پر جانتے ہیں لیکن یہ بد قسمت شخص صرف اسی عقیدے کا ہی منکر نہیں بلکہ توحید باری تعالیٰ کا بھی منکر تھا۔

اللہ تعالیٰ ہی زندہ کرنے اور موت دینے پر قادر ہے۔ اس کی اس صفت میں کوئی اس کا شریک نہیں:

﴿ٱللَّهُ ٱلَّذِي خَلَقَكُمۡ ثُمَّ رَزَقَكُمۡ ثُمَّ يُمِيتُكُمۡ ثُمَّ يُحۡيِيكُمۡۖ هَلۡ مِن شُرَكَآئِكُم مَّن يَفۡعَلُ مِن ذَٰلِكُم مِّن شَيۡءٖۚ سُبۡحَٰنَهُۥ وَتَعَٰلَىٰ عَمَّا يُشۡرِكُونَ﴾

[الروم: 40]

” اللہ تعالیٰ وہ ہے جس نے تمہیں پیدا کیا پھر تمہیں روزی دی پھر تمہیں موت دیتا ہے پھر تمہیں (قیامت کے دن) زندہ کرے گا۔ بتاؤ تمہارے شریکوں میں سے کوئی بھی ایسا ہے جو ان کاموں میں سے کچھ بھی کر سکتا ہو۔ اللہ تعالیٰ پاک اور برتر ہے ہر اس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں۔”

﴿إِنَّ ٱللَّهَ لَهُۥ مُلۡكُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۖ يُحۡيِۦ وَيُمِيتُۚ وَمَا لَكُم مِّن دُونِ ٱللَّهِ مِن وَلِيّٖ وَلَا نَصِيرٖ﴾

[التوبة: 116]

“یقیناً اللہ ہی کے لیے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی ہے، وہی زندہ کرتا ہے اور وہی مارتا ہے، اور نہیں ہے تمہارے لیے اللہ کے سوا کوئی دوست (کارساز) اور نہ کوئی مددگار”۔

مرزا قادیانی نے اللہ تعالیٰ کی ان صفات میں اس کے بے مثال ہونے کا انکار کرتے ہوئے خود بھی زندہ کرنے اور موت دینے پر قادر ہونے کا دعویٰ کیا۔ ساتھ ہی اللہ رب العزت پر یہ جھوٹ بھی گھڑ لیا کہ اسے یہ قدرت اللہ ہی نے عطا کی ہے۔نعوذ باللہ وہ لکھتا ہے:

و اعطیت صفۃ الافناء و الاحیاء من ربّ الفعّال

“مجھ کو فانی کرنے اور زندہ کرنے کی صفت دی گئی ہے اور یہ صفت خدا تعالیٰ کی طرف سے مجھ کو ملی ہے”(خطبہ الہامیہ: صفحہ 55،56)

صرف اللہ تعالیٰ ہی وہ ذات ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمایا اور مٹی سے انسان کی تخلیق فرمائی۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

﴿اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَجَعَلَ الظُّلُمٰتِ وَالنُّوْرَ ڛ ثُمَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ يَعْدِلُوْنَهُوَ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ طِيْنٍ ثُمَّ قَضٰٓى اَجَلًا  ۭ وَاَجَلٌ مُّسَمًّى عِنْدَهٗ ثُمَّ اَنْتُمْ تَمْتَرُوْنَ ۝وَهُوَ اللّٰهُ فِي السَّمٰوٰتِ وَفِي الْاَرْضِ  ۭ يَعْلَمُ سِرَّكُمْ وَجَهْرَكُمْ وَيَعْلَمُ مَا تَكْسِبُوْنَ﴾

[الأنعام: 1-3]

” تما م تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جس نے  آسمانوں اور زمین کو پیدا کیااور تاریکیوں کو اور نور کو بنایا پھر بھی کافر لوگ (دوسروں کو) اپنے رب کے برابر قرار دیتے ہیں۔ وہ ایسا ہے جس نے تم کو مٹی سے بنایا پھر موت آنے کا ایک وقت معین کیا اور ایک (دوسرا) معین وقت (قیام قیامت)خاص اللہ ہی کے نزدیک ہے،پھر بھی تم شک کرتے ہواور وہ اللہ ہی (معبود برحق) ہے آسمانوں میں اور زمین   میں وہ تمہارے پوشیدہ (احوال) کو اور تمہارے ظاہر کو

بھی جانتا ہے اور تم جو کچھ عمل کرتے ہو اسکو جانتا ہے‘‘۔

اس کے برعکس اپنی جان کے دشمن مرزاء قادیانی کے دعوے ہیں  کہ زمین و آسمان کا موجد  اور مٹی سے انسانوں کی پیدائش کرنے والی ذات وہ خود ہے ۔اپنے  جھوٹ کے پلندے سے جھوٹے الہام اور جھوٹے کشف نکال کر کہتا ہے:

“ورایتی فی المنام عین اللہ و تیقنت اننی ھو”

“میں نے خواب میں دیکھا کہ میں خود خدا ہوں، مجھے یقین ہو گیا کہ بے شک میں وہی ہوں”     (حوالہ:آئینہ کمالات اسلام، صفحہ 564،مطبع ریاض ھند،قادیان)

میں نے اپنے ایک کشف میں دیکھا کہ میں خود خدا ہوں اور یقین کر لیا کہ وہی ہوں ۔میرے رب نے مجھے پکڑا اور ایسا پکڑا کہ میں بالکل اس میں محو ہو گیا اور میں نے دیکھا کہ اس کی قدرت اور قوت مجھے میں جوش مارتی اور اس کی الوہیت مجھ میں موجزن ہے  ۔ حضرت عزت کے خیمے میرے دل کے چاروں طرف لگائے گئے اور سلطان جبروت نے میرے دل کو پیس ڈالا۔ سو نہ تو میں ہی رہا اور نہ میری کوئی تمنا ہی باقی رہی ۔میری اپنی عمارت گر گئی اور ربّ العالمین کی عمارت نظر آنے لگی اور الوہیت بڑے زور کے ساتھ مجھ پر غالب ہوئی ۔الوہیت میری رگوں اور پٹھوں میں سرایت کر گئی ۔اور میں اس وقت یقین کرتا تھا کہ میرے اعضا نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے اعضا ہے ۔خدا تعالیٰ میرے  وجود میں داخل ہو گیا اور میرا غضب اور حلم اور تلخی اور شیرینی اور حرکت اور سکون سب اسی کا ہو گیا۔اور اس حالت میں یوں کہہ رہا تھا کہ ہم ایک نیا نظام اور نیا آسمان اور نئی زمین چاہتے ہیں ۔سو میں نے پہلے تو آسمان اور زمین کو اجمالی صورت میں پیدا کیا جس میں کوئی ترتیب و تفریق نہ تھی۔پھر میں نے منشاء حق کے موافق اس کی ترتیب و تفریق کی اور میں دیکھتا تھا کہ میں اس کے خلق پر قادر ہوں _پھر میں نے آسمان دنیا کو پیدا کیا اور کہا: اِنَّا زَیَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْیَا بِمَصَابِيْحَ پھر میں نے کہا:ہم اب انسان کو مٹی کے خلاصے سے پیدا کریں گے _پھر میری حالت کشف سے الہام کی طرف منتقل ہو گئی اور میری زبان پر جاری ہوا  ۔ ۔أردتُ أن أستخلف فخلقتُ آدم. انا خلقنا الانسان فی احسن تقویم(حوالہ” کتاب البریہ:صفحہ 85 تا 87،مطبع ضیاء الاسلام،قادیان)

مرزا غلام احمد قادیانی نے اللہ تعالی’ کی ذات کے شرک میں بھی اپنا  حصہ ڈالا ہے۔چنانچہ معاذ اللہ، اللہ تعالی’ کو عورت یعنی ماں اور خود کو اس کے دودھ پیتے بچے کے مثل قرار دیتے ہوئے لکھتا ہے:

ابتدا سے تیرے ہی سایہ میں میرے دن کٹے             گود میں تیری رہا میں مثل طفل شیر خوار

(براہین احمدیہ،حصہ پنجم،صفحہ 127)

ایک اور جگہ اپنا شیطانی الہام لکھتا ہے:

’’انت منی بمنزلة توحیدی و تفریدی،انت منی بمنزلة عرشی،انت منی بمنزلة ولدی” ’’تو مجھ سے میری توحید و تفرید کی طرح ہے۔ تو مجھ سے میرے عرش کی طرح ہے۔تو مجھ سے میرے بیٹے کی طرح ہے‘‘۔( تذکرہ: وحی مقدس ور ویا و کشوف،صفحہ:442)

اللہ کی پناہ!اللہ تعالیٰ نے ایسے دعووں پر شدید غصے کا اظہار فرمایا ہے اور انہیں اللہ سبحان و تعالیٰ کو گالی دینے کے مترادف قرار دیا ہے:

وَ قَالُوا اتَّخَذَ الرَّحۡمٰنُ  وَلَدًا ۝  لَقَدۡ  جِئۡتُمۡ شَیۡئًا اِدًّا۝  تَکَادُ السَّمٰوٰتُ یَتَفَطَّرۡنَ مِنۡہُ وَ تَنۡشَقُّ الۡاَرۡضُ وَ تَخِرُّ الۡجِبَالُ ہَدًّا۝  اَنۡ دَعَوۡا لِلرَّحۡمٰنِ وَلَدًا ۝  وَ مَا یَنۡۢبَغِیۡ لِلرَّحۡمٰنِ اَنۡ یَّتَّخِذَ وَلَدًا ۝  اِنۡ کُلُّ مَنۡ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ  اِلَّاۤ اٰتِی الرَّحۡمٰنِ  عَبۡدًا ۝  لَقَدۡ اَحۡصٰہُمۡ وَ عَدَّہُمۡ عَدًّا ۝  وَ کُلُّہُمۡ اٰتِیۡہِ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ فَرۡدًا ﴿﴾

( مریم : 88 تا 90 )

“ان کا قول ہے کہ اللہ رحمن نے بیٹا بنایا، یقیناً تم بہت بھاری چیز (زبان پر) لائے ہو، قریب ہے کہ اس قول کی وجہ سے آسمان پھٹ جائیں اور زمین شق ہو جائے اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جائیں کہ وہ رحمن کی اولاد ثابت کرنے بیٹھے، رحمن کی شان کے لائق نہیں کہ وہ اولاد رکھے، آسمان و زمین میں جو بھی ہیں سب کے سب اللہ کے غلام بن کر ہی آنے والے ہیں، ان سب کو گھیر کر رکھا ہے اور سب کو پوری طرح گن بھی رکھا ہے،یہ سارے کے سارے قیامت کے دن اکیلے اس کے پاس حاضر ہونے والے ہیں‘‘ْ۔

وَ قَالُوا اتَّخَذَ الرَّحۡمٰنُ وَلَدًا سُبۡحٰنَہٗ ؕ بَلۡ  عِبَادٌ مُّکۡرَمُوۡنَ۝ لَا یَسۡبِقُوۡنَہٗ بِالۡقَوۡلِ وَ ہُمۡ بِاَمۡرِہٖ یَعۡمَلُوۡنَ  ۝ یَعۡلَمُ مَا بَیۡنَ اَیۡدِیۡہِمۡ  وَ مَا خَلۡفَہُمۡ وَ لَا یَشۡفَعُوۡنَ ۙ اِلَّا لِمَنِ ارۡتَضٰی وَ ہُمۡ مِّنۡ خَشۡیَتِہٖ مُشۡفِقُوۡنَ ۝  وَمَنۡ یَّقُلۡ مِنۡہُمۡ اِنِّیۡۤ اِلٰہٌ مِّنۡ دُوۡنِہٖ فَذٰلِکَ نَجۡزِیۡہِ جَہَنَّمَ ؕ کَذٰلِکَ نَجۡزِی الظّٰلِمِیۡنَ ﴿﴾

(الأنبياء 26 تا 29)

“وہ (مشرک لوگ) کہتے ہیں کہ رحمن  نے ( کسی کو ) بیٹا بنا لیا ،(حالانکہ) اس کی ذات پاک ہے، بلکہ وہ سب اس کے باعزت بندے ہیں، کسی بات میں اللہ پر پیش دستی نہیں کرتے بلکہ اس کے فرمان پر کار بند ہیں،وہ (اللہ) ان کے آگے پیچھے کے تمام امور سے واقف ہے وہ (فرشتے) کسی کی بھی شفارش نہیں کرتے بجز ان کے جن سے اللہ خوش ہو وہ تو خود ہیبت الہی’ سے لرزاں و ترساں ہیں، اگر ان میں سے کوئی بھی کہہ دے کہ اللہ کے سوا میں معبود ہوں تو ہم اسے جہنم کی سزا دیں گے، ہم ظالموں کو اسی طرح سزا دیتے ہیں،‘‘۔

لَنۡ یَّسۡتَنۡکِفَ الۡمَسِیۡحُ اَنۡ یَّکُوۡنَ عَبۡدًا لِّلّٰہِ وَ لَا الۡمَلٰٓئِکَۃُ الۡمُقَرَّبُوۡنَ ؕ وَ مَنۡ یَّسۡتَنۡکِفۡ عَنۡ عِبَادَتِہٖ وَ یَسۡتَکۡبِرۡ فَسَیَحۡشُرُہُمۡ اِلَیۡہِ جَمِیۡعًا ﴿﴾

(النساء:178)

“مسیح (عیسی علیہ السلام) کو اللہ کا بندہ ہونے میں کوئی ننگ و عار ہرگز ہو ہی نہیں سکتا اور نہ مقرب فرشتوں کو،اس کی بندگی سے جو بھی ننگ و عار کرے اور تکبر و انکار کرے،اللہ تعالی’ ان سب کو اکٹھا اپنی طرف جمع کرے گا “-

حدیث قدسی میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ” قَالَ اللَّهُ: كَذَّبَنِي ابْنُ آدَمَ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ ذَلِكَ، وَشَتَمَنِي وَلَمْ يَكُنْ لَهُ ذَلِكَ، أَمَّا تَكْذِيبُهُ إِيَّايَ أَنْ يَقُولَ: إِنِّي لَنْ أُعِيدَهُ كَمَا بَدَأْتُهُ، وَأَمَّا شَتْمُهُ إِيَّايَ أَنْ يَقُولَ: اتَّخَذَ اللَّهُ وَلَدًا، وَأَنَا الصَّمَدُ الَّذِي لَمْ أَلِدْ وَلَمْ أُولَدْ، وَلَمْ يَكُنْ لِي كُفُؤًا أَحَدٌ «(لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُؤًا أَحَدٌ)» كُفُؤًا وَكَفِيئًا وَكِفَاءً وَاحِدٌ “

( بخاری،  کتاب تفسیر القرآن ، بَابُ قَوْلِهِ: {اللَّهُ الصَّمَدُ} )

’’ رسول اللہ ﷺ نے  فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :  ابن آدم نے مجھے جھٹلایا، اگرچہ یہ اس کے لئے زیبا نہ تھا ۔ اور اس نے مجھے گالی دی، حالانکہ یہ اس کے لئے زیبا نہ تھا۔  اور مجھے اس کا جھٹلانا تو یہ  کہنا ہے کہ میں اسے دوبارہ زندہ نہیں کروں گا جیسا کہ میں نے پہلی بار پیدا کیا، اور مجھے اس کا گالی دینا  یہ کہنا ہے کہ اللہ نے  بیٹا بنا لیا ہے۔ حالانکہ میں بے نیاز ہوں  کہ نہ میں نے کسی کو جنا  اور نہ میں جنا گیا،  اور نہ کوئی میرا ہمسر ہے (  نہ اس نے کسی کو جنا  اور نہ وہ جنا گیا  اور نہ کوئی اس کا ہمسر ہے )‘‘۔

﴿يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِنَّمَا ٱلۡمُشۡرِكُونَ نَجَس  ۔ ۔ ۔ ﴾

[التوبة: 28]

’’اے ایمان والو! مشرکین نجس و پلید ہیں “-

﴿وَإِذۡ قَالَ لُقۡمَٰنُ لِٱبۡنِهِۦ وَهُوَ يَعِظُهُۥ يَٰبُنَيَّ لَا تُشۡرِكۡ بِٱللَّهِۖ إِنَّ ٱلشِّرۡكَ لَظُلۡمٌ عَظِيم﴾

[لقمان: 13]

’’اور وہ وقت یاد کرو جب لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ اے میرے بیٹے !اللہ کے ساتھ شرک نہ کرنا،یقیناً شرک ظلمِ عظیم ہے ‘‘۔

﴿۔ ۔ ۔  إِنَّهُۥ مَن يُشۡرِكۡ بِٱللَّهِ فَقَدۡ حَرَّمَ ٱللَّهُ عَلَيۡهِ ٱلۡجَنَّةَ وَمَأۡوَىٰهُ ٱلنَّارُۖ وَمَا لِلظَّٰلِمِينَ مِنۡ أَنصَارٍ﴾

[المائدة: 72]

“جس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا اُس پر اللہ نے جنت حرام کر دی اور اس کا ٹھکانہ جہنم ہے اور ایسے ظالموں کا کوئی مددگار نہیں “۔

﴿إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَغۡفِرُ أَن يُشۡرَكَ بِهِۦ وَيَغۡفِرُ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَن يَشَآءُۚ وَمَن يُشۡرِكۡ بِٱللَّهِ فَقَدِ ٱفۡتَرَىٰٓ إِثۡمًا عَظِيمًا﴾

[النساء: 48]

“اللہ شرک کو ہرگز معاف نہیں کرتا، اس کےسوا دوسرے گناہوں کو وہ جس کے لیے چاہتا ہے معاف کر دیتا ہے، اللہ کے ساتھ جس نے بھی کسی اور کو شریک ٹھہرایا اُس نے بہت بڑا بہتان باندھا”۔

اللہ تعالیٰ کے ان فرامین کی بنا پر تو مرزا غلام احمد قادیانی کو ایک پاک انسان قرار دینا بھی جائز نہیں چہ جائیکہ اسے نبی مانا جائے لیکن حیرت ہے اس کے اندھے مقلدین پر کہ پھر بھی اس شخص کو نبی مانتے ہیں!

اللہ کے سچے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

الْإِيمَانُ بِضْعٌ وَسِتُّونَ شُعْبَةً ، وَالْحَيَاءُ شُعْبَةٌ مِنَ الْإِيمَان

(صحیح مسلم:کتاب الایمان، باب: بیان عدد شعب الایمان)

’’ایمان کی ستر سے کچھ زیادہ شاخیں ہیں اور حیا بھی ایمان کی ایک شاخ ہے‘‘۔

لیکن جب انسان پر حیا کی چادر کا کوئی ٹکڑا بھی باقی نہیں رہتا تو پھر وہ جو بھی جھوٹا دعوی چاہے، کر سکتا ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

إِنَّ مِمَّا أَدْرَكَ النَّاسُ مِنْ كَلَامِ النُّبُوَّةِ إِذَا لَمْ تَسْتَحْيِ فَافْعَلْ مَا شِئْتَ

( صحیح بخاری:کتاب الادب،باب: إِذَا لَمْ تَسْتَحْيِ فَافْعَلْ مَا شِئْتَ)

’’بلاشبہ قدیم کلام نبوت میں سے جو کچھ لوگوں نے حاصل کیا اس میں یہ بھی ہے کہ “جب تو حیا نہیں کرتا تو جو چاہتا ہے کر گزر‘‘۔

مرزا غلام احمد قادیانی کے پاس بھی جب حیا کا ذرّہ باقی نہ رہا تو وہ اپنے ربّ کے سامنے زبان درازی پر اُتر آیا، وہ اپنی حیثیت بھول گیا کہ وہ خالق نہیں مخلوق ہے، اپنے رب کے سامنے اس قدر زبان دراز تو مشرکین مکہ بھی نہ تھے، اگر مرزا غلام احمد قادیانی اُس دور میں ہوتا اور پھر مشرکین مکہ کے سامنے یہ دعوے کرتا تو شاید وہ اس کی درگت ہی بنا ڈالتے۔

اب جبکہ مرزا غلام احمد قادیانی کے نزدیک اللہ تعالی’ کا کوئی وقار نہ تھا اور سب سے اہم بنیادی اور عظیم عقیدے،عقیدہ توحید کا انکار کرنا بھی اس کے لیے آسان ہو گیا تھا تو  دیگر اسلامی عقائد کا انکار بھی اس کے لیے کوئی مسئلہ نہ رہا، چنانچہ اس نے صرف عقیدہ ختم نبوت ہی نہیں بلکہ ہر مقدس نظریے پر حملہ کر کے اللہ تعالیٰ  کا باغی بندہ ہونے کا ثبوت دیا، اس کی چند مثالیں دیکھنے سے پہلے عقیدہ ختم نبوت سے متعلق اللہ تعالیٰ  اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامین ملاحظہ فرمائیں:

اللہ تعالی نے فرمایا:

﴿مَّا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَآ أَحَدٖ مِّن رِّجَالِكُمۡ وَلَٰكِن رَّسُولَ ٱللَّهِ وَخَاتَمَ ٱلنَّبِيِّ‍ۧنَۗ وَكَانَ ٱللَّهُ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيمٗا﴾ [

[الأحزاب: 40]

“محمدؐ تمہارے مَردوں میں سے کسی کے باپ نہیں لیکن اللہ کے رسول اور نبیوں کے سلسلے کو ختم کرنے والے ہیں، اور اللہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے”۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

إِنَّ مَثَلِي وَمَثَلَ الْأَنْبِيَاءِ مِنْ قَبْلِي كَمَثَلِ رَجُلٍ بَنَى بَيْتًا فَأَحْسَنَهُ وَأَجْمَلَهُ إِلَّا مَوْضِعَ لَبِنَةٍ مِنْ زَاوِيَةٍ ، فَجَعَلَ النَّاسُ يَطُوفُونَ بِهِ وَيَعْجَبُونَ لَهُ وَيَقُولُونَ هَلَّا وُضِعَتْ هَذِهِ اللَّبِنَةُ ، قَالَ : فَأَنَا اللَّبِنَةُ وَأَنَا خَاتِمُ النَّبِيِّينَ

(صحیح بخاری:کتاب المناقب،باب خاتم النّبین)

’’بے شک میری اور مجھ سے پہلے انبیاء کی مثال ایسی ہے جیسے کسی شخص نے ایک گھر بنایا،اس کو بہت عمدہ اور آراستہ پیراستہ بنایا مگر ایک کونے میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی،پس لوگ جوق در جوق آتے ہیں اور تعجب کرتے ہیں  اور یہ کہتے ہیں یہ اینٹ کیوں نہیں لگا دی گئی، آپ نے فرمایا:وہ اینٹ میں ہوں اور میں انبیاء کرام کا سلسلہ نبوت ختم کرنے والا ہوں “-

اور فرمایا:

كَانَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ تَسُوسُهُمُ الأَنْبِيَاءُ، كُلَّمَا هَلَكَ نَبِيٌّ خَلَفَهُ نَبِيٌّ، وَإِنَّهُ لاَ نَبِيَّ بَعْدِي، وَسَيَكُونُ خُلَفَاءُ فَيَكْثُرُونَ قَالُوا: فَمَا تَأْمُرُنَا؟ قَالَ: «فُوا بِبَيْعَةِ الأَوَّلِ فَالأَوَّلِ، أَعْطُوهُمْ حَقَّهُمْ، فَإِنَّ اللَّهَ سَائِلُهُمْ عَمَّا اسْتَرْعَاهُمْ

( صحیح بخاری،  کتاب  احادیث الانبیاء ، باب ذکر  عن بنی اسرائیل )

“بنی اسرائیل کی رہنمائی ان کے انبیاء کرام علیہ السلام کیا کرتے تھے، جب کسی نبی کی وفات ہو جاتی تھی تو اللہ تعالیٰ  کسی دوسرے نبی کو ان کا خلیفہ بنا دیتا تھا لیکن میرے بعد کوئی نبی نہیں، البتہ خلفاء ہوں گے اور بہت ہوں گے،صحابہ کرام نے عرض کیا،اُن کے متعلق آپ کیا حکم دیتے ہیں، آپ نے فرمایا ہر ایک کے بعد دوسرے کی بیعت پوری کرو اور ان کے حق اطاعت کو پورا کرو،اس لئے کہ اللہ تعالیٰ  اُن کی رعیت کے متعلق اُن سے سوال کرے گا “۔

اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ان فرامین سے بالکل واضح ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد قیامت تک کوئی نیا نبی کسی بھی حیثیت میں نہیں آئے گا، اس کے خلاف عقیدہ رکھنا کفر ہے۔

قیامت سے پہلے عیسی علیہ السلام کے نزول کا صحیح احادیث میں ذکر ہے لیکن ان کی یہ آمد کسی نبی کی حیثیت سے نہیں بلکہ عادل حکمران کی حیثیت سے ہو گی۔

نبی ﷺ نے فرمایا:

وَالَّذِی نَفْسِیْ بِیَدِہِ لَیُوْشِکَنَّ اِنْ یَنُزِلَ فِیْکُمْ ابنُ مَرْیَمَ حَکَمًا عَدْلاً ، فَیَکُسِرَ الصَّلِیْبَ وَ یَقْتُلَ الخِنْزِیْرَ ، وَ یَضَعَ الجَزْیَۃَ وَیَقْبُضَ المَالُ حَتَّی لَا یَقْبَلَہُ اَحَدً

(بخاری: کتاب الانبیاء ۔باب نزول عیسیٰ بن مریم  ؑ)

” اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، عنقریب تمہارے مابین عیسیٰ بن مریم حاکم و عادل بن کر نزول فرمائیں گے، صلیب توڑیں گے ، خنزیر کو قتل کریں گے ، جزیہ ختم کریں گے ، اور مال کی اتنی فراوانی ہو گی کہ کوئی اس کو قبول نہ کرے گا”۔

مرزا قادیانی نے اللہ تعالیٰ اور   اس کے رسول ﷺ کے ان سب فرامین کا مذاق اڑاتےہوئے صرف ایک نبی نہیں بلکہ انبیاء ہونے کا دعویٰ کیا۔ ایک جھوٹے یعنی خود پر القا کیے ہوئے الہام کی تشریح کرتے ہوئے لکھتا ہے:

“مریم سے مریم اُمِ عیسیٰ مراد نہیں اور نہ آدم سے آدم ابوالبشر مراد ہے اور نہ احمد سے اس جگہ حضرت خاتم الانبیاء مراد ہیں، اور ایسا ہی ان الہامات کے تمام مقامات میں کہ جو موسیٰ اور  عیسیٰ اور داؤد وغیرہ نام بیان کیے گئے ہیں، ان ناموں سے بھی وہ انبیاء مراد نہیں  ہیں ہے بلکہ ہر جگہ یہی عاجز مراد ہے”      (مکتوبات احمدیہ۔ جلد اول۔صفحہ:82،83، بحوالہ : تذکرہ، وحی مقدس ورؤیا وکشوف، صفحہ: 55،56، طبع چہارم ۔مطبع ضیاءالاسلام پریس، ربوہ، پاکستان)

“خدا تعالیٰ نے مجھے تمام انبیاء علیہ السلام کا مظہر ٹھہرایا ہے اور تمام نبیوں کے نام میری طرف منسوب کیے ہیں۔ میں آدم ہوں، میں شیث ہوں، میں نوح ہوں، میں ابراہیم ہوں، میں اسحق ہوں، میں اسمٰعیل ہوں ، میں یعقوب ہوں، میں یوسف ہوں، میں موسیٰ ہوں، میں داؤد ہوں ، میں عیسیٰ ہوں اور آنحضرت ﷺ کے نام کامیں مظہراتم ہوں یعنی ظلی طور پر محمدؑاور احمد ؑہوں”۔(حقیقت الوحی، حاشیہ، صفحہ: 73)

ثابت یہی ہوا کہ اُلوہیت کے جھوٹے دعوے کرنے والے شخص کے لیے اس سےکم تر جھوٹے دعوے کرنا بھی مشکل نہیں۔

قارئین! ایک مرد کا کہنا ہے کہ وہ اپنے ہی پیٹ سے پیدا ہوا ہے۔۔۔ یقیناً یہ جملہ پڑھ کر آپ کا خون کھول اٹھا ہو گا۔آپ اس بات کو نہایت بدترین ، لغو، بیہودہ اور واہیات قرار دے رہے ہوں گے اور شاید آپ اس تحریر کو مزید نہ پڑھنا چاہتے ہوں لیکن ٹھہریے ! اسے ضرور پڑھیے تاکہ آپ جان لیں کہ جب انسان اپنے ربّ کی نافرمانی کے راستے کو پسند کر لیتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے فرمان؛  ثُمَّ رَدَدْنٰهُ اَسْفَلَ سٰفِلِيْنَکے مصداق ، اسے بدترین پستی کی طرف دھکیل دیا جاتا ہے نعوذباللہ من ذالک۔ اپنے پیٹ سے پیدا ہونے کا دعویدارشخص یہی مرزا قادیانی ہے۔ وہ لکھتا ہے:

“…اس لیے گو اس نے براہین احمدیہ کے تیسرے حصہ میں میرا نام مریم رکھا پھر جیسا کہ براہین احمدیہ سے ظاہر ہےدو (2) برس تک صفت مریمت میں میں نے  پرورش پائی اور پردہ میں نشونما پا تا ر ہا پھر جب اس پر دو برس گزر گئےتو جیسا کہ  براہین احمدیہ کے حصہ چہارم صفحہ 496 میں درج ہے مریم کی طرح عیسیٰ کی روح مجھ میں نفخ کی گئی اور استعارہ کے رنگ میں مجھے حاملہ ٹھہرایا گیا اور آخر کئی مہینہ کے بعد جو دس مہینے سے زیادہ نہیں بذریعہ اس الہام کے جو سب سے آخر براہین احمدیہ کے حصہ چہارم صفحہ 556 میں درج ہے مجھے مریم سے عیسیٰ بنایا گیا پس اس طور سے میں ابن مریم ٹھہرا”۔  (کشتی نوح۔ صفحہ 50مطبع ضیاء الاسلام ، قادیان)

مرزا قادیانی ” اپنے درد زہ” کو بیان کرتا ہے کہ:

” خدا نے مجھے پہلے مریم کا خطاب دیا اور پھر نفخ روح کا الہام کیا۔ پھر بعد اس کے یہ الہام ہوا تھا فَاَجَاۗءَهَا الْمَخَاضُ اِلٰى جِذْعِ النَّخْلَةِ  ۚ قَالَتْ يٰلَيْتَنِيْ مِتُّ قَبْلَ ھٰذَا وَكُنْتُ نَسْيًا مَّنْسِيًّایعنی پھر مریم کو جو مراد اس عاجز سے ہے دردِزہ تنہ کھجورکی طرف لے آئی یعنی عوام الناس اور جاہلوں اور بے سمجھ علماء سے واسطہ پڑا”۔ (کشتی نوح صفحہ 51)

یہ شرمناک دعوے کرنے سے پہلے مرزا قادیانی نے اس بات کا لحاظ بھی نہ رکھا کہ خود اسی نے اپنے والد کا نام غلام مرتضیٰ بتایا ہے اور ( اس کے بیٹے مرزا بشیر کے بقول ) اس کی والدہ کا نام (مریم نہیں) بلکہ چراغ بی بی تھا۔(ملاحظہ کریں: کتاب البریہ، حاشیہ صفحہ 14 مطبع ضیاءالاسلام، قادیان/ سیرۃالمہدی حصہ اول صفحہ 8 روایت نمبر 10۔ از مرزا بشیر)

قارئین دیکھا آپ نے ! شرک کی گندگی میں لت پت انسان سے کوئی بھی دیگر جھوٹ کہہ دینابعید نہیں۔

مرزا قادیانی جھوٹ گھڑنے کی ایک حیرت انگیز مشین تھا۔ اس سے جس قدر جھوٹ کی پیداوار ہوئی ہے اس کی مثال فرعون کے زمانے میں بھی نہ ملے گی۔ اس کی تحریک کا واضح مقصد یہ نظر آتا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے فرامین کا شدید منکر گروہ تیار کیا جائے جسے ان فرامین کا انکار کرنے میں ذرا سی بھی جھجھک یا شرم محسوس نہ ہو۔ قارئین یہ نہ سمجھیں کہ مرزا جھوٹ کی قباحت سے نا آشنا تھا کیونکہ وہ لکھتا ہے:

“جھوٹ بولنا اور گوہ کھانا ایک برابر ہے”۔ (حقیقت الوحی۔ صفحہ 206)

’’ ایسا آدمی جو ہر روز خدا پر جھوٹ بولتا ہے اور آپ ہی ایک بات  تراشتا ہے اور پھر کہتا ہے کہ  یہ خدا کی وحی ہے مجھ کو ہوئی ہے۔ ایسا بدذات انسان تو کتوں اور سؤروں اور بندروں سے بدتر ہوتا ہے۔ پھر کب ممکن ہے کہ خدا اس کی حمایت کرے”۔(ضمیمہ براہین احمدیہ صفحہ 126)

لہٰذا مرزا کی بدقسمتی تھی کہ وہ جان بوجھ کر اس بدترین کام یعنی جھوٹ گھڑنے اور پھیلانے کا کام کر کے پھر بغیر توبہ کیے دنیا سے رخصت ہو گیا۔

مرزا نے علی ؓ  ہونے کا بھی دعویٰ کیا۔ وہ اہل تشیع کو مخاطب کرتے ہوئے کہتا ہے:

“پرانی خلافت کا جھگڑا چھوڑو۔ اب نئی خلافت لو۔ ایک زندہ علی تم میں موجود ہے اس کو چھوڑتے ہواور مردہ علی کی تلاش کرتے ہو”۔(ملفوظات، حصہ اوّل، ایڈیشن، 1988سنہ، صفحہ 400، مطبع ضیاء الاسلام ربوہ)

بیک وقت اِلٰہ کا مثل اور فرشتہ ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے لکھتا ہے:

” اور دانی ایل نبی نے اپنی کتاب میں میرا  نام میکائیل رکھا ہے اور عبرانی میں لفظی معنی میکائیل  کے ہیں خدا کی مانند”۔(اربعین، حاشیہ، صفحہ 71)

بیت اللہ ہونے کا دعویٰ:

” خدا نے اپنے الہامات میں میرا نام بیت اللہ بھی رکھا ہے”۔(تذکرہ، وحی مقدس…صفحہ 28)

قرآن جیسا ہونے کا دعویٰ:

مرزا قادیانی اپنا جھوٹا الہام بیان کرتا ہے کہ:

ما انا الّا کلقرآن      میں تو بس قرآن ہی کی طرح ہوں…”۔ (تذکرہ۔ صفحہ 570)

نوح علیہ السلام ہونے کا دعویٰ ایک اور انداز سے:

’’اسی طرح براہین احمدیہ کے حصص سابقہ میں خدا تعالیٰ نے میرا نام نوح بھی رکھا ہے اور میری نسبت فرمایا ہے “وَلَا   تُخَاطِبْنِیْ  نِی الَّذِ یْنَ  ظَلَمُوْ ج اِنَّھُمْ مُّغْرَقُوْن” یعنی میری آنکھوں کے سامنے کشتی بنا اور ظالموں کی  شفاعت کے بارے میں مجھ سے کوئی بات نہ کر کہ میں ان کو غرق کروں گا۔(براہین احمدیہ ۔ حصہ پنجم۔ صفحہ 86)

جھوٹ پر جھوٹ کہنے کی ایک اور مثال:

مگر جس وقت حضرت مسیح کا بدن صلیب کی کیلوں سے توڑا گیا اس زخم اور شکست کے لیے تو خدا نے مرہم عیسیٰ طیار* کر دی تھی جس سے چند ہفتوں ہی میں حضرت عیسیٰ شفا پا کر اس ظالم ملک سے ہجرت کر کے کشمیر جنت نظیر کی طرف چلے آئے…اور یہ جو حدیثوں میں آیا ہے کہ مسیح حکم ہو کر آئے گا اور وہ اسلام کے تمام فرقوں پر حاکم عام ہو گا جس کا ترجمہ انگریزی میں گورنر جنرل ہے …سو ان حدیثوں سے صریح اور کھلے طور پرانگریزی حکومت کی تعریف ثابت ہوتی ہے کیونکہ وہ مسیح اسی سلطنت کے ماتحت پیدا ہوا ہے”۔ (تریاق القلوب۔ صفحہ 16، 17)

ایک ہی سانس میں کئی جھوٹ:

” جس روز وہ الہام مذکورہ بالا جس میں قادیان میں نازل ہونے کا ذکر ہے ہوا تھا اس روز کشفی طور پر میں نے دیکھا کہ میرے بھائی صاحب مرحوم غلام قادر میرے قریب بیٹھ کر بآواز بلند قرآن شریف پڑھ رہے ہیں اور پڑھتے پڑھتے انھوں نے ان فقرات کو پڑھا انا انزلناہ قریبا من القادیان   تو میں نے سن کر بہت تعجب کیا کہ کیا قادیان کا نام بھی قرآن شریف میں لکھا ہوا ہے۔ تب انھوں نے کہا دیکھو لکھا ہوا ہے۔ تب میں نے نظر ڈال کر جو دیکھا تو معلوم ہوا کہ فی الحقیقت قرآن شریف کے دائیں صفحہ میں شاید قریب نصف کے موقع پر یہ الہامی عبارت لکھی  ہوئی موجود ہے۔تب میں نے اپنے دل میں کہا کہ واقع طور پر قادیان کا نام قرآن شریف میں درج ہے اور میں نے کہا تین شہروں کا نام اعزاز کے ساتھ قرآن شریف میں درج کیا گیا ہے مکہ، مدینہ اور قادیان”

(ازالہ اوبام صفحہ 76، 77)

صحابہ ؓ کی شان میں گستاخی کرتے ہوئے لکھتا ہے:

بعض نادان صحابی جن کو درایت سے  کچھ حصہ نہ تھا…(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم مندرجہ روحانی خزائین جلد 21 صفحہ 285)

” جو شخص قرآن شریف پر ایمان لاتا ہے، اسے چاہیے کہ ابو ہریرہ کے قول کو ردی متاع کی طرح پھینک دے”(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص210 مندرجہ روحانی خزائین ج 21 ص 41)

مرزا قادیانی نے اسی طرح اپنی کتابوں اعجاز احمدی کے صفحہ 18 اور حقیقتہ الوحی کے صفحہ 34 پر صحابہؓ کے بارے میں اپنے خبث باطن کا اظہار کیا ہے نعوذ باللہ من ذالک۔

یہ مرزا قادیانی کی ہزاروں خرافات میں سے چند مثالیں تھیں ۔ اس بد بخت کی بہت سی خرافات کو تو نقل ہی نہیں کیا جا سکتا۔ اس نے اپنی کتابوں میں، نعوذ باللہ ، اللہ کے برگزیدہ و پاکباز نبی عیسیٰ علیہ السلام  کی توہین کرتے ہوئے انہیں شرابی، بدکار، بدکاری کی تعلیم دینے والا، بدزبانی کرنے والا، جھوٹ بولنے والا، گالیاں دینے والا، علمی خیانت کا ارتکاب کرنے والا اور ذہنی مریض قرار دیا ہے۔ (ملاحظہ کریں: انجام آتھم صفحہ 5،6،7، کشتی نوح، حاشیہ، صفحہ 73 نسیم دعوت، صفحہ 29 نورالقرآن صفحہ 42)

دراصل یہ ساری خرابیاں مرزا قادیانی میں ہی موجود تھیں۔ ان خرابیوں کے ثبوت اللہ تعالیٰ نے خود اس کے اور اس کے پیروکاروں کے ہاتھوں تحاریر کی شکل میں ظاہر فرمائےہیں۔ مرزا قادیانی کو اپنا آپ مثلِ عیسیٰ کے طور پر منوانا تھا۔  عیسیٰ علیہ السلام کی پاکبازی ثابت کرنے والی آیات بدکردار مرزا قادیانی کو مثلِ عیسیٰ منوانے میں رکاوٹ تھیں لہٰذا اس کی شیطانی سوچ نے اس کا یہ حل نکالا کہ جھوٹے الزامات اور مکاشفوں کے ذریعے عیسیٰ ؑ کو  بھی اپنے جیسا بے حیا، جھوٹا اور بدکردار شخص باور کرایا جائے، ثم نعوذ باللہ۔ اللہ تعالیٰ کا کرنا دیکھیے کہ اللہ، اس کے رسولوں اور اس کے دین کا مذاق اڑانے والے مرزا قادیانی نے اپنی کتاب براہین احمدیہ، حصہ پنجم، صفحہ 97 پر ایک شعر میں اپنے آپ کو اس قدر شرمناک گالی دی ہے کہ اسے نقل کرنے کی ہم میں ہمت نہیں۔ اس طرح ظالم خود اپنے ہاتھوں اپنی ذلت کا سامان ترکہ میں چھوڑ گیا۔فَاعْتَبِرُوْا يٰٓاُولِي الْاَبْصَارِ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *