Categories
Uncategorized

دینی امور پر اجرت

ابتدائیہ

﴿وَإِنَّ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ لَمَنْ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْكُمْ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِمْ خَاشِعِينَ لِلَّهِ لَا يَشْتَرُونَ بِآيَاتِ اللَّهِ ثَمَنًا قَلِيلًا  أُولَئِكَ لَهُمْ أَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ  إِنَّ اللَّهَ سَرِيعُ الْحِسَابِ﴾

[آل عمران: 199]

’’اہل کتاب میں بھی کچھ لوگ ایسے ہیں جو اللہ پر ایمان رکھتے  ہیں، اس کتاب پر ایمان لاتے ہیں جو تمہاری طرف بھیجی گئی ہے اوراُس کتاب پربھی ایمان رکھتے ہیں جو اس سے پہلے خود ان کی طرف بھیجی گئی تھی، اللہ کے آگے جھکے ہوئے ہیں، اور اللہ کی آیات کو تھوڑی سی قیمت پر بیچ نہیں دیتے ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے اور اللہ حساب چکانے میں دیر نہیں لگاتا۔‘‘

اللہ تعالی نے اس آیت میں ان لوگوں کا  ذکر بہت اچھے انداز میں بیان کیا ہے کہ جو اللہ کی آیات پر دنیاوی اجر نہیں لیتے بلکہ فرمایا کہ ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے۔ یعنی دین کاموں کے اجر آخرت کے لئے ہے دنیا کے لئے نہیں۔قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

﴿وَآمِنُوا بِمَا أَنْزَلْتُ مُصَدِّقًا لِمَا مَعَكُمْ وَلَا تَكُونُوا أَوَّلَ كَافِرٍ بِهِ  وَلَا تَشْتَرُوا بِآيَاتِي ثَمَنًا قَلِيلًا وَإِيَّايَ فَاتَّقُونِ﴾

[البقرة: 41]

’’اور ایمان لاؤ (اس کتاب) پر جو میں نے نازل کی تصدیق کرنے والی ہے اس کی جو تمہارے پاس ہے (تورات و انجیل) اور مت بنو پہلے انکار کرنے والے اس کے اور مت بیچو میری آیتوں کو تھوڑی قیمت میں اور صرف مجھ ہی سے پس تم ڈرو‘‘۔

﴿۔ ۔ ۔  فَلَا تَخْشَوُا النَّاسَ وَاخْشَوْنِ وَلَا تَشْتَرُوا بِآيَاتِي ثَمَنًا قَلِيلًا  وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ

[المائدة: 44]

’’تم لوگوں سے نہ ڈرو بلکہ مجھ سے ڈرو اور میری آیات کوتھوڑے معاوضے پر مت بیچو، جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہی کافر ہیں۔‘‘

ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ’’ میری آیات ‘‘ کو  ’’ ذریعہ معاش نہ بنا لو‘‘،اور فرمایا کہ جو اللہ کے نازل کردہ کے مطابق فیصلہ نہ کریں ’’وہی کافر ‘‘ ہیں۔ یعنی یہ جو حکم دیا گیا ہے کہ قرآن مجید کی آیات نہ بیچ ڈالو یہ اللہ کا حکم ہے ، اور جو اس کے خلاف فیصلہ کریں یعنی اس کمائی کو جائز قرار دیں پس وہی کافر ہیں۔ اللہ تعالیٰ مزید فرماتا ہے:

﴿إِنَّ الَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ مِنَ الْكِتَابِ وَيَشْتَرُونَ بِهِ ثَمَنًا قَلِيلًا  أُولَئِكَ مَا يَأْكُلُونَ فِي بُطُونِهِمْ إِلَّا النَّارَ وَلَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ﴾

[البقرة: 174]

’’بے شک  جو لوگ اُن احکام کو چھپاتے ہیں جو اللہ نے اپنی کتاب میں ناز ل کیے ہیں اوراس  (قرآن) کے ذریعے تھوڑا معاوضہ کماتے ہیں، وہ دراصل اپنے پیٹ میں جہنم کی  آگ ڈالتے ہیں، قیامت کے دن اللہ ہرگز ان سے بات نہ کرے گا، نہ انہیں پاک کرےگا، اور اُن کے لیے دردناک عذاب ہے‘‘۔

اس آیت میں دو معاملات بیان کئے گئے ہیں،  اول وہ لوگ جو اللہ کے نازل کردہ احکامات کو چھپاتے ہیں اور دوم وہ لوگ جو اس قرآن کے ذریعے کماتے ہیں، یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے پیٹوں میں جہنم کی آگ ڈال رہے ہیں یعنی قرآن مجید پر یہ کمائی درحقیقت جہنم کی آگ ہے۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ایسے افراد سے بات تک نہیں کرے گا یعنی ان پر بہت ہی غضب ناک ہوگا۔ انہیں پاک بھی نہیں کیا جائے گا کیونکہ جنت میں صرف پاک لوگ ہی جائیں گے۔

قارئین و سامعین  گرامی !  کتنے واضح  انداز میں اللہ تعالیٰ نے یہ بتا دیا کہ قرآن پر اجرت لینا حرام، اپنے پیٹوں میں جہنم کی آگ ڈالنا ہے اور جو لوگ یہ کام فی سبیل للہ کرتے ہیں ، آخرت میں اللہ تعالیٰ کے پاس اس کا بھرپور اجر پائیں گے۔

گویا  امامت،تعلیم القرآن پر اجرت مکمل طور پر حرام ہے۔

نبی ﷺ نے فرمایا :

عن عبد الرحمن بن شبل الأنصاري، أن معاوية قال له: إذا أتيت فسطاطي فقم فأخبر ما سمعت من رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: ” اقرءوا القرآن، ولا تغلوا فيه، ولا تجفوا عنه، ولا تأكلوا به، ولا تستكثروا به

( مسند احمد،  مسند المكيين ، حدیث عبد الرحمن بن شبل ؓ)

’’عبد الرحمن بن شبلؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا قرآن پڑھو اور اس میں غلو نہ کرو اور اس سے اعراض نہ کرو اس کو ذریعہ معاش نہ بناؤ اور نہ ہی اس سے بہت سے دنیاوی فائدے حاصل کرو۔‘‘

عن سهل بن سعد الساعدي، قال: خرج علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم يوما ونحن نقترئ، فقال: «الحمد لله كتاب الله واحد، وفيكم الأحمر وفيكم الأبيض وفيكما لأسود، اقرءوه قبل أن يقرأه أقوام يقيمونه كما يقوم السهم يتعجل أجره ولا يتأجله»

( ابو داؤد،  أبواب تفريع استفتاح الصلاة، باب ما يجزئ الأمي والأعجمي من القراءة )

’’ سہل بن سعد بن ساعدی ؓ سے روایت ہے کہ ایک دن رسول اﷲﷺہمارے پاس تشریف لاۓ اس حال میں کہ ہم قرآن کی تلاوت کر رہے تھے یہ دیکھ کر آپؐ نے فرمایا الحمدﷲ کتابﷲ پڑھنے والے سرخ بھی ہیں‛ سفید بھی ہیں‛ کالے بھی ہیں قرآن پڑھو عنقریب ایسی قومیں آئیں گی جو قرآن کے زیرزبر کو ایسے سیدھا کریں گی جیسے تیر کو سیدھا کیا جاتا ہے لیکن قرآن کے اجر میں جلدی کریں گے اور اس کو آخرت پر نہ رکھیں گے۔‘‘

عن عثمان بن أبي العاص قال: قلت: يا رسول الله، اجعلني إمام قومي. فقال: «أنت إمامهم، واقتد بأضعفهم، واتخذ مؤذنا لا يأخذ على أذانه أجرا»

( سنن النسائی،  کتاب الاذان ، اتخاذ المؤذن الذي لا يأخذ على أذانه أجرا )

’’ عثمان بن ابی العاصؓ سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ مجھے اپنی قوم کا امام بنا دیجئے آپ ؐ نے فرمایا (ٹھیک ہے) تم ان کے امام ہو لیکن کمزور مقتدیوں کا خیال رکھنا۔ اور مؤذن ایسا شخص مقرر کرنا جو اذان پر اجرت نہ لے۔‘‘

عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ: عَلَّمْتُ نَاسًا مِنْ أَهْلِ الصُّفَّةِ الْكِتَابَ، وَالْقُرْآنَ فَأَهْدَى إِلَيَّ رَجُلٌ مِنْهُمْ قَوْسًا فَقُلْتُ: لَيْسَتْ بِمَالٍ وَأَرْمِي عَنْهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، لَآتِيَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَأَسْأَلَنَّهُ فَأَتَيْتُهُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، رَجُلٌ أَهْدَى إِلَيَّ قَوْسًا مِمَّنْ كُنْتُ أُعَلِّمُهُ الْكِتَابَ وَالْقُرْآنَ، وَلَيْسَتْ بِمَالٍ وَأَرْمِي عَنْهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، قَالَ: «إِنْ كُنْتَ تُحِبُّ أَنْ تُطَوَّقَ طَوْقًا مِنْ نَارٍ فَاقْبَلْهَا»           

(المستدرک علی الصحیحین للحاکم ، کتاب البیوع، وَأَمَّا حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ )

’’ عبادہ بن صامت  ؓسے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ میں نے اہل صفہ کے کچھ لوگوں کو قرآن مجید  اور کتاب اللہ کی تعلیم دی ان میں سے ایک شخص نے مجھے ایک کمان ہدیہ دی۔ میں نے کہا کہ اس کی مالیت تو کچھ نہیں اور میں اس سے اللہ کی راہ میں تیر اندازی کروں گا (مقصد یہ کہ اس ہدیہ کے قبول کرنے کا خیال تھا اس واسطے کہ اس کی مالیت تو کچھ خاص نہیں تھی کہ اس کو تعلیم کا معاوضہ خیال کرتا اور نیت یہ تھی کہ اس کے ذریعہ اللہ کے راستہ میں تیر اندازی کروں گا) میں اس کے بارے میں رسول اللہﷺ کے پاس جاؤں گا اور سوال کروں گا، چنانچہ میں نبی ﷺ کے پاس گیا اور کہا کہ یا رسول ﷺایک آدمی نے مجھے کمان ہدیہ کی ہے ان میں سے کہ جنہیں کتاب اللہ اور قرآن کی تعلیم دیتا ہوں اور اس کمان کی کچھ مالیت بھی نہیں ہے اور اس کے ذریعہ میں اللہ کے راستہ میں تیر اندازی کروں گا، نبیﷺ نے فرمایا کہ اگر تجھے یہ بات پسند ہے کہ تیرے گلے میں آگ کا طوق ڈالا جائے تو اسے قبول کر لے۔‘‘

عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:  «من تعلم علما مما يبتغى به وجه الله، لا يتعلمه إلا ليصيب به عرضا من الدنيا، لم يجد عرف الجنة يوم القيامة»

( صحیح ابن حبان ،  کتاب العلم ، ذكر وصف العلم الذي يتوقع دخول النار في القيامة لمن طلبه )

’’ ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا کہ جس شخص نے وہ علم کہ جس سے اللہ تبارک تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کی جاتی ہے اس لئے سیکھا کہ اس کے ذریعہ اسے دنیا کا کچھ مال و متاع مل جائے تو ایسا شخص جنت کی خوشبو کو بھی نہیں پا سکے گا قیامت کے دن۔ ‘‘

قرآن اور احادیث نبوی ﷺ سے ثابت ہوا کہ

قرآن مجید کی آیات  پر  اجرت لینا،

اس پر تحفہ لینا،

اس کے ذریعے کسی اور قسم کا فائدہ اٹھانا       ،

اپنے پیٹوں میں جہنم کی آگ ڈالنا ہے۔

اللہ کے حکم کا کفر،

اورنبی ﷺ کے حکم کا کفرہے۔

اسی طرح اذان کی اجرت سے بھی منع کردیا گیا ہے۔

دینی امور پر اجرت لینے پر سارے فرقوں کا اتفاق ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ فرقوں کا سارا کنٹرل ان کے مفتی اور مولوی کے ہاتھ میں ہوتا ہے ، اور یہ اپنی کمائی کسی  بھی طور چھوڑنے پر تیار نہیں، انہوں دین کو پیشہ بنا رکھا ہے۔

اس سے  قبل ہم نے  قرآن و حدیث  کے دلائل سے اس بات کو واضح کیا تھا کہ دینی امور پر اجرت  کا لینا جائز نہیں اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ نے اس سے منع فرمایا ہے۔ اب چونکہ فرقوں کا سارا کنٹرول انہی دین فرشوں کے ہاتھ میں ہوتا ہے اس لئے یہ اپنے اندھے مقلدین کو گمراہ کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں اور  اپنی ناجائز کمائی حلال قرار دینے کے لئے امت میں طرح طرح سے شکوک ڈالتے ہیں۔ چنانچہ کچھ فرقوں کے علماء  کہتے ہیں کہ   ان قرآنی آیات کا ہر گز یہ مقصد نہیں کہ  قرآن پر  اجرت منع ہے بلکہ قرآن ہی کی آیات بعض دوسری آیات کی تفصیل بیان کرتی ہیں۔ اس بارے میں وہ مندرجہ ذیل آیت پیش کرتے ہیں :

﴿إِنَّ الَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ مِنَ الْكِتَابِ وَيَشْتَرُونَ بِهِ ثَمَنًا قَلِيلًا  أُولَئِكَ مَا يَأْكُلُونَ فِي بُطُونِهِمْ إِلَّا النَّارَ وَلَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ   ۝ أُولَئِكَ الَّذِينَ اشْتَرَوُا الضَّلَالَةَ بِالْهُدَى وَالْعَذَابَ بِالْمَغْفِرَةِ  فَمَا أَصْبَرَهُمْ عَلَى النَّارِ﴾

[البقرة: 174-175]

’’بے شک  جو لوگ اُن احکام کو چھپاتے ہیں جو اللہ نے اپنی کتاب میں ناز ل کیے ہیں اوراس  (قرآن) کے ذریعے تھوڑا معاوضہ کماتے ہیں، وہ دراصل اپنے پیٹ میں جہنم کی  آگ ڈالتے ہیں، قیامت کے دن اللہ ہرگز ان سے بات نہ کرے گا، نہ انہیں پاک کرےگا، اور اُن کے لیے دردناک عذاب ہے۔ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی خرید لی ہے اور  ( اللہ  کی طرف سے ) مغفرت کے بدلے ( اللہ کا ) عذاب، سو دیکھو یہ کس قدر صبر کرنے والے ہیں جہنم کی آگ پر۔‘‘

﴿وَإِذۡ أَخَذَ ٱللَّهُ مِيثَٰقَ ٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡكِتَٰبَ لَتُبَيِّنُنَّهُۥ لِلنَّاسِ وَلَا تَكۡتُمُونَهُۥ فَنَبَذُوهُ وَرَآءَ ظُهُورِهِمۡ وَٱشۡتَرَوۡاْ بِهِۦ ثَمَنٗا قَلِيلٗاۖ فَبِئۡسَ مَا يَشۡتَرُونَ﴾

[آل عمران: 187]

’’ اور جب اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں سے پختہ عہد لیا تھا جو کتاب دیئے گئے کہ وہ لوگوں کے سامنے کتاب کو وضاحت سے بیان کریں گے اور اسے چھپائیں گے نہیں۔ پھر انہوں نے کتاب کو پس پشت ڈال دیا اور اسے تھوڑی سی قیمت کے عوض بیچ ڈالا۔ کتنی بری ہے وہ قیمت جو وہ وصول کر رہے ہیں‘‘۔

ان آیات  کو پیش کرکے کہا جاتا ہے کہ  جب دین کو چھپا لیا جائے اور اس پر اجرت لی جائے تو یہ اسوقت یہ حرام ہے ورنہ یہ جائز ہے۔

وضاحت :

بے شک ایسا کرکے اس پر اجرت لینا تو کھلا حرام ہے لیکن یہ مفتیان بھی اس امت کیساتھ وہی کھیل رہے ہیں جو کہ قوم یہود کے علماء نے کھیلا تھا کہ  اللہ کے نازل کردہ  میں سے بہت چھپا لیا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اس قسم کے افراد کی  اس روش سے اسی وقت آگاہ کردیا تھا۔ مالک کائنات فرماتا ہے :

﴿يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِنَّ كَثِيرٗا مِّنَ ٱلۡأَحۡبَارِ وَٱلرُّهۡبَانِ لَيَأۡكُلُونَ أَمۡوَٰلَ ٱلنَّاسِ بِٱلۡبَٰطِلِ وَيَصُدُّونَ عَنسَبِيلِ ٱللَّهِۗ ۔ ۔ ۔﴾

[التوبة: 34]

’’اے ایمان والو، بے شک علماء اور پیروں کی اکثریت   لوگوں کا مال باطل  طریقے سے کھاتی ہے  اور انہیں اللہ کی راہ سے روک دیتی ہے ۔ ۔ ۔‘‘

اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی بتا دیا تھا کہ یہ لوگوں کا  مال باطل طریقے سے کھاتے ہیں تو اللہ کی وہ بات صادق آئی اور آج  یہ بات ہمارے سامنے کھل کر آچکی ہے کہ یہ مولوی، یہ پیر اور مفتیان کس کس طرح دین پر کمائی کر رہے ہیں۔  کہیں امامت پر اجرت ہے، کہیں تعلیم القرآن پر اجرت، کہیں قرآن کا تعویذ لکھ کر کما رہے ہیں  اور کہیں ایصال ثواب کی بدعات پر مبنی رسومات ایجاد کرکے وہاں پوری پوری ٹیم لیجا کر ختم قرآن کی فیس لے رہے ہیں۔ کہیں مولوی صاحب کو ختم  پر بلایا جاتا ہے اور ہاتھ اٹھا اٹھا کر دعا کرکے تر مال اور ہدیہ حاصل کرتے ہیں تو  اب کہیں ’’ قرآن سے روحانی علاج ‘‘ شروع کردیا ہے۔ کہیں اذان پر اجرت ہے تو کہیں  درس و تدریس پرجانے کا ہدیہ۔ الغرض کہ دین کو کمائی کا ذریعہ بنا ڈالا ہے۔

مفتی صاحبان جو یہ دو آیات پیش کررہے ہیں تو دین پر اجرت کے بارے میں  قرآن میں صرف یہ دو آیات نہیں ہیں بلکہ کثرت سے وہ آیات بھری پڑی ہیں جن میں اجرت پر انکار ثابت ہوتا ہے۔ مفتی صاحبان وہ آیات لوگوں کے سامنے آنے ہی نہیں دیتے بلکہ اسے چھپا لیتے ہیں۔ملاحظہ فرمائیں اس کی چند مثالیں:

نوح علیہ السلام نے اپنی قوم سے کہا :

﴿وَمَآ أَسۡ‍َٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ مِنۡ أَجۡرٍۖ إِنۡ أَجۡرِيَ إِلَّا عَلَىٰ رَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ﴾

[الشعراء: 109]

’’اور نہیں میں سوال کرتا تم سے اس پر کسی اجرت کا، نہیں ہے میری اجرت مگر جہانوں کے رب کے ذمے‘‘ ۔

﴿وَيَٰقَوۡمِ لَآ أَسۡ‍َٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ مَالًاۖ إِنۡ أَجۡرِيَ إِلَّا عَلَى ٱللَّهِۚ﴾

[هود: 29]

’’اور اے میری قوم ! میں نہیں مانگتا تم سے اس پر کوئی مال، نہیں ہے میرا اجر مگر اللہ پر ‘‘

ھود علیہ اسلام نے فرمایا میرا اجر ﷲ کے ذمہ ہے۔

﴿وَمَآ أَسۡ‍َٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ مِنۡ أَجۡرٍۖ إِنۡ أَجۡرِيَ إِلَّا عَلَىٰ رَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ﴾

[الشعراء: 127]

’’اور نہیں میں سوال کرتا تم سے اس پر کسی اجرت کا، نہیں ہے میری اجرت مگر جہانوں کے رب کے ذمے‘‘ ۔

﴿يَٰقَوۡمِ لَآ أَسۡ‍َٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ أَجۡرًاۖ إِنۡ أَجۡرِيَ إِلَّا عَلَى ٱلَّذِي فَطَرَنِيٓۚ أَفَلَا تَعۡقِلُونَ﴾

[هود: 51]

’’اے میری قوم ! نہیں میں مانگتا تم سے اس پر کوئی اجر، نہیں ہے میرا اجر مگر اس پر جس نے مجھے پیدا کیا تو کیا تم سمجھتے نہیں ہو‘‘

لوط علیہ اسلام نےفرمایا میرا اجر ﷲ کے ذمہ ہے۔

﴿وَمَآ أَسۡ‍َٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ مِنۡ أَجۡرٍۖ إِنۡ أَجۡرِيَ إِلَّا عَلَىٰ رَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ﴾

[الشعراء: 164]

’’اور نہیں میں مانگتا تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی اجرت ، نہیں ہے میری اجرت مگر رب العالمین کے ذمے ‘‘۔

شعیب علیہ اسلام نے فرمایا میرا اجر ﷲ کے ذمہ ہے۔

﴿وَمَآ أَسۡ‍َٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ مِنۡ أَجۡرٍۖ إِنۡ أَجۡرِيَ إِلَّا عَلَىٰ رَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ﴾

[الشعراء: 180]

’’اور نہیں میں مانگتا تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی اجرت ، نہیں ہے میری اجرت مگر رب العالمین کے ذمے‘‘ ۔

سورہ یٰسن میں اللہ تعالیٰ نے ایک بنیاد بیان فرمائی کہ ہدایت پر کون ہے :

اتَّبِعُوۡا مَنۡ لَّا یَسْـَٔلُكُمْ اَجْرًا وَّ ہُمۡ مُّہۡتَدُوۡنَ

(یٰسٓ :21)

’’ رسولوں کی اتباع کرو جو تم سے کوئی اجر نہیں مانگتے اور جو ہدایت یافتہ ہیں۔‘‘

نبی ﷺ سے کہلوایا :

قُلۡ  لَّاۤ  اَسْـَٔلُكُمْ عَلَیۡہِ  اَجْرًا ؕ اِنْ  ہُوَ  اِلَّا ذِكْرٰی لِلْعٰلَمِیۡنَ

(الانعام: 90)

’’ (اے نبی ﷺ!) کہدو کہ میں تم سے اس (قرآن) پر اجرت نہیں مانگتا ، یہ تو تمام عالم کے لیے نصیحت ہے ۔‘‘

قُلْ مَا سَاَلْتُكُمۡ مِّنْ اَجْرٍ فَہُوَ لَكُمْ ؕ اِنْ اَجْرِیَ  اِلَّا عَلَی اللہِ

(سبا :47)

’’ (اے نبی ﷺ!) کہدو کہ میں نے (دین پر) تم سے کچھ اجرت مانگی ہو تو وہ تمہاری، میرا اجر تو اﷲ کے ذمہ ہے اور وہ ہر چیز سے باخبر ہے ‘‘۔

انبیاء علیہ السلام بھی اپنے ہاتھوں سے کمانے والے تھے :

عَنِ النَّبِیِّا قَالَ مَا بَعَثَ اللّٰہُ نَبِیًّا اِلَّا رَعَی الْغَنَمَ فَقَالَ اَصْحَابُہٗ وَ اَنْتَ فَقَالَ نَعَمْ کُنْتُ اَرْعَاھَاعَلٰی قَرَارِْ یطَ لِاَھْلِ مَکَّۃَ

(بخاری: کتاب الاجارۃ، باب رعی الغنم علی قراریط )

’’ نبی ﷺنے فرمایا کہ اﷲ تعالیٰ نے کوئی نبی ایسا نہیں بھیجا جس نے بکریاں نہ چَرائیں ہوں۔ صحابہؓ نے پوچھا اور آپ نے بھی؟ فرمایا کہ ہاں، میں بھی مکہ والوں کی بکریاں چند قیراط کی اجرت پر چَرایا کرتا تھا‘‘۔

اسی طرح انبیاء علیہ السلام مختلف کام کیا کرتے تھے:

اِنَّ دَاوٗدَ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ لَا یَاْکُلُ اِلَّامِنْ عَمَلِ یَدِہٖ

(بخاری: کتاب البیوع، باب کسب الرجل عملِہ بیدہٖ)

’’ اﷲ کے نبی داؤ د علیہ الصلوٰۃ و السلام صرف اپنے ہاتھ سے کام کرکے روزی حاصل کرتے تھے ۔‘‘

کَانَ زَکَرِیَّا نَجَّارًا

(مسلم:کتاب الفضائل،باب فضائل زکریا ؑ)

’’ زکریا  ؑ بڑھئی تھے ۔‘‘

اب دیکھیں صحابہ ؓ  کا کردار:

عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَتَاهُ رِعْلٌ وَذَكْوَانُ وَعُصَيَّةُ وَبَنُو لَحْيَانَ فَزَعَمُوا أَنَّهُمْ قَدْ أَسْلَمُوا وَاسْتَمَدُّوهُ عَلَى قَوْمِهِمْ ، فَأَمَدَّهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَبْعِينَ مِنْ الْأَنْصَارِ ، قَالَ : أَنَسٌ كُنَّا نُسَمِّيهِمْ الْقُرَّاءَ يَحْطِبُونَ بِالنَّهَارِ وَيُصَلُّونَ بِاللَّيْلِ فَانْطَلَقُوا بِهِمْ حَتَّى بَلَغُوا بِئْرَ مَعُونَةَ غَدَرُوا بِهِمْ وَقَتَلُوهُمْ ، فَقَنَتَ شَهْرًا يَدْعُو عَلَى رِعْلٍ وَذَكْوَانَ وَبَنِي لَحْيَانَ ، قَالَ : قَتَادَةُ ، وَحَدَّثَنَا أَنَسٌ أَنَّهُمْ قَرَءُوا بِهِمْ قُرْآنًا أَلَا بَلِّغُوا عَنَّا قَوْمَنَا بِأَنَّا قَدْ لَقِيَنَا رَبَّنَا فَرَضِيَ عَنَّا وَأَرْضَانَا ، ثُمَّ رُفِعَ ذَلِكَ بَعْدُ

( بخاری،کتاب الجہاد و السیر، بَابُ العَوْنِ بِالْمَدَدِ )

’’نبی کریم ﷺ کی خدمت میں رعل ‘ ذکوان ‘ عصیہ اور بنو لحیان قبائل کے کچھ لوگ آئے اور یقین دلایا کہ وہ لوگ اسلام لا چکے ہیں اور انہوں نے اپنی کافر قوم کے مقابل امداد اور تعلیم و تبلیغ کے لیے آپ سے مدد چاہی۔ تو نبیﷺنے ستر انصاریوں کو ان کے ساتھ کر دیا۔ انسؓ نے بیان کیا ‘ کہ ہم انہیں قاری کہا کرتے تھے۔ وہ لوگ دن میں جنگل سے لکڑیاں جمع کرتے اور رات میں صلوٰۃ ادا کرتے  رہتے۔ یہ لوگ  ان قبیلہ والوں کے ساتھ چلے گئے ‘ لیکن جب بئرمعونہ پر پہنچے تو قبیلہ والوں نے ان صحابہ ؓ کے ساتھ دغا کی اور انہیں شہید کر ڈالا۔ نبیﷺ نے ایک مہینہ تک  ( صلوٰۃ میں )  قنوت پڑھی اور رعل و ذکوان اور بنو لحیان کے لیے بددعا کرتے رہے۔ قتادہ نے کہا کہ ہم سے انس ؓ نے کہا کہ  ( ان شہداء کے بارے میں )  قرآن مجید میں ہم یہ آیت یوں پڑھتے رہے ”ہاں! ہماری قوم  ( مسلمین )  کو بتا دو کہ ہم اپنے رب سے جا ملے۔ اور وہ ہم سے راضی ہو گیا ہے اور ہمیں بھی اس نے خوش کیا ہے۔“ پھر یہ آیت منسوخ ہو گئی تھی‘‘۔

قرآن و حدیث کے دلائل سے ثابت ہوا کہ کسی بھی حالت میں قرآن مجید پر اجرت نہیں لی جا سکتی۔  فرقے کے مفتیان و علماء خود ان سب باتوں کو چھپاتے ہیں، لوگوں کے سامنے یہ سب بیان نہیں کرتے تاکہ لوگ حقیقت جان کر ہمیں  مال دینا نہ بند کردیں، لہذا اب ان پر بھی ان دونوں آیات کا نفاذ ہوتا ہے جو یہ بہانہ تراشنے کے لئے بیان کرتے ہیں۔ اس طرح انہوں نے وہی کام کیا جو مالک قرآن مجید میں فرماتا ہے :

﴿ٱشۡتَرَوۡاْ بِ‍َٔايَٰتِ ٱللَّهِ ثَمَنٗا قَلِيلٗا فَصَدُّواْ عَن سَبِيلِهِۦٓۚ إِنَّهُمۡ سَآءَ مَا كَانُواْ يَعۡمَلُونَ﴾

[التوبة: 9]

’’انہوں نے اللہ کی آیات کو تھوڑی سی قیمت پر بیچ دیا پھر (لوگوں کو) اللہ کی راہ سے روک دیا۔ بہت برے ہیں وہ کام جو وہ کر رہے ہیں‘‘۔

بالکل آج یہی ماحول ہے کہ ہر ہر فرقےنے ’’ دین پر اجرت ‘‘ پر اتفاق کیا ہوا ہے اور باقی ہر ہر مسئلے پر ان کا اختلاف ہے، بہر حال ان میں بھی کچھ لوگ ایسے ہیں جو اجرت نہیں لیتے لیکن ان کی تعداد بمشکل ایک دو فیصد ہی ہوگی۔

اپنےاس حرام فعل کو حلال ثابت کرنےکے لئے یہ  بخاری کی ایک حدیث بھی پیش کرتے ہیں، لہذا اس کا مطالعہ بھی کرتے ہیں۔

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ أَبِي المُتَوَكِّلِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَوْا عَلَى حَيٍّ مِنْ أَحْيَاءِ العَرَبِ فَلَمْ يَقْرُوهُمْ، فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ، إِذْ لُدِغَ سَيِّدُ أُولَئِكَ، فَقَالُوا: هَلْ مَعَكُمْ مِنْ دَوَاءٍ أَوْ رَاقٍ؟ فَقَالُوا: إِنَّكُمْ لَمْ تَقْرُونَا، وَلاَ نَفْعَلُ حَتَّى تَجْعَلُوا لَنَا جُعْلًا، فَجَعَلُوا لَهُمْ قَطِيعًا مِنَ الشَّاءِ، فَجَعَلَ يَقْرَأُ بِأُمِّ القُرْآنِ، وَيَجْمَعُ بُزَاقَهُ وَيَتْفِلُ، فَبَرَأَ فَأَتَوْا بِالشَّاءِ، فَقَالُوا: لاَ نَأْخُذُهُ حَتَّى نَسْأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلُوهُ فَضَحِكَ وَقَالَ: «وَمَا أَدْرَاكَ أَنَّهَا رُقْيَةٌ، خُذُوهَا وَاضْرِبُوا لِي بِسَهْمٍ»

( بخاری، کتاب  الطب، بَابُ الرُّقَى بِفَاتِحَةِ الكِتَابِ )

’’ابوسعیدخدری ؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ کے صحابہ میں سے چند لوگ عرب کے کسی قبیلہ کے پاس پہنچے، اس قبیلہ کے لوگوں نے ان کی ضیافت نہیں کی، وہ لوگ وہیں تھے کہ اس قبیلہ کے سردار کو سانپ نے ڈس لیا، تو انہوں نے پوچھا کہ تمہارے پاس کوئی دوا یا کوئی دم کرنے والا ہے، تو ان لوگوں نے کہا کہ تم نے ہماری مہمان داری نہیں کی اس لئے ہم کچھ نہیں کریں گے، جب تک کہ تم لوگ ہمارے لئے کوئی چیز متعین نہ کروگے، اس پر ان لوگوں نے چند بکریوں کا دینا منظور کیا،پھر  ابو سعید خدری ؓ  نے سورہ فاتحہ پڑھنا شروع کی اور تھوک جمع کرکے اس پر ڈال دیا، تو وہ آدمی تندرست ہوگیا، وہ آدمی بکریاں لے کر آیا تو انہوں ( صحابہ ؓ ) نے کہا کہ ہم یہ نہیں لیتے جب تک کہ نبیﷺ سے اس کے متعلق دریافت نہ کرلیں، چنانچہ ان لوگوں نے نبی ﷺسے اس کے متعلق دریافت کیا تو آپ ہنس پڑے، فرمایا کہ تمہیں کیسے معلوم ہوا کہ سورہ فاتحہ دم ہے، تم اس کو لے لو اور ایک حصہ میرا بھی اس میں لگا و۔

یہ خصوصی معاملہ اس وقت پیش آیا تھا جب صحابہ کرامؓ کی جماعت کا گزر ایک قبیلے والوں پر ہوا جنہوں نے اس جماعت کی میزبانی کرنے سے انکار کردیا۔ایسی صورتحال کے لیے نبی ﷺ نے صحابہ کرام کو اس بات کی تعلیم دی ہوئی تھی کہ اگر کوئی قبیلہ ان کی ضیافت نہ کرے تووہ کسی طور سے حق ضیافت وصول کرلیں کیونکہ اس دور میں آج کل کی طرح ہوٹلوں وغیرہ کا رواج نہیں تھا۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَزِيدُ، عَنْ أَبِي الخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: قُلْنَا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّكَ تَبْعَثُنَا، فَنَنْزِلُ بِقَوْمٍ لاَ يَقْرُونَا، فَمَا تَرَى فِيهِ؟ فَقَالَ لَنَا: «إِنْ نَزَلْتُمْ بِقَوْمٍ   فَأُمِرَ لَكُمْ بِمَا يَنْبَغِي لِلضَّيْفِ فَاقْبَلُوا، فَإِنْ لَمْ يَفْعَلُوا، فَخُذُوا مِنْهُمْ حَقَّ الضَّيْفِ»

( بخاری، کتاب المظالم و غضب ، بَابُ قِصَاصِ المَظْلُومِ إِذَا وَجَدَ مَالَ ظَالِمِهِ )

اِنَّ اَحَقَّ مَا اَخَذْتُمْ عَلَیْہِ اَجْراً کِتَابُ اللّٰہِ

’’عقبہ بن عامر سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ ہم نے نبیﷺسے عرض کیا کہ آپ  ہمیں دوسری جگہ بھیجتے ہیں تو ہم ایسی قوم میں اترتے ہیں جو ہماری مہمانداری نہیں کرتے اس کے متعلق آپ  کیا فرماتے ہیں ؟ نبی ﷺنے ہم سے فرمایا کہ اگر تم کسی قوم کے پاس اترو اور وہ تمہارے لئے مناسب طور پر مہمانداری کا حکم دیں تو خیر ورنہ تم ان سے مہمانی کا حق وصول کرو‘‘۔

اس قبیلے نے اس جماعت کی ضیافت سے انکار کیاتواﷲ تعالیٰ نے اس قبیلے کے سردار کو کسی زہریلی چیز سے ڈسوا دیا۔جب وہ قبیلے والے صحابہ  کرام ؓ کے پاس آئے تو اُن کے طرز عمل کی نشاندہی کی گئی جیسا کہ روایت میں ہے۔ اس سے اس بات کی مکمل وضاحت ہوگئی کہ صحابہؓ نے یہ معاملہ محض اس بنیاد پر کیا تھا کہ قبیلے والوں نے حق ضیافت ادا نہیں کیا تھا ۔چنانچہ سور ہ فاتحہ کا دم کیا گیا اور اﷲ تعالیٰ نے ان کے سردار کو شفا عطا فرمادی ،قبیلے والے حسب وعدہ بکریاں لے آئے۔اب صحابہ کرام ؓ کو تردد ہو ا ۔ یہ تردد اسی وجہ سے ہوا کہ اللہ اوراس کے رسول ا قرآن پر اجرت کو حرام ٹھہراتے تھے ۔ چنانچہ انہوں نے اس سلسلے میں یہ طے کیا کہ یہ معاملہ پہلے نبیﷺ کے سامنے پیش کیا جائے۔نبیﷺنے ان سے کہا کہ تمہیں کیسے معلوم کہ ’’ فاتحہ ‘‘ ایک دم ہے  ( یعنی ایسی کوئی تعلیم نہیں دی گئی تھی )، پھر فرمایا کہ اس میں میرا بھی حصہ لگاو‘‘۔

اگر نبیﷺ اسے ’’اجرت‘‘ یا ’’کمائی‘‘ سمجھتے تو کسی طور پر بھی اس کی تقسیم اور اس میں اپناحصہ نکالنے کا حکم نہ دیتے کیونکہ ’’اجرت‘‘ یا’’ کمائی ‘‘ توعمل کرنے والے کی ہوتی ہے، وہ کسی میں تقسیم نہیں ہوتی۔

قبیلہ والوں نے صحابہ سے دریافت کیا کہ کیا تمہارے پاس کاٹے کی دوا ہے یا تمہارے اندر کوئی ایسا ہے جو کاٹے کے منتر سے واقف ہو اور دم کر سکتا ہو۔ صحابہ نے جواب دیا کہ ’’ ہاں‘‘۔ مگر تم لوگ وہ ہو جنہوں نے ہماری میزبانی کرنے سے انکار کردیا ہے اس لیے ہم اس وقت تک تمہارے سردار پر ’’دم‘‘ نہ کریں گے جب تک تم ہمیں اُس کی اجرت دینے کا وعدہ نہ کرو۔‘‘ان علماء سو نے جو  نے اپنی حرام کمائی کو حق ثابت کرنے کے لیے جو تانے بانے ملانے کی کوشش کی تھی،اس حدیث کے واضح الفاظ نے سر راہ اس کا شیرازہ بکھیر دیا۔

اِنَّ اَحَقَّ مَا اَخَذْتُمْ عَلَیْہِ اَجْراً کِتَابُ اللّٰہِ

اسی واقعہ کی ایک اور روایت ابن عباس رضی اﷲ عنہما سے بھی آتی ہے۔ما قبل بیان کردہ روایت ابو سعید خدری ؓسے مروی ہے جو کہ خود اس قافلے میں شامل تھے،اور ترمذی کی بیان کردہ روایت کے مطابق دم کرنے والے بھی وہ خود ہی تھے، مگر یہ حدیث جس کو روایت کرنے والاصحابی وہ ہے جو خود اس میں سفر میں شامل تھا اور جو اس پورے واقعے کا عینی شاہد اور مرکزی کردار رہا،ان فرقہ پرستوں کے نزدیک اُس روایت سے کم تر ہے جو دوسرے ایسے صحابی سے مروی ہے جو اس واقعے کے گواہ نہیں کہ اس مہم میں شریک سفر نہ تھے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اُس روایت میں ایک ایسا جملہ ہے جس کے ذریعے ان پیشہ وروں نے اپنی ’’حرام‘‘ کمائی کو جائز ٹھہرایا ہوا ہے۔ ابن عباس رضی اﷲ عنہما کی محولہ روایت میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ جب قبیلے کا سردارٹھیک ہوگیا اور صحابہ کو حسب وعدہ بکریاں دے دی گئیں
فَکَرِھُوْاذٰلِکَ وَقَالُوْا اَخَذْتَ عَلٰی کِتَابَ اﷲِ اَجْراً
’’ انہوں نے اسے لینے میں کراہیت کی اور کہا تم نے کتاب اﷲ پر اجرت لی ہے‘‘
حَتّٰی قَدِمُوْا الْمَدِیِنَۃِ فَقَالُوْا یَا رَسُوْلَ اﷲِ اَخَذَ عَلٰی کِتَابِ اﷲِ اَجْراً
’’ یہاں تک  کہ وہ مدینہ پہنچے ،تو انہوں نے کہا اے اﷲ کے رسول ا انہوں نے کتاب اﷲ پر اجرلیا ہے‘‘
رسول اﷲ ﷺنے فرمایا:
اِنَّ اَحَقَّ مَا اَخَذَتُمْ عَلَیہِ اَجْراً کِتَابُ اﷲِ
’’ جن چیزوں پر تم اجر لیتے ہو ان میں سب سےحقدار کتاب اﷲ ہے‘‘
(بخاری:کتاب الطب،باب الشرط فی الرقیۃ۔۔۔)

اس واقعے کے بارے میں تمام کتب حدیث بشمول صحیح بخاری میں جتنی بھی روایات بیان کی گئی ہیں ،سوائے اس منفرد روایت کے کسی میں بھی یہ الفاظ نہیں ملتے۔ یہی وہ جملہ ہے جس پرمفتی و مولوی اور ان  کے ہم قبیل اسلاف نے ایک جھوٹی عمارت کھڑی کرنے کی کوشش کی ہے۔ ہر معاملے میں قرآن و حدیث ایک متفقہ عقیدہ دیتا ہے۔ اگر کبھی کسی آیت یا حدیث کے الفاظ سے بظاہر کسی اور آیت یا حدیث کا انکار ہو رہا ہو تواس کی تاویل کتاب اﷲکے دئیے ہوئے مؤقف کے مطابق کی جاتی ہے۔اس بارے میں قرآن و حدیث کا یہی بیان ہے کہ اﷲ کی آیات کو بیچا نہ جائے، اس کوکسی انداز میں بھی کمائی کا ذریعہ نہ بنایا جائے، اس کے عوض کسی قسم کا کوئی تحفہ نہ لیا جائے اور نہ کوئی دوسرا دنیاوی فائدہ اٹھایا جائے، اذان فی سبیل اﷲ دی جائے، اس پر کوئی معاوضہ نہ دیا لیا جائے، دینی علم کو صرف اﷲ کی رضا کے لیے سیکھا جائے،جس کسی نے اسے دنیا کمانے کے لیے سیکھا تواس پر جنت کی خوشبو بھی حرام ہے۔

یہ سار ی باتیں ہمیں رسول اﷲ ﷺ کے ذریعے ہی پہنچی ہیں۔ اب کیا اس بات کا تصور کیا جا سکتا ہے کہ اﷲ کے رسول ﷺ اس کے خلاف بھی کوئی بات فرما دیں گے! رسول اﷲﷺ کے اس فرمان کو اسی انداز میں قبول کیا جائے گا کہ جس انداز میں خود انہوں نے اس پر عمل کیا ہوگا۔جبکہ نبی ﷺ سے زیادہ اللہ تعالیٰ کے حکم کو جو سورہ الانعام آیت نمبر 90 میں ہے عمل کرنے والا اور کون ہو سکتا ہے:

﴿أُوْلَٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ هَدَى ٱللَّهُۖ فَبِهُدَىٰهُمُ ٱقۡتَدِهۡۗ قُل لَّآ أَسۡ‍َٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ أَجۡرًاۖ إِنۡ هُوَ إِلَّا ذِكۡرَىٰ لِلۡعَٰلَمِينَ﴾

[الأنعام: 90]

’’یہی لوگ ایسے تھے جن کو اللہ تعالٰی نے ہدایت کی تھی  سو آپ بھی ان ہی کے طریق پر چلیئے  آپ کہہ دیجیئے کہ میں تم سے اس (قرآن) پر کوئی معاوضہ نہیں چاہتا  یہ تو صرف تمام جہان والوں کے واسطے ایک نصیحت ہے‘‘  ۔

سور ہ احزاب میں اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِمَنْ كَانَ يَرْجُو اللَّهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ وَذَكَرَ اللَّهَ كَثِيرًا﴾

[الأحزاب: 21]

’’ اور تمہارے لیے رسول کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے، ہر اس شخص کے لیے جو اﷲ(کے سامنے)اور روز آخرت (سرخروئی)کی توقع رکھتا  ہو اور کثرت سے اﷲ کا ذکر کرنے والا ہو‘‘

یہ علماء فرقہ  اب فیصلہ کرلیں کہ وہ کن لوگوں میں ہیں؟اگریہ اﷲ کے ملنے اور قیامت کے آنے پر ایمان رکھتے ہیں تو نبی ﷺ کا طریقہ اپنائیں۔

رسول اﷲﷺنے یہ جملہ فرمایا کہ کتاب اﷲ پر اجر لینا سب سے زیادہ بہتر ہے، لیکن فقر و فاقہ، مصیبت و افلاس میں گھرے ہوئے کسی صحابی کو امامت،اذان یا تعلیم القرآن پر اجرت نہیں دی!                                 کیا رسول اﷲﷺ کا یہ اسوہ قابل اتباع نہیں ؟ صحابہ کرام ؓ بھی اس جملے کے معنی نہیں سمجھ پائے اور دین سے دنیا کمانے کے بجائے آخرت خریدنے میں ہی مصروف رہے! لیکن سمجھے توبس علم کے یہ ’’سمندروپہاڑ‘‘ ہی سمجھے کہ اس جملے میں کیا بات پنہاں ہے!

قرآن و حدیث کی رو سے جو بات اس جملے سے واضح ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ اجر کمانے کے لائق بہترین چیز اﷲ کی کتاب ہے۔اس سلسلے میں قرآن کی آیات اور احادیث پیش کرنے کی چنداں ضرورت نہیں کہ قرآن پڑھنے ،اس کے مطابق اپنے عقائد بنانے اوراس پر عمل کرنے والوں کے لیے اﷲ نے کتنا بہترین اجر تیارکر رکھا ہے جو آخرت میں ملے گا۔ نبی ﷺ نے فرمایا :

اللَّهُمَّ لَا عَيْشَ إِلَّا عَيْشُ الْآخِرَهْ

( بخاری ، کتاب الجہاد و السیر ، بَابُ البَيْعَةِ فِي الحَرْبِ أَنْ لاَ يَفِرُّوا، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: عَلَى المَوْتِ )

’’ اے میرے اللہ زندگی نہیں ہے مگر  بس آخرت کی زندگی ہے ‘‘۔

دنیا میں اس کتاب سے جو اجر ملتا ہے وہ یہی ہے کہ اﷲ اس کتاب پر عمل کرنے والوں کو ’’سربلند‘‘کر دیتا ہے۔جیسا کہ نبیﷺ نے فرمایا:

اِنَّ اﷲَ یَرْفَعُ بِھٰذَا الْکِتَابِ اَقْوَامًا وَّ یَضَعُ بِہٖ اٰ خَرِیْنَ

(مسلم: کتاب صلوٰۃ،باب فضل من یقوم بالقرآن۔۔۔)

’’ ۔۔۔ اﷲ تعالیٰ اس کتاب کے ذریعے قوموں کو سربلندی عطا فرماتا ہے اور دوسروں کو اس کے ذریعے پستی میں ڈالدیتا ہے‘‘۔

دنیا میں قرآن پر جو صلہ ملتا ہے وہ یہی ہے کہ اس کو پڑھنے اور اس پر عمل کرنے والی قوموں کو اﷲ تعالیٰ اس دنیا میں سربلندی عطا فرماتا ہے اور اس کے مقابلے میں جو قومیں اس کے مطابق عمل نہیں کرتیں ،انہیں اس دنیا میں ذلیل و پست کردیا جاتا ہے، جیسا کہ آج یہ کلمہ گو امت اس دنیا میں پست کردی گئی ہے۔لہٰذا دینی امور پر اجرت کو جائز قرار دینا محض جہالت اور افترا ء پردازی ہے،خود نبی ﷺکے اسوہ اور صحابہ کرام ؓ   کا طرز عمل اس کی نفی کرتا ہے۔

اگر نبی ﷺ کا اس جملے سے مطلب نعوذوباللہ قرآن پر  دنیاوی اجرت لینا تھا تو یہ سارے ملکر  وہ  صحیح احادیث پیش کردیں جس میں نبی ﷺ کا کسی صحابی کو امامت ، تعلیم القرآن پرتنخواہ، اجرت، وظیفہ یا تحفہ دینا ثابت ہو۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *