Categories
Uncategorized

طلاق ثلٰثہ ( ایک مجلس کی تین طلاق)

ابتدائیہ:

﴿ٱلطَّلَٰقُ مَرَّتَانِۖ فَإِمۡسَاكُۢ بِمَعۡرُوفٍ أَوۡ تَسۡرِيحُۢ ۔ ۔ ۔ ﴾

[البقرة: 229]

’’ طلاق دوبار ہے، پھر یاتو اچھی طرح سے روک لینا ہے یا احسن طریقے سے رخصت کردینا ہے‘‘۔

﴿فَإِن طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُۥ مِنۢ بَعۡدُ حَتَّىٰ تَنكِحَ زَوۡجًا غَيۡرَهُۥۗ فَإِن طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَيۡهِمَآ أَن يَتَرَاجَعَآ إِن ظَنَّآ أَن يُقِيمَا حُدُودَ ٱللَّهِۗ وَتِلۡكَ حُدُودُ ٱللَّهِ يُبَيِّنُهَا لِقَوۡمٖ يَعۡلَمُونَ﴾

[البقرة: 230]

’’اگر شوہر نے اسے (تیسری) طلاق دے دی  تو اب وہ خاتون ا س کے لیے حلال نہیں جب تک کہ وہ کسی اور شخص سے نکاح نہ کرلے۔ اور اگر وہ بھی اسے طلاق دےدے تو ان دونوں پر کوئی گناہ نہیں کہ وہ دوبارہ نکاح کرلیں، اگر وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اللہ کی حدود کو قائم رکھ سکیں گے۔ یہ اللہ کی حدود ہیں جن کو وہ ان کے لیے بیان کررہاہے جو جانتےہیں‘‘۔

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا طَلَّقَ امْرَأَةً لَهُ وَهِيَ حَائِضٌ تَطْلِيقَةً وَاحِدَةً فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُرَاجِعَهَا ثُمَّ يُمْسِکَهَا حَتَّی تَطْهُرَ ثُمَّ تَحِيضَ عِنْدَهُ حَيْضَةً أُخْرَی ثُمَّ يُمْهِلَهَا حَتَّی تَطْهُرَ مِنْ حَيْضِهَا فَإِنْ أَرَادَ أَنْ يُطَلِّقَهَا فَلْيُطَلِّقْهَا حِينَ تَطْهُرُ مِنْ قَبْلِ أَنْ يُجَامِعَهَا فَتِلْکَ الْعِدَّةُ الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ أَنْ تُطَلَّقَ لَهَا النِّسَائُ وَکَانَ عَبْدُ اللَّهِ إِذَا سُئِلَ عَنْ ذَلِکَ قَالَ لِأَحَدِهِمْ إِنْ کُنْتَ طَلَّقْتَهَا ثَلَاثًا فَقَدْ حَرُمَتْ عَلَيْکَ حَتَّی تَنْکِحَ زَوْجًا غَيْرَکَ وَزَادَ فِيهِ غَيْرُهُ عَنْ اللَّيْثِ حَدَّثَنِي نَافِعٌ قَالَ ابْنُ عُمَرَ لَوْ طَلَّقْتَ مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَنِي بِهَذَا

( بخاری ، کتاب الطلاق، باب:  لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ )

’’ نافع کہتے ہیں کہ ابن عمرؓ  نےاپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دے دی تو ان کو نبی ﷺنے حکم دیا کہ رجوع کرلے، پھر اس کو روکے رکھ، یہاں تک کہ وہ پاک ہوجائے، پھر اس کے پاس اسے دوسرا حیض آجائے، پھر اس کو رہنے دے یہاں تک کہ وہ حیض سے پاک ہوجائے، اگر وہ اس کو طلاق دینا چاہتا ہے تو طلاق دے دے جب کہ وہ حیض سے پاک ہوجائے لیکن صحبت سے پہلے، یہی وہ عدت ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ اس میں عورتوں کو طلاق دی جائے اور عبداللہ بن عمرؓ سے جب اس کے متعلق پوچھا گیا تو ایک شخص سے کہا کہ جب تو اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے تو وہ تجھ پر حرام ہے، یہاں تک کہ وہ دوسرے شوہر سے نکاح کرلے اور دوسرے لوگوں نے اس میں اضافہ کے ساتھ لیث سے بواسطہ نافع، ابن عمر (رض) کا قول نقل کیا کہ کاش ! تو عورت کو ایک یا دو طلاقیں دیتا اس لئے کہ نبی ﷺ نے اسی کا مجھے حکم دیا تھا‘‘۔

قرآن و حدیث کے اس بیان سے واضح ہوا کہ طلاق دینے کا صحیح طریقہ یہی ہے کہ ہر طہر میں طلاق دی جائے ، یہ اس لئے کہ جائز کاموں طلاق سب سے زیادہ نا پسندیدہ فعل ہے۔ ممکن ہے کہ وقفہ گزنے کیساتھ مرد و عورت دوبارہ اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرلیں اور طلاق کی نوبت نہ آئے۔ تیسری طلاق کی صورت میں ان دونوں کا نکاح ختم ہو جائے گا اور وہ خاتون اس مرد کے لئے حرام ہو جائے گی۔ یہاں مسئلہ  یہ ہے کہ  اگر کسی نے اس طرز عمل کے برخلاف ایک ہی نشست میں تین طلاق دے دیں  تو کیا وہ تین ہی  نافذ ہوں گی ؟

اہلحدیث حضرات کہتے ہیں کہ جب قرآن میں اللہ تعالیٰ نے اور نبیﷺ نے اپنی حدیث میں  ایک طریقہ کار وضع فرما دیا ہے تو ایک  نشست میں دی جانے والی تین طلاق ایک ہی مانی جائے گی۔ عرض ہے کہ اللہ کے  رسول محمد ﷺ  قرآن کی تشریح و توضیع کے لے بھیجے گئے تھے، کیا چیز حلال ہے اور کیا حرام ان سے زیادہ جاننے والا کوئی نہیں۔جب ان کے سامنے کوئی عمل ہو اور وہ اس کا انکار نہ فرمائیں تو وہ دین ہی سمجھا جائے گا۔اللہ کے نبی ﷺ کی موجودگی میں ایک صحابی ؓ نے اپنی بیوی کو تین طلاق دی، ملاحظہ فرمائیں:

نبی ﷺ کی موجودگی میں ایک ہی وقت میں تین طلاق:

فَأَقْبَلَ عُوَيْمِرٌ حَتَّى أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسْطَ النَّاسِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا، أَيَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ، أَمْ كَيْفَ يَفْعَلُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قَدْ أَنْزَلَ اللَّهُ فِيكَ وَفِي صَاحِبَتِكَ، فَاذْهَبْ فَأْتِ بِهَا» قَالَ سَهْلٌ: فَتَلاَعَنَا وَأَنَا مَعَ النَّاسِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا فَرَغَا، قَالَ عُوَيْمِرٌ: كَذَبْتُ عَلَيْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ أَمْسَكْتُهَا، فَطَلَّقَهَا ثَلاَثًا، قَبْلَ أَنْ يَأْمُرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

(بخاری کتاب الطلاق بَابُ مَنْ أَجَازَ طَلاَقَ الثَّلاَثِ)

’’ ۔ ۔ چنانچہ عویمر نبیﷺکی خدمت میں آئے اور لوگوں کی موجودگی میں پوچھا کہ یا رسول اللہ! اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو پائے اور وہ اس کو قتل کردے تو آپ اس سے قصاص لیتے ہیں بتائیے پھر وہ کیا کرے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تمہارے متعلق اور تمہاری بیوی کے متعلق اللہ کا حکم نازل ہوچکا ہے جاؤ اس کو لے کر آؤ، سہل نے  کہا پھر ان دونوں نے لعان کیا اور میں نبی ﷺ کے ساتھ موجود تھا، جب دونوں لعان سے فارغ ہوگئے، تو عویمر نے کہا یا رسول اللہ ﷺ اگر میں اس کو روک لوں، تو میں جھوٹا ہوں گا، پھر میں نے اسے تین طلاق دے دیں اس سے پہلے کہ مجھے رسول اللہ ﷺ اس کا حکم دیتے‘‘۔

اہلحدیث حضرات اس پر کافی اعتراض کرتے ہیں اور بقول ان کے یہ معاملہ صرف لعان کرنے والوں کے لئے  مخصوص ہے حالانکہ ان کے پاس اس کی کوئی دلیل نہیں ،اوپر پیش کردہ حدیث میں  عویمر ؓ کا یہ قول اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ یہ کوئی خصوصی معاملہ نہ تھا۔ ان کے الفاظ ہیں : فَطَلَّقَهَا ثَلاَثًا، قَبْلَ أَنْ يَأْمُرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ  ’’ پھر میں نے اسے تین طلاق دے دیں اس سے پہلے کہ مجھے رسول اللہ ﷺ اس کا حکم دیتے‘‘، گویا وہ یہ سمجھ رہے تھے کہ اب نبیﷺ مجھے اس کا حکم دیں گے کہ اسے تین طلاق دے کر علیحدہ کردو۔ نبی ﷺ نے ان کی بیک وقت تین طلاق پر کوئی اعتراض نہیں کیا بلکہ اس کو نافذ کردیا ، جیسا کہ یہ حدیث اس کی وضاحت کر دیتی ہے :

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْفِهْرِيِّ وَغَيْرِهِ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ فِي هَذَا الْخَبَرِ قَالَ فَطَلَّقَهَا ثَلَاثَ تَطْلِيقَاتٍ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَنْفَذَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَکَانَ مَا صُنِعَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُنَّةٌ قَالَ سَهْلٌ حَضَرْتُ هَذَا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَضَتْ السُّنَّةُ بَعْدُ فِي الْمُتَلَاعِنَيْنِ أَنْ يُفَرَّقَ بَيْنَهُمَا ثُمَّ لَا يَجْتَمِعَانِ أَبَدًا

(سنن أبي داود ، کتاب الطلاق، باب في اللعان ) ( صحیح البانی )

’’سہل بن سعد ؓ سے اس حدیث کے سلسلہ میں مروی ہے کہ( عویمرؓ ) نے رسول اللہﷺکی موجودگی میں اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیدیں اور نبی ﷺ نے ان کو نافذ فرما دیا اور جو چیز رسول اللہ ﷺکی موجودگی میں کی جائے (اورنبی ﷺ اس پر نکیر نہ فرمائیں تو) وہ سنت قرار پاتی ہے سہلؓ  کہتے ہیں کہ میں اس واقعہ لعان کے وقت رسول اللہﷺکے پاس  موجود تھا اس کے بعد لعان کرنے والوں کے لئے یہی طریقہ قرار پایا کہ ان دونوں کے درمیان تفریق کی جائے گی اور وہ کبھی جمع نہ ہو سکیں گے‘‘۔

 نبی ﷺ کے سامنے ہونے والا یہ واقعہ عام حالات میں بھی دلیل بن گیا جیسا کہ مندجہ زیل حدیث سے ثابت ہوتا ہے:

فَکَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا سُئِلَ عَنْ الرَّجُلِ يُطَلِّقُ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ يَقُولُ أَمَّا أَنْتَ طَلَّقْتَهَا وَاحِدَةً أَوْ اثْنَتَيْنِ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُ أَنْ يَرْجِعَهَا ثُمَّ يُمْهِلَهَا حَتَّی تَحِيضَ حَيْضَةً أُخْرَی ثُمَّ يُمْهِلَهَا حَتَّی تَطْهُرَ ثُمَّ يُطَلِّقَهَا قَبْلَ أَنْ يَمَسَّهَا وَأَمَّا أَنْتَ طَلَّقْتَهَا ثَلَاثًا فَقَدْ عَصَيْتَ رَبَّکَ فِيمَا أَمَرَکَ بِهِ مِنْ طَلَاقِ امْرَأَتِکَ وَبَانَتْ مِنْکَ

( مسلم ، کتاب الطلاق، باب:  تحريم طلاق الحائض بغير رضاها، وأنه لو خالف وقع الطلاق، ويؤمر برجعتها )

’’ ۔ ۔ ۔ ۔نافع کہتے ہیں ابن عمرؓ سے جب اس آدمی کے بارے میں پوچھا جاتا جس نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دی ہوتی تو وہ فرماتے تو نے ایک طلاق دی یا دو؟ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے اسے حکم دیارجوع کرنے کا پھر اسے چھوڑے رکھا یہاں تک کہ اسے دوسرا حیض آئے۔ پھر اسے چھوڑ دے یہاں تک کہ پاک ہوجائے۔ پھر اسے چھونے سے پہلے طلاق دے اور اگر تو نے اسے تین طلاقیں (اکٹھی) دے دیں تو ،تو نے اپنے رب کی نافرمانی کی اس حکم میں جو اس نے تجھے تیری بیوی کو طلاق دینے کے بارے میں دیا اور وہ تجھ سے بائنہ (جدا) ہوجائے گی۔

واضح ہوا کہ ایک ہی وقت میں تین طلاق دینا  اللہ کی نارضگی والا معاملہ ہے لیکن اس کا مکمل نفاذ ہوگا اور وہ عورت اس مرد کے لئے حرام ہو جائے گی۔

عویمر ؓ والی  حدیث سے واضح ہوا کہ نبیﷺ نے بغیر کس تردد کے  ایک مجلس کی ان تین طلاق کو نافذ کردیا اور ان کے درمیان علیحدگی کرادی۔ اس واضح عمل کے باوجود اسے مشتبہ بناتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ لعان خود ہی تفریق کرادیتا  اس کے لئے طلاق کی ضرورت نہیں۔ یہ محض لوگوں کے منہ کی باتیں ہیں ،قرآن و حدیث میں ایک عورت کے کسی مرد سے آزاد ہونے جو صورتیں بتائی گئیں ہیں اس میں طلاق یا اس مرد کی وفات ہے تیسری کوئی چیز نہیں۔ عویمر ؓ  والا واقعہ پورا پڑھیں :

سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ أَخِي بَنِي سَاعِدَةَ أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ جَائَ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا أَيَقْتُلُهُ أَمْ کَيْفَ يَفْعَلُ فَأَنْزَلَ اللَّهُ فِي شَأْنِهِ مَا ذَکَرَ فِي الْقُرْآنِ مِنْ أَمْرِ الْمُتَلَاعِنَيْنِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ قَضَی اللَّهُ فِيکَ وَفِي امْرَأَتِکَ قَالَ فَتَلَاعَنَا فِي الْمَسْجِدِ وَأَنَا شَاهِدٌ فَلَمَّا فَرَغَا قَالَ کَذَبْتُ عَلَيْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ أَمْسَکْتُهَا فَطَلَّقَهَا ثَلَاثًا قَبْلَ أَنْ يَأْمُرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ فَرَغَا مِنْ التَّلَاعُنِ فَفَارَقَهَا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ذَاکَ تَفْرِيقٌ بَيْنَ کُلِّ ۔ ۔ ۔ ۔ 

( صحیح بخاری ، کتاب الطلاق، باب: التَّلاَعُنِ فِي المَسْجِدِ )

’’ ابن شہاب نے مجھ سے لعان اور اس کے مسنون طریقے کے متعلق بنی ساعدہ کے بھائی سہل بن سعد کی حدیث بیان کی کہ ایک انصاری شخص رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ ! اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو پاتا ہے اور وہ اس کو قتل کردیتا ہے تو آپ اس کو قتل کردیتے ہیں، بتلائیے آخروہ (قتل نہ کرے) تو کیا کرے، اللہ تعالیٰ نے اس کی شان میں وہ آیت نازل کی جس میں لعان کرنے والوں کے متعلق حکم ہے، نبی ﷺ نے فرمایا اللہ نے تیرے اور تیری بیوی کے متعلق حکم صادر فرما دیا ہے ان دونوں نے مسجد میں لعان کیا اور میں اس وقت موجود تھا، جب دونوں فارغ ہوئے تو اس مرد نے کہا کہ اگر میں اس کو اپنے پاس رکھتا ہوں تو لوگ مجھے جھوٹا سمجھیں گے چناچہ نبیﷺ) کے حکم دینے سے پہلے اس نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی۔ جب دونوں لعان سے فارغ ہوئے اور اس کو نبیﷺ کےسامنے جدا کردیا تو آپ  ﷺنے فرمایا ہر لعان کرنے والوں کے درمیان تفریق کی یہی صورت ہے۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔

عویمر ؓ کا قول دیکھیں  إِنْ أَمْسَکْتُهَا’’ اگر میں اس کو اپنے پاس رکھتا ہوں ‘‘ یعنی ابھی تفریق نہیں ہوئی۔ تفریق کب ہوئی فَطَلَّقَهَا ثَلَاثًا جب اس نے  اسےتین طلاق دے دیں۔واضح ہوا کہ لعان فی نفسہ تفریق نہیں بلکہ لعان کے بعد تفریق کے لئے طلاق دی گئی، اور بتایا گیا کہ لعان کرنے والوں کے درمیان   جدائی کا طریقہ طلاق ہی ہے۔ ایک صحابیہ ؓ نے نبی ﷺ کے پاس آ کر  اپنے شوہر سے طلاق کا  مطالبہ کیا، تو نبی ﷺ نے پوچھاکہ کیا تم اس کا  دیا ہوا باغ واپس کردو گی؟ اس نے کہا ہاں، تو نبی ﷺ نے فرمایا:اقبل الحديقة وطلقها تطليقة ( بخاری، کتاب الطلاق، باب: الخُلْعِ وَكَيْفَ الطَّلاَقُ فِيهِ ) باغ واپس لے لو اور اسے طلاق دے دو‘‘۔ واضح ہوا کہ بغیر طلاق  حتمی جدائی نہیں ہوتی۔

ابن عمر ؓ کو اپنی بیوی لوٹانے کا حکم :

اس بارے میں  اہلحدیث ایک حدیث پیش کرتے ہیں:

عن نافع عن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما أنه طلق امرأته وهي حائض علی عهد رسول الله صلی الله عليه وسلم فسأل عمر بن الخطاب رسول الله صلی الله عليه وسلم عن ذلک فقال رسول الله صلی الله عليه وسلم مره فليراجعها ثم ليمسکها حتی تطهر ثم تحيض ثم تطهر ثم إن شائ أمسک بعد وإن شائ طلق قبل أن يمس فتلک العدة التي أمر الله أن تطلق لها النسائ

( صحیح مسلم، کتاب الطلاق ،  باب تحريم طلاق الحائض بغير رضاها، وأنه لو خالف وقع الطلاق، ويؤمر برجعتها)

’’ عبداللہ بن عمر سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنی بیوی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بحالت حیض طلاق دے دی، عمر رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق دریافت کیا تو آپ نے فرمایا کہ اس کو رجوع کرنے کا حکم دو، پھر وہ اس کو روکے رکھے، یہاں تک کہ پاک ہوجائے، پھر حیض آئے پھر پاک ہوجائے پھر اگر چاہے تو اس کے بعد اپنے پاس رہنے دے اور اگر چاہے تو صحبت کرنے سے پہلے طلاق دے، یہی وہ عدت ہے، جس کے لئے عورتوں کو طلاق دیئے جانے کا حکم اللہ تعالیٰ نے دیاہے‘‘۔

اس حدیث کو پیش کرنے سے ان کی مراد یہ ہے کہ طلاق صرف ایک ایک طہر میں ہے ورنہ وہ عورت لوٹا دی جائے گی۔  افسوس کہ انہیں  صحیح مسلم کے اسی باب میں  عبد اللہ بن عمر ؓکی وہ روایت نہیں دکھائی دی جو ہم نے اوپر بیان کی ہے۔ اس روایت میں عبد اللہ بن عمر ؓ  نےوہی طریقہ کار بیان کیا جو  نبی ﷺ نے سکھایا لیکن ساتھ یہ بھی بتا دیا کہ وَأَمَّا أَنْتَ طَلَّقْتَهَا ثَلَاثًا فَقَدْ عَصَيْتَ رَبَّکَ فِيمَا أَمَرَکَ بِهِ مِنْ طَلَاقِ امْرَأَتِکَ وَبَانَتْ مِنْکَ( مسلم ، کتاب الطلاق، باب:  تحريم طلاق الحائض بغير رضاها، وأنه لو خالف وقع الطلاق، ويؤمر برجعتها )’’ور اگر تو نے اسے تین طلاقیں (اکٹھی) دے دیں تو تو نے اپنے رب کی نافرمانی کی اس حکم میں جو اس نے تجھے تیری بیوی کو طلاق دینے کے بارے میں دیا اور وہ تجھ سے بائنہ (جدا) ہوجائے گی‘‘۔

مزید  یہ ہے کہ ابن عمر ؓ  نے اپنی کو بیوی  تین نہیں صرف ایک طلاق دی تھی :

أخبرني يونس بن جبير، أنه سأل ابن عمر فقال: ” كم طلقت امرأتك؟ فقال: واحدة

( ابوداؤد ، کتاب الطلاق، باب في طلاق السنة ) ( صحیح البانی )

’’ ابن عمر ؓ سے پوچھا کہ آپ نے کتنی طلاق دی تھی تو فرمایا : ایک ‘‘۔

عمر ؓ نے جب یہ واقعہ نبیﷺ کو بتایا  ، اور نبیﷺ نے اسے رجوع کرنے کا حکم دیا تو عمر ؓ نے سوال کیا کہ کیا یہ طلاق شمار ہوگی؟

طَلَّقَ ابْنُ عُمَرَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ فَذَکَرَ عُمَرُ لِلنَّبِيِّ ﷺ فَقَالَ لِيُرَاجِعْهَا قُلْتُ تُحْتَسَبُ قَالَ فَمَهْ

( صحیح بخاری ، کتاب الطلاق ، بَابُ إِذَا طُلِّقَتِ الحَائِضُ تَعْتَدُّ بِذَلِكَ الطَّلاَقِ )

’’ ابن عمر ؓ کہتے ہیں کہ انہوں نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دے دی، عمر ؓ نے نبی ﷺ کا تذکرہ کیا، آپ ﷺنے فرمایا وہ اپنی بیوی سے رجوع کرلے، میں نے کہا کیا وہ طلاق شمار ہوگی ؟ نبی ﷺ نے فرمایا کیوں نہیں ۔‘‘

حدیث معمر ابن طاؤس

اہلحدیث حضرات ایک اور روایت کو پیش کرکے اس معاملے کو مشتبہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں، ملاحظ فرمائیں :

ابْنِ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ کَانَ الطَّلَاقُ عَلَی عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ  وَأَبِي بَکْرٍ وَسَنَتَيْنِ مِنْ خِلَافَةِ عُمَرَ طَلَاقُ الثَّلَاثِ وَاحِدَةً فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ إِنَّ النَّاسَ قَدْ اسْتَعْجَلُوا فِي أَمْرٍ قَدْ کَانَتْ لَهُمْ فِيهِ أَنَاةٌ فَلَوْ أَمْضَيْنَاهُ عَلَيْهِمْ فَأَمْضَاهُ عَلَيْهِمْ

( صحیح مسلم ، کتاب الطلاق، طلاق الثلاثہ )

’’ ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اور ابوبکرؓ اور دور خلافت عمر ؓ کے دو سال تک تین طلاق ایک ہی شمار کی جاتی تھیں سو عمر بن خطابؓ نے کہا اس حکم میں جو انہیں مہلت دی گئی تھی جلدی شروع کردی ہے پس اگر ہم تین ہی نافذ کردیں تو مناسب ہوگا چناچہ انہوں نے تین طلاق ہی واقعہ ہوجانے کا حکم دے دیا۔‘‘

أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ سُلَيْمَانُ بْنُ سَيْفٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ أَبَا الصَّهْبَائِ جَائَ إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ الثَّلَاثَ کَانَتْ عَلَی عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَکْرٍ وَصَدْرًا مِنْ خِلَافَةِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا تُرَدُّ إِلَی الْوَاحِدَةِ قَالَ نَعَمْ

( سنن نسائی ، کتاب الطالق۔ باب: طلاق الثلاث المتفرقة قبل الدخول بالزوجة )

’’ ابن جریج، ابن طاؤس، اپنے والد سے، ابوصہبا سے روایت ہے کہ وہ ابن عباس ؓ کے پاس آئے اور عرض کیا کہ اے ابن عباس کیا تم اس سے واقف نہیں کہ رسول کریمﷺکے مبارک دور میں اور عمر ؓ کی شروع خلافت میں تین طلاقیں ایک طلاق کی جانب لوٹائی جاتی تھیں۔ اس پر ابن عباس ؓنے ارشاد فرمایا جی ہاں ‘‘۔

وضاحت :

محدثین کی نزدیک اس حدیث کی حیثیت ؛

تضعيف حديث ابن عباس: (كان الطلاق على عهد رسول الله … لابن رجب)ـ[محب أهل العلم]ــــــــ[23-05-03, 03:15 م]ـ

ضعف ابن رجب هذا الحديث في كتابه (مشكل الأحاديث الواردة في أن طلاق الثلاث واحدة) كما نقله ابن المبرد في كتابه (سير الحاث)

’’  ابن عباس ؓ کی روایت کا  ضعیف ہونا(كان الطلاق على عهد رسول الله … لابن رجب)ـ ابن رجب نے اس روایت کو   اپنی کتاب (مشكل الأحاديث الواردة في أن طلاق الثلاث واحدة)میں ضعیف قرار دیا، جیسا کہ ابن المبرد نے اپنی کتاب سیر الحارث میں۔

وأعل هذا الحديث الإمام أحمد بالشذوذ وانفراد طاوس به، قال الإمام أحمد (كل أصحاب ابن عباس يعني رروا عنه (طلاق) [كذا في مطبوعة الحجيلان، ولا أدري هل هي (خلاف) ] ماروى طاوس

’’ اور امام احمد نے اس حدیث کو  شموذ  ( شاذ کی جمع ) اور طاؤس  کے تفرد کیوجہ سے  علیل ( علت والی )  قرار دیا   ، امام احمد نے کہا جو لوگ ابن عباس ؓ کے قریب تھے وہ اسے طلاق مانتے تھے  ،جیسا کہ مطبوعہ الحجیلان میں ہے  اور نہیں جانتا کہ وہ اس کے خلاف تھے جیسا  کہ طاؤس نے بیان کیا ہے ‘‘۔

وقال الجوزجاني: هو حديث شاذ، قال وقد عنيتُ بهذا الحديث دهرا فلم أجد له أصلا)

’’  اور جوز جانی نے اس حدیث کو شاذ کہا اور کہا کہ یقیناً میں اس حدیث کے بارے میں کافی عرصہ پریشان رہا ہوں  ( کوشش کرتا رہا ہوں )  لیکن مجھے اس کی کوئی بنیاد نہیں ملی ‘‘۔

-وقال ابن عبد البر (شذ طاوس في هذا الحديث)

’’ اور ابن عبد البر  نے اس حدیث میں طاؤس کو شاذ کہا۔

وأعله ابن رجب بثلاث علل

1- انفراد طاوس به

2- صح عن ابن عباس أنه افتى بخلاف هذه الرواية

3-إجماع الأمة على العمل بخلافه

’’  اور ابن رجب نے  تین وجوہات کی بناء پر اسے علیل قرار دیا:

  1. طاؤس نے انفراد کیا ( طاؤس کا تفرد )
  2. اس نے ابن عباس ؓ کے متعلق تصحیح کی ہے کہ وہ  اس روایت کے خلاف فتویٰ دیتے تھے۔
  3. امت کا اجماع اس کے خلاف ہے۔

محمد امین کہتے ہیں :

لكن طاوس – رحمه الله – كان له شذوذات ينكرها أهل الحجاز، وكان أيوب يعجب من منكرات طاوس

طاوس رحمہ اللہ کے ہاں شاذ روایت ہیں اور اھل الحجاز سے منکرات

الرابع: أن ابن عباس لم يصح عنه الفتوى بوقوع الثلاث واحدة، بل هذا مقطوع على عكرمة

’’  لیکن طاؤس کے لئے کئی شموذات تھے  جہیں اہل حجاز رد کرتے ہیں اور ایوب  طاؤس کے منکرات پر حیران ہیں۔

چوتھی بات :  کہ ابن عباس ؓ نے اپنے فتوے کی تصحیح نہیں کی  کہ ایک ساتھ تین سے صرف ایک طلاق ہوگی، بلکہ  یہ عکرمہ پر مقطوع ہے‘‘۔

(أرشيف ملتقى أهل الحديث ، تضعيف حديث ابن عباس: (كان الطلاق على عهد رسول الله … لابن رجب)، جزء 26،صفحہ 213)

محدثین کے اقوال سے یہ بات ثابت ہوئی کہ طاؤس کی یہ روایت شاذ ہے یعنی صحیح احادیث کی موجودگی میں اسے ترجیح نہیں دی جا سکتی۔

مزید یہ کہ ابن طاؤس  یہ روایت ابن عباس ؓ سے بیان کر رہا ہے  جبکہ ابن عباس  ؓخود اس کے خلاف فتوی دے رہے ہیں، ملاحظہ فرمائیں :

عن مجاهد قال کنت عند ابن عباس فجاه رجل فقال إنه طلق امرأته ثلاثا قال فسکت حتی ظننت أنه رادها إليه ثم قال ينطلق أحدکم فيرکب الحموقة ثم يقول يا ابن عباس يا ابن عباس وإن الله قال ومن يتق الله يجعل له مخرجا وإنک لم تتق الله فلم أجد لک مخرجا عصيت ربک وبانت منک امرأتک وإن الله قال يا أيها النبي إذا طلقتم النسا فطلقوهن في قبل عدتهن

( ابوداؤد ، کتاب الطلاق، باب نسخ المراجعة بعد التطليقات الثلاث )

’’ مجاہد رضی اللہ تعالیٰ سے روایت ہے کہ میں عبداللہ بن عباس  ؓکے پاس تھا اتنے میں ایک شخص آیا اور بولا کہ میں نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیدی ہیں۔ عبداللہ بن عباس ؓ یہ سن کر خاموش ہو گئے یہاں تک کہ مجھے گمان ہوا کہ شاید آپ اس کو رجعت کا حکم دیں گے مگر پھر آپ نے کہا کہ تم میں سے ایک شخص کھڑا ہوتا ہے اور حماقت پر سوار ہو جاتا ہے پھر نادم ہوتا ہے اور کہتا ہے۔ اے ابن عباس۔ اے ابن عباس (کوئی خلاصی کی تد بیر بتاؤ) حالانکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے جو شخص اللہ تعالیٰ سے ڈرے گا اللہ اس کے لیے (مشکل سے نکلنے کے لیے) کوئی نہ کوئی سبیل پیدا فرمائے گا جبکہ تو نے اللہ کے خوف کو ملحوظ نہیں رکھا پس میں تیرے چھٹکارے کی کوئی سبیل نہیں پاتا۔ تو نے اپنے رب کی  نافرمانی کی (یعنی ایک ہی دفعہ میں تین طلاقیں دیے ڈالیں) اور تیری بیوی تجھ سے جدا ہوگئی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے نبی جب تم عورتوں کو طلاق دو تو عدت (یعنی طہر) کے آغاز میں۔ ۔  ۔‘‘۔

نبیﷺ کے اسقدر  فقیہ صحابی کے لئے کیا یہ تصور کیا جا سکتا ہے کہ وہ نبیﷺ سے حدیث کچھ بیان کرے گا اور خود اس خلاف کے فیصلے گرے گا؟ طاؤس کی اس روایت کو شاذ کہا گیا ہے جبکہ ابن عباس  ؓکے فیصلے والی روابت بالکل صحیح ہے۔

اسی حدیث  کے حوالے سے یہ بیان کیا جاتا ہے کہ اس روایت میں قول ملتا ہے : أنت طالق ثلاثا بفم واحد فهي واحدة

یعنی جب کوئی شخص اپنی بیوی کو ایک منہ سے کہے انت طالق ثلثا (یعنی ایک ہی دفعہ کہہ دے کہ میں نے تھجے تین طلاق دی)  بفم واحد فهي واحدة  تو وہ ایک ہی شمار ہوگی۔ عرض ہے کہ اس کی وضاحت اسی روایت میں موجود ہے:

أيوب عن عکرمة عن ابن عباس إذا قال أنت طالق ثلاثا بفم واحد فهي واحدة ورواه إسمعيل بن إبراهيم عن أيوب عن عکرمة هذا قوله لم يذکر ابن عباس وجعله قول عکرمة قال أبو داود وصار قول ابن عباس فيما    ( ابوداؤد ، کتاب الطلاق، باب نسخ المراجعة بعد التطليقات الثلاث )

’’ ۔ ۔ بسند ایوب بواسطہ عکرمہ روایت کیا ہے کہ یہ عکرمہ کا قول ہے لیکن اس میں ابن عباس کا ذکر نہیں ہے ابوداؤد نے کہا کہ ابن عباس کا قول اصلی حدیث میں ہے۔‘‘

یعنی یہ ابن عباس ؓ کا قول نہیں بلکہ ان کا قول وہی ہے کہ’’  تو نے اپنے رب کی  نافرمانی کی (یعنی ایک ہی دفعہ میں تین طلاقیں دیے ڈالیں) اور تیری بیوی تجھ سے جدا ہوگئی‘‘۔

روایات رکانہ بن عبد یزید :

رکانہ بن عبد یزید   کے حوالے سےیہ روایت  پیش کی جاتی ہے:

حدثنا سعد بن إبراهيم، حدثنا أبي، عن محمد بن إسحاق، حدثني داود بن الحصين، عن عكرمة، مولى ابن عباس، عن ابن عباس، قال: ” طلق ركانة بن عبد يزيد أخو بني المطلب امرأته ثلاثا في مجلس واحد، فحزن عليها حزنا شديدا، قال: فسأله رسول الله ﷺ: ” كيف طلقتها؟ ” قال: طلقتها ثلاثا، قال: فقال: ” في مجلس واحد؟ ” قال: نعم قال: ” فإنما تلك واحدة فأرجعها إن شئت ” قال: فرجعها فكان ابن عباس: ” يرى أنما الطلاق عند كل طهر ”

( مسند احمد ط الرسلاۃ ، مسند عبد اللہ بن عباس بن عبد المطلب )

’’ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ رکانہ بن عبد یزید جن کا تعلق بنو مطلب سے تھا نے ایک ہی مجلس میں اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں، بعد میں انہیں اسپر انتہائی غم ہوا، نبی ﷺنے پوچھا کیا ایک ہی مجلس میں تینوں طلاقیں دے دی تھیں ؟ عرض کیا جی ہاں ! فرمایا پھر یہ ایک ہوئی، اگر چاہو تو تم اس سے رجوع کرسکتے ہو، چناچہ انہوں نے رجوع کرلیا، اسی وجہ سے ابن عباس ؓ کی رائے یہ تھی کہ طلاق ہر طہر کے وقت ہوتی ہے‘‘۔

یہ ضعیف روایت ہے :

قال الشيخ شعيب الأرنؤوط إسناده ضعيف .. وقال الخطابي: وكان أحمد بن حنبل يضعف هذه الأحاديث كلها. (قلنا) ونص ابن قدامة في المغني على أن أحمد ضعف إسناد حديث ركانة هذا وتركه

(المسند الموضوعي الجامع للكتب العشرة ،المؤلف: صهيب عبد الجبار ، ثانیا کتاب القرآن  الکریم، تفسیر القرآن ، تفسیر سورہ طلاق، 9/50 )

’’ شیخ شعیب الارنوط  نے کہا اس کی اسناد ضعیف ہے ۔ اور خطابی نے کہا :  اور احمد بن حنبل نے اس کی ساری احادیث کو ضعیف قرار دیا ۔( ہم کہتے ہیں ) ابن قدامہ نے المغنی میں  لکھا ہے : احمد نے رکانہ کی حدیث کی اسناد کو ضعیف قرار دیا اور اسے ترک کردیا ‘‘۔

قَالَ ابْن الْجَوْزِيّ فِي «علله» : هَذَا حَدِيث لَا يَصح، ابْن إِسْحَاق مَجْرُوح، وَدَاوُد أشدُّ مِنْهُ ضعفا، قَالَ: والْحَدِيث الأوَّل أقرب، وَكَأن هَذَا من غلط الروَاة.

’’ ابن جوز جانی نے  اس کی علت کے بارے مین کہا :  یہ حدیث صحیح نہیں ابن اسحاق مجروح ہے اور داؤد اس سے زیادہ  ضعیف ہے، کہا : یہ پہلی حدیث زیادہ قریب ہے اور یہ  غلط راویوں سے ہے‘‘۔

(البدر المنير في تخريج الأحاديث والأثار الواقعة في الشرح الكبيرالمؤلف: ابن الملقن سراج الدين أبو حفص عمرو، جزء 8 صفحہ 107 )

قال البيهقي: وهذا الإسناد لا تقوم به الحجة مع ثمانية رووا عن ابن عباس – رضي الله عنه – فتياه بخلاف ذلك ومع رواية أولاد ركانة أنّ طلاق ركانة كان واحدة

’’ اور کہا بیھقی نے :  یہ اسناد  ابن عباس ؓ  اور راویوں کیساتھ دلیل نہیں، انہوں نے اس کے خلاف فتویٰ دیا ہے،  اور رکانہ کی اولاد والی روایت کے بھی خلاف جس میں  ایک طلاق کا ذکر ہے‘‘۔

وقال الحافظ: رواه أحمد والحاكم وهو معلول” التلخيص 3/ 213

’’ اور حافظ نے کہا : اسے روایت کیا ہے احمد اور حاکم نے جو معلول ہے ‘‘۔

قلت: وعلته داود بن الحصين فإنّه مختلف فيه، وقد تكلموا في روايته عن عكرمة

’’ میں  کہتا ہوں  ( اس میں ) علت ہے،  داؤد بن حصین  مختلف فیہ ہے اور عکرمہ سے روایت پر کلام کیا گیا ہے‘‘۔

قال علي بن المديني: ما روى عن عكرمة فمنكر الحديث

’’ علی بن مدینی نے کہا: جو  عکرمہ سے  روایات بیان کیا گیا ہے   تو وہ منکر الحدیث ہے،‘‘۔

وقال أبو داود: أحاديثه عن عكرمة مناكير.

’’ اور کہا ابوداؤد نے : عکرمہ کی بیان کردہ احادیث منکر ہیں ‘‘۔

 (أنِيسُ السَّاري في تخريج وَتحقيق الأحاديث ، لمؤلف: أبو حذيفة، نبيل بن منصور ، المجموعة الأولى ، جزء3  صفحہ2014 )

ابن عباس ؓ کی روایت اس سے قبل گزر چکی ہے جس میں  ان کا  قول درج ہے : کہ’’  تو نے اپنے رب کی  نافرمانی کی (یعنی ایک ہی دفعہ میں تین طلاقیں دیے ڈالیں) اور تیری بیوی تجھ سے جدا ہوگئی‘‘۔  اسی معاملے میں عبد اللہ بن عباس ؓ سے مروی ایک اور روایت پیش کی جاتی ہے

حدثنا أحمد بن صالح، حدثنا عبد الرزاق، أخبرنا ابن جريج، أخبرني بعض بني أبي رافع، مولى النبي صلى الله عليه وسلم، عن عكرمة مولى ابن عباس، عن ابن عباس قال: طلق عبد يزيد أبو ركانة، وإخوته أم ركانة، ونكح امرأة من مزينة، فجاءت النبي صلى الله عليه وسلم، فقالت: ما يغني عني إلا كما تغني هذه الشعرة، لشعرة أخذتها من رأسها، ففرق بيني وبينه، فأخذت النبي صلى الله عليه وسلم حمية، فدعا بركانة، وإخوته، ثم قال لجلسائه: «أترون فلانا يشبه منه كذا وكذا؟، من عبد يزيد، وفلانا يشبه منه كذا وكذا؟» قالوا: نعم، قال النبي صلى الله عليه وسلم لعبد يزيد: «طلقها» ففعل، ثم قال: «راجع [ص:260] امرأتك أم ركانة وإخوته؟» قال: إني طلقتها ثلاثا يا رسول الله، قال: «قد علمت راجعها» وتلا: {يا أيها النبي إذا طلقتم النساء فطلقوهن لعدتهن} [الطلاق: 1]، قال أبو داود: وحديث نافع بن عجير، وعبد الله بن علي بن يزيد بن ركانة، عن أبيه، عن جده، أن ركانة، طلق امرأته البتة، فردها إليه النبي صلى الله عليه وسلم «أصح، لأن ولد الرجل، وأهله أعلم به، إن ركانة إنما طلق امرأته البتة، فجعلها النبي صلى الله عليه وسلم واحدة     ( سنن ابی داؤد ، کتاب الطلاق، باب نسخ المراجعة بعد التطليقات الثلاث)

’’احمد بن صالح، عبدالرزاق، ابن جریج، عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ عبد یزید نے جو رکانہ اور اس کے بھائیوں کا باپ تھا (اپنی بیوی) ام رکانہ کو طلاق دیدی اور قبیلہ مزینہ کی ایک عورت سے نکاح کرلیا وہ عورت رسول ﷺ کے پاس آئی اور بولی یا رسول اللہ ابورکانہ میرے کسی کام کا نہیں جیسے ایک بال دوسرے بال کے لئے اور یہ کہتے ہوئے اس نے اپنے سر کا بال پکڑا (یعنی وہ نامرد ہے) لہذا میرے اور اس کے درمیان تفریق کرا دیجئے نبی ﷺکو (اس کی اس غلط بیانی پر) غصہ آگیا۔ اور آپ  ؐنے رکانہ اور اس کے بھائیوں کو بلا بھیجا اور حاضرین مجلس سے فرمایا کہ کیا تم دیکھتے ہو کہ اس کا یہ بچہ اس بچہ سے کتنا مشابہہ ہے اور فلاں بچہ عبد یزید سے کتنی مشابہت رکھتا ہے۔ لوگوں نے کہا ہاں (یعنی جب عبد یزید کی اولاد پہلی بیوی سے موجود ہے اور بچے اپنے باپ سے اور دوسرے بھائی بہنوں سے مشابہت رکھتے ہیں تو یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ یہ عورت نا مردی کے الزام میں سچی ہو ،پھر نبی ﷺ نے عبد یزید سے فرمایا کہ اس کو طلاق دیدے پس انہوں نے طلاق دیدی۔ پھر فرمایا اپنی سابقہ بیوی ام رکانہ اور اس کے بھائیوں سے رجوع کر عبد یزید نے کہا یا رسول اللہﷺ میں نے رکانہ کو تین طلاقیں دے رکھیں ہیں۔ آپ نے فرمایا مجھے معلوم ہے تو اس سے رجعت کر اور یہ آیت تلاوت فرمائی (یا اَيُّهَا النَّبِيُّ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَا ءَ فَطَلِّقُوْهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ وَاَحْصُوا الْعِدَّةَ ) 65 ۔ الطلاق : 1) ابوداؤد کی اس حدیث کو نافع بن عجیر اور عبداللہ بن علی بن یزید بن رکانہ نے اپنے باپ سے اور اس نے اپنے دادا سے روایت کیا کہ رکانہ نے اپنی بیوی کو طلاق دیدی پھر رسولاللہ ﷺ نے اسے رجعت کا حکم دیا اور یہی زیادہ صحیح ہے کیونکہ یہ حضرات اور مرد کا بیٹا رکانہ اور اس کے گھر والے اس قصہ سے اچھی طرح واقف ہوں گے کہ رکانہ نے (نہ کہ ابورکانہ نے) اپنی بیوی کو طلاق بتہ دی پس رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو ایک قرار دیا‘‘۔

یہ روایت کسی طور پر بھی دلیل بنے کے لائق نہیں،محدثین کہتے ہیں:

قال الخطابي في “معالم السنن” 3/236: في إسناد هذا الحديث مقال، لأن ابن جريج إنما رواه عن بعض بني أبي رافع ولم يسمه، والمجهول لا تقوم به الحجة.

(إرواء الغليل في تخريج أحاديث منار السبيل ، المؤلف : محمد ناصر الدين الألباني ، 7/119 )

’’ خطابی نے  ’’ معالم السنن ‘‘ میں کہا :  اس حدیث میں مقال ہے ، کہ ابن جریح نے بنی ابی رافع میں سے کسی سے روایت کی ہے  اس نے اس کا نام نہیں لیا ، مجہول ہے ( یعنی اس کا کوئی علم نہیں ) اسے حجت نہ بنایا جائے ‘‘۔

إسناده ضعيف. لعلتين: أولاهما: إبهام شيخ ابن جريج. وقد جاء مصرحا باسمه في رواية محمد بن ثور الصنعاني، أنه محمد بن عبيد الله بن رافع. قال الذهبي في”تلخيص المستدرك” 2/ 491 محمد واه. قال: والخبر خطأ، عبد يزيد لم يدرك الإسلام. قلنا: فهذه علة ثانية.

’’ اس کی سند ضعیف ہے دو وجوہات کی بناء پر ، ان میں سے ایک شیخ ابن جریح کے بارے ابھام ہے  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  ۔۔۔ اور خطاء نے خبر دی کہ عبد یزید نے اسلام قبول نہیں کیا تھا ، یہ دوسری وجہ ہے‘‘۔

(سنن أبي داود ،المؤلف: أبو داود سليمان بن الأشعث ،اول کتاب الطلاق، باب نسخ المراجعة بعد التطليقات الثلاث ، 3/518 )

تقریباً یہی بات دوسرے  راوی سے بھی مروی ہے:

أخبرنى عمى محمد بن على بن شافع عن عبد الله بن على بن السائب عن نافع بن عجير بن عبد يزيد: ” أن ركانة بن عبد يزيد طلق امرأته سهيمة المزنية البتة , ثم أتى رسول الله صلى الله عليه وسلم , فقال: يا رسول الله إنى طلقت امرأتى سهيمة البتة , ووالله ما أردت إلا واحدة , فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم لركانة: والله ما أردت إلا واحدة؟ فقال ركانة: والله ما أردت إلا واحدة , فردها إليه رسول الله صلى الله عليه وسلم ; فطلقها الثانية فى زمان عمر رضى الله عنه , والثالثة فى زمان عثمان رضى الله عنه

(ابوداؤد کتاب الطلاق باب فی البتة – سنن الدارقطنی 3978 – مسند الشافعی 268)

اس روایت میں بھی وہی دونوں راوی ہیں  جن کی وجہسے اوپر والی روایت کوضعیف قرار دیا گیا ہے۔

الغرض مختلف الفاظ ومختلف رایوں سے یہ روایات آئی ہیں اور یہ سب کی سب ضعیف  ہیں :وكان أحمد بن حنبل يضعف طرق هذه الأحاديث كلها.( معالم السنن ، کتاب الطلاق، ومن باب نسخ المراجعة بعد التطليقات الثلاث )’’ احمد بن حنبل اس حدیث کے تمام طرق کو ضعیف کہتے تھے‘‘۔

اگر کوئی تین طلاق دیکر قسم کھا لے کہ اس کا ارادہ ایک کا تھا:

حدثنا يزيد، أخبرنا جرير بن حازم، حدثنا الزبير بن سعيد الهاشمي، عن عبد الله بن علي بن يزيد بن ركانة، عن أبيه، عن جده: أنه طلق امرأته البتة، فذكر ذلك للنبي صلى الله عليه وسلم، فقال: ” ما أردت بذلك؟ ” قال: واحدة. قال: ” آلله؟ ” قال: آلله. قال: ” هو ما أردت ”

(مسند الإمام أحمد بن حنبل ، الملحق المستدرك من مسند الأنصار بقية،خامس عشر الأنصار )

’’ رکانہ  ؓسے مروی ہے کہ انہوں نے اپنی بیوی کو ” طلاق البتہ ” دے دی پھر نبی ﷺ سے اس کا تذکرہ کیا نبیﷺنے ان سے پوچھا کہ اس سے تمہارا کیا مقصد تھا ؟ انہوں نے عرض کیا ایک طلاق دینے کا  ، نبی ﷺ نے فرمایا قسم کھا کر کہو، انہوں نے قسم کھا کر کہا (کہ میرا یہی ارادہ تھا) تو نبیﷺ نے فرمایا تمہاری نیت کے مطابق طلاق ہوئی۔ ‘‘

اس  کا ایک راوی الزبیر بن سعید الھاشمی شدید ضعیف ہے ، محدثین اس کے بارے میں کہتے ہی :

وقال العقيلي حديثه مضطرب ولا يتابع

عقیلی نے کہا اس کی روایت میں اضطراب ہےاور مطاباقت نہیں رکھتی ۔

(تهذيب التهذيب۔المؤلف: أبو الفضل أحمد بن علي، حرف العين المهملة،من اسمه عابس، جلد5 صفحہ 325 )

الزبير بن سعيد الهاشمي، لين، یعنی الزبیر بن سعید الھاشمی لیں ( احادیث کے بارے میں ڈھیلا ) ہے۔

(المقتنى في سرد الكنى ,المؤلف: شمس الدين أبو عبد الله محمد ، جزء اول ، نص  الکتاب ، ابو القاسم ، جلد 4 صفحہ 52 )

سألت يحيى بن مَعِين، عن الزبير بن سَعِيد الهاشمي فقال: ضعيف كان ينزل المدائن ، وَقَال معاوية بن صالح، عن يحيى: الزبير بن سَعِيد ضعيف الحديث” (تاريخ الخطيب: 8 / 465)

(تهذيب الكمال في أسماء الرجالالمؤلف: يوسف بن عبد الرحمن بن يوسف، باب الزائی ، من اسمہ الزبیر ، جلد 9 صفحہ 306 )

’’ یحیٰ بن معین سے زبیر بن سعید بن الھاشمی کے بارے میں  پوچھا گیا تو کہا :    ضعیف جو المدائن آیا تھا  ، اور معاویہ بن صالح نے یحیی  کے حوالے سے کہا: ضعیف الحدیث‘‘۔

اس  کا دوسرا راوی عبد یزید  بھی مجروح جیسا کہ اوپر بیان کیا جاچکا ہے۔

اسی بارے میں ایک اور روایت :

عَنْ نَافِعِ بْنِ عُجَيْرِ بْنِ عَبْدِ يَزِيدَ بْنِ رُكَانَةَ، أَنَّ رُكَانَةَ بْنَ عَبْدِ يَزِيدَ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ سُهَيْمَةَ الْبَتَّةَ، فَأَخْبَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ، وَقَالَ: وَاللَّهِ مَا أَرَدْتُ إِلَّا وَاحِدَةً، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَاللَّهِ مَا أَرَدْتَ إِلَّا وَاحِدَةً؟»، فَقَالَ رُكَانَةُ: وَاللَّهِ مَا أَرَدْتُ إِلَّا وَاحِدَةً، فَرَدَّهَا إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَطَلَّقَهَا الثَّانِيَةَ فِي زَمَانِ عُمَرَ، وَالثَّالِثَةَ فِي زَمَانِ عُثْمَانَ

(ابوداؤد کتاب الطلاق باب فی البتة – سنن الدارقطنی 3978 – مسند الشافعی 268)

’’ رکانہ بن عبد یزید ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنی بیوی سہیمہ کو طلاق بتہ دی پس نبیﷺ کو اس واقعہ کی خبر دی گئی رکانہ نے کہا واللہ میں نے ایک ہی طلاق کی نیت کی تھی نبی ﷺنے رکانہ سے پوچھا کیا تو نے واقعی ایک طلاق کی نیت کی تھی ؟ رکانہ نے پھر کہا واللہ میں نے ایک ہی طلاق کی نیت کی تھی تو رسول اللہﷺ نے اس کی بیوی اس کو لوٹا دی پھر رکانہ نے دوسری طلاقت عمر ؓ کے زمانہ خلافت میں دی اور تیسری عثمان ؓ کے عہد خلافت میں‘‘۔

تحقيق الألباني:ضعيف //، المشكاة (3283) ، ضعيف سنن ابن ماجة (444 / 2051) ، الإرواء (2063) ، (7 / 142) ، ضعيف سنن الترمذي (204 / 1193) //

( صحيح وضعيف سنن أبي داود ، المؤلف: محمد ناصر الدين الألباني ، ترجمہ 2206 ، ½ )

قلت: وهذا الإسناد أحسن حالا من الذى قبله , فإن رجاله ثقات لولا أن نافع بن عجير لم يوثقه غير ابن حبان (1/238) , وأورده ابن أبى حاتم فى ” الجرح والتعديل ” (4/1/454) ولم يذكر فيه جرحا ولا تعديلا ولهذا قال ابن القيم فى ” الزاد ” (4/59) : ” مجهول , لا يعرف حاله البتة “.

ومما يؤكد جهالة حاله , تناقض ابن حبان فيه , فمرة أورده فى ” التابعين ” من ” ثقاته ” , وأخرى ذكره فى الصحابة , وكذلك ذكره فيهم غيره , ولم يثبت

(رواء الغليل في تخريج أحاديث منار السبيل، المؤلف : محمد ناصر الدين الألباني ، کتاب الطلاق، ،فصل ، حديث ركانة: ” أنه طلق البتة ۔ ۔ 7/142 )

’’ میں کہتا ہوں اس کی سندپہلی والی سے بہترہے ، اس کے راوی ثقہ  ہیں سوائے نافع بن عجیر اس کی توثیق ابن حبان کے علاوہ کسی نے نہیں کی، ابن حاتم نے اس کا ذکر ’’ الجرح و تعدیل ‘‘ میں کیا ہے ، ان اس پر جرح کی ہے اور نہ اس کی تعدیل بیان کی ہے ، اس وجہ سے ابن قیم نے ’’زاد ‘‘ میں مجھول ( یعنی اس کا کوئی پتہ نہیں کہ یہ کون ہے ) قرار دیا ہے۔ اس طرح اس کی  لا علمی یقینی ہو جاتی ہے ، ابن حبان نے اس معاملے میں مخالفت کی ۔ یہ ایک مرتبہ (  التابعین من ثقات )  میں وارد ہوا ہے  اور دوسری مرتبہ  الصحابہ میں آیا  اور اس طرح اس کا ذکر اوروں میں ہے اور یہ  ثابت نہیں ‘‘۔

اس روایت کی سندی حیثیت واضح ہونے کے ساتھ ساتھ یہ ان صحیح روایات کا انکار کرتی ہے جس میں اس بات کا ذکر ہے کہ جب کسی نے ایک وقت میں تین طلاق دے دیں تو وہ عورت اس کی بیوی نہیں رہی۔                                              مزیدنسائی کی ایک روایت بیان کی جاتی ہے کہ ایسا کرنے والے پر نبیﷺ بہت ناراض ہوئے :

أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ عَنْ ابْنِ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَمِعْتُ مَحْمُودَ بْنَ لَبِيدٍ قَالَ أُخْبِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثَ تَطْلِيقَاتٍ جَمِيعًا فَقَامَ غَضْبَانًا ثُمَّ قَالَ أَيُلْعَبُ بِکِتَابِ اللَّهِ وَأَنَا بَيْنَ أَظْهُرِکُمْ حَتَّی قَامَ رَجُلٌ وَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا أَقْتُلُهُ

( سنن نسائی ،کتاب الطلاق، الثلاث المجموعة وما فيه من التغليظ )

’’ مخرمہ، اپنے والد سے، محمود بن لبید ؓسے روایت ہے کہ رسول کریمﷺکو کسی آدمی سے متعلق یہ خبر دی گئی کہ اس شخص نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں ایک ہی وقت میں دے ڈالی ہیں۔ یہ بات سن کر رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوگئے اور غصہ میں فرمانے لگے کہ کیا کتاب اللہ سے کھیل ہو رہا ہے۔ حالانکہ میں ابھی تم لوگوں کے درمیان موجود ہوں۔ یہ بات سن کر ایک شخص کھڑا ہوا اور عرض کرنے لگا کہ یا رسول اللہ ﷺمیں اس کو قتل کر ڈالوں ؟

ناصر الدین البانی  نے  مشکوٰہ میں اس روایت کو ضعیف قرار دیا ہے۔

(صحيح وضعيف سنن النسائي،المؤلف: محمد ناصر الدين الألباني، باب 3473، جلد 7 صفحہ473 )

نسائی میں اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے۔

(غاية المرام في تخريج أحاديث الحلال والحرام،المؤلف: محمد ناصر الدين الألباني، اول الکتاب ، جلد 7 صفحہ 473 )

قطع نظر اس کی سندی حیثیت بات بالکل صحیح ہے  جیسا کہ ابن عمر ؓ کی روایت میں ہے کہ ’’ تو نے اپنے رب کی نافرمانی کی اس حکم میں جو اس نے تجھے تیری بیوی کو طلاق دینے کے بارے میں دیا ‘‘ تو حقیقتاً  طلاق کے بارے میں اللہ کے حکم کی یہ صریح نا فرمانی ہے  عویمر ؓ کا واقعہ بھی سامنے رکھا جائے کہ ان کے سامنے ہی عویمر ؓ نے اپنی بیوی کو تین طلاق دی اور نبیﷺ نے اسے نافذ کردیا۔ بالکل اسی طرح نسائی کی اس حدیث میں ناراضگی کا سخت اظہار کیا گیا ہے لیکن اس کی ایک نشست کی تین طلاق کو  نہ ایک نہیں کہاگیا اور نہ ہی اسے لوٹانے کا حکم دیا۔

غصے میں طلاق :

کچھ افراد کا یہ کہنا ہے کہ طلاق  ہنسی خوشی مذاق  ہر حالت میں ہو جاتی ہے لیکن غصے کی حالت میں طلاق نہیں ہوتی بلکہ اس حالت میں انسان اپنے ہوش میں ہی  نہیں ہوتا اور نبیﷺ نے فرمایا ہے کہ  جو ہوش میں نہ ہو اس کے کسی عمل کی کوئی حیثیت نہیں۔ ہر طہر میں ایک ایک  طلاق بغیر غصے کے ہوتی ہے جبکہ تین طلاق جھگڑے اور غصے کے نیتجے میں ہوتی ہے۔ غصے میں طلاق کے بارے میں جو روایت پیش کی جاتی ہے وہ یہ ہے :

قال: حدثنا أبي، عن ابن إسحاق، عن ثور بن يزيد الحمصي، عن محمد بن عبيد بن أبي صالح، الذي كان يسكن إيليا، قال: خرجت مع عدي بن عدي الكندي، حتى قدمنا مكة، فبعثني إلى صفية بنت شيبة، وكانت قد حفظت من عائشة، قالت: سمعت عائشة تقول: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «لا طلاق، ولا عتاق في غلاق»، قال أبو داود: ” الغلاق: أظنه في الغضب “

( ابوداؤد ، کتاب الطلاق، باب في الطلاق على غلط )

’’ محمد بن عبید بن ابی صالح جو مقام ایلیا میں رہتے تھے روایت کرتے ہیں کہ میں عدی بن عدی الکندی کے ساتھ (ملک شام سے) روانہ ہوا یہاں تک کہ ہم لوگ مکہ مکرمہ پہنچے پس (عدی بن عدی نے) مجھے صفیہؓ بنت شیبہ کے پاس بھیجا جنہوں نے عائشہ ؓ سن کر بہت سی احادیث یاد کر رکھی تھیں ۔ صفیہ ؓ نے کہا کہ میں نےعائشہؓ سے سنا وہ کہتی تھیں کہ میں نے سنا رسول اللہ ﷺفرماتے تھے غلاق میں نہ طلاق ہے اور نہ عتاق ابوداؤد کہ میں سمجھتا ہوں غلاق سے مراد غصہ ہے‘‘۔

اس روایت کے ایک راوی   محمد بن عبيد بن أبي صالح  پر  جرح و تعدیل ملاحظہ فرمائیں :

(قلت: حديث حسن، وصححه الحاكم والذهبي ۔ قلت: وهذا إسناد رجاله ثقات؛ غير محمد بن عبيد هذا، فهو ضعيف)

میں ( البانی ) کہتا ہوں کہ یہ حدیث ’’ حسن ‘‘ ہے ، اسے حاکم اور ذہبی نے صحیح کہا ہے، ۔ ۔ ۔ میں کہتا ہوں: کہ اس کی سند کے راوی ثقہ ہیں سوائے محمد بن عبید  کے وہ ضعیف ہے‘‘۔

 (صحيح أبي داود – الأم ،المؤلف: أبو عبد الرحمن محمد ناصر الدين البانی ، کتاب ا؛ط؛اق، باب في الطلاق على غلط ، ج؛د 6 صفحہ 396 )

قال أبو حاتم ضعيف الحديث وذكره بن حبان في الثقات

’’ابو حاتم نے  اسے ضعیف الحدیث کہا  ہے اور ابن حبان نے ثقات میں ذکر کیا ہے‘‘۔

(تهذيب التهذيب،المؤلف: أبو الفضل أحمد بن علي، جلد 9 صفحہ 330 )

قال أَبُو حاتم (2) : ضعيف الحديث.وذكره ابنُ حِبَّان في كتاب (الثقات (3) (وَقَال ابن حجر في (التقريب) : ضعيف )

’’ابو حاتم نے  اسے ضعیف الحدیث کہا  ہے اور ابن حبان نے ثقات میں ذکر کیا ہے۔ (اور ابن حجر نے ’’ تقریب ‘‘ میں  اسے ضعیف کہا )‘‘۔

(تهذيب الكمال في أسماء الرجال،المؤلف: يوسف بن عبد الرحمن بن يوسف ، جلد 26 صفحہ 162 )

إسناده ضعيف لضعف عبيد بن أبي صالح –  ۔ ۔ ۔ وأخرجه أبو داود (2193) من طريق محمَّد بن إسحاق، بهذا الإسناد.وهو في “مسند أحمد” (26360).وأخرجه الدارقطني (3989)، والبيهقي 7/ 357 من طريق قزعة بن سويد، عن زكريا بن إسحاق ومحمد بن عثمان، كلاهما عن صفية بنت شيبة، به. وقزعة ضعيف.

’’ اس کی  سند عبید بن ابی صالح کے ضعیف ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے ،   اسے ادوداؤد نے محمد بن اسحاق  کے طرق اسی سند کیساتھ بیان کیا ہے ۔ ۔ ۔  عن قزعۃ بن سوید ، عن زکریا بن اسحاق اور محمد بن عثمان، یہ دونوں صفیہ بنت شیبہ سے بیان کرتے ہیں، ( اس میں ) قرزعۃ ضعیف ہے‘‘۔

(سنن ابن ماجه ت الأرنؤوط، المؤلف: ابن ماجة – المحقق: شعيب الأرنؤوط، ابواب ا؛طلاق ، بَابُ طَلَاقِ الْمُكْرَهِ وَالنَّاسِي )

واضح ہوا کہ یہ روایت ایسی نہیں کہ اس کی بنیاد پو کوئی حتمی فیصلہ کیا جا سکے۔ اب ہم آتے ہیں اس روایت کی طرف جسے یہ غصے کے لئے دلیل بناتے ہیں :

حدثنا ابن السرح، أخبرنا ابن وهب، أخبرني جرير بن حازم، عن سليمان بن مهران، عن أبي ظبيان، عن ابن عباس، قال: مر على علي بن أبي طالب رضي الله عنه بمعنى عثمان، قال: أو ما تذكر أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «رفع القلم عن ثلاثة، عن المجنون المغلوب على عقله حتى يفيق، وعن النائم حتى يستيقظ، وعن الصبي حتى يحتلم»، قال: صدقت، قال: فخلى عنها

( سنن ابی داوؐد، کتاب الحدود ، باب في المجنون يسرق أو يصيب حدا )

’’ عائشہ ؓ  فرماتی ہیں کہ رسول اللہﷺنے فرمایا کہ قلم تین آدمیوں سے اٹھا لیا گیا ہے سونے والے سے یہاں تک کہ وہ بیدار ہوجائے۔ پاگل سے یہاں تک کہ وہ صحت یاب ہوجائے۔ بچہ پر سے یہاں تک کہ بڑا (بالغ) ہوجائے ‘‘۔

اس حدیث میں  جن تین باتوں کا بیان  کیا گیا ہے غصے میں طلاق دینے والے  کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔ نہ وہ سو رہا ہوتا ہے ،نہ وہ پاگل ( عقل و شعور سے عاری ) ہوتا ہے، اور نہ ہی نابالغ بچہ۔ نیز کیا آج تک کسی نے بغیر غصہ و نارضگی کے طلاق دی ہے؟ کوئی بھی  میاں بیوی جو آپس میں خوش رہے ہوں اور ایک دوسرے سے مکمل مطمئن ہوں ، کوئی بڑا لڑائی جھگڑا نہ ہو تو  وہ کبھی بھی علیحدگی نہیں چاہتے۔ البتہ اگرکوئی شخص غصے میں اس قدر شدید ہو جائے کہ اسے یہ معلوم ہی نہ ہو کہ وہ کیا کہہ رہا ہے تو اس صورت میں طلاق نہیں مانی جائے گی۔

یہ محض ان لوگوں کے باطل دلائل ہیں جو نبی ﷺ اور صحابہ ؓ کے طریقے سے ہٹ کر تین طلاق کو ایک کرکے زناکاریاں کرا رہے ہیں۔ البتہ ایک بات کی احادیث سے دلیل ملتی ہے کہ اگر کوئی شخص طلاق نہ دینا چاہ رہا ہوں اور اس پریشر ڈال کر طلاق دلوائی جائے تو وہ طلاق نہیں ہوگی۔

اس تمام بحث کا خلٍاصہ یہ ہے کہ طلاق دینے کا صحیح طریقہ ہر طہر کے بعد ایک طلاق دینا ہے، جو اس طریقے سے ہٹ کر عمل کرے وہ طلاق کے بارے میں  اللہ کے حکم کی  نافرمانی کرتا ہے۔ اگر کسی عورت کو ایک نشست میں تین طلاق دے دی جائیں تو وہ اس مرد کے نکاح سے نکل جائے گی اور اس پر حرام ہوگی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *