Categories
Uncategorized

کیا تعویذ شرک ہے ؟

Categories
Uncategorized

جادو کی حقیقت قرآن و حدیث کی روشنی میں

جب کوئی قوم قرآن و حدیث سے دور ہو جائے تو اس میں دوسرے باطل عقائد کا زور بڑھ جاتا ہے۔ آج اس کلمہ گو امت میں بھی بہت سے ایسے عقائد آگئے ہیں جو قرآن و حدیث کے صریحاً خلاف ہیں، جیسا کہ یہ عقیدہ کہ جادو کے زور سے کوئی جادوگر کسی کا ہونے والا رشتہ ختم کرا سکتا ہے، کسی کا کاروبار ختم کرسکتا ہے، کوئی اس کی وجہ سے بیمار ہوسکتا ہے وغیرہ وغیرہ۔

اس کے برعکس ایسے بھی لوگ ہیں کہ جواحادیث کا انکار کرتے کرتے قرآن مجید کی آیات تک کا انکار کرجاتے ہیں۔ دراصل یہ سب وہی گمراہی ہے جو کتاب اللہ کی دوری کے باعث پیدا ہوئی ہے۔ذیل میں ہم کتاب اللہ سے اس موضوع پر دلائل دیتے ہیں :

قرآن مجید میں جادو کا ذکر :

﴿وَٱتَّبَعُواْ مَا تَتۡلُواْ ٱلشَّيَٰطِينُ عَلَىٰ مُلۡكِ سُلَيۡمَٰنَۖ وَمَا كَفَرَ سُلَيۡمَٰنُ وَلَٰكِنَّ ٱلشَّيَٰطِينَ كَفَرُواْ يُعَلِّمُونَ ٱلنَّاسَ ٱلسِّحۡرَ وَمَآ أُنزِلَ عَلَى ٱلۡمَلَكَيۡنِ بِبَابِلَ هَٰرُوتَ وَمَٰرُوتَۚ وَمَا يُعَلِّمَانِ مِنۡ أَحَدٍ حَتَّىٰ يَقُولَآ إِنَّمَا نَحۡنُ فِتۡنَةٞ فَلَا تَكۡفُرۡۖ فَيَتَعَلَّمُونَ مِنۡهُمَا مَا يُفَرِّقُونَ بِهِۦ بَيۡنَ ٱلۡمَرۡءِ وَزَوۡجِهِۦۚ وَمَا هُم بِضَآرِّينَ بِهِۦ مِنۡ أَحَدٍ إِلَّا بِإِذۡنِ ٱللَّهِۚ وَيَتَعَلَّمُونَ مَا يَضُرُّهُمۡ وَلَا يَنفَعُهُمۡۚ وَلَقَدۡ عَلِمُواْ لَمَنِ ٱشۡتَرَىٰهُ مَا لَهُۥ فِي ٱلۡأٓخِرَةِ مِنۡ خَلَٰقٖۚ وَلَبِئۡسَ مَا شَرَوۡاْ بِهِۦٓ أَنفُسَهُمۡۚ لَوۡ كَانُواْ يَعۡلَمُونَ﴾

[البقرة: 102]

’’ اور وہ ان چیزوں کی پیروی کرنے لگے جو شیاطین سلیمان کی مملکت کا نام لے کر پڑھا کرتے تھے، حالانکہ سلیمان نے کفر نہیں کیا بلکہ شیاطین نے ہی کفر کیا تھا جو لوگوں کو جادو سکھاتے تھے، اور (وہ اس کے بھی پیچھے لگ گئے) جو بابل میں دو فرشتوں ہاروت وماروت پر اترا تھا۔ حالانکہ وہ دونوں کسی کو نہ سکھاتے تھے جب تک اسکو یہ نہ بتا دیتے کہ ہم تو محض آزمائش ہیں، لہذا تم (یہ سیکھ کر) کفر نہ کرو۔ پھر بھی لوگ ان سے وہ سیکھتے تھے جس کے ذریعے شوہر اور اس کی بیوی کے درمیان جدائی ڈال دیں، (حالانکہ) وہ اس سے کسی کو بھی بغیر اللہ کے حکم کے نقصان پہنچا ہی نہیں سکتے تھے۔ اور وہ ایسی چیز سیکھتے تھے جو انہیں نقصان ہی پہنچاتی، نفع نہ دیتی۔ اور وہ خوب جانتے تھے کہ جو اس کا خریدار بنا اس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں، اور بہت ہی بری چیز ہے وہ جس کے بدلے انہوں نے خود کو بیچ ڈالا کاش وہ اس بات کو جان لیتے‘‘۔

قرآن مجید کی مندرجہ بالا آیت میں یہ بات بیان کی گئی ہے کہ بنی اسرائیل پہلے ہی ایک ایسی قوم کا روپ دھار چکے تھے جو مکمل طور پر دنیا پرست اور آخرت سے غافل ہو چکی تھی اور دوسری طرف ان کے علماء و مشائخ اس صورتحال سے پورا فائدہ اٹھا رہے تھے۔لوگوں کو یہ پٹی پڑھاتے کہ سلیمان علیہ السلام کی شان و شوکت کا دارومدار جادو ٹونے وغیرہ ہی پر تھا(مَعَاذَ اللہِ) ، اور یہ اس کے ماہر ہیں۔ان کے اس باطل پروپیگنڈے کی قطعاً تردید کر دی گئی کہ سلیمان علیہ السلام نے یہ کفر نہیں کیا تم اس اتہام طرازی میں بالکل جھوٹے ہو کفر تو ان شیاطین نے کیا جو لوگوں کو سحر سکھاتے تھے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان پر اتمام حجت کے لیے اور ان کی مغالعہ آرائیوں اور باطل پروپیگنڈوں کا مطلق ازالہ کر دینے کے مقصد سے دو فرشتوں ہاروت و ماروت کو بابل کے شہر میں بھیجا،اور وہ اس فن کے ماہر کی حیثیت سے ان کے گروہ میں شامل ہو گئے۔لیکن ان کا طریقہ کار ان پیشہ وروں سے بالکل ہی مختلف تھا، جو بھی ان کے پاس جادو سیکھنے آتا، وہ پہلے اس کو یہ بتاتے کہ ہم تمہارے لیے آزمائش ہیں، جادو کفر ہے تم اس کو سیکھ کر کفر نہ کرو۔ لیکن جب یہودی سیکھنے پر اصرار کرتے تو وہ ان کو سکھا دیتے۔قرآن بتاتا ہے کہ یہودی ان دونوں سے وہ جادو سیکھتے تھے جس کے ذریعے شوہر و بیوی میں تفرقہ ڈال دیں۔ لیکن یہ حقیقت بھی واضح کردی گئی کہ وہ اس کے ذریعے اللہ کے حکم کے بغیر کسی کو نقصان نہ پہنچا سکتے تھے، کیونکہ اسباب میں اثر تو بہرحال اللہ کے حکم ہی پر منحصر ہے۔اور وہ اس بات کو بھی خوب جان گئے تھے کہ اس(جادو) کو حاصل کرنے والے کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں، اور بہت ہی بری کمائی ہے جو انہوں نے اپنی جانوں کے لئے کی ہے،کاش وہ اس بات کو سمجھ لیتے!

یہاں اس بات کی وضاحت بھی ضروری ہے کہ قرآن نے جادو کا ذکر ایک شیطانی عمل کے طور پر کیا ہے۔اور احادیث سے اس کی وضاحت ہوتی ہے۔اس میں تو شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں کہ یہ شیطانی عمل ہے، اس کا کرنا ،کرانا،اس کا ذوق رکھنا گناہ کبیرہ بلکہ کفر و شرک ہے۔البتہ سحر کے محدود،وقتی اور تخیلاتی اثر کا ذکر قرآن و حدیث میں ملتا ہے،جو بہرحال اللہ کے اذن و مشیت ہی کے تابع ہے ۔اس کا مطلق انکار کرنا یا اس کے اثرات کو حد سے بڑھانا ،یہ دونوں انداز قرآن و حدیث کے انکار کے مترادف ہیں۔افسوس کی بات ہے کہ بعض مفسرین نے ایک طرف تو اسرائیلی روایات کی بنیاد پر جادو کے بارے میں بے شمار من گھڑت خرافات پیش کر دی ہیں، تو دوسری طرف منکرین قرآن و حدیث نے سحر کا مطلق انکار ہی کر دیا ہے۔ہمیں اس کو اسی حد تک ماننا چاہئے جہاں تک قرآن و حدیث نے بیان کیا ہے۔

موسیٰ علیہ السلام اور جادوگروں کا واقعہ

﴿قَالُواْ يَٰمُوسَىٰٓ إِمَّآ أَن تُلۡقِيَ وَإِمَّآ أَن نَّكُونَ نَحۡنُ ٱلۡمُلۡقِينَ١Oقَالَ أَلۡقُواْۖ فَلَمَّآ أَلۡقَوۡاْ سَحَرُوٓاْ أَعۡيُنَ ٱلنَّاسِ وَٱسۡتَرۡهَبُوهُمۡ وَجَآءُو بِسِحۡرٍ عَظِيمٖO وَأَوۡحَيۡنَآ إِلَىٰ مُوسَىٰٓ أَنۡ أَلۡقِ عَصَاكَۖ فَإِذَا هِيَ تَلۡقَفُ مَا يَأۡفِكُونَO فَوَقَعَ ٱلۡحَقُّ وَبَطَلَ مَا كَانُواْ يَعۡمَلُونَ﴾

[الأعراف: 115-118]

’’ ( جادوگر ) کہنے لگے: اے موسیٰ ؑ تم ڈالتے ہو یا ہم ( پہلے ) ڈالیں۔( موسی ٰ ؑ ) نے کہا ( تم ) ڈالو، پھر جب انہوں نے ڈالیں ( لاٹھیاں اور رسیاں ) تو لوگوں کی آنکھوں پر جادو کردیا اور انہیں خوب ڈرایا،اور ( وہ ) زبردست جادو لائے تھے۔ اور ہم نے موسیٰؑ کی طرف وحی کی کہ اپنا عصا ڈالو ، تو ایکدم وہ نگلنے لگا ان کے جھوٹ کو جو وہ لیکر آئے تھے،۔ پس حق ثابت ہوگیا اور باطل ہوگئے ان کے اعمال‘‘۔

سورہ یونس میں اس موقع کے لئے بیان کیا گیا :

﴿وَقَالَ فِرۡعَوۡنُ ٱئۡتُونِي بِكُلِّ سَٰحِرٍ عَلِيمٖO فَلَمَّا جَآءَ ٱلسَّحَرَةُ قَالَ لَهُم مُّوسَىٰٓ أَلۡقُواْ مَآ أَنتُم مُّلۡقُونَO فَلَمَّآ أَلۡقَوۡاْ قَالَ مُوسَىٰ مَا جِئۡتُم بِهِ ٱلسِّحۡرُۖ إِنَّ ٱللَّهَ سَيُبۡطِلُهُۥٓ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُصۡلِحُ عَمَلَ ٱلۡمُفۡسِدِينَ﴾

[يونس: 79-81]

’’ اور کہا فرعون نے، ہر ماہر جادوگر کو میرے پاس لے آؤ، جب آگئے جادو گر تو موسیٰ ؑ نے ( ان سے ) کہا ڈالو جو کچھ تم نے ڈالنا ہے۔ جب انہوں نے ڈالا تو موسیٰ ؑ نےکہا جو کچھ ( جادو ) جو تم لائے ہو اللہ اسے عنقریب باطل کردے گا ، اللہ تعالیٰ مفسدین کے کام کو سنوارتا نہیں ‘‘۔

سورہ طٰہٰ میں فرمایا گیا :

﴿قَالَ بَلۡ أَلۡقُواْۖ فَإِذَا حِبَالُهُمۡ وَعِصِيُّهُمۡ يُخَيَّلُ إِلَيۡهِ مِن سِحۡرِهِمۡ أَنَّهَا تَسۡعَىٰO فَأَوۡجَسَ فِي نَفۡسِهِۦ خِيفَةٗ مُّوسَىٰOقُلۡنَا لَا تَخَفۡ إِنَّكَ أَنتَ ٱلۡأَعۡلَىٰO وَأَلۡقِ مَا فِي يَمِينِكَ تَلۡقَفۡ مَا صَنَعُوٓاْۖ إِنَّمَا صَنَعُواْ كَيۡدُ سَٰحِرٖۖ وَلَا يُفۡلِحُ ٱلسَّاحِرُ حَيۡثُ أَتَىٰ﴾

[طه: 66-69]

’’ ( موسیٰؑ نے ) کہا بلکہ تم ڈالو ، پھر ان ( جادوگروں ) کے جادو کے اثرسے ان کی رسیاں اور لاٹھیاں ( موسیٰ ؑ ) کے خیال میں آیا کہ جیسے وہ دوڑ رہی ہوں۔ پس موسیٰ ؑ اپنے دل میں ڈر گیا۔ ہم ( اللہ ) نے فرمایا ! ڈرو نہیں، تم ہی کامیاب ہوگے۔ اور پھینکو جو تمہارے دائیں ہاتھ میں ہے یہ نگل جائے گا جو انہوں نے بنایا ہے، یہ تو جادوگروں کی ایک چال ہے، اور نہیں کامیاب ہوتا جادو گر جہاں بھی وہ آئے ‘‘۔

پیش کردہ آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ موسیٰ علیہ السلام اور جادو گروں کے مقابلے میں جادوگروں نے ابتداء کی اور لوگوں کی آنکھوں پر جادو کردیا۔ اس جادو کی وجہ سے موسیٰ علیہ السلام اور لوگوں کو ایسا محسوس ہوا کہ گویا وہ لاٹھیاں اور رسیاں دوڑ رہی ہوں۔ یعنی وہ دوڑ نہیں رہی تھیں بلکہ صرف ایسا محسوس ہورہا تھا ۔( گویا ) جادو ان چیزوں پر نہیں بلکہ لوگوں کی آنکھوں پر ہوا تھا۔ ان کے اس جادو کیوجہ سے خود موسیٰ ؑ السلام پر بھی اس کا اثر ہوا اور وہ ڈر گئے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ موسیٰ ؑ یہ سب جادوگروں کی چالیں ہیں اپنا عصا پھینکو، اور جب اسے پھینکا تو ان کی ساری بناوٹی چیزوں کو نگل گیا، اللہ تعالیٰ نے حقیقت بتا دی کہ ان لاٹھیوں اور رسیوں کی حیثیت کچرے کی ہے، انہوں نے جو انسانوں کی آنکھوں پر جادو کیا تھا صرف اس کی وجہ سے لوگ ڈر گئے تھے۔

کیا جادو گر ان لاٹھیوں اور رسیوں پر کیمیکل لگا کر لائے تھے :

منکریں حدیث لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں کہ جادو کوئی چیز نہیں ہے بلکہ جادوگر ان لاٹھیوں اور رسیوں پرکیمیکل لگا کر لے آئے تھے جس کی وجہ سے انہوں نے بھاگنا شروع کردیا۔ یہاں وہ سورہ طٰہٰ کی آیت میں بیان کردہ ٹکڑا بھی پیش کرتے ہیں : إِنَّمَا صَنَعُواْ كَيۡدُ سَٰحِرٖۖ ’’ جو انہوں نے بنایا ہے، یہ تو جادوگروں کی ایک چال ہے ‘‘۔

حقیقت تو اللہ تعالیٰ نے اسی آیت میں بتا دی ہے : فَإِذَا حِبَالُهُمۡ وَعِصِيُّهُمۡ يُخَيَّلُ إِلَيۡهِ مِن سِحۡرِهِمۡ أَنَّهَا تَسۡعَىٰ ’’ پھر ان ( جادوگروں ) کی رسیاں اور لاٹھیاں جادو کے اثرسے ( موسیٰ ؑ ) کے خیال میں آیا کہ جیسے وہ دوڑ رہی ہوں‘‘۔ یعنی وہ دوڑ نہیں رہی تھیں بلکہ لوگوں کو ایسا لگا کہ جیسے وہ دوڑ رہی ہوں۔واضح ہوا کہ ان لاٹھیوں اور رسیوں پر کوئی کیمیکل نہیں تھا اور نہ ہی وہ دوڑ رہی تھیں۔ بلکہ جادو تو لوگوں کی آنکھوں پر ہوا تھا: فَلَمَّآ أَلۡقَوۡاْ سَحَرُوٓاْ أَعۡيُنَ ٱلنَّاسِ وَٱسۡتَرۡهَبُوهُمۡ وَجَآءُو بِسِحۡرٍ عَظِيمٖ ’’ پھر جب انہوں نے ڈالیں ( لاٹھیاں ) تو لوگوں کی آنکھوں پر جادو کردیا اور انہیں خوب ڈرایا،اور ( وہ ) زبردست جادو لائے تھے‘‘۔ یعنی جادو کسی چیز پر نہیں بلکہ انسانوں کی آنکھوں پر کیا گیا تھا۔نیز قرآن جادو کا جو طریقہ بتاتا ہے وہ اس طرح ہے:

وَٱتَّبَعُواْ مَا تَتۡلُواْ ٱلشَّيَٰطِينُ عَلَىٰ مُلۡكِ سُلَيۡمَٰنَۖ

( سورہ البقرہ : 102 )

’’ اور وہ ان چیزوں کی پیروی کرنے لگے جو شیاطین سلیمان کی مملکت کا نام لے کر پڑھا کرتے تھے‘‘

واضح ہوا کہ جادو کیمیکل لگانے کا نام نہیں بلکہ یہ ایک پڑھا جانے والا عمل ہے۔ یعنی جادوگروں نے کچھ پڑھ کر لوگوں کی آنکھوں پر جادو کردیا۔

جادوگر کبھی کامیاب نہیں ہوتا :

وَلَا يُفۡلِحُ ٱلسَّاحِرُ حَيۡثُ أَتَىٰ ، ’’اور نہیں کامیاب ہوتا جادو گر جہاں بھی وہ آئے ‘‘۔ منکرین حدیث یہ پیش کرکے کہتے ہیں کہ قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جادوگر کامیاب نہیں ہوتا اور تم کہتے ہو کہ نبی ﷺ پر جادو ہوگیا ! انہی آیات میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : فَأَوۡجَسَ فِي نَفۡسِهِۦ خِيفَةٗ مُّوسَىٰ ’’پس موسیٰ ؑ اپنے دل میں ڈر گیا‘‘۔ یعنی موسیٰ علیہ السلام پر ان کے جادو کا اثر ہوا اور وہ ڈر گئے۔ کیا موسیٰ علیہ السلام کا کچھ وقت کے لئے ڈر جانا جادوگروں کی کامیابی تھی؟ سوچیں ، موسیٰ علیہ السلام کا عصا ان کا سب کچھ نگل گیا، کون کامیاب ہوا جادو گر یا موسیٰ علیہ السلام۔

جس آیت کا یہ ذکر کر رہے ہیں عین اس سے اگلی آیت میں فرمایا گیا :

﴿فَأُلۡقِيَ ٱلسَّحَرَةُ سُجَّدٗا قَالُوٓاْ ءَامَنَّا بِرَبِّ هَٰرُونَ وَمُوسَىٰ﴾

[طه: 70]

’’ پس جادو گر سجدے میں گر گئے ، کہنے لگے ہم ایمان لائے ہارون ؑ و موسیٰ ؑ کے رب پر‘‘۔

تو واضح ہوا کہ یہ منکر حدیث نہیں بلکہ منکر قرآن بھی ہیں۔ کیونکہ وقتی طور پر جادو کا اثر ہونا یہ ثابت کرتا ہے کہ جادو میں ( کچھ ) حقیقت ہے۔

نبی ﷺ پر جادو کی حقیقت:

عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: مَكَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَذَا وَكَذَا يُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهُ يَأْتِي أَهْلَهُ وَلَا يَأْتِي، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَقَالَ لِي ذَاتَ يَوْمٍ: “يَا عَائِشَةُ إِنَّ اللَّهَ أَفْتَانِي فِي أَمْرٍ اسْتَفْتَيْتُهُ فِيهِ، أَتَانِي رَجُلَانِ فَجَلَسَ أَحَدُهُمَا عِنْدَ رِجْلَيَّ وَالْآخَرُ عِنْدَ رَأْسِي، فَقَالَ الَّذِي عِنْدَ رِجْلَيَّ لِلَّذِي عِنْدَ رَأْسِي، مَا بَالُ الرَّجُلِ قَالَ: مَطْبُوبٌ، يَعْنِي مَسْحُورًا قَالَ: وَمَنْ طَبَّهُ ؟ قَالَ: لَبِيدُ بْنُ أَعْصَمَ قَالَ: وَفِيمَ ؟ قَالَ: فِي جُفِّ طَلْعَةٍ ذَكَرٍ فِي مُشْطٍ وَمُشَاقَةٍ تَحْتَ رَعُوفَةٍ فِي بِئْرِ ذَرْوَانَ”، فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: “هَذِهِ الْبِئْرُ الَّتِي أُرِيتُهَا كَأَنَّ رُءُوسَ نَخْلِهَا رُءُوسُ الشَّيَاطِينِ وَكَأَنَّ مَاءَهَا نُقَاعَةُ الْحِنَّاءِ”، فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُخْرِجَ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَهَلَّا تَعْنِي تَنَشَّرْتَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: “أَمَّا اللَّهُ فَقَدْ شَفَانِي، وَأَمَّا أَنَا فَأَكْرَهُ أَنْ أُثِيرَ عَلَى النَّاسِ شَرًّا”قَالَتْ: وَلَبِيدُ بْنُ أَعْصَمَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي زُرَيْقٍ حَلِيفٌ لِيَهُودَ.

(صحیح البخاری: کتاب الادب، بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالعَدْلِ وَالإِحْسَانِ، ۔ ۔ ۔ )v

’’ عائشہ ؓ کا بیان ہے کہ نبیﷺ اتنے اتنے دنوں اس حال میں رہے کہ آپ کو خیال ہوتا تھا کہ اپنی بیوی کے پاس سے ہو آئے ہیں، حالانکہ وہاں نہیں جاتے تھے، عائشہ ؓ کا بیان ہے کہ آپ نے مجھ سے ایک دن فرمایا اے عائشہ اللہ نے مجھے وہ بات بتادی جو میں دریافت کرنا چاہتا تھا، میرے پاس دو آدمی آئے، ان میں سے ایک میرے پاؤں کے اور دوسرا میرے سر کے پاس بیٹھ گیا، جو میرے سر کے پاس بیٹھا تھا اس نے پاؤں کے پاس بیٹھنے والے سے پوچھا کہ اس شخص کو کیا ہوگیا ہے ؟ اس نے کہا مطبوب ہے یعنی اس پر جادو کیا گیا ہے، پوچھا کس نے جادو کیا ہے، کہا لبید بن اعصم نے پوچھا کس چیز میں ؟ کہا بالوں کو نر کھجور کے چھلکے میں ڈال کر ذروان کے کنویں میں ایک پتھر کے نیچے رکھ کر، چنانچہ نبیﷺ اس کنویں کے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ یہی وہ کنواں ہے، جو مجھے خواب میں دکھلایا گیا اس کے پاس کھجوروں کے درخت شیطان کے سروں کی طرح ہیں اور اس کا پانی مہندی کے نچوڑ کی طرح سرخ ہے، نبی ﷺنے اس کے نکالنے کا حکم دیا تو وہ نکال دیا گیا، عائشہؓ کا بیان ہے کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! پھر کیوں نہیں ؟ یعنی آپ نے اس کو مشتہر کیوں نہیں کیا، نبیﷺنے فرمایا اللہ تعالیٰ نے مجھے شفا دی اور میں ناپسند کرتا ہوں کہ لوگوں کے سامنے کسی کے شر کو مشتہر کردوں اور بیان کیا کہ لبید بن اعصم بنی زریق کا ایک فرد تھا جو یہود کے حلیف تھے‘‘۔

عَنْ عَائِشَةَ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: “سُحِرَ حَتَّى كَانَ يُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهُ صَنَعَ شَيْئًا وَلَمْ يَصْنَعْهُ

(صحیح بخاری، کتاب الجزیہ، بَابٌ: هَلْ يُعْفَى عَنِ الذِّمِّيِّ إِذَا سَحَرَ )

عائشہ ؓروایت کرتے ہیں کہ آپ (ﷺ) پر جادو کیا گیا تھا اس کا اثریہ ہوا تھا کہ آپ (ﷺ) خیال فرماتے تھے کہ فلاں کام کرچکے ہیں حالانکہ وہ کام آپ (ﷺ) نے انجام نہ دیا ہوتا۔

عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: “كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُحِرَ حَتَّى كَانَ يَرَى أَنَّهُ يَأْتِي النِّسَاءَ وَلَا يَأْتِيهِنَّ”

(بخاری، کتاب الطب، بَابٌ: هَلْ يَسْتَخْرِجُ السِّحْرَ؟)

’’عائشہ ؓنے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺپر جادو کردیا گیا تھا اور اس کا آپ پر یہ اثر ہوا تھا آپ کو خیال ہوتا کہ آپ ازواج مطہرات میں سے کسی کے پاس گئے تھے حالانکہ آپ نہیں گئے ہوتے تھے ‘‘۔

نبی ﷺ پر جادو ہونے کی حقیقت

ان احادیث سے واضح ہوا کہ نبی ﷺ پر جادو ہوا تھا، اس جادو سے نبی ﷺ کی ذات پر صرف اسقدر اثر ہوا تھا کہ نبی ﷺ یہ سمجھتے تھے کہ وہ ازواج مطہرات کے پاس ہو آئے ہیں لیکن حقیقت میں وہ گئے بھی نہیں ہوتے تھے۔ اسی طرح یہ سمجھتے تھے کہ فلاں کام کرلیا ہے لیکن حقیقت میں وہ کیا نہیں ہوتا تھا۔ یعنی یہ جادو بھی ’’ تخیلاتی ‘‘ تھا۔ نبی ﷺ کے خیال میں ایسا آتا تھا یعنی بالکل وہی معاملہ جو موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ہوا تھا کہ جب جادوگروں نے اپنی لاٹھیاں اور رسیاں پھینکیں تو يُخَيَّلُ إِلَيۡهِ مِن سِحۡرِهِمۡ أَنَّهَا تَسۡعَىٰ ’’ان ( جادوگروں ) کے جادو کے اثرسے ( موسیٰ ؑ ) کے خیال میں آیا کہ جیسے وہ دوڑ رہی ہوں‘‘۔ یعنی جادو کا اثر صرف خیالات تک ہے، آپ ﷺ کی عقل اور صحیح اور غلط کے درمیان امتیاز کرنے والی قوت فیصلہ اس سے متاثر نہیں ہوئی تھی۔ گویا دین کے بارے میں قطعاً کوئی فرق نہیں پڑا تھا۔

دور سے کئے ہوئے جادو کا اثر کیسے ہوا ؟

یہ بھی کہا جاتا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کو تو دھوکہ دیا گیا تھا، لیکن نبی ﷺ کے سامنے تو کوئی عمل کیا ہی نہیں گیا تو ان پر جادو کیسے ہوگیا؟ گویا یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ احادیث میں جھوٹ آیا ہے۔ سورہ فلق میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

﴿قُلۡ أَعُوذُ بِرَبِّ ٱلۡفَلَقِ﴾

[الفلق: 1]

’’ کہدو کہ میں پناہ میں آتا ہوں صبح کے رب کی ‘‘۔

﴿مِن شَرِّ مَا خَلَقَ﴾

[الفلق: 2]

’’ ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی ‘‘۔

﴿وَمِن شَرِّ غَاسِقٍ إِذَا وَقَبَ﴾

[الفلق: 3]

’’ اور اندھیری رات کے شر سے جب وہ چھا جائے ‘‘۔

﴿وَمِن شَرِّ ٱلنَّفَّٰثَٰتِ فِي ٱلۡعُقَدِ﴾

[الفلق: 4]

’’ اورگِرہوں میں پھونکنے والیوں کے شر سے ‘‘۔

﴿وَمِن شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ﴾

[الفلق: 5]

’’ اور حسد کرنے والے کے شر سے جب وہ حسد کرے ‘‘۔

ان آیات میں کون کون سا شر بتایا گیا ہے، کیا یہ سارے کام انسان کے سامنے کئے جاتے ہیں ؟ کیا گرہوں میں پھونکنے والیاں سامنے آکر یہ کام کرتی ہیں یا کوئی حسد کرنے والا سامنے بیٹھ کر حسد کرتا ہے ؟ سورہ الناس میں فرمایا گیا :

﴿مِن شَرِّ ٱلۡوَسۡوَاسِ ٱلۡخَنَّاسِOٱلَّذِي يُوَسۡوِسُ فِي صُدُورِ ٱلنَّاسِO مِنَ ٱلۡجِنَّةِ وَٱلنَّاسِ﴾

[الناس: 4-6]

’’ وسوسہ ڈال کر پیچھے ہٹ جانے والے کے شر سے، جو لوگوں کے دلوں میں وسوسہ ڈالتا ہے، جنوں اور انسانوں میں سے ‘‘۔

سوچیں کیا شیطان سامنے آکر ، انسان کو بتا کر اس کے دل میں وسوسہ ڈالتا ہے کہ اس کا اس کے اوپر اثر ہو۔ یہ ساری باتیں محض شیطانی وسوسے ہی ہیں۔ یہ بھی یاد رہےکہ جادو یا کوئی بھی شر اس وقت تک اثر نہیں کرتا جب تک کہ اللہ کی مرضی نہ ہو۔ سورہ البقرہ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا :

ۦۚ وَمَا هُم بِضَآرِّينَ بِهِۦ مِنۡ أَحَدٍ إِلَّا بِإِذۡنِ ٱللَّهِۚ

]البقرة: 102]

’’ (حالانکہ) وہ اس سے کسی کو بھی بغیر اللہ کے حکم کے نقصان پہنچا ہی نہیں سکتے تھے‘‘۔

یعنی کوئی چاہے جو بھی کوشش کرتا رہے لیکن اللہ کی مرضی کے بغیر کوئی چیز اثر نہیں کرتی۔

کیا نبی ﷺ پر جادو ماننےوالاکافر ہو جائے گا؟

منکرین حدیث سورہ فرقان کی ایک آیت کا حصہ پیش کرتے ہیں :

وَقَالَ ٱلظَّٰلِمُونَ إِن تَتَّبِعُونَ إِلَّا رَجُلٗا مَّسۡحُورًا’’ اور ظالموں نے ( مومنوں سے ) کہا تم ایک سحر زدہ انسان کے پیچھے لگ گئے ہو ‘‘۔ اس بارے میں سیاق و سباق سے پڑھیں تو معلوم ہوتا ہے ان کافروں کا بس یہی ایک قول نہ تھا ۔ ملاحظہ فرمائیں سورہ الفرقان کی آیات۔

﴿وَقَالُواْ مَالِ هَٰذَا ٱلرَّسُولِ يَأۡكُلُ ٱلطَّعَامَ وَيَمۡشِي فِي ٱلۡأَسۡوَاقِ لَوۡلَآ أُنزِلَ إِلَيۡهِ مَلَكٞ فَيَكُونَ مَعَهُۥ نَذِيرًا﴾

[الفرقان: 7]

’’ اور کہتے ہیں کہ یہ کیسا رسول ہے کہ کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا ہے، کیوں نہیں نازل کیا گیا کوئی فرشتہ جو ان کے ساتھ ڈڑانے کے لئے ہوتا ‘‘۔

﴿أَوۡ يُلۡقَىٰٓ إِلَيۡهِ كَنزٌ أَوۡ تَكُونُ لَهُۥ جَنَّةٞ يَأۡكُلُ مِنۡهَاۚ وَقَالَ ٱلظَّٰلِمُونَ إِن تَتَّبِعُونَ إِلَّا رَجُلٗا مَّسۡحُورًا﴾

[الفرقان: 8]

’’ یا اس کا کوئی خزانہ ہوتا یا اس کا کوئی باغ ہوتا اس سے وہ کھاتا اور ظالموں نے ( مومنوں سے ) کہا تم ایک سحر زدہ انسان کے پیچھے لگ گئے ہو ‘‘

سورہ بنی اسرائیل میں فرمایا گیا :

﴿نَّحۡنُ أَعۡلَمُ بِمَا يَسۡتَمِعُونَ بِهِۦٓ إِذۡ يَسۡتَمِعُونَ إِلَيۡكَ وَإِذۡ هُمۡ نَجۡوَىٰٓ إِذۡ يَقُولُ ٱلظَّٰلِمُونَ إِن تَتَّبِعُونَ إِلَّا رَجُلٗا مَّسۡحُورًا﴾﴿نَّحۡنُ أَعۡلَمُ بِمَا يَسۡتَمِعُونَ بِهِۦٓ إِذۡ يَسۡتَمِعُونَ إِلَيۡكَ وَإِذۡ هُمۡ نَجۡوَىٰٓ إِذۡ يَقُولُ ٱلظَّٰلِمُونَ إِن تَتَّبِعُونَ إِلَّا رَجُلٗا مَّسۡحُورًا﴾

[الإسراء: 47]

’’ ہم خوب جانتے ہیں جب وہ آپ کی طرف کان لگاتے ہیں توکِس بات پر لگاتے ہیں اور جب یہ سرگوشی کرتے ہیں، جب یہ ظالم کہتے ہیں کہ تم ایک سحر زدہ آدمی کی پیروی کر رہےہو‘‘۔

﴿ٱنظُرۡ كَيۡفَ ضَرَبُواْ لَكَ ٱلۡأَمۡثَالَ فَضَلُّواْ فَلَا يَسۡتَطِيعُونَ سَبِيلٗا﴾

[الإسراء: 48]

’’ دیکھیں یہ آپ کے لئے کیسی مثالیں بناتے ہیں ، پس یہ گمراہ ہوگئے اور ہدایت نہیں پا سکتے

منکرین حدیث آیت کا ایک حصہ لیکر کہدیتے ہیں کہ جس نے نبی ﷺ پر جادو کا اثر مان لیا وہ کافر ہے، حالانکہ ان آیات میں صرف یہی معاملہ نہیں بلکہ ان کا اعتراض تو یہ بھی تھا کہ یہ نبی ﷺ کھانا بھی کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا بھی ہے اور اس کے پاس کوئی خزانہ نہیں اور نہ ہی اس کے پاس کوئی باغ ہے۔ بتائیں کیا جو یہ عقیدہ رکھے کہ نبی ﷺ انسانوں کی طرح کھاتےپیتے، چلتے تھے اور ان کے پاس نہ تو کوئی خزانہ تھا اور نہ ہی کوئی باغ تو اس کا شمار کفار میں ہوگا؟ ہر گز ، ہر گز نہیں ۔

کوئی ان سے پوچھے کہ صرف ایک بات کیوں لے رہے ہو، پھر ان آیات کی ساری باتیں لو اور جو یہ عقیدہ رکھے اس پر کفر کا فتویٰ لگاؤ۔

نبی ﷺ کو سحر زدہ کیوں کہتے تھے؟

احادیث سے ثابت ہے کہ کفار نبی ﷺ کو صادق و امین کہا کرتے تھے، ان کی بہت عزت کیا کرتے تھے، لیکن انہیں ’’ سحر زدہ ‘‘ اسوقت کہا گیا جب انہوں نے حق مبنی سچی اور کھری دعوت توحید پیش کی۔ گویا وہ انکی تبلیغ کیوجہ سے انہیں سحر زدہ ( سحر میں ڈوبا ہوا ) کہا کرتے تھے۔ موسیٰ علیہ السلام جب فرعون کے پاس دعوت حق دینے گئے تو اس نےبھی کہا :

﴿وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَى تِسْعَ آيَاتٍ بَيِّنَاتٍ فَاسْأَلْ بَنِي إِسْرَائِيلَ إِذْ جَاءَهُمْ فَقَالَ لَهُ فِرْعَوْنُ إِنِّي لَأَظُنُّكَ يَا مُوسَى مَسْحُورًا ؀ قَالَ لَقَدْ عَلِمْتَ مَا أَنْزَلَ هَؤُلَاءِ إِلَّا رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ بَصَائِرَ وَإِنِّي لَأَظُنُّكَ يَا فِرْعَوْنُ مَثْبُورًا﴾

[الإسراء: 101-102]

’اور ہم نے موسیٰ کو نو کھلی نشانیاں دیں تو بنی اسرائیل سے دریافت کرلو کہ جب وہ ان کے پاس آئے تو فرعون نے ان سے کہا کہ موسیٰ میں خیال کرتا ہوں کہ تم پر جادو کیا گیا ہے،انہوں نے کہا کہ تم یہ جانتے ہو کہ آسمانوں اور زمین کے پروردگار کے سوا ان کو کسی نے نازل نہیں کیا۔ (اور وہ بھی تم لوگوں کے) سمجھانے کو۔ اور اے فرعون میں خیال کرتا ہوں کہ تم ہلاک ہوجاؤ گے‘‘۔

موسیٰ علیہ السلام فرعون کے گھر ہی پلے بڑھے لیکن اس نے انہیں کبھی جادو زدہ نہیں سمجھا لیکن جب موسیٰ علیہ السلام نے انہیں دعوت حق دی تو اس نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ تم جادو زدہ ہو، یعنی یہ بڑی عجیب باتیں ہیں جو تم کر رہے ہو۔ بالکل یہی معاملہ نبی ﷺ کے ساتھ ہوا کہ جب دعوت حق دی تو ساری عزت چھوڑ کر انہیں جادو زدہ سمجھا گیا ۔ گویا یہ اعتراض رسالت اور دعوت پر تھا کہ جو کچھ یہ کہہ رہا ہے ( نبی ﷺ اور فرعون کے دربار میں موسیٰ علیہ السلام ) یہ باتیں کسی جادو زدہ کی لگتی ہیں۔ بالکل ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کوئی ان کے منہ سے یہ بات نکلوا رہا ہے۔ یعنی منکرین حدیث کا اعتراض بالکل غلط ہے کفار کا وہ اعتراض نبی ﷺ کی ذات پر نہیں بلکہ ان کی رسالت پر تھا۔

جادو زدہ کا مطلب ہے کہ ایک ایسا انسان جو سدا سے جادو کے اثر میں ہو اور اسے خود یہ نہیں معلوم ہو کہ وہ کیا بول رہا ہے جب کہ اوپر بیان کردہ احادیث سے یہ بات بالکل ثابت ہے کہ نبی ﷺ کی رسالت کے کسی کام میں کوئی فرق نہیں پڑا تھا بلکہ ان کے دماغ میں صرف اتنا آتا تھا کہ یہ کام کرلیا ہے اور حقیقت میں وہ کیا نہ ہوتا یا نبی ﷺ خیال کرتے تھے کہ اپنی ا زواج سے ملکر آ گئے ہیں لیکن حقیقت میں وہ گئے ہی نہیں ہوتے تھے۔

اگر جادو مان لیا جائے تو پھر جادو گر نافع و ضار بن گیا :

منکرین حدیث ایسے شوشے چھوڑتے رہتے ہیں کہ جس پر انسان کو ہنسی آ جاتی ہے۔ ایک ڈاکٹر نے کسی مریض کو دوائی دی اور مریض اچھا ہوگیا، کیا اب ڈاکٹر ’’ نافع ‘‘ ( فائدہ دینے والا ) بن گیا ؟

ڈاکٹر نے دوا دی مریض صحیح ہوگیا تو کیا ڈاکٹر کو نافع ( نفع دینے والا ) سمجھا جائے گا؟ڈاکٹر نے انجکشن لگایا مریض مرگیا اب کیا ڈاکٹر کو ضا ر( نقصان پہنچانے والا ) کہیں گے ؟ کوئی بیماری انسان کی موت کا سبب بن سکتی ہے، لیکن کوئی اپنی مرضی سے کسی کو کوئی بیماری نہیں لگا سکتا۔ فرعون موسیٰ علیہ السلام کی قوم کے بچوں کو قتل کراتا تھا ، اب کیا وہ لوگوں کو موت دینے والا کہلائے گا؟

ایک نے دوسرے کو گولی ماری دوسرا مر گیا اب گولی مارنے والے کو ضا رسمجھا جائے گا۔ کیساعجیب ہے ان کا انداز۔ جناب گولی مارنے والا گولی مارتا رہے وہ بندہ اسی وقت مرے گا جب اللہ کا حکم ہوگا ۔ جادوگر نہ کسی کو نفع دے سکتا ہے اور نہ ہی کوئی نقصان پہنچا سکتا ہے یہی بات تو سورہ بقرہ میں فرمائی گئی تھی :

وَمَا هُم بِضَآرِّينَ بِهِۦ مِنۡ أَحَدٍ إِلَّا بِإِذۡنِ ٱللَّهِۚ

] البقرة: 102]

’’ (حالانکہ) وہ اس سے کسی کو بھی بغیر اللہ کے حکم کے نقصان پہنچا ہی نہیں سکتے تھے‘‘۔

اللہ تعالیٰ نے کھل کر بتا دیا کہ جادو گر نہ نافع ہے اور نہ ضار بلکہ یہ صرف اللہ کی صفت ہے۔ جادوگر لاکھ عملیات کرتا رہے لیکں کسی کو نہ نفع دے سکتا ہے اور نہ نقصان۔ البتہ جادو گر نے عمل کیا اور اللہ تعالیٰ نے اس بندے کے لئے کچھ لکھ دیا ہے تو وہ اسے پہنچ کر رہے گا، اور پہنچے گا بھی صرف ’’ ذہن سوچ و پریشانی ‘‘ کی حد تک۔ ایسا نہیں کہ کسی کا بزنس تباہ ہو جائے گا، کسی کی شادی رک جائے گی۔ بلکہ ذہن اور اس کی وجہ سے ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ اسے بکری ہاتھی دکھائی دینے لگے۔

قرآن و حدیث سے جادو کا وجود ثابت ہوتا ہے لہذا اسے برحق کہا جاتا ہے۔اس پر جواب ملتا ہے کہ کیا آپ ابھی جادو کے ذریعے سے فلاں کام کرسکتے ہیں؟

جادو اثر انداز ہوتا ہے ، اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر وقت ، ہر جگہ ، ہر کسی پر اثر انداز ہوجاتا ہے ۔ اوپر بتا دیا گیا ہے کہ یہ صرف اللہ ہی کے حکم سے ہوتا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے کسی کے لئے کوئی بات لکھ دی ہو اور جادو گر بھی اسی بات کے لئے کوشش کر رہا ہو تو اس کا جادو اثر انداز ہوگا ورنہ بالکل نہیں۔

جادو کیا ہے ؟

قرآن و حدیث سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ جادو ایک شیطانی عمل ہے۔

۔ ۔ ۔ وَلَقَدۡ عَلِمُواْ لَمَنِ ٱشۡتَرَىٰهُ مَا لَهُۥ فِي ٱلۡأٓخِرَةِ مِنۡ خَلَٰقٖۚ وَلَبِئۡسَ مَا شَرَوۡاْ بِهِۦٓ أَنفُسَهُمۡۚ لَوۡ كَانُواْ يَعۡلَمُونَ

[البقرة: 102]

’’ ۔ ۔۔ اور وہ خوب جانتے تھے کہ جو اس کا خریدار بنا اس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں، اور بہت ہی بری چیز ہے وہ جس کے بدلے انہوں نے خود کو بیچ ڈالا کاش وہ اس بات کو جان لیتے‘‘۔

نبی ﷺ نے فرمایا :

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: “اجْتَنِبُوا السَّبْعَ الْمُوبِقَاتِ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا هُنَّ، قَالَ: الشِّرْكُ بِاللَّهِ، وَالسِّحْرُ، وَقَتْلُ النَّفْسِ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ، وَأَكْلُ الرِّبَا، وَأَكْلُ مَالِ الْيَتِيمِ، وَالتَّوَلِّي يَوْمَ الزَّحْفِ، وَقَذْفُ الْمُحْصَنَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ الْغَافِلَاتِ

(صحیح البخاری: کتاب الوصایا، بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {إِنَّ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ أَمْوَالَ اليَتَامَى ظُلْمًا، إِنَّمَا يَأْكُلُونَ فِي بُطُونِهِمْ نَارًا وَسَيَصْلَوْنَ سَعِيرًا}

[النساء: 10])

ابوہریرہؓ نبیﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ (ﷺ) نے فرمایا سات ہلاک کرنے والی باتوں سے دور رہو۔ لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہﷺ وہ کونسی باتیں ہیں فرمایا اللہ کے ساتھ شرک کرنا اور جادو کرنا اور اس جان کا ناحق مارنا جس کو اللہ تعالیٰ نے حرام کیا ہے اور سود کھانا اور یتیم کا مال کھانا اور جہاد سے فرار یعنی بھاگنا اور پاک دامن بھولی بھالی مومن عورتوں پر زنا کی تہمت لگانا۔

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: “مَنِ اقْتَبَسَ عِلْمًا مِنَ النُّجُومِ، اقْتَبَسَ شُعْبَةً مِنَ السِّحْرِ زَادَ مَا زَادَ

(سنن ابو داؤد: کتاب الطب، باب في النجوم)

’’ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺنے فرمایا کہ جس نے علم نجوم کا کچھ حصہ سیکھا اس نے جادو کا ایک حصہ سیکھا ( جو حرام ہے) اور جتنا زیادہ (علم نجوم) سیکھا اتنا ہی زیادہ (سحر) سیکھا‘‘۔

واضح ہوا کہ سحر سیکھنا، سکھانا، کرنا سب حرام ہے۔

Categories
Uncategorized

وسیلے کا شرک

سورہ یونس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

﴿وَيَعۡبُدُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ مَا لَا يَضُرُّهُمۡ وَلَا يَنفَعُهُمۡ وَيَقُولُونَ هَٰٓؤُلَآءِ شُفَعَٰٓؤُنَا عِندَ ٱللَّهِۚ قُلۡ أَتُنَبِّ‍ُٔونَ ٱللَّهَ بِمَا لَا يَعۡلَمُ فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَلَا فِي ٱلۡأَرۡضِۚ سُبۡحَٰنَهُۥ وَتَعَٰلَىٰ عَمَّا يُشۡرِكُونَ﴾

[يونس: 18]

’’ اور بندگی کرتے ہیں اللہ کے علاوہ ان کی جو نہ انہیں نقصان پہنچا سکتے ہیں اور نہ  انہیں کوئی فائدہ، اور کہتے ہیں کہ یہ ہمارے سفارشی ہیں اللہ کے پاس، (ان سے ) کہدو کہ اللہ کو ایسی خبر دیتے ہو جو وہ نہیں جانتا آسمانوں  میں اور نہ زمین میں، پاک ہے اور بلند ہے  وہ ان کے اس شرک سے ‘‘۔

مشرکین مکہ کا یہی طریقہ کار تھا۔ انہوں خانہ کعبہ میں انبیاء علیہ السلام، مریم صدیقہ اور ان لوگوں کے بت رکھے ہوئے تھے جنہیں وہ نیک  و صالح سمجھا کرتے تھے۔( بخاری ،  کتاب الحج ) ( بخاری،  کتاب التفسیر القرآن)۔ جیسا کہ اس آیت میں فرمایا کہ وہ ان کی عبادت کیا کرتے تھے۔  یعنی انہیں پکارتے تھے، ان سے دعائیں کیا کرتے تھے، ان کے نام کی نذر و نیاز کیا کرتے تھےجیسا کہ ایک حدیث میں نبی ﷺ نےفرمایا :

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا فَرَعَ وَلَا عَتِيرَةَ وَالْفَرَعُ أَوَّلُ النِّتَاجِ کَانُوا يَذْبَحُونَهُ لِطَوَاغِيتِهِمْ وَالْعَتِيرَةُ فِي رَجَبٍ

( بخاری، کتاب العقیقہ ، بَابُ الفَرَعِ )

’’ ابوہریرہ  ؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا نہ تو فرع اور نہ ہی عتیرہ کوئی چیز ہے اور فرع اونٹنی کے سب سے پہلے بچے کو کہتے ہیں جو مشرکین اپنے طاغوتوں کے نام پر ذبح کرتے تھے اور عتیرہ اس قربانی کو کہتے ہیں جو رجب میں کی جائے‘‘۔

نبی ﷺ نے فرمایا کہ وہ اپنے طاغوتوں ( وہ انسان جو  اللہ کے بندوں کو  اللہ کے نازل کردہ  سے گمراہ کرے، یا اس سے روکے) کے نام پر قربانی کیا کرتے تھے۔ ایک اور حدیث میں ہے :

عن أنس، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لا عقر في الإسلام»، قال عبد الرزاق: «كانوا يعقرون عند القبر بقرة أو شاة»

( سنن ابی داؤد ، کتاب الجنائز، باب: كراهية الذبح عند القبر)

’’انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا۔ اسلام میں عقر نہیں ہے۔ عبدالرزاق نے کہا کہ زمانہ جاہلیت میں لوگ قبروں کے پاس جا کر گائے یابکری ذبح کیا کرتے تھے‘‘۔ (اس کا نام عقر ہے)

تو یہ تھی ان کی عبادت اور فوت شدہ لوگوں کی شکر گزاری یا خوشنودی حاصل کرنے کا طریقہ۔ یہ سب کیوں تھا ؟ للہ تعالیٰ فرماتا ہے :

﴿أَلَا لِلَّهِ ٱلدِّينُ ٱلۡخَالِصُۚ وَٱلَّذِينَ ٱتَّخَذُواْ مِن دُونِهِۦٓ أَوۡلِيَآءَ مَا نَعۡبُدُهُمۡ إِلَّا لِيُقَرِّبُونَآ إِلَى ٱللَّهِ زُلۡفَىٰٓ ۔ ۔ ۔﴾

[الزمر: 3]

’’ خبردار دین خالص  ( خالص عبادت ) اللہ ہی کے لئے ہے، جن لوگوں نے اللہ کے علاوہ دوسروں کو کارساز بنا لیا ہے ( وہ کہتے ہیں ) ہم ان کی بندگی نہیں کرتے مگر اس لئے کہ  وہ ہمیں اللہ کے قریب کردیں ۔ ۔  ‘‘

واضح ہوا کہ اللہ کے علاوہ جن جن کی یہ بندگی کرتے تھے وہ محض اس لئے تھی کہ وہ انہیں اللہ کے قریب کردیں ، ہماری دعائیں اللہ تک پہنچا دیں جیسا کہ سورہ یونس کی آیت نمبر 18 میں ان کا عقیدہ بیان کیا گیا  اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ  نے اسے شرک قرار دیا۔ وہ شرک اس لئے کہ   لِلَّهِ ٱلدِّينُ ٱلۡخَالِصُۚ دین خالص صرف اللہ کےلئے ہے، عبادت صرف اللہ کے لئےہے کسی اور کے لئےنہیں۔ جب کسی دوسرے سے دعا کی جائے یا دوسرے کے واسطے اور وسیلے  سے دعا  کی جائے تو  یہ عبادت میں شرک ہو جائے گا اور یوں شرک فی الحقوق اللہ ہوگا۔مشرکانہ دور کا یہ مشرکانہ عقیدہ اس امت میں بھی آ گیا اور  اللہ تعالیٰ کو دعاؤں میں واسطے اور وسیلے دئیے جانے لگے۔

اس میں سوچنے کی بات یہ ہے کہ

  • کیا اللہ تعالیٰ کچھ دیر کے لئے سو جاتا ہے ، کیا اللہ تعالیٰ براہ رست نہیں سن سکتا ؟کہ کوئی دوسرا سن کر اللہ تعالیٰ کو بعد میں بتائے( نعوذوباللہ )۔
  • کیا فوت شدہ افراد یا کوئی پیر ایسا بھی ہے کہ جس کی بات اللہ تعالیٰ نہیں ٹال سکتا ؟
  • کیا فوت شدہ انسان اسقدر طاقت ور ہیں کہ دنیا میں ہر ایک پکارنے والے کی پکار سن لیتے ہیں ؟

قرآنی دلائل بتاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ براہ راست سنتا ہے بلکہ اللہ تعالیٰ  انسان کو اسی کا بات کا حکم دیتا ہے :

﴿وَقَالَ رَبُّكُمُ ٱدۡعُونِيٓ أَسۡتَجِبۡ لَكُمۡۚ إِنَّ ٱلَّذِينَ يَسۡتَكۡبِرُونَ عَنۡ عِبَادَتِي سَيَدۡخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِينَ﴾

[المومن: 60]

’’ اور تمہارا رب فرماتا ہے کہ مجھے پکارو میں تمہاری دعائیں قبول کروں گا  ، بے شک جو لوگ تکبر کرتے ہیں میری عبادت سے، عنقریب  ذلیل ہو کر جہنم میں داخل ہوں گے ‘‘۔

﴿وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌۖ أُجِيبُ دَعۡوَةَ ٱلدَّاعِ إِذَا دَعَانِۖ فَلۡيَسۡتَجِيبُواْ لِي وَلۡيُؤۡمِنُواْ بِي لَعَلَّهُمۡ يَرۡشُدُونَ﴾

[البقرة: 186]

’’اور (اے نبی!) جب میرے بندے تم سے میرے بارے میں پوچھیں تو تم انہیں بتا دو کہ میں قریب ہی ہوں، پکارنے والا جب مجھے پکارتا ہے تو میں اس کی پکار سن کر قبول کرتا ہوں، تو انہیں چاہئے کہ میرا حکم مانیں، اور مجھ پر ہی ایمان رکھیں تاکہ راہ ہدایت پائیں‘ ‘۔

اللہ تعالیٰ نے تو  براہ راست دعا کرنے کا حکم فرمایا ہے کہ براہ راست مجھے پکارو اور فرمایا جب میرا بندہ مجھے پکارتا ہے تو اسی وقت میں اس کی پکار  سن کر قبول فرما لیتا ہوں ، تو پھر کسی کے وسیلےسے دعائیں کیوں ؟ یہاں لوگوں کو گمراہ کیا جاتا ہے کہ  جب کسی آفیسر کے پاس جانا ہوتا ہے تو پہلے چپراسی کے پاس جاتے ہو، پھر وہ تمہاری درخواست  لیکر جاتا ہے پھر آفیسر سے ملاقات ہوتی ہے۔ اسی طرح پہلے ان فوت شدہ کی خوشنودی حاصل کرو یہ تمہاری  التجائیں اللہ تک پہنچادیں گے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

﴿فَلَا تَضۡرِبُواْ لِلَّهِ ٱلۡأَمۡثَالَۚ إِنَّ ٱللَّهَ يَعۡلَمُ وَأَنتُمۡ لَا تَعۡلَمُونَ﴾

[النحل: 74]

’’ پس اللہ کے لئے مثالیں  نہ بیان کرو ، اللہ جاننے والا ہے اور تم نہیں جانتے ‘‘۔

بتا گیا کہ انسانوں والی مثالیں اللہ کے لئے نہیں بیان کرو، انسان تو ایک کمرے میں رہ کر دوسرے کمرے کا حال نہیں جانتا لیکن  تمہارا رب تو کائنات کے چپے چپے سے واقف ہے۔

﴿أَلَآ إِنَّهُمۡ يَثۡنُونَ صُدُورَهُمۡ لِيَسۡتَخۡفُواْ مِنۡهُۚ أَلَا حِينَ يَسۡتَغۡشُونَ ثِيَابَهُمۡ يَعۡلَمُ مَا يُسِرُّونَ وَمَا يُعۡلِنُونَۚ إِنَّهُۥ عَلِيمُۢ بِذَاتِ ٱلصُّدُورِ﴾

[هود: 5]

’’ آگاہ رہو کہ یہ اپنےسینوں کو موڑ لیتے ہیں  تاکہ اللہ سے چھپے رہیں  اور جب یہ اپنے آپ کو کپڑوں سے ڈھانکتے ہیں ، وہ جانتا ہے  جو وہ چھپاتا ہے اور جو وہ ظاہر کرتے ہیں، بے شک وہ خوب جاننے والا ہے سینوں کی باتوں کو‘‘۔

﴿وَلَقَدۡ خَلَقۡنَا ٱلۡإِنسَٰنَ وَنَعۡلَمُ مَا تُوَسۡوِسُ بِهِۦ نَفۡسُهُۥۖ وَنَحۡنُ أَقۡرَبُ إِلَيۡهِ مِنۡ حَبۡلِ ٱلۡوَرِيدِ﴾

[ق: 16]

’’ اور ہم نے انسان کو بنایا ہے اور ہم جانتے ہیں اس کے دل میں کیا وسوسے اٹھتے ہیں اور ہم اس کی شہہ رگ سے زیادہ قریب ہیں‘‘۔

﴿أَلَمۡ تَرَ أَنَّ ٱللَّهَ يَعۡلَمُ مَا فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِي ٱلۡأَرۡضِۖ مَا يَكُونُ مِن نَّجۡوَىٰ ثَلَٰثَةٍ إِلَّا هُوَ رَابِعُهُمۡ وَلَا خَمۡسَةٍ إِلَّا هُوَ سَادِسُهُمۡ وَلَآ أَدۡنَىٰ مِن ذَٰلِكَ وَلَآ أَكۡثَرَ إِلَّا هُوَ مَعَهُمۡ أَيۡنَ مَا كَانُواْۖ ثُمَّ يُنَبِّئُهُم بِمَا عَمِلُواْ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِۚ إِنَّ ٱللَّهَ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيمٌ﴾

[المجادلة: 7]

’’ کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ جاننے والا ہے  جو کچھ آسمانوں میں ہے اور زمین میں،  نہیں ہوتی کوئی سرگوشی تین ( افراد ) کی لیکن چوتھا وہ ہوتا ہے، نہ پانچ کی لیکن چھٹا وہ ہوتا ہے، نہ اس سے کم اور نہ اس سے زیادہ جہاں کہیں بھی وہ ہوں  مگر وہ  ان کے ساتھ ہوتا ہے ، پھر جو کچھ بھی  انہوں نےکیا وہ قیامت کے دن انہیں بتا دے گا، بے شک  وہ ہر چیز سے باخبر ہے‘‘۔

﴿وَعِندَهُۥ مَفَاتِحُ ٱلۡغَيۡبِ لَا يَعۡلَمُهَآ إِلَّا هُوَۚ وَيَعۡلَمُ مَا فِي ٱلۡبَرِّ وَٱلۡبَحۡرِۚ وَمَا تَسۡقُطُ مِن وَرَقَةٍ إِلَّا يَعۡلَمُهَا وَلَا حَبَّةٖ فِي ظُلُمَٰتِ ٱلۡأَرۡضِ وَلَا رَطۡبٖ وَلَا يَابِسٍ إِلَّا فِي كِتَٰبٖ مُّبِينٖ﴾

[الأنعام: 59]

’’اور اس ( اللہ ) ہی کے پاس ہیں غیب کی کنجیاں، کوئی نہیں جانتا سوائے اس کے، وہ جانتا ہے ہے جو کچھ خشکی میں ہے اور جو تری میں ہے، اور نہیں گرتا پتوں میں سےکوئی مگر اس کے علم میں ہوتا ہے اور  نہیں ہے کوئی دانہ زمین کے ان اندھیروں میں  مگر وہ  کھلی کتاب میں موجود ہے ‘‘۔

کیا اتنے عظیم رب کے لئے کسی ایسے وسیلےکی ضرورت ہے کہ وہ اس تک ہماری بات پہنچائے ؟

کیا ( نعوذوباللہ ) اللہ تعالیٰ کچھ دیر کے لئے سو جاتا ہے کہ کوئی دوسرا سن کر اللہ تعالیٰ کو بعد میں بتائے۔

آیت الکرسی  میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

﴿ٱللَّهُ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ٱلۡحَيُّ ٱلۡقَيُّومُۚ لَا تَأۡخُذُهُۥ سِنَةٞ وَلَا نَوۡمٞۚ لَّهُۥ مَا فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِي ٱلۡأَرۡضِۗ مَن ذَا ٱلَّذِي يَشۡفَعُ عِندَهُۥٓ إِلَّا بِإِذۡنِهِۦۚ يَعۡلَمُ مَا بَيۡنَ أَيۡدِيهِمۡ وَمَا خَلۡفَهُمۡۖ وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيۡءٖ مِّنۡ عِلۡمِهِۦٓ إِلَّا بِمَا شَآءَۚ وَسِعَ كُرۡسِيُّهُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَۖ وَلَا يَ‍ُٔودُهُۥ حِفۡظُهُمَاۚ وَهُوَ ٱلۡعَلِيُّ ٱلۡعَظِيمُ﴾

[البقرة: 255]

’’اللہ (ہی معبود) ہے اسکے سوا کوئی الٰہ  نہیں، وہ زندہ اور قائم رکھنے والا ہے ،اسے نہ اونگھ آتی ہے اور نہ نیند۔ اسی کے لیے ہے جو آسمانوں اور زمین میں ہے،کون ہے جو بغیر اس کی اجازت کے سفارش کر سکے، جو کچھ انکے آگے اور پیچھے ہے وہ سب جانتا ہے ، اور لوگ اسکے علم میں سے کسی چیز کا احاطہ نہیں کر سکتے مگر جتنا وہ چاہے۔اس کی کرسی زمین و آسماں پر چھائی ہوئی ہے، اور ان کی نگرانی اس کو تھکاتی نہیں، وہ اعلیٰ مرتبہ اور عظیم ہے‘‘۔

اب بتائیں اللہ کے علاوہ اس کائنات میں کون ایسا ہے جو کسی بھی لمحے نہ کہیں جاتا ہے، نہ سوتا ہے اور نہ اسے نیند آتی ہے۔ کائنات کی ہر ہر لمحے کی خبر اسے ہے ، ہر ہر مخلوق کا حال اسے معلوم ہے۔ کون بھوکا ہے، کون بیمار ہے، کسے کس چیز کی حاجت ہے اسے ہر چیز کا علم ہے ۔ اس کے مقابلے میں جن انسانوں کو اس کا وسیلہ بنانے کا کہا جا رہا ہے تو وہ تو اپنی زندگی میں دیوار کے پار کی چیز نہیں دیکھ سکتے تھے، دور کی آواز نہیں سن سکتے تھے اور اب تو  وہ مر چکے ہیں۔ قرآن و حدیث کے بیان کے مطابق ان کا جسم سڑگل گیا ہوگا۔ نہ ان کے کان ہیں کہ وہ اس سے سنیں اورنہ آنکھیں کہ اس سے دیکھیں اور نہ ہی ان  کے اختیار میں کوئی چیز ہے اور نہ وہ کسی چیز کے مالک ہیں۔

یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اللہ ہماری نہیں سنتا اور ان ( بزرگوں ) کی ٹالتا نہیں۔ قرآن میں اللہ نے بتا دیا کہ جب پکارنے والا مجھے پکارتا ہے اسی وقت سنتا اور قبول فرماتا ہوں۔ پھر یہ بھی سامنے آ گیا کہ اللہ ہر چیز سے باخبر ہے اور جنہیں انسان اس کا وسیلہ بنانے کا کہتے ہیں وہ تو مردہ ہیں جو نہ سن سکتے ہیں، نہ جان سکتے ہیں انہیں تو خود اپنے حال کا بھی علم نہیں اور نہ یہ شعور ہے کہ کب زندہ کرکے اٹھائے جائیں گے۔ اب آخری بات کہ کیا کائنات میں کوئی ایسا بھی ہے جو اللہ کےسامنے مچل جائے اور اپنے بات منوا لے۔ مالک کائنات فرماتا ہے :

﴿۔ ۔ ۔ ۔ وَمَا كَانَ ٱللَّهُ لِيُعۡجِزَهُۥ مِن شَيۡءٖ فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَلَا فِي ٱلۡأَرۡضِۚ إِنَّهُۥ كَانَ عَلِيمٗا قَدِيرٗا﴾

[فاطر: 44]

’’ اور اللہ کو تو آسمانوں کی یا زمین کی کوئی چیز بھی عاجز نہیں کرسکتی۔ بلاشبہ وہ سب کچھ جاننے والا اور قدرت والا ہے ‘‘۔

واضح ہو گیا کہ کائنات میں کوئی ایسی چیز نہیں کہ وہ مچل کر اللہ کو عاجز کردے اور اللہ اس کی بات ماننےپر مجبور ہو جائے، یہ سب جھوٹ ہے۔ بھلا کیا مقابلہ خالق و مخلوق کا، ایک رزق دینے والا اور دوسرے رزق لینے والےہیں ، ایک  جس نے ساری کائنات کو بنایاہے  اور ایک وہ جس نے ایک درخت کا ایک پتہ بھی نہ بنایا ۔ سفارش تو  ہمیشہ کم اختیار والا زیادہ اختیار والے کو کرتا ہے، زیادہ علم والا کم علم والے کو سفارش کرتا ہے۔ جب کائنات میں  اللہ کے علاوہ کوئی دوسرا ذرہ برابر اختیار ہی نہیں رکھتا تو وہ سفارش کیسے کرے گا۔ اسی طرح کسی کا علم اللہ سے بڑھ کر ہے ہی نہیں کہ جسکی وہ اللہ کو  خبر دے سکے۔ بھلا جو ایک ایک لمحے اللہ کا محتاج ہو اور اب مر بھی چکا ہوتو   وہ اللہ کے سامنے مچل اور ضد کرسکتا ہے ؟ ( کبھی بھی نہیں )

ان سارے دلائل سے ثابت ہوا کہ عبادت یعنی دعا براہ راست اللہ تعالیٰ سے کرنی چاہئیے یہی اس کا حق ہے جب انسان اس میں کوئی وسیلہ بناتا ہے تو  اللہ تعالیٰ نے سورہ یونس آیت نمبر 18 میں اس فعل کو شرک قرار دیا۔

اللہ تعالیٰ کے ناموں کا وسیلہ :

اللہ تعالیٰ نے قرآن میں دعا کرنے کا طریقہ بتایا :

﴿وَلِلَّهِ ٱلۡأَسۡمَآءُ ٱلۡحُسۡنَىٰ فَٱدۡعُوهُ بِهَا﴾

[الأعراف: 180]

’’ اور اللہ کے بہترین نام ہیں، ان کے ذریعے  اس سے دعا کرو ‘‘

﴿قُلِ ٱدۡعُواْ ٱللَّهَ أَوِ ٱدۡعُواْ ٱلرَّحۡمَٰنَۖ أَيّٗا مَّا تَدۡعُواْ فَلَهُ ٱلۡأَسۡمَآءُ ٱلۡحُسۡنَىٰۚ۔ ۔ ۔ ﴾

[الإسراء: 110]

’’ ( اے نبی ﷺ ) کہدیں:  تم پکارو اللہ کو یا پکارو رحمٰن کو، کسی بھی  نام سے تم پکارو ( یہ ) سب اللہ کے بہترین نام ہیں ‘‘۔

معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کو دعا میں اس کے بہترین ناموں کا واسطہ یا وسیلہ دیا جا سکتا ہے۔ دعا کریں ’’ یا رحمٰن ‘‘ اے رحم فرمانے والے مجھے پر رحم فرما۔ ’’یا  رزاق ‘‘ اے بہترین رزق دینے والے مجھے اچھےسے اچھا رزق عطا فرما ۔

زندہ شخص  کا وسیلہ بنانا :

احایث سے وسیلہ کے کچھ معاملات ثابت ہوتے ہیں کہ جیسے صحابہ ؓ  نبی ﷺ  سےدعا کی درخواست کرتے تھے۔ لیکن جب نبی ﷺ کی وفات ہوگئی تو انہوں نے نبی ﷺ کے وسیلے سے دعا نہیں کی بلکہ نبی ﷺ کے چچا عباس ؓ سے (نبی ﷺ کی نگاہ میں جو ان کا مقام تھا اس وجہ سے )  کرائی۔

عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الخَطَّابِ، كَانَ إِذَا قَحَطُوا اسْتَسْقَى بِالعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ المُطَّلِبِ فَقَالَ: «اللَّهُمَّ إِنَّا كُنَّا نَتَوَسَّلُ إِلَيْكَ بِنَبِيِّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَسْقِينَا، وَإِنَّا نَتَوَسَّلُ إِلَيْكَ بِعَمِّ نَبِيِّنَا فَاسْقِنَا» قَالَ: فَيُسْقَوْنَ

( بخاری، كتاب أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم،   بَابُ ذِكْرِ العَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ المُطَّلِبِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ )

’’انس بن مالک ؓ  روایت کرتے ہیں کہ جب لوگ قحط میں مبتلا ہوتے تو عمر بن خطابؓ، عباس ؓ بن عبدالمطلب کے وسیلہ سے دعا کرتے اور فرماتے کہ اے اللہ ہم تیرے پاس تیرے نبی ﷺ کا وسیلہ لے کر آیا کرتے تھے تو ،تو ہمیں سیراب کرتا تھا اب ہم لوگ اپنے نبی کے چچاعباس ؓ  کا وسیلہ لے کر آئے ہیں ہمیں سیراب کر، راوی کا بیان ہے کہ لوگ سیراب کئے جاتے یعنی بارش ہوجاتی ‘‘۔

اس موقع پر عباس ؓ نے الفاظ کہے وہ اس طرح سے تھے :

أَنَّ الْعَبَّاسَ لَمَّا اسْتَسْقَى بِهِ عُمَرُ قَالَ اللَّهُمَّ إِنَّهُ لَمْ يَنْزِلْ بَلَاءٌ إِلَّا بِذَنْبٍ وَلَمْ يُكْشَفْ إِلَّا بِتَوْبَةٍ وَقَدْ تَوَجَّهَ الْقَوْمُ بِي إِلَيْكَ لِمَكَانِي مِنْ نَبِيِّكَ وَهَذِهِ أَيْدِينَا إِلَيْكَ بِالذُّنُوبِ وَنَوَاصِينَا إِلَيْكَ بِالتَّوْبَةِ فَاسْقِنَا الْغَيْثَ فَأَرْخَتِ السَّمَاءُ مِثْلَ الْجِبَالِ حَتَّى أَخْصَبَتِ الْأَرْضَ وَعَاشَ النَّاسُ

( الكتاب: فتح الباري شرح صحيح البخاري ۔المؤلف: أحمد بن علي بن حجر ، جزء 2، صفحہ 497 )

’’ جب عمر رضی اللہ نے عباس رضی اللہ عنہ سے بارش کے لئے دعا کروائی تو انہوں نے کہا: اے اللہ نہیں نازل ہوتی کوئی بلاء مگر گناہ کے سبب اور نہیں دور ہوتی مگر توبہ سے ۔ میری اس قوم نے تیرے نبی  ﷺکے نزدیک میرے مقام کی وجہ سے میری توجہ تیری طرف کی ہے اور ہمارے یہ گناہ آلود ہاتھ تیری طرف توبہ کے لئے اکھٹے ہوئے ہیں ، پس ہم پر بارش برسا۔ پس آسمان سے پانی پہاڑ کی طرح کثرت سے برسا یہاں تک کہ زمین زرخیز ہو گئی اور لوگ جی اٹھے‘‘۔

معلوم ہوا کہ کسی زندہ شخص سے دعا کرنا بھی وسیلہ کہلاتا ہے جو کہ جائز وسیلہ ہے،یعنی کسی مومن متقی شخص سے دعا کی درخواست کی جائے اور وہ اللہ سے اس کے لئے دعا کرے۔  انس ؓ بیان کرتے ہیں :

عن أنس بن مالك، قال: كنت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم جالسا في الحلقة، ورجل قائم يصلي، فلما ركع وسجد فتشهد، ثم قال في دعائه: اللهم إني أسألك بأن لك الحمد، لا إله إلا أنت المنان، يا بديع السماوات والأرض، يا ذا الجلال والإكرام، يا حي يا قيوم، إني أسألك، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: ” أتدرون بما دعا الله؟ ” قال: فقالوا: الله ورسوله أعلم، قال: ” والذي نفسي بيده، لقد دعا الله باسمه الأعظم، الذي إذا دعي به أجاب، وإذا سئل به أعطى “

( مسند احمدِ  ، مسند المكثرين من الصحابة،   مسند أنس بن مالك ؓ )

’’انسؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی ﷺ کے ساتھ حلقے میں بیٹھا ہوا تھا اور ایک آدمی کھڑا صلواۃ ادا کر رہا تھا، رکوع و سجود کے بعد جب وہ بیٹھا تو تشہد میں اس نے یہ دعا پڑھی (اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنَّ لَكَ الْحَمْدَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ الْحَنَّانُ بَدِيعَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ إِنِّي أَسْأَلُكَ ) ” اے اللہ ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کیونکہ تمام تعریفیں تیرے لئے ہی ہیں، تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں، نہایت احسان کرنے والا ہے، آسمان و زمین کو بغیر نمونے کے پیدا کرنے والا ہے اور بڑے جلال اور عزت والا ہے۔ اے زندگی دینے والے اے قائم رکھنے والے ! میں تجھ سے ہی سوال کرتا ہوں “۔ نبی ﷺنے فرمایا تم جانتے ہو کہ اس نے کیا دعاء کی ہے ؟ صحابہ ؓ  نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول ﷺہی زیادہ جانتے ہیں۔ نبی ﷺ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اس نے اللہ سے اس کے اس اسم اعظم کے ذریعے دعاء مانگی ہے کہ جب اس کے ذریعے سے دعاء مانگی جائے تو اللہ اسے ضرور قبول کرتا ہے اور جب اس کے ذریعے سوال کیا جائے تو وہ ضرور عطاء کرتا ہے ‘‘۔

اپنے اعمال کا وسیلہ :

عبد اللہ بن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے سابقہ دور کے چند افراد کے بارے میں ایک حدیث بیان کی :

عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ خَرَجَ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ قَالَ فَقُلْتُ مَا أَسْتَهْزِئُ بِکَ وَلَکِنَّهَا لَکَ اللَّهُمَّ إِنْ کُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي فَعَلْتُ ذَلِکَ ابْتِغَائَ وَجْهِکَ فَافْرُجْ عَنَّا فَکُشِفَ عَنْهُمْ

( بخاری ، کتاب البیوع، بَابُ إِذَا اشْتَرَى شَيْئًا لِغَيْرِهِ بِغَيْرِ إِذْنِهِ فَرَضِيَ )

’’ ابن عمر ؓ     نبی ﷺسے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا کہ تین آدمی جا رہے تھے تو بارش ہونے لگی وہ تینوں پہاڑ کی ایک غار میں داخل ہوگئے ایک چٹان اوپر سے گری اور غار کا منہ بند ہوگیا ایک نے دوسرے سے کہا کہ اللہ سے کسی ایسے اچھے عمل کا واسطہ دے کر دعا کرو جو تم نے کیا ہو ان میں سے ایک نے کہا اے میرے اللہ میرے ماں باپ بہت بوڑھے تھے چناچہ میں باہر جاتا اور جانور چراتا تھا پھر واپس آکر دودھ دوھ کر اپنے ماں باپ کے پاس لاتا جب وہ پی لیتے تو میں بیوی بچوں اور گھر والوں کو پلاتا ایک رات مجھے دیر ہوگئی میں آیا تو دونوں سو گئے تھے مجھے نا گوار ہوا کہ میں انہیں جگاؤں اور بچے میرے پاؤں کے پاس بھوک کے مارے رو رہے تھے طلوع فجر تک میری حالت یہی رہی اے اللہ اگر تو یہ جانتا ہے کہ میں نے صرف تیری رضا مندی کے لئے کیا ہے تو پتھر مجھ سے کچھ ہٹا دے تاکہ ہم آسمان تو دیکھ سکیں پتھر کچھ ہٹ گیا پھر دوسرے آدمی نے کہا اے اللہ میں اپنی ایک چچا زاد بہن سے بےانتہا محبت کرتا تھا جس قدر ایک مرد عورتوں سے محبت کرتا ہے لیکن اس نے کہا تم اپنا مقصد مجھ سے حاصل نہیں کرسکتے جب تک کہ تم سو دینار نہ دے دو چناچہ میں نے محنت کر کے سو دینار جمع کئے جب میں اس کی دونوں ٹانگوں کے درمیان بیٹھا تو اس نے کہا اللہ سے ڈر مہر ناجائز طور پر نہ توڑ میں کھڑا ہوگیا اور اسے چھوڑ دیا اے اللہ اگر تو جانتا ہے کہ میں نے صرف تیری رضا کے لئے ایسا کیا تو اس پتھر کو کچھ ہٹا دے وہ پتھر دو تہائی ہٹ گیا پھر تیسرے آدمی نے کہا یا اللہ میں نے ایک مزدور ایک فرق جوار کے عوض کام پر لگایا جب میں اسے دینے لگا تو اس نے لینے سے انکار کردیا میں نے اس جوار کو کھیت میں بودیا یہاں تک کہ میں نے اس سے گائے بیل اور چرواہا خریدا پھر وہ شخص آیا اور کہا اے اللہ کے بندے تو مجھے میرا حق دیدے میں نے کہا ان گایوں بیلوں اور چرواہے کے پاس جا اور انہیں لے لے یہ تیرے ہیں اس نے کہا کیا تم مذاق کرتے ہو میں نے اس سے کہا میں تجھ سے مذاق نہیں کر رہا وہ تیرے ہی ہیں اے میرے اللہ اگر تو جانتا ہے کہ میں نے صرف تیری خوشنودی کے لئے ایسا کیا تو یہ پتھر ہم سے ہٹا دے چناچہ وہ پتھر ان سے ہٹ گیا‘‘۔

اس سے معلوم ہوا کہ انسان اپنے ذاتی اعمال کا وسیلہ بھی دے سکتا ہے کہ اے مالک میں میرےیہ اعمال صرف تیری رضا کے لئے تھے ، مالک انہیں قبول فرما اور ان کی وجہ سے مجھے اس تکلیف سے نکال دے۔

اس بارے میں فرقہ پرستوں کی مغالطہ آ رائیاں :

اس بارے میں فرقہ پرستوں نے امت میں غلط اور مشرکانہ عقائد داخل کردئیے ہیں۔ سب سے پہلے تو قرآن مجید کی ایک آیت پیش کرکے اس سے مردوں کو وسیلہ بنانے کا عقیدہ دیا جاتا ہے لہذا سب سے پہلے اس کو سمجھیں ۔

﴿يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱتَّقُواْ ٱللَّهَ وَٱبۡتَغُوٓاْ إِلَيۡهِ ٱلۡوَسِيلَةَ وَجَٰهِدُواْ فِي سَبِيلِهِۦ لَعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُونَ﴾

[المائدة: 35]

’’اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرو اور اس کی قربت کا ذریعہ تلاش کرو ، اور جہاد ( جدوجہد ) کرو اس کی راہ میں تاکہ فلاح پا جاؤ‘‘۔

فرقہ پرست یہاں لوگوں کو دھوکہ دیتے ہیں اور عربی لفظ  ’’ وسیلہ ‘‘ کا اردو ترجمہ نہیں کرتے اس سے لوگ دھوکہ کھا جاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے خود اللہ کی طرف’’ وسیلہ‘‘ بمعنی’’ ذریعہ‘‘ پکڑنے کا حکم دیا ہے۔عربی لفظ ’’ وسیلہ ‘‘ کے معنی ہیں ’’ قربت ‘‘ یعنی اے ایمان والو !  اللہ سے ڈرو اور اس کی قربت کا ذریعہ تلاش کرو۔  مزید اسی آیت میں اللہ کی قربت کا ذریعہ بھی بتا دیا گیا کہ وَجَٰهِدُواْ فِي سَبِيلِهِۦ   اللہ کی راہ میں جدوجہد کرو۔ یعنی اپنی جان، اپنا   مال ، وقت ، جسم اللہ کی راہ میں لگاؤ۔ اللہ تعالیٰ نے تمہیں ایمان سے نوازا ہے تو تم اپنی زندگیوں کو اللہ کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق ڈھال لو۔ اب اس کی تبلیغ کے لئے نکلو اور پھر شاید جہاد بالسیف کا بھی وقت آ جائے تو اللہ کی راہ میں کافروں اور مشرکوں کو قتل کرو یا اپنی جان اللہ کی راہ میں لٹا دو۔

حدیث میں وسیلہ کا بیان ملتا ہے اور فرقہ پرست اپنے مقلدین کو گمراہ کرتے ہیں کہ خود نبی ﷺ نے  وسیلے کی دعا سکھائی ہے۔ حدیث میں آتا ہے :

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ” مَنْ قَالَ حِينَ يَسْمَعُ النِّدَاءَ: اللَّهُمَّ رَبَّ هَذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ، وَالصَّلاَةِ القَائِمَةِ آتِ مُحَمَّدًا الوَسِيلَةَ وَالفَضِيلَةَ، وَابْعَثْهُ مَقَامًا مَحْمُودًا الَّذِي وَعَدْتَهُ، حَلَّتْ لَهُ شَفَاعَتِي يَوْمَ القِيَامَةِ “

(بخاری كِتَابُ الأَذَانِ بَابُ الدُّعَاءِ عِنْدَ النِّدَاءِ)

’’جابر بن عبداللہؓ  روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :”جو شخص اذان سنتے وقت یہ دعا پڑھے ( اللَّهُمَّ رَبَّ هَذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ، وَالصَّلاَةِ القَائِمَةِ آتِ مُحَمَّدًا الوَسِيلَةَ وَالفَضِيلَةَ، وَابْعَثْهُ مَقَامًا مَحْمُودًا الَّذِي وَعَدْتَهُ ) تو اس کے لئےقیامت کے دن میری شفاعت  حلال ہو گی”۔

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِذَا سَمِعْتُمُ الْمُؤَذِّنَ، فَقُولُوا مِثْلَ مَا يَقُولُ ثُمَّ صَلُّوا عَلَيَّ، فَإِنَّهُ مَنْ صَلَّى عَلَيَّ صَلَاةً صَلَّى الله عَلَيْهِ بِهَا عَشْرًا، ثُمَّ سَلُوا اللهَ لِيَ الْوَسِيلَةَ، فَإِنَّهَا مَنْزِلَةٌ فِي الْجَنَّةِ، لَا تَنْبَغِي إِلَّا لِعَبْدٍ مِنْ عِبَادِ اللهِ، وَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَنَا هُوَ، فَمَنْ سَأَلَ لِي الْوَسِيلَةَ حَلَّتْ لَهُ الشَّفَاعَةُ»

(مسلم  كِتَابُ الصَّلَاةِ بَابُ الْقَوْلِ مِثْلَ قَوْلِ الْمُؤَذِّنِ لِمَنْ سَمِعَهُ، ثُمَّ يُصَلِّي عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ يَسْأَلُ لهُ الْوَسِيلَةَ)

“عبد اللہ بن عمرو بن العاص ؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے سنا نبی ﷺ کو کہتے ہوئے : جب تم مؤذن سے سنو توکہو جیسے مؤذن کہتا ہے پھر میرے لئے رحمت کی دعا کرو ( درود )،جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجے گا’ اﷲاس پر دس بار درود بھیجے گا۔ پھر میرے لیے اﷲ سے وسیلہ مانگو کیونکہ وسیلہ جنت میں ایک مقام  ہے جو بندگان اﷲ میں سے کسی ایک بندہ کیلئے بنایاگیا ہے اور مجھے امید ہے کہ وہ بندہ میں ہوں ۔لہٰذا جو شخص میرے لئے وسیلہ کا سوال کرے گا اس کیلئے میری شفاعت حلال ہوگئی” ۔

واضح ہوا کہ ’’ وسیلہ ‘‘ جنت الفردوس میں ایک اعلیٰ مقام ہے اور نبی ﷺ نے فرمایا کہ مؤذن جو الفاظ کہتا ہے تم بھی وہی کہو، پھر میرے لئے رحمت کی دعا ( درود ) کرو، اور پھر میرے لئے وسیلے کی دعا کرو، یعنی جودعا نبی ﷺ نے سکھائی ہے وہ کرو۔

فرقہ پرست اس بارے میں کافی ضعیف روایات بیان کرتے ہیں ، جس کی مکمل تفصیل ہمارے مضمون ’’ وسیلہ کے بارے میں بیان کردہ روایات کی حقیقت ‘‘ میں پڑھی جا سکتی ہے۔  اس بارے میں ایک روایت بیان کی جاتی ہے کہ آدم علیہ السلام نے محمد ﷺ کے وسیلے سے دعا مانگی۔ اس روایت کی سندی حیثیت تو اوپر دئیے گئے لنک میں موجود ہے یہاں ہم اس کے متن پر بات کرتے ہیں۔

نبی ﷺ کو دعا میں وسیلہ بنانا

دیوبندی تبلیغی جماعت کی فضائل اعمال میں ایک روایت درج کی گئی ہے کہ  آدم علیہ السلام نے نبی کے وسیلے سے دعا مانگی  تو اللہ نے اسے قبول فرمایا اور انہیں معاف فرمایا۔ اس بارے میں بیان کردہ مختلف روایات کا ملخص یہ ہے :

’’آدم علیہ السلام سے جو گناہ ہوا اس کی سزا کی پاداش میں انہیں جنت سے نکال کر زمین پر بھیجا گیا۔وہ اس زمین پر روتے رہے اور اللہ تعالیٰ سے اس گناہ کی معافی مانگتے رہے، آخر کار جب نبی کے وسیلے دعا مانگی تو اللہ تعالیٰ نے انہیں معاف کردیا‘‘۔

بقول ان لوگوں کے آدم علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی  اس کے الفاظ یہ تھے :

’’میں محمدؐ کے وسیلہ سے تجھ سے مغفرت کا خواستگار ہوں ۔ اللہ تعالیٰ نے پوچھا: اے آدم ؑ! تم محمد کے متعلق کیسے جانتے ہو، حالانکہ میں نے تو اسے ابھی پیدا ہی نہیں کیا؟ عرض کیا: اے اللہ! جب تو نے مجھے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا اور مجھ میں روح پھونکی تو میں نے اپنا سراُٹھایا اور عرش کے پایوں پر لکھا ہوا دیکھا تھا: لا إلہ إلا اﷲ محمد رسول اﷲ تو میں سمجھ گیا کہ جس کو تو نے اپنے نام کے ساتھ ملا رکھا ہے، کائنات میں اس سے برتر کوئی نہیں ہوسکتا تو اللہ نے فرمایا: میں نے تجھے معاف کردیا اور اگر محمدؐ نہ ہوتے تو میں تجھے اور نہ کائنات  پیدا ہی نہ کرتا۔‘‘

ان کے اس بیان سے ثابت ہوا:

  • آدم علیہ السلام اور بی بی حوا کو سزا کی بنأ پر زمین پر بھیجا گیا۔
  • انہوں نے  اپنے الفاظ میں اللہ تعالیٰ سے دعا کی تو  انہیں زمین پر معاف کردیا گیا۔

یہ عقیدہ سراسر قرآن کے خلاف ہے کیونکہ قرآن سے واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں سزا کے طور پر زمین پر نہیں بھیجا بلکہ  زمین پر بھیجنے سے قبل ہی معاف کردیا تھا:

﴿فَاَكَلَا مِنْهَا فَبَدَتْ لَهُمَا سَوْاٰتُهُمَا وَطَفِقَا يَخْصِفٰنِ عَلَيْهِمَا مِنْ وَّرَقِ الْجَنَّةِ وَعَصٰٓى اٰدَمُ رَبَّهٗ فَغَوٰى       ؁       ثُمَّ اجْتَبٰىهُ رَبُّهٗ فَتَابَ عَلَيْهِ وَهَدٰى        ؁ قَالَ اهْبِطَا مِنْهَا جَمِيْعًۢا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ  ۚ فَاِمَّا يَاْتِيَنَّكُمْ مِّنِّيْ هُدًى ڏ فَمَنِ اتَّبَعَ هُدَايَ فَلَا يَضِلُّ وَلَا يَشْقٰي﴾

[طه: 121-123]

’’ چنانچہ ان دونوں نے اس درخت سے کھا لیا  تو ان کے ستر عیاں ہو گئے اور وہ جنت کے  پتوں کو اپنے اوپر لگانے لگے۔ آدم نے اپنے رب کی نافرمانی کی پس وہ راہ سے بہک گیا۔ پھر اس کے رب نے اسے برگزیدہ کیا ،اسے معاف کیا اور ہدایت دی۔ فرمایا: تم دونوں ( انسان اور شیطان ) یہاں سے اتر جاو ، تم ایک دوسرے کے دشمن ہو ۔ پھر جب  تمہارے پاس میرے طرف سے ہدایت پہنچے ، تو جس نے اس کی پیروی کی تو وہ نہ  بہکے گا اور اور نہ ہی تکلیف میں پڑے گا۔‘‘

قرآن مجید میں بیان کردیا گیا کہ آدم علیہ السلام نے معافی مانگی، اللہ تعالیٰ نے انہیں معاف کیا اور انہیں ہدایت دے کر اس زمین پر بھیجا۔ اس کے بعد اس بات کا تصور ہی نہیں رہتا کہ انہوں نے زمین پر آکر اپنی اس خطا کی دوبارہ معافی ہوگی ۔مزید دیکھیں قرآن کس واضح انداز میں بیان کرتا ہے کہ یہ  معافی کس وقت مانگی گئی۔

﴿فَدَلّٰىهُمَا بِغُرُوْرٍ ۚ فَلَمَّا ذَاقَا الشَّجَرَةَ بَدَتْ لَهُمَا سَوْاٰتُهُمَا وَطَفِقَا يَخْصِفٰنِ عَلَيْهِمَا مِنْ وَّرَقِ الْجَنَّةِ  ۭوَنَادٰىهُمَا رَبُّهُمَآ اَلَمْ اَنْهَكُمَا عَنْ تِلْكُمَا الشَّجَرَةِ وَاَقُلْ لَّكُمَآ اِنَّ الشَّيْطٰنَ لَكُمَا عَدُوٌّ مُّبِيْنٌ          ؀  قَالَا رَبَّنَا ظَلَمْنَآ اَنْفُسَنَا    ۫وَاِنْ لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ        ؀  قَالَ اهْبِطُوْا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ ۚ وَلَكُمْ فِي الْاَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَّمَتَاعٌ اِلٰي حِيْنٍ﴾

[الأعراف: 22-24]

’’ پھر ( شیطان ) نے ان دونوں کو دھوکے سے اپنی طرف مائل کرلیا ، پس جب انہوں نے اس درخت کو چکھا تو شرمگاہیں ایک دوسرے کے سامنے کھل گئیں اور وہ اپنے اوپر جنت کے پتے ڈھاپنے لگے، تو ان کے رب نے انہیں پکارا اور کہا کہ کہ کیا میں نے تمہیں اس درخت سے منع نہیں کیا تھا اور کہا تھا کہ یہ شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے۔دونوں نے کہا :  ’’اے ہمارے رب ہم دونوں نے اپنے اوپر ظلم کیا، اگر تو ہمیں معاف نہیں کرے گا اور ہم رحم نہیں کرے گا تو یقینا ہم زبردست نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جائیں گے‘‘۔ ( اللہ تعالیٰ نے )کہا نکل جاؤ  ، تم ( انسان و شیطان ) ایک دوسرے کے دشمن ہو، اور تمہارے لئے ایک خاص وقت تک کے لئے زمین پر ٹہرنا اور فائدہ اٹھانا ہے ۔‘‘   

واضح ہوا کہ یہ معافی اسی وقت مانگی گئی تھی کہ جب یہ خطا سرزد ہوئی تھی، معافی قبول کرنے کے بعد انہیں زمین پر بھیجا گیا۔

قرآن میں مزید بیان کیا گیا:

﴿وَقُلْنَا يٰٓاٰدَمُ اسْكُنْ اَنْتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ وَكُلَامِنْهَا رَغَدًا حَيْثُ شِـئْتُمَـا       ۠  وَلَا تَـقْرَبَا ھٰذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُوْنَا مِنَ الظّٰلِمِيْنَ        ؀فَاَزَلَّهُمَا الشَّيْطٰنُ عَنْهَا فَاَخْرَجَهُمَا مِمَّا كَانَا فِيْهِ     ۠ وَقُلْنَا اھْبِطُوْا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ   ۚ   وَلَكُمْ فِى الْاَرْضِ مُسْـتَقَرٌّ وَّمَتَاعٌ اِلٰى حِيْنٍ        ؀فَتَلَـقّيٰٓ اٰدَمُ مِنْ رَّبِّهٖ كَلِمٰتٍ فَتَابَ عَلَيْهِ    ۭ   اِنَّهٗ ھُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيْمُ       ؀قُلْنَا اھْبِطُوْا مِنْهَا جَمِيْعًا    ۚ  فَاِمَّا يَاْتِيَنَّكُمْ مِّـنِّىْ ھُدًى فَمَنْ تَبِعَ ھُدَاىَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا ھُمْ يَحْزَنُوْنَ   ؀وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَكَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَآ اُولٰۗىِٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِ   ۚ   ھُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ  ﴾

[البقرة: 35-39]

’’ اور ہم نے کہا: اے آدم تم اور تمہاری بیوی  جنت میں رہو اور جہاں سے جو چاہے کھاؤ مگر اس درخت کے قریب نہ جانا ورنہ تم ظالموں میں سے ہو جاؤ گے۔ لیکن شیطان نے انہیں بہکا کر وہاں سے نکلوا دیا جہاں وہ تھے، ہم نے کہا : تم دونوں نکل جاؤ تم ایک دوسرے کے دشمن ہو اور ایک خاص مدت تک تمہارے لئے زمین پر ٹہرنا اور فائدہ اٹھانا ہے ۔ آدم نے اپنے رب سے کچھ کلمات سیکھ لیے (اور توبہ واستغفار کی ) تو اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرما لی، بے شک وہ بہت زیادہ توبہ قبول کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔ ہم نے کہا : نکل جاؤ تم سب ، پھر جب میری ہدایت تم تک پہنچے تو جس نے اس ہدایت کی پیروی کی اس کے لئے کوئی خوف نہیں اور نا ہی وہ  غمزدہ ہوگا۔ اور وہ لوگ جنہوں نے ہماری آیات کا کفر کیا اور انہیں جھٹلایا تو وہ جہنمی ہیں ،جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے۔‘‘

قرآن کے فرمان سے واضح ہوا کہ آدم علیہ السلام سےخطا ہوئی اور ان دونوں نے اسی وقت اللہ سےکچھ کلمات سیکھے اور اللہ تعالیٰ سے توبہ کی ۔ توبہ کے الفاظ بھی سورہ اعراف میں بیان کردئیے گئے ہیں :

قَالَا رَبَّنَا ظَلَمْنَآ اَنْفُسَنَا    ۫وَاِنْ لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ

( اعراف: 23 )

’’دونوں نے کہا اے ہمارے رب،ہم نے ظلم کیا اپنی جانوں پر اور اگر  تو نے ہمیں معا ف نہ کیا اور ہم پر رحم نہ فرمایا تو ہم پر تو ضرور خسارہ پانے والوں میں سے ہو جائیں گے‘‘۔

اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کی توبہ کو قبول فرمایا ، اور پھر اپنے طے شدہ نظام کے تحت انسان اور شیطان کو زمین پر بھیج دیا اور ساتھ ہی اس بات کی بھی ہدایت کردی کہ یاد رکھنا شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے، اب میری طرف سے ہدایات پہنچیں گی جس کسی نے ان ہدایات کی پیروی کی تو واپسی پر اس کے لئے کسی قسم کا کوئی خوف و غم نہیں ہوگا ، برخلاف اس کے اللہ کی آیات کا کفر کرنے اور انہیں جھٹلانے والا جہنمی ہے جہاں وہ ہمیشہ رہے گا۔

قرآن کی لاریب آیات سے اس  قسم کی جھوٹی روایات اور  اس پر ایمان بنانے والوں کے جھوٹے عقائد کی مکمل نفی ہو جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو سزا کے طور پر زمین پر بھیجا تھا۔ بلکہ  واضح انداز میں بیان ہے کہ انہیں معاف فرما کر ، ہدایات دے کر زمین پر بھیجا گیا، ساتھ ہی قرآن میں ان کی توبہ کے الفاظ بھی بیان کردئیے گئے۔

صحابہ کرام ؓ نے نبی ﷺ زندگی میں ان کے وسیلےسے  دعا کی لیکن ان کی وفات کے بعد ایسا کبھی نہ ہوا۔نبی ﷺ کے وسیلے سے دعا کرنے کا مطلب یہ ہوا کہ ان کی زندگی میں ان سے دعا کی درخواست کی جاتی تھی، وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے تھے، اور اللہ تعالیٰ بارش نازل فرما دیتا تھا۔ اب جب نبی ﷺ کی وفات ہو گئی تو عمر ؓ نے نبی ﷺکے چچا عباس ؓ کے ذریعے اللہ تعالیٰ سے بارش کی دعا کی۔

پیش کردہ دلائل سے یہی ثابت ہوا کہ دعا کرنا ایک عبادت ہے اور یہ صرف اللہ سے کی جائے اور اس دعا میں کسی کا واسطہ یا وسیلہ دے کر اسے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک نہ کیا جائے۔

Categories
Uncategorized

تعارف

عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «بدأ الإسلام غريبا، وسيعود كما بدأ غريبا، فطوبى للغرباء»

( مسلم کتاب الایمان ، باب؛ باب بيان أن الإسلام بدأ غريبا وسيعود غريبا، وأنه يأرز بين المسجدين )

’’ ابوہریرہ ؓفرماتے ہیں کہ رسولﷺنے فرمایا ابتداء میں اسلام غریب (اجنبی) تھا اور عنقریب پھر غیر معروف ہوجائے گا پس خوشخبری ہے اجنبی  بن جانے والوں کے لئے۔ ‘‘

آج سے تقریبا 1400 سال قبل نبی ﷺ نے اپنی قوم کے سامنے الٰہ واحد کی دعوت رکھی۔ وہ قوم اللہ کو مانتی تھی  لیکن اسلام ان کے لئے اجنبی تھا۔ اسلام ایک اللہ (الٰہ واحد) کی بات کرتا ہے کہ اس کائنات میں اللہ تعالیٰ کے علاوہ  کوئی الٰہ نہیں ( لا الٰہ الا اللہ )۔ ان کا عقیدہ تھا کہ  زمین اور آسمان کا خالق اللہ تعالیٰ ہے جو زبردست اور  ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے (  لقمان : 25 ، الزخرف : 9 ) ۔  وہ اللہ تعالیٰ کو رازق بھی مانتے تھے اور یہ بھی ان کا عقیدہ تھا کہ دیکھنے اور سننے  کی طاقت بھی اسی کی دی ہوئی ہے اور یہ کہ تمام تر معاملات  اسی کے کنٹرول میں ہیں ( یونس: 31 ، مومنون ـ 84/89 ، العنکبوت : 61/63)۔

اس وقت کے مشرک دعا بھی اللہ ہی سے کیا کرتے تھے (  الانعام : 40/41 ، 63/64 ) وہ صلوة (نماز) بھی ادا کرتے تھے ( مسلم،  کتاب فضائل الصحابہ ؓ  )، صوم بھی رکھا کرتے تھے( مسلم، کتاب  الصیام، بَابُ صَوْمِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ )، صدقہ و  خیرات بھی کیا کرتے تھے (  بخاری، کتاب البیوع ) یہاں تک کہ حج بھی کیا کرتے تھے اور اس میں ( اللھم لبیک )  کی تلبیہ بھی پڑھا کرتے تھے۔

ان عقائد و اعمال کے باوجود نبی ﷺ نے فرمایا کہ’’ اسلام اجنبی تھا‘‘ یعنی اسے کوئی جانتا نہ تھا۔ اسلام کی بنیاد دراصل لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ ہے۔ یعنی صرف ایک الٰہ ، اس کائنات کا صرف ایک خالق، ایک رب ہے ( جو پالتا ہے، جو ہر چیز دیتا ہے ، جس کے علاوہ کسی اور کا حکم نہیں ماننا چاہئیے)۔ جو داتائی ، اور دستگیری کے منصب پر فائز ہے۔ ساری کائنات کی تقدیرجسکے حکم سے ہے اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں کر سکتا۔ وہ اکیلا  ہے جو اولادیں دیتا ، بیماری میں شفاء اور تنگ دستی میں فراوانی عطا فرماتا ہے۔

یہ تھی  اسلام کی وہ  دعوت جو ان کے لئے اجنبی تھی۔ انہوں نے تو  اپنی قوم کے صالح انسان یعنی لات کا بت بنا رکھا تھا، وہ لات اور عزیٰ کو پکارتے تھے ( بخاری،  کتاب التفسیر القرآن ) انبیاء علیہم السلام کے بت بنا رکھے تھے ( بخاری ،  کتاب الحج )ان سے فال معلوم کیا کرتے تھے۔ ’’ ھبل  ‘‘ سے وہ غائبانہ مدد مانگا کرتے تھے( بخاری، کتاب الجہاد و السیر)۔انبیاء علیہم السلام اور دیگرنیک لوگوں کی قبروں کو عبادت گاہ بنا کر وہاں  ان کی عبادت کرتے تھے( مسلم، کتاب المساجد  )۔ الغرض کہ انہوں نے بتوں سے منسوب  شخصیات کو اپنا ’’ الٰہ ‘‘ بنایا ہوا تھا۔ نبی ﷺ نے ان کے سامنے  بیان کیا  کہ ’’لا الٰہ الا اللہ ‘‘ْ  یعنی  اللہ کے علاوہ کوئی الٰہ نہیں۔ کو ئی خالق نہیں، کوئی پالنہار نہیں، کوئی اولاد دینے والا نہیں، کوئی بگڑیاں بنانے والا نہیں، کوئی ایسا نہیں کہ جس کا حکم مانا جائے، کہ جسے غائبانہ پکارا جائے جس سے مدد مانگی جائے،  جس کا شکرانہ ادا کیا جائے،صرف ایک ’’ الٰہ ‘‘ جو اللہ تعالیٰ ہے۔

یہی فرق تھا اسلام اور ان کے عقائد میں کہ اسلام صرف ایک الٰہ کی بات کرتا ہے اور وہ اللہ کیساتھ اوروں کو بھی الٰہ مانتے تھے۔ بس اسلام اجنبی ہوگیا۔ باپ دادا کے مذہب کو قائم رکھنے کے لئے اس وقت کے  مذہبی اکابرین نے بڑا پروپیگنڈا کیا لیکن جنہیں اللہ تعالیٰ نے قلب سلیم دیا تھا انہوں نے اسلام  قبول کیا اور پھر ایک وقت آیا کہ اسلام کے ماننے والوں کی بڑی تعداد ہوگئی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اقتدار بھی بخش دیا۔

آج پھر اسلام اجنبی ہوگیا ہے،  اللہ کے ساتھ ساتھ دوسروں کو بھی داتا ،دستگیر، مشکل کشا، حاجت روا، بگڑیاں بنانے والا، غوث اور غوث الاعظم سمجھا جا رہا ہے۔ یہ قوم فرقوں میں تقسیم ہوگئی، ہر فرقے کا اپنا علیحدہ مذہب وجود میں آگیا ہے۔ اس مذہب میں نماز، روزہ، حج اور زکوٰۃ بھی ہے لیکن عقائد میں شرک کی  ملاوٹ ہوگئی ہے۔  قرآن و حدیث میں موجود اُسی’’ اجنبی اسلام‘‘ کو روشناس کرانے کے لئے یہ ویب بنائی گئی کہ کاش یہ کلمہ گو اس کلمے کے  معنی سمجھ جائیں ، اپنے عقائد قرآن اور احادیث کے مطابق کرلیں تاکہ اللہ تعالیٰ کی پکڑ اور اس کے عذاب سے بچ جائیں۔

اس سلسلے میں ہماری گزارش ہے کہ سب سےپہلے ہماری ویب کے مضمون ’’ لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ ‘‘ کا مطالعہ ضرور کریں، اور دوسری گزارش یہ کہ اس ویب میں جہاں کہیں بھی کوئی غلطی یا خلاف قرآن و حدیث  کوئی بات محسوس کریں توہمیں لازمی مطلع فرما کر ہماری اصلاح فرما دیں۔ شکریہ

Categories
Uncategorized

کیا نبی ﷺ کی ازواج کا شمار اہل بیت میں ہوتا ہے ؟

Categories
Uncategorized

اسفل سافلین

﴿لَقَدۡ خَلَقۡنَا ٱلۡإِنسَٰنَ فِيٓ أَحۡسَنِ تَقۡوِيمٖ     ثُمَّ رَدَدۡنَٰهُ أَسۡفَلَ سَٰفِلِينَ﴾

[التين: 4-5]

“یقیناً ہم نے انسان کو بہترین ساخت پر پیدا کیا ، پھر اس کو سب نیچوں سے نیچے درجے کی طرف پھیر دیا”۔

اللہ تعالیٰ نے انسان کو بہترین طریقے سے پیدا کیا، نہایت عمدہ شکل و صورت اور پیکر عطا فرمایا اور اعلیٰ صلاحیتوں سے نوازا۔ اس کو دیگر مخلوقات پر فضیلت دی، عقل و دانش عطا کی ، صحیح و غلط ، حق و باطل اور اچھے برے میں تمیز کرنے کی بھی صلاحیت دی۔ اولاد آدم کے لیے منصوبہ الہٰی خلافت ارضی عطا کرنے کا تھا اس لئے  اس کو امتحان سے گزارنا ضروری تھا چنانچہ اس کو فکر و عمل کی آزادی دی گئی۔ حق و باطل دونوں راستے دکھا کر اس کو اختیار دیا گیاکہ اللہ کی دی ہوئی سوجھ بوجھ استعمال کرے اور پورے شعور کے ساتھ اپنے لیے راہ عمل منتخب کر لے۔ اسی پر اس کے انجام کا دارومدار رکھا گیا۔ مقصد امتحان کے تحت شیطان کو مہلت تو دی گئی کہ وہ وسوسہ اندازی کر کے انسان کو ورغلانے کی کوشش کرے اور اللہ کی نافرمانی و سرکشی پر اکسائے، اس کے ساتھ ساتھ ہر دور میں شیطانی ترغیبات اور وسوسہ اندازی کے مقابلے میں انبیاء ؑ  کو انسانوں کی ہدایت و رہنمائی کے لیے مبعوث کیا جاتا رہا، یہاں تک  کہ آخری رسول محمد ﷺ کو مبعوث فرما کر دینِ حق کو قرآن و حدیث کی شکل میں قیامت تک کے لیے محفوظ کر دیا گیا۔

ہر نبی نے اپنی قوم کو صحیح راستہ بتایا ، الٰہ  واحد کی بندگی کی دعوت دی اعمال صالحہ کی ترغیب دی اور برائیوں سے باز رہنے کی تلقین کی۔ ان کو بد انجامی سے ڈرایا اور اللہ کے عذاب کا خوف دلایا۔ اب جن سمجھدار لوگوں نے اپنے نبی کی بات کو غور سے سنا اور اللہ کی دی ہوئی عقل کو استعمال کر کے دعوتِ حق کو قبول کیا تو وہ راہ راست پا گئے اور دین اسلام میں داخل ہو گئے۔ پھر اللہ کی توفیق سے وہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے احکام کی تعمیل کرتے ہوئے ہی زندگی گزارتے رہے اور تقویٰ کی صفات سے متصف یہ خوش نصیب لوگ احسن تقویم ہی پر زندگی گزارنے کے بعد اپنے ربّ سے ملاقی ہوتے ہوئے جنت کی لازوال نعمتوں میں ہمیشہ کے لیے داخل کر دیے جائیں گے۔ اعلیٰ اوصاف کے حامل یہ لوگ خلافت ارضی کے اہل تھے اور ان کا معاشرہ بھی امن و سکون اور عدل و انصاف کے اصولوں پر قائم تھا۔ خیرالقرون کا دور صحیح معنوں میں اس کا بہترین نمونہ تھا جب انسانی تاریخ کا ایک روشن باب رقم ہوا۔

اس کے برعکس خواہش نفس کے دنیا دار  بندے نے چند روزہ زندگی کی دلفریبی اور رنگینی میں غرق ہو کر آخرت فراموشی کی روش اختیار کی، اپنے دشمن شیطان لعین کی پیروی کرتے ہوئے دعوتِ حق کا انکار کیا اور نبی کی مخالفت کی اور کفرو شرک پر جمے رہنے کو ہی ترجیح دی۔ پھر وہ دوسروں کو بھی ورغلانے لگا اور اپنی سرکشی کی روش کو ہی درست قرار دینے لگا ]ابراہیم: 3، یونس: 7،8[۔ ایسے بدبختوں کو اسی راستے پر ڈھیل دی جاتی ہے اور گمراہی میں بھٹکنےکے لیے چھوڑ دیا جاتا ہے۔ چناچہ وہ خباثت میں گرتے چلے جاتے ہیں ، یہاں تک کہ ہر قسم کی گراوٹ، حرص و طمع ، لالچ و خودغرضی، بغض و عداوت، فتنہ و فساد میں تمام مخلوقات سے نیچے گر جاتے ہیں، اور أَسۡفَلَ سَٰفِلِينَ ہو کر رہ جاتے ہیں! اس آخری امت میں بھی ایسے قساوت قلبی کےشکار احبارورہبان اور ان طاغوتوں کے پرستاروں کی طویل فہرست ہےجن کے چشم کشا واقعات و ملفوظات پر مشتمل کتابوں سے کتب خانے بھرے ہوئے ہیں۔

انہوں نے مکشوفات و الہامات اور کرامات کی شکل میں بے شمار خلافِ قرآن عقائد امت میں پھیلا دیے۔ ان کے بزرگ ،علم غیب رکھنے، متصرف فی الامور ہونے اور موت حیات پر قادر ہونے کے دعوے دار تھے، نعوذوباللہ من ذالک  ایسے ہی ایک صوفی منش ، مرزا غلام احمد قادیانی نے بھی ” مکشوفات الہامات” کی سیڑھی  پر چڑھ کر جاہل انسانوں کے ایک گروہ ” جماعت احمدیہ” کے بانی و امام  ہونے کا اعزاز حاصل کر لیا۔ مرزا غلام احمد قادیانی کو اکثر لوگ عقیدۂ ختم نبوت کے منکر کے طور پر جانتے ہیں لیکن یہ بد قسمت شخص صرف اسی عقیدے کا ہی منکر نہیں بلکہ توحید باری تعالیٰ کا بھی منکر تھا۔

اللہ تعالیٰ ہی زندہ کرنے اور موت دینے پر قادر ہے۔ اس کی اس صفت میں کوئی اس کا شریک نہیں:

﴿ٱللَّهُ ٱلَّذِي خَلَقَكُمۡ ثُمَّ رَزَقَكُمۡ ثُمَّ يُمِيتُكُمۡ ثُمَّ يُحۡيِيكُمۡۖ هَلۡ مِن شُرَكَآئِكُم مَّن يَفۡعَلُ مِن ذَٰلِكُم مِّن شَيۡءٖۚ سُبۡحَٰنَهُۥ وَتَعَٰلَىٰ عَمَّا يُشۡرِكُونَ﴾

[الروم: 40]

” اللہ تعالیٰ وہ ہے جس نے تمہیں پیدا کیا پھر تمہیں روزی دی پھر تمہیں موت دیتا ہے پھر تمہیں (قیامت کے دن) زندہ کرے گا۔ بتاؤ تمہارے شریکوں میں سے کوئی بھی ایسا ہے جو ان کاموں میں سے کچھ بھی کر سکتا ہو۔ اللہ تعالیٰ پاک اور برتر ہے ہر اس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں۔”

﴿إِنَّ ٱللَّهَ لَهُۥ مُلۡكُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۖ يُحۡيِۦ وَيُمِيتُۚ وَمَا لَكُم مِّن دُونِ ٱللَّهِ مِن وَلِيّٖ وَلَا نَصِيرٖ﴾

[التوبة: 116]

“یقیناً اللہ ہی کے لیے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی ہے، وہی زندہ کرتا ہے اور وہی مارتا ہے، اور نہیں ہے تمہارے لیے اللہ کے سوا کوئی دوست (کارساز) اور نہ کوئی مددگار”۔

مرزا قادیانی نے اللہ تعالیٰ کی ان صفات میں اس کے بے مثال ہونے کا انکار کرتے ہوئے خود بھی زندہ کرنے اور موت دینے پر قادر ہونے کا دعویٰ کیا۔ ساتھ ہی اللہ رب العزت پر یہ جھوٹ بھی گھڑ لیا کہ اسے یہ قدرت اللہ ہی نے عطا کی ہے۔نعوذ باللہ وہ لکھتا ہے:

و اعطیت صفۃ الافناء و الاحیاء من ربّ الفعّال

“مجھ کو فانی کرنے اور زندہ کرنے کی صفت دی گئی ہے اور یہ صفت خدا تعالیٰ کی طرف سے مجھ کو ملی ہے”(خطبہ الہامیہ: صفحہ 55،56)

صرف اللہ تعالیٰ ہی وہ ذات ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمایا اور مٹی سے انسان کی تخلیق فرمائی۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

﴿اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَجَعَلَ الظُّلُمٰتِ وَالنُّوْرَ ڛ ثُمَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ يَعْدِلُوْنَهُوَ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ طِيْنٍ ثُمَّ قَضٰٓى اَجَلًا  ۭ وَاَجَلٌ مُّسَمًّى عِنْدَهٗ ثُمَّ اَنْتُمْ تَمْتَرُوْنَ ۝وَهُوَ اللّٰهُ فِي السَّمٰوٰتِ وَفِي الْاَرْضِ  ۭ يَعْلَمُ سِرَّكُمْ وَجَهْرَكُمْ وَيَعْلَمُ مَا تَكْسِبُوْنَ﴾

[الأنعام: 1-3]

” تما م تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جس نے  آسمانوں اور زمین کو پیدا کیااور تاریکیوں کو اور نور کو بنایا پھر بھی کافر لوگ (دوسروں کو) اپنے رب کے برابر قرار دیتے ہیں۔ وہ ایسا ہے جس نے تم کو مٹی سے بنایا پھر موت آنے کا ایک وقت معین کیا اور ایک (دوسرا) معین وقت (قیام قیامت)خاص اللہ ہی کے نزدیک ہے،پھر بھی تم شک کرتے ہواور وہ اللہ ہی (معبود برحق) ہے آسمانوں میں اور زمین   میں وہ تمہارے پوشیدہ (احوال) کو اور تمہارے ظاہر کو

بھی جانتا ہے اور تم جو کچھ عمل کرتے ہو اسکو جانتا ہے‘‘۔

اس کے برعکس اپنی جان کے دشمن مرزاء قادیانی کے دعوے ہیں  کہ زمین و آسمان کا موجد  اور مٹی سے انسانوں کی پیدائش کرنے والی ذات وہ خود ہے ۔اپنے  جھوٹ کے پلندے سے جھوٹے الہام اور جھوٹے کشف نکال کر کہتا ہے:

“ورایتی فی المنام عین اللہ و تیقنت اننی ھو”

“میں نے خواب میں دیکھا کہ میں خود خدا ہوں، مجھے یقین ہو گیا کہ بے شک میں وہی ہوں”     (حوالہ:آئینہ کمالات اسلام، صفحہ 564،مطبع ریاض ھند،قادیان)

میں نے اپنے ایک کشف میں دیکھا کہ میں خود خدا ہوں اور یقین کر لیا کہ وہی ہوں ۔میرے رب نے مجھے پکڑا اور ایسا پکڑا کہ میں بالکل اس میں محو ہو گیا اور میں نے دیکھا کہ اس کی قدرت اور قوت مجھے میں جوش مارتی اور اس کی الوہیت مجھ میں موجزن ہے  ۔ حضرت عزت کے خیمے میرے دل کے چاروں طرف لگائے گئے اور سلطان جبروت نے میرے دل کو پیس ڈالا۔ سو نہ تو میں ہی رہا اور نہ میری کوئی تمنا ہی باقی رہی ۔میری اپنی عمارت گر گئی اور ربّ العالمین کی عمارت نظر آنے لگی اور الوہیت بڑے زور کے ساتھ مجھ پر غالب ہوئی ۔الوہیت میری رگوں اور پٹھوں میں سرایت کر گئی ۔اور میں اس وقت یقین کرتا تھا کہ میرے اعضا نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے اعضا ہے ۔خدا تعالیٰ میرے  وجود میں داخل ہو گیا اور میرا غضب اور حلم اور تلخی اور شیرینی اور حرکت اور سکون سب اسی کا ہو گیا۔اور اس حالت میں یوں کہہ رہا تھا کہ ہم ایک نیا نظام اور نیا آسمان اور نئی زمین چاہتے ہیں ۔سو میں نے پہلے تو آسمان اور زمین کو اجمالی صورت میں پیدا کیا جس میں کوئی ترتیب و تفریق نہ تھی۔پھر میں نے منشاء حق کے موافق اس کی ترتیب و تفریق کی اور میں دیکھتا تھا کہ میں اس کے خلق پر قادر ہوں _پھر میں نے آسمان دنیا کو پیدا کیا اور کہا: اِنَّا زَیَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْیَا بِمَصَابِيْحَ پھر میں نے کہا:ہم اب انسان کو مٹی کے خلاصے سے پیدا کریں گے _پھر میری حالت کشف سے الہام کی طرف منتقل ہو گئی اور میری زبان پر جاری ہوا  ۔ ۔أردتُ أن أستخلف فخلقتُ آدم. انا خلقنا الانسان فی احسن تقویم(حوالہ” کتاب البریہ:صفحہ 85 تا 87،مطبع ضیاء الاسلام،قادیان)

مرزا غلام احمد قادیانی نے اللہ تعالی’ کی ذات کے شرک میں بھی اپنا  حصہ ڈالا ہے۔چنانچہ معاذ اللہ، اللہ تعالی’ کو عورت یعنی ماں اور خود کو اس کے دودھ پیتے بچے کے مثل قرار دیتے ہوئے لکھتا ہے:

ابتدا سے تیرے ہی سایہ میں میرے دن کٹے             گود میں تیری رہا میں مثل طفل شیر خوار

(براہین احمدیہ،حصہ پنجم،صفحہ 127)

ایک اور جگہ اپنا شیطانی الہام لکھتا ہے:

’’انت منی بمنزلة توحیدی و تفریدی،انت منی بمنزلة عرشی،انت منی بمنزلة ولدی” ’’تو مجھ سے میری توحید و تفرید کی طرح ہے۔ تو مجھ سے میرے عرش کی طرح ہے۔تو مجھ سے میرے بیٹے کی طرح ہے‘‘۔( تذکرہ: وحی مقدس ور ویا و کشوف،صفحہ:442)

اللہ کی پناہ!اللہ تعالیٰ نے ایسے دعووں پر شدید غصے کا اظہار فرمایا ہے اور انہیں اللہ سبحان و تعالیٰ کو گالی دینے کے مترادف قرار دیا ہے:

وَ قَالُوا اتَّخَذَ الرَّحۡمٰنُ  وَلَدًا ۝  لَقَدۡ  جِئۡتُمۡ شَیۡئًا اِدًّا۝  تَکَادُ السَّمٰوٰتُ یَتَفَطَّرۡنَ مِنۡہُ وَ تَنۡشَقُّ الۡاَرۡضُ وَ تَخِرُّ الۡجِبَالُ ہَدًّا۝  اَنۡ دَعَوۡا لِلرَّحۡمٰنِ وَلَدًا ۝  وَ مَا یَنۡۢبَغِیۡ لِلرَّحۡمٰنِ اَنۡ یَّتَّخِذَ وَلَدًا ۝  اِنۡ کُلُّ مَنۡ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ  اِلَّاۤ اٰتِی الرَّحۡمٰنِ  عَبۡدًا ۝  لَقَدۡ اَحۡصٰہُمۡ وَ عَدَّہُمۡ عَدًّا ۝  وَ کُلُّہُمۡ اٰتِیۡہِ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ فَرۡدًا ﴿﴾

( مریم : 88 تا 90 )

“ان کا قول ہے کہ اللہ رحمن نے بیٹا بنایا، یقیناً تم بہت بھاری چیز (زبان پر) لائے ہو، قریب ہے کہ اس قول کی وجہ سے آسمان پھٹ جائیں اور زمین شق ہو جائے اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جائیں کہ وہ رحمن کی اولاد ثابت کرنے بیٹھے، رحمن کی شان کے لائق نہیں کہ وہ اولاد رکھے، آسمان و زمین میں جو بھی ہیں سب کے سب اللہ کے غلام بن کر ہی آنے والے ہیں، ان سب کو گھیر کر رکھا ہے اور سب کو پوری طرح گن بھی رکھا ہے،یہ سارے کے سارے قیامت کے دن اکیلے اس کے پاس حاضر ہونے والے ہیں‘‘ْ۔

وَ قَالُوا اتَّخَذَ الرَّحۡمٰنُ وَلَدًا سُبۡحٰنَہٗ ؕ بَلۡ  عِبَادٌ مُّکۡرَمُوۡنَ۝ لَا یَسۡبِقُوۡنَہٗ بِالۡقَوۡلِ وَ ہُمۡ بِاَمۡرِہٖ یَعۡمَلُوۡنَ  ۝ یَعۡلَمُ مَا بَیۡنَ اَیۡدِیۡہِمۡ  وَ مَا خَلۡفَہُمۡ وَ لَا یَشۡفَعُوۡنَ ۙ اِلَّا لِمَنِ ارۡتَضٰی وَ ہُمۡ مِّنۡ خَشۡیَتِہٖ مُشۡفِقُوۡنَ ۝  وَمَنۡ یَّقُلۡ مِنۡہُمۡ اِنِّیۡۤ اِلٰہٌ مِّنۡ دُوۡنِہٖ فَذٰلِکَ نَجۡزِیۡہِ جَہَنَّمَ ؕ کَذٰلِکَ نَجۡزِی الظّٰلِمِیۡنَ ﴿﴾

(الأنبياء 26 تا 29)

“وہ (مشرک لوگ) کہتے ہیں کہ رحمن  نے ( کسی کو ) بیٹا بنا لیا ،(حالانکہ) اس کی ذات پاک ہے، بلکہ وہ سب اس کے باعزت بندے ہیں، کسی بات میں اللہ پر پیش دستی نہیں کرتے بلکہ اس کے فرمان پر کار بند ہیں،وہ (اللہ) ان کے آگے پیچھے کے تمام امور سے واقف ہے وہ (فرشتے) کسی کی بھی شفارش نہیں کرتے بجز ان کے جن سے اللہ خوش ہو وہ تو خود ہیبت الہی’ سے لرزاں و ترساں ہیں، اگر ان میں سے کوئی بھی کہہ دے کہ اللہ کے سوا میں معبود ہوں تو ہم اسے جہنم کی سزا دیں گے، ہم ظالموں کو اسی طرح سزا دیتے ہیں،‘‘۔

لَنۡ یَّسۡتَنۡکِفَ الۡمَسِیۡحُ اَنۡ یَّکُوۡنَ عَبۡدًا لِّلّٰہِ وَ لَا الۡمَلٰٓئِکَۃُ الۡمُقَرَّبُوۡنَ ؕ وَ مَنۡ یَّسۡتَنۡکِفۡ عَنۡ عِبَادَتِہٖ وَ یَسۡتَکۡبِرۡ فَسَیَحۡشُرُہُمۡ اِلَیۡہِ جَمِیۡعًا ﴿﴾

(النساء:178)

“مسیح (عیسی علیہ السلام) کو اللہ کا بندہ ہونے میں کوئی ننگ و عار ہرگز ہو ہی نہیں سکتا اور نہ مقرب فرشتوں کو،اس کی بندگی سے جو بھی ننگ و عار کرے اور تکبر و انکار کرے،اللہ تعالی’ ان سب کو اکٹھا اپنی طرف جمع کرے گا “-

حدیث قدسی میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ” قَالَ اللَّهُ: كَذَّبَنِي ابْنُ آدَمَ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ ذَلِكَ، وَشَتَمَنِي وَلَمْ يَكُنْ لَهُ ذَلِكَ، أَمَّا تَكْذِيبُهُ إِيَّايَ أَنْ يَقُولَ: إِنِّي لَنْ أُعِيدَهُ كَمَا بَدَأْتُهُ، وَأَمَّا شَتْمُهُ إِيَّايَ أَنْ يَقُولَ: اتَّخَذَ اللَّهُ وَلَدًا، وَأَنَا الصَّمَدُ الَّذِي لَمْ أَلِدْ وَلَمْ أُولَدْ، وَلَمْ يَكُنْ لِي كُفُؤًا أَحَدٌ «(لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُؤًا أَحَدٌ)» كُفُؤًا وَكَفِيئًا وَكِفَاءً وَاحِدٌ “

( بخاری،  کتاب تفسیر القرآن ، بَابُ قَوْلِهِ: {اللَّهُ الصَّمَدُ} )

’’ رسول اللہ ﷺ نے  فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :  ابن آدم نے مجھے جھٹلایا، اگرچہ یہ اس کے لئے زیبا نہ تھا ۔ اور اس نے مجھے گالی دی، حالانکہ یہ اس کے لئے زیبا نہ تھا۔  اور مجھے اس کا جھٹلانا تو یہ  کہنا ہے کہ میں اسے دوبارہ زندہ نہیں کروں گا جیسا کہ میں نے پہلی بار پیدا کیا، اور مجھے اس کا گالی دینا  یہ کہنا ہے کہ اللہ نے  بیٹا بنا لیا ہے۔ حالانکہ میں بے نیاز ہوں  کہ نہ میں نے کسی کو جنا  اور نہ میں جنا گیا،  اور نہ کوئی میرا ہمسر ہے (  نہ اس نے کسی کو جنا  اور نہ وہ جنا گیا  اور نہ کوئی اس کا ہمسر ہے )‘‘۔

﴿يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِنَّمَا ٱلۡمُشۡرِكُونَ نَجَس  ۔ ۔ ۔ ﴾

[التوبة: 28]

’’اے ایمان والو! مشرکین نجس و پلید ہیں “-

﴿وَإِذۡ قَالَ لُقۡمَٰنُ لِٱبۡنِهِۦ وَهُوَ يَعِظُهُۥ يَٰبُنَيَّ لَا تُشۡرِكۡ بِٱللَّهِۖ إِنَّ ٱلشِّرۡكَ لَظُلۡمٌ عَظِيم﴾

[لقمان: 13]

’’اور وہ وقت یاد کرو جب لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ اے میرے بیٹے !اللہ کے ساتھ شرک نہ کرنا،یقیناً شرک ظلمِ عظیم ہے ‘‘۔

﴿۔ ۔ ۔  إِنَّهُۥ مَن يُشۡرِكۡ بِٱللَّهِ فَقَدۡ حَرَّمَ ٱللَّهُ عَلَيۡهِ ٱلۡجَنَّةَ وَمَأۡوَىٰهُ ٱلنَّارُۖ وَمَا لِلظَّٰلِمِينَ مِنۡ أَنصَارٍ﴾

[المائدة: 72]

“جس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا اُس پر اللہ نے جنت حرام کر دی اور اس کا ٹھکانہ جہنم ہے اور ایسے ظالموں کا کوئی مددگار نہیں “۔

﴿إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَغۡفِرُ أَن يُشۡرَكَ بِهِۦ وَيَغۡفِرُ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَن يَشَآءُۚ وَمَن يُشۡرِكۡ بِٱللَّهِ فَقَدِ ٱفۡتَرَىٰٓ إِثۡمًا عَظِيمًا﴾

[النساء: 48]

“اللہ شرک کو ہرگز معاف نہیں کرتا، اس کےسوا دوسرے گناہوں کو وہ جس کے لیے چاہتا ہے معاف کر دیتا ہے، اللہ کے ساتھ جس نے بھی کسی اور کو شریک ٹھہرایا اُس نے بہت بڑا بہتان باندھا”۔

اللہ تعالیٰ کے ان فرامین کی بنا پر تو مرزا غلام احمد قادیانی کو ایک پاک انسان قرار دینا بھی جائز نہیں چہ جائیکہ اسے نبی مانا جائے لیکن حیرت ہے اس کے اندھے مقلدین پر کہ پھر بھی اس شخص کو نبی مانتے ہیں!

اللہ کے سچے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

الْإِيمَانُ بِضْعٌ وَسِتُّونَ شُعْبَةً ، وَالْحَيَاءُ شُعْبَةٌ مِنَ الْإِيمَان

(صحیح مسلم:کتاب الایمان، باب: بیان عدد شعب الایمان)

’’ایمان کی ستر سے کچھ زیادہ شاخیں ہیں اور حیا بھی ایمان کی ایک شاخ ہے‘‘۔

لیکن جب انسان پر حیا کی چادر کا کوئی ٹکڑا بھی باقی نہیں رہتا تو پھر وہ جو بھی جھوٹا دعوی چاہے، کر سکتا ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

إِنَّ مِمَّا أَدْرَكَ النَّاسُ مِنْ كَلَامِ النُّبُوَّةِ إِذَا لَمْ تَسْتَحْيِ فَافْعَلْ مَا شِئْتَ

( صحیح بخاری:کتاب الادب،باب: إِذَا لَمْ تَسْتَحْيِ فَافْعَلْ مَا شِئْتَ)

’’بلاشبہ قدیم کلام نبوت میں سے جو کچھ لوگوں نے حاصل کیا اس میں یہ بھی ہے کہ “جب تو حیا نہیں کرتا تو جو چاہتا ہے کر گزر‘‘۔

مرزا غلام احمد قادیانی کے پاس بھی جب حیا کا ذرّہ باقی نہ رہا تو وہ اپنے ربّ کے سامنے زبان درازی پر اُتر آیا، وہ اپنی حیثیت بھول گیا کہ وہ خالق نہیں مخلوق ہے، اپنے رب کے سامنے اس قدر زبان دراز تو مشرکین مکہ بھی نہ تھے، اگر مرزا غلام احمد قادیانی اُس دور میں ہوتا اور پھر مشرکین مکہ کے سامنے یہ دعوے کرتا تو شاید وہ اس کی درگت ہی بنا ڈالتے۔

اب جبکہ مرزا غلام احمد قادیانی کے نزدیک اللہ تعالی’ کا کوئی وقار نہ تھا اور سب سے اہم بنیادی اور عظیم عقیدے،عقیدہ توحید کا انکار کرنا بھی اس کے لیے آسان ہو گیا تھا تو  دیگر اسلامی عقائد کا انکار بھی اس کے لیے کوئی مسئلہ نہ رہا، چنانچہ اس نے صرف عقیدہ ختم نبوت ہی نہیں بلکہ ہر مقدس نظریے پر حملہ کر کے اللہ تعالیٰ  کا باغی بندہ ہونے کا ثبوت دیا، اس کی چند مثالیں دیکھنے سے پہلے عقیدہ ختم نبوت سے متعلق اللہ تعالیٰ  اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامین ملاحظہ فرمائیں:

اللہ تعالی نے فرمایا:

﴿مَّا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَآ أَحَدٖ مِّن رِّجَالِكُمۡ وَلَٰكِن رَّسُولَ ٱللَّهِ وَخَاتَمَ ٱلنَّبِيِّ‍ۧنَۗ وَكَانَ ٱللَّهُ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيمٗا﴾ [

[الأحزاب: 40]

“محمدؐ تمہارے مَردوں میں سے کسی کے باپ نہیں لیکن اللہ کے رسول اور نبیوں کے سلسلے کو ختم کرنے والے ہیں، اور اللہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے”۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

إِنَّ مَثَلِي وَمَثَلَ الْأَنْبِيَاءِ مِنْ قَبْلِي كَمَثَلِ رَجُلٍ بَنَى بَيْتًا فَأَحْسَنَهُ وَأَجْمَلَهُ إِلَّا مَوْضِعَ لَبِنَةٍ مِنْ زَاوِيَةٍ ، فَجَعَلَ النَّاسُ يَطُوفُونَ بِهِ وَيَعْجَبُونَ لَهُ وَيَقُولُونَ هَلَّا وُضِعَتْ هَذِهِ اللَّبِنَةُ ، قَالَ : فَأَنَا اللَّبِنَةُ وَأَنَا خَاتِمُ النَّبِيِّينَ

(صحیح بخاری:کتاب المناقب،باب خاتم النّبین)

’’بے شک میری اور مجھ سے پہلے انبیاء کی مثال ایسی ہے جیسے کسی شخص نے ایک گھر بنایا،اس کو بہت عمدہ اور آراستہ پیراستہ بنایا مگر ایک کونے میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی،پس لوگ جوق در جوق آتے ہیں اور تعجب کرتے ہیں  اور یہ کہتے ہیں یہ اینٹ کیوں نہیں لگا دی گئی، آپ نے فرمایا:وہ اینٹ میں ہوں اور میں انبیاء کرام کا سلسلہ نبوت ختم کرنے والا ہوں “-

اور فرمایا:

كَانَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ تَسُوسُهُمُ الأَنْبِيَاءُ، كُلَّمَا هَلَكَ نَبِيٌّ خَلَفَهُ نَبِيٌّ، وَإِنَّهُ لاَ نَبِيَّ بَعْدِي، وَسَيَكُونُ خُلَفَاءُ فَيَكْثُرُونَ قَالُوا: فَمَا تَأْمُرُنَا؟ قَالَ: «فُوا بِبَيْعَةِ الأَوَّلِ فَالأَوَّلِ، أَعْطُوهُمْ حَقَّهُمْ، فَإِنَّ اللَّهَ سَائِلُهُمْ عَمَّا اسْتَرْعَاهُمْ

( صحیح بخاری،  کتاب  احادیث الانبیاء ، باب ذکر  عن بنی اسرائیل )

“بنی اسرائیل کی رہنمائی ان کے انبیاء کرام علیہ السلام کیا کرتے تھے، جب کسی نبی کی وفات ہو جاتی تھی تو اللہ تعالیٰ  کسی دوسرے نبی کو ان کا خلیفہ بنا دیتا تھا لیکن میرے بعد کوئی نبی نہیں، البتہ خلفاء ہوں گے اور بہت ہوں گے،صحابہ کرام نے عرض کیا،اُن کے متعلق آپ کیا حکم دیتے ہیں، آپ نے فرمایا ہر ایک کے بعد دوسرے کی بیعت پوری کرو اور ان کے حق اطاعت کو پورا کرو،اس لئے کہ اللہ تعالیٰ  اُن کی رعیت کے متعلق اُن سے سوال کرے گا “۔

اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ان فرامین سے بالکل واضح ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد قیامت تک کوئی نیا نبی کسی بھی حیثیت میں نہیں آئے گا، اس کے خلاف عقیدہ رکھنا کفر ہے۔

قیامت سے پہلے عیسی علیہ السلام کے نزول کا صحیح احادیث میں ذکر ہے لیکن ان کی یہ آمد کسی نبی کی حیثیت سے نہیں بلکہ عادل حکمران کی حیثیت سے ہو گی۔

نبی ﷺ نے فرمایا:

وَالَّذِی نَفْسِیْ بِیَدِہِ لَیُوْشِکَنَّ اِنْ یَنُزِلَ فِیْکُمْ ابنُ مَرْیَمَ حَکَمًا عَدْلاً ، فَیَکُسِرَ الصَّلِیْبَ وَ یَقْتُلَ الخِنْزِیْرَ ، وَ یَضَعَ الجَزْیَۃَ وَیَقْبُضَ المَالُ حَتَّی لَا یَقْبَلَہُ اَحَدً

(بخاری: کتاب الانبیاء ۔باب نزول عیسیٰ بن مریم  ؑ)

” اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، عنقریب تمہارے مابین عیسیٰ بن مریم حاکم و عادل بن کر نزول فرمائیں گے، صلیب توڑیں گے ، خنزیر کو قتل کریں گے ، جزیہ ختم کریں گے ، اور مال کی اتنی فراوانی ہو گی کہ کوئی اس کو قبول نہ کرے گا”۔

مرزا قادیانی نے اللہ تعالیٰ اور   اس کے رسول ﷺ کے ان سب فرامین کا مذاق اڑاتےہوئے صرف ایک نبی نہیں بلکہ انبیاء ہونے کا دعویٰ کیا۔ ایک جھوٹے یعنی خود پر القا کیے ہوئے الہام کی تشریح کرتے ہوئے لکھتا ہے:

“مریم سے مریم اُمِ عیسیٰ مراد نہیں اور نہ آدم سے آدم ابوالبشر مراد ہے اور نہ احمد سے اس جگہ حضرت خاتم الانبیاء مراد ہیں، اور ایسا ہی ان الہامات کے تمام مقامات میں کہ جو موسیٰ اور  عیسیٰ اور داؤد وغیرہ نام بیان کیے گئے ہیں، ان ناموں سے بھی وہ انبیاء مراد نہیں  ہیں ہے بلکہ ہر جگہ یہی عاجز مراد ہے”      (مکتوبات احمدیہ۔ جلد اول۔صفحہ:82،83، بحوالہ : تذکرہ، وحی مقدس ورؤیا وکشوف، صفحہ: 55،56، طبع چہارم ۔مطبع ضیاءالاسلام پریس، ربوہ، پاکستان)

“خدا تعالیٰ نے مجھے تمام انبیاء علیہ السلام کا مظہر ٹھہرایا ہے اور تمام نبیوں کے نام میری طرف منسوب کیے ہیں۔ میں آدم ہوں، میں شیث ہوں، میں نوح ہوں، میں ابراہیم ہوں، میں اسحق ہوں، میں اسمٰعیل ہوں ، میں یعقوب ہوں، میں یوسف ہوں، میں موسیٰ ہوں، میں داؤد ہوں ، میں عیسیٰ ہوں اور آنحضرت ﷺ کے نام کامیں مظہراتم ہوں یعنی ظلی طور پر محمدؑاور احمد ؑہوں”۔(حقیقت الوحی، حاشیہ، صفحہ: 73)

ثابت یہی ہوا کہ اُلوہیت کے جھوٹے دعوے کرنے والے شخص کے لیے اس سےکم تر جھوٹے دعوے کرنا بھی مشکل نہیں۔

قارئین! ایک مرد کا کہنا ہے کہ وہ اپنے ہی پیٹ سے پیدا ہوا ہے۔۔۔ یقیناً یہ جملہ پڑھ کر آپ کا خون کھول اٹھا ہو گا۔آپ اس بات کو نہایت بدترین ، لغو، بیہودہ اور واہیات قرار دے رہے ہوں گے اور شاید آپ اس تحریر کو مزید نہ پڑھنا چاہتے ہوں لیکن ٹھہریے ! اسے ضرور پڑھیے تاکہ آپ جان لیں کہ جب انسان اپنے ربّ کی نافرمانی کے راستے کو پسند کر لیتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے فرمان؛  ثُمَّ رَدَدْنٰهُ اَسْفَلَ سٰفِلِيْنَکے مصداق ، اسے بدترین پستی کی طرف دھکیل دیا جاتا ہے نعوذباللہ من ذالک۔ اپنے پیٹ سے پیدا ہونے کا دعویدارشخص یہی مرزا قادیانی ہے۔ وہ لکھتا ہے:

“…اس لیے گو اس نے براہین احمدیہ کے تیسرے حصہ میں میرا نام مریم رکھا پھر جیسا کہ براہین احمدیہ سے ظاہر ہےدو (2) برس تک صفت مریمت میں میں نے  پرورش پائی اور پردہ میں نشونما پا تا ر ہا پھر جب اس پر دو برس گزر گئےتو جیسا کہ  براہین احمدیہ کے حصہ چہارم صفحہ 496 میں درج ہے مریم کی طرح عیسیٰ کی روح مجھ میں نفخ کی گئی اور استعارہ کے رنگ میں مجھے حاملہ ٹھہرایا گیا اور آخر کئی مہینہ کے بعد جو دس مہینے سے زیادہ نہیں بذریعہ اس الہام کے جو سب سے آخر براہین احمدیہ کے حصہ چہارم صفحہ 556 میں درج ہے مجھے مریم سے عیسیٰ بنایا گیا پس اس طور سے میں ابن مریم ٹھہرا”۔  (کشتی نوح۔ صفحہ 50مطبع ضیاء الاسلام ، قادیان)

مرزا قادیانی ” اپنے درد زہ” کو بیان کرتا ہے کہ:

” خدا نے مجھے پہلے مریم کا خطاب دیا اور پھر نفخ روح کا الہام کیا۔ پھر بعد اس کے یہ الہام ہوا تھا فَاَجَاۗءَهَا الْمَخَاضُ اِلٰى جِذْعِ النَّخْلَةِ  ۚ قَالَتْ يٰلَيْتَنِيْ مِتُّ قَبْلَ ھٰذَا وَكُنْتُ نَسْيًا مَّنْسِيًّایعنی پھر مریم کو جو مراد اس عاجز سے ہے دردِزہ تنہ کھجورکی طرف لے آئی یعنی عوام الناس اور جاہلوں اور بے سمجھ علماء سے واسطہ پڑا”۔ (کشتی نوح صفحہ 51)

یہ شرمناک دعوے کرنے سے پہلے مرزا قادیانی نے اس بات کا لحاظ بھی نہ رکھا کہ خود اسی نے اپنے والد کا نام غلام مرتضیٰ بتایا ہے اور ( اس کے بیٹے مرزا بشیر کے بقول ) اس کی والدہ کا نام (مریم نہیں) بلکہ چراغ بی بی تھا۔(ملاحظہ کریں: کتاب البریہ، حاشیہ صفحہ 14 مطبع ضیاءالاسلام، قادیان/ سیرۃالمہدی حصہ اول صفحہ 8 روایت نمبر 10۔ از مرزا بشیر)

قارئین دیکھا آپ نے ! شرک کی گندگی میں لت پت انسان سے کوئی بھی دیگر جھوٹ کہہ دینابعید نہیں۔

مرزا قادیانی جھوٹ گھڑنے کی ایک حیرت انگیز مشین تھا۔ اس سے جس قدر جھوٹ کی پیداوار ہوئی ہے اس کی مثال فرعون کے زمانے میں بھی نہ ملے گی۔ اس کی تحریک کا واضح مقصد یہ نظر آتا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے فرامین کا شدید منکر گروہ تیار کیا جائے جسے ان فرامین کا انکار کرنے میں ذرا سی بھی جھجھک یا شرم محسوس نہ ہو۔ قارئین یہ نہ سمجھیں کہ مرزا جھوٹ کی قباحت سے نا آشنا تھا کیونکہ وہ لکھتا ہے:

“جھوٹ بولنا اور گوہ کھانا ایک برابر ہے”۔ (حقیقت الوحی۔ صفحہ 206)

’’ ایسا آدمی جو ہر روز خدا پر جھوٹ بولتا ہے اور آپ ہی ایک بات  تراشتا ہے اور پھر کہتا ہے کہ  یہ خدا کی وحی ہے مجھ کو ہوئی ہے۔ ایسا بدذات انسان تو کتوں اور سؤروں اور بندروں سے بدتر ہوتا ہے۔ پھر کب ممکن ہے کہ خدا اس کی حمایت کرے”۔(ضمیمہ براہین احمدیہ صفحہ 126)

لہٰذا مرزا کی بدقسمتی تھی کہ وہ جان بوجھ کر اس بدترین کام یعنی جھوٹ گھڑنے اور پھیلانے کا کام کر کے پھر بغیر توبہ کیے دنیا سے رخصت ہو گیا۔

مرزا نے علی ؓ  ہونے کا بھی دعویٰ کیا۔ وہ اہل تشیع کو مخاطب کرتے ہوئے کہتا ہے:

“پرانی خلافت کا جھگڑا چھوڑو۔ اب نئی خلافت لو۔ ایک زندہ علی تم میں موجود ہے اس کو چھوڑتے ہواور مردہ علی کی تلاش کرتے ہو”۔(ملفوظات، حصہ اوّل، ایڈیشن، 1988سنہ، صفحہ 400، مطبع ضیاء الاسلام ربوہ)

بیک وقت اِلٰہ کا مثل اور فرشتہ ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے لکھتا ہے:

” اور دانی ایل نبی نے اپنی کتاب میں میرا  نام میکائیل رکھا ہے اور عبرانی میں لفظی معنی میکائیل  کے ہیں خدا کی مانند”۔(اربعین، حاشیہ، صفحہ 71)

بیت اللہ ہونے کا دعویٰ:

” خدا نے اپنے الہامات میں میرا نام بیت اللہ بھی رکھا ہے”۔(تذکرہ، وحی مقدس…صفحہ 28)

قرآن جیسا ہونے کا دعویٰ:

مرزا قادیانی اپنا جھوٹا الہام بیان کرتا ہے کہ:

ما انا الّا کلقرآن      میں تو بس قرآن ہی کی طرح ہوں…”۔ (تذکرہ۔ صفحہ 570)

نوح علیہ السلام ہونے کا دعویٰ ایک اور انداز سے:

’’اسی طرح براہین احمدیہ کے حصص سابقہ میں خدا تعالیٰ نے میرا نام نوح بھی رکھا ہے اور میری نسبت فرمایا ہے “وَلَا   تُخَاطِبْنِیْ  نِی الَّذِ یْنَ  ظَلَمُوْ ج اِنَّھُمْ مُّغْرَقُوْن” یعنی میری آنکھوں کے سامنے کشتی بنا اور ظالموں کی  شفاعت کے بارے میں مجھ سے کوئی بات نہ کر کہ میں ان کو غرق کروں گا۔(براہین احمدیہ ۔ حصہ پنجم۔ صفحہ 86)

جھوٹ پر جھوٹ کہنے کی ایک اور مثال:

مگر جس وقت حضرت مسیح کا بدن صلیب کی کیلوں سے توڑا گیا اس زخم اور شکست کے لیے تو خدا نے مرہم عیسیٰ طیار* کر دی تھی جس سے چند ہفتوں ہی میں حضرت عیسیٰ شفا پا کر اس ظالم ملک سے ہجرت کر کے کشمیر جنت نظیر کی طرف چلے آئے…اور یہ جو حدیثوں میں آیا ہے کہ مسیح حکم ہو کر آئے گا اور وہ اسلام کے تمام فرقوں پر حاکم عام ہو گا جس کا ترجمہ انگریزی میں گورنر جنرل ہے …سو ان حدیثوں سے صریح اور کھلے طور پرانگریزی حکومت کی تعریف ثابت ہوتی ہے کیونکہ وہ مسیح اسی سلطنت کے ماتحت پیدا ہوا ہے”۔ (تریاق القلوب۔ صفحہ 16، 17)

ایک ہی سانس میں کئی جھوٹ:

” جس روز وہ الہام مذکورہ بالا جس میں قادیان میں نازل ہونے کا ذکر ہے ہوا تھا اس روز کشفی طور پر میں نے دیکھا کہ میرے بھائی صاحب مرحوم غلام قادر میرے قریب بیٹھ کر بآواز بلند قرآن شریف پڑھ رہے ہیں اور پڑھتے پڑھتے انھوں نے ان فقرات کو پڑھا انا انزلناہ قریبا من القادیان   تو میں نے سن کر بہت تعجب کیا کہ کیا قادیان کا نام بھی قرآن شریف میں لکھا ہوا ہے۔ تب انھوں نے کہا دیکھو لکھا ہوا ہے۔ تب میں نے نظر ڈال کر جو دیکھا تو معلوم ہوا کہ فی الحقیقت قرآن شریف کے دائیں صفحہ میں شاید قریب نصف کے موقع پر یہ الہامی عبارت لکھی  ہوئی موجود ہے۔تب میں نے اپنے دل میں کہا کہ واقع طور پر قادیان کا نام قرآن شریف میں درج ہے اور میں نے کہا تین شہروں کا نام اعزاز کے ساتھ قرآن شریف میں درج کیا گیا ہے مکہ، مدینہ اور قادیان”

(ازالہ اوبام صفحہ 76، 77)

صحابہ ؓ کی شان میں گستاخی کرتے ہوئے لکھتا ہے:

بعض نادان صحابی جن کو درایت سے  کچھ حصہ نہ تھا…(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم مندرجہ روحانی خزائین جلد 21 صفحہ 285)

” جو شخص قرآن شریف پر ایمان لاتا ہے، اسے چاہیے کہ ابو ہریرہ کے قول کو ردی متاع کی طرح پھینک دے”(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص210 مندرجہ روحانی خزائین ج 21 ص 41)

مرزا قادیانی نے اسی طرح اپنی کتابوں اعجاز احمدی کے صفحہ 18 اور حقیقتہ الوحی کے صفحہ 34 پر صحابہؓ کے بارے میں اپنے خبث باطن کا اظہار کیا ہے نعوذ باللہ من ذالک۔

یہ مرزا قادیانی کی ہزاروں خرافات میں سے چند مثالیں تھیں ۔ اس بد بخت کی بہت سی خرافات کو تو نقل ہی نہیں کیا جا سکتا۔ اس نے اپنی کتابوں میں، نعوذ باللہ ، اللہ کے برگزیدہ و پاکباز نبی عیسیٰ علیہ السلام  کی توہین کرتے ہوئے انہیں شرابی، بدکار، بدکاری کی تعلیم دینے والا، بدزبانی کرنے والا، جھوٹ بولنے والا، گالیاں دینے والا، علمی خیانت کا ارتکاب کرنے والا اور ذہنی مریض قرار دیا ہے۔ (ملاحظہ کریں: انجام آتھم صفحہ 5،6،7، کشتی نوح، حاشیہ، صفحہ 73 نسیم دعوت، صفحہ 29 نورالقرآن صفحہ 42)

دراصل یہ ساری خرابیاں مرزا قادیانی میں ہی موجود تھیں۔ ان خرابیوں کے ثبوت اللہ تعالیٰ نے خود اس کے اور اس کے پیروکاروں کے ہاتھوں تحاریر کی شکل میں ظاہر فرمائےہیں۔ مرزا قادیانی کو اپنا آپ مثلِ عیسیٰ کے طور پر منوانا تھا۔  عیسیٰ علیہ السلام کی پاکبازی ثابت کرنے والی آیات بدکردار مرزا قادیانی کو مثلِ عیسیٰ منوانے میں رکاوٹ تھیں لہٰذا اس کی شیطانی سوچ نے اس کا یہ حل نکالا کہ جھوٹے الزامات اور مکاشفوں کے ذریعے عیسیٰ ؑ کو  بھی اپنے جیسا بے حیا، جھوٹا اور بدکردار شخص باور کرایا جائے، ثم نعوذ باللہ۔ اللہ تعالیٰ کا کرنا دیکھیے کہ اللہ، اس کے رسولوں اور اس کے دین کا مذاق اڑانے والے مرزا قادیانی نے اپنی کتاب براہین احمدیہ، حصہ پنجم، صفحہ 97 پر ایک شعر میں اپنے آپ کو اس قدر شرمناک گالی دی ہے کہ اسے نقل کرنے کی ہم میں ہمت نہیں۔ اس طرح ظالم خود اپنے ہاتھوں اپنی ذلت کا سامان ترکہ میں چھوڑ گیا۔فَاعْتَبِرُوْا يٰٓاُولِي الْاَبْصَارِ

Categories
Uncategorized

دینی امور پر اجرت

ابتدائیہ

﴿وَإِنَّ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ لَمَنْ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْكُمْ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِمْ خَاشِعِينَ لِلَّهِ لَا يَشْتَرُونَ بِآيَاتِ اللَّهِ ثَمَنًا قَلِيلًا  أُولَئِكَ لَهُمْ أَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ  إِنَّ اللَّهَ سَرِيعُ الْحِسَابِ﴾

[آل عمران: 199]

’’اہل کتاب میں بھی کچھ لوگ ایسے ہیں جو اللہ پر ایمان رکھتے  ہیں، اس کتاب پر ایمان لاتے ہیں جو تمہاری طرف بھیجی گئی ہے اوراُس کتاب پربھی ایمان رکھتے ہیں جو اس سے پہلے خود ان کی طرف بھیجی گئی تھی، اللہ کے آگے جھکے ہوئے ہیں، اور اللہ کی آیات کو تھوڑی سی قیمت پر بیچ نہیں دیتے ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے اور اللہ حساب چکانے میں دیر نہیں لگاتا۔‘‘

اللہ تعالی نے اس آیت میں ان لوگوں کا  ذکر بہت اچھے انداز میں بیان کیا ہے کہ جو اللہ کی آیات پر دنیاوی اجر نہیں لیتے بلکہ فرمایا کہ ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے۔ یعنی دین کاموں کے اجر آخرت کے لئے ہے دنیا کے لئے نہیں۔قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

﴿وَآمِنُوا بِمَا أَنْزَلْتُ مُصَدِّقًا لِمَا مَعَكُمْ وَلَا تَكُونُوا أَوَّلَ كَافِرٍ بِهِ  وَلَا تَشْتَرُوا بِآيَاتِي ثَمَنًا قَلِيلًا وَإِيَّايَ فَاتَّقُونِ﴾

[البقرة: 41]

’’اور ایمان لاؤ (اس کتاب) پر جو میں نے نازل کی تصدیق کرنے والی ہے اس کی جو تمہارے پاس ہے (تورات و انجیل) اور مت بنو پہلے انکار کرنے والے اس کے اور مت بیچو میری آیتوں کو تھوڑی قیمت میں اور صرف مجھ ہی سے پس تم ڈرو‘‘۔

﴿۔ ۔ ۔  فَلَا تَخْشَوُا النَّاسَ وَاخْشَوْنِ وَلَا تَشْتَرُوا بِآيَاتِي ثَمَنًا قَلِيلًا  وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ

[المائدة: 44]

’’تم لوگوں سے نہ ڈرو بلکہ مجھ سے ڈرو اور میری آیات کوتھوڑے معاوضے پر مت بیچو، جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہی کافر ہیں۔‘‘

ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ’’ میری آیات ‘‘ کو  ’’ ذریعہ معاش نہ بنا لو‘‘،اور فرمایا کہ جو اللہ کے نازل کردہ کے مطابق فیصلہ نہ کریں ’’وہی کافر ‘‘ ہیں۔ یعنی یہ جو حکم دیا گیا ہے کہ قرآن مجید کی آیات نہ بیچ ڈالو یہ اللہ کا حکم ہے ، اور جو اس کے خلاف فیصلہ کریں یعنی اس کمائی کو جائز قرار دیں پس وہی کافر ہیں۔ اللہ تعالیٰ مزید فرماتا ہے:

﴿إِنَّ الَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ مِنَ الْكِتَابِ وَيَشْتَرُونَ بِهِ ثَمَنًا قَلِيلًا  أُولَئِكَ مَا يَأْكُلُونَ فِي بُطُونِهِمْ إِلَّا النَّارَ وَلَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ﴾

[البقرة: 174]

’’بے شک  جو لوگ اُن احکام کو چھپاتے ہیں جو اللہ نے اپنی کتاب میں ناز ل کیے ہیں اوراس  (قرآن) کے ذریعے تھوڑا معاوضہ کماتے ہیں، وہ دراصل اپنے پیٹ میں جہنم کی  آگ ڈالتے ہیں، قیامت کے دن اللہ ہرگز ان سے بات نہ کرے گا، نہ انہیں پاک کرےگا، اور اُن کے لیے دردناک عذاب ہے‘‘۔

اس آیت میں دو معاملات بیان کئے گئے ہیں،  اول وہ لوگ جو اللہ کے نازل کردہ احکامات کو چھپاتے ہیں اور دوم وہ لوگ جو اس قرآن کے ذریعے کماتے ہیں، یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے پیٹوں میں جہنم کی آگ ڈال رہے ہیں یعنی قرآن مجید پر یہ کمائی درحقیقت جہنم کی آگ ہے۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ایسے افراد سے بات تک نہیں کرے گا یعنی ان پر بہت ہی غضب ناک ہوگا۔ انہیں پاک بھی نہیں کیا جائے گا کیونکہ جنت میں صرف پاک لوگ ہی جائیں گے۔

قارئین و سامعین  گرامی !  کتنے واضح  انداز میں اللہ تعالیٰ نے یہ بتا دیا کہ قرآن پر اجرت لینا حرام، اپنے پیٹوں میں جہنم کی آگ ڈالنا ہے اور جو لوگ یہ کام فی سبیل للہ کرتے ہیں ، آخرت میں اللہ تعالیٰ کے پاس اس کا بھرپور اجر پائیں گے۔

گویا  امامت،تعلیم القرآن پر اجرت مکمل طور پر حرام ہے۔

نبی ﷺ نے فرمایا :

عن عبد الرحمن بن شبل الأنصاري، أن معاوية قال له: إذا أتيت فسطاطي فقم فأخبر ما سمعت من رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: ” اقرءوا القرآن، ولا تغلوا فيه، ولا تجفوا عنه، ولا تأكلوا به، ولا تستكثروا به

( مسند احمد،  مسند المكيين ، حدیث عبد الرحمن بن شبل ؓ)

’’عبد الرحمن بن شبلؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا قرآن پڑھو اور اس میں غلو نہ کرو اور اس سے اعراض نہ کرو اس کو ذریعہ معاش نہ بناؤ اور نہ ہی اس سے بہت سے دنیاوی فائدے حاصل کرو۔‘‘

عن سهل بن سعد الساعدي، قال: خرج علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم يوما ونحن نقترئ، فقال: «الحمد لله كتاب الله واحد، وفيكم الأحمر وفيكم الأبيض وفيكما لأسود، اقرءوه قبل أن يقرأه أقوام يقيمونه كما يقوم السهم يتعجل أجره ولا يتأجله»

( ابو داؤد،  أبواب تفريع استفتاح الصلاة، باب ما يجزئ الأمي والأعجمي من القراءة )

’’ سہل بن سعد بن ساعدی ؓ سے روایت ہے کہ ایک دن رسول اﷲﷺہمارے پاس تشریف لاۓ اس حال میں کہ ہم قرآن کی تلاوت کر رہے تھے یہ دیکھ کر آپؐ نے فرمایا الحمدﷲ کتابﷲ پڑھنے والے سرخ بھی ہیں‛ سفید بھی ہیں‛ کالے بھی ہیں قرآن پڑھو عنقریب ایسی قومیں آئیں گی جو قرآن کے زیرزبر کو ایسے سیدھا کریں گی جیسے تیر کو سیدھا کیا جاتا ہے لیکن قرآن کے اجر میں جلدی کریں گے اور اس کو آخرت پر نہ رکھیں گے۔‘‘

عن عثمان بن أبي العاص قال: قلت: يا رسول الله، اجعلني إمام قومي. فقال: «أنت إمامهم، واقتد بأضعفهم، واتخذ مؤذنا لا يأخذ على أذانه أجرا»

( سنن النسائی،  کتاب الاذان ، اتخاذ المؤذن الذي لا يأخذ على أذانه أجرا )

’’ عثمان بن ابی العاصؓ سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ مجھے اپنی قوم کا امام بنا دیجئے آپ ؐ نے فرمایا (ٹھیک ہے) تم ان کے امام ہو لیکن کمزور مقتدیوں کا خیال رکھنا۔ اور مؤذن ایسا شخص مقرر کرنا جو اذان پر اجرت نہ لے۔‘‘

عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ: عَلَّمْتُ نَاسًا مِنْ أَهْلِ الصُّفَّةِ الْكِتَابَ، وَالْقُرْآنَ فَأَهْدَى إِلَيَّ رَجُلٌ مِنْهُمْ قَوْسًا فَقُلْتُ: لَيْسَتْ بِمَالٍ وَأَرْمِي عَنْهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، لَآتِيَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَأَسْأَلَنَّهُ فَأَتَيْتُهُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، رَجُلٌ أَهْدَى إِلَيَّ قَوْسًا مِمَّنْ كُنْتُ أُعَلِّمُهُ الْكِتَابَ وَالْقُرْآنَ، وَلَيْسَتْ بِمَالٍ وَأَرْمِي عَنْهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، قَالَ: «إِنْ كُنْتَ تُحِبُّ أَنْ تُطَوَّقَ طَوْقًا مِنْ نَارٍ فَاقْبَلْهَا»           

(المستدرک علی الصحیحین للحاکم ، کتاب البیوع، وَأَمَّا حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ )

’’ عبادہ بن صامت  ؓسے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ میں نے اہل صفہ کے کچھ لوگوں کو قرآن مجید  اور کتاب اللہ کی تعلیم دی ان میں سے ایک شخص نے مجھے ایک کمان ہدیہ دی۔ میں نے کہا کہ اس کی مالیت تو کچھ نہیں اور میں اس سے اللہ کی راہ میں تیر اندازی کروں گا (مقصد یہ کہ اس ہدیہ کے قبول کرنے کا خیال تھا اس واسطے کہ اس کی مالیت تو کچھ خاص نہیں تھی کہ اس کو تعلیم کا معاوضہ خیال کرتا اور نیت یہ تھی کہ اس کے ذریعہ اللہ کے راستہ میں تیر اندازی کروں گا) میں اس کے بارے میں رسول اللہﷺ کے پاس جاؤں گا اور سوال کروں گا، چنانچہ میں نبی ﷺ کے پاس گیا اور کہا کہ یا رسول ﷺایک آدمی نے مجھے کمان ہدیہ کی ہے ان میں سے کہ جنہیں کتاب اللہ اور قرآن کی تعلیم دیتا ہوں اور اس کمان کی کچھ مالیت بھی نہیں ہے اور اس کے ذریعہ میں اللہ کے راستہ میں تیر اندازی کروں گا، نبیﷺ نے فرمایا کہ اگر تجھے یہ بات پسند ہے کہ تیرے گلے میں آگ کا طوق ڈالا جائے تو اسے قبول کر لے۔‘‘

عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:  «من تعلم علما مما يبتغى به وجه الله، لا يتعلمه إلا ليصيب به عرضا من الدنيا، لم يجد عرف الجنة يوم القيامة»

( صحیح ابن حبان ،  کتاب العلم ، ذكر وصف العلم الذي يتوقع دخول النار في القيامة لمن طلبه )

’’ ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا کہ جس شخص نے وہ علم کہ جس سے اللہ تبارک تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کی جاتی ہے اس لئے سیکھا کہ اس کے ذریعہ اسے دنیا کا کچھ مال و متاع مل جائے تو ایسا شخص جنت کی خوشبو کو بھی نہیں پا سکے گا قیامت کے دن۔ ‘‘

قرآن اور احادیث نبوی ﷺ سے ثابت ہوا کہ

قرآن مجید کی آیات  پر  اجرت لینا،

اس پر تحفہ لینا،

اس کے ذریعے کسی اور قسم کا فائدہ اٹھانا       ،

اپنے پیٹوں میں جہنم کی آگ ڈالنا ہے۔

اللہ کے حکم کا کفر،

اورنبی ﷺ کے حکم کا کفرہے۔

اسی طرح اذان کی اجرت سے بھی منع کردیا گیا ہے۔

دینی امور پر اجرت لینے پر سارے فرقوں کا اتفاق ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ فرقوں کا سارا کنٹرل ان کے مفتی اور مولوی کے ہاتھ میں ہوتا ہے ، اور یہ اپنی کمائی کسی  بھی طور چھوڑنے پر تیار نہیں، انہوں دین کو پیشہ بنا رکھا ہے۔

اس سے  قبل ہم نے  قرآن و حدیث  کے دلائل سے اس بات کو واضح کیا تھا کہ دینی امور پر اجرت  کا لینا جائز نہیں اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ نے اس سے منع فرمایا ہے۔ اب چونکہ فرقوں کا سارا کنٹرول انہی دین فرشوں کے ہاتھ میں ہوتا ہے اس لئے یہ اپنے اندھے مقلدین کو گمراہ کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں اور  اپنی ناجائز کمائی حلال قرار دینے کے لئے امت میں طرح طرح سے شکوک ڈالتے ہیں۔ چنانچہ کچھ فرقوں کے علماء  کہتے ہیں کہ   ان قرآنی آیات کا ہر گز یہ مقصد نہیں کہ  قرآن پر  اجرت منع ہے بلکہ قرآن ہی کی آیات بعض دوسری آیات کی تفصیل بیان کرتی ہیں۔ اس بارے میں وہ مندرجہ ذیل آیت پیش کرتے ہیں :

﴿إِنَّ الَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ مِنَ الْكِتَابِ وَيَشْتَرُونَ بِهِ ثَمَنًا قَلِيلًا  أُولَئِكَ مَا يَأْكُلُونَ فِي بُطُونِهِمْ إِلَّا النَّارَ وَلَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ   ۝ أُولَئِكَ الَّذِينَ اشْتَرَوُا الضَّلَالَةَ بِالْهُدَى وَالْعَذَابَ بِالْمَغْفِرَةِ  فَمَا أَصْبَرَهُمْ عَلَى النَّارِ﴾

[البقرة: 174-175]

’’بے شک  جو لوگ اُن احکام کو چھپاتے ہیں جو اللہ نے اپنی کتاب میں ناز ل کیے ہیں اوراس  (قرآن) کے ذریعے تھوڑا معاوضہ کماتے ہیں، وہ دراصل اپنے پیٹ میں جہنم کی  آگ ڈالتے ہیں، قیامت کے دن اللہ ہرگز ان سے بات نہ کرے گا، نہ انہیں پاک کرےگا، اور اُن کے لیے دردناک عذاب ہے۔ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی خرید لی ہے اور  ( اللہ  کی طرف سے ) مغفرت کے بدلے ( اللہ کا ) عذاب، سو دیکھو یہ کس قدر صبر کرنے والے ہیں جہنم کی آگ پر۔‘‘

﴿وَإِذۡ أَخَذَ ٱللَّهُ مِيثَٰقَ ٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡكِتَٰبَ لَتُبَيِّنُنَّهُۥ لِلنَّاسِ وَلَا تَكۡتُمُونَهُۥ فَنَبَذُوهُ وَرَآءَ ظُهُورِهِمۡ وَٱشۡتَرَوۡاْ بِهِۦ ثَمَنٗا قَلِيلٗاۖ فَبِئۡسَ مَا يَشۡتَرُونَ﴾

[آل عمران: 187]

’’ اور جب اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں سے پختہ عہد لیا تھا جو کتاب دیئے گئے کہ وہ لوگوں کے سامنے کتاب کو وضاحت سے بیان کریں گے اور اسے چھپائیں گے نہیں۔ پھر انہوں نے کتاب کو پس پشت ڈال دیا اور اسے تھوڑی سی قیمت کے عوض بیچ ڈالا۔ کتنی بری ہے وہ قیمت جو وہ وصول کر رہے ہیں‘‘۔

ان آیات  کو پیش کرکے کہا جاتا ہے کہ  جب دین کو چھپا لیا جائے اور اس پر اجرت لی جائے تو یہ اسوقت یہ حرام ہے ورنہ یہ جائز ہے۔

وضاحت :

بے شک ایسا کرکے اس پر اجرت لینا تو کھلا حرام ہے لیکن یہ مفتیان بھی اس امت کیساتھ وہی کھیل رہے ہیں جو کہ قوم یہود کے علماء نے کھیلا تھا کہ  اللہ کے نازل کردہ  میں سے بہت چھپا لیا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اس قسم کے افراد کی  اس روش سے اسی وقت آگاہ کردیا تھا۔ مالک کائنات فرماتا ہے :

﴿يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِنَّ كَثِيرٗا مِّنَ ٱلۡأَحۡبَارِ وَٱلرُّهۡبَانِ لَيَأۡكُلُونَ أَمۡوَٰلَ ٱلنَّاسِ بِٱلۡبَٰطِلِ وَيَصُدُّونَ عَنسَبِيلِ ٱللَّهِۗ ۔ ۔ ۔﴾

[التوبة: 34]

’’اے ایمان والو، بے شک علماء اور پیروں کی اکثریت   لوگوں کا مال باطل  طریقے سے کھاتی ہے  اور انہیں اللہ کی راہ سے روک دیتی ہے ۔ ۔ ۔‘‘

اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی بتا دیا تھا کہ یہ لوگوں کا  مال باطل طریقے سے کھاتے ہیں تو اللہ کی وہ بات صادق آئی اور آج  یہ بات ہمارے سامنے کھل کر آچکی ہے کہ یہ مولوی، یہ پیر اور مفتیان کس کس طرح دین پر کمائی کر رہے ہیں۔  کہیں امامت پر اجرت ہے، کہیں تعلیم القرآن پر اجرت، کہیں قرآن کا تعویذ لکھ کر کما رہے ہیں  اور کہیں ایصال ثواب کی بدعات پر مبنی رسومات ایجاد کرکے وہاں پوری پوری ٹیم لیجا کر ختم قرآن کی فیس لے رہے ہیں۔ کہیں مولوی صاحب کو ختم  پر بلایا جاتا ہے اور ہاتھ اٹھا اٹھا کر دعا کرکے تر مال اور ہدیہ حاصل کرتے ہیں تو  اب کہیں ’’ قرآن سے روحانی علاج ‘‘ شروع کردیا ہے۔ کہیں اذان پر اجرت ہے تو کہیں  درس و تدریس پرجانے کا ہدیہ۔ الغرض کہ دین کو کمائی کا ذریعہ بنا ڈالا ہے۔

مفتی صاحبان جو یہ دو آیات پیش کررہے ہیں تو دین پر اجرت کے بارے میں  قرآن میں صرف یہ دو آیات نہیں ہیں بلکہ کثرت سے وہ آیات بھری پڑی ہیں جن میں اجرت پر انکار ثابت ہوتا ہے۔ مفتی صاحبان وہ آیات لوگوں کے سامنے آنے ہی نہیں دیتے بلکہ اسے چھپا لیتے ہیں۔ملاحظہ فرمائیں اس کی چند مثالیں:

نوح علیہ السلام نے اپنی قوم سے کہا :

﴿وَمَآ أَسۡ‍َٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ مِنۡ أَجۡرٍۖ إِنۡ أَجۡرِيَ إِلَّا عَلَىٰ رَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ﴾

[الشعراء: 109]

’’اور نہیں میں سوال کرتا تم سے اس پر کسی اجرت کا، نہیں ہے میری اجرت مگر جہانوں کے رب کے ذمے‘‘ ۔

﴿وَيَٰقَوۡمِ لَآ أَسۡ‍َٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ مَالًاۖ إِنۡ أَجۡرِيَ إِلَّا عَلَى ٱللَّهِۚ﴾

[هود: 29]

’’اور اے میری قوم ! میں نہیں مانگتا تم سے اس پر کوئی مال، نہیں ہے میرا اجر مگر اللہ پر ‘‘

ھود علیہ اسلام نے فرمایا میرا اجر ﷲ کے ذمہ ہے۔

﴿وَمَآ أَسۡ‍َٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ مِنۡ أَجۡرٍۖ إِنۡ أَجۡرِيَ إِلَّا عَلَىٰ رَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ﴾

[الشعراء: 127]

’’اور نہیں میں سوال کرتا تم سے اس پر کسی اجرت کا، نہیں ہے میری اجرت مگر جہانوں کے رب کے ذمے‘‘ ۔

﴿يَٰقَوۡمِ لَآ أَسۡ‍َٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ أَجۡرًاۖ إِنۡ أَجۡرِيَ إِلَّا عَلَى ٱلَّذِي فَطَرَنِيٓۚ أَفَلَا تَعۡقِلُونَ﴾

[هود: 51]

’’اے میری قوم ! نہیں میں مانگتا تم سے اس پر کوئی اجر، نہیں ہے میرا اجر مگر اس پر جس نے مجھے پیدا کیا تو کیا تم سمجھتے نہیں ہو‘‘

لوط علیہ اسلام نےفرمایا میرا اجر ﷲ کے ذمہ ہے۔

﴿وَمَآ أَسۡ‍َٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ مِنۡ أَجۡرٍۖ إِنۡ أَجۡرِيَ إِلَّا عَلَىٰ رَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ﴾

[الشعراء: 164]

’’اور نہیں میں مانگتا تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی اجرت ، نہیں ہے میری اجرت مگر رب العالمین کے ذمے ‘‘۔

شعیب علیہ اسلام نے فرمایا میرا اجر ﷲ کے ذمہ ہے۔

﴿وَمَآ أَسۡ‍َٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ مِنۡ أَجۡرٍۖ إِنۡ أَجۡرِيَ إِلَّا عَلَىٰ رَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ﴾

[الشعراء: 180]

’’اور نہیں میں مانگتا تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی اجرت ، نہیں ہے میری اجرت مگر رب العالمین کے ذمے‘‘ ۔

سورہ یٰسن میں اللہ تعالیٰ نے ایک بنیاد بیان فرمائی کہ ہدایت پر کون ہے :

اتَّبِعُوۡا مَنۡ لَّا یَسْـَٔلُكُمْ اَجْرًا وَّ ہُمۡ مُّہۡتَدُوۡنَ

(یٰسٓ :21)

’’ رسولوں کی اتباع کرو جو تم سے کوئی اجر نہیں مانگتے اور جو ہدایت یافتہ ہیں۔‘‘

نبی ﷺ سے کہلوایا :

قُلۡ  لَّاۤ  اَسْـَٔلُكُمْ عَلَیۡہِ  اَجْرًا ؕ اِنْ  ہُوَ  اِلَّا ذِكْرٰی لِلْعٰلَمِیۡنَ

(الانعام: 90)

’’ (اے نبی ﷺ!) کہدو کہ میں تم سے اس (قرآن) پر اجرت نہیں مانگتا ، یہ تو تمام عالم کے لیے نصیحت ہے ۔‘‘

قُلْ مَا سَاَلْتُكُمۡ مِّنْ اَجْرٍ فَہُوَ لَكُمْ ؕ اِنْ اَجْرِیَ  اِلَّا عَلَی اللہِ

(سبا :47)

’’ (اے نبی ﷺ!) کہدو کہ میں نے (دین پر) تم سے کچھ اجرت مانگی ہو تو وہ تمہاری، میرا اجر تو اﷲ کے ذمہ ہے اور وہ ہر چیز سے باخبر ہے ‘‘۔

انبیاء علیہ السلام بھی اپنے ہاتھوں سے کمانے والے تھے :

عَنِ النَّبِیِّا قَالَ مَا بَعَثَ اللّٰہُ نَبِیًّا اِلَّا رَعَی الْغَنَمَ فَقَالَ اَصْحَابُہٗ وَ اَنْتَ فَقَالَ نَعَمْ کُنْتُ اَرْعَاھَاعَلٰی قَرَارِْ یطَ لِاَھْلِ مَکَّۃَ

(بخاری: کتاب الاجارۃ، باب رعی الغنم علی قراریط )

’’ نبی ﷺنے فرمایا کہ اﷲ تعالیٰ نے کوئی نبی ایسا نہیں بھیجا جس نے بکریاں نہ چَرائیں ہوں۔ صحابہؓ نے پوچھا اور آپ نے بھی؟ فرمایا کہ ہاں، میں بھی مکہ والوں کی بکریاں چند قیراط کی اجرت پر چَرایا کرتا تھا‘‘۔

اسی طرح انبیاء علیہ السلام مختلف کام کیا کرتے تھے:

اِنَّ دَاوٗدَ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ لَا یَاْکُلُ اِلَّامِنْ عَمَلِ یَدِہٖ

(بخاری: کتاب البیوع، باب کسب الرجل عملِہ بیدہٖ)

’’ اﷲ کے نبی داؤ د علیہ الصلوٰۃ و السلام صرف اپنے ہاتھ سے کام کرکے روزی حاصل کرتے تھے ۔‘‘

کَانَ زَکَرِیَّا نَجَّارًا

(مسلم:کتاب الفضائل،باب فضائل زکریا ؑ)

’’ زکریا  ؑ بڑھئی تھے ۔‘‘

اب دیکھیں صحابہ ؓ  کا کردار:

عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَتَاهُ رِعْلٌ وَذَكْوَانُ وَعُصَيَّةُ وَبَنُو لَحْيَانَ فَزَعَمُوا أَنَّهُمْ قَدْ أَسْلَمُوا وَاسْتَمَدُّوهُ عَلَى قَوْمِهِمْ ، فَأَمَدَّهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَبْعِينَ مِنْ الْأَنْصَارِ ، قَالَ : أَنَسٌ كُنَّا نُسَمِّيهِمْ الْقُرَّاءَ يَحْطِبُونَ بِالنَّهَارِ وَيُصَلُّونَ بِاللَّيْلِ فَانْطَلَقُوا بِهِمْ حَتَّى بَلَغُوا بِئْرَ مَعُونَةَ غَدَرُوا بِهِمْ وَقَتَلُوهُمْ ، فَقَنَتَ شَهْرًا يَدْعُو عَلَى رِعْلٍ وَذَكْوَانَ وَبَنِي لَحْيَانَ ، قَالَ : قَتَادَةُ ، وَحَدَّثَنَا أَنَسٌ أَنَّهُمْ قَرَءُوا بِهِمْ قُرْآنًا أَلَا بَلِّغُوا عَنَّا قَوْمَنَا بِأَنَّا قَدْ لَقِيَنَا رَبَّنَا فَرَضِيَ عَنَّا وَأَرْضَانَا ، ثُمَّ رُفِعَ ذَلِكَ بَعْدُ

( بخاری،کتاب الجہاد و السیر، بَابُ العَوْنِ بِالْمَدَدِ )

’’نبی کریم ﷺ کی خدمت میں رعل ‘ ذکوان ‘ عصیہ اور بنو لحیان قبائل کے کچھ لوگ آئے اور یقین دلایا کہ وہ لوگ اسلام لا چکے ہیں اور انہوں نے اپنی کافر قوم کے مقابل امداد اور تعلیم و تبلیغ کے لیے آپ سے مدد چاہی۔ تو نبیﷺنے ستر انصاریوں کو ان کے ساتھ کر دیا۔ انسؓ نے بیان کیا ‘ کہ ہم انہیں قاری کہا کرتے تھے۔ وہ لوگ دن میں جنگل سے لکڑیاں جمع کرتے اور رات میں صلوٰۃ ادا کرتے  رہتے۔ یہ لوگ  ان قبیلہ والوں کے ساتھ چلے گئے ‘ لیکن جب بئرمعونہ پر پہنچے تو قبیلہ والوں نے ان صحابہ ؓ کے ساتھ دغا کی اور انہیں شہید کر ڈالا۔ نبیﷺ نے ایک مہینہ تک  ( صلوٰۃ میں )  قنوت پڑھی اور رعل و ذکوان اور بنو لحیان کے لیے بددعا کرتے رہے۔ قتادہ نے کہا کہ ہم سے انس ؓ نے کہا کہ  ( ان شہداء کے بارے میں )  قرآن مجید میں ہم یہ آیت یوں پڑھتے رہے ”ہاں! ہماری قوم  ( مسلمین )  کو بتا دو کہ ہم اپنے رب سے جا ملے۔ اور وہ ہم سے راضی ہو گیا ہے اور ہمیں بھی اس نے خوش کیا ہے۔“ پھر یہ آیت منسوخ ہو گئی تھی‘‘۔

قرآن و حدیث کے دلائل سے ثابت ہوا کہ کسی بھی حالت میں قرآن مجید پر اجرت نہیں لی جا سکتی۔  فرقے کے مفتیان و علماء خود ان سب باتوں کو چھپاتے ہیں، لوگوں کے سامنے یہ سب بیان نہیں کرتے تاکہ لوگ حقیقت جان کر ہمیں  مال دینا نہ بند کردیں، لہذا اب ان پر بھی ان دونوں آیات کا نفاذ ہوتا ہے جو یہ بہانہ تراشنے کے لئے بیان کرتے ہیں۔ اس طرح انہوں نے وہی کام کیا جو مالک قرآن مجید میں فرماتا ہے :

﴿ٱشۡتَرَوۡاْ بِ‍َٔايَٰتِ ٱللَّهِ ثَمَنٗا قَلِيلٗا فَصَدُّواْ عَن سَبِيلِهِۦٓۚ إِنَّهُمۡ سَآءَ مَا كَانُواْ يَعۡمَلُونَ﴾

[التوبة: 9]

’’انہوں نے اللہ کی آیات کو تھوڑی سی قیمت پر بیچ دیا پھر (لوگوں کو) اللہ کی راہ سے روک دیا۔ بہت برے ہیں وہ کام جو وہ کر رہے ہیں‘‘۔

بالکل آج یہی ماحول ہے کہ ہر ہر فرقےنے ’’ دین پر اجرت ‘‘ پر اتفاق کیا ہوا ہے اور باقی ہر ہر مسئلے پر ان کا اختلاف ہے، بہر حال ان میں بھی کچھ لوگ ایسے ہیں جو اجرت نہیں لیتے لیکن ان کی تعداد بمشکل ایک دو فیصد ہی ہوگی۔

اپنےاس حرام فعل کو حلال ثابت کرنےکے لئے یہ  بخاری کی ایک حدیث بھی پیش کرتے ہیں، لہذا اس کا مطالعہ بھی کرتے ہیں۔

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ أَبِي المُتَوَكِّلِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَوْا عَلَى حَيٍّ مِنْ أَحْيَاءِ العَرَبِ فَلَمْ يَقْرُوهُمْ، فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ، إِذْ لُدِغَ سَيِّدُ أُولَئِكَ، فَقَالُوا: هَلْ مَعَكُمْ مِنْ دَوَاءٍ أَوْ رَاقٍ؟ فَقَالُوا: إِنَّكُمْ لَمْ تَقْرُونَا، وَلاَ نَفْعَلُ حَتَّى تَجْعَلُوا لَنَا جُعْلًا، فَجَعَلُوا لَهُمْ قَطِيعًا مِنَ الشَّاءِ، فَجَعَلَ يَقْرَأُ بِأُمِّ القُرْآنِ، وَيَجْمَعُ بُزَاقَهُ وَيَتْفِلُ، فَبَرَأَ فَأَتَوْا بِالشَّاءِ، فَقَالُوا: لاَ نَأْخُذُهُ حَتَّى نَسْأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلُوهُ فَضَحِكَ وَقَالَ: «وَمَا أَدْرَاكَ أَنَّهَا رُقْيَةٌ، خُذُوهَا وَاضْرِبُوا لِي بِسَهْمٍ»

( بخاری، کتاب  الطب، بَابُ الرُّقَى بِفَاتِحَةِ الكِتَابِ )

’’ابوسعیدخدری ؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ کے صحابہ میں سے چند لوگ عرب کے کسی قبیلہ کے پاس پہنچے، اس قبیلہ کے لوگوں نے ان کی ضیافت نہیں کی، وہ لوگ وہیں تھے کہ اس قبیلہ کے سردار کو سانپ نے ڈس لیا، تو انہوں نے پوچھا کہ تمہارے پاس کوئی دوا یا کوئی دم کرنے والا ہے، تو ان لوگوں نے کہا کہ تم نے ہماری مہمان داری نہیں کی اس لئے ہم کچھ نہیں کریں گے، جب تک کہ تم لوگ ہمارے لئے کوئی چیز متعین نہ کروگے، اس پر ان لوگوں نے چند بکریوں کا دینا منظور کیا،پھر  ابو سعید خدری ؓ  نے سورہ فاتحہ پڑھنا شروع کی اور تھوک جمع کرکے اس پر ڈال دیا، تو وہ آدمی تندرست ہوگیا، وہ آدمی بکریاں لے کر آیا تو انہوں ( صحابہ ؓ ) نے کہا کہ ہم یہ نہیں لیتے جب تک کہ نبیﷺ سے اس کے متعلق دریافت نہ کرلیں، چنانچہ ان لوگوں نے نبی ﷺسے اس کے متعلق دریافت کیا تو آپ ہنس پڑے، فرمایا کہ تمہیں کیسے معلوم ہوا کہ سورہ فاتحہ دم ہے، تم اس کو لے لو اور ایک حصہ میرا بھی اس میں لگا و۔

یہ خصوصی معاملہ اس وقت پیش آیا تھا جب صحابہ کرامؓ کی جماعت کا گزر ایک قبیلے والوں پر ہوا جنہوں نے اس جماعت کی میزبانی کرنے سے انکار کردیا۔ایسی صورتحال کے لیے نبی ﷺ نے صحابہ کرام کو اس بات کی تعلیم دی ہوئی تھی کہ اگر کوئی قبیلہ ان کی ضیافت نہ کرے تووہ کسی طور سے حق ضیافت وصول کرلیں کیونکہ اس دور میں آج کل کی طرح ہوٹلوں وغیرہ کا رواج نہیں تھا۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَزِيدُ، عَنْ أَبِي الخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: قُلْنَا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّكَ تَبْعَثُنَا، فَنَنْزِلُ بِقَوْمٍ لاَ يَقْرُونَا، فَمَا تَرَى فِيهِ؟ فَقَالَ لَنَا: «إِنْ نَزَلْتُمْ بِقَوْمٍ   فَأُمِرَ لَكُمْ بِمَا يَنْبَغِي لِلضَّيْفِ فَاقْبَلُوا، فَإِنْ لَمْ يَفْعَلُوا، فَخُذُوا مِنْهُمْ حَقَّ الضَّيْفِ»

( بخاری، کتاب المظالم و غضب ، بَابُ قِصَاصِ المَظْلُومِ إِذَا وَجَدَ مَالَ ظَالِمِهِ )

اِنَّ اَحَقَّ مَا اَخَذْتُمْ عَلَیْہِ اَجْراً کِتَابُ اللّٰہِ

’’عقبہ بن عامر سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ ہم نے نبیﷺسے عرض کیا کہ آپ  ہمیں دوسری جگہ بھیجتے ہیں تو ہم ایسی قوم میں اترتے ہیں جو ہماری مہمانداری نہیں کرتے اس کے متعلق آپ  کیا فرماتے ہیں ؟ نبی ﷺنے ہم سے فرمایا کہ اگر تم کسی قوم کے پاس اترو اور وہ تمہارے لئے مناسب طور پر مہمانداری کا حکم دیں تو خیر ورنہ تم ان سے مہمانی کا حق وصول کرو‘‘۔

اس قبیلے نے اس جماعت کی ضیافت سے انکار کیاتواﷲ تعالیٰ نے اس قبیلے کے سردار کو کسی زہریلی چیز سے ڈسوا دیا۔جب وہ قبیلے والے صحابہ  کرام ؓ کے پاس آئے تو اُن کے طرز عمل کی نشاندہی کی گئی جیسا کہ روایت میں ہے۔ اس سے اس بات کی مکمل وضاحت ہوگئی کہ صحابہؓ نے یہ معاملہ محض اس بنیاد پر کیا تھا کہ قبیلے والوں نے حق ضیافت ادا نہیں کیا تھا ۔چنانچہ سور ہ فاتحہ کا دم کیا گیا اور اﷲ تعالیٰ نے ان کے سردار کو شفا عطا فرمادی ،قبیلے والے حسب وعدہ بکریاں لے آئے۔اب صحابہ کرام ؓ کو تردد ہو ا ۔ یہ تردد اسی وجہ سے ہوا کہ اللہ اوراس کے رسول ا قرآن پر اجرت کو حرام ٹھہراتے تھے ۔ چنانچہ انہوں نے اس سلسلے میں یہ طے کیا کہ یہ معاملہ پہلے نبیﷺ کے سامنے پیش کیا جائے۔نبیﷺنے ان سے کہا کہ تمہیں کیسے معلوم کہ ’’ فاتحہ ‘‘ ایک دم ہے  ( یعنی ایسی کوئی تعلیم نہیں دی گئی تھی )، پھر فرمایا کہ اس میں میرا بھی حصہ لگاو‘‘۔

اگر نبیﷺ اسے ’’اجرت‘‘ یا ’’کمائی‘‘ سمجھتے تو کسی طور پر بھی اس کی تقسیم اور اس میں اپناحصہ نکالنے کا حکم نہ دیتے کیونکہ ’’اجرت‘‘ یا’’ کمائی ‘‘ توعمل کرنے والے کی ہوتی ہے، وہ کسی میں تقسیم نہیں ہوتی۔

قبیلہ والوں نے صحابہ سے دریافت کیا کہ کیا تمہارے پاس کاٹے کی دوا ہے یا تمہارے اندر کوئی ایسا ہے جو کاٹے کے منتر سے واقف ہو اور دم کر سکتا ہو۔ صحابہ نے جواب دیا کہ ’’ ہاں‘‘۔ مگر تم لوگ وہ ہو جنہوں نے ہماری میزبانی کرنے سے انکار کردیا ہے اس لیے ہم اس وقت تک تمہارے سردار پر ’’دم‘‘ نہ کریں گے جب تک تم ہمیں اُس کی اجرت دینے کا وعدہ نہ کرو۔‘‘ان علماء سو نے جو  نے اپنی حرام کمائی کو حق ثابت کرنے کے لیے جو تانے بانے ملانے کی کوشش کی تھی،اس حدیث کے واضح الفاظ نے سر راہ اس کا شیرازہ بکھیر دیا۔

اِنَّ اَحَقَّ مَا اَخَذْتُمْ عَلَیْہِ اَجْراً کِتَابُ اللّٰہِ

اسی واقعہ کی ایک اور روایت ابن عباس رضی اﷲ عنہما سے بھی آتی ہے۔ما قبل بیان کردہ روایت ابو سعید خدری ؓسے مروی ہے جو کہ خود اس قافلے میں شامل تھے،اور ترمذی کی بیان کردہ روایت کے مطابق دم کرنے والے بھی وہ خود ہی تھے، مگر یہ حدیث جس کو روایت کرنے والاصحابی وہ ہے جو خود اس میں سفر میں شامل تھا اور جو اس پورے واقعے کا عینی شاہد اور مرکزی کردار رہا،ان فرقہ پرستوں کے نزدیک اُس روایت سے کم تر ہے جو دوسرے ایسے صحابی سے مروی ہے جو اس واقعے کے گواہ نہیں کہ اس مہم میں شریک سفر نہ تھے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اُس روایت میں ایک ایسا جملہ ہے جس کے ذریعے ان پیشہ وروں نے اپنی ’’حرام‘‘ کمائی کو جائز ٹھہرایا ہوا ہے۔ ابن عباس رضی اﷲ عنہما کی محولہ روایت میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ جب قبیلے کا سردارٹھیک ہوگیا اور صحابہ کو حسب وعدہ بکریاں دے دی گئیں
فَکَرِھُوْاذٰلِکَ وَقَالُوْا اَخَذْتَ عَلٰی کِتَابَ اﷲِ اَجْراً
’’ انہوں نے اسے لینے میں کراہیت کی اور کہا تم نے کتاب اﷲ پر اجرت لی ہے‘‘
حَتّٰی قَدِمُوْا الْمَدِیِنَۃِ فَقَالُوْا یَا رَسُوْلَ اﷲِ اَخَذَ عَلٰی کِتَابِ اﷲِ اَجْراً
’’ یہاں تک  کہ وہ مدینہ پہنچے ،تو انہوں نے کہا اے اﷲ کے رسول ا انہوں نے کتاب اﷲ پر اجرلیا ہے‘‘
رسول اﷲ ﷺنے فرمایا:
اِنَّ اَحَقَّ مَا اَخَذَتُمْ عَلَیہِ اَجْراً کِتَابُ اﷲِ
’’ جن چیزوں پر تم اجر لیتے ہو ان میں سب سےحقدار کتاب اﷲ ہے‘‘
(بخاری:کتاب الطب،باب الشرط فی الرقیۃ۔۔۔)

اس واقعے کے بارے میں تمام کتب حدیث بشمول صحیح بخاری میں جتنی بھی روایات بیان کی گئی ہیں ،سوائے اس منفرد روایت کے کسی میں بھی یہ الفاظ نہیں ملتے۔ یہی وہ جملہ ہے جس پرمفتی و مولوی اور ان  کے ہم قبیل اسلاف نے ایک جھوٹی عمارت کھڑی کرنے کی کوشش کی ہے۔ ہر معاملے میں قرآن و حدیث ایک متفقہ عقیدہ دیتا ہے۔ اگر کبھی کسی آیت یا حدیث کے الفاظ سے بظاہر کسی اور آیت یا حدیث کا انکار ہو رہا ہو تواس کی تاویل کتاب اﷲکے دئیے ہوئے مؤقف کے مطابق کی جاتی ہے۔اس بارے میں قرآن و حدیث کا یہی بیان ہے کہ اﷲ کی آیات کو بیچا نہ جائے، اس کوکسی انداز میں بھی کمائی کا ذریعہ نہ بنایا جائے، اس کے عوض کسی قسم کا کوئی تحفہ نہ لیا جائے اور نہ کوئی دوسرا دنیاوی فائدہ اٹھایا جائے، اذان فی سبیل اﷲ دی جائے، اس پر کوئی معاوضہ نہ دیا لیا جائے، دینی علم کو صرف اﷲ کی رضا کے لیے سیکھا جائے،جس کسی نے اسے دنیا کمانے کے لیے سیکھا تواس پر جنت کی خوشبو بھی حرام ہے۔

یہ سار ی باتیں ہمیں رسول اﷲ ﷺ کے ذریعے ہی پہنچی ہیں۔ اب کیا اس بات کا تصور کیا جا سکتا ہے کہ اﷲ کے رسول ﷺ اس کے خلاف بھی کوئی بات فرما دیں گے! رسول اﷲﷺ کے اس فرمان کو اسی انداز میں قبول کیا جائے گا کہ جس انداز میں خود انہوں نے اس پر عمل کیا ہوگا۔جبکہ نبی ﷺ سے زیادہ اللہ تعالیٰ کے حکم کو جو سورہ الانعام آیت نمبر 90 میں ہے عمل کرنے والا اور کون ہو سکتا ہے:

﴿أُوْلَٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ هَدَى ٱللَّهُۖ فَبِهُدَىٰهُمُ ٱقۡتَدِهۡۗ قُل لَّآ أَسۡ‍َٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ أَجۡرًاۖ إِنۡ هُوَ إِلَّا ذِكۡرَىٰ لِلۡعَٰلَمِينَ﴾

[الأنعام: 90]

’’یہی لوگ ایسے تھے جن کو اللہ تعالٰی نے ہدایت کی تھی  سو آپ بھی ان ہی کے طریق پر چلیئے  آپ کہہ دیجیئے کہ میں تم سے اس (قرآن) پر کوئی معاوضہ نہیں چاہتا  یہ تو صرف تمام جہان والوں کے واسطے ایک نصیحت ہے‘‘  ۔

سور ہ احزاب میں اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِمَنْ كَانَ يَرْجُو اللَّهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ وَذَكَرَ اللَّهَ كَثِيرًا﴾

[الأحزاب: 21]

’’ اور تمہارے لیے رسول کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے، ہر اس شخص کے لیے جو اﷲ(کے سامنے)اور روز آخرت (سرخروئی)کی توقع رکھتا  ہو اور کثرت سے اﷲ کا ذکر کرنے والا ہو‘‘

یہ علماء فرقہ  اب فیصلہ کرلیں کہ وہ کن لوگوں میں ہیں؟اگریہ اﷲ کے ملنے اور قیامت کے آنے پر ایمان رکھتے ہیں تو نبی ﷺ کا طریقہ اپنائیں۔

رسول اﷲﷺنے یہ جملہ فرمایا کہ کتاب اﷲ پر اجر لینا سب سے زیادہ بہتر ہے، لیکن فقر و فاقہ، مصیبت و افلاس میں گھرے ہوئے کسی صحابی کو امامت،اذان یا تعلیم القرآن پر اجرت نہیں دی!                                 کیا رسول اﷲﷺ کا یہ اسوہ قابل اتباع نہیں ؟ صحابہ کرام ؓ بھی اس جملے کے معنی نہیں سمجھ پائے اور دین سے دنیا کمانے کے بجائے آخرت خریدنے میں ہی مصروف رہے! لیکن سمجھے توبس علم کے یہ ’’سمندروپہاڑ‘‘ ہی سمجھے کہ اس جملے میں کیا بات پنہاں ہے!

قرآن و حدیث کی رو سے جو بات اس جملے سے واضح ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ اجر کمانے کے لائق بہترین چیز اﷲ کی کتاب ہے۔اس سلسلے میں قرآن کی آیات اور احادیث پیش کرنے کی چنداں ضرورت نہیں کہ قرآن پڑھنے ،اس کے مطابق اپنے عقائد بنانے اوراس پر عمل کرنے والوں کے لیے اﷲ نے کتنا بہترین اجر تیارکر رکھا ہے جو آخرت میں ملے گا۔ نبی ﷺ نے فرمایا :

اللَّهُمَّ لَا عَيْشَ إِلَّا عَيْشُ الْآخِرَهْ

( بخاری ، کتاب الجہاد و السیر ، بَابُ البَيْعَةِ فِي الحَرْبِ أَنْ لاَ يَفِرُّوا، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: عَلَى المَوْتِ )

’’ اے میرے اللہ زندگی نہیں ہے مگر  بس آخرت کی زندگی ہے ‘‘۔

دنیا میں اس کتاب سے جو اجر ملتا ہے وہ یہی ہے کہ اﷲ اس کتاب پر عمل کرنے والوں کو ’’سربلند‘‘کر دیتا ہے۔جیسا کہ نبیﷺ نے فرمایا:

اِنَّ اﷲَ یَرْفَعُ بِھٰذَا الْکِتَابِ اَقْوَامًا وَّ یَضَعُ بِہٖ اٰ خَرِیْنَ

(مسلم: کتاب صلوٰۃ،باب فضل من یقوم بالقرآن۔۔۔)

’’ ۔۔۔ اﷲ تعالیٰ اس کتاب کے ذریعے قوموں کو سربلندی عطا فرماتا ہے اور دوسروں کو اس کے ذریعے پستی میں ڈالدیتا ہے‘‘۔

دنیا میں قرآن پر جو صلہ ملتا ہے وہ یہی ہے کہ اس کو پڑھنے اور اس پر عمل کرنے والی قوموں کو اﷲ تعالیٰ اس دنیا میں سربلندی عطا فرماتا ہے اور اس کے مقابلے میں جو قومیں اس کے مطابق عمل نہیں کرتیں ،انہیں اس دنیا میں ذلیل و پست کردیا جاتا ہے، جیسا کہ آج یہ کلمہ گو امت اس دنیا میں پست کردی گئی ہے۔لہٰذا دینی امور پر اجرت کو جائز قرار دینا محض جہالت اور افترا ء پردازی ہے،خود نبی ﷺکے اسوہ اور صحابہ کرام ؓ   کا طرز عمل اس کی نفی کرتا ہے۔

اگر نبی ﷺ کا اس جملے سے مطلب نعوذوباللہ قرآن پر  دنیاوی اجرت لینا تھا تو یہ سارے ملکر  وہ  صحیح احادیث پیش کردیں جس میں نبی ﷺ کا کسی صحابی کو امامت ، تعلیم القرآن پرتنخواہ، اجرت، وظیفہ یا تحفہ دینا ثابت ہو۔

Categories
Uncategorized

صفات کا شرک

صفات کا شرک :

قرآن و حدیث سے دوری کی وجہ سے اس  امت میں کافی غلط عقائدداخل ہو گئے ہیں۔ ان میں ایسے بھی عقائد ہیں کہ جو شرک پر مبنی ہیں۔اللہ تعالیٰ کی بہت سی صفات ہیں جن کا ذکر صراحتاً قرآن میں موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنی تمام صفات میں علی وجہ الکمال یکتا و یگانہ ہے اور اُس کی تمام صفات نہ صرف یہ کہ ذاتی ہیں بلکہ ما فوق الاسباب  (کسی سبب کے بغیر)بھی ہیں ۔اللہ تعالیٰ کی کسی صفت میں بھی مخلوق اُس کے مشابہ نہیں ہوسکتی۔اللہ تعالیٰ کی صفات کی بابت مختلف ادوار میں لوگ مختلف انداز کی گمراہیوں کا شکار ہوتے رہے ہیں، لہٰذا ضروری ہے کہ چند اہم نکات کی نشاندہی کردی جائے:

  • اللہ ہر نقص سے پاک اور مخلوق کے مشابہ ہونے سے پاک ہے، اور مخلوق کسی بھی صفت میں اُس کے مشابہ ہونے سے عاجز ہے۔
  • اللہ کے جو اسماء و صفات ،قرآن و احادیث صحیحہ سے ثابت ہیں ان پر بغیر کسی کمی، زیادتی، تحریف یا تعطیل (نفی) کے ایمان رکھنا  ضروری ہے۔
  • اللہ کی صفات کی مکمل حقیقت اور کیفیت کا ادراک کسی کے لیے ممکن نہیں۔

اللہ تعالیٰ کی کسی بھی صفت میں کسی بھی مخلوق کو اُس کے مشابہ یا برابر سمجھنا شرک فی الصفات (صفات کا شرک) کہلاتا ہے۔اور یہ شرک تقریباً ہر دور میں کتابی اور غیر کتابی مشرکین میں پایا جاتا رہا ہے۔

اللہ تعالیٰ اور مخلوق کی صفات میں مشابہت کی وضاحت

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے کئی مقامات پر مخلوق کے لیے بھی انہی صفات کا نام استعمال کیا ہے جو خالق کائنات کے لیے کیا گیا ہے،  جس سے کچھ مکاتب فکر نے تو  وہاں سے استدلال کرکے صفات کے شرک کا باب ہی کھول لیا۔ اور کچھ کے نزدیک اس حوالے سے مختلف نظریات پائے جاتے ہیں۔ دراصل صِفات کے ناموں کی ” لفظی مُشابہت” کے ز ُمرے میں بھی کِسی اور سے منسوب نہیں کی جا سکتیں ، یا یوں کہہ لیجیے ” لفظی مُشابہت” کے باب میں سے بھی اللہ کے عِلاوہ کِسی اور کو اِس صِفات سے متصف نہیں کہا ، لکھا ، سمجھا جاسکتا ،کچھ صاحبان ، اللہ عزّ و جلّ کی صِفات ، اور مخلوق میں کچھ صِفات کے ناموں کی مُشابہت کی وجہ سے یہ سمجھتے ہیں کہ گویا ، معاذ اللہ ، دونوں کی ، یعنی خالق اور مخلوق کی صِفات بھی ایک ہی جیسی ہیں ،یا ، خالق کی صِفات مخلوق بھی اپنا سکتی ہے ،اور اِس طرح وہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی کِسی مخلوق کو ، کِسی یا کچھ صِفات میں اُس کے خالق جیسا ہی سمجھنے لگتے ہیں ،اور کچھ لوگ ، کچھ صِفات کے ناموں کی مُشابہت کہ وجہ سے خیال کرتے ہیں کہ ، اللہ تعالیٰ کی جِن صِفات کا کِسی اور مخلوق میں ہونے کا ذِکر کیا گیا ہے ، اور وہ ذِکر اِس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ کی کِسی بھی دُوسری صِفت کِسی مخلوق میں مانا جا سکتا ہے ، اور ایسا ماننا شرک نہیں ہے ۔

یہ خیال ، محض خیال ہی ہے ، اِس کا حقیقت سے سوائے مخالفت کے کوئی اور تعلق نہیں ۔کیونکہ ، اللہ جلّ شانہ کی صِفات کی کیفیت اُس کی ذات پاک کی شان کے مُطابق ہے ، اور مخلوق میں اُسی نام کی کِسی صِفت کا موجود ہونا ، اُس مخلوق کے شخصیت کے مُطابق ، دونوں میں سوائے ناموں کے کوئی مشابہت نہیں ۔خالق کی صِفات ” لفظی مُشابہت” کے ز ُمرے میں بھی کِسی اور سے منسوب نہیں کی جا سکتیں ، یا یوں کہہ لیجیے ” لفظی  مُشابہت” کے باب میں سے بھی اللہ تبارک وتعالیٰ کے عِلاوہ کِسی اور کو اُن صِفات سے مُتصف نہیں کہا ، لکھا ، سمجھا جاسکتا ،سوائے کِسی ایسی صِفت کے نام کی حد تک جِس صِفت کا مخلوق میں ہونے کا ذِکر خُود خالق اللہ عزّ و جلّ نے فرمایا ہو یا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی ز ُبان مُبارک سے اُس کی خبر ادا کروائی ہو۔

غور فرمایے کہ اللہ تعالیٰ بھی سمیع ہے بندہ بھی سمیع ہے، اللہ تعالیٰ بھی رؤف ہے، اللہ تعالیٰ کے بندوں میں بھی رؤف ہیں، اللہ تعالیٰ بھی رحیم ہے ، اور اللہ کے بندوں میں بھی رحیم ہیں ،لیکن ، اللہ تعالیٰ کا سمیع ہونا اُس کی ذات پاک کی شان ، اور اُس کی اپنی صِفات کے مُطابق ہے اور بندے کا سمیع ہونا اُس کو دِی گئی صِفات کے اعتبار سے۔

اگر کوئی یہ سمجھے کہ جِس طرح اللہ تعالٰی نے خود کو روؤف اور رحیم فرمایا ہے ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی صِفات میں بھی ، روؤف اور رحیم ہونے کی صِفات کا ذِکر فرمایا ہے ، لہذا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم میں اللہ سُبحانہ ُ و تعالٰی کی صِفات کے جیسی دیگر صِفات بھی تھیں ، یا ہیں ۔جیسا کہ کچھ لوگ ، معاذ اللہ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کو ہر جگہ حاضر وناضر سمجھتے ہیں ، دُنیا میں تشریف لا کر لوگوں کی مُشکلات دُور کرنے والا سمجھتے ہیں ،اللہ تعالیٰ کے عِلم ء غیب کا مکمل عِلم رکھنے والا سمجھتے ہیں ، جبکہ ، اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے بارے میں ایک قانون مقرر کر رکھا ہے کہ:

﴿۔۔۔ لَيۡسَ كَمِثۡلِهِۦ شَيۡء۔۔۔ ﴾

[الشورى: 11]

’’ اس کی مثال جیسی (کائنات) میں کوئی چیز نہیں ‘‘

یاد رکھیے ، اور خوب اچھی طرح سے یاد رکھیے کہ اللہ سُبحانہ ُ و تعالیٰ کی ذات پاک ، صِفات مُبارکہ اور ناموں سے متعلق صِرف وہی بات کرنا دُرُست ہے جِس بات کو اللہ تعالیٰ یا اُس کے رسول  محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی تائید مُیسر ہو۔اللہ تعالیٰ کی کِسی صِفت کو، کِسی معاملے کو ، کِسی کام کو سمجھنے ، یا ، سمجھانے کے لیے کِسی مخلوق کی کِسی صِفت ، کِسی معاملے، کِسی کام سے مثابہت دینا، اُسے مثا ل بنانا دُرُست نہیں۔ اِسی طرح اللہ تبارک و تعالیٰ کی صِفات کے ناموں کی مُشابہت کی وجہ سے کِسی مخلوق کو اُنہی صِفات سے مُتصف سمجھنا بھی قطعاً نا دُرُست ہے ، یا کِسی بھی مخلوق کو اللہ کی صِفات میں سے کوئی صِفت اپنا لینے کے قابل سمجھنا بھی قعطاً نا دُرُست ہے ، بلکہ کِسی بھی مخلوق میں ، اللہ کی صِفات جیسی کوئی صِفت ماننا ، شرک ہے ، خواہ کوئی اِس شرک کو عطائی کہہ کر چھپانے کی کوشش کرے ۔

اللہ تعالیٰ  کی صِفات، اور مخلوق کی صِفات کے ناموں کی مُشابہت سے اُن صِفات کی کیفیات کا ایک جیسا ہونا قطعا مراد نہیں ہوتا ، اور نہ ہی کِسی طور لازم ہے ، اللہ عزّ و جلّ کی صِفات اُس کی ذات پاک اور اُس کی شان کی مُطابق ہیں ، اور مخلوق کو دِی گئی صِفات اُس کی شخصیت کے مُطابق ۔

اس حوالے سے چند اہم نکات ہمیشہ ذہن میں رکھنے چاہیے ہیں کہ:

  1. اللہ تعالی کی تمام صفات مطلق ہیں ۔یعنی  لامحدود ہیں  جبکہ  مخلوقات کی صفات محدود اور عارضی  ہیں ۔
  2. خالق اور مخلوق کی صفات میں کسی بھی قسم کی کوئی مماثلت یا مشابہت نہیں۔
  3. اللہ تعالی کی تمام صفات ذاتی ہیں ۔اور مخلوق کی صفات  عطائی ہیں۔
  4. اللہ تعالی کی تمام صفات ہمیشہ سے ہیں اور ہمیشہ کے لیے کامل ہیں۔جبکہ جملہ مخلوقات کی صفات حادث اور فانی  ہیں ۔

اللہ تعالیٰ کی صفات جن کا ذکر قرآن میں کیا گیا ہے

اللہ تعالیٰ کی  صفات جن کا ذکر قرآن میں کیا گیا ہے ،اُن میں سے چند  درج ذیل ہیں:

ہر بات کو جاننے والا(العلیم)

اِس کائنات میں حقیقی علم کا سرچشمہ صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ وہ اوّل تا آخر ، ظاہرو باطن حتیٰ کہ دلوں میں موجود سے وسوسوں سے بھی باخبر ہے۔مالک الملک کے علاوہ کسی بھی اور ہستی کے لیے اِن میں سے کوئی بھی صفت تسلیم کرلیا درحقیقت اللہ تعالیٰ کی اِس صفت میں شرک قرار پائے گا۔

اس کے مقابلے میں غلط نظریات:

اللہ کے علاوہ کسی اور کو اولین اور آخرین کے علم کا حامل سمجھنا، اللہ کے علاوہ کسی اور کو دل کی باتوں سے باخبر سمجھنا، یا کہانت پر یقین رکھنا۔

غیب کا جاننے والا(عالم الغیب)

اس کائنات میں صرف اللہ تعالیٰ ہی عالم الغیب ہے ، اور اِس بات کا ذکر پروردگار نے صراحتاً کتاب اللہ میں کیا ہے۔ چنانچہ فرمایا:

﴿قُل لَّا يَعۡلَمُ مَن فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ ٱلۡغَيۡبَ إِلَّا ٱللَّهُۚ ۔۔۔﴾

[النمل: 65]

«کہہ دو کہ جو لوگ آسمانوں اور زمین میں ہیں اللہ  کے سوا غیب کی باتیں نہیں جانتے۔۔۔»

انبیاء علیہم السلام کو غیب کی جن باتوں کی  بذریعہ وحی اطلاع فرماتا ہے، اُس کا ذکر کچھ اس انداز میں کیا ہے:

﴿عَٰلِمُ ٱلۡغَيۡبِ فَلَا يُظۡهِرُ عَلَىٰ غَيۡبِهِۦٓ أَحَدًا؀إِلَّا مَنِ ٱرۡتَضَىٰ مِن رَّسُولٖ فَإِنَّهُۥ يَسۡلُكُ مِنۢ بَيۡنِ يَدَيۡهِ وَمِنۡ خَلۡفِهِۦ رَصَدٗا﴾

[الجن: 26-27]

«غیب (کی بات) جاننے والا ہے اور کسی پر اپنے غیب کو ظاہر نہیں کرتا۔ہاں جس پیغمبر کو پسند فرمائے تو اس (کو غیب کی باتیں بتا دیتا اور اس) کے آگے اور پیچھے نگہبان مقرر کر دیتا ہے۔»

البتہ غیب کی خبر اسی وقت تک غیب کہلاتی ہے جب تک بتائی نہ جائے، جب بتادی جائے تو غیب شہود ہوجاتا ہے اور وہ خبر بن جاتی ہے۔ اِس بنیاد پر چند مکاتب فکر نے جو نبی ﷺ کو عالم الغیب ہونے کے قائل ہیں وہ صریح غلطی پر ہیں۔ چہ جائیکہ نبی ﷺ کو غیب کی خبروں سے بذریعہ وحی مطلع کیا گیا لیکن اِس کے باوجود بھی انہیں کسی بھی انداز میں عالم الغیب نہیں کہا جاسکتا کیونکہ عالم الغیب صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ اور قرآن میں خود نبی ﷺ کے اپنی ہی زبان سے اپنے عالم الغیب ہونے کا ذکر صراحتاً موجود ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿قُل لَّآ أَقُولُ لَكُمۡ عِندِي خَزَآئِنُ ٱللَّهِ وَلَآ أَعۡلَمُ ٱلۡغَيۡبَ وَلَآ أَقُولُ لَكُمۡ إِنِّي مَلَكٌۖ إِنۡ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَىٰٓ إِلَيَّۚ قُلۡ هَلۡ يَسۡتَوِي ٱلۡأَعۡمَىٰ وَٱلۡبَصِيرُۚ أَفَلَا تَتَفَكَّرُونَ﴾

[الأنعام: 50]

«کہہ دو کہ میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس الله تعالیٰ کے خزانے ہیں اور نہ (یہ کہ) میں غیب جانتا ہوں اور نہ تم سے یہ کہتا کہ میں فرشتہ ہوں۔ میں تو صرف اس حکم پر چلتا ہوں جو مجھے (اللہ  کی طرف سے) آتا ہے۔ کہہ دو کہ بھلا اندھا اور آنکھ والے برابر ہوتے ہیں؟ تو پھر تم غور کیوں نہیں کرتے۔»

غوث الاعظم اور فریاد رس

اِس کائنات میں صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے جو دور اور قریب سے بغیر کسی سبب اور واسطے کے ہر ہر بات کو سننے اور جاننے والا ہے۔ چاہے ایک بے قرار شخص جو قوت گویائی سے محروم ہی کیوں نہ ہو، وہ بھی جب اپنےدل میں پروردگار عالم سے فریاد کرتا ہے، تو اسے بھی سننے اور قبول کرنے والی ذات اللہ تعالیٰ ہی کی ہے۔ چنانچہ مالک نے مشرکین سے سوال کیا ہے:

﴿أَمَّن يُجِيبُ ٱلۡمُضۡطَرَّ إِذَا دَعَاهُ وَيَكۡشِفُ ٱلسُّوٓءَ وَيَجۡعَلُكُمۡ خُلَفَآءَ ٱلۡأَرۡضِۗ أَءِلَٰهٞ مَّعَ ٱللَّهِۚ قَلِيلٗا مَّا تَذَكَّرُونَ﴾

[النمل: 62]

«بھلا کون بیقرار کی التجا قبول کرتا ہے۔ جب وہ اس سے دعا کرتا ہے اور (کون اس کی) تکلیف کو دور کرتا ہے اور (کون) تم کو زمین میں (اگلوں کا) جانشین بناتا ہے (یہ سب کچھ اللہ کرتا ہے) تو کیااللہ کے ساتھ کوئی اور معبود بھی ہے (ہرگز نہیں مگر) تم بہت کم غور کرتے ہو۔»

غوثِ اعظم کا مطلب ہے کہ سب سے بڑا فریاد سننے والا۔ بے شک سب سے بڑا فریاد سننے والا اللہ پاک ہے۔ بے شک اللہ کے سوا کوئی غوثِ اعظم نہیں۔ اگر کسی اور ہستی کو غوث الاعظم سمجھا جائے گا تو یہ اللہ تعالیٰ کی صفات میں شرک ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌۖ أُجِيبُ دَعۡوَةَ ٱلدَّاعِ إِذَا دَعَانِۖ فَلۡيَسۡتَجِيبُواْ لِي وَلۡيُؤۡمِنُواْ بِي لَعَلَّهُمۡ يَرۡشُدُونَ﴾

[البقرة: 186]

«اور (اے پیغمبر) جب تم سے میرے بندے میرے بارے میں دریافت کریں تو (کہہ دو کہ) میں تو (تمہارے) پاس ہوں جب کوئی پکارنے والا مجھے پکارتا ہے تو میں اس کی دعا قبول کرتا ہوں تو ان کو چاہیئے کہ میرے حکموں کو مانیں اور مجھ پر ایمان لائیں تاکہ نیک رستہ پائیں»

چونکہ صرف اللہ ہی غوث الاعظم ہے، اس لیے پکارا جانا بھی صرف پروردگار ہی کا حق ہے، یہ  نصیحت نبی ﷺ  نے ابن عباس ؓ کو نصیحت کرتے ہوئے کہی تھی کہ:

۔۔۔إِذَا سَأَلْتَ فَاسْأَلِ اللَّهَ، وَإِذَا اسْتَعَنْتَ فَاسْتَعِنْ بِاللَّهِ۔۔۔

(سنن ترمذی: أَبْوَابُ صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالرَّقَائِقِ وَالْوَرَعِ)

’’۔۔۔جب بھی سوال کرنا تو اللہ ہی سے سوال کرنا، اور جب بھی مدد چاہنا تو اللہ ہی مدد چاہنا۔۔۔‘‘

نافع و ضار  (نفع اور نقصان پر قادر)

نفع اور نقصان پر قادر ہستی صرف اللہ تعالیٰ ہی کی ہے۔ کوئی بھی انسان دوسرے انسان کی مدد محض اللہ تعالیٰ کی جانب سے عطا کردہ اسباب کے تحت ہی کرسکتا ہے، جب سبب ختم ہوجائے تو مدد نہیں جاسکتی۔ لیکن اللہ تعالیٰ مطلقاً نفع اور نقصان پر قادر ہستی ہے جو مافوق الاسباب کسی کی بھی مدد کرنے پر قادر ہے، اور پروردگار کی جانب سے ڈالی گئی آزمائش سے نکلنے پر مخلوق میں سے کوئی بھی ہستی قادر نہیں۔ چنانچہ فرمایا:

﴿وَإِن يَمۡسَسۡكَ ٱللَّهُ بِضُرّٖ فَلَا كَاشِفَ لَهُۥٓ إِلَّا هُوَۖ وَإِن يُرِدۡكَ بِخَيۡرٖ فَلَا رَآدَّ لِفَضۡلِهِۦۚ يُصِيبُ بِهِۦ مَن يَشَآءُ مِنۡ عِبَادِهِۦۚ وَهُوَ ٱلۡغَفُورُ ٱلرَّحِيمُ﴾

[يونس: 107]

«اور اگراللہ تم کو کوئی تکلیف پہنچائے تو اس کے سوا اس کا کوئی دور کرنے والا نہیں اور اگر تم سے بھلائی کرنی چاہے تو اس کے فضل کو کوئی روکنے والا نہیں۔ وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے فائدہ پہنچاتا ہے اور وہ بخشنے والا مہربان ہے۔»

ایک اور مقام پر فرمایا:

﴿قُلۡ أَرَءَيۡتَكُمۡ إِنۡ أَتَىٰكُمۡ عَذَابُ ٱللَّهِ أَوۡ أَتَتۡكُمُ ٱلسَّاعَةُ أَغَيۡرَ ٱللَّهِ تَدۡعُونَ إِن كُنتُمۡ صَٰدِقِينَ؀بَلۡ إِيَّاهُ تَدۡعُونَ فَيَكۡشِفُ مَا تَدۡعُونَ إِلَيۡهِ إِن شَآءَ وَتَنسَوۡنَ مَا تُشۡرِكُونَ﴾

[الأنعام: 40-41]

«کہو ! بھلا دیکھو تو اگر تم پر اللہ  کا عذاب آجائےیا قیامت آموجود ہو تو کیا تم (ایسی حالت میں) اللہ کے سوا کسی اور کو پکارو گے؟ اگر سچے ہو (تو بتاؤ)۔ بلکہ (مصیبت کے وقت تم) اسی کو پکارتے ہو تو جس دکھ کے لئے اسے پکارتے ہو۔ وہ اگر چاہتا ہے تو اس کو دور کردیتا ہے اور جن کو تم شریک بناتے ہو (اس وقت) انہیں بھول جاتے ہو۔»

اس مسئلے کو مزید صراحت کے ساتھ سمجھانے کے لیے مالک نے نبی ﷺ کے نافع  و ضار ہونے کی نفی بھی قرآن میں بیان فرمادی:

﴿قُل لَّآ أَمۡلِكُ لِنَفۡسِي ضَرّٗا وَلَا نَفۡعًا إِلَّا مَا شَآءَ ٱللَّهُۗ لِكُلِّ أُمَّةٍ أَجَلٌۚ إِذَا جَآءَ أَجَلُهُمۡ فَلَا يَسۡتَ‍ٔۡخِرُونَ سَاعَةٗ وَلَا يَسۡتَقۡدِمُونَ﴾

[يونس: 49]

«کہہ دو کہ میں اپنے نقصان اور فائدے کا بھی کچھ اختیار نہیں رکھتا۔ مگر جواللہ  چاہے۔ ہر ایک امت کے لیے (موت کا) ایک وقت مقرر ہے۔ جب وہ وقت آجاتا ہے تو ایک گھڑی بھی دیر نہیں کرسکتے اور نہ جلدی کرسکتے ہیں۔»

اللہ کے علاوہ کسی اور کو پکارنے کے شرک ہونے کی صراحت بھی مالک نے اپنی کتاب میں بیان فرمادی ہے۔ چنانچہ فرمایا:

﴿فَإِذَا رَكِبُواْ فِي ٱلۡفُلۡكِ دَعَوُاْ ٱللَّهَ مُخۡلِصِينَ لَهُ ٱلدِّينَ فَلَمَّا نَجَّىٰهُمۡ إِلَى ٱلۡبَرِّ إِذَا هُمۡ يُشۡرِكُونَ﴾

[العنكبوت: 65]

«پھر جب یہ کشتی میں سوار ہوتے ہیں تو اللہ ہی  کو پکارتے (اور) خالص اُسی کی عبادت کرتے ہیں۔ لیکن جب وہ اُن کو نجات دے کر خشکی پر پہنچا دیتا ہے تو جھٹ شرک کرنے لگے جاتے ہیں۔»

غلط نظریات

اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور کو مافوق الاسباب مدد کے لیے پکارنا، جیسے یارسول مدد، یا علی مدد، یا غوث مدد، یا پیر بابا مدد، وغیرہ۔

ہمیشہ زندہ رہنے والا(الحی)

ہمیشہ زندہ رہنے والی ذات صرف اور صرف اللہ تعالیٰ ہی کی ہے۔

﴿هُوَ ٱلۡحَيُّ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ فَٱدۡعُوهُ مُخۡلِصِينَ لَهُ ٱلدِّينَۗ ٱلۡحَمۡدُ لِلَّهِ رَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ﴾

[غافر: 65]

«وہ زندہ ہے (جسے موت نہیں) اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں تو اس کی عبادت کو خالص کر کر اسی کو پکارو۔ ہر طرح کی تعریف اللہ ہی کو (سزاوار) ہے جو تمام جہان کا پروردگار ہے۔»

باقی ہر شے کو ایک مقررہ وقت تک کے لیے پیدا کیا گیا۔ ہر انسان ایک مقررہ وقت تک کے لیے دنیا میں بھیجا گیا اور اُس کے بعد اُسے موت جیسی اٹل حقیقت سے سابقہ پیش آنا ہے۔

﴿كُلُّ نَفۡسٖ ذَآئِقَةُ ٱلۡمَوۡتِۖ ثُمَّ إِلَيۡنَا تُرۡجَعُونَ﴾

[العنكبوت: 57]

«ہر متنفس موت کا مزہ چکھنے والا ہے۔ پھر تم ہماری ہی طرف لوٹ کر آؤ گے۔»

اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور کے لیے اِس صفت کو ماننا اللہ تعالیٰ کی اِس صفت میں شرک ہے۔ مزید یہ کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور کے لیے یہ نظریہ رکھنا کہ اُسے موت نہیں آئے گی، بھی اسے  الحی ماننے کے مترادف ہے جیسا کہ نبی ﷺ کی وفات کے موقعے پر ابو بکر صدیق ؓ کے خطبے سے واضح ہے۔ جب  نبی ﷺ کی وفات  کی خبر سن کر عمر رضی اللہ عنہ  نے جذبات میں آ کر یہ کہا  کہ جو یہ کہے کہ نبی ﷺ کو موت آگئی  تومیں اس کی گردن مار دوں گا ۔ یہ شور سن کی ابوبکر رضی اللہ عنہ حجرے سے باہر آئے اور عمر رضی اللہ عنہ کو خاموش ہونے کے لیے کہا  جب وہ منع نہیں ہوئے تو  ابو بکر رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیا اللہ کی حمد و ثناء کے بعد فرمایا :

اَلَا مَنْ کَانَ(مِنْکُمْ)یَعْبُدُ مُحَمَّدًا ﷺ فَاِنَّ مُحَمَّدًا ﷺ قَدْ مَاتَ وَ مَنْ کَانَ(مِنْکُمْ)یَعْبُدُ اللہَ فَاِنَّ اللہَ حَیٌّ لَّا یَمُوْتُ

صحیح البخاری :  کتاب الجنائز ،باب الدخول علی المیت بعد الموت

خبردار جو (تم میں سے) جو محمد ﷺ  کی عبادت کرنے والا ہے ۔ (جان لے کہ ) بے شک محمد ﷺ کو موت آگئی اور جو  کوئی ( تم میں سے ) اللہ  کی عبادت کرنے والا ہے  (جان لے کہ)  اللہ زندہ ہے اور اسے موت نہیں آتی۔

اس کے بعد ابو بکر رضی اللہ عنہ نے یہ آیات تلاوت فرمائیں۔

﴿إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُمْ مَيِّتُونَ﴾

[الزمر: 30]

تم کو بھی موت آئے گی اور ان سب بھی موت آئے گی ۔

﴿وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ  أَفَإِنْ مَاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ  وَمَنْ يَنْقَلِبْ عَلَى عَقِبَيْهِ فَلَنْ يَضُرَّ اللَّهَ شَيْئًا  وَسَيَجْزِي اللَّهُ الشَّاكِرِينَ﴾

[آل عمران: 144]

محمدﷺ اس کے سوا کچھ  نہیں کہ بس ایک رسول ہیں ۔ ان سے پہلے بھی بہت سے رسول گزرے ہیں ، تو کیا اگر یہ مر جائیں یا شہید کر دیئے جائیں  تو تم الٹے پیروں پھر جاؤ گے؟

اس خطبہ  میں  ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اللہ  کی صفت الحیی کو لا کر  نبی ﷺ کا الحی ہونے کا انکار کیا ہے پھر ساتھ ہی عبادت کا ذکر کرکے اسے  اللہ کی اس صفت  الحی میں شریک ٹھہرانا قرار دیا ہے۔

رزق عطا فرمانے والا

اللہ تعالیٰ ہی الرازق ہے۔ وہی مخلوق کو کھیلاتا پیلاتا خود نہیں کھاتا وہی اولاد یں دینے والا جھولیاں بھرنے والا ہے۔  وہی جس کو چاہتا ہے بے حساب رزق دیتا ہے اور جس کا چاہتا ہے رزق روک لیتا ہے۔چنانچہ   فرمایا:

﴿وَمَا مِن دَآبَّةٖ فِي ٱلۡأَرۡضِ إِلَّا عَلَى ٱللَّهِ رِزۡقُهَا وَيَعۡلَمُ مُسۡتَقَرَّهَا وَمُسۡتَوۡدَعَهَاۚ كُلّٞ فِي كِتَٰبٖ مُّبِينٖ﴾

[هود: 6]

«اور زمین پر کوئی چلنے پھرنے والا نہیں مگر اس کا رزق اللہ کے ذمے ہے وہ جہاں رہتا ہے، اسے بھی جانتا ہے اور جہاں سونپا جاتا ہے اسے بھی۔ یہ سب کچھ کتاب روشن میں (لکھا ہوا) ہے۔»

ایک اور مقام پر تو مالک نے بندوں سے سوالیہ انداز میں پوچھا ہے کہ کیا زمین و آسمان میں تم کوئی اور بھی رازق پاتے ہو؟

﴿يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ ٱذۡكُرُواْ نِعۡمَتَ ٱللَّهِ عَلَيۡكُمۡۚ هَلۡ مِنۡ خَٰلِقٍ غَيۡرُ ٱللَّهِ يَرۡزُقُكُم مِّنَ ٱلسَّمَآءِ وَٱلۡأَرۡضِۚ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَۖ فَأَنَّىٰ تُؤۡفَكُونَ﴾

[فاطر: 3]

«اے لوگو! جو انعام تم پر اللہ تعالیٰ نے کئے ہیں انہیں یاد کرو۔ کیا اللہ کے سوا اور کوئی بھی خالق ہے جو تمہیں آسمان وزمین سے روزی پہنچائے؟ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ پس تم کہاں الٹے جاتے ہو۔ »

کائنات کی ہر چیز کی ضرورت پوری کرنے والا اللہ ہے۔ انس و جن ہی نہیں بلکہ ہر چیز ،ہر جاندار کو رزق دینے والا اللہ ہے ۔ جانوروں کو ،آسمان میں اڑنے والے پرندوں کو ، سمندروں میں بسنے والی مخلوق کو کون رزق دیتا ہے بے شک اللہ تعالیٰ ہی دیتا ہے۔

داتا (الوھاب) اور گنج بخش (خزانے بخشنے والا)

داتا کا مطلب ’عطا کرنے والا‘ ( اللہ کی صفت ’الوھاب‘) جبکہ گنج بخش کا مطلب ’خزانے بخشنے والا‘ ہوتا ہے۔ اور مافوق الاسباب یہ  کام صرف اللہ تعالیٰ ہی کرسکتا ہے۔ قرآن میں مالک نے اِس بات کو صراحت کے ساتھ بیان کردیا ہے کہ زمین و آسمان کے خزانے صرف اللہ تعالیٰ ہی ہاتھ میں ہیں:

﴿۔۔۔ وَلِلَّهِ خَزَائِنُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ۔۔۔﴾

[المنافقون: 7]

«۔۔۔اور آسمانوں اور زمین کے خزانے اللہ ہی کہ ہیں۔۔۔»

﴿أَمْ عِنْدَهُمْ خَزَائِنُ رَحْمَةِ رَبِّكَ الْعَزِيزِ الْوَهَّابِ﴾

«کیا ان کے پاس تمہارے پروردگار کی رحمت کے خزانے ہیں جو غالب اور بہت عطا کرنے والا ہے»

﴿وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا عِنْدَنَا خَزَائِنُهُ وَمَا نُنَزِّلُهُ إِلَّا بِقَدَرٍ مَعْلُومٍ﴾

[الحجر: 21]

«اور ہمارے ہاں ہر چیز کے خزانے ہیں اور ہم ان کو بمقدار مناسب اُتارتے رہتے ہیں»

کسی انسان کے یہ  شایان ِ شان ہی نہیں کہ اُس کے ہاتھ میں پروردگار کے خزانے ہوں۔ چنانچہ فرمایا:

﴿قُلْ لَوْ أَنْتُمْ تَمْلِكُونَ خَزَائِنَ رَحْمَةِ رَبِّي إِذًا لَأَمْسَكْتُمْ خَشْيَةَ الْإِنْفَاقِ  وَكَانَ الْإِنْسَانُ قَتُورًا﴾

[الإسراء: 100]

«کہہ دو کہ اگر میرے پروردگار کی رحمت کے خزانے تمہارے ہاتھ میں ہوتے تو تم خرچ ہوجانے کے خوف سے (ان کو) بند رکھتے۔ اور انسان دل کا بہت تنگ ہے»

غلط نظریات

اللہ تعالیٰ کے علاوہ دوسروں کو ما فوق الاسباب داتا، گنج بخش سمجھنا ،  کھیتوں مین ہریالی لانے والا، وغیرہ سمجھنا۔

اولادوں سے نوازنے والا

ما فوق السباب اولادوں سے نوازنے والی ذات صرف اللہ تعالیٰ ہی کی ہے، کسی اور نبی، ولی، بزرگ یا پیر کے بارے میں یہ عقیدہ رکھنا کہ اِن کے ہاتھ میں بھی یہ اختیار دیا گیا ہے، یہ اللہ تعالیٰ کی اِس صفت میں شرک ہے۔ چنانچہ فرمایا:

﴿لِلَّهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ  يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ  يَهَبُ لِمَنْ يَشَاءُ إِنَاثًا وَيَهَبُ لِمَنْ يَشَاءُ الذُّكُورَ﴾

[الشورى: 49]

«(تمام) بادشاہت اللہ ہی کی ہے آسمانوں کی بھی اور زمین کی بھی۔ وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔ جسے چاہتا ہے بیٹیاں عطا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے بیٹے بخشتا ہے۔»

اللہ کے علاوہ جن ہستیوں کو بھی پکارا جاتا ہے وہ کسی چیز کے بھی خالق نہیں۔ چنانچہ فرمایا:

﴿وَاتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ آلِهَةً لَا يَخْلُقُونَ شَيْئًا وَهُمْ يُخْلَقُونَ وَلَا يَمْلِكُونَ لِأَنْفُسِهِمْ ضَرًّا وَلَا نَفْعًا وَلَا يَمْلِكُونَ مَوْتًا وَلَا حَيَاةً وَلَا نُشُورًا﴾

[الفرقان: 3]

«اور (لوگوں نے) اس کے سوا اور معبود بنا لئے ہیں جو کوئی چیز بھی پیدا نہیں کرسکتے اور خود پیدا کئے گئے ہیں۔ اور نہ اپنے نقصان اور نفع کا کچھ اختیار رکھتے ہیں اور نہ مرنا ان کے اختیار میں ہے اور نہ جینا اور نہ مر کر اُٹھ کھڑے ہونا»

روز جزا کا مالک(مالک یوم الدین)

اللہ تعالیٰ ہی روز جزا کا مالک ہے۔ جیسا کہ فرمایا:

﴿مَٰلِكِ يَوۡمِ ٱلدِّينِ﴾

[الفاتحة: 4]

«(وہی اللہ)انصاف کے دن کا مالک ہے۔»

اُس دن کوئی بھی کام اُس کی مرضی کے بغیر نہ ہوگا، اور نہ ہی کوئی اُس کی اجازت کے بغیر کلام بھی کرسکے گا۔ شفاعت بھی اللہ تعالیٰ ہی کے حکم سے ہوگی اور صحیح ہوگی (یعنی  مشرکین کے لیے نہیں ہوگی، صرف انہی کے لیے ہوگی جن کے لیے مالک حکم عطا فرمائے)۔ چنانچہ فرمایا:

﴿يَوۡمَ يَقُومُ ٱلرُّوحُ وَٱلۡمَلَٰٓئِكَةُ صَفّٗاۖ لَّا يَتَكَلَّمُونَ إِلَّا مَنۡ أَذِنَ لَهُ ٱلرَّحۡمَٰنُ وَقَالَ صَوَابٗا﴾

[النبأ: 38]

«جس دن روح (الامین) اور فرشتے صف باندھ کر کھڑے ہوں گے تو کوئی بول نہ سکے گا مگر جس کو ( رحمٰن) اجازت بخشے اور اس نے بات بھی درست کہی ہو۔»

غلط نظریات

کسی بھی ہستی کے بارے میں یہ نظریہ رکھنا کہ وہ اللہ کے سامنے مچل جائیں گے اور اپنے ماننے والوں کو زبردستی جنت میں داخل کروادیں گے۔

مدبر الامور کائنات

اللہ تعالیٰ نے ہی اس کائنات کو تخلیق کیا ہے اور وہی اِس کائنات کے امور کو تن تنہا چلانے والا ہے۔

﴿إِنَّ رَبَّكُمُ ٱللَّهُ ٱلَّذِي خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٖ ثُمَّ ٱسۡتَوَىٰ عَلَى ٱلۡعَرۡشِۖ يُدَبِّرُ ٱلۡأَمۡرَ۔۔۔﴾

[يونس: 3]

«تمہارا پروردگار تواللہ  ہی ہے جس نے آسمان اور زمین چھ دن میں بنائے پھر عرش (تخت شاہی) پر قائم ہوا وہی ہر ایک کا انتظام کرتا ہے۔۔۔»

﴿قُلۡ مَن يَرۡزُقُكُم مِّنَ ٱلسَّمَآءِ وَٱلۡأَرۡضِ أَمَّن يَمۡلِكُ ٱلسَّمۡعَ وَٱلۡأَبۡصَٰرَ وَمَن يُخۡرِجُ ٱلۡحَيَّ مِنَ ٱلۡمَيِّتِ وَيُخۡرِجُ ٱلۡمَيِّتَ مِنَ ٱلۡحَيِّ وَمَن يُدَبِّرُ ٱلۡأَمۡرَۚ فَسَيَقُولُونَ ٱللَّهُۚ فَقُلۡ أَفَلَا تَتَّقُونَ﴾

[يونس: 31]

«(ان سے) پوچھو کہ تم کو آسمان اور زمین میں رزق کون دیتا ہے یا (تمہارے) کانوں اور آنکھوں کا مالک کون ہے اور بےجان سے جاندار کون پیدا کرتا ہے اور دنیا کے کاموں کا انتظام کون کرتا ہے۔ جھٹ کہہ دیں گے کہ اللہ۔ تو کہو کہ پھر تم (اللہ سے) ڈرتے کیوں نہیں؟»

Categories
Uncategorized

طلاق ثلٰثہ ( ایک مجلس کی تین طلاق)

ابتدائیہ:

﴿ٱلطَّلَٰقُ مَرَّتَانِۖ فَإِمۡسَاكُۢ بِمَعۡرُوفٍ أَوۡ تَسۡرِيحُۢ ۔ ۔ ۔ ﴾

[البقرة: 229]

’’ طلاق دوبار ہے، پھر یاتو اچھی طرح سے روک لینا ہے یا احسن طریقے سے رخصت کردینا ہے‘‘۔

﴿فَإِن طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُۥ مِنۢ بَعۡدُ حَتَّىٰ تَنكِحَ زَوۡجًا غَيۡرَهُۥۗ فَإِن طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَيۡهِمَآ أَن يَتَرَاجَعَآ إِن ظَنَّآ أَن يُقِيمَا حُدُودَ ٱللَّهِۗ وَتِلۡكَ حُدُودُ ٱللَّهِ يُبَيِّنُهَا لِقَوۡمٖ يَعۡلَمُونَ﴾

[البقرة: 230]

’’اگر شوہر نے اسے (تیسری) طلاق دے دی  تو اب وہ خاتون ا س کے لیے حلال نہیں جب تک کہ وہ کسی اور شخص سے نکاح نہ کرلے۔ اور اگر وہ بھی اسے طلاق دےدے تو ان دونوں پر کوئی گناہ نہیں کہ وہ دوبارہ نکاح کرلیں، اگر وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اللہ کی حدود کو قائم رکھ سکیں گے۔ یہ اللہ کی حدود ہیں جن کو وہ ان کے لیے بیان کررہاہے جو جانتےہیں‘‘۔

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا طَلَّقَ امْرَأَةً لَهُ وَهِيَ حَائِضٌ تَطْلِيقَةً وَاحِدَةً فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُرَاجِعَهَا ثُمَّ يُمْسِکَهَا حَتَّی تَطْهُرَ ثُمَّ تَحِيضَ عِنْدَهُ حَيْضَةً أُخْرَی ثُمَّ يُمْهِلَهَا حَتَّی تَطْهُرَ مِنْ حَيْضِهَا فَإِنْ أَرَادَ أَنْ يُطَلِّقَهَا فَلْيُطَلِّقْهَا حِينَ تَطْهُرُ مِنْ قَبْلِ أَنْ يُجَامِعَهَا فَتِلْکَ الْعِدَّةُ الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ أَنْ تُطَلَّقَ لَهَا النِّسَائُ وَکَانَ عَبْدُ اللَّهِ إِذَا سُئِلَ عَنْ ذَلِکَ قَالَ لِأَحَدِهِمْ إِنْ کُنْتَ طَلَّقْتَهَا ثَلَاثًا فَقَدْ حَرُمَتْ عَلَيْکَ حَتَّی تَنْکِحَ زَوْجًا غَيْرَکَ وَزَادَ فِيهِ غَيْرُهُ عَنْ اللَّيْثِ حَدَّثَنِي نَافِعٌ قَالَ ابْنُ عُمَرَ لَوْ طَلَّقْتَ مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَنِي بِهَذَا

( بخاری ، کتاب الطلاق، باب:  لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ )

’’ نافع کہتے ہیں کہ ابن عمرؓ  نےاپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دے دی تو ان کو نبی ﷺنے حکم دیا کہ رجوع کرلے، پھر اس کو روکے رکھ، یہاں تک کہ وہ پاک ہوجائے، پھر اس کے پاس اسے دوسرا حیض آجائے، پھر اس کو رہنے دے یہاں تک کہ وہ حیض سے پاک ہوجائے، اگر وہ اس کو طلاق دینا چاہتا ہے تو طلاق دے دے جب کہ وہ حیض سے پاک ہوجائے لیکن صحبت سے پہلے، یہی وہ عدت ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ اس میں عورتوں کو طلاق دی جائے اور عبداللہ بن عمرؓ سے جب اس کے متعلق پوچھا گیا تو ایک شخص سے کہا کہ جب تو اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے تو وہ تجھ پر حرام ہے، یہاں تک کہ وہ دوسرے شوہر سے نکاح کرلے اور دوسرے لوگوں نے اس میں اضافہ کے ساتھ لیث سے بواسطہ نافع، ابن عمر (رض) کا قول نقل کیا کہ کاش ! تو عورت کو ایک یا دو طلاقیں دیتا اس لئے کہ نبی ﷺ نے اسی کا مجھے حکم دیا تھا‘‘۔

قرآن و حدیث کے اس بیان سے واضح ہوا کہ طلاق دینے کا صحیح طریقہ یہی ہے کہ ہر طہر میں طلاق دی جائے ، یہ اس لئے کہ جائز کاموں طلاق سب سے زیادہ نا پسندیدہ فعل ہے۔ ممکن ہے کہ وقفہ گزنے کیساتھ مرد و عورت دوبارہ اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرلیں اور طلاق کی نوبت نہ آئے۔ تیسری طلاق کی صورت میں ان دونوں کا نکاح ختم ہو جائے گا اور وہ خاتون اس مرد کے لئے حرام ہو جائے گی۔ یہاں مسئلہ  یہ ہے کہ  اگر کسی نے اس طرز عمل کے برخلاف ایک ہی نشست میں تین طلاق دے دیں  تو کیا وہ تین ہی  نافذ ہوں گی ؟

اہلحدیث حضرات کہتے ہیں کہ جب قرآن میں اللہ تعالیٰ نے اور نبیﷺ نے اپنی حدیث میں  ایک طریقہ کار وضع فرما دیا ہے تو ایک  نشست میں دی جانے والی تین طلاق ایک ہی مانی جائے گی۔ عرض ہے کہ اللہ کے  رسول محمد ﷺ  قرآن کی تشریح و توضیع کے لے بھیجے گئے تھے، کیا چیز حلال ہے اور کیا حرام ان سے زیادہ جاننے والا کوئی نہیں۔جب ان کے سامنے کوئی عمل ہو اور وہ اس کا انکار نہ فرمائیں تو وہ دین ہی سمجھا جائے گا۔اللہ کے نبی ﷺ کی موجودگی میں ایک صحابی ؓ نے اپنی بیوی کو تین طلاق دی، ملاحظہ فرمائیں:

نبی ﷺ کی موجودگی میں ایک ہی وقت میں تین طلاق:

فَأَقْبَلَ عُوَيْمِرٌ حَتَّى أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسْطَ النَّاسِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا، أَيَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ، أَمْ كَيْفَ يَفْعَلُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قَدْ أَنْزَلَ اللَّهُ فِيكَ وَفِي صَاحِبَتِكَ، فَاذْهَبْ فَأْتِ بِهَا» قَالَ سَهْلٌ: فَتَلاَعَنَا وَأَنَا مَعَ النَّاسِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا فَرَغَا، قَالَ عُوَيْمِرٌ: كَذَبْتُ عَلَيْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ أَمْسَكْتُهَا، فَطَلَّقَهَا ثَلاَثًا، قَبْلَ أَنْ يَأْمُرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

(بخاری کتاب الطلاق بَابُ مَنْ أَجَازَ طَلاَقَ الثَّلاَثِ)

’’ ۔ ۔ چنانچہ عویمر نبیﷺکی خدمت میں آئے اور لوگوں کی موجودگی میں پوچھا کہ یا رسول اللہ! اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو پائے اور وہ اس کو قتل کردے تو آپ اس سے قصاص لیتے ہیں بتائیے پھر وہ کیا کرے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تمہارے متعلق اور تمہاری بیوی کے متعلق اللہ کا حکم نازل ہوچکا ہے جاؤ اس کو لے کر آؤ، سہل نے  کہا پھر ان دونوں نے لعان کیا اور میں نبی ﷺ کے ساتھ موجود تھا، جب دونوں لعان سے فارغ ہوگئے، تو عویمر نے کہا یا رسول اللہ ﷺ اگر میں اس کو روک لوں، تو میں جھوٹا ہوں گا، پھر میں نے اسے تین طلاق دے دیں اس سے پہلے کہ مجھے رسول اللہ ﷺ اس کا حکم دیتے‘‘۔

اہلحدیث حضرات اس پر کافی اعتراض کرتے ہیں اور بقول ان کے یہ معاملہ صرف لعان کرنے والوں کے لئے  مخصوص ہے حالانکہ ان کے پاس اس کی کوئی دلیل نہیں ،اوپر پیش کردہ حدیث میں  عویمر ؓ کا یہ قول اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ یہ کوئی خصوصی معاملہ نہ تھا۔ ان کے الفاظ ہیں : فَطَلَّقَهَا ثَلاَثًا، قَبْلَ أَنْ يَأْمُرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ  ’’ پھر میں نے اسے تین طلاق دے دیں اس سے پہلے کہ مجھے رسول اللہ ﷺ اس کا حکم دیتے‘‘، گویا وہ یہ سمجھ رہے تھے کہ اب نبیﷺ مجھے اس کا حکم دیں گے کہ اسے تین طلاق دے کر علیحدہ کردو۔ نبی ﷺ نے ان کی بیک وقت تین طلاق پر کوئی اعتراض نہیں کیا بلکہ اس کو نافذ کردیا ، جیسا کہ یہ حدیث اس کی وضاحت کر دیتی ہے :

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْفِهْرِيِّ وَغَيْرِهِ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ فِي هَذَا الْخَبَرِ قَالَ فَطَلَّقَهَا ثَلَاثَ تَطْلِيقَاتٍ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَنْفَذَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَکَانَ مَا صُنِعَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُنَّةٌ قَالَ سَهْلٌ حَضَرْتُ هَذَا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَضَتْ السُّنَّةُ بَعْدُ فِي الْمُتَلَاعِنَيْنِ أَنْ يُفَرَّقَ بَيْنَهُمَا ثُمَّ لَا يَجْتَمِعَانِ أَبَدًا

(سنن أبي داود ، کتاب الطلاق، باب في اللعان ) ( صحیح البانی )

’’سہل بن سعد ؓ سے اس حدیث کے سلسلہ میں مروی ہے کہ( عویمرؓ ) نے رسول اللہﷺکی موجودگی میں اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیدیں اور نبی ﷺ نے ان کو نافذ فرما دیا اور جو چیز رسول اللہ ﷺکی موجودگی میں کی جائے (اورنبی ﷺ اس پر نکیر نہ فرمائیں تو) وہ سنت قرار پاتی ہے سہلؓ  کہتے ہیں کہ میں اس واقعہ لعان کے وقت رسول اللہﷺکے پاس  موجود تھا اس کے بعد لعان کرنے والوں کے لئے یہی طریقہ قرار پایا کہ ان دونوں کے درمیان تفریق کی جائے گی اور وہ کبھی جمع نہ ہو سکیں گے‘‘۔

 نبی ﷺ کے سامنے ہونے والا یہ واقعہ عام حالات میں بھی دلیل بن گیا جیسا کہ مندجہ زیل حدیث سے ثابت ہوتا ہے:

فَکَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا سُئِلَ عَنْ الرَّجُلِ يُطَلِّقُ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ يَقُولُ أَمَّا أَنْتَ طَلَّقْتَهَا وَاحِدَةً أَوْ اثْنَتَيْنِ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُ أَنْ يَرْجِعَهَا ثُمَّ يُمْهِلَهَا حَتَّی تَحِيضَ حَيْضَةً أُخْرَی ثُمَّ يُمْهِلَهَا حَتَّی تَطْهُرَ ثُمَّ يُطَلِّقَهَا قَبْلَ أَنْ يَمَسَّهَا وَأَمَّا أَنْتَ طَلَّقْتَهَا ثَلَاثًا فَقَدْ عَصَيْتَ رَبَّکَ فِيمَا أَمَرَکَ بِهِ مِنْ طَلَاقِ امْرَأَتِکَ وَبَانَتْ مِنْکَ

( مسلم ، کتاب الطلاق، باب:  تحريم طلاق الحائض بغير رضاها، وأنه لو خالف وقع الطلاق، ويؤمر برجعتها )

’’ ۔ ۔ ۔ ۔نافع کہتے ہیں ابن عمرؓ سے جب اس آدمی کے بارے میں پوچھا جاتا جس نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دی ہوتی تو وہ فرماتے تو نے ایک طلاق دی یا دو؟ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے اسے حکم دیارجوع کرنے کا پھر اسے چھوڑے رکھا یہاں تک کہ اسے دوسرا حیض آئے۔ پھر اسے چھوڑ دے یہاں تک کہ پاک ہوجائے۔ پھر اسے چھونے سے پہلے طلاق دے اور اگر تو نے اسے تین طلاقیں (اکٹھی) دے دیں تو ،تو نے اپنے رب کی نافرمانی کی اس حکم میں جو اس نے تجھے تیری بیوی کو طلاق دینے کے بارے میں دیا اور وہ تجھ سے بائنہ (جدا) ہوجائے گی۔

واضح ہوا کہ ایک ہی وقت میں تین طلاق دینا  اللہ کی نارضگی والا معاملہ ہے لیکن اس کا مکمل نفاذ ہوگا اور وہ عورت اس مرد کے لئے حرام ہو جائے گی۔

عویمر ؓ والی  حدیث سے واضح ہوا کہ نبیﷺ نے بغیر کس تردد کے  ایک مجلس کی ان تین طلاق کو نافذ کردیا اور ان کے درمیان علیحدگی کرادی۔ اس واضح عمل کے باوجود اسے مشتبہ بناتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ لعان خود ہی تفریق کرادیتا  اس کے لئے طلاق کی ضرورت نہیں۔ یہ محض لوگوں کے منہ کی باتیں ہیں ،قرآن و حدیث میں ایک عورت کے کسی مرد سے آزاد ہونے جو صورتیں بتائی گئیں ہیں اس میں طلاق یا اس مرد کی وفات ہے تیسری کوئی چیز نہیں۔ عویمر ؓ  والا واقعہ پورا پڑھیں :

سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ أَخِي بَنِي سَاعِدَةَ أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ جَائَ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا أَيَقْتُلُهُ أَمْ کَيْفَ يَفْعَلُ فَأَنْزَلَ اللَّهُ فِي شَأْنِهِ مَا ذَکَرَ فِي الْقُرْآنِ مِنْ أَمْرِ الْمُتَلَاعِنَيْنِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ قَضَی اللَّهُ فِيکَ وَفِي امْرَأَتِکَ قَالَ فَتَلَاعَنَا فِي الْمَسْجِدِ وَأَنَا شَاهِدٌ فَلَمَّا فَرَغَا قَالَ کَذَبْتُ عَلَيْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ أَمْسَکْتُهَا فَطَلَّقَهَا ثَلَاثًا قَبْلَ أَنْ يَأْمُرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ فَرَغَا مِنْ التَّلَاعُنِ فَفَارَقَهَا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ذَاکَ تَفْرِيقٌ بَيْنَ کُلِّ ۔ ۔ ۔ ۔ 

( صحیح بخاری ، کتاب الطلاق، باب: التَّلاَعُنِ فِي المَسْجِدِ )

’’ ابن شہاب نے مجھ سے لعان اور اس کے مسنون طریقے کے متعلق بنی ساعدہ کے بھائی سہل بن سعد کی حدیث بیان کی کہ ایک انصاری شخص رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ ! اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو پاتا ہے اور وہ اس کو قتل کردیتا ہے تو آپ اس کو قتل کردیتے ہیں، بتلائیے آخروہ (قتل نہ کرے) تو کیا کرے، اللہ تعالیٰ نے اس کی شان میں وہ آیت نازل کی جس میں لعان کرنے والوں کے متعلق حکم ہے، نبی ﷺ نے فرمایا اللہ نے تیرے اور تیری بیوی کے متعلق حکم صادر فرما دیا ہے ان دونوں نے مسجد میں لعان کیا اور میں اس وقت موجود تھا، جب دونوں فارغ ہوئے تو اس مرد نے کہا کہ اگر میں اس کو اپنے پاس رکھتا ہوں تو لوگ مجھے جھوٹا سمجھیں گے چناچہ نبیﷺ) کے حکم دینے سے پہلے اس نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی۔ جب دونوں لعان سے فارغ ہوئے اور اس کو نبیﷺ کےسامنے جدا کردیا تو آپ  ﷺنے فرمایا ہر لعان کرنے والوں کے درمیان تفریق کی یہی صورت ہے۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔

عویمر ؓ کا قول دیکھیں  إِنْ أَمْسَکْتُهَا’’ اگر میں اس کو اپنے پاس رکھتا ہوں ‘‘ یعنی ابھی تفریق نہیں ہوئی۔ تفریق کب ہوئی فَطَلَّقَهَا ثَلَاثًا جب اس نے  اسےتین طلاق دے دیں۔واضح ہوا کہ لعان فی نفسہ تفریق نہیں بلکہ لعان کے بعد تفریق کے لئے طلاق دی گئی، اور بتایا گیا کہ لعان کرنے والوں کے درمیان   جدائی کا طریقہ طلاق ہی ہے۔ ایک صحابیہ ؓ نے نبی ﷺ کے پاس آ کر  اپنے شوہر سے طلاق کا  مطالبہ کیا، تو نبی ﷺ نے پوچھاکہ کیا تم اس کا  دیا ہوا باغ واپس کردو گی؟ اس نے کہا ہاں، تو نبی ﷺ نے فرمایا:اقبل الحديقة وطلقها تطليقة ( بخاری، کتاب الطلاق، باب: الخُلْعِ وَكَيْفَ الطَّلاَقُ فِيهِ ) باغ واپس لے لو اور اسے طلاق دے دو‘‘۔ واضح ہوا کہ بغیر طلاق  حتمی جدائی نہیں ہوتی۔

ابن عمر ؓ کو اپنی بیوی لوٹانے کا حکم :

اس بارے میں  اہلحدیث ایک حدیث پیش کرتے ہیں:

عن نافع عن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما أنه طلق امرأته وهي حائض علی عهد رسول الله صلی الله عليه وسلم فسأل عمر بن الخطاب رسول الله صلی الله عليه وسلم عن ذلک فقال رسول الله صلی الله عليه وسلم مره فليراجعها ثم ليمسکها حتی تطهر ثم تحيض ثم تطهر ثم إن شائ أمسک بعد وإن شائ طلق قبل أن يمس فتلک العدة التي أمر الله أن تطلق لها النسائ

( صحیح مسلم، کتاب الطلاق ،  باب تحريم طلاق الحائض بغير رضاها، وأنه لو خالف وقع الطلاق، ويؤمر برجعتها)

’’ عبداللہ بن عمر سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنی بیوی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بحالت حیض طلاق دے دی، عمر رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق دریافت کیا تو آپ نے فرمایا کہ اس کو رجوع کرنے کا حکم دو، پھر وہ اس کو روکے رکھے، یہاں تک کہ پاک ہوجائے، پھر حیض آئے پھر پاک ہوجائے پھر اگر چاہے تو اس کے بعد اپنے پاس رہنے دے اور اگر چاہے تو صحبت کرنے سے پہلے طلاق دے، یہی وہ عدت ہے، جس کے لئے عورتوں کو طلاق دیئے جانے کا حکم اللہ تعالیٰ نے دیاہے‘‘۔

اس حدیث کو پیش کرنے سے ان کی مراد یہ ہے کہ طلاق صرف ایک ایک طہر میں ہے ورنہ وہ عورت لوٹا دی جائے گی۔  افسوس کہ انہیں  صحیح مسلم کے اسی باب میں  عبد اللہ بن عمر ؓکی وہ روایت نہیں دکھائی دی جو ہم نے اوپر بیان کی ہے۔ اس روایت میں عبد اللہ بن عمر ؓ  نےوہی طریقہ کار بیان کیا جو  نبی ﷺ نے سکھایا لیکن ساتھ یہ بھی بتا دیا کہ وَأَمَّا أَنْتَ طَلَّقْتَهَا ثَلَاثًا فَقَدْ عَصَيْتَ رَبَّکَ فِيمَا أَمَرَکَ بِهِ مِنْ طَلَاقِ امْرَأَتِکَ وَبَانَتْ مِنْکَ( مسلم ، کتاب الطلاق، باب:  تحريم طلاق الحائض بغير رضاها، وأنه لو خالف وقع الطلاق، ويؤمر برجعتها )’’ور اگر تو نے اسے تین طلاقیں (اکٹھی) دے دیں تو تو نے اپنے رب کی نافرمانی کی اس حکم میں جو اس نے تجھے تیری بیوی کو طلاق دینے کے بارے میں دیا اور وہ تجھ سے بائنہ (جدا) ہوجائے گی‘‘۔

مزید  یہ ہے کہ ابن عمر ؓ  نے اپنی کو بیوی  تین نہیں صرف ایک طلاق دی تھی :

أخبرني يونس بن جبير، أنه سأل ابن عمر فقال: ” كم طلقت امرأتك؟ فقال: واحدة

( ابوداؤد ، کتاب الطلاق، باب في طلاق السنة ) ( صحیح البانی )

’’ ابن عمر ؓ سے پوچھا کہ آپ نے کتنی طلاق دی تھی تو فرمایا : ایک ‘‘۔

عمر ؓ نے جب یہ واقعہ نبیﷺ کو بتایا  ، اور نبیﷺ نے اسے رجوع کرنے کا حکم دیا تو عمر ؓ نے سوال کیا کہ کیا یہ طلاق شمار ہوگی؟

طَلَّقَ ابْنُ عُمَرَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ فَذَکَرَ عُمَرُ لِلنَّبِيِّ ﷺ فَقَالَ لِيُرَاجِعْهَا قُلْتُ تُحْتَسَبُ قَالَ فَمَهْ

( صحیح بخاری ، کتاب الطلاق ، بَابُ إِذَا طُلِّقَتِ الحَائِضُ تَعْتَدُّ بِذَلِكَ الطَّلاَقِ )

’’ ابن عمر ؓ کہتے ہیں کہ انہوں نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دے دی، عمر ؓ نے نبی ﷺ کا تذکرہ کیا، آپ ﷺنے فرمایا وہ اپنی بیوی سے رجوع کرلے، میں نے کہا کیا وہ طلاق شمار ہوگی ؟ نبی ﷺ نے فرمایا کیوں نہیں ۔‘‘

حدیث معمر ابن طاؤس

اہلحدیث حضرات ایک اور روایت کو پیش کرکے اس معاملے کو مشتبہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں، ملاحظ فرمائیں :

ابْنِ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ کَانَ الطَّلَاقُ عَلَی عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ  وَأَبِي بَکْرٍ وَسَنَتَيْنِ مِنْ خِلَافَةِ عُمَرَ طَلَاقُ الثَّلَاثِ وَاحِدَةً فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ إِنَّ النَّاسَ قَدْ اسْتَعْجَلُوا فِي أَمْرٍ قَدْ کَانَتْ لَهُمْ فِيهِ أَنَاةٌ فَلَوْ أَمْضَيْنَاهُ عَلَيْهِمْ فَأَمْضَاهُ عَلَيْهِمْ

( صحیح مسلم ، کتاب الطلاق، طلاق الثلاثہ )

’’ ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اور ابوبکرؓ اور دور خلافت عمر ؓ کے دو سال تک تین طلاق ایک ہی شمار کی جاتی تھیں سو عمر بن خطابؓ نے کہا اس حکم میں جو انہیں مہلت دی گئی تھی جلدی شروع کردی ہے پس اگر ہم تین ہی نافذ کردیں تو مناسب ہوگا چناچہ انہوں نے تین طلاق ہی واقعہ ہوجانے کا حکم دے دیا۔‘‘

أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ سُلَيْمَانُ بْنُ سَيْفٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ أَبَا الصَّهْبَائِ جَائَ إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ الثَّلَاثَ کَانَتْ عَلَی عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَکْرٍ وَصَدْرًا مِنْ خِلَافَةِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا تُرَدُّ إِلَی الْوَاحِدَةِ قَالَ نَعَمْ

( سنن نسائی ، کتاب الطالق۔ باب: طلاق الثلاث المتفرقة قبل الدخول بالزوجة )

’’ ابن جریج، ابن طاؤس، اپنے والد سے، ابوصہبا سے روایت ہے کہ وہ ابن عباس ؓ کے پاس آئے اور عرض کیا کہ اے ابن عباس کیا تم اس سے واقف نہیں کہ رسول کریمﷺکے مبارک دور میں اور عمر ؓ کی شروع خلافت میں تین طلاقیں ایک طلاق کی جانب لوٹائی جاتی تھیں۔ اس پر ابن عباس ؓنے ارشاد فرمایا جی ہاں ‘‘۔

وضاحت :

محدثین کی نزدیک اس حدیث کی حیثیت ؛

تضعيف حديث ابن عباس: (كان الطلاق على عهد رسول الله … لابن رجب)ـ[محب أهل العلم]ــــــــ[23-05-03, 03:15 م]ـ

ضعف ابن رجب هذا الحديث في كتابه (مشكل الأحاديث الواردة في أن طلاق الثلاث واحدة) كما نقله ابن المبرد في كتابه (سير الحاث)

’’  ابن عباس ؓ کی روایت کا  ضعیف ہونا(كان الطلاق على عهد رسول الله … لابن رجب)ـ ابن رجب نے اس روایت کو   اپنی کتاب (مشكل الأحاديث الواردة في أن طلاق الثلاث واحدة)میں ضعیف قرار دیا، جیسا کہ ابن المبرد نے اپنی کتاب سیر الحارث میں۔

وأعل هذا الحديث الإمام أحمد بالشذوذ وانفراد طاوس به، قال الإمام أحمد (كل أصحاب ابن عباس يعني رروا عنه (طلاق) [كذا في مطبوعة الحجيلان، ولا أدري هل هي (خلاف) ] ماروى طاوس

’’ اور امام احمد نے اس حدیث کو  شموذ  ( شاذ کی جمع ) اور طاؤس  کے تفرد کیوجہ سے  علیل ( علت والی )  قرار دیا   ، امام احمد نے کہا جو لوگ ابن عباس ؓ کے قریب تھے وہ اسے طلاق مانتے تھے  ،جیسا کہ مطبوعہ الحجیلان میں ہے  اور نہیں جانتا کہ وہ اس کے خلاف تھے جیسا  کہ طاؤس نے بیان کیا ہے ‘‘۔

وقال الجوزجاني: هو حديث شاذ، قال وقد عنيتُ بهذا الحديث دهرا فلم أجد له أصلا)

’’  اور جوز جانی نے اس حدیث کو شاذ کہا اور کہا کہ یقیناً میں اس حدیث کے بارے میں کافی عرصہ پریشان رہا ہوں  ( کوشش کرتا رہا ہوں )  لیکن مجھے اس کی کوئی بنیاد نہیں ملی ‘‘۔

-وقال ابن عبد البر (شذ طاوس في هذا الحديث)

’’ اور ابن عبد البر  نے اس حدیث میں طاؤس کو شاذ کہا۔

وأعله ابن رجب بثلاث علل

1- انفراد طاوس به

2- صح عن ابن عباس أنه افتى بخلاف هذه الرواية

3-إجماع الأمة على العمل بخلافه

’’  اور ابن رجب نے  تین وجوہات کی بناء پر اسے علیل قرار دیا:

  1. طاؤس نے انفراد کیا ( طاؤس کا تفرد )
  2. اس نے ابن عباس ؓ کے متعلق تصحیح کی ہے کہ وہ  اس روایت کے خلاف فتویٰ دیتے تھے۔
  3. امت کا اجماع اس کے خلاف ہے۔

محمد امین کہتے ہیں :

لكن طاوس – رحمه الله – كان له شذوذات ينكرها أهل الحجاز، وكان أيوب يعجب من منكرات طاوس

طاوس رحمہ اللہ کے ہاں شاذ روایت ہیں اور اھل الحجاز سے منکرات

الرابع: أن ابن عباس لم يصح عنه الفتوى بوقوع الثلاث واحدة، بل هذا مقطوع على عكرمة

’’  لیکن طاؤس کے لئے کئی شموذات تھے  جہیں اہل حجاز رد کرتے ہیں اور ایوب  طاؤس کے منکرات پر حیران ہیں۔

چوتھی بات :  کہ ابن عباس ؓ نے اپنے فتوے کی تصحیح نہیں کی  کہ ایک ساتھ تین سے صرف ایک طلاق ہوگی، بلکہ  یہ عکرمہ پر مقطوع ہے‘‘۔

(أرشيف ملتقى أهل الحديث ، تضعيف حديث ابن عباس: (كان الطلاق على عهد رسول الله … لابن رجب)، جزء 26،صفحہ 213)

محدثین کے اقوال سے یہ بات ثابت ہوئی کہ طاؤس کی یہ روایت شاذ ہے یعنی صحیح احادیث کی موجودگی میں اسے ترجیح نہیں دی جا سکتی۔

مزید یہ کہ ابن طاؤس  یہ روایت ابن عباس ؓ سے بیان کر رہا ہے  جبکہ ابن عباس  ؓخود اس کے خلاف فتوی دے رہے ہیں، ملاحظہ فرمائیں :

عن مجاهد قال کنت عند ابن عباس فجاه رجل فقال إنه طلق امرأته ثلاثا قال فسکت حتی ظننت أنه رادها إليه ثم قال ينطلق أحدکم فيرکب الحموقة ثم يقول يا ابن عباس يا ابن عباس وإن الله قال ومن يتق الله يجعل له مخرجا وإنک لم تتق الله فلم أجد لک مخرجا عصيت ربک وبانت منک امرأتک وإن الله قال يا أيها النبي إذا طلقتم النسا فطلقوهن في قبل عدتهن

( ابوداؤد ، کتاب الطلاق، باب نسخ المراجعة بعد التطليقات الثلاث )

’’ مجاہد رضی اللہ تعالیٰ سے روایت ہے کہ میں عبداللہ بن عباس  ؓکے پاس تھا اتنے میں ایک شخص آیا اور بولا کہ میں نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیدی ہیں۔ عبداللہ بن عباس ؓ یہ سن کر خاموش ہو گئے یہاں تک کہ مجھے گمان ہوا کہ شاید آپ اس کو رجعت کا حکم دیں گے مگر پھر آپ نے کہا کہ تم میں سے ایک شخص کھڑا ہوتا ہے اور حماقت پر سوار ہو جاتا ہے پھر نادم ہوتا ہے اور کہتا ہے۔ اے ابن عباس۔ اے ابن عباس (کوئی خلاصی کی تد بیر بتاؤ) حالانکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے جو شخص اللہ تعالیٰ سے ڈرے گا اللہ اس کے لیے (مشکل سے نکلنے کے لیے) کوئی نہ کوئی سبیل پیدا فرمائے گا جبکہ تو نے اللہ کے خوف کو ملحوظ نہیں رکھا پس میں تیرے چھٹکارے کی کوئی سبیل نہیں پاتا۔ تو نے اپنے رب کی  نافرمانی کی (یعنی ایک ہی دفعہ میں تین طلاقیں دیے ڈالیں) اور تیری بیوی تجھ سے جدا ہوگئی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے نبی جب تم عورتوں کو طلاق دو تو عدت (یعنی طہر) کے آغاز میں۔ ۔  ۔‘‘۔

نبیﷺ کے اسقدر  فقیہ صحابی کے لئے کیا یہ تصور کیا جا سکتا ہے کہ وہ نبیﷺ سے حدیث کچھ بیان کرے گا اور خود اس خلاف کے فیصلے گرے گا؟ طاؤس کی اس روایت کو شاذ کہا گیا ہے جبکہ ابن عباس  ؓکے فیصلے والی روابت بالکل صحیح ہے۔

اسی حدیث  کے حوالے سے یہ بیان کیا جاتا ہے کہ اس روایت میں قول ملتا ہے : أنت طالق ثلاثا بفم واحد فهي واحدة

یعنی جب کوئی شخص اپنی بیوی کو ایک منہ سے کہے انت طالق ثلثا (یعنی ایک ہی دفعہ کہہ دے کہ میں نے تھجے تین طلاق دی)  بفم واحد فهي واحدة  تو وہ ایک ہی شمار ہوگی۔ عرض ہے کہ اس کی وضاحت اسی روایت میں موجود ہے:

أيوب عن عکرمة عن ابن عباس إذا قال أنت طالق ثلاثا بفم واحد فهي واحدة ورواه إسمعيل بن إبراهيم عن أيوب عن عکرمة هذا قوله لم يذکر ابن عباس وجعله قول عکرمة قال أبو داود وصار قول ابن عباس فيما    ( ابوداؤد ، کتاب الطلاق، باب نسخ المراجعة بعد التطليقات الثلاث )

’’ ۔ ۔ بسند ایوب بواسطہ عکرمہ روایت کیا ہے کہ یہ عکرمہ کا قول ہے لیکن اس میں ابن عباس کا ذکر نہیں ہے ابوداؤد نے کہا کہ ابن عباس کا قول اصلی حدیث میں ہے۔‘‘

یعنی یہ ابن عباس ؓ کا قول نہیں بلکہ ان کا قول وہی ہے کہ’’  تو نے اپنے رب کی  نافرمانی کی (یعنی ایک ہی دفعہ میں تین طلاقیں دیے ڈالیں) اور تیری بیوی تجھ سے جدا ہوگئی‘‘۔

روایات رکانہ بن عبد یزید :

رکانہ بن عبد یزید   کے حوالے سےیہ روایت  پیش کی جاتی ہے:

حدثنا سعد بن إبراهيم، حدثنا أبي، عن محمد بن إسحاق، حدثني داود بن الحصين، عن عكرمة، مولى ابن عباس، عن ابن عباس، قال: ” طلق ركانة بن عبد يزيد أخو بني المطلب امرأته ثلاثا في مجلس واحد، فحزن عليها حزنا شديدا، قال: فسأله رسول الله ﷺ: ” كيف طلقتها؟ ” قال: طلقتها ثلاثا، قال: فقال: ” في مجلس واحد؟ ” قال: نعم قال: ” فإنما تلك واحدة فأرجعها إن شئت ” قال: فرجعها فكان ابن عباس: ” يرى أنما الطلاق عند كل طهر ”

( مسند احمد ط الرسلاۃ ، مسند عبد اللہ بن عباس بن عبد المطلب )

’’ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ رکانہ بن عبد یزید جن کا تعلق بنو مطلب سے تھا نے ایک ہی مجلس میں اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں، بعد میں انہیں اسپر انتہائی غم ہوا، نبی ﷺنے پوچھا کیا ایک ہی مجلس میں تینوں طلاقیں دے دی تھیں ؟ عرض کیا جی ہاں ! فرمایا پھر یہ ایک ہوئی، اگر چاہو تو تم اس سے رجوع کرسکتے ہو، چناچہ انہوں نے رجوع کرلیا، اسی وجہ سے ابن عباس ؓ کی رائے یہ تھی کہ طلاق ہر طہر کے وقت ہوتی ہے‘‘۔

یہ ضعیف روایت ہے :

قال الشيخ شعيب الأرنؤوط إسناده ضعيف .. وقال الخطابي: وكان أحمد بن حنبل يضعف هذه الأحاديث كلها. (قلنا) ونص ابن قدامة في المغني على أن أحمد ضعف إسناد حديث ركانة هذا وتركه

(المسند الموضوعي الجامع للكتب العشرة ،المؤلف: صهيب عبد الجبار ، ثانیا کتاب القرآن  الکریم، تفسیر القرآن ، تفسیر سورہ طلاق، 9/50 )

’’ شیخ شعیب الارنوط  نے کہا اس کی اسناد ضعیف ہے ۔ اور خطابی نے کہا :  اور احمد بن حنبل نے اس کی ساری احادیث کو ضعیف قرار دیا ۔( ہم کہتے ہیں ) ابن قدامہ نے المغنی میں  لکھا ہے : احمد نے رکانہ کی حدیث کی اسناد کو ضعیف قرار دیا اور اسے ترک کردیا ‘‘۔

قَالَ ابْن الْجَوْزِيّ فِي «علله» : هَذَا حَدِيث لَا يَصح، ابْن إِسْحَاق مَجْرُوح، وَدَاوُد أشدُّ مِنْهُ ضعفا، قَالَ: والْحَدِيث الأوَّل أقرب، وَكَأن هَذَا من غلط الروَاة.

’’ ابن جوز جانی نے  اس کی علت کے بارے مین کہا :  یہ حدیث صحیح نہیں ابن اسحاق مجروح ہے اور داؤد اس سے زیادہ  ضعیف ہے، کہا : یہ پہلی حدیث زیادہ قریب ہے اور یہ  غلط راویوں سے ہے‘‘۔

(البدر المنير في تخريج الأحاديث والأثار الواقعة في الشرح الكبيرالمؤلف: ابن الملقن سراج الدين أبو حفص عمرو، جزء 8 صفحہ 107 )

قال البيهقي: وهذا الإسناد لا تقوم به الحجة مع ثمانية رووا عن ابن عباس – رضي الله عنه – فتياه بخلاف ذلك ومع رواية أولاد ركانة أنّ طلاق ركانة كان واحدة

’’ اور کہا بیھقی نے :  یہ اسناد  ابن عباس ؓ  اور راویوں کیساتھ دلیل نہیں، انہوں نے اس کے خلاف فتویٰ دیا ہے،  اور رکانہ کی اولاد والی روایت کے بھی خلاف جس میں  ایک طلاق کا ذکر ہے‘‘۔

وقال الحافظ: رواه أحمد والحاكم وهو معلول” التلخيص 3/ 213

’’ اور حافظ نے کہا : اسے روایت کیا ہے احمد اور حاکم نے جو معلول ہے ‘‘۔

قلت: وعلته داود بن الحصين فإنّه مختلف فيه، وقد تكلموا في روايته عن عكرمة

’’ میں  کہتا ہوں  ( اس میں ) علت ہے،  داؤد بن حصین  مختلف فیہ ہے اور عکرمہ سے روایت پر کلام کیا گیا ہے‘‘۔

قال علي بن المديني: ما روى عن عكرمة فمنكر الحديث

’’ علی بن مدینی نے کہا: جو  عکرمہ سے  روایات بیان کیا گیا ہے   تو وہ منکر الحدیث ہے،‘‘۔

وقال أبو داود: أحاديثه عن عكرمة مناكير.

’’ اور کہا ابوداؤد نے : عکرمہ کی بیان کردہ احادیث منکر ہیں ‘‘۔

 (أنِيسُ السَّاري في تخريج وَتحقيق الأحاديث ، لمؤلف: أبو حذيفة، نبيل بن منصور ، المجموعة الأولى ، جزء3  صفحہ2014 )

ابن عباس ؓ کی روایت اس سے قبل گزر چکی ہے جس میں  ان کا  قول درج ہے : کہ’’  تو نے اپنے رب کی  نافرمانی کی (یعنی ایک ہی دفعہ میں تین طلاقیں دیے ڈالیں) اور تیری بیوی تجھ سے جدا ہوگئی‘‘۔  اسی معاملے میں عبد اللہ بن عباس ؓ سے مروی ایک اور روایت پیش کی جاتی ہے

حدثنا أحمد بن صالح، حدثنا عبد الرزاق، أخبرنا ابن جريج، أخبرني بعض بني أبي رافع، مولى النبي صلى الله عليه وسلم، عن عكرمة مولى ابن عباس، عن ابن عباس قال: طلق عبد يزيد أبو ركانة، وإخوته أم ركانة، ونكح امرأة من مزينة، فجاءت النبي صلى الله عليه وسلم، فقالت: ما يغني عني إلا كما تغني هذه الشعرة، لشعرة أخذتها من رأسها، ففرق بيني وبينه، فأخذت النبي صلى الله عليه وسلم حمية، فدعا بركانة، وإخوته، ثم قال لجلسائه: «أترون فلانا يشبه منه كذا وكذا؟، من عبد يزيد، وفلانا يشبه منه كذا وكذا؟» قالوا: نعم، قال النبي صلى الله عليه وسلم لعبد يزيد: «طلقها» ففعل، ثم قال: «راجع [ص:260] امرأتك أم ركانة وإخوته؟» قال: إني طلقتها ثلاثا يا رسول الله، قال: «قد علمت راجعها» وتلا: {يا أيها النبي إذا طلقتم النساء فطلقوهن لعدتهن} [الطلاق: 1]، قال أبو داود: وحديث نافع بن عجير، وعبد الله بن علي بن يزيد بن ركانة، عن أبيه، عن جده، أن ركانة، طلق امرأته البتة، فردها إليه النبي صلى الله عليه وسلم «أصح، لأن ولد الرجل، وأهله أعلم به، إن ركانة إنما طلق امرأته البتة، فجعلها النبي صلى الله عليه وسلم واحدة     ( سنن ابی داؤد ، کتاب الطلاق، باب نسخ المراجعة بعد التطليقات الثلاث)

’’احمد بن صالح، عبدالرزاق، ابن جریج، عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ عبد یزید نے جو رکانہ اور اس کے بھائیوں کا باپ تھا (اپنی بیوی) ام رکانہ کو طلاق دیدی اور قبیلہ مزینہ کی ایک عورت سے نکاح کرلیا وہ عورت رسول ﷺ کے پاس آئی اور بولی یا رسول اللہ ابورکانہ میرے کسی کام کا نہیں جیسے ایک بال دوسرے بال کے لئے اور یہ کہتے ہوئے اس نے اپنے سر کا بال پکڑا (یعنی وہ نامرد ہے) لہذا میرے اور اس کے درمیان تفریق کرا دیجئے نبی ﷺکو (اس کی اس غلط بیانی پر) غصہ آگیا۔ اور آپ  ؐنے رکانہ اور اس کے بھائیوں کو بلا بھیجا اور حاضرین مجلس سے فرمایا کہ کیا تم دیکھتے ہو کہ اس کا یہ بچہ اس بچہ سے کتنا مشابہہ ہے اور فلاں بچہ عبد یزید سے کتنی مشابہت رکھتا ہے۔ لوگوں نے کہا ہاں (یعنی جب عبد یزید کی اولاد پہلی بیوی سے موجود ہے اور بچے اپنے باپ سے اور دوسرے بھائی بہنوں سے مشابہت رکھتے ہیں تو یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ یہ عورت نا مردی کے الزام میں سچی ہو ،پھر نبی ﷺ نے عبد یزید سے فرمایا کہ اس کو طلاق دیدے پس انہوں نے طلاق دیدی۔ پھر فرمایا اپنی سابقہ بیوی ام رکانہ اور اس کے بھائیوں سے رجوع کر عبد یزید نے کہا یا رسول اللہﷺ میں نے رکانہ کو تین طلاقیں دے رکھیں ہیں۔ آپ نے فرمایا مجھے معلوم ہے تو اس سے رجعت کر اور یہ آیت تلاوت فرمائی (یا اَيُّهَا النَّبِيُّ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَا ءَ فَطَلِّقُوْهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ وَاَحْصُوا الْعِدَّةَ ) 65 ۔ الطلاق : 1) ابوداؤد کی اس حدیث کو نافع بن عجیر اور عبداللہ بن علی بن یزید بن رکانہ نے اپنے باپ سے اور اس نے اپنے دادا سے روایت کیا کہ رکانہ نے اپنی بیوی کو طلاق دیدی پھر رسولاللہ ﷺ نے اسے رجعت کا حکم دیا اور یہی زیادہ صحیح ہے کیونکہ یہ حضرات اور مرد کا بیٹا رکانہ اور اس کے گھر والے اس قصہ سے اچھی طرح واقف ہوں گے کہ رکانہ نے (نہ کہ ابورکانہ نے) اپنی بیوی کو طلاق بتہ دی پس رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو ایک قرار دیا‘‘۔

یہ روایت کسی طور پر بھی دلیل بنے کے لائق نہیں،محدثین کہتے ہیں:

قال الخطابي في “معالم السنن” 3/236: في إسناد هذا الحديث مقال، لأن ابن جريج إنما رواه عن بعض بني أبي رافع ولم يسمه، والمجهول لا تقوم به الحجة.

(إرواء الغليل في تخريج أحاديث منار السبيل ، المؤلف : محمد ناصر الدين الألباني ، 7/119 )

’’ خطابی نے  ’’ معالم السنن ‘‘ میں کہا :  اس حدیث میں مقال ہے ، کہ ابن جریح نے بنی ابی رافع میں سے کسی سے روایت کی ہے  اس نے اس کا نام نہیں لیا ، مجہول ہے ( یعنی اس کا کوئی علم نہیں ) اسے حجت نہ بنایا جائے ‘‘۔

إسناده ضعيف. لعلتين: أولاهما: إبهام شيخ ابن جريج. وقد جاء مصرحا باسمه في رواية محمد بن ثور الصنعاني، أنه محمد بن عبيد الله بن رافع. قال الذهبي في”تلخيص المستدرك” 2/ 491 محمد واه. قال: والخبر خطأ، عبد يزيد لم يدرك الإسلام. قلنا: فهذه علة ثانية.

’’ اس کی سند ضعیف ہے دو وجوہات کی بناء پر ، ان میں سے ایک شیخ ابن جریح کے بارے ابھام ہے  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  ۔۔۔ اور خطاء نے خبر دی کہ عبد یزید نے اسلام قبول نہیں کیا تھا ، یہ دوسری وجہ ہے‘‘۔

(سنن أبي داود ،المؤلف: أبو داود سليمان بن الأشعث ،اول کتاب الطلاق، باب نسخ المراجعة بعد التطليقات الثلاث ، 3/518 )

تقریباً یہی بات دوسرے  راوی سے بھی مروی ہے:

أخبرنى عمى محمد بن على بن شافع عن عبد الله بن على بن السائب عن نافع بن عجير بن عبد يزيد: ” أن ركانة بن عبد يزيد طلق امرأته سهيمة المزنية البتة , ثم أتى رسول الله صلى الله عليه وسلم , فقال: يا رسول الله إنى طلقت امرأتى سهيمة البتة , ووالله ما أردت إلا واحدة , فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم لركانة: والله ما أردت إلا واحدة؟ فقال ركانة: والله ما أردت إلا واحدة , فردها إليه رسول الله صلى الله عليه وسلم ; فطلقها الثانية فى زمان عمر رضى الله عنه , والثالثة فى زمان عثمان رضى الله عنه

(ابوداؤد کتاب الطلاق باب فی البتة – سنن الدارقطنی 3978 – مسند الشافعی 268)

اس روایت میں بھی وہی دونوں راوی ہیں  جن کی وجہسے اوپر والی روایت کوضعیف قرار دیا گیا ہے۔

الغرض مختلف الفاظ ومختلف رایوں سے یہ روایات آئی ہیں اور یہ سب کی سب ضعیف  ہیں :وكان أحمد بن حنبل يضعف طرق هذه الأحاديث كلها.( معالم السنن ، کتاب الطلاق، ومن باب نسخ المراجعة بعد التطليقات الثلاث )’’ احمد بن حنبل اس حدیث کے تمام طرق کو ضعیف کہتے تھے‘‘۔

اگر کوئی تین طلاق دیکر قسم کھا لے کہ اس کا ارادہ ایک کا تھا:

حدثنا يزيد، أخبرنا جرير بن حازم، حدثنا الزبير بن سعيد الهاشمي، عن عبد الله بن علي بن يزيد بن ركانة، عن أبيه، عن جده: أنه طلق امرأته البتة، فذكر ذلك للنبي صلى الله عليه وسلم، فقال: ” ما أردت بذلك؟ ” قال: واحدة. قال: ” آلله؟ ” قال: آلله. قال: ” هو ما أردت ”

(مسند الإمام أحمد بن حنبل ، الملحق المستدرك من مسند الأنصار بقية،خامس عشر الأنصار )

’’ رکانہ  ؓسے مروی ہے کہ انہوں نے اپنی بیوی کو ” طلاق البتہ ” دے دی پھر نبی ﷺ سے اس کا تذکرہ کیا نبیﷺنے ان سے پوچھا کہ اس سے تمہارا کیا مقصد تھا ؟ انہوں نے عرض کیا ایک طلاق دینے کا  ، نبی ﷺ نے فرمایا قسم کھا کر کہو، انہوں نے قسم کھا کر کہا (کہ میرا یہی ارادہ تھا) تو نبیﷺ نے فرمایا تمہاری نیت کے مطابق طلاق ہوئی۔ ‘‘

اس  کا ایک راوی الزبیر بن سعید الھاشمی شدید ضعیف ہے ، محدثین اس کے بارے میں کہتے ہی :

وقال العقيلي حديثه مضطرب ولا يتابع

عقیلی نے کہا اس کی روایت میں اضطراب ہےاور مطاباقت نہیں رکھتی ۔

(تهذيب التهذيب۔المؤلف: أبو الفضل أحمد بن علي، حرف العين المهملة،من اسمه عابس، جلد5 صفحہ 325 )

الزبير بن سعيد الهاشمي، لين، یعنی الزبیر بن سعید الھاشمی لیں ( احادیث کے بارے میں ڈھیلا ) ہے۔

(المقتنى في سرد الكنى ,المؤلف: شمس الدين أبو عبد الله محمد ، جزء اول ، نص  الکتاب ، ابو القاسم ، جلد 4 صفحہ 52 )

سألت يحيى بن مَعِين، عن الزبير بن سَعِيد الهاشمي فقال: ضعيف كان ينزل المدائن ، وَقَال معاوية بن صالح، عن يحيى: الزبير بن سَعِيد ضعيف الحديث” (تاريخ الخطيب: 8 / 465)

(تهذيب الكمال في أسماء الرجالالمؤلف: يوسف بن عبد الرحمن بن يوسف، باب الزائی ، من اسمہ الزبیر ، جلد 9 صفحہ 306 )

’’ یحیٰ بن معین سے زبیر بن سعید بن الھاشمی کے بارے میں  پوچھا گیا تو کہا :    ضعیف جو المدائن آیا تھا  ، اور معاویہ بن صالح نے یحیی  کے حوالے سے کہا: ضعیف الحدیث‘‘۔

اس  کا دوسرا راوی عبد یزید  بھی مجروح جیسا کہ اوپر بیان کیا جاچکا ہے۔

اسی بارے میں ایک اور روایت :

عَنْ نَافِعِ بْنِ عُجَيْرِ بْنِ عَبْدِ يَزِيدَ بْنِ رُكَانَةَ، أَنَّ رُكَانَةَ بْنَ عَبْدِ يَزِيدَ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ سُهَيْمَةَ الْبَتَّةَ، فَأَخْبَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ، وَقَالَ: وَاللَّهِ مَا أَرَدْتُ إِلَّا وَاحِدَةً، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَاللَّهِ مَا أَرَدْتَ إِلَّا وَاحِدَةً؟»، فَقَالَ رُكَانَةُ: وَاللَّهِ مَا أَرَدْتُ إِلَّا وَاحِدَةً، فَرَدَّهَا إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَطَلَّقَهَا الثَّانِيَةَ فِي زَمَانِ عُمَرَ، وَالثَّالِثَةَ فِي زَمَانِ عُثْمَانَ

(ابوداؤد کتاب الطلاق باب فی البتة – سنن الدارقطنی 3978 – مسند الشافعی 268)

’’ رکانہ بن عبد یزید ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنی بیوی سہیمہ کو طلاق بتہ دی پس نبیﷺ کو اس واقعہ کی خبر دی گئی رکانہ نے کہا واللہ میں نے ایک ہی طلاق کی نیت کی تھی نبی ﷺنے رکانہ سے پوچھا کیا تو نے واقعی ایک طلاق کی نیت کی تھی ؟ رکانہ نے پھر کہا واللہ میں نے ایک ہی طلاق کی نیت کی تھی تو رسول اللہﷺ نے اس کی بیوی اس کو لوٹا دی پھر رکانہ نے دوسری طلاقت عمر ؓ کے زمانہ خلافت میں دی اور تیسری عثمان ؓ کے عہد خلافت میں‘‘۔

تحقيق الألباني:ضعيف //، المشكاة (3283) ، ضعيف سنن ابن ماجة (444 / 2051) ، الإرواء (2063) ، (7 / 142) ، ضعيف سنن الترمذي (204 / 1193) //

( صحيح وضعيف سنن أبي داود ، المؤلف: محمد ناصر الدين الألباني ، ترجمہ 2206 ، ½ )

قلت: وهذا الإسناد أحسن حالا من الذى قبله , فإن رجاله ثقات لولا أن نافع بن عجير لم يوثقه غير ابن حبان (1/238) , وأورده ابن أبى حاتم فى ” الجرح والتعديل ” (4/1/454) ولم يذكر فيه جرحا ولا تعديلا ولهذا قال ابن القيم فى ” الزاد ” (4/59) : ” مجهول , لا يعرف حاله البتة “.

ومما يؤكد جهالة حاله , تناقض ابن حبان فيه , فمرة أورده فى ” التابعين ” من ” ثقاته ” , وأخرى ذكره فى الصحابة , وكذلك ذكره فيهم غيره , ولم يثبت

(رواء الغليل في تخريج أحاديث منار السبيل، المؤلف : محمد ناصر الدين الألباني ، کتاب الطلاق، ،فصل ، حديث ركانة: ” أنه طلق البتة ۔ ۔ 7/142 )

’’ میں کہتا ہوں اس کی سندپہلی والی سے بہترہے ، اس کے راوی ثقہ  ہیں سوائے نافع بن عجیر اس کی توثیق ابن حبان کے علاوہ کسی نے نہیں کی، ابن حاتم نے اس کا ذکر ’’ الجرح و تعدیل ‘‘ میں کیا ہے ، ان اس پر جرح کی ہے اور نہ اس کی تعدیل بیان کی ہے ، اس وجہ سے ابن قیم نے ’’زاد ‘‘ میں مجھول ( یعنی اس کا کوئی پتہ نہیں کہ یہ کون ہے ) قرار دیا ہے۔ اس طرح اس کی  لا علمی یقینی ہو جاتی ہے ، ابن حبان نے اس معاملے میں مخالفت کی ۔ یہ ایک مرتبہ (  التابعین من ثقات )  میں وارد ہوا ہے  اور دوسری مرتبہ  الصحابہ میں آیا  اور اس طرح اس کا ذکر اوروں میں ہے اور یہ  ثابت نہیں ‘‘۔

اس روایت کی سندی حیثیت واضح ہونے کے ساتھ ساتھ یہ ان صحیح روایات کا انکار کرتی ہے جس میں اس بات کا ذکر ہے کہ جب کسی نے ایک وقت میں تین طلاق دے دیں تو وہ عورت اس کی بیوی نہیں رہی۔                                              مزیدنسائی کی ایک روایت بیان کی جاتی ہے کہ ایسا کرنے والے پر نبیﷺ بہت ناراض ہوئے :

أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ عَنْ ابْنِ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَمِعْتُ مَحْمُودَ بْنَ لَبِيدٍ قَالَ أُخْبِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثَ تَطْلِيقَاتٍ جَمِيعًا فَقَامَ غَضْبَانًا ثُمَّ قَالَ أَيُلْعَبُ بِکِتَابِ اللَّهِ وَأَنَا بَيْنَ أَظْهُرِکُمْ حَتَّی قَامَ رَجُلٌ وَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا أَقْتُلُهُ

( سنن نسائی ،کتاب الطلاق، الثلاث المجموعة وما فيه من التغليظ )

’’ مخرمہ، اپنے والد سے، محمود بن لبید ؓسے روایت ہے کہ رسول کریمﷺکو کسی آدمی سے متعلق یہ خبر دی گئی کہ اس شخص نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں ایک ہی وقت میں دے ڈالی ہیں۔ یہ بات سن کر رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوگئے اور غصہ میں فرمانے لگے کہ کیا کتاب اللہ سے کھیل ہو رہا ہے۔ حالانکہ میں ابھی تم لوگوں کے درمیان موجود ہوں۔ یہ بات سن کر ایک شخص کھڑا ہوا اور عرض کرنے لگا کہ یا رسول اللہ ﷺمیں اس کو قتل کر ڈالوں ؟

ناصر الدین البانی  نے  مشکوٰہ میں اس روایت کو ضعیف قرار دیا ہے۔

(صحيح وضعيف سنن النسائي،المؤلف: محمد ناصر الدين الألباني، باب 3473، جلد 7 صفحہ473 )

نسائی میں اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے۔

(غاية المرام في تخريج أحاديث الحلال والحرام،المؤلف: محمد ناصر الدين الألباني، اول الکتاب ، جلد 7 صفحہ 473 )

قطع نظر اس کی سندی حیثیت بات بالکل صحیح ہے  جیسا کہ ابن عمر ؓ کی روایت میں ہے کہ ’’ تو نے اپنے رب کی نافرمانی کی اس حکم میں جو اس نے تجھے تیری بیوی کو طلاق دینے کے بارے میں دیا ‘‘ تو حقیقتاً  طلاق کے بارے میں اللہ کے حکم کی یہ صریح نا فرمانی ہے  عویمر ؓ کا واقعہ بھی سامنے رکھا جائے کہ ان کے سامنے ہی عویمر ؓ نے اپنی بیوی کو تین طلاق دی اور نبیﷺ نے اسے نافذ کردیا۔ بالکل اسی طرح نسائی کی اس حدیث میں ناراضگی کا سخت اظہار کیا گیا ہے لیکن اس کی ایک نشست کی تین طلاق کو  نہ ایک نہیں کہاگیا اور نہ ہی اسے لوٹانے کا حکم دیا۔

غصے میں طلاق :

کچھ افراد کا یہ کہنا ہے کہ طلاق  ہنسی خوشی مذاق  ہر حالت میں ہو جاتی ہے لیکن غصے کی حالت میں طلاق نہیں ہوتی بلکہ اس حالت میں انسان اپنے ہوش میں ہی  نہیں ہوتا اور نبیﷺ نے فرمایا ہے کہ  جو ہوش میں نہ ہو اس کے کسی عمل کی کوئی حیثیت نہیں۔ ہر طہر میں ایک ایک  طلاق بغیر غصے کے ہوتی ہے جبکہ تین طلاق جھگڑے اور غصے کے نیتجے میں ہوتی ہے۔ غصے میں طلاق کے بارے میں جو روایت پیش کی جاتی ہے وہ یہ ہے :

قال: حدثنا أبي، عن ابن إسحاق، عن ثور بن يزيد الحمصي، عن محمد بن عبيد بن أبي صالح، الذي كان يسكن إيليا، قال: خرجت مع عدي بن عدي الكندي، حتى قدمنا مكة، فبعثني إلى صفية بنت شيبة، وكانت قد حفظت من عائشة، قالت: سمعت عائشة تقول: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «لا طلاق، ولا عتاق في غلاق»، قال أبو داود: ” الغلاق: أظنه في الغضب “

( ابوداؤد ، کتاب الطلاق، باب في الطلاق على غلط )

’’ محمد بن عبید بن ابی صالح جو مقام ایلیا میں رہتے تھے روایت کرتے ہیں کہ میں عدی بن عدی الکندی کے ساتھ (ملک شام سے) روانہ ہوا یہاں تک کہ ہم لوگ مکہ مکرمہ پہنچے پس (عدی بن عدی نے) مجھے صفیہؓ بنت شیبہ کے پاس بھیجا جنہوں نے عائشہ ؓ سن کر بہت سی احادیث یاد کر رکھی تھیں ۔ صفیہ ؓ نے کہا کہ میں نےعائشہؓ سے سنا وہ کہتی تھیں کہ میں نے سنا رسول اللہ ﷺفرماتے تھے غلاق میں نہ طلاق ہے اور نہ عتاق ابوداؤد کہ میں سمجھتا ہوں غلاق سے مراد غصہ ہے‘‘۔

اس روایت کے ایک راوی   محمد بن عبيد بن أبي صالح  پر  جرح و تعدیل ملاحظہ فرمائیں :

(قلت: حديث حسن، وصححه الحاكم والذهبي ۔ قلت: وهذا إسناد رجاله ثقات؛ غير محمد بن عبيد هذا، فهو ضعيف)

میں ( البانی ) کہتا ہوں کہ یہ حدیث ’’ حسن ‘‘ ہے ، اسے حاکم اور ذہبی نے صحیح کہا ہے، ۔ ۔ ۔ میں کہتا ہوں: کہ اس کی سند کے راوی ثقہ ہیں سوائے محمد بن عبید  کے وہ ضعیف ہے‘‘۔

 (صحيح أبي داود – الأم ،المؤلف: أبو عبد الرحمن محمد ناصر الدين البانی ، کتاب ا؛ط؛اق، باب في الطلاق على غلط ، ج؛د 6 صفحہ 396 )

قال أبو حاتم ضعيف الحديث وذكره بن حبان في الثقات

’’ابو حاتم نے  اسے ضعیف الحدیث کہا  ہے اور ابن حبان نے ثقات میں ذکر کیا ہے‘‘۔

(تهذيب التهذيب،المؤلف: أبو الفضل أحمد بن علي، جلد 9 صفحہ 330 )

قال أَبُو حاتم (2) : ضعيف الحديث.وذكره ابنُ حِبَّان في كتاب (الثقات (3) (وَقَال ابن حجر في (التقريب) : ضعيف )

’’ابو حاتم نے  اسے ضعیف الحدیث کہا  ہے اور ابن حبان نے ثقات میں ذکر کیا ہے۔ (اور ابن حجر نے ’’ تقریب ‘‘ میں  اسے ضعیف کہا )‘‘۔

(تهذيب الكمال في أسماء الرجال،المؤلف: يوسف بن عبد الرحمن بن يوسف ، جلد 26 صفحہ 162 )

إسناده ضعيف لضعف عبيد بن أبي صالح –  ۔ ۔ ۔ وأخرجه أبو داود (2193) من طريق محمَّد بن إسحاق، بهذا الإسناد.وهو في “مسند أحمد” (26360).وأخرجه الدارقطني (3989)، والبيهقي 7/ 357 من طريق قزعة بن سويد، عن زكريا بن إسحاق ومحمد بن عثمان، كلاهما عن صفية بنت شيبة، به. وقزعة ضعيف.

’’ اس کی  سند عبید بن ابی صالح کے ضعیف ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے ،   اسے ادوداؤد نے محمد بن اسحاق  کے طرق اسی سند کیساتھ بیان کیا ہے ۔ ۔ ۔  عن قزعۃ بن سوید ، عن زکریا بن اسحاق اور محمد بن عثمان، یہ دونوں صفیہ بنت شیبہ سے بیان کرتے ہیں، ( اس میں ) قرزعۃ ضعیف ہے‘‘۔

(سنن ابن ماجه ت الأرنؤوط، المؤلف: ابن ماجة – المحقق: شعيب الأرنؤوط، ابواب ا؛طلاق ، بَابُ طَلَاقِ الْمُكْرَهِ وَالنَّاسِي )

واضح ہوا کہ یہ روایت ایسی نہیں کہ اس کی بنیاد پو کوئی حتمی فیصلہ کیا جا سکے۔ اب ہم آتے ہیں اس روایت کی طرف جسے یہ غصے کے لئے دلیل بناتے ہیں :

حدثنا ابن السرح، أخبرنا ابن وهب، أخبرني جرير بن حازم، عن سليمان بن مهران، عن أبي ظبيان، عن ابن عباس، قال: مر على علي بن أبي طالب رضي الله عنه بمعنى عثمان، قال: أو ما تذكر أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «رفع القلم عن ثلاثة، عن المجنون المغلوب على عقله حتى يفيق، وعن النائم حتى يستيقظ، وعن الصبي حتى يحتلم»، قال: صدقت، قال: فخلى عنها

( سنن ابی داوؐد، کتاب الحدود ، باب في المجنون يسرق أو يصيب حدا )

’’ عائشہ ؓ  فرماتی ہیں کہ رسول اللہﷺنے فرمایا کہ قلم تین آدمیوں سے اٹھا لیا گیا ہے سونے والے سے یہاں تک کہ وہ بیدار ہوجائے۔ پاگل سے یہاں تک کہ وہ صحت یاب ہوجائے۔ بچہ پر سے یہاں تک کہ بڑا (بالغ) ہوجائے ‘‘۔

اس حدیث میں  جن تین باتوں کا بیان  کیا گیا ہے غصے میں طلاق دینے والے  کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔ نہ وہ سو رہا ہوتا ہے ،نہ وہ پاگل ( عقل و شعور سے عاری ) ہوتا ہے، اور نہ ہی نابالغ بچہ۔ نیز کیا آج تک کسی نے بغیر غصہ و نارضگی کے طلاق دی ہے؟ کوئی بھی  میاں بیوی جو آپس میں خوش رہے ہوں اور ایک دوسرے سے مکمل مطمئن ہوں ، کوئی بڑا لڑائی جھگڑا نہ ہو تو  وہ کبھی بھی علیحدگی نہیں چاہتے۔ البتہ اگرکوئی شخص غصے میں اس قدر شدید ہو جائے کہ اسے یہ معلوم ہی نہ ہو کہ وہ کیا کہہ رہا ہے تو اس صورت میں طلاق نہیں مانی جائے گی۔

یہ محض ان لوگوں کے باطل دلائل ہیں جو نبی ﷺ اور صحابہ ؓ کے طریقے سے ہٹ کر تین طلاق کو ایک کرکے زناکاریاں کرا رہے ہیں۔ البتہ ایک بات کی احادیث سے دلیل ملتی ہے کہ اگر کوئی شخص طلاق نہ دینا چاہ رہا ہوں اور اس پریشر ڈال کر طلاق دلوائی جائے تو وہ طلاق نہیں ہوگی۔

اس تمام بحث کا خلٍاصہ یہ ہے کہ طلاق دینے کا صحیح طریقہ ہر طہر کے بعد ایک طلاق دینا ہے، جو اس طریقے سے ہٹ کر عمل کرے وہ طلاق کے بارے میں  اللہ کے حکم کی  نافرمانی کرتا ہے۔ اگر کسی عورت کو ایک نشست میں تین طلاق دے دی جائیں تو وہ اس مرد کے نکاح سے نکل جائے گی اور اس پر حرام ہوگی۔

Categories
Uncategorized

حرمت خانہ کعبہ

دیوبند ی مسلک کا یہ عقیدہ ہے کہ

’’وہ حصہ زمین جو جناب رسول اﷲ کے اعضاء مبارکہ کومَس کیے ہوئے ہے علی الاطلاق افضل ہے۔ یہاں تک کہ کعبہ اور عرش وکرسی سے بھی افضل ہے۔‘‘

یہ عقیدہ ان کی کتاب ‘‘اَلْمُھَنَّدُ عَلَی الْمُفَنَّدِ ’’میں بیان کیا گیا ہے ۔ یہ وہ کتاب ہے جو احمدرضاخاں بریلوی  کی کتاب ‘‘حُسّامُ الحَرَمَیْن علی منحر الکفر والمین’’ کے جواب میں لکھی گئی، جس میں دیوبندی عقائد لکھے گئے ہیں، اور ان پر اس وقت کے بڑے بڑے تمام دیوبندی علماء مثلاً خلیل احمدسہارنپوری (مصنف کتاب) ، اشرف علی تھانوی، مفتی کفایت اﷲ، وغیرہ نے مہر تصدیق ثبت کی ہے ۔

جس کسی کے دل میں اﷲ کا ذرہ برابر بھی وقار ہوگا وہ اس باطل عقیدے کا فوراً رد کردے گا، لیکن توحید کے بلند بانگ دعوے کرنے والے ان مسلک پرستوں کے دل میں اﷲ کا کوئی وقار نہیں۔ کیا یہ لوگ اﷲ کے اس فرمان سے ناآشنا ہیں :

مَالَکُمْ لاَ تَرْجُوْنَ لِلہِ وَقَارًا

(نوح: 13)

’’تمہیں کیا ہوگیا ہے ، تمہارے نزدیک اﷲ کا کوئی وقار نہیں ‘‘

اس عقیدے میں اﷲتعالیٰ کی عظمت و کبریائی کی تنقیص کرتے ہوئے رسول اﷲ کو فوقیت دی گئی ہے ۔ عبد کو معبود سے ، مخلوق کو خالق سے بڑھاکر پیش کیا گیا ہے ۔ اﷲ تعالیٰ سے منسوب چیزوں کے مقابلے میں رسول  سے منسوب چیز کو افضل قرار دیا گیا ہے ، حالانکہ جس طرح اﷲ سے افضل تو کیا اس کے برابر بھی کوئی چیز نہیں، اسی طرح دوسروں سے منسوب کوئی شے بھی منسوب الیٰ اﷲسے افضل و اعلیٰ بلکہ برابر بھی نہیں ہوسکتی کہ یہی توحید باری تعالیٰ کا تقاضہ ہے:

ِلَّذِیۡنَ لَا یُؤْمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَۃِ مَثَلُ السَّوْءِ ۚ وَ لِلہِ الْمَثَلُ الۡاَعْلٰی ؕ وَہُوَ الْعَزِیۡزُ الْحَکِیۡمُ

(النحل: 60)

’’ ان لوگوں کے لیے جو ایمان نہیں رکھتے آخرت پر ، بری مثال ہے اور اللہ کے لیے سب سے اعلی مثال ہے اور وہی بہت غالب ، خوب حکمت والا ہے‘‘۔

لَمْ  یَکُنْ لَّہٗ کُفُوًا  اَحَدٌ

(الاخلاص :4)

’’ اس کا کوئی کفو (برابر و ہمسر) نہیں ‘‘۔

ھَلْ  تَعْلَمُ  لَہ’  سَمِیًّا

(مریم :65)

’’ کیا تو جانتا ہے کسی کو اس کے نام کا ( اس کے جیسا)‘‘

لَیۡسَ کَمِثْلِہٖ  شَیۡءٌ

(الشوریٰ :11)

’’ اس کی مثال جیسی (کائنات) میں کوئی چیز نہیں ‘‘

خانہ کعبہ کا کیا مقام ہے، اس بارے میں اللہ تعالیٰ کا بیان ملاحظہ فرمائیں :

اِنَّ اَوَّلَ بَیْتٍ وُّضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِیْ بِبَکَّۃَ مُبٰرَکاً وَّ ھُدًی لِّلْعٰلَمِیْنَ

(آل عمران :96)

’’بے شک پہلا گھر جو لوگوں کے لیے (بغرض عبادت) بنایا گیا وہی ہے جو مکہ میں ہے، بابرکت ہے اور جہانوں کے لیے موجب ہدایت ہے۔‘‘

جَعَلَ اللہُ  الْکَعْبَۃَ  الْبَیْتَ الْحَرَامَ  قِیٰمًا لِّلنَّاسِ

(المائدۃ :97)

’’اﷲ نے لوگوں کے قیام کے واسطے کعبہ کو حرمت والا گھر بنایا ۔‘‘

یہی وہ عزت وشرف والا گھر ہے جسے آدم   نے بنایا ، پھر نبی  کے جد امجد ابراہیم و اسماعیل علیہما السلام نے تعمیر کیا۔ یہی وہ گھر ہے جس کی طرف منہ کرکے فریضۂ صلوٰۃ ادا کرنے کا حکم دیا گیا  اور اس کا استقبال ادائیگی صلوٰۃ کی شرط لازم قرار دیا گیا ۔ یہی وہ مقام ہے جس کے طواف کے بغیر حج جیسی افضل ترین عبادت نہیں ہوتی ۔ نبیاور ان سے پہلے انبیاءعلیہم السلام نے اس کا طواف کیا، جہاں ادا کی جانے والی صلوٰۃ (اجروثواب میں) مسجد نبوی کی سوصلوٰۃ  اور دوسری مساجد کی ایک لاکھ صلوٰۃ  سے افضل ہے ۔لیکن مسلک پرستوں کی نظر میں شاید اس کی کوئی اہمیت نہیں ۔ کعبہ شعائراﷲ میں سے ہے جس کی توہین کفر اورتعظیم تقویٰ ہے:

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تُحِلُّوۡا شَعَآئِرَ اللہِ

(المائدۃ:2)

’’ مومنو! شعائر اﷲ کو حلال نہ سمجھو (ان کی بے حرمتی نہ کرو)۔‘‘

وَ مَنْ  یُّعَظِّمْ شَعَآئِرَ اللہِ فَاِ نَّھَا مِنْ تَقْوَی الْقُلُوْبِ

(الحج :32)

’’اور جو شعائر اﷲ کی تعظیم کرتا ہے تو یہ دل کے تقویٰ کی بات ہے‘‘

اوپر دی گئی آیات و احادیث کی روشنی میں قبرنبوی کوخانہ کعبہ سے افضل جاننے کا عقیدہ ،کیا کعبے کی تنقیص و توہین نہیں کرتا ؟

انہوں نے نبی کی قبر کی مٹی کو اللہ کے عرش سے بھی افضل بیان کیا ہے ( استغفر اللہ )۔ قرآن مجید میں  عرش الہی کے بارے میں بیان کیا گیا:

اِنَّ رَبَّکُمُ اللہُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ فِیْ سِتَّۃِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰی عَلَی الْعَرْشِ

(الاعراف : 54/یونس :3)

’’بیشک تمہارا رب اﷲ ہے جس نے چھ دن میں آسمانوں اورزمین کو بنایا ، پھر عرش پر مستوی ہوگیا‘‘

ا سی طرح کا مضمون قرآن میں دوسری جگہوں پر بھی ہے :

اَلرَّحْمٰنُ عَلَی الْعَرْشِ اسْتَوٰی

(طٰہٰ :5)

’’وہ بڑا مہربان عرش پر مستوی ہوا ‘‘۔

وَھُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ

(التوبہ :129)

’’وہ بڑی عظمت والے عرش کا مالک ہے ‘‘۔

لَآ اِلٰہَ اِلاَّ ھُوَ  رَبُّ الْعَرْشِ الْکَرِیْمِ

(المومنون :116)

’’ اس بڑی عظمت والے عرش کے مالک کے علاوہ کوئی الٰہ نہیں ‘‘

لَوْکَانَ فِیْھِمَآ اٰلِھَۃٌ اِلاَّ اللہُ لَفَسَدَتَا ج فَسُبْحٰنَ اللہِ رَبِّ الْعَرْشِ عَمَّا یَصِفُوْنَ

(الانبیاء :22)

’’اگر ان دونوں (زمین وآسمان) میں اﷲ کے علاوہ کوئی اور الٰہ ہوتا تو ضرور فساد ہوجاتا، سو اﷲ جو عرش کا مالک ہے پاک ہے اُن باتوں سے جو یہ بیان کرتے ہیں۔‘‘

ان کے علاوہ بھی قرآن میں متعدد مقامات پر عرش الٰہی کی عظمت، بزرگی، عزت، تشریف، تعظیم، تکریم، تمجید، تمکنت و توقیرکا ذکر ہے ۔ عرش الٰہی کی فضیلت بخاری کی اس روایت سے بھی واضح ہوتی ہے کہ جس دن اﷲ کے (عرش کے) سائے کے سوا کوئی سایہ نہ ہوگا تو سات قسم کے اشخاص اس کے نیچے ہوں گے ۔عرش وہ جگہ ہے جس پر تمام کائنات کا خالق و مالک مستوی[1]ہے ۔ اس کی عظمت کا کیا کہنا ،لیکن دیوبندی حضرات   نبی کی قبر کی مٹی کو اللہ کے عرش سے افضل قرار دیتے ہیں۔