Categories
Uncategorized

جادو کی حقیقت قرآن و حدیث کی روشنی میں

جب کوئی قوم قرآن و حدیث سے دور ہو جائے تو اس میں دوسرے باطل عقائد کا زور بڑھ جاتا ہے۔ آج اس کلمہ گو امت میں بھی بہت سے ایسے عقائد آگئے ہیں جو قرآن و حدیث کے صریحاً خلاف ہیں، جیسا کہ یہ عقیدہ کہ جادو کے زور سے کوئی جادوگر کسی کا ہونے والا رشتہ ختم کرا سکتا ہے، کسی کا کاروبار ختم کرسکتا ہے، کوئی اس کی وجہ سے بیمار ہوسکتا ہے وغیرہ وغیرہ۔

اس کے برعکس ایسے بھی لوگ ہیں کہ جواحادیث کا انکار کرتے کرتے قرآن مجید کی آیات تک کا انکار کرجاتے ہیں۔ دراصل یہ سب وہی گمراہی ہے جو کتاب اللہ کی دوری کے باعث پیدا ہوئی ہے۔ذیل میں ہم کتاب اللہ سے اس موضوع پر دلائل دیتے ہیں :

قرآن مجید میں جادو کا ذکر :

﴿وَٱتَّبَعُواْ مَا تَتۡلُواْ ٱلشَّيَٰطِينُ عَلَىٰ مُلۡكِ سُلَيۡمَٰنَۖ وَمَا كَفَرَ سُلَيۡمَٰنُ وَلَٰكِنَّ ٱلشَّيَٰطِينَ كَفَرُواْ يُعَلِّمُونَ ٱلنَّاسَ ٱلسِّحۡرَ وَمَآ أُنزِلَ عَلَى ٱلۡمَلَكَيۡنِ بِبَابِلَ هَٰرُوتَ وَمَٰرُوتَۚ وَمَا يُعَلِّمَانِ مِنۡ أَحَدٍ حَتَّىٰ يَقُولَآ إِنَّمَا نَحۡنُ فِتۡنَةٞ فَلَا تَكۡفُرۡۖ فَيَتَعَلَّمُونَ مِنۡهُمَا مَا يُفَرِّقُونَ بِهِۦ بَيۡنَ ٱلۡمَرۡءِ وَزَوۡجِهِۦۚ وَمَا هُم بِضَآرِّينَ بِهِۦ مِنۡ أَحَدٍ إِلَّا بِإِذۡنِ ٱللَّهِۚ وَيَتَعَلَّمُونَ مَا يَضُرُّهُمۡ وَلَا يَنفَعُهُمۡۚ وَلَقَدۡ عَلِمُواْ لَمَنِ ٱشۡتَرَىٰهُ مَا لَهُۥ فِي ٱلۡأٓخِرَةِ مِنۡ خَلَٰقٖۚ وَلَبِئۡسَ مَا شَرَوۡاْ بِهِۦٓ أَنفُسَهُمۡۚ لَوۡ كَانُواْ يَعۡلَمُونَ﴾

[البقرة: 102]

’’ اور وہ ان چیزوں کی پیروی کرنے لگے جو شیاطین سلیمان کی مملکت کا نام لے کر پڑھا کرتے تھے، حالانکہ سلیمان نے کفر نہیں کیا بلکہ شیاطین نے ہی کفر کیا تھا جو لوگوں کو جادو سکھاتے تھے، اور (وہ اس کے بھی پیچھے لگ گئے) جو بابل میں دو فرشتوں ہاروت وماروت پر اترا تھا۔ حالانکہ وہ دونوں کسی کو نہ سکھاتے تھے جب تک اسکو یہ نہ بتا دیتے کہ ہم تو محض آزمائش ہیں، لہذا تم (یہ سیکھ کر) کفر نہ کرو۔ پھر بھی لوگ ان سے وہ سیکھتے تھے جس کے ذریعے شوہر اور اس کی بیوی کے درمیان جدائی ڈال دیں، (حالانکہ) وہ اس سے کسی کو بھی بغیر اللہ کے حکم کے نقصان پہنچا ہی نہیں سکتے تھے۔ اور وہ ایسی چیز سیکھتے تھے جو انہیں نقصان ہی پہنچاتی، نفع نہ دیتی۔ اور وہ خوب جانتے تھے کہ جو اس کا خریدار بنا اس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں، اور بہت ہی بری چیز ہے وہ جس کے بدلے انہوں نے خود کو بیچ ڈالا کاش وہ اس بات کو جان لیتے‘‘۔

قرآن مجید کی مندرجہ بالا آیت میں یہ بات بیان کی گئی ہے کہ بنی اسرائیل پہلے ہی ایک ایسی قوم کا روپ دھار چکے تھے جو مکمل طور پر دنیا پرست اور آخرت سے غافل ہو چکی تھی اور دوسری طرف ان کے علماء و مشائخ اس صورتحال سے پورا فائدہ اٹھا رہے تھے۔لوگوں کو یہ پٹی پڑھاتے کہ سلیمان علیہ السلام کی شان و شوکت کا دارومدار جادو ٹونے وغیرہ ہی پر تھا(مَعَاذَ اللہِ) ، اور یہ اس کے ماہر ہیں۔ان کے اس باطل پروپیگنڈے کی قطعاً تردید کر دی گئی کہ سلیمان علیہ السلام نے یہ کفر نہیں کیا تم اس اتہام طرازی میں بالکل جھوٹے ہو کفر تو ان شیاطین نے کیا جو لوگوں کو سحر سکھاتے تھے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان پر اتمام حجت کے لیے اور ان کی مغالعہ آرائیوں اور باطل پروپیگنڈوں کا مطلق ازالہ کر دینے کے مقصد سے دو فرشتوں ہاروت و ماروت کو بابل کے شہر میں بھیجا،اور وہ اس فن کے ماہر کی حیثیت سے ان کے گروہ میں شامل ہو گئے۔لیکن ان کا طریقہ کار ان پیشہ وروں سے بالکل ہی مختلف تھا، جو بھی ان کے پاس جادو سیکھنے آتا، وہ پہلے اس کو یہ بتاتے کہ ہم تمہارے لیے آزمائش ہیں، جادو کفر ہے تم اس کو سیکھ کر کفر نہ کرو۔ لیکن جب یہودی سیکھنے پر اصرار کرتے تو وہ ان کو سکھا دیتے۔قرآن بتاتا ہے کہ یہودی ان دونوں سے وہ جادو سیکھتے تھے جس کے ذریعے شوہر و بیوی میں تفرقہ ڈال دیں۔ لیکن یہ حقیقت بھی واضح کردی گئی کہ وہ اس کے ذریعے اللہ کے حکم کے بغیر کسی کو نقصان نہ پہنچا سکتے تھے، کیونکہ اسباب میں اثر تو بہرحال اللہ کے حکم ہی پر منحصر ہے۔اور وہ اس بات کو بھی خوب جان گئے تھے کہ اس(جادو) کو حاصل کرنے والے کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں، اور بہت ہی بری کمائی ہے جو انہوں نے اپنی جانوں کے لئے کی ہے،کاش وہ اس بات کو سمجھ لیتے!

یہاں اس بات کی وضاحت بھی ضروری ہے کہ قرآن نے جادو کا ذکر ایک شیطانی عمل کے طور پر کیا ہے۔اور احادیث سے اس کی وضاحت ہوتی ہے۔اس میں تو شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں کہ یہ شیطانی عمل ہے، اس کا کرنا ،کرانا،اس کا ذوق رکھنا گناہ کبیرہ بلکہ کفر و شرک ہے۔البتہ سحر کے محدود،وقتی اور تخیلاتی اثر کا ذکر قرآن و حدیث میں ملتا ہے،جو بہرحال اللہ کے اذن و مشیت ہی کے تابع ہے ۔اس کا مطلق انکار کرنا یا اس کے اثرات کو حد سے بڑھانا ،یہ دونوں انداز قرآن و حدیث کے انکار کے مترادف ہیں۔افسوس کی بات ہے کہ بعض مفسرین نے ایک طرف تو اسرائیلی روایات کی بنیاد پر جادو کے بارے میں بے شمار من گھڑت خرافات پیش کر دی ہیں، تو دوسری طرف منکرین قرآن و حدیث نے سحر کا مطلق انکار ہی کر دیا ہے۔ہمیں اس کو اسی حد تک ماننا چاہئے جہاں تک قرآن و حدیث نے بیان کیا ہے۔

موسیٰ علیہ السلام اور جادوگروں کا واقعہ

﴿قَالُواْ يَٰمُوسَىٰٓ إِمَّآ أَن تُلۡقِيَ وَإِمَّآ أَن نَّكُونَ نَحۡنُ ٱلۡمُلۡقِينَ١Oقَالَ أَلۡقُواْۖ فَلَمَّآ أَلۡقَوۡاْ سَحَرُوٓاْ أَعۡيُنَ ٱلنَّاسِ وَٱسۡتَرۡهَبُوهُمۡ وَجَآءُو بِسِحۡرٍ عَظِيمٖO وَأَوۡحَيۡنَآ إِلَىٰ مُوسَىٰٓ أَنۡ أَلۡقِ عَصَاكَۖ فَإِذَا هِيَ تَلۡقَفُ مَا يَأۡفِكُونَO فَوَقَعَ ٱلۡحَقُّ وَبَطَلَ مَا كَانُواْ يَعۡمَلُونَ﴾

[الأعراف: 115-118]

’’ ( جادوگر ) کہنے لگے: اے موسیٰ ؑ تم ڈالتے ہو یا ہم ( پہلے ) ڈالیں۔( موسی ٰ ؑ ) نے کہا ( تم ) ڈالو، پھر جب انہوں نے ڈالیں ( لاٹھیاں اور رسیاں ) تو لوگوں کی آنکھوں پر جادو کردیا اور انہیں خوب ڈرایا،اور ( وہ ) زبردست جادو لائے تھے۔ اور ہم نے موسیٰؑ کی طرف وحی کی کہ اپنا عصا ڈالو ، تو ایکدم وہ نگلنے لگا ان کے جھوٹ کو جو وہ لیکر آئے تھے،۔ پس حق ثابت ہوگیا اور باطل ہوگئے ان کے اعمال‘‘۔

سورہ یونس میں اس موقع کے لئے بیان کیا گیا :

﴿وَقَالَ فِرۡعَوۡنُ ٱئۡتُونِي بِكُلِّ سَٰحِرٍ عَلِيمٖO فَلَمَّا جَآءَ ٱلسَّحَرَةُ قَالَ لَهُم مُّوسَىٰٓ أَلۡقُواْ مَآ أَنتُم مُّلۡقُونَO فَلَمَّآ أَلۡقَوۡاْ قَالَ مُوسَىٰ مَا جِئۡتُم بِهِ ٱلسِّحۡرُۖ إِنَّ ٱللَّهَ سَيُبۡطِلُهُۥٓ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُصۡلِحُ عَمَلَ ٱلۡمُفۡسِدِينَ﴾

[يونس: 79-81]

’’ اور کہا فرعون نے، ہر ماہر جادوگر کو میرے پاس لے آؤ، جب آگئے جادو گر تو موسیٰ ؑ نے ( ان سے ) کہا ڈالو جو کچھ تم نے ڈالنا ہے۔ جب انہوں نے ڈالا تو موسیٰ ؑ نےکہا جو کچھ ( جادو ) جو تم لائے ہو اللہ اسے عنقریب باطل کردے گا ، اللہ تعالیٰ مفسدین کے کام کو سنوارتا نہیں ‘‘۔

سورہ طٰہٰ میں فرمایا گیا :

﴿قَالَ بَلۡ أَلۡقُواْۖ فَإِذَا حِبَالُهُمۡ وَعِصِيُّهُمۡ يُخَيَّلُ إِلَيۡهِ مِن سِحۡرِهِمۡ أَنَّهَا تَسۡعَىٰO فَأَوۡجَسَ فِي نَفۡسِهِۦ خِيفَةٗ مُّوسَىٰOقُلۡنَا لَا تَخَفۡ إِنَّكَ أَنتَ ٱلۡأَعۡلَىٰO وَأَلۡقِ مَا فِي يَمِينِكَ تَلۡقَفۡ مَا صَنَعُوٓاْۖ إِنَّمَا صَنَعُواْ كَيۡدُ سَٰحِرٖۖ وَلَا يُفۡلِحُ ٱلسَّاحِرُ حَيۡثُ أَتَىٰ﴾

[طه: 66-69]

’’ ( موسیٰؑ نے ) کہا بلکہ تم ڈالو ، پھر ان ( جادوگروں ) کے جادو کے اثرسے ان کی رسیاں اور لاٹھیاں ( موسیٰ ؑ ) کے خیال میں آیا کہ جیسے وہ دوڑ رہی ہوں۔ پس موسیٰ ؑ اپنے دل میں ڈر گیا۔ ہم ( اللہ ) نے فرمایا ! ڈرو نہیں، تم ہی کامیاب ہوگے۔ اور پھینکو جو تمہارے دائیں ہاتھ میں ہے یہ نگل جائے گا جو انہوں نے بنایا ہے، یہ تو جادوگروں کی ایک چال ہے، اور نہیں کامیاب ہوتا جادو گر جہاں بھی وہ آئے ‘‘۔

پیش کردہ آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ موسیٰ علیہ السلام اور جادو گروں کے مقابلے میں جادوگروں نے ابتداء کی اور لوگوں کی آنکھوں پر جادو کردیا۔ اس جادو کی وجہ سے موسیٰ علیہ السلام اور لوگوں کو ایسا محسوس ہوا کہ گویا وہ لاٹھیاں اور رسیاں دوڑ رہی ہوں۔ یعنی وہ دوڑ نہیں رہی تھیں بلکہ صرف ایسا محسوس ہورہا تھا ۔( گویا ) جادو ان چیزوں پر نہیں بلکہ لوگوں کی آنکھوں پر ہوا تھا۔ ان کے اس جادو کیوجہ سے خود موسیٰ ؑ السلام پر بھی اس کا اثر ہوا اور وہ ڈر گئے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ موسیٰ ؑ یہ سب جادوگروں کی چالیں ہیں اپنا عصا پھینکو، اور جب اسے پھینکا تو ان کی ساری بناوٹی چیزوں کو نگل گیا، اللہ تعالیٰ نے حقیقت بتا دی کہ ان لاٹھیوں اور رسیوں کی حیثیت کچرے کی ہے، انہوں نے جو انسانوں کی آنکھوں پر جادو کیا تھا صرف اس کی وجہ سے لوگ ڈر گئے تھے۔

کیا جادو گر ان لاٹھیوں اور رسیوں پر کیمیکل لگا کر لائے تھے :

منکریں حدیث لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں کہ جادو کوئی چیز نہیں ہے بلکہ جادوگر ان لاٹھیوں اور رسیوں پرکیمیکل لگا کر لے آئے تھے جس کی وجہ سے انہوں نے بھاگنا شروع کردیا۔ یہاں وہ سورہ طٰہٰ کی آیت میں بیان کردہ ٹکڑا بھی پیش کرتے ہیں : إِنَّمَا صَنَعُواْ كَيۡدُ سَٰحِرٖۖ ’’ جو انہوں نے بنایا ہے، یہ تو جادوگروں کی ایک چال ہے ‘‘۔

حقیقت تو اللہ تعالیٰ نے اسی آیت میں بتا دی ہے : فَإِذَا حِبَالُهُمۡ وَعِصِيُّهُمۡ يُخَيَّلُ إِلَيۡهِ مِن سِحۡرِهِمۡ أَنَّهَا تَسۡعَىٰ ’’ پھر ان ( جادوگروں ) کی رسیاں اور لاٹھیاں جادو کے اثرسے ( موسیٰ ؑ ) کے خیال میں آیا کہ جیسے وہ دوڑ رہی ہوں‘‘۔ یعنی وہ دوڑ نہیں رہی تھیں بلکہ لوگوں کو ایسا لگا کہ جیسے وہ دوڑ رہی ہوں۔واضح ہوا کہ ان لاٹھیوں اور رسیوں پر کوئی کیمیکل نہیں تھا اور نہ ہی وہ دوڑ رہی تھیں۔ بلکہ جادو تو لوگوں کی آنکھوں پر ہوا تھا: فَلَمَّآ أَلۡقَوۡاْ سَحَرُوٓاْ أَعۡيُنَ ٱلنَّاسِ وَٱسۡتَرۡهَبُوهُمۡ وَجَآءُو بِسِحۡرٍ عَظِيمٖ ’’ پھر جب انہوں نے ڈالیں ( لاٹھیاں ) تو لوگوں کی آنکھوں پر جادو کردیا اور انہیں خوب ڈرایا،اور ( وہ ) زبردست جادو لائے تھے‘‘۔ یعنی جادو کسی چیز پر نہیں بلکہ انسانوں کی آنکھوں پر کیا گیا تھا۔نیز قرآن جادو کا جو طریقہ بتاتا ہے وہ اس طرح ہے:

وَٱتَّبَعُواْ مَا تَتۡلُواْ ٱلشَّيَٰطِينُ عَلَىٰ مُلۡكِ سُلَيۡمَٰنَۖ

( سورہ البقرہ : 102 )

’’ اور وہ ان چیزوں کی پیروی کرنے لگے جو شیاطین سلیمان کی مملکت کا نام لے کر پڑھا کرتے تھے‘‘

واضح ہوا کہ جادو کیمیکل لگانے کا نام نہیں بلکہ یہ ایک پڑھا جانے والا عمل ہے۔ یعنی جادوگروں نے کچھ پڑھ کر لوگوں کی آنکھوں پر جادو کردیا۔

جادوگر کبھی کامیاب نہیں ہوتا :

وَلَا يُفۡلِحُ ٱلسَّاحِرُ حَيۡثُ أَتَىٰ ، ’’اور نہیں کامیاب ہوتا جادو گر جہاں بھی وہ آئے ‘‘۔ منکرین حدیث یہ پیش کرکے کہتے ہیں کہ قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جادوگر کامیاب نہیں ہوتا اور تم کہتے ہو کہ نبی ﷺ پر جادو ہوگیا ! انہی آیات میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : فَأَوۡجَسَ فِي نَفۡسِهِۦ خِيفَةٗ مُّوسَىٰ ’’پس موسیٰ ؑ اپنے دل میں ڈر گیا‘‘۔ یعنی موسیٰ علیہ السلام پر ان کے جادو کا اثر ہوا اور وہ ڈر گئے۔ کیا موسیٰ علیہ السلام کا کچھ وقت کے لئے ڈر جانا جادوگروں کی کامیابی تھی؟ سوچیں ، موسیٰ علیہ السلام کا عصا ان کا سب کچھ نگل گیا، کون کامیاب ہوا جادو گر یا موسیٰ علیہ السلام۔

جس آیت کا یہ ذکر کر رہے ہیں عین اس سے اگلی آیت میں فرمایا گیا :

﴿فَأُلۡقِيَ ٱلسَّحَرَةُ سُجَّدٗا قَالُوٓاْ ءَامَنَّا بِرَبِّ هَٰرُونَ وَمُوسَىٰ﴾

[طه: 70]

’’ پس جادو گر سجدے میں گر گئے ، کہنے لگے ہم ایمان لائے ہارون ؑ و موسیٰ ؑ کے رب پر‘‘۔

تو واضح ہوا کہ یہ منکر حدیث نہیں بلکہ منکر قرآن بھی ہیں۔ کیونکہ وقتی طور پر جادو کا اثر ہونا یہ ثابت کرتا ہے کہ جادو میں ( کچھ ) حقیقت ہے۔

نبی ﷺ پر جادو کی حقیقت:

عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: مَكَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَذَا وَكَذَا يُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهُ يَأْتِي أَهْلَهُ وَلَا يَأْتِي، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَقَالَ لِي ذَاتَ يَوْمٍ: “يَا عَائِشَةُ إِنَّ اللَّهَ أَفْتَانِي فِي أَمْرٍ اسْتَفْتَيْتُهُ فِيهِ، أَتَانِي رَجُلَانِ فَجَلَسَ أَحَدُهُمَا عِنْدَ رِجْلَيَّ وَالْآخَرُ عِنْدَ رَأْسِي، فَقَالَ الَّذِي عِنْدَ رِجْلَيَّ لِلَّذِي عِنْدَ رَأْسِي، مَا بَالُ الرَّجُلِ قَالَ: مَطْبُوبٌ، يَعْنِي مَسْحُورًا قَالَ: وَمَنْ طَبَّهُ ؟ قَالَ: لَبِيدُ بْنُ أَعْصَمَ قَالَ: وَفِيمَ ؟ قَالَ: فِي جُفِّ طَلْعَةٍ ذَكَرٍ فِي مُشْطٍ وَمُشَاقَةٍ تَحْتَ رَعُوفَةٍ فِي بِئْرِ ذَرْوَانَ”، فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: “هَذِهِ الْبِئْرُ الَّتِي أُرِيتُهَا كَأَنَّ رُءُوسَ نَخْلِهَا رُءُوسُ الشَّيَاطِينِ وَكَأَنَّ مَاءَهَا نُقَاعَةُ الْحِنَّاءِ”، فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُخْرِجَ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَهَلَّا تَعْنِي تَنَشَّرْتَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: “أَمَّا اللَّهُ فَقَدْ شَفَانِي، وَأَمَّا أَنَا فَأَكْرَهُ أَنْ أُثِيرَ عَلَى النَّاسِ شَرًّا”قَالَتْ: وَلَبِيدُ بْنُ أَعْصَمَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي زُرَيْقٍ حَلِيفٌ لِيَهُودَ.

(صحیح البخاری: کتاب الادب، بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالعَدْلِ وَالإِحْسَانِ، ۔ ۔ ۔ )v

’’ عائشہ ؓ کا بیان ہے کہ نبیﷺ اتنے اتنے دنوں اس حال میں رہے کہ آپ کو خیال ہوتا تھا کہ اپنی بیوی کے پاس سے ہو آئے ہیں، حالانکہ وہاں نہیں جاتے تھے، عائشہ ؓ کا بیان ہے کہ آپ نے مجھ سے ایک دن فرمایا اے عائشہ اللہ نے مجھے وہ بات بتادی جو میں دریافت کرنا چاہتا تھا، میرے پاس دو آدمی آئے، ان میں سے ایک میرے پاؤں کے اور دوسرا میرے سر کے پاس بیٹھ گیا، جو میرے سر کے پاس بیٹھا تھا اس نے پاؤں کے پاس بیٹھنے والے سے پوچھا کہ اس شخص کو کیا ہوگیا ہے ؟ اس نے کہا مطبوب ہے یعنی اس پر جادو کیا گیا ہے، پوچھا کس نے جادو کیا ہے، کہا لبید بن اعصم نے پوچھا کس چیز میں ؟ کہا بالوں کو نر کھجور کے چھلکے میں ڈال کر ذروان کے کنویں میں ایک پتھر کے نیچے رکھ کر، چنانچہ نبیﷺ اس کنویں کے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ یہی وہ کنواں ہے، جو مجھے خواب میں دکھلایا گیا اس کے پاس کھجوروں کے درخت شیطان کے سروں کی طرح ہیں اور اس کا پانی مہندی کے نچوڑ کی طرح سرخ ہے، نبی ﷺنے اس کے نکالنے کا حکم دیا تو وہ نکال دیا گیا، عائشہؓ کا بیان ہے کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! پھر کیوں نہیں ؟ یعنی آپ نے اس کو مشتہر کیوں نہیں کیا، نبیﷺنے فرمایا اللہ تعالیٰ نے مجھے شفا دی اور میں ناپسند کرتا ہوں کہ لوگوں کے سامنے کسی کے شر کو مشتہر کردوں اور بیان کیا کہ لبید بن اعصم بنی زریق کا ایک فرد تھا جو یہود کے حلیف تھے‘‘۔

عَنْ عَائِشَةَ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: “سُحِرَ حَتَّى كَانَ يُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهُ صَنَعَ شَيْئًا وَلَمْ يَصْنَعْهُ

(صحیح بخاری، کتاب الجزیہ، بَابٌ: هَلْ يُعْفَى عَنِ الذِّمِّيِّ إِذَا سَحَرَ )

عائشہ ؓروایت کرتے ہیں کہ آپ (ﷺ) پر جادو کیا گیا تھا اس کا اثریہ ہوا تھا کہ آپ (ﷺ) خیال فرماتے تھے کہ فلاں کام کرچکے ہیں حالانکہ وہ کام آپ (ﷺ) نے انجام نہ دیا ہوتا۔

عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: “كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُحِرَ حَتَّى كَانَ يَرَى أَنَّهُ يَأْتِي النِّسَاءَ وَلَا يَأْتِيهِنَّ”

(بخاری، کتاب الطب، بَابٌ: هَلْ يَسْتَخْرِجُ السِّحْرَ؟)

’’عائشہ ؓنے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺپر جادو کردیا گیا تھا اور اس کا آپ پر یہ اثر ہوا تھا آپ کو خیال ہوتا کہ آپ ازواج مطہرات میں سے کسی کے پاس گئے تھے حالانکہ آپ نہیں گئے ہوتے تھے ‘‘۔

نبی ﷺ پر جادو ہونے کی حقیقت

ان احادیث سے واضح ہوا کہ نبی ﷺ پر جادو ہوا تھا، اس جادو سے نبی ﷺ کی ذات پر صرف اسقدر اثر ہوا تھا کہ نبی ﷺ یہ سمجھتے تھے کہ وہ ازواج مطہرات کے پاس ہو آئے ہیں لیکن حقیقت میں وہ گئے بھی نہیں ہوتے تھے۔ اسی طرح یہ سمجھتے تھے کہ فلاں کام کرلیا ہے لیکن حقیقت میں وہ کیا نہیں ہوتا تھا۔ یعنی یہ جادو بھی ’’ تخیلاتی ‘‘ تھا۔ نبی ﷺ کے خیال میں ایسا آتا تھا یعنی بالکل وہی معاملہ جو موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ہوا تھا کہ جب جادوگروں نے اپنی لاٹھیاں اور رسیاں پھینکیں تو يُخَيَّلُ إِلَيۡهِ مِن سِحۡرِهِمۡ أَنَّهَا تَسۡعَىٰ ’’ان ( جادوگروں ) کے جادو کے اثرسے ( موسیٰ ؑ ) کے خیال میں آیا کہ جیسے وہ دوڑ رہی ہوں‘‘۔ یعنی جادو کا اثر صرف خیالات تک ہے، آپ ﷺ کی عقل اور صحیح اور غلط کے درمیان امتیاز کرنے والی قوت فیصلہ اس سے متاثر نہیں ہوئی تھی۔ گویا دین کے بارے میں قطعاً کوئی فرق نہیں پڑا تھا۔

دور سے کئے ہوئے جادو کا اثر کیسے ہوا ؟

یہ بھی کہا جاتا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کو تو دھوکہ دیا گیا تھا، لیکن نبی ﷺ کے سامنے تو کوئی عمل کیا ہی نہیں گیا تو ان پر جادو کیسے ہوگیا؟ گویا یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ احادیث میں جھوٹ آیا ہے۔ سورہ فلق میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

﴿قُلۡ أَعُوذُ بِرَبِّ ٱلۡفَلَقِ﴾

[الفلق: 1]

’’ کہدو کہ میں پناہ میں آتا ہوں صبح کے رب کی ‘‘۔

﴿مِن شَرِّ مَا خَلَقَ﴾

[الفلق: 2]

’’ ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی ‘‘۔

﴿وَمِن شَرِّ غَاسِقٍ إِذَا وَقَبَ﴾

[الفلق: 3]

’’ اور اندھیری رات کے شر سے جب وہ چھا جائے ‘‘۔

﴿وَمِن شَرِّ ٱلنَّفَّٰثَٰتِ فِي ٱلۡعُقَدِ﴾

[الفلق: 4]

’’ اورگِرہوں میں پھونکنے والیوں کے شر سے ‘‘۔

﴿وَمِن شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ﴾

[الفلق: 5]

’’ اور حسد کرنے والے کے شر سے جب وہ حسد کرے ‘‘۔

ان آیات میں کون کون سا شر بتایا گیا ہے، کیا یہ سارے کام انسان کے سامنے کئے جاتے ہیں ؟ کیا گرہوں میں پھونکنے والیاں سامنے آکر یہ کام کرتی ہیں یا کوئی حسد کرنے والا سامنے بیٹھ کر حسد کرتا ہے ؟ سورہ الناس میں فرمایا گیا :

﴿مِن شَرِّ ٱلۡوَسۡوَاسِ ٱلۡخَنَّاسِOٱلَّذِي يُوَسۡوِسُ فِي صُدُورِ ٱلنَّاسِO مِنَ ٱلۡجِنَّةِ وَٱلنَّاسِ﴾

[الناس: 4-6]

’’ وسوسہ ڈال کر پیچھے ہٹ جانے والے کے شر سے، جو لوگوں کے دلوں میں وسوسہ ڈالتا ہے، جنوں اور انسانوں میں سے ‘‘۔

سوچیں کیا شیطان سامنے آکر ، انسان کو بتا کر اس کے دل میں وسوسہ ڈالتا ہے کہ اس کا اس کے اوپر اثر ہو۔ یہ ساری باتیں محض شیطانی وسوسے ہی ہیں۔ یہ بھی یاد رہےکہ جادو یا کوئی بھی شر اس وقت تک اثر نہیں کرتا جب تک کہ اللہ کی مرضی نہ ہو۔ سورہ البقرہ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا :

ۦۚ وَمَا هُم بِضَآرِّينَ بِهِۦ مِنۡ أَحَدٍ إِلَّا بِإِذۡنِ ٱللَّهِۚ

]البقرة: 102]

’’ (حالانکہ) وہ اس سے کسی کو بھی بغیر اللہ کے حکم کے نقصان پہنچا ہی نہیں سکتے تھے‘‘۔

یعنی کوئی چاہے جو بھی کوشش کرتا رہے لیکن اللہ کی مرضی کے بغیر کوئی چیز اثر نہیں کرتی۔

کیا نبی ﷺ پر جادو ماننےوالاکافر ہو جائے گا؟

منکرین حدیث سورہ فرقان کی ایک آیت کا حصہ پیش کرتے ہیں :

وَقَالَ ٱلظَّٰلِمُونَ إِن تَتَّبِعُونَ إِلَّا رَجُلٗا مَّسۡحُورًا’’ اور ظالموں نے ( مومنوں سے ) کہا تم ایک سحر زدہ انسان کے پیچھے لگ گئے ہو ‘‘۔ اس بارے میں سیاق و سباق سے پڑھیں تو معلوم ہوتا ہے ان کافروں کا بس یہی ایک قول نہ تھا ۔ ملاحظہ فرمائیں سورہ الفرقان کی آیات۔

﴿وَقَالُواْ مَالِ هَٰذَا ٱلرَّسُولِ يَأۡكُلُ ٱلطَّعَامَ وَيَمۡشِي فِي ٱلۡأَسۡوَاقِ لَوۡلَآ أُنزِلَ إِلَيۡهِ مَلَكٞ فَيَكُونَ مَعَهُۥ نَذِيرًا﴾

[الفرقان: 7]

’’ اور کہتے ہیں کہ یہ کیسا رسول ہے کہ کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا ہے، کیوں نہیں نازل کیا گیا کوئی فرشتہ جو ان کے ساتھ ڈڑانے کے لئے ہوتا ‘‘۔

﴿أَوۡ يُلۡقَىٰٓ إِلَيۡهِ كَنزٌ أَوۡ تَكُونُ لَهُۥ جَنَّةٞ يَأۡكُلُ مِنۡهَاۚ وَقَالَ ٱلظَّٰلِمُونَ إِن تَتَّبِعُونَ إِلَّا رَجُلٗا مَّسۡحُورًا﴾

[الفرقان: 8]

’’ یا اس کا کوئی خزانہ ہوتا یا اس کا کوئی باغ ہوتا اس سے وہ کھاتا اور ظالموں نے ( مومنوں سے ) کہا تم ایک سحر زدہ انسان کے پیچھے لگ گئے ہو ‘‘

سورہ بنی اسرائیل میں فرمایا گیا :

﴿نَّحۡنُ أَعۡلَمُ بِمَا يَسۡتَمِعُونَ بِهِۦٓ إِذۡ يَسۡتَمِعُونَ إِلَيۡكَ وَإِذۡ هُمۡ نَجۡوَىٰٓ إِذۡ يَقُولُ ٱلظَّٰلِمُونَ إِن تَتَّبِعُونَ إِلَّا رَجُلٗا مَّسۡحُورًا﴾﴿نَّحۡنُ أَعۡلَمُ بِمَا يَسۡتَمِعُونَ بِهِۦٓ إِذۡ يَسۡتَمِعُونَ إِلَيۡكَ وَإِذۡ هُمۡ نَجۡوَىٰٓ إِذۡ يَقُولُ ٱلظَّٰلِمُونَ إِن تَتَّبِعُونَ إِلَّا رَجُلٗا مَّسۡحُورًا﴾

[الإسراء: 47]

’’ ہم خوب جانتے ہیں جب وہ آپ کی طرف کان لگاتے ہیں توکِس بات پر لگاتے ہیں اور جب یہ سرگوشی کرتے ہیں، جب یہ ظالم کہتے ہیں کہ تم ایک سحر زدہ آدمی کی پیروی کر رہےہو‘‘۔

﴿ٱنظُرۡ كَيۡفَ ضَرَبُواْ لَكَ ٱلۡأَمۡثَالَ فَضَلُّواْ فَلَا يَسۡتَطِيعُونَ سَبِيلٗا﴾

[الإسراء: 48]

’’ دیکھیں یہ آپ کے لئے کیسی مثالیں بناتے ہیں ، پس یہ گمراہ ہوگئے اور ہدایت نہیں پا سکتے

منکرین حدیث آیت کا ایک حصہ لیکر کہدیتے ہیں کہ جس نے نبی ﷺ پر جادو کا اثر مان لیا وہ کافر ہے، حالانکہ ان آیات میں صرف یہی معاملہ نہیں بلکہ ان کا اعتراض تو یہ بھی تھا کہ یہ نبی ﷺ کھانا بھی کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا بھی ہے اور اس کے پاس کوئی خزانہ نہیں اور نہ ہی اس کے پاس کوئی باغ ہے۔ بتائیں کیا جو یہ عقیدہ رکھے کہ نبی ﷺ انسانوں کی طرح کھاتےپیتے، چلتے تھے اور ان کے پاس نہ تو کوئی خزانہ تھا اور نہ ہی کوئی باغ تو اس کا شمار کفار میں ہوگا؟ ہر گز ، ہر گز نہیں ۔

کوئی ان سے پوچھے کہ صرف ایک بات کیوں لے رہے ہو، پھر ان آیات کی ساری باتیں لو اور جو یہ عقیدہ رکھے اس پر کفر کا فتویٰ لگاؤ۔

نبی ﷺ کو سحر زدہ کیوں کہتے تھے؟

احادیث سے ثابت ہے کہ کفار نبی ﷺ کو صادق و امین کہا کرتے تھے، ان کی بہت عزت کیا کرتے تھے، لیکن انہیں ’’ سحر زدہ ‘‘ اسوقت کہا گیا جب انہوں نے حق مبنی سچی اور کھری دعوت توحید پیش کی۔ گویا وہ انکی تبلیغ کیوجہ سے انہیں سحر زدہ ( سحر میں ڈوبا ہوا ) کہا کرتے تھے۔ موسیٰ علیہ السلام جب فرعون کے پاس دعوت حق دینے گئے تو اس نےبھی کہا :

﴿وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَى تِسْعَ آيَاتٍ بَيِّنَاتٍ فَاسْأَلْ بَنِي إِسْرَائِيلَ إِذْ جَاءَهُمْ فَقَالَ لَهُ فِرْعَوْنُ إِنِّي لَأَظُنُّكَ يَا مُوسَى مَسْحُورًا ؀ قَالَ لَقَدْ عَلِمْتَ مَا أَنْزَلَ هَؤُلَاءِ إِلَّا رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ بَصَائِرَ وَإِنِّي لَأَظُنُّكَ يَا فِرْعَوْنُ مَثْبُورًا﴾

[الإسراء: 101-102]

’اور ہم نے موسیٰ کو نو کھلی نشانیاں دیں تو بنی اسرائیل سے دریافت کرلو کہ جب وہ ان کے پاس آئے تو فرعون نے ان سے کہا کہ موسیٰ میں خیال کرتا ہوں کہ تم پر جادو کیا گیا ہے،انہوں نے کہا کہ تم یہ جانتے ہو کہ آسمانوں اور زمین کے پروردگار کے سوا ان کو کسی نے نازل نہیں کیا۔ (اور وہ بھی تم لوگوں کے) سمجھانے کو۔ اور اے فرعون میں خیال کرتا ہوں کہ تم ہلاک ہوجاؤ گے‘‘۔

موسیٰ علیہ السلام فرعون کے گھر ہی پلے بڑھے لیکن اس نے انہیں کبھی جادو زدہ نہیں سمجھا لیکن جب موسیٰ علیہ السلام نے انہیں دعوت حق دی تو اس نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ تم جادو زدہ ہو، یعنی یہ بڑی عجیب باتیں ہیں جو تم کر رہے ہو۔ بالکل یہی معاملہ نبی ﷺ کے ساتھ ہوا کہ جب دعوت حق دی تو ساری عزت چھوڑ کر انہیں جادو زدہ سمجھا گیا ۔ گویا یہ اعتراض رسالت اور دعوت پر تھا کہ جو کچھ یہ کہہ رہا ہے ( نبی ﷺ اور فرعون کے دربار میں موسیٰ علیہ السلام ) یہ باتیں کسی جادو زدہ کی لگتی ہیں۔ بالکل ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کوئی ان کے منہ سے یہ بات نکلوا رہا ہے۔ یعنی منکرین حدیث کا اعتراض بالکل غلط ہے کفار کا وہ اعتراض نبی ﷺ کی ذات پر نہیں بلکہ ان کی رسالت پر تھا۔

جادو زدہ کا مطلب ہے کہ ایک ایسا انسان جو سدا سے جادو کے اثر میں ہو اور اسے خود یہ نہیں معلوم ہو کہ وہ کیا بول رہا ہے جب کہ اوپر بیان کردہ احادیث سے یہ بات بالکل ثابت ہے کہ نبی ﷺ کی رسالت کے کسی کام میں کوئی فرق نہیں پڑا تھا بلکہ ان کے دماغ میں صرف اتنا آتا تھا کہ یہ کام کرلیا ہے اور حقیقت میں وہ کیا نہ ہوتا یا نبی ﷺ خیال کرتے تھے کہ اپنی ا زواج سے ملکر آ گئے ہیں لیکن حقیقت میں وہ گئے ہی نہیں ہوتے تھے۔

اگر جادو مان لیا جائے تو پھر جادو گر نافع و ضار بن گیا :

منکرین حدیث ایسے شوشے چھوڑتے رہتے ہیں کہ جس پر انسان کو ہنسی آ جاتی ہے۔ ایک ڈاکٹر نے کسی مریض کو دوائی دی اور مریض اچھا ہوگیا، کیا اب ڈاکٹر ’’ نافع ‘‘ ( فائدہ دینے والا ) بن گیا ؟

ڈاکٹر نے دوا دی مریض صحیح ہوگیا تو کیا ڈاکٹر کو نافع ( نفع دینے والا ) سمجھا جائے گا؟ڈاکٹر نے انجکشن لگایا مریض مرگیا اب کیا ڈاکٹر کو ضا ر( نقصان پہنچانے والا ) کہیں گے ؟ کوئی بیماری انسان کی موت کا سبب بن سکتی ہے، لیکن کوئی اپنی مرضی سے کسی کو کوئی بیماری نہیں لگا سکتا۔ فرعون موسیٰ علیہ السلام کی قوم کے بچوں کو قتل کراتا تھا ، اب کیا وہ لوگوں کو موت دینے والا کہلائے گا؟

ایک نے دوسرے کو گولی ماری دوسرا مر گیا اب گولی مارنے والے کو ضا رسمجھا جائے گا۔ کیساعجیب ہے ان کا انداز۔ جناب گولی مارنے والا گولی مارتا رہے وہ بندہ اسی وقت مرے گا جب اللہ کا حکم ہوگا ۔ جادوگر نہ کسی کو نفع دے سکتا ہے اور نہ ہی کوئی نقصان پہنچا سکتا ہے یہی بات تو سورہ بقرہ میں فرمائی گئی تھی :

وَمَا هُم بِضَآرِّينَ بِهِۦ مِنۡ أَحَدٍ إِلَّا بِإِذۡنِ ٱللَّهِۚ

] البقرة: 102]

’’ (حالانکہ) وہ اس سے کسی کو بھی بغیر اللہ کے حکم کے نقصان پہنچا ہی نہیں سکتے تھے‘‘۔

اللہ تعالیٰ نے کھل کر بتا دیا کہ جادو گر نہ نافع ہے اور نہ ضار بلکہ یہ صرف اللہ کی صفت ہے۔ جادوگر لاکھ عملیات کرتا رہے لیکں کسی کو نہ نفع دے سکتا ہے اور نہ نقصان۔ البتہ جادو گر نے عمل کیا اور اللہ تعالیٰ نے اس بندے کے لئے کچھ لکھ دیا ہے تو وہ اسے پہنچ کر رہے گا، اور پہنچے گا بھی صرف ’’ ذہن سوچ و پریشانی ‘‘ کی حد تک۔ ایسا نہیں کہ کسی کا بزنس تباہ ہو جائے گا، کسی کی شادی رک جائے گی۔ بلکہ ذہن اور اس کی وجہ سے ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ اسے بکری ہاتھی دکھائی دینے لگے۔

قرآن و حدیث سے جادو کا وجود ثابت ہوتا ہے لہذا اسے برحق کہا جاتا ہے۔اس پر جواب ملتا ہے کہ کیا آپ ابھی جادو کے ذریعے سے فلاں کام کرسکتے ہیں؟

جادو اثر انداز ہوتا ہے ، اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر وقت ، ہر جگہ ، ہر کسی پر اثر انداز ہوجاتا ہے ۔ اوپر بتا دیا گیا ہے کہ یہ صرف اللہ ہی کے حکم سے ہوتا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے کسی کے لئے کوئی بات لکھ دی ہو اور جادو گر بھی اسی بات کے لئے کوشش کر رہا ہو تو اس کا جادو اثر انداز ہوگا ورنہ بالکل نہیں۔

جادو کیا ہے ؟

قرآن و حدیث سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ جادو ایک شیطانی عمل ہے۔

۔ ۔ ۔ وَلَقَدۡ عَلِمُواْ لَمَنِ ٱشۡتَرَىٰهُ مَا لَهُۥ فِي ٱلۡأٓخِرَةِ مِنۡ خَلَٰقٖۚ وَلَبِئۡسَ مَا شَرَوۡاْ بِهِۦٓ أَنفُسَهُمۡۚ لَوۡ كَانُواْ يَعۡلَمُونَ

[البقرة: 102]

’’ ۔ ۔۔ اور وہ خوب جانتے تھے کہ جو اس کا خریدار بنا اس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں، اور بہت ہی بری چیز ہے وہ جس کے بدلے انہوں نے خود کو بیچ ڈالا کاش وہ اس بات کو جان لیتے‘‘۔

نبی ﷺ نے فرمایا :

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: “اجْتَنِبُوا السَّبْعَ الْمُوبِقَاتِ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا هُنَّ، قَالَ: الشِّرْكُ بِاللَّهِ، وَالسِّحْرُ، وَقَتْلُ النَّفْسِ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ، وَأَكْلُ الرِّبَا، وَأَكْلُ مَالِ الْيَتِيمِ، وَالتَّوَلِّي يَوْمَ الزَّحْفِ، وَقَذْفُ الْمُحْصَنَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ الْغَافِلَاتِ

(صحیح البخاری: کتاب الوصایا، بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {إِنَّ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ أَمْوَالَ اليَتَامَى ظُلْمًا، إِنَّمَا يَأْكُلُونَ فِي بُطُونِهِمْ نَارًا وَسَيَصْلَوْنَ سَعِيرًا}

[النساء: 10])

ابوہریرہؓ نبیﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ (ﷺ) نے فرمایا سات ہلاک کرنے والی باتوں سے دور رہو۔ لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہﷺ وہ کونسی باتیں ہیں فرمایا اللہ کے ساتھ شرک کرنا اور جادو کرنا اور اس جان کا ناحق مارنا جس کو اللہ تعالیٰ نے حرام کیا ہے اور سود کھانا اور یتیم کا مال کھانا اور جہاد سے فرار یعنی بھاگنا اور پاک دامن بھولی بھالی مومن عورتوں پر زنا کی تہمت لگانا۔

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: “مَنِ اقْتَبَسَ عِلْمًا مِنَ النُّجُومِ، اقْتَبَسَ شُعْبَةً مِنَ السِّحْرِ زَادَ مَا زَادَ

(سنن ابو داؤد: کتاب الطب، باب في النجوم)

’’ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺنے فرمایا کہ جس نے علم نجوم کا کچھ حصہ سیکھا اس نے جادو کا ایک حصہ سیکھا ( جو حرام ہے) اور جتنا زیادہ (علم نجوم) سیکھا اتنا ہی زیادہ (سحر) سیکھا‘‘۔

واضح ہوا کہ سحر سیکھنا، سکھانا، کرنا سب حرام ہے۔

Categories
Uncategorized

وسیلے کا شرک

سورہ یونس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

﴿وَيَعۡبُدُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ مَا لَا يَضُرُّهُمۡ وَلَا يَنفَعُهُمۡ وَيَقُولُونَ هَٰٓؤُلَآءِ شُفَعَٰٓؤُنَا عِندَ ٱللَّهِۚ قُلۡ أَتُنَبِّ‍ُٔونَ ٱللَّهَ بِمَا لَا يَعۡلَمُ فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَلَا فِي ٱلۡأَرۡضِۚ سُبۡحَٰنَهُۥ وَتَعَٰلَىٰ عَمَّا يُشۡرِكُونَ﴾

[يونس: 18]

’’ اور بندگی کرتے ہیں اللہ کے علاوہ ان کی جو نہ انہیں نقصان پہنچا سکتے ہیں اور نہ  انہیں کوئی فائدہ، اور کہتے ہیں کہ یہ ہمارے سفارشی ہیں اللہ کے پاس، (ان سے ) کہدو کہ اللہ کو ایسی خبر دیتے ہو جو وہ نہیں جانتا آسمانوں  میں اور نہ زمین میں، پاک ہے اور بلند ہے  وہ ان کے اس شرک سے ‘‘۔

مشرکین مکہ کا یہی طریقہ کار تھا۔ انہوں خانہ کعبہ میں انبیاء علیہ السلام، مریم صدیقہ اور ان لوگوں کے بت رکھے ہوئے تھے جنہیں وہ نیک  و صالح سمجھا کرتے تھے۔( بخاری ،  کتاب الحج ) ( بخاری،  کتاب التفسیر القرآن)۔ جیسا کہ اس آیت میں فرمایا کہ وہ ان کی عبادت کیا کرتے تھے۔  یعنی انہیں پکارتے تھے، ان سے دعائیں کیا کرتے تھے، ان کے نام کی نذر و نیاز کیا کرتے تھےجیسا کہ ایک حدیث میں نبی ﷺ نےفرمایا :

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا فَرَعَ وَلَا عَتِيرَةَ وَالْفَرَعُ أَوَّلُ النِّتَاجِ کَانُوا يَذْبَحُونَهُ لِطَوَاغِيتِهِمْ وَالْعَتِيرَةُ فِي رَجَبٍ

( بخاری، کتاب العقیقہ ، بَابُ الفَرَعِ )

’’ ابوہریرہ  ؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا نہ تو فرع اور نہ ہی عتیرہ کوئی چیز ہے اور فرع اونٹنی کے سب سے پہلے بچے کو کہتے ہیں جو مشرکین اپنے طاغوتوں کے نام پر ذبح کرتے تھے اور عتیرہ اس قربانی کو کہتے ہیں جو رجب میں کی جائے‘‘۔

نبی ﷺ نے فرمایا کہ وہ اپنے طاغوتوں ( وہ انسان جو  اللہ کے بندوں کو  اللہ کے نازل کردہ  سے گمراہ کرے، یا اس سے روکے) کے نام پر قربانی کیا کرتے تھے۔ ایک اور حدیث میں ہے :

عن أنس، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لا عقر في الإسلام»، قال عبد الرزاق: «كانوا يعقرون عند القبر بقرة أو شاة»

( سنن ابی داؤد ، کتاب الجنائز، باب: كراهية الذبح عند القبر)

’’انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا۔ اسلام میں عقر نہیں ہے۔ عبدالرزاق نے کہا کہ زمانہ جاہلیت میں لوگ قبروں کے پاس جا کر گائے یابکری ذبح کیا کرتے تھے‘‘۔ (اس کا نام عقر ہے)

تو یہ تھی ان کی عبادت اور فوت شدہ لوگوں کی شکر گزاری یا خوشنودی حاصل کرنے کا طریقہ۔ یہ سب کیوں تھا ؟ للہ تعالیٰ فرماتا ہے :

﴿أَلَا لِلَّهِ ٱلدِّينُ ٱلۡخَالِصُۚ وَٱلَّذِينَ ٱتَّخَذُواْ مِن دُونِهِۦٓ أَوۡلِيَآءَ مَا نَعۡبُدُهُمۡ إِلَّا لِيُقَرِّبُونَآ إِلَى ٱللَّهِ زُلۡفَىٰٓ ۔ ۔ ۔﴾

[الزمر: 3]

’’ خبردار دین خالص  ( خالص عبادت ) اللہ ہی کے لئے ہے، جن لوگوں نے اللہ کے علاوہ دوسروں کو کارساز بنا لیا ہے ( وہ کہتے ہیں ) ہم ان کی بندگی نہیں کرتے مگر اس لئے کہ  وہ ہمیں اللہ کے قریب کردیں ۔ ۔  ‘‘

واضح ہوا کہ اللہ کے علاوہ جن جن کی یہ بندگی کرتے تھے وہ محض اس لئے تھی کہ وہ انہیں اللہ کے قریب کردیں ، ہماری دعائیں اللہ تک پہنچا دیں جیسا کہ سورہ یونس کی آیت نمبر 18 میں ان کا عقیدہ بیان کیا گیا  اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ  نے اسے شرک قرار دیا۔ وہ شرک اس لئے کہ   لِلَّهِ ٱلدِّينُ ٱلۡخَالِصُۚ دین خالص صرف اللہ کےلئے ہے، عبادت صرف اللہ کے لئےہے کسی اور کے لئےنہیں۔ جب کسی دوسرے سے دعا کی جائے یا دوسرے کے واسطے اور وسیلے  سے دعا  کی جائے تو  یہ عبادت میں شرک ہو جائے گا اور یوں شرک فی الحقوق اللہ ہوگا۔مشرکانہ دور کا یہ مشرکانہ عقیدہ اس امت میں بھی آ گیا اور  اللہ تعالیٰ کو دعاؤں میں واسطے اور وسیلے دئیے جانے لگے۔

اس میں سوچنے کی بات یہ ہے کہ

  • کیا اللہ تعالیٰ کچھ دیر کے لئے سو جاتا ہے ، کیا اللہ تعالیٰ براہ رست نہیں سن سکتا ؟کہ کوئی دوسرا سن کر اللہ تعالیٰ کو بعد میں بتائے( نعوذوباللہ )۔
  • کیا فوت شدہ افراد یا کوئی پیر ایسا بھی ہے کہ جس کی بات اللہ تعالیٰ نہیں ٹال سکتا ؟
  • کیا فوت شدہ انسان اسقدر طاقت ور ہیں کہ دنیا میں ہر ایک پکارنے والے کی پکار سن لیتے ہیں ؟

قرآنی دلائل بتاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ براہ راست سنتا ہے بلکہ اللہ تعالیٰ  انسان کو اسی کا بات کا حکم دیتا ہے :

﴿وَقَالَ رَبُّكُمُ ٱدۡعُونِيٓ أَسۡتَجِبۡ لَكُمۡۚ إِنَّ ٱلَّذِينَ يَسۡتَكۡبِرُونَ عَنۡ عِبَادَتِي سَيَدۡخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِينَ﴾

[المومن: 60]

’’ اور تمہارا رب فرماتا ہے کہ مجھے پکارو میں تمہاری دعائیں قبول کروں گا  ، بے شک جو لوگ تکبر کرتے ہیں میری عبادت سے، عنقریب  ذلیل ہو کر جہنم میں داخل ہوں گے ‘‘۔

﴿وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌۖ أُجِيبُ دَعۡوَةَ ٱلدَّاعِ إِذَا دَعَانِۖ فَلۡيَسۡتَجِيبُواْ لِي وَلۡيُؤۡمِنُواْ بِي لَعَلَّهُمۡ يَرۡشُدُونَ﴾

[البقرة: 186]

’’اور (اے نبی!) جب میرے بندے تم سے میرے بارے میں پوچھیں تو تم انہیں بتا دو کہ میں قریب ہی ہوں، پکارنے والا جب مجھے پکارتا ہے تو میں اس کی پکار سن کر قبول کرتا ہوں، تو انہیں چاہئے کہ میرا حکم مانیں، اور مجھ پر ہی ایمان رکھیں تاکہ راہ ہدایت پائیں‘ ‘۔

اللہ تعالیٰ نے تو  براہ راست دعا کرنے کا حکم فرمایا ہے کہ براہ راست مجھے پکارو اور فرمایا جب میرا بندہ مجھے پکارتا ہے تو اسی وقت میں اس کی پکار  سن کر قبول فرما لیتا ہوں ، تو پھر کسی کے وسیلےسے دعائیں کیوں ؟ یہاں لوگوں کو گمراہ کیا جاتا ہے کہ  جب کسی آفیسر کے پاس جانا ہوتا ہے تو پہلے چپراسی کے پاس جاتے ہو، پھر وہ تمہاری درخواست  لیکر جاتا ہے پھر آفیسر سے ملاقات ہوتی ہے۔ اسی طرح پہلے ان فوت شدہ کی خوشنودی حاصل کرو یہ تمہاری  التجائیں اللہ تک پہنچادیں گے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

﴿فَلَا تَضۡرِبُواْ لِلَّهِ ٱلۡأَمۡثَالَۚ إِنَّ ٱللَّهَ يَعۡلَمُ وَأَنتُمۡ لَا تَعۡلَمُونَ﴾

[النحل: 74]

’’ پس اللہ کے لئے مثالیں  نہ بیان کرو ، اللہ جاننے والا ہے اور تم نہیں جانتے ‘‘۔

بتا گیا کہ انسانوں والی مثالیں اللہ کے لئے نہیں بیان کرو، انسان تو ایک کمرے میں رہ کر دوسرے کمرے کا حال نہیں جانتا لیکن  تمہارا رب تو کائنات کے چپے چپے سے واقف ہے۔

﴿أَلَآ إِنَّهُمۡ يَثۡنُونَ صُدُورَهُمۡ لِيَسۡتَخۡفُواْ مِنۡهُۚ أَلَا حِينَ يَسۡتَغۡشُونَ ثِيَابَهُمۡ يَعۡلَمُ مَا يُسِرُّونَ وَمَا يُعۡلِنُونَۚ إِنَّهُۥ عَلِيمُۢ بِذَاتِ ٱلصُّدُورِ﴾

[هود: 5]

’’ آگاہ رہو کہ یہ اپنےسینوں کو موڑ لیتے ہیں  تاکہ اللہ سے چھپے رہیں  اور جب یہ اپنے آپ کو کپڑوں سے ڈھانکتے ہیں ، وہ جانتا ہے  جو وہ چھپاتا ہے اور جو وہ ظاہر کرتے ہیں، بے شک وہ خوب جاننے والا ہے سینوں کی باتوں کو‘‘۔

﴿وَلَقَدۡ خَلَقۡنَا ٱلۡإِنسَٰنَ وَنَعۡلَمُ مَا تُوَسۡوِسُ بِهِۦ نَفۡسُهُۥۖ وَنَحۡنُ أَقۡرَبُ إِلَيۡهِ مِنۡ حَبۡلِ ٱلۡوَرِيدِ﴾

[ق: 16]

’’ اور ہم نے انسان کو بنایا ہے اور ہم جانتے ہیں اس کے دل میں کیا وسوسے اٹھتے ہیں اور ہم اس کی شہہ رگ سے زیادہ قریب ہیں‘‘۔

﴿أَلَمۡ تَرَ أَنَّ ٱللَّهَ يَعۡلَمُ مَا فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِي ٱلۡأَرۡضِۖ مَا يَكُونُ مِن نَّجۡوَىٰ ثَلَٰثَةٍ إِلَّا هُوَ رَابِعُهُمۡ وَلَا خَمۡسَةٍ إِلَّا هُوَ سَادِسُهُمۡ وَلَآ أَدۡنَىٰ مِن ذَٰلِكَ وَلَآ أَكۡثَرَ إِلَّا هُوَ مَعَهُمۡ أَيۡنَ مَا كَانُواْۖ ثُمَّ يُنَبِّئُهُم بِمَا عَمِلُواْ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِۚ إِنَّ ٱللَّهَ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيمٌ﴾

[المجادلة: 7]

’’ کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ جاننے والا ہے  جو کچھ آسمانوں میں ہے اور زمین میں،  نہیں ہوتی کوئی سرگوشی تین ( افراد ) کی لیکن چوتھا وہ ہوتا ہے، نہ پانچ کی لیکن چھٹا وہ ہوتا ہے، نہ اس سے کم اور نہ اس سے زیادہ جہاں کہیں بھی وہ ہوں  مگر وہ  ان کے ساتھ ہوتا ہے ، پھر جو کچھ بھی  انہوں نےکیا وہ قیامت کے دن انہیں بتا دے گا، بے شک  وہ ہر چیز سے باخبر ہے‘‘۔

﴿وَعِندَهُۥ مَفَاتِحُ ٱلۡغَيۡبِ لَا يَعۡلَمُهَآ إِلَّا هُوَۚ وَيَعۡلَمُ مَا فِي ٱلۡبَرِّ وَٱلۡبَحۡرِۚ وَمَا تَسۡقُطُ مِن وَرَقَةٍ إِلَّا يَعۡلَمُهَا وَلَا حَبَّةٖ فِي ظُلُمَٰتِ ٱلۡأَرۡضِ وَلَا رَطۡبٖ وَلَا يَابِسٍ إِلَّا فِي كِتَٰبٖ مُّبِينٖ﴾

[الأنعام: 59]

’’اور اس ( اللہ ) ہی کے پاس ہیں غیب کی کنجیاں، کوئی نہیں جانتا سوائے اس کے، وہ جانتا ہے ہے جو کچھ خشکی میں ہے اور جو تری میں ہے، اور نہیں گرتا پتوں میں سےکوئی مگر اس کے علم میں ہوتا ہے اور  نہیں ہے کوئی دانہ زمین کے ان اندھیروں میں  مگر وہ  کھلی کتاب میں موجود ہے ‘‘۔

کیا اتنے عظیم رب کے لئے کسی ایسے وسیلےکی ضرورت ہے کہ وہ اس تک ہماری بات پہنچائے ؟

کیا ( نعوذوباللہ ) اللہ تعالیٰ کچھ دیر کے لئے سو جاتا ہے کہ کوئی دوسرا سن کر اللہ تعالیٰ کو بعد میں بتائے۔

آیت الکرسی  میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

﴿ٱللَّهُ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ٱلۡحَيُّ ٱلۡقَيُّومُۚ لَا تَأۡخُذُهُۥ سِنَةٞ وَلَا نَوۡمٞۚ لَّهُۥ مَا فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِي ٱلۡأَرۡضِۗ مَن ذَا ٱلَّذِي يَشۡفَعُ عِندَهُۥٓ إِلَّا بِإِذۡنِهِۦۚ يَعۡلَمُ مَا بَيۡنَ أَيۡدِيهِمۡ وَمَا خَلۡفَهُمۡۖ وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيۡءٖ مِّنۡ عِلۡمِهِۦٓ إِلَّا بِمَا شَآءَۚ وَسِعَ كُرۡسِيُّهُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَۖ وَلَا يَ‍ُٔودُهُۥ حِفۡظُهُمَاۚ وَهُوَ ٱلۡعَلِيُّ ٱلۡعَظِيمُ﴾

[البقرة: 255]

’’اللہ (ہی معبود) ہے اسکے سوا کوئی الٰہ  نہیں، وہ زندہ اور قائم رکھنے والا ہے ،اسے نہ اونگھ آتی ہے اور نہ نیند۔ اسی کے لیے ہے جو آسمانوں اور زمین میں ہے،کون ہے جو بغیر اس کی اجازت کے سفارش کر سکے، جو کچھ انکے آگے اور پیچھے ہے وہ سب جانتا ہے ، اور لوگ اسکے علم میں سے کسی چیز کا احاطہ نہیں کر سکتے مگر جتنا وہ چاہے۔اس کی کرسی زمین و آسماں پر چھائی ہوئی ہے، اور ان کی نگرانی اس کو تھکاتی نہیں، وہ اعلیٰ مرتبہ اور عظیم ہے‘‘۔

اب بتائیں اللہ کے علاوہ اس کائنات میں کون ایسا ہے جو کسی بھی لمحے نہ کہیں جاتا ہے، نہ سوتا ہے اور نہ اسے نیند آتی ہے۔ کائنات کی ہر ہر لمحے کی خبر اسے ہے ، ہر ہر مخلوق کا حال اسے معلوم ہے۔ کون بھوکا ہے، کون بیمار ہے، کسے کس چیز کی حاجت ہے اسے ہر چیز کا علم ہے ۔ اس کے مقابلے میں جن انسانوں کو اس کا وسیلہ بنانے کا کہا جا رہا ہے تو وہ تو اپنی زندگی میں دیوار کے پار کی چیز نہیں دیکھ سکتے تھے، دور کی آواز نہیں سن سکتے تھے اور اب تو  وہ مر چکے ہیں۔ قرآن و حدیث کے بیان کے مطابق ان کا جسم سڑگل گیا ہوگا۔ نہ ان کے کان ہیں کہ وہ اس سے سنیں اورنہ آنکھیں کہ اس سے دیکھیں اور نہ ہی ان  کے اختیار میں کوئی چیز ہے اور نہ وہ کسی چیز کے مالک ہیں۔

یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اللہ ہماری نہیں سنتا اور ان ( بزرگوں ) کی ٹالتا نہیں۔ قرآن میں اللہ نے بتا دیا کہ جب پکارنے والا مجھے پکارتا ہے اسی وقت سنتا اور قبول فرماتا ہوں۔ پھر یہ بھی سامنے آ گیا کہ اللہ ہر چیز سے باخبر ہے اور جنہیں انسان اس کا وسیلہ بنانے کا کہتے ہیں وہ تو مردہ ہیں جو نہ سن سکتے ہیں، نہ جان سکتے ہیں انہیں تو خود اپنے حال کا بھی علم نہیں اور نہ یہ شعور ہے کہ کب زندہ کرکے اٹھائے جائیں گے۔ اب آخری بات کہ کیا کائنات میں کوئی ایسا بھی ہے جو اللہ کےسامنے مچل جائے اور اپنے بات منوا لے۔ مالک کائنات فرماتا ہے :

﴿۔ ۔ ۔ ۔ وَمَا كَانَ ٱللَّهُ لِيُعۡجِزَهُۥ مِن شَيۡءٖ فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَلَا فِي ٱلۡأَرۡضِۚ إِنَّهُۥ كَانَ عَلِيمٗا قَدِيرٗا﴾

[فاطر: 44]

’’ اور اللہ کو تو آسمانوں کی یا زمین کی کوئی چیز بھی عاجز نہیں کرسکتی۔ بلاشبہ وہ سب کچھ جاننے والا اور قدرت والا ہے ‘‘۔

واضح ہو گیا کہ کائنات میں کوئی ایسی چیز نہیں کہ وہ مچل کر اللہ کو عاجز کردے اور اللہ اس کی بات ماننےپر مجبور ہو جائے، یہ سب جھوٹ ہے۔ بھلا کیا مقابلہ خالق و مخلوق کا، ایک رزق دینے والا اور دوسرے رزق لینے والےہیں ، ایک  جس نے ساری کائنات کو بنایاہے  اور ایک وہ جس نے ایک درخت کا ایک پتہ بھی نہ بنایا ۔ سفارش تو  ہمیشہ کم اختیار والا زیادہ اختیار والے کو کرتا ہے، زیادہ علم والا کم علم والے کو سفارش کرتا ہے۔ جب کائنات میں  اللہ کے علاوہ کوئی دوسرا ذرہ برابر اختیار ہی نہیں رکھتا تو وہ سفارش کیسے کرے گا۔ اسی طرح کسی کا علم اللہ سے بڑھ کر ہے ہی نہیں کہ جسکی وہ اللہ کو  خبر دے سکے۔ بھلا جو ایک ایک لمحے اللہ کا محتاج ہو اور اب مر بھی چکا ہوتو   وہ اللہ کے سامنے مچل اور ضد کرسکتا ہے ؟ ( کبھی بھی نہیں )

ان سارے دلائل سے ثابت ہوا کہ عبادت یعنی دعا براہ راست اللہ تعالیٰ سے کرنی چاہئیے یہی اس کا حق ہے جب انسان اس میں کوئی وسیلہ بناتا ہے تو  اللہ تعالیٰ نے سورہ یونس آیت نمبر 18 میں اس فعل کو شرک قرار دیا۔

اللہ تعالیٰ کے ناموں کا وسیلہ :

اللہ تعالیٰ نے قرآن میں دعا کرنے کا طریقہ بتایا :

﴿وَلِلَّهِ ٱلۡأَسۡمَآءُ ٱلۡحُسۡنَىٰ فَٱدۡعُوهُ بِهَا﴾

[الأعراف: 180]

’’ اور اللہ کے بہترین نام ہیں، ان کے ذریعے  اس سے دعا کرو ‘‘

﴿قُلِ ٱدۡعُواْ ٱللَّهَ أَوِ ٱدۡعُواْ ٱلرَّحۡمَٰنَۖ أَيّٗا مَّا تَدۡعُواْ فَلَهُ ٱلۡأَسۡمَآءُ ٱلۡحُسۡنَىٰۚ۔ ۔ ۔ ﴾

[الإسراء: 110]

’’ ( اے نبی ﷺ ) کہدیں:  تم پکارو اللہ کو یا پکارو رحمٰن کو، کسی بھی  نام سے تم پکارو ( یہ ) سب اللہ کے بہترین نام ہیں ‘‘۔

معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کو دعا میں اس کے بہترین ناموں کا واسطہ یا وسیلہ دیا جا سکتا ہے۔ دعا کریں ’’ یا رحمٰن ‘‘ اے رحم فرمانے والے مجھے پر رحم فرما۔ ’’یا  رزاق ‘‘ اے بہترین رزق دینے والے مجھے اچھےسے اچھا رزق عطا فرما ۔

زندہ شخص  کا وسیلہ بنانا :

احایث سے وسیلہ کے کچھ معاملات ثابت ہوتے ہیں کہ جیسے صحابہ ؓ  نبی ﷺ  سےدعا کی درخواست کرتے تھے۔ لیکن جب نبی ﷺ کی وفات ہوگئی تو انہوں نے نبی ﷺ کے وسیلے سے دعا نہیں کی بلکہ نبی ﷺ کے چچا عباس ؓ سے (نبی ﷺ کی نگاہ میں جو ان کا مقام تھا اس وجہ سے )  کرائی۔

عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الخَطَّابِ، كَانَ إِذَا قَحَطُوا اسْتَسْقَى بِالعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ المُطَّلِبِ فَقَالَ: «اللَّهُمَّ إِنَّا كُنَّا نَتَوَسَّلُ إِلَيْكَ بِنَبِيِّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَسْقِينَا، وَإِنَّا نَتَوَسَّلُ إِلَيْكَ بِعَمِّ نَبِيِّنَا فَاسْقِنَا» قَالَ: فَيُسْقَوْنَ

( بخاری، كتاب أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم،   بَابُ ذِكْرِ العَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ المُطَّلِبِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ )

’’انس بن مالک ؓ  روایت کرتے ہیں کہ جب لوگ قحط میں مبتلا ہوتے تو عمر بن خطابؓ، عباس ؓ بن عبدالمطلب کے وسیلہ سے دعا کرتے اور فرماتے کہ اے اللہ ہم تیرے پاس تیرے نبی ﷺ کا وسیلہ لے کر آیا کرتے تھے تو ،تو ہمیں سیراب کرتا تھا اب ہم لوگ اپنے نبی کے چچاعباس ؓ  کا وسیلہ لے کر آئے ہیں ہمیں سیراب کر، راوی کا بیان ہے کہ لوگ سیراب کئے جاتے یعنی بارش ہوجاتی ‘‘۔

اس موقع پر عباس ؓ نے الفاظ کہے وہ اس طرح سے تھے :

أَنَّ الْعَبَّاسَ لَمَّا اسْتَسْقَى بِهِ عُمَرُ قَالَ اللَّهُمَّ إِنَّهُ لَمْ يَنْزِلْ بَلَاءٌ إِلَّا بِذَنْبٍ وَلَمْ يُكْشَفْ إِلَّا بِتَوْبَةٍ وَقَدْ تَوَجَّهَ الْقَوْمُ بِي إِلَيْكَ لِمَكَانِي مِنْ نَبِيِّكَ وَهَذِهِ أَيْدِينَا إِلَيْكَ بِالذُّنُوبِ وَنَوَاصِينَا إِلَيْكَ بِالتَّوْبَةِ فَاسْقِنَا الْغَيْثَ فَأَرْخَتِ السَّمَاءُ مِثْلَ الْجِبَالِ حَتَّى أَخْصَبَتِ الْأَرْضَ وَعَاشَ النَّاسُ

( الكتاب: فتح الباري شرح صحيح البخاري ۔المؤلف: أحمد بن علي بن حجر ، جزء 2، صفحہ 497 )

’’ جب عمر رضی اللہ نے عباس رضی اللہ عنہ سے بارش کے لئے دعا کروائی تو انہوں نے کہا: اے اللہ نہیں نازل ہوتی کوئی بلاء مگر گناہ کے سبب اور نہیں دور ہوتی مگر توبہ سے ۔ میری اس قوم نے تیرے نبی  ﷺکے نزدیک میرے مقام کی وجہ سے میری توجہ تیری طرف کی ہے اور ہمارے یہ گناہ آلود ہاتھ تیری طرف توبہ کے لئے اکھٹے ہوئے ہیں ، پس ہم پر بارش برسا۔ پس آسمان سے پانی پہاڑ کی طرح کثرت سے برسا یہاں تک کہ زمین زرخیز ہو گئی اور لوگ جی اٹھے‘‘۔

معلوم ہوا کہ کسی زندہ شخص سے دعا کرنا بھی وسیلہ کہلاتا ہے جو کہ جائز وسیلہ ہے،یعنی کسی مومن متقی شخص سے دعا کی درخواست کی جائے اور وہ اللہ سے اس کے لئے دعا کرے۔  انس ؓ بیان کرتے ہیں :

عن أنس بن مالك، قال: كنت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم جالسا في الحلقة، ورجل قائم يصلي، فلما ركع وسجد فتشهد، ثم قال في دعائه: اللهم إني أسألك بأن لك الحمد، لا إله إلا أنت المنان، يا بديع السماوات والأرض، يا ذا الجلال والإكرام، يا حي يا قيوم، إني أسألك، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: ” أتدرون بما دعا الله؟ ” قال: فقالوا: الله ورسوله أعلم، قال: ” والذي نفسي بيده، لقد دعا الله باسمه الأعظم، الذي إذا دعي به أجاب، وإذا سئل به أعطى “

( مسند احمدِ  ، مسند المكثرين من الصحابة،   مسند أنس بن مالك ؓ )

’’انسؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی ﷺ کے ساتھ حلقے میں بیٹھا ہوا تھا اور ایک آدمی کھڑا صلواۃ ادا کر رہا تھا، رکوع و سجود کے بعد جب وہ بیٹھا تو تشہد میں اس نے یہ دعا پڑھی (اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنَّ لَكَ الْحَمْدَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ الْحَنَّانُ بَدِيعَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ إِنِّي أَسْأَلُكَ ) ” اے اللہ ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کیونکہ تمام تعریفیں تیرے لئے ہی ہیں، تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں، نہایت احسان کرنے والا ہے، آسمان و زمین کو بغیر نمونے کے پیدا کرنے والا ہے اور بڑے جلال اور عزت والا ہے۔ اے زندگی دینے والے اے قائم رکھنے والے ! میں تجھ سے ہی سوال کرتا ہوں “۔ نبی ﷺنے فرمایا تم جانتے ہو کہ اس نے کیا دعاء کی ہے ؟ صحابہ ؓ  نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول ﷺہی زیادہ جانتے ہیں۔ نبی ﷺ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اس نے اللہ سے اس کے اس اسم اعظم کے ذریعے دعاء مانگی ہے کہ جب اس کے ذریعے سے دعاء مانگی جائے تو اللہ اسے ضرور قبول کرتا ہے اور جب اس کے ذریعے سوال کیا جائے تو وہ ضرور عطاء کرتا ہے ‘‘۔

اپنے اعمال کا وسیلہ :

عبد اللہ بن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے سابقہ دور کے چند افراد کے بارے میں ایک حدیث بیان کی :

عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ خَرَجَ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ قَالَ فَقُلْتُ مَا أَسْتَهْزِئُ بِکَ وَلَکِنَّهَا لَکَ اللَّهُمَّ إِنْ کُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي فَعَلْتُ ذَلِکَ ابْتِغَائَ وَجْهِکَ فَافْرُجْ عَنَّا فَکُشِفَ عَنْهُمْ

( بخاری ، کتاب البیوع، بَابُ إِذَا اشْتَرَى شَيْئًا لِغَيْرِهِ بِغَيْرِ إِذْنِهِ فَرَضِيَ )

’’ ابن عمر ؓ     نبی ﷺسے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا کہ تین آدمی جا رہے تھے تو بارش ہونے لگی وہ تینوں پہاڑ کی ایک غار میں داخل ہوگئے ایک چٹان اوپر سے گری اور غار کا منہ بند ہوگیا ایک نے دوسرے سے کہا کہ اللہ سے کسی ایسے اچھے عمل کا واسطہ دے کر دعا کرو جو تم نے کیا ہو ان میں سے ایک نے کہا اے میرے اللہ میرے ماں باپ بہت بوڑھے تھے چناچہ میں باہر جاتا اور جانور چراتا تھا پھر واپس آکر دودھ دوھ کر اپنے ماں باپ کے پاس لاتا جب وہ پی لیتے تو میں بیوی بچوں اور گھر والوں کو پلاتا ایک رات مجھے دیر ہوگئی میں آیا تو دونوں سو گئے تھے مجھے نا گوار ہوا کہ میں انہیں جگاؤں اور بچے میرے پاؤں کے پاس بھوک کے مارے رو رہے تھے طلوع فجر تک میری حالت یہی رہی اے اللہ اگر تو یہ جانتا ہے کہ میں نے صرف تیری رضا مندی کے لئے کیا ہے تو پتھر مجھ سے کچھ ہٹا دے تاکہ ہم آسمان تو دیکھ سکیں پتھر کچھ ہٹ گیا پھر دوسرے آدمی نے کہا اے اللہ میں اپنی ایک چچا زاد بہن سے بےانتہا محبت کرتا تھا جس قدر ایک مرد عورتوں سے محبت کرتا ہے لیکن اس نے کہا تم اپنا مقصد مجھ سے حاصل نہیں کرسکتے جب تک کہ تم سو دینار نہ دے دو چناچہ میں نے محنت کر کے سو دینار جمع کئے جب میں اس کی دونوں ٹانگوں کے درمیان بیٹھا تو اس نے کہا اللہ سے ڈر مہر ناجائز طور پر نہ توڑ میں کھڑا ہوگیا اور اسے چھوڑ دیا اے اللہ اگر تو جانتا ہے کہ میں نے صرف تیری رضا کے لئے ایسا کیا تو اس پتھر کو کچھ ہٹا دے وہ پتھر دو تہائی ہٹ گیا پھر تیسرے آدمی نے کہا یا اللہ میں نے ایک مزدور ایک فرق جوار کے عوض کام پر لگایا جب میں اسے دینے لگا تو اس نے لینے سے انکار کردیا میں نے اس جوار کو کھیت میں بودیا یہاں تک کہ میں نے اس سے گائے بیل اور چرواہا خریدا پھر وہ شخص آیا اور کہا اے اللہ کے بندے تو مجھے میرا حق دیدے میں نے کہا ان گایوں بیلوں اور چرواہے کے پاس جا اور انہیں لے لے یہ تیرے ہیں اس نے کہا کیا تم مذاق کرتے ہو میں نے اس سے کہا میں تجھ سے مذاق نہیں کر رہا وہ تیرے ہی ہیں اے میرے اللہ اگر تو جانتا ہے کہ میں نے صرف تیری خوشنودی کے لئے ایسا کیا تو یہ پتھر ہم سے ہٹا دے چناچہ وہ پتھر ان سے ہٹ گیا‘‘۔

اس سے معلوم ہوا کہ انسان اپنے ذاتی اعمال کا وسیلہ بھی دے سکتا ہے کہ اے مالک میں میرےیہ اعمال صرف تیری رضا کے لئے تھے ، مالک انہیں قبول فرما اور ان کی وجہ سے مجھے اس تکلیف سے نکال دے۔

اس بارے میں فرقہ پرستوں کی مغالطہ آ رائیاں :

اس بارے میں فرقہ پرستوں نے امت میں غلط اور مشرکانہ عقائد داخل کردئیے ہیں۔ سب سے پہلے تو قرآن مجید کی ایک آیت پیش کرکے اس سے مردوں کو وسیلہ بنانے کا عقیدہ دیا جاتا ہے لہذا سب سے پہلے اس کو سمجھیں ۔

﴿يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱتَّقُواْ ٱللَّهَ وَٱبۡتَغُوٓاْ إِلَيۡهِ ٱلۡوَسِيلَةَ وَجَٰهِدُواْ فِي سَبِيلِهِۦ لَعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُونَ﴾

[المائدة: 35]

’’اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرو اور اس کی قربت کا ذریعہ تلاش کرو ، اور جہاد ( جدوجہد ) کرو اس کی راہ میں تاکہ فلاح پا جاؤ‘‘۔

فرقہ پرست یہاں لوگوں کو دھوکہ دیتے ہیں اور عربی لفظ  ’’ وسیلہ ‘‘ کا اردو ترجمہ نہیں کرتے اس سے لوگ دھوکہ کھا جاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے خود اللہ کی طرف’’ وسیلہ‘‘ بمعنی’’ ذریعہ‘‘ پکڑنے کا حکم دیا ہے۔عربی لفظ ’’ وسیلہ ‘‘ کے معنی ہیں ’’ قربت ‘‘ یعنی اے ایمان والو !  اللہ سے ڈرو اور اس کی قربت کا ذریعہ تلاش کرو۔  مزید اسی آیت میں اللہ کی قربت کا ذریعہ بھی بتا دیا گیا کہ وَجَٰهِدُواْ فِي سَبِيلِهِۦ   اللہ کی راہ میں جدوجہد کرو۔ یعنی اپنی جان، اپنا   مال ، وقت ، جسم اللہ کی راہ میں لگاؤ۔ اللہ تعالیٰ نے تمہیں ایمان سے نوازا ہے تو تم اپنی زندگیوں کو اللہ کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق ڈھال لو۔ اب اس کی تبلیغ کے لئے نکلو اور پھر شاید جہاد بالسیف کا بھی وقت آ جائے تو اللہ کی راہ میں کافروں اور مشرکوں کو قتل کرو یا اپنی جان اللہ کی راہ میں لٹا دو۔

حدیث میں وسیلہ کا بیان ملتا ہے اور فرقہ پرست اپنے مقلدین کو گمراہ کرتے ہیں کہ خود نبی ﷺ نے  وسیلے کی دعا سکھائی ہے۔ حدیث میں آتا ہے :

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ” مَنْ قَالَ حِينَ يَسْمَعُ النِّدَاءَ: اللَّهُمَّ رَبَّ هَذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ، وَالصَّلاَةِ القَائِمَةِ آتِ مُحَمَّدًا الوَسِيلَةَ وَالفَضِيلَةَ، وَابْعَثْهُ مَقَامًا مَحْمُودًا الَّذِي وَعَدْتَهُ، حَلَّتْ لَهُ شَفَاعَتِي يَوْمَ القِيَامَةِ “

(بخاری كِتَابُ الأَذَانِ بَابُ الدُّعَاءِ عِنْدَ النِّدَاءِ)

’’جابر بن عبداللہؓ  روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :”جو شخص اذان سنتے وقت یہ دعا پڑھے ( اللَّهُمَّ رَبَّ هَذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ، وَالصَّلاَةِ القَائِمَةِ آتِ مُحَمَّدًا الوَسِيلَةَ وَالفَضِيلَةَ، وَابْعَثْهُ مَقَامًا مَحْمُودًا الَّذِي وَعَدْتَهُ ) تو اس کے لئےقیامت کے دن میری شفاعت  حلال ہو گی”۔

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِذَا سَمِعْتُمُ الْمُؤَذِّنَ، فَقُولُوا مِثْلَ مَا يَقُولُ ثُمَّ صَلُّوا عَلَيَّ، فَإِنَّهُ مَنْ صَلَّى عَلَيَّ صَلَاةً صَلَّى الله عَلَيْهِ بِهَا عَشْرًا، ثُمَّ سَلُوا اللهَ لِيَ الْوَسِيلَةَ، فَإِنَّهَا مَنْزِلَةٌ فِي الْجَنَّةِ، لَا تَنْبَغِي إِلَّا لِعَبْدٍ مِنْ عِبَادِ اللهِ، وَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَنَا هُوَ، فَمَنْ سَأَلَ لِي الْوَسِيلَةَ حَلَّتْ لَهُ الشَّفَاعَةُ»

(مسلم  كِتَابُ الصَّلَاةِ بَابُ الْقَوْلِ مِثْلَ قَوْلِ الْمُؤَذِّنِ لِمَنْ سَمِعَهُ، ثُمَّ يُصَلِّي عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ يَسْأَلُ لهُ الْوَسِيلَةَ)

“عبد اللہ بن عمرو بن العاص ؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے سنا نبی ﷺ کو کہتے ہوئے : جب تم مؤذن سے سنو توکہو جیسے مؤذن کہتا ہے پھر میرے لئے رحمت کی دعا کرو ( درود )،جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجے گا’ اﷲاس پر دس بار درود بھیجے گا۔ پھر میرے لیے اﷲ سے وسیلہ مانگو کیونکہ وسیلہ جنت میں ایک مقام  ہے جو بندگان اﷲ میں سے کسی ایک بندہ کیلئے بنایاگیا ہے اور مجھے امید ہے کہ وہ بندہ میں ہوں ۔لہٰذا جو شخص میرے لئے وسیلہ کا سوال کرے گا اس کیلئے میری شفاعت حلال ہوگئی” ۔

واضح ہوا کہ ’’ وسیلہ ‘‘ جنت الفردوس میں ایک اعلیٰ مقام ہے اور نبی ﷺ نے فرمایا کہ مؤذن جو الفاظ کہتا ہے تم بھی وہی کہو، پھر میرے لئے رحمت کی دعا ( درود ) کرو، اور پھر میرے لئے وسیلے کی دعا کرو، یعنی جودعا نبی ﷺ نے سکھائی ہے وہ کرو۔

فرقہ پرست اس بارے میں کافی ضعیف روایات بیان کرتے ہیں ، جس کی مکمل تفصیل ہمارے مضمون ’’ وسیلہ کے بارے میں بیان کردہ روایات کی حقیقت ‘‘ میں پڑھی جا سکتی ہے۔  اس بارے میں ایک روایت بیان کی جاتی ہے کہ آدم علیہ السلام نے محمد ﷺ کے وسیلے سے دعا مانگی۔ اس روایت کی سندی حیثیت تو اوپر دئیے گئے لنک میں موجود ہے یہاں ہم اس کے متن پر بات کرتے ہیں۔

نبی ﷺ کو دعا میں وسیلہ بنانا

دیوبندی تبلیغی جماعت کی فضائل اعمال میں ایک روایت درج کی گئی ہے کہ  آدم علیہ السلام نے نبی کے وسیلے سے دعا مانگی  تو اللہ نے اسے قبول فرمایا اور انہیں معاف فرمایا۔ اس بارے میں بیان کردہ مختلف روایات کا ملخص یہ ہے :

’’آدم علیہ السلام سے جو گناہ ہوا اس کی سزا کی پاداش میں انہیں جنت سے نکال کر زمین پر بھیجا گیا۔وہ اس زمین پر روتے رہے اور اللہ تعالیٰ سے اس گناہ کی معافی مانگتے رہے، آخر کار جب نبی کے وسیلے دعا مانگی تو اللہ تعالیٰ نے انہیں معاف کردیا‘‘۔

بقول ان لوگوں کے آدم علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی  اس کے الفاظ یہ تھے :

’’میں محمدؐ کے وسیلہ سے تجھ سے مغفرت کا خواستگار ہوں ۔ اللہ تعالیٰ نے پوچھا: اے آدم ؑ! تم محمد کے متعلق کیسے جانتے ہو، حالانکہ میں نے تو اسے ابھی پیدا ہی نہیں کیا؟ عرض کیا: اے اللہ! جب تو نے مجھے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا اور مجھ میں روح پھونکی تو میں نے اپنا سراُٹھایا اور عرش کے پایوں پر لکھا ہوا دیکھا تھا: لا إلہ إلا اﷲ محمد رسول اﷲ تو میں سمجھ گیا کہ جس کو تو نے اپنے نام کے ساتھ ملا رکھا ہے، کائنات میں اس سے برتر کوئی نہیں ہوسکتا تو اللہ نے فرمایا: میں نے تجھے معاف کردیا اور اگر محمدؐ نہ ہوتے تو میں تجھے اور نہ کائنات  پیدا ہی نہ کرتا۔‘‘

ان کے اس بیان سے ثابت ہوا:

  • آدم علیہ السلام اور بی بی حوا کو سزا کی بنأ پر زمین پر بھیجا گیا۔
  • انہوں نے  اپنے الفاظ میں اللہ تعالیٰ سے دعا کی تو  انہیں زمین پر معاف کردیا گیا۔

یہ عقیدہ سراسر قرآن کے خلاف ہے کیونکہ قرآن سے واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں سزا کے طور پر زمین پر نہیں بھیجا بلکہ  زمین پر بھیجنے سے قبل ہی معاف کردیا تھا:

﴿فَاَكَلَا مِنْهَا فَبَدَتْ لَهُمَا سَوْاٰتُهُمَا وَطَفِقَا يَخْصِفٰنِ عَلَيْهِمَا مِنْ وَّرَقِ الْجَنَّةِ وَعَصٰٓى اٰدَمُ رَبَّهٗ فَغَوٰى       ؁       ثُمَّ اجْتَبٰىهُ رَبُّهٗ فَتَابَ عَلَيْهِ وَهَدٰى        ؁ قَالَ اهْبِطَا مِنْهَا جَمِيْعًۢا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ  ۚ فَاِمَّا يَاْتِيَنَّكُمْ مِّنِّيْ هُدًى ڏ فَمَنِ اتَّبَعَ هُدَايَ فَلَا يَضِلُّ وَلَا يَشْقٰي﴾

[طه: 121-123]

’’ چنانچہ ان دونوں نے اس درخت سے کھا لیا  تو ان کے ستر عیاں ہو گئے اور وہ جنت کے  پتوں کو اپنے اوپر لگانے لگے۔ آدم نے اپنے رب کی نافرمانی کی پس وہ راہ سے بہک گیا۔ پھر اس کے رب نے اسے برگزیدہ کیا ،اسے معاف کیا اور ہدایت دی۔ فرمایا: تم دونوں ( انسان اور شیطان ) یہاں سے اتر جاو ، تم ایک دوسرے کے دشمن ہو ۔ پھر جب  تمہارے پاس میرے طرف سے ہدایت پہنچے ، تو جس نے اس کی پیروی کی تو وہ نہ  بہکے گا اور اور نہ ہی تکلیف میں پڑے گا۔‘‘

قرآن مجید میں بیان کردیا گیا کہ آدم علیہ السلام نے معافی مانگی، اللہ تعالیٰ نے انہیں معاف کیا اور انہیں ہدایت دے کر اس زمین پر بھیجا۔ اس کے بعد اس بات کا تصور ہی نہیں رہتا کہ انہوں نے زمین پر آکر اپنی اس خطا کی دوبارہ معافی ہوگی ۔مزید دیکھیں قرآن کس واضح انداز میں بیان کرتا ہے کہ یہ  معافی کس وقت مانگی گئی۔

﴿فَدَلّٰىهُمَا بِغُرُوْرٍ ۚ فَلَمَّا ذَاقَا الشَّجَرَةَ بَدَتْ لَهُمَا سَوْاٰتُهُمَا وَطَفِقَا يَخْصِفٰنِ عَلَيْهِمَا مِنْ وَّرَقِ الْجَنَّةِ  ۭوَنَادٰىهُمَا رَبُّهُمَآ اَلَمْ اَنْهَكُمَا عَنْ تِلْكُمَا الشَّجَرَةِ وَاَقُلْ لَّكُمَآ اِنَّ الشَّيْطٰنَ لَكُمَا عَدُوٌّ مُّبِيْنٌ          ؀  قَالَا رَبَّنَا ظَلَمْنَآ اَنْفُسَنَا    ۫وَاِنْ لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ        ؀  قَالَ اهْبِطُوْا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ ۚ وَلَكُمْ فِي الْاَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَّمَتَاعٌ اِلٰي حِيْنٍ﴾

[الأعراف: 22-24]

’’ پھر ( شیطان ) نے ان دونوں کو دھوکے سے اپنی طرف مائل کرلیا ، پس جب انہوں نے اس درخت کو چکھا تو شرمگاہیں ایک دوسرے کے سامنے کھل گئیں اور وہ اپنے اوپر جنت کے پتے ڈھاپنے لگے، تو ان کے رب نے انہیں پکارا اور کہا کہ کہ کیا میں نے تمہیں اس درخت سے منع نہیں کیا تھا اور کہا تھا کہ یہ شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے۔دونوں نے کہا :  ’’اے ہمارے رب ہم دونوں نے اپنے اوپر ظلم کیا، اگر تو ہمیں معاف نہیں کرے گا اور ہم رحم نہیں کرے گا تو یقینا ہم زبردست نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جائیں گے‘‘۔ ( اللہ تعالیٰ نے )کہا نکل جاؤ  ، تم ( انسان و شیطان ) ایک دوسرے کے دشمن ہو، اور تمہارے لئے ایک خاص وقت تک کے لئے زمین پر ٹہرنا اور فائدہ اٹھانا ہے ۔‘‘   

واضح ہوا کہ یہ معافی اسی وقت مانگی گئی تھی کہ جب یہ خطا سرزد ہوئی تھی، معافی قبول کرنے کے بعد انہیں زمین پر بھیجا گیا۔

قرآن میں مزید بیان کیا گیا:

﴿وَقُلْنَا يٰٓاٰدَمُ اسْكُنْ اَنْتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ وَكُلَامِنْهَا رَغَدًا حَيْثُ شِـئْتُمَـا       ۠  وَلَا تَـقْرَبَا ھٰذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُوْنَا مِنَ الظّٰلِمِيْنَ        ؀فَاَزَلَّهُمَا الشَّيْطٰنُ عَنْهَا فَاَخْرَجَهُمَا مِمَّا كَانَا فِيْهِ     ۠ وَقُلْنَا اھْبِطُوْا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ   ۚ   وَلَكُمْ فِى الْاَرْضِ مُسْـتَقَرٌّ وَّمَتَاعٌ اِلٰى حِيْنٍ        ؀فَتَلَـقّيٰٓ اٰدَمُ مِنْ رَّبِّهٖ كَلِمٰتٍ فَتَابَ عَلَيْهِ    ۭ   اِنَّهٗ ھُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيْمُ       ؀قُلْنَا اھْبِطُوْا مِنْهَا جَمِيْعًا    ۚ  فَاِمَّا يَاْتِيَنَّكُمْ مِّـنِّىْ ھُدًى فَمَنْ تَبِعَ ھُدَاىَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا ھُمْ يَحْزَنُوْنَ   ؀وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَكَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَآ اُولٰۗىِٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِ   ۚ   ھُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ  ﴾

[البقرة: 35-39]

’’ اور ہم نے کہا: اے آدم تم اور تمہاری بیوی  جنت میں رہو اور جہاں سے جو چاہے کھاؤ مگر اس درخت کے قریب نہ جانا ورنہ تم ظالموں میں سے ہو جاؤ گے۔ لیکن شیطان نے انہیں بہکا کر وہاں سے نکلوا دیا جہاں وہ تھے، ہم نے کہا : تم دونوں نکل جاؤ تم ایک دوسرے کے دشمن ہو اور ایک خاص مدت تک تمہارے لئے زمین پر ٹہرنا اور فائدہ اٹھانا ہے ۔ آدم نے اپنے رب سے کچھ کلمات سیکھ لیے (اور توبہ واستغفار کی ) تو اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرما لی، بے شک وہ بہت زیادہ توبہ قبول کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔ ہم نے کہا : نکل جاؤ تم سب ، پھر جب میری ہدایت تم تک پہنچے تو جس نے اس ہدایت کی پیروی کی اس کے لئے کوئی خوف نہیں اور نا ہی وہ  غمزدہ ہوگا۔ اور وہ لوگ جنہوں نے ہماری آیات کا کفر کیا اور انہیں جھٹلایا تو وہ جہنمی ہیں ،جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے۔‘‘

قرآن کے فرمان سے واضح ہوا کہ آدم علیہ السلام سےخطا ہوئی اور ان دونوں نے اسی وقت اللہ سےکچھ کلمات سیکھے اور اللہ تعالیٰ سے توبہ کی ۔ توبہ کے الفاظ بھی سورہ اعراف میں بیان کردئیے گئے ہیں :

قَالَا رَبَّنَا ظَلَمْنَآ اَنْفُسَنَا    ۫وَاِنْ لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ

( اعراف: 23 )

’’دونوں نے کہا اے ہمارے رب،ہم نے ظلم کیا اپنی جانوں پر اور اگر  تو نے ہمیں معا ف نہ کیا اور ہم پر رحم نہ فرمایا تو ہم پر تو ضرور خسارہ پانے والوں میں سے ہو جائیں گے‘‘۔

اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کی توبہ کو قبول فرمایا ، اور پھر اپنے طے شدہ نظام کے تحت انسان اور شیطان کو زمین پر بھیج دیا اور ساتھ ہی اس بات کی بھی ہدایت کردی کہ یاد رکھنا شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے، اب میری طرف سے ہدایات پہنچیں گی جس کسی نے ان ہدایات کی پیروی کی تو واپسی پر اس کے لئے کسی قسم کا کوئی خوف و غم نہیں ہوگا ، برخلاف اس کے اللہ کی آیات کا کفر کرنے اور انہیں جھٹلانے والا جہنمی ہے جہاں وہ ہمیشہ رہے گا۔

قرآن کی لاریب آیات سے اس  قسم کی جھوٹی روایات اور  اس پر ایمان بنانے والوں کے جھوٹے عقائد کی مکمل نفی ہو جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو سزا کے طور پر زمین پر بھیجا تھا۔ بلکہ  واضح انداز میں بیان ہے کہ انہیں معاف فرما کر ، ہدایات دے کر زمین پر بھیجا گیا، ساتھ ہی قرآن میں ان کی توبہ کے الفاظ بھی بیان کردئیے گئے۔

صحابہ کرام ؓ نے نبی ﷺ زندگی میں ان کے وسیلےسے  دعا کی لیکن ان کی وفات کے بعد ایسا کبھی نہ ہوا۔نبی ﷺ کے وسیلے سے دعا کرنے کا مطلب یہ ہوا کہ ان کی زندگی میں ان سے دعا کی درخواست کی جاتی تھی، وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے تھے، اور اللہ تعالیٰ بارش نازل فرما دیتا تھا۔ اب جب نبی ﷺ کی وفات ہو گئی تو عمر ؓ نے نبی ﷺکے چچا عباس ؓ کے ذریعے اللہ تعالیٰ سے بارش کی دعا کی۔

پیش کردہ دلائل سے یہی ثابت ہوا کہ دعا کرنا ایک عبادت ہے اور یہ صرف اللہ سے کی جائے اور اس دعا میں کسی کا واسطہ یا وسیلہ دے کر اسے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک نہ کیا جائے۔

Categories
Uncategorized

عقیدہ عذاب قبر اور مسلک پرستوں کی مغالطہ آرائیاں( قبر )

قبر کے بارے میں مسلک پرستوں کی مغالطہ آرائیاں

یہ فرقہ پرست اسی دنیاوی قبر کو مرنے کے بعدملنے والے عذاب یا راحت کا مقام قرار دیتے ہیں،اور کہتے ہیں کہ اسے عذاب قبر کہا ہی اس وجہ سے جاتا ہے کہ یہ اسی قبر میں ہوتا ہے،مردہ تودفن ہی یہاں کیا جاتا ہے اور یہی دنیاوی قبر اس کا ٹھکانہ ہے قیامت تک ۔۔۔۔۔۔

اس بات سے توکسی کو انکار نہیں کہ انسانی مدفن کو قبرکہتے ہیں۔جہاں ایک انسان دفنایا جاتا ہے، وہ اس کی قبر ہی کہلاتی ہے۔ لیکن یہ عرفی قبر عذاب و راحت کا مقام نہیں بلکہ یہ توعالم بالا  کا معاملہ ہے جو کہ قرآن و حدیث سے واضح ہے ۔

اس بات کی وضاحت کردینا ضروری ہے کہ ان فرقہ پرستوں کا یہ بھی ایک پُرفریب انداز ہے کہ یہ لوگ ’’ قبر‘‘ کے لغوی معانی پر اصرار کرتے ہیں تاکہ بھولے بھالے لوگوں کو دھوکہ دے سکیں اور اِس طرح اِن کو اپنے عقائد برقرار رکھنی کی امید ہوتی ہے  جس طرح برزخ کے لغوی معنی بیان کر کے انہوں نے لوگوں کو بے وقوف بنایا ہوا تھا لیکن جب قرآن و حدیث سے اس کے معنی بیان کیے گئے تو اصل حقیقت سامنے آگئی۔مگر دورخی دیکھیے کہ جب منکرین حدیث صوم وصلوٰۃ،حج و زکوٰۃ وغیرہ کے لغوی معنی سے اپنا باطل عقیدہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو یہی لوگ ان کی تردید میں اصطلاحی و شرعی معنی پر اصرار کرتے ہیں۔ طرفہ تماشہ دیکھیے کہ جو چیز ’’قبر‘‘ اور ’’برزخ‘ ‘ کی بحث میں ان کی اپنی دلیل بنتی ہے وہی صوم و صلوٰۃ،حج و زکوٰۃ کی بحث میں اپنے حریف کے حق میں باطل ہوجاتی ہے! پہلے لغت حق اور اصطلاح باطل تھی ، اب پرویزیوں کے سامنے اصطلاح حق اور لغت باطل قرار پائی!ایسے دوہرے معیار سے اﷲتعالیٰ نے یہ کہہ کر منع فرمایا ہے کہ

﴿وَيْلٌ لِلْمُطَفِّفِينَ /?p=5115الَّذِينَ إِذَا اكْتَالُوا عَلَى النَّاسِ يَسْتَوْفُونَ ۝ وَإِذَا كَالُوهُمْ أَوْ وَزَنُوهُمْ يُخْسِرُونَ ۝ أَلَا يَظُنُّ أُولَئِكَ أَنَّهُمْ مَبْعُوثُونَ﴾

[المطففين:1/4]

’’تباہی ان لوگوں کے لیے جو ناپ تول میں کمی کرتے ہیں؛ جو لوگوں سے ناپ کر لیں تو پورا لیں اور جب اُن کو ناپ کر یا تول کر دیں تو کم دیں۔ کیا یہ لوگ نہیں جانتے کہ اٹھائے بھی جائیں گے (یعنی) ایک بڑے (سخت) دن میں۔‘‘

صحیح بات یہ ہے کہ چاہے قبر ہو یا برزخ، صلوٰۃ ہو یا زکواۃ، ان کے جو معنی قرآن و حدیث کے مطابق ہوں، تو وہی ان کے اصطلاحی اور شرعی معنی قرار دئیے جائیں گے اور ماسوا کی کوئی حیثیت نہ ہوگی۔ جس طرح منکرین حدیث نے ان الفاظ کے لغوی معنی بیان کرکے گمراہی پھیلائی ہے ،اسی طرح یہ فرقہ پرست قبر کے لغوی معنی بیان کرکے شدید گمراہی پھیلارہے ہیں اور قبرِ ارضی کو ’’آخری آرامگاہ‘‘ قرار دے کر شرک کی بنیاد فراہم کررہے ہیں۔ صلوٰۃ کے متعدد لغوی معنی ہیں، مثلاً دعا، رحمت، برکت، تعریف، دوڑ میں دوسرے نمبر پر آنے والا گھوڑا،کولھے ہلانا۔ بعض’’ آزاد پسندوں‘‘ نے آخرالذکر معنی لے کر ورزش اور اچھل کودکرنے کو صلوٰۃ کا نام دے دیا ہے۔ کچھ منکرین حدیث اس کے لغوی معنی تسبیح اور دعا مانتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اﷲ سے مانگنے اور صرف اس کی تسبیح بیان کرنے سے ہی صلوٰۃ ادا ہوجاتی ہے۔

پرویز نے اس کے معنی ’’دوڑ میں دوسرے نمبر پر آنے والا گھوڑا ‘‘ لیے ہیں اور اپنے انداز میں اس کی تشریح کی ہے کہ صلوٰۃ دراصل اسلامی نظام کا نام ہے، جس طرح دوسرے نمبر والا گھوڑا پہلے نمبر والے گھوڑے کے پیچھے ہوتا ہے ،اسی طرح انسان کو ریاستی نظام اور حکومت کے احکام کا تابع ہونا چاہیے اور جس نے ان قوانین کی تابعداری کی، اس نے صلوٰۃ ادا کر لی اوراس طرح حکمِ ربی اقیموا الصلوٰۃ کا مطلب ہوا کہ اس طرح کانظام قائم کرو۔کیااہلحدیث یہاں صلوٰۃ کے ان لغوی معانی پر اصرار کریں گے؟ آپ اندازہ لگائیں کہ صلوٰۃ کے اصطلاحی معنی ( کہ یہ ایک مخصوص عبادت ہے جو مسلمین پر فرض ہے اور اس کا ایک مخصوص طریقہ ہے) سے صرف نظر کر کے لوگ کس طرح لغت کی بھول بھلیوں میں گم ہوگئے اور خود بھی گمراہ ہوئے اور نہ جانے کتنوں کو گمراہ کیا۔یہ ساری بحث اس لیے پیش کی گئی ہے تاکہ یہ بات سمجھ میں آجائے کہ دین اسلام میں کسی بھی بات کی تشریح و تفسیر وہ مانی جائے گی جو قرآن و حدیث کے دیئے ہوئے متفقہ عقیدے کے مطابق ہو نہ کہ صرف اس کے لغوی معنی۔ہم صلوٰۃ کے وہی معنی کریں گے جو قرآن و حدیث سے ملتے ہیں کہ’’ فرض طریقہ عبادت‘‘ ،

’’رحمت‘‘، ’’ رحمت کی دعا‘‘۔ بالکل اسی طرح قبر کے بھی وہی معنی لیے جائیں گے جو قرآن و حدیث سے ملتے ہوں۔حدیث میں آتا ہے:

اِنَّمَا مَرَّ رَسُوْلُ اﷲِ ا عَلٰی یَھُوْدِیَّۃٍ یَبْکِی عَلَیْھَا اَھْلُھَا فَقَالَ اِنَّھُمْ لَیَبْکُوْنَ عَلَیْھَا وَ اِنَّھَا لَتُعَذَّبُ فِیْ قَبْرِھَا

(بخاری:کتاب الجنائز،باب قول یعذب المیت ببعض بکاء اھلہ علیہ)

’’نبی ﷺ ایک (فوت شدہ) یہودی عورت کے پاس سے گذرے اس کے گھر والے اس پر رو رہے تھے۔نبیﷺ نے فرمایا کہ یہ لوگ اس پر رو رہے ہیں اور اسے اس کی قبر میں عذاب دیا جارہا ہے‘‘۔

سوچنے کی بات ہے کہ ابھی وہ یہودی عورت اس زمینی،لغوی و عرفی قبر میں دفن بھی نہیں ہوئی اور اس پر عذاب ہونے کا مژدہ سنایا جارہا ہے، اوراس عذاب دیئے جانے کے مقام کا نام ’’ قبر‘‘ بتایاجارہا ہے۔

اس سے ثابت ہوا کہ جہاں کہیں مردے کے دفن کا ذکر ہو تو وہاں اس سے مراد یہی زمینی ، لغوی وعرفی قبر ہے،لیکن جہاں کہیں میت کوجزا و سزادیئے جانے کا بیان ہوتو وہاں ’’ قبر‘‘ کے اصطلاحی و شرعی معنی لیے جائیں گے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ زمینی قبر ہر مرنے والے کو نہیں ملتی لیکن قرآن ہر مرنے والے کو قبردیئے جانے کا اعلان فرماتا ہے۔اﷲتعالیٰ انسان کی تخلیق کو بیان کرنے کے بعد فرماتا ہے:

﴿ثُمَّ أَمَاتَهُ فَأَقْبَرَهُ﴾

[عبس: 21]

یعنی جس انسان کوبھی موت ملی ،اس کو قبر ملی۔

یہ ارضی قبر نصیب نہیں ہوئی مثلاًنوح علیہ السلام کی قوم کو یہ زمینی قبر نہیں مل سکی کہ طوفان میں ڈوب کرمر گئے(سورۃ نوح:۲۵)۔ لوط علیہ السلام کی قوم کو بھی نہیں ملی کہ ان پر آسمان سے پتھربرسے اور ہلاک کردیئے گئے (الشعراء: ۱۷۰۔۱۷۳،وغیرہ)۔ موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں تباہ ہونے والی قوم فرعون کو بھی نہ مل سکی کہ دریا برد ہوگئی (الذٰریٰت:۴۰ وغیرہ)۔ مدین والوں کو اس ارضی قبر میں نہیں دفن کیا گیا بلکہ زلزلے نے ان سب کو ہلاک کرڈالا ( الاعراف:۹۱، وغیرہ)۔ ہودعلیہ السلام کی قوم عاد اس قبر میں دفن نہیں ہوئی بلکہ زوردار آندھیوں نے ان کو نیست ونابودکردیا( احقاف:۲۴،وغیرہ)۔ صالح علیہ السلام کی قومِ ثمود کو یہ قبریں نصیب نہیں ہوئیں بلکہ ایک زوردار چنگھاڑنے انہیں مارڈالا (ھود:67،وغیرہ)۔۔۔نہ جانے کتنی ہی قومیں اس لغوی و عرفی ارضی قبر سے محروم رہیں تو کیا اﷲ کے قانون ثُمَّ أَمَاتَهُ فَأَقْبَرَهُ کاان قوموں پر اطلاق نہ ہوا؟

آیئے اس بارے میں ان فرقہ پرستوں کے عقائد کا جائزہ لیتے ہیں۔’’حضرت علامہ مفتی‘‘ جابر دامانوی صاحب قبر کی تعریف بیان کرتے ہیں:

’’وہ گڑھا جس میں مردے کو دفن کرتے ہیں‘‘، ’’ دفن کرنے کی جگہ ‘‘ (خلاصہ الدین الخالص:صفحہ۴۵)

عذاب القبر کی تشریح اس طرح فرماتے ہیں:

’’عذاب القبر مرکب اضافی ہے، عذاب مضاف اور القبر مضاف الیہ جس کا مطلب ہے ’’قبر کا عذاب‘‘۔یعنی وہ عذاب جو قبر میں ہوتا ہے، اس مرکب ہی سے معلوم ہوتا ہے کہ عذاب قبر میں ہوتا ہے‘‘۔ (ایضاً، صفحہ ۲۱) ’’ میت کو قبر میں دفن کیا جاتا ہے اور یہاں وہ عذاب سے دوچار ہوتی ہے‘‘۔(ایضاً،صفحہ ۳۶)

انہوں نے قبر کی تشریح وہ جگہ کی ہے جہاں مردے کو دفن کیا جائے۔ ان کے بقول یہی وہ جگہ ہے جہاں مرنے والے کو عذاب دیا جاتا ہے یا وہ راحت سے مستفیض ہوتا ہے۔ان کے عقیدے کے مطابق چونکہ یہ عذاب اسی دنیاوی قبر میں ہوتا ہے اسی لیے اسے عذاب قبر کہا جاتا ہے۔ان اہلحدیثوں کا عقیدہ چونکہ قرآن و حدیث کے مطابق نہیں ،اس لیے حالات کے حوالے سے لمحہ لمحہ میں تبدیل ہوتا رہتاہے جس کی نشاندہی آگے کی جائے گی ۔ مزیدفرماتے ہیں:

موت کے بعد سے قیامت کے دن تک جو عذاب اﷲ کے نافرمان بندوں کو دیا جائے گا اسی کا نام عذاب القبر ہے‘‘۔ ( ایضاً،صفحہ ۲۱)

مفتی صاحب نے اس سے قبل فرمایا تھا:

’’یعنی وہ عذاب جو قبر میں ہوتا ہے‘‘اب کہتے ہیں ’’جو موت کے بعد سے دیا جاتا ہے وہ عذاب قبر ہے‘‘ (ملخص)

ان کے دونوں بیان آپ کے سامنے ہیں: ایک طرف کہتے ہیں کہ ’’قبر کا عذاب‘‘ ( یعنی اس زمینی قبر میں دفن ہوجانے کے بعد کا عذاب )،دوسری طرف کہتے ہیں کہ عذاب قبر مرتے ہی شروع ہو جاتا ہے۔ اب کوئی ان سے پوچھے کہ’’ حضرت‘‘ وہ کونسا مردہ ہے جو مرنے کے اگلے لمحے قبر میں اتار دیا جاتا ہو؟

مزید رقم طراز ہیں:

حالانکہ عذاب کا یہ سلسلہ حالت نزع ہی سے جب کہ میت ابھی چارپائی پر ہی ہوتی ہے شروع ہوجاتا ہے‘‘۔ (ایضاً صفحہ ۲۲)

ان کی یہ بات بالکل غلط ہے کہ عذاب کا یہ سلسلہ حالت نزع سے ہی شروع ہو جاتا ہے، اس لیے کہ حالت نزع کی مار پیٹ روح نکالے جانے سے پہلے کی جاتی ہے اور وہ اسی دنیاوی جسم کے ساتھ ہوتی ہے یعنی زندہ کو مارا جاتا ہے جبکہ عذاب قبر صرف مردے کو ہوتا ہے۔حالت نزع روح قبض ہوتے ہی ختم ہوجاتی ہے ،اس کے بعد اس دنیاوی مردہ جسم کو مارنے کا کوئی عقیدہ کتاب اﷲ سے ثابت نہیں۔ قرآن و حدیث کا دیا ہوا عقیدہ یہی ہے کہ عذاب قبر یا راحت قبر کا سلسلہ روح نکلتے ہی جہنم یاجنت میں شروع ہوتاہے۔یہ قرآن کے اس عقیدے کو کہاں لے جاتے ،اسی لیے مجبوراً قبول تو کرلیا کہ عذاب مرتے ہی شروع ہو جاتا ہے لیکن اس کو اسی دنیاوی جسم سےمنسوب کردیا!بایں ہمہ ان کا عقیدہ ثابت نہیں ہوتا کیونکہ ان کے بقول یہ’’قبر کا عذاب‘‘ہے،’’یعنی وہ عذاب جو قبر میں ہوتا ہے ‘‘، جبکہ مردہ تو ابھی ان کی اصطلاحی معروف قبر میں داخل ہی نہیں ہوا توپھر یہ عذاب قبر کیسے بن گیا؟

انہوں نے بڑے ’’عالمانہ‘‘ انداز میں عربی گرائمرکے ابتدائی قواعد کے سہارے اپنے زعم میں بڑا تیر مارا کہ ’’عذاب القبر مرکب اضافی ہے، عذاب مضاف اور القبر مضاف الیہ جس کا مطلب ہے قبر کا عذاب‘‘۔

آئیے ان کے اسی فارمولے کی بنیاد پر ان کے اپنے بیانات سے اس عذاب کی انواع کا تعین کرتے ہیں: ’’عذاب‘‘ مضاف، ’’سریر(چارپائی)‘‘ مضاف الیہ یہ بنا ’’عذاب السریر‘‘ یعنی ’’چار پائی پر ہونے والاعذاب‘‘؛ کوئی ڈوب کے مراتواس کے لیے ہے ’’ عذاب البحر‘‘یعنی ’’ سمندر میں ہونے والا عذاب‘‘؛ کسی کو شیر کھا گیا، اب شیر کے پیٹ میں ہوا ’’ عذاب الاسد‘‘۔۔۔۔۔۔ اپنی جھوٹی بات ثابت کرنے کے لیے کس طرح بچگانہ انداز میں عربی گرائمر کا سہارا لیا گیا تھا، لیکن ان کے اپنے لکھے نے ان کے جھوٹ کا پول کھول دیا!

: اہلحدیثوں نے قبر کی ایک نئی تشریح کر ڈالی

اہلحدیثوں کا ہر ہر مفتی اور عالم انوکھا ہی ملے گا، اس سے قبل آپ مفتی جابر دامانوی کی قبر کے بارے میں پوسٹ پڑھ چکے ہوں گے کہ: کھودا ہوا گھڑا، اب ملاحظہ فرمائیے کہ اہلحدیث مفتی دامانوی صاحب اب کس طرح قلابازی کھاتے ہیں:

’’ ۔۔۔لیکن ظاہر ہے کہ اس انسان نے اسی زمین میں رہنا ہے اور قیامت کے دن بھی اسی زمین سے اس نے نکلنا ہے لہذا یہی زمین اس کی قبر اور مستقر ٹھہری۔قرآن کریم میں دو مقامات پر مستودع ( جہاں وہ سونپا جائے گا یعنی قبر) کے الفاظ بھی آئے ہیں۔دیکھئے(الانعام:۹۹اور ھود :۶)بلکہ ایک مقام پر دوٹوک الفاظ میں فرمایا گیا ہے: الم نجعل الارض کفا تا() احیاء و امواتا (مرسلات:۲۵،۲۶) ’’کیا ہم نے زمین کو سمیٹ کر رکھنے والی نہیں بنایا۔ زندوں کے لیے بھی اور مردوں کیلئے بھی۔‘‘ معلوم ہوا کہ انسان زندہ ہو یا مردہ اس نے زمین ہی میں رہنا ہے زندہ اس کی پیٹھ پر زندگی گذارتے ہیں اور مردہ اس کے پیٹ میں رہتے ہیں۔قبر کی اب اس سے زیادہ وضاحت اور تشریح ممکن نہیں ہے‘‘۔ ( عقیدہ عذاب قبر:صفحہ ۶۴،۶۵)

دیکھیے یہ اہلحدیث ہر ہر بات میں کس کس طرح کروٹ بدلتے ہیں ،اس کی مثال شاید ہی کہیں ملے۔انہی موصوف نے اپنی اسی کتاب میں قبر کی تشریح فرمائی تھی:

’’وہ گڑھا جس میں مردے کو دفن کرتے ہیں‘‘ ، ’’ دفن کرنے کی جگہ‘‘

اور اب فر ما رہے ہیں کہ

’’قبر کی اب اس سے زیادہ وضاحت اور تشریح ممکن نہیں ہے‘‘۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کسی عذاب سے ہلاک ہونے والی قوم جس کے لیے کسی نے بھی اس عرفی گڑھے کو نہیں کھودا، تو یہ زمین ان کی قبر کیسے بن گئی کیونکہ ان کی اپنی تشریح کے مطابق قبر صرف اس گڑھے کا نام ہے جسے کھود کرکسی کو اس میں دفنایا جاتا ہے؟ اپنی اسی کتاب میں انہوں نے علمی اردو لغت جامع، فیروز اللغات اردو عربی،سورۃ التوبہ:۸۴،فاطر:۲۲،الحج:۷الانفطار:۴،العادیات: ۹،الممتحنہ: ۱۳، عبس :۱ ۲،۲۲،التکاثر:۲، یٰس:۵۱، کے حوالے سے بیان فرمایا تھا:

’’ اس آیت کے علاوہ سورۃ القمر آیت نمبر ۷ اور سورۃ المعارج آیت نمبر ۴۳ میں بھی اجداث کا لفظ آیا ہے۔اس طرح ان گیارہ مقامات پر قبر کا لفظ اسی معروف قبر کے لیے استعمال ہوا ہے کہ جو زمین میں بنائی جاتی ہے‘‘۔ (عقیدہ عذاب قبر،صفحہ ۴۶)

پھر نبی ﷺکی احادیث پیش کیں کہ: ان کو سجدہ گاہ نہ بنایا جائے، قبر پر کوئی عمارت نہ بنائی جائے اور ان کوزمین کے برابر کردیا جائے۔ ان احادیث کو بنیاد بناتے ہوئے تحریر کیا تھا:

’’ ان احادیث کے مطالعے سے معلوم ہوا کہ قبروں سے مراد یہی ارضی قبریں ہیں ‘‘۔ (ایضاً صفحہ ۴۹)

اب کوئی ان موصوف سے پوچھے کہ’’ حضرت‘‘ اس بات کی وضاحت ضرور فرمادیں کہ’’ قبر‘‘ کی جو تعریف آپ نے پہلے فرمائی تھی وہ جھوٹ تھی یا اس ’’آٹومیٹک قبر‘‘ کا جو بیان اب داغا گیا ہے، یہ جھوٹ ہے؟

جیسا کہ اس سے قبل وضاحت کی جاچکی ہے کہ اس بات سے کسی کو انکار نہیں کہ یہ عرفی ارضی قبریں قبریں ہی ہیں کچھ اورنہیں۔ قرآن و حدیث کے بیان کے مطابق ہم ان کو قبر ہی مانتے ہیں۔ یہ قبرمحض ایک مردہ انسان کی لاش کو چھپانے کے لیے ہے اور اس کا طریقہ خود اﷲ تعالیٰ کا ہی بتایا ہوا ہے :

﴿فَطَوَّعَتْ لَهُ نَفْسُهُ قَتْلَ أَخِيهِ فَقَتَلَهُ فَأَصْبَحَ مِنَ الْخَاسِرِينَ ۝ فَبَعَثَ اللَّهُ غُرَابًا يَبْحَثُ فِي الْأَرْضِ لِيُرِيَهُ كَيْفَ يُوَارِي سَوْءَةَ أَخِيهِ قَالَ يَا وَيْلَتَا أَعَجَزْتُ أَنْ أَكُونَ مِثْلَ هَذَا الْغُرَابِ فَأُوَارِيَ سَوْءَةَ أَخِي فَأَصْبَحَ مِنَ النَّادِمِينَ﴾

[المائدة: 30-31]

’’ آخر کار اس (قابیل)کے نفس نے اپنے بھائی(ہابیل) کا قتل اس کے لیے آسان کر دیا اور وہ اسے قتل کرکے ان لوگوں میں شامل ہوگیا جو نقصان اٹھانے والے ہیں۔پھر اﷲ نے ایک کوّا بھیجا جو زمین کھودنے لگا تاکہ اسے بتائے کہ اپنے بھائی کی لاش کیسے چھپائے، یہ دیکھ کر وہ کہنے لگا:افسوس مجھ پر، میں اس کوّے جیسا بھی نہ ہوسکا کہ اپنے بھائی کی لاش چھپانے کی تدبیر نکال لیتا، اس کے بعد وہ بہت نادم ہوا‘‘۔

قرآن کی اس آیت سے بالکل واضح ہے کہ یہ زمینی قبر صرف مردہ لاش کو چھپانے کے لیے ہے۔قرآن مجید و احادیث صحیحہ میں کہیں بھی اس دنیاوی زمینی عرفی قبر کو جزا و سزا کا مقام نہیں بیان کیا گیا۔ وہ تو یہ مسلک پرست ہیں کہ قرآن کی معنوی تحریف اور احادیث کی غیر شرعی اور دورازکار تاویلات سے اسی کو یہ مقام ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جزا و سزا کا تعلق

صرف عالم برزخ سے ہے جس کے لیے اس برزخی مقام کو قبر کے نام سے تعبیر کیا گیا ہے ۔چونکہ سورہ عبس کی مذکورہ آیت کا یہ کھلا انکارتو نہیں کرسکتے تھے ،لہٰذا ماننا پڑا کہ ہر انسان کے لیے قبرکا ملنا لازمی ہے۔ دوسری طرف واضح طور پر دکھائی دیتا ہے کہ یہ ارضی قبر ہر انسان کو نہیں ملتی۔اب ایک یہ صورت تھی کہ کسی طرح یہ ارضی قبر ہرانسان کو ملنا دکھادیا جائے۔ اس کے لیے منطقی چالوں اور جس فنی مہارت کی ضرورت تھی وہ ان اہلحدیثوں میں بدرجہ اتم موجود ہے ،لہٰذا اب قبر کی کچھ نئی تعریفیں بھی بیان کی جانے لگیں جو اس سے قبل بیان کی گئی قبر کی تعریفوں سے بالکل مختلف ہیں۔ پہلے کھودے جانے والی جگہ قبر تھی، اب اس کے لیے کھودنے کی شرط بھی ختم کردی گئی۔ یہ کارنامہ بھی’’حضرت علامہ خاکی جان دامانوی صاحب‘‘ کے حصے میں آیا

’’ اقبرہ کا مطلب ’’اس کو قبر میں رکھوادیا‘‘ اقبر اقبار سے جس کے معنی قبر میں رکھنے اور رکھوانے کے ہیں۔ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب ہ ضمیر واحد مذکر غائب ہے( لغات القرآن ج ۱ ص ۱۸۳)۔( عقیدہ عذاب قبر،صفحہ ۴۷)

اب غالباً اقبرہ کے معنی بھی بدل گئے اور قبر میں رکھوائے جانے کی یہ شرط بھی ختم ہوگئی!الغرض قرآن کی آیات اور احادیث صحیحہ سے جس قبر کی وضاحت کی جارہی تھی، کیاوہ یہی قبر ہے جو انہوں نے گھڑی ہے؟ کس نے کھودیں یہ قبریں اور کون ان میں دفنایا گیا؟ فرشتے ان سے سوال کرنے کس وقت آئے ؟۔۔۔۔۔۔ان کے عقیدے کے مطابق تو یہ مردہ لاشیں جوتیوں کی آواز بھی سنتی ہیں تو ان میں دفن ہونے والوں نے کب اورکن کی جوتیوں کی آواز سنی ؟ ان کی روحیں کب لوٹائی جاتی ہیں؟عذاب دینے والا فرشتہ تو گرز لیے کھڑا رہا ہوگا کہ کب یہ مٹی میں مل کر مٹی بنیں ،کب ا ن کی’’آٹو میٹک قبر‘‘ بنے اور کب میں ان کو عذاب دوں! یہ سب کچھ ہوجانے کے باوجود وہ مردے تو پھر بھی بچ نکلے جن کے جسم اس زمین میں گئے ہی نہیں جیسے آل فرعون کیونکہ ان کے دنیاوی جسم تو حنوط کرکے عجائب گھر کی زینت بنادئیے گئے ہیں! اہلحدیث مسلک پرست یقیناًاس بات کی وضاحت فرمائیں گے کہ ان فرعونیوں کی قبریں کہاں بنی ہیں؟ کیا ثم اماتہ فاقبرہ کے قانونِ الٰہی کا ان پراطلاق نہیں ہوا؟ اس حکم کے نفاذ میں کیا کسی ایک کا بھی کوئی استثناء ہے؟

واضح ہوا کہ ان کے اس خود ساختہ عقیدے کی بنیاد محض منطق ہی ہے ،ورنہ خود ان کا اپنا لکھا ہوا اس کے برعکس ہے۔ہم نے ابتداء ہی میں اس بات کو واضح کردیا تھا کہ قبر کے بارے میں ان اہلحدیثوں کے عقائد بار بار بدلتے رہتے ہیں جس کی صرف ایک ہی وجہ ہے، وہ یہ کہ اگر ایک بات قرآن سے ثابت ہوگی تو وہ کبھی بھی نہیں تبدیل ہوگی ،لیکن وہ عقائد جن کی بنیاد محض مسلک پرستی ہوتواسی طرح لمحہ بہ لمحہ تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔

ان کا یہ کہنا کہ سورہ الانعام اور ھود میں مستودع آیا ہے جس کا مطلب ہے سونپے جانے والی جگہ، اسی طرح سورۂ مرسلات میں فرمایا گیا ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے اس زمین کو زندوں اور مردوں کو سمیٹنے والا بنایا ہے، تو یہ سورہ طٰہٰ کی آیت کی ہی تشریح ہے کہ

﴿مِنْهَا خَلَقْنَاكُمْ وَفِيهَا نُعِيدُكُمْ وَمِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً أُخْرَى﴾

[طه: 55]

اسی سے ہم نے تم کو پیدا کیا ہے،اسی میں ہم تم کولوٹائیں گے اور اسی سے ہم تم کو نکالیں گے‘‘

مذکورہ آیات میں کسی قبر اور اس میں ملنے والے کسی عذاب یا راحت کا توکوئی ذکر ہی نہیں۔موصوف کی مزید خامہ فرسائی ملاحظہ فرمائیں:

’’ البتہ جو لوگ جل کر راکھ ہوگئے یا فضلہ بن گئے تو وہ بھی آخر کار اپنی زمین والی قبر میں داخل ہو کر رہیں گے۔جیسا کہ قرآن کریم سے ثابت ہوچکا ہے‘‘۔ (عقیدہ عذاب قبر،صفحہ ۷۸)

کیسا کھلا دھوکہ دیا ہے کہ’’ قرآن سے ثابت ہو چکا ہے‘‘

حالانکہ قرآن میں ہر گز اس طرح کے کسی مقام کو قبر نہیں کہاگیا

بلکہ یہ صرف شیطان کا بہکاوا ہے کہ ان کو ہر چیز قبر دکھائی دے رہی ہے اور وہ بھی قرآن سے ’’ثابتہ‘‘! ذرا ہمیں بھی توکسی سوختہ یاماکول مردے کی ’’زمین والی قبر‘‘ دکھلائیں۔

ھاتوبرھانکم ان کنتم صادقین

ایک طرف تو ان مفتی صاحب نے ایک نئی قسم کی قبر کا عقیدہ دیا اور دوسری طرف ایک دوسرے مفتی صاحب یوں فرماتے ہیں:

’’ قاعدہ کلیہ کے طور پر یہی بات کہی جاسکتی ہے کہ انسان مرنے کے بعد قبر میں دفن ہوتا ہے۔ اگر آل فرعون یا قومِ نوح غرق ہو گئے یا اہل سبا پر سیلاب آیا یا دنیا بھر سے ایک قوم(ہندو) اپنے مردے کو دفن کرنے کے بجائے جلادیتی ہے تو یہ سب باتیں مستثنیات میں شمار ہوں گی، اور آج اگر کوئی چاہے توخود یہ اندازہ کرسکتا ہے کہ قبر میں دفن ہونے والوں کی تعداد ڈوبنے یا جلنے والوں کی تعداد سے بہت زیادہ ہے۔ لہٰذا عام قاعدہ کے طور پر جو بات کہی جاسکتی ہے وہ یہی ہے کہ’’ ثمّ اماتہ فاقبرہ‘‘ باقی سب استثناء کی صورتیں ہیں‘‘۔ (روح،عذاب قبراور سماع موتیٰ،از عبد الرحمن کیلانی، صفحہ ۷۳)

ملاحظہ فرمایا کہ ایک اہلحدیث آٹومیٹک قبریں بنوا کر اس آیت کی تشریح کررہا ہے اور دوسرا اہلحدیث اس قبر کے نہ ملنے والے معاملے کو استثنائی صورت بیان کرتا ہے! کاش یہ دونوں اہلحدیث قرآن و حدیث کے دئیے ہوئے متفقہ عقیدے کو مان لیتے تو نہ ان کا آپس میں اس طرح تضادواختلاف ہوتا اور نہ ہی رسوائی ان کے فرقے کی مقدر بنتی۔ بل کذّبوا با لحقّ لمّا جاءھم فھم فی امر مریج

استثنائی معاملہ:

ان کا یہ کہنا کہ یہ استثنائی معاملہ ہے ،کھلا دھوکہ ہے۔ مرنے کے بعد کی جزا و سزا کے جتنے بھی واقعا ت قرآن مجید میں بیان کیے گئے ہیں ،ان میں سے کسی میں بھی اس ارضی قبر میں جزا و سزا کا تصور نہیں ملتا۔حیرت کی بات ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے قرآن کریم میں سارے کے سارے استثنائی معاملات بیان فرما دئیے مگر وہ قاعدہ کلیہ کہیں بھی بیان نہ فرمایا جو آج ان اہلحدیثوں کے ایمان کی بنیاد بنا ہوا ہے!

قاعدہ کلیہ اس بات کو کہتے ہیں جو تمام انسانوں کے لیے یکساں ہو اور استثناء اسے کہا جاتا ہے جو اس قانون سے ہٹ کر قرآن و حدیث میں بیان کیا گیا ہو۔ اگر قرآن مجید میں مرنے کے بعد کی جزا و سزا کے بے شمار واقعات بیان کیے گئے ہوتے اور ان میں اسی ارضی قبر میں جزا وسزا کا تصور دیا گیا ہوتا تو وہ ایک قاعدہ کلیہ سمجھا جاتا ،اورفی الحال بیان کیے گئے متعدد قوموں کے واقعات پھر استثناء قرار پاتے،لیکن حیرت علم کے ان نام نہاد پہاڑوں اور سمندروں پر ہے کہ صرف یہی چند واقعات ہی توقرآن میں ملتے ہیں اور انہی کوانہوں نے استثناء قرار دے ڈالا! اس کا مطلب ہوا کہ قرآن میں مرنے کے بعد کی جزا و سزا کا قانون بیان ہی نہیں کیا گیا، جو کچھ ہے وہ محض استثنائی ہے!

مزید فرماتے ہیں کہ دنیا بھر سے ایک قوم ہندو اپنے مردے جلادیتی ہے، اور یہ استثناء ہے، یہ بھی فرماتے ہیں کہ گنتی کر لی جائے کہ کس کی تعداد زیادہ ہے۔ دراصل یہ فرقے وارانہ تعصب ہے ورنہ اﷲ نے تو ہر چیز کھول کھول کر بیان کردی ہے۔اگر یہ قرآن کا کلیہ مان لیں کہ مرنے والے کی روح (عالم برزخ میں) روک لی گئی ہے، اب عذاب و راحت کا معاملہ قیامت تک وہیں ہوگا، تو انہیں اِدھراُدھر بھٹکنے، متضاد باتیں بنانے اور مستثنیات کے چکر میں پھنسنے کی ضرورت نہ پڑے۔ان کی علمیت کے دعوے تو بڑے ہیں لیکن نام نہاد اہلحدیث علماء یہ بھی نہیں جانتے کہ اسلام میں کسی بھی چیز کی بنیاد اکثریت و جمہوریت نہیں بلکہ اﷲ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ طریق کار ہے۔ ہمارا ایمان تواسی پر ہے۔ لیکن پھر بھی اگر بات شماریات کی ہی ہے تو دنیاکا سب سے بڑا ملک چین ہے جہاں مردوں کودفنایا نہیں جاتا؛ دوسرے نمبر پر بھارت کی اکثریت ہندؤں پر مشتمل ہے جو اپنے مردوں نذرآتش کردیتے ہیں؛ سری لنکا ،جاپان اور مشرق بعید کے کروڑوں افراد جو بدھ مت کے ماننے والے ہیں،اپنے مردے دفنائے بغیر ٹھکانے لگادیتے ہیں؛پھر کمیونسٹ وسوشلسٹ ممالک کے کروڑوں افراد میں بھی تدفین کا طریقہ نہیں ۔۔۔۔۔۔ کیا اتنی بڑی تعداد بھی استثنائی کہلائی گی؟کیا ان قوموں کے لیے عذاب قبر مؤخر کردیا گیا ہے؟ گویا کہ پھنسے تو بے چارے وہی پھنسے جو اﷲ تعالیٰ کے سکھائے ہوئے طریقے کے مطابق اپنے مردے دفناتے رہے اور وہ صاف چھوٹ گئے جوقبروں سے دور رہے!

کیا نبی ﷺنے اسی قبر کے لیے واضح یقین دہانی فرمائی ہے؟

رجسٹرڈجماعت المسلمین والے فرماتے ہیں: ’’غور فرمائیے کہ اﷲ کے رسول ؐ نے صحابہ سے ارشاد نہیں فرمایا’’ تم دفن تو اس ارضی قبرمیں کرنا، مردوں کو عذاب کسی فرضی قبر میں ہوتا ہے۔‘‘ بلکہ واضح طور پر یقین دہانی کرادی کہ عذاب اسی قبر میں ہوتا ہے جسمیں مردوں کو دفنایا جاتا ہے لیکن ساری زندگی رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ و سلم نے کبھی کسی اور قبر کا ذکر ہی کیا اشارہ تک نہیں کیا اور نہ ہی صحابہؓ میں سے کسی ایک نے پوچھا کہ ان مردوں کا کیا بنے گا جو دفن نہیں کئے جاتے درندے جنکو لقمہ تر بنالیتے ہیں یا جن کو جلا دیا جاتا ہے‘‘۔ ( ارضی قبر یا فرضی قبر)

 

ایسی باتوں کی بنیاد محض جہالت اور قرآن فہمی کی بصیرت سے محرومی ہے۔ کتاب اﷲ میں رحمت، دعا اور ادائیگی صلوٰۃ کے لیے ایک ہی لفظ ’’ صلوٰۃ‘‘ استعمال ہوا ہے؛ کبھی کسی صحابی ؓ نے یہ نہیں پوچھا کہ یہاں صلوٰۃ کے کونسے معنی ہیں ؟ بلکہ قرآن وحدیث میں جہاں بھی لفظ صلوٰۃ آتا ہے، اس کے نفس مضمون سے اس کے معنی خود واضح ہوجاتے ہیں۔اسی طرح جہاں کہیں

کسی کی تدفین یاقبر پر کسی کام کے منع کرنے کا حکم آتا ہے ،تو وہاں اس سے مراد یہ دنیاوی قبریں ہی ہیں، لیکن جہاں کہیں جزا وسزا کی بات بیان کی جاتی ہے تو اس سے مراد عالم برزخ ہی ہوتا ہے جس کی تفصیل بیان کی جاچکی ہے۔اب صحابہ ث نعوذباﷲان رجسٹرڈ جماعت المسلمین والوں کی طرح دین کی بصیرت سے محروم تو نہ تھے کہ قبر کے ہر ہر تذکرے پر سوال کرتے کہ یا رسول اﷲا یہ کونسی قبر ہے؟ ان کے سامنے تو قرآن کے بیان کردہ واضح ثبوت موجود تھے، یہی وجہ ہے کہ جب نبیﷺ نے وفات پا جانے والی یہودی عورت پر سے گذرتے ہوئے فرمایا کہ

’’یہ اس پر رو رہے ہیں اور یہ اپنی قبر میں عذاب دی جارہی ہے‘‘ تو صحابہ ؓ میں سے کسی نے بھی سوال نہیں کیا کہ یہ کونسی قبر ہے کہ ابھی تو یہ دفن بھی نہیں ہوئی اور آپ فرمارہے ہیں کہ یہ اپنی قبر میں عذاب دی جارہی ہے؟نبی ﷺنے اپنے صاحبزادے کے لیے فرمایا کہ

’’ جنت میں اس کے لیے ایک دودھ پلانے والی ہے‘

صحابہ رضی اللہ عنہ میں سے کسی نے نہیں پوچھا کہ یا رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم آپ نے تو انہیں یہاں زمین میں دفن کیا تھا، پھر انہیں جنت میں کیسے جزا دی جارہی ہے؟ ثابت ہوا کہ ان کا یہ کہنا کہ

’’ تم دفن تو اس ارضی قبرمیں کرنا ،مردوں کو عذاب کسی فرضی قبر میں ہوتا ہے‘‘ قرآن و حدیث کے بتائے ہوئے طریقے کا انکار اور اپنے خود ساختہ عقیدے کا دفاع ہے۔اور صحابہ ؓ کے طرزعمل سے بظاہر استدلال کرنا اور اس کو بطور بنیاد پیش کرنا بھی ان کا ایک فریب ہے ورنہ انہیں صحابہ ؓ سے کیا نسبت؟صحابہ حقیقی مسلم تھے، ان کی طرح محض نام کے نہیں؛ جو اﷲکی بارگاہ میں مسلم رجسٹرڈ ہوئے تھے ، مشرکانہ عقائد رکھنے والے طواغیت کے یہاں نہیں ۔۔۔۔۔۔

پھرنبی ﷺسے جھوٹ منسوب کرنے کی جسارت کرتے ہیں کہ:

’’ بلکہ واضح طور پر یقین دہانی کرادی کہ عذاب اسی قبر میں ہوتا ہے جس میں مردوں کو دفنایا جاتا ہے‘‘۔ اب کوئی ان سے پوچھے کہ اس دنیاوی قبرمیں عذاب و راحت کی یقین دہانی ہے کہاں؟ذرا کوئی حوالہ تو دیں۔البتہ عالم برزخ میں اس عذاب و راحت کی زبانِ نبوت نے بارہا یقین دہانی کرائی۔ ملاحظہ فرمایئے کہ درج ذیل احادیث میں نبی ا نے کتنے واضح انداز میں یہ’’ یقین دہانیاں‘‘ کرائی ہیں

* مسجد نبوی کی تعمیر کے موقع پر وہاں موجود مشرکین کی قبریں نبی ا کے حکم پر کھود دی گئیں۔

(بخاری:کتاب الصلوٰۃ، باب ھل ینبش قبورمشرکی الجاہلیۃ۔۔۔)

کیا رسول اﷲا اس سے بھی بڑھ کر کوئی’’ یقین دہانی‘‘ کراسکتے تھے؟

* اﷲ و رسول اکے دشمن امیہ بن خلف کی لاش جس کے ٹکڑے ہوگئے تھے، یوں ہی زمین پر چھوڑ دی گئی اور اسے قبر میں دفن نہیں کیا۔

(بخاری:کتاب مناقب الانصار، باب ما لقی النبی ا و اصحابہ من المشرکین بمکۃ)

* مرتد کاتب وحی کی لاش زمین نے دوبار دفن کرنے کے باوجود اگل دی، لیکن نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے دوبارہ اسے قبر میں دفن کرنے کا حکم نہیں دیا۔

(بخاری:کتاب المناقب، علامات النبوۃ فی الاسلام، عن انس ؓ)

* یہودی عورت اس زمینی قبر میں دفن نہیں ہوئی لیکن نبی صلی اللہ علیہ و سلم اس کے لیے قبر میں عذاب میں ہونے کا بیان فرماتے ہیں۔

(بخاری:کتاب الجنائز، باب قول النبی یعذب المیت ببعض بکاء اھلہ علیہ)

* اپنے صاحب زادے کو زمینی قبر میں دفن کیا اور جنت میں ان کی جزا کا بیان فرمایا۔

(بخاری:کتاب الجنائز، باب ما قیل فی اولاد المسلمین)

بتایئے اور کتنی ’’یقین دہانیاں ‘‘کراتے نبی ﷺ!قرآن وحدیث کی اتنی صریح وضاحت کے بعد تو کسی بھی شک کی گنجائش نہیں رہتی۔فبای حدیث بعدہ یومنون

کاش کہ یہ فرقہ پرست اپنی آنکھوں سے فرقہ اور مسلک پرستی کی عینک اتار دیں تاکہ راہ راست پاسکیں۔ سب کچھ دیکھ لینے اور پڑھ لینے کے بعد بھی اگر کوئی اندھا بنا رہے اور یہی کہتا رہے کہ

’’ لیکن ساری زندگی رسول اﷲﷺنے کبھی کسی اورقبر کا ذکرہی کیا اشارہ تک نہیں کیا‘‘ تو اس میں عذاب دینے والے فرشتے کا کیا قصور۔ یہ لوگ اپنے دل کو مطمئن انہی جھوٹی تسلیوں پر کیے ہوئے ہیں کہ نبی ﷺ نے کسی اور قبر کی طرف اشارہ بھی نہیں کیا، حالانکہ قرآن و حدیث کا بیان واضح ہے۔ یہ نبی ﷺکی تعلیمات ہی تھیں کہ صحابہ کرام ؓاپنے مُردوں کو دفناتے اسی دنیاوی ارضی قبر میں تھے لیکن اسے عذاب و راحت کا مقام نہیں سمجھتے تھے۔ملاحظہ فرمائیے:

عَنْ اَنَسٍ قَالَ لَمَّا ثَقُلَ النَّبِیُّ ا جَعَلَ یَتَغَشَّاہُ فَقَالَتْ فَاطِمَۃُ رَضِیَ اﷲُ عَنْھَا وَاکَرْبَ اَبَاہُ فَقَالَ لَھَا لَیْسَ عَلٰی اَبِیْکِ کَرْبٌ بَعْدَ الْیَوْمِ فَلَمَّا مَاتَ قَالَتْ یَا اَبَتَاہُ اَجَابَ رَبًّا دَعَاہُ یَااَبَتَاہُ مَنْ جَنَّۃُ الْفِرْدَوْسِ مَاْوَاہُ یَا اَبَتَاہُ اِلٰی جِبْرَءِیْلَ نَنْعَاہُ فَلَمَّا دُفِنَ قَالَتْ فَاطِمَۃُ رَضِیَ اﷲُ عَنَھَا یَا اَنَسُ اَطَابَتْ اَنْفُسُکُمْ اَنْ تَحْثُوْا عَلٰی رَسُوْلِ اﷲِ ا التُّرَابَ

(بخاری:کتاب المغازی، باب مرض النبی صلی اللہ علیہ و سلم و و فاتہ)

’’ انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ مرض کی شدت کی وجہ سے بیہوش ہو گئے۔فاطمہ رضی اﷲکہنے لگیں افسوس میرے والد کو کتنی تکلیف ہے۔ نبیﷺنے فرمایا آج کے بعد نہیں ہو گی۔ پھر جب نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی وفات ہو ئی تو فاطمہ رضی اﷲ نے کہا: اے ابا جان! آپ اپنے رب کے بلاوے پر چلے گئے، اے ابا جان! جنت الفردوس ہی آپ کا مقام ہے۔ ، ہم جبریل کو

آپ کی وفات کی خبر سناتے ہیں۔ اور جب تدفین ہوگئی تو انہوں نے کہا اے انس! تم نے کیسے گوارا کر لیا کہ نبی ﷺ کو مٹی میں چھپا دو‘‘۔

کس قدر وضاحت موجود ہے اس روایت میں کہ ابھی نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی وفات ہوئی ہے، آپ کی میت ابھی سامنے ہی موجود ہے ، فاطمہ رضی اﷲہ گمان کر تی ہیں کہ ابھی جبریل کو بھی نبیﷺکی وفات کا علم نہ ہوا ہوگا اور عقیدہ یہ ہے کہ آپ ا اﷲ کے بلاوے پر اﷲ تعالیٰ کے پاس چلے گئے،جنت الفردوس میں اپنے مقام پر چلے گئے۔ یعنی صحابہ ث کا یہ عقیدہ تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو وفات کے بعد ملنے والی جزا کا مقام یہ دنیاوی ارضی قبر نہیں بلکہ جنت الفردوس ( عالم برزخ) ہے، لہٰذا وہ لوگ غلطی پر ہیں جو یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ نبی اوفات کے بعداپنی مدینے والی قبر میں ہی قیام پذیرہیں اور وہاں پر پڑھا جانے والا درود خود سنتے ہیں، سلام سنتے ہیں، جواب دیتے ہیں، مصافحہ کرتے ہیں ۔۔۔۔۔۔

مزید یہ کہ نبیﷺ نے وفات سے قبل فاطمہ رضی اﷲسے فرمایا:

۔۔۔اَنِّیْ اَوَّلُ اَھْلِہٖ یَتْبَعُہٗ

(بخاری۔کتاب المغازی۔باب مرض النبی ﷺ و وفاتہ)

’’۔۔۔ کہ میرے گھر والوں میں سے سب سے پہلے تم مجھ سے ملوگی‘‘۔

اپنی ازواج سے فرمایا :

اَسْرَعُکُنَّ لَحَاقًا بِیَ اَطْوَلُکُنَّ یَدًا

(مسلم:کتاب الفضائل،فضائل زینب رضی اﷲ)

’’۔۔۔ تم میں سب سے پہلے مجھ سے وہ ملے گی جس کے ہاتھ زیادہ لمبے ہیں

(یعنی جوصدقہ و خیرات زیادہ کرنے والی ہو جو کہ زینب رضی اﷲ ثابت ہوئیں)‘‘۔

بتائیے کہ کیا فاطمہ و زینب رضی اﷲ ،نبیﷺ کی اس مدینہ والی قبر میں دفن کی گئی ہیں یا وہ جنت ( عالم برزخ)میں نبیﷺسے ملی ہوں گی۔

اب یہ مسلک پرست جواب دیں کہ اس بارے میں صحابہ کرام ؓ کا کیا عقیدہ تھا؟ صحابہ کرام ؓ جنہوں نے نبی ﷺکے اس فرمان کو روایت کیاہے،کو کیا معلوم نہیں تھا کہ نبیﷺ نے فاطمہ رضی اﷲکہ لیے فرمایا ہے کہ گھر والوں میں سب سے پہلے وہ ان سے ملیں گی ؟اسی طرح زینب رضی اﷲکے متعلق مذکورہ فرمان کا بھی ان کو علم تھا۔ اگر (نعوذباﷲ من ذالک) ان کا عقیدہ یہ ہوتا کہ اسی دنیاوی ارضی قبر میں ہی میت کا قیام ہمیشہ رہتاہے اور یہیں اسے سب کچھ ملتا ہے توکیا و ہ ان کی تدفین نبی ﷺسے دورکرکے فرمانِ رسالت کی خلاف ورزی کرنے کی جسارت کرتے؟قرآن و حدیث کا علم تو ان مسلک پرستوں کو چھو کر نہیں گزرا ،محض لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے ہانک لگا دی کہ ’’غور فرمائیے کہ اﷲ کے رسول ؐ نے صحابہ سے ارشاد نہیں فرمایا

’’ تم دفن تو اس ارضی قبرمیں کرنا، مردوں کو عذاب کسی فرضی قبر میں ہوتا ہے‘‘۔

یخٰدِعون ( دھوکے باز)

عقیدہ عذاب قبر کے بارے اب تک آپ فرقہ پرستوں کے قرآن میں معنوی تحریف کے انداز تو دیکھتے ہی چلے آئے ہیں اب ذرا دھوکہ دہی کا یہ انداز بھی دیکھیں۔فرقہ اہلحدیث کے معروف عالم قاری خلیل الرحمن صاحب فرماتے ہیں :

’’ الیوم تجزون عذاب الھون ( آج کے دن تم توہین آمیز عذاب کی طرف دھکیلے جاؤگے) کے الفاظ اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ جزا و سزا کا سلسلہ مرتے ہی قبر میں شروع ہوجاتا ہے چونکہ جنت اور دوزخ میں داخلہ قیامت کے دن حساب و کتاب کے بعد ہوگا اس لیے کافر میت سے روح نکالنے والے فرشتوں کا یہ کہنا کہ آج ہی ذلت والے عذاب کی طرف منتقل کیے جاؤگے عذاب قبر پر واضح دلیل ہے‘‘۔ ( پہلا زینہ، از قاری خلیل الرحمن، صفحہ ۳۷)

خود ہی لکھا ،خود ہی پڑھا، خود ہی سمجھا ،اور خود ہی اسے دلیل بھی بنالیا۔ قرآن کی اس آیت کی یہ تشریح انہوں نے کس بنیاد پر کی ہے؟اپنے اکابرین کے لکھے کو چاٹتے رہیں گے تو قرآنی آیات کی اس سے بھی زیادہ گمراہ کن تشریح کریں گے ۔اگرچہ اس آیت میں قبر کا کوئی لفظ ہی نہیں ، لیکن کس انداز میں اس کی تشریح فرمادی کہ’’۔۔۔الفاظ اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ جزا و سزا کا سلسلہ مرتے ہی قبر میں شروع ہوجاتا ہے‘‘ ۔بہت اچھا استعمال کیا ہے انہوں نے قرآنی آیات کا! موصوف نے پوری بات بیان نہیں فرمائی،اس لیے کہ اگر بات پوری بیان کردی جائے تو پھر دجل و فریب کی گنجائش نہیں رہتی۔ ملاحظہ فرمائیں سورہ انعام کی یہ آیات:

﴿وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَى عَلَى اللَّهِ كَذِبًا أَوْ قَالَ أُوحِيَ إِلَيَّ وَلَمْ يُوحَ إِلَيْهِ شَيْءٌ وَمَنْ قَالَ سَأُنْزِلُ مِثْلَ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ وَلَوْ تَرَى إِذِ الظَّالِمُونَ فِي غَمَرَاتِ الْمَوْتِ وَالْمَلَائِكَةُ بَاسِطُو أَيْدِيهِمْ أَخْرِجُوا أَنْفُسَكُمُ الْيَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُونِ بِمَا كُنْتُمْ تَقُولُونَ عَلَى اللَّهِ غَيْرَ الْحَقِّ وَكُنْتُمْ عَنْ آيَاتِهِ تَسْتَكْبِرُونَ٩٣ وَلَقَدْ جِئْتُمُونَا فُرَادَى كَمَا خَلَقْنَاكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ وَتَرَكْتُمْ مَا خَوَّلْنَاكُمْ وَرَاءَ ظُهُورِكُمْ وَمَا نَرَى مَعَكُمْ شُفَعَاءَكُمُ الَّذِينَ زَعَمْتُمْ أَنَّهُمْ فِيكُمْ شُرَكَاءُ لَقَدْ تَقَطَّعَ بَيْنَكُمْ وَضَلَّ عَنْكُمْ مَا كُنْتُمْ تَزْعُمُونَ٩٤﴾ [الأنعام: 93-94

’’کاش تم ظالموں کواس حالت میں دیکھ سکو جب کہ وہ سکرات موت میں ہوتے ہیں اور فرشتے ہاتھ بڑھا بڑھا کر کہہ رہے ہوتے ہیں نکالو اپنی جانوں کو،آج تمہیں ان باتوں کی پاداش میں ذلت کا عذاب دیا جائے گا جو تم اﷲپرتہمت رکھ کر ناحق کہا کرتے تھے اور اس کی آیات کے مقابلے میں سرکشی دکھاتے تھے۔اور تم تن تنہا پہنچ گئے ہمارے پاس جیسا کہ ہم نے تمہیں پہلی بار پیدا کیا تھا اور چھوڑ آئے ہو اپنی پیٹھ پیچھے جو کچھ ہم نے تم کو عطاکیا تھا،اور نہیں دیکھتے ہم تمہارے ساتھ تمہارے وہ سفارشی جن کے متعلق تم سمجھتے تھے کہ تمہارا کام بنانے میں وہ بھی اﷲ کے شریک تھے،بے شک تمہارے آپس کے رابطے منقطع ہوگئے اور گم ہوگئے وہ تم سے جن کا تم کو زعم تھا‘‘۔

پہلی آیت میں بتایا گیا کہ فرشتے روح قبض کرتے وقت ہی کافروں کو، اس فوری ملنے والے عذاب کا مژدہ سنادیتے ہیں۔ یہ مردہ اب قیامت تک کا یہ دور کہاں گذارے گااور کہاں اسے عذاب ہوگا ،اگلی ہی آیت میں اس کی تشریح ملتی ہے ۔ ربِ کائنات فرماتا ہے کہ تم تنہا اس ساری دنیا کو اپنی پیٹھ پیچھے چھوڑ کر ہمارے پاس پہنچ گئے۔یہ مردہ اب اﷲ کے پاس پہنچ گیا ہے، برزخ کے پار ایک دوسرے عالم میں جہاں اب اس کو قیامت تک رہنا ہے۔ اب معاملہ راحت کا ہو یا عذاب کاوہاں ہی سب کچھ ملے گا۔ انسان کی روح قبض ہوتے ہی اسکی آخرت شروع ہو جاتی ہے اور آخرت کے معاملہ کا تعلق اس زمین سے نہیں بلکہ آسمانوں میں ہے۔

قرآن کے اس فیصلے کے برخلاف اہلحدیث عقیدہ دیتے ہیں کہ

’’ (آج کے دن تم توہین آمیز عذاب کی طرف دھکیلے جاؤگے) کے الفاظ اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ جزا و سزا کا سلسلہ مرتے ہی قبر میں شروع ہوجاتا ہے‘‘۔

انہوں نے سورہ انعام کی آیت ۹۳ پیش کرکے اس کی من مانی تشریح تو بیان کردی لیکن انہیں آیت ۹۴ نہیں دکھائی دی جس میں انہیں اس بات کی مکمل وضاحت مل جاتی کہ مرنے کے بعد یہ مردہ کہاں پہنچ جاتا ہے؟

مرتے ہی انسان اﷲ کے پاس جاتا ہے یا اس دنیاوی قبر میں دفنادیا جاتا ہے؟

اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے تم ہمارے پاس پہنچ گئے۔ یہ کہتے ہیں کہ قبر میں دھکیل دیا جاتا ہے۔کہاں لکھا ہے قرآن میں کہ ’’ تم دھکیلے جاؤگے‘‘؟ قرآن کی آیات سے کھیلتے ہیں اور اس کے مفہوم کو یکسر بد ل ڈالتے ہیں !

یخٰدعون ( دھوکے باز )

قرآن کی آیت میں زبردستی قبر کا لفظ شامل کرنا

اہلحدیثوں کے’’ نامور مفتی‘‘ خاکی جان دامانوی کا ایک اور عظیم کارنا مہ ملاحظہ فرمائیں ۔ موصوف ثم اماتہ فاقبرہ سے اپنا باطل عقیدہ ثابت کرنے کے لیے بیان کرتے ہیں:

’’ان آیات میں سے صرف ایک آیت سے برزخی قبر کا مفہوم کشید کیا گیا ہے۔اور وہ آیت یہ ہے: ثم اماتہ فاقبرہ ۔ ثم اذا شاء انشرہ(عبس:۲۱،۲۲)’’پھر اسے موت دی اور قبر دی پھر جب چاہے گا اسے اٹھا کھڑے گا‘‘۔ اس سے یہ مفہوم اخذ کیا گیا ہے کہ ہر انسان کو اﷲ تعالی موت دیتا ہے اور پھر اسے قبر دیتا ہے اور چونکہ ہر انسان کو یہ معروف قبر نہیں ملتی کیونکہ کوئی جل کر راکھ بن جاتا ہے اور کسی کو جانور کھا کر فضلہ بنادیتا ہے لہٰذا ثابت ہوا کی ہر انسان کو برزخ میں قبر ملتی ہے اور یہی اس کی اصلی قبر ہے جسے برزخی قبر کہا جاتا ہے۔ لیکن یہ بات اس آیت کے سیاق کے خلاف ہے کیونکہ اگلی ہی آیت میں بتادیا گیا ہے کہ اﷲجب چاہے گا اس قبر سے اٹھائے گا اور ظاہر ہے کہ یہ انسان قیامت کے دن اس زمین والی قبر ہی سے اٹھایا جائے گا۔ قرآن کریم میں ایک دوسرے مقام پر ارشاد ہے:و ان اﷲ یبعث من فی القبور ( الحج:۷)’’اور بے شک اﷲ ان لوگوں کو جو قبروں میں ہیں(قیامت کے دن) اٹھائے گا‘‘۔ (عقیدہ عذاب قبر،صفحہ ۴۶،۴۷)

قرآن مجید میں اﷲ تعالیٰ نے یہودی علماء کا ذکر فرمایا ہے کہ

﴿وَإِنَّ مِنْهُمْ لَفَرِيقًا يَلْوُونَ أَلْسِنَتَهُمْ بِالْكِتَابِ لِتَحْسَبُوهُ مِنَ الْكِتَابِ وَمَا هُوَ مِنَ الْكِتَابِ وَيَقُولُونَ هُوَ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ وَمَا هُوَ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ وَيَقُولُونَ عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ وَهُمْ يَعْلَمُونَ﴾

[آل عمران: 78]

’’ ان میں کچھ لوگ ایسے ہیں جو کتاب پڑھتے ہوئے اس طرح زبان کا الٹ پھیر کرتے ہیں کہ تم سمجھو کہ جو کچھ پڑھ رہے ہیں وہ کتاب ہی کی عبارت ہے،حالانکہ وہ کتاب کی عبارت نہیں ہوتی۔وہ کہتے ہیں کہ جو کچھ ہم پڑھ رہے ہیں یہ اﷲ کی طرف سے ہے، حالانکہ وہ اﷲ کی طرف سے نہیں ہوتا ، وہ جان بوجھ کر جھوٹی بات اﷲ کی طرف منسوب کردیتے ہیں‘‘۔

ثم اماتہ فاقبرہ کی اگلی آیت جس کامفتی موصوف نے حوالہ دیا ، وہ یہ ہے: ثم اذا شاء انشرہ ’’ پھر جب چاہے گا اسے اٹھا کھڑا کرے گا‘‘ جس کو اپنی استدلال کی خراد پرچڑھاکرموصوف یہ عقیدہ کشیدکرتے ہیں کہ:

’’اگلی ہی آیت میں بتادیا گیا ہے کہ اﷲجب چاہے گا اس قبر سے اٹھائے گا‘‘

قارئین!مذکورہ آیت آپ کے سامنے ہے۔ آپ نے ملاحظہ فرمایا ہوگا کہ اس میں یہ الفاظ ’’ اس قبر سے اٹھائے گا‘‘ تو سِرے سے ہیں ہی نہیں۔ ثم اذا شاء انشرہ مراد یہ ہے کہ یہ اﷲ تعالیٰ کے اختیار میں ہے کہ جب چاہے گا قیامت برپا فرما کر اسے اٹھادے گا۔ لیکن صرف اپنے باطل عقیدے کے لیے کس عیاری کے ساتھ ’’قبر‘‘ کا لفظ آیت کی تشریح میں شامل کردیا۔ ملاحظہ فرمایاان نام نہاد اہلحدیثوں کا طرز عمل ! اس سے قبل ایک دوسرے اہلحدیث خلیل الرحمن کی کتاب’’ پہلا زینہ‘‘ کا بھی ہم نے حوالہ دیا تھا کہ کس طرح سورہ انعام کی آیت میں انہوں نے ’’قبر‘‘ کا اضافہ کردیا

تھا۔یہود کی اسی طرح کی حرکتوں کوقرآن میں یہ کہہ کر بتایا گیا ہے کہ یحرفون الکلمہ عن مواضعہ! بایں ہمہ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا صرف وہی مردے زندہ کیے جائیں گے جو اس زمینی قبر میں دفن کیے جائیں؟ وہ جو اس قبر میں دفن ہی نہیں کیے گئے، کیا وہ نہیں اٹھائے جائیں گے؟ کیاآل فرعون و دیگر عذاب شدہ قومیں نہیں اٹھائی جائیں گی؟ اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿ وَالْمَوْتَى يَبْعَثُهُمُ اللَّهُ ثُمَّ إِلَيْهِ يُرْجَعُونَ﴾

[الأنعام: 36]

’’رہے مردے، تو اﷲ ان کو اٹھائے گا پھر وہ اس کی ہی طرف پلٹائے جائیں گے‘‘۔

 

یعنی ہر مردہ اٹھا یا جائے گا، چاہے اسے یہ زمینی قبر ملے یا نہ ملے، سمندر میں ڈوب کر مرے یا جلا دیا جائے۔مگر یہ کہنا کہ ’’اس قبر سے اٹھائے گا‘‘ محض عیاری و دھوکہ دینا ہے۔

عذاب قبر کی تفصیل

اس سے قبل ہم نے فرقہ پرستوں کا عقیدہ بیان کیا تھا کہ وہ اسی زمینی قبرکو مرنے کے بعد جزا و سزا کا مقام قرار دیتے ہیں اور بقول ان کے اسی وجہ سے اسے عذاب قبر کہا جاتا ہے۔یہ سراسر جھوٹ ہے کیونکہ دنیا کی ایک بڑی اکثریت کو زمینی قبر نصیب ہی نہیں ہوتی، تو انہیں عذاب قبر کہاں ہوتا ہے؟مفتی دامانوی صاحب اپنی کتاب میں لکھتے ہیں:

’’ ان مختلف احادیث کا خلاصہ یہ ہے کہ عائشہؓ کو پہلی مرتبہ ایک یہودی عورت نے عذاب قبر کے متعلق بتایا لیکن انہوں نے اس کی تصدیق نہ کی۔ نبی صلی اﷲ علیہ و سلم نے بھی یہود کو جھوٹا قرار دیا بعد میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم پر وحی بھیجی گئی اور آپ ا کو عذاب القبر کے بارے میں بتایا گیا۔ اسی دن سورج گرہن لگ گیا اور آپ اکے بیٹے جناب ابراہیم رضی اﷲ عنہ کا

انتقال بھی ہوگیا چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اسی دن سورج گہن کی نماز صلوٰۃ الکسوف پڑھائی۔اور خطبہ دیا۔اور اسی خطبہ میں صحابہ کرا م ؓ کو عذاب القبر کی تفصیلات سے آگاہ کیا‘‘(عقیدہ عذاب قبر،صفحہ ۳۶)

اہلحدیثوں کے بیان کے مطابق صلوٰۃ الکسوف کی روایات میں نبی ﷺ نے عذاب قبر کی تفصیلات سے پہلی مرتبہ آگاہ کیا، لہٰذا ضروری ہے کہ ان روایات کابھی جائزہ لے لیا جائے۔

صلوٰۃ الکسوف کی احادیث

۔۔۔ فَقُمْتُ حَتّٰی تَجَلاَّنِی الْغَشْیُ وَجَعَلْتُ اَصُبُّ فَوْقَ رَاْسِیْ مَاءً، فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُوْلُ اﷲِ ا حَمِدَاﷲَ وَاَثْنٰی عَلَیْہِ، ثُمَّ قَالَ مَامِنْ شَیْءٍ کُنْتُ لَمْ اَرَہُ اِلاَّ قَدْ رَایْتُہُ فِیْ مَقَامِیْ ھٰذَا حَتَّی الْجَنَّۃَ وَالنَّارَ وَلَقَدْ اُوْحِیَ اِلَیَّ اَنَّکُمْ تُفْتَنُوْنَ فِی الْقُبُوْرِ مِثْلَ اَوْ قَرِیْبًا مِّنْ فِتْنَۃِ الدَّجَّالِ لَآ اَدْرِیْ اَیَّ ذٰلِکَ قَالَتْ اَسْمَآءُ یُؤْتٰی اَحَدُکُمْ فَیُقَالُ لَہٗ مَاعِلْمُکَ بِھٰذَالرَّجُلِ فَاَمّا المُؤْمِنُ اَوِ الْمُوْقِنُ لَآ اَدْرِیْ اَیَّ ذٰلِکَ قَالَتْ اَسْمَآءُ فَیَقُوْلُ ھُوَ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اﷲِ جَآءَ نَا بِالْبَیِّنَاتِ وَالْھُدٰی فَاَجَبْنَا وَ اٰمَنَّا وَاتَّبَعْنَا فَیُقَالُ نَمْ صَالِحًا فَقَدْ عَلِمْنَا اِنْ کُنْتَ لَمُؤْمِنًا وَ اَمَّا الْمُنَافِقُ اَوِ الْمُرْتَابُ لَآاَدْرِیْ اَیَّ ذٰلِکَ قَالَتْ اَسْمَآءُ فَیَقُوْلُ لَآاَدْرِیْ سَمِعْتُ النَّاسَ یَقُوْلُوْنَ شَیْءًا فَقُلْتُہٗ

(بخاری:کتاب الوضوء۔باب من لم یتوضا الا من الغشی المثقل)

’’ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ (اسماء رضی اﷲسورج گرہن کی صلوٰۃ ادا کرنے کا واقعہ روایت کرتی ہیں کہ) ۔۔۔میں بھی کھڑی ہوگئی یہاں تک کہ(صلوٰۃ کی طوالت سے) مجھ پر غشی طاری ہونے لگی اورمیں اپنے سر پر پانی ڈالنے لگی۔جب رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ و سلم (صلوٰۃ سے) فارغ ہوئے تو اﷲ کی حمد و ثناء فرمائی، اس کے بعد فرمایا کہ جس چیز کو میں نے کبھی نہیں دیکھا تھا اس کو آج اسی جگہ دیکھ لیا یہاں تک کہ جنت و جہنم کوبھی۔ اور میری طرف وحی کی گئی کہ تم اپنی قبروں میں آزمائے جاؤگے دجال کے فتنے کی طرح یا اس کے قریب قریب۔۔۔ تم میں سے ہر ایک کولایا جائے گا اور اس سے کہا جائے گا کہ اس مرد کے متعلق کیا علم رکھتے ہو۔ مومن یا موقن(کہتی ہیں)مجھے یاد نہیں، کہے گا وہ اﷲ کے رسول محمدﷺہیں جو ہمارے پاس کھلی نشانیاں اور ہدایت لے کر آئے ،ہم نے ان کی بات مانی اور ایمان لائے اور پیروی کی۔ س سے کہا جائے گا سو جا ،اس لیے کہ ہم نے جان لیا ہے کہ تو مومن ہے۔ لیکن منافق یا شک کرنے والا کہے گا کہ مجھے نہیں معلوم، میں نے تو جولوگوں کو کہتے ہوئے سنا وہی میں نے کہا‘‘۔

حدیث کے الفاظ پر غور فرمائیے کہ یہ کونسا مقام ہے جس کے متعلق بتایا گیا کہ:

یوْ تٰی اَحَدُ کُمْ ’’پھر تم میں سے ہر ایک کولایا جائے گا‘‘

(یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اہلحدیثوں نے اس حدیث کا ترجمہ بھی بدل ڈالا اور لکھا کہ’’ تم میں سے ہر ایک کے پاس پہنچیں گے‘‘!اگرچہ دیوبندی بھی ان کے ہم عقیدہ ہیں مگرکم ازکم اس علمی خیانت کی جرأت ان سے نہ ہوسکی، یہ بھی اہلحدیثوں کا ہی خاصہ ہے) قرآن و حدیث سے اس کی تشریح یہ ملتی ہے کہ ہر مرنے والے کی روح فرشتے قبض کرکے اﷲ تعالیٰ کے پاس لے جاتے ہیں

﴿وَهُوَ ٱلۡقَاهِرُ فَوۡقَ عِبَادِهِۦۖ وَيُرۡسِلُ عَلَيۡكُمۡ حَفَظَةً حَتَّىٰٓ إِذَا جَآءَ أَحَدَكُمُ ٱلۡمَوۡتُ تَوَفَّتۡهُ رُسُلُنَا وَهُمۡ لَا يُفَرِّطُونَ ۝ ثُمَّ رُدُّوٓاْ إِلَى ٱللَّهِ مَوۡلَىٰهُمُ ٱلۡحَقِّۚ أَلَا لَهُ ٱلۡحُكۡمُ وَهُوَ أَسۡرَعُ ٱلۡحَٰسِبِينَ﴾

[الأنعام: 61-62

’’اور وہ اپنے بندوں پر غالب ہے اور تم پر نگہبان بھیجتا ہے۔ یہاں تک کہ جب تم میں سے کسی کی موت آتی ہے تو ہمارے بھیجے ہوئے (فرشتے) اسکی روح قبض کر لیتے ہیں اور وہ کوئی کوتاہی

نہیں کرتے۔ پھر تم پلٹائے جاتے ہو اﷲکی طرف جو تمھارا حقیقی مالک ہے ۔سن لو کہ حکم اسی کا ہے اور وہ بہت جلد حساب لینے والاہے‘‘۔

﴿وَمَنۡ أَظۡلَمُ مِمَّنِ ٱفۡتَرَىٰ عَلَى ٱللَّهِ كَذِبًا أَوۡ قَالَ أُوحِيَ إِلَيَّ وَلَمۡ يُوحَ إِلَيۡهِ شَيۡءٞ وَمَن قَالَ سَأُنزِلُ مِثۡلَ مَآ أَنزَلَ ٱللَّهُۗ وَلَوۡ تَرَىٰٓ إِذِ ٱلظَّٰلِمُونَ فِي غَمَرَٰتِ ٱلۡمَوۡتِ وَٱلۡمَلَٰٓئِكَةُ بَاسِطُوٓاْ أَيۡدِيهِمۡ أَخۡرِجُوٓاْ أَنفُسَكُمُۖ ٱلۡيَوۡمَ تُجۡزَوۡنَ عَذَابَ ٱلۡهُونِ بِمَا كُنتُمۡ تَقُولُونَ عَلَى ٱللَّهِ غَيۡرَ ٱلۡحَقِّ وَكُنتُمۡ عَنۡ ءَايَٰتِهِۦ تَسۡتَكۡبِرُونَ ۝ وَلَقَدۡ جِئۡتُمُونَا فُرَٰدَىٰ كَمَا خَلَقۡنَٰكُمۡ أَوَّلَ مَرَّةٖ وَتَرَكۡتُم مَّا خَوَّلۡنَٰكُمۡ وَرَآءَ ظُهُورِكُمۡۖ وَمَا نَرَىٰ مَعَكُمۡ شُفَعَآءَكُمُ ٱلَّذِينَ زَعَمۡتُمۡ أَنَّهُمۡ فِيكُمۡ شُرَكَٰٓؤُاْۚ لَقَد تَّقَطَّعَ بَيۡنَكُمۡ وَضَلَّ عَنكُم مَّا كُنتُمۡ تَزۡعُمُونَ﴾ [الأنعام: 93-94]

کاش تم ظالموں کواس حالت میں دیکھ سکو جب کہ وہ سکرات موت میں ہوتے ہیں اور فرشتے ہاتھ بڑھا بڑھا کر کہہ رہے ہوتے ہیں نکالو اپنی جانوں کو،آج تمہیں ان باتوں کی پاداش میں ذلت کا عذاب دیا جائے گا جو تم اﷲپرتہمت رکھ کر ناحق کہا کرتے تھے اور اس کی آیات کے مقابلے میں سرکشی دکھاتے تھے۔اور تم تن تنہا پہنچ گئے ہمارے پاس جیسا کہ ہم نے تمہیں پہلی بار پیدا کیا تھا اور چھوڑ آئے ہو اپنی پیٹھ پیچھے جو کچھ ہم نے تم کو عطاکیا تھا‘‘۔

عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَص قَالَ اِذَا خَرَجَتْ رُوْحُ الْمُؤْمِنِ تَلَقَّاھَا مَلَکَانِ یُصْعِدَانِھَا قَالَ حَمَّادٌ فَذَکَرَ مِنْ طِیْبِ رِیْحِھَا وَ ذَکَرَ الْمِسْکَ قَالَ وَ یَقُوْلُ اَھْلُ السَّمَآءِ رُوْحٌ طَیِّبَۃٌ جَآءَ تْ مِنْ قِبَلِ الْاَرْضِ صَلّی اﷲُ عَلَیْکِ وَ عَلٰی جَسَدٍ کُنْتِ تَعْمُرِیْنَہٗ فَیُنْطَلَقُ بِہٖ اِلٰی رَبِّہٖ عَزَّ وَ جَلَّ ثُمَّ یَقُوْلُ انْطَلِقُوْا بِہٖ اِلآی اٰخِرِ الْاَجَلِ قَالَ وَ اِنَّ الْکَافِرَ اِذَا خَرَجَتْ رُوْحُہٗ قَالَ حَمَّادٌ وَّ ذَکَرَ مِنْ نَتْنِھَا وَ ذَکَرَ لَعْنًا وَّ تَقُوْلُ اَھْلُ السَّمَآءِ رُوْحٌ خَبِیْثَۃٌ جَآءَ تْ مِنْ قِبَلِ الْاَرْضِ قَالَ فَیُقَالُ انْطَلِقُوْا بِہٖ اِلٰی اٰخِرِ الْاَجَلِ

(مسلم:کتاب الجنۃ و صفۃ نعیمھا، باب عرض المقعد علی المیت و عذاب القبر)

’’جب مومن کی روح اس کے بدن سے نکلتی ہے تو اس کے آگے آگے دو فرشتے جاتے ہیں ا س کو آسمان پر چڑھاتے ہیں۔ابوہریرۃ ص نے اس کی خوشبو اور مشک کا ذکر کیا اور کہا کہ آسمان والے ( فرشتے ) کہتے ہیں کوئی پاک روح ہے جو زمین سے آئی ہے۔ اﷲ تعالی تجھ پر رحمت کرے اور تیرے جسم پرجس کو تو نے آباد رکھا۔ پھر اس کو اس کے رب کے پاس لیجاتے ہیں وہ فرماتا ہے لے جاؤ اس کو آخری وقت تک کے لیے ۔اور جب کافر کی روح نکلتی ہے تو ابوہریرۃ ص نے اس پر لعنت کا ذکر کیا اور کہا کہ آسمان والے ( فرشتے ) کہتے ہیں کہ ناپاک روح ہے جو زمین سے آئی ہے پھر حکم ہوتا ہے لے جاؤ اس کو آخری وقت تک کے لیے‘‘۔

تویہ ہے وہ مقام کہ جہاں سارے کے سارے انسان مرنے کے بعدلے جائے جاتے ہیں۔اسماء رضی اﷲ کی بیان کردہ صلوٰۃ الکسوف کی حدیث، جس کے بارے میں اہلحدیثوں نے انکشاف فرمایا ہے کہ اس میں نبی صلی اﷲ علیہ و سلم نے پہلی دفعہ عذاب قبر کی تفصیلات سے آگاہ فرمایا،کا متن بھی اسی بات کو ثابت کرتا ہے۔

۔۔۔فَقَالَ انِّیْ قَدْ رَأےْتُکُمْ تُفْتَنُوْنَ فِی اْلقُبُوْرِکَفِتْنَۃِ الدَّجَّالِ ۔۔۔ فَکُنْتُ اَسْمَعُ رَسُوْلَ اﷲِ بَعْدَ ذٰلِکَ یَتَعَوَّذُ مِنْ عَذَابِ النَّارِ وَ عَذَابِ الْقَبْرِ

(مسلم:کتاب الکسوف، باب ذکرعذاب القبر فی صلاۃ الخسوف)

۔۔۔ (نبی ﷺ نے صلوٰۃ الکسوف ادا فرمائی )پھر فرمایا:’’ میں نے یقیناًتم کو دیکھا کہ تم آزمائے جاتے ہو قبروں میں دجال کے فتنہ کی طرح‘‘ اس کے بعدمیں رسول اﷲا کوجہنم کے عذاب اور قبر کے عذاب سے پناہ مانگتے ہوئے سناکرتی‘‘۔

نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے کیا دیکھا :

اِنَّہُ عُرِضَ عَلَیَّ کُلُّ شَیْءٍ تُوْلَجُوْنَہُ، فَعُرِضَتْ عَلَیَّ الْجَنَّۃُ، حَتّٰی لَوْ تَنَاوَلْتُ مِنْھَا قِطْفًا اَخَذْتُہُ اَوْ قَالَ تَنَاوَلْتُ مِنْھَا قِطْفًا فَقَصُرَتْ یَدِیْ عَنْہُ وَعُرِضَتْ عَلَیَّ النَّارُ فَرَأیْتُ فِیْھَا امْرَأَۃً مِّنْ بَنِیْ اِسْرَاءِیْلَ تُعَذَّبُ فِیْ ھِرَّۃٍ لَّھَا، رَبَطَتْھَا فَلَمْ تُطْعِمْھَا وَلَمْ تَدَعْھَا تَأْکُلُ مِنْ خَشَشِ الْاَرْضِ وَ رَأْیْتُ اَبَا ثُمَامَۃَ عَمْرَوبْنَ مَالِکٍ یَجُرُّ قُصْبَہُ فِیْ النَّارِ ۔۔۔

(مسلم:کتاب ا لکسوف، باب ما عرض علی النبیافی صلاۃ الکسوف من امرالجنۃ والنار)

’’ ۔۔۔ پھر فرمایا کہ جتنی بھی چیزیں جن میں تم جاؤگے میرے سامنے آئیں، اور جنت تو ایسی آئی کہ اگر میں اس میں سے ایک گچھا لینا چاہتا تو ضرور ہی لے لیتا؛ یا فرمایا کہ میں نے اس میں سے ایک گچھا لینا چاہا تو میرا ہاتھ نہ پہنچا۔اور جہنم میرے آگے آئی اور میں نے بنی اسرائیل کی ایک عورت کو دیکھا کہ ایک بلی کی وجہ سے اس کو عذاب ہورہا ہے کہ اس نے بلی کو باندھا ہوا تھا ،اسے نہ تو کھانے کو دیتی اور نہ اسے کھولتی کہ وہ زمین کے کیڑے مکوڑے کھالیتی۔اور جہنم میں ابو ثمامہ عمرو بن مالک کو دیکھا کہ جہنم میں اپنی آنتیں کھینچ رہا تھا۔۔۔۔۔۔

۔۔۔رَاَیْتُ جَھَنَّمَ یَحْطِمُ بَعْضُھَا بَعْضًا ۔۔۔وَ رَاَیْتُ عَمْرَوبْنَ عَامِرِ الْخُزَاعِیِّ یَجُرُّ قُصْبَہٗ فِی النَّارِ کاَنَ اَوَّلُ مَنْ سَیَّبَ السَّوَآءِبَ

)بخاری:کتاب التفسیر،تفسیرسورۃ المائدۃ، باب قولہ ماجعل اﷲ من بحیرۃ ولا سائبۃ ولاوصیلۃ ولاحام،عن عائشۃ وابی ھریرۃ رضی اﷲ(

’’ میں نے جہنم کو دیکھا ،اس کا ایک حصہ دوسرے کو تباہ کر رہا تھا اور اس میں عمرو بن عامرلحی الخزاعی کو دیکھا، وہ ا پنی آنتیں کھینچ رہا تھا۔یہ وہ پہلا شخص تھا جس نے بتوں کے نام پر جانورچھوڑنے کی رسم ایجاد کی‘‘۔

بتائیے کہ یہ کونسی قبریں تھیں کہ جن میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے عذاب ہو تے ہوئے دیکھ کر عذاب قبر سے پناہ مانگی؟

یہ زمین میں بنی ہوئی قبریں تھیں یایہ جہنم میں ملنے والے وہ مقام ہیں جن میں ایک مرنے والا قیامت تک حسب انجام عذاب پائے گا۔

نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے جب غزوہ بدر میں مرنے والوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:

فَھل وجدتم ما وعدربکم حقا ’’کیا تم نے پالیا اپنے رب کاوعدہ‘‘

تو عائشہ رضی اﷲ نے اس کی تشریح فرمائی، راوی کہتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ تھا کہ

حِیْنَ تَبَوّءُ وْا مَقَاعِدَھُمْ مِّنَ النَّارِ

)بخاری: کتاب المغازی،باب قتل ابی جہل، عن ھشام عن ابیہ()بخاری: کتاب المغازی،باب قتل ابی جہل، عن ھشام عن ابیہ(

’’ جب جہنم میں ان کو ٹھکانہ مل گیا ہوگا

نبی ﷺ کے اس فرمان سے اس بات کی یقینی وضاحت ہوگئی کہ وہ مقام جہاں مرنے والا قیامت تک عذاب یا راحت پاتاہے، وہی وہ مقام ہے جس کے لیے اﷲ تعالیٰ فرماتا ہی ثم اماتہ فاقبرہ۔ ’’ پھر اسے موت دی قبر دی ‘‘۔

جیسا کہ قرآن مجید میں مرتے ہی قومِ نوح وازواجِ نوح و لوط علیہماالسلام کے جہنم میں دا خلے، اورآل فرعون کے جہنم پر پیش کیے جانے کا ذکر فرمایا گیا ہے،تو وہی تسلسل رسول اﷲا کی حدیث میں بھی پایا جاتا ہے۔ جہنم (عالم برزخ) میں ہونے والے اس عذاب کو دیکھ کرنبی ﷺنے’’ عذاب قبر‘‘ سے پناہ مانگی ۔ یہی ہمارا ایمان ہے کہ عذاب قبر اس دنیاوی قبر میں نہیں بلکہ عالم برزخ میں ہوتا ہے۔ یہی تشریح ہے نبیﷺ کی اس حدیث کی جس میں یہودی عورت کے متعلق بتایا گیاکہ

’’یہ لوگ اس پر رو رہے ہیں اور اسے اس کی قبر میں عذاب دیا جارہا ہے‘‘

چونکہ یہ سب عالم برزخ میں ہوتا ہے اس لیے اﷲکی طرف سے دی جانے والی اس قبر کوبطور امتیاز اصطلا حاً’’ برزخی قبر‘‘ کہہ دیتے ہیں۔ صلوٰۃ الکسوف کی یہی وہ روایات ہیں جن کے متعلق خاکی جان دامانوی نے کہا تھا کہ ان میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے عذاب قبر کی تفصیلات بتائیں ۔ انہی روایات میں نبی ﷺکا یہ فرمان بھی نقل کیا گیا کہ:

’’ جتنی بھی چیزیں جن میں تم جاؤگے میرے سامنے آئیں، اور جنت تو ایسی آئی۔۔۔۔۔۔اور جہنم میرے آگے آئی ۔۔۔

لیکن نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے کسی طور بھی اس دنیاوی زمینی قبر کا ذکر نہیں فرمایا ،بلکہ جہنم(عالم برزخ) میں ہونے والے عذاب دیکھ کر فرمایا:

’’ اور میں نے یقیناًتم کو دیکھا کہ تم آزمائے جاتے ہو قبروں میں دجال کے فتنے کی طرح‘‘

اور پھر عذاب قبر سے پناہ مانگی

اسی طرح بخاری کی سمرہ بن جندب ؓ والی حدیث میں فرشتے رسول اﷲﷺسے کہتے ہیں :

یُفْعَلُ بِہٖ اِلٰیوْمِ الْقِیَامَۃِ ’’ یہ اس کے ساتھ قیامت تک ہوتا رہے گا‘‘

اوریہی بات نبی ﷺ صحابہؓ کو بتا تے ہیں ،لیکن یہ اہلحدیث اسے بھی عذاب قبر ماننے کو تیار نہیں ۔اب رسول اﷲﷺکی بات سے جن کے دلوں کو تکلیف پہنچ رہی ہو اورجوان کی کہی ہوئی بات کو ماننے کے لیے تیار نہیں، وہ کون ہیں؟

اب چاہے اپنا نام کوئی’’ حزب اﷲ‘‘ رکھے یا اپنے آپ کو اہلسنت و الجماعت کہلوائے، کوئی اپنا نام جماعت المسلمین (بھلے سے گول ۃ والی ’’جماعۃ المسلمین) رکھے یاتنظیم المسلمین،اپنے آپ کو توحیدی کہلوائے یا لاکھ اپنے آپ کو اہلحدیث کہتا پھرے،سب کے لیے اﷲ تعالیٰ کا ایک ہی فیصلہ ہے کہ

اوریہی بات نبی ﷺ صحابہؓ کو بتا تے ہیں ،لیکن یہ اہلحدیث اسے بھی عذاب قبر ماننے کو تیار نہیں ۔اب رسول اﷲﷺکی بات سے جن کے دلوں کو تکلیف پہنچ رہی ہو اورجوان کی کہی ہوئی بات کو ماننے کے لیے تیار نہیں، وہ کون ہیں؟

اب چاہے اپنا نام کوئی’’ حزب اﷲ‘‘ رکھے یا اپنے آپ کو اہلسنت و الجماعت کہلوائے، کوئی اپنا نام جماعت المسلمین (بھلے سے گول ۃ والی ’’جماعۃ المسلمین) رکھے یاتنظیم المسلمین،اپنے آپ کو توحیدی کہلوائے یا لاکھ اپنے آپ کو اہلحدیث کہتا پھرے،سب کے لیے اﷲ تعالیٰ کا ایک ہی فیصلہ ہے کہ

﴿فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤۡمِنُونَ حَتَّىٰ يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيۡنَهُمۡ ثُمَّ لَا يَجِدُواْ فِيٓ أَنفُسِهِمۡ حَرَجٗا مِّمَّا قَضَيۡتَ وَيُسَلِّمُواْ تَسۡلِيمٗا﴾

[النساء: 65]

’’ نہیں اے نبی (ﷺ) ! آپ کے رب کی قسم یہ کبھی مومن نہیں ہوسکتے جب تک کہ اپنے باہمی اختلافات میں یہ آپ کو اپنا فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں، پھر جو کچھ آپ فیصلہ کریں اس پر اپنے دلوں میں بھی کوئی تنگی محسوس نہ کریں، بلکہ خوشی سے مان لیں۔ ‘‘

قارئین / سامعین ، ہم عالم برزخ میں ملنے والے اس مقام جسے نبی ﷺ نے ’’ قبر ‘‘ کا نام دیا ہے اصطلاحاً ’’ برزخی قبر ‘‘ کہتے ہیں،اس پر یہ فرقہ پرست کہتے ہیں کہ یہ نام تم نے خود گھڑا ہے۔ اب ہم ان شاء اللہ اس بات کو واضح کریں گے کہ ان فرقوں میں پہلے سے اس قبر کا عقیدہ موجود ہے۔

برزخی قبر اور اکابرین مسالک

اکثر اہلحدیث اور دیوبندی بڑی شدومد کے ساتھ اس بات کو بیان کرتے ہیں کہ ’’ برزخی قبر ‘‘ کا کوئی وجود نہیں بلکہ یہ محض آپ لوگوں کی گھڑی ہوئی ایک بات ہے۔جدید فرقۂ اہلحدیث بنام جماعت المسلمین رجسٹرڈ والوں نے تو اس موضوع پر’’ارضی قبر و فرضی قبر‘‘ کے نام سے ایک کتاب بھی لکھ ڈالی ہے۔برزخی قبر کیا ہے، اس کی تفصیل اس سے قبل بیان کی جاچکی ہے۔ہم نے قرآن و حدیث کے بیان کے مطابقہی اس کو اصطلاحاً برزخی قبر کہا ہے ورنہ یہ ہماری اختراع نہیں ہے بلکہ اس حقیقت کا اعتراف تومسلکی اکابرین بھی کرتے ہیں۔ اس حوالے سے ہم کچھ اقتباسات پیش کرتے ہیں، ملاحظہ فرمائیے:

محمد اسماعیل سلفی الحدیث فرماتے ہیں :

’’ اس قسم کی اور بہت سی آیات ہیں جن میں اس عذاب اور برزخ کا ثبوت ملتا ہے اور احادیث میں تو یہ موضوع اس کثرت اور صراحت سے آیا ہے کہ کسی دیانتدار آدمی کے لیے اس سے انکار کی گنجائش نہیں۔ قبر سے مراد برزخ ہے اس میں مجرموں کو عذاب ہوگا۔وہ قبر کے گڑھے میں دفن ہوں یا اسے کوئی جانور کھا جائے وہ ہی اسکی قبر ہوگی جس صورت میں بھی وہ عذاب یا خوشی محسوس کرے گا۔ قبر سے مراد گڑھا ہی نہیں بلکہ موت کے بعد جو ٹھکانہ ملا ہے وہ قبر ہے اور وہیں انسان کو عذاب یا خوشی کا احساس ہوگا۔ اسکو عذاب قبر یا برزخی زندگی سے تعبیر کیا گیا ہے‘‘( تبلیغی نصاب،از محمد اسماعیل سلفی ، صفحہ۴۱)

فضل الرحمن کلیم اہلحدیث نے لکھا ہے :

’’ عام لوگ صرف زمین کے گڑھے اور مٹی کے ڈھیر کو قبر سمجھتے ہیں لیکن یہ بات غلط ہے ورنہ کہنا پڑیگا کہ جن لوگوں کو زمین میں دفن ہونا نصیب نہیں ہوا وہ قبروں میں نہیں گئے‘‘۔ ( دعا کرنے کا اسلامی تصور، از فضل الرحمن کلیم اہلحدیث، صفحہ ۱۰۹) ’’ الغرض بہت سی لاشوں کو وہ جگہ نہیں ملتی جس کو ہمارے عرف میں قبر کہا جاتاہے۔ تو کیا یہ لوگ قبروں میں نہیں پہنچے اور ان کی کوئی قبر نہیں؟ ایسا کہنا غلط ہے کیونکہ مرنے والے ہر شخص کی نئی منزل قبر ہوتی ہے اور ہر شخص قبر میں جاتا ہے۔بات دراصل یہ ہے کہ قرآن مجید حدیث پاک میں جب لفظ قبر استعمال کیا جاتا ہے تو اس سے مراد صرف زمین کا گڑھا اور مٹی کا ڈھیر نہیں ہوتا بلکہ قبر سے مراد وہ مقام ہے جہاں مرنے کے بعد انسان کو ٹہرنا نصیب ہوتا ہے لیکن اس مقام کی حقیقت انسان کی عقل و فکر سے باہر ہے۔اﷲ پاک نے اسکو انسان کے دنیوی حواس سے پوشیدہ رکھا ہے، چنانچہ جن لوگوں کو زمین میں دفن کیا جاتا ہے اور جن کی لاشیں دنیا میں ضائع ہوجاتی ہیں ان سب کو اﷲ پاک کسی جگہ ٹہراتا ہے اور جس جگہ ٹہراتا ہے وہ ہی ان کی قبر ہے کیونکہ قبر کے معنی زمین کا گڑھا اور مٹی کا ڈھیر نہیں بلکہ عربی زبان میں میت کے ٹہرنے کی جگہ کا نام قبرہے۔مفردات امام راغب میں ہے ’’ القبر مقر المیت‘‘ مرنے والے کی رہائش

گاہ کا نام قبر ہے۔اگر قبر سے مراد صرف زمین کا گڑھا اور مٹی کا ڈھیر ہو تو قرآن مجید کی بہت سی آیات کا مفہوم بیان کرنا مشکل ہوجائے گا‘‘۔(ایضاً،صفحہ۱۱۰)

شبلی نعمانی صاحب نے لکھا ہے :

’’لیکن اس لفظ ’’ قبر‘‘ سے درحقیقت مقصود وہ خاک کا تودہ نہیں جس کے نیچے کسی مردہ کی ہڈیاں پڑی رہتی ہیں بلکہ وہ عالم ہے جس میں یہ مناظر پیش آتے ہیں اور وہ ارواح و نفوس کی دنیا ہے ماد ی عنا صر کی نہیں ہے‘‘۔(سیرۃ النبی ا، از علامہ شبلی نعمانی وعلامہ سید سلیمان ندوی،جلد۴، صفحہ ۳۶۰) ’’ بعض حدیثوں میں آنحضرت صلعم سے ان مٹی کی قبروں میں عذاب کے مشاہدات و مسموعات کا تذکرہ ہے تو ظاہر ہے کہ مادی زبان و منظر میں ان قوموں کے نزدیک جو مردوں کو گاڑتی ہیں اس میت کی یادگار اس دنیا میں اس کے اس مٹی کے ڈھیر کے سوا اور کیا ہے جس کی طرف اشارہ کیا جاسکے‘‘۔ ( ایضاً، صفحہ ۳۶۲)

ادریس کاندھلوی صاحب کا عقیدہ :

’’قبر میں مومنوں اور کافروں سے منکر و نکیر کا سوال حق ہے۔قبر سے وہ گڑھا مرادنہیں جس میں مردہ جسم دفن کیا جاتا ہے بلکہ عالم برزخ مراد ہے‘‘ ۔( عقائد الاسلام ،از محمد ادریس کاندھلوی ،حصہ۱،صفحہ۵۸)

عبد الحق دہلوی صاحب فرماتے ہیں :

’’ان احادیث میں،اور جن میں کہ قبر کے اندر ثواب وعذاب ثابت ہے کچھ مخالفت نہیں،کیونکہ جب ثابت ہوا کہ قبر سے خاص وہ گڑھا مراد نہیں کہ جس میں جسم دفن کیا جاتا ہے بلکہ عالم برزخ مراد ہے۔خواہ کوئی پانی میں غرق ہو خواہ آگ میں جل جاوے تو اس کی وہی قبر ہے‘‘۔ (حقانی عقائد الاسلام ،از عبد الحق دہلوی،صفحہ۱۶۹)

اشرف علی تھانوی صاحب بیان کر گئے ہیں :

’’ کیا معنی کہ قبر سے مراد یہ محسوس گڑھا نہیں ہے۔کیونکہ کسی کو بھیڑیا کھا گیا،یا کوئی سمندر میں غرق ہوگیا یوں اس صورت میں چونکہ وہ زمین میں دفن نہیں ہوا اس لیے اس کو چاہیے کہ قبر کا عذاب نہ ہو،لیکن اب اشکال نہ رہا۔کیونکہ جو عالم مثال ہے وہیں اس کو عذاب قبر بھی ہوجائے گا۔ اشکال تو جب ہوتا جب قبر سے مراد یہ گڑھا ہوتا جس میں لاش دفن کی جاتی ہے ۔حالانکہ اصطلاح شریعت میں قبر گڑھے کو کہتے ہی نہیں بلکہ عالم مثال کو کہتے ہیں قبر‘‘۔ (اشرف الجواب ،از اشرف علی تھانوی ،صفحہ ۱۵۸)

اشاعت التوحید و السنۃ دیوبندی کا عقیدہ :

’’ نیز اگر قبر کے معنی گڑھے کے کریں تو بہت سی احادیث صحیحہ کا انکار لازم آئے گا یا کہنا پڑے گا کہ کافر اور مرتد بھی عذاب قبر سے محفوظ ہیں۔لاحول ولاقوۃ الا باﷲ ۔۔۔ اس تقریر سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ قبر اس گڑھے کا نام نہیں جسے لوگ اپنے ہاتھوں سے کسیوں کے ذریعے کھودکر اس میں میت کو دفن کرتے ہیں بلکہ قبر کسی اور چیز کا نام ہے جہاں جزا و سزا ہوتی

ہے۔ہاں اس گڑھے کو عرفی قبر کہتے ہیں‘‘۔(الاقول المرضیہ فی الاحوال البرزخیہ،از محمد حسین نیلوی اشاعتی،صفحہ ۸۵)

بریلوی عالم شبیر حسن چشتی نے لکھا:

’’ قبر نام صرف اس گڑھے کا ہی نہیں ہے جس میں جسمِ میت دفن کردیا جاتا ہے۔ بلکہ قبر اس عالم کا نام ہے جہاں مرنے کے بعد انسان کا قیام قیامت تک رہے گا۔ اس لیے کوئی میت خواہ قبر میں دفن کردی جائے یا پانی میں غرق کردی جائے یا آگ میں جلا کر اس کے اجزاء منتشر کردئیے جائیں یا صلیب پر لٹکادیا جائے۔ ہم خواہ اپنی آنکھوں سے عذاب یا ثواب برزخ کا مشاہدہ نہ کرسکیں مگر حقیقت یہ ہے کہ میت مرنے کے بعد خواہ کسی حالت میں کیوں نہ ہو۔ عذاب ثواب میں ضرور مبتلا ہوگی۔ جب ہم اپنے عالم شہادت کی بہت سی چیزیں اپنی آنکھوں سے مشاہدہ نہیں کرسکتے اور مشاہدہ نہ کرسکنے کے باوجود اس کے وجود کے قائل ہیں تو برزخ تو ایک عالم ہی دوسرا ہے۔ اس کا حال اگر ہمیں نظر نہ آئے تو اس سے یہ لازم نہیں کہ ہم اس عالم کے وجود سے ہی سراسر انکار کردیں یا اس کے عذاب و ثواب سے منکر بن جائیں‘‘۔(موت کے بعد کیا ہوگا؟ از علامہ شبیر حسن چشتی بریلوی، صفحہ۹۲،۹۳)

اہل تشیع عالم آیت اللہ العظمیٰ سید عبد الحسین کا بیان:

’’ مرحوم علامہ مجلسی فرمایا کرتے تھے احادیث کی ایک قسم ہے جس میں قبر کا نام لیا گیا ہے وہاں قبر سے مراد عالم برزخ ہے نہ کہ قبر جسمانی۔ اور یہ کہ جو روایت میں آیا ہے کہ خداوند عالم قبر مومن کو وسعت دیتا ہے اس سے برزخ کا عالم روحانی مراد ہے۔ قبر کی تاریکی و روشنی جسمانی نہیں ہے‘‘۔ (برزخ،ازآیت اﷲ العظمیٰ سیدعبد الحسین اہل تشیع،صفحہ ۱۱۶)

مروجہ مسالک کے کچھ افراد کی کتابوں کے چنداقباسات صرف حوالتاً پیش کیے گئے ہیں تاکہ یہ بات واضح ہوجائے کہ ’’برزخی قبر‘‘ ہماری اختراع نہیں بلکہ یہ مسلک پرست بھی اس کے قائل ہیں ورنہ ہماری ساری بحث تو محض کتاب اﷲ کی بنیاد پر ہے۔

جوتوں کی چاپ سننے والی روایت

قرآن و حدیث کا واضح بیان کہ مرنے کے بعد ملنے والے عذاب قبر یا راحت قبر کا اس دنیا، اس مٹی کے جسم سے کوئی تعلق نہیں، جس کی تفصیل ہم اپنی پوسٹس میں پیش کر چکے ہیں لیکن مسلک پرست اپنے باطل عقیدے کے لیے بخاری کی یہ حدیث برھان قاطعہ کے طور پر پیش کرتے ہیں:

عَنِ النَّبِیِّ ا قَالَ الْعَبْدُ اِذَا وُضِعَ فِیْ قَبْرِہٖ وَ تُوُلِّیَ وَ ذَھَبَ اَصْحَابُہٗ حَتّٰی اَنَّہٗ لَیَسْمَعُ قَرْعَ نِعَالِھِمْ اَتَاہُ مَلَکَانِ فَاَقْعَدَاہُ فَیَقُوْلاَنِ لَہٗ مَاکُنْتَ تَقُوْلُ فِیْ ھٰذَا الرَّجُلِ مُحَمَّدٍ فَیَقُوْلُ اَشْھَدُ اَنَّہٗ عَبْدُاﷲِ وَ رَسُوْلُہٗ فَیُقَالُ انْظُرْ اِلیٰ مَقْعَدِکَ مِنَ النَّارِ اَبْدَلَکَ اﷲُ بِہٖ مَقْعَدًا مِّنَ الْجَنَّۃِ قَالَ النِّبِیُّ ا فَیَرَاھُمَا جَمِیْعًا وَّ اَمَّا الْکَافِرُ وَالْمُنَافِقُ فَیْقَالُ لاَ دَرَیْتَ وَ لاَ تَلَیْتَ ثُمَّ یُضْرَبُ بِمِطْرَقَۃٍ مِّنْ حَدِیْدٍ ضَرْبَۃً بَیْنَ اُذُنَیْہِ فَیُصِیْحُ صَیْحَۃً یَّسْمَعُھَا مَنْ یَّلِیْہِ اِلاَّ الثَّقَلَیْنِ

 

(بخاری:کتاب الجنائز، باب المیت یسمع خفق النعال)

’’نبی ﷺ نے فرمایا: بندہ جب اپنی قبر میں رکھ دیا گیا اور اس کا معاملہ اختتام کو پہنچ گیا اور اس کے ساتھی چلے گئے۔ یہاں تک کہ وہ یقینی طور ان(فرشتوں) کی جوتیوں کی آواز سنتا ہے کہ دو فرشتے آجاتے ہیں اس کو بٹھاتے ہیں اور وہ دونوں اس سے کہتے ہیں کہ تو کیا کہتا تھا اس شخص محمد ﷺکے بارے میں؟ وہ کہتا ہے کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ ﷲ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ تو اس سے کہا جاتا ہے کہ تو جہنم میں اپنے ٹھکانے کی طرف دیکھ ﷲ تعالی نے اس کے بدلہ میں تجھے جنت کا ٹھکانہ عطا کیا ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا کہ پھر وہ ان دونوں چیزوں کو دیکھتا ہے اور کافر یا منافق کہتا ہے کہ مجھے کچھ نہیں معلوم، میں تو وہی کہتا تھا جو لوگ کہتے تھے، اس سے کہا جاتا ہے کہ تو نے سچی بات نہ جانی اور نہ جاننے والوں کی پیروی کی پھر اس کے دونوں کانوں کے درمیان لوہے کے ہتھوڑے سے ایسی ضرب لگائی جاتی ہے اور وہ چیخ مارتا ہے کہ جن و انس کے علاوہ ہر کوئی سنتا ہے‘‘۔

دراصل یہ حدیث صرف اس حد تک بیان کرتی ہے کہ مرنے کے بعد انسان سے سوال و جواب اور اس کی سزا و جزا کس قدر جلد شروع ہو جاتی ہے۔ رہا ان کا یہ کہنا کہ یہ زمینی قبر میں عذاب قبر پر دلیل ہے بالکل غلط بات ہے، ورنہ انہیں چند باتوں کا جواب دینا ہوگا۔

۱) کیا مرنے کے بعد سوال و جواب صرف انہی سے ہوتے ہیں جو اس زمینی قبر میں دفنائے جاتے ہیں؟

2) کیا مٹی سے بنا یہ مردہ جسم سنتا اور بولتا ہے؟

 

ان معاملات کے لئے ہم کتاب اللہ سے رجوع کرتے ہیں :

کیا مرنے کے بعد سوال و جواب صرف انہی سے ہوتے ہیں جو اس زمینی قبر میں دفنائے جاتے ہیں؟

ایک طویل حدیث میں نبیﷺ نے عذاب قبر کا آنکھوں دیکھا حال بیان کیا اور فرمایا:

۔ ۔ ۔ ۔ وَالنَّارَ وَلَقَدْ اُوْحِیَ اِلَیَّ اَنَّکُمْ تُفْتَنُوْنَ فِی الْقُبُوْرِ مِثْلَ اَوْ قَرِیْبًامِّنْ فِتْنَۃِ الدَّجَّالِ لَآ اَدْرِیْ اَیَّ ذٰلِکَ قَالَتْ اَسْمَآءُ یُؤْتٰی اَحَدُکُمْ فَیُقَالُ لَہٗ مَاعِلْمُکَ بِھٰذَالرَّجُلِ فَاَمّا المُؤْمِنُ اَوِ الْمُوْقِنُ لَآ اَدْرِیْ اَیَّ ذٰلِکَ قَالَتْ اَسْمَآءُ فَیَقُوْلُ ھُوَ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اﷲ جَآءَ نَا بِالْبَیِّنَاتِ وَالْھُدٰی فَاَجَبْنَا وَ اٰمَنَّا وَاتَّبَعْنَا فَیُقَالُ نَمْ صَالِحًا فَقَدْ عَلِمْنَااِنْ کُنْتَ لَمُؤْمِنًا وَ اَمَّا الْمُنَافِقُ اَوِ الْمُرْتَابُ لَآاَدْرِیْ اَیَّ ذٰلِکَ قَالَتْ اَسْمَآءُ فَیَقُوْلُ لَآاَدْرِیْ سَمِعْتُ النَّاسَ یَقُوْلُوْنَ شَیْءًا فَقُلْتُہٗ

(بخاری:کتاب الوضوء۔باب من لم یتوضا الا من الغشی المثقل)

’’صلاۃ الکسوف والی اسماء بنت ابو بکر صدیق کی طویل حدیث کا ایک حصہ ۔ ۔ ۔ ۔ ( نبی ﷺ نے فرمایا ): اور میری طرف وحی کی گئی کہ تم اپنی قبروں میں آزمائے جاؤگے دجال کے فتنے کی طرح یا اس کے قریب قریب۔۔۔ یُؤْتٰی اَحَدُکُمْ فَیُقَالُ تم میں سے ہر ایک کو لایا جائے گا اور اس سے کہا جائے گا کہ اس مرد کے متعلق کیا علم رکھتے ہو۔ مومن یا موقن(کہتی ہیں) مجھے یاد نہیں، کہے

گا وہ ﷲ کے رسول محمدﷺ ہیں جو ہمارے پاس کھلی نشانیاں اور ہدایت لے کر آئے ،ہم نے ان کی بات مانی اور ایمان لائے اور پیروی کی۔ اس سے کہا جائے گا سو جا ،اس لیے کہ ہم نے جان لیا ہے کہ تو مومن ہے۔ لیکن منافق یا شک کرنے والا کہے گا کہ مجھے نہیں معلوم، میں نے تو جو لوگوں کو کہتے ہوئے سنا وہی میں نے کہا‘‘۔

واضح ہوا کہ سوال ہر ایک سے ہوتا ہے کوئی اس سے نہیں بچتا اور سوال وہی ہے جو پہلی اور دوسری حدیث میں بیان کیا گیا ہے کہ

’’ تم اس شخص ( محمد ﷺ ) بارے میں کیا کہتے ہو‘‘ یعنی دونوں احادیث ایک ہی معاملہ بیان کر رہی ہیں۔ عذاب قبر کے بارے میں اپنے مضمون ’’عقیدہ عذاب قبر ‘‘ میں ہم نے قرآن و حدیث دلائل پیش کردئیے ہیں کہ سوال و جواب روح سے ہوتا ہے اور ہر ایک سے ہوتا ہے جیسا کہ فرمایا گیا : تم میں سے ہر ایک کولایا جائے گا اور اس سے کہا جائے گا کہ اس مرد کے متعلق کیا علم رکھتے ہو۔

میت کا لیکر جانا ،اٹھانا بٹھانا اس زمین کا معاملہ نہیں ، یہ سوال اس سے بھی ہوگا جو قبر میں دفنایا گیا ہو اور اس سے بھی جس کا جسم جل کر راکھ ہو گیا ہو۔ عالم برزخ میں سب کو اٹھایا بٹھایا جائے گا اور ، پھر جو اس حدیث میں کہا گیا کہ ’’ اور وہ چیخ مارتا ہے کہ جن و انس کے علاوہ ہر کوئی سنتا ہے ‘‘، یہ بھی بالکل صحیح بات ہے عالم برزخ میں زندہ جن و انس تو ہوتے ہی نہیں کہ وہ اس چیخ کو سن سکیں۔

کیا مٹی سے بنا یہ مردہ جسم سنتا اور بولتا ہے؟

اگر یہ فرقہ پرست کہتے ہیں کہ نہیں یہ یہاں ہی کا معاملہ ہے اس زمین میں اسی جسم سے حساب لیا جاتا ہے تو پھر سوال یہ اٹھتا ہے کہ قرآن نے واضح انداز میں فرما دیا کہ مردے نہیں سنتے اس کا کیا ہوگا ؟ کیا قرآن کا انکار کردیا جائے !

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

﴿إِنَّمَا يَسْتَجِيبُ الَّذِينَ يَسْمَعُونَ وَالْمَوْتَى يَبْعَثُهُمُ اللَّهُ ثُمَّ إِلَيْهِ يُرْجَعُونَ ﴾

[الأنعام: 36]

’’بےشک قبول تو وہی کرتے ہیں جو سنتے ہیں اور رہے مردے، اللہ انہیں زندہ کر کے اٹھائے گا پھر سب اللہ ہی کی طرف لائے جائیں گے۔

وَالَّذِينَ تَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ مَا يَمْلِكُونَ مِنْ قِطْمِيرٍ ۝إِنْ تَدْعُوهُمْ لَا يَسْمَعُوا دُعَاءَكُمْ وَلَوْ سَمِعُوا مَا اسْتَجَابُوا لَكُمْ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكْفُرُونَ بِشِرْكِكُمْ وَلَا يُنَبِّئُكَ مِثْلُ خَبِيرٍ﴾

[فاطر: 13-14]

’’ اور لوگ جنہیں پکارتے ہیں اللہ کے علاوہ ( وہ ) ایک قطمیر ( کھجور کی گھٹلی پر چڑھا ہوا غلاف ) کے بھی مالک نہیں، اگر تم انہیں پکارو یہ تمہاری پکار نہیں سنتے، اور اگر کہیں سن بھی لیں تو تمہارے کسی کام نہیں آ سکتے، اور قیامت کے دن تمہارے شرک کا انکار کریں گے، اور تمہیں اس کی خبر دینے والا کوئی نہیں سوا ( اللہ ) سب کچھ جاننے والے کے۔‘‘

اللہ تعالیٰ نے اس فعل کو گمراہ ترین فعل فرمایا :

﴿وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّنْ يَدْعُو مِنْ دُونِ اللَّهِ مَنْ لَا يَسْتَجِيبُ لَهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَهُمْ عَنْ دُعَائِهِمْ غَافِلُونَ﴾

[الأحقاف: 5]

’’اس شخص سے بڑھ کر گمراہ کون ہو سکتا ہے جو اللہ کے سوا ان لوگوں کو پکارتا ہے جو قیامت تک اس کی داد رسی نہیں کر سکتے۔ وہ تو ان کی پکار ہی سے غافل ہیں۔‘‘

﴿وَلَوْ أَنَّنَا نَزَّلْنَا إِلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةَ وَكَلَّمَهُمُ الْمَوْتَى وَحَشَرْنَا عَلَيْهِمْ كُلَّ شَيْءٍ قُبُلًا مَا كَانُوا لِيُؤْمِنُوا إِلَّا أَنْ يَشَاءَ اللَّهُ وَلَكِنَّ أَكْثَرَهُمْ يَجْهَلُونَ﴾ [الأنعام: 111]

’’اور اگر ہم ان کے پاس فرشتوں کو بھیج دیتے اور ان سے مردے باتیں کرنے لگتے اور ہم تمام موجودات کو ان کے پاس ان کی آنکھوں کے روبرو ﻻ کر جمع کر دیتے ہیں تب بھی یہ لوگ ہرگز ایمان نہ ﻻتے ہاں اگر اللہ ہی چاہے تو اور بات ہے لیکن ان میں زیاده لوگ جہالت کی باتیں کرتے ہیں۔‘

﴿وَلَوْ أَنَّ قُرْآنًا سُيِّرَتْ بِهِ الْجِبَالُ أَوْ قُطِّعَتْ بِهِ الْأَرْضُ أَوْ كُلِّمَ بِهِ الْمَوْتَى بَلْ لِلَّهِ الْأَمْرُ جَمِيعًا أَفَلَمْ يَيْأَسِ الَّذِينَ آمَنُوا أَنْ لَوْ يَشَاءُ اللَّهُ لَهَدَى النَّاسَ جَمِيعًا وَلَا يَزَالُ الَّذِينَ كَفَرُوا تُصِيبُهُمْ بِمَا صَنَعُوا قَارِعَةٌ أَوْ تَحُلُّ قَرِيبًا مِنْ دَارِهِمْ حَتَّى يَأْتِيَ وَعْدُ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ لَا يُخْلِفُ الْمِيعَادَ﴾ [الرعد: 31]

’’اگر (بالفرض) کسی قرآن (آسمانی کتاب) کے ذریعے پہاڑ چلا دیئے جاتے یا زمین ٹکڑے ٹکڑے کر دی جاتی یا مردوں سے باتیں کرا دی جاتیں (پھر بھی وه ایمان نہ ﻻتے)، بات یہ ہے کہ سب کام اللہ کے ہاتھ میں ہے، تو کیا ایمان والوں کو اس بات پر دل جمعی نہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو تمام لوگوں کو ہدایت دے دے۔ کفار کو تو ان کے کفر کے بدلے ہمیشہ ہی کوئی نہ کوئی سخت سزا پہنچتی رہے گی یا ان کے مکانوں کے قریب نازل ہوتی رہے گی تاوقتیکہ وعدہٴ الٰہی آپہنچے۔ یقیناً اللہ تعالیٰ وعده خلافی نہیں کرتا۔

سننے اور بولنے کے بعد دیکھیں قرآن بتاتا ہے کہ مردہ کسی قسم کا کوئی شعور ہی نہیں رکھتا :

﴿أَوْ كَالَّذِي مَرَّ عَلَى قَرْيَةٍ وَهِيَ خَاوِيَةٌ عَلَى عُرُوشِهَا قَالَ أَنَّى يُحْيِي هَذِهِ اللَّهُ بَعْدَ مَوْتِهَا فَأَمَاتَهُ اللَّهُ مِائَةَ عَامٍ ثُمَّ بَعَثَهُ قَالَ كَمْ لَبِثْتَ قَالَ لَبِثْتُ يَوْمًا أَوْ بَعْضَ يَوْمٍ قَالَ بَلْ لَبِثْتَ مِائَةَ عَامٍ فَانْظُرْ إِلَى طَعَامِكَ وَشَرَابِكَ لَمْ يَتَسَنَّهْ وَانْظُرْ إِلَى حِمَارِكَ وَلِنَجْعَلَكَ آيَةً لِلنَّاسِ وَانْظُرْ إِلَى الْعِظَامِ كَيْفَ نُنْشِزُهَا ثُمَّ نَكْسُوهَا لَحْمًا فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُ قَالَ أَعْلَمُ أَنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ﴾ [البقرة: 259]

’’یا اس شخص کے مانند کہ جس کا گزر اس بستی پر ہوا جو چھت کے بل اوندھی پڑی ہوئی تھی، وه کہنے لگا اس کی موت کے بعد اللہ تعالیٰ اسے کس طرح زنده کرے گا؟ تو اللہ تعالی نے اسے سو سال کے لئے موت دے دی، پھر اسے اٹھایا، پوچھا کتنی مدت تجھ پر گزری؟ کہنے لگا ایک دن یا دن کا کچھ حصہ، فرمایا بلکہ تو سو سال تک رہا، پھر اب تو اپنے کھانے پینے کو دیکھ کہ بالکل خراب نہیں ہوا اور اپنے گدھے کو بھی دیکھ، ہم تجھے لوگوں کے لئے ایک نشانی بناتے ہیں تو دیکھ کہ ہم ہڈیوں کو کس طرح اٹھاتے ہیں، پھر ان پر گوشت چڑھاتے ہیں، جب یہ سب ظاہر ہو چکا تو کہنے لگا میں جانتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘

سورہ نحل میں فرمایا :

﴿أَمْوَاتٌ غَيْرُ أَحْيَاءٍ وَمَا يَشْعُرُونَ أَيَّانَ يُبْعَثُونَ﴾

[النحل: 21]

’’مردہ ہیں، زندگی کی رمق نہیں، نہیں شعور رکھتے کہ کب اٹھائے جائیں گے‘‘۔

معلوم ہوا کہ مردہ جسم نہ سنتا ہے ، نہ بولتا ہے اور نہ ہی کسی قسم کا شعور رکھتا ہے تو اس سے سوال و جواب کیسے ؟اسے جزا و عذاب دینا کیسا ؟ یہ سارا معاملہ عالم برزخ کا ہے جہاں ہر ایک کی روح جاتی ہے اور اسے ایک جسم دیا جاتا ہے اسی مجموعے سے سوال و جواب ہوتا اور اسی کو راحت قبر یا عذاب قبر کا نام دیا جاتا ہے۔ہندو، کمیونسٹ، سوشلسٹ اپنے مردے جلا دیتے ہیں؟ پارسی مجوسی اپنے مردے پرندوں کو کھلا دیتے ہیں سوچیں اگر اسی زمین پر سوال و جواب اور عذاب و راحت ملتا ہے تو یہ سب تو اس سے بچ گئے، مارے تو وہ بیچارے گئے جو اپنے مردے اس زمین میں دفن کرتے ہیں۔

کہ مسلک پرست اس حدیث کو کس طرح برہان قاطعہ کے طور پیش کرتے ہیں لیکن حقیقت کیا ہے وہ آپ کو پچھلی پوسٹ میں اندازہ ہوگیا ہوگا۔ اس پوسٹ میں ہم آپ کو یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ حقیقت میں ان کا قرآن و حدیث سے کتنا تعلق ہے اور ان کے کتنے منہ ہیں۔قرآن و حدیث مردے کے سماع کی مکمل نفی کرتے ہیں لیکن یہ مسلک پرست جوتیوں کی چاپ سننے کی جو توجیہات اس موقف کے خلاف پیش کرتے ہیں ،وہ اس طرح ہیں:

’’۔۔۔ان آیات مذکورہ کے سوا اور بھی آیات ہیں جن سے مردوں کا عدم سماع ثابت ہوتاہے اور بجز حدیث قرع نعال سے مردوں کا ایک خاص وقت میں سننا ثابت ہوتا ہے جس وقت مردہ قبر میں

نکیرین کے سوال کے جواب دینے کے لیے زندہ کردیا جاتا ہے اور اس وقت مردہ مردہ نہیں رہتا‘‘۔ (فتاوئے نذیریہ،ازمیاں نذیر حسین، بانی فرقہ اہلحدیث، حصہ اوّل، صفحہ ۶۷۰)

’’البتہ اس حدیث کے جواب میں اشکال واقع ہوتا ہے کہ مردہ واپس جانے والوں کی جوتیوں کی آواز بھی سنتا ہے تو اس کو بھی اوّل وقت کے ساتھ مخصوص کیا گیا ہے کہ جب منکر و نکیر قبر میں سوال کرنے کے لیے آتے ہیں اس وقت روح لوٹائی جاتی ہے اس وقت سن بھی لیتا ہے‘‘۔

( ایضاً صفحہ ۶۷۲)

دوسرا اہلحدیث مفتی کہتا ہے:

’’سوال و جواب کے وقت روح کو بھی قبر کی طرف لوٹایا جاتا ہے‘‘۔ (عقیدہ عذاب قبر،از ابو جابر عبد اﷲ دامانوی ، صفحہ ۲۷)

عالم فرقہ عبد الرحمن کیلانی فرماتے ہیں:

’’اب مشکل یہ ہے کہ مردہ کے جوتوں کی چاپ سننے کا واقعہ بخاری کے علاوہ بھی دوسری کتب صحاح میں جہاں بھی مذکور ہے تو ساتھ ہی منکر نکیر کے آنے اور سوال و جواب کا ذکر شروع ہوجاتا ہے۔گویا منکر و نکیر کے آنے سے تھوڑی دیر پہلے اس کی روح علیّن یا سجّین سے لوٹا کر اسے ہوش میں لایا جاتا ہے،تاکہ سوالوں کا جواب دے سکے‘‘۔ ( روح،عذاب قبر اور سماع موتیٰ، از عبد الرحمن کیلانی، صفحہ ۵۱)

اس مسئلے پر اہل تشیع بھی ان کے ہم عقیدہ ہیں:

’’۔۔۔ احادیث معتبرہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ قبر میں سوال و جواب اور فشارِ قبر اسی بدن اصلی سے جو دنیا میں تھا متعلق ہوگا اور روح تمام بدن یا جسم کے کچھ حصے میں ( یعنی سینے تک، یا کمر تک جیسا کہ احادیث میں ہے) پلٹائی جاتی ہے تاکہ میت کو خطاب سوال کے سمجھنے اور جواب دینے پر قدرت حاصل ہوجائے‘‘۔ (معاد،ازآیت اﷲ عبد الحسین، صفحہ ۴۰،۴۱)

بحیثیت ایک مومن ہمارا عقیدہ ہے کہ اﷲ کے سچے رسول محمدﷺ کسی صورت میں بھی قرآن کے بیان کردہ عقیدے کے انکار میں کوئی بات کہہ ہی نہیں سکتے تھے۔ لیکن بانی فرقہ اہلحدیث ، فرماتے ہیں:

’’ان آیات مذکورہ کے سوا اور بھی آیات ہیں جن سے مردوں کا عدم سماع ثابت ہوتاہے اور بجز حدیث قرع نعال سے مردوں کا ایک خاص وقت میں سننا ثابت ہوتا ہے‘‘

غورکیجیے !خود تسلیم کرتے ہیں کہ قرآن سے مردے کا عدم سماع ثابت ہے۔ جب قرآن سے مردے کا عدم سماع ثابت ہے تو پھر کیسے یہ عقیدہ رکھا جا سکتا ہے کہ نبیﷺ کی حدیث سے مردے کا سماع ثابت ہو جائے گا! سوال جواب ،اٹھانا بٹھانا یہ سارا معاملہ عالم برزخ کا ہے، اس زمینی قبر سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔قرآن و حدیث کے دلائل پر تو ان کا دل مطمئن ہوتا ہی نہیں ،لیکن کیا اپنے ہی فرقے کے ’’عالم‘‘ کے اس اعترافِ حقیقت کو بھی جھٹلا دیں گے۔ ملاحظہ فرمایئے:

’’میت کے لئے قدموں کی آواز اپنے اندر یہ عبرت ناک حکمت لئے ہوئے ہے کہ ہائے اس بے چارے کو یکہ و تنہا چھوڑ کر سب چلے گئے ۔۔۔اتنا خیال رہنا چاہیے کہ اس سماع کا مردے کے دفن شدہ جسم سے کوئی تعلق نہیں جیسا کہ اکثر اہل دیوبند کاخیال ہے۔ ورنہ اسکو بٹھانے، قبر کو کشادہ کرنے یا پسلیوں کے آرپار ہونے ننانوے سانپوں کے ڈسنے اور عذاب و ثواب کے دیگر احوال کو بھی جسمانی حقیقت پر معمول کرنا پڑیگا مگر اس کا قائل ہونا مشکل ہے۔ روزمرہ کا تجربہ اسکی تغلیط کرتا ہے جیسا کہ آگے چل کر واضح ہوگا‘‘۔( قبر پرستی اور سماع موتیٰ،از محمد قاسم خواجہ،صفحہ ۷۲)

’’جہاں تک قبر میں فرشتوں کے آنے، روح کو لوٹانے ،میت کو بٹھانے ،سوال و جواب کرنے، قبر کو کشادہ یا تنگ یا عذاب و ثواب کا تعلق ہے، تو گذارش ہے کہ یہاں قبر سے مراد یہ مٹی کی قبر نہیں ،یہ کوئی اور جہاں ہے جسے آپ عالم ارواح یا عالم مثال یا عالم برزخ کہہ سکتے ہیں‘‘۔

(کراچی کا عثمانی مذہب، از محمد قاسم خواجہ ، اہلحدیث صفحہ ۸۷)

’’یہ ساری مصیبت اس لئے کھڑی ہوئی ہے کہ برزخی احوال کے بارے میں بیان شدہ احادیث کو دنیوی احوال پر منطبق کر لیا گیا ہے‘‘۔ (ایضاً صفحہ ۸۹)

اﷲ تعالیٰ نے کس انداز میں خود انہی کے قلم سے قرآن و حدیث کی سچی بات نکلوادی، لیکن یہ ان کے چہرے کا دوسرارخ ہے۔

اپنی دوسری کتاب میں یہی موصوف فتعاد روحہ فی جسد اور انہ یسمع قرع نعالھم کی روایات کو بنیاد بناتے ہوئے اپنا دوسرا رخ دکھاتے ہیں:

’’۔۔۔ یہ دونوں حدیثیں یکساں طور پر بظاہر قبر کی زندگی پر دلالت کرتی ہیں۔‘‘(کراچی کا عثمانی مذہب:صفحہ ۴۶)

نبی ﷺکے خچرکے بدکنے والی روایت کی بنیاد پر لکھتے ہیں:

’’اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان قبروں کے بیچ میں ضرور کچھ ہوتا ہے۔۔۔‘‘(ایضاًصفحہ ۵۶)

مزید فرماتے ہیں:

’’ ابو سعید خدریؓ کی جنازہ والی روایت مذکورہ بالاسے یہ بھی معلوم ہوا کہ مٹی کی قبر کے ساتھ میت کا گہرا تعلق ہے‘‘۔( ایضاًصفحہ ۵۷)

دو ٹہنیوں والی حدیث کی بناء پر انہوں نے استخراج کیا ہے کہ

’’ اس سے معلوم ہوا کہ حضورؐ نے مٹی کی قبروں سے عذاب محسوس فرمایا اور تخفیف کے لیے مٹی کی قبروں پر ہی شاخیں گاڑدیں‘‘۔ (ایضاً)

ایک اور روایت لکھ کر کہتے ہیں:

’’ معلوم ہوا زمین کو جزا و سزا میں کچھ دخل ہے‘‘۔(ایضاً)

بریلویانہ انداز میں مزید خامہ فرسائی فرماتے ہیں

’’ میں پوچھتا ہوں قبرستان میں کچھ نہیں ہوتا تو وہاں جاکر دعا اور استغفار کا کیا مطلب؟‘‘ (صفحہ ۵۸)

ع بدلتا ہے رنگ آسمان کیسے کیسے!

ملاحظہ فرمائی ان کی ذو الوجہین شخصیت! کیسے دورخے ہیں! زبان کی ایک کروٹ سے کچھ کہتے ہیں اوردوسری سے کچھ! ایک طرف جوتیوں کی چاپ سننے والی روایت کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہاں قبر سے مراد مٹی کی قبر نہیں،یہ کوئی اور جہاں ہے ۔دوسری طرف کہتے ہیں کہ’’ یہ قبر میں زندگی پر دلالت کرتی ہے‘‘!ایک طرف کہتے ہیں :’’ معلوم ہوا زمین کو جزا و سزا میں کچھ دخل ہے‘‘، دوسری طرف ان کا بیان ہے کہ ’’یہ ساری مصیبت اس لئے کھڑی ہوئی ہے کہ برزخی احوال کے بارے میں بیان شدہ احادیث کو دنیوی احوال پر منطبق کر لیا گیا ہے‘‘۔ اس موقع پر قرآن کی یہ آیت ان پرپوری طرح صادق آتی ہے کہ

﴿يُخَادِعُونَ اللَّهَ وَالَّذِينَ آمَنُوا وَمَا يَخْدَعُونَ إِلَّا أَنْفُسَهُمْ وَمَا يَشْعُرُونَ﴾

[البقرة: 9]

’’اللہ کو اور ایمان والوں کو دھوکا دیتے ہیں، حالا کہ وہ خود اپنے آپ کو دھوکہ دے رہے ہیں‘‘

دراصل پہلے ڈاکٹر عثمانی مرحوم کے قرآن و حدیث پر مبنی دلائل کو رد کرنا تھا کیونکہ وہ ان کے فرقے کوباطل پرست ثابت کر رہے تھے،اس لیے لفاظی کرتے ہوئے زبانِ مسموم سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ اسی زمینی قبر میں سب کچھ ہوتا ہے۔ پھرجب بات ہوئی اپنے حریف حنفیوں کو ہرانے کی، تو خود وہی سب کچھ لکھ ڈالاجو ڈاکٹر صاحب رحمۃ اﷲعلیہ نے قرآن و حدیث سے ثابت کیا تھا۔شاید یہ لوگ دوغلا پن کسی اور چیز کو کہتے ہیں؟

یہ سب قبر کے اس مردے کو لازمی زندہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کیونکہ احمد بن حنبل نے لکھ دیا کہ روح لوٹا دی جاتی ہے، ابن تیمیہ اور ابن قیم نے اس شعور و ادراک والا بیان کردیا اسی لئے تو بانی فرقہ اہلحدیث فرماتے ہیں :’’۔۔۔ اس وقت مردہ مردہ نہیں رہتا‘‘اس پر ہم صرف قرآن کی یہ آیت ہی پڑھ سکتے ہیں کہ:

﴿ قُلْ بِئْسَمَا يَأْمُرُكُمْ بِهِ إِيمَانُكُمْ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ﴾

[البقرة: 93]

)’’ ان سے) کہو کہ تمہارا ایمان تو تمہیں بہت ہی برا حکم دے رہا ہے،اگر تم (واقعی) مومن ہو‘

جانور عذاب قبر سنتے ہیں۔

الحمد للہ اس مالک کا صد لاکھ کرم کہ جس نے اپنے نازل کردہ کے ذریعے بات کو واضح کردیا کہ انسان کی وفات کے اگلے لمحے ہی اس کی آخرت شروع اور اس کی روح کوجنت میں راحت ملنا یا جہنم میں عذاب شروع ہوجاتا ہے۔ لیکن افسوس کہ فرقوں سے وابستہ ان مسلک پرستوں نے قرآن و حدیث کے خلاف عقائد دے کر اس معاملے کو مشتبہ بنانے کی کوشش کی اور مختلف احادیث کے غلط معنی بیان کرکے اس دنیاوی قبر میں عذاب ثابت کرنے کی کوشش کی۔

اسی کوشش میں احادیث کے مختلف الفاظ کو پکڑ کر اپنے فرقے کے عقیدے کو ثابت کرنی کی کوشش کی، جیسا کہ بیان کیا جاتا ہے کہ عذاب اسی زمینی قبر میں ہوتا ہے اور اسے چوپائے بھی سنتے ہیں۔ لہذا ضرورت ہے کہ ان معاملات کی حقیقت لوگوں کے سامنے واضح کی جائے۔

جانور عذاب قبر سنتے ہیں

اس بارے میں حدیث پیش کی جاتی ہے:

عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: دَخَلَتْ عَلَيَّ عَجُوزَانِ مِنْ عُجُزِ يَهُودِ المَدِينَةِ، فَقَالَتَا لِي: إِنَّ أَهْلَ القُبُورِ يُعَذَّبُونَ فِي قُبُورِهِمْ، فَكَذَّبْتُهُمَا، وَلَمْ أُنْعِمْ أَنْ أُصَدِّقَهُمَا، فَخَرَجَتَا، وَدَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ عَجُوزَيْنِ، وَذَكَرْتُ لَهُ، فَقَالَ: «صَدَقَتَا، إِنَّهُمْ يُعَذَّبُونَ عَذَابًا تَسْمَعُهُ البَهَائِمُ كُلُّهَا» فَمَا رَأَيْتُهُ بَعْدُ فِي صَلاَةٍ إِلَّا تَعَوَّذَ مِنْ عَذَابِ القَبْرِ

( بخاری ، کتاب الدعوات ، بَابُ التَّعَوُّذِ مِنْ عَذَابِ القَبْرِ )

’’عائشہ ؓ کہتی ہیں، کہ میرے پاس یہود مدینہ کی دو بوڑھی عورتیں آئیں ان دونوں نے مجھ سے کہا، کہ قبر والے اپنی قبروں میں عذاب دیئے جاتے ہیں تو میں نے ان کی تکذیب کی اور اچھا نہیں سمجھا کہ ان کی تصدیق کروں، چناچہ وہ دونوں چلی گئیں، پھر میرے پاس نبی ﷺتشریف لائے، میں نے آپ سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ دو بوڑھی عورتیں آئی تھیں اور آپ سے سارا واقعہ بیان کیا۔ آپ نے فرمایا ان دونوں نے ٹھیک کہا، بیشک (لوگ) قبروں میں عذاب دیئے جاتے ہیں جنہیں تمام چوپائے سنتے ہیں، چنانچہ اس کے بعد میں نے آپ کو ہر صلاۃ میں عذاب قبر سے پناہ مانگتے ہوئے دیکھا۔‘‘

انس ؓ بیان کرتے ہیں :

عن أنس، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان على بغلة شهباء، فمر على حائط لبني النجار، فإذا هو بقبر يعذب صاحبه، فحاصت البغلة، فقال: ” لولا أن لا تدافنوا، لدعوت الله أن يسمعكم عذاب القبر “

( مسند احمد، مسند المکثرین من الصحابہ، مسند انس بن مالک ؓ )

’’انس بن مالکؓ سے مروی کہ ایک مرتبہ نبیﷺ اپنے سفید خچر پر سوار مدینہ منورہ میں بنو نجار کے کسی باغ سے گذرے، وہاں کوئی قبر تھی ، قبر والے کو عذاب ہو رہا تھا ، ، چناچہ خچر بدک گیا، نبیﷺ نے فرمایا اگر تم لوگ اپنے مردوں کو دفن کرنا چھوڑ نہ دیتے تو میں اللہ سے یہ دعاء کرتا کہ وہ تمہیں بھی عذاب قبر کی آواز سنادے۔‘‘

اسی حوالے سے مختلف الفاظ کیساتھ انس ؓ یہ حدیث بھی بیان کرتے ہیں:

عن أنس، أن النبي صلى الله عليه وسلم مر بنخل لبني النجار، فسمع صوتا، فقال: ” ما هذا؟ ” قالوا: قبر رجل دفن في الجاهلية، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ” لولا أن لا تدافنوا لدعوت الله أن يسمعكم عذاب القبر “

( مسند احمد، مسند المکثرین من الصحابہ، مسند انس بن مالک ؓ )

’’ انس ؓ سے روایت ہے کہ ہم گزرے بنو نجار کے باغ سے، ایک آواز سنی، نبیﷺ نے فرمایا یہ کیا؟ ، ہم نے جواب دیا ایک شخص کی قبر ہے جو جاہلیت میں مرا، نبی ﷺ نے فرمایا: اگر تم لوگ اپنے مردوں کو دفن کرنا چھوڑ نہ دیتے تو میں اللہ سے یہ دعاء کرتا کہ وہ تمہیں بھی عذاب قبر کی آواز سنادے۔‘‘

ان روایات سے دو باتیں سامنے آتی ہیں :

1) چوپائے عذاب قبر سنتے ہیں۔

2) ’’اگر تم لوگ اپنے مردوں کو دفن کرنا چھوڑ نہ دیتے تو میں اللہ سے یہ دعاء کرتا کہ وہ تمہیں بھی عذاب قبر کی آواز سنادے۔‘‘

یہ فرقہ پرست۔ ۔ ۔ ’’قبر والے اپنی قبروں میں عذاب دئیے جاتے ہیں ،ایسا عذاب جسے جانور سنتے ہیں ‘‘۔ ۔ ۔ پیش کرکے یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ عذاب قبر اسی دنیاوی زمینی قبر میں ہوتا ہے ۔ بخاری کی روایت میں یہ الفاظ پڑھ کر تو یہ گویا پاگل ہی ہو جاتے ہیں کہ ان کا جھوٹا عقیدہ تو اب ثابت ہوہی ہوگیا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہودی عورتوں کی آمد اور صلوٰۃ الکسوف کی روایات عائشہ رضی اﷲسے چارطرق سے آئی ہیں۔ تین طرق سے آنی والی روایات میں یہ الفاط نہیں ملتے۔ البتہ مسروق رحمۃ اﷲعلیہ کے طرق سے آنے والی بعض روایات میں مختلف تبدیلیوں کے ساتھ یہ الفاظ ملتے ہیں۔ اس واقعہ کی تمام تر روایات جمع کر لی جائیں تو بھی کسی ایک سے یہ ثابت نہ ہوگا کہ نبی ﷺ کا اشارہ اسی زمینی قبر کی طرف ہے۔ اگرعذاباً تسمعہ البھآئم ’’ ایسا عذاب جو چوپائے بھی سنتے ہیں ‘‘ کی بنیاد پر کوئی عقیدہ بنایا جائے گا تو اس کا تعلق اسی دنیاوی زمینی قبر سے ہوگا یا پھراس مقام سے جہاں نبیﷺ نے یہ عذاب ہوتے ہوئے خوددیکھے؟

یہاں ہم دو طویل احادیث سے چند حوالے پیش کر رہے ہیں کہ نبیﷺ نے تو خود عذاب قبر ہوتے دیکھا، کیا دیکھا اور کہاں دیکھا، ملاحظہ فرمائیں :

عمرو بن لحی وہ شخص تھا کہ جس نے عرب میں بتوں کے نام پر جانور چھوڑنے کی رسم رائج کی تھی، نبی ﷺ نے اسکے متعلق فرمایا:

رَأَيْتُ جَهَنَّمَ يَحْطِمُ بَعْضُهَا بَعْضًا وَرَأَيْتُ عَمْرًا يَجُرُّ قُصْبَهُ وَهْوَ أَوَّلُ مَنْ سَيَّبَ السَّوَائِبَ

( عن عائشہ ؓ ، بخاری، کتاب العمل فی الصلاۃ ، بَابُ إِذَا انْفَلَتَتْ الدَّابَّةُ فِي الصَّلاَةِ)

”میں نے جہنم کو دیکھا کہ اسکا ایک حصہ دوسرے کو برباد کر رہا تھا اور اس میں عمرو بن لحی کو دیکھا وہ اپنی آنتیں کھینچ رہا تھا۔“

ابو ثمامۃ عمرو بن دینار کیلئے فرمایا: وَرَأَيْتُ أَبَا ثُمَامَةَ عَمْرَو بْنَ مَالِکٍ يَجُرُّ قُصْبَهُ فِي النَّارِ

( عن جابر بن عبد اللہ ؓ ، مسلم ، کتاب الکسوف ، باب ما عرض على النبي صلى الله عليه وسلم في صلاة الكسوف من أمر الجنة والنار)

”اور میں نے دیکھا ابو ثمامۃ کو جہنم میں اپنی آنتیں کھینچ رہا تھا۔“

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «عُذِّبَتِ امْرَأَةٌ فِي هِرَّةٍ حَبَسَتْهَا حَتَّى مَاتَتْ جُوعًا، فَدَخَلَتْ فِيهَا النَّارَ» قَالَ: فَقَالَ: وَاللَّهُ أَعْلَمُ: «لاَ أَنْتِ أَطْعَمْتِهَا وَلاَ سَقَيْتِهَا حِينَ حَبَسْتِيهَا، وَلاَ أَنْتِ أَرْسَلْتِهَا، فَأَكَلَتْ مِنْ خَشَاشِ الأَرْضِ»

( عن عبد اللہ بن عمر ؓ ، بخاری، کتاب المساقاۃ ، بَابُ فَضْلِ سَقْيِ المَاءِ )

”ایک عورت جہنم میں داخل کردی گئی ا س وجہ سے کہ اس نے بلی کو باندھ کے رکھا ہو ا تھا نہ اسکو کھانے کیلئے کچھ دیا اور نہ ہی اسکو کھلا چھوڑا کہ وہ کیڑے وغیرہ کھا لیتی یہاں تک کہ وہ مر گئی۔“

بخاری میں بیان کردہ سمرہ بن جندب والی طویل حدیث کاکچھ حصہ:

’’ ۔ ۔ ۔ ۔ نبی ﷺ نے ( دونوں فرشتوں سے )فرمایا میں نے ان سے کہا تم دونوں مجھے رات بھر گھماتے رہے ہو اب بتاؤ کہ میں نے جو کچھ دیکھا وہ سب کیا ہے؟ دونوں نے کہا بہتر وہ جس کو آپؐ نے دیکھا کہ اسکے گلپھڑے پھاڑے جارہے تھے وہ کذاب تھا جھوٹی باتیں بیان کرتا تھا اور لوگ اس بات کو لے اڑتے تھے یہاں تک کہ ہر طرف اسکا چرچا ہوتا تھا فَيُصْنَعُ بِهِ إِلَی يَوْمِ الْقِيَامَةِ تو اسکے ساتھ جو آپ ؐ نے ہوتے دیکھا وہ قیامت تک ہوتا رہیگا

اور جسکو آ پؐ نے دیکھا کہ اسکا سر کچلا جارہا تھا یہ وہ شخص تھا کہ جسکو اللہ تعالی نے قرآن کا علم دیا تھا لیکن وہ رات کو قرآن سے غافل سوتا رہا اور دن میں اسکے مطابق عمل نہ کیا يُفْعَلُ بِهِ إِلَی يَوْمِ الْقِيَامَةِ یہ عمل اسکے ساتھ قیامت تک ہوتا رہیگا۔ اور جنکو آپؐ نے نقب میں دیکھا وہ زناکار تھے اور جسکو آپؐ نے نہر میں دیکھا وہ سود خور تھا ۔

( عن سمرۃ بن جندب ؓ، بخاری، کتاب الجنائز ، بَابُ مَا قِيلَ فِي أَوْلاَدِ المُشْرِكِينَ )

ملاحظہ فرمایا : نبی ﷺ عذاب قبر تو جہنم میں ہوتے دیکھ رہے ہیں اور عقیدہ یہ دیں گے کہ اس زمینی قبر میں ہوتا ہے؟ اللہ تعالیٰ آل فرعون، قوم نوح علیہ السلام ، ازواج لوط و نوح علیہما السلام

کو قرآن میں جہنم میں عذاب ہونے کا عقیدہ بیان کر رہا ہے اور جانوروں کو زمینی قبر کا عذاب سنوائے گا ؟

﴿ فَإِنَّهَا لَا تَعْمَى الْأَبْصَارُ وَلَكِنْ تَعْمَى الْقُلُوبُ الَّتِي فِي الصُّدُورِ﴾ [الحج: 46]

’’بات یہ ہے کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں بلکہ وہ دل جو سینے میں ہیں وہ اندھے ہوتے ہیں‘‘۔

قرآن اور حدیث کا پورا بیان پڑھ جائیے مرنے کے بعد صرف روح کو ملنے والی جزا یا سزا کا بیان ہے کہیں بھی اس جسم کو ملنے والی جزا یا سزا کا بیان نہیں، بلکہ بتایا گیا کہ یہ جسم تو سڑ گل جاتا ہے ، لیکن افسوس کے ان کے دل ہی اندھے ہوگئے اور امت میں غلط عقائد پھیلا کر اپنے فرقے کا دفاع تو کر رہے ہیں لیکن ساتھ ہی اپنی آخرت بھی تباہ کر رہے ہیں ۔ کیا اللہ تعالیٰ جہنم میں ہونے والا عذاب یہاں سنا نہیں سکتا ؟ یہ حدیث ملاحظہ فرمائیے۔

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذْ سَمِعَ وَجْبَةً، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَدْرُونَ مَا هَذَا؟» قَالَ: قُلْنَا: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: «هَذَا حَجَرٌ رُمِيَ بِهِ فِي النَّارِ مُنْذُ سَبْعِينَ خَرِيفًا، فَهُوَ يَهْوِي فِي النَّارِ الْآنَ، حَتَّى انْتَهَى إِلَى قَعْرِهَا» ( مسلم، الجنتہ و صفۃ نعیمھا و اھلھا )

’’ ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کیساتھ تھے کہ ایک گڑگراہٹ کی آواز سنائی دی تو نبیﷺ نے فرمایا کہ تم جانتے ہو یہ کیا ہے ؟ ہم نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ہی زیادہ جانتے ہیں، نبیﷺ نے فرمایا : یہ ایک پتھر ہے جو کہ ستر سال قبل جہنم میں پھینکا گیا تھا ، وہ لگاتار جہنم میں گر رہا تھا یہاں تک اب وہ تہہ میں پہنچا ہے‘‘۔

جس طرح جہنم میں پھینکے جانے والے پتھر کی آواز نبی ﷺ اور صحابہ ؓ کو سنوا دی گئی اسی طرح نبیﷺ کو عالم برزخ میں ہونے والے عذاب کی آواز بھی سنوادی جاتی ہوگی، جب نبی ﷺ کو عذاب قبر دیکھایا جا سکتا ہے تو کیا سنوایا نہیں جا سکتا، اسی طرح جانوروں کو سنوایا جاتا ہوگا لیکن ان دنیاوی قبروں سے اس کا کوئی تعلق نہیں ورنہ ہم دیکھتے ہیں کہ قبرستانوں میں چوپائے چرپھر رہے ہوتے ہیں لیکن کوئی ڈرکر بھاگتا نہیں۔

رہا خچر کا بدکناوہ بھی ایک معجزہ ہوگا ورنہ نبیﷺ کا خچر تو روز ہی وہاں سے گزرتا ہوگا اور دنیا بھر میں خچر بھی خوب گھوم پھر رہے ہوتے ہیں کوئی بدک کر بھاگتا نہیں۔ ان کی یہ بات بالکل جھوٹی ہے کہ نبیﷺ کا اشارہ ان دنیاوی قبروں کی طرف تھا، خچر کا بدکنا اور جانوروں کا عذاب قبر سننا ’’ بنو نجار ‘‘ کے باغ کے حوالے سے پیش کیا گیا ہے۔ فمر على حائط لبني النجار ’’ پس بنو نجار کے ایک باغ سے گزرے ‘‘۔ اب اسی بنو نجار کے باغ کا یہ واقعہ بھی پڑھیں :

عَنْ اَنَسٍ قَالَ قَدِمَ النَّبِیُّا الْمَدِیْنَۃَ ۔۔۔ وَ کَانَ یُحِبُّ اَنْ یُّصَلِّی حَیْثُ اَدْرَکَتْہُ الصَّلٰوۃُ وَ یُصَلِّی فِیْ مَرَابِضِ الْغَنَمِ وَ اَنَّہٗٓ اَمَرَ بِبِنَآءِ الْمَسْجِدِفَاَرْسَلَ اِلٰی مَلَاءِ بَنِی النَّجَّارِ فَقَالَ یَا بَنِی النَّجَّارِ ثَامِنُوْنِیْ بِحَآءِطِکُمْ ھٰذَا قَالُوْا لاَ وَاللّٰہِ لاَ نَطْلُبُ ثَمَنَہٗ اِلاَّ اِلَی اﷲِ عَزَّ وَ جَلَّ قَالَ اَنَسٌ فَکَانَ فِیْہِ مَآ اَقُوْلُ لَکُمْ قُبُوْرِ الْمُشْرِکِیْنَ وَفِیْہِ خَرِبٌ وَّ فِیْہِ نَخْلٌ فَاَمَرَ النَّبِیُّا بِقُبُوْرِ الْمُشْرِکِیْنَ فَنُبِشَتْ ثُمَّ بِالْخَرِبِ فَسُوِّیَتْ وَ بِالنَّخْلِ فَقُطِعَ فَصَفُّوْاالنَّخْلَ قِبْلَۃَ الْمَسْجِدِ وَ جَعَلُوْا عِضَادَتَیْہِ الْحِجَارَۃَ …

(بخاری:کتاب الصلوٰۃ ، باب ھل تنبش قبور مشرکی الجاھلیۃ و یتخذ مکانھا مساجد)

’’انس ؓ فرماتے ہیں کہ جب نبی ﷺ مدینہ تشریف لائے ۔۔۔۔۔۔آپ پسندکرتے کہ جس جگہ صلوٰۃ کا وقت آجائے وہیں اسے ادا فرمالیں،اور آپ بکریاں باندھنے کی جگہ بھی صلوٰۃ ادا کرلیتے تھے۔ اور ( جب) آپ نے مسجد کی تعمیر کا حکم دیاتو بنو نجار کے لوگوں کو بلوایا اور فرمایا کہ اے بنو نجار! اپنا یہ باغ تم میرے ہاتھ فروخت کردو ۔ انہوں نے عرض کیا کہ اﷲ کی قسم ہم اس کی قیمت نہیں لیں گے مگر اﷲ عزوجل سے۔انس ؓ کہتے ہیں کہ اس باغ میں یہ چیزیں تھیں جو میں تم کو بتاتا ہوں: مشرکین کی قبریں تھیں،کچھ کھنڈر تھا اور اس میں کھجور کے درخت تھے۔ پھرنبی ﷺنے حکم فرمایا تومشرکین کی قبریں کھود دی گئیں،کھنڈر کو برابر کردیا گیا اور درختوں کو کاٹ ڈالا گیا اور ان کو مسجد کے قبلے کی طرف نصب کردیا گیا اور پتھروں سے ان کی بندش کردی گئی۔۔۔‘‘۔

دیکھا آپ نے نبیﷺ اور صحابہ کا عقیدہ یہ کہ زمینی قبریں صرف جسم چھپانے کے لئے ہیں عذاب یا راحت کا مقام نہیں۔ مشرکین کی وہی قبریں کھود دی گئیں جس کی طرف اشارہ کرکے یہ مسلک پرست اسی زمینی قبر میں عذاب کا ڈرامہ رچاتے ہیں۔

یہ علماء کرام و مفتیان سب کچھ جانتے ہیں کہ نبیﷺ نے اس باغ کی قبروں کیساتھ کیا عمل کیا لیکن اسے چھپاتے ہیں بیان وہ کرتے ہیں جن سے ان کا اپنا عقیدہ ثابت ہوسکے، لیکن پورے سرمایہ حدیث میں ایک بھی ایسی صحیح حدیث نہیں پیش کرسکتے جس میں یہ بتایا گیا ہو کہ اسی زمینی قبر کے اندر عذاب ہوتا ہے۔

اب رہا معاملہ نبی ﷺ کے اس فرمان کا کہ : ’’اگر تم لوگ اپنے مردوں کو دفن کرنا چھوڑ نہ دیتے تو میں اللہ سے یہ دعاء کرتا کہ وہ تمہیں بھی عذاب قبر کی آواز سنادے۔‘‘ تو عرض ہے کہ صحابہ ؓ اپنے دیکھنے اور سننے سے زیادہ نبیﷺ کے بیان پر یقین رکھتے تھے۔ انہیں عذاب القبر کی ہولناکی کا یقینا ً علم تھا اور اس سے پناہ بھی مانگا کرتے تھے لیکن پھر بھی اپنے مردوں کو دفنانا نہیں چھوڑا تھا کیونکہ انہیں علم تھا کہ وہ قومیں جنہیں کوئی دفنانہ سکا وہ بھی عذاب القبر سے نہ بچ سکیں۔ واضح ہوا کہ نبیﷺ کا یہ فرمان صرف عذاب القبر کی ہولناکی بیان کرنے کے لئے تھا۔

ستر اژدھے والی روایت سے اسی قبر میں عذاب قبر ثابت کرنا

فرقہ پرستوں کا معاملہ ہی عجیب ہے، یہ دین کو دین سمجھ کر نہیں بالکہ مقابلہ بازی کا میدان سمجھ کر لڑتے ہیں۔ کتاب اللہ سے بات واضح کے مرنے کے بعد سے لیکر قیامت تک کا سارا معاملہ آسمانوں پر ہوتا ہے ۔ یہ جسم تو سڑ گل جاتا ہے لہذا اس قبر سے عذاب و راحت کا کوئی تعلق نہیں۔ لیکن فرقہ پرستوں نے اب اسے قبول نہیں کرنا بلکہ فرقے کے لئے جنگ لڑنی ہے ورنہ فرقہ ہی جھوٹا قرار پائے گا لہذا ضعیف روایات کا سہارا لیتے ہیں۔ ایک روایت زیل میں پیش کی جا رہی ہے جس کی متعلق محدث بیان کرتے ہیں:

[حكم الألباني] : ضعيف جد

یعنی اس کی سند یقینی ضعیف ہے، لیکن فرقے کی عزت کی خاطر اسے بھی دلیل بنا لیا گیا، ملاحظہ فرمائیں :

عن أبي سعيد، قال: دخل رسول الله صلى الله عليه وسلم مصلاه فرأى ناسا كأنهم يكتشرون قال: أما إنكم لو أكثرتم ذكر هاذم اللذات لشغلكم عما أرى، فأكثروا من ذكر هاذم اللذات الموت، فإنه لم يأت على القبر يوم إلا تكلم فيه فيقول: أنا بيت الغربة وأنا بيت الوحدة، وأنا بيت التراب، . . . . . . . . . . فأدخل بعضها في جوف بعض قال: ويقيض الله له سبعين تنينا لو أن واحدا منها نفخ في الأرض ما أنبتت شيئا ما بقيت الدنيا فينهشنه ويخدشنه حتى يفضى به إلى الحساب قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إنما القبر روضة من رياض الجنة أو حفرة من حفر النار.

( ترمذی، أبواب صفة القيامة والرقائق والورع عن رسول الله ﷺ )

’’ ابوسعید ؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ اپنے مصلی پر تشریف لائے تو کچھ لوگوں کو ہنستے ہوئے دیکھا تو آپ نے فرمایا اگر تم لذتوں کو ختم کرنے والی چیز کو یاد کرتے تو تمہیں اس بات کی فرصت نہ ملتی جو میں دیکھ رہا ہوں لہذا لذتوں کو قطع کرنے والی موت کو زیادہ یاد کرو کوئی قبر ایسی نہیں جو روزانہ اس طرح نہ پکارتی ہو کہ غربت کا گھر ہوں میں تنہائی کا گھر ہوں میں مٹی کا گھر ہوں اور میں کیڑوں کا گھر ہوں پھر جب اس میں کوئی مومن بندہ دفن کیا جاتا ہے تو وہ اسے ( مَرْحَبًا وَأَهْلًا) کہہ کر خوش آمدید کہتی ہے پھر کہتی ہے کہ میری پیٹھ پر جو لوگ چلتے ہیں تو مجھے ان سب میں محبوب تھا اب تجھے میرے سپرد کردیا گیا ہے تو اب تو میرے حسن سلوک دیکھے گا پھر وہ اس کے لئے حدنگاہ تک کشادہ ہوجاتی ہے اور اس کے لئے جنت کا درواز کھول دیا جاتا ہے اور جب گنہگار یا کافر آدمی دفن کیا جاتا ہے قبر اسے خوش آمدید نہیں کہتی بلکہ (لَا مَرْحَبًا وَلَا أَهْلًا) کہتی ہے پھر کہتی ہے کہ میری پیٹھ پر چلنے والوں میں تم سب سے زیادہ مغبوض شخص تھے آج جب تمہیں میرے سپرد کیا گیا ہے تو تم میری بدسلوکی بھی دیکھو گے پھر وہ اسے اس زور سے بھینچتی ہے کہ اس کی پسلیاں ایک دوسری میں گھس جاتی ہیں راوی کہتے ہیں کہ پھر رسول اللہ ﷺنے اپنی انگلیاں ایک دوسری میں داخل کر کے دکھائیں پھر آپ نے فرمایا کہ اس کے بعد اس پر ستر اژدھے مقرر کر دئیے جاتے ہیں اگر ان میں سے ایک زمین پر ایک مرتبہ پھونک مار دے تو اس پر کبھی کوئی چیز نہ اگے پھر وہ اسے کاٹتے ہیں اور نوچتے رہتے ہیں یہاں تک کہ اسے حساب و کتاب کے لئے اٹھایا جائے گا پھر آپ نے فرمایا قبر جنت کے باغوں میں سے ایک باغ یا جہنم کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا ہے ‘‘۔

یہ انہی فرقہ پرستوں کا دل گردہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بیان کردہ کو ضعیف روایات کے ذریعے رد کرنے کی کوشش کریں، ہم تو ایسے فعل سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔ اس روایت کے الفاظ پر غور کریں :

’’اس کے لئے حدنگاہ تک کشادہ ہوجاتی ہے ‘‘

’’پھر وہ اسے اس زور سے بھینچتی ہے کہ اس کی پسلیاں ایک دوسری میں گھس جاتی ہیں‘‘

’’اس کے بعد اس پر ستر اژدھے مقرر کر دئیے جاتے ہیں اگر ان میں سے ایک زمین پر ایک مرتبہ پھونک مار دے تو اس پر کبھی کوئی چیز نہ اگے ‘‘

کیا یہ باتیں اس زمینی قبر کے لئے ممکن دکھائی دیتی ہیں البتہ عالم برزخ میں ملنے والی قبر کے لئے یہ بات ممکن ہے۔ اس کے ان الفاظ پر غور کریں : اگر ان میں سے ایک زمین پر ایک مرتبہ پھونک مار دے تو اس پر کبھی کوئی چیز نہ اگے ‘‘

یعنی اس زمین کا معاملہ ہی نہیں ورنہ اب تک تو بے حساب کافر و مشرک مر چکے ہوں گے اور ایسے اژ دھوں کی بڑی تعداد ان قبروں میں ہوگی لیکن الحمد للہ چارہ،سبزیاں، فروٹ ، غلہ سب ہی کچھ اگ رہا ہے اس زمین پر، گویا بات اس زمین کی ہے ہی نہیں۔

مزید اس جملے کو پڑھیں :

إنما القبر روضة من رياض الجنة أو حفرة من حفر النار.

’’ قبر جنت کے باغوں میں سے ایک باغ یا جہنم کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا ہے ۔‘‘

اس میں یہ نہیں کہا گیا کہ دنیاوی قبر جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے یا جہنم کے گڑھوںمیں سے ایک گڑھا ہے بلکہ فرمایا گیا قبر جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے یعنی جنت میں بے حساب باغ ہیں اس بندے کی قبر جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے۔ قبر جہنم کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا ہے ، یعنی جہنم میں بے حساب گڑھے ہیں اور ان میں سے ایک گڑھا اس کی قبر ہے۔

یہی بات قرآن میں بیان کردی گئی ہے کہ مرنے والے کی روح قبض ہوتے ہی جنت یا جہنم میں داخل کردی جاتی ہے۔

الَّذِيْنَ تَتَوَفّٰىهُمُ الْمَلٰىِٕكَةُ ظَالِمِيْٓ اَنْفُسِهِمْ ۠فَاَلْقَوُا السَّلَمَ مَا كُنَّا نَعْمَلُ مِنْ سُوْۗءٍ ۭ بَلٰٓى اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌۢ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ؀ فَادْخُلُوْٓا اَبْوَابَ جَهَنَّمَ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا ۭ فَلَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِيْنَ

( النحل :28- 29 )

’’ ان نفس پر ظلم کرنے والوں کی جب فرشتے روح قبض کرتے ہیں تو اس موقع پر لوگ بڑی فرمانبرداری کے بول بولتے ہیں کہ ہم تو کوئی برا کام نہیں کرتے تھے۔، ( فرشتے جواب دیتے ہیں ) ، یقینا اللہ جانتا ہے جو کچھ تم کیا کرتے تھے۔پس داخل ہو جاو جہنم کے دروازوں میں جہاں تمہیں ہمیشہ رہنا ہے، پس برا ہی ٹھکانہ ہے متکبرین کے لئے۔‘‘

الَّذِيْنَ تَتَوَفّٰىهُمُ الْمَلٰۗىِٕكَةُ طَيِّبِيْنَ ۙ يَقُوْلُوْنَ سَلٰمٌ عَلَيْكُمُ ۙ ادْخُلُوا الْجَنَّةَ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ

( النحل :32 )

’’ جب فرشتے پاک ( نیک ) لوگوں کی روحیں قبض کرتے ہیں تو کہتے ہیں : تم پر سلامتی ہو داخل ہو جاو جنت میں اپنے ان اعمال کیوجہ سے جو تم کرتے تھے۔‘‘

یہی بات نبی ﷺ نے بیان فرمائی :

إِنَّمَا مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی يَهُودِيَّةٍ يَبْکِي عَلَيْهَا أَهْلُهَا فَقَالَ إِنَّهُمْ لَيَبْکُونَ عَلَيْهَا وَإِنَّهَا لَتُعَذَّبُ فِي قَبْرِهَا

( عن عائشہ ؓ ، کتاب الجنائز ، بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يُعَذَّبُ المَيِّتُ بِبَعْضِ بُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ» إِذَا كَانَ النَّوْحُ مِنْ سُنَّتِهِ “)

’’نبی صلی اللہ علیہ و سلم ایک (فوت شدہ)یہودی عورت کے پاس سے گذرے اسکے گھر والے اس پر رو رہے تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ”یہ لوگ اس پر رو رہے ہیں اور اسے اسکی قبر میں عذاب دیا جارہا ہے۔“

ابھی یہودی عورت اس زمینی قبر میں دفن بھی نہیں ہوئی اس کے گھر والے اس پر رو رہے ہیں اور نبی ﷺ فرما رہے ہیں :

یہ لوگ اس پر رو رہے ہیں اور اسے اسکی قبر میں عذاب دیا جارہا ہے۔“

واضح ہوا کہ یہ سارا معاملہ اس زمینی قبر میں نہیں عالم برزخ میں ملنے والی قبر میں ہوتا ہے۔

سبز ٹہنیوں والی روایت کی تشریح

مرنے کے بعد ہونے والے عذاب قبر کا معاملہ مکمل طور پر عالم برزخ سے ہے جیسا کہ ہم نے اپنی پوسٹس میں کتاب اللہ سے دلائل دیکر ثابت کرچکے ہیں۔ فرقہ پرست اپنے فرقے کی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں اس لئے کوشش کرتے ہیں کہ کسی بھی طرح قرآن و حدیث کے دئیے ہوئے عقیدے کے مقابلے میں ان کے فرقے کا عقیدہ ثابت ہو جائے۔لہذا ایک صحیح حدیث پیش کرکے لوگوں کو کہتے ہیں کہ اس حدیث سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ عذاب قبر اسی زمینی قبر میں ہوتا ہے، لہذا ہم اس حدیث کا مطالعہ کرتے ہیں:

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَبْرَيْنِ فَقَالَ: «إِنَّهُمَا لَيُعَذَّبَانِ وَمَا يُعَذَّبَانِ مِنْ كَبِيرٍ» ثُمَّ قَالَ: «بَلَى أَمَّا أَحَدُهُمَا فَكَانَ يَسْعَى بِالنَّمِيمَةِ، وَأَمَّا أَحَدُهُمَا فَكَانَ لاَ يَسْتَتِرُ مِنْ بَوْلِهِ» قَالَ: ثُمَّ أَخَذَ عُودًا رَطْبًا، فَكَسَرَهُ بِاثْنَتَيْنِ، ثُمَّ غَرَزَ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا عَلَى قَبْرٍ، ثُمَّ قَالَ: «لَعَلَّهُ يُخَفَّفُ عَنْهُمَا مَا لَمْ يَيْبَسَا»

( بخاری، کتاب الجنائز ، بَابُ عَذَابِ القَبْرِ مِنَ الغِيبَةِ وَالبَوْلِ )

’’ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ دو قبروں کے پاس گذرے تو فرمایا کہ ان دونوں کو عذاب ہو رہا ہے اور کسی بڑے معاملہ کے سبب عذاب نہیں ہو رہا، ان میں سے ایک تو اپنے پیشاب سے نہیں بچتا تھا اوردوسرا چغل خوری کرتا تھا، پھر ایک تر شاخ منگوائی اور اس کے دو ٹکڑے کئے پھر فرمایا کہ شاید کہ اللہ تعالیٰ ان کے عذاب میں تخفیف کردے، جب تک کہ یہ خشک نہ ہوں۔‘‘

اس حدیث سے یہ فرقہ پرست زمینی قبر میں عذاب بیان کرتے ہیں حالانکہ کہیں بھی اس کا ذکر نہیں۔ نبیﷺ نے فرمایا : إِنَّهُمَا لَيُعَذَّبَانِ ’’ ان دونوں کو عذاب ہو رہا ہے ‘‘۔ یعنی یہ نہیں فرمایا کہ اس قبر میں عذاب ہو رہا ہے بلکہ فرمایا کہ یہ دونوں عذاب دئیے جا رہے ہیں۔ عذاب کہاں ہوتا ہے یہ پہلے ہی ہم اپنی پوسٹس میں کتاب اللہ کے دلائل سے پیش کرچکے ہیں کہ مرتے ہی انسان کی روح کو جنت یا جہنم میں داخل کردیا جاتا ہے جہاں اسے جزا یا سزا ملنا شروع ہو جاتی ہے۔

اس حدیث میں تو دراصل یہ بتایا گیا : وَمَا يُعَذَّبَانِ مِنْ كَبِيرٍ ’’ کسی بڑے معاملے کے سبب عذاب نہیں ہو رہا ‘‘۔ بَلَى أَمَّا أَحَدُهُمَا فَكَانَ يَسْعَى بِالنَّمِيمَةِ، وَأَمَّا أَحَدُهُمَا فَكَانَ لاَ يَسْتَتِرُ مِنْ بَوْلِهِ ’’ ان میں سے ایک تو اپنے پیشاب سے نہیں بچتا تھا اوردوسرا چغل خوری کرتا تھا ‘‘ یعنی اصل تعلیم تو یہ تھی کہ چھوٹے گناہ پر بھی عذاب ہوگا۔ اور یہی بات نبیﷺ نے عائشہ ؓ سے فرمائی تھی کہ اے عائشہ کم تر گناہوں کو بھی حقیر نہ جانو۔

اب رہا یہ سوال کہ نبی ﷺ نے ان قبروں کے پاس سے گزرتے ہوئے یہ بات کیوں کی۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ نہ وہاں کسی آواز کے سنائے جانے کا ذکر ہے اور نہ ہی دکھائےجانے بلکہ یقینا ً یہ بات نبی ﷺ پر وحی ہوئی ہوگی۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا ہوگا کہ یہ وہ دو افراد ہیں جو یہ برا کام کرتے تھے اس وجہ سے انہیں عذاب قبر ہو رہا ہے۔ اب اس سے یہ کیسے ثابت ہوا کہ ان قبروں میں عذاب ہو رہا تھا۔ رہی یہ بات کہ نبی ﷺ نے ان قبروں پر ٹہنیاں کیوں ڈالیں۔ تو عرض ہے کہ یہ دعا کا ایک انداز تھا۔ نبی ﷺ نے فرمایا : لَعَلَّهُ يُخَفَّفُ عَنْهُمَا مَا لَمْ يَيْبَسَا، شاید کہ اللہ تعالیٰ ان کے عذاب میں تخفیف کردے، جب تک کہ یہ خشک نہ ہوں۔ یعنی معاملہ یہ نہیں تھا کہ ان کی وجہ سے ان قبروں میں ہونے والا عذاب قبر رک جائے گا ، بلکہ یہ شاید کا لفظ استعمال کیا گیا اور یہ انداز بھی دعائیہ ہی ہے۔

مزید اگر آپ کے محلے میں کسی کو پھانسی ہو جاتی ہے اور آپ کا کوئی دوست آتا ہےْ آپ اسے بتاتے ہیں کہ اس گھر میں رہنے والے پھانسی ہوگئی، تو پھانسی گھر میں نہیں ہوئی ہوگی بلکہ جیل میں ہی ہوئی ہوگی لیکن آپ اسے جیل لیجا کر نہیں دکھائیں گے بلکہ اس کے گھر کی طرف اشارہ کرکے اسے بتائیں گے کہ یہ شخص۔ یہی انداز اس حدیث میں نبی ﷺ کا ہے کہ یہ دونوں عذاب دئیے جا رہے ہیں اور مرنے کے بعد عذاب صرف جہنم میں ہوتا ہے جس کی تفصیل اس مضمون میں بیان کردی گئی ہے۔

Categories
Uncategorized

صوم رمضان

إِنَّ الْحَمْدَ لِلَّهِ، نَحْمَدُهُ وَنَسْتَعِينُهُ، مَنْ يَهْدِهِ اللهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ، وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، أَمَّا بَعْدُ

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا کُتِبَ عَلَیۡکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِکُمۡ لَعَلَّکُمۡ تَتَّقُوۡنَ

( البقرہ : 183 )

’’اے ایمان والو! تم پر صیام فرض کیے گئے جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے، تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ‘‘

سورہ بقرہ کی اس آیت میں ایمان والوں کو صوم کا حکم دیا جا رہا ہے۔ صوم ایک فرض عبادت ہے۔ ہمارے یہاں اسے روزہ کہا جاتا ہے ۔ روزہ فارسی کا لفظ ہے جبکہ قرآن و حدیث میں اسے صوم ہی کہا گیا ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا :

بُنِيَ الْإِسْلَامُ عَلَی خَمْسٍ شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ وَإِقَامِ الصَّلَاةِ وَإِيتَائِ الزَّکَاةِ وَالْحَجِّ وَصَوْمِ رَمَضَانَ

( بخاری، کتاب الایمان، بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بُنِيَ الإِسْلاَمُ عَلَى خَمْسٍ» )

’’ اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے۔اس بات کی گواہی کہ کوئی نہیں ہے معبود سوائے اللہ کے اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، اور صلاۃ قائم کرنا،اور زکواۃ دینا ، اور حج اور ماہ رمضان کے صوم‘‘۔

صوم کا مادہ باب نَصَرَ سے صَامَ آیا ہے۔جس کے معنی رکے رہنے کے ہیں۔ ماءٌ صَا ئمٌ کے معنی رکا ہوا پانی۔ اصطلاح میں کھانے پینے، جنسی خواہشات اور تمام منکرات سے صبح صادق سے سورج غروب ہونے تک ’’ رکے ‘‘ رہنے کو ’’ صوم ‘‘ کہتے ہیں۔

صوم کس پر فرض ہیں ؟

سورہ بقرہ میں فرمایا :

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا کُتِبَ عَلَیۡکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِکُمۡ لَعَلَّکُمۡ تَتَّقُوۡنَ

( البقرہ : 183 )

’’اے ایمان والو! تم پر صیام فرض کیے گئے جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے، تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ‘‘

یعنی صوم ایمان والوں پر فرض کئے گئے۔ ایمان والے کون ہوتے ہیں ؟ کیونکہ لوگ ایمان کا دعویٰ کرکے شرک بھی کرتے ہیں جیسا کہ سورہ یوسف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

﴿وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ

[يوسف: 106]

’’اور نہیں ایمان لاتے ان میں اکثر اللہ پر مگر اس طرح کہ وہ (اس کے ساتھ دوسروں کو) شریک ٹھہراتے ہیں‘‘۔

یعنی دعویٰ تو اللہ پر ایمان کا ہوتا ہے لیکن اس کیساتھ اس کی مخلوق کو بھی اس کی ذات، صفات حقوق و اختیارات میں شریک کردیا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

﴿ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَلَمۡ يَلۡبِسُوٓاْ إِيمَٰنَهُم بِظُلۡمٍ أُوْلَٰٓئِكَ لَهُمُ ٱلۡأَمۡنُ وَهُم مُّهۡتَدُونَ﴾

[الأنعام: 82]

’’جو لوگ ایمان لائے اور نہیں مخلوط کیا اپنے ایمان کو ظلم ( شرک) سے وہی ہیں کہ ان کے لیے ہی امن ہے اور وہی ہدایت پانیوالے ہیں ۔‘‘

بتایادیا گیا کہ ایمان وہ ہے کہ جس میں شرک کی آمیزش نہ ہو۔ ایک الٰہ واحد کے علاوہ کسی کو بھی اللہ کی صفات کا حامل نہ سمجھا جائےلیکن افسوس کہ آج ہماری قوم کا بھی وہی حال ہوگیا ہے جو سابقہ قوموں کا تھا کہ اللہ پر ایمان کا دعویٰ لیکن ساتھ ساتھ اس کے شریک بھی بنا لئے گئے۔ اگر ہم آج مسلمان کہلوانے والی اس قوم کے عقائد و اعمال پر نگاہ ڈالیں تو کثرت سے مشرکانہ عقائد و اعمال دکھائی دیتے ہیں۔

آج یہ کلمہ گو ایک طرف قل ہو اللہ احد پڑھتا ہے کہ اے اللہ تو یکتا ہے، تیرے جیسا اس کائنات میں کوئی نہیں لیکن جس طرح یہود و نصاریٰ نے اپنے اپنے انبیاء کو اللہ کی ذات سے منسوب کردیا تھا کہ یہ اللہ کے بیٹے ہیں اسی طرح آج اس قوم کا عقیدہ ہے کہ نبی ﷺ اللہ کی ذات کا ٹکڑا ہیں، یعنی عقیدہ نورٌ من نورٌ اللہ ۔گویا اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کی ذات ایک ہی ہے، نعوذوباللہ من ذالک۔یہ شرک فی الذات ہے۔

اسی طرح اس قوم کا دوسرا شرک فرقہ بندی ہے ، سورہ الروم آیت نمبر 31/32 میں اللہ تعالیٰ نے فرقہ بندی اور گروہ بندی کو مشرکانہ عمل بتایا اور ایمان والوں کو حکم دیا کہ تم ان جیسا نہ ہو جانا۔ سورہ انعام میں نبی ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ اے نبی ؐ! جنہوں نے اسلام میں فرقے اورگروہ بنائے آپ کا ان کیساتھ کوئی تعلق نہیں ہے، یعنی وہ نبی ﷺ کی امت میں سے نہیں۔

اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہوئے کسی فوت شدہ شخصیت کا وسیلہ بنانا بھی اسلام میں جائز نہیں۔ سورہ یونس آیت نمبر 18 میں اللہ تعالیٰ نے اسے شرک قرار دیا ہے۔ اللہ کی ذات کے لئے وسیلہ کیسا ؟ وہ تو ہر ہر لمحے اپنی ہر ہر مخلوق کی حالت جانتا ہے۔ اربوں کھربوں درختوں کے پتوں میں سے کوئی ایک پتابھی ایسا نہیں کہ جو ٹوٹ کر گرے اور اللہ تعالیٰ کو علم نہ ہو۔ وہی اکیلا عالم الغیب ہے اس کے علاوہ کوئی اور عالم الغیب نہیں، یہ بات اس نے سورہ انعام میں بیان کردی ہے ، اب کوئی کسی نبی ، ولی یا کسی ملنگ کو عالم الغیب مانے تو یہ اللہ کی اس صفت میں شرک ہے۔

اللہ تعالی ٰ ’’ داتا ‘‘ ( دینے والا ) پیدائش سے لیکر موت اور موت کے بعد ہر ہر چیز صرف وہی دیتا ہے، اب کوئی علی ہجویری کو داتا مانے تو یہ کھلا شرک ہے۔ کائنات کے سارے خزانوں کا مالک تن تنہا اللہ تعالیٰ ہے، کوئی علی ہجویری کو ’’ گنج بخش ‘‘ ( خزانے بخشنے والا ) سمجھے

تو یہ اللہ کی صفت میں شامل کردینا ہے۔ ’’ غوث الاعظم ‘‘ ( کائنات کا سب سے بڑا دعا سننے والا ، مدد کرنے والا ) صرف ایک اللہ تعالیٰ ہے اب کوئی عبد القادر جیلانی کو غوث الاعظم کہے تو اس سے بڑھ کر اللہ کی صفات اور اختیارات میں کیا شرک ہوگا( نعوذوباللہ من ذالک )۔

کائنات کی ہر چیز کا خالق، اس پر قدرت رکھنے والا صرف اللہ تعالیٰ ہے وہ ہی مدد پر قادر ہے اس کے علاوہ کسی اور کو مدد کے لئے پکارا جائے تو سورہ یونس میں اس فعل کو شرک قرار دیا ہے اور سور ہ الجن میں نبی ﷺ سے کہلوا دیا گیا میں صرف اپنے رب کو پکارتا ہوں ( کسی اور کو پکار کر ) اس کے ساتھ شریک نہیں کرتا۔

الغرض کہ اولادیں دینے والا، کسی بھی قسم کا نفع یا نقصان دینے والا، مفلسی میں غنی کرنے والا، بیماری میں شفاء دینے والا صرف اللہ کو سمجھا جائے اور اسی پر توکل ہو۔ پھر ایسا نہ ہو کہ مدد کے لئے کسی نبی ، ولی یا دوسرے انسانوں کو پکاراجائے۔ قبر میں مدفون افراد کو زندہ سمجھ کر ان کے نام نذر ونیاز ( مالی عبات ) کی جائے یا تعویذ ،کالے پیلےدھاگے، کڑے یا چھلوں پر یقین کرکے اسے پہنا جائے یہ سارے اعمال مشرکانہ ہیں۔

اللہ تعالیٰ کے دین، دین اسلام کیساتھ ساتھ تصوف، جمہوریت ، سوشلزم ، یا دوسرے فرقہ وارانہ مذاہب جیسے اہلحدیث، سلفی، دیوبندی، بریلوی ، شیعہ ، حنفی، مالکی، شافعی و حنبلی کو بھی قبول کرلیا جائے تو اللہ تعالیٰ نے سورہ الشوریٰ میں اسے مشرکانہ فعل قرار دیا ہے۔ حکم صرف اللہ کا ماننا ہے، اللہ تعالیٰ نے ہمارا نام مسلمین رکھا ہےلیکن لوگوں نے اپنے اپنے فرقوں کے علماء و مفتیان کے کہنے پر اپنی پہچان اس سے ہٹ کر بنالی ہے، گویا اللہ کے حکم کے سامنے اپنے فرقوں کے بڑوں کا حکم قبول کرلیا۔ سورہ توبہ میں اللہ تعالیٰ نے اس قسم کے عمل کو اپنے مولیوں اور پیروں کو رب بنانا قرار دیا ہے۔

تو جو اس قسم کے تمام عقائد و اعمال سے دور ہو جائے ایسے گروہ اور فرقے جو اس قسم کے کفریہ و شرکیہ عقائد و اعمال میں ملوث ہیں چھوڑ دے، ایک اللہ کو اپنا کارساز مان لے، صرف قرآن و حدیث صحیحہ کو اپنا لے وہی در حقیقت مومن ہے اور ایسے ہی افراد پر صوم فرض کئے گئے ہیں۔

سورہ بقرہ میں صوم کا حکم دیتے ہوئے فرمایا گیا :

﴿أَيَّامٗا مَّعۡدُودَٰتٖۚ فَمَن كَانَ مِنكُم مَّرِيضًا أَوۡ عَلَىٰ سَفَرٖ فَعِدَّةٞ مِّنۡ أَيَّامٍ أُخَرَۚ وَعَلَى ٱلَّذِينَ يُطِيقُونَهُۥ فِدۡيَةٞ طَعَامُ مِسۡكِينٖۖ فَمَن تَطَوَّعَ خَيۡرٗا فَهُوَ خَيۡرٞ لَّهُۥۚ وَأَن تَصُومُواْ خَيۡرٞ لَّكُمۡ إِن كُنتُمۡ تَعۡلَمُونَ﴾

[البقرة: 184]

’’یہ گنتی کے دن ہیں (جن کو پورا کرنا ہے)، لیکن اگر تم میں سے، کوئی بیمار ہو یا سفر میں ہو تو وہ اور دنوں میں اس گنتی کو پورا کرے ۔ اور جو طاقت ہوتے ہوئے صوم نہ رکھنا چاہیں تو وہ بطور فدیہ ایک مسکین کو کھانا کھلا دیں۔ پھر جس نے بخوشی کچھ اضافی عمل کیا تو وہ اس کے لیے باعث خیر ہوگا، اور اگر تم صوم رکھو تو تمہارے لیے بہتر ہوگا اگر اس بات کو سمجھو۔‘‘

أَيَّامٗا مَّعۡدُودَٰتٖۚ ، گنتی کے چند دن۔ یہ کونسے ایام ہیں اگلی ہی آیت میں فرمایا گیا :

﴿شَهۡرُ رَمَضَانَ ٱلَّذِيٓ أُنزِلَ فِيهِ ٱلۡقُرۡءَانُ هُدٗى لِّلنَّاسِ وَبَيِّنَٰتٖ مِّنَ ٱلۡهُدَىٰ وَٱلۡفُرۡقَانِۚ فَمَن شَهِدَ مِنكُمُ ٱلشَّهۡرَ فَلۡيَصُمۡهُۖ وَمَن كَانَ مَرِيضًا أَوۡ عَلَىٰ سَفَرٖ فَعِدَّةٞ مِّنۡ أَيَّامٍ أُخَرَۗ يُرِيدُ ٱللَّهُ بِكُمُ ٱلۡيُسۡرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ ٱلۡعُسۡرَ وَلِتُكۡمِلُواْ ٱلۡعِدَّةَ وَلِتُكَبِّرُواْ ٱللَّهَ عَلَىٰ مَا هَدَىٰكُمۡ وَلَعَلَّكُمۡ تَشۡكُرُونَ﴾

’ماہ رمضان ہی وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا ہے جو لوگوں کے لیے ہدایت ہے اور ہدایت کی واضح دلیلوں پر مشتمل، اور (حق وباطل میں) فرق کرنے والا ہے، لٰہذا تم میں سے جو کوئی اس مہینے کو پائے وہ اس میں صائم رہے، البتہ جو مریض ہو یا سفر میں ہو تو وہ اس تعداد کو دوسرے دنوں میں پورا کرے۔ اللہ تم پر آسانی چاہتا ہے اور تمہیں مشکل میں نہیں ڈالنا چاہتا، تاکہ تم گنتی پوری کرو اور اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی ہدایت پر اس کی کبریائی بیان کرو اور شکر کرو۔‘‘

معلوم ہوا کہ ماہ رمضان کے صوم فرض ہیں، اور حکم ہے کہ ہر ایک ( صاحب ایمان ) صوم رکھے۔ بیماروں اور مسافروں کو یہ رخصت دی گئی کہ مسافر سفر کی حالت میں اور مریض بیماری کی وجہ سے اگر اس مہینے میں کچھ صوم نہ رکھ سکیں تو اس گنتی کو دوسرے دنوں میں پورا کر لیں۔ حدیث میں حاملہ اور رضاعت کرنے والی خواتین کے لئے بھی اس بات کی اجازت دی گئی ہے کہ ان کی یا بچے کی صحت کو خطرہ ہو تو وہ اس گنتی کو دوسرے دنوں میں پورا کر لیں {بخاری کتاب التفسیر ۔نسائی کتاب الصیام}۔

اسلامی احکامات کے نزول میں فطرت انسانی کے پیش نظر تدریج کا خیال رکھا گیا ہے۔ چنانچہ شروع میں اس بات کی رخصت دی گئی کہ طاقت ہونے کے باوجود جو لوگ صوم نہ رکھنا چاہیں وہ اس کے بدلے فدیہ دے سکتے ہیں یعنی ایک صوم کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلا دیں، لیکن اضافی عمل کو مستحب قرار دیا گیا، یعنی کوئی ایک صوم کے بدلے ایک سے زیادہ مساکین کو کھانا دیدے یا فدیہ دینے کے بعد بھی صوم رکھ لے تو اس کے لئے زیادہ بہتر ہے۔ یہ رخصت بعد والی آیت کے نزول کے بعد ختم ہو گئی۔

آیت نمبر 185 پچھلی آیت کی ناسخ ہے یعنی اس کے ذریعے عام حالات میں صوم کے بدلے فدیہ دینے کی رخصت منسوخ ہو گئی ۔ البتہ مریض اور مسافر کے لیے صوم نہ رکھنے اور اس گنتی کو دوسرے دنوں میں پورا کرنے کی رخصت باقی رکھی گئی۔ حدیث میں عمر رسیدہ افراد یا دائمی مریضوں کے لیے صوم کے بدلے فدیہ دینے کی رخصت دی گئی ہے {بخاری: کتاب التفسیر ونسائی ۔کتاب الصیام}۔یعنی ایسے امراض جن میں صحت یاب ہو جانے کی جلد امید ہو اس میں جو صیام رمضان رہ جائیں تو ان کی گنتی بعد میں پوری کی جائے لیکن ایسے دائمی امراض جن میں صوم کیوجہ سے انسان کی بیماری بڑھ جانے کے زیاد ہ اندیشہ ہو یا وہ افراد ضعیف العمر ہوں تو ان کی طرف سے صیام رمضان نہ رکھنے کا فدیہ ادا کردیا جائے۔

اسی طرح مسافر کے لئے آزادی دی گئی ہے کہ وہ چاہے رکھے یا چاہے بعد میں گنتی پوری کرے۔ ایک سفر میں جب صوم رکھنے والوں کی حالت خراب ہو گئی تو غیر صائم سفر کرنے والوں نے ان کی خدمت کی تو نبی ﷺ نے فرمایا کہ آج صوم نہ رکھنے والے فضیلت لے گئے۔

مقصد صیام و فضیلت:

لَعَلَّکُمۡ تَتَّقُوۡنَ ، تاکہ تم پرہیز گار بن جاؤ۔

ماہ صیام ایمان والوں کی تربیت کا انتہائی قیمتی دورانیہ ہے، دن میں صوم اور رات میں قیام کے ذریعے تزکیہِ نفس یعنی اخلاقی خوبیاں پیدا کرنے اور زبان وجذبات پر قابو حاصل کرنے، سیرت وکردار کی اصلاح وتعمیر کرنے اور صبر وحلم کے اوصاف کو پروان چڑھانے کا بہترین موقع ملتا ہے لہٰذا ضروری ہے کہ صائم اس مقصد کو پیش نظر رکھے۔ حدیث میں بھی اس بات پر زور دیا گیا ہے چنانچہ نبی صلی الله عليه وسلم نے فرمایا کہ

مَنْ لَّمْ یَدَعْ قَوْلَ الزُّوْرِ وَالْعَمَلَ بِهِ فَلَیْسَ لِلہ حَاجَۃٌ فِیْ اَنْ یَّدَعَ طَعَامَہُ وَشَرَابَہُ

( بخاری، کتاب الصوم ، بَابُ مَنْ لَمْ يَدَعْ قَوْلَ الزُّورِ، وَالعَمَلَ بِهِ فِي الصَّوْمِ )

“یعنی جو کوئی غلط بات اور غلط کام نہ چھوڑے تو الله کو ضرورت نہیں کہ وہ اپنا کھانا پینا چھوڑ دے”

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الصِّيَامُ جُنَّةٌ فَلَا يَرْفُثْ وَلَا يَجْهَلْ وَإِنْ امْرُؤٌ قَاتَلَهُ أَوْ شَاتَمَهُ فَلْيَقُلْ إِنِّي صَائِمٌ مَرَّتَيْنِ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ تَعَالَی مِنْ رِيحِ الْمِسْکِ يَتْرُکُ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ وَشَهْوَتَهُ مِنْ أَجْلِي الصِّيَامُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ وَالْحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا

( بخاری، کتاب التوحید ، بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {يُرِيدُونَ أَنْ يُبَدِّلُوا كَلاَمَ اللَّهِ})

’’ ابوہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ صوم ڈھال ہے، اس لئے نہ تو بری بات کرے اور نہ جہالت کی بات کرے اگر کوئی شخص اس سے جھگڑا کرے یا گالی گلوچ کرے تو کہہ دے میں صائم ہوں، دو بار کہہ دے۔ (رسول اللہﷺ نے فرمایا) قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ صائم کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے بہتر ہے وہ کھانا پینا اور اپنی مرغوب چیزوں کو صوم کی خاطر چھوڑ دیتا ہے اور نیکی دس گنا ملتی ہے اور ( اللہ تعالیٰ کا قول) میں اس کا بدلہ دیتا ہوں‘‘۔

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الصَّوْمُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ يَدَعُ شَهْوَتَهُ وَأَکْلَهُ وَشُرْبَهُ مِنْ أَجْلِي وَالصَّوْمُ جُنَّةٌ وَلِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ فَرْحَةٌ حِينَ يُفْطِرُ وَفَرْحَةٌ حِينَ يَلْقَی رَبَّهُ وَلَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْکِ

( بخاری، کتاب الباس، بَابُ مَا يُذْكَرُ فِي المِسْكِ)

’’ابوہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں، آپ نے فرمایا کہ اللہ عز و جل فرماتا ہے کہ صوم میرے لئے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا، میری وجہ سے وہ اپنی خواہش، کھانا و پینا چھوڑتا ہے اور صوم ڈھال ہے اورصائم کے لئے دو خوشیاں ہیں ایک خوشی جس وقت صوم افطار کرتا ہے اور ایک خوشی جس وقت اپنے رب سے ملاقات کرے گا اورصائم کے منہ کی بو اللہ کو مشک کی خوشبو سے بھی زیادہ اچھی معلوم ہوتی ہے‘‘۔

یہ بات سمجھ لیں کہ اگر صائم زبان وکردار پر قابو نہ رکھے تو مقصد صوم حاصل نہ ہوگا۔ صائم کو اس دوران اپنے رب سے بہت ہی قربت ہوتی ہے اور وہ شیطانی حملوں سے بڑی حد تک محفوظ رہتا ہے۔ نوافل، صدقات وخیرات کے ذریعے اللہ اور اس کے رسولﷺسے محبت اور ایمان میں پختگی پیدا کرنے کا زریں موقع حاصل ہوتا ہے۔ ماہ صیام کا ماحول بھی صائم کے قلب وذہن پر اثرانداز ہوتا ہے اور قیام الّیل میں تسلسل سے قرآن سننا اس کی تربیت کے عمل میں بہت زیادہ بہتری لاتا ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :

وَمَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ

( بخاری، کتاب الصوم ، بَابُ مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا وَنِيَّةً )

’’ اور جس نے رمضان کے صوم ایمان اور ثواب کی نیت سے رکھے تو اس کے پچھلے گناہ معاف کردئیے جاتے ہیں ‘‘۔

قیامت کے دن صائم کے لئے جنت میں ایک خصوصی دروازہ ہوگا۔ نبی ﷺ نے فرمایا:

عَنْ سَهْلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ فِي الْجَنَّةِ بَابًا يُقَالُ لَهُ الرَّيَّانُ يَدْخُلُ مِنْهُ الصَّائِمُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَا يَدْخُلُ مِنْهُ أَحَدٌ غَيْرُهُمْ يُقَالُ أَيْنَ الصَّائِمُونَ فَيَقُومُونَ لَا يَدْخُلُ مِنْهُ أَحَدٌ غَيْرُهُمْ فَإِذَا دَخَلُوا أُغْلِقَ فَلَمْ يَدْخُلْ مِنْهُ أَحَدٌ

( بخاری ، کتاب الصوم ، بَابٌ: الرَّيَّانُ لِلصَّائِمِينَ )

’’سہل ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ جنت میں ایک دروازہ ہے جس کو ریان کہتے ہیں قیامت کے دن اس دروازے سے صائم ہی داخل ہوں گے کوئی دوسرا داخل نہ ہوگا، کہا جائے گا کہ صائم کہاں ہیں ؟ وہ لوگ کھڑے ہوں گے اس دروازہ سے ان کے سوا کوئی داخل نہ ہو سکے گا، جب وہ داخل ہوجائیں گے تو وہ دروازہ بند ہوجائے گا اور اس میں کوئی داخل نہ ہوگا‘‘۔

نبی ﷺ نے فرمایا:

مَنْ صَامَ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ بَعَّدَ اللَّهُ وَجْهَهُ عَنْ النَّارِ سَبْعِينَ خَرِيفًا

’’ جو شخص اللہ کی راہ میں ایک دن کا صوم رکھے اللہ تعالیٰ اس کے چہرے کو جہنم سے ستر سال دور کردیتا ہے ‘‘

( بخاری، کتاب الجھاد و السیر، بَابُ فَضْلِ الصَّوْمِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ )

رمضان المبارک ماہ صیام و شھر القرآن ہے۔یہ اسلامی تقویم کا نواں مہینہ ہے۔بیان اللسان اور المنجد میں اس کا مادہ رَمَضَ باب سَمِعَ سے بھی آیا ہے ۔ اولذکر باب سے اس کے معنیٰ دن کا بہت گرم ہونا ، ریت کا تیز دھوپ سے جلنا ، پیاس سے بدن کا گرم ہونا ، تپتی زمین پر چلنے وغیرہ کے ہیں۔ جبکہ دوسرے باب سے تلوار وغیرہ کے پھل کو دو پتھروں کے درمیان رکھ کر کوٹ کر دھار لگانے کے معنوں میں آتا ہے۔ یہی مادہ ثلاثی مزید فیہ میں تفعیل و افعال کے ابواب میں بکریوں کو سخت گرم زمین پر چَرانے ، کسی کو جلانے تکلیف دینے کے معنیٰ دیتا ہے۔

چونکہ اس ماہ میں صوم رکھ کر نفس کی تربیت کی جاتی ہے ، بھوکا پیاسہ رہ کر اسے تپایا جاتا ہے ، یعنی اسے کوٹ پیٹ کا سان لگا یا جاتا ہے اس کے اوپر بیان کئے گئے تمام ہی معنی اس ماہ رمضان پر صادق آتے ہیں۔

شَهۡرُ رَمَضَانَ ٱلَّذِيٓ أُنزِلَ فِيهِ ٱلۡقُرۡءَانُ هُدٗى لِّلنَّاسِ وَبَيِّنَٰتٖ مِّنَ ٱلۡهُدَىٰ وَٱلۡفُرۡقَانِۚ ۔ ۔

(البقرہؒ185)

’’ماہ رمضان ہی وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا ہے جو لوگوں کے لیے ہدایت ہے اور ہدایت کی واضح دلیلوں پر مشتمل اور (حق وباطل میں) فرق کرنے والا ہے‘‘۔

یہ نزول قرآن اسی ماہ مبارک کی رات ’’ لیلۃ القدر ‘‘ میں ہوا ہے جسے اللہ تعالیٰ نے ہزار ماہ سے افضل رات قرار دیا ہے۔

نبی ﷺ نے فرمایا:

إِذَا كَانَ رَمَضَانُ فُتِّحَتْ أَبْوَابُ الرَّحْمَةِ وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ جَهَنَّمَ وَسُلْسِلَتْ الشَّيَاطِينُ

( بخاری، کتاب الصوم ، بَابٌ: هَلْ يُقَالُ رَمَضَانُ أَوْ شَهْرُ رَمَضَانَ، وَمَنْ رَأَى كُلَّهُ وَاسِعًا )

’’جب رمضان آتا ہے تو رحمت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں اور شیطانوں کو زنجیروں میں جکڑ دیا جاتا ہے‘‘۔

یعنی جس طرح شیطان عام دنوں میں مومنین کو آسانی سے بہکا دیتا ہے اس ماہ میں اس طرح نہیں ہوتا بلکہ ایمان دار اس ماہ میں عبادات کا خصوصی اہتمام کرتے ہیں۔اللہ کی طرف سے رحمت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کردئیے جاتے ہیں۔ اس ماہ میں صوم کے کیساتھ ساتھ قیام الیل کا خصوصی اہتمام کرنا چاہئیے۔ صلاۃ العشاء کے بعد مسجد میں طویل قیام الیل ہو اور کوشش کی جائے کہ کم از کم ایک سپارہ روز ختم کریں اور پھر سحری سے قبل بھی قیام الیل ہو۔ نبی ﷺ نے اس کی خاص فضیلت فرمائی :

مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ

( بخاری، کتاب الایمان ، بَابٌ: تَطَوُّعُ قِيَامِ رَمَضَانَ مِنَ الإِيمَانِ )

’’ جو کھڑا ہوا رمضان میں ایمان اور ثواب کی نیت سے اس کے پچھلے گناہ معا ف کردئیے جاتے ہیں ‘‘۔

ابن عباس ؓ سے مروی ہے :

قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِامْرَأَةٍ مِنْ الْأَنْصَارِ سَمَّاهَا ابْنُ عَبَّاسٍ فَنَسِيتُ اسْمَهَا مَا مَنَعَکِ أَنْ تَحُجِّينَ مَعَنَا قَالَتْ کَانَ لَنَا نَاضِحٌ فَرَکِبَهُ أَبُو فُلَانٍ وَابْنُهُ لِزَوْجِهَا وَابْنِهَا وَتَرَکَ نَاضِحًا نَنْضَحُ عَلَيْهِ قَالَ فَإِذَا کَانَ رَمَضَانُ اعْتَمِرِي فِيهِ فَإِنَّ عُمْرَةً فِي رَمَضَانَ حَجَّةٌ أَوْ نَحْوًا مِمَّا قَالَ

( بخاری، کتاب العمرہ ، بَابُ عُمْرَةٍ فِي رَمَضَانَ )

’’انصار کی ایک عورت سے (جس کا نام ابن عباس نے لیا تھا لیکن میں بھول گیا) فرمایا کہ تمہیں میرے ساتھ حج کرنے سے کس چیز نے روکا ؟ اس نے کہا کہ میرے پاس ایک پانی بھرنے والا اونٹ تھا جس پر اس کا بیٹا اور فلاں شخص (یعنی اس کا شوہر) سوار ہو کر چلے گئے اور صرف ایک اونٹ چھوڑ گیا، جس ہر ہم پانی لادتے ہیں، آپ نے فرمایا کہ جب رمضان کا مہینہ آئے تو اس مہینہ میں عمرہ کرلے اس لئے کہ رمضان میں عمرہ کرنا ایک حج کے برابر ہے یا اسی کے مثل کچھ فرمایا۔

یعنی اس ماہ میں عمرے کی اس قدر فضیلت ہے کہ اس کا ثواب حج کے برابر ہے۔

اب ہم آتے ہیں صوم کے طریقہ کار کی طرف۔

صوم کا طریقہ کار

نبی ﷺ نے فرمایا :

الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ لَيْلَةً فَلَا تَصُومُوا حَتَّی تَرَوْهُ فَإِنْ غُمَّ عَلَيْکُمْ فَأَکْمِلُوا الْعِدَّةَ ثَلَاثِينَ

’’مہینہ انتیس راتوں کا بھی ہوتا ہے اس لئے جب تک چاند نہ دیکھ لوصوم نہ رکھو اور جب تک چاند نہ دیکھ لو افطار نہ کرو۔ اور اگر ابر چھایا ہوا ہو تو تیس دن پورے کرو‘‘۔

( بخاری ، کتاب الصوم ، بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ [ص:27]:

إِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَصُومُوا وَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَأَفْطِرُوا فَإِنْ غُمَّ عَلَيْکُمْ فَاقْدُرُوا لَهُ

’’جب تم رمضان کا چاند دیکھو، تو ٍصوم رکھو اور جب شوال کا چاند دیکھو تو افطار کرو، اگر تم پر بدلی چھائی ہو تو اس کا اندازہ کرو ( یعنی تیس دن پورے کرو) ۔‘‘

( بخاری ، کتاب الصوم ، بَابٌ: هَلْ يُقَالُ رَمَضَانُ أَوْ شَهْرُ رَمَضَانَ، وَمَنْ رَأَى كُلَّهُ وَاسِعًا)

سامعین ! چاند دیکھنے پر دعا جو عام طور پر مشہور ہے ، سنداً و ہ ضعیف ہے، اسی طرح صوم رکھنے کی کوئی بھی دعا کسی بھی حدیث سے ثابت نہیں یہ من گھڑت ہے لہذا بدعت ہے۔ اس بارے میں نبی ﷺ کی حدیث پیش کی جاتی ہے کہ ’’ جس نے فجر سے پہلے نیت نہیں کی تو اس کا صوم نہیں‘‘ ( سنن نسائی ، کتاب الصیام ، ذكر اختلاف الناقلين لخبر حفصة في ذلك )۔ نیت دراصل دل کے ارادے کا نام ہے ، یعنی جس نے فجر سے پہلے صوم کا ارادہ نہیں کیا اس کا صوم نہیں۔

اوقات صوم ؛

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

﴿۔ ۔ ۔ وَكُلُواْ وَٱشۡرَبُواْ حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَكُمُ ٱلۡخَيۡطُ ٱلۡأَبۡيَضُ مِنَ ٱلۡخَيۡطِ ٱلۡأَسۡوَدِ مِنَ ٱلۡفَجۡرِۖ ثُمَّ أَتِمُّواْ ٱلصِّيَامَ إِلَى ٱلَّيۡلِۚ ﴾

[البقرة: 187]

’’اور کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ صبح کی سفید دھاری سیاہ دھاری سے الگ نظر آنے لگے، پھر رات تک صوم کو پورا کرلو۔ ‘‘

سیاہ اور سفید دھاری یا دھاگے کا فرق اسی وقت واضح ہو سکتا ہے جبکہ رات کی تاریکی ختم ہو اور دن کی روشنی نمودار ہو۔ عدی بن حاتم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی صلی الله عليه وسلم سے اس بارے میں وضاحت چاہی تو آپ نے فرمایا کہ “اس سے رات کی سیاہی اور صبح کی سفیدی مراد ہے” {بخاری: کتاب التفسیر}۔ یہ روشنی شفق سحر کے آغاز پر نمودار ہوتی ہے اور اسی کو “طلوعِ سحر” یا “صبح صادق” کہا جاتا ہے، اور اسی سے صوم کی ابتداء ہوتی ہے ِ،سحری آخری وقت میں کی جائے اور صبح صادق سے قبل سحری ختم کر دی جائے ۔

سحری کھانے میں برکت ہوتی ہے، نبی ﷺ نے فرمایا :

تَسَحَّرُوا فَإِنَّ فِي السَّحُورِ بَرَکَةً

( بخاری، کتاب الصوم ، بَابُ بَرَكَةِ السَّحُورِ مِنْ غَيْرِ إِيجَابٍ )

’’ سحری کھاؤ اس لئے کہ سحری کھانے میں برکت ہوتی ہے‘‘۔

فَصْلُ مَا بَيْنَ صِيَامِنَا وَصِيَامِ أَهْلِ الْکِتَابِ أَکْلَةُ السَّحَرِ

( مسلم ، کتاب الصیام ، بَابُ فَضْلِ السُّحُورِ وَتَأْكِيدِ اسْتِحْبَابِهِ، وَاسْتِحْبَابِ تَأْخِيرِهِ وَتَعْجِيلِ الْفِطْرِ )

’’ہمارے اور اہل کتاب کے صوم میں سحری کھانے کا فرق ہے‘‘۔

نبی ﷺ نے فرمایا :

إِذَا أَقْبَلَ اللَّيْلُ مِنْ هَا هُنَا وَأَدْبَرَ النَّهَارُ مِنْ هَا هُنَا وَغَرَبَتْ الشَّمْسُ فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائِمُ

( بخاری ، کتاب الصوم ، بَابٌ: مَتَى يَحِلُّ فِطْرُ الصَّائِمِ)

’’جب رات اس طرف سے آجائے اور دن اس طرف چلا جائے اور آفتاب ڈوب جائے تو صائم کے افطار کا وقت آگیا‘‘۔

متعدد احادیث میں افطار میں جلدی اور سحری میں تاخیر کرنے کی تاکید کی گئی ہے، لہذا یہ مسنون اور مستحب ہے کہ غروب کے فورا بعد افطار کر لیا جائے اور یہاں یہ بات قابل وضاحت ہے کہ قطبین کے نزدیکی علاقوں میں جہاں دن و رات کئ کئ مہینے کے ہوتے ہیں وہاں مشرقی اور مغربی افق پر کچھ ایسے آثار نمایاں ہو جاتے ہیں جن سے صبح وشام کا اندازہ لگا کے وہ لوگ سونے جاگنے اور دیگر ضروریات ومشاغل کے اوقات کار متعین کر لیتے ہیں، چنانچہ صلوۃ اور سحروافطار کے اوقات کا تعین بھی اسی طرح کیا جا سکتا ہے۔

جب نبی ﷺ افطار فرماتے تو کہتے :

ذَهَبَ الظَّمَأُ وَابْتَلَّتْ الْعُرُوقُ وَثَبَتَ الْأَجْرُ إِنْ شَائَ اللَّهُ

( ابوداؤد ، کتاب الصوم ، باب القول عند الإفطار )

(ترجمہ) پاس بجھ گئی رگیں تر ہوگئیں اور اجر ثابت ہوگیا اگر اللہ نے چاہا۔

اس مبارک ماہ میں صائم کو صوم افطار کرانے کی بھی بڑی فضیلت ہے، نبی ﷺ نے فرمایا :

من فطر صائما كان له مثل أجره، غير أنه لا ينقص من أجر الصائم شيئا

( ترمذی، ابواب الصوم ، باب ما جاء في فضل من فطر صائما )

’’ جس نے کسی صائم کو افطار کرایا اس کے لئے بھی اتنا ہی اجر ہے جتنا صائم کو ملے گا اور صائم کے اجر سے کوئی کمی نہ ہوگی ‘‘۔

لہذا اللہ نے توفیق دی ہو تو زیادہ سے زیادہ کو افطار کرایا جائے۔

اس طرح ماہ صیام مومن کے لیے بہت ہی بڑی نعمت ہے ۔ یہ احساس کہ الله تعالیٰ نے ہدایت عطا فرما کے ہم پر کتنا عظیم احسان فرمایا ہے، مومن کے دل میں جذبۂ تشکر پیدا کرتا ہے چنانچہ اس کو والہانہ اپنے رب کی عظمت وکبریائی اور حمد وثنا میں رطب اللسان رہنا چاہئے۔ اس بات کو دل میں اتار لیں کہ رمضان کا مہینہ سیرت و کردر اور اخلاق و اوصاف کی تعمیر و اصلاح کا بہترین وقت ہے۔ مومنین کو چاہئیے کہ اس زرین موقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں اور جو کمی و کوتاہی اس سے قبل ہوئی ہو اس کا ازالہ کریں۔ اپنے اعمال کا محاسبہ کرتے ہوئے اس ماہ کے دن و رات اللہ کی بندگی میں صرف کریں ۔ اذکار اور صلاہ علی النبی ( درود ) کا اہتمام ہو ، قرآن مجید کی تلاوت بھی کی جائے ، آیاتِ بشارت پر اللہ کی رحمت طلب کی جائے اور آیات ِ وعید پر اللہ کے عذاب سے پناہ مانگی جائے۔ فرض صلاۃ کا اہتمام بھی پہلے سے بڑھ کر ہو اور نوافل پر زور دیا جائے۔

یاد رکھیں کہ اس مبارک ماہ میں تمام ایسے کاموں سے مکمل پرہیز ہو جو دنیا پرستی کی طرف جاتے ہوں۔ بازاروں سے دور رہیں جہاں لوگ اللہ کے احکامات کے مقابلے شیطان کی پیروی کر رہے ہوتے ہیں۔ یہ کمائی کا مہینہ ہےکہ جتنا زیادہ ہو سکے کما لیں ، معلوم نہیں کہ آئندہ سال ہمیں ماہ نصیب ہوگا یا نہیں۔

آج کی اس پوسٹ میں ہم ان باتوںکی نشاندہی کریں گے کہ جو حالت صوم میں کی جا سکتی ہیں یاجن کی وجہ سے صوم ٹوٹ سکتا ہے۔

وہ مباح کام جو حالت صوم میں کئے جا سکتے ہیں :

حالت صوم میں غلطی سے کھا پی لینےکے متعلق نبی ﷺ نے فرمایا :

إِذَا نَسِيَ فَأَكَلَ وَشَرِبَ، فَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ، فَإِنَّمَا أَطْعَمَهُ اللَّهُ وَسَقَاهُ

( بخاری، کتاب الصوم ، بَابُ الصَّائِمِ إِذَا أَكَلَ أَوْ شَرِبَ نَاسِيًا )

’’ جب کوئی غلطی سے کھا پی لے تو صوم ختم نہ کرے، کیونکہ اسے اللہ ہی نے کھلایا و پلایا ہوتا ہے ‘‘۔

حالت صوم میں سینگی لگوائی جا سکتی ہے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں :

احْتَجَمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ وَاحْتَجَمَ وَهُوَ صَائِمٌ

( بخاری، کتاب الجزاء و الصید ، بَابُ الحِجَامَةِ لِلْمُحْرِمِ )

’’(نبیﷺ نے ) حالت احرام میں حجامہ کرایا اور صوم کی حالت میں بھی حجامہ کرایا‘‘۔

جسم سے فاسد خون نکلوانے کو سینگی یا حجامہ کہتےہیں۔ ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ حالت حجامہ کرنے اور کرانے والے دونوں کا صوم ٹوٹ جاتا ہے تو خیال رہے کہ وہ حدیث فتح مکہ کے موقع کی ہے جبکہ وہ حدیث جس میں حالت صوم میں حجامہ کا ذکر ہے وہ حجۃ الوداع کے موقع کی ہے یعنی اسے کے بعد کی ہے لہذا عمل آخر والی پر ہی ہوگا کہ حالت صوم میں حجامہ کرایا جا سکتا ہے۔

اب جب حالت صوم میں جسم سے خون نکلنا ثابت ہے تو بیماری کی صورت میں خون ٹیسٹ وغیرہ کے لئے خون نکالا جا سکتا ہے اور اگر کسی اور کو خون کی ضرورت ہے تو اسے بھی دیا جا سکتا ہے لیکن اس بات کا خیال رکھا جائے کہ اسقدر خون نہ نکل جائے کہ جسم میں کمزوری پیدا ہو جائے۔

صوم کی حالت میں سرمہ بھی لگایا جا سکتا ہے۔ (مصنف ابن أ بي شيبۃ ، کتاب الصیام ، باب من رخص فی الکحل للصائم)

اگر جنابت کی حالت میں بیدار ہو تو سحری کرلے پھر غسل کرکے صلوٰۃ ادا کرلے۔ ( بخاری، کتاب الصوم ،بَابُ الصَّائِمِ يُصْبِحُ جُنُبًا)

حالت صوم میں اگر احتلام ہو جائے تو صوم جاری رکھے کیونکہ یہ انسان کے اپنے کنٹرول کا معاملہ نہیں اور نبی ﷺ کا فرمان ہے کہ ’’ تین آدمیوں پر سے قلم اٹھا لیا گیا ہے، ایک : جو سویا ہوا ہو حتیٰ کہ وہ جاگ جائے ، دوسرا دیوانہ جب تک کہ وہ عقلمند نہ ہو جائے اور تیسرا بچہ حتی کہ وہ بڑا یعنی بالغ ہو جائے۔( سنن ابی داؤد ، کتاب الحدود ، باب في المجنون يسرق أو يصيب حدا )

جو جان بوجھ کر قے کرے تو اس کا صوم ٹوٹ جائے گا، نبی ﷺ نے فرمایا :

مِنْ ذَرَعَهُ الْقَيْءُ وَهُوَ صَائِمٌ فَلَيْسَ عَلَيْهِ قَضَاءٌ وَمَنِ اسْتَقَاءَ فَلْيَقْضِ

( سنن ابی داؤد، کتاب الصوم ، باب الصائم يستقيء عامدا )

’’جسے حالت صوم میں قے آ جائے تو اس پر قضاء نہیں ہے (یعنی اس کاصوم نہیں ٹوٹا) اور جس نے از خود قے کی اس پر قضاء لازم ہے‘‘۔

اکثر انجکشن کے بارے میں سوال کیا جاتا ہے ۔

وضاحت : اگر کسی کی حالت خطرناک حد کو چھو رہی ہو تو وہ انجکشن لگوا لےتو اس میں حرج نہیں لیکن نارمل حالت میں یاطاقت کے لئے انجکشن لگوائے تو یہ جائز نہیں ہوگا۔

حالت صوم میں ممنوعہ امور:

حالت صوم میں جماع کسی بھی طور جائز نہیں البتہ رات میں اس پر کوئی پابندی نہیں۔ سورہ بقرہ میں فرمایا گیا :

اُحِلَّ لَکُمۡ لَیۡلَۃَ الصِّیَامِ الرَّفَثُ اِلٰی نِسَآئِکُمۡ

( البقرہ : 187 )

’’صوم کی رات میں اپنی بیویوں سے ملنا تمہارے لیے حلال کیا گیا ہے‘‘۔

ایک شخص جو حالت صوم میں جماع کا مرتکب ہو گیا اس سے نبی ﷺ نے پوچھا :

أَتَجِدُ مَا تُحَرِّرُ رَقَبَةً ، قَالَ لَا

کیا تم ایک غلام آزاد کر سکتے ہو؟ اس نے جواب دیا: نہیں۔

قَالَ فَتَسْتَطِيعُ أَنْ تَصُومَ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ قَالَ لَا

فرمایا: کیا تم دو ماہ کے مسلسل صوم رکھ سکتے ہو ؟ جواب دیا : نہیں

قَالَ أَفَتَجِدُ مَا تُطْعِمُ بِهِ سِتِّينَ مِسْکِينًا قَالَ لَا

فرمایا : کیا تم ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا سکتے ہو؟ جواب دیا : نہیں

فَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَقٍ فِيهِ تَمْرٌ وَهُوَ الزَّبِيلُ قَالَ أَطْعِمْ هَذَا عَنْکَ

نبی ﷺ کے پاس کھجوروں کا ایک تھیلا لایا گیا ، تو نبی ﷺ نے وہ اسے دے دیا کہ وہ لیجا کر اپنی طرف سے کھلا دے، یعنی صدقہ کردے۔

( بخاری ، کتاب الصوم ، بَابُ المُجَامِعِ فِي رَمَضَانَ، هَلْ يُطْعِمُ أَهْلَهُ مِنَ الكَفَّارَةِ إِذَا كَانُوا مَحَاوِيجَ )

لہذا اگر کوئی ایسی حرکت کا مرتکب ہو جائے اور اس میں غلام آزاد کرنے کی توفیق ہو تو وہ غلام آزاد کرے، اگر نہ ہو تو لگاتار دو ماہ کے صوم رکھے، اگر اس کی صحت اس بات کی اجازت نہیں دیتی تو وہ ساٹھ مساکین کو ایک وقت کا کھانا کھلا دے اور اگر اس کی بھی گنجائش نہ ہو تو جو ہو سکے وہ صدقہ کرے۔

حالت حیض میں بھی صوم نہیں رکھا جا سکتا بلکہ بعد کے دنوں میں اس کی قضاء کا حکم ہے۔

سنن نسائی، کتاب الصیام،باب: وضع الصيام عن الحائض )

مباحات میں بیان کی گئی ایک حدیث سے واضح ہے کہ جو جان بوجھ کر قہ کرے اس کا صوم ٹوٹ جاتا ہے اور اسے بعد میں اسے پورا کرنا ہوگا ۔

اس سے قبل سابقہ پوسٹ میں اس بات کی وضاحت کردی گئی ہے حالت صوم میں ایماندار کسی سے جھگڑا نہ کرے ۔ نبی ﷺ نے فرمایا :

’’۔ ۔ ۔ نہ تو بری بات کرے اور نہ جہالت کی بات کرے اگر کوئی شخص اس سے جھگڑا کرے یا گالی گلوچ کرے تو کہہ دے میں صائم ہوں، ‘‘۔

( بخاری، کتاب التوحید ، بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {يُرِيدُونَ أَنْ يُبَدِّلُوا كَلاَمَ اللَّهِ})

مزید فرمایا :

“۔ ۔ ۔ جو کوئی غلط بات اور غلط کام نہ چھوڑے تو الله کو ضرورت نہیں کہ وہ اپنا کھانا پینا چھوڑ دے”

( بخاری، کتاب الصوم ، بَابُ مَنْ لَمْ يَدَعْ قَوْلَ الزُّورِ، وَالعَمَلَ بِهِ فِي الصَّوْمِ )

لہذا مومنین ہر اس چیز سے دور رہیں جس سے صوم میں کی گئی محنت ضائع ہو جائے ۔

قیام الیل فی الرمضان

ماہ صیام میں قیام الیل کا بڑا اجر ہے ،نبی ﷺ نے فرمایا:

مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ

( بخاری، کتاب الایمان ، بَابٌ: تَطَوُّعُ قِيَامِ رَمَضَانَ مِنَ الإِيمَانِ )

’’ جو کھڑا ہوا رمضان میں ایمان اور ثواب کی نیت سے اس کے پچھلے گناہ معا ف کردئیے جاتے ہیں ‘‘۔

قیام الیل کے معنی ہیں رات کو کھڑا ہونا، احادیث میں یہ اصطلاح رات میں نوافل ادا کرنے کے لئے استعمال کی گئی ہے۔ رات کی صلاۃ کی ادائیگی نہایت افضل عبادت ہے اور احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت فرشتے بھی حاضر ہوتے ہیں اور رات کے آخر میں اللہ تعالیٰ آسمان دنیا پر تشریف لاتا ہے اور فرماتا ہے کہ ہے کوئی مجھ سے سوال کرنے والا کہ میں اسے عطا کروں ، کوئی مجھ

سے دعا کرنے والا ہے کہ اس کی دعا قبول کروں ، ہے کوئی کہ مجھ سے مغفرت چاہے اور میں اسے بخش دوں۔ قرآن مجید میں فرمایا گیا :

﴿وَٱلَّذِينَ يَبِيتُونَ لِرَبِّهِمۡ سُجَّدٗا وَقِيَٰمٗا٦٤ وَٱلَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا ٱصۡرِفۡ عَنَّا عَذَابَ جَهَنَّمَۖ إِنَّ عَذَابَهَا كَانَ غَرَامًا﴾

[الفرقان: 64-65]

’’ ان کی راتیں اپنے رب کے سامنے قیام و سجود میں گزرتی ہیں اور وہ دعا کرتے ہیں کہ اے ہمارے رب ! ہمیں عذاب جہنم سے بچا ، بلاشبہ اس کا عذاب بڑا تکلیف دہ ہے‘‘۔

نبی ﷺ نے فرمایا :

«رحم الله رجلا قام من الليل فصلى، وأيقظ امرأته فصلت، فإن أبت نضح في وجهها الماء، رحم الله امرأة قامت من الليل فصلت، وأيقظت زوجها، فإن أبى نضحت في وجهه الماء»

( ابوداؤد، باب تفریع ابواب الوتر، باب الحث على قيام الليل )

’’ اللہ رحم فرمائے اس آدمی پر جو رات کو اٹھے اور صلاۃ ادا کرے اور اپنی عورت کو بھی اٹھائے،اگر وہ نہ اٹھے تو اس منہ پر پانی کے چھینٹے مارے۔ اللہ رحم فرمائے اس عورت پر جو رات کو اٹھے اور صلاۃ ادا کرے اور اپنے شوہر کو اٹھائے اور اگر وہ نہ اٹھے تو اس کے منہ پر پانی کے چھینٹے مارے ‘‘۔

یہی عبادت جب ماہ صیام میں ہو تو اس کا اجر اور بھی بڑھ جاتا ہے جیسا کہ اوپر حدیث میں بیان کیا گیا جو مسلم اس ماہ میں قیام الیل کے لئے ایمان اور ثواب کی نیت سے کھڑا ہوا تو اس کے سابقہ گناہ معاف کردئیے جاتے ہیں۔ گویا ماہ صیام میں یہ عمل ایک مسلم کے لئے ثواب کمانےاور سابقہ گناہ معاف کرانے کا ایک بہترین موقع ہے۔

ماہ صیام میں ہونے والے اس عمل کو لوگ ’’ تراویح ‘‘ کہتے ہیں لیکن احادیث میں اسے ’’ قیام الیل ‘‘ ہی کہا گیا ہے۔زید بن ثابت ؓ فرماتے ہیں :

أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اتَّخَذَ حُجْرَةً – قَالَ: حَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ مِنْ حَصِيرٍ – فِي رَمَضَانَ، فَصَلَّى فِيهَا لَيَالِيَ، فَصَلَّى بِصَلاَتِهِ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَلَمَّا عَلِمَ بِهِمْ جَعَلَ يَقْعُدُ، فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ فَقَالَ: «قَدْ عَرَفْتُ الَّذِي رَأَيْتُ مِنْ صَنِيعِكُمْ، فَصَلُّوا أَيُّهَا النَّاسُ فِي بُيُوتِكُمْ، فَإِنَّ أَفْضَلَ الصَّلاَةِ صَلاَةُ المَرْءِ فِي بَيْتِهِ إِلَّا المَكْتُوبَةَ»

( بخاری ، کتاب الاذان ، بَابُ صَلاَةِ اللَّيْلِ )

’’ کہ رسول اللہﷺ نے رمضان میں ایک حجرہ بنایا تھا (سعید کہتے ہیں مجھے خیال آتا ہے کہ زید بن ثابت ؓ نے یہ کہا تھا کہ وہ چٹائی کا تھا) اور اس میں چند شب آپ نے صلوٰۃ ادا کی، اس کا علم آپ کے اصحاب کو ہوگیا اس لئے انہوں نے آپ کی اقتداء میں صلوٰۃ ادا کی۔ مگر جب آپ کو ان کا علم ہوا تو بیٹھ رہے، پھر صبح کو ان کے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ میں نے تمہارا فعل دیکھا، اسے سمجھ لیا (یعنی تم کو عبادت کا شوق ہے) تو اے لوگو ! اپنے گھروں میں صلوٰۃ ادا کیا کرو کیونکہ آدمی کی صلوٰۃمیں سب سے افضل وہ صلوٰۃہے جو وہ گھر میں ادا کرے سوائے فرض صلوٰۃ ‘‘۔

ایک دوسری روایت میں جو عائشہ ؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں:

أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى ذَاتَ لَيْلَةٍ فِي المَسْجِدِ، فَصَلَّى بِصَلاَتِهِ نَاسٌ، ثُمَّ صَلَّى مِنَ القَابِلَةِ، فَكَثُرَ النَّاسُ، ثُمَّ اجْتَمَعُوا مِنَ اللَّيْلَةِ الثَّالِثَةِ أَوِ الرَّابِعَةِ، فَلَمْ يَخْرُجْ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا أَصْبَحَ قَالَ: «قَدْ رَأَيْتُ الَّذِي صَنَعْتُمْ وَلَمْ يَمْنَعْنِي مِنَ الخُرُوجِ إِلَيْكُمْ إِلَّا أَنِّي خَشِيتُ أَنْ تُفْرَضَ عَلَيْكُمْ وَذَلِكَ فِي رَمَضَانَ»

( بخاری، کتاب التہجد، بَابُ تَحْرِيضِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى صَلاَةِ اللَّيْلِ وَالنَّوَافِلِ مِنْ غَيْرِ إِيجَابٍ )

’’عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک رات مسجد میں صلوٰۃ ادا کی تو آپ کے ساتھ لوگوں نے بھی پڑھی، پھر دوسری رات میں آپ نےصلوٰۃ ادا کی تو لوگوں کی تعداد زیادہ ہوگئی، پھر تیسری یا چوتھی رات کو لوگ جمع ہوئے تو رسول اللہﷺان کے پاس نہیں آئے۔ جب صبح ہوئی تو آپ نے فرمایا کہ میں نے اس چیز کو دیکھا جو تم نے کیا اور مجھے باہر آنے سے کسی چیز نے نہیں روکا، بجز اس خوف کے کہ کبھی تم پر فرض نہ ہوجائے، اور یہ رمضان کا واقعہ ہے‘‘۔

واضح ہوا کہ قیام الیل فی رمضان کچھ دن نبی ﷺ کی امامت میں بھی ادا کی گئی ہے لیکن نبی ﷺ نے اسے اس لئے جاری نہیں رکھا کہ کہیں امت پر یہ فرض نہ ہو جائے۔نبی ﷺ کی وفات کے بعد یہ عمل جاری رہا ۔ عمر ؓ کے دور میں ایک ہی مسجد میں کئی کئی جماعتیں متفرق اماموں کے پیچھے ہونے لگیں :

عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ القَارِيِّ، أَنَّهُ قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ عُمَرَ بْنِ الخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، لَيْلَةً فِي رَمَضَانَ إِلَى المَسْجِدِ، فَإِذَا النَّاسُ أَوْزَاعٌ مُتَفَرِّقُونَ، يُصَلِّي الرَّجُلُ لِنَفْسِهِ، وَيُصَلِّي الرَّجُلُ فَيُصَلِّي بِصَلاَتِهِ الرَّهْطُ، فَقَالَ عُمَرُ: «إِنِّي أَرَى لَوْ جَمَعْتُ هَؤُلاَءِ عَلَى قَارِئٍ وَاحِدٍ، لَكَانَ أَمْثَلَ» ثُمَّ عَزَمَ، فَجَمَعَهُمْ عَلَى أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، ثُمَّ خَرَجْتُ مَعَهُ لَيْلَةً أُخْرَى، وَالنَّاسُ يُصَلُّونَ بِصَلاَةِ قَارِئِهِمْ، قَالَ عُمَرُ: «نِعْمَ البِدْعَةُ هَذِهِ، وَالَّتِي يَنَامُونَ عَنْهَا أَفْضَلُ مِنَ الَّتِي يَقُومُونَ» يُرِيدُ آخِرَ اللَّيْلِ وَكَانَ النَّاسُ يَقُومُونَ أَوَّلَهُ

(بخاری، کتاب التراویح ، بَابُ فَضْلِ مَنْ قَامَ رَمَضَانَ )

’’عبدالرحمن بن عبدالقاری سےمنقول ہے ،عبدالرحمن نے بیان کیا کہ میں عمر ؓ کے ساتھ رمضان کی ایک رات مسجد کی طرف نکلا، وہاں لوگوں کو دیکھا کہ کوئی الگ صلوٰۃ ادا کررہا ہے اور کہیں ایک شخص صلوٰۃ ادا رہا ہے تو اس کے ساتھ کچھ لوگ صلوٰۃ ادا کر رہے ہیں، عمر ؓنے فرمایا کہ میرا خیال ہے کہ ان سب کو ایک قاری پر متفق کروں تو زیادہ بہتر ہوگا پھر اس کا عزم کر کے ان کو ابی بن کعب ؓپر جمع کردیا۔ پھر میں ان کے ساتھ دوسری رات میں نکلا لوگ اپنے قاری کے ساتھ صلوٰۃ ادا کر رہے تھے، عمرؓ نے فرمایا کہ یہ ایک اچھی نئی بات ہے اور رات کا وہ حصہ یعنی آخری رات جس میں لوگ سو جاتے ہیں اس سے بہتر ہے جس میں کھڑے ہوجاتے ہیں اور لوگ ابتدائی حصہ میں کھڑے ہوتے تھے‘‘۔

واضح ہوا کہ یہ کام خود نبی ﷺ نے کچھ دن کیا اور بعد میں باقاعدہ صحابہ ؓ نے اس کامکمل اہتمام کیا۔روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ ؓ طویل قیام کیا کرتے تھے:

سائب بن یزید ؒ سے روایت ہے کہ عمرؓ نے ابی بن کعبؓ اور تمیم داری ؓ کو گیارہ رکعتیں پڑھانے کو کہا۔ امام ایک رکعت میں سو سو آیتیں پڑھتا ، یہاں تک کہ ہم لکڑی پر سہارا لگاتے ، اور ہم فجر کے قریب ہی فارغ ہوتے تھے۔

( موطاامام مالک : کتاب الصلوٰۃ،باب قیام رمضان)

’’ عبد الرحمن بن ہرمزاعرج کہتے ہیں : رمضان میں قاری سورہ بقرہ آٹھ رکعات میں مکمل کرتا تھا، اور جب بارہ رکعات میں مکمل کرتا تو لوگ سمجھتے کہ تخفیف ہو گئی ہے ‘‘۔

( موطاامام مالک : کتاب الصلوٰۃ،باب قیام رمضان)

چنانچہ ہمیں بھی اس بات کو اپنانا چاہئیے اور قیام الیل میں طویل قرآت کرنا چاہئیے۔ روزانہ کم از کم ایک یا ڈیڑھ سپارہ پڑھنا چاہئیے۔

تعداد رکعات فی القیام الیل :

قیام الیل فی رمضان نفل ہے اور نفلوں کی تعداد مقرر کرنا صحیح نہیں جب کہ نبیﷺ نے اس کا تعین نہ فرمایا ہو۔ اپنی سہولت ، رغبت و شوق کے مطابق جتنے چاہیں نوافل ادا کیے جائیں ۔ یاد رکھیں تراویح بھی ” قیام اللیل ” ہی ہے ، اس لئے اس کی رکعتیں بھی قیام اللیل کے مطابق ادا کریں ، اور ان کی تعداد مختلف روایات میں مختلف آئی ہے۔

مندرجہ بالا احادیث اور مزید احادیث سے رسول اللہ ﷺ اور صحابہ اکرامؓ سے قیام رمضان میں رکعتوں کی مختلف تعداد ثابت ہوتی ہے ۔ لہِذا قیام الیل فی الرمضان میں آٹھ ،دس ، بارہ، بیس یا زیادہ ، جتنی ہمت اور شوق اجازت دے پڑھ لینی چاہِے ۔ مسجد میں باجماعت قیام ادا کرنے کے بعد رات کو گھر میں انفرادی قیام اللیل کاموقع بھی ضائع نہ کریں کہ یہ افضل ہے۔

بعض لوگ آٹھ رکعات پڑھنے کو خواہش نفس کہتے ہیں اور انہیں تہجد کی صلوٰۃ کہہ کراول قیام الیل فی رمضان سے جدا کر دیتے ہیں، جبکہ دوسرے لوگ انہی آٹھ کو مسنون تعداد کہتے ہیں اور اس سے زیادہ کے انکاری ہیں ۔ یہ دونوں قسم کے لوگ افراط و تفریط اور مسلکی تشدد کا شکار ہیں۔ جیسا کہ پہلے بتایا گیا کہ قیام الیل فی رمضان اور تہجد دونوں ایک ہی صلوٰۃ کے نام ہیں جن کے لئے احادیث میں ” قیام اللیل ” کا لفظ آیا ہے ۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اول قیام الیل فی رمضان یعنی جسے عرف عام میں تراویح کہا جاتا ہے کو لوگ عشاء کے ساتھ اول وقت میں ادا کر لیتے ہیں۔

اب جیسا جس کا ذوق اورہمت و وسعت ہو سو اسی قدر وہ رمضان میں قیام اللیل کرے ۔ غرضیکہ نہ تو آٹھ رکعت پڑھنا خواہشِ نفس ہے اور نہ آٹھ سے زیادہ پڑھنا خلافِ سنت ۔

لیلۃ القدر:

ماہ صیام کے آخری عشرے میں ایک ایسی رات آتی ہے جس میں کی گئی عبادت ایک ہزار سال کی عبادت سے بہتر ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّآ اَنْزَلْنٰهُ فِيْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ۝ښ وَمَآ اَدْرٰىكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ ۝ۭ لَيْلَةُ الْقَدْرِ ڏ خَيْرٌ مِّنْ اَلْفِ شَهْرٍ ۝ڼ تَنَزَّلُ الْمَلٰۗىِٕكَةُ وَالرُّوْحُ فِيْهَا بِاِذْنِ رَبِّهِمْ ۚ مِنْ كُلِّ اَمْرٍ ۝ڒ سَلٰمٌ ڕهِيَ حَتّٰى مَطْلَعِ الْفَجْرِ ۝ۧ

’’ بے شک ہم نے نازل کیا ہے اسے ( قرآن مجید ) لیلۃ القدر میں، اور تم کیا جانو لیلۃ القدر کیا ہے ، لیلۃ القدر ہزار ماہ سے بہتر ہے، نازل ہوتے ہیں فرشتے اور روح ( جبریل) اس رات میں اپنے رب کے حکم سے ہر کام کے لئے،سلامتی ہی سلامتی ہے طلوع فجر تک ‘‘۔

سورہ دخان میں فرمایا :

حٰـمۗ۝ڔ وَالْكِتٰبِ الْمُبِيْنِ ۝ڒ اِنَّآ اَنْزَلْنٰهُ فِيْ لَيْلَةٍ مُّبٰرَكَةٍ اِنَّا كُنَّا مُنْذِرِيْنَ ۝ فِيْهَا يُفْرَقُ كُلُّ اَمْرٍ حَكِيْمٍ ۝ۙ اَمْرًا مِّنْ عِنْدِنَا ۭ اِنَّا كُنَّا مُرْسِلِيْنَ ۝ۚ رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ ۭ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ ۝ۙ

( الدخان 1/6 )

’’ حٰم ۔ اس کتاب روشن کی قسم ہم نے اسے ایک مبارک رات میں نازل کیا ہے۔ ہم تو ( عذاب سے ) ڈرانے والے ہیں، اس رات میں ہماری طرف سے ہر معاملے میں حکیمانہ فیصلے ہوتے ہیں، بے شک ہم رسول بھیجنے والے تھے۔ ( یہ رات ) تمہارے رب کی طرف سے رحمت ہے وہی سننے والا جاننے والا ہے ‘‘۔

شَہۡرُ رَمَضَانَ الَّذِیۡۤ اُنۡزِلَ فِیۡہِ الۡقُرۡاٰنُ ہُدًی لِّلنَّاسِ وَ بَیِّنٰتٍ مِّنَ الۡہُدٰی وَ الۡفُرۡقَانِ

( البقرہ : 185 )

’ماہ رمضان ہی وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا ہے جو لوگوں کے لیے ہدایت ہے اور ہدایت کی واضح دلیلوں پر مشتمل ۔ ۔ ‘‘

قرآن مجید ماہ رمضان میں نازل ہوا ۔ اس رات کو اللہ تعالیٰ نے لیلۃ القدر و لیلۃ مبارکہ کا نام دیا اور بتایا کہ یہ وہ رات ہے کہ جس میں اللہ تعالیٰ حکیمانہ فیصلے فرماتا ہے۔ فرشتے اور جبریل امین بھی اس رات دنیا کی طرف بھیجے جاتے ہیں ۔ یہ رات رحمت و سلامتی کی رات ہے۔ اس کی فضیلت کا اندازہ لگائیں کہ اس ایک رات میں عبادت کرنے کا اجر تیس ہزار راتوں میں عبادت کرنے سے افضل ہے جو کہ تقریبا ً تیراسی ( ۸۳ )سال چار ماہ بنتے ہیں جبکہ عموماً لوگوں کی اتنی عمر تک نہیں ہوتی۔ یہ راب کا مومنوں کو نوازنے کا انداز ہے ۔ اپنے مومن بندوں کے لئے اس نے ثواب کو کس انداز میں لٹا دیا ہے کہ اس ایک رات کی عبادت اس کی زندگی بھر کی عبادت سے افضل ہے ، اور جس ایمان دار کو ایسی بیس تیس یا پچاس راتیں مل جائیں تو اس کے اجر کا کیا کہنا وہ تو اپنی زندگی سے بیس تیس گنا اجر کما لیتا ہے۔نبی ﷺ نے فرمایا :

مَنْ قَامَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ

( بخاری ، کتاب الصوم ، بَابُ مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا وَنِيَّةً )

’’جو شخص لیلۃقدر میں ایمان اور ثواب کی نیت سے کھڑا ہو، اس کے سابقہ گناہ بخش دئیے جاتے ہیں‘‘۔

حدیث میں ہے کہ نبی ﷺ کو اس رات کا بتایا گیا اور وہ صحابہ ؓ کو بتانے کے لئے باہر تشریف لائے لیکن دو مسلمین کی لڑائی کیوجہ سے انہیں بھلا دی گئی۔ مختلف احادیث میں راتوں کی طاق راتوں کی تاریخ کیساتھ بیان کیا گیا ہے لیکن بات یہی ہے کہ آخری عشرے کی طاق راتوں میں اس تلاش کا حکم دیا گیا ہے جیسا کہ ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے :

فَالْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ وَالْتَمِسُوهَا فِي کُلِّ وِتْرٍ

( بخاری ، کتاب الاعتکاف ، بَابُ الِاعْتِكَافِ فِي العَشْرِ الأَوَاخِرِ، وَالِاعْتِكَافِ فِي المَسَاجِدِ كُلِّهَا )

’’اسے آخری عشرے میں تلاش کرو اور طاق راتوں میں تلاش کرو‘‘۔

عائشہ ؓ فرماتی ہیں :

کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْتَهِدُ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مَا لَا يَجْتَهِدُ فِي غَيْرِهِ

( مسلم ، کتاب الاعتکاف ، بَابُ الِاجْتِهَادِ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ )

’’ رسول اللہ ﷺ رمضان کے آخری عشرہ میں اتنی جدوجہد کرتے تھے کہ اس کے علاوہ اور دنوں میں اتنی زیادہ جدو جہد نہیں کرتے تھے‘‘۔

نبی ﷺ نے صحابہ کو بھی ان راتوں میں جدوجہد کرنےپر زور دیا اور کہا کہ اگر کمزور بھی ہو تو ان راتوں میں سستی نہ کرے۔ابن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا:

الْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ يَعْنِي لَيْلَةَ الْقَدْرِ فَإِنْ ضَعُفَ أَحَدُکُمْ أَوْ عَجَزَ فَلَا يُغْلَبَنَّ عَلَی السَّبْعِ الْبَوَاقِي

( مسلم ، کتاب الصیام ، بَابُ اسْتِحْبَابِ صَوْمِ سِتَّةِ أَيَّامٍ مِنْ شَوَّالٍ إِتْبَاعًا لِرَمَضَانَ )

’’( لیلۃ القدر) کو رمضان کے آخری عشرہ میں تلاش کرو کیونکہ اگر تم میں سے کوئی کمزور ہو یا عاجز ہو تو ہو آخری سات راتوں میں سستی نہ کرے‘‘۔

مسروق ؒ عائشہ ؓ سے روایت کرتے ہیں :

قَالَتْ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ الْعَشْرُ أَحْيَا اللَّيْلَ وَأَيْقَظَ أَهْلَهُ وَجَدَّ وَشَدَّ الْمِئْزَرَ

( مسلم ، کتاب الاعتکاف ، بَابُ الِاجْتِهَادِ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ )

’’عائشہؓ سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب آخری عشرہ میں داخل ہوتے تھے تو آپ رات کو جاگتے تھے اور اپنے گھر والوں کو بھی جگاتے اور عبادت میں خوب کوشش کرتے اور تہبند مضبوط باندھ لیتے ‘‘۔

الغرض کہ لیلۃ القدر ماہ رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں سے ایک رات ہوتی ہے جسے اللہ تعالیٰ نے پوشیدہ رکھا ہے ۔ رسول اللہ ﷺ ان راتوں میں نہ صرف خود محنت کرتے تھے بلکہ خواتین اور بچوں کو بھی جمع کیا کرتے تھے۔ ابو ذر ؓ سے روایت ہے :

’’ ابوذر ؓ سے روایت ہے کہ ہم نے ماہ رمضان میں رسول ﷺ کے ساتھ صوم رکھے۔ آپ نے ہمیں کسی رات کو بھی صلاۃ نہیں پڑھائی یہاں تک کہ (رمضان ختم ہونے میں) سات راتیں باقی رہ گئیں تو آپ کھڑے ہوگئے ہمارے ساتھ تہائی رات تک ۔

پھر جب چھ راتیں باقی رہ گئی تو آپ کھڑے نہیں ہوئے۔پھر جب پانچ راتیں باقی رہ گئیں تو آپ کھڑے ہوئے نصف شب تک، ہم نے عرض کیا یا رسول ﷺکاش آج آپ مزید کھڑے رہتے ۔نبی ﷺ نے فرمایا جب آدمی امام کے ساتھ صلاۃ ادا کر کے فراغت پائے تو اس کو ساری رات کھڑے رہنے کا ثواب ملے گا۔

اور جب چار راتیں باقی رہ گئیں تو آپ کھڑے نہیں ہوئے اور جب تین راتیں باقی رہ گئیں تو آپ نے اپنے تمام اہل خانہ کو اور لوگوں کو جمع فرمایا، پس آپ کھڑے ہوئے یہاں تک کہ ہم کو خوف ہوا کہ فلاح نکل جائے گی راوی کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا کہ فلاح کیا چیز ہے ؟ ابوذرؓ نے کہا کہ فلاح سے مراد سحری کھانا ہے پھر آپ چاند رات تک کھڑے نہیں ہوئے ‘‘۔

( سنن ابی داؤد ، باب تفريع أبواب شهر رمضان، باب في قيام شهر رمضان )

نبی ﷺ نے لیلۃ القدر کی یہ دعا بیان فرمائی :

اللَّهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي

(سنن ابن ماجہ: کتاب الدعاء، بَابُ الدُّعَاءِ بِالْعَفْوِ وَالْعَافِيَةِ)

اعتکاف :

اعتکاف کے لغوی معنی ٰ ٹہرے رہنا، جمے رہنا ، کسی مقام پر اپنے آپ کو روکے رکھنا ہیں۔ شرعاً اعتکاف یہی ہے کہ ایمان دار اپنے رب کا تقرب حاصل کرنے کے لئے مسجد میں ٹہرا رہے۔ عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں :

کَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْتَکِفُ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ فَکُنْتُ أَضْرِبُ لَهُ خِبَائً فَيُصَلِّي الصُّبْحَ ثُمَّ يَدْخُلُهُ

( بخاری ، کتاب الاعتکاف، بَابُ اعْتِكَافِ النِّسَاءِ )

’’ کہ نبیﷺ رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کرتے تھے، میں آپ کے لئے ایک خیمہ نصب کردیتی تھی، آپ فجر کی صلاۃ ادا کر اس میں داخل ہوتے۔‘‘

عروہ بن زبیر ؓ عائشہ ؓ سے روایت کرتے ہیں :

أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يَعْتَکِفُ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ حَتَّی تَوَفَّاهُ اللَّهُ ثُمَّ اعْتَکَفَ أَزْوَاجُهُ مِنْ بَعْدِهِ

( بخاری، کتاب الاعتکاف ، بَابُ الِاعْتِكَافِ فِي العَشْرِ الأَوَاخِرِ، وَالِاعْتِكَافِ فِي المَسَاجِدِ كُلِّهَا )

کہ نبیﷺ رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف کرتے تھے، یہاں تک کہ اللہ نے آپ کو اٹھا لیا پھر آپ کے بعد آپ کی بیویاں بھی اعتکاف کرتی تھیں‘‘۔

عمرہ بنت عبد الرحمن نے بیان کیا :

’’عائشہ ؓ زوجہ رسول اللہ ﷺ سے روایت ہے کہ اگر میں حالت اعتکاف میں ہوتی تو گھر میں حاجت کے لئے داخل ہوتی اور چلتے چلتے مریض کی عیادت کرلیتی اور اگر رسول اللہ ﷺ حالت اعتکاف میں ہوتے تو مسجد میں رہتے ہوئے اپنا سر مبارک میری طرف کردیتے تو میں اس میں کنگھی کرتی اور آپ ﷺ جب معتکف ہوتے تو گھر میں سوائے حاجت کے داخل نہ ہوتے تھے‘‘۔

( مسلم ، کتاب الحیض ، بَابُ جَوَازِ غُسْلِ الْحَائِضِ رَأْسَ زَوْجِهَا وَتَرْجِيلِهِ وَطَهَارَةِ سُؤْرِهَا وَالَاتِّكَاءِ فِي حِجْرِهَا وَقِرَاءَةِ الْقُرْآنِ فِيهِ )

واضح ہوا کہ اعتکاف مسجد میں کیا جاتا ہے، ماہ صیام کے آخری عشرے میں ہوتا ہے ۔ نبی ﷺ نے اپنی زندگی کے آخر تک اعتکاف کیا۔ ان کی ازواج نے بھی ان کی زندگی اور ان کی وفات کے بعد بھی اعتکاف کیا۔ معتکف کے لئے مسجد میں خیمہ لگا دیا جاتا ہے جہاں وہ دنیا سے کٹ کر صرف اور صرف عبادات پر بھرپور زور لگاتا ہے جیسا کہ حدیث سے نبی ﷺ کا طرز عمل ملتا ہے۔ عائشہ ؓ فرماتی ہیں :

کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْتَهِدُ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مَا لَا يَجْتَهِدُ فِي غَيْرِهِ ( مسلم ، کتاب الاعتکاف ، بَابُ الِاجْتِهَادِ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ )

’’ رسول اللہ ﷺ رمضان کے آخری عشرہ میں اتنی جدوجہد کرتے تھے کہ اس کے علاوہ اور دنوں میں اتنی زیادہ جدو جہد نہیں کرتے تھے‘‘۔

اعتکاف آخری عشرہ یعنی 21 صوم سے شروع ہوتا ہے لہذا اعتکاف کرنے والا بیسویں رمضان کو مغرب سے قبل مسجد میں داخل ہو جائے کیونکہ اکیسویں شب مغرب سے شروع ہو جاتی ہے۔معتکف سوائے لازمی حاجت کے مسجد سے باہر نہیں نکل سکتا اور اگر نکلے گا تو راستے میں کہیں نہیں رکے گا بلکہ جس مقصد کے لئے نکلا ہے صرف اسے پورا کرے گا۔ جیسا کہ آج کل مساجد میں ہی استنجاء و غسل کی جگہ موجود ہوتی ہے تو اس کے لئے گھر جانے کی ضرورت نہ رہی۔ عروہ عائشہ ؓ سے روایت کرتے ہیں :

عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ السُّنَّةُ عَلَی الْمُعْتَکِفِ أَنْ لَا يَعُودَ مَرِيضًا وَلَا يَشْهَدَ جَنَازَةً وَلَا يَمَسَّ امْرَأَةً وَلَا يُبَاشِرَهَا وَلَا يَخْرُجَ لِحَاجَةٍ إِلَّا لِمَا لَا بُدَّ مِنْهُ وَلَا اعْتِکَافَ إِلَّا بِصَوْمٍ وَلَا اعْتِکَافَ إِلَّا فِي مَسْجِدٍ جَامِعٍ

( ابوداؤد ، کتاب الصوم ، باب المعتكف يعود المريض )

’’ عروہ سے روایت ہے کہ عائشہؓ نے فرمایا : سنت یہ ہے معتکف نہ کسی مریض کی عیادت کے لئے جائے اور نہ صلاۃ المیت کے لئے (مسجد سے باہر) جائے اور نہ عورت کو (شہوت کے ساتھ) چھوئے اور نہ اس کے ساتھ مباشرت کرے اور نہ کسی ضرورت کے لئے باہر نکلے سوائے انسانی ضرورت کے (قضاء حاجت وغیرہ کے لئے) اور اعتکاف درست نہیں مگرصوم کے ساتھ۔ اور اعتکاف درست نہیں مگر مسجد میں‘‘۔

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ اعْتَكَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ فَسَمِعَهُمْ يَجْهَرُوا بِالْقِرَاءَةِ وَهُوَ فِي قُبَّةٍ لَهُ فَكَشَفَ السُّتُورَ وَكَشَفَ وَقَالَ أَلَا كُلُّكُمْ مُنَاجٍ رَبَّهُ فَلَا يُؤْذِيَنَّ بَعْضُكُمْ بَعْضًا وَلَا يَرْفَعَنَّ بَعْضُكُمْ عَلَى بَعْضٍ فِي الْقِرَاءَةِ أَوْ قَالَ فِي الصَّلَاةِ

( سنن ابی داؤد ، کتاب الصلاۃ ، باب رفع الصوت بالقراءة في صلاة الليل )

’’ابوسعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبیﷺ نے مسجد میں اعتکاف کیا، اس دوران آپ کے کانوں میں لوگوں کے اونچی آواز میں قرآن مجیدپڑھنے کی آواز گئی، اس وقت آپ اپنے خیمے میں تھے، نبیﷺ نے اپنا پردہ اٹھا کر فرمایا یاد رکھو ! تم میں سے ہر شخص اپنے رب سے مناجات کر رہا ہے، اس لئے ایک دوسرے کو تکلیف نہ دو اور ایک دوسرے پر اپنی آوازیں بلند نہ کرو‘‘۔

اگر ہم ان سب روایات میں بیان کردہ کو جمع کریں تو واضح ہوتا ہے کہ

· اعتکاف ماہ رمضان کے آخری عشرے یعنی اکیسویں شب سے ماہ شوال کا چاند کھائی دینے تک ہوتا ہے۔

· اعتکاف کے لئے صوم اور مسجد لازمی ہیں۔

· اعتکاف کے لئے خیمہ بنایا جائے جو ہر ہر فرد کا علیحدہ ہو۔

· معتکف کو اپنا وقت اپنے خیمے میں گزارنا چاہئیے۔ خیمہ سے باہر بیٹھ دنیاوی یا دینی باتوں کی ہر گز اجازت نہیں۔

· معتکف کوئی انتظامی امور نہ نبھائے۔( امیر جماعت اس بات پر زور دیتے ہیں کہ انتظامی امور کے افراد ہی کام کریں، معتکف اس میں ہاتھ نہ بٹائے )

· معتکف اپنا وقت نوافل، قرآت قرآن و اذکار میں لگائے۔( دیگر دینی کتب ، رسالہ جات نہ پڑھےجائیں اور نہ ہی کوئی دوسرا دینی کام کیا جائے)

· اعتکاف کے معنیٰ اللہ کے لئے دنیا سے کٹ کر مسجد میں بیٹھ کر عبادت کرنا ہے لہذا موبائل وغیرہ بالکل نہ استعمال کیا جائے البتہ اہل خانہ معتکف سے ملاقات کے لئے آ سکتے ہیں۔ ( بخاری، کتاب الاعتکاف )

· موجودہ حالات میں واش روم وغیرہ کی سہولت مساجد میں ہی مہیا ہوتی ہے اس لئے معتکف اب مسجد سے باہر نہ جائے۔

· اگر معتکف کا کوئی کھانا لانے والا نہ ہو تو گھر سے جاکر لے آئے۔( ہماری مساجد میں تمام معتکفین کے لئے یہ انتظام ہوتا ہے اس لئے باہر جانے کی ضرورت نہیں )۔

· کسی کی تیمارداری یا جنازے کے لئے بھی باہر نہیں جا سکتا، تیمار داری کی اجازت بھی اس وقت ہے کہ جب اپنی ضروری حاجت کے لئے نکلے تو راستے میں بغیر رکے چلتے چلتے تیمارداری کرلے۔

· دوران اعتکاف خواتین سے تعلقات مکمل ممنوع ہیں، قرآن مجید میں ہے :

وَ لَا تُبَاشِرُوۡہُنَّ وَ اَنۡتُمۡ عٰکِفُوۡنَ ۙ فِی الۡمَسٰجِدِ ( البقرہ 187 )

’’اور جب تم مساجد میں معتکف ہو تو ان کے ساتھ مباشرت نہ کرنا‘‘

یہی بات عائشہ ؓ والی روایت میں ہے کہ

وَلَا يَمَسَّ امْرَأَةً وَلَا يُبَاشِرَهَا

’’اور نہ عورت کو (شہوت کے ساتھ) چھوئے اور نہ اس کے ساتھ مباشرت کرے‘‘

اللہ تعالیٰ تمام ایمان دار معتکفین کو ان باتوں کو سمجھنے اور اس پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔

Categories
Uncategorized

صلوٰۃ ۔۔ مومن کی شان

صلوٰۃ دین کا رکن ہے۔ صلوٰۃ کی بے انتہا فضیلت ہے۔ یہ بہت مہتم بالشان فریضہ ہے۔ اس کی خصوصیت اس سے ظاہر ہے کہ تمام احکامات دین اللّہ تعالیٰ نے بذریعہ وحی زمین پر بھیجے لیکن صلوٰۃ معراج کے موقع پر فرض ہوئی جب نبی ﷺ  کو اللہ نے آسمانوں پر بلایا (بخاری: کتاب الصلوٰۃ، باب کیف فرضت الصلوۃ فی الاسراء)۔
گویا کہ یہ معراج کی سوغات ہے۔ بلکہ یہ مومن کی اپنی معراج ہے کیونکہ صلوٰۃ کے ذریعے وہ اپنے مالک سے ہمکلامی کا شرف حاصل کرتا ہے، حالتِ سجدہ میں وہ اپنے رب سے انتہائی نزدیک ہو جاتا ہے ( بخاری: کتاب الصلوٰۃ، باب دفن النخامہ فی المسجد/ مسلم: کتاب ا لصلوٰۃ، باب مایقال فی الرکوع والسجود، عن ابی ھریرہ ؓ)۔
جہنم کی آگ پر اللہ نے حرام کر دیا کہ وہ سجدے کے نشان کو کھائے (بخاری: کتاب الاذان، باب فضل السجود)۔کثرت سجدہ اللہ کو سب کاموں سے زیادہ پسند ہے، ہر سجدے سے ایک درجہ بلند ہوتا ہے اور ایک گناہ معاف ہوتا ہے (مسلم: کتاب الصلوٰۃ، باب فضل السجود،عن ثوبان ؓ)۔
صلوٰۃ کو نور بھی کہا گیا ہے (مسلم، کتاب الطہارۃ، باب فضل الوضو، عن ابی مالک اشعری   ؓ)۔
قرآن میں ایمان کے بعد اللہ نے سب سے زیادہ تاکید صلوٰۃ قائم کرنے کی کی ہے۔ قرآن سے جن لوگوں کو ہدایت ملتی ہے ان کی ایک صفت یہ بھی ہے کہ وہ صلوٰۃ قائم کرتے ہیں (سورۃ البقرۃ: آیت3)۔
معززومکرم جنتیوں کی صفات میں صلوٰۃ کو ہمیشہ ادا کرتے رہنا اور اس کی  حفاظت کرنا بھی شامل ہے (سورۃ المعارج: آیات22،23،34،35) ۔
صلوٰۃ بے حیائی اور بری باتوں سے روکتی ہے (سورۃ العنکبوت: 45)۔
 گناہوں کو مٹا دیتی ہے (سورۃ ھود: 114/ بخاری: کتاب مواقیت الصلوٰۃ،باب الصلوٰۃ کفارہ) ۔
 اس سلسلے میں نبی ﷺ نے ایک مثال دی کہ جس طرح اس شخص کے بدن پر میل کچیل باقی نہیں رہتا جو اپنے گھر کے دروازے پر بہتی نہر میں روزانہ پانچ غسل کرے،اسی طرح صلوٰۃ خمسہ کی ادائیگی سے گناہ دور ہو جاتے ہیں (بخاری: کتاب مواقیت الصلوٰۃ، باب الصلوت الخمس کفارۃ للخطایا)۔
اللہ نے یہ عہد کر رکھا ہے کہ جو مومن صلوٰۃ خمسہ کا اہتمام کرے گا تو وہ اسے جنت میں داخل کر دے گا(نسانی: کتاب الصلوٰۃ،باب المحافظﮫ علی الصلوت الخمس)۔
صلوٰۃ خمسہ اور ایک جمعہ سے دوسرا جمعہ اپنے درمیان ہونے والے گناہوں کا کفارہ ہیں، جب تک کبائر کا ارتکاب نہ کیا جائے(ترمذی: کتاب الصلوٰۃ،باب فضل الصلوٰۃ الخمس، عن ابی ھریرۃ ؓ)۔
 نبیﷺنے بعض صلوٰت کی مخصوص فضیلت بھی بیان فرمائی ہے چنانچہ فرمایا کہ وہ شخص جہنم میں نہیں جائے گا جو صلوٰۃ ادا کرے سورج نکلنے سے پہلے اور ڈوبنے سے پہلے (یعنی فجروعصر) (مسلم: کتاب المساجد،باب صلوٰۃ الصبح و العصر، عن عمارۃ بن رویبﺔؓ)۔
 ایک جگہ فرمایا کہ جو یہ دو ٹھنڈی صلوٰت ادا کرے وہ جنت میں جائے گا(بخاری: کتاب امواقیت  الصلوٰۃ،باب فضل صلوٰۃ الفجر، عن ابی موسی اشعری ؓ) ۔
 فرمایا کہ جس نے صبح کی صلوٰۃ ادا کی وہ اللہ کی پناہ میں آئے ہوئے کو ستائے گا تو اللہ اسے جہنم میں ڈال دے گا(مسلم: کتاب المساجد،باب فضل صلوٰۃ الجماﻋﺔ،عن جندب ؓ) ۔
 فرمایا کہ عشاء اور فجر کی صلوٰۃ کا جو ثواب ہے اگر معلوم ہو جائے تو لوگ اس کے لیے ضرور آئیں اگرچہ گھسٹ کر ہی کیوں نہ آنا پڑے(بخاری: کتاب الاذان، باب الاستفہام فی الاذان)۔
 ایک دوسری جگہ فرمایا کہ جس   شخص کی صلوٰۃ العصر فوت ہو جائے تو ایسا ہے کہ جیسے  اس کے گھر والے اور مال سب لوٹ لیا گیا (بخاری: کتاب مواقیت صلوٰۃ، باب اثم من فاتۃ العصر)۔
 فرمایا جس  نے عصر کی صلوٰۃ چھوڑ دی تو اس کے اعمال اکارت ہو گئے(بخاری: کتاب مواقیت صلوٰۃ،باب اثم من ترک العصر)۔
 فرمایا کہ بندے اور شرک وکفر کے درمیان ترک صلوٰۃ کے سوا اور کوئی چیز نہیں ، جس نے صلوٰۃ ترک کی اس نے کفر کیا(مسلم : کتاب الایمان،باب اطلاق اسم الکفر علی من ترک الصلوٰۃ) ۔
 عمرؓنے فرمایا کہ اس کا اسلام میں کوئی حصہ نہیں جو صلوٰۃ کو ترک کر دے(مؤطا امام مالک: کتاب الطہارۃ، باب العمل فیمن غلبہ الدم من جرح او رعاف)۔
 قرآن میں اللہ نے فرمایا کہ تباہی ہے ان صلوٰۃ ادا کرے والوں کے لیے جو صلوٰۃ  سے غافل ہیں اور ریا کاری کرتے ہیں(سورۃ الماعون آیات 4/5)۔
 صلوٰۃ کی اہمیت کے پیشِ نظر نبی ﷺنے فرمایا کہ اپنی اولاد کو صلوٰۃ کا حکم دو جب وہ سات سال کے ہوں اور جب دس سال کے ہوں اور صلوٰۃ ادا نہ کریں تو انہیں مارو(ابو داؤد : کتاب الصلوٰۃ،باب متی یؤمر الغلام بالصلوٰۃ )۔
 صلوٰۃ کو ہرگز گراں نہیں سمجھنا چاہئے اور نہ ہی اس کو بوجھ اور حرج سمجھ کر ادا کیا جائے بلکہ اپنے رب سے ملاقات اور گفتگو کرنے کے لیے انتہائی شوق و لگن کے ساتھ ادا کرنا چاہئے(بخاری: کتاب مواقیت الصلوٰۃ،باب المصلی یناجی رﺒﮫ)۔(سورۃ البقرۃ: آیت 46)۔
 اللہ سے ڈرنے والے اور آخرت میں اپنے رب سے ملاقات پر یقین رکھنے والے مومنوں پر کسی بھی حالت میں صلوٰۃ کی ادائیگی بھاری نہیں(سورۃ البقرۃ: آیت 46)۔

شرائطِ صلوٰۃ

شرائط صلوٰۃ سے مراد وہ ضروری امور ہیں جو ادائیگی صلوٰۃ کے لیے لازمی ہیں۔ ان میں سب سے اولین شرط ایمانِ خالص ہے اور وہ ایسا ایمان ہے جس میں اللہ کے سوا کسی اور کو داتا، دستگیر،غوث اور مشکل کشا نہ سمجھا جائے، کسی اور کو مدد کے لیے نہ پکارا جائے، کسی اور کے نام نذر نیازنہ کی جائے، قبر میں دفن مردوں کو زندہ، سننے والا، مدد کرنے والانہ مانا جائے،قرآن و حدیث کے خلاف عقائد و اعمال اختیار کرنے والے کسی بھی مسلک، فرقےو مکتبہ فکر کی پیروی نہ کی جائے،اللہ کے رکھے ہوئے نام ”مسلم“ کے سوا اپنی اور کوئی پہچان نہ بنائی جائے۔۔۔ ایمان کے بغیر کوئی بھی عمل خیرِ قبول نہیں کیا جاتا۔ ایمانِ خالص کے علاوہ درجِ ذیل باتیں بھی صلوٰۃ قائم کرنے کے لیے ضروری ہیں:

طہارت

طہارت کا مطلب ہے پاکیزگی۔ ایمان کو شرک کی نجاست سے پاک کرنے کے بعد مومنین کو اپنے لباس اور جسم کو بھی ظاہری نجاست سے بچانا اور پاک رکھنا ہے۔ صلوٰۃ کے لیے وضو کرنا چاہیے۔(سورۃ المآئدہ)وضو کے بغیر صلوٰۃ نہیں ہوتی (بخاری: کتاب الصلوٰۃ، باب لایقبل صلوٰۃ بغیر طھور، عن ابی ھریرہ ؓ)
نبی ﷺ ہر کام بسم اللہ سے شروع کرتے تھے(بخاری: کتاب الوضو، عن انس بن مالک ؓ)
اور وضو شروع کرنے سے پہلے بھی بسم اللہ پڑھتے تھے(نسانی: کتاب الطھارۃ ، التسمیہ عند الوضو، عن انس بن مالک ؓ)
وضو سیدھی طرف سے شروع کریں کیونکہ دوسرے کاموں کی طرح وضو بھی نبی ﷺ سیدھی طرف سے شروع کرتے تھے(بخاری: کتاب الوضو ، باب التیمن فی الوضوٓء)
پہلے دونوں ہاتھ گٹوں تک دھوئیں، پھر کلی کریں، ناک میں پانی چڑھائیں، (کلی کرنے اور ناک میں پانی چڑھانے کے دو طریقے ہیں یا تو ان دونوں کے لیے الگ الگ چلو میں پانی میں لیں یا ایک ہی چلو سے کلی بھی کریں اور اس میں سے کچھ پانی بچا کر ناک میں چڑھا لیں(بخاری: کتاب الوضوٓء، باب من مضمض و استنشق من غرﻔﺔ واحدۃ عن عبداللہ بن زید﷜ترمذی: کتاب الطھارۃ، باب ماجآء فی وضو،النبی ﷺ کیف کان، عن علی ﷜ بن ابی طالب))
منہ دھوئیں، دونوں ہاتھ کہنیوں تک دھوئیں، سر کا مسح کریں، دونوں پیر ٹخنوں سمیت دھوئیں(بخاری: کتاب الوضوء، باب الوضوٓء، ثلثا ثلثا)۔
یہ اعضاء ایک ایک، دو دو اور تین تین دفعہ بھی دھوئے جا سکتے ہیں، تینوں عمل سنت ہیں(ایضاً: باب الوضوٓء مرۃ مرۃ/الوضوٓء مرتین مرتین/ الوضوٓء ثلثا ثلثا)
البتہ تین دفعہ سے زیادہ دھونا نبی ﷺ سے ثابت نہیں۔ وضو میں داڑھی میں خلال سنت ہے۔ نبی ﷺ چلو میں پانی لے کر اس کو ٹھوڑی کے نیچے لے جاتے اور داڑھی کا خلال کرتے(ابو داؤد: کتاب الطھارۃ،باب تخلیل اللحیۃ، عن انس بن مالک ؓ)
مسح سارے سر کا کرنا چاہئے جس کی ترکیب یہ ہے کہ نیا پانی لے کر دونوں ہاتھ تر کریں، پھر سر کے سامنے کے حصے پر رکھ کر دونوں ہاتھوں کو پیچھے گدی تک لے جائیں، پھر جہاں سے شروع کیا تھا وہیں لے آئیں(بخاری: کتاب الوضوٓء، باب مسح الراس کلہ)۔
گردن یا گدی کا علیحدہ سے مسح کرنا صحیح احادیث سے ثابت نہیں۔ کان بھی سر کا حصہ ہیں اس لیے سر کے ساتھ کانوں پر بھی مسح کریں جس کے لیے شہادت کی تر انگلیاں کانوں کے اندر گھمائیں اور انگوٹھے کانوں کی پشت پر(ترمذی: کتاب الطھارۃ، باب مسح الاذنین ظاھر ھما و باطنھما و باب ماجاء ان الاذنین من الراس/ ابن ماجہ: کتاب الطھارۃ و سننھا، باب ماجاء فی  مسح الاذنین / نسائی: کتاب الطھارۃ، باب مسح الاذنین)۔
وضو میں مسواک بھی کرنا چاہیے کہ نبی ﷺ نے اس کی بہت تاکید فرمائی ہے(بخاری: کتاب الصلوٰۃ باب السواک یوم الجمعۃ/ مسلم: کتاب الطھارۃ، باب السواک)۔
رسول اللہﷺ کو مسواک کرنا بھی اس قدر محبوب تھا کہ اپنی زندگی کا آخری کام یہی کیا(بخاری:کتاب المغاری، باب مرض النبی ﷺ و وفاتہ)۔
اس بات کا خیال رہے کہ وضو میں کوئی جگہ سوکھی نہ رہے ورنہ وضو نہ ہو گا اور صلوٰۃ بھی نہ ہو گی اور ساری محنت ضائع جائے گی (مسلم: کتاب الطھارۃ، باب وجوب استیعاب جمیع اجزاء محل الطھارۃ، عن جابر بن عبداللہ ؓ)۔
حدیث میں آیا ہے کہ جو اچھی طرح وضو کرے اور پھر کہے: اَشْھَدُاَنْ لَّا اِﻠٰﮫَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَهُ وَ اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْ لُهٗ‎‏ (میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہی، اور گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں) تو اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیے جائیں گے (مسلم:کتاب الطھارۃ، باب الذکر المستحب عقب الوضو، عن عقبہ بن عامر ؓ)۔
صحیح حدیث میں ایسا کوئی ذکر نہیں کہ یہ کلمہ کھڑے ہو کر، آسمان کی طرف دیکھ کر اور شہادت کی انگلی اٹھا کر پڑھا جائے یا دورانِ وضو سر کا مسح کرتے ہوئے اور انگوٹھے چوم کر آنکھوں سے لگا کر پڑھا جائے۔ پیشاپ یا پاخانہ کرنے، ہوا خارج ہونے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے (بخاری: کتاب الوضوٓء، باب من لم یرالوضوء الامن المخر جین القبل والدبر/ ترمذی: کتاب الطھارۃ، باب ماجآءفی الوضوء من الریح)
اگر ہوا خارج ہونے کا محض شک ہو تو نیا وضو نہ کریں جب تک کہ آواز نہ سنے یا بو نہ محسوس ہو (بخاری: کتاب الوضوٓء، باب لا یتوضاء من الشک حتیٰ یستقین)
لیٹ کر سونے سے بھی وضو ٹوٹ جاتا ہے (ترمذی: کتاب الطھارۃ، باب الوضوء من النوم)
وضو میں اگر بیٹھے بیٹھے نیند آ جائے تو وضو نہیں ٹوٹتا (ترمذی: کتاب الطھارۃ، باب الوضوء من النوم)
یہ بیٹھنا اگر ٹیک لگا کر ہوا تو اس سے بھی ٹوٹنے کا اندیشہ ہے کہ اس میں بھی لیٹ کر سونے کی طرح جوڑ ڈھیلے پڑ جاتے ہیں۔
جسم اور لباس کی پاکیزگی کے ساتھ صلوٰۃ کی جگہ بھی پاک ہونا چاہیےاور وہاں کوئی ظاہری نجاست نہیں ہونی چاہیے۔ اگر ہو تو پانی سے دھو لینا چاہیے (بخاری: کتاب الوضوٓء، باب صب المآءعلی البول فی المسجد)
بچہ اگر کپڑوں (یا زمین) پر پیشاپ کر دے تو اتنے ہی حصے پر پانی بہا کر دھو  لینا چاہیے (ایضاً: باب بول الصبیان)
اس کے علاوہ بھی اگر کوئی دوسری نجاست مثلاً خون وغیرہ لگا ہو تو اسے دھو کر صاف کر لینا چاہیے(ایضاً، باب غسل الدم/ غسل المني وفرکه و غسل ما یصیب من المر أۃ)۔
قبرستان، جانوروں کے اصطبل جہاں گوبر و پیشاپ ہوتا ہے، جانوروں کے ذبح کرنے، کوڑا پھینکنے غسل کرنے، پیشاپ پاخانہ کرنے کی جگہوں اور راستوں پر صلوٰۃ نہیں ہوتی، ان کے علاوہ ہر پاک جگہ پر صلوٰۃ ادا کی جا سکتی(بخاری: کتاب الصلوٰۃ، باب قول النبی ﷺ جعلت لی الارض مسجداو طھورا/کراھیه الصلوٰۃفی المقابر/ ترمذی: کتابالصلوٰۃ، باب ماجآء ان الارض کلھا مسجد الاالمقبرۃ والحمام/ ابوداؤد: کتاب الصلوٰۃ، باب النھی عن الصلوٰۃ فی مبارک الابل/ ابن ماجه: کتاب المساجد والجماعات، باب المواضع التی تکرہ فیھا الصلاۃ)۔

ستر چھپانا

جسم کے وہ حصے جن کا چھپانا لازم ہے، ستر کہلاتے ہیں۔ صلوٰۃ میں ستر کا چھپانا فرض ہے۔ اللہ کا حکم ہے کہ ہر صلوٰۃ کے وقت اپنی زینت کو اختیار کرو (الاعراف: آیت 31)۔
زینت سے مراد لباس ہے۔ مرد کے لباس میں قمیص وغیرہ کے علاوہ ازار (یعنی وہ لباس جو جسم کے نچلے حصے پر پہنا جاتا ہے مثلاً شلوار، لنگی، پاجامہ، پتلون، وغیرہ)ہوتا ہے، اس کو صلوٰۃ اور دیگر اوقات میں بھی  ٹخنوں سے اوپر رکھنا چاہیے کیونکہ اس کو ٹخنوں کے نیچے لٹکانے پر نبی ﷺ نے صلوٰۃ قبول نہ ہونے، جنت حرام ہونے، جہنم حلال ہونے اور اللہ کے رحمت کی نظر نہ فرمانے کی وعید سنائی ہے (بخاری: کتاب اللباس، باب ما اسفل من الکعین فھو فی النار/ باب من جر ثوبه من الخیلاء)۔
عورتوں کے لیے یہ حکم ہے کہ وہ اپنے ٹخنے ڈھانکے  رکھیں (نسائی: کتاب الزیینۃ، باب ذیول النساء، عن ام سلمۃؓ)۔
عورتیں لباس کے معاملے میں زیادہ احتیاط کریں کیونکہ  نبی ﷺ فرمایا کہ عورت چھپانے کی چیز ہے(ترمذی: کتاب الرضاع ، عن عبداللہ بن مسعود ؓ)۔
مردوں کو سر پر ٹوپی بھی رکھنی چاہیے کہ یہ اس کی زینت ہے اور اوپر مذکور آیت میں اللہ نے صلوٰۃ کے وقت زینت کو اختیار کرنے کا حکم دیا ہے۔ اللہ کے نبی ﷺ کی سنت بھی یہی ہے۔ جو لوگ جان بوجھ کر بغیر سر ڈھانپے صلوٰۃ ادا کرنے کے قائل ہیں ان کے پاس اس کی کوئی دلیل نہیں۔ اللہ کے رسول ﷺ سے بغیر سر ڈھانپے صلوٰۃ ادا کرنا ثابت نہیں ہے۔

وقت

اللہ نے مومنین پر صلوٰۃ وقت کی پابندی کے ساتھ فرض کی ہے (سورۃ النسآء: آیت 103)۔
ہر صلوٰۃ اپنے وقت پر پڑھنا سب سے افضل عمل ہے (بخاری: کتاب مواقیت الصلوٰۃ ، باب فضل الصلوٰۃ لو قتھا، عن عبداللہ بن مسعود ؓ)۔
اس لیے صلوٰۃ کو اس کے وقت پر ہی ادا کرنا چاہیے۔ دن رات میں پانچ وقت کی صلوٰۃ فرض ہے: فجر،ظہر، عصر، مغرب اور عشاء (بخاری و مسلم : کتاب الصلوٰۃ )۔
ظہر کا وقت سورج ڈھلتے ہی شروع ہو جاتا ہے اور اس وقت تک رہتا ہے جب تک آدمی کا سایہ اس کے قد کے برابر ہو جائے (یعنی ایک مثل)، اور اس وقت عصر کی صلوٰۃ کا وقت شروع ہو جاتا ہے جو اس وقت تک رہتا ہے جب تک سورج زرد نہ ہو جائے، اور مغرب کا وقت سورج ڈوبتے ہی شروع ہو جاتا ہے اور اس وقت تک رہتا ہے جب تک آسمان سے شفق کی سرخی غائب نہ ہو، اور شفق غائب ہونے کے بعد عشاء کا وقت شروع ہو جاتا ہے جو آدھی رات تک رہتا ہے،اور صبح  صادق کے ساتھ ہی فجر کا وقت شروع ہو جاتا ہے جو سورج نکلنے تک رہتا ہے (مسلم: کتاب المساجد ، باب اوقات الصلوٰۃ  الخمس عن عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ)۔
صلوٰۃ العصر کے ابتدائی وقت کا تعین کرتے ہوئے اس بات کا خیال رکھا جائے کہ  ایک مثل سائے میں وہ سایہ بھی شامل کیا جائے جو نصف النہار کے وقت ہوتا ہے (نسائی: کتاب المواقیت،باب آخر وقت المغرب)۔
تین وقتوں میں صلوٰۃ ادا کرنا منع ہے: جب سورج طلوع ہو رہا ہو، جب عین سر پر آجائے اور جب غروب ہو رہا ہو(مسلم: کتاب فضائل القرآن، باب الاوقات التی نھی عن الصلوٰۃ فیھا، عن عقبہ بن عامر الجھنی ؓ)۔
اسی طرح صلوٰۃ الفجر ادا کرنے کے بعد سورج بلند ہونے تک اور صلوٰۃ العصر ادا کرنے کے بعد سورج ڈوب جانے تک نبی ﷺ نے صلوٰۃ ادا کرنے سے منع فرمایا ہے (بخاری: کتاب مواقیت الصلوٰۃ ، باب لاتتحری الصلوٰۃ قبل غروب الشمس)۔

قضاء صلوٰۃ

صلوٰۃ کو اس وقت پر ہی ادا کرنا چاہیے جس طرح اللہ نے فرض کیا ہے۔ اور اس کا وقت پر ادا کیا جانا ہی اللہ کے نزدیک افضل ہے۔لیکن اگر بھول ،نیند یا کسی  مجبوری کی وجہ سے صلوٰۃ کو اس کے وقت پر ادا نہ کیا جا سکے تو بعد میں اس کی قضاء ادا کر لیں اور یہ نہ سوچیں کہ اب تو وقت نکل گیا ہے اب کیا پڑھیں۔ غزوہ خندق و خیبر کے موقع پر نبی ﷺ کی عصر و فجر کی صلوٰت قضاء ہو گئیں تو ان کو وقت گزارنے کے بعد ادا کیا (بخاری: کتاب الاذان، باب قول الرجل ما صلینا/ کتاب المواقیت باب الاذان بعد ذھاب الوقت)۔
نبی ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص کوئی صلوٰۃ بھول جائے تو یاد آتے ہی اس کو ادا کرے، بس یہی اس کا کفارہ ہے اور کچھ نہیں، اللہ نے حکم دیا کہ  اقیم الصلوٰۃ لذکری ( ترجمہ: صلوٰۃ قائم کرو میرے ذکر کے لیے) (سورہ طہٰ: آیت 14/ بخاری: کتاب مواقیت الصلوٰۃ،باب من نسی صلوٰۃ فلیصل اذا ذکر)۔
اکثر لوگ صبح کے وقت سوتے رہتے ہیں اور فجر کی صلوٰۃ قضاء کر دیتے ہیں اور پھر سستی کرتے ہیں اور ظہر کے ساتھ ادا کرتے ہیں۔ انہیں چاہیے کہ مندرجہ بالا فرمانِ رسول ﷺ کی تعمیل میں جاگنے کے فوراً بعد قضاء ادا کر لیں۔ لیکن اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ روزانہ پڑے سوتے رہیں اور فجر وغیرہ کی صلوٰۃ قضاء کرتے رہیں۔ نبی ﷺ نے فرمایا کہ منافقوں پر فجر اور عشاء سے زیادہ کوئی صلوٰۃ بھاری نہیں (بخاری: کتاب الاذان، باب فضل صلوٰۃ العشاء فی الجماعۃ
            ایک سفر میں نبی ﷺ اور صحابہ ؓ سوتے رہے  اور سورک نکل آیا ۔ دھوپ کی تمازت سے آنکھ کھلی  ۔ صحابہ کرام ؓ کہنے لگےقصور ہم نے صلوٰۃ میں کیا ہے اس کا کفارہ ہو گا۔ نبی ﷺ نے فرمایا کہ کیا میں تم لوگوں کے لیے اسوہ نہیں ہوں، قصور تواس  میں ہے کہ آدمی صلوٰۃ ادا نہ کرےیہاں تک کہ دوسرا وقت آ جائے، اس لیے جب ہوشیار ہو تو اس کو ادا کر لے اور دوسرے دن اس کو مقررہ وقت پر ادا کرے۔ پھر اذان و اقامت کے بعد نبی ﷺنے  با جماعت صلوٰۃ ادا کی۔ اس سے معلوم ہوتا ہےکہ قضاء  صلوٰۃ کو با جماعت بھی ادا کیا جا سکتا ہے (مسلم: کتاب المساجد، باب قضاء الصلوٰۃ ، عن ابی قتادہ ؓ/ بخاری: کتاب مواقیت الصلوٰۃ، باب الاذان بعد ذھاب الوقت وباب من صلی بالناس بعد ذھاب الوقت)
قضاء صلوٰۃ میں بھی ترتیب کا خیال رکھیں یعنی جو صلوٰۃ قضاء ہو چکی ہو اسے پہلے ادا کریں  بعد میں دوسری صلوٰۃ ادا کریں (بخاری: کتاب مواقیت الصلوٰۃ باب قضاء الصلوٰۃ الاولی فالا ولی)۔
لیکن اگر جماعت ہو رہی ہو تو پھر قضاء صلوٰۃ ادا کیے بغیر جماعت میں شامل ہو جائیں (بخاری:  کتاب الاذاان،باب اذا اقیمت الصلوٰۃ فلا صلوٰۃ الا المکتوبۃ)۔
فجر کی قضاء صلوٰۃ ادا کرتے وقت فرضوں سے پہلے کی دو رکعتیں بھی پڑھ لیں کیونکہ نبی ﷺ نے بھی ان کی قضاٰ ادا فرمائی (مسلم: کتاب المساجد، باب قضاء الصلوٰۃ، عن ابی قتادہ ؓ)۔
فجر میں وقت تنگ ہونے کی وجہ سے فرضوں سے پہلے کی دو سنتیں نہ پڑھی جا سکیں اور فرض ادا کر لیے تو یہ سنتیں سورج نکلنے کے بعد پڑھیں (ترمذی: کتاب الصلوٰۃ ، باب ماجآء فی اعادتھا بعد طلوع الشمس)۔
جس روایت میں فرضوں کے بعد پڑھنے کا ذکر ہے وہ متصل نہیں (ترمذی: کتاب الصلوٰۃ، باب ماجآ ء فیمن تفوتہ الرکعتان قبل الفجر یصلیھا بعد صلوٰۃ الصبح)۔
اگر کوئی ظہر کی شروع کی چار نفل ( سنتیں) نہ پڑھ سکے تو وہ  ظہر کی دو رکعت نفل کے بعد پڑھ لے (ابن ماجہ: کتاب اقامۃالصلوٰۃ: باب من فاتۃ الاربع قبل الظہر)۔
اس طرح ظہر کے بعد کی دو رکعتیں کسی وجہ سے نہ پڑھ سکیں تو بعد میں ان کی قضاء پڑھ لی جائے۔ نبی ﷺ نے اگرچہ عصر اور مغرب کے درمیان صلوٰۃ ادا کرنے سے منع فرمایا ہے (بخاری: کتاب مواقیت الصلوٰۃ، باب لا تتحری الصلوٰۃ قبل غروب الشمس)۔
لیکن ظہر کی ان دو رکعتوں کی عصر کے بعد قضاء ادا فرمائی (بخاری: کتاب السھو باب اذا کلم اھو یصلی فاشارہ بیدہ واستمع)۔

تعداد رکعات

صلوٰۃ خمسہ میں فرائض کی سترہ رکعات ہیں۔ اورنوافل کی بارہ (مسلم:کتاب صلوٰۃ المسافرین، باب فضل سنن الراتبہ…. عن ام حبیبہ ؓ)
اور ایک روایت میں  ظہر کی شروع کی دو رکعت سنت کے لحاظ سے کل دس رکعات ہیں (بخاری: کتاب تفصیر الصلوٰۃ، باب الرکعتین قبل الظہر)
ان کی تقسیم اس طرح ہے کہ فجر کی صلوٰۃ میں پہلے دو سنت ہیں پھر دو فرض، ظہر کی صلوٰۃ میں پہلے دو یا چار سنتیں (یہ چار رکعتیں دو سلام سے دو دو کر کے یا ایک سلام سے ایک ساتھ اکٹھی بھی پڑھی جا سکتی ہیں) (نسائی: کتاب الامامۃ، باب 532 الصلوٰۃ قبل العصر عن علی ؓ)
پھر چار فرض پھر دو سنتیں، عصر کی صلوٰۃ میں پہلے یا بعد میں کوئی سنت نہیں، صرف چار فرض ہیں، مغرب کی صلوٰۃ میں پہلے تین فرض پھر دو سنت، عشاء کی صلوٰۃ میں پہلے چار فرض پھر دو سنت اور اس کے بعد وتر جو ایک، تین، پانچ، سات یا نو جتنے چاہیں پڑھیں۔

مساجد

صلوٰۃ مسجد میں مومن ساتھیوں کے ساتھ با جماعت ادا کرنی چاہیے۔ مسجد مسلمین  کی عبادت گاہ کو کہتے ہیں جہاں وہ اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت نہیں کرتے کیونکہ اللہ کا حکم ہے:

وَاَنَّ الْمَسٰجِدَلِلّٰهِ فَلَا تَدْعُوْا مَعَ اللّٰهِ اَحَدًا

(الجن: 18)

“اور یہ کہ مسجدیں تو اللہ ہی کے لیے ہیں پس وہاں اللہ کے ساتھ کسی اور کو نہ پکارو۔”

یعنی ایسا ہرگز نہ ہو کہ ان مساجد میں غیر اللہ کی دہائیاں دی جائیں ، ان کے نعرے بلند ہوں، ان سے مدد مانگی جائے یا ان کے ناموں کو وسیلہ بنایا جائے۔ جس جگہ ایسا کیا جائے یا ایسی تحریریں، تصویریں اور کتبات وغیرہ ہوں تو یہ وہ مقام ہر گز نہیں ہو سکتا جو اللہ کو ساری زمین پر سب سے زیادہ اچھا لگتا ہے، جسے ایمان خالص کے حامل، صلوٰۃ و زکوٰۃ کے عامل اور صرف اللہ سے ڈرنے والے مومن لوگ آباد کرتے ہیں نہ کہ وہ لوگ جو شرک کی نجاست سے آلودہ ہوں اگرچہ ایمان کے اقراری ہوں لیکن دلوں میں کفر باقی ہو (التوبۃ: 17،18)۔ نبی ﷺ نے فرمایا کہ جس شخص کو دیکھو کہ مسجد کی خبر گیری کرتا ہے (اس کو آباد رکھتا ہے) تو اس کے ایمان کی گواہی دو؛ پھر آپ نے یہی آیت پڑھی (ترمذی: کتاب الایمان، باب ماجآء فی حرمۃ الصلوٰۃ، عن ابی سعید الخدریؓ)۔
حدیث میں آتا ہے کہ جو شخص اچھی طرح وضو کرے اور صلوٰۃ کے لیے مسجد کی طرف جائے تو ہر قدم پر ایک گناہ معاف ہوتا ہے اور ایک درجہ بڑھتا ہے اور جب تک صلوٰۃ کے انتظار میں رہتا ہے تو اسے صلوٰۃ ادا کرنے کا ہی ثواب ملتا ہے اور فرشتے اس کے لیے دعائے خیر کرتے ہیں۔ صلوٰۃ کے بعد جب تک وہ اپنی جگہ پر رہتا ہے اور وضو نہیں ٹوٹتا تو فرشتے اس کے لیے رحمت، مغفرت و توبہ کی قبولیت کی دعا کرتے رہتے ہیں۔ (مسلم: کتاب الطھارۃ، باب فضل الوضوٓءو الصلوٰۃ عقبہ/ کتاب المساجد، باب فضل الصلوٰۃ الجماعۃ… و باب فضل الصلوٰۃ المکتوبۃ فی جماعۃ و فضل انتظار الصلاۃ/ بخاری کتاب الوضوٓء ، باب من لم یر الوضوء…. / کتاب الاذان، باب من جلس فی المسجد ینظر الصلوٰۃ و فضل المساجد)۔
مسجد میں داخل ہوتے وقت پہلے سیدھا پیر اندر رکھیں (رواہ البخاری تعلیقاً، کتاب الصلوٰۃ ، باب التیمن فی دخول المسجد)
اور یہ دعا پڑھیں :

اَلّٰھُمَّ افْتَحْ لِیْ اَبْوَابِ رَحْمَتِکَ

(مسلم: کتاب صلوٰۃ المسافرین، باب ما یقول اذا دخل المسجد)

” اے اللہ مجھ پر اپنی رحمت کے دروازے کھول دے”

اور باہر آتے ہوئے پہلے الٹا پیر نکالیں اور یہ دعا پڑھیں:

اَلّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئلُکَ مِنْ فَضْلِکَ

” اے اللہ میں تجھ سے تیرے فضل کا سوال کرتا ہوں “

مسجد میں داخل ہوں تو بیٹھنے سے پہلے دو رکعت تحیۃ المسجد کے نوافل پڑھنے چاہئیں (بخاری: کتاب الصلوٰۃ، با اذا دخل احد کم المسجد فلیر کع رکعتین قبل ان یجلس/ مسلم: کتاب صلوٰۃ المسافرین، باب استحباب تحیۃ المسجد)۔

اذان

اصطلاحاً صلوٰۃ کے لیے پکار کر بلانے کو اذان کہتے ہیں اور اذان دینے والا مُؤذِّن کہلاتا ہے۔ یہ بڑی مبارک پکار ہے اور اس کا پکارنے والا بہترین شخص ہے۔ احادیث میں اذان اور مؤذن کی بہت فضیلت بیان ہوئی ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے دن مؤذن کی گردن سب سے زیادہ اونچی ہو گی (مسلم: کتاب الصلوٰۃ، باب فضل الاذان)۔
نیز فرمایا کہ اذان دینے کا اتنا ثواب ہے کہ اگر لوگوں کو معلوم ہو جائےتو وہ اس کے لیے قرعہ اندازی کریں (بخاری: کتاب الاذان، باب الاستھمامفی الاذان)۔
 اذان کے کلمات دو مرتبہ ہیں اور اقامت کے ایک ایک مرتبہ(بخاری: کتاب الاذان، باب مثنیٰ مثنیٰ)۔
حدیث میں اذان کے کلمات یہ بیان کیے  گئے ہیں: (مسلم: کتاب الصلٰوۃ، باب استحباب القول مثل قول المؤذن لمن سمعہ ، عن عمر)

اَللَّہُ اَکْبَرُ اَللَّہُ اَکْبَر (اللہ بہت بڑا ہے، اللہ بہت بڑا ہے)

اَللَّہُ اَکْبَرُ اَللَّہُ اَکْبَر (اللہ بہت بڑا ہے،اللہ بہت بڑا ہے)

اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ الَّا اِللَّہُ  (میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں)

اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ الَّا اِللَّہُ  (میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں)

اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللَّہُ  (میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں)

اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللَّہُ  (میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں)

حَیَّ عَلیَ الصَّلٰوﺓِ (آؤ صلوٰۃ کی طرف)

حَیَّ عَلیَ الصَّلٰوﺓِ  (آؤ صلوٰۃ کی طرف)

حَیَّ عَلیَ الْفَلاَحِ (آؤ کامیابی کی طرف)

حَیَّ عَلیَ الْفَلاَحِ (آؤ کامیابی کی طرف)

اَللَّہُ اَکْبَرُ اَللَّہُ اَکْبَر (اللہ بہت بڑا ہے،اللہ بہت بڑا ہے)

لَّا اِلٰہَ الَّا اِللَّہُ  (اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں)

مؤذن کو اذان میں حَیَّ عَلیَ الصَّلٰوۃِ کے کلمات کہتے ہوئے دائیں طرف اور حَیَّ عَلیَ الْفَلاَحِ کہتے ہوئے بائیں طرف گردن گھمانی چاہیے (مسلم: کتاب الصلٰوۃ ، باب سترۃ المصلی)۔
اذان کہتے وقت دونوں کانوں میں انگشت  شہادت دینی چاہئے (بخاری تعلیقًا: کتاب الاذان،  باب ھل یتبع المؤذن فاہ ھٰھنا / ترمزی: کتاب الصلٰوۃ، باب ما جآء فی ادخال الصبع فی الا ذن عند الاذان )۔
فجر کی اذان حَیَّ عَلیَ الْفَلاَحِ کے بعد دو مرتبہ اَلصَّلٰوﺓ خیرٌمِّنَ النَّومِ (صلٰوۃ نیند سے بہتر ہے) کہنا بھی اللہ کے رسول ﷺ ہی نے سکھایا (ابو داؤد: کتاب الصلٰوۃ، باب کیف الاذان)۔
جماعت کھڑی ہوتے ہوئے بھی یہی اذان کے کلمات کہے جاتے ہیں جنہیں اقامت کہتے ہیں مگر فرق یہ ہےاذان کے کلمات دو دو دفعہ ہیں اور اقامت کے کلمات حَیَّ عَلیَ الْفَلاَحِ ایک ایک دفعہ ہیں پھر دو دفعہ قَدْ قَامَتِ الصَّلٰوۃِ (بیشک صلوٰۃ کھڑی ہو گئی) کا اضافہ کیا جاتا ہے اور پھر باقی کلمات اذان ہی کی طرح کہے جاتے ہیں (بخاری: کتاب الاذان، باب الاذان مثنیٰ مثنیٰ/ابو داؤد: کتاب الصلوٰۃ، باب کیف الاذان و باب فی الاقامۃ)۔
اذان کا جواب دینا بھی بہت ثواب کا کام ہے۔ اس کے جواب میں وہی  کلمات دہرائے جائیں جو مؤذن کہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا کہ اذان سننے والا اگر پورے خلوص اور دلی یقین کے ساتھ جواب  دے تو وہ جنت میں داخل میں ہو گا (مسلم : کتاب الصلٰوۃ، باب استحباب القول مثل قول المؤذن لمن سمعہ)۔
فرمایا تم بھی ایسا  ہی کہو جیسا مؤذن کہتا ہے (بخاری: کتاب الاذان، باب ما یقول اذا سمع المنادی)۔
حَیَّ عَلیَ الصَّلٰوﺓِ اور حَیَّ عَلیَ الْفَلاَحِ کے جواب میں لَا حَوْلَ وَ لَا قُوَّۃ اِلَّا بِا للَّہِ (اللہ کے سوا کوئی طاقت ہے نہ قوت)کہا جائے (بخاری: کتاب الاذان، باب ما یقول اذا سمع المنادی)۔
فجر کے اذان کے کلمات اَلصَّلٰوﺓ خیرٌ مِّنَ النَّومِ کے جواب میں صَدَقْتَ وَبَرَرْتَ بِلحَقِّ نَطَقْتَ  صحیح احادیث سے ثابت نہیں۔ اذان کے جواب کے بعد نبی ﷺ پر صلوٰۃ پڑھنا چاہیے۔ نبی ﷺ فرمایا کہ جب مؤذن کی اذان سنو تو تم بھی وہی کہو جو مؤذن کہتا ہے پھر مجھ پر صلوٰۃ پڑھو کیونکہ جو کوئی مجھ پر ایک مرتبہ صلوٰۃ پڑھتا ہے تو اللہ اس پر دس مرتبہ رحمت بھیجتا ہے، اسکے بعد اللہ تعالیٰ سے میرے لیے وسیلہ مانگو؛ وسیلہ دراصل جنت میں ایک مقام ہے جو اللہ کے بندوں میں سے ایک بندے کو دیا جائے گا اور مجھے امید ہے کہ وہ بندہ میں ہی ہوں گا اور جو میرے لیے وسیلہ طلب کرے گا تو اس کے لیے میری شفاعت واجب ہو گئی (مسلم : کتاب الصلٰوۃ، باب استحباب القول مثل قول المؤذن لمن سمعہ)۔
نبی ﷺ نے دعائے وسیلہ ان الفاظ میں سکھائی: (بخاری: کتاب الاذان، باب الدعاء عند النداء)

اللّٰھُمَّ رَبَّ ھٰذہِ الدَّعْوَۃِ التَّآ مَّۃِ وَالصَّلٰوۃِ الْقَآئِمَۃِ اٰتِ مُحَمَّدَ نِ الْوَسِیْلَۃَ وَالْفَضِیْلَۃَ وَابْعَثْہُ مَقَاماً مَّحْمُوْدَ نِ الَّذِیْ وَعَدْتَّہ̒

“اے اللہ، اس مکمل پکار اور قائم ہونے والی صلوٰۃ کے رب! محمد ﷺ کو وسیلہ اور فضیلت عطا فرما اور انہیں مقام محمود پر پہنچا جس کا تو نے ان سے وعدہ فرمایا ہے۔”

احادیث میں اذان کے بعد کی دعا کے یہی الفاظ آئے ہیں، ان میں کوئی اضافہ نہیں کرنا چاہیے۔ اور نہ ہی ان کلمات کو بلند آواز سے اور ہاتھ اٹھا کر پڑھنے کا حدیث میں کوئی ذکر ہے۔ صحیح احادیث میں اس بات کا بھی ذکر نہیں کہ ابو بکر ؓ نے اذان میں نبی ﷺ کا نام سن کر اپنے ہاتھوں کے دونوں انگوٹھے چوم کر آنکھوں سے لگا لیے۔

قبلہ رخ ہونا

صلوٰۃ قبلہ رخ یعنی خانہ کعبہ کی طرف منہ کر کے ادا کرنی چاہیے کہ یہ اللہ کا حکم ہے؛

وَمِنْ حَیْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْھَکَ شَطْرَالْمَسْجِدِالْحَرَامِ

(البقرۃ:150 )

” اور تم جہاں سے بھی نکلو مسجد حرام (خانہ کعبہ ہی) کی طرف منہ(کر کے صلوٰۃ ادا ) کرو اور تم جہاں بھی ہوا کرو تو اسی طرف رخ کیا کرو۔”

صلوٰۃ ایسی جگہ ادا کرنی چاہیے کہ راستہ نہ رکے اور لوگ سامنے سے نہ گزریں کیونکہ صلوٰۃ ادا کرنے والے کے سامنے سے گزرنے پر بہت وعید آئی ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا کہ نمازی کے سامنے سے گزرنے والا اگر یہ جانتا ہو کہ اس کا کتنا وبال ہے تو اسے چالیس تک کھڑا رہنا سامنے سے نکل جانے سے بہتر معلوم ہو۔ راوی کو یہ یاد نہیں رہا کہ چالیس دن ، مہینے یا سال (بخاری: کتاب الاذان ، باب اثم الماربین یدی المصلی / مسلم : کتاب الصلوٰۃ،باب السترۃ)۔

نبیﷺ ستون وغیرہ کی آڑ میں صلوٰۃ ادا فرماتے (بخاری: کتاب الاذان، باب الصلوٰۃ الی الاسطوانۃ)۔

اگر کوئی ستون نہ ہو تو کوئی اور چیز مثلاً کوئی ذرا اونچی لکڑی سامنے رکھ لینی چاہیے (بخاری: کتاب الصلوٰۃ، باب الصلوٰۃ الی الحربۃ / باب الصلوٰۃ الی العنزۃ)۔
اس طرح جو رکاوٹ رکھی جاتی ہے اسے سُتْرَۃ کہتے ہیں۔

قیام

صلوٰۃ کے لیے قبلہ رخ ہو کر با ادب کھڑے ہوں۔ اللہ کا حکم ہے:

وَقُوْمُوْالِلّٰہِ قٰنِتِیْنِ

(البقرۃ:  238)

‘‘اللہ کے آگے با ادب کھڑے رہو۔‘‘

اگر کھڑے ہونے کی قدرت نہیں  تو بیٹھ کر صلوٰۃ ادا کریں، بیٹھ کر بھی نہ پڑھ سکیں تو لیٹ کر ہی سہی بہر حال ادا ضرور کریں (بخاری: کتاب الاذان ، باب اذا لم یطق قاعدا  صلی علی جنب)۔
یا اگر عذر کے سبب بہتر سمجھے تو کچھ صلوٰۃ بیٹھ کر اور کچھ کھڑے ہو کر پڑھ  لے (بخاری: کتاب الصلوٰۃ، باب اذا صلی قاعدا ثم صح او وجد خفۃ تمم ما بقی)۔
قیام اور اس کے بعد بھی صلوٰۃ کے ہر رکن میں نظروں کو نیچا رکھنا ہے۔ صلوٰۃ میں ادھر اُدھر دیکھنے کے متعلق نبی ﷺ نے فرمایا کہ شیطان کا اچک لینا ہے (بخاری: کتاب الاذان، باب الالتفات فی الصلوٰۃ)۔
صلوٰۃ میں اوپر دیکھنے والوں کے بارے میں تو سخت وعید بتائی۔ فرمایا کہ اس فعل سے بعض آجائیں ورنہ ان کی بینائی چھین لی جائے گی (بخاری: کتاب الاذان، باب الالتفات فی الصلوٰۃ/ باب رفع البصرالی السماء فی الصلوٰۃ)۔

تسویۃ الصفوف

تسویۃ الصفوف سے مراد صفوں کو درست کرنا ہے۔ با جماعت صلوٰۃ کے لیے  اس وقت تک کھڑے نہ ہوں جب تک امام کو آتا نہ دیکھ لیں (بخاری: کتاب الاذان، باب الالتفات فی الصلوٰۃ/ باب رفع البصرالی السماء فی الصلوٰۃ، باب متیٰ یقوم الناس اذا راوا الامام عند الاقامۃ / مسلم: کتاب المساجد، باب متیٰ یقوم الناس للصلوٰۃ)۔
احادیث میں اس بات کا ذکر نہیں کہ سب لوگ بیٹھے رہیں اور مؤذن جب حَیَّ عَلیَ الصَّلٰوﺓِ   کہے تو اس وقت کھڑے ہوں۔ صف میں کھڑا ہونے کے لیے با وقار انداز اختیار کریں۔ پیروں کو بہت پھیلا کر کھڑے نہ ہوں بلکہ اعتدال کے ساتھ کھڑے ہوں ، قدموں کو سیدھا اور اور برابر رکھیں  (نسا ئی: کتاب الصلوٰۃ ، باب الصف بین القدمین فی الصلوٰۃ/ ابوداؤد : کتاب الصلوٰۃ ، باب وضع الیمنی علی الیسریٰ فی الصلوٰۃ)۔
جماعت سے صلوٰۃ پڑھتے ہوئے ہر آدمی اپنے برابر کھڑے ہوئے آدمی کے کندھے سے کندھا اور ٹخنے سے ٹخنہ ملا کر رکھے (بخاری : کتاب الاذان ،  باب الزاق المنکب بالمنکب والقدم  بالقدم فی الصف )۔
کہ اس طرح صف سیدھی رہتی ہے جس کی نبی ﷺ نے بہت تاکید فرمائی ہے (مسلم: کتاب الصلوٰۃ، باب تسویۃ الصفوف)۔
اور یہاں تک فرمایا کہ صفوں کو سیدھا رکھنا صلوٰۃ کا حسن اور اس کی تکمیل ہے (مسلم: کتاب الصلوٰۃ، باب تسویۃ الصفوف)۔
اس لیے اس کے بغیر صلوٰۃ ناقص رہتی ہے۔ جسم کی مخصوص ساخت کی بناء پر کاندھے اور قدم دونوں ایک ساتھ نہ مل پائیں تو بھی کوئی حرج نہیں، البتہ اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ صف بالکل سیدھی ہو اور شانوں کے درمیان  خلاء نہ ہو۔ بچے بڑوں کے پیچھے صف بنائیں (مسلم: کتاب الصلوٰۃ ، باب تسویۃ الصنوف)۔
اور عورتیں بچوں کے پیچھے صف بنائیں (بخاری: کتاب الاذان، باب المرأ ۃ وحدھا  تکون صفا / مسلم: کتاب  الصلوٰۃ، باب امر النساء المصلیات  ورآء الرجال‎)۔
اگر صرف دو ہی آدمی صلوٰۃ ادا کریں (خواہ بچہ یا بڑا) تو دوسرا شخص امام کے دائیں طرف اس کے برابر کھڑا ہو (بخاری: کتاب الاذان ، باب میمنۃ المسجد والامام)۔
اور اگر کوئی  تیسرا آ جائے تو امام مقتدی کو پیچھے کر دے اور وہ دونوں امام کے پیچھے صف بنائیں (مسلم: کتاب الزھد، باب حدیث  جابر الطویل)۔
لیکن اگر وہ تیسرافرد عورت ہو تو وہ اکیلی پیچھے کھڑی رہے اور بچہ یا بڑا مام کے دائیں طرف (مسلم: کتاب المساجد، باب جوازالنافلۃ قاعداًوقائما)۔
لیکن کوئی آدمی پوری صف چھوڑ کر اکیلا نہ کھڑا ہو کیونکہ ایسے شخص کو نبی ﷺ نے صلوٰۃ دہرانے کا حکم دیا تھا (ابوداؤد:کتاب الصلوٰۃ، باب الرجل یصلی وحدہ خلف الصف/ ترمذی: کتاب الصلوٰۃ، باب الصلوٰۃ خلف بعدہ)۔
جب اقامت ہو جائے تو صلوٰۃ کے لیے دوڑ کر نہ آئیں بلکہ وقار اور سکون سے چل کر آئیں ، جس قدر صلوٰۃ مل جائے وہ پڑھ لیں اور جو رہ جائے اسے بعد میں پورا کر لیں (بخاری: کتاب الاذان، باب مادرکتم فصلوا)۔

نیت کرنا

نیت دل کے ارادے کو رہتے ہیں۔ جب صلوٰۃ ادا کرنے کھڑے ہوئے تو یہی اس کی نیت ہے۔اس کے لیے زبان سے الفاظ ادا کرنا کہ ” میں نیت کرتا ہوں دورکعت نماز فجر واسطے اللہ تعالیٰ کے، منہ طرف کعبہ شریف کے پیچھے اس امام کے۔۔۔۔” صریح بدعت ہے۔ احادیث میں اس کاکوئی ذکر نہیں۔ اور یہ کہنا تو صریح شرک ہے کہ ” نیت کرتا ہوں دو رکعت سنت واسطے رسول اللہ کے۔۔۔” کیونکہ عبادت کی ہر قسم صرف اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے جس کا اقرار التحیات میں کیا جاتا ہے۔

تکبیرات

اللہُ اکبر کہنا تکبیر کہلاتا ہے۔ صلوٰۃ کے شروع میں اور ہر دفعہ رکوع و سجود میں جاتے ہوئے اور سجدوں اور قعدے سے اٹھتے ہوئے اللہُ اکبر کہیں