Categories
Uncategorized

قبر پرستی کا شرک

امت مسلمہ کی اکثریت کا یہ حال ہے کہ یہ قبروں پر جھکی پڑی ہے۔ مُردوں کو زندہ اور مافوق الاسباب اختیارات کا حامل سمجھ کر پکارا جا رہا ہے، ان سے دعائیں کی جا رہی ہیں۔ انہیں ’’ داتا ‘‘ ( دینے والا )، ’’ دستگیر ‘‘ ( ہاتھ تھامنے والا )، ’’ گنج بخش ‘‘( خزانے بخشنے والا )،’’ مشکل کشا ‘‘ ( مخلوق کی مشکلات حل کرنے والا )،’’ غوث الاعظم ‘‘ ( کائنات کا سب سے بڑا پکاریں سننے والا اور مدد کرنے والا )، ’’ غریب نواز ‘‘ ( غریبوں کو نوازنے والا) کہہ کر پکارا جا رہا ہے۔ اسی طرح ان کے متعلق عقائد ہیں کہ یہ اولاد دیتے ہیں یا ان کے توسل سے اولاد ملتی ہے، یہ قسمتیں کھری ( اچھی ) کردیتے ہیں، یہ اقتدار دلا دیتے ہیں۔

یعنی وہ فوت شدہ لوگ جنہیں اللہ تعالیٰ نے مردہ قرار دیا ہے ، ان سے یہ قوم اس قدر ڈرتی ہے کہ بہت لوگوں کا عقیدہ ہے کہ اگر ان کے یوم پیدائش کو نہیں منایا، ان کے نام کی نذر ونیاز نہ دی تو یہ ناراض ہو جائیں گے۔ پھر ہماری زندگی تنگ ہو جائے گی، یہی وجہ ہے کہ لاہور کے باہر سے آنے والے اس عقیدے کے حامل سب سے پہلے ان کی قبرپر حاضری دیتے ہیں اور مشہور ہے کہ ’’ پہلے داتا کو سلام کرلو‘‘۔ ان مُردوں سے ڈراور خوف لوگوں پر اس قدر حاوی ہے کہ ایک خاتون بازار میں سب جگہ دوپٹے کے ہوش کے بغیر چلی جا رہی ہوتی ہے لیکن جہاں کوئی قبر آئی تو فوراً سر پر دوپٹہ لے لیتی ہےکہ حضرت ننگے سر نہ دیکھ لیں۔ اسی طرح ویگن ڈارئیور سارے راستے بیہودہ گانے چلاتا ہے آتا ہے لیکن جہاں کہیں قبر دیکھی تو گانا بند کردیتا ہے کہ حضرت جی ناراض ہو جائیں گے۔

افسوس زندہ و جاوید رب کا ڈر اور خوف نہیں رہا، خواتین بازاروں میں سر عام عجیب ترین لباس میں گھومتی ہیں، گاڑیوں والے ہر جگہ اپنے گانے جاری رکھتے ہیں، یہ کلمہ گو ساری دنیا کی بد اعمالیاں کرتا ہے ، اسے اپنے رب کی موجودگی کا احساس نہیں ہوتا لیکن جہاں قبر دکھائی دے جائے یہ حواس باختہ ہو جاتا ہے۔ بڑے بڑے سیاسی اور مذہبی لیڈراپنی الیکشن مہم کا آغاز کسی مزار سے کرتےہیں کہ ’’بابا کی رحمت ‘‘ اور ’’ مدد ‘‘ سےانہیں اقتدار نصیب ہو جائے۔ اندازہ لگائیں کہ مُردوں سے ڈر و خوف اور اس کو حاصل اختیارات کے عقائد کا کیا عالم ہوگیا ہے۔

قبر پرستی کس قوم کا عمل تھا؟

قبر پرستی نبی ﷺ سے قبل بھی موجود تھی اور یہ طرز عمل ہے ہی یہودیوں اور عیسائیوں کا۔نبی ﷺ نے فرمایا :

عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ: «لَعَنَ اللَّهُ اليَهُودَ وَالنَّصَارَى، اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسْجِدًا»، قَالَتْ: وَلَوْلاَ ذَلِكَ لَأَبْرَزُوا قَبْرَهُ غَيْرَ أَنِّي أَخْشَى أَنْ يُتَّخَذَ مَسْجِدًا

( بخاری، کتاب الجنائز، بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنَ اتِّخَاذِ المَسَاجِدِ عَلَى القُبُورِ )

’’عائشہ ؓ روایت کرتی ہیں کہ نبی ﷺ نے جس مرض میں وفات پائی، اس میں فرمایا کہ اللہ یہود و نصاری پر لعنت کرے انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کوعبادت گاہ بنالیا۔ عائشہ ؓنے بیان کیا کہ اگر ایسا نہ ہوتا تو آپ کی قبر ظاہر کردی جاتی، مگر مجھے ڈر ہے کہ کہیں عبادت گاہ نہ بنالی جائے‘‘۔

حَدَّثَنِي جُنْدَبٌ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ أَنْ يَمُوتَ بِخَمْسٍ أَلَا وَإِنَّ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ كَانُوا يَتَّخِذُونَ قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ وَصَالِحِيهِمْ مَسَاجِدَ، أَلَا فَلَا تَتَّخِذُوا الْقُبُورَ مَسَاجِدَ، إِنِّي أَنْهَاكُمْ عَنْ ذَلِكَ»

( مسلم ، کتاب المساجد و مواضع الصلاۃ ، بَابُ النَّهْيِ عَنْ بِنَاءِ الْمَسَاجِدِ، عَلَى الْقُبُورِ وَاتِّخَاذِ الصُّوَرِ فِيهَا وَالنَّهْيِ عَنِ اتِّخَاذِ الْقُبُورِ مَسَاجِدَ )

’’جندب ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے آپ کی وفات سے پانچ دن پہلے سناکہ تم سے پہلے لوگوں نے اپنے نبیوں اور نیک لوگوں کی قبروں کو عبادت گاہ بنا لیا تھا تم قبروں کو عبادت گاہ نہ بنانا میں تمہیں اس سے منع کرتا ہوں‘‘۔

عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ المُؤْمِنِينَ، أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ، وَأُمَّ سَلَمَةَ ذَكَرَتَا كَنِيسَةً رَأَيْنَهَا بِالحَبَشَةِ فِيهَا تَصَاوِيرُ، فَذَكَرَتَا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «إِنَّ أُولَئِكَ إِذَا كَانَ فِيهِمُ الرَّجُلُ الصَّالِحُ فَمَاتَ، بَنَوْا عَلَى قَبْرِهِ مَسْجِدًا، وَصَوَّرُوا فِيهِ تِلْكَ الصُّوَرَ، فَأُولَئِكَ شِرَارُ الخَلْقِ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ القِيَامَةِ»

( بخاری، کتاب الصلاۃ، هَلْ تُنْبَشُ قُبُورُ مُشْرِكِي الجَاهِلِيَّةِ، وَيُتَّخَذُ مَكَانُهَا مَسَاجِدَ )

’’عائشہ ؓ روایت کرتی ہیں کہ ام حبیبہ ؓ اور ام سلمہ ؓنے ایک گرجا، حبش میں دیکھا تھا، اس میں تصویریں تھیں، انہوں نے نبیﷺ سے اس کا ذکر کیا آپ نے فرمایا کہ ان لوگوں میں جب کوئی نیک مرد ہوتا اور وہ مرجاتا تو اس کی قبر پر عبادت گاہ بنا لیتے اور اس میں یہ تصویریں بنا دیتے، یہ لوگ اللہ کے نزدیک قیامت کے دن بدترین خلق ہوں گے‘‘۔

واضح ہوا کہ وفات شدہ افراد کی قبر پر مزار بنا کر اسے عبادت گاہ بنایا یہودیوں اور عیسائیوں کا طرز عمل تھا۔ یہ اپنے وفات شدہ انبیاء و نیک لوگوں کی قبروں کو عبادت گاہ بنا لیا کرتے تھے۔ عائشہ ؓ کا بیان بھی آپ نے اوپر پڑھ لیا ہوگا کہ ’’ کہ اگر ایسا نہ ہوتا تو آپ کی قبر ظاہر کردی جاتی، مگر مجھے ڈر ہے کہ کہیں عبادت گاہ نہ بنالی جائے‘‘۔ یعنی اس بات کا خدشہ تھا کہ یہودیوں اور عیسائیوں کی طرح قبروں کو عبادت گاہ بنانے کا کام اس امت میں بھی شروع نہ ہو جائے۔

ہر پوجی جانے والی چیز ’’ بت ‘‘ کہلاتی ہے:

اللَّهُمَّ لاَ تَجْعَلْ قَبْرِي وَثَناً يُعْبَدُ. اشْتَدَّ غَضَبُ اللهِ عَلَى قَوْمٍ اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ

(الموطا لامام مالک، الصلاۃ، باب جامع الصلاۃ(

“یا اللہ!میری قبر کو بت نہ بنانا جسے لوگ پوجنا شروع کر دیں۔ ان لوگوں پر اللہ کا سخت غضب اور قہر نازل ہوا جنہوں نے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہیں بنالیا۔”

بت پرستی ہو یا قبر پرستی ان کے پیچھے شخصیات ہوتی ہیں :

جیسا کہ اوپر بیان کردہ احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ جن کی قبریں بنائی جاتی تھیں وہ انبیاء علیہ السلام یا قوم کے نیک لوگ ہوتے تھے۔ بالکل اسی طرح پوجے جانے والے ’’ بت ‘‘ بھی شخصیات ہی سے منسوب ہوتے تھے۔ نبی ﷺ نے فرمایا :

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، «صَارَتِ الأَوْثَانُ الَّتِي كَانَتْ فِي قَوْمِ نُوحٍ فِي العَرَبِ بَعْدُ أَمَّا وَدٌّ كَانَتْ لِكَلْبٍ بِدَوْمَةِ الجَنْدَلِ، وَأَمَّا سُوَاعٌ كَانَتْ لِهُذَيْلٍ، وَأَمَّا يَغُوثُ فَكَانَتْ لِمُرَادٍ، ثُمَّ لِبَنِي غُطَيْفٍ بِالْجَوْفِ، عِنْدَ سَبَإٍ، وَأَمَّا يَعُوقُ فَكَانَتْ لِهَمْدَانَ، وَأَمَّا نَسْرٌ فَكَانَتْ لِحِمْيَرَ لِآلِ ذِي الكَلاَعِ، أَسْمَاءُ رِجَالٍ صَالِحِينَ مِنْ قَوْمِ نُوحٍ، فَلَمَّا هَلَكُوا أَوْحَى الشَّيْطَانُ إِلَى قَوْمِهِمْ، أَنِ انْصِبُوا إِلَى مَجَالِسِهِمُ الَّتِي كَانُوا يَجْلِسُونَ أَنْصَابًا وَسَمُّوهَا بِأَسْمَائِهِمْ، فَفَعَلُوا، فَلَمْ تُعْبَدْ، حَتَّى إِذَا هَلَكَ أُولَئِكَ وَتَنَسَّخَ العِلْمُ عُبِدَتْ»

( بخاری، کتاب تفسیر القرآن ، بَابُ {وَدًّا وَلاَ سُواعًا، وَلاَ يَغُوثَ وَيَعُوقَ} )

’’ابن عباس ؓ روایت کرتے ہیں کہ وہ بت جو قوم نوح میں تھے وہی عرب میں اس کے بعد پوجے جانے لگے ” ود ” قوم کلب کا بت تھا جو دومتہ الجندل میں تھا اور ” سواع ” ہذیل کا اور ” یغوث ” مراد کا پھر بنی عطیف کا سبا کے پاس جوف میں تھا اور ” یعوق ” ہمدان کا اور ” نسر ” حمیر کا ” جوذی ” الکلاع کے خاندان سے تھا یہ قوم نوح (علیہ السلام) کے نیک لوگوں کے نام تھے جب ان نیک لوگوں نے وفات پائی تو شیطان نے ان کی قوم کے دل میں یہ بات ڈال دی کہ ان کے بیٹھنے کی جگہ میں جہاں وہ بیٹھا کرتے تھے بت نصب کردیں اور اس کا نام ان (بزرگوں) کے نام پر رکھ دیں چنانچہ ان لوگوں نے ایسا ہی کیا لیکن اس کی عبادت نہیں کی تھی یہاں تک کہ جب وہ لوگ بھی مرگئے اور اس کا علم جاتا رہا تو ان کی عبادت کی جانے لگی۔ ‘‘

ابن  عباس ؓ سے روایت ہے :

إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا قَدِمَ أَبَى أَنْ يَدْخُلَ البَيْتَ وَفِيهِ الآلِهَةُ، فَأَمَرَ بِهَا فَأُخْرِجَتْ، فَأَخْرَجُوا صُورَةَ إِبْرَاهِيمَ، وَإِسْمَاعِيلَ فِي أَيْدِيهِمَا الأَزْلاَمُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قَاتَلَهُمُ اللَّهُ، أَمَا وَاللَّهِ لَقَدْ عَلِمُوا أَنَّهُمَا لَمْ يَسْتَقْسِمَا بِهَا قَطُّ». فَدَخَلَ البَيْتَ، فَكَبَّرَ فِي نَوَاحِيهِ، وَلَمْ يُصَلِّ فِيهِ

( بخاری ،  کتاب الحج ، بَابُ مَنْ كَبَّرَ فِي نَوَاحِي الكَعْبَةِ )

’’ کہ جب نبیﷺ  کعبہ کے پاس آئے تو اندر جانے سے انکار کردیا اور اس میں بت رکھے ہوئے تھے۔ ان کے نکالنے کا حکم دیا، چنانچہ  وہ نکال دئیے گئے۔ لوگوں نے ابراہیم (علیہ السلام) اور اسماعیل (علیہ السلام) کے بت بھی نکال دئیے کہ ان دونوں کے ہاتھ میں پانسے تھے۔ رسول اللہ ﷺنے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ ان مشرکوں کو برباد کرے، واللہ وہ لوگ جانتے ہیں ان دونوں نے کبھی پانسے نہیں پھینکے، پھر خانہ کعبہ میں داخل ہوئے اور اس کے اطراف (کونوں) میں تکبیر کہی اورصلاۃ نہیں ادا کی‘‘۔

مشرکین نے مریم صدیقہ کی بھی تصویر بنائی ہوئی تھی :

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ البَيْتَ، فَوَجَدَ فِيهِ صُورَةَ إِبْرَاهِيمَ، وَصُورَةَ مَرْيَمَ، فَقَالَ «أَمَا لَهُمْ، فَقَدْ سَمِعُوا أَنَّ المَلاَئِكَةَ لاَ تَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ، هَذَا إِبْرَاهِيمُ مُصَوَّرٌ، فَمَا لَهُ يَسْتَقْسِمُ»

( بخاری، کتاب احادیث الانبیاء، بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَاتَّخَذَ اللَّهُ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلًا} )

’’ابن عباس ؓسے روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ کعبہ میں داخل ہوئے تو وہاں ابراہیم ؑ اور مریم صدیقہ  ؒ  کی تصویریں دیکھیں تو نبی ﷺ نے فرمایا کہ قریش کو کیا ہوگیا حالانکہ وہ سن چکے تھے کہ فرشتے ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جہاں کوئی تصویر ہو یہ ابراہیم  علیہ السلام کی تصویر بنائی گئی پھر وہ بھی پانسہ پھینکتے ہوئے‘‘۔

اپنی قوم کے جس فرد کو وہ نیک سمجھتے تھے اس کے نام کے بھی بت بناتے تھے:

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فِي قَوْلِهِ: {اللَّاتَ وَالعُزَّى}] «كَانَ اللَّاتُ رَجُلًا يَلُتُّ سَوِيقَ الحَاجِّ»

( بخاری،  کتاب التفسیر القرآن، بَابُ {أَفَرَأَيْتُمُ اللَّاتَ وَالعُزَّى}

’’ابن عباس ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ لات اس شخص ِکا نام ہے  جو حاجیوں کے لئے ستو گھولتا تھا‘‘۔

واضح ہوا کہ کھڑا بت ہو یا قبر کی شکل میں لیٹا بت، دراصل عبادت کسی شخصیت کی ہو رہی ہوتی ہے۔

ان افراد کو الٰہ سمجھ کر پکارا جاتا ہے:

یہ بات تو واضح ہو چکی ہے کہ بت  پرستی ہو یا قبر پرستی دراصل یہ  شخصیت پرستی ہوتی ہے یعنی مرنے کے بعد ان شخصیات کے بت بنا لئے جاتے ہیں اور وہاں ان کو  پکارا جاتا ہے ان سے دعائیں کی جاتی ہیں۔ لیکن ایسا کیوں ؟ قرآن و حدیث ہمیں بتاتے ہیں :

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: كَانَ الْمُشْرِكُونَ يَقُولُونَ: لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ، قَالَ: فَيَقُولُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَيْلَكُمْ، قَدْ قَدْ» فَيَقُولُونَ: إِلَّا شَرِيكًا هُوَ لَكَ، تَمْلِكُهُ وَمَا مَلَكَ، يَقُولُونَ هَذَا وَهُمْ يَطُوفُونَ بِالْبَيْتِ

(  مسلم ، کتاب الحج ، بَابُ التَّلْبِيَةِ وَصِفَتِهَا وَوَقْتِهَا )

’’ابن عباس ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ مشرکین کہتے تھے لبیک لا شریک لک      ( اے اللہ میں حاضر ہوں تیرا کوئی شریک نہیں)۔( راوی نے کہا ) رسول ﷺ  نے ارشاد فرمایا  ہلاکت ہو تمہارے لئے اس سے آگے نہ کہو، مگر مشرکین کہتے: مگر وہ شریک ہے جس کا  مالک تو ہی ہے  وہ مالک نہیں، یہ کہتے اور بیت اللہ کا طواف کرتے۔‘‘

یعنی مشرک اللہ کیساتھ اپنے ان نیک افراد کو بھی ان صفات و اختیارات کا حامل سمجھا کرتے تھے جو اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہیں، لیکن ساتھ یہ بھی عقیدہ تھا  کہ یہ کسی چیز کے مالک نہیں بلکہ مالک اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ وہی عقیدہ جو آج عوام کو دیا گیا ہے کہ یہ  صفات و اختیارات بابا جی کے                       ’’ ذاتی  ‘‘نہیں ’’ عطائی ‘‘ ہیں۔ یعنی  ذاتی طور پر  یہ کسی چیز کے مالک نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں یہ عطا کیا گیا ہے۔ قرآن مجید میں اس بارے میں بتایا گیا:

﴿وَقَالُوا لَا تَذَرُنَّ آلِهَتَكُمْ وَلَا تَذَرُنَّ وَدًّا وَلَا سُوَاعًا وَلَا يَغُوثَ وَيَعُوقَ وَنَسْرًا﴾

[نوح: 23]

’’ اور کہنے لگے ، مت چھوڑنا اپنے معبودوں کو ، اور مت چھوڑنا ود،سواع، یغوث، یعوق اور نسر کو ‘‘

قرآن بتاتا ہے کہ وہ فوت شدہ نیک افراد کو اپنا ’’ الٰہ ‘‘ سمجھتے تھے۔ الٰہ کے معنی ہیں :

’’ الٰہ ‘‘ کے معنی کہ وہ جو اس کائنات کا خالق اور رب ( پالنہار،  یعنی زندگی سے لیکر موت تک کی اور اس کے بعد کی ہر ہر چیز دینے والا ہو)،۔
  • جو ایک مخلوق کو پیدا کرکے بار بار اس مخلوق کو پیدا کر رہا ہو۔ ( جیسے نسل انسان ایک تسلسل سے چل رہی ہے )۔
  • جو مخلوق کی زندگی اور موت پر قادر ہو۔
  • جو زندہ و جاوید ہو۔ ( یعنی جسے کبھی موت نہ آنی ہو )۔
  • جو مشرق سے لیکر مغرب تک ہر چیز کا مالک ہو۔
  • رزاق ( یعنی ہر چیز دینے والا، اس میں  صرف  کھانے  پینے کی چیز نہیں ہوتی بلکہ ہر وہ چیز جو اللہ کی طرف عطا کی جائے وہ رزق  کہلاتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ اللہ سے دعا کرتے تھے : :” اللهم ارزقني شهادة في سبيلك‘‘ (صحیح بخاری: کتاب فضائل المدینۃباب كراهية النبي ﷺ أن تعرى المدينة)    ’’اے اللہ! مجھے اپنے راستے میں شہادت عطا فرما ‘‘.
  • مشکل کشا، یعنی تمام مخلوق کی مشکلات کو دور کرنے والا۔
  • غوث الاعظم ، کائنات کا سب سے بڑا مخلوق کی پکاریں سننے والا ان کی مدد کرنے والا۔
  • جو کہ غیب اور دکھائی دینے والی ہر چیز کا علم رکھتا ہو۔
  • جس کو پکارا جائے، جس سے غائبانہ مدد مانگی جائے۔
  • جو اس پورے سسٹم پر قدرت رکھتا ہو، سورج، چاند، ہر چیز اس کے کنٹرول میں ہو۔
  • جو اولاد دینے پر تنہا قادر ہو۔
  • جو خشکی و تری میں انسانوں کو راستہ دکھانے والا ہو۔
  • جس کی عبادت کی جائے۔
  • جس پر توکل کیا جائے۔

جیسا کہ ما قبل بیان کردہ حدیث سے ثابت ہے کہ  یہی بت عرب میں بھی پوجے جانے لگے۔ یعنی ان شخصیات کو الٰہ سمجھا گیا یہی وجہ تھی کہ جب نبی ﷺ نے اکیلے ایک ’’ الٰہ ‘‘ ’’ اللہ تعالیٰ ‘‘ کی طرف دعوت دی تو وہ نہ مانے حالانکہ وہ اللہ تعالیٰ کو اپنا الٰہ یعنی خالق، پالنہار، قوتوں اور اختیارات کا مالک سمجھتے  تھے۔

ان فوت شدہ حضرات سے دعا کرنے کو ان کی عبادت کیوں قرار دیا گیا۔

قرآن و حدیث  سے ثابت ہے کہ اوپر بیان کردہ  الٰہ والی   یہ صفات صرف اللہ تعالیٰ کے لئے مختص ہیں۔ جب کوئی کسی کو ان صفات کا حامل سمجھتا ہے تو گویا وہ اسے ’’ الٰہ ‘‘بنا رہا  ہوتا ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا :

إِنَّ الدُّعَاءَ هُوَ الْعِبَادَةُ» ثُمَّ قَرَأَ: {وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ}

( سنن ابن ماجہ ،  کتاب الدعاء ، بَابُ فَضْلِ الدُّعَاءِ )

’’دعا ہی تو عبادت ہے، پھر یہ آیت پڑھی (وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُوْنِيْ اَسْتَجِبْ لَكُمْ اِنَّ الَّذِيْنَ يَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِيْ سَيَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دٰخِرِيْنَ ) ۔  (اور تمہارے رب نے فرمایا مجھے پکارو، میں تمہاری دعا قبول کروں گا، بیشک جو لوگ میری عبادت سے سرکشی کرتے ہیں عنقریب وہ ذلیل ہو کر جہنم  میں داخل ہوں گے)‘‘۔

اس حدیث سے واضح ہوا کہ دعا ہی اصل عبادت ہے، جب یہ عبادت اللہ کی  بجائے کسی دوسرےکے  لئے کی جائے گی تو شرک ہوگا۔ یعنی دعا اور پکار اللہ کا حق ہے کہ اسے غائبانہ پکارا جائے ،اس ہی سے مدد طلب کی جائے ، زندگی کی دوسری ضروریات  کے لئے بھی صرف اس ہی سے سوال کیا جائے۔

جیسا کہ نبی ﷺ نے فرمایا :

إِذَا سَأَلْتَ فَاسْأَلِ اللَّهَ، وَإِذَا اسْتَعَنْتَ فَاسْتَعِنْ بِالل

( ترمذی،  أبواب صفة القيامة والرقائق والورع عن ﷺ)

’’ جب تم کوئی چیز مانگو توصرف اللہ سے مانگو، جب تو مدد چاہےتوصرف اللہ سے مدد طلب کرو ‘‘۔

اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں نبی ﷺ سے  کہلوا دیا کہ

﴿قُلۡ إِنَّمَآ أَدۡعُواْ رَبِّي وَلَآ أُشۡرِكُ بِهِۦٓ أَحَدٗ ﴾

[الجن: 20]

’’ کہدو کہ میں تو اپنے رب ہی کو پکارتا ( دعا کرتا ) ہوں ، اس کیساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا ‘‘۔

﴿وَلَا تَدۡعُ مِن دُونِ ٱللَّهِ مَا لَا يَنفَعُكَ وَلَا يَضُرُّكَۖ فَإِن فَعَلۡتَ فَإِنَّكَ إِذٗا مِّنَ ٱلظَّٰلِمِينَ﴾

[يونس: 106]

’’ اور مت پکارو اللہ کے علاوہ کسی کو جو نہ تمہیں نقصان پہنچا سکتا ہے اور نہ ہی کوئی نفع  اور اگر تم نے ایسا کیا توظالموں ( مشرکوں ) میں سے ہو جاؤ گے۔‘‘

ثابت ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی  سے غائبانہ دعا کرنا، اسے پکارنا، اسے مافوق الاسباب اختیارات والا سمجھ کر  اس سے سوال کرنا یہ سب اس کی عبادت یعنی اللہ تعالیٰ کیساتھ شرک ہے۔

سب سے زیادہ گمراہ کون ؟

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

﴿وَمَنۡ أَضَلُّ مِمَّن يَدۡعُواْ مِن دُونِ ٱللَّهِ مَن لَّا يَسۡتَجِيبُ لَهُۥٓ إِلَىٰ يَوۡمِ ٱلۡقِيَٰمَةِ وَهُمۡ عَن دُعَآئِهِمۡ غَٰفِلُونَ ۝   وَإِذَا حُشِرَ ٱلنَّاسُ كَانُواْ لَهُمۡ أَعۡدَآءٗ وَكَانُواْ بِعِبَادَتِهِمۡ كَٰفِرِينَ﴾

[الأحقاف: 5-6]

’’ اور اس سے بڑھ کر گمراہ کون ہوگا جو اللہ کے علاوہ ایسوں کو پکارے جو قیامت تک اس کی پکار نہیں سن سکتے، اور وہ ان کی دعاؤں سے بے خبر ہیں اور جب ( قیامت کے دن ) انسانوں کو جمع کیا جائے گا تو وہ  ان کی عبادت کا انکار کردیں گے‘‘ْ۔

بتایا گیا کہ  لوگ ایسوں کو پکار تے  ہیں  جو قیامت تک ان کی پکار نہیں سن سکتے ( کیونکہ مردہ سنتا ہی نہیں ) تو یہ لوگ  گمراہ ترین لوگ ہیں، اس آیت میں مزید فرمایا گیا کہ انہیں پکار کر جو یہ ان کی عبادت کر رہے ہیں تو قیامت کے دن  ( جنہیں آج  پکارا جا رہا ہے ) ان کی اس عبادت کا انکار کردیں گے۔

 کیا مردہ جسم سنتا  ہے ؟

اوپر بیان کردہ سورہ احقاف کی آیت میں بھی یہی بیان کیا گیا کہ  جنہیں پکارا جا رہا ہے وہ ان کی پکاروں سے غافل ہیں اورسورہ فاطر میں فرمایا:

﴿إِن تَدۡعُوهُمۡ لَا يَسۡمَعُواْ دُعَآءَكُمۡ وَلَوۡ سَمِعُواْ مَا ٱسۡتَجَابُواْ لَكُمۡۖ وَيَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ يَكۡفُرُونَ بِشِرۡكِكُمۡۚ وَلَا يُنَبِّئُكَ مِثۡلُ خَبِيرٖ﴾

[فاطر: 14]

’’اگر تم  انہیں پکارو (تو) وہ تمہاری پکار نہیں سن سکتے اور اگر (بالفرض) وہ سُن بھی لیں (تو) وہ تمہیں  جواب نہیں دے سکتے اور قیامت کے دن وہ انکار کردیں گے تمہارے اس شرک کا اور نہیں (کوئی) خبر دے  سکتا تمہیں ایک پوری طرح  خبر رکھنے والے (اللہ) کی مانند ‘‘۔

اللہ تعالیٰ مزید فرماتا ہے :

﴿إِنَّمَا يَسۡتَجِيبُ ٱلَّذِينَ يَسۡمَعُونَۘ وَٱلۡمَوۡتَىٰ يَبۡعَثُهُمُ ٱللَّهُ ثُمَّ إِلَيۡهِ يُرۡجَعُونَ﴾

[الأنعام: 36]

’’ صرف وہی لوگ(دعوت حق)قبول کرتے ہیں جو سنتے ہیں، اور رہے مردے تو انہیں اللہ ہی اٹھائے گا پھر وہ اُسی کی طرف لوٹائے جائیں گے ۔‘‘

یعنی مردے اس لئے قبول نہیں کرسکتے کیونکہ وہ سنتے ہی نہیں۔مزید آیت :

﴿إِنَّكَ لَا تُسۡمِعُ ٱلۡمَوۡتَىٰ وَلَا تُسۡمِعُ ٱلصُّمَّ ٱلدُّعَآءَ إِذَا وَلَّوۡاْ مُدۡبِرِينَ﴾

[النمل: 80]

’’ بے شک آپ مردوں کو نہیں سنا سکتے اور نہ ہی بہروں کو جب وہ پیٹھ پھیر کر بھاگ رہے ہوں۔‘‘

ثابت ہوا کہ مردہ جسم نہیں سنتا۔

فوت شدہ کی عبادت کیوں کی جاتی ہے:

اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ  ان فوت شدہ انبیاء علیہم السلام اور نیک افراد کی بندگی اس لئے کی جاتی تھی کہ انہیں اللہ تک رسائی کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے، جیسا کہ آجکل عقیدہ ہےکہ یہ اللہ کے چہیتے ہیں اللہ تک ہماری بات پہنچا دیتے ہیں اور اللہ سے منوا لیتے ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے مکمل طور پر اس بات کا رد کردیا کہ آسمانوں یا زمین میں کون ایسا ہے جو  اللہ تعالیٰ سے سفارش کر سکے، یعنی کوئی وسیلہ نہیں۔

یہ عقیدہ کہ کوئی اللہ کا چہیتا ہے اور اللہ سے منوالیتا ہے قرآن کے بیان کا  بھر پورانکار ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

﴿۔ ۔ ۔  وَمَا كَانَ ٱللَّهُ لِيُعۡجِزَهُۥ مِن شَيۡءٖ فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَلَا فِي ٱلۡأَرۡضِۚ إِنَّهُۥ كَانَ عَلِيمٗا قَدِيرٗا﴾

[فاطر: 44]

’’  ۔ ۔  اور آسمانوں اور زمین میں ایسی کوئی چیز نہیں جو اللہ کو عاجز کرسکے۔، وہ سب کچھ جانتا اور قدرت والا ہے۔‘‘

قرآن سے ثابت ہوگیا کہ اس کائنات میں کوئی بھی ایسا نہیں جو اللہ تک سفارشی ہو یا  اسےعاجز کردے۔

واضح ہوا کہ اللہ  تعالیٰ کے علاوہ کسی اور کو پکارنا اور دعائیں کرنا اس کی عبادت اور اللہ کے حقوق میں شرک ہے۔ سورہ یونس میں فرمایا :

﴿وَلَا تَدۡعُ مِن دُونِ ٱللَّهِ مَا لَا يَنفَعُكَ وَلَا يَضُرُّكَۖ فَإِن فَعَلۡتَ فَإِنَّكَ إِذٗا مِّنَ ٱلظَّٰلِمِينَ﴾

[يونس: 106]

’’ اورمت پکارو ( دعا کرو )  اللہ کے علاوہ ایسوں کو جو نہ تمہیں فائدہ دے سکتے ہوں اور نہ ہی کوئی نقصان ، اگر تم نے ایسا کیا تو تم ظالموں ( مشرکوں ) میں سے ہو جاؤ گے ‘‘۔

واضح ہوا  کہ   دعا صرف اللہ تعالیٰ سے کرنی ہے جب دوسرے کسی فوت شدہ سے کی جائے گی تو وہ ’’ شرک ‘‘ ہوگا ۔  لوگ صرف دعا ہی نہیں کرتے بلکہ وہاں ماتھا بھی ٹیکتے ہیں، ان سے ڈرتے اور خوف بھی کھاتے ہیں ، ان کی خوشنودی اور شکرانے کے لئے  جانور بھی ذبح کرتے اور ان کے نام کی نذر ونیاز بھی کرتے ہیں۔ اس طرح  مزید کئی  قسم کے شرک میں مبتلا ہو جاتے ہیں ۔اسی وجہ سے فوت شدہ افراد  سے دعا کرنے، انہیں پکارنے، ان کو مافوق الاسباب اختیارات کا حامل سمجھنے  اور ان کے نام کی نذر و نیاز دینے کو ان کی  عبادت بیان کیا گیا ہے ۔

شکرگزاری میں شرک :

جیسا کہ ہر انسان جانتا ہے کہ تمام تر نعمتیں دینے والی صرف ایک اللہ کی ذات ہے۔ کسی مسلم سے یہ بات کہی جائے کہ ہندو کسی شخصیت کے  بت کے سامنے کھڑے ہو کر بیٹے کا سوال کرتا ہے اور اسے بیٹا مل بھی جاتا ہے تو بتائیں یہ بیٹا اللہ نے دیا یا اس بت نے دیا ؟ سب ایک ہی جواب دیتے ہیں کہ ’’ اللہ نے دیا ‘‘، لیکن وہ ہندو یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ بت کی  وجہ سے ملا اس لئےوہ جاکر اس بت کا شکرادا کرتا ہے۔ یہی حال اس کلمہ گو قوم کا ہے قبر پر جاکر یا پیر صاحب سے دعائیں کرا کر بیٹا طلب کرتے ہیں، اور جب بیٹا مل جاتا ہے تو جاکر اس کا شکریہ ادا کرتے ہیں، قبروں پر چادر چڑھاتے ہیں اور پھر اس کا نام’’ پیراں دتہ ‘‘،’’ غوث دتہ ‘‘ رسول دتہ ‘‘ رکھ دیتے ہیں۔ یہ مشرکین کا طریقہ کار ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

﴿قُلْ مَنْ يُّنَجِّيْكُمْ مِّنْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ تَدْعُوْنَهٗ تَضَرُّعًا وَّخُفْيَةً ۚ لَىِٕنْ اَنْجٰىنَا مِنْ هٰذِهٖ لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِيْنَ    ؀  قُلِ اللّٰهُ يُنَجِّيْكُمْ مِّنْهَا وَمِنْ كُلِّ كَرْبٍ ثُمَّ اَنْتُمْ تُشْرِكُوْنَ﴾

[الأنعام: 63-64]

’’پوچھو (ان سے) ! کون بچاتا ہے تم کو صحرا اور سمندر کی تاریکیوں  سے جب تم پکارتے ہو اس کو گڑ گڑا کر اور چپکے چپکے کہ اگر بچالے وہ ہم کو، اس بلا سے تو ہم ضرور ہوں گے شکر گزار۔ کہہ دو ! اللہ ہی نجات دیتا ہے تم کو اس سے اور ہر تکلیف سے پھر بھی تم شرک کرتے ہو‘‘۔

﴿وَمَا بِكُمْ مِّنْ نِّعْمَةٍ فَمِنَ اللّٰهِ ثُمَّ اِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فَاِلَيْهِ تَجْــــَٔــرُوْنَ ؀ ثُمَّ اِذَا كَشَفَ الضُّرَّ عَنْكُمْ اِذَا فَرِيْقٌ مِّنْكُمْ بِرَبِّهِمْ يُشْرِكُوْنَ ﴾

[النحل: 53-54]

’’اور جو تمہیں حاصل ہےہر  قسم کی نعمت سو وہ اللہ ہی کی عطا کردہ ہے پھر جب پہنچتی ہے تمہیں تکلیف تو اسی کے آگے فریاد کرتے ہو۔ پھر جب دور کرتا ہے وہ تکلیف تم سے تو یکایک ایک گروہ تم میں سے اپنے رب کے ساتھ شرک کرنے لگتا ہے‘‘۔

یہ ہے وہ معاملہ کہ سب کچھ اللہ دیتا ہے اور پھر شکرانہ قبر والوں کا ادا کیا جاتا ہے۔ ایسا طریقہ عرب میں بھی تھا ۔

حدثنا يحيى بن موسى البلخي، حدثنا عبد الرزاق، أخبرنا معمر، عن ثابت، عن أنس، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لا عقر في الإسلام»، قال عبد الرزاق: «كانوا يعقرون عند القبر بقرة أو شاة»

( سنن ابی داؤد ، کتاب الجنائز، باب: كراهية الذبح عند القبر)

انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا۔ اسلام میں عقر نہیں ہے۔ عبدالرزاق نے کہا کہ زمانہ جاہلیت میں لوگ قبروں کے پاس جا کر گائے یابکری ذبح کیا کرتے تھے۔ (اس کا نام عقر ہے)

﴿حُرِّمَتۡ عَلَيۡكُمُ ٱلۡمَيۡتَةُ وَٱلدَّمُ وَلَحۡمُ ٱلۡخِنزِيرِ وَمَآ أُهِلَّ لِغَيۡرِ ٱللَّهِ بِهِۦ وَٱلۡمُنۡخَنِقَةُ وَٱلۡمَوۡقُوذَةُ وَٱلۡمُتَرَدِّيَةُ وَٱلنَّطِيحَةُ وَمَآ أَكَلَ ٱلسَّبُعُ إِلَّا مَا ذَكَّيۡتُمۡ وَمَا ذُبِحَ عَلَى ٱلنُّصُبِ وَأَن تَسۡتَقۡسِمُواْ بِٱلۡأَزۡلَٰمِۚ ذَٰلِكُمۡ فِسۡقٌۗ ٱلۡيَوۡمَ يَئِسَ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ مِن دِينِكُمۡ فَلَا تَخۡشَوۡهُمۡ وَٱخۡشَوۡنِۚ ٱلۡيَوۡمَ أَكۡمَلۡتُ لَكُمۡ دِينَكُمۡ وَأَتۡمَمۡتُ عَلَيۡكُمۡ نِعۡمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ ٱلۡإِسۡلَٰمَ دِينٗاۚ فَمَنِ ٱضۡطُرَّ فِي مَخۡمَصَةٍ غَيۡرَ مُتَجَانِفٖ لِّإِثۡمٖ فَإِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٞ رَّحِيمٞ﴾

[المائدة: 3]

’’تم پر حرام کیا گیا مرداراور ( بہتا ہوا) خون، سؤر کا گوشت اور ہر وہ چیز جو غیر اللہ سے منسوب کر دی جائے اور وہ جانور جو گلا گھٹ کر مر گیا ہواور جو چوٹ کھا کر مرا ہواور جو بلندی سے گر کر مرا ہواور جو سینگ لگ کر مرا ہو، اور جس کو درندے نے (پھاڑ) کھایا ہو، مگر یہ کہ تم اس کو (مرنے سے پہلے ہی) ذبح کر لو اور (وہ جانور) جو آستانے پر ذبح کیا گیا ہو، اور یہ (تم پر حرام ہے) کہ پانسوں سے قسمت معلوم کرو۔ یہ تمہارے لیے گناہ کے کام ہیں۔ آج وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا ہے تمہارے دین سے مایوس ہو گئےہیں، تو تم ان سے نہ ڈرو، مجھ سے ہی ڈرتے رہو۔ آج کے دن میں نے تمہارا دین تمہارے لیے مکمل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمہارے لیے دین اسلام کو پسند کیا۔ پھر جو کوئی بھوک میں بے بس ہو جائے( بشرطیکہ) گناہ کی طرف مائل نہ ہو تو اللہ مغفرت کرنے والا رحم کرنے والا ہے۔ ‘‘

﴿وَجَعَلُواْ لِلَّهِ مِمَّا ذَرَأَ مِنَ ٱلۡحَرۡثِ وَٱلۡأَنۡعَٰمِ نَصِيبٗا فَقَالُواْ هَٰذَا لِلَّهِ بِزَعۡمِهِمۡ وَهَٰذَا لِشُرَكَآئِنَاۖ فَمَا كَانَ لِشُرَكَآئِهِمۡ فَلَا يَصِلُ إِلَى ٱللَّهِۖ وَمَا كَانَ لِلَّهِ فَهُوَ يَصِلُ إِلَىٰ شُرَكَآئِهِمۡۗ سَآءَ مَا يَحۡكُمُونَ﴾

[الأنعام: 136]

’’اور جو کھیتی اور مویشی اللہ نے پیدا کیے تھے اِن لوگوں نے اُن میں اللہ کے لیے ایک حصہ مقرر کیا اور (دوسروں کا حصہ بھی رکھا) پھر اپنے گمان (باطل) سے کہا کہ یہ اللہ کا ہے اور یہ ہمارے( ٹھہرائے ہوئے) شریکوں کا۔ پھر جو ان کے شرکا کا (حصہ) ہوتا ہے اُس میں سے تو اللہ کی طرف نہیں پہنچتا، لیکن جو اللہ کا (حصہ) ہوتا ہے اُس میں سے ان کے شرکا کو پہنچ جاتا ہے، کیسا بُرا فیصلہ کرتے تھے یہ لوگ۔‘‘

مشرک لوگ اللہ کی دی ہوئی کھیتیوں اور مویشیوں میں اللہ کا حصہ تو بہت تنگ دلی کیساتھ نکالتے تھے لیکن  خودساختہ معبودوں کا حصہ خوب فراخ دلی سے نکالتے تھے۔

﴿وَقَالُواْ هَٰذِهِۦٓ أَنۡعَٰمٞ وَحَرۡثٌ حِجۡرٞ لَّا يَطۡعَمُهَآ إِلَّا مَن نَّشَآءُ بِزَعۡمِهِمۡ وَأَنۡعَٰمٌ حُرِّمَتۡ ظُهُورُهَا وَأَنۡعَٰمٞ لَّا يَذۡكُرُونَ ٱسۡمَ ٱللَّهِ عَلَيۡهَا ٱفۡتِرَآءً عَلَيۡهِۚ سَيَجۡزِيهِم بِمَا كَانُواْ يَفۡتَرُونَ﴾

[الأنعام: 138]

’’اور وہ کہتے ہیں کہ یہ مویشی اور کھیتی ممنوع ہیں، اِن کو اُن کے گمان کے مطابق کوئی نہ کھائے سوائے اس کے جس کو وہ چاہیں، اور بعض چوپائے( ایسے ہیں) جن کی پیٹھ (سواری وغیرہ کے لیے) حرام کر دی گئی ہیں اور بعض مویشی ایسے ہیں جن پر( ذبح کے وقت) وہ اللہ کا نام نہیں لیتے، اللہ پر جھوٹ باندھتے ہوئے۔ اللہ انہیں ان افترار  پردازیوں کا جو وہ کر رہے ہیں عنقریب بدلہ دے گا۔ ‘‘

﴿وَقَالُواْ مَا فِي بُطُونِ هَٰذِهِ ٱلۡأَنۡعَٰمِ خَالِصَةٞ لِّذُكُورِنَا وَمُحَرَّمٌ عَلَىٰٓ أَزۡوَٰجِنَاۖ وَإِن يَكُن مَّيۡتَةٗ فَهُمۡ فِيهِ شُرَكَآءُۚ سَيَجۡزِيهِمۡ وَصۡفَهُمۡۚ إِنَّهُۥ حَكِيمٌ عَلِيمٞ﴾

[الأنعام: 139]

’’اور وہ کہتے ہیں جو (بچے) ان چوپایوں کے پیٹوں میں ہیں وہ خاص ہمارے مردوں کے لیے ہیں، اور ہماری بیویوں پر حرام ہیں۔ اور اگر وہ (بچہ )مرا ہوا ہو تو اس میں یہ سب شریک ہو سکتے ہیں۔ عنقریب اللہ ان کو ان کی (گھڑی ہوئی) باتوں کی سزا دے گا، وہ حکمت والا(سب کچھ) جاننے والا ہے ۔‘‘

﴿وَمِنَ ٱلۡإِبِلِ ٱثۡنَيۡنِ وَمِنَ ٱلۡبَقَرِ ٱثۡنَيۡنِۗ قُلۡ ءَآلذَّكَرَيۡنِ حَرَّمَ أَمِ ٱلۡأُنثَيَيۡنِ أَمَّا ٱشۡتَمَلَتۡ عَلَيۡهِ أَرۡحَامُ ٱلۡأُنثَيَيۡنِۖ أَمۡ كُنتُمۡ شُهَدَآءَ إِذۡ وَصَّىٰكُمُ ٱللَّهُ بِهَٰذَاۚ فَمَنۡ أَظۡلَمُ مِمَّنِ ٱفۡتَرَىٰ عَلَى ٱللَّهِ كَذِبٗا لِّيُضِلَّ ٱلنَّاسَ بِغَيۡرِ عِلۡمٍۚ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَهۡدِي ٱلۡقَوۡمَ ٱلظَّٰلِمِينَ﴾

[الأنعام: 144]

’’اور اونٹ (کی جنس) میں سے دو اور گائے (کی جنس)میں دو،(ان سے) کہو کہ کیا اُس نے دونوں نر حرام کیے یا دونوں مادائیں یا وہ (بچے) جو اِن ماداؤں کے رحموں میں ہیں۔ کیا تم اس وقت موجود تھے جب اللہ نے یہ حکم دیا تھا۔ پھر اُس سے بڑا ظالم کون ہو گا جو اللہ پر جھوٹ باندھے تاکہ بغیر علم کے لوگوں کو گمراہ کرے۔ یقیناً اللہ ظالم لوگوں کو سیدھی راہ نہیں دکھاتا ‘‘۔

عَنْ سَعِيدِ بْنِ المُسَيِّبِ، قَالَ: ” البَحِيرَةُ: الَّتِي يُمْنَعُ دَرُّهَا لِلطَّوَاغِيتِ، فَلاَ يَحْلُبُهَا أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ، وَالسَّائِبَةُ: كَانُوا يُسَيِّبُونَهَا لِآلِهَتِهِمْ لاَ يُحْمَلُ عَلَيْهَا شَيْءٌ ” قَالَ: وَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «رَأَيْتُ عَمْرَو بْنَ عَامِرٍ الخُزَاعِيَّ يَجُرُّ قُصْبَهُ فِي النَّارِ، كَانَ أَوَّلَ مَنْ سَيَّبَ السَّوَائِبَ» وَالوَصِيلَةُ: النَّاقَةُ [ص:55] البِكْرُ، تُبَكِّرُ فِي أَوَّلِ نِتَاجِ الإِبِلِ، ثُمَّ تُثَنِّي بَعْدُ بِأُنْثَى، وَكَانُوا يُسَيِّبُونَهَا لِطَوَاغِيتِهِمْ، إِنْ وَصَلَتْ إِحْدَاهُمَا بِالأُخْرَى لَيْسَ بَيْنَهُمَا ذَكَرٌ، وَالحَامِ: فَحْلُ الإِبِلِ يَضْرِبُ الضِّرَابَ المَعْدُودَ، فَإِذَا قَضَى ضِرَابَهُ وَدَعُوهُ لِلطَّوَاغِيتِ، وَأَعْفَوْهُ مِنَ الحَمْلِ، فَلَمْ يُحْمَلْ عَلَيْهِ شَيْءٌ وَسَمَّوْهُ الحَامِيَ

( بخاری، کتاب تفسیر القرآن ، بَابُ {مَا جَعَلَ اللَّهُ مِنْ بَحِيرَةٍ وَلاَ سَائِبَةٍ، وَلاَ وَصِيلَةٍ وَلاَ حَامٍ )

’’سعید بن مسیّب روایت کرتے ہیں انھوں نے بیان کیا کہ بحیرہ اس اونٹنی کو کہا جاتا ہے جس کو کفار کسی طاغوت کی نذر کرکے آزاد چھوڑ دیتے تھے اور اس کا دودھ نہ دوہتے تھے اور سائبہ وہ اونٹنی ہےجووہ ان کے الٰہوں  کی نذر کی جاتی اور جس پر کوئی سواری نہ کی جاتی تھی اور نہ اس سے کوئی کام لیتے تھے ابن مسیّب کا بیان ہے کہ ابوہریرہؓ نے کہا کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میں نے عمرو بن عامرخزاعی کو دوزخ میں جلتے ہوئے دیکھا اس کی انتڑیاں باہر نکلی ہوئی تھیں اور وہ ان کو گھسیٹتا تھا یہ وہ آدمی ہے جس نے سب سے پہلے بتوں کے نام پر اونٹنی کو چھوڑا تھا اور وصیلہ اس اونٹنی کو کہتے ہیں جو پہلی اور دوسری مرتبہ میں مادہ جنے اور اس کو بت کے نام پر چھوڑ دیا جائے (یعنی متصل دو دفعہ مادہ جنے) جن کے درمیان نر نہ ہو اور حام اس اونٹ کو کہتے ہیں جس کیلئے کفار کہتے تھے کہ اگر اس سے ہماری اونٹنی کے دس یا بیس (مقررہ تعداد) بچے پیدا ہوں تو ہمارے لیے ہوں گے اور اگر زائد ہوں تو ہمارے بتوں کے لیے ہوں گے پھر جو زائد ہوتے ہیں ان کو بتوں کے نام پر چھوڑ دیتے اور اس سے کچھ کام نہیں لیا کرتے تھے ‘‘۔

قرآن و حدیث سے واضح ہوا کہ وہ اپنے الٰہوں کے نام کی نذر و نیاز کیا کرتے تھے۔

اپنی امت کے لئے نبی ﷺ کا فرمان :

حَدَّثَنِي جُنْدَبٌ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ أَنْ يَمُوتَ بِخَمْسٍ أَلَا وَإِنَّ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ كَانُوا يَتَّخِذُونَ قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ وَصَالِحِيهِمْ مَسَاجِدَ، أَلَا فَلَا تَتَّخِذُوا الْقُبُورَ مَسَاجِدَ، إِنِّي أَنْهَاكُمْ عَنْ ذَلِكَ»

( مسلم ، کتاب المساجد و مواضع الصلاۃ ، بَابُ النَّهْيِ عَنْ بِنَاءِ الْمَسَاجِدِ، عَلَى الْقُبُورِ وَاتِّخَاذِ الصُّوَرِ فِيهَا وَالنَّهْيِ عَنِ اتِّخَاذِ الْقُبُورِ مَسَاجِدَ )

’’جندب ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے آپ  کی وفات  سے پانچ دن پہلے سناکہ تم سے پہلے لوگوں نے اپنے نبیوں اور نیک لوگوں کی قبروں کو عبادت گاہ بنا لیا تھا تم قبروں کو عبادت گاہ نہ بنانا میں تمہیں اس سے منع کرتا ہوں‘‘۔

ایسے ہی معاملات کی بیخ کنی کے لئے نبی ﷺ نے  سب سے پہلے قبروں کی زیارت سے منع فرما  یا لیکن بعد میں اس کی اجازت دی۔عبد اللہ بن بریدہ ؓ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا :

نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ، فَزُورُوهَا

(فِي أَوَّلِ الْإِسْلَامِ، وَبَيَانِ نَسْخِهِ وَإِبَاحَتِهِ إِلَى مَتَى شَاءَ )

’’ میں نے تمہیں قبروں کی زیارت کرنے سے منع کیا تھا تو اب تم قبروں کی زیارت کرلیا کرو‘‘۔

دوسری روایات میں قبروں کی زیارت کی وجہ بھی ملتی ہے:

فَزُورُوا الْقُبُورَ فَإِنَّهَا تُذَكِّرُ الْمَوْتَ»

(مسلم كِتَابُ الْجَنَائِزِ بَابُ اسْتِئْذَانِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي زِيَارَةِ قَبْرِ أُمِّهِ)

’’پس قبور کی زیارت کیا کرو کیونکہ وہ تمہیں موت یاد کراتی ہیں‘‘۔

گویا قبروں پر جانے کی اجازت صرف اس لئے دی گئی تھی کہ انسان کو وہاں جا کر اپنی موت یاد آئے۔

قبر کے بارے میں نبی ﷺ کے فرامین:

عَنْ أَبِي الْهَيَّاجِ الْأَسَدِيِّ، قَالَ: قَالَ لِي عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ: أَلَا أَبْعَثُكَ عَلَى مَا بَعَثَنِي عَلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ «أَنْ لَا تَدَعَ تِمْثَالًا إِلَّا طَمَسْتَهُ وَلَا قَبْرًا مُشْرِفًا إِلَّا سَوَّيْتَهُ»

( مسلم ، کتاب الجنائز۔ بَابُ الْأَمْرِ بِتَسْوِيَةِ الْقَبْرِ )

’’ ابو لہیاج اسدی  ( حيان بن الحصين) روایت کرتے ہیں کہ علیؓ نے فرمایا : کیا میں تمہیں اس کام کے لئے نہ بھیجوں کہ جس کام کے لئے نبی ﷺ نے مجھے بھیجا تھا ، کہ  کسی تصویرکو مٹائے بغیر نہ چھوڑوں اور قبر کو  زمین کے برابر کردوں ‘‘۔

أَنَّ ثُمَامَةَ بْنَ شُفَيٍّ، حَدَّثَهُ قَالَ: كُنَّا مَعَ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ بِأَرْضِ الرُّومِ بِرُودِسَ، فَتُوُفِّيَ صَاحِبٌ لَنَا، فَأَمَرَ فَضَالَةُ بْنُ عُبَيْدٍ بِقَبْرِهِ فَسُوِّيَ، ثُمَّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَأْمُرُ بِتَسْوِيَتِهَا»

( مسلم ، کتاب الجنائز۔ بَابُ الْأَمْرِ بِتَسْوِيَةِ الْقَبْرِ )

’’ ثمامہ بن شقی کہتے ہیں کہ ہم روم میں فضالۃ بن عبید ؓ کیساتھ تھے، ہمارے ایک ساتھی کی وفات ہو گئی، تو فضالہؓ نے ہمیں حکم دیا کہ  قبر ( زمین کے ) برابر کردی جائے اور فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو حکم دیتے ہوئے سنا زمین کے برابر کردینے کا ‘‘۔

عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُجَصَّصَ الْقَبْرُ، وَأَنْ يُقْعَدَ عَلَيْهِ، وَأَنْ يُبْنَى عَلَيْهِ»

( مسلم کتاب الجنائز )

’’جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے منع فرمایا ہے  کہ قبر کو پکا کیا جائے، اس پر ( مجاور بنکر ) بیٹھا جائے، اور اس پر کوئی عمارت بنائی جائے۔‘‘

ایک طرف تو نبی ﷺ نے سب سے پہلے مسلمین کو  قبروں پر جانے سے منع کردیا ، پھر اجازت دی بھی تو اس لئے کہ انسان کو وہاں جانے سے اسے اپنی موت یاد آئے کہ میرا انجام کیا ہونا ہے اور اس سے اس کے دل میں دنیا سے بے رغبتی پیدا ہو، اور دوسرے طرف نبی ﷺ نے یہود و نصاریٰ کے طرز عمل کے خلاف قبر کو پکا  کرنے ، اس پر کسی قسم کی کوئی عمارت بنانے ،اس پر مجاور بن کر بیٹھنے سے منع فرمایا بلکہ قبر کو زمین کے برابر کرنے کا حکم دیا ۔ یعنی نبی ﷺ قبر سے وابستہ ہر قسم کی محبت اور عقائد کو ختم  کردینا چاہتے تھے۔ الحمد للہ صحابہ کرام ؓ نے رسول اللہ ﷺ کے فرامین پر عمل کیا اور قبر پرستی کے شرک سے دور رہے۔نبی ﷺ نے اس بات کو بھی بیان کیا تھا کہ ان کی امت بھی یہود و نصاریٰ کے نقش قدم پر چلے گی :

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لَتَتَّبِعُنَّ سَنَنَ مَنْ قَبْلَكُمْ شِبْرًا بِشِبْرٍ، وَذِرَاعًا بِذِرَاعٍ، حَتَّى لَوْ سَلَكُوا جُحْرَ ضَبٍّ لَسَلَكْتُمُوهُ»، قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ: اليَهُودَ، وَالنَّصَارَى قَالَ: «فَمَنْ»

( بخاری ،  کتاب الاحادیث الانبیاء ، بَابُ مَا ذُكِرَ عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ )

’’ابوسعید ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا تم لوگ اپنے سے پہلے لوگوں کی لازمی پیروی کرو گے ،ایک ایک بالشت اور ایک ایک گز (یعنی ذرا سا بھی فرق نہ ہوگا) حتیٰ کہ اگر وہ لوگ کسی گوہ کے سوراخ میں داخل ہوئے ہوں گے تو تم بھی داخل ہو گے ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ یہود و نصاری کی ؟آپ نے فرمایا پھر اور کون ۔‘‘

چنانچہ بعد میں بالکل ایسا ہی ہوا جیسا کہ اس سے قبل یہود و نصاریٰ کا عمل تھا۔ اس مضمون کی ابتداء ہی میں ہم نے بتایا کہ کس طرح ان مُردوں کو زندہ سمجھ کر  اللہ تعالیٰ کی صفات ،حقوق و اختیارات میں شریک کیا جا رہا ہے ۔ یہ مر جانے والا تو اب قیامت تک کےلئے مردہ ہے :

﴿ثُمَّ إِنَّكُمْ بَعْدَ ذَلِكَ لَمَيِّتُونَ؁ ثُمَّ إِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ تُبْعَثُونَ؁﴾

[المؤمنون: 15-16]

’’ پھر اس ( زندگی) کے بعد تمہیں موت آجاتی ہے ، پھر تم قیامت کے دن اٹھائے جاؤگے ‘‘

مرتے ہی انسان کا مٹی سے بنا یہ جسم تو بے شعور ہو جاتا ہے :

﴿أَمْوَاتٌ غَيْرُ أَحْيَاءٍ  وَمَا يَشْعُرُونَ أَيَّانَ يُبْعَثُونَ﴾

[النحل: 21]

’’مردہ ہیں زندگی کی رمق نہیں، اور نہیں شعور رکھتے کہ کب اٹھائے جائیں گے‘‘۔

اور پھر رفتہ رفتہ  اس کی لاش  گل سڑ جاتی اور مٹی میں ملکر مٹی بن جاتی ہے  :

نبی ﷺ نے فرمایا:

«كُلُّ ابْنِ آدَمَ يَأْكُلُهُ التُّرَابُ، إِلَّا عَجْبَ الذَّنَبِ مِنْهُ، خُلِقَ وَفِيهِ يُرَكَّبُ»

(صحیح  مسلم: کتاب الفتن و اشراط ساعۃ۔ بَابُ مَا بَيْنَ النَّفْخَتَيْنِ)

ہر ابن آدم  کو مٹی کھا جاتی ہے سوائے عجب الذنب کے، اسی پر اسے پہلے بنایا گیا تھا اور اسی پردوبارہ بنایا جائیگا۔“

اور قرآن میں اللہ تعالیٰ نے یہ بھی بتایا ہے کہ مٹی کے جسموں کو کھانےکے پورے عمل سے بھی پروردگار لمحہ بہ لمحہ آگاہ ہوتا ہے۔

﴿قَدْ عَلِمْنَا مَا تَنْقُصُ الْأَرْضُ مِنْهُمْ  وَعِنْدَنَا كِتَابٌ حَفِيظٌ﴾

[ق: 4]

”مٹی انکے جسموں سے جو کھا رہی ہے وہ ہمارے علم میں ہے۔“

نبی ﷺ نے مزید فرمایا :

۔ ۔ ۔  «ثُمَّ يُنْزِلُ اللَّهُ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَيَنْبُتُونَ كَمَا يَنْبُتُ البَقْلُ، لَيْسَ مِنَ الإِنْسَانِ شَيْءٌ إِلَّا يَبْلَى، إِلَّا عَظْمًا وَاحِدًا وَهُوَ عَجْبُ الذَّنَبِ، وَمِنْهُ يُرَكَّبُ الخَلْقُ يَوْمَ القِيَامَةِ»

(صحیح البخاری: کتاب تفسیر القرآن، بَابُ {يَوْمَ يُنْفَخُ فِي الصُّورِ فَتَأْتُونَ أَفْوَاجًا} [النبأ: 18]: زُمَرًا)

’’۔ ۔ ۔ پھر (   اس وقفہ کے بعد)  اللہ تعالی آسمان سے بارش برسائے گا اور لوگ اس سے ایسے اُگ پڑینگے جیسے سبزہ اُگتا ہے۔ انسان کے جسم کی کوئی چیز ایسی نہیں ہے جو برباد نہ ہو جائے سوا ئے”عجب الذنب‘‘ کے اور اسی پر انسانی جسم کو قیامت کے دن پھر بنایا جائے گا“۔

اب جب یہ جسم ہی نہ رہا تو یہ سننے گا کہاں  سے ،  دیکھے گا کہاں سے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

﴿إِنَّ ٱلَّذِينَ تَدۡعُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ عِبَادٌ أَمۡثَالُكُمۡۖ فَٱدۡعُوهُمۡ فَلۡيَسۡتَجِيبُواْ لَكُمۡ إِن كُنتُمۡ صَٰدِقِينَ﴾

[الأعراف: 194]

’’  اے لوگو  ! اللہ کے سوا جنہیں تم پکارتے ہو  وہ یقیناً تم ہی جیسے بندے ہیں ، انہیں پکار دیکھو ،  یہ تمہاری پکار کا جواب تو دیں ؟  اگر تم انہیں پکارنے میں حق بجانب ہو ‘‘۔

﴿أَلَهُمۡ أَرۡجُلٞ يَمۡشُونَ بِهَآۖ أَمۡ لَهُمۡ أَيۡدٖ يَبۡطِشُونَ بِهَآۖ أَمۡ لَهُمۡ أَعۡيُنٞ يُبۡصِرُونَ بِهَآۖ أَمۡ لَهُمۡ ءَاذَانٞ يَسۡمَعُونَ بِهَاۗ قُلِ ٱدۡعُواْ شُرَكَآءَكُمۡ ثُمَّ كِيدُونِ فَلَا تُنظِرُونِ﴾

[الأعراف: 195]

’’ کیا ان کے پاؤں  ہیں جن سے یہ چل سکیں  یا ان کے ہاتھ ہیں جن سے یہ پکڑ سکیں ، یا ان کی آنکھیں ہیں جن سے یہ دیکھ سکیں، اور کان ہیں جن سے یہ سن سکیں  ان سے کہدو کہ اپنے بنائے ہوئے تمام شریکوں کو بلا لو  اور پھر سب ملکر میرے خلاف کوئی  چال چل دیکھو  اور مجھے مہلت نہ دو ‘‘۔

اس امت میں دوبارہ قبر پرستی کیسے  آگئی:

کتاب اللہ کی بات واضح  ہے  کہ انسان کی موت کے وقت اس کے جسم سے روح نکال لی جاتی ہے ، یہ جسم بے شعور ہو جاتا ہے اور رفتہ رفتہ گل سڑ کر مٹی میں ملکر مٹی بن جاتا ہے۔ سورہ زمر آیت  ۴۲ میں اللہ تعالیٰ نے اس بات کو واضح کردیا کہ مرنے والے کی روح روک لی جاتی ہے اور سورہ ٔالمومنوں کی آیت نمبر  ۱۰۰  میں یہ بتادیا گیا کہ اب روح اور اس دنیا کے درمیان  برزخ ( ایک آڑ ) ہے ۔ یعنی یہ روح اب قیامت سے قبل اس دنیا، اس مردہ جسم میں نہیں آسکتی۔ لیکن احمد بن حنبل نے عقیدہ دیا:

۔۔۔وأن اللَّه كلم مُوسَى تكليما وأتخذ إِبْرَاهِيم خليلا الصراط حق والميزان حق والأنبياء حق وَعِيسَى بْن مريم رَسُول اللَّهِ وكلمته والإيمان بالحوض والشفاعة والإيمان بمنكر ونكير وعذاب القبر والإيمان بملك الموت يقبض الأرواح ثم ترد فِي الإجساد فِي القبور فيسألون عَنِ الإيمان والتوحيد۔۔۔ )طبقات حنابلہ: جلد 1؛ باب المیم؛ ذکر مفارید حرف المیم و مثانیھا؛ مسدد بن مسرھد بن مسریل البصری حدث عن ابی سعید یحیی بن سعید القطان و بشر؛ صفحہ 342-345 الناشر: دار المعرفة – بيروت) ’’۔۔۔اور اللہ نے موسیٰ سے کلام کیا، اور ابراہیم کو اپنا خلیل بنایا، صراط حق ہے، اور میزان حق ہے، انبیاء حق ہیں، اور عیسیٰ ابن مریم رسول اللہ اور کلمۃ اللہ ہیں، اور حوض پر ایمان لانا، اور شفاعۃ پر، اور منکر نکیر پر، اور عذاب قبر پر، اور اس بات پر ایمان لانا کہ جب ملک الموت روحوں کو قبض کرتے ہیں پھر ان کو جسموں میں واپس لوٹا دیتے ہیں، پھر اُن سے ایمان اور توحید کے بارے میں سوال کیا جاتا ہے۔۔۔‘‘

یہ عقیدہ آج بھی  سعودی حکومت کی طرف سے شائع کی جانے  کتاب الصلوٰۃ میں باقاعدگی سے چھپتا ہے۔

اسی سلسلے کے ابن تیمیہ  فرما گئے ہیں :

فَهَذِهِ النُّصُوصُ وَأَمْثَالُهَا تُبَيِّنُ أَنَّ الْمَيِّتَ يَسْمَعُ فِي الْجُمْلَةِ كَلَامَ الْحَيِّ وَلَا يَجِبُ أَنْ يَكُونَ السَّمْعُ لَهُ دَائِمًا ، بَلْ قَدْ يَسْمَعُ فِي حَالٍ دُونَ حَالٍ كَمَا قَدْ يُعْرَضُ لِلْحَيِّ فَإِنَّهُ قَدْ يَسْمَعُ أَحْيَانًا خِطَابَ مَنْ يُخَاطِبُهُ ، وَقَدْ لَا يَسْمَعُ لِعَارِضٍ يَعْرِضُ لَهُ ، وَهَذَا السَّمْعُ سَمْعُ إدْرَاكٍ ، لَيْسَ يَتَرَتَّبُ عَلَيْهِ جَزَاءٌ ، وَلَا هُوَ السَّمْعُ الْمَنْفِيُّ بِقَوْلِهِ  { إنَّك لَا تُسْمِعُ (  ابن تیمیہ ،  فتویٰ الکبریٰ ، جزء 3، صفحہ 412 )’’پس یہ نصوص اور اس طرح کی امثال واضح کرتی ہیں کہ بے شک میّت زندہ کا کلام سنتی ہے اور یہ واجب نہیں آتا کہ یہ سننا دائمی ہو بلکہ یہ سنتی ہے حسب حال جیسے  زندہ سے پیش آتا ہے پس بے شک کبھی کبھی یہ سنتی ہے مخاطب کرنے والے کا خطا ب، .. اور یہ سننا ادراک کے ساتھ ہے  اور یہ سننا الله کے قول  { إنَّك لَا تُسْمِعُ الْمَوْتَى}  کے منافی نہیں جس سے مراد قبروں اور الِامْتِثَالِ  (تمثیلوں) کاسننا ہے.‘‘

مزید فرمایا:

“مشہور اور مستفیض احادیث سے ثابت ہے کہ مردہ اپنے اہل و عیال اور دوستوں کے اعمال کو جانتا ہے جو ان کو دنیا میں پیش آتے ہیں۔اور یہ حالات اس پر پیش کیے جاتے ہیں اور احادیث میں یہ بھی آتا ہے کہ وہ دیکھتا بھی ہے اور جو کچھ اس کے پاس کیا جاتا ہے اسکو جانتا بھی ہے۔اگر وہ کاروائی اچھی ہو تو اس سے خوش ہوتا ہے اگر وہ بری ہو تو اس کو اس سے رنج پہنچتا ہے اور مردوں کو روحیں اجتماعات بھی کرتی ہیں۔لیکن صرف اعلی روحیں ادنی کی طرف نازل ہوتی ہیں اس کے برعکس کی نہیں۔{الفتاوی الکبری:ابن تیمیہ،جلد 4،صفحہ 446/447}

اسی مسلک کے  ابن قیم فرماتے ہیں:

“… بَلْ تُعَادُالرُّوْحُ اِلَیْهِ اِعَادَۃً غَیْرَ اِعَادَةِ الْمِاْلُوْفَةِ فِي الدُّنْيَا يُسْئَلُ وَيُمْتَحَنُ فِيْ قَبْرِه فَهٰذَا حَقُّ وَنَفْيِهِ خَطَاٌ….” “… جس میں روح بدن کی طرف لوٹائی جائے لیکن یہ اعادہ دنیا کی معہ ود زندگی کے اعادہ کے علاوہ ہو تا کہ قبر میں اس سے سوال اور امتحان ہو سکے تو ایسی حیات حق ہے اور اس کی نفی غلط ۔۔۔۔”(کتاب الروح صفحہ ٥٢، ابن قیم ، بحوالہ تسکین الصدور صفحہ ١٢٧)

دیوبندی عالم سرفراز خان صاحب اپی کتاب میں ابن قیم کا حوالہ دیتے ہیں :

ترجمہ: تحقیق کہ آنحضرتٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے  اپنے  امتیوں کے لیئے یہ مشروع قرار دیا ہے کہ وہ جب اہل قبور کو سلام کریں تو ان  سےایسے انداز سے سلام کریں جیسے مخاطب سے کیا جاتا ہے اور یہ خطاب ان سے ہے جو سنتے اور سمجھتے ہیں اگر ایسا نہ ہوتا تو یہ خطاب معدوم اور جماعت سے ہوتا حالانکہ سلف صالحین کا اسی پر اجماع ہے اور تواتر کے ساتھ ان سے یہ خبریں منقول ہیں کہ مردہ اس زندہ کو آواز سے پہچانتا ہے جو اس کی زیارت کے لیئے آتا ہے اور مردہ کو اس سے خوشی بھی ہوتی ہے۔.(ترجمہ مولانا سرفراز خان صفدر ،کتاب روح مولف ابن قیم حنبلی صفہ 5)

قرآن و حدیث کے مقابلے میں دئیے گئے ایسے ہی عقائد تھے کہ قبر میں مدفون وہ  مردہ جسے اللہ کی کتاب نے قیامت تک کے لئے مردہ قرار دیا تھا  وہ روح لوٹائے جانے کے  من گھڑت عقیدے کے بعد  یہ زندہ سمجھا جانے لگا۔ بات صرف سوال و جواب تک محدود نہ تھی بلکہ بتایا گیا کہ یہ قبر کا مردہ  اپنی قبر پرآنے والے کی آواز بھی پہچانتا ہے۔  آواز ہی نہیں پہنچانتا بلکہ ابن تیمیہ نے بتایا کہ وہ اپنے اہل و عیال  اور دوستوں کے دنیاوی اعمال بھی جانتا ہے۔ اپنی  قبر پر آنے والوں کو دیکھتا بھی ہے اور ان کے اعمال کی وجہ سے خوش  اور غمزدہ بھی ہوتا ہے۔

ایک طرف کتاب اللہ  ہے اور دوسری طرف کتب علماء ہیں۔  فرقوں کے علماء نے لوگوں سے کہا کہ تم قرآن  نہیں سمجھ سکتے بس طوطے کی طرح قرآن  پڑھتے رہو۔افسوس کہ  یہ کلمہ قرآن و حدیث سے دور ہوگیا اور اسے پھر فرقے کی کتب پڑھنے کو دی گئیں۔ قرآن کی جگہ  ’’ فضائل اعمال ‘‘ ، ’’ فیضان مدینہ ‘‘، ’’ فتویٰ نذریہ ‘‘ و دیگر کتب  نے لے لی، اسلام کے بجائے فرقہ پڑھا دیا گیا اور  یوں کلمہ گو مسلم سے فرقہ پرست بن گیا۔پھر یہ امت یہود و نصاریٰ کے نقش پر چلنے لگی۔ قبریں زمین سے بلند کی جانے لگیں، کچی قبریں پکی ہونے لگیں۔پھر مزار بنے انہیں ’’ روضے ‘‘ اور ’’ دربار ‘‘ کا نام دیا گیا ۔ آج  انہی کے نام کی جے جے کار ہے، انہیں زندہ سمجھ کر پکارا جا رہا ہے ان کی قبریں عبادت گاہیں بنا دی گئی ہیں۔  اللہ تعالیٰ کی صفات میں انہیں شریک  کردیا گیا ہے، کسی کو داتا  کا لقب دیا گیا تو کوئی غوث الاعظم کہلایا ہے، کوئی قسمتیں کھری کرنے والا سمجھا گیا ہے تو غریب نواز کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ کوئی ان سے رزق کا سوال کرتا ہے ، کوئی صحت کا اور کوئی اولاد مانگتا ہے ۔ رب کائنات نے فرما دیا :

يٰٓاَيُّہَا النَّاسُ ضُرِبَ مَثَلٌ فَاسْتَمِعُوْا لَہٗ۰ۭ اِنَّ الَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللہِ لَنْ يَّخْلُقُوْا ذُبَابًا وَّلَوِ اجْتَمَعُوْا لَہٗ۰ۭ وَاِنْ يَّسْلُبْہُمُ الذُّبَابُ شَـيْـــــًٔـا لَّا يَسْتَنْقِذُوْہُ مِنْہُ ۰ۭ ضَعُفَ الطَّالِبُ وَالْمَطْلُوْبُ۝۷۳

( الحج : 73)

 

’’لوگو، ایک مثال دی جاتی ہے، غور سے سنو۔ جنہیں تم اللہ کے علاوہ پکارتے ہو وہ سب مل کر بھی ایک مکھی پیدا نہیں کرسکتے۔ بلکہ اگر مکھی ان سے کوئی چیز چھین لے جائے تو وہ اسے چھڑا بھی نہیں سکتے۔ مدد چاہنے والے بھی کمزور اور جن سے مدد چاہی جاتی ہے وہ بھی کمزور۔‘‘

کتنے کمزور ہیں یہ مانگنے والے اور  کتنی کمزور ہیں جن سے  مانگا جا رہا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *