Categories
Uncategorized

داتا ، گنج بخش ، مشکل کشا، غوث ، الاعظم ، قسمتیں کھری کرنے والا کون؟

﴿وَالَّذِينَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ لَا يَخْلُقُونَ شَيْئًا وَهُمْ يُخْلَقُونَ ؀ أَمْوَاتٌ غَيْرُ أَحْيَاءٍ وَمَا يَشْعُرُونَ أَيَّانَ يُبْعَثُونَ﴾

[النحل: 20-21]

’’ جنہیں لوگ اللہ کے علاوہ پکارتے ہیں، وہ کسی بھی چیز کے خالق نہیں مخلوق ہیں، مردہ ہیں، زندگی کی رمق بھی نہیں، انہیں تو یہ بھی نہیں معلوم کہ کب زندہ کرکے اٹھائے جائیں گے‘‘۔

’’ داتا‘‘ دینے والا کون ؟

﴿مَا يَفْتَحِ اللَّهُ لِلنَّاسِ مِنْ رَحْمَةٍ فَلَا مُمْسِكَ لَهَا وَمَا يُمْسِكْ فَلَا مُرْسِلَ لَهُ مِنْ بَعْدِهِ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ﴾

[فاطر: 2]

’’اللہ لوگوں کے لئے رحمت میں سے جو کچھ کھول دے تو اسےکوئی بند کرنے نہیں ہے ۔ اور جو وہ بند کر دے تو نہیں ہے کوئی کھولنے والا اس کو اس کے بعد، اور وہی بہت غالب نہایت حکمت والا ہے ۔‘‘

﴿وَآتَاكُمْ مِنْ كُلِّ مَا سَأَلْتُمُوهُ وَإِنْ تَعُدُّوا نِعْمَتَ اللَّهِ لَا تُحْصُوهَا إِنَّ الْإِنْسَانَ لَظَلُومٌ كَفَّارٌ﴾

[إبراهيم: 34]

’’اور اس نے دی تمہیں ہر وہ چیز جو تم نے مانگی اس سے ،اور اگر تم شمار کرو اللہ کی نعمت کو تو نہیں شمار کرسکو گے، اسے بیشک انسان یقینا بڑا ظالم ، بہت ناشکرا ہے ‘‘۔

﴿قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِي وَهَبْ لِي مُلْكًا لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِي إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ﴾

[ص: 35]

’’(اس وقت) سلیمان نے دعا کی : اے میرے مالک ! مجھے معاف کر دے اور عطا فرما تو مجھے ایسی حکومت جو نہ سزاوار ہو کسی کو میرے بعد۔ بلاشبہ تو ہ ہی دینے والا ہے‘‘۔

﴿يَا أَيُّهَا النَّاسُ اذْكُرُوا نِعْمَتَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ هَلْ مِنْ خَالِقٍ غَيْرُ اللَّهِ يَرْزُقُكُمْ مِنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ فَأَنَّى تُؤْفَكُونَ﴾

[فاطر: 3]

’’ اے انسانو ! یاد کرو اللہ کی نعمتوں کو جو تم پر کی ہیں، کیا ایسا بھی کوئی خالق ہے اللہ کے علاوہ جو تم دیتا ہو آسمانوں اور زمین سے؟ کوئی نہیں ہے الٰہ سوائے اس کے، پھر کہاں سے دھوکہ کھا رہے ہو؟‘‘

یہ چند آیات بطور دلیل پیش کی گئی ہیں ورنہ تو قرآن و حدیث بھرے پڑے ہیں ساری مخلوق کو ہر ہر چیز دینے والا صرف اللہ تعالیٰ ہے اور یہی بات اللہ فرماتا ہے کہ کہاں سے دھوکہ کھا رہے ہو؟ کون ہے تمہارا داتا ہے، کس نے کیا دیا ہے، اللہ کے علاوہ کوئی اور داتا کیسے ہوگیا؟ اگر یہ داتا ہے تو اس سے قبل مخلوق کا داتا کون تھا ؟

واضح ہوا کہ علی ہجویری داتا نہیں۔

’’گنج بخش ‘‘ خزانے بخشنے والا کون ؟

﴿ وَلِلَّهِ خَزَائِنُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلَكِنَّ الْمُنَافِقِينَ لَا يَفْقَهُونَ﴾

[المنافقون: 7]

’’اور اللہ ہی مالک ہے زمین اور آسمانوں کے خزانوں کا لیکن یہ منافق نہیں سمجھتے۔ ‘‘

﴿لَهُ مَقَالِيدُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَشَاءُ وَيَقْدِرُ إِنَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ﴾

[الشورى: 12]

’’اسی کے پاس ہیں کنجیاں آسمانوں اور زمین (کے خزانوں) کی کھول دیتا ہے وہ رزق جس کے لیے چاہے اور نپا تلا دیتا ہے (جسے چاہے) ۔ بلاشبہ وہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔ ‘‘

﴿وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا عِنْدَنَا خَزَائِنُهُ وَمَا نُنَزِّلُهُ إِلَّا بِقَدَرٍ مَعْلُومٍ﴾

[الحجر: 21]

’’اور نہیں کوئی چیز (کائنات میں) مگر ہیں ہمارے پاس اس کے خزانے ہیں اور نہیں نازل کرتے ہم اسے مگر ایک مقرر مقدار میں‘‘۔

﴿قُلْ لَوْ أَنْتُمْ تَمْلِكُونَ خَزَائِنَ رَحْمَةِ رَبِّي إِذًا لَأَمْسَكْتُمْ خَشْيَةَ الْإِنْفَاقِ وَكَانَ الْإِنْسَانُ قَتُورًا﴾

[الإسراء: 100]

’’ان سے کہہ دیجیے اگر تم مالک ہوتے میرے رب کی رحمت کے خزانوں کے تو پھر ضرور روک لیتے تم انھیں خرچ ہونے کے ڈر سے۔ اور انسان تو بڑا ہی بخیل ہے ‘‘۔

﴿أَمْ عِنْدَهُمْ خَزَائِنُ رَحْمَةِ رَبِّكَ الْعَزِيزِ الْوَهَّابِ﴾

[ص: 9]

’’کیا ہیں ان کے پاس خزانے تیرے رب کی رحمت کے ،جو ہے زبردست اور بہت زیادہ عطا کرنے والا ؟‘‘

قرآن مجید کے دلائل پڑھ کر کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ اللہ کے علاوہ علی ہجویری بھی گنج بخش ہیں؟

’’مشکل کشا ‘‘، مشکلات حل کرنے والا۔

﴿وَإِنْ يَمْسَسْكَ اللَّهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهُ إِلَّا هُوَ وَإِنْ يَمْسَسْكَ بِخَيْرٍ فَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ﴾

[الأنعام: 17]

’’ اور اگر کہیں اللہ تمہیں تکلیف میں ڈال دے، کوئی اسے پریشانی کو دور نہیں کرسکتا سوائے اس کے، اور اگر اللہ کسی کو خیر سے نوازنا چاہے تو پس وہ ہر چیز پر قادر ہے‘‘۔

﴿وَإِنْ يَمْسَسْكَ اللَّهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهُ إِلَّا هُوَ وَإِنْ يُرِدْكَ بِخَيْرٍ فَلَا رَادَّ لِفَضْلِهِ يُصِيبُ بِهِ مَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ وَهُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ﴾

[يونس: 107]

’’اور اگر پہنچائے اللہ تم کو کوئی تکلیف تو نہیں ہے کوئی دور کرنے والا اس کو مگر وہی اور اگر وہ ارادہ کرے آپ کے ساتھ بھلائی کا تو نہیں ہے کوئی رد کرنے والا اس کے فضل کو وہ پہنچاتا ہے اس فضل کو جسے وہ چاہتا ہے اپنے بندوں میں سے اور وہ بہت بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے ‘‘۔

﴿وَإِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فِي الْبَحْرِ ضَلَّ مَنْ تَدْعُونَ إِلَّا إِيَّاهُ فَلَمَّا نَجَّاكُمْ إِلَى الْبَرِّ أَعْرَضْتُمْ وَكَانَ الْإِنْسَانُ كَفُورً٦٧﴾

[الإسراء: 67]

’’اور جب آتی ہے تم پر کوئی مصیبت سمندر میں تو گم ہوجاتے ہیں وہ سب جنہیں تم پکارا کرتے ہو سوائے اس ایک کے پھر جب وہ تمہیں (مصیبت سے) بچا لاتا ہے خشکی پر تو تم منہ موڑ جاتے ہو اور ہے ہی انسان بڑا ناشکرا‘‘۔

سوچیں کیا علی ؓ مشکل کشا ہو سکتے ہیں؟

قسمتوں کا کھری کرنے والا۔

﴿وَالَّذِي قَدَّرَ فَهَدَى﴾

[الأعلى: 3]

’’ جس نے پیدا کیا اور تقدیر مقررکی ‘‘

نبی ﷺ نے فرمایا :

قال عبد الله حدثنا رسول الله صلی الله عليه وسلم وهو الصادق المصدوق قال إن أحدکم يجمع خلقه في بطن أمه ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ عليه الکتاب فيعمل بعمل أهل الجنة

( بخاری ، مخلوقات کی ابتداء کا بیان،باب: فرشتوں کا بیان ۔ ۔ ۔ ۔ ۔)

’’عبداللہ ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا اور وہ صادق و مصدوق تھے کہ تم میں سے ہر ایک کی پیدائش ماں کے پیٹ میں پوری کی جاتی ہے چالیس دن تک (نطفہ رہتا ہے) پھر اتنے ہی دنوں تک مضغہ گوشت رہتا ہے پھر اللہ تعالیٰ ایک فرشتہ کو چار باتوں کا حکم دے کر بھیجتا ہے اور اس سے کہا جاتا ہے کہ اس کا عمل اس کا رزق اور اس کی عمر لکھ دے اور یہ (بھی لکھ دے) کہ وہ بد بخت (جہنمی) ہے یا نیک بخت (جنتی) پھر اس میں روح پھونک دی جاتی ہے بیشک تم میں سے ایک آدمی ایسے عمل کرتا ہے کہ اس کے اور جنت کے درمیان (صرف) ایک گز کا فاصلہ رہ جاتا ہے کہ اس کا نوشتہ (تقدیر) غالب آجاتا ہے اور وہ جہنمیوں کے عمل کرنے لگتا ہے اور (ایک آدمی) ایسے عمل کرتا ہے کہ اس کے اور جہنم کے درمیان (صرف) ایک گز کا فاصلہ رہ جاتا ہے کہ اتنے میں تقدیر (الٰہی) اس پر غالب آجاتی ہے اور وہ اہل جنت کے کام کرنے لگتا ہے‘‘۔

نبی ﷺ نے فرمایا :

عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: جَاءَ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ بَيِّنْ لَنَا دِينَنَا كَأَنَّا خُلِقْنَا الْآنَ، فِيمَا الْعَمَلُ الْيَوْمَ؟ أَفِيمَا جَفَّتْ بِهِ الْأَقْلَامُ، وَجَرَتْ بِهِ الْمَقَادِيرُ، أَمْ فِيمَا نَسْتَقْبِلُ؟ قَالَ: «لَا، بَلْ فِيمَا جَفَّتْ بِهِ الْأَقْلَامُ وَجَرَتْ بِهِ الْمَقَادِيرُ»

( بخاری، کتاب القدر، بَابُ كَيْفِيَّةِ خَلْقِ الْآدَمِيِّ فِي بَطْنِ أُمِّهِ وَكِتَابَةِ رِزْقِهِ وَأَجَلِهِ وَعَمَلِهِ وَشَقَاوَتِهِ وَسَعَادَتِهِ )

’’جابرؓ سے روایت ہے کہ سراقہ بن مالک بن جعشم ؓ نے آکر عرض کیا اے اللہ کے رسول آپ ہمارے لئے ہمارے دین کو واضح کریں۔ گویا کہ ہمیں ابھی پیدا کیا گیا ہے آج ہمارا عمل کس چیز کے مطابق ہے کیا ان سے متعلق ہے جنہیں لکھ کر قلم خشک ہوچکے ہیں اور تقدیر جاری ہوچکی ہے یا اس چیز سے متعلق ہیں جو ہمارے سامنے آتی ہے نبی ﷺ نے فرمایا نہیں بلکہ ان سے متعلق ہیں جنہیں لکھ کر قلم خشک ہوچکے ہیں اور تقدیر جاری ہوچکی ہے ‘‘۔

قرآن و حدیث نے واضح کردیا کہ اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوق کی تقدیر لکھ دی ہے اب وہ تقدیر تبدیل نہیں ہو سکتی۔

کیا اب کوئی عقیدہ رکھ سکتا ہے کہ امام بری قسمت تبدیل کر سکتا ہے؟

غوث الاعظم ( کائنات کا سب سے بڑا پکار سنے والا اور مدد کرنے والا )

﴿أَمَّنْ يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ السُّوءَ وَيَجْعَلُكُمْ خُلَفَاءَ الْأَرْضِ أَإِلَهٌ مَعَ اللَّهِ قَلِيلًا مَا تَذَكَّرُونَ﴾

[النمل: 62]

’’بھلا وہ کون ہے جو دعا سنتا ہے بےقرار کی جب وہ اسے پکارے اور رفع کرتا ہے اس کی تکلیف اور بناتا ہے تمہیں زمین کا خلیفہ ؟ کیا کوئی (اور) معبود بھی ہے اللہ کے ساتھ (شریک ان کاموں میں) ؟ تم لوگ کم ہی سوچتے سمجھتے ہو‘‘۔

﴿وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ﴾

[البقرة: 186]

’’اور جب (اے محمد) میرے بندے تم سے میرے بارے میں سوال کریں ، تو میں قریب ہی ہوں۔ پکارنے والا جب مجھے پکارتا ہے تو میں اس کی پکار قبول کرتا ہوں، تو انہیں چاہئیے کہ وہ میرا حکم مانیں اور مجھ ہی پر ایمان لائیں، تاکہ وہ ہدایت پا جائیں ۔‘‘

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *